Super User
حنبلی مذہب کا اجمالی خاکہ
اہل سنت کے فقہی مذاہب کے درمیان حنبلی مذہب اپنی پیدائش اور پیروکاروں کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے۔ حنبلی مذہب کے موٴسس ابوعبداللہ احمد بن محمد بن حنبلی شیبانی ہیں۔ آپ عربی الاصل تھے۔اموی حکومت میں آپ کے دادا ، سرخس کے والی تھے۔ ابن حنبل ۱۶۴ ہجری میں شہر بغداد میں متولد ہوئے اور بچپن ہی میں قرآن کو حفظ کیا، پہلے آپ نے علم فقہ ، قاضی ابو یوسف سے حاصل کیا لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ اہل حدیث کی طرف متوجہ ہوگئے ، جب تک شافعی مصر نہیں گئے یہ ان کے پاس فقہ حاصل کرتے رہے اور آپ ان کے برجستہ شاگرد تھے۔آپ کا نظریہ تھا کہ قرآن، مخلوق نہیں ہے جس کی وجہ سے بنی عباس نے آپ کو بہت تکلیف دی اور معتصم کے زمانہ میں ۱۸ مہینہ تک قید خانہ میں رہنا پڑا۔ لیکن جب متوکل کو حکومت ملی تو اس نے آپ کی بہت دلجوئی کی اور آپ کو اپنے نزدیک بلالیا یہاں تک کہ متوکل آپ سے مشورہ کئے بغیر کوئی کام انجام نہیں دیتا تھا۔
امام احمد بن حنبل نے شافعی سے جدا ہونے کے بعد فقہ کی بنیاد پر ایک مذہب کی بنیاد ڈالی، اس فقہ کی بنیاد پانچ اصل پر استوار تھی: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،پیغمبر کے اصحاب کے فتوے، بعض اصحاب کے وہ اقوال جو قرآن سے سازگار تھے اور تمام ضعیف حدیثیں۔ انہوں نے حدیث سے استناد کرنے میں اس قدر مبالغہ سے کام لیا کہ طبری اور ابن ندیم جیسے بزرگ افراد نے ان کو مجتہد ماننے سے انکار کردیا۔ احمد بن حنبل کی سب سے اہم کتاب ”مسند“ ہے جس میں تقریبا تیس ہزار سے زیادہ حدیثیں ہیں، یہ کتاب چھ جلدوں میں چھپی ہے۔ آپ کی دوسری کتابیں تفسیر قرآن، فضائل،طاعة الرسول اور ناسخ و منسوخ ہیں۔ آپ کی فقہی کتاب آپ کے فتوں کا مجموعہ ہے جس کو ابن قیم (متوفی ۷۵۱)نے جمع کیا ہے۔ یہ مجموعہ ۲۰ جلدوں میں منتشر ہوا ہے ۔ محمد بن اسماعیل بخاری، مسلم بن نیشاپوری آپ کے بہترین شاگرد ہیں۔ ابن حنبل کا ۲۴۱ ہجری میں بغداد میں انتقال ہوا۔
چھٹی صدی میں حنبلی مذہب
امام احمد بن حنبل پہلے عقاید کے ایک عالم تھے پھر آپ کا شمار فقہی علماء میں ہونے لگا، متوکل کے زمانہ میں آپ کے کلامی مذہب کاارتقاء بہت زیادہ ہوا، یہاں تک کہ اہل حدیث کے تمام مذاہب آپ کے عقاید میں گھل مل گئے اور جب اشعری مذہب کا ظہور ہوا تو احمد بن حنبل نے اپنے کلامی مذہب کو ان کے سپرد کردیا۔
لیکن بہت صدیاں گزرنے کے بعد آٹھویں صدی میں ابن تیمیہ (م ۷۲۸) نے احمد بن حنبل کے کلامی مذہب کو دوبارہ احیاء کیا۔ ابن تیمیہ نے صرف اس کو احیاء ہی نہیں کیا بلکہ حنبلی مکتب فکر میں نئی چیزوں کا اضافہ بھی کیا۔ جیسے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی زیارت کیلئے سفر کرنا بدعت ہے، توحید کے نقطہ نظر سے تبرک و توسل کرنا صحیح نہیں ہے اور اہل بیت کی بہت سی فضیلتوں کاانکار جو کہ صحاح ستہ اور مسندبن حنبل میں بیان ہوئی ہیں۔
حنابلہ کی یہ نئی فکر علماء اسلام کی مخالفت کی تاب نہ لاسکی اور دم توڑنے لگی یہاں تک کہ محمد بن عبدالوہاب (۱۱۱۵۔ ۱۲۰۶ ہ ق)نے اس کو دوبارہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
حنابلہ کی نئی فکر ، جمود سے ملی ہوئی ہے جیسے نئے زمانے کی چیزوں سے استفادہ کرنے کو منع کیا جاتا ہے جیسے فوٹو کھینچنے کو بغیر کسی دینی نص کے حرام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
حنبلی مذہب کے علاقے
سعودی عرب میں حنبلی مذہب ، پہلا مذہب ہے ، سعودی عرب کے نجد کے علاقہ میں زیادہ تر اہل سنت حنبلی ہیں اور حجاز میں مذہب شافعی اور احساء میں مذہب مالکی سے مقابلہ کرتا ہے۔
