Super User
مصر کے نومنتخب صدر نے عوام کے سامنے حلف اٹھالیا
مصرے کے نومنتخب صدر محمد مرسي نے آج ملک کي آئيني عدالت کے روبرو اپنے عہدے کا حلف اٹھايا ليکن اسے پہلے انہوں نے جمعے کي رات قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر لاکھوں کے اجتماع ميں عوام کے سامنے علامتي طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھاليا تھا۔
مصرکے نومنتخب صدر نے عوام سے جو وعدہ کيا تھا اس کے مطابق جمعے کي رات قاہرہ کے التحرير اسکوائر ميں لاکھوں کي تعداد ميں موجود مصري عوام کے سامنے اپنے عہدے کا حلف ليا۔
اس موقع پر انہوں نے پورے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اور طاقت کا سرچشمہ مصري عوام ہيں۔ انہوں نے کہا کہ کوئي بھي ادارہ يا کوئي بھي طاقت عوامي طاقت سے بالاتر نہيں ہے۔محمد مرسي نے اسي طرح زور دے کر کہا کہ مصر ميں آمريت اور فرد واحد کي حکومت کا دور ختم ہوگيا ہے اور اب اس ملک ميں انصاف اور قانون کي حکمراني کا آغاز ہوچکا ہے۔
مصري عوام کے انقلاب کي کاميابي کے بعد پہلے عوامي صدر نے عوام سے وعدہ کيا کہ وہ پورے ملک ميں قانون کي حکمراني کو يقيني بنائيں گے اور مصر کو اس کا اصلي مقام دلائيں گے۔مصر کي خارجہ پاليسي کے بارے ميں بھي محمد مرسي نے کہاکہ وہ خارجہ تعلقات کي برقراري ميں کسي کا بھي دباؤ قبول نہيں کريں گے اور اس سلسلے ميں وہ کسي کي پيروي بھي نہيں کريں گے- انہوں نے کہا کہ داخلہ اور خارجہ پاليسي ميں ان کے نزديک معيار ملک کا مفاد ہوگا۔
مصر کي تاريخ ميں ايسا پہلي بار ہوا ہے کہ ايک صدر عوام کے درميان اس طرح حاضر ہوا ہو اور اس نے اپنے عہدے کا حلف عوام کے سامنے اٹھايا ہو۔عوام کے سامنے تقريب حلف برداري اگر چہ علامتي نوعيت کي تھي ليکن اس سے اس بات کو کوشش کرنے کي کوشش کي گئي کہ انہوں نے مينڈيٹ اور اعتماد عوام سے حاصل کيا ہے اور عوام نے انہيں اس کي اجازت دي ہے۔اس کےعلاوہ ان کي جانب سے فوجي کونسل کو ايک طرح کا پيغام بھي ہوسکتا ہے۔ بہرصورت محمد مرسي کا يہ اقدام ان کے لئے ايک مثبت پوائنٹ تصور ہوسکتا ہے کم ازکم اس زاويئے سے کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کرديا اور مصري عوام کے سامنے قاہرہ کے التحريراسکوائر پر جو اب مصر کے عظيم انقلاب کي علامت بن چکا ہے اپنے عہدے کا حلف اٹھايا۔
ايسا لگتا ہے کہ محمدمرسي نے ملکي مفادات کو ہر دوسري چيز پر ترجيح ديا ہے کيونکہ فوجي کونسل نے کچھ دنوں قبل اعلان کيا تھا کہ اگر مرسي نے آئيني عدالت کے روبرو اپنے عہدے کا حلف نہيں اٹھايا تو وہ اپنے عہدہ صدارت کي خلاف ورزي کريں گے۔
اس ميں شک نہيں کہ اخوان المسلمين اور خاص طور پر مصري عوام کے منتخب صدر جنھوں نے عہدہ صدارت تک پہنچنے کے لئے سخت مراحل کو طے کيا ہے مصر کي مصلحت اسي ميں سمھجھي ہے کہ وہ کم ازکم فوجي کونسل کے اس مطالبے کو مان ہي ليں جو ابھي بھي اقتدار پر قابض ہے۔ مصر کو اس وقت خطرناک صورت حال کا سامنا ہے- فوجي کونسل نے ابھي اقتدار عوام کے منتخب صدر کے حوالے نہيں کيا ہے اور ابھي ملک کے بہت سے اہم فيصلوں کا اختيار اور ويٹو پاور فوجي کونسل کے ہي پاس ہے- اس بات کو محمد مرسي بھي جانتے ہيں اسي لئے انہوں نے کوشش کي کہ اپنے مشکل راستے کا آغاز کسي درد سرکے بغير کريں۔
رسول اکرم (ص) کی پیروی میں اسلامی دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے
بعثت کے موقع پر خطاب۔ 22/08/2006
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج معاشرے کے مختلف طبقات ، قوہ مجریہ ،مقننہ ،اورعدلیہ کے سربراہوں ، تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ ، فوجی اور سول حکام ،اسلامی ممالک کے سفراء سے خطاب میں فرمایا: بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں کے لۓ سب سے بڑی عید ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی، دین وسیاست کو ایک سمجھنا اورعدل و انصاف و تزکیہ و تعلیم کے لۓ اسلامی حکومت قائم کرنا آج کی اسلامی دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے ۔
رہبر معظم نے تزکیہ اور انسانی کمال تک پہنچنے کے لۓ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسلسل کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہونے کے بعد ہمیشہ ظاہری اور باطنی جھاد میں مشغول رہے اور اس امر سے ایک لمحہ بھی غفلت نہیں کی اور نبوی و مدنی معاشرہ تشکیل دے کر دینا میں عظیم انقلاب کے اسباب فراہم کۓ ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکسان طور پر سیاست ،تربیت اور انسانوں کی تعلیم پر توجہ فرمایا کرتے تھے اور یہ اسلام میں دین و سیاست کے ایک ہونے کی دلیل ہے ،آپ نے فرمایا کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے پتہ چلتا ہےکہ اسلام میں سیاست و تدبیر اور مدن کی ذمہ داری غیر مسلم کو نہیں سونپی جاسکتی اور نہ محض اخلاق و روحانیت پراکتفا کیاجاسکتا ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلام و سیاست کو الگسمجھنے والے نظریے پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ بعض لوگ قرآن کی عبارت پر ایمان لے آتےہیں لیکن اس کی سیاست پر ایمان نہیں لاتے اور کچھ لوگ اسلام کا سیاست میں خلاصہکرتے ہیں اور اخلاق وروحانیت سے غافل رہتےہیں لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں "دین و حکومت "اور "اخلاق وحکومت "کا سرچشمہ قرآن و وحی ہے ،آپ نے کہا اس نکتے کا ادراک اور اس پرعمل کرنا آج امت اسلامی کی ضرورت اور مسلمان قوموں کے تمام مسائل کا حل ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: آج امت اسلامی کو حقیقی معنی میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمان اخلاقی و معنوی کمالات حاصل کرکے علمی و سائینسی،سیاسی ،اقتصادی ،اور ثقافتی میدانوں میں ہمہ گیر ترقی کی راہیں فراہم کرسکیں اور اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے دشمنوں کےمد مقابل اپنے مفادات کادفاع کرسکیں ۔
تاریخ انقلاب کا ایک اہم باب
ستائیس جون اسلام و قرآن کا پرچم بلند کرنے والے ایک ایسے جلیل القدر " معمار انقلاب " شہید مظلوم حضرت آیت اللہ بہشتی اور ان کے بہتر رفقاء کی شہادت کا دن ہے کہ جنہوں نے سید الشہداء امام حسین (ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے بہتر ساتھیوں کے ہمراہ خون کا نذرانہ پیش کرکے سرزمین ایران پر اسلام وانقلاب کی جڑیں ہمیشہ کے لئے محکم و استوار کردی ہیں
شہید ڈاکٹر بہشتی
شہید ڈاکٹر بہشتی کو ان کی بے پناہ صلاحیتوں اور ناقابل فراموش خدمتوں کے سبب ایران کے مجاہد علماء اور فقہا کے درمیان ایک ممتاز مقام حاصل ہے شہید آیت اللہ بہشتی بیک وقت مجتہد، فقیہ، فلسفی، مکتب شناس، سیاستدان، سخن دان و سخن راں، صاحب قلم، مصنف و محقق۔ منتظم و مدبر، دنیا کی کئی زندہ زبانوں پر مسلط عربی، فارسی، انگریزی اور جرمنی کے قادر الکلام خطیب اور مقرر ایک ایسی جامع و کامل شخصیت کے حامل مومن و مخلص انسان تھے کہ جن پر تاریخ اسلام و انقلاب جتنا بھی افتخار کرے کم ہے ۔ ایک ایسی احسن و اکمل ذات کہ جس کے لئے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے بجا طور پر فرمایاہے :
" شہيد بہشتي اپني جگہ تنہا ايک امت تھے "
پيدائش اور ابتدائي تعليم
شہید محمد حسین بہشتی، سن 1928 ء میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اصفہان میں حاصل کی اور اسلامی علوم میں اپنی بے پناہ دلچسپی کے سبب ہائرسیکنڈری کے بعد حوزۂ علمیہ اصفہان میں داخلہ لے لیا اور 1946ء تک اسی حوزہ میں سطوح عالیہ کے دروس تمام کئے اور پھر شہید مطہری کی مانند اپنے چند دوستوں کے ساتھ حوزۂ علمیہ قم تشریف لائے اور جیسا کہ خود کہتے ہیں : میں نے قم آکر مدرسۂ حجتیہ میں قیام کیا اور سن 1947 ء تک مکاسب اور کفایہ کی تکمیل میں مصروف رہا۔ اس کے بعد آیت اللہ داماد اور آیت اللہ العظمی بروجردی اور امام خمینی (رح) کے درس خارج میں بھی شریک ہوا البتہ اسی کے ساتھ ہی دل میں خیال آیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کروں ۔
اعلي تعليم
1951 ء میں اسلامی معارف میں دانشکدۂ الہیات سے بی اے اور پھر ایم اے کے بعد سن انیس سو انسٹھ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ شہید بہشتی نے اپنے مباحثین میں شہید مطہری، موسی شبیری زنجانی، موسی صدر، آیت اللہ مکارم شیرازی، ڈاکٹر مفتح آذری قمی، آیت اللہ مشکینی اور ربانی شیرازی کا ذکر کیا ہے۔
تعليمي سرگرمياں
