Super User
امام خامنہ ای کا سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت کی بدولت حاصل شدہ کامیابی پر اظہار مسرت
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایرانی عوام کی استقامت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایٹمی کامیابیوں کی قدردانی کرتے ہوئے امریکا کی چال بازیوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایٹمی کامیابیوں کے بارے میں صدر حسن روحانی کے خط کے جواب میں رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری ہونے والے خط میں، ایرانی عوام کی استقامت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایٹمی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کیا گیاہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خط میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر، وزیر خارجہ اور ایٹمی مذاکرات کاروں کی کوششوں کو سراہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خط میں اعلی حکام کو یاد دہانی کرائی ہے کہ صرف پابندیوں کا خاتمہ ہی ملک و ملت کی معاشی بہتری کے لیے کافی نہیں بلکہ ایران کی اقتصادی مشکلات کا حل استقامتی معیشت کے تحت انتھک محنت اور دانشمندانہ منصوبہ بندی پر منحصر ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایٹمی مذاکرات میں جو بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ سامراجی محاذ اور منہ زور طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت و پامردی کی بدولت حاصل ہوئی ہے اس لئے ہم سب کو چاہئے کہ اس واقعے کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام واقعات میں ایک بڑے درس کے طور پردیکھیں- آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےفرمایا ہے کہ اس بات پر گہری نظر رکھی جائے کہ فریق مقابل اپنے وعدوں پر پوری طرح سے عمل کرے کیونکہ حالیہ چندروز کے دوران امریکی عہدیداروں کے بیانات بدگمانی پید ا کرنے کا باعث بنے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خط میں ایرانی حکام کی کامیابی کی امید کرتے ہوئے ایک بار پھر تاکید فرمائی ہے کہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے، سامراجی حکومتوں خاص طور سے امریکہ کی چال بازیوں اور وعدہ خلافیوں نیز دیگر مسائل سے ذرہ برابر غفلت نہ برتی جائے۔
آیتالله جوادی آملی: افسوس کی بات ہے کہ معاشرے میں نہج البلاغہ پر کم توجہ دی جا رہی ہے
رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے ایران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم میں منعقدہ اپنے تفسیر کے درس میں سورہ مبارکہ زخرف کی آیت «وَقَالُوا۟ یَـٰٓأَیُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَهِدَ عِندَکَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ ﴿٤٩﴾» کی تلاوت کرتے ہوئے بیان کیا : جب بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہوا تو فرعون اور اس کے ساتھیوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا کہ ہم لوگوں پر سے عذاب ہٹا لیا جائے تا کہ ہم لوگ ہدایت حاصل کریں لیکن جب خداوند عالم نے ان پر سے عذاب ہٹا لیا تو وہ لوگ پھر پہلے کی طرح اپنے کفر پر اصرار کرنے لگے ۔
