Super User
سب سے پہلى نماز جمعہ
جمعه مسجد – مدينه النبي (ص)
پہلا جمعہ جو حضرت رسول اللہ (ص) نے اپنے اصحاب كے ساتھ پڑھا وہ اس وقت پڑھا گيا جب آپ نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائي _ جب آپ (ص) مدينہ ميں وارد ہوئے تو اس دن پير كا دن بارہ ربيع الاول اور ظہر كا وقت تھا_ حضرت چار دن تك ''قبا '' ميں رہے اور مسجد قبا كى بنياد ركھى، پھر جمعہ كے دن مدينہ كى طرف روانہ ہوئے (قبا اور مدينہ كے درميان فاصلہ بہت ہى كم ہے اور موجودہ وقت ميں قبا مدينہ كا ايك داخلى محلہ ہے)
اور نماز جمعہ كے وقت آپ (ص) محلہ''بنى سالم'' ميں پہنچے وہاں نماز جمعہ ادا فرمائي اور يہ اسلام ميں پہلا جمعہ تھا جو حضرت رسول اللہ (ص) نے ادا كيا_ جمعہ كى نماز ميں آپ (ص) نے خطبہ بھى پڑھا_ جو مدينہ ميں آنحضرت (ص) كا پہلا خطبہ تھا۔
قصص القرآن
منتخب از تفسير نمونه
تاليف : حضرت آيت الله العظمي مکارم شيرازي
مترجم : حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين نجفى مرحوم
رہبر معظم انقلاب اسلامي حضرت آیت اﷲ العظمیٰ خامنہ ای " دام ظلہ " کی مختصر سوانح حیات
امام خمینی (رہ) نے فرمایا : " آقای خامنہ ای اسلام کے سچے وفادار اور خدمتگذار ہیں اسلام کی خدمت ان کی دلی تمنا اور آرزو ہے وہ اس سلسلے میں بے مثل اورمنفرد شخصیت کے حامل ہیں میں ان کو عرصہ دراز سے اچھی طرح جانتا ہوں "
ولادت سے مدرسہ تک
رہبر معظیم انقلاب اسلامي حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ، حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم حاج سید جواد حسینی خامنہ ای کے فرزند ہیں ، آپ تیر مہینے کی ۲۴ تاریخ سن ۱۳۱۸ھ ش مطابق ۲۸ صفر ۱۳۵۸ ھ ق کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے ، آپ اپنے والدین کی دوسری اولاد ہیں ، آپ کے والد سید جواد خامنہ ای اکثر علماء اور دینی مدرسین کی طرح قناعت پسند اور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے، انکی سادہ زندگی کے مثبت اثرات ان کے اہل و عیال پر بھی مرتب ہوئے اور وہ بھی ان کی طرح قناعت پسنداور سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی ہوگئے
رہبر عظیم الشان اپنی زندگی کی پہلی یاد داشت بیان کرتے ہوئے اپنی اور گھر والوں کی زندگی کے حالات کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" میرے والد ، مشہور و معروف عالم دین اور بہت ہی متقی و پرہیزگارتھے وہ اکثرخلوت پسند اور گوشہ نشیں رہتے تھے ہماری زندگی بہت سخت گزرتی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بعض اوقات ہمارے گھر رات کا کھانا نہیں بنتا تھا ! میری والدہ بڑی مشقت سے ہمارے لئے رات کا کھانا مہیا کرتیں اور یہ رات کا کھانا” روٹی اور کشمش “ہوتا تھا "
لیکن وہ گھر کہ جس میں آقای سید جواد کے اہل و عیال زندگی بسر کرتےتھے ، اس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی اس طرح بیان فرماتے ہیں :
” میرے والد کا مکان جہاں میں پیدا ہوا اور میری زندگی کے ابتدائی چار، پانچ سال وہیں گزرے وہ ساٹھ یا ستر میٹر مربع جگہ پر مشتمل تھاجو مشہد کے ایک ایسے محلہ میں واقع تھا ، جہاں غریب لوگ رہتے تھے ، اس مکان میں صرف ایک کمرہ اور ایک تاریک تہہ خانہ تھا ، جس میں گھٹن محسوس ہوتی تھی !
والد بزرگوار کے پاس اکثرمہمان (ایک عالم دین کی حیثیت سے ملاقات اور مسائل پوچھنے کے لئے) آتے جاتےتھےاور جب تک مہمان ان کے پاس رہتے تھے اس وقت تک ہم سب اس تاریک تہہ خانے میں چلے جاتے تھے بعدمیں میرے والد کے کچھ عقیدتمندوں نےہمارے مکان سے ملحقہ چھوٹا سا زمین کا قطعہ خرید کر ہمارے مکان میں اضافہ کردیااور اس طرح ہمارے مکان میں تین کمرے ہوگئے “
رہبر معظم انقلاب اسلامی کا بچپن ایک غریب لیکن روحانی اور معنوی خاندان اور صاف و ستھرے ماحول میں گزرا ، قرآن مجید کی تعلیم کے لئے آپ چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائی سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دئیے گئے ، اس کے بعد ان دونوں بھائیوں کے داخلے ایک ایسے اسلامی مدرسہ ” دارالتعلیم دیانتی “میں کرائے گئے جو نیا تاسیس ہوا تھا ، اور ان دونوں بھائیوں نے ابتدائی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی.
حوزہ علمیہ میں
آپ نے انٹر کالج میں تعلیم کے ساتھ ہی ( عربی گرائمر پر مشتمل کتاب جامع المقدمات ) اور صرف و نحو کی تعلیم کا آغاز کردیا تھا ، اس کے بعد آپ حوزہ علمیہ میں وارد ہوئے اور اپنے والد محترم اور دیگر اساتذہ سے ادبیات اور مقدمات کی تعلیم حاصل کی ، آپ حوزہ علمیہ میں داخلے اور روحانیت کے راستے کو انتخاب کرنے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں :
" اس معنوی اورنورانی راستے کو انتخاب کرنے کا اصلی سبب میرے والد ماجد تھے اورمیری والدہ ماجدہ بھی اس سلسلہ میں میری بہت تشویق کیا کرتی تھیں اور یہ راستہ انھیں بہت پسند تھا "
آپ نے”جامع المقدمات “ ” سیوطی “ ” مغنی“ جیسی(عربی ) ادبیات کی کتابوں کومدرسہ " سلیمان خان " اور " نواب " کے مدرسین کے پاس حاصل کیا ، آپ کے والد ماجد بھی اپنے بیٹوں کے دروس پر نظارت کیا کرتے تھے آپ نے” کتاب معالم “بھی اسی دور میں تمام کرلی تھی ، اس کے بعد ”شرائع الاسلام “اور ” شرح لمعہ“ کو اپنے والد ماجد سے اور ان کا کچھ حصہ ” مرحوم آقای میرزا مدرس یزدی“ سے حاصل کیا ، رسائل و مکاسب کو مرحوم حاج شیخ ہاشم قزوینی کے پاس پڑھا اور سطح میں فقہ و اصول کے باقی دروس اپنے والد ماجد کے پاس تمام کئے اور اس طرح آپ نےمقدمات اور سطح کے دروس کوحیرت انگیز طور پر ساڑھے پانچ سال کی مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچادیا
آپ کے والد ماجد مرحوم سید جواد نے ان تمام مرحلوں میں اپنے بیٹے کی ترقی اور پیش رفت میں اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ، رہبر عظیم الشان نے منطق و فلسفہ کے موضوع پر کتاب ” منظومہ سبزواری“ کوپہلے مرحوم آیت اﷲ میرزا جواد آقا تہرانی اور اس کے بعد ” شیخ رضا ایسی“ کے پاس حاصل کیا
حوزہ علمیہ نجف اشرف میں
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای (مدظلہ)نے مشہد مقدس میں عظیم مرجع آیت اﷲ العظمیٰ میلانی کے پاس ۱۸ سال کی عمر سے فقہ و اصول کے دروس خارج کا آغاز کردیا تھا ، آپ ۱۳۳۶ھ ش میں عتبات عالیات کی زیارت کی غرض سے نجف اشرف پہنچ گئے اور حوزہ علمیہ نجف کے عظیم مجتہدین جیسے سید محمد محسن حکیم ، سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحییٰ یزدی اور میرزا حسن بجنوردی کے دروس خارج سے کسب فیض کیا آپ نے حوزہ علمیہ نجف اشرف کے درس و تدریس اور تحقیق کے ماحول کوبہت پسند کیا لیکن آپ کے والد ماجد آپ کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہوئے جس کی بنا پرآپ نجف اشرف سےکچھ ہی عرصے کےبعد اپنے والد کی مرضی کےمطابق انکے پاس مشہد واپس تشریف لے آئے
حوزہ علمیہ قم میں
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای فقہ و اصول اور فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ۱۳۳۷ ھ ش سے ۱۳۴۳ ھ ش تک حوزہ علمیہ قم میں مشغول رہے اور آیت اﷲ العظمیٰ بروجردی (رہ) ، امام خمینی(رہ) ، شیخ مرتضیٰ حائری یزدی (رہ) اور علامہ طباطبائی(رہ) جیسے بزرگ علماء کے محضر سےکسب فیض کیا
۱۳۴۳ھ ش میں رہبر انقلاب کو اپنے والد ماجد کے خط کے ذریعہ معلوم ہوا کہ آپ کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی ” موتیا بندھ“ کی وجہ سے زائل ہوگئی ہے آپ اس خبر سے بہت افسردہ اورغمگین ہوئے اور ”قم میں تعلیم جاری رکھنے یا مشہد واپس جا کر والد ماجد کی خدمت کرنے “ کے درمیان پس و پیش میں پڑ گئے ، غور و فکر کرنے کے بعدآپ اس نتیجے پر پہنچے گئےکہ خدا کی خاطر قم سے مشہد کے لئے ہجرت اختیارکریں اور اپنے والد ماجد کی وہاں جاکر خدمت اوردیکھ بھال کریں ، آپ اس بارے میں فرماتے ہیں :
” میں باپ کی خدمت کرنےمشہد چلا گیا اور خدا وند عالم نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عطا فرمائیں ، بہرحال میں اپنا فریضہ اور ذمہ داری ادا کرنے میں مشغول ہوگیا ، اگر میں زندگی میں کامیاب ہوا ہوں اور مجھے توفیق حاصل ہوئی ہے تواس بارے میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ اسی نیکی کی وجہ سے ہے کہ جو میں نے اپنے والد ماجد ، بلکہ ماں باپ دونوں کے ساتھ کی تھی “
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای نے ان دو راستوں ( ١- قم میں تحصیل علم ، ٢- مشہد میں والدین کی خدمت ) میں صحیح راستے (مشہد میں والدین کی خدمت ) کو انتخاب کیا ، بعض اساتذہ اور ملنے جلنے والوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آپ نے اتنی جلدی قم کیوں چھوڑ دیا ، اگر رہ جاتے تو مستقبل میں ایسے بن جاتے اور ویسے ہوجاتے لیکن آپ کے تابناک اور روشن مستقبل نے بتادیا کہ آپ کا انتخاب صحیح تھا اور تقدیر الٰہی نےآپ کے لئے بہترین انجام رقم کردیا تھا ، کیا اس وقت کوئی تصور کرسکتا تھا کہ ایک ۲۵ سالہ بااستعداد جوان عالم کہ جو خدا کی رضا اور والدین کی خدمت کی خاطر قم سے مشہد روانہ گیا ، ۲۵ سال بعد مسلمانوں کے رہبر اور ولی امر ایسے بلند مقام اور منزلت پر فائز ہوجائےگا ؟ !