انہوں نے 1954 ء میں " دبیرستان دین و دانش "" کے نام سے قم ہیں ایک ہائر سیکنڈری اسکول کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیۂ قم کے طلبہ کے درمیان مروجہ علوم و زبان سیکھنے کا شوق پیدا کیا اور گرانقدر ثقافتی خدمات انجام دیں ۔ 1963 ء میں آپ نے قم میں ہی چند احباب کے ساتھ مل کر ایک بڑے اور وسیع مدرسۂ حقانی کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیہ کے فاضل طالبہ کا ایک گروہ، اسلامی حکومت کے موضوع پر تحقیقات کے لئے تشکیل دیا ۔
یہی وہ زمانہ ہے جب شاہی حکومت کی خفیہ مشنری " ساواک " نے آپ کو قم چھوڑدینے پر مجبور کیا اور آپ کو تہران منتقل ہونا پڑا لیکن آپ نے اپنا رابطہ حوزۂ علمیہ سے قطع نہیں کیا 1964 ء میں مدارس میں دینی تعلیمات کے لئے ایک مکمل نصاب تعلیم مرتب کیا جس کے بارے میں حوزہ اور یونیورسٹی کے ایک مسلم الثبوت استاد اور پروفیسر آقائے حقانی کا کہنا ہے کہ : یہ نصاب نہایت ہی جامع اور بڑی خوبیوں کا حامل تھا جس کے مطابق ایک طالب علم پندرہ سال میں اجتہاد کی منزلیں طے کرسکتا تھا، اور اجتہاد کے مراحل میں ایک امتحان کے علاوہ ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھنا پڑتا اور ان کی روشنی میں مسائل کے استنباط کی صلاحیت دیکھتے ہوئے اجتہاد کی سند ارکان مدرسہ کی طرف سے دی جاتی ۔
یہ نصاب پہلی مرتبہ مدرسۂ حقانی میں جاری کیا گیا اور شہید بہشتی کے مرتب کردہ اصولوں کی بنیاد پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا گیا ۔ در اصل شہید بہشتی چاہتے تھے کہ حوزہ علمیہ اپنی قدیم روایتی حد بندیوں سے باہر نکلے اور عصری تقاضوں کے مطابق اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو انجام دے سکے اور حوزۂ علمیۂ قم نہ صرف ایران اور مخصوص اسلامی ملکوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے مسائل کا جواب دے سکے اور بین الاقوامی برادری کی سطح پر ایک موثر کردار ادا کرسکے ۔
تبليغ دين کے لئے کوششيں
سن 1965 ء میں آیت اللہ العظمی بروجردی علیہ الرحمہ کی فرمائش پر پانچ برسوں کے لئے شہید بہشتی کو اسلامی تبلیغی مہم کے لئے جرمنی کے شہر ہمبرگ کا سفر کرنا پڑا آپ نے وہاں یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان اسلامی انجمنیں قائم کرکے فارسی زبان کی ترویج کے ضمن میں ہی صحیح اسلامی افکار و نظریات سے مغربی دنیا کو آشنا بنانے کے لئے یونیورسٹیوں اور کلیساؤں میں جا کر خود ان کی جرمن زبان میں تقریریں کیں جو بےحد موثر ثابت ہوئیں ۔
وطن واپسي اور سياسي سرگرمياں
1970 ء میں تہران واپس آئے اور تفسیر قرآن کا درس دینا شروع کیا اور ڈاکٹر جواد باہنر اور ڈاکٹر عقودی کے ساتھ مل کر ایران کے مدرسوں میں رائج کتابوں کی تدوین، اصلاح میں مشغول ہوگئے ۔ اس طرح اپنی مسلسل فکری اور ثقافتی انقلابی جد و جہد کے بعد 1978 ء میں علی الاعلان سیاسی میدان میں اتر پڑے اور شہید مطہری، شہید مفتح، حجۃ الاسلام ملکی اور آیت اللہ امامی کاشانی کے ساتھ مل کر ایک ملک گیر سیاسی جماعت " روحانیت مبارز تہران " کی سنگ بنیاد رکھی جس میں دوسری اہم انقلابی شخصیتیں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، آیت اللہ مشکینی، آیت اللہ ربانی املشی، آیت اللہ طبسی اور شہید ہاشمی نژاد و غیرہ بھی شامل ہوگئے ۔ اور پھر امام خمینی (رح) کے حکم سے باقاعدہ طور پر ایک انقلابی کونسل تشکیل پائی جس میں آیت اللہ بہشتی سرفہرست تھے ۔
چنانچہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور بقاء واستحکام میں شہید بہشتی کے کارنامہ کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں : حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے رفقائے کار کے درمیان شہید بہشتی نے اسلامی انقلاب کی بنیادی ترین خدمات انجام دی ہیں ۔ شہید بہشتی کی شخصیت کی جامعیت اور اسلامی علوم و فنون پر کامل تسلط کے ساتھ ہی عصر حاضر کے تمام سیاسی و نظریاتی مکاتب اور آزموں سے گہری واقفیت نیز مختلف اسلامی اور یورپی زبانوں میں تقریر و تحریر کی صلاحیت نے آپ کو دوستوں حتی بزرگوں کے درمیان بھی ممتاز کردیاتھا ۔
سياسي مخالفين پر آپ کا رعب
کسی بھی سیاسی فکری محفل و مجلس میں آپ کی موجودگی لوگوں کو ہر ایک سے بے نیاز کردیتی تھی ۔جس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی تشکیل کے لئے " مجلس خبرگان " کے جلسوں میں شہید بہشتی اپنی زبان کھولتے تھے تو اسلام و قرآن کے تمام مخالفین و معاندین کی زبانیں گنگ رہ جاتی تھیں اور ان کو اپنی کمیوں کے سبب سبکی کا احساس ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے دو طرح کے لوگ آپ کے وجود سے گبھراتے اور مخالفت و کینہ توزی سے لبریز تھے، ایک تو منافقین اور مشرق و مغرب سے وابستہ عناصر کا وہ گروہ تھا جو اسلامی انقلاب کی بنیادوں کا ہی مخالف تھا ۔ اور دوسرا حکومت و اقتدار کا بھوکا تنگ نظر علماء اور مفاد پرست دانشوروں کا وہ طبقہ تھا جو اپنے سیاسی مقاصد کی راب میں شہید بہشتی کو روڑا سمجھتا تھا اور سختی سے احساس کمتری کا شکار تھا ۔ چنانچہ انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایام کی تاریخ اگر گہری نظروں سے مطالعہ کی جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ اسلامی انقلاب کے مخالف تمام گروہ، منافقین ہوں یا مشرقی سوشلسٹ اور مغربی لبرل عناصر ہر ایک کی دشمنی اور تہمتوں کا پہلا نشانہ شہید بہشتی کی ذات تھی ۔
سياسي مخالفين کي سازشيں
مخالفین کو معلوم تھا بہشتی تن تنہا ایک "معاشرہ " ایک ملت اور ایک امت ہیں لہذا پہلے انہوں نے ان کی شخصیت کو قتل اور بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن آیت اللہ بہشتی کو ان کی درایت، محکم گفتگو، خلوص خدا پر توکل اور نفس پر اعتماد نے دشمنوں کے مقابل پر میدان میں کامیابی عطا کی اور دشمنوں کے سامنے آپ کو قتل کردینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا ۔ دشمنان اسلام کی طرف سے جبکہ طرح طرح کی سازشوں کی یلغار تھی وہ دوسرا گروہ کہ جن کی نظر میں شہید بہشتی کا وجود کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا اور انہیں سیاسی میدان میں تنہا کردینے کے درپے تھا، دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگا اور خطرناک انداز میں ان لوگوں نے اس مرد مجاہد کے خلاف عوام کوفریب دینے والے پروپگنڈے شروع کردئے ۔ انقلاب کے بعد ابتدائی تین برسوں میں شہید بہشتی کو جن حالات سے مقابلہ کرنا پڑا ہے اس کی ترجمانی شہید کو، امام خمینی کی طرف سے دیا گیا " مظلوم " کا خطاب کرتا ہے جو آیت اللہ بہشتی کی شہادت کے بعد امام خمینی نے دیا تھا ۔
" آئين " کي تشکيل کا اہتمام
شہید بہشتی نے تمام مخالفتوں کے باوجود اسلامی انقلاب کی وہ قیمتی خدمات انجام دی ہیں کہ جنہیں اسلامی انقلاب کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اوائل انقلاب ہی میں شہید بہشتی نے " آئین " کی تشکیل کا اہتمام نہ کیا ہوتا تو خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کا " آئین " کیا اور کیسا ہوتا ۔ ایک ایسا " آئین " وجود میں لانا کہ جس کو عالمی سطح پر مروجہ اصولوں کے برخلاف، پوری طرح مغرب کی تقلید سے آزاد رکھا جا سکے اور صرف و صرف اسلامی اصول و تعلیمات پر اس طرح استوار ہو کہ ذرہ برابر بھی شرع اسلامی سے مغائرت نہ رکھتا ہو بڑا ہی مشکل اور پیچیدہ کام تھا، خصوصا" اسلامی فقہا اور مجتہدین جامع الشرائط کی کونسل " مجلس خبرگان " میں اس کی منظوری اور ہر ایک کو اپنے محکم بیان اور استدلال سے قانع کردینا شہید بہشتی کی علمی اور فقہی منزلت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے ۔ اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین راہ اسلام و قرآن میں شہید ہونے والے دسیوں ہزار افراد کے خون کا عطیہ ہے لیکن مجلس خبرگان کی کوششوں نیز اس کے ناظم کی حیثیت سے شہید مظلوم آیت اللہ بہشتی کے تدبر اور دور اندیشیوں کا ہی نتیجہ ہے ۔ آئین کی منظوری میں آیت اللہ بہشتی کا فیصلہ کن کردار، دشمنوں کی مخالفت بڑھ جانے کا سبب بنا، بنی صدر اور بازرگان کی عبوری حکومت نے اسی لئے مجلس خبرگان کو منحل کرنے کی بھی کوشش کی مگر ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ۔
عدليہ کي سربراہي
انقلاب کے بعد، امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک اور اہم ذمہ داری شہید بہشتی کو یہ سپرد کی کہ انہیں " عدلیہ" کا سربراہ "دیوان عالی" قرار دے دیا اور شہید نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے عدلیہ کو عزت و وقار عطا کردیا وہ کسی بھی عنوان سے آئین کی خلاف ورزی، چاہے وہ ملک کی کوئی بھی شخصیت کیوں نہ ہو، ہرگز قبول نہیں کرتے تھے شہید نے جس مقام اور جس حیثیت سے بھی انقلاب کی خدمت کی ہے پوری فرض شناسی کے ساتھ کام انجام دیا وہ کہا کرتے تھے کہ :