انہوں نے وضاحت کی : فرعوان کی اقداری نظام دولت و طاقت ہے ، کہتا ہے کہ مصر کی سلطنت کہ وہ میرا ہے اور مصر میں بہنے والا دریا بھی میری ملکیت میں جاری ہے ، یہ دریای نیل میرے حکمرانی میں ہے یا اس دریا کا بعض حصہ میرے تدبیر کے ذریعہ میرے قصر سے گذرتا ہے ، وہ ایسا شخص تھا جو بصر کا حامل تھا مگر بصیرت نہیں رکھتا تھا ، موسی کلیم اللہ کا وجود مبارک جب قیادت کے فرائض کو اختیار کیا تو اس زمانہ میں ان میں لکنت کی مشکلات نہیں پائی جاتی تھی لیکن جب برسوں مسلسل فرعون کے دربار میں رہے تو ان کی زبان میں لکنت بھی ہونے لگی ، موسی علیہ السلام کے سلسلہ میں کہا کہ وہ اچھی طرح گفت و گو نہیں کر سکتے ہیں ۔
قرآن کریم کے مشہور و معروف مفسر نے آیت « أَمْ أَنَا۠ خَیْرٌۭ مِّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ مَهِینٌۭ وَلَا یَکَادُ یُبِینُ ﴿٥٢﴾ فَلَوْلَآ أُلْقِىَ عَلَیْهِ أَسْوِرَةٌۭ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَآءَ مَعَهُ ٱلْمَلَـٰٓئِکَةُ مُقْتَرِنِینَ ﴿٥٣﴾» کی تلاوت کرتے ہوئے اظہار کیا : وہ ایسا شخص ہے کہ جو مھین و خوار ہے اور اچھے سے گفت و گو نہیں کر سکتا ہے ، یا اس دلیل کی بنا پر کہ فرعون کا معرفتی نظام حس و تجربہ ہے اور حضرت موسی علیہ السلام کی گفت و گو نہیں سمجھتا ہے ، اگر وہ حق پر ہے اور کمال پر پہوچنا چاہتا ہے تو کیوں اس کے پاس سونا نہیں ہے کیوں سونے کا کنگن نہیں پہنتا ہے ۔
انہوں نے بیان کیا : عوام کے لئے تعلیم کے بجائے تبلیغ کرتا ہے اور تعلیل کے بجائے تکرار سے استفادہ کرتا ہے ، معاشرے کو ایک تبلیغ کے ذریعہ اور اس معاشرے کو سو بار تکرار سے یقین حاصل ہو جاتی ہے ، فرعون نے بھی اسی کام کو انجام دیا ، پہلے کہا معرفت شناسی نظام حس و تجربہ ہے اور اقداری نظام سونا و چاندی ہے اور معاشرے کے ذہن کی صفائی لوگوں کے نظر انداز و ذلت کے ذریعہ ہوتا ہے «فَٱسْتَخَفَّ قَوْمَهُۥ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ کَانُوا۟ قَوْمًۭا فَـٰسِقِینَ ﴿٥٤﴾» ۔
حضرت آیتالله جوادی آملی نے آیت «فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ أَجْمَعِینَ ﴿٥٥﴾» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کیونکہ ہمارے غصہ کا سبب بنا ہے اس لئے ہم نے اس سے انتقام لیا ہے ، اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا ہے ، ایک وقت ہے کہ خداوند عالم عادی شخس کو ہلاک کرتا ہے لیکن اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے کہ ان میں سے بعض شرک کے رہنما تھے ، کہا یہ لوگ جو کہ شرک و کفر کے رہنما تھے ان کو میں نے آئندہ والوں کے لئے نمونہ کے عنوان سے قرار دیا ہے ۔
انہوں نے خطبہ قاصعہ حضرت امام علی علیہ السلام کے ایک بخش جس میں حضرت موسی علیہ السلام کے سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : خطبہ قاصعہ کو پڑھئے ، نہج البلاغہ کو قرآن کریم کے ساتھ استفادہ کرنا چاہیئے مگر افسوس کی بات ہے کہ وہ مقام نہیں دیا جا رہا ہے ، وہ لوگ اپنے پاس سے کچھ نہیں کہرتے ہیں وہ خداوند عالم کی بات کو بیان کرتے ہیں ، حرم مسجد کی طرح ہے ، یہ اس مقدس مقام کا اثر ہے ، وہ لوگ قرآن ناطق ہیں اور یہ قرآن کریم کتاب صامت ہے.
