Super User
دشمن جب دشمنی کے ذریعے اپنے مقصد میں ناکام ہوتا ہے تو دوستی کے لباس میں آتا ہے
رپورٹ کے مطابق رہبرانقلاب اسلامی نے دشمن کی چالوں اور سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ دشمن جب دشمنی کے ذریعے اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ دوستی کے لباس میں نقصان پہنچاتا ہے.
آٹھ فروری انیس سو اناسی کو ایرانی فضائیہ کے حضرت امام خمینی( رح) سے تاریخی اعلان وفاداری کی سالگرہ کی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کے کمانڈروں اور کارکنوں نے پیر کو رہبرانقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی.
رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں دشمنوں کی چالوں اور سازشوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن مسکرا کے ملتا ہے لیکن ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے اس کا کیا مقصد چھپا ہوا ہے - آپ نے فرمایا کہ ہمارے سامنے دشمنی کا ایک محاذ اقتصادی، ثفافتی اور سماجی میدانوں سے متعلق محاذ ہے - انہوں نے فرمایا کہ دشمن سے غفلت کوئی فخر کی بات نہیں ہے اور دشمن جب دشمنی کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول میں ناکام ہو جاتا ہے تو دوستی کے لباس میں نقصان پہنچاتا ہے -
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایاکہ اگر ملک کے اقتصاد اور معیشت کو ہم اندر سے مستحکم بنائیں تو بے روزگاری ، کساد بازاری، اقتصادی جمود اور افراط زر کی شرح میں اضافے جیسی مشکلات ختم ہوجائیں گی - آپ نے فرمایا کہ مختلف پیداواری شعبوں میں ہمیں اپنی ملکی پیداوار کو بڑھانا ہوگا -
رہبرانقلاب اسلامی نے آئندہ چھبیس فروری کو ہونےوالے انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات ان تنصراللہ ینصرکم کے مصداق ہیں آپ نے ایرانی عوام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ اسلامی جمہوری نظام کی مدد کریں گے تو اللہ بھی آپ کی مدد کرے گا.
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک دنیا کی بڑی مادی طاقتیں انقلاب کے مقابلے میں صف آرا رہی ہیں لیکن وہ اسلامی انقلاب کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں - رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جب انتخابات عوامی ہو جاتے ہیں اور اس میں عوام کے تمام طبقات شرکت کرتے ہیں تو ملک اور اسلامی جمہوری نظام کو عزت و سربلندی عطا ہوتی ہے اور ملک و نظام محفوظ ہو جاتا ہے - آپ نے فرمایا کہ اسی لئے انتخابات میں شرکت کرنا سب کا فریضہ ہو جاتا ہے اور سب کو انتخابات میں شرکت کرنی چاہئے.
انٹیلی جنس ایجنسیاں نو مسلموں کو اپنا جاسوس بنانے کی کوشش میں
برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیاں نو مسلموں کو اپنا جاسوس بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بات برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں انجام دی جانے والی ایک تحقیق کے دوران سامنے آئی۔ اس تحقیق میں پچاس نو مسلم برطانوی شہریوں نے حصہ لیا اور محققین کے سوالوں کے جوابات دینے کے علاوہ اپنے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔ اس تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ نومسلموں کو استعمال کرنا آسان ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی برادری سے الگ تھلگ ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاسوسی اداروں کے ایجنٹ یا تو ان مسلمانوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی ظاہر کرتے ہیں یا پھر انہیں ڈرا دھمکا کر تعاون کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جاسوسی اداروں کے ساتھ تعاون کا دائرہ نومسلموں تک محدود نہیں ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے اسلامک اسٹڈیز شعبے کے سربراہ پروفیسر یاسر سلیمان نے کہا ہے کہ نو مسلموں کو معاشرے اور دیگر برطانوی نژاد شہریوں سے الگ تھلگ کرنے کی فکر، میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ فکر پھیلائی جا رہی ہے کہ جو لوگ اسلام اختیار کرتے ہیں وہ شدت پسند اور انتہا پسند ہیں، چاہے وہ انتہا پسند فکر رکھتے ہوں یا نہیں۔
انتفاضہ قدس کے دوران ایک دسیوں فلسطینی خواتین گرفتار
فلسطینی قیدیوں کے امور سے متعلق کمیٹی نے کہا ہے کہ انتفاضہ قدس کے آغاز سے اب تک دسیوں فلسطینی خواتین کو صیہونی فوجیوں نے گرفتار کر لیا ہے۔
فلسطین کے انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے امور سے متعلق کمیٹی میں تحقیقاتی شعبے کے سربراہ عبدالناصر فروانہ نے کہا کہ صیہونی فوجیوں نے سنہ دو ہزار پندرہ کے اکتوبر کے مہینے میں اڑتیس، نومبر کے مہینے میں انتیس ، دسمبر کے مہینے میں پچیس اور رواں برس جنوری کے مہینے میں آٹھ فلسطینی خواتین کو گرفتار کیا ہے۔ عبدالناصر فروانہ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے، کہ انتفاضہ قدس کے دوران صیہونی فوجیوں نے فلسطینی خواتین پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، کہا صیہونی فوجیوں نے بارہا فلسطین کی کمسن لڑکیوں پر فائرنگ کر کے ان کو زخمی کیا اور پھر انہیں زد و کوب کے بعد ہشارون اور دامون جیلوں میں قید کر دیا۔
اس وقت پچپن فلسطینی خواتین صیہونی دشمن کی جیلوں میں قید ہیں جن میں سب سے کمسن کریمان سویدان ہے جس کی عمر چودہ برس ہے اور سب سے قدیم ترین قیدی خاتون لینا جربونی ہے۔ صیہونیوں نے اس فلسطینی خاتون کو اپریل سنہ دو ہزار دو میں گرفتار کیا تھا۔
صیہونی فوجیوں نے یکم اکتوبر سنہ دو ہزار پندرہ میں انتفاضہ قدس شروع ہونے کے بعد سے اب تک تین ہزار آٹھ سو سینتالیس فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ صیہونی حکومت کی جیلوں میں اس وقت سات ہزار سے زیادہ فلسطینی قید ہیں۔
شہید کھلاڑیوں کی کانفرنس کے منتظمین سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