" ہم خدمت کے دلدادہ ہيں اقتدار کے پياسے نہيں ہيں"
امت مسلمہ کو نبی اکرم (ص) کے محور پر متحد ہونا چاہیے
بعثت پیامبر اکرم (ص)کے موقع پر خطاب (11/08/2007)
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےپیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ امت اسلامی کے بے پناہ عشق اور والہانہ محبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امت مسلمہ کو نبی اکرم (ص) کے محور پر متحد ہونے اور دشمنان اسلام کی تفرقہ انگیزاور اختلافات پھیلانے والی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔
رہبر معظم نے اسلامی ممالک کے سفراء کی موجودگی میں اپنے خطاب کے دوران علم و حکمت ، تزکیہ و اخلاق اور عدالت و انصاف کو بعثت پیغمبر اکرم (ص)کے تین اہم پیغام قرار دیا اور انسانی معاشرے کی مشکلات اور مصائب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسوقت تمام انسانوں کو انبیاء الہی (ع) کی تعلیمات کی سخت ضرورت ہے اور اسلام وقرآن میں یہ تمام تعلیمات موجود ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےمعنوی علوم میں انسانی معاشرے کی پسماندگی اور اخلاق و معنویت سے دوری کو دنیا کی تمام مشکلات اور جنگ و خونریزي کا سرچشمہ قراردیتے ہوئے فرمایا: مروت ، انصاف ، محبت اور اخلاقی پاکیزگی کی طرف اسلام کی دعوت کی تمام قومیں خصوصا تمام ممالک کے اعلی حکام اور ممتاز افراد سخت محتاج ہیں ۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے قیام عدالت کو انسان کی ابدی ضرورت اور انبیاء الہی(ع) کی بعثت کا دوسرا مقصدقراردیااور ایران میں اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بعثت پیامبر اکرم (ص) کے تین اہم پیغامات ، یعنی علم ، اخلاق اور عدالت ملت ایران کے بنیادی اصولوں اور اساسی اقدار میں شمار ہوتے ہیں اور ہم سب کوان اصولوں کے تحقق کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔رہبر معظم نے ان اصولوں پر کاربندرہنے اور اسلامی فرائض پر عمل کو گذشتہ اٹھائیس سالوں کی کامیابی کا راز قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی اصولوں سے پیچھے ہٹنا ، طرح طرح کی مصلحتوں کے جال میں پھنسنا اور دنیا میں رائج مادی مکاتب فکر کی چاردیواری میں گرفتار ہونا ، بے شک ناکامی اور شکست سے دوچار ہونے کا سبب ہے اور آئندہ بھی ہوگا ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا : انسانی معاشرہ دو بڑی مصیبتوں میں مبتلا ہے اول : وہ غلط راستہ جو اقوام عالم کو نیکبختی اور سعادت کے راستے کے عنوان سےدکھایا جاتاہے دوم : عالمی امور پر بد ترین افراد کا حاکم ہونا ۔
رہبر معظم نے انسانی معاشرے کی سب سے بڑی مصیبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: آج بد ترین افراد دنیا کی اصلاح کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں ۔امریکہ کی شیطانی اور مستکبر طاقت تمام انسانی معاشروں پر اپنی بے لگام حکومت مسلط کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور اسلام پر دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا الزام لگارہی ہےجبکہ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور دہشت گردی ، جنگ و خونریزی کا اصلی سبب ، خود امریکی حکومت ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مسلمانوں میں بیداری، اسلامی شناخت کی طرف بازگشت، اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے اندر جرات و ہمت کو مسلم اقوام کے رنج وغم کا علاج قراردیتے ہوئےفرمایا: امت مسلمہ قرآنی برکات اور اسلام کے نورانی احکام سے بہرہ مندہیں اور امت مسلمہ، پیغمبر خاتم (ص) کے دین سے تمسک کے سایہ میں انسانی حیات کو لاحق تباہ کن خطرات کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔
امت اسلامی کا اتحاد اہم ہے
شیعہ سنی علماء سے خطاب،15/01/2007
دوسرانکتہ "ہمارے زمانے میں امت اسلامی کا اتحاد "ہے یہ اہم نکتہ ہے ہم نے نہ صرف انقلاب کے زمانے سے بلکہ انقلاب سے کئی برس قبل شیعہ اور سنی بھائيوں کے دلوں کو نزدیک کرنے اورسب کو اس اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے کوششیں شروع کی تھیں میں نے بلوچستان میں " انقلاب سے برسوں قبل جب میں وہاں شہربدرکرکے بھیجا گياتھا " مرحوم مولوی شہداد کو (جو کہ بلوچستان کے معروف علماء میں سے تھے اور بلوچستان کے لوگ ان کو پہچانتے ہیں،فاضل شخص تھے اس زمانے میں سراوان میں تھے اور میں ایرانشہرمیں تھا)پیغام بھیجا کہ آئيں موقع ہے بیٹھتے ہیں اور اہل سنت و اہل تشیع کے درمیان علمی، حقیقی اور قلبی اور واقعی اتحاد کے اصول بناتے ہیں انہوں نے بھی میری تجویزکاخیر مقدم کیا لیکن بعد میں انقلاب کے مسائل پیش آگۓ،انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے جو نمازجمعہ کے موضوع پر پہلی کانفرنس کی تھی اس میں مولوی شہداد سمیت اہل سنت کے بعض علماءبھی شریک تھے بحث و گفتگو ہوئي اور ان مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
تعصبات کی بناپر دوطرح کے عقیدوں کے حامیوں میں اختلاف ہونا ایسا امر ہے جوفطری ہے اور یہ شیعہ و سنی سے مخصوص نہیں ہے خود شیعہ فرقوں اور سنی فرقوں کے مابین ہمیشہ سے اختلافات موجود رہے ہیں تاریخ کا جائزہ لیں دیکھیں گے کہ اہل تسنن کے اصولی اور فقہی فرقوں جیسے اشاعرہ ، معتزلہ جیسے حنابلہ احناف اور شافعیہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اسی طرح شیعوں کے مختلف فرقوں کے مابین بھی اختلافات رہے ہیں ،یہ اختلافات جب عام لوگوں تک پہنچتےہیں تو خطرناک رخ اختیارکرلیتے ہیں لوگ دست بہ گریباں ہوجاتے ہیں ،علماء باہم بیٹھتے ہیں گفتگو کرتے ہیں بحث کرتے ہیں لیکن جب علمی صلاحیت سے عاری لوگوں کی بات آتی ہے تو وہ جذبات تشدد اور مادی ہتھیاروں کا سہارالیتے ہیں اور یہ خطرناک ہے ۔دنیا میں یہ ہمیشہ سے ہے مومنین اور خیرخواہ لوگوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اختلافات کاسد باب کریں ،علماء اور سربرآوردہ شخصیتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوام میں تصادم نہ ہونے پائے لیکن حالیہ صدیوں میں ایک اور عامل شامل ہوگیاجو استعمار ہے میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ہمیشہ شیعہ سنی اختلافات سامراج کی وجہ سے تھے ایسا نہیں ہے مسلمانوں کے جذبات بھی دخیل تھے ،بعض جہالتیں بعض تعصبات بعض جذبات بعض کج فہمیاں دخیل رہی ہیں لیکن جب سامراج میدان میں اترا تو اس نے اختلافات کےحربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ۔
اس بناپر آپ دیکھتے ہیں کہ سامراج اور استکبارکے خلاف جدجہد کرنے والی ممتازشخصیتوں نے امت اسلامی کے اتحاد پر بے حد تاکید کی ہے ،آپ دیکھیں سید جمال الدین اسد آبادی ر|ضوان اللہ علیہ المعروف بہ افغانی اور ان کے شاگرد شیخ محمد عبدہ اور دیگرشخصیتوں اور علماءشیعہ سے مرحوم شرف الدین عاملی اور دیگر بزرگوں نے سامراج کے مقابلے میں کس قدر وسیع کوششیں کی ہیں کہ یہ سامراج کے ہاتھ میں یہ آسان وسیلہ عالم اسلام کے خلاف ایک حربے میں تبدیل نہ ہوجائے،ہمارے بزرگ اور عظيم رہنما حضرت امام خمینی(رہ) ابتداء ہی سے امت اسلامی کے اتحاد پر تاکید کیا کرتےتھے سامراج نے اس نقطہ پر آنکھیں جمائے رکھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا۔
ماه شعبان كي فضيلت اور اس کے اعمال
جاننا چاہیے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہے ۔ حضور اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینے میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے۔
امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب ماہ شعبان کا چاندنموردار ہوتا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب !جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خداکی قربت کے لیے اس مہینے میں روزے رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدربزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا۔ وہ فرماتے تھے میں اپنے والدگرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے توخدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔
شیخ نے صفوان جمال سے روایت کی ہے کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنے قریبی لوگوں کو ماہ شعبان میں روزے رکھنے پر آمادہ کرو! میں نے عرض کیا، اس کی فضیلت کیا ہے؟ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ جب شعبان کا چاند دیکھتے تو آپ کے حکم سے ایک منادی یہ ندا کرتا :