آپ نے مشہد مقدس میں درس سے ہاتھ نہیں کھینچا اورتعطیلات کے ایام یا سیاسی جد و جہدو فعالیت ، جیل اور سفر کے علاوہ اپنی فقہ واصول کی تعلیم کو ۱۳۴۷ ھ ش تک مشہد کے بزرگ علماء بالخصوص آیت اللہ العظمی میلانی کے محضر میں پابندی کے ساتھ جاری رکھا ، اسی طرح آپ جب ۱۳۴۳ ھ ش میں مشہد میں مقیم ہوگئے تو آپ نے تحصیل علم اورضعیف و بیمار باپ کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول اور دینی تعلیم سے جوان طالب علموں اور اسٹوڈینٹس کو آگاہ اور روشناس کرانا شروع کردیا تھا
سیاسی جد و جہد
آیت اﷲ العظمی خامنہ ای خود فرماتے ہیں کہ " میں امام خمینی (رہ) کا فقہی ، اصولی ، سیاسی اور انقلابی شاگرد ہوں " لیکن مجاہد اعظم اور شہید راہ خدا ” سید مجتبیٰ نواب صفوی “ کے ذریعہ آپ کے پہلے سیاسی ، جہادی مرحلےاور طاغوتی طاقت کے ساتھ مقابلہ اور جد وجہد کا آغاز ہوا ، جس وقت نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ہمراہ ۱۳۳۱ھ ش میں مشہد گئے اور مدرسہ سلیمان خان میں اسلام کے احیاء و بقا اور الٰہی احکام کی حاکمیت “ کے موضوع پر ولولہ انگیز اور پرجوش تقریر کی جس میں ایرانی عوام کو برطانوی سامراج کے مکر وفریب اورشاہ کی خیانتوں سے آگاہ کیا اس وقت آیت اﷲ خامنہ ای جو مدرسہ سلیمان خان کے جوان طالب علم تھے ، نواب کی شعلہ بیانی سے بہت متاثرہوئے ، آپ فرماتے ہیں :
”اسی وقت انقلاب اسلامی کی چنگاری نواب صفوی کی شعلہ بیانی کے ذریعہ میرے وجود میں آگئی تھی اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ میرے دل میں پہلی آگ مرحوم صفوی نے روشن کی تھی “
امام خمینی (رہ) کی تحریک کے ہمراہ
آیت اﷲ خامنہ ای نے ۱۳۴۱ھ ش میں اس وقت میدان سیاست میں قدم رکھا کہ جب آپ قم میں مقیم تھے اور محمدرضا شاہ پہلوی کی اسلام دشمن پالیسی اور امریکہ نواز سیاست کے خلاف امام خمینی (رہ) کی انقلابی تحریک کاآغاز ہوا آپ اس وقت سیاسی جدو جہد کے میدان میں وارد ہوگئے اور پورے سولہ سال تک بہت سے نشیب و فراز ، شکنجے ، شہر بدری اور جیل جانے کے باوجود آپ نے جد و جہد کا سفر جاری رکھا اور اس راستے میں پیش آنے والے کسی بھی خطرے سے آپ ہراساں نہیں ہوئے آپ پہلی بار محرم ۱۳۸۳ھ ق میں امام خمینی(رہ) کی جانب سے آیت اﷲ میلانی اور خراسان کے دیگر علماءتک پیغام پہنچانے پر مامور ہوئے
اس پیغام میں علماءکے لئے محرم الحرام میں تبلیغ کرنے کا طریقہ کار ، شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں کو فاش کرنا ، ایران کے حالات اور قم میں رونما ہونے والے حوادث جیسے اہم موضوعات شامل تھے
آپ نے اس ماموریت کو بحسن و خوبی انجام دیا اور خود بھی تبلیغ کے لئے شہر ” بیرجند“ کی جانب روانہ ہوگئے اور امام خمینی (رہ) کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ ، تبلیغ اور شاہ کی امریکہ نوازپالیسیوں کو فاش کرنا شروع کردیا ، لہٰذا ۹ محرم مطابق ۱۲ خرداد۱۳۴۲ ھ ش کو آپ گرفتار کر لئے گئے اور ایک رات قید میں رہنے کے بعد اگلے روز مجلس نہ پڑھنے ، تقریر نہ کرنے اور زیرنظر رہنے کی شرط پر رہا کر دئیے گئے ، ۱۵ خرداد کا حادثہ پیش آنے پر آپ کودوبارہ بیر جند سے مشہد لاکر فوجی قید خانہ میں بند کردیا گیا اور یہاں پر آپ نے دس دن شکنجہ اور آزار کے ساتھ قید با مشقت میں گزارے
دوسری گرفتاری
بہمن ۱۳۴۲ھ ش مطابق رمضان المبارک ۱۳۸۳ ھ ق میں آیت اﷲ خامنہ ای اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک منظم پروگرام کے تحت ( شہر) کرمان کی جانب روانہ ہوئے ، کرمان میں دوتین دن قیام کے دوران تقریریں کیں ، شہر کے علماءاورطلاب سے ملاقات کی ، اس کے بعد آپ زاہدان کے لئے روانہ ہوگئے ، یہاں پر آپ نےعوامی اجتماعات میں پُر جوش تقریریں کیں اور ( شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں ) کو برملا کرنےاور بالخصوص شاہ کے ذریعہ چھٹی بہمن کومنعقد کیئے جانے والے جعلی ریفرنڈم کے سلسلے میں کی جانے والی تقریروں کولوگوں نے بہت پسند کیا ، پندرہ رمضان المبارک ، امام حسن مجتبیٰ کی تاریخ ولادت کے موقع پر پہلوی شہنشاہی حکومت کی شیطانی اور امریکہ نواز سیاست کےمتعلق آپ کی بے باک انداز میں تقریریں اورآپ کی شجاعت و انقلابی جوش و ولولہ اپنے عروج کو پہنچ گیا لہذا ساواک ( شاہ کی خفیہ ایجنسی) نے آپ کو گرفتار کرکے ہوائی جہاز کے ذریعہ تہران روانہ کردیا ، رہبر عظیم الشان تقریباً دو مہینے تک ( تنہائی کے عالم میں ) ” قزل قلعہ “ نامی جیل میں قیدی بناکر رکھے گئے اور آپ نے اس جیل میں انواع و اقسام کی توہین اور شکنجے برداشت کئے
تیسری اور چوتھی گرفتاری
مشہد اور تہران میں انقلابی اور پر جوش جوانوں کے درمیان آپ کی تفسیر و حدیث اور اسلامی تفکر پر مبنی مذہبی کلاسیں بہت مقبول ہوئیں آپ کی یہ مذہبی سرگرمیاں ساواک کے غم وغصہ کا باعث بنیں اورساواک نے آپ کا پیچھا کرنا شروع کردیا ، اسی وجہ سے آپ نے ۱۳۴۵ ھ ش کا سال تہران میں مخفی طور پر گزارااور ایک سال بعد ( ۱۳۴۶ھ ش ) آپ گرفتار کرکے جیل بھیج دئے گئے ،آپ کی انھیں علمی سرگرمیوں ، جلسے اور کلاسیں منعقد کرنے ، عالمانہ اور مصلحانہ انداز میں عوام کے سامنے بیان کرنے کی بنا پرآپ کودوبارہ پہلوی ساواک نے ۱۳۴۹ ھ ش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا
پانچویں گرفتاری
حضرت آیت اﷲ خامنہ ای (مدظلہ)ساواک کے ذریعہ اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :
” ۱۳۴۸ ھ ش سے ایران میں مسلح تحریک کا احساس ہو گياتھا ، میرے بارے میں اُس وقت کی حکومتی کی ایجنسیوں کی حساسیت اور شدت عمل میں اضافہ ہوگیاتھا ، کیوں کہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایسی تحریکوں سے میرے جیسے افراد کا منسلک ہونا ناگزیر ہے لہٰذا ۱۳۵۰ ھ ش میں مجھے پانچویں مرتبہ جیل ڈال دیا گیا ،جیل میں ساواک کا تشدد آمیز سلوک آشکارا طور پر بتارہا تھا کہ یہ ایجنسی ،اسلامی فکر رکھنے والےمراکز کے مسلح تحریک سے ملحق ہونے پر کس قدر فکر مند ہے اور یہ ایجنسی اس بات سے بھی خوب واقف تھی کہ مشہد اور تہران میں میری تبلیغاتی سرگرمیاں ، ان مسلح تحریکوں سے علیحدہ نہیں ہیں لہذا آزادی کے بعد تفسیر کے عمومی دروس اور آئیڈیالوجک مخفی کلاسوں کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا “
چھٹی گرفتاری
۱۳۵۰ ھ ش سے ۱۳۵۳ ھ ش کے درمیان آیت اﷲ خامنہ ای کے تفسیر اور اسلامی و انقلابی آئیڈیالوجک پر مشتمل دروس مشہد مقدس کی تین مسجدوں ” مسجد کرامت “ ” مسجد امام حسین (ع) “ اور” مسجد میرزا جعفر “ میں تشکیل پاتے اور ہزاروں مشتاق افراد آپ کے ان دروس میں شرکت کرکے فیض یاب ہوتے تھے بالخصوص ان تین مرکزوں پر اسلام اور انقلاب کے معتقد طالب علم اور آگاہ و روشن خیال جوان آپ کے دروس میں شرکت کرکے خالص اسلامی نظریات سے آشنا ہوتے تھے
آپ کا نہج البلاغہ کا درس ایک نئے جوش و ولولے کے ساتھ برقرارہوتا تھا فوٹو کاپی کئے ہوئے کتابچے” پرتوی از نہج البلاغہ “ کے عنوان سےایک دوسرے کے ہاتھوں میں رہتے ،وہ انقلابی نوجوان طالب علم کہ جنھوں نے جد و جہد اور حقیقت کا درس آپ سے سیکھا تھا ، ایران کے دور و نزدیک شہروں میں جاتے اور وہاں کے لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کے لئے زمینہ ہموار کرتے تھے، ان سرگرمیوں کی وجہ سے بے رحم ساواک نے ”دی ماہ “ ۱۳۵۳ ھ ش میں آیت اﷲ خامنہ ای کے مشہد میں واقع مکان پر حملہ کرکے آپ کوگرفتار کرلیااور آپ کی بہت سی یادداشتوں اور تحریروں کو ضبط کرلیا
آپ کی یہ چھٹی اور شدید ترین گرفتاری تھی اور ۱۳۵۴ھ ش کے موسم خزاں تک سول پولیس کی ایک مشترک کمیٹی کی قید میں رہے ، اس مدت میں آپ ایسے وارڈ میں رکھےگئے جس میں سخت اذیت و آزار دیا جاتا تھا ، آپ نے اس گرفتاری میں سخت تکلیفیں برداشت کیں ،خود آپ کے بقول : " ان تکالیف کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے برداشت کی ہیں "
جیل سے رہا ہونے کے بعد آپ مشہد مقدس تشریف لے گئے اور پھر انقلابی کوششوں اور علمی و تحقیقاتی پروگرام کوجاری رکھا ، لیکن اس بار آپ کو سابقہ طریقے پر کلاسیں تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی گئی
شہر بدری
ظالم پہلوی حکومت نے آیت اﷲ خامنہ ای کو ۱۳۵۶ھ ش کے آخر میں گرفتار کرنے کے بعد شہر بدر کرکے تین سال کی مدت کے لئے ” ایران شہر “ بھیج دیا ، ۱۳۵۷ ھ ش کے وسط میں ایران کے انقلابی مسلمانوں کی جدو جہد جب عروج کو پہنچی تو آپ ” ایران شہر “ سے آزاد ہوکر مشہد مقدس واپس تشریف لے آئے اور پہلوی سفاک حکومت کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والی جد و جہد میں لوگوں کے ساتھ اگلی صفوں میں شامل ہوگئے اور آپ نے پندرہ سال تک ، راہ خدا میں مردانہ اور دلیرانہ جد و جہد ، قیام و پائداری اورتمام سختیوں اور تلخیوں کو برداشت کرنے کے بعد انقلاب اسلامی کی شاندار کامیابی اور شاہی حکومت کے ظالمانہ نظام کے ذلت آمیز زوال اور ایران کی سرزمین پر اسلام کی حاکمیت کے شیریں پھل کو مثمر ثمر ہوتے دیکھا
کامیابی کے نزدیک
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نزدیک ، امام خمینی (رہ) کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے امام خمینی(رہ) کی جانب سے ایران میں شہید مطہری ، شہید بہشتی ، ہاشمی رفسنجانی جیسی مجاہد شخصیتوں کی شرکت سے ” شورای انقلاب اسلامی “ تشکیل پائی اور آیت اﷲ خامنہ ای بھی امام خمینی(رہ) کے حکم سے اس شورایٰ کے ممبر بنائے گئے ، امام خمینی (رہ) کا پیغام شہید مطہری کے ذریعہ آپ تک پہنچا ، رہبر کبیر انقلاب کا پیغام دریافت کرتے ہی آپ مشہد سے تہران تشریف لے آئے
کامیابی کے بعد
آیت اﷲ خامنہ ای ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اسی طرح جوش و ولولے کے ساتھ گرانقدر اسلامی فعالیت اور انقلاب اسلامی کے مقاصد سے نزدیک تر ہونے کے لئے کوششیں کرتے رہے جو سب کی سب اپنی نوع اور حالات کے اعتبارسے بے نظیر اور بہت ہی اہم تھیں ، یہاں پر ہم صرف اہم سرگرمیوں کا ذکر کررہے ہیں:
٭ آپ نے شہید بہشتی ، شہید باہنر اورہاشمی رفسنجانی جیسے ہم خیال اور ہمفکر اور مجاہد علماء کی مدد سے ۱۳۵۷ھ ش میں اسفند کے مہینے میں حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھی
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں وزارت دفاع میں معاونت کے عہدے پر فائز ہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سرپرست مقررہوئے
٭ ۱۳۵۸ ھ ش میں تہران کے امام جمعہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں اعلی دفاعی کونسل میں حضرت امام خمینی (رہ) کے نمائندہ مقرر ہوئے
٭ ۱۳۵۹ ھ ش میں عراق کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کےشروع ہونے اور امریکہ اور سابق روس جیسی شیطانی قوتوں کے اشاروں پر صدام کی ظالم فوج کے ہاتھوں ایرانی سرحدوں پر عام تباہی مچانےکے ساتھ ، آپ نے لباس جنگ پہن لیا اور مخلصانہ طور پر میدان جنگ میں پہنچ کر اسلامی انقلاب کے دفاع اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے دفاعی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے
٭ ۱۳۶۰ ھ ش میں تیر مہینے کی چھٹی تاریخ میں تہران کی مسجد ابوذر میں منافقین نےآپ پر ناکام قاتلانہ حملہ کیا جس میں آپ زخمی ہوگئے
٭ صدارت : ایران کے دوسرے صدر ، محمد علی رجائی کی شہادت کے بعد آیت اﷲ خامنہ ای ۱۳۶۰ ھ ش میں مہر کے مہینے میں ۱۶ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے امام خمینی (رہ) کے حکم پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۰ھ ش میں انقلاب کی ثقافتی کونسل کے سربراہ منتخب ہوئے
٭۱۳۶۶ ھ ش میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ منتخب ہوئے
٭ ۱۳۶۸ ھ ش میں بنیادی آئین میں تجدید نظر کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مقررہوئے
٭ امت کی رہبری اور ولایت : ۱۳۶۸ ھ ش میں خرداد مہینےکی 14 تاریخ کو رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد ، مجلس خبرگان رہبری نے آپ کوامت کی رہبری اور ولایت کے عظیم منصب اور ذمہ داری کے لئے منتخب کیا اور یہ انتخاب کتنااچھا اور مبارک انتخاب تھا کہ امام خمینی (رہ) کی رحلت کے بعد آپ ایرانی عوام بلکہ امت اسلامیہ کی رہبری کی ذمہ داری بڑی خوش اسلوبی اور ذمہ داری کے ساتھ نبھارہے ہیں ۔
قلمی آثار
اس مختصر تحریر کے آخر میں بہتر ہے کہ رہبر عظیم الشان کے قلمی آثار پر نگاہ ڈالتے چلیں :
تالیف و تحقیق :
٭ طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
٭ از ژرفای نماز
٭ گفتار ی در باب صبر
٭ چہار کتاب اصلی علم رجال
٭ ولایت
٭ گزارش از سابقہ تاریخی و او ضا ع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
٭ زندگی نامہ آئمہ تشیع ( غیر مطبوعہ )
٭ پیشوای صادق
٭ وحدت و تحزب
٭ ہنر از دیدگاہ آیت اﷲ خامنہ ای
٭ درست فہمیدن دین
٭ حدیث ولایت - آپ کے پیغامات اور گفتگو کا مجموعہ ہے کہ جو اب تک ٩ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے و۔۔۔
ترجمے
٭ صلح امام حسن ، تالیف راضی آل یاسین
٭ آئندہ در قلمرو اسلام ، تالیف سید قطب
٭ مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان ، تالیف عبد المنعم نمری نصری
٭ ادعا نامہ علیہ تمدن غرب ، تالیف سید قطب
اسلام کے فقہی مذاہب ، مشکلات فقر کے مقابل –دوسري حصه
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھ تا ہے لیکن زکات ادا نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ، چہ جائے کہ اس کا کوئی عمل اس کے لئے مفید ہو
پنجم سارے اموال
< خذ من اموالھم صدقة تطھرھم و تزکیھم بھا۔۔۔ >
پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکات لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہو جائیں۔(سورہ توبہ / ۱۰۳ )
< و فی اموالھم حق للسائل و المحروم>
اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محروم افراد کے لئے ایک حق تھا ۔
یہ پانچویں قسم عام ہے اور اس میں مال زراعت و مال صناعت اور مال تجارت میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
۴۔ زکات حدیث اور فقہ کی کتابوں میں
الف:۔ زکات اہل سنت کی فقہی اور حدیثی کتابوں میں
ان کتابوں میں زکات کے سلسلہ میں صراحة بہت سی حدیثیں موجود ہیں لیکن ہم چند واضح حدیث کے بیان پر اکتفاء کرتے ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : اسلامی یعنی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو ، ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھو اور جب مستطیع ہو جاؤ تو حج کرو ۔۱
عبداللہ بن مسعود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں :
ہم سب کو نماز قائم کرنے اور زکات ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جو بھی زکات ادا نہیں کرے گا اس کی کوئی بھی نماز قبول نہ ہوگی ۔ ۲
اصبہانی نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن زکات ادا نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ، چہ جائے کہ اس کا کوئی عمل اس کے لئے مفید ہو ۔ ۳
----------------------------------------------
۱۔ الجامع الصغیر فی احادث البشیر النذیر ، ج /۱ ص / ۴۷۴، ح / ۳۰۵۹ سیوطی ، دار الفکر ، بیروت ۱۴۰۱ ء ھ
۲،۳، الترغیب والترغیب فی حدیث الشریف ، ج / ۱ ص / ۵۴۰ ، ح / ۱۰ ، ۱۱ ، ۱۲، حافظ ابو محمد منذری ، بیروت دا احیاء التراث العربی ۱۳۸۸ ء ھ
براز نے علقمہ سے نقل کیا ہے کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا-: تمھارا اسلام اس وقت کامل ہوگا جب تم لوگ زکات ادا کروگے ۔۱
فقہائے اہل سنت کہتے ہیں : جو کوئی زکات کے واجب ہونے کا معتقد ہو اور زکات ادا نہ کرے اس سے زبر دستی زکات وصولی جائے گی ، اگر کوئی شخص سر زمین اسلام اہل علم کے درمیان زندگی بسر کررہا ہو اور زکات سے انکار کرے وہ مرتد ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے ، تین مرتبہ توبہ کرنے کے لئے کہا جائے گا اور نہیں کرے گا تو قتل کر دیا جائے گا اور حاکم پر واجب ہے کہ زکات کی ادائیگی سے انکار کرنے والے سے جنگ کرے یہاں تک کہ وہ زکات ادا کرے ۔ ۲
اس رو سے اہل سنت کے نزدیک صاحب نصاب پر زکات کے واجب ہونے کے علاوہ حکومت کی طرف سے زکات کا جمع کرکے اسے مستحق کے درمیان تقسیم کرنا بھی واجب ہے اور اس سے اجتناب نہیں کیا جا سکتا ۔
اس حکم کے نافذ کرنے کے لئے بعض اسلامی ممالک نے لازمی طور پر زکات ادا کرنے کا طریقہ اپنایا ہے اور کچھ دیگر اسلامی ممالک نے آزادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔
ب :۔ زکات پیروان اہلبیت (علیهم السلام) کی حدیثی اور فقہی کتابوں میں
وجوب زکات کے سلسلہ میں عبد اللہ بن سنان امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں جب آیت زکات ۳ ماہ رمضان میں نازل ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کردے کہ پرور دگار عالم نے جس طرح تم پر نماز واجب قرار دی ہے اسی طرح زکات بھی واجب کی ہے ۔ ۴
----------------------------------------------
۱ ۔لترغیب والترغیب فی حدیث الشریف ، ج / ۱ ص / ۵۴۰ ، ح / ۱۰ ، ۱۱ ، ۱۲، حافظ ابو محمد منذری ، بیروت دا احیاء التراث العربی ۱۳۸۸ ء ھ
۲۔ ابن قدامہ ، المغنی ، ( بیروت دار الکتاب العربی ) ج / ۲ ص / ۴۳۵، محمد بن الشربینی مغنی المحتاج فی شرح المنھاج (بیروت دار احیاء التراث العربی ) ۱۳۷۷ ئھ ج / ۱ ص / ۳۶۸ ، سید سابق ، فقہ السنة دار الکتاب العربی ( بیروت ) ج / ۱ ص/ ۳۶۸۔
۳۔ سورہ توبہ / ۱۰۳
۴۔ محمد بن حسن حر عاملی ، وسائل الشیعہ الیٰ مسائل الشریعة ( موسسة آل البیت (علیهم السلام) لاحیاء التراث ۱۴۱۳ء ھ ج/۹ ص /۹ح /۱
دوسری روایت میں عبد اللہ بن سنان امام علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں ” پر وردگار عالم نے جس طرح نماز کو واجب قرار دیا ہے اسی طرح زکات بھی واجب قرار دی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص زکات کا مال حمل کرے اور علی الاعلان ادا کرے تو کوئی مضائقہ نہیں اس لئے کہ پروردگار عالم نے امیروں کے اموال میں اس مقدار میں فقراء کے لئے حق قرار دیا ہے جو ان کے لئے کافی ہو اور اگر اللہ کی نگاہ میں فقراء کو اس سے زیادہ کی ضرورت ہو تی تو یقینا خدا وند عالم اس سے زیادہ واجب قرار دیتا اور یقینا فقیروں کا فقر ان کے حق کو ادا کرنے سے منع کرنے والوں کے سبب ہے نہ کہ وظیفہ کی وجہ سے ۔ ۱
کتاب ” وسائل الشیعہ “ میں ، نماز قبول نہیں ہوگی مگر زکات کی ادائیگی کے بعد کے باب میں سولہ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔
من جملہ شیخ طوسی معروف بن خر بوذ کے حوالہ سے امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں ” بیشک اللہ نے زکات کو نماز کے ساتھ ساتھ قرار دیا ہے اور فرماتا ہے : و اقیموا الصلاة و آتوا الزکاة “ یعنی اگر کوئی شخص نماز قائم کرے اور زکات ادا نہ کرے تو گویا اس نے نماز قائم ہی نہیں کی ۔ ۲
زکات کی ادائےگی سے منع کرنا حرام ہے اور اس سلسلہ میں کتاب وسائل الشیعہ میں ۲۹ روایتیں نقل ہوئی ہیں انھیں روایات میں سے ایک روایت شیخ طوسی محمد بن مسلم کے حوالہ سے امام محمد باقر سے نقل کرتے ہیں ” جو شخص بھی زکات میں ذرا بھی کمی کرے گا تو پرور دگار عالم روز قیامت آگ کا ایک اژدہا اس کی گردن میں قرار دے گا اور وہ اس کا گوشت نوچے گا یہاں تک کہ وہ حساب و کتاب سے فارغ ہو جائے اور اس کی دلیل اللہ کا وہ قول ہے جس میں ارشاد فرماتا ہے ” سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامة “ ۳ یعنی جو کچھ زکات میں کنجوسی کریں گے عنقریب وہ مال ان کی گردن میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ۔ ۴
صاحب وسائل الشیعہ ، زکات کے منکر اور زکات کی ادائیگی سے منع کرنے والے کے کفر و ارتداد اور اس کے قتل کے جائز ہونے کے ثبوت میں نو روایتیں نقل کرتے ہیں ۔
----------------------------------------------
۱۔ حوالہ گزشتہ ، ج/۹ ص / ۱۰ ح / ۳
۲۔ وسائل میں الشیعہ، باب تحریم منع الزکات ، ص / ۲۲ ، ح / ۲
۳۔سورہ آل عمران/۱۸۰
۴۔ وسائل الشیعہ، باب تحریم منع زکات ، ص / ۲۲ ، ح / ۳
شیخ طوسی ابان بن تغلب کے حوالہ سے امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں : ” پرور دگار عالم کی جانب سے دو لوگوں کا خون بہانا جائز ہے اور کوئی بھی انسان اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر ے گا یہاں تک کہ خدا وند عالم قائم آل محمد عجل اللہ فرجہ شریف کو ظاہر کرے اور جب آپ کا ظہور ہوگا تو آپ اللہ کے حکم سے ان دو مسئلہ میں فیصلہ کریں یعنی زانی محصنہ کا سنگسار اور زکات کی ادائیگی سے منع کرنے والوں کی گردن اڑانا۔ ۱
شیعہ فقہا متفق علیہ طور سے زکات کے وجوب کو ضروریا ت دین میں شمار کرتے ہیں اور جان بوچھ کر انکار کرنے والے کو کافر سمجھتے ہیں ۔ ۲
امام خمینی فرماتے ہیں ” اصل وجوب زکات فی الجملہ ضروریات دین میں ہے اور بیشک جیسا کہ کتاب طہارت میں گزر چکا ہے اس کا انکار کرنے والا کفار کی جماعت میں ہے ، اہل بیت علیہم السلام سے روایت ہے کہ ” ایک قیراط زکات منع کرنے والا نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمان “ اور اگر وہ چاہے تو یا یہودی مرے یا نصرانی مرے “ اور ” کوئی بھی درخت یا زراعت یا انگور کا مالک اگر زکات ادا کرنے منع سے کرے گا تو روز قیامت پرور دگار عالم اسے اس کی گردن میں آگ کا سانپ بنا ڈال دے گا جو حساب و کتاب سے فارغ ہو نے تک اس کے گوشت کو
کاٹتا رہے گا۔
اس کے علاوہ دوسری روایتیں بھی ہیں جو عقل بشری کو حیران کر دیتی ہیں ، مگر ہاں زکات کی فضیلت بھی بہت زیادہ ہے اور اس کا ثواب بہت عظیم ہے ۔صدقہ دینے جو زکات کو بھی شامل ہے کے بارے میں روایت میں آیا ہے کہ ” خدا وند عالم صدقہ کو ویسے ہی بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے لوگ اپنے بچے کو پروان چڑھاتے ہیں تاکہ روز قیامت جب انسان کو صدقہ ملے تو اس حالت میں کہ وہ کوہ احد کے برابر ہو گیا ہو “