شام کے ایک چوتھائی مسلمان حنبلی ہیں، فلسطین میں یہ چوتھا مذہب شمار ہوتا ہے اور اس کے بہت کم پیروکار مصر، عمان اور افغانستان میں ہیں۔
خصوصیات اور حنبلی مذہب کے مآخذ
امام احمد بن حنبل سنت کو قرآن پر حاکم سمجھتے ہیں، اور اپنے فتووں میں احادیث اور اصحاب کے فتووں پر تکیہ کرتے ہیں، آپ مصلحت کی بناء پر فتوی نہیں دیتے تھے ، جب نص کو ایک دوسرے کے مخالف دیکھتے تھے تو مالک کے برخلاف عمل کرتے تھے اور جب بھی نص کو مصلحت کے ساتھ نہیں دیکھتے تھے تو اس کو حکم کا مبنا قرار دیتے تھے اور شافعی کی طرح مصلحت سے فرار نہیں کرتے تھے۔
امام احمد بن حنبل، حدیث مرسل اور ضعیف کو معتبر سمجھتے تھے اور ان کو قیاس پر مقدم کرتے تھے۔
آپ کے نزدیک قیاس صرف ضرورت کے وقت جائز تھا۔
حنبلی مذہب کے بعض اعتقادات
۱۔ فقہ حنبلی میں معاملات کے اصلی ارکان ، عاقلوں کی رضایت تھی اور ان کی نظر میں تمام معاملے صحیح تھے مگر یہ کہ اس معاملہ کے باطل ہونے پر کوئی نص موجود ہو۔
۲۔ حنبلی ، طہارت اور نجاست کے سلسلہ میں بہت زیادہ حساس تھے اور اس وجہ سے مذاہب کے درمیان یہ بہت زیادہ مشہور ہیں۔
۳۔ فقہ حنبلی اصل ذرایع کو قبول کرنے کی وجہ سے بہت زیادہ پھیلا۔
۴۔ حنبلیوں کی اہم خصوصیت ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قضیہ میں بہت ہے۔
امام احمد بن حنبل کے بعض نظریات، کلام، سیاست اور فقہ سے متعلق مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ جن روایات میں خداوند عالم کی تشبیہ یا تجسیم یا رویت سے متعلق مسائل بیان ہوے ہیں، آپ ان کی تاویل کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
۲۔ امام احمد بن حنبل کے نزدیک صحابی کے معنی بہت زیادہ وسیع تھے ،اگر کسی نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے صرف ایک گھنٹہ ملاقات کی ہو اس کو بھی صحابی کہتے ہیں، جو مسلمان صحابی کو برا کہتا تھا وہ اس کے اسلام کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔
۳۔ امام احمد بن حنبل ، پہلے والے خلیفہ کا اپنے بعد والے خلیفہ کو انتخاب کرنا صحیح سمجھتے تھے ۔ امام احمد بن حنبل ، فتح پانے والے بادشاہ یا حاکم کی اطاعت ضروری سمجھتے تھے چاہے وہ حاکم ظالم ہی کیوں نہ ہو۔ آپ ایسے فاتح حاکم کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو جائز سمجھتے تھے یا اگر یہ کسی کو نماز و غیرہ کے لئے منتخب کرے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کو ضروری سمجھتے تھے اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا بدعت جانتے تھے۔
۴۔ امام احمد بن حنبل ، تارک نماز کو کافر اور اس کا قتل واجب سمجھتے تھے۔
حنبلی مذہب کے فقہاء اور کتابیں
اس مذہب کے مشہور فقہاء درج ذیل ہیں:
احمد بن شہاب الدین معروف بہ ابن تیمیہ (م ۷۳۸)صاحب مجموعة الرسائل الکبر و منھاج السنہ والفتاوی ، یہ کتاب پانچ جلدوں میںچھپ کر منتشر ہوئی ہے۔
ابن قیم جوزی (م ۷۵۱)، اعلام الموقعین عن رب العالمین کے مولف، یہ کتاب چار جلدوں میں چھپی ہے اس کے علاوہ آپ الطرق الحکمیہ فی السیاسة الشرعیہ اور زاد المعاد فی ھدی خیر العباد کے بھی مولف ہیں۔
ابوالفرج عبدالرحمن معروف بہ ابن رجب ، صاحب الفوائد فی الفقہ الاسلامی۔
موفق الدین ، معروف بہ ابن قدامہ (م ۶۲۰)، کتاب المغنی کے موٴ لف ، اس کتاب کے ۱۲ جزء ہیں۔
شمس الدین ابن قدامہ، مقدسی(م ۶۸۲)، کتاب الشرح الکبیر کے مصنف جو کہ المقنع کی شرح ہے۔
عبدالرحمان مقدس ، صاحب المعدة فی شرح العمدة۔
ابوبکر بن ھانی معروف بہ الاثرم، صاحب کتاب السنن۔