امام حسن عسکری(ع) کےاخلاق و اوصاف
حضرت امام حسن عسکری (ع) آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے، آپ آسمان امامت و ولایت اور خاندان وحی و نبوت کے گیارہويں چشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آنداھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔
آپ مہتدیوں اور معتمدوں کی دروغگوئی ، فریب ، سرکشی کے دور میں گم گشتہ افراد کی ہدایت کرتے رہے ۔ آپ کی امامت کے دور میں عباسی خلفاء کے ظلم و استبداد کے محلوں کو گرانے کے بہت سے اہم اور تاریخی واقعات رونما ہوئے جو براہ راست امام (ع) کی ہدایات پر مبنی تھے ان میں سے مصر میں احمد بن طولون کی حکومت کا قیام ، بنی عباس کے ظلم و ستم کے خلاف حسن بن زید علوی کی درخشاں خونچکان تحریک اور آخر کار حسن بن زید کے ہاتھوں طبرستان کی فتح اور صاحب الزنج کا عظیم جشن اس دور کے اہم واقعات میں شامل ہے ۔ اس کے علاوہ مخفیانہ طور سے جو ارتباط امام علیہ السلام سے برقرار کئے جاتے تھے اس کی وجہ سے حکومت نے اس باب ہدایت کو بند کرنے کے لئے چند پروگرام بنائے ۔ پہلے تو امام کو عسکر چھاؤنی میں فوجیوں کی حراست میں دے دیا ۔ دوسرے مہتدی عباسی نے اپنے استبدادی اور ظالمانہ نظام حکومت پر نظر ثانی کی اور گھٹن کے ماحول کو بہ نسبت آزاد فضا میں تبدیل کیا اور نام نہاد ، مقدس مآب ، زرخرید ملّا عبدالعزیز اموی کی دیوان مظالم کے نام سے ریا کاری پر مبنی ایک ایسی عدالت تشکیل دی جہاں ھفتے میں ایک دن عوام آکر حکومت کے کارندوں کے ظلم و ستم کی شکایت کرتے تھے ۔ لیکن اس ظاہری اور نام نہاد عدالت کا درحقیقت مسلمانوں پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ روز بروز امام حسن عسکری علیہ السلام کی طرف مسلمانوں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا اور چاروں طرف سے حریت پسند مسلمانوں کی تحریک سے بنی عباس کی حکومت کی بنیادیں ہلنے لگیں اور عوام کی سیل آسا تحریک سے بنی عباس کی حکومت کے زوال کے خوف سے بنی عباس نے عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کرنے کے لئے پروگرام بنایا کہ پہلے تو مال و دولت کو عوام کے درمیان تقسیم کیا جائے تا کہ لوگوں کی سرکشی کم ہو اور عوام کو خرید کر ایسا ماحول بنادیا جائے کہ جس امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کرنے میں آسانی ہو ۔ تاریخ شاہد ہے کہ تمام دنیا کے جابر وظالم حکمرانوں کا یہ دستور رہاہے کہ جب بھی ان کے استبداد کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ جلد سے جلد اس آواز کو خاموش کردیں اگرچہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والی نسل میں ان کے لئے سوائے رسوائی مذمت کے کچھ نہیں ہوگا اور ان کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی دنیا نہ صرف یہ کہ حمایت کرے گی بلکہ ان بزرگون کو عظمت کی نگاہ سے دیکھی گی اور ان مظلوموں کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر فخر کرے گی امام حسن عسکری (ع) نے بھی ہمیشہ اپنے اجداد کی طرح دین اسلام کی حفاظت اور پاسداری میں اپنی زندگی کے گرانقدر لمحات کو صرف کیا اور دین کی حمایت کرتے رہے اگرچہ دین کی حمایت اور عوام کی خدمت عباسی حکمرانوں کے لئے کبھی بھی خوش آئند نہیں رہی لیکن خداوند متعال نے اپنی آخری حجت اور دین اسلام کے ناصر حضرت امام مہدی (ع) کو امام حسن عسکری کے گھر میں بھیج کر واضح کردیا ہے کہ دین اسلام کے اصلی مالک و وارث اہلبیت رسول (ع) ہی ہیں
امام حسن عسکری(ع) اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جس کا ہر حلقہ انسانی کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وایثار سب ہی اوصاف بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے معتمد نے جس سے آپ کے متعلق دریافت کیا یہی معلوم ہوا کہ آپ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور سوائے ذکر الٰہی کے کسی سے کوئی کلام نہیں فرماتے , اگرچہ آپ کو آپنے گھر پر آزادی کے سانس لینے کا موقع بہت کم ملا۔ پھر بھی جتنے عرصہ تک قیام رہا اور دور دراز سے لوگ آپ کے فیض و عطا کے تذکرے سن کر اتے تھے اور بامراد وآپس جاتے تھے۔آپ کے اخلاق واوصاف کی عظمت کا عوام وخواص سب ہی کے دلوں پر سکہ قائم تھا۔ چنانچہ جب احمد بن عبداللہ بن خاقان کے سامنے جو خلیفہ عباسی کی طرف سے شہر قم کے اوقاف وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلیٰ تھا سادات علوی کا تذکرہ آگیا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے کوئی حسن علیہ السّلام عسکری سے زیادہ مرتبہ اور علم و ورع , زہدو عبادت ,وقار وہیبت , حیاوعفت , شرف وعزت اور قدرومنزلت میں ممتاز اور نمایاں نہں معلوم ہوا۔ اس وقت جب امام علی نقی علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہیز وتکفین میں مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمین نے اثاث اللبیت وغیرہ میں سے کچھ چیزیں غائب کردیں اور انھیںخبر تک نہ تھی کہ امام علیہ السّلام کو اس کی اطلاع ہوجائے گی۔ جب تجہیز اور تکفین وغیرہ سے فراغت ہوئی تو آپ نے ان نوکروں کو بلایا اور فرمایا کہ جو کچھ پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بیان کرو گے تو میں تمھیں معاف کردوں گا اور سزا نہ دوں گا لیکن اگر غلط بیانی سے کام لیا تو پھر میں تمھارے پاس سے سب چیزیں بر آمد بھی کرالوں گا اور سزا بھی دوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ہر ایک سے ان اشیا ء کے متعلق جو ان کے پا س تھیں دریافت کیا اور جب انھوں نے سچ بیان کر دیا تو ان تمام چیزوں کو ان سے واپس لے کر آپ نے ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی اور معاف فرمادیا
علمی مرکزیت
باوجود یہ کہ آپ کی عمر بہت مختصر ہوئی یعنی صرف اٹھائیس بر س مگر اس محدود اور مشکلات سے بھری ہوئی زندگی میں بھی آپ کے علمی فیوض کے دریا نے بڑے بڑے بلند پایہ علماء کو سیراب ہونے کا موقع دیا نیز زمانے کے فلاسفہ کا جو دہریت اور الحاد کی تبلیغ کر رہے تھے مقابلہ فرمایا جس میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ان میں ایک اسحٰق کندی کاواقعہ یہ ہے کہ یہ شخص قرآن مجید کی آیات کے باہمی تناقص کے متعلق ایک کتاب لکھ رہاتھا۔ یہ خبر امام حسن عسکری علیہ السّلام کو پہنچی اور آپ موقع کے منتظر ہو گئے۔اتفاق سے ایک روز ابو اسحٰق کے کچھ شاگرد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں کوئی اتنا سمجھدارآدمی نہیں جو اپنے استاد کندی کو اس فضول مشغلے سے روکے جو انھوں نے قرآن کے بارے میں شروع کر رکھا ہے , ان طلاّب نے کہا , حضور ! ہم تو ان کے شاگرد ہیں , ہم بھلا ان پر کیا اعتراض کرسکتے ہیں ؟ حضرت امام حسن عسکری علیہ السّلام نے فرمایا ! اتنا تو تم کرسکتے ہو جو کچھ باتیں میں تمھیں بتاؤں وہ تم ان کے سامنے پیش کردو , طلاب نے کہا !جی ہاں ہم اتنا کرسکتے ہیں۔ حضرت نے کچھ آیتیں قرآن کی جن کے متعلق باہمی اختلاف کا توّہم ہورہا تھا پیش فرما کر ان سے کہا کہ تم اپنے استاد سے اتنا پوچھو کہ کیا ان الفاظ کے بس یہی معنی ہیں جن کے لحاظ سے وہ تنا قص ثابت کررہے ہیں اور اگر کلام عرب کے شواہد سے دوسرے متعارف معنٰی نکل آئیں جن کے بنا پر الفاظ قرآن میں باہم کوئی اختلافات نہ رہے تو پھر انھیں کیا حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی خود ساختہ معنی کو متکلم قرآنی کی طرف منسوب کرکے تناقص واختلاف کی عمارت کھڑی کریں , اس ذیل میں آپ نے کچھ شواہد کلامِ عرب کے بھی ان طلاّب کے ذہن نشین کرائے۔ ذہین طلاّ ب نے وہ پوری بحث اور شواہد کے حوالے محفوظ کرلیے اور اپنے استاد کے پاس جا کر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد یہ سوالات پیش کر دیئے۔ بہرحال وہ آدمی منصف مزاج تھا اس نے طلاّ ب کی زبانی وہ سب کچھ سنا اور کہا کہ یہ باتیں تمہاری قابلیت سے بالا تر ہیں۔ سچ سچ بتانا کہ یہ باتیں تمھیں کس نے بتائی ہیں پہلے تو ان طالب علموں نے چھپانا چاہا اور کہا کہ یہ چیزیں خود ہمارے ذہن میں آئی ہیں مگر جب اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا تو انھوں نے بتایا کہ ہمیں ابو محمد, حسن عسکری علیہ السّلام نے یہ باتیں بتائی ہیں یہ سن کر اس نے کہا کہ سوائے اس گھرانے کے اور کہیں سے یہ معلومات حاصل ہی نہیں ہوسکتیں تھے۔پھر اس نے آگ منگوائی اور جو کچھ لکھا تھا ,نذر آتش کردیا ایسے کتنے ہی علمی اور دینی خدمات تھے جو خاموشی کے ساتھ حضرت (ع)انجام دےرہے تھے اور حکومت وقت جو اسلام کی پاسداری کی دعویدار تھی۔ اپنے عیش وطرب کے نشے میں مدہوش تھی یا پھر چونکتی تھی بھی تو ایسے مخلص حامی اسلام کو اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کرکے ان پر کچھ پابندیاں نافذ کردیتی تھی , مگر اس کوهِ گراں کے صبرو استقال میں فرق نہ آیا۔