نیز روایت میں ہے کہ ” صدقہ بری موت سے بچاتا ہے ۔ چھپ کر دیا جانے والا صدقہ پرور دگار عالم کے غضب اور عذاب کو ختم کر دیتا ہے “ اس کے علاوہ اور بھی روایتیں ہیں ۔ ۳
----------------------------------------------
۱۔ گزشتہ حوالہ ، ص / ۳۳ ، ح /۶
۲۔محقق حلی ، المعتبر فی شرح المختصر ، قم موسسہ ، سید الشہداء ، ج / ۲ ص/ ۴۸۵ ، شیخ مفید ، المقنعہ ، قم جامعہ مدرسین ، ۱۴۱۰ ء ھ ، ج / ۱ ص / ۳۲ ۔سید محمد کاظم طبا طبائی یزدی ، العروة الوثقیٰ ، ج / ۴ ص / ۶ ۔ روح اللہ موسوی خمینی ، تحریر الوسیلہ ( قم ، دفتر انتشارات اسلامی ) ج / ۲ ص / ۱۱ سید ابو القاسم خوئی الزکات ( قم العلمیة ۱۴۱۳ ء ھ ص / ۹ ، سید محمد رضا گلپائگانی ، مختصر الاحکام ( قم دار القرآن الکریم ) ص / ۹۴ )
۳۔ تحریر الوسیلہ ، روح اللہ موسوی خمینی ، ج / ۲ ص/ ۱۱
معلوم ہوا کہ اسلام کے مذاہب پنجگانہ ، زکات کے وجوب اور اس کے ضروریات دین میں ہونے نیز جان بوجھ کر زکات سے انکار کرنے والے کے کفر ہے پر متفق ہیں اور سب کا نظریہ ایک ہے مگر فقہی نقطہ نظر سے فقر کو دور کرنے میں جو چیز زکات سے فائدہ اٹھانے میں موثر ہے وہ زکات میں شامل افراد اور اموال کی وسعت اور تنگی ہے اور اس سلسلہ میں مذاہب پنجگانہ کے فقہاکے نظریات مختلف ہیں اس لحاظ سے فقہی رائے کا انتخاب زکات کے وظیفہ کے کم یا زیادہ ہونے پر خاص اثر ڈال سکتا ہے ، نتیجہ میں ضرورت اس بات کی پڑتی ہے کہ مذاہب پنجگانہ کا ، زکات میں شامل افراد و اموال کی وسعت و تنگی کے لحاظ سے مطالعہ کیا جائے اور بحث و تحقیق کی جائے۔
۵۔ مذاہب پنجگانہ میں زکات میں شامل افراد و اموال کی تقابلی تحقیقی ، اور اہل سنت کی جدید فقہ
الف)۔ وہ افراد جن پر زکات مال ادا کرنا واجب ہے
اگر کوئی شخص بالغ ، عاقل اور مسلمان ہے تو تمام مذاہب کے فقہا اس کے اس مال میں زکات کو واجب سمجھتے ہیں جب وہ مال حد نصاب تک پہنچ جائے اور اس سلسلہ میں سب کا اتفاق نظر ہے ، لیکن اگر ایک یا دو شرط نہ پائی جائے تو ان کے درمیان اختلاف نظر ہے جس کی تفصیل ذیل میں مذکور ہے ۔
حنبلی ، مالکی ،اور شافعی مذہب کا کہنا ہے ہے کہ عقل اور بلوغ شرط نہیں ہے لہٰذا بچہ اور مجنون کے مال میں بھی زکات واجب ہے اور ان دونوں کے سرپرست پر واجب ہے کہ ان کے مال سے زکات ادا کرے ۔ ۱
لیکن حنفی مذہب تفصیل کے قائل ہیں اور غلات اربعہ میں بلوغ و عقل کی شرط کے قائل نہیں ہیں لہٰذا بچے اور دیوانے کے خرما ، کشمش اور کاشت میں زکات کے وجوب کے قائل ہیں مگر دیگر اموال میں بلوغ و عقل کی شرطوں کے قائل ہیں ۔ ۲ اہل سنت کی جدید فقہ کے مطابق غیر مکلف کے مال میں زکات واجب ہے ۔۳مگر فقہائے امامیہ
----------------------------------------------
۱۔عبد الرحمن جزیری ، الفقہ علی المذاہب الاربعة ، ( بیروت دار احیاء التراث العربی ، ۱۴۰۶ ء ھ ۱۹۸۶ء ء ) ج / ۱ ص / ۵۹۰ و السید سابق فقہ السنة ( بیروت دار الکتاب العربی ، ۱۴۰۷ ء ھ / ۱۹۸۷ ء ء ) ج / ۱ ص / ۲۹۴۔
۲۔ عبد الرحمن جزیری ، الفقہ علی المذاہب الاربعة ، ( بیروت دار احیاء التراث العربی ، ۱۴۰۶ ء ھ ۱۹۸۶ء ء ) ج / ۱ ص / ۵۹۰ و ابن عابدین ، رد المختار علی در المختار ، ( دار الفکر ، ۱۴۱۵ ء ھ ) ج / ۲ ص / ۲۷۹ و ۲۸۰ ۔
۳۔ محمد سلیمان اشقر و دیگران ، قرارات الموتمر الثانی لمجمع الاسلامیة بالقاہرہ فی ابحاث فقہیة فی قضایا الزکاة المعاصرة( اردن ، دار النفائس ، ۱۴۱۸ ء ھ / ۱۹۹۸ ء ء ) ج / ۲ ص / ۸۶۶۔
کی اس مسئلہ میں دو جماعت ہے ایک قدیم علماء جیسے شیخ مفید ، شیخ طوسی جو اس بات کے معتقد ہیں کہ بچے اور دیوانے کے غلات اربعہ اور انعام ثلاثہ پر زکات واجب ہے اور سونے چاندی پر واجب نہیں ہے مگر اس صورت میں کہ اس سونے چاندی سے تجارت کی جائے تو شیخ مفید کا نظریہ یہ ہے کہ زکات واجب ہے اور شیخ طوسی کے نظریہ کے مطابق زکات مستحب ہے اور یہی نظریہ محقق حلی کا بھی ہے ۔۱
دوسرا گروہ جدید اور معاصر علماء کاہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ بلوغ و عقل زکات کے وجوب کی شرط ہے لہٰذا بچے اور دیونے کے مال میں زکات واجب نہیں ہے ۔ ۲
وجوب زکات کے شرایط میں سے ایک شرط اسلام ہے ، حنفی ، شافعی اور حنبلی مذہب کے نظریہ کے مطابق کافر پر زکات واجب نہیں چاہے کافر اصلی ہو یا مرتد ہو ۔ ۳ جزیری مالکیوں کے الفاظ یوں نقل کرتے ہیں کہ کافر پر زکات اسی طرح واجب ہے جس طرح مسلمان پر واجب ہے بغیر کسی فرق کے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مالکیوںکی دلیل یہ ہے کہ اسلام زکات کے وجود کی شرط نہیں ہے بلکہ اسلام زکات کے صحیح ہونے کی شرط ہے لہٰذا ان کی نظر میں کافر پر زکات واجب ہے ، ہر چند اسلام کے بغیر صحیح نہیں ہے ۔ لیکن قرطبی کے بہ قول ، امام مالک کا کوئی قول اہل ذمہ پر زکات واجب ہونے کے سلسلہ میں نقل نہیں ہوا ہے ۔ ۴ لہٰذا سمجھ میں یہی آتا ہے کہ مالکیوں کا فتویٰ یہی ہو کہ کافر سے زکات وصول کرنا ضروری نہیں ہے ۔
مذہب امامیہ کے قدیم اور جدید علماء کے درمیان مشہور یہی ہے کہ کفار جس طرح اصول دین پر مکلف ہیں اسی طرح فروع دین پر بھی مکلف ہیں ۔ ۵ اور معاصر علماء کا بھی یہی نظریہ ہے اور ان کی نظر میں کافر پر زکات
----------------------------------------------
۱۔شیخ المفید، المقنعہ ، ص /۲۳۹، شیخ طوسی المبسوط ، ج / ۱ ص / ۲۳۴و محقق حلی ، المختصر ، ص / ۵۲۰
۲۔ شہید اول ، الدروس ، ج / ۱ ص / ۲۲۹ ، شہید ثانی ، الروضة البہیة ، ج / ۲ ص / ۱۱۰ ، النجفی ، جواہر الکلام ، ج / ۱۵ ص / ۱۵ ، ہمدانی ، مصباح الفقہیہ ، ج / ۳ ص/ ۲، طباطبائی یزدی ، العروة الوثقی ، ج / ۴ ص / ۵ و ۷ ، سید ابو القاسم خوئی ، الزکاة ، ص / ۱۰ و ۲۰ ، خمینی تحریر الوسیلہ ، ج / ۱ ص / ۳۱۱ و ۳۱۲ و محمد تقی بہجت توضیح المسائل (عربی ) ص / ۳۴۳
۳۔ عبد الرحمن جزیری گزشتہ، ص / ۵۹۱ ، شافعی ، کتاب الام ( بیروت ، دار الفکر ، ۱۴۰۳ ء ھ / ۱۹۸۳ ء ء ) ج / ۲ ص / ۲۹ ، محی الدین نوری ، المجموع فی شرح المہذب ، ( بیروت دار الفکر ) ج / ۵ ص /۳۲۷ و۳۲۸ ، ابن مسعود بدائع الصنایع فی ترتیب الشرایع ، ( بیروت ، دار الکتاب العربی ، ۱۴۰۲ ء ھ / ۱۹۸۲ ء ء ) ج / ۲ ص / ۴ و یوسف قرضاوی ، فقہ الزکاة ( بیروت ، موسسہ الرسالة ، ۱۴۱۲ ء ھ / ۹۱ ۱۹ ء ء) ج / ۱ ص ۹۵
۴۔ابن رشد ، بدایة المجتہد و نھایة المقتصد ،( بیروت ، دار المعرفة ، ۱۴۰۹ ئھ / ۱۹۹۱ ء ء ) ج / ۱ ص / ۲۴۵
۵۔۔محقق حلی ، المعتبر ، ج/ ۳ ص / ۴۹۰، شیخ طوسی ، الخلاف ، ج / ۱ کتاب الزکاة و نجفی ، جواہر الکلام ، ج / ۱۵ ص/ ۶۱۔ ۶۳
واجب ہے مگر ان سے صحیح نہیں ہے اور امام یا نائب امام زبر دستی وصول سکتے ہیں اور اگر تلف کر دیا ہو تو اس کا عوض کافر سے لے سکتے ہیں ۔ ۱
اہل سنت کی جدید فقہ کے مطابق کافر پر زکات واجب نہیں ہے مگر ان کے بعض علماء استدلال کرتے ہیں کہ چوں کہ غیر مسلمان کو معاف کرنا جب کہ وہ حدود اسلام میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس بات کا سبب بنتا ہے کہ در آمد اور ثروت کی تقسیم عدل پر استوار نہ ہو اور غیر مسلمان کے پاس ثروت جمع ہو جائے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ زکات کے مساوی ٹیکس غیر مسلمان پر عائد کیا جائے اور اسلامی ممالک میں مقیم غیر مسلمانوں کی رفاہ کے لئے مصرف کیا جائے ۔۲
مذاہب پنجگانہ اور اہل سنت کی جدید فقہ کے نظریہ کا خلاصہ زکات میں شامل افراد کے سلسلہ میں جدول نمبر ایک میںآخر میں بیان کیا گیا ہے ۔
ب)۔ اموال جن پر زکات واجب ہے
اموال ، مال کی جمع ہے اور اعرابی جن کے درمیان قرآن نازل ہوا ہے کے نزدیک وہ ہر اس چیز کو شامل کئے ہوئے ہے جسے انسان چاہتا ہے اور اس کا مالک بن کر اس کی حفاظت کرتا ہے نتیجہ میں ، اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری ، زراعت ، نخلستان اور سونے چاندی مال سب ہیں ۔
کتاب ” لسان العرب “ میں ہے کہ مال ہر وہ چیز ہے جو ملکیت میں آ سکے مگر یہ کہ بادیہ نشین اس کو حیوانات ( گائے ، بھیڑ بکری ، اونٹ اور گھوڑے و غیرہ پر اطلاق کرتے ہیں اور شہر والے اکثر سونے چاندی پر اطلاق کرتے ہیں جب کہ سب کے سب مال ہیں ۔۳
اہل سنت کے چارو مذاہب کے فقہا مال کی حد کے تعین میں حسب ذیل اختلاف رکھتے ہیں اور یہ اختلاف زکات کی مقدار کی جمع آوری کی کمی و زیادتی میں موثر ہوتا ہے ۔
حنفیوں کے نزدیک مال ہر وہ چیز ہے جسے ملکیت میں لایا جا سکے اور عام طور سے اس سے فائدہ اٹھایا
----------------------------------------------
۱۔ طباطبائی یزدی ، العروة الوثقی ، ج / ۴ ص / ۲۶ و خمینی ، تحریر الوسیلة ، ج / ۱ ص / ۳۱۴
۲۔ Monzer Kahaf , Zakat and obligatory Expenditures in Islam . in LESSONS INISLAMIC ECONOMICS .1918 G Vol 2 p 532
۳۔ابن منصور ، لسان العرب ، باب اللام ، فعل المیم
جا سکے ، اس لحاظ سے ان کے عقیدہ میں مالکیت دو چیزوں سے ثابت ہوتی ہے ۔ ایک امکان ملکیت دوسرے عرفا امکان استفادہ لہٰذا جو چیز بھی زمین وہوا میں ہم اپنے قبضہ میں لے لیں اور مالک بن جائیں نیز نقد پیسے اور دیگر سامان یہ سب کے سب مال ہیں اور اس طرح ہر وہ چیز کہ جو ابھی تک ملکیت میں نہ آئی ہو اور نہ ہی اسفادہ کیا گیا ہو مگر استفادہ کرنا ممکن ہو وہ بھی مال ہے ۔
جیسے سارے مباحات ” دریا کی مچھلیاں ، آسمان کے پرندے اور پہاڑی حیوان جن پر قبضہ کرنا اور استفادہ کرنا ممکن ہو ، اس نظریہ کے مطابق ہر وہ چیز کہ جس پر قبضہ ممکن نہ ہو وہ مال محسوب نہیں ہوگی چاہے استفادہ کے قابل ہی کیوں نہ ہو جیسے ، نور آفتاب اور سورج کی گرمی اسی طرح اگر عرف عام میں اس سے استفادہ نہ کیا جا سکے ہر چند احراز کے قابل ہی کیوں نہ ہو جیسے ایک مٹھی خاک ، ایک قطرہ پانی اور ایک دانہ گندم : اس تعریف کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی چیز مال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مادہ ہو تاکہ اس کی حیازت کی جا سکے اور اپنے قبضہ میں لیا جا سکے ۔ اس بنیاد پر اعیان کے منافع جیسے گھر میں کسونت ، مرکب پر سوار ہونا اور کپڑا پہننا مال محسوب نہیں ہوگا اس لئے کہ ان چیزوں کی حیازت ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اپنے اختیار میں لیا جا سکتا ہے اسی طرح حقوق ۔ جیسے دو دھ پلانا ، حق ولایت اس کے علاوہ دیگر حقوق حنفی مذہب میں مال نہیں ہےں۔ ۱
شافعی ، مالکی ، اور حنفی مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ منافع مال ہیں اس لئے کہ ان کے عقیدہ میں ضروری نہیں ہے کہ مال حیازت کے قابل ہو بلکہ ممکن ہے کہ اصل اور اس سے صادر ہونے والی چیزوں کی حیازت کے بعد منافع کی حیازت کی جائے ، بلا شک منافع سے صادر ہونے والی چیزوں کی حیازت کے بعد منافع بھی حیازت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔اور ان منافع کے مالک دوسروں کو اس سے استفادہ کرنے سے منع کر سکتے ہیں ، قانون گزار اور حقوق داں افراد اسی نظریہ کو اختیار کرتے ہوئے منافع کو مال محسوب کرتے ہیں اسی لئے مولفین حقوق اور ایجاد کی گواہی وغیرہ ان کے نزدیک معتبر ہے ۔۲