رہبر انقلاب اسلام نے تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ دین اور انقلاب کی راہ میں اپنی جان فدا کرنا کسی خاص طبقے سے مخصوص نہیں ہے اور اس عظیم اور معنوی رقابت میں تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل کے روز شہید کھلاڑیوں کی کانفرنس کے منتظمین سے اپنے خطاب میں شہید کھلاڑیوں کی قدردانی کے لئے سیمینار کے انعقاد کو انقلابی جذبے کی تقویت اور اعلی انقلابی فکر کی بلندی قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ جوان کھلاڑی، فطری طور پر خاص جوانوں کے لئے ایک نمونہ ہوتا ہے جس کا اخلاق و کردار اور طریقہ زندگی، بہت زیادہ متاثر کرتا ہے کہ جس سے سماج کی دین، اخلاق اور معنویت کی جانب ترغیب بھی ہوتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے لفظ پہلوان کو قومی و مقامی ادبیات میں امتیاز کا حامل ایک لقب قرار دیا اور کھیل کے میدان میں بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی قدردانی کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ فتح کے بعد قومی ترانہ پڑھے جانے اور قومی پرچم اوپر لے جائے جانے سے بھی زیادہ قابل فخر، اس کھلاڑی کا اقدام ہے جو صیہونی حریف سے کشتی لڑنے سے انکار کر دیتا ہے یا وہ خاتون کھلاڑی ہے جو مکمل اسلامی پردے میں فتح کے اسٹیج پر حاضر ہوتی ہے۔ آپ نے اس طرح کے اخلاق و عمل کو میدان جنگ میں جانے اور ایرانی مسلمان کے مستحکم جذبے کا مظہر قرار دیا اور فرمایا کہ یہ اقدام، ایک قوم کے تشخص، بھرپور استقامت اور آہنی عز م و ارادے کی نشاندہی کرتا ہے جو وہم اور اس قسم کے احساسات کے مقابلے میں کبھی شکست نہیں کھاتا اور مغلوب نہیں ہوتا۔ آپ نے فرمایا کہ اس طرح سے کام کئے جانے کی ضرورت ہے کہ کھیل کا ماحول، اس طرح کے عمل کا حامل بنے۔ آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایسے کھلاڑیوں کی قدردانی کرتے ہوئے جو جیتنے پر اعلانیہ طور پر اخلاقی اقدار کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، فرمایا کہ ایک ضروری اقدام، ایسے کھلاڑیوں کی قدردانی کرنا ہے جو خدا کا نام لیتے ہیں اور فتح حاصل کرنے پر خدا کا سجدہ ادا کرتے ہیں۔ آپ نے اس طرح کے عمل کو اسلامی ایران کے تشخص و وقار کا مظہر قرار دیا اور اس طرح کے عمل کی تقویت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے عمل سے کھیل کا ماحول اور زیادہ شفاف اور پاکیزہ بنے گا۔ قابل ذکر ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شہید کھلاڑیوں کی کانفرنس کے منتظمین سے گیارہ جنوری کو خطاب فرمایا تھا اور آپ کی اس تقریر کو منگل کے روز آزادی اسٹیڈیم میں اسی مناسبت سے منعقدہ سیمینار میں سنوایا گیا۔
امام جعفر صادق علیه السلام کی چالیس منتخب حديثیں

بسم الله الرحمن الرحیم
1. قالَ الامامُ جَعْفَرُ بنُ محمّد الصّادقُ عليه السلام: حَديثي حَديثُ ابى وَ حَديثُ ابى حَديثُ جَدى وَ حَديثُ جَدّى حَديثُ الْحُسَيْنِ وَ حَديثُ الْحُسَيْنِ حَديثُ الْحَسَنِ وَ حَديثُ الْحَسَنِ حَديثُ اميرِالْمُؤْمِنينَ وَ حَديثُ اميرَ الْمُؤْمِنينَ حَديثُ رَسُولِ اللّهِ صلّى اللّه عليه و اله و سلّم وَ حَديثُ رَسُولِ اللّهِ قَوْلُ اللّهِ عَزَّ وَ جَلّ.َ[1]
ترجمہ:
میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے دادا کی حدیث امام حسین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسین علیہ السلام کی حدیث امام حسن علیہ السلام کی حدیث ہے اور امام حسن علیہ السلام کی حدیث امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حدیث ہے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث قول اللہ عز و جلّ ہے
2. قالَ عليه السلام: مَنْ حَفِظَ مِنْ شيعَتِنا ارْبَعينَ حَديثا بَعَثَهُ اللّهُ يَوْمَ الْقيامَةِ عالِما فَقيها وَلَمْ يُعَذِّبْهُ.[2]
ترجمہ:
ہمارے شیعیان میں سے جو کوئی چالیس حدیثیں حفظ کرے خداوند متعال قیامت کے روز اس کو عالم اور فقیہ مبعوث فرمائے گااور اس کو عذاب میں مبتلانہیں کرے گا.
3. قالَ عليه السلام: قَضاءُ حاجَةِ الْمُؤْمِنِ افْضَلُ مِنْ الْفِ حَجَّةٍ مُتَقَبَّلةٍ بِمَناسِكِها وَ عِتْقِ الْفِ رَقَبَةٍ لِوَجْهِ اللّهِ وَ حِمْلانِ الْفِ فَرَسٍ فى سَبيلِ اللّهِ بِسَرْجِها وَ لَحْمِها.[3]
ترجمہ:
مؤمن کے حوائج اور ضروریات برلانا ایک ہزار مقبول حجوں، اور ہزار غلاموں کی ازادی اور ایک ہزار گھوڑے راہ خدامیں روانہ کرنے سے برتر و بالاتر ہے۔
4. قالَ عليه السلام: اوَّلُ مايُحاسَبُ بِهِ الْعَبْدُالصَّلاةُ، فَانْ قُبِلَتْ قُبِلَ سائِرُ عَمَلِهِ وَ اذارُدَّتْ، رُدَّ عَلَيْهِ سائِرُ عَمَلِهِ.[4]
ترجمہ:
خدا کی بارگاہ میں سب سے پہلے نماز کا احتساب ہوگا پس اگر انسان کی نماز قبول ہو اس کے دیگر اعمال بھی قبول ہونگے اور اگر نماز رد ہو جائے تو دیگر اعمال بھی رد ہونگے.
5. قالَ عليه السلام: اذا فَشَتْ ارْبَعَةٌ ظَهَرَتْ ارْبَعَةٌ: اذا فَشاالزِّناكَثُرَتِ الزَّلازِلُ وَ اذاامْسِكَتِ الزَّكاةُ هَلَكَتِ الْماشِيَةُ وَ اذاجارَ الْحُكّامُ فِى الْقَضاءِ امْسِكَ الْمَطَرُ مِنَ السَّماءِ وَ اذا ظَفَرَتِ الذِّمَةُ نُصِرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْمُسْلِمينَ.[5]
ترجمہ:
جس معاشرے میں چار چیزیں عام اور اعلانیہ ہوجائیں چار مصیبتیں اور بلائیں اس معاشرے کو گھیر لیتی ہیں:
زنا عام ہوجائے، زلزلہ اور ناگہانی موت فراوان ہوگی.
زکواة اور خمس دینے سے امتناع کیاجائے، اہلی حیوانات تلف ہونگے.
حکام اور قضات ستم اور بے انصافی کی راہ اپنائیں، خدا کی رحمت کی بارشیں برسنا بند ہونگی.
اور ذمی کفار کو تقویت ملے تو مشرکین مسلمانوں پر غلبہ پائیں گے.
6. قالَ عليه السلام: مَنْ عابَ اخاهُ بِعَيْبٍ فَهُوَ مِنْ اهْلِ النّارِ.[6]
ترجمہ:
جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا.
7. قالَ عليه السلام: الصَّمْتُ كَنْزٌ وافِرٌ وَ زَيْنُ الْحِلْمِ وَ سَتْرُالْجاهِلِ.[7]
ترجمہ:
خاموشی ایک بیش بہاء خزانے کی مانند حلم اور بردباری کی زینت اور نادان شخص کے جہل و نادانی چھپانے کاوسیلہ ہے.
8. قالَ عليه السلام: إصْحَبْ مَنْ تَتَزَيَّنُ بِهِ وَ لاتَصْحَبْ مَنْ يَتَزَّيَنُ لَكَ.[8]
ترجمہ:
ایسے شخص کے ساتھ دوستی اور مصاحبت کرو جو تمہاری عزت اور سربلندی کا باعث ہو اور ایسے شخص سے دوستی اور مصاحبت نہ کرو جو اپنے اپ کو تمہارے لئے نیک ظاہر کرتاہے اور تم سے استفادہ کرنا چاہتا ہے.
9. قالَ عليه السلام: كَمالُ الْمُؤْمِنِ فى ثَلاثِ خِصالٍ: الْفِقْهُ فى دينِهِ وَ الصَّبْرُ عَلَى النّائِبَةِ وَالتَّقْديرُ فِى الْمَعيشَةِ.[9]
ترجمہ:
مؤمن کا کمال تین خصلتوں میں ہے: دین کے مسائل و احکام سے اگاہی، سختیوں اور مشکلات میں صبر و بردباری، اور زندگی کے معاملات میں منصوبہ بندی اور حساب و کتاب کی پابندی.