” اے اہل مدینہ ! میں رسول خدا کا نمائندہ ہوں اور ان کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے خدا کی رحمت ہو اس پر جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی روزہ رکھے۔“
صفوان کہتے ہیں کہ امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے جب سے منادی رسول نے یہ ندا دی ہے، اس کے بعد شعبان کا روزہ مجھ سے قضا نہیں ہوا اور جب تک زندگی کا چراغ گل نہیں ہو جاتا یہ روزہ مجھ سے ترک نہ ہوگا۔ نیز فرمایا کہ شعبان ورمضان دومہینوں کے روزے توبہ اور بخشش کا موجب ہیں۔
اسماعیل بن عبدالخالق سے روایت ہے کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا جب کہ روزئہ شعبان کا ذکر ہوا۔ اس وقت حضرت نے فرمایا: ماہ شعبان کے روزے رکھنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ حتی کہ ناحق خون بہانے والے کو بھی ان روزوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے اور وہ بخشا جا سکتا ہے
اس عظیم وشریف مہینے کے اعمال دو قسم کے ہیں:
”اعمال مشترکہ اور اعمال مخصوصہ“
اعمال مشترکہ میں چند امور ہیں:
۱۔ ہر روز سترمرتبہ کہے:
استتغفراللہ و اسئلہ التوبۃ
بخشش چاہتا ہوں اللہ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں
۲۔ ہر روز ستر مرتبہ کہے:
استغفراللہ الذی لآالہ الاھوالرحمن الرحیم الحی القیوم واتوب الیہ
بخشش کا طالب ہوں اللہ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بخشنہار ومہربان ہے زندہ بعض روایات میں الحی القیوم کے الفاظ نگہبان اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ وپائندہ الرحمن الرحیم سے قبل ذکر ہوئے ہیں
بخشنے والا اور مہربان
پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہو گا ۔ روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے ۔
۳۔ صدقہ کرے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو ، اس سے خدا اس کے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے گا۔
امام جعفرصادق علیہ السلام سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ تم شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو؟ راوی نے عرض کی فرزند رسول! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کا اجروثواب بہشت ہے۔ اس نے عرض کی اے فرزند رسول ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے ؟فرمایا کہ صدقہ واستغار ، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ کرے پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو۔ چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہو گا۔ ۴۔ پورے ماہ شعبان میں ہزارمرتبہ کہے:
لآالہ الا اللہ ولانعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولوکرہ المشرکون
نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں
اگرچہ مشرکوں پرناگوار گزرے
اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے ، جس میں سے ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامئہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔
۵۔ شعبان کی ہر جمعرات کو دورکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ حمد کے بعد سومرتبہ سورئہ توحید پڑھے اور نماز کے بعد سومرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدادین ودنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے۔ واضح ہو کہ روزے کا اپناالگ اجروثواب ہے اور روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تب ملائکہ عرض کرتے ہیں ، خدایا آج کے دن کا روزہ رکھنے والوں کو بخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔ ایک حدیث میں مذکور ہے اگر کوئی شخص ماہ شعبا ن میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خداوند کریم دنیا وآخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔
۷۔ شعبان میں ہر روز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی صلوات پڑھے
تیسری شعبان
یہ بڑا بابرکت دن ہے ، شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ اس روز امام حسین بن علی علیہما السلام کی ولادت ہوئی نیز امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل قاسم بن علاہمدانی کی طرف سے فرمان جاری ہوا کہ بروز جمعرات ۳شعبان کو امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ پس اس دن کا روزہ رکھیں
پندرھویں شعبان کی رات
یہ بڑی بابرکت رات ہے ، امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امام محمدباقرعلیہ السلام سے نیمہ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے ۔ پس اس رات تقرب الہی حاصل کرنے کی کوشش کرناچاہیے ۔ اس رات خدائے تعالٰی اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے ۔ حق تعالی نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹائے گاسوائے اس کے جو معصیت ونافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے ، جیسے شب قدر کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص فرمایا پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمدوثناء الہٰی کرنا اس سے دعاومناجات میں مصروف رہنا چاہیے۔
اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصرحضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے جو ۲۵۵ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی تھی۔
اس رات کے چند ایک اعمال ہیں :
۱۔ غسل کرنا جس سے گناہوں میں تخفیف ہوتی ہے۔
۲۔ نماز اور دعا واستغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔
۳۔ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبراس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرت کی چھوٹی سی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے پھر اپنا سرآسمان کی طرف بلند کر کے یہ کلمات کہے:
السلام علیک یآاباعبداللہ السلام علیک رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبداللہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسین علیہ السلام کی یہ مختصرزیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج وعمرہ کا ثواب ملے گا
۵۔ یہ دعا پڑھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات یہ دعا پڑھتے تھے:
اللھم اقسم لنا من خشیتک مایحول بینناوبین معصیتک و من طاعتک ما تبلغنابہ رضوانک ومن باسماعنا و ابصارنا و قوتنا مآاحییتنا واجعلہ الوارث منا واجعل ثارناعلی من ظلمنا و انصرنا علی من عادانا و لاتجعل مصیبتنافی دیننا و لاتجعل الدنیا اکبرھمنا و لامبلغ علمنا و لا تسلط علینا من لا یرحمنا برحمتک یآ ارحم الرحمین
اے معبود ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اوراتنایقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہو اے معبود! جب تو ہمیں زندہ رکھےہمیں ہمارے کانوں آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم کو ہماراوارث بنااور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرمااور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پراس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرےواسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے
یہ دعا جامع وکامل ہے پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھے ۔ جیساکہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
۶۔ وہ صلوة پڑھے جو ہرروز بوقت زوال پڑھتارہا ہے
۷۔ اس رات دعاء کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے
۸۔ یہ تسبیحات سومرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردے اور دنیاوآخرت کی حاجات پوری فرمائے:
سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبرولآالہ الاللہ
اللہ پاک تر ہے اور حمداللہ ہی کی ہے اللہ بزرگتر ہے اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے
۹۔ اس رات نمازتہجدکی ہردورکعت کے بعد اور نمازشفع اور وتر کے بعد وہ دعا پڑھے جو شیخ وسید نے نقل فرمائی ہے۔:
۱۰۔ اس رات نماز جعفرطیار بجالائے جیسا کہ شیخ نے امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے۔
حجاب اور شریعت اسلام
اسلام جو آخری آئین الہی اور مکمل ترین دین ہے، ھمیشہ اور تمام عالم بشریت کے لیۓ خدا کی جانب سے نازل ھوا ہے لباس کو" ھدیہ الہی" بیان کرتاہے، اور وجوب حجاب کو تعادل اور میانہ روی سے پورے جامعہ بشری کے لیۓ پیش کرتا ہے ، جس میں افراط وتفریط اورانحرافات سے اجتناب کیا گیا ہے، اور انسانی غریزوں کو مد نظررکھتے ھوۓ شرعی حدیں قائم کی گئی ہیں حو فطرت سے نیز ھماہنگ ہیں.