ظالمانہ پابندیاں ختم، صدر مملکت کی ملت ایران کو مبارک باد
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ملت ایران کو مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کی مبارک باد پیش کی ہے۔
صدر مملکت نے گزشتہ رات ویانا میں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہونے کا باقاعدہ اعلان کیے جانے کے چند منٹ بعد اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان نتیجے پر پہنچ گیا، میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور ایران کی صابر اور عظیم قوم کو اس عظیم کامیابی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
صدر مملکت نے اس پیغام میں گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مشترکہ جامع ایکشن پلان تک پہنچنے کے لیے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے گزشتہ رات ایک مشترکہ بیان میں سولہ جنوری دو ہزار سولہ سے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کیا۔ جس کے ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو گئیں۔
بان کی مون اور اشٹائن مائر کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کا خیرمقدم
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کامیابی نے ظاہر کر دیا ہے کہ بہتر ہے بین الاقوامی تشویش کو سفارت کاری کے ذریعے صبر و شکیبائی کے ساتھ دور کیا جائے۔
نیویارک سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے یہ بیان آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کی جانب سے ایران کے اپنے ایٹمی وعدوں پر عمل کی تائید کے بعد جاری کیا۔
بان کی مون نے اس بیان میں امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کی کامیابی سے علاقے اور علاقے سے باہر کے امن و استحکام اور سلامتی کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ ہو گا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ قرارداد بائیس سو اکتیس سمیت سلامتی کونسل میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے بھی ایک بیان میں ایران اور بڑی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے کو ایک تاریخی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم حقیقی صورت میں تاریخی سفارتی کامیابی کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔
ایران پر عائد غیرمنصفانہ اور ظالمانہ پابندیاں ختم
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
ویانا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں کے درمیان چھے ماہ قبل تاریخی معاہدہ طے پانے کے بعد دونوں فریقوں نے سنجیدہ کوشش کر کے آخرکار چھے جنوری دو ہزار سولہ کو مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے اسباب فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس مشرکہ بیان کے مطابق چونکہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اس لیے سولہ جنوری بروز ہفتہ سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تحت ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق چند فریقی مالی اور اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں اور یورپی یونین اور گروپ پانچ جمع ایک کے ممالک کہ جن میں چین فرانس جرمنی روس برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں، مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تناظر میں ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اس بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو ہزار پندرہ میں منظور ہونے والی قرارداد بائیس سو اکتیس، ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے ہمراہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق واحد قانونی مرجع ہو گی اور دو ہزار چھے سے لے کر دو ہزار پندرہ کے درمیان پاس ہونے والی قراردادیں 1696، 1737، 1747، 1803، 1835، 1929 اور 2224 کالعدم قرار پائیں گی۔
