Super User
غزہ پٹی کے جوانوں کی صورت حال نہایت المناک
اقوام متحدہ نے حالیہ جنگ کے بعد غزہ پٹی کے فلسطینی جوانوں کی صورت حال کو نہایت المناک قرار دیا ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے آج ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ غزہ پٹی پراسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد اس علاقے کے اٹھاون فیصد جوان اپنے تباہ شدہ مکانوں کی تعمیر نو کاانتظار کررہے ہيں۔ اس سروے رپورٹ کے مطابق غزہ میں اڑتالیس فیصد نوجوان فلسطینیوں کی ترجیحات میں بے روزگاری سے نجات اور کام کاحصول ہے۔ اس رپورٹ کے دوسرے حصے میں آیا ہے کہ غزہ کے جوان، حزبی مسائل کے حل پر تاکید کرتے ہوئے داخلی اختلافات کے خاتمے اور فلسطینیوں کے درمیان قومی اتحاد کے خواہاں ہيں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کے بیالیس فیصد جوانوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی حالیہ جنگ سے ان کی تعلیم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تحریک حماس نے صیہونی حکومت کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ کے آغاز پر تاکید کی ہے۔
حزب اللہ، لبنان کی فوج کی مکمل حمایت کرتی ہے
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے دہشتگرد تکفیری گروہوں کے ساتھ مقابلے کے لئے ملک کی فوج کی بھرپور حمایت پر تاکید کی ہے۔
لبنان کی السفیر نیوز کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور لبنان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جس میں دہشتگردی کے خلاف مقابلے کے لئے لبنان کی فوج کے لئے ایران کی لاجسٹک مدد اور دیگر ملکی اور علاقائی رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اس موقع پر کہا کہ حزب اللہ دہشتگرد تکفیری گروہوں کے خلاف مہم کے لئے لبنان کی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ملک میں امن و استحکام کی برقراری کے لئے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہے۔ سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کی جانب سے لبنان کی فوج کے ساتھ مکمل تعاون کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فوج، لبنان کی سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے، ناقابل انکار کردار کی حامل ہے۔
واشنگٹن کے گرجا گھر میں پہلی بار نماز کی ادائگی
امریکہ کے مسلمانوں نے پہلی مرتبہ جمعے کے دن واشنگٹن کے گرجا گھر میں نماز ادا کی۔
واشنگٹن کے چرچ میں جمعے کے روز پہلی مرتبہ مسلمانوں کو ایک پروگرام میں دعوت کی گئی جہاں مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی۔
اس پروگرام میں واشنگٹن کے قومی گرجا گھر کے سربراہ ’’کانون گینا کمبل‘‘ نے اس گرجا گھر کو ادیان ابراہیمی کے ماننے والے تمام انسانوں کے لیے جائے امن اور خدا پرستی کا مرکز قرار دیا۔
اس پروگرام میں جنوبی افریقا کے مسلمانوں کے سفیر ابراہیم رسول نے کہا: تاریخ عیسائیت اور اسلام میں یہ ایک اہم اتفاق ہے۔
واشنگٹن کے چرچ میں نماز جمعہ ادا کرنے والوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ان کا یہ عمل امریکہ میں مسلمانوں کی نسبت پائی جانے والی نفرت کو کم کرنے کا باعث بنے گا۔
آیت اللہ سیستانی کی مختلف جماعتوں سمیت تمام عراقیوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر تاکید
عراق کے نامور مرجع تقلید آیۃ اللہ سیستانی نے عراق کی مختلف جماعتوں سمیت تمام عراقیوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عراق کے پارلیمانی اسپیکر سلیم الجبوری نے اتوار کے روز مقدس شہر نجف اشرف میں عراق کے نامور مرجع تقلید آیۃ اللہ سیستانی سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ آیۃ اللہ سیستانی نے عراق کی مختلف جماعتوں سمیت تمام عراقیوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت بغداد کی جانب سے مختلف اداروں میں کرپشن کے خلاف مہم کی ضرورت پر بھی تاکید کی ہے۔ عراق کے پارلیمانی اسپیکر سلیم الجبوری نے کہا کہ مرجع تقلید آیۃ اللہ سیستانی نے عراق میں کرپشن کے وجود کو پورے ملک کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔اس سے قبل گذشتہ ہفتے عراق کے صدر فواد معصوم نے بھی مقدس شہر نجف اشرف میں نامور مرجع تقلید آیۃ اللہ سیستانی سے ملاقات کی تھی۔