حجاب
جیسا کے پہلے ذکرھو چکا ہے کہ ہر ادیان الھی میں حجاب فطرت اورتمام احکامات سے مطابقت رکھتا ہے ،جبھی تو دین زرتشت اوریھود کے علاوہ مسیحیت میں بھیحجاب واجب قرار پایا ہے۔ مسیحی دانشمند{جرجی زیدان}اس بارے میں کہتے ہیں :
کہ اگر حجاب سے مراد فقط ظاھری بدن کا چھپانا ہے تو اسلام ، حتی دین مسیحیت سے پہلے بھی یہ عام تھا ،جس کے آثار اب بھی یورپ میں دکھائی دیتےہیں ۔
احکام شریعت یھود کو مسیحیوں نے تبدیل نہیں کیا، بلکہ اسی پر عمل پیراں بھی رہے، بعض اوقات تو حجاب کے معاملے میں انتہائی سختگیری کا مظاہرہ کرتے اورھمیشہ حجاب کے واجب ھونے پرتاکید کرتے تہے ۔
شریعت یھود میں گھر بسانے اور شادی کرنے کومقدس سمجھا جاتاہے ،کتاب "تاریخ وتمدن میں لکھا ہے:20 سال کی عمر تک شادی کرنا لازمی امر ہے ،جبکہ مسیحیوں کے مطابق شادی نا کرنے کو مقدس سمجھا جاتاہے ، اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے جذبات و احساسات کو کنڑول کرنے کے لیۓ خواتین کےحجاب میں سختی کے قائل تہے، خواتین کے بننے سنورنےکی شدت سے مخالفت کرتے تہے اور ھمیشہ اپنی خواتین کو مکمل حجاب کی تاکید کرتے ۔
اس موضوع پر انجیل کہتا ہے :
۔ ۔ ۔ اور خواتین کو چاھیۓ کہ وہ جواھرات اور قیمتی ملبوسات کی بجاۓ حیا اور تقوی کا لباس سے آراستہ ھوں، بہترین عورت وہ ہے جونیک اعمال کوبجا لانےمیں دیندارھونےکا دعوی کرے ۔
اے خواتین ! اپنے شوھروں کی اطاعت کرو،صورت کی بجاۓ سیرت پر توجہ دو،کیونکہ بالوں کو سنوار کر، قیمتی ملبوسات اور زیورات پہن کرصرف ظاھری خوبصورتی ہی حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ خدا کے نزدیک باطنی اور قلبی انسانیت ذیادہ اھمیت کی حامل ہے، اسی لیۓ تو مقدس خواتین ھمیشہ خدا پر توکل کرتیں ، ظاھر کی بجاۓ باطن کو سنوارتیں، اور اپنے شوھروں کی فرمابردار تہیں، جیسے سارہ ابراھیم کی فرمانبردار تھی اور تم سب اسی کی اولاد ھو ۔
اسی طرح خواتین کے با وقار اور امارنتدار ھونے کے بارے میں پڑھتے ہیں :
اور ایسی خواتین نیز با وقار، غیبتگوئی سے بچنے والی ،عاقل اور امانتدار ھوں
روایات کے مطابق حضرت عیسی (علیه السلام) فرماتے ہیں :
عورتوں پر نگاہ کرنے سے پرھیز کرو ،کیونکہ یہ دل میں شہوت کی گرہیں باندھتا ہے، اور فتنے و فساد کے لیۓ یہ ایک نگاہ ہی کافی ہے۔
حضرت عیسی (علیه السلام) کے اصحاب ، پاپ اور بزرگ دینی رہنماؤں کلیسا اور دین مسیحیت کی طرف سے جو دستورات لازم اجرا قرار پاۓہیں ان کے مطابق خواتین کو سختی سے مکمل حجاب کی تلقین اور ظاھری زینت سے منع کیا گيا ہے ۔
ڈاکٹر حکیم الہی جو لندن یونیورسٹی کے استاد تها ،اپنی کتاب "عورت اور آذادي " میں یورپ کی خواتین کے مقام کی تشریح کے بعد مسیحیت میں عورت کے پردے اور حجاب کی توضیح کے لیۓ دو عظیم مسیحی رہنما Climnt اور Tertolyanکے نظرے کو بیان کرتے ہیں:
عورت کو ھمیشہ مکمل حجاب میں رہنا چاھیۓسواۓ اپنے گھر کے،کیونکہ فقط یہ پردہ ہی ہے جو اسے مسموم نگاھوں سے محفوظ رکھتا ہے ، اورعورت اپنا چہرہ ضرور چھپاۓ،کیونکہ ممکن ہےاس کی صورت دیکھکر بہت سےافراد گناہ میں مبتلا نہ ھو جائیں۔ خدا کے نزدیک ایک عیسائی مومنہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ زیورات سے آراستہ ھو کر غیرمردوں کے سامنے جاۓ ،حتی ظاھری زینت کو بھی آشکار نہ کرے ،کیونکہ دیکھنے والوں کے لیۓ خطرناک ہے ۔ "
یورپ اورمسیحی خواتین کی منتشر تصاویرسے واضح ھو جاتا ہے کہ اس زمانے کی خواتین حجاب کی مکمل رعایت کرتی تہیں Braon اورIshnaider نےاپنی کتاب "مختلف قوموں کے ملبوسات"میں بعض مسیحی خواتین کے ملبوسات کی تصاویر شایع کی ہیں ،جو ان کےمکمل حجاب پربہترین دلیل ہے
مصری عوام اسرائيل سے روابط كے مخالف ہیں
بين الاقوامی گروپ: مصر كے عوام كی اكثريت اسرائيل كے ساتھ روابط كے مخالف ہیں اور كيمپ ڈيوڈ معاہدہ كو ختم كرنے كا مطالبہ كرتے ہیں۔
لبنان كے سياسی تجزیہ نگار كامل وزنی پريس ٹی وی سے ايك انٹرويو میں كہا مصری عوام كی اكثريت اسرائيل سے كسی طرح كے روابط كے مخالف ہیں اور اسرائيل كی حكومت كو غاصب سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا مصری عوام كا مطالبہ یہ ہے كہ فلسطينوں كے قانونی حقوق انہیں ملنے چائیں اور ان كی سر زمين سے غاصبوں كا قبضہ ختم ہونا چاہیے، اخوان المسلمين كو اپنے عوام كے مطالبات كا احترام كرنا چاہیے۔
محمد مرسی پر كيمپ ڈيوڈ معاہدہ كرنے كے لیے عمومی دباؤ بہت زيادہ ہے ہمیں نہیں معلوم كب تك اخوان المسلمين كيمپ ڈيوڈ معاہدہ كی پابند رہتی ہے حالانكہ اخوان المسلمين كے نامزد اميد وار كی صداراتی انتخابات میں كاميابی سے صہيونی حكومت پريشان ہے اور ذرائع ابلاغ تل ابيب كا مستقبل سخت مشكلات كا شكار ديكھ رہے ہیں۔ اسرائيل كو اس بات كا خوف ہے كہ محمد مرسی صلح كا معاہدہ اور دو طرفہ اقتصادی و امنيتی معاملات كو بھی ختم نہ كردے جو كہ اسرائيل كے لئے بہت مہم ہیں اسرائيلی ذرائع ابلاغ نے محمد مرسی كی كاميابی كو اسرائيل كے لیے خطرناك قرار ديا ہے۔
بیسویں صدی کا عظیم رہنما
امام خمینی نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ( مغربی دنیا اور کمیونسٹ ) ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بھی اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے۔
تاریخ انسانیت ایسی عظیم شخصیتوں کے ذکر سے بھری پڑی ہے جنھوں نے اپنی پاک سیرت، مہر و محبت اور انسان دوستی کی بناء پر لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ انسان دوستی، نرم مزاجی، پاک کردار و گفتار اور مظلوم پروری وغیرہ ایسی صفات ہیں جو اپنے اندر ایک پر کشش مقناطیسی طاقت رکھتی ہیں۔ لھذا جس کے اندر یہ چیزیں موجود ہوں وہ ایسی مقبول شخصیت بن جاتی ہیں کہ بے اختیار انسانی توجہ ان پر مرکوز ہوتی ہے۔ خدا کے انہی پاک طینت اور پاکیزہ کردار بندوں میں سے ایک فرد صالح امام خمینی رح کی ذات ہے جنھوں نے اپنے کردار و گفتار کے ذریعے نہ صرف ایرانی قوم کے دلوں پر حکومت کی بلکہ پورے جہاں کے مظلوں کے دلوں کو اپنی طرف مبذول کیا۔ دنیا اس بات پر یقیناً حیرانگی کا مظاہرہ کرے گی کہ وہ انسان جس کے ہاتھ ہر قسم کے مادی وسائل سے خالے تھے، جس کے پاس نہ فوجی طاقت تھی نہ مادی وہ فرد واحد جو دنیا کی سپر پاور طاقتوں کا مقابلہ کر رہے تھے کس طاقت کے بل بوتے ایک قلیل عرصے کے اندر کڑوڑوں انسانوں کے دلوں پر چھا گئے یقیناً ان کے اندر یقین کامل، اعمال صالح اور الہی طاقت تھی جس کے سامنے دنیا کی مادی طاقتیں ٹک نہ سکی۔
تاریخ اسلام میں بہت سارے علمائے حق ایسے نظر آ ئیں گے جنھوں نے تہہ تیغ کلمہ حق کی آواز بلند کی انھوں نے کلمہ حق کی سر بلندی کیلئے کتنی زحمتیں برداشت کیں، کتنے مظالم کا مقابلہ کیا مگر یہ تاج کسی کے سر پہ نہیں رکھا گیا کہ وہ بے سر و سامانی کے باوجود ایک اسلامی انقلاب برپا کر سکیں۔ لیکن بیسویں صدی کے اس عظیم رہنما کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ انھوں نے روئے زمین کے اندر الہی حکومت کا قیام عمل میں لاکر عالم اسلام کے اوپر یہ واضح کر دیا کہ اگر مسلمان اپنے یقین کامل، اعمال صالح اور علم آگہی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو مسلمانوں کو زیر کر سکے۔ امام خمینی نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ( مغربی دنیا اور کمیونسٹ ) ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بھی اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے۔ وہ چند ایک خصوصیات جن کی بناء پر امام خمینی بیسویں صدی کے آخری عظیم رہنما کے طور ابھرے۔