محمد جواد ظریف اور فیڈریکا موگرینی کی جانب سے مشترکہ بیان پڑھنے سے پہلے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تائید کی کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق اپنی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں تمام وعدوں پر عمل کیا ہے۔ انھوں نے ویانا میں کہا کہ میں نے آج اس بات کی تائید میں کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد شروع کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات انجام دیے ہیں، جاری کر دی ہے اور یہ رپورٹ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے کر دی گئی ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کی ضرورت پر تاکید
پاکستان کے سینیئر سیاستداں شیخ رشید نے کہا ہے کہ توانائی کا کوئی بھی منصوبہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا اچھا متبادل نہیں بن سکتا۔
اسلام آباد میں فارس نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایل این جی اور مائع گیس کی درآمد سے ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ملک میں مائع گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ایران سے گیس درآمد کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ واشنگٹن اور ریاض کے خوف سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ترک نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ تاحال سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد میں پاکستان کے کردار کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر مذکورہ اتحاد دیگر ملکوں کے خلاف ہو تو اس میں شرکت سے گریز کیا جائے۔
مسجد براثا ؛ بغداد ۔ عراق

مسجد براثا، عراق کی قدیمی اور مشہور ترین مساجد میں سے ہے اور یہ مسجد بغداد کے محلہ کرخ اور کاظمین کے درمیان واقع ہے۔
براثا، بغداد کے مغرب میں اور کرخ کے جنوب میں واقع ایک محلہ ہے۔ اس محلہ کو اس لئے براثا کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک پادری ساکن تھا، جنگ نہروان سے واپسی پر امیرالمؤمنین (ع) کے اس جگہ پر پڑاؤڈالنے کے دوران امام (ع) کے توسط سے یہ پادری مسلمان ہوا ہے۔
حموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ:" براثا، ایک محلہ کا نام ہے جو بغداد کے اطراف میں واقع ہے، اور کرخ کے قبلہ کی طرف اور " باب محول" کے جنوب میں واقع ہے۔
مرحوم شہید ثانی نے اپنی کتاب " ذکری" میں لکھا ہے:" مساجد شریف میں سے ایک " براثا" ہے جو بغداد کے مغرب میں واقع ہے۔
علامہ مجلسی نے فرمایا ہے : یہ مسجد، جو اس وقت موجود ہے، تقریباً بغداد اور کاظمین کی سڑک کے درمیانی نقطہ پر واقع ہے۔
مسجد براثا کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی
موحوم سید بن طاووس، عبداللہ بن عمر سے نقل کی گئی ایک حدیث میں مسجد (براثا) کے مسمار ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص) سے یوں نقل کیا ہے:
" ایک رات کو منافقین نے مدینہ میں ایک مسجد کو مسمار کیا۔ یہ عمل رسول خدا (ص) کے صحابیوں کے لئے ناگوار اور سخت گزرا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" اس قدر ناراحت نہ ہونا، کیونکہ یہ مسجد تعمیر ہوگی ، لیکن جب مسجد (براثا) مسمار ہوگی، حج باطل ہوگا( یعنی لوگوں کو حج پر جانے سے منع کیا جائے گا)۔"
سوال کیا گیا یا رسول اللہ !" مسجد براثا کہاں ہے؟ آپ (ص) نے فرمایا: سرزمین عراق میں بغداد کے مغرب میں واقع ہے اور اس مسجد میں ستّر انبیاء (ع) اور اوصیاء (ع) نے نماز ادا کی ہے اور ان کا آخری شخص یہ مرد ہے اور امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا۔"
یہ واقعہ سنہ 312ھ میں رونما ہوا اسی سال حج پر جانا تعطیل ہوا اور سلیمان بن حسن (قرمطی) نے خروج کیا اور حجاج بیت اللہ کی راہ کو مسدود کیا اور انہیں قتل کر ڈالا اور حج کو تعطیل کیا اور بغداد میں ایک ایسی برف باری ہوئی کہ خرما کے درخت شدید سردی کی وجہ سے جل گئے اور سلیمان بن حسن بھی ہلاک ہوا۔
مسجد براثا، آل بویہ کے زمانہ میں ایک اجتماع گاہ اور عبادت کی جگہ تھی، اس مسجد کو معزالدولہ نے تعمیر نو کیا۔
چونکہ یہاں پر امام علی علیہ السلام نے ایک کنواں کھودا ہے، اس لئے اسے بئر علی یا سنگ علی بھی کہتے ہیں۔