مآخذ : کتاب رہ توشہ حج، ج۱، ص ۱۵۵۔
فرقہ زیدیہ
زیدیہ کون لوگ ہیں ؟

امام سجاد (علیہ السلام) کے فرزند زید شہید کی پیروی کرنے والوں کو زیدیہ کہتے ہیں ۔ زید نے ۱۲۱ ہجری میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے خلاف قیام کیا اور ایک گروہ نے آپ کی بیعت کرلی، شہر کوفہ میں خلیفہ کے لشکر کے ساتھ آپ کی جنگ ہوئی اور اسی جنگ میں آپ کو قتل کردیا گیا۔ ان کے ماننے والے آپ کو اہل بیت (علیہم السلام) سے پانچواں امام شمار کرتے ہیں ، ان کے بعد آپ کے بیٹے یحیی بن زید کو خلیفہ مانتے ہیں جنہوں نے ولید بن یزید کے خلاف قیام کیا تھا اور قتل ہوگئے تھے ، ان کے بعد محمد بن عبداللہ اور ابراہیم بن عبداللہ کو اپنا امام مانتے ہیں انہوں نے بھی خلیفہ عباسی ، منصور دوانیقی کے خلاف قیام کیا اور قتل ہوگئے ، ان کے بعد ایک زمانہ تک فرقہ زیدیہ میں کوئی نظم انتظام نہیں تھا یہاں تک کہ ناصر اطروش ، جناب زید کے بھتیجے نے خراسان میں ظہور کیا اور حکومت کے ڈر سے فرار کرکے مازندران پہنچے وہاں پر ابھی تک لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور تیرہ سال کے عرصہ میں انہوں نے بہت سے لوگوں کو مسلمان کیا اور مذہب زیدیہ میں داخل کرلیا ، اس کے بعد ان کی مدد سے طبرستان پر قبضہ کرلیا اور اپنی امامت کا اعلان کردیا ، اس کے بعد ایک مدت تک ان کے بعد آنے والوں نے بڑے ہی سکون کے ساتھ امامت کی ۔ ان کے عقیدے کے مطابق جو بھی فاطمی ، عالم، زاہد، شجاع اور سخی ہو اور قیام بہ حق کرے وہ امام ہوسکتا ہے ، جو کچھ بیان ہوا ہے اس کے مطابق زیدیہ ، اصول اسلام میں معتزلہ اور فروع میں فقہ امام ابی حنیفہ کی طرف منسوب ہیں ، ان کے درمیان کچھ مسائل میں اختلاف ہے (۱) ۔
۱۔ شیعہ در اسلام، ص ۶۶ و ۶۷۔
مذھب حنفی
مذھب حنفی اسلام کے پانچ بزرگ مذاھب اور اھل سنت کے چار مذاھب میں سے ایک ہے جس کے عالم اسلام میں کثیر پیرو ہیں زیر نظر مضمون میں اختصار سے سب سے پہلے اس مکتب کے فقہی آراء اور امام ابوحنیفہ کی زندگی اور عقائد پر نظر ڈالیں گے ۔
امام ابوحنیفہ
امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی المعروف بہ امام اعظم کوفے میں پیدا ہوۓ ان کے اجداد ایرانی نژاد اور کابل یا ترمذ کے رہنے والے تھے . امام ابو حنیفہ عبدالمالک بن مروان اموی کے دور میں پیداہوۓ اور اور عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں اپنے ہوش و ذکاوت کے بنا پر مشہور ہوۓ انہوں نے خود لکھاہےکہ انہوں نے اصحاب علی علیہ السلام اور جناب عمر سے علم حاصل کرنا شروع کیا تھا اور عبداللہ بن عباس کے ساتھیوں کے سامنے بھی زانو ادب تہ کیا ہے ان کے معروف ترین اساتذہ میں حماد بن ابی سلیمان اشعری ہیں جو فقہ کے مسلم استاد تھے ،امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں ابو یوسف ،(فقیہ) ابو عبداللہ محمد بن حسن شیبانی (فقیہ و ادیب) زفربن الھذیل اور حسن بن زیاد لولوئی کوفی کا نام قابل ذکر ہے ۔
امام ابو حنیفہ کانبوغ علمی اس وقت ظاہرہوا جب انہوں نے مستقل فقہی مذھب کی بنیاد رکھی البتہ انہوں نے اپنے مذھب کے لۓ کوئي الگ سے کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے شاگردوں نے جیسے ابویوسف اور محمد نے اس ضمن میں کتابیں تالیف کی ہیں ۔
اصول مذھب امام ابو حنیفہ
امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ استنباط احکام کے لۓ سب سے پہلے کتاب خدا سے رجوع کرتے ہیں اگر قرآن سے انہیں حکم شرعی نہیں ملتا ہے تو سنت پیغمبر سے استنباط کرتے ہیں اور اصحاب کے اقوال سے استفادہ کرتاہوں اور دیگر چيزوں کو چھوڑدیتا ہوں ،کسی اور کے قول پر عمل نہیں کرتا ،ابو حنیفہ نے جن منابع شریعت کو ذکر کیا ہے وہ قرآن سنت صحابہ مجتھدین اور دیگروں کا اتفاق نظراور قیاس ہیں ،البتہ ان چار منابع کے بعد استحسان کی نوبت آتی ہے ۔