* امام خمینی نے عالم اسلام کی نئی نسلوں کو اپنے انقلابی افکار و نظریات سے متاثر کیا۔
* ایک ایسے دور میں جبکہ مسلمانان عالم مایوسی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے امام خمینی نے اپنے کردار و عمل کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بات سمجھا دی کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اس دور کے تمام فتنوں، الجھنوں اور مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
* امام خمینی نے اپنے وقت کے سامراجی و استعماری طاقتوں کے خلاف ( بے سر و سامانی کے عالم میں ) بغاوت کا علم اٹھا کر مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ انہیں خدا، رسول اور قرآن کے علاوہ کسی قسم کا خوف نہیں۔
* امام خمینی کی شخصیت نے عالم اسلام کے فکری کردار کو اعتماد فراہم کیا۔
* امام امت کی شخصیت کے انقلابی اثرات عالم اسلام کے نوجوان نسل پر پڑے اور ان میں مجاہدانہ کردار ابھرے۔
* انقلاب اسلامی کے ظہور کے ساتھ امام امت نے اتحاد بین المسلمین کا نعرہ بلند کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کا باعث بنے تو وہ نہ شیعہ ہے اور نہ سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔
* دشمنوں کی طرف سے مختلف قسم کے مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود امام خمینی نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنے میں انحراف نہیں کیا۔
* امام خمینی نے عالم اسلام کے قلب میں جو لرزشیں پوشیدہ تھیں ان کو رفع کیا اور اپنی قیادت کے کرشمہ سے عالمی سیاسیات میں اسلام اور بلاد اسلام کو مرکزی اہمیت فراہم کی۔
* امام امت مستضعفین جہاں کی آواز بن کر ابھرے۔
* امام خمینی نے اپنی جدوجہد اور کاوشوں کے ذریعے عالم اسلام پر یہ واضح کردیا کہ خمینی ذاتی اقدار کا حصول نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد دین محمدی کو لے کر پوری دنیا میں چھا جانا ہے۔
آج اگرچہ امام امت ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن امام کے افکار و نظریات آج بھی خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو پکار پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانو! تمہارے تمام مصائب و مشکلات کا حل اسلام اور قرآن کے اندر موجود ہے اگر تم آج بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینا چاہتے ہو تو قرآن کو عملی میدان میں لے آو۔ یقیناً آج مسلمان جس قدر مظلومانہ اور مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ایک طرف مسلمانوں کے اوپر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں دہشت گرد قرار دینے کی مذموم کو ششیں کر رہی ہیں۔
افغانستان، عراق اور فلسطین کی صورتحال سے کون ناواقف ہے، ایک خونخوار درندے کی شکل میں امریکہ ان ملکوں میں نمودار ہوا اور یہاں کے بچوں، بوڑھوں اور عورتوں تک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا لیکن کسی مسلمان کے اندر یہ جرات پیدا نہ ہو سکی کہ وہ آگے بڑھ کر کہے کہ اس دور میں سب سے بڑا دہشت گرد خود امریکہ ہے اور اس کا اپنا وجود انسانیت کی بقاء کے لئے خطرناک اور ضرر رساں ہے۔ امام خمینی تو وہ عظیم مرد مجاہد ہے جنھوں نے ان حالات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پیشن گوئی دیتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے اور اس کے وجود سے عالم اسلام کو خطرات لاحق ہیں۔ لیکن عقل کے کھوٹے مسلمانوں نے اس پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جس کی سزا آج پوری امت مسلمہ بھگت رہی ہے۔
تحریر: ذاکر حسین میر
اے مجدّدِ روح فلسطیں، امام خمینی رہ، تجھے سلام!
امام خمینی رہ اسلامی دنیا کی وہ واحد ہستی ہیں کہ جنہوں نے دنیا کے مسلمانوں کیلئے اُن کی دنیا میں ترقی اور آخرت میں نجات کے حصول کیلئے خاتم النبیین کی یاد اور ذکر برپا کرنے اور اُن کی آفاقی تعلیمات کو یاد کرتے ہوئے اُس پر عمل پیرا ہونے کی جانب توجہ دلائی۔ آپ نے اُمتِ مسلمہ کو ہفتہ وحدت منانے کا حکم دیا تاکہ شیعہ اور سنی مل کر جشن عید میلا دالنبی ص منا سکیں۔
دنیا کے تمام اسلام اور حریت پسند انقلابی مسلمان ۴، جون کو عالم اسلام کے عظیم رہنما اور مسئلہ فلسطین کو دنیا میں زندہ کرنے والی عظیم ہستی امام خمینی رہ کی برسی مناتے ہیں۔ یہ وہ عظیم بطل جلیل اور فرزند اسلام ہے کہ جس نے دورِ حاضر میں مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اُسے عربوں کی قومیت سے نکال کر عالم اسلام اور مسلمانوں کے قبلہ اول کا بنیادی مسئلہ قرار دینے میں بنیادی اور اساسی کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ایک ارب سے زیادہ تعداد رکھنے والے مسلمان اگر اپنے دست و بازو کی قوت کا یقین کر لیں تو دنیا کی کوئی بھی مادی طاقت و قدرت اُن کا سامنا نہیں کر سکتی۔ امام خمینی نے مسلمانوں کو عہد رفتہ کے شاندار ماضی اور از دست رفتہ تہذیب و عروج کو دوبارہ حاصل کرنے نیز اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے اسلام کے آفاقی نظام کی جانب لوٹایا۔ یہ امام خمینی ہی تھے کہ جنہوں نے دنیا کے تمام آزاد اور حریت پسندوں اور مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ اسرائیل پر اگر ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈالیں تو ان سب کی مدد سے اسرائیل صفحۂ ہستی سے نابود ہو جائے گا۔ اِسی طرح اُنہوں نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ ’’جمعۃ الوداع‘‘ کو قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی اسرائیلی مظالم کا برسر عالم اعلان کرنے اور فلسطینی قوم سے اظہار یکجہتی کیلئے ’’یوم القدس‘‘ قرار دے کر مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونے کیلئے عملی اقدامات کیے۔ ہم عالم اسلام کے اس عظیم رہنما کی برسی کے موقع پر دعاگو ہیں کہ امام خمینی کی دیرینہ آرزو جلد پوری ہو اور دنیا کے مسلمان جلد ہی قبلہ اول بیت المقدس میں نماز اتحاد و وحدت ادا کریں اور اسرائیل کا خاتمہ ہو۔ آمین
فلسطینی داستاں اور ہماری حالتِ زار:
فلسطین کی داستاں، ظلم و بربریت و سفاکیت کی داستاں ہے، یہ ایسے نشیب و فراز سے گزری ہے کہ جسے قرطاس و قلم بیاں کرنے سے عاجز ہے، مگر ہماری حالت تو بقول اکبر الہ آبادی کے ایسی ہے کہ ’’وہ لیٹے لیٹے دعا کریں، جرمن کی توپوں میں کیڑے پڑیں!‘‘ ہم میں تو اتنا دم خم کہاں تھا کہ اپنے زور بازو کے بل بوتے فلسطین کو آزاد کراتے ،دامے درھمے سخنے اپنے فلسطینی مظلوم بھائیوں کی امداد کرتے بلکہ یہاں تو الٹی گنگا ہی بہہ رہی ہے ، جو بھی حق و حقیقت کی بات کرتا ہے ہم اُس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتے ہیں، اسی پر کفر کے فتوے صادر کر کے اُسے دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پھولے نہیں سماتے، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مسلمانوں کو تہہ تیغ کر کے خود کو غازی بنانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہوئے اُس کے خلاف جہاد کا الٹی میٹم دے کر اُس پر فتنہ و مفسد فی الارض کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے!