10. قالَ عليه السلام: عَلَيْكُمْ بِاتْيانِ الْمَساجِدِ، فَانَّها بُيُوتُ اللّهِ فِى الارْضِ، و مَنْ اتاها مُتَطِّهِراً طَهَّرَهُ اللّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ وَ كَتَبَه مِنْ زُوّارِهِ.[10]
ترجمہ:
تمہیں مساجد میں جانے کی سفارش کرتا ہوں کیوں مساجد روئے زمین پر خدا کے گھر ہیں اور جو شخص پاک و طاہر ہوکر مسجد میں وارد ہوگا خداوند متعال اس کو گناہوں سے پاک کردے گا اور اس کو اپنے زائرین کے زمرے میں قرار دے گا.
11. قالَ عليه السلام: مَن قالَ بَعْدَ صَلوةِالصُّبْحِ قَبْلَ انْ يَتَكَلَّمَ: ((بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ وَ لاحَوْلَ وَ لا قُوَّةَ الا بِاللّهِ الْعَلىٍّّ الْعَظيمِ)) يُعيدُهاسَبْعَ مَرّاتٍ، دَفَعَ اللّهُ عَنْهُ سَبْعينَ نَوْعاً مِنْ انْواعِ الْبَلاءِ، اهْوَنُهَا الْجُذامُ وَ الْبَرَصُ.[11]
ترجمہ:
جو شخص نماز فجر کے بعد کوئی بھی بات کئے بغیر 7 مرتبه «بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، لاحول و لاقوّة الاباللّه العليّ العظيم » کی تلاوت کرے گا خداوند متعال ستر قسم کی آفتیں اور بلائیں اس سے دور فرمائے گا جن میں سب سے ساده اور کمترین آفت برص اور جذام ہے.
12. قالَ عليه السلام: مَنْ تَوَضَّأ وَ تَمَنْدَلَ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَ مَنْ تَوَضَّأ وَ لَمْ يَتَمَنْدَلْ حَتّى يَجُفَّ وُضُوئُهُ، كُتِبَ لَهُ ثَلاثُونَ حَسَنَةً.[12]
ترجمہ:
جو شخص وضو کرے اور اسے تولئے کے ذریعے خشک کردے اس کے لئے صرف ایک حسنه ہے اور اگر خشک نه کرے اس کے لئے 30 حسنات ہونگے
13. قالَ عليه السلام: لَاِفْطارُكَ فى مَنْزِلِ اخيكَ افْضَلُ مِنْ صِيامِكَ سَبْعينَ ضِعْفا.[13]
ترجمہ:
اگر روزے کاافطار اپنے مؤمن کے منزل میں کروگے اس کاثواب روزے کے ثواب سے ستر گنازیاده ہوگا.
14. قالَ عليه السلام: اذا افْطَرَ الرَّجُلُ عَلَى الْماءِ الْفاتِرِ نَقى كَبِدُهُ وَ غَسَلَ الذُّنُوبَ مِنَ الْقَلْبِ وَ قَوىَّ الْبَصَرَ وَالْحَدَقَ.[14]
ترجمہ:
اگر انسان ابلے ہوئے پانی سے افطار کرے اس کاجگر پاک او سالم رہے گااور اس کاقلب کدورتوں سے پاک هوگا اور اس کی آنکھوں کا نور بڑھے گا اور انکھیں روشن ہونگی.
15. قالَ عليه السلام: مَنْ قَرَءَ الْقُرْانَ فِى الْمُصْحَفِ مُتِّعَ بِبَصَرِهِ وَ خُنِّفَ عَلى والِدَيْهِ وَ انْ كانا كافِرَيْنِ.[15]
ترجمہ:
جو شخص قران مجید کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کرے گا اس کی انکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوگا؛ نیز اس کے والدین کے گناہوں کابوجھ ہلکا ہوگا خواه وه کافر ہی کیوں نہ ہوں.
16. قالَ عليه السلام: مَنْ قَرَءَ قُلْ هُوَاللّهُ احَدٌ مَرَّةً واحِدَةً فَكَانَّما قَرَءَ ثُلْثَ الْقُرانِ وَ ثُلْثَ التُّوراةِ وَ ثُلْثَ الانْجيلِ وَ ثُلْثَ الزَّبُورِ.[16]
ترجمہ:
جو شخص ایک مرتبہ سورہ توحید (قل هو الله احد ...) کی تلاوت کرے وه اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک تہائی قران اور تورات اور انجیل کی تلاوت کی ہو.
17. قالَ عليه السلام: انَّ لِكُلِّ ثَمَرَةٍ سَمّا، فَاذا أَتَيْتُمْ بِها فامسُّوهَ الْماء وَاغْمِسُوهافِى الْماءِ.[17]
ترجمہ:
ہر قسم کاپهل اپنے خاص قسم کے زہر اور جراثیموں سے الوده ہے ہر وقت پهل کهاناچاہو پہلے پانی مین بهگو کر دہو لو.
18. قالَ عليه السلام: عَلَيْكُمْ بِالشَّلْجَمِ، فَكُلُوهُ وَاديمُوااكْلَهُ وَاكْتُمُوهُ الاعَنْ اهْلِهِ، فَمامِنْ احَدٍ الاوَ بِهِ عِرْقٌ مِنَ الْجُذامِ، فَاذيبُوهُ بِاكْلِهِ.[18]
ترجمہ:
شلجم کو اہميّت دو اور مسلسل کهاتے رہو اور اہل انسانوں کے سوادوسروں سے چهپائے رکھو؛ اور ہر شخص میں جذام کی رگ موجود ہے پس شلجم کهاکر اس کاخاتمہ کردو.
19. قالَ عليه السلام: يُسْتَجابُ الدُّعاءُ فى ارْبَعَةِ مَواطِنَ: فِى الْوِتْرِ وَ بَعْدَ الْفَجْرِ وَ بَعْدَالظُّهْرِ وَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ.[19]
ترجمہ:
چار اوقات میں دعامستجاب ہوتی ہے: نماز وتر کے وقت (تہجد میں)، نماز فجر کے بعد، نماز ظہر کے بعد، نماز مغرب کے بعد.
20. قالَ عليه السلام: مَنْ دَعالِعَشْرَةٍ مِنْ اخْوانِهِ الْمَوْتى لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ اوْجَبَ اللّهُ لَهُ الْجَنَّةَ.[20]
ترجمہ:
جو شخص شب جمعہ دنیاسے رخصت ہونے والے 10 مؤمن بهائیوں کے لئے مغفرت کی دعاکرے خداوند متعال اس کو اہل بہشت میں سے قرار دے گا.
21. قالَ عليه السلام: مِشْطُ الرَّاسِ يَذْهَبُ بِالْوَباءِ وَ مِشْطُ اللِّحْيَةِ يُشَدِّدُ الاضْراسَ.[21]
ترجمہ:
سر کے بالوں کو کنگهی کرناوباکی نابودی کاسبب ہے، بالوں کو گرنے سے بچاتاہے اور داڑھی کو کنگھی کرنے سے دانتوں کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں.
22. قالَ عليه السلام ايُّمامُؤْمِنٍ سَئَلَ اخاهُ الْمُؤْمِنَ حاجَةً وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلى قَض ائِهافَرَدَّهُ عَنْها، سَلَّطَ اللّهُ عَلَيْهِ شُجاعافى قَبْرِهِ، يَنْهَشُ مِنْ اصابِعِهِ.[22]
ترجمہ:
اگر کوئی مؤمن اپنے مؤمن بهائی سے حاجت طلب کرے اور وه حاجب براری کی توانائی رکھنے کے باوجود منع کرے، خداوند متعال قبر میں اس پر ایک افعی (بالشتیاسانپ) مسلط فرمائے گاجو اس کو هر وقت ازار پهنچاتارہے گا.