قیاس پر عمل کرنے کے شرایط
حکم غیر منصوص کو حکم منصوص کے ساتھہ مشترکہ علت پاۓ جانے کی صورت میں ملحق کرنے کو قیاس کہتے ہیں۔
ابوبکر بن احمد ابی سھل سرخسی نے مذھب ابو حنیفہ میں قیاس پر عمل کرنے کے لۓ پانچ شرطیں ذکر کی ہیں
1 -حکم اصل مقیس علیہ کہ جس کا حکم کسی دوسرے نص سے حاصل نہ ہوا ہو ۔
2 -حکم معقول نہ ہو۔
3- فرع یعنی مقیس منصوص نہ ہو ۔
4 -حکم مقیس علیہ اثبات علت کے بعد اپنے حال پر باقی رہے ۔
5- قیاس نص کے کسی لفظ سے باطل قرارنہ پاۓ ۔
امام ابو حنیفہ کے فقہ کی خصوصیات ۔
1- عبادات و معاملات میں آسانی : امام ابو حنیفہ پانی کے علاوہ دیگر مایعات کوبھی پاک سمجھتے ہیں یا معاملات کے سلسلے میں جس چیز کو کسی نے نہ خریدا ہو اسکی خرید و فروش کو جائز مانتے ہيں ،بقیہ موارد ان کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔
2- غریبوں اور ناتوان افراد کی رعایت : امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورتوں کے زیوروں پر زکات ہے کیونکہ اس سے غریبوں کی مدد ہوتی ہے .
3 -انسان کے عمل کو تاحد ممکن صحیح کرنا : امام ابو حنیفہ ا س سلسلے میں کہتے ہیں کہ طفل ممیزکا ایمان صحیح ہے اس بارے میں وہ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے ایمان لانے کو دلیل بناتے ہیں اور کہتے ہیں جس طرح سے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طفولیت میں حضرت علی علیہ السلام کے ایمان کو قبول کیا تھا اسی طرح یہ امر دیگر موارد میں بھی صادق آتا ہے ۔
4-انسانیت و آزادی کا احترام
امام ابو حنیفہ نے عورت کو شوہر کے انتخاب میں آزادی دی ہے اور زبردستی شادی کرانےکو غلط اور غیرشرعی قراردیا ہے ۔
5 -حکمرانوں کا احترام ۔
امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے حاکم وقت کی اجازت کے بغیر کسی زمین کا احیآء کیا ہے تو وہ اس کا مالک نہیں بنتا۔
6- اقسام علم فقہ
امام ابو حنیفہ کی نظر میں فقہ کی دو قسمیں ہیں ،الف فقہ اکبر جو اعتقادی امور جیسے ایمان،خدا کی صفات کی شناخت ،نبوت و معاد وغیرہ سے عبارت ہے ۔
ب:فقہ اصطلاح جو کہ احکا م شرعی کے علم سے عبارت ہے جسے ادلہ تفصیلیہ سے حاصل کیا گیا ہو مثلا نماز و روزہ و دیگر فقہی احکام وہ کہتے ہیں کہ فقہی احکام کو فقہ اصطلاحی سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
نصوص پر عمل کرنے کے سلسلے میں ابو حنیفہ کے اصول وقواعد ۔
امام ابو حنیفہ محض حدیث کے راوی و حافظ نہیں تھے بلکہ انہوں نے نقل حدیث کے بارے میں کچہ قواعد بھی وضع کۓ ہیں جنہیں بعد میں "ترتیب الادلہ" کے نام سے جانا گیا کہا جاتا ہے کہ ابوحنیفہ راي و قیاس کے قائل تھے اور انہیں امام اھل رائ کہا جاتا ہے لیکن وہ بدعت کا سد باب کرنے کے لۓ راي کو ایسی جگہ استعمال کرتے ہیں جہاں قرآنی آیت اور کوئي حدث نہ ہو یا کئي موارد میں رای کو خبر واحد پر ترجیح دیتے ہیں ۔
خبر واحد ایسی روایت ہے کہ جو حد تواتر تک نہ پہنچی ہو اور اسے کچہ ہی افراد نے نقل کیا ہو اس سلسلے میں ابو حنیفہ نے بعض اصول ذکر کۓ ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔
1 -معتمد افراد کی مرسلہ احادیث قبول کی جاسکتی ہیں ۔
2 -نصوص کی تحقیق کے بعد جو اصول معین کۓ گۓ ہیں ان پر خبر واحد کو پرکھنے کے بعد اگر خبر واحد ان اصولوں کے مخالف ہوتو ابو حنیفہ اپنے اصول وقواعد کے مطابق اس خبر واحد کو شاذ قراردیتے ہیں ۔