فقہا ئے امامیہ نے ہر چند مال کی بڑی وسیع تعریفیں کی ہیں مگر چوں کہ زکات کو صرف نو چیزوں میں واجب قرار دیا ہے اس لئے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صرف انھیں نو چیزوں کی زکات وصول کی تھی اور بقیہ چیزوں کو معاف کر دیا تھا لہٰذا اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
----------------------------------------------
۱۔یوسف قرضاوی ، فقہ زکات ( بیروت ، موسسہ الرسالة ، ۱۴۱۲ ء ھ) ج / ۱ ص ۱۲۴
۲۔یوسف قرضاوی ، فقہ زکات ( بیروت ، موسسہ الرسالة ، ۱۴۱۲ ء ھ) ج / ۱ ص / ۱۲۵
امامیہ مذہب کے نظریہ کے مطابق جن نو چیزوں پر زکات واجب ہے وہ یہ ہیں ۔ ۱: تین قسم کے حیوانات ( اونٹ ، گائے اور بھیڑ بکری ) ۲: غلات اربعہ ( گیہوں ، جو ، خرما اور کشمش ) ۳: سونا چاندی کے سکے بنا بر قول صحیح تر ۔ ان کے علاوہ دیگر چیزوں میں زکات واجب نہیں ہے بلکہ اکثر فقہا کی نظر میں باقی چیزوں میں زکات مستحب ہے ۔ ۱
مگر ہاں فقہ امامیہ میں خمس کا موضوع بہت ہی وسیع اور بر تر ہے جب کہ فقہائے اہل سنت خمس کو صرف غنائم جنگی میں قرار دیتے ہیں ۔ امامیہ فقہ نے اس موضوع کے تحت غنائم جنگی کے علاوہ خمس کو معدن ، جو مال سمندر میں غوطہ لگا کر نکالا جائے ، مال حلال جو مال حرام میں مخلوط ہو جائے ، وہ زمین جو کافر ذمی مسلمان سے خریدے اور دیگر منافع چاہے تجارتی ہوں یا غیر تجارتی سب میں شامل کیا ہے ۔
سید مرتضیٰ زکات کے نو چیزوں میں منحصر ہونے کا سبب اس طرح بیان کرتے ہیں : ہمارے مذہب کی صحت پر اجماع کے علاوہ جو چیز دلالت کرتی ہے وہ اصل برائت ذمہ ہے یعنی انسان زکات سے بری الذمہ ہو اوریہ ادلہ شرعیہ سے معلوم ہو گا کہ کن چیزوں میں زکات واجب ہے ، جن چیزوں میں فقہ امامیہ نے زکات کو واجب قرار دیا ہے ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ان چیزوں کے علاوہ پر کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ، پس اصل برائت اپنی جگہ باقی ہے جس کی دلیل خدا وند عالم کا قول ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ” ولا یسئلکم اموالکم “ یعنی خدا تمھارے اموال میں کوئی حق واجب نہیں کرے گا اس لئے کہ خدا وند عالم لوگوں کے مال میں سے کچھ نہیں چاہتا مگر کسی خاص وجہ سے اور آیت کا ظاہر اموال میں کسی حق کے واجب ہونے سے منع کر رہا ہے اور جو چیزیں اس اصل برائت سے خارج ہوئی ہیں وہ قطعی دلیل ہونے کے سبب خارج ہوئی ہیں ان کے علاوہ باقی چیزیں اسی ظاہر کے ما تحت باقی ہیں ۔ ۲
فقیہ اہل سنت میں جناب ابن حزم نے بھی اسی طرح کا استدلال کرکے زکات کو صرف آٹھ چیزوں میں منحصر جانا ہے وہی آٹھ چیزیں جس کی زکات رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وصول کرتے تھے ” اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری ، گیہوں ، جو ، خرما اور سونا چاندی مگر کشمش کی زکات کے لئے ابن حزم کے نزدیک کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہوئی ہے ۔ ۳
----------------------------------------------
۱۔ شیخ مفید ، مقنعہ ، ص / ۲۳۲ ، شیخ طوسی ، الاقتصاد ، ص / ۲۷۶، النجفی ، جواہر الکلام ، ج / ۱۵ ص / ۶۵ ، ۲۔ طباطبائی یزدی ، العروة الوثقی ، ج / ۴ ص / ۲۸ و امام خمینی ، تحریر الوسیلة ، ج / ۲ ص / ۱۰
۲۔ سید مرتضیٰ ، الانتصار ، چاپ شدہ در سلسلة الینابیع الفقیہہ ، ( بیروت الدار الاسلامیہ ، ۱۴۱۰ ء ھ / ۱۹۹۰ ء ء ) ص / ۷۳
۳۔ ابن حزم اندلسی ، المحلی ( بیروت دار الفکر ) ج / ۵ ص / ۲۰۸
اب ہم مذاہب پنجگانہ اور اہل سنت کے جدید نظریات کو ان اموال کے بارہ میں جن کی دستہ بندی ثروت کے عنوان سے ذیل میںکی گئی ہے بیان کرتے ہیں :وٴ
۱ ) ۔ کھیتی سے ملنے والی ، جس میں غلات اربعہ اور زراعت سے حاصل ہونے والی بقیہ چیزیں شامل ہیں ۔
۲ ) ۔ حیوانی ثروت ، جس میں اونٹ ، گائے اور بھیڑ بکری، چرنے والے گھوڑے شہد اور حیوانات سے حاصل ہونے والی چیزیں شامل ہیں ۔
۳ ) ۔ نقدی ، جس میں سونے چاندی کے سکے ، نوٹ ، سونے چاندی کے زیور اور غیر تزئینی سونا چاندی شامل ہے ۔
۴ ) ۔ تجارتی ثروت ، جس میں تجارتی اموال شامل ہیں ۔
۵ ) ۔ جنگی ثروت ، جس میں مال غنیمت شامل ہے ۔
۶ ) ۔ ثروت مخلوط با حرام جس میں ہر طرح کا حلال مال جو حرام میں مخلوط ہو جائے شامل ہے ۔
۷ ) ۔ معدن ، جس میں خزانہ ، سونے چاندی کی کان اور دیگر کانیں شامل ہیں ۔
۸ ) ۔ دور حاضر کی ثروت ، جس میں مستغلات ( ہر وہ ملکیت جس میں آمدنی ہو ) ، عمارتیں ، زمینی ، ہوائی اور دریائی سواریاں ( جیسے موٹر کار ، ہوائی چہاز اور پانی کے جہاز وغیرہ ) کا رخانے ، کمائی کے منافع اور قرعہ اندازی سے حاصل ہونے والے فائدے و غیرہ شامل ہیں ۔
اول :۔ زراعت کے ذریعہ حاصل ہونے والی ثروت
غلات اربعہ ( جو گہیوں ، کشمش اور خرما ) پر زکات کے وجوب میں اہل سنت کے تمام مذاہب متفق ہیں ان سبھوں کا نظریہ یہ ہے کہ اگر بارش کے پانی سے کھیتی ہوئی ہے تو عُشر۱۰ / فیصد اور اگر سنچائی سے ہوئی ہے تو ۵ فیصد یعنی نصف عُشر زکات واجب ہے ۔
حنفی مذہب کے علاوہ اہل سنت کے سارے مذاہب غلات اربعہ میں حد نصاب کو معتبر جاتے ہیں ، حد نصاب ۵ / وسق ہے اور ہر وسق۶۰ صاع ہے ، جو مجموعا ۹۱۰ کلو گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے اس سے کم میں زکات واجب نہیں ہے مگر حنفی مذہب میں اس مقدار سے کم ہو یا زیادہ زکات واجب ہے ۔غلوں اور زراعت کی نوعیت میں ہر مذہب میں اختلاف ہے حنفی کہتے ہیں ، سبزی ، نرکٹ اور لکڑی کے علاوہ زمین سے نکلنے والی تمام چیزوں میں زکات واجب ہے ۔
----------------------------------------------
وٴ ان نظریات کا مقصد جدول نمبر ۲ میں ذکر کیا گیا ہے
مالکی اور شافعی کہتے ہیں زکات ان تمام چیزوں میں واجب ہے جنھیں انسان سال بھر کے خرچہ کے لئے ذخیرہ کرتا ہے جیسے گیہوں ، جو خرما اور کشمش ، حنبلی کہتے ہیں : ہر وہ چیز جو تولی اور وزن کی جائے اس میں زکات
واجب ہے ۔ ۱
لیکن امامیہ کے نظریہ کے مطابق زکات صرف غلات اربعہ ، گیہوں ، جو ، خرما اور کشمش میں حد نصاب تک پہنچنے کے بعد واجب ہے اس کے علاوہ میں واجب نہیں ہے ، ہاں مستحب ہے ۔ ۲
دوم : ۔ حیوانات
انعام ثلاثہ
مالکی مذہب کے علاوہ دیگر تمام مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ سائمہ ( چرنے والے جانور ) اور نصاب کی شرط کے ساتھ تین قسم کے حیوانات میں زکات واجب ہے وہ یہ ہیں ( اونٹ ، گائے ( بھینس بھی شامل ہے ) پھیڑ ( بکری بھی شامل ہے ) مگر مالکی مذہب میں سائمہ ( چرنے ) کی شرط نہیں ہے ، اس نظریہ کے مطابق زکات ان تین قسموں میں واجب ہے چاہے سائمہ ہوں یا غیر سائمہ ۔
سبھی مذاہب اس بات پر متفق القول ہیں کہ گھوڑا ، خچر اور گدھے میں زکات واجب نہیں ہے ، مگر یہ کہ مال التجارة ( تجارت کے مال ) کا جزو قرار پائیں ۔ ۳ ، مگر حنفی مذہب گھوڑے اور گھوڑی میں دو شرط کے ساتھ زکات واجب جانتے ہیں شرط اول سائمہ ہو ( چرنے والے ) شرط دوم نسل بڑھانے کے لئے گلہ کی دیکھ بھال کی
جا رہی ہو ۔ ۴
شہد اور حیوانی محصولات کی زکات
حنفی اور حنبلی مذاہب میں شہد میں ۱۰ فیصد زکات واجب ہے ، مالکی اور شافعی مذہب شہد میں زکات کے
----------------------------------------------
۱۔ عبد الرحمن جزیری ہمان ، ص /۶ ۶۱ و ۶۱۹ ، یوسف قرضاوی ، ہمان ، ص / ۳۴۱ و ۴ ۳۵ ، ابن رشد ، ہمان ، ص / ۲۵۳ و محمد جواد مغنیہ ، الفقہ علی المذاہب الخمسہ ، ( بیروت داالجواد ، ۱۴۰۴ ء ھ / ۱۹۸۴ ء ء ) ص / ۱۷۳ ۔
۲۔شیخ مفید ، مقنعہ ، ص / ۲۸ ، شیخ طوسی النہایة ، ص / ۱۱۴ و ۱۱۵ ، محقق حلی شرائع الاسلام ، ص / ۳۵۷ و ۳۵۸ ، نجفی ، جواہر الکلام ، ج / ۱۵ ص/ ۶۹ ، طباطبائی یزدی ، العروة الوثقیٰ ، ج / ۲ ص/ ۲۸۸ و امام خمینی ، تحریر الوسیلہ ، ج / ۱ ص/ ۳۰۶
۳۔ ابن رشد ، ہمان ، ص / ۲۵۱ ، یوسف قرضاوی ، ہمان ، ص / ۳ ۲۲،محمد جواد مغنیہ،ہمان ، ص / ۱۶۹۔
۴۔محی الدین نووی ، ہمان ، ج / ۵ ص / ۳۳۹
قائل نہیں ہیں۔ قرضاوی تمام مذاہب کے نظریوں کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں شہد مال ہے اور اس کے ذریعہ تجارت کی جاتی ہے لہٰذا اس میں زکات واجب ہے ۔۱
سوم : نقدی ثروت
سونے چاندی کا سکہ اگر حد نصاب تک پہنچ جائے اور ایک سال تک باقی رہ جائے تو تمام مذاہب کے نزدیک اس میں زکات واجب ہے ، چوں کہ اہل سنت کے چارو مذاہب سکہ ہونا شرط نہیں سمجھتے لہٰذا وہ سونے چاندی کے بسکٹ اور ظروف میں بھی زکات کو واجب سمجھتے ہیں لیکن زیور وغیرہ میں صرف حنفی زکات کو واجب جانتے ہیں و مالکی ، شافعی اور حنبلی واجب نہیں جانتے ۔ ۲
فقہائے امامیہ چوں کہ سونے چاندی میں زکات کے واجب ہونے میں سکہ رائج الوقت کو شرط سمجھتے ہیں لہٰذا سونے چاندی کے بسکٹ ، ظروف اور زیور وغیرہ میں زکات کے وجوب کے قائل نہیں ہیں ۔ ۳
کاغذی پیسہ ( نوٹ ) اور دوسرے پیسے
اہل سنت کے چارو مذاہب کے اکثر فقہا رائج روپئے اور پیسے میں زکات کے وجوب کے قائل ہیں اس لئے کہ ان کی نظر میں روپیہ اور نوٹ نے معاملات میں سونے چاندی کی جگہ لے لی ہے ، شافعی کی نگاہ میں نوٹ اور روپئے کے ذریعہ معاملہ کرنا گویا بینک پر حوالہ ( Order) ہے اس حوالہ کی قیمت کے اعتبار سے انسان اس ورق کا مالک بن جاتا ہے جو بینک کے ذمہ قرض ہے اور بینک مدیون ہے اور جب بھی ان اوصاف کے ساتھ مدیون ہوگا تو اس قرض کی زکات فورا ًاور حالا واجب ہے ۔
حنفی فقہا کہتے ہیں کہ کاغذی روپئے قوی قرض کی مانند ہےں اور انھیں فورا چاندی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے پس اس کی زکات بھی فورا واجب ہے ، مالکی فقہا کہتے ہر چند کاغذی روپئے قرض کی سند ہے مگر چوں کہ اسے فورا چاندی میں تبدیل لیا جا سکتا ہے اور معاملات میں اس نے سونے کی جگہ لے لی ہے لہٰذا شرائط کے ہوتے ہوئے اس میں زکات واجب ہے ۔
----------------------------------------------
۱۔ ، یوسف قرضاوی ، ہمان ، ص / ۴۲۵ و ۴۲۷۔
۲۔ ابن رشد ، ہمان ، ص / ۲۵۱ و عبد الرحمن جزیری ہمان ، ص /۶۰۱ و ۶۰۲
۳۔شیخ مفید ، مقنعہ ، چاپ شدہ در : سلسلة الینابیع الفقہیہ ، ( بیروت ، دار التراث ۱۴۱۰ ء ھ / ۱۹۹۰ ء ء ) ج / ۵ ، ص / ۲۷ و ۲۸ ، شیخ طوسی النہایة ، چاپ شدہ در ہمان، ص / ۱۱۴ ، محقق حلی ، شرائع الاسلام ، چاپ شدہ در ہمان ص / ۳۵۶ ، طباطبائی یزدی ، العروة الوثقیٰ ، ( تہران المکتبة العلمیة العلمیة الاسلامیة ، ۱۳۶۳ ) ج / ۲ ص/۶۰۹ و امام خمینی ، تحریر الوسیلہ ، ( موسسہ تنظیم و نژر آثار امام خمینی ، ۱۴۲۱ ئھ / ۱۳۷۹ ء ) ج / ۱ ص/ ۳۰۴
ان لوگوں کے نظریات کی بنیاد پر اسکناس ( نوٹ ) میں یہ قابلیت ہے کہ بغیر کسی مشکل کے اس کا چاندی سے معاوضہ ہو سکتا ہے لہٰذا یہ امر معقول نہیں ہے کہ لوگوں کے پاس نوٹ ہو اور حد نصاب کے برابر چاندی سے تبدیل بھی کیا جا سکتا ہو مگر اس میں سے زکات نہ نکالیں ۔