23. قالَ عليه السلام: وَلَدٌ واحِدٌ يَقْدِمُهُ الرَّجُلُ، افْضَلُ مِنْ سَبْعينَ يَبْقُونَ بَعْدَهُ، شاكينَ فِى السِّلاحِ مَعَ الْقائِمِ (عَجَّلَ اللّهُ تَعالى فَرَجَهُ الشَّريف.[23]
ترجمہ:
اگر انسان اپنی زندگی میں ہی اپنے ایک فرزند کو عالم اخرت میں بھیج دے، یہ اس سے بہت بہتر ہے که اس کے کئی فرزند اس کے بعد زمانے کے امام کے ہمراه دشمنان امام علیه السلام کے خلاف لڑیں.
24. قالَ عليه السلام: اذ ابَلَغَكَ عَنْ اخيكَ شَيْى ءٌ فَقالَ لَمْ اقُلْهُ فَاقْبَلْ مِنْهُ، فَانَّ ذلِكَ تَوْبَةٌ لَهُ. وَ قالَ عليه السلام: اذ ابَلَغَكَ عَنْ اخيكَ شَيْى ءٌ وَ شَهِدَ ارْبَعُونَ انَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْهُ فَقالَ: لَمْ اقُلْهُ، فَاقْبَلْ مِنْهُ.[24]
ترجمہ:
اگر کبھی تم نے سناکه تمہارے بهائی یادوست نے تمہارے خلاف کچھ بولاہے مگر اس (دوست یابهائی) نے اس کی تردید کی تو تم قبول کرو. اگر تم نے اپنے بهائی سے اپنے خلاف کچھ سنااور 40 ادمیوں نے گواہی بھی دی کہ اس نی وہ بات کی ہے مگر تمہارابهائی اس کی تردید کرے تو اپنے بهائی کی بات قبول کرو.
25. قالَ عليه السلام: لايَكْمُلُ ايمانُ الْعَبْدِ حَتّى تَكُونَ فيهِ ارْبَعُ خِصالٍ: يَحْسُنُ خُلْقُهُ وَسَيْتَخِفُّ نَفْسَهُ وَيُمْسِكُ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ وَيُخْرِجَ الْفَضْلَ مِنْ مالِهِ.[25]
ترجمہ:
انسان کاایمان چار خصلتیں اپنانے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا: خوش اخلاق ہو، اپنے نفس کو ہلکااور بے وقعت سمجهتاہو، اپنی بات اور زبان کو قابو میں رکھتاہو؛ اور اپنی ثروت و دولت میں سے حقوق اللہ اور حقوق الناس اداکرتاہو.
26. قالَ عليه السلام: داوُوامَرْضاكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَادْفَعُواابْوابَ الْبَلايا بِالاسْتِغْفارِ.[26]
ترجمہ:
مریضوں کاعلاج صدقہ دے کر کرو اور استغفار اور توبہ کے ذریغے مشکلات اور بلاؤن (ازمایشوں) کو دفع کرو.
27. قالَ عليه السلام: انَّ اللّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الصَّلَواتِ الْخَمْسِ فى افْضَلِ السّاعاتِ، فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعاءِ فى ادْبارِ الصَّلَواتِ.[27]
ترجمہ:
خداوند متعال نے پانچ نمازیں بہترین اوقات میں تم پر فرض کیں پس اپنی حاجات ہرنماز کے بعد خداکی بارگاہ بیان کیاکرو اور ان کی براری کی دعاکیاکرو.
28. قالَ عليه السلام: كُلُوامايَقَعُ مِنَ الْمائِدَةِ فِى الْحَضَرِ، فَانَّ فيهِ شِفاءٌ مِنْ كُلِّ داءٍ وَلاتَاكُلُوامايَقَعُ مِنْهافِى الصَّحارى.[28]
ترجمہ:
کهانے کے دوران جو کچھ دسترخوان کے ارد گرد گرتاہے اٹھاکر کهایاکرو کہ ان میں اندرونی بیماریوں کی شفاہے لیکن اگر تم دشت و صحرامیں کهاناکهاؤ تو جو کچھ گرتاہے اس کو مت اٹھاؤ (تاکہ جانور اس سے استفادہ کریں).
29. قالَ عليه السلام: ارْبَعَةٌ مِنْ اخْلاقِ الانْبياء: الْبِرُّ وَالسَّخاءُ وَالصَّبْرُ عَلَى النّائِبَةِ وَالْقِيامُ بِحَقِّ الْمُؤمِنِ.[29]
ترجمہ:
چار چيزیں انبیاء الهی کی پسندیده اخلاقیات میں سے ہیں: نيكى، سخاوت، مصائب و مشكلات میں صبر و بردباری، مؤمنین کے درمیان حق و عدل قائم کرنا.
30. قالَ عليه السلام: امْتَحِنُواشيعتَناعِنْدَ ثَلاثٍ: عِنْدَ مَواقيتِ الصَّلاةِ كَيْفَ مُحافَظَتُهُمْ عَلَيْها وَ عِنْدَ اسْرارِهِمْ كَيْفَ حِفْظُهُمْ لَهاعِنْدَ عَدُوِّنا وَ الى امْوالِهِمْ كَيْفَ مُواساتھمْ لاخْوانِهِمْ فيها.[30]
ترجمہ:
ہمارے شیعوں کو تین چیزوں میں ازماؤ:
1 – نماز کے وقت، کہ وہ نماز کی کس طرح رعایت کرتے ہیں؟
2 – ایک دوسرے کے رازوں کو کس طرح چهپاتے یافاش کرتے ہیں؟
3 – اپنے اموال اور دولت سے کس طرح دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کو کس طرح اداکرتے ہیں.
31. قالَ عليه السلام: مَنْ مَلَكَ نَفْسَهُ اذارَغِبَ وَ اذارَهِبَ وَ اذَااشْتَهى، واذاغَضِبَ وَ اذارَضِىَ، حَرَّمَ اللّهُ جَسَدَهُ عَلَى النّار.ِ[31]
ترجمہ:
جو شخص رفاه اور وسع کی حالت میں، دشواری او تنگدستی کے دوران، اشتہااور ارزو کے وقت اور غیظ و غضب کے دوران اپنے نفس کامالک ہو (اور اس کو قابو میں رکھ لے)؛ خداوند متعال اگ کو اس کے جسم پر حرام کردیتاہے.
32. قالَ عليه السلام: انَّ النَّهارَ اذاجاءَ قالَ: يَابْنَ ادَم، اعْجِلْ فى يَوْمِكَ هذاخَيْرا، اشْهَدُ لَكَ بِهِ عِنْدَ رَبِّكَ يَوْمَ الْقيامَةِ، فَانّى لَمْ اتِكَ فيمامَضى وَلااتيكَ فيمابَقِىَ، فَاذاجاءَاللَّيْلُ قالَ مِثْلُ ذلِكَ.[32]
ترجمہ:
جب دن چڑھ جائے کہتاہے: اے فرزند ادم نیکی کے کاموں میں جلدی کرو کیونکہ میں قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں شہادت دوں گااور جان لو کہ میں اس سے قبل تمہارے اختیار میں نہیں تهااور اس کے بعد بھی تمہارے پاس نہیں رہوں گا. اسی طرح جب رات چھاجاتی ہے وہ بھی اسی طرح کاتقاضاکرتی ہے.