3 -خبر واحد کو ظواہر قرآن پر تولنے کے بعد اگر آیت قرآن کی مخالف ہوتو آیت کو ارجحیت حاصل ہے ۔
4 -حدیث مخالف سنت مشہور نہ ہو خواہ سنت عملی ہو یا سنت قولی تا کہ قوی دلیل پر عمل ہوسکے ۔
5 -راوی اپنی حدیث کے برخلاف عمل نہ کرے ۔
6 -علماء سلف کی جانب سے راوی پر لعن نہ ہوئي ہو ۔
7 -حدود و تعزیرات کے باب میں اختلاف کی صورت میں آسان ترین روایات پر عمل کیا جاۓ ۔
8 -راوی روایت کو حفظ کرنے اور لکھنے کے بعد اسے نقل کرنے تک نسیان و فراموشی کا شکارنہ ہو ۔
ماخذ ۔
1- جلوہ ھائي اززندگانی ابوحنیفہ ۔وھبی سلمان غاوجی
2- الخیرات الحسان فی مناقب الام ابی حنیفہ احمد بن محمد ۔ابن حجر ھیثمی ۔
3- چھار امام اہل سنت وجماعت ۔محمد رئوف توکلی
4- فقہ تطبیقی مذاھب پنجگانہ جعفری ،حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی ۔ محمد جواد مغنیہ ۔
معتزلہ
دوسری ہجری قمری کے آغاز میں واصل بن عطاء(80 -131 ) نے مذھب اعتزال کی بنیاد رکھی اس زمانے میں ارتکاب گناہ کبیرہ اور اس کے بارے میں حکم دنیوی اور اخروی کا مسئلہ مورد بحث تھا خوارج نے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے والوں کو کافر اور حسن بصری نے منافق قرار دیاتھا
جبکہ مرجئہ انہیں بدستورمومن سمجھتے تھے اس درمیان واصل بن عطاء نے جو حسن بصری کے شاگرد تھے ایک نیا نظریہ اپنایا وہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا نہ مومن ہے نہ کافر ،اس نطریے کی منزلۃ بین المنزلتین کے عنوان سے شہرت ہوئي اور واصل بن عطا نے اس نظریے کے اعلان کے بعد اپنے استاد حسن بصری کے درس سے کنارہ کشی اختیار کرلی جس کی وجہ سے ان کے پیرو معتزلہ کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔
معتزلہ تاریخ کے نشیب و فراز میں
امویوں کے دور میں حکام عقیدہ جبر کی حمایت کرتے تھے اور چونکہ معتزلہ آزادی و ارادہ میں قدریہ کے نظریات کے حامل تھے لھذا انہوں نے نرم رویہ اپنایا لیکن امویوں کے زوال کے بعد اپنے عقائد کی ترویج کرنی شروع کی ،معتزلہ کے بانی واصل بن عطاء نے اپنے شاگردوں جیسے عبداللہ بن حارث کو مراکش اور حفص بن سالم کو خراسان کی طرف روانہ کیا ،امویوں کے بعد عمروبن عبید نے جو اعتزال کے دیگر بانیوں میں شمارہوتے ہیں اور منصور کے قریبی دوستوں میں سے تھے ان سے اور دیگر معتزلہ علماءسے حکام وقت نے زنادقہ اور ان کی الحادی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا البتہ یہاں یہ یاد رکھنے کی ضرورت کہ واصل بن عطاء نفس زکیہ کے قیام کی حمایت کی بناپر حکومت کے عتاب کاشکار ہوگۓ تھے اسی زمانے میں فلسفی کتب کاعربی میں ترجمہ ہوا اور اعتزالی متکلمین فلسفی نظریات سے آشنا ہوۓ تدریجا معتزلہ کے اوج کا زمانہ شروع ہوا اور ان کے آراء و عقاید حکومت کی حمایت سے رواج پانے لگۓ یا بالفاظ دیگر اعتزال حکومت کا سرکاری مذھب قرارپایا اور ان امربمعروف و نہی ازمنکر کے بارے میں ان کے عقائد کے مطابق ان کے مخالفین (اہل حدیث و حنابلہ ) کے خلاف سخت رویہ اپنایاگیا۔
سختیوں کا زمانہ (مخانفین معتزلہ کے لۓ)
مامون سے واثق باللہ کے زمانے میں معتزلہ متکلمین نے حکومت میں اثر و رسوخ پیداکرکے اپنے نظریات مسلط کرنے شروع کردۓ اور یہ کا شدت پسندی کا رخ اختیارکرگيااسی دور کو تفتیش عقائد کادور کہا جاتاہے مامون نے 218 ہجری قمری میں بغداد میں اپنے کارندے کو حکم دیا کہ عوام کو مسئلہ خلق قرآن سے آشناکریں اور جو بھی اس نظریے کو قبول نہ کرے اسے سزادی جاے ،مامون کی موت کے بعد واثق نے بھی انہی انتہا پسندانہ پالیسوں کو جاری رکھا اور نظریہ خلق قرآن کے مخالفین کو اذیت و آزار پہنچاتا رہا یہی تشد پسند طریقے آیندہ چل کر معتزلہ کے سقوط کا باعث بنے۔