مسلمانوں کو مسئلہ فلسطین سے لاتعلق کرنے کی سامراجی چالیں:
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں جو جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا وہ قابل دید تھا، نوجوانوں کا جوش و خروش، حریت، جذبہ جہاد، ایک اسلامی سرزمین کی حفاظت کیلئے کیے گئے عہد کا خیال مسلمان اقوام میں باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب پورے عالم اسلام میں ایک ہلچل مچی تھی اور بچے، بوڑھے، جوان اور زن و مرد سب ہی اسرائیل کے خلاف غصے اور نفرت کے جذبے سے سرشار تھے۔ سامراج نے اِس عوامی غم و غصے کو کم کرنے کیلئے بتدریج چالیں چلیں کہ جن کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
۱۔برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل سمیت دوسرے ہمنواؤں کے اتحاد اور اندرونی غداروں اور مسلمان منافق حکمرانوں کی سازشوں سے نہ صرف مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مصر سے وادئ سینا اور لبنان اور شام سے جولان کی پہاڑیوں کے ہاتھ سے نکلنے کے ساتھ ساتھ سیاسی و عسکری میدان میں مسلمانوں کی شکست و ہزیمت نیز ہمت و حوصلوں کی پسپائی ہمارا مقدر بنی۔
۲۔ دوسر ی جانب جب عرب حکمراں ہمت ہار بیٹھے اور وہ دولت و اقتدار کے نشے میں غرق ہو کر دنیا و مافیہا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے۔
۳۔تیسری جانب امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اُس کے گماشتے اسرائیل کی جانب سے غافل مسلماں حکمرانوں کو اُن کے اقتدار کی ضمانت و حفاظت کیلئے اُنہیں دکھائے جانے والے سبز باغوں کی طویل فہرست نے اِن حکمرانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ یہ سب تو فلسطین سے باہر کی کہانی ہے اب آئیے ذرا اندر کی داستاں بھی سن لیں۔
۴۔ چوتھی جانب فلسطینی مزاحمت و جہاد کا راستہ روکنے اور اسلامی حمیت و غیرت کا جنازہ نکالنے جیسے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سیاست میں ’’مذاکرات‘‘ کی روش کو روشناس کرایا گیا تاکہ ’’ٹیبل ٹاک، ٹالرینس اور تساہل و تسامح ‘‘ کی روش پر گامزن ہوتے ہوئے فلسطین کے اندر سمجھوتے اور مک مکا کی سیاست کو فروغ دیا جائے۔ ان تمام مقاصد کو عملی کرنے کیلئے اسرائیل کو یاسر عرفات اور اُس کے ہمنواؤں سے بہتر کوئی اور خدمت گزار ملنا مشکل تھا۔ یہ وہ افراد ہیں کہ جنہوں نے فلسطین کی جہادی روح کا قتل عام کیا اور فلسطینی قوم کو اُس کے مقصد کے حصول میں کئی دہائیو ں پیچھے چھوڑ دیا۔
فلسطینی قوم پر مظالم کی ایک جھلک:
۱۹۴۸ سے لے کر دو عشرو ں تک ذلت و رسوائی کی یہی صورتحال چھائی رہی، قومیں حسرت و یاس سے امت مسلمہ کا مٹتا وقار دیکھتی رہیں، مرتی رہیں، جیتی رہیں، تڑپتی رہیں، سلگتی رہیں، تختۂ دار پر لٹکتی رہیں۔ جو فلسطین میں تھے اُن کے گھر اجڑتے رہے، اسکول ویران ہوتے رہے، ہسپتالوں کو مسمار کیا جاتا رہا اور........
زمینوں پر قبضہ ہوتا رہا۔ اِن فلسطینیوں کا قتل عام جا ری رہا ، خوں بہتا رہا، سڑکیں خوں میں نہاتی رہیں، جو پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے وہ سسکتے، بلکتے، تڑپتے، مچلتے رہے، جو صابرا و شتیلا کے کیمپوں میں قتل و غارت سے محفوظ رہے وہ زندان کی سلاخوں کے پیچھے اسیروں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے۔
جو موت کے گھاٹ اترنے سے بچے انہیں پر ظلم و بربریت، تحقیر و اہانت اور تذلیل و سبکی کی تند و تیز آندھیوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ جو اسرائیلی اور صہیونی درندوں کے ہاتھوں ذبح اور مسلح ہونے سے بچ گئے اُنہیں جلاوطن کر کے اپنے ہی ملک کی آزاد فضا میں سانس لینے سے محروم کر دیا۔ جو فلسطین کے اندر اقتدار کے خدا بن کر
ناسور بنے رہے وہ قوم کے سرخ لہو کی ندیاں بہتے دیکھتے رہے، مذاکرات کرتے رہے اور یہ وہی قوم فروش افراد ہیں کہ جنہوں نے کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو مذاکرات میں فلسطینی قوم کی غیرت و حمیت کا سودا کر کے ذلت رسوائی کو قوم کو ہدیہ کیا!
زندہ ضمیر، سرفروش و جہادی مجاہدین اور حقیقی اسلام کے علمبردار علماء کی کوششیں:
یہ سلسلہ یونہی جاری رہا... ، لیکن چند زندہ ضمیر والے، سرفروش، جہادی، حقیقی اسلام کے علمبردار علما، سچے اور دردمند رہنما، نوجوان اور اسلامی امت کا دل کی گہرائیوں سے درد رکھنے والے افراد گاہے بگاہے فلسطین اور فلسطین سے باہر عملی اقدامات کرتے رہے، شہادتیں دیتے رہے، جہاد کرتے رہے، لیکن یہ سب ایک خاص حد اور دائرے میں تھا اور اِس کے اثرات بھی محدود تھے۔ دوسری جانب امریکہ نے اسرائیل کو ناجائز وجود عطا کر کے اس پورے خطے میں اُسے امن و امان فراہم کرنے کی خاطر خطے کے تمام اسلامی ممالک کو اپنے ساتھ ملانا شروع کر دیا۔ خطے کے اکثر اور فلسطین کے اطراف کے تمام عرب و غیر عرب ممالک اسرائیل دوست بن کر فلسطینی قوم کی بےبسی ،ذلت و رسوائی ،بےچارگی اور مظلومیت کے خاموش اور بےبس تماشائی بنے رہے۔
مردِجری امام خمینی رہ کے شعار:
ایسے میں مشرق وسطیٰ کے علاقے سے کہ جہاں اسرائیل نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے اور ملک و قوم اور تعمیری کردار ادا کرنے والے طبقے کو سلایا ہوا تھا، اچانک ایک مرد جری اٹھتا ہے اور ظلم و ظالم کی بساط الٹ کر دین کا بو ل بالا کر دیتا ہے۔ اِس مر دجری کو تاریخ میں ’’امام خمینی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1963ء میں امام خمینی نے اپنی اسلامی تحریک کا آغاز کیا اور آپ نے تین شعار بلند کیے؛ 1۔ شاہ ایران کی حکومت غیر اسلامی ہے،2۔ اسلام خطرے میں ہے
3۔ اسرائیل ایک ظالم حکومت ہے۔
امام خمینی رہ نے اپنی تحریک کی ابتدا ہی سے علما اور عوام کے ساتھ مل کر ایک شہنشاہیت کی بنیادوں پر قائم، غلط، فاسد اور غیر اسلامی نظام کے خلاف اپنی جدو جہد کا آغاز کیا لیکن اُنہیں اس جرم کی پاداش میں جلا وطن کر دیا۔ آخر کار 15 سال کی جلاوطنی کے بعد امام خمینی یکم فروری کو دوبارہ ایران واپس پہنچے اور اسلامی انقلاب کامیاب ہوا۔ اسلامی حکومت و نظام کی تشکیل کے بعد آپ نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک مرتبہ اور اتحاد کی جانب عملی قدم بڑھانے کی دعوت دی اور اِس مقصد کیلئے سب سے پہلے خود قدم بڑھایا۔
امام خمینی رہ کی دعوت:
امام خمینی رہ نے اپنی تحریک کی ابتدا ہی سے جہاں ایران میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں کیں وہیں آپ نے دنیا کے تمام اسلامی ممالک کو اسلام کی آغوش میں لوٹنے کی جانب دعوت دی۔ امام خمینی کی فکر، نظریہ اور دعوت تمام عالم اسلام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ آپ نے اپنی تحریک کی ابتدا ہی سے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایک متحد، منسجم، مضبوط اور متفق اسلامی دنیا کا تصور پیش کیا۔ آپ نے مسلمانوں کو یہ یقین دلایا کہ یہ قرآنی دعوت درحقیقت اُسی وقت قابل عمل ہو سکتی ہے کہ جب دنیا کے تمام مسلمان اپنے فقہی اور جزئی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک اللہ، ایک دین، ایک قبلہ، ایک کتاب اور ایک خاتم المرسلین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں۔
اُمتِ واحدہ کا تصور دشمن شناسی اور اُس کی چالوں کو سمجھے بغیر ممکن نہیں:
یہی وجہ ہے کہ اما م خمینی نے عالم اسلام کو دشمن شناسی کی جانب متوجہ کیا۔ اُن کے مکتب میں امت واحدہ کا تصور’’ دشمن شناسی اور اُس کی چالوں کو سمجھے بغیر ‘‘ممکن نہیں۔ امام خمینی کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ آپ نے عالم اسلام کو سب سے پہلے امریکہ اور اسرائیل کے خطروں سے ہوشیار کیا اور ساتھ ہی فلسطینی قوم کی مظلومیت اور اسرائیل کے ظالم وجود اور ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اِنہی جرموں کی پاداش میں آپ کو جلاوطن کیا گیا لیکن آپ سیرت رسول اکرم پر چلتے ہوئے اپنے مقدس اور نیک مقصد سے دستبردار نہیں ہوئے اور آپ جہاں بھی تشریف لے گئے آپ نے وہاں اسلام کی درد بھری داستاں سے سب کو آگاہ کیا اور لوگوں کو اسرائیل کے خطرے سے باخبر کیا۔