33. قالَ عليه السلام: يَنْبَغى لِلْمُؤْمِنِ انْ يَكُونَ فيهِ ثَمان خِصال:
وَقُورٌ عِنْدَ الْهَزاهِزِ، صَبُورٌ عِنْدَ الْبَلاءِ، شَكُورٌ عِنْدَ الرَّخاءِ، قانِعٌ بِمارَزَقَهُ اللّهُ، لايَظْلِمُ الاعْداءَ وَ لايَتَحامَلُ لِلاصْدِقاءِ، بَدَنُهُ مِنْهُ فى تَعِبٌ وَ النّاسُ مِنْهُ فى راحَةٍ.[33]
ترجمہ:
ضروری ہے کہ مؤمن اٹھ خصلتوں کاحامل ہو:
فتنوں اور اشوب میں باوقار و پرسکون، ازمائشوں اور بلایامیں بردبار و صبور، رفاہ و تونگری میں شکرگزار اور خداکی طرف سے مقرر کردہ رزق و روزی پر قناعت کرنے والاہو.
اپنے دشمنوں پر ظلم و ستم روانہ رکھے، دوستوں پر اپنی بات مسلط نہ کرے، اس کااپنابدن اس کے اپنے ہاتھوں تھکاماندہ ہو اور دوسرے اس کی وجہ سے ارام و اسائش میں ہوں.
34. قالَ عليه السلام: من ماتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عارِفابِحَقِّناعُتِقَ مِنَ النّارِ وَ كُتِبَ لَهُ بَرائَةٌ مِنْ عَذابِ الْقَبْرِ.[34]
ترجمہ:
جو شخص روز جمعہ انتقال کرکے دنیاسے رخصت ہوجائے اور ہم اہل بیت عصمت و طہارت کے حقوق کی معرفت رکھتاہو جہنم کی کڑکڑاتی اگ سے امان میں ہوگا.
35. قالَ عليه السلام: انَّ الرَّجُلَ يَذْنِبُ الذَّنْبَ فَيَحْرُمُ صَلاةَاللَّيْلِ، انَّ الْعَمَلَ السَّيِّى ءَ اسْرَعُ فى صاحِبِهِ مِنَ السِّكينِ فِى اللَّحْمِ.[35]
ترجمہ:
کتنے زیادہ ہیں وہ لوگ جو ارتکاب گناہ کی بناپر نماز شب سے محروم ہوجاتے ہیں! بے شک انسان کی روح و نفس میں گناہ کااثر گوشت میں چاقو کے اثر سے زیادہ تیزرفتار اور سریع ہے.
36. قالَ عليه السلام: لاتَتَخَلَّلُوابِعُودِالرَّيْحانِ وَلابِقَضيْبِ الرُّمانِ، فَانَّهُمايُهَيِّجانِ عِرْقَ الْجُذامِ.[36]
ترجمہ:
ریحان اور انار کی لکڑی سے دانتوں کاخلال مت کیاکرو کیونکہ یہ دو لکڑیاں جذام اور برص کی بیماریوں کے عوامل کو حرکت میں لاتی ہیں.
37. قالَ عليه السلام: تَقْليمُ الاظْفارِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُؤ مِنُ مِنَ الْجُذامِ وَالْبَرَصِ وَالْعَمى وَ انْ لَمْ تَحْتَجْ فَحَكِّهاحَكّا. وَ قالَ عليه السلام: اخْذُ الشّارِبِ مِنَ الْجُمُعَةِ الَى الْجُمُعَةِ امانٌ مِنَ الْجُذامِ.[37]
ترجمہ:
جمعہ کے روز ناخن کاٹناجذام، برص، بصارت کی کمزوری سے سلامتی کاباعث ہے، اگر ناخن کاٹناممکن نہ ہو تو ان کے سروں کو تراش لیاکرو. اور ہر جمعے کو مونچھ چھوٹی کرناجذام اور برص سے نجات کاباعث ہے.
38. قالَ عليه السلام: اذااوَيْتَ الى فِراشِكَ فَانْظُرْ ماسَلَكْتَ فى بَطْنِكَ وَ ماكَسَبْتَ فى يَوْمِكَ وَاذْكُرْ انَّكَ مَيِّتٌ وَ انَّ لَكَ مَعادا.[38]
ترجمہ:
جب تم بستر میں داخل ہوتے ہو دیکھو کہ اس روز کیاکھایااور کیاپیاہے اور جو کچھ کھایااور پیاہے وہ کہاں سے ایاہے، اور اس روز تم نے کونسی چیزیں کن راستوں سے حاصل کی ہیں. اور ہر حال میں توجہ کرو کہ موت تم کو اٹھالے جائے گی اور اس کے بعد صحرائے محشر میں اپنے کردار اور گفتار کاحساب دوگے.
39. قالَ عليه السلام: انَّ لِلّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اثْنَيْ عَشَرَ الْفَ عالَم، كُلُّ عالَمٍ مِنْهُمْ اكْبَرُ مِنْ سَبْعِ سَمواتٍ وَ سَبْعِ ارَضينَ، مايُرى عالَمٌ مِنْهُمْ انّ لِلّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عالَماغَيْرُهُمْ وَ انَاالْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ.[39]
ترجمہ:
بے شک خداوند متعال نے 12 ہزار عالم خلق فرمائے ہیں جن میں سے ہر عالم 7 اسمانوں اور7 زمینوں سے کہیں زیادہ بڑاہے اور میں اور دیگر ائمہ (سلف و خلف) ان تمام جہانوں پر خداکی حجتیں اور راہنماہیں.
40. قالَ عليه السلام: حَديثٌ فى حَلالٍ وَ حَرامٍ تَاخُذُهُ مِنْ صادِقٍ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْياوَ مافيهامِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ.[40]
ترجمہ:
حلال و حرام کی وہ بات جو تم ایک سچ بولنے والے مؤمن سے وصول کرتے ہو، پوری دنیا اور اس کی ثروتوں سے برتر و بالاتر ہے.
حوآلہ جات:
[1] - جامع الاحاديث الشيعه : ج 1 ص 127 ح 102، بحارالا نوار: ج 2، ص 178، ح 28.
[2] - اءمالى الصدوق : ص 253.
[3] - أمالی الصدوق : ص 197.
[4] - وسائل الشيعه : ج 4 ص 34 ح 4442.
[5] - وسائل الشيعة : ج 8 ص 13.
[6] - اختصاص : ص 240، بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58.
[7] - مستدرك الوسائل : ج 9 ص 16 ح 4.
[8] - وسائل الشيعه : ج 11 ص 412.
[9] - أمالی طوسى : ج 2 ص 279.
[10] - وسائل الشيعة : ج 1 ص 380 ح 2.
[11] - امالى طوسى : ج 2 ص 343.
[12] - وسائل الشيعة : ج 1 ص 474 ح 5.
[13] - من لايَحضره الفقيه : ج 2 ص 51 ح 13.
[14] - وسائل الشيعه : ج 10 ص 157 ح 3.
[15] - وسائل الشيعه : ج 6 ص 204 ح 1.
[16] - وسائل الشيعه : ج 25 ص 147 ح 2.
[17] - وسائل الشيعه : ج 25 ص 208 ح 4.
[18] - جامع احاديث الشيعة : ج 5 ص 358 ح 12.
[19] - جامع احاديث الشيعة : ج 6 ص 178 ح 78.
[20] - وسائل الشيعة : ج 2 ص 124 ح 1.
[21] - أمالی طوسى : ج 2، ص 278، س 9، وسائل الشيعة : ج 16، ص 360، ح 10.
[22] - بحارالا نوار: ج 79 ص 116 ح 7 و ح 8، و ص 123 ح 16.
[23] - مصادقة الاخوان : ص 82.
[24] - امالي طوسى : ج 1 ص 125.
[25] - مستدرك الوسائل : ج 7 ص 163 ح 1.
[26] - مستدرك الوسائل : ج 6 ص 431 ح 6.
[27] - مستدرك الوسائل : ج 16 ص 288 ح 1.
[28] - أَعيان الشّيعة : ج 1، ص 672، بحارالا نوار: ج 78، ص 260، ذيل ح 108.
[29] - وسائل الشيعة : ج 4 ص 112.
[30] - وسائل الشيعة : ج 15 ص 162 ح 8.