معتزلہ کے عقائد
الف:الھیات، اصول مذھب معتزلہ
1- توحید : معتزلہ نے توحید و نفی صفات زائد از ذات احدیت کے مسائل میں اپنے نظریات کی بناپر خود کو موحدہ کہتے تھے ان کے یہ نظریات صفاتیہ اور مجسمہ کے مقابل ہیں یہ دو گروہ صفات ثبوتیہ کو جن میں جسمانی پہلو کا شائبہ ہوتا ظاہری معنی میں لیتے ہیں لیکن معتزلہ اس مسئلہ میں تاویل کے قائل ہیں جو قدم ذات ،نفی صفات زائد بر ذات اور نفی رویت و نفی شریک کا مستلزم ہے ۔
2- عدل :معتزلہ کو عدلیہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے انسان کے لۓ اختیار و تفویض کا اثبات کیا جو مجبرہ کے مقابل ہے ،اس اصل کے تحت خلق افعال انسان ،ذات خدا سے ظلم کی نفی ،مسئلہ تولد ،عوض ،تکلیف،لطف،مسئلہ حسن وقبح عقلی وغیرہ آتے ہیں ۔
3 -وعد و وعید
خدا کا عادل ہونا اس بات کا متقاضی ہےکہ اس پر واجب ہےکہ آخرت میں نیک اعمال انجام دینے والوں کو جزا دے اور برے کام کرنے والوں کو سزادے اس اصل کے تحت جہنم میں کافروں کا خلود ،مسئلہ شفاعت ،اور توبہ و غیرہ شامل ہیں ۔
4 -المنزلۃ بین المنزلتین :معتزلہ کاخیال ہےکہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا نہ مومن ہے نہ کافربلکہ ان مقاموں کے درمیان مقام میں ہے جس کو المنزلۃ بین المنزلتین سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
5- امربمعروف ونہی اومنکر:معتزلہ اس کے وجوب کے قائل ہیں اور ابو علی جبانی نے اوروے عقل اور ابوہاشم نے ازروے نقل اسے واجب قراردیا ہے ،ان کے نزدیک امربالمعروف اور نہی ازمنکر کے مراتب کراھت قلبی سے لیکر طاقت کے استعمال تک ہیں ۔
ب:طبیعیات ۔معتزلہ کے نزدیک جسم ذات لایتجزا سے مرکب ہے ،بو ہوامیں معلق ذرات سے عبارت ہے اور نورایسے ذرات سے مرکب ہے جو ہوا میں پھیل جاتے ہیں اور اجسام کا تداخل ایک دوسرے میں محال نہیں ہے ۔
طبقات و مشاہیر
معتزلہ بغداد و بصرہ کے دو اہم گروہوں میں تقسیم ہونے کے علاوہ بیس گروہوں میں منقسم ہیں اوران کے درمیان پانچ مذکورہ اصولوں کے علاوہ اکثر مسآئل میں اختلافات پاے جاتے ہیں ان فرقوں میں واصلیہ ،ھذیلیہ ،نظامیہ ،بشریہ ،کعبیہ ،ھشامیہ،جبانیہ ،جاحظیہ ،معمریہ ،خیاطیہ،مرداریہ ہیں ۔
تیسری صدی ہجری مین معتزلہ کے بزرگوں میں ابوھاشم (و321 )ابوالقاسم کعبی 317 جاحظ پیدائیش 225 ھ ق صاحب کتاب البیان والتبیین و کتاب البخلاء ،نظام وفات 231 ھ ق ،صاحب الرد علی الثنویہ ،چوتھی صدی ہجری میں ابوبکر احمد بن علی الاخشیدی ،پانچوین صدی ہجری میں قاضی عبدالجبار صاحب کتب شرح الاصول الخمسہ ،المغنی والمحیط بالتکلیف ،چھٹی صدی ہجری میں معتزلہ کے معروف متکلمین میں زمخشری صاحب کشاف ہیں اور ساتویں صدی ہجری میں معتزلہ کے متکلمین میں نہج البلاغہ کے معروف شارح ابن ابی الحدید کانام لیا جاسکتا ہے اور بیسویں صدی میں معتزلہ کے پیرووں میں شیخ محمد عبدہ قابل ذکر ہیں ۔
ماخذ
فرھنگ عقائد و مذاھب اسلامی ۔ آيت اللہ جعفر سبحانی
تاریخ معتزلہ محمد جعفر لنگرودی
ملل ونحل شہرستانی
تاریخ مذاھب اسلامی محمد ابوزہرہ ۔ترجمہ علی رضا ایمانی۔
تاجیکستان کی مساجد میں اذان دینے پر پابندی
جمہوریہ تاجیکستان کے دارالحکومت کے حکام نے ایک مرتبہ پھراس شہرکی مساجد میں بلند آوازسے اذان دینے پرپابندی لگادی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تاجیکستان کے دارالحکومت کی میونسپل کمیٹی کے جدید قوانین کے مطابق یکم جولائی بروز اتوار سے اس شہرکی مساجد میں لاوڈ اسپیکروں سے اذان دینے پر پابندی ہے۔