امت مسلمہ اور ہفتہ وحدت:
امام خمینی رہ اسلامی دنیا کی وہ واحد ہستی ہیں کہ جنہوں نے دنیا کے مسلمانوں کیلئے اُن کی دنیا میں ترقی اور آخرت میں نجات کے حصول کیلئے خاتم النبیین کی یاد اور ذکر برپا کرنے اور اُن کی آفاقی تعلیمات کو یاد کرتے ہوئے اُس پر عمل پیرا ہونے کی جانب توجہ دلائی۔ آپ نے اُمتِ مسلمہ کو ہفتہ وحدت منانے کا حکم دیا تاکہ شیعہ اور سنی مل کر جشن عید میلا دالنبی ص منا سکیں۔
دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہا ہے:
اِن تمام امور کے ساتھ ساتھ آپ نے تمام مسلمانوں کو اُن کے مشترکہ دشمن اور اُس کی چالوں کی جانب متوجہ کیا۔ امام خمینی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں دشمن کے اختلافات، تفرقے، کمزوری و ضعف نیز اِن سب مشکلات کے راہ حل کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یہ بات ایک معما کی صورت میں میرے سامنے موجود ہے اور وہ یہ کہ تمام اسلامی حکومتیں اور مسلمان اقوام یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کہ اُن کا درد کیا ہے اور وہ اِس بات سے بھی اچھی طرح باخبر ہیں کہ یہ دشمن کا ہاتھ ہے جو اُن کے درمیان اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے اُنہیں ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے۔ اُن کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ مسلمانوں کے باہمی تفرقے سے نابودی اور کمزوری اُن کا مقدر بنی ہے۔ اگر دنیا کے تمام مسلمان آپس میں متحد ہو جاتے اور اسرائیل پر ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈالتے تو اسرائیل بہہ جاتا لیکن اِس کے باوجود وہ اسرائیل کے سامنے ذلت کا شکار ہیں! اصل معمہ یہی ہے کہ وہ یہ سب جاننے کے باوجود اِس مشکل کے حقیقی راہ حل یعنی اتحاد و اتفاق کی جانب رجوع کیوں نہیں کرتے؟ اور استعمار کی جانب سے اُنہیں کمزور بنانے کی تمام سازشوں کو ناکام کیوں نہیں بناتے؟!‘‘
فلسطینی مجاہدین کی مدد ہمارا فریضہ ہے:
امام خمینی نے دوسرے رہنماؤں کی مانند صرف زبانی جمع خرچ کو ہی اپنا شعار نہیں بنایا بلکہ آپ نے فلسطینی مجاہدوں کی دامے درھمے سخنے امدا د کیلئے بھی مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دشمن اسرائیل سے مقابلے کیلئے خود کو تیار کریں، آپ فرماتے ہیں: ’’بعض اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اختلافِ نظر، ایک ارب کے قریب تعداد رکھنے والے مسلمانوں کو اِس بات کا موقع فراہم نہیں کر رہا ہے کہ وہ اپنے معدنی ذخائر اور قدرتی منابع اور خدا کی عطا کردہ دولت رکھنے کے باوجود استعمار اور صہیونیوں کا راستہ روک سکیں۔ بعض عرب حکومتوں کی خود خواہی، خود غرضی اور اسرائیل کے سامنے اُن کا تسلیم محض ہونا اِس بات میں رکاوٹ بنتا ہے کہ لاکھوں مسلمان، فلسطین کو اسرائیلی قبضے اور غصب سے نجات دلائیں۔
سب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ بڑی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کو وجود عطا کرنے کے بعد بھی اُن کے مقاصد اور اہداف ختم نہیں ہوں گے،اُن کا منصوبہ ہے کہ وہ تمام اسلامی ممالک کو فلسطین کی مانند اپنا اسیر و قیدی بنا لیں۔ آج ہم فلسطین کو آزادی دلانے کیلئے ایسے مجاہدوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے فلسطین کو آزادی دینے اور اُسے اسرائیلی قبضے سے رہائی عطا کرنے کیلئے سروں پر کفن باندھ کر جہاد شرو ع کر دیا ہے!‘‘
مسلمان خود کو اسرائیل کے مقابلے کیلئے تیار کریں:
امام خمینی رہ کے نزدیک مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کا احترام اور اُس کی آزادی حد درجہ اہمیت کی حامل ہے لہٰذا جب بھی وہ قبلہ اول کو یہودی پنجوں میں قید دیکھتے تو اُن کا دل خون کے آنسو روتا اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے دو کروڑ کی عالمی فورس تیار کرنے کا حکم بھی صادر کیا۔ آپ فرماتے ہیں: ’’آج مسلمانوں کا قبلہ
اول سرطانی غدے اسرائیل کے ہاتھوں میں گرفتار ہے، وہ آج ہمارے فلسطینی بھائیوں کو تمام قدرت و طاقت کے ساتھ ظلم و ستم کا نشانہ بنائے ہوئے اُنہیں اُن کے خون میں نہلا رہا ہے۔ یہ اسرائیل ہی ہے جو تمام شیطانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تفرقہ انداز ی کر رہا ہے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ خود کو اسرائیل سے مقابلے کیلئے تیار و آمادہ کرے!‘‘
دشمن ہمیں لڑا کر ہمارے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے:
امام خمینی رہ مسلمانوں کو اُن کے اتحاد اور اُن کے ممالک کے قدرتی ذخائر کی دولت، اُن کی قدر و قیمت اور اُسے لوٹنے کیلئے دشمن کی سازشوں کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اگر ایک ارب سے زیادہ مسلمان اسرائیل کے خلاف قیام کریں تو اسرائیل اُن کا کچھ نہیں کر سکتا، اگر یہی مسلمان یوم القدس کے دن باہر آ کر مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے فلک شگاف نعرے لگائیں توی ہ نعرے اُن کیلئے موت کا پیغام ثابت ہوں گے۔ اِن مسلمانوں کی تعداد بھی ایک ارب سے زیادہ اور اِن کے پاس بیش بہا قیمتی قدرتی ذخائر بھی موجود ہیں اور یہ تمام حکومتیں ان تمام ذخائر کی محتاج ہیں لیکن اِن سب کے باوجود وہ مسلمانوں کو مجبور کرتی ہیں کہ آپ اختلاف اور تفرقے کا شکار رہیں اور وہ آپ کے اختلاف و انتشار سے فائدہ اٹھا کر آپ کی دولت کو لوٹ لیں اور کوئی بھی کچھ نہیں بولے!‘‘
امام خمینی اور 1950ء سے صہیونی خطرے کا مسلسل بیان:
امام خمینی نے اپنی تحریک کی ابتداء سے قبل ہی عالم اسلام کیلئے اسرائیل کے خطر ے کو بھانپ لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قیام کے کچھ ہی عرصے بعد آپ نے اسرائیل کے ناپاک وجود کے پس پردہ عوامل اور سازشوں کو سمجھتے ہوئے اسرائیلی منصوبوں کو بےنقاب کرنا شروع دیا تھا، آپ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی نظام کے قائم ہونے کے کچھ ہی مدت بعد یعنی 1980ء میں فرمایا: ’’میں تقریباً بیس سال قبل سے یعنی 1950ء سے ہی بین الاقومی سطح پر چھائی ہوئی صہیونیت کے خطرے سے مسلسل آگاہ کر رہا ہوں اور آج بھی میں اُس کے خطرے کو دنیا کے تمام آزادی بخش انقلابوں خصوصا اسلامی انقلاب کیلئے ماضی سے کمتر تصور نہیں کرتا ہوں اور حقیقت یہ ہے اِن خونخوار جونکوں نے دنیا کے مستضعف افراد کو شکست دینے کیلئے ایکا کر لیا ہے ۔‘‘
اگر حقیقت بین نگاہوں سے دیکھا جائے تو آج امام خمینی کی بصیرت افروز تقاریر اور فہم و فراست اور دوراندیشی مکمل طور پر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ یقیناً امام خمینی کی پیشن گوئی اور آپ کا 1950 میں امریکہ کو ’’بڑا شیطان ‘‘ کہنا اور اسرائیل کے مذموم مقاصد سے آگاہی سب واضح ہو چکی ہے۔ اگر آج بھی مسلمان حکمراں ہوش کے ناخن لیں اور اسلام کی آفاقی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو ان کی کامیابی اور اسلام کی سربلندی کے ساتھ عالم کفر و نفاق کی نابودی یقینی ہو جائے گی۔ ضروری ہے کہ اہل پاکستان بھی باہم شیر و شکر ہو کر فقہی اور جزئی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر امت مسلمہ کے اتحاد و وحد ت کیلئے عملی اقدامات کریں۔ تمام مکاتب فکر کے علما، دانشور اور سنجیدہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کو امت واحدہ کے حقیقی تصور کیلئے سوچنے، سمجھنے اور عملی اقدامات کرنے کی جانب شوق و رغبت دلائیں۔ امید ہے کہ جلد ہی وہ وقت آئے کہ سب مسلمان قبلہ اول میں نماز وحدت ادا کریں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