[31] - وسائل الشيعة : ج 16 ص 93 ح 2.
[32] - وسائل الشيعة : ج 16 ص 93 ح2
[33] - اصول كافى : ج 2، ص 47، ح 1، ص 230، ح 2، و نزهة النّاظر حلوانى : ص 120، ح 70.
[34] - مستدرك الوسائل : ج 6 ص 66 ح 22.
[35] - اصول كافى : ج 2 ص 272.
[36] - أمالی صدوق : ص 321، بحارالا نوار: ج 66، ص 437، ح 3 .
[37] - وسائل الشيعة : ج 7 ص 363 و 356.
[38] - دعوات راوندى ص 123، ح 302، بحارالا نوار: ج 71، ص 267، ح 17.
[39] - خصال : ص 639، ح 14، بحارالا نوار: ج 27، ص 41، ح 1.
[40] - الامام الصّادق عليه السلام : ص 143
ایران اور افغانستان کے درمیان ثقافتی تعاون کے فروغ پر تاکید
افغانستان میں اقوام متحدہ کے تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی ادارے "یونسکو" کے نمائندے نے ایران اور افغانستان کے درمیان ثقافتی تعاون میں فروغ کی درخواست کی ہے-
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں یونسکو کے نمائندے احمد یاور نے ایران کے صوبہ خراسان رضوی کے شہر خواف کے تاریخی مقامات کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ ایران اور افغانستان کے درمیان ثقافتی اشتراکات کے استحکام اور اضافے سے علاقے میں اغیار کی ثقافت کے نفوذ کو روکا جا سکتا ہے-
افغانستان میں یونسکو کے نمائندے نے مزید کہا کہ افغانستان کو تاریخی مقامات کی مرمت میں ایران کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے-
احمد یاور نے شہر خواص میں تاریخی "مدرسہ غیاثیہ" کی مرمت کرنے والے ایرانی ماہرین کی تعریف کرتے ہوئے ایرانی ماہرین سے افغان کاری گروں کو سکھانے اور ٹریننگ دینے کی خواہش ظاہر کی-
شہر خواص سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مدرسہ غیاثیہ کو سلطان شاہ رخ تیموری کے وزیر خواجہ غیاث الدین پیر احمد خوافی کے حکم سے آٹھ سو چھیانوے ہجری قمری میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسی بنا پر وہ غیاثیہ کے نام سے معروف ہے-
امریکی اہلکاروں کو گرفتار کرنے والے سپاہ پاسداران کے جوانوں کی رہبر انقلاب سے ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو گرفتار کرنے والے سپاہ کے جوانوں سے ملاقات میں ان کے اس اقدام کو صحیح، بروقت ، شجاعت اور ایمان پر مبنی قراردیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی سے آج سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ان جوانوں نے ملاقات کی جنھوں نے ایرانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی بحریہ کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: آپ کا اقدام بہت شاندار، بروقت اور قابل قدرتھا در حقیقت اس کام کو الہی کام تصور کرنا چاہیے کہ امریکی ہماری سمندری حدود میں آئیں اور ہمارے سپاہی بر وقت کارروائی کرکے انھیں ایسے حال میں گرفتار کرلیں کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سر پر رکھ کر بیٹھ جائیں ۔ ایرانی سپاہ کی یہ کامیابی بڑي اہم کامیابی ہے جس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
سپاہ پاسداران کے جوانوں نے اس مختصر ملاقات کے بعد نماز ظہر و عصر رہبر انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی۔
رہبر انقلاب اسلامی سے چین کے صدر جمہوریہ کی ملاقات
چین کے صدر جمہوریہ شی جین پینگ نے تہران میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبرانقلاب اسلامی نے ایران اور چین کی قدیم تاریخ و تمدن اور دونوں ملکوں کے عوام کے دیرینہ تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کی حکومت اور عوام ہمیشہ چین جیسے قابل اعتماد اور خود مختار ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہشمند رہے ہیں اور اب بھی ہیں -آپ نے فرمایا کہ اسی لئے پچیس سالہ اسٹریٹیجک تعلقات سے متعلق ایران اور چین کے صدور کا اتفاق رائے پوری طرح صحیح اور دانشمندانہ فیصلہ ہے- رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں شاہراہ ریشم کو بحال اور اس راستے میں واقع ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر مبنی چینی صدر کے بیان کو مکمل طور پر ایک منطقی اور قابل قبول نظریہ قراردیا اور فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پابندیوں کے زمانے میں چین کے تعاون کو کبھی بھی فراموش نہیں کرے گا - رہبرانقلاب اسلامی نے انرجی کو دنیا کا ایک اہم ترین مسئلہ قرار دیا اور فرمایا کہ ایران علاقے کا وہ واحد خود مختار ملک ہے جس پر انرجی کے سلسلے میں اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ علاقے کے بعض ملکوں کے برخلاف انرجی سے متعلق ایران کی پالیسی کسی بھی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوگی - رہبرانقلاب اسلامی نے بعض ملکوں خاص طور پر امریکا کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور دیگر ملکوں سے ان کے غیر مخلصانہ تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی صورتحال کی وجہ سے اب خود مختار ممالک آپس میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ایران اور چین کے درمیان پچیس سالہ اسٹریٹیجک تعلقات کی برقراری پر اتفاق رائے بھی اسی تناظر میں ہے جس کو ہر حال میں عملی جامہ پہنانا چاہئے - رہبرانقلاب اسلامی نے ایران کے سلسلے میں مغربی ملکوں کی مخاصمانہ پالیسیوں کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کے بارے میں مغربی ملکوں میں سب سے زیادہ مخاصمانہ اور بری پالیسی امریکا کی ہے - آپ نے فرمایا کہ متحدہ چین کی حمایت اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی اور حتمی پالیسی ہے - انہوں نے ایران اور چین کے درمیان سیکورٹی تعاون کو فروغ دینے کے تعلق سے چینی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ افسوس کہ مغربی ملکوں کی غلط پالیسیوں اور اسلام کے بارے میں غلط اور انحرافی نظریئے اور سوچ کی وجہ سے ہمارا علاقہ بدامنی کا شکارہوگیا ہے اور خطرہ اس بات کا پیدا ہوگیا ہے کہ بدامنی کا یہ دائرہ پھیل نہ جائے اس لئے اس کو روکنے کےلئے دانشمندانہ تعاون کی ضرورت ہے - رہبرانقلاب اسلامی نے علاقے کے بعض ملکوں کو اس انحرافی نظریئے کی جڑ قرار دیا اور فرمایا کہ مغرب والے بھی اس نظریئے کے اصل مراکز اور دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے یورپ اور امریکا میں مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں جبکہ ان دہشت گردگروہوں کا اسلام کے صحیح نظریئے سے دور کا کوئی واسطہ نہیں ہے - آپ نے دہشت گردی کے خلاف اتحاد تشکیل دینے کے امریکیوں کے دعوے کو ایک دھوکہ قراردیا اور فرمایاکہ تمام مسائل میں امریکیوں کا رویّہ ایسا ہی رہا ہے اور وہ کبھی بھی مخلص نہیں تھے۔
یورپ میں اسلامی طلبہ یونین کے نام رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی طلبہ یونین کے نام ایک پیغام میں تمام ایرانی طلبہ اور نوجوانوں کو مسلسل جد و جہد کرنے اورعزم محکم پیدا کرنے کی تاکید کی ہے -
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی طلبہ یونین کے نام ایک پیغام میں تمام ایرانی طلبہ اور نوجوانوں کی مسلسل جد و جہد اور عزم محکم کو ایران اسلامی کے مقابلے میں دشمن کے محاذ کی سازشوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ قرار دیا ہے-