دارالحکومت دوشنبہ کی میونسپل کمیٹی نے اس فیصلے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اونچی آواز کےساتھ اذان سے دیگرادیان کے پیروکاروں اورقائدین کواذیت ہوتی ہے لہذا اذان کی آواز فقط مسجد کےاحاطہ کے اندررہنی چاہیے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق دوشنبہ کے میئر"محمد سعید عبیداللہ اف" کے اس جدید قانون کے مطابق آئندہ چند دنوں کے دوران تاجیکستان کے دارالحکومت کی مساجد میں کیمرے نصب کیے جائیں گے اورماہرین کے بقول مساجد میں ان کیمروں کونصب کرنے کا مقصد جوانوں اور نوجوانوں کومسجد میں آنے سے روکنا ہے۔
میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی
میانمار میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ‘‘ماگ'' کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی میں250 مسلمان جان بحق،500 زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے ایک میانماری مندوب محمد نصرکے مطابق مسلمانوں کے خلاف حالیہ جارحیت میں 300 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جبکہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ حاصل کرنے والے ہزاروں افراد کو خوراک اور بنیادی اشیاء کی قلت کے باعث سخت مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ایک ہفتہ کے دوران''ماگ‘‘ملیشیا کے دہشت گردوں نے میانمار میں مسلمانوں کے 20دیہات اور 1600 مکانات نقشے سے مٹا دیے جس کے باعث لاکھوں کی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
محمد نصر نے مزید کہا ہے کہ ماگ ملیشیا کے حملوں سے مسلمان اکثریتی صوبہ اراکان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں مسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شہری سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں، تاہم بنگالی حکام کا رویہ بھی معاندانہ ہے۔''ماگ‘‘کے دہشت گردوں سے جان بچا کر بنگلہ دیش جانے والے مسلمانوں کی کشتیوں کو بنگالی پولیس واپس کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود کم سے کم 3لاکھ افراد بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں پہنچ چکے ہیں۔
میانمار میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلمانوں کیخلاف دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باوجود عالم اسلام کی جانب سے کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بعض ممالک میں مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
شمالي وزيرستان ميں امريکي ڈرون حملہ
پاکستانی عوام اور حکام کے شدید احتجاج کے باوجود اس ملک کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے-
پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالي وزيرستان ميں امريکي ڈرون طیارے کے آج صبح کے حملے ميں کم از کم 6 افراد جان بحق ہوئے - یہ حملہ شمالي وزيرستان کي تحصيل شوال کے علاقے درئي نشتر ميں ايک گھر پرہوا - امريکي ڈرون طیارے نے اس گھر پر دو ميزائل داغے جسکے نتیجے میں اس میں موجود 6 افراد جان بحق ہوئے - بعض ذرائع کے مطابق اس حملے میں 4 افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے –
پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کئي برسوں سے ڈرون حملے کررہا ہے۔ امریکی ڈرون حملوں میں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق اور دسیوں ہزار زخمی ہوچکےہیں۔ امریکہ دعوی کرتا ہےکہ وہ طالبان اور القاعدے کے دہشتگردوں کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بناتا ہے لیکن مقامی افراد اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اور ان حملوں میں مارے جانے والے زیادہ تر عام شہری ہیں جن میں معصوم بچے اور بے گناہ خواتین بھی شامل ہیں۔