نتیجہ میں اہل سنت کے تین مذاہب ، شافعی ، مالکی اور حنفی کے فقہا کا نوٹ اور چک میں وجوب زکات پر اجماع قائم ہے صرف حنبلی مذہب والے اس مسئلہ میں مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ نوٹ اور کاغذی پول میں زکات واجب نہیں ہے مگر یہ کہ اسے سونے چاندی میں تبدیل کر دیا گیا ہو اور زکات کی دیگر شرطیں بھی اس سونے چاندی میں موجود ہوں ۔ ۱
ان تمام اقوال کی اصل یہ ہے کہ یہ اوراق اور چک ، صادر کرنے والے بینک پر قرض کی سند ہیں اور اس کی قیمت کے برابر فورا چاندی میں بدل جائیں گے نتیجةً ان کی زکات بھی واجب فوری ہے مگر حنبلی کے مذہب کے نزدیک اگر یہ تبدیل کرنا عمل میں آئے تو زکات واجب ہے ورنہ واجب نہیں ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل مرکزی بینک نے نوٹ کو سونے چاندی میں بدلنے کا اقرار نامہ ختم کر دیا ہے اب بدلا نہیں جا سکتا لہٰذا ان سارے فتووٴں کی اصل در ہم برہم ہو جاتی ہے ۔
مگر امامیہ مذہب میں زکات کے نو چیزوں میں منحصر ہونے اور آج کل کے روپئے پیسے کے مسکوک سونا چاندی نہ ہونے کی وجہ سے نوٹ اور چک میں زکات واجب نہیں ہے بلکہ اس مذہب میں خمس منافع کسب کا عنوان ایسا ہے جو ہر طرح کی در آمد کو شامل ہے
اسلام کے فقہی مذاہب ، مشکلات فقر کے مقابل
اسلام کے پانچوں مذاہب زکات کے واجب ہونے پر متفق القول ہیں، مگر کن چیزوں اور کن لوگوں پر زکات واجب ہے اس سلسلہ میں ان کے نظریات مختلف ہیں اور نظریہ کا مختلف ہونا
زکات کی در آمد اور فائدہ کے کم اور زیادہ ہونے میں اچھی طرح اثر انداز ہے نتیجة اسلامی سماج سے فقرو فاقہ کو دور کرنے میں بھی زبردست اثر ڈالتا ہے ۔
اماميه مذہب میں بچے اور دیوانے زکات کی ادائگی سے معاف ہیں مگر اماميه مذہب کے مطابق ہر بالغ و عاقل مسلمان اورغیر مسلمان کے مال میں زکات واجب ہونے کی وجہ سے زکات کی در آمد کے لئے عظیم منبع مہیا ہو جاتا ہے ، جب کہ اہل سنت کے چارو مذاہب اور ان کی جدید فقہ کے مطابق کافر کے مال میں زکات واجب نہیں ہے ۔
زکات میں شامل ہونے والے اکیس موارد جو قومی ثروت کو شکل دیتے ہیں :
اہل سنت کے چارو مذہب کے مطابق ان اکیس موارد میں سے صرف ۱۲ یا ۱۴ موارد ہیں جن پر زکات واجب ہے اور ۷ یا ۹ اہم موارد ایسے ہیں جو اسلامی اقتصادی فریضہ سے خارج ہیں ، مگر امامیہ مذاہب میں شامل کئے گئے ہیں اگر خمس اور اس کے مصارف کو زکات اور اس کے مصارف سے الگ کردیا جائے جیسا کہ مشہور بھی یہی ہے تو شیعہ فقہ کے مطابق آج کے اقتصاد میں سے صرف چار غیر اہم موارد مشمول زکات قرار پائیں گے اس لحاظ سے زکات کی آمدنی بہت کم ہو جائے گی ۔
مقدمہ
کم از کم ضروریات زندگی کی فراہمی اور سماج سے فقر و فاقہ کو ختم کرنا باہمی زندگی کی ایک نیک آرزو ہے ۔ اسلام نے زکات کو واجب قرار دے کر اس نیک آرزو کو قطعی طور سے پورا کیا ہے ۔ یہاں تک کہ زکات کا وجوب ضرورت دین میں محسوب ہوتا ہے ۔ اس مقالہ میں سب سے پہلے بطور خلاصہ قرآن و حدیث اور شیعہ و اہل سنت کی فقہ کے اعتبار سے زکات کی فضیلت اور منزلت کو بیان کیا جائے گا پھر ان مذاہب کے نظریات کے مطالعہ کے ذریعہ بتایا جائے گا کہ خود زکات کے وجوب پر بھی مذاہب کا اجماع ہے مگر زکات کن لوگوں پر واجب ہے اور کن چیزوں میں واجب ہے ، اس میں ان مذاہب کے نظریوں میں اختلاف ہے آخر میں سرسری طور پر زکات کے قانون کو اسلامی حکومتوں میں کس طرح نافذ کیا گیا کو بیان کیا جائے گا ۔
اسلامی ممالک میں زکات کی آمدنی کو بڑھانے کا سسٹم اور اسلامی سماج سے غریبی دور کرنے کی مدیریت اور اس کا قانون نافذ کرنے کا سسٹم کامیاب نہیں ہے لہٰذا فقر فاقہ وک دور کرنے میں بہت کم موثر ہوا ہے ۔
یہ بات بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ مقالہ صرف ایک تحقیق ، مباحثہ اور اطلاع رسانی ہے اس کا مقصد فقہی نظر یات میں سے ایک کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا نہیں ہے ، کسی بھی فقہی نظریہ کو بیان کرنے میں اس کی اصل اور بنیاد اس مذہب کا مشہور و معروف نظریہ ہے ۔
۱۔ زکات لغت کے اعتبار سے
لغت میں زکات کے معنی زیادہ ہو نا اور غور کرنا ۔ ۱ مقاییس الغة میں لکھا ہے ” زاء ، کاف اور حرف معتل “ اس کی اصل ہے جو زیاد ہونے اور نمو کرنے پر دلالت کرتا ہے ۔ ۲ شوکانی اپنی کتاب ” نیل الاوطار “ میں لکھتے ہیں ”
----------------------------------------------
۱۔ المعجم الاقتصادی ، احمد شرباصی ، دار الجلیل بیرورت ۱۴۰۱ئھ
۲۔ معجم مقاییس اللغة ، ابو الحسن احمد بن فارس ، دفتر تبلیغات اسلامی قم ۱۴۰۴ئھ
جب کوئی چیز نمو کرتی ہے اور زیادہ ہوتی ہے تو ہم عربی میں کہتے ہیں ” زکا الشیٴ “ اور جب کوئی شخص نیک اور اچھا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ” زکیٰ فلاں “ اور تطہیر کے معنی میں بھی استعمال ہواہے ۔۱
راغب کی کتاب ” مفردات “ میں ہم پڑھتے ہیں ” اصل میں زکات پروردگار کی برکت کا ما حصل ہے م کہا جاتا ہے زکاالزرع یزکو ۔ جب کھیتی نمو کرتی ہے تو برکت ہوتی ہے ۔ ۲
بہت سی آیتیں جو زکات کی شان میں نازل ہوئی ہیںان میں زکات کو صدقہ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جیسے :
< خذ من اموالھم صدقة > ۳
< و انما الصدقات للفقراء و المساکین ․․․ > ۴
پہلے زمانہ میں زکات جمع کرنے والوں کو مسلمان مصدق کہتے تھے چوں کہ وہ صدقہ جمع کر کے تقسیم کرتے تھے ۔ ۵ ۔ کتاب ” لسان العرب “ میں لکھا ہے : جو شخص صدقے جمع کرکے مستحقوں کے درمیان تقیم کرتا ہے اسے مصدق کہتے ہیں ۔ ۶
زکات اصطلاح میں
مجمع البحرین میں لکھا ہے : ” اصطلاح میں زکات مخصوص صدقہ ہے جس کی مقدار بنیادی طور سے شریعت کی جانب سے معین ہو چکی ہے جو مال اور ذمہ دونوں میں ہے تا کہ دو نوں پاک ہو جائیں زکات مال ، مال کو پاک کرتی ہے اور فطرہ بدن کو پاک کرتاہے ۔ ۷
----------------------------------------------
۱۔ نیل الاوطار شرح منتفی الاخبار ، محمد بن علی بن محمد شوکانی ، مصطفی البابی الحلبی ، مصر ۱۳۴۷ئھ، ج/۴ کتاب الزکاة ص/۹۷
۲۔ مفرادات الفاظ القرآن ، راغب اصفہانی ، مرتضوی ، تہران ،۱۳۷۳ئھ
۳۔ سورہ توبہ / ۱۰۳
۴۔ سورہ توبہ / ۶۰
۵۔ مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج/۵ ص / ۶۴ ، فضل بن حسن طبرسی ، دار المعرفة ، تفسیر المیزان ، ج/ ۹ ص /۳۱۰، سید محمد حسین طباطبائی ، موسسہ اسماعلیان ، قم ، تفسیر عیاشی ، محمد بن مسعود عیاشی ، تحقیق و تصحیح سید ہاشم رسولی ، محلاتی ج/ ۲ ص/۹۰ مکتبہ علمیة اسلامیة ، تہران ، تفسیر شبر ، سید عبداللہ شبر ، ص / ۲۰۶، دار البلاغة ۔
۶۔ لسان العرب ، ج /۴ ص/ ۲۴۱۹ ا ،بن منظور ، دار المصریہ للتالیف و الترجمہ ،قاہرہ ۔
۷۔ مجمع البحرین ، ص / ۲۸۳، فخر الدین طریحی ، دفتر نشر فرہنگ اسلامی ۱۴۰۸ء ھ
علامہ حلی لکھتے ہیں زکات لغت میں زیادہ ہونا ، نمو کرنا اور تطہیر کرنا ہے اور شریعت میں اس حق کا نام ہے ، جو مال میں واجب ہے ، جس کے وجوب کے لئے نصاب معتبر ہے اور زکات کہے جانے کی وجہ یہ ہے کہ دواب زیادہ ہواتا ہے ، مسکینوں کے حق سے مال پاک ہو جاتا ہے اور زکات ادا کرنے والا زکات نکالنے کے سبب گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ۱ حاج رضا ہمدانی لکھتے ہیں زکات لغت میں طہارت و نمو کے معنی میں ہے اور عرف اہل شریعت میں اس حق کا نام ہے جس کی شناخت اہل شرع کو ہے اور کتاب اور جو متواتر سنت کے ذریعہ ان کے نزدیک ثابت ہو چکا ہے یہ نماز و روزہ کی طرح ضروریات دین میں سے ہے ۔ اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج
ہو جاتا ہے ۔۲
دوسرے الفاظ میں ایک مخصوص مقدار ہے جس میں خاص شرائط پائے جانے کے بعد اس مال کے نکالنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ ۳
کتاب ” معجم الاقتصادی الاسلامی “ میں لکھا ہے زکات ایک حق ہے جس کا نکالنا مخصوص مال میں سے خاص افراد پر مخصوص وقت میں واجب ہے ۔ ۴
زکات مسلمانوں کے مال میں ایک دینی اور الزامی فریضة ( حق اللہ المعلوم ) ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اپنے مخصوص نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال پورا ہو جائے ۔ دین اسلام میں اس لئے اسے زکات کہا گیا ہے کہ یہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہونے اور ان کے مال کے مستحقوں کے حقوق سے پاک ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
قرطبی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں : زکات ، تزکیہ سے لیا گیا ہے جس کے معنی تطہیر کے ہیں، گویا زکات نکالنے والا اپنے مال کو محتاجوں کے اور دوسرے لوگوں کے حقوق سے کہ جن کا تذکرہ خدا وند عالم نے کیا ہے پاک کردیتا ہے ۔ ۵
----------------------------------------------
۱ ۔ المعتبر فی شرح المختصر ، ج / ۳ ص / ۱ ، محقق حلی ، موسسہ سید الشہداء قم
۲۔ مصباح الفقیہ ، ج / ۳ ص / ۱ ، آقای رضا ہمدانی ، مکتبة الصدر ، قم
۱۔ کتاب الزکاة ، حسین علی منتظری ، ج / ۱ ص / ۹ ، دفتر تبلیغات اسلامی قم ، ۰۴ ۱۴ ء ھ
۲۔ المعجم الاقتصادی الاسلامی ، ج / ۱ ص / ۹ ، احمد شر باصی
۳۔ الجامع لاحکام القرآن ، محمد قرطبی ، ج / ۱ ص/ ۳۴۳ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۰۵ ء ھ
زکات قرآن میں
قرآن مجید میں لفظ زکات ۳۲ مرتبہ آیا ہے ، ۲۹ مرتبہ معرفہ کی صورت میں ۲۶مرتبہ نماز کے ساتھ ایک آیت میں اور ایک مرتبہ ایک ہی سیاق میں نماز کے ساتھ البتہ الگ الگ ایتوں میں ، اسی طرح زکات کا عنوان قرآن مجید میں صدقہ اور صدقات کے الفاظ میں۱۲مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔۱
زکات کا مالی عبادت کے عنوان سے نماز کے ساتھ جو ایک جسمانی عبادت ہے قرآن مجید میں ۲۶مقامات پر ذکر ہونا ان دو واجب کے لازم و ملزوم ہونے کی دلیل ہے
زکات کا نماز (جو کہ ستون دین ہے ) کے ساتھ ہونا اس نظم و ضبط کی بنیاد ہے جس پر سماجی زندگی استوار ہے ، اس حد تک کہ گزشتہ انبیاء کے حکم کا جو ہر ہے جیسا کہ قرآن مجید نے خود انبیاء جیسے جناب ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب اور اسماعیل علیہم السلام کی زبان سے اس امر کو اس طرح بیان کیا ہے ۔
< و جعلنا ھم ائمة یھدون بامرنا و اوحینا الیھم فعل الخیرات و اقام الصلاة و ایتاء الزکاة و کانوا لنا عابدین >
اور ہم نے سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور ان کی طرف کار خیر کرنے نماز قائم کرنے اور زکات ادا کرنے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔( سورہ انبیاء /۷۳)
< واذکر فی الکتاب اسماعیل انہ کان صادق الوعد و کان رسولا نبیا Rو کان یامر اھلہ بالصلاة و الزکاة و کان عند ربہ مرضیا >
اور اپنی کتاب میں اسماعیل کا تذکرہ کرو کہ وہ وعدہ کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے ۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکات کا حکم دیتے تھے اور اپنے پرور دگار کے نزدیک پسندیدہ تھے ۔ ( سورہ مریم / ۵۴ و۵۵ )