رہبر انقلاب اسلامی کا یہ پیغام یورپ میں زیر تعلیم ایرانی طلبہ کی اسلامی انجمنوں کی یونین کے پچاسویں سالانہ اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا- اس پیغام کو یورپ میں ایرانی طلبہ کے امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے خصوصی نمائندے حجت الاسلام والمسلمین جواد اژہ ای نے جمعے کو پڑہ کر سنایا-
آپ کے پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے-
بسم اللہ الرحمان الرحیم
پیارے نوجوانوں:
اس وقت آپ کی تنظیم کو پچاس سال ہو چکے ہیں ؛ یہ ایک ایسی بابرکت تنظیم ہے کہ جو نوجوانوں اور طالبعلموں کے اندر اسلامی ہدایت اور ان کے ایمان میں تازگی اور ذوق و شوق پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں عالم و عاقل متقی و پرہیزگار اور صاحب بصیرت انسان پروان چڑھ سکتے ہیں-
آپ لوگ خود کو اور تنظیم کو اس اعلی اور نیک مقصد کے ساتھ ہماہنگ کیجئے-
آپ کے ملک اور قوم کو اپنا طویل راستہ طے کرنے کے لئے اس طرح کے انسانوں کی ضرورت ہے- آپ اور تمام نوجوانوں و طالب علموں کی مسلسل کوشش اور عزم محکم ان سازشوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ ہے جو دشمن کا محاذ سربلند ایران اسلامی کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے تیار کر رہا ہے- امید سے لبریز اپنے قلوب اور مادی و معنوی طاقت سے بھرپور توانائی کو ہمیشہ تیار اور محفوظ رکھئے اور علیم و دانا خدا پر توکل کے ساتھ آگے بڑھئے -
خدا حافظ
سیدعلی خامنہ ای
پارلیمنٹ اور ماہرین کی کونسل کے انتخابات سے متعلق اہم سفارشات
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام کی شجاعت، بصیرت اور میدان میں اترنے کے سلسلے میں بروقت احساس ذمہ داری 9 جنوری کے قیام کے بنیادی عناصر تھے۔ آپ نے فرمایا کہ عوام کا وہ قیام امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی حمایت میں انجام پایا اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات اسلامی انقلاب کی فتح پر منتج ہوئے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے 9 جنوری 1978 کو شہر قم کے تاریخ ساز عوامی قیام کی مناسبت سے ہونے والی اس ملاقات میں اہل قم کے اس تاریخی قدم کی ستائش کی اور اسلامی انقلاب کے دوام کے عوامل پر روشنی ڈالی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے شاہی حکومت کے خلاف علما اور مراجع تقلید کی قم کے عوام کی طرف سے حمایت کی قدردانی کرتے ہوئے اہل قم کو اسلامی انقلاب کے ہراول دستے سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ برسوں کی جدوجہد، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے بیانوں اور علمائے دین اور مراجع کرام کے مقام و منزلت کی وجہ سے ظالمانہ شاہی حکومت کے خلاف عوامی جدوجہد کا سازگار ماحول فراہم ہو گیا تھا اور 9 جنوری کے قیام نے اس حیاتی تحریک کا آغاز کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی پٹھو اور استکباری قوتوں کی حمایت یافتہ ڈکٹیٹر حکومت کی سرنگونی مادی اندازوں کے مطابق ناممکن اور محال تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اس فتح سے ثابت ہوا کہ عالم خلقت میں ایسے الہی قوانین موجود ہیں جن کے ادراک سے مادی انسان قاصر ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ امریکا، صیہونی حکومت، استکبار کے آلہ کاروں، تکفیری عناصر اور داعش پر مشتمل دشمنوں کے بہت وسیع محاذ سے ہے، اب اگر سنت الہیہ کے تقاضوں یعنی استقامت، بصیرت اور بروقت اقدام کی بنیاد پر عمل کیا جائے تو ہم اسلامی انقلاب کی فتح کی طرح اس وسیع محاذ کو بھی جیت سکتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس کے بعد معاصر تاریخ میں رونما ہونے والے انتہائی اہم واقعات کے باوجود اسلامی انقلاب کے باقی رہنے کے علل و اسباب پر روشنی ڈالی۔ آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے دو اہم تغیرات تیل کی صنعت کے قومیائے جانے اور آئینی انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تیل کی صنعت کو قومیائے جانے کی تحریک میں عوام کا مطالبہ بہت کمترین مطالبہ تھا اور صرف تیل کی صنعت کو برطانیہ کے قبضے سے آزاد کئے جانے کی مانگ کی گئي تھی، اسی طرح آئینی انقلاب میں بھی کمترین سطح کے مطالبات تھے جن میں بادشاہ کی مطلق العنانیت کو محدود کئے جانے کی بات کی گئی تھی۔ آپ نے مزید فرمایا کہ یہ دونوں ہی تحریکیں، کمترین مطالبات اور میدان عمل میں عوام کی موجودگی کے باوجود شکست سے دوچار ہوئیں، لیکن اسلامی انقلاب اعلی ترین اہداف یعنی ہمہ جہتی خود مختاری اور استبدادی شاہی نظام کی سرنگونی کے مطالبے کے ساتھ فتحیاب ہوا اور اسے دوام بھی ملا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اگر نوجوان ان حقائق کا صحیح تجزیہ کر سکیں تو عوام کے دلوں میں خوف و ہراس کے بیج بونے کی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوں گی اور ملک کے مستقبل کا صحیح راستہ بالکل واضح ہو جائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرانس اور سوویت یونین کے انقلابوں کی سمت تبدیل ہو جانے اور انقلابات کے مٹ جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جو اپنے شروعاتی اصولوں اور اہداف کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہوا ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ دنیائے استکبار کے تھنک ٹینکس کا سب سے بنیادی ہدف اسلامی انقلاب کے دوام کے عوامل کو ختم کرنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ گزشتہ برسوں میں مسلط کردہ جنگ، اقتصادی ناکہ بندی اور حالیہ پابندیوں سمیت دشمن کے تمام تر اقدامات اسلامی انقلاب کے دوام پر وار کرنے کے لئے تھے اور ہر دور میں وہ نئی چالیں چل رہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ سنہ 2009 میں امریکی اس کوشش میں لگ گئے تھے کہ بعص ملکوں میں اپنے کامیاب تجربات کو انتخابات کے بہانے ایران میں بھی دہرائیں، چنانچہ انھوں نے ان لوگوں کو جنھیں کامیابی کے لئے ضروری مقدار میں ووٹ نہیں ملے تھے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ان کی مالی و سیاسی حمایت کرکے انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن ایران میں عوام کے بھرپور تعاون کے نتیجے میں ان کا رنگین انقلاب شکست سے دوچار ہوا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے سنہ 2009 کے واقعات میں اسلامی نظام اور انقلاب کے مخالف عناصر کی امریکی صدر کی طرف سے حمایت کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکی حکومت نے جہاں تک ممکن تھا ان واقعات کو ہوا دی لیکن عوام کے بر وقت اقدام کی وجہ سے ان کی ساری سازشیں ناکام ہو گئیں۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی اب کہتے ہیں کہ ایٹمی مذاکرات کے بعد کا دور ایران پر سختی کرنے کا دور ہے گویا وہ اس سے پہلے ایران پر سختی نہیں کر رہے تھے! نوجوان، عوام اور حکام پوری آگاہی، ہوشیاری، جذبہ امید و نشاط، استقامت اور اللہ کی ذات پر توکل کے ساتھ نیز ملکی توانائیوں کی مدد سے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں جو بے حد اہم ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں انتخابات کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات کی ماہیت یہ ہے کہ اس سے عوام تازہ دم ہو جاتے ہیں اور انتخابات میں بھرپور شرکت کی شکل میں عوام کے اندر ذمہ داری کا احساس نمایاں طور پر نظر آتا ہے جو دشمن کو ناکام بنا دیتا ہے اور یہ انقلاب کی پائیداری کے اہم عناصر