اس کے بعد اس مسجد کو ترقی ملی ہے اور اس کے ارد گرد میں طلاب کے لئے حجرے بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔ اس مسجد میں سلجوقیوں کے زمانہ میں آگ لگ گئی اور سلطان اویس جلایری نے اس کی تعمیر نو کی اور شاہ اسماعیل نے سنہ 927ھ میں اس کی دوبارہ تعمیر نو کی۔ مسجد براثا کو قاجاری دور میں بیشتر رونق ملی۔
اس مسجد کے بارے میں بہت سی فضیلتیں بیان کی گئ ہیں، مثال کے طور پر اس مسجد میں امام علی (ع) امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) نے نماز پڑھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کے پاس موجود کنویں سے جو پانی ابلتا ہے، یہ وہی پانی ہے جو حضرت مریم کے وضع حمل کے دوران جاری ہوا تھا۔
اسی طرح جو سفید پتھر وہاں پر ہے، وہ بھی وہی پتھر ہے کہ حضرت عیسی (ع) اس پرمتولّد ہوئے ہیں۔
مسجد براثا، پوری تاریخ کے دوران عبادت اور اجتماعی فعالیتوں کا مرکز رہی ہے اور بعض مواقع پر بنی عباسی خلفاء کی طرف سے اس پر حملے کئے گئے ہیں اور اس مسجد کو بند کیا ہے۔
مسجد براثا، آج دجلہ (کرخ) کے مغرب میں ایک بارونق مسجد شمار ہوتی ہے اور اس میں ہر روز نماز جماعت قائم ہوتی ہے۔
صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں دسیوں فلسطینی زخمی
فلسطینی نوجوانوں نے عیساویہ دیہات میں صیہونی فوجیوں پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔
صیہونی فوجیوں نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں پر حملے کر کے دسیوں فلسطینیوں کو زخمی کر دیا ہے۔
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے بدھ کے دن مغربی کنارے میں واقع شہر بیت لحم پر حملہ کیا جس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوگئی۔ اس جھڑپ میں پچاس سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوگئے۔ صیہونی حکومت نے غزہ پٹی اور مقبوضہ فلسطین کے سرحدی علاقے پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات کر کے اسے فوجی علاقہ قرار دے دیا ہے۔
فلسطینی نوجوانوں نے بھی بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات صیہونی حکومت کے مظالم کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ قدس کے شمال مشرق میں واقع عیساویہ دیہات میں صیہونی فوجیوں پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔
مسجدالاقصی سے متعلق صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں میں اکتوبر سنہ دو ہزار پندرہ سے فلسطینیوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ صیہونی حکومت نے اس احتجاج کے دوران اب تک ایک سو ستاون فسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ صیہونی حکومت نے ہزاروں فلسطینیوں کو زخمی یا ان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایران اور پاکستان کے درمیان گوادر چابہار ریلوے لائن بچھانے پر اتفاق
اس بات کا اعلان ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر علی اوسط ہاشمی نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دورے سے واپسی پر ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر کی قیادت میں بائیس رکنی ایرانی وفد نے کوئٹہ میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیراعلی ثناءاللہ زہری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سرحدی تجارت، نئی شپنگ سروس شروع کرنے سے متعلق منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ علی اوسط ہاشمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ سرحدی سیکورٹی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار سے غیر قانونی آمد و رفت سمیت مختلف دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سیکورٹی اور متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے کے لئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات کی نگرانی کے لئے بارڈر کمیشن پہلے ہی تشکیل دیا جا چکا ہے۔ علی اوسط ہاشمی نے مزید کہا کہ ایران نے پاکستان کے مکران ڈویژن کو فراہم کی جانے والی بجلی میں تیس میگاواٹ تک اضافہ کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران اس وقت پاکستان کے مکران ڈویژن کو سات میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کے نیشنل گارڈ کے لئے ایران، ایک ہزار میگاواٹ بجلی الگ سے فراہم کرتا ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