اسی طرح جناب عیسیٰ (علیهم السلام) گہوارہ میں فرماتے ہیں:
< قال انی عبد اللہ آتانی الکتاب و جعلنی نبیا و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصلاة و الزکاة ما دمت حیا >
----------------------------------------------
۱۔ معجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم ، محمد فواد عبد الباقی ( تہران ، انتشارات اسلامی ۔ ۱۳۷۳ء ش
کہا میں اللہ کا بندہ ہون اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنا یا ہے اور جہاں بھی رہوں با برکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں نماز اور زکات کی وصیت کی ہے ۔ (سورہ مریم / ۳۰ و ۳۱ )
بنی اسرائیل سے عہد و پیمان کے سلسلہ میں اس طرح ارشاد ہوتا ہے :
< و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ و بالوالدین احسانا و ذی القربیٰ و الیتامیٰ و المساکین و قولوا للناس حسنا و اقیموا الصلاة و اتوا الزکاة ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون >
اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبر دار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ، قرابتداروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکات ادا کرنا ، لیکن اس کے بعد تم میں سے چند کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور تم لوگ تو بس اعراض کرنے والے ہی ہو۔
( سورہ بقرہ / ۸۳ )
قرآن مجید اللہ کے برگزیدہ دین کی صفت اس طرح بیان کرتا ہے :
< وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء و یقیموا الصلاة و یوتوا الزکاة و ذلک دین القیمة >
اور انھیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اس کے لئے خالص رکھیں نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔ ( سورہ بینہ / ۵ )
سورہ توبہ کی آیت ۱۱ کے مطابق اللہ کی وحدانیت پر ایمان اور نماز کے ساتھ زکات ادا کرنے سے انسان مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے اور اخوت و برادری کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے:
<فان تابوا و اقاموا الصلاة وآتوا الزکاة فاخوانکم فی الدین ۔۔۔۔>
پھر بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں ۔( سورہ توبہ / ۱۱ )
اسی سورہ کی آیت نمبر ۵ بھی اسی مطلب کو بیان کرتی ہے :
< فان تابوا و اقاموا الصلاة و آتوا الزکاة فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم >
پھر اگر توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔
وہ اموال کہ جن پر فقہ میں زکات واجب یا مستحب ہے اس کی کچھ قسمیں قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں :
اول سونا چاندی
< والذین یکنزون الذہب و الفضة ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم >
اور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے پیغمبر آپ انھیں درد ناک عذاب کی بشارت دے دیں۔(سورہ توبہ / ۳۴ )
دوم میوے اور کھیتی ۱
< کلوا من ثمرہ اذا اثمر و آتوا حقہ یوم حصادہ ۔۔۔ >
تم سب ان کے پھلوں کو جب وہ تیار ہو جائیں تو کھاؤ اور جب کاٹنے کا دن آئے تو ان کا حق ادا کردو ․․․۔ ( سورہ انعام / ۱۴۱ )
سوم منافع تجارت
< یا ایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم ۔۔۔ >
اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی میں سے راہ خدا میں خرچ کرو۔ ( بقرہ / ۲۶۷ )
چہارم وہ چیزیں جو زمین سے حاصل ہوں جیسے معدن
< ومما اخرجنا لکم من الارض ۔۔۔ >
اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمھارے لئے خارج کیا ہے ۔( سورہ بقرہ / ۲۶۷ )
----------------------------------------------
۱۔ اور ایک تفسیر کے مطابق حق الحصاد وہی زکات کی ادائیگی سمجھیں اور اسے زکات کے علاوہ کوئی حق شمار نہ کریں۔
اسلامي انقلاب کي کاميابي ميں خواتين کا کردار
عائلي اور خانداني نظام زندگي ميں ايک مسلمان عورت اپنے گھرانے ميں بہت سے وظائف کي حامل ہے کہ جو گھرانے ميں اُس کے بنيادي رکن ہونے ، تربيت اولاد، ہدايت اور شوہر کي روحي تقويت کرنے عبارت ہيں- ايران ميں شاہي طاغوتي حکومت سے مقابلوں ميں بہت سے مرد ميدان ِ مبارزہ ميں نبرد ميں مصروف تھے ليکن اُن کي خواتين نے انہيں اجازت نہيں دي کہ وہ شاہي حکومت سے مقابلے کو جاري رکھيں ، کيونکہ ان ميں اِس بات کي قوت نہيں تھي کہ وہ مقابلے کي سختيوں کو تحمل کريں- اِس کے برخلاف بہت سي خواتين اس مبارزے کي راہ ميں استقامت اور ڈٹے رہنے پر نہ صرف يہ کہ اپنے شوہروں کي حوصلہ افزائي کرتيں تھيں بلکہ اُن کي مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کي ہمتوں کو بلند رکھنے کيلئے روحي طور پر اُن کي پشت پناہي بھي کرتيں تھيں-
سن 1977 اور 1978 کے عوامي مظاہروں ميں جب ملک کے کوچہ و بازار سب عوام سے بھرے پڑے تھے تو خواتين اپنے شوہروں اور بچوں کو مظاہروں ،شاہي حکومت سے مبارزے و مقابلے کرنے اور عوامي رضا کار فوجي (بسيج) کو فعال بنانے ميں اہم اور کليدي کردار کي حامل تھيں-
انقلاب اور آٹھ سالہ تھونپي گئي جنگ کے دوران ہماري ماوں نے اپنے بيٹوں کو راہ اسلام ميں سر بہ کف مجاہدوں اور دليروں ميں جبکہ بيويوں نے اپنے شوہروں کو صاحب ِ استقامت اور مضبوط انسان ميں تبديل کرديا تھا- يہ ہے اولاد اور شوہر کيلئے بيوي کا کردار اور اس کے عمل کي تاثير- يہ وہ کردار ہے کہ جسے ايک عورت اپنے گھر ميں ادا کرسکتي ہے اوريہ اُس کے بنيادي کاموں ميں سے ايک کام ہے اور ميري نظر ميں عورت کا يہ کام اُس کے سب سے زيادہ اہم ترين کاموں ميں شامل ہے- اولاد کي صحيح تربيت اور زندگي کے بڑے بڑے ميدانوں اورامتحانوں ميں قدم رکھنے کيلئے شوہر کي روحي طور پر مدد کرنا ايک عورت کے اہم ترين کاموں ميں شامل ہے - ہم خدا کے شکر گزار ہيں کہ ہماري مسلمان ايراني خواتين نے اس ميدان ميں بھي سب سے زيادہ خدمات انجام ديں ہيں-
البتہ ايران کي شجاع، ہوشيار، استقامت اور صبر کرنے والي خواتين نے انقلاب اور جنگ کے زمانے ميں، خواہ محاذ جنگ پر ہوں يا محاذ جنگ کے پيچھے يا پھر گھر کي چار ديواري کے اندر بالعموم تمام ميدانوں ميں بہت فعال کردار ادا کيا ہے اور آج بھي سياست ، ثقافت اورانقلاب کے ميدانوں ميں بھي عالمي دشمنوں کے مقابلے ميں اپنا بھсور کردار ادا کر رہي ہيں-
وہ افراد جو ہمارے وطن اور اسلامي جمہوريہ کے نظام کا تجزيہ و تحليل کرنا چاہتے ہيں جب اِن مصمّم ارادوں، اس آگاہي اورشعوروشوق کا مشاہدہ کريں گے تو ايراني قوم اور اسلامي جمہوريہ کے نظام کے مقابلے ميں ستائش و تعظيم کا احساس کريں گے-
کتاب کا نام : عورت ، گوہر ہستي
تحرير : حضرت آيت اللہ العظميٰ امام سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ
مسلمان ایک دوسرے کے قریب آجائیں تاکہ دونوں کی لڑائی تیسرے کی جیت نہ بن جائے
منگل, 03 جولائی 2012 تحریر مولانا سلیم جاوید
تقریب و یکجہتی کے لئے اپنے پیغام میں حنفیہ مسجد علی کے امام جمعہ جناب مولانا سلیم جاوید نے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے علماء کرام سے متحد ہوجانے کی اپیل کی ۔
تقریب مذاہب اسلامی کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے مورخہ 22 جون کو حجت الاسلام والمسلمین حاج عبد الحسین کشمیری نے اپنے رفقاء کے ساتھ ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے وسطی ضلع کے بیروہ تحصیل میں واقع حنفیہ مسجد علی چیوڈارہ میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی اور نمازیوں کے جم غفیر کو تقریب بین المذاہب اسلامی کے پیغام سے روشناس کیا۔
تقریب و یکجہتی کے لئے اپنے پیغام میں حنفیہ مسجد علی کے امام جمعہ جناب مولانا سلیم جاوید نے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے علماء کرام سے متحد ہوجانے کی اپیل کی ۔
مولانا سلیم جاوید نے کہا: ہمارے مابین کچھ مسلکی اختلافات ضرور ہیں مگر وہ علمی ہیں اور انکو علماء کرام تک ہی محدود رکھنا چاہئے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو ان اختلافات سے دور رکھا جائے کیونکہ علماء کا اختلاف باعث رحمت ہے اور عوام کا اختلاف باعث زحمت۔
انہوں نے علماء کرام سے گذارش کرتے ہوئے کہا: میں علماء کرام سے التجا کرتا ہوں کہ وہ متحد ہوجائیں ۔ جب تک علماء متحد نہیں ہونگے تب تک عوام میں بے باکی ختم نہیں ہوگی ۔
مسجد علی کے امام جمعہ نے کہا: اسلام دشمن ممالک بشمول امریکہ مسلمانوں کو پست کرنا چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو گروہوں میں بانٹ دینا چاہتے ہیں ، اسی میں انکی کامیابی ہے ۔ علماء کرام کو اس بات کو مدّ نظر رکھنا چاہئے کہ ہم سب کا راستہ اور طریقہ مکمل ہے جو ہمیں رسول کریم (ص) نے دکھایا ہے ۔ لہٰذا اس میں کوئی اختلاف یا دو رائے نہیں ہے کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اگر مسلمان خود کو قائم رکھنا چاہتے ہیں، اسلام کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور پیارے نبی (ص) کے مبارک علم اور دین کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ایک ہوجائیں ۔
مولانا سلیم جاوید نے کہا: میری مسلمانوں سے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں دست بندانہ التجا ہے کہ وہ دن بہ دن یہ کوشش کریں کہ مسلمان ایک دوسرے کے قریب آجائیں تاکہ دونوں کی لڑائی تیسرے کی جیت نہ بن جائے ۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں حجت الاسلام والمسلمین حاج عبد الحسین کشمیری نے کہا کہ پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے شعبان المعظم کو اپنے ساتھ نسبت دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ "شعبان میرا مہینہ ہے جو کوئی میرےمہینے میں ایک دن روزہ رکھے گا بہشت اس پر واجب ہوگی"۔آنحضرت کے مہینے میں ہمیں بہشتی بننے کی تربیت ملتی ہے تاکہ خدا کے مہینے میں داخل ہوکرخدا کا مہمان بننے کاشرف اور لطف حاصل کرسکیں ۔
انہوں نے ماہ شعبان کی فضیلت اور پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:ماہ شعبان میں اہلبیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کئی چاند اور آفتابوں کی ولادت ہوئی ہے جن میں دو سے تو سبھی مسلمان واقف ہیں یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں ۔دونوں شخصیتوں نے انسان کو بہشت کا مستحق اور خدا کا مہمان بننے کا عملی نمونہ پیش کیا ہے کہ حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام اور مسلمانوں کی قدر و منزلت کیا بیان فرمائی ہے اوراسکی حفاظت اور تکمیل کے لئے کیا کچھ کرنا ضروری ہے ۔