میں شامل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دو چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں، ایک تو انتخابات میں بھرپور شرکت ہے اور دوسرے سب سے اچھی صلاحیت اور سب سے زیادہ لیاقت رکھنے والے امیدوار کو ووٹ دینا ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انتخابات میں تمام رائے دہندنگان کی شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی ہمارا یہی اصرار ہے کہ سب کے سب حتی وہ لوگ بھی جو اسلامی نظام اور ولی فقیہ کو نہیں مانتے، ووٹنگ میں شرکت کریں، کیونکہ انتخابات کا تعلق پوری قوم، پورے ایران اور اسلامی جمہوری نظام سے ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ الیکشن میں پوری قوم کی شرکت اسلامی نظام کی پائیداری و تقویت میں اضافے، بھرپور تحفظ و سلامتی کے تسلسل، دنیا والوں کی نگاہ میں ملت ایران کے وقار و اعتبار میں اضافے اور دشمنوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کا رعب طاری ہونے کا باعث ہے۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں سب سے زیادہ اہلیت و لیاقت رکھنے والے امیدوار کو ووٹ دینے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ نظریات اور طرز فکر کا ہونا کوئی بری بات نہیں ہے، اہمیت اس بات کی ہے کہ ہماری کوشش اور توجہ بالکل صحیح اور صائب انتخاب پر مرکوز ہو۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اس توجہ کے ساتھ ووٹ دیا گيا تو اگر بعد میں منتخب امیدوار اچھا ثابت نہ ہوا تب بھی سب سے بالیاقت امیدوار کو ووٹ دینے کے بارے میں رائے دہندہ کی محنت اور تحقیق اللہ تعالی کی رضامندی کا باعث بنے گی۔
داخلی اور بین الاقوامی سطح پر پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی نہایت اہم پوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مختلف اعتبار سے، خاص طور پر قوانین وضع کرنے اور حکومتوں کے آگے بڑھنے کے لئے راستہ اور پٹری تعمیر کرنے کے لحاظ سے، نیز قوم کی استقامت کی آئینہ دار ہونے کی حیثیت سے پارلیمنٹ کی اہمیت بے مثال ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس وقت عالمی مسائل کے بارے میں پارلیمنٹ کے موقف اور رخ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو پارلیمنٹ ایٹمی مسئلے اور دیگر معاملات میں دشمنوں کے سامنے ثابت قدمی سے کھڑی ہو جائے اور شجاعت، آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اپنا موقف بیان کرے وہ اس پارلیمنٹ سے بالکل ممتاز ہے جو مختلف مسائل میں صرف دشمن کے موقف کو دہراتی رہتی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے موقف اور اقدامات میں ہر رکن پارلیمنٹ کا کردار ہوتا ہے اور اسی لئے تمام صوبوں اور شہروں کے عوام کو چاہئے کہ اپنے نمائندوں کے انتخاب میں بھرپور توجہ دیں اور اپنے صحیح انتخاب کی بابت پہلے اطمینان حاصل کر لیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ البتہ تمام امیدواروں کو پوری طرح پہچاننا اور انکی شناخت حاصل کرنا واقعی دشوار کام ہے لیکن ان افراد کے ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر جو انتخابی فہرست جاری کرتے ہیں صحیح فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر فہرست جاری کرنے والے مومن، انقلابی اور امام خمینی کے طرز عمل کو حقیقی معنی میں ماننے والے ہوں تو پارلیمنٹ اور ماہرین کی کونسل کے امیدواروں کی ان کی فہرست پر اعتبار کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر وہ انقلاب، دین اور خود مختاری کو کچھ خاص اہمیت نہیں دیتے اور ان کی نظر ہمیشہ امریکا اور اغیار کی باتوں پر لگی رہتی ہے تو ایسے افراد قابل اعتماد نہیں ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ 'مجلس خبرگان' (ماہرین کی کونسل) کے انتخابات بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بعض افراد غلط طور پر یہ تصور کرتے ہیں کہ ماہرین کی کونسل اس لئے ہے کہ پورے سال میں بس ایک دو سیشن منعقد کر لے، جبکہ اس کونسل کی تشکیل اس لئے کی گئی ہے کہ جب موجودہ 'رہبر انقلاب' بقید حیات نہ رہے تو یہ کونسل رہبر یعنی انقلاب کے پیش قدمی کے عمل کے ذمہ دار کا انتخاب کرے جو بیحد اہم مسئلہ ہے۔
ماہرین کی کونسل کے امیدواروں کے سلسلے میں بھرپور تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ماہرین کی کونسل اپنے ارکان کی نوعیت کی بنیاد پر ممکن ہے کہ ضرورت کے وقت ایسے شخص کو رہبر منتخب کرے جو اللہ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے پوری شجاعت کے ساتھ دشمنوں کے سامنے ڈٹ جانے والا ہو اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نقش قدم پر چلے، جبکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس سے مختلف اوصاف کے شخص کو رہبر منتخب کر لے، بنابریں پوری تحقیق، توجہ، شناخت اور اطمینان کی بنیاد پر ووٹ دینا چاہئے۔
رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں عوام کی شرکت اور خاص طور پر امیدواروں کے درمیان سے سب سے زیادہ لیاقت و اہلیت رکھنے والے امیدوار کا انتخاب دو اعلی اہداف کی تکمیل کا سبب ہے، ایک ہے انقلاب کی بقا اور دوسرے قوم کے اندر سکون و طمانیت کا ماحول۔
انقلاب کے دوام پر صحیح انتخاب کے اثرات کی تشریح کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ انقلاب کے آغاز سے ہی ساتھ چھوڑنے اور نئے ساتھیوں کے جڑنے کا سلسلہ چلا آ رہا ہے، کچھ انقلابی افراد اس وجہ سے کہ انھیں شاید ذاتی طور پر کسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا انقلاب سے ناحق ہی برگشتہ ہو گئے، کچھ لوگوں نے ذاتی اور خاندانی مسائل کی وجہ سے کوئی اور راستہ چن لیا، لیکن سب سے اہم چیز یہ تھی کہ مختلف میدانوں منجملہ مومن، انقلابی، ماہر، تعلیم یافتہ اور حد درجہ کارآمد افرادی قوت کے اعتبار سے انقلاب کو ملنے والے نئے ساتھیوں کی تعداد ساتھ چھوڑنے والوں سے بہت زیادہ رہی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ آج بھی اگر عوام پارلیمنٹ اور ماہرین کی کونسل کے لئے سب سے زیادہ با لیاقت نمائںدوں کے انتخاب کی اپنی ذمہ داری پر بخوبی عمل کریں تو شجر انقلاب میں نئی سرسبز کونپلوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور انقلاب کے دوام کو ایک بار پھر ضمانت ملے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فریضے پر عمل آوری کے نتیجے میں انقلاب کو دوام ملنے کے ساتھ ہی عوام الناس کے دل میں سکون و طمانیت پیدا ہونے کے نکتے سے بحث کرتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیعت کرنے والوں کے دلوں کو سکون و طمانیت ملنے سے متعلق آیات قرآن کا حوالہ دیا اور کہا کہ جو بھی آج انقلاب، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور راہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی بیعت کرے اس نے گویا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیعت کی ہے اور اللہ تعالی اس بیعت کے اجر کے طور پر عوام کے دلوں سے بے چینی، ناامیدی اور تشویش کو دور کرے گا اور اس کی جگہ سکون و طمانیت عطا فرمائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ انقلاب کی پائیداری اور عوام کی پرسکون اور پرامید استقامت یقینی طور پر امریکا اور تمام دشمنوں کی سازشوں پر ملت ایران کی فتح کا باعث بنے گی۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