جرمن معاشرے كا ايك بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے
بين الاقوامی گروپ: دو سال پہلے جرمنی كے صدر كرسٹين ولف نے كہا تھا: اسلام جرمن معاشرے كا حصہ ہے تو قدامت پسند عيسائی ڈيموكریٹس نے انہیں تنقيد كا نشانہ بنايا تھا۔
رپورٹ كے مطابق دو سال قبل جرمنی كے صدر كرسٹين ولف نے اسلام كو جرمن معاشرے كا حصہ قرار ديا تھا جس پر قدامت پسند عيسائی ڈيموكڑیٹس نے انہیں تنقيد كا نشانہ بنايا تھا ليكن اب جرمنی كے نئے صدر نے سابقہ صدر كرسٹين ولف كا دفاع كرتے ہوئے كہا ہے كہ مسلمان جرمن معاشرے كا حصہ ہیں ليكن اسلام ايسے نہیں ہے ليكن 40 لاكھ مسلمانوں كی آبادی اور جرمن آئين میں مذہبی آزادی كے ساتھ كيسے كہہ سكتے ہیں كہ اسلام جرمنی كا حصہ نہیں ہے۔
البتہ حال ہی میں اس حقيقت كو تسليم كرتے ہوئے سائنس اور ہيومينٹيز كونسل نے تجويز دی ہے كہ مسلمان اساتيد اور ائمہ جماعت كی تعليم كے لئے جرمنی كی يونيورسٹيز میں الہيات اسلامی كا شعبہ قائم كيا جائے۔ 1945 میں جرمنی میں 6 ہزار مسلمان رہائش پذير تھے ليكن آج جرمنی میں ۴۰ لاكھ مسلمان آباد ہیں۔
پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے نیٹو کی سپلائي لائينیں کھولنے کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے
پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے نیٹو کی سپلائي لائينیں کھولنے کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ منور حسن نے نیٹو کی سپلائي لائينين کھولنے کے فیصلے پر تنقید کرتےہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غلط اقدام ہے۔
منور حسن نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملک کی خود مختاری اور سلامتی کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد حکومت نیٹو سپلائي لائينوں کو بند رکھ کر نیٹو کو ڈرون حملے بند کرنے پرمجبور کرسکتی تھی اور نتیجے میں عوام کو قتل عام سے بچایا جاسکتا تھا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں امریکہ کی مداخلت ختم کرنے کا واحد راستہ امریکہ سے تعلقات منقطع کرنا ہے۔
یاد رہے جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر اسلامی پارٹیوں نے بھی حکومت اسلام آباد کے اس فیصلے پرکڑی تنقید کی ہے اور نیٹو کی سپلائي لائنیں بحال کرنے کو پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش قراردیا ہے۔
یاد رہے افغانستان میں نیٹو کے لئے نوے فیصد رسد پاکستان کےراستے ہی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش میں 100 افراد جان بحق
بنگلہ دیش میں سیلاب کے باعث کم از کم 100 افراد جان بحق ہوئے ہیں –
ڈھاکہ سے ہمارے نمائندے کے مطابق بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں خاص طور سے چٹاگانگ بندرگاہ میں سیلاب جاری ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 100 افراد جان بحق ، 100 لاپتہ اور200 زخمی ہوئے ہیں
بنگلہ دیش کے ریسکیو ذرائع کے مطابق اس ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں 150 ہزار افراد سیلاب کے محاصرے میں ہیں جبکہ سیہلٹ ، درگئی بندھ اور کوریگرام کے علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہوگئے ہیں –
بنگلہ دیش میں موسلا دھار بارشیں پانچ دنوں سے جاری ہیں اور محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