انہوں نے مذید کہا:امام حسین علیہ السلام نے ثابت کر دکھایا ہےکہ خدا کی اطاعت اور اسلام کی حفاظت سے بڑکر کوئی چیز نہیں ہے اور حسین بن علی علیہم السلام جیسی شخصیت جن پر انبیاء ،اولیاء اللہ اور ملائکہ رشک کرتے ہیں اس پر قربان ہونے کو اپنا معراج ثابت کرتے ہیں اسطرح اسلام کے نام پرکسی بھی شکل میں ظلم اور ناانصافی کا سکہ رائج کرنے کا دروازہ بند ہوا ہے ۔اور امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف جو کہ خدا کے حکم سےظاہر ہوکردنیا بھر میں ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کرکے امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کو آخری شکل دیں گے اسلئے ہر مسلمان شیعہ ہو یا سنی کو اس آخری اسلامی انقلاب میں حصہ دار رہنے کیلئے شعبان اور رمضان کے مہینوں میں اپنے آپ کوایسی تربیت کے سانچے میں ڈالنا ہوگا جسکا خاکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے ۔
عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے رکن حاج عبدالحسین نے شیعہ سنی مشترکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:بارہ اماموں کے بارے میں شیعہ اور سنی کے درمیان اصطلاحی اختلافات ضرور ہوسکتے ہیں لیکن عقیدے کے اعتبار سے کوئی مسلمان انکے اسلامی مقام اور منزلت کا منکر نہیں ،بلکہ بارہویں امام کے ظہور کے بھی منکر نہیں ۔
انہوں نے شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان بعض اعتقادی مسائل میں اختلاف کو اصطلاحی اختلاف عنوان کرتے ہوئے اہلسنت علماء کے چند اشعار پڑھے جن سے شیعہ اور سنی کے درمیان اعتقادی اعتبار سے بھی ذرہ برابر فرق نہیں ملتا اور کہا:شمس الدین ابن طولون حنفی متوفی ۹۵۵ ہجری اہلسنت عقیدے کی یوں ترجمانی کرتے ہیں:
عليکَ بالأئمةِ الاثني عشر _____ ت المصطفي خيرِ البشر
أبو ترابٍ حَسنٌ حسينُ_____ و بغض زين العابدين شينُ
محمّد الباقر کم علمٍ دري_____ و الصادقُ ادعُ جعفراً بين الوري
موسي هو الکاظم و ابنه علي _____ لقّبهُ بالرضا و قدرُهُ عليّ
محمد التقيُّ قلبُه معموُر _____ علي التَّقيُ درّه منثور
و العسکري الحسن المطهّر _____ محمّد المهديُّ سوف يظهر
یا عطار نیشاپوری حنفی متوفی ۶۱۸ نے خلفای راشدین کے نسبت اظہار تعظیم کرنے کے علاوہ اہلبیت علیہم السلام کے بارے میں کہتے ہیں:
مصطفي، ختم رسُل شد در جهان _____ مرتضي، ختم ولايت در عيان
جمله فرزندان حيدر اوليا _____ جمله يک نورند؛ حق، کرد اين ندا
قصیدے کے آخر میں کہتے ہیں:
صد هزاران اوليا روي زمين _____ از خدا خواهند مهدي را يقين
يا الهي مهديم از غيب آر _____ تا جهانِ عدل، گردد آشکار
مهدي هادي است تاج اتقيا_____ بهترين خلق بُروجِ اوليا
اي تو ختم اولياي اين زمان _____ وز همه معني نهاني جان جان
اي تو هم پيدا و پنهان آمده _____ بنده عطارت ثنا خوان آمده
غرض مسلمانوں کے درمیان اصطلاحات اور تعبیرات میں اختلاف دیکھنے کو مل سکتا ہے لیکن امت کی شکل میں انہیں ایک جسم کے مانند رہنا ہے تاکہ اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو اسے دوسرا حصہ بھی محصوص کرے اور جسم کے مرکز دل اور دماغ میں خوشی ہو اسے سارا جسم محسوس کرے اور اگر غم ہو تو اسے بھی پورا جسم محسوس کرسکے ۔
آخر میں انہوں نے دعائیہ کلمات کے ساتھ کہا:اللہ کی بارگاہ سے دست بدعا ہیں کہ اے اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق نصیف فرما تاکہ بشریت کیلئے مسلمان کو خیر امت کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں ۔آمین یا رب العالمین۔
مقام معظم رهبري حضرت آيت الله العظمي سيد علي خامنه اي کا جدید استفتاء
اہلسنت کے مقدسات کی توہین
سوال : بعض سٹلائٹ اور انٹرنیٹ ذرائع ابلاغ پر زوجہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے بارے میں توہین آمیز اور ناپسندیدہ کلمات اور پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے بارے میں عفت اور کرامت کے منافی الزامات عائد کئے گئے ہیں ان کے بارے میں جناب عالی کا فتوی کیا ہے؟
آپ پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ اس قسم کی توہین آمیز حرکات کی وجہ سے تمام اسلامی مذاہب اور مکتب اہلبیت (علیھم السلام ) کے پیروکاروں میں زبردست بےچینی ،نگرانی اور نفسیاتی دباؤ قائم ہوگیا ہے۔
جواب :
اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے اور پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ پر الزام اس سے کہیں زیادہ سخت و سنگین ہے اور یہ امر تمام انبیاء (ع) کی ازواج بالخصوص پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے لئے ممنوع اور ممتنع ہے ۔
ایک لازوال اور انوکھا انقلاب
حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی زیر سرپرستی آنے والے انقلاب کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔ ایران میں آنے والا یہ اسلامی انقلاب ہر اعتبار سے لازوال اور منفرد ہے اور شاید مبالغہ نہ ہوگا اگر کہا جائے کہ اسلام اور ایران کی تاریخ میں یہ ایک لاجواب انقلاب ہے ایران کے اسلامی انقلاب کی منفرد خصوصیات اسے دنیا میں آنے والے دیگر انقلابات سے ممتاز بنا دیتی ہيں۔ بیسویں صدی میں روس کا انقلاب آیا ہے اور اس سے پہلے اٹھارہویں صدی میں فرانس کا انقلاب آيا مگر ان انقلابات کی بنیادیں چونکہ مادیات پر استوار تھیں اس لئے بہت جلد وہ اپنا اثر کھو گئے۔ فرانس اور روس کے انقلابات کا تو خود ان ملکوں کے اندر بھی کوئی اثر دیکھنے کو نہيں ملتا بلکہ یہ دونوں انقلابات صرف کتابوں میں پڑھے جا سکتے ہيں۔
فرانس کے انقلاب میں لافایٹ (Lafite) اور اور لئین جیسے لیڈروں نے خود کو قائد کے طور پر پیش کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی انقلاب کی تحریک اور اس کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں مکمل طور پر انقلاب فرانس کی قیادت نہيں کی اسی طرح بیسویں صدی میں روس میں آنےوالے انقلاب میں اگرچہ لینن کا چہرہ ایک لیڈر کی حیثیت سے سامنے آیا مگر رومانوفوں کی حکومت کو گرانے میں ان کا کوئي کردار نہيں تھا۔
روس کا انقلاب نظریاتی تھا اورنہ ہی اس کے لیڈر، بلکہ یہ لوگ انقلاب کے بعد سامنے آئے ہيں اسی طرح فرانس کے انقلاب میں بھی نظریات اور آئيڈیالوجی کا کوئی کردار نہيں تھا یہ توکلیسا کے خلاف ایک انقلاب تھا۔
لیکن جب ہم ایران کے اسلامی انقلاب پر نظر ڈالتے ہيں تو امام خمینی رح جیسے عظیم الشان قائد اس کی قیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہيں اور ان کی الہی شخصیت ہی ایران کے اسلامی انقلاب کو دوسرے انقلابات سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ امام خمینی جیسی شخصیت کسی بھی انقلاب میں دیکھنے کو نہيں ملتی ۔ ایران کا اسلامی انقلاب ایک مدبر و ذہین فقیہ اور ایک بے مثال فلسفی کی زیرقیادت چلائی جانےوالی تحریک کا ثمرہ ہے ایسے فقیہ جنھوں نے شروع سے اس انقلاب کی باگ ڈور سنبھالی اور کامیابی کے بعد اس کو ہر طرح کی گزند سے محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ۔ امام خمینی مکتب اہل بیت و قرآن کے تربیت یافتہ تھے اور انہوں نے اسلامی انقلاب کو اسلام اور اہل بیت کی تعلیمات کے ہی زیرسایہ آگے بڑھایا ۔ اور انقلاب کی کامیابی کے دس برسوں بعد تک طرح طرح کے طوفانوں اور فتنہ و سازشوں کی آندھیوں سے بچا کر اس کو آفاقی بنا دیا۔ روس کےانقلاب کی جب ہم بات کرتے ہيں تو جب وہ رونما ہو رہا تھا تو نہ صرف آس پاس کی حکومتوں بلکہ دنیا کی کسی بھی حکومت نے انقلابیوں کی مخالفت نہيں کی کیونکہ اس وقت کی روسی حکومت کی جرمنوں عثمانیوں اور جاپانیوں سے جنگوں کی وجہ سے سب نے انقلابیوں کی ہی حمایت کی اور فرانس میں بھی لوئیس شانزدھم کی آسٹریا، روس، اسپین اور دیگر ملکوں سے طولانی جنگ کی وجہ سے وہاں بھی سب نے انقلابیوں کی حمایت کی مگر ایران کا اسلامی انقلاب کچھ ایسے حالات میں رونما ہوا جب مشرق و مغرب کی تمام بڑی طاقتیں شاہ کی ظالم حکومت کی بھرپور حمایت کر رہی تھیں اور اس بات کی کوشش کر رہی تھیں کہ جیسے بھی ہو انقلاب کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے چنانچہ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں نے مل کر ایران عراق کے ڈکٹیٹر صدام کے ذریعہ غیرمساوی جنگ مسلط کرا دی جو آٹھ سال تک جاری رہی اور اس میں بھی ایران کے جیالوں نے ہی کامیابی حاصل کی۔
مرکزِ اسلامی واشنگٹن
مرکزِ اسلامی واشنگٹن ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز ہے جو خیابان میساچوسٹس پر واقع ہے۔
1957ء میں جب اس مسجد کا افتتاح ہوا تو اسے مغربی نصف کرہ کی سب سے بڑی مسلم عبادت گاہ کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہاں جمعہ کے روز 6 ہزار افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں مسجد اور اسلامی مرکز کی تعمیر کا خیال اس وقت آیا جب 1944ء میں ترکی کے سفیر منیر ارتوغن کا انتقال ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے کوئی مسجد شہر میں واقع نہیں تھی۔ واشنگٹن کے سفارتی حلقوں نے مسجد کی تعمیر کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دنیا بھر میں قائم اسلامی ممالک نے اس کی بھرپور تائید کی اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے لیے نامور کاریگر بھی مہیا کیے۔
1946ء میں مسجد کی تعمیر کے لیے موجودہ جگہ خریدی گئی اور 11 جنوری 1949ء کو مسجد اور اسلامی مرکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ عمارت کا نقشہ اطالوی ماہر تعمیرات ماریو روسی نے تیار کیا اور 28 جون 1957ء کو مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں اُس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور بھی موجود تھے۔ اس مسجد کا انتظام مختلف سفارت کاروں پر مشتمل ایک انجمن سنبھالتی ہے۔ مسجد کی عمارت کے گرد دنیا بھر میں واقع اسلامی ممالک کے پرچم نصب ہیں۔ کئی اعلٰی شخصیات اس مسجد کا دورہ کر چکی ہیں جن میں امریکہ کے صدور بھی شامل ہیں۔
مسجد کے ساتھ ساتھ اس مرکز میں ایک کتب خانہ اور تدریسی کمرے بھی ہیں جہاں علوم اسلامی اور عربی زبان سکھائی جاتی ہے۔
شیخ زاید مسجد
امارات - ابوظہبی میں واقع شیخ زاید مسجد دنیا بھر سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ روزانہ مسلمانوں کے علاوه غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بهي اس خوبصورت مسجد کو دیکھنے کے لئے آتی ہے۔
مسجد کے مرکزی ہال میں سات ہزار سے زیادہ لوگ با آسانی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ مرکزی ہال کے قدآدم ستون خوبصورتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔
صحن کے فرش پر بھی خوبصورت نقاشی کی گئی ٹائلز لگائی گئی ہیں۔
اس مسجد میں اکتالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جس میں سے صحن میں بائیس ہزار سے زائد لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔
انتظامیہ نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں کہ لوگ منظم انداز میں مسجد دیکھ سکیں۔
ایک خوبصورت ايراني قالین کے ساتھ مسجد کے صحن کا احاطہ کرتا ہے.




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