خطیب جمعہ تہران: صیہونی مظالم ایک اور تحریک انتفاضہ کا سبب
رپورٹ کے مطابق تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران آیت اللہ موحدی کرمانی نے مسجد الاقصی پر صیہونیوں کےحملے کی مذمت کی اور کہا کہ صیہونیوں کے جرائم اور مظالم سے مقبوضہ فلسطین میں ایک اور تحریک انتفاضہ شروع ہوجائے گي۔ آیت اللہ موحدی کرمانی نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر احمد شہید کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اگر احمد شہید واقعا انسانی حقوق کا درد رکھتے ہین تو انہیں غزہ یا شام جانا چاہیے اور ان بے گناہ بچوں اور خواتین کی بات سننی چاہیے جو صیہونی حکومت اور دہشتگردوں کےمظالم اور جارحیت کے ساے میں زندگي گذار رہے ہیں۔ خطیب جمعہ تہران نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ہنگامی حالت کی مدت میں توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کو چاہیے کہ وہ خط وکتابت کے بجائے عمل میں اپنی نیک نیتی ثابت کریں۔ انہوں نے کہاکہ دشمن کے پاس ایران سے مذاکرات کرنے کے علاوہ کوئي چارہ نہیں اور ملت ایران اپنے ایٹمی حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگي۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ امریکہ کا یہ کہنا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ کرنا برے معاہدے سےبہتر ہے کہا کہ امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایران بھی برے معاہدے کو قبول نہ کرنا مغربی ملکوں کی تسلط پسندی کے سامنے تسیلم ہونے سے بہتر سمجھتا ہے۔ آیت اللہ موحدی کرمانی نے کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ حتی داعش کے مقابلے میں بھی وہ ایران کی طاقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ ایرانی ماہرین نے آر کیو ایک سو ستر درون کا نمونہ تیار کرلیا ہے اور یہ کام امریکہ کے لئے نہایت شدید نقصان کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ کھ رہا ہے کہ ایران اس ڈرون کی ریورس انجینیرنگ کی توانائي نہیں رکھتا لیکن آج وہ اس توانائی کا مشاہدہ کررہا ہے۔
اسرائیل کی ، حسن نصراللہ کے قتل کی سازش ناکام
یورپ کے ایک سکورٹی عہدیدار نے حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل کو اس سال عاشور کے دن قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔ ایسنا کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کے اخبار ٹیلیگراف نے یورپی سکورٹی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل نے اس سال عاشور کے دن، حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کو عزاداری کے ایک مراسم میں قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا تاہم اس کا یہ منصوبہ حزب اللہ کی ٹکنالوجی کے سبب ناکام ہوگیا۔ یہ یورپی عہدیدار جو فلسطین کے مقبوضہ علاقے ميں ایک یورپی سفارتخانے میں مشغول ہے کہا کہ اسرائیل کو یہ خبر ملی تھی کہ حسن نصراللہ عاشور کے ایک پروگرام میں تقریر کے لئے شرکت کریں گے اور اسی سبب سے اس نے اس دن اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی تھی۔ اس سفارتکار کے بقول صہیونی حکومت ایک میزائیل کے ذریعے سید حسن نصراللہ کو نشانہ بنانا چاہتی تھی لیکن ایک اسرائیلی افسر کے اعتراف کے مطابق، تحریک حزب اللہ کی محافظ یونٹوں کی مخصوص رادار ٹکنالوجی نے ان کے منصوبے کو ناکام بنادیا اس اسرائیلی افسر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حزب اللہ کا رادار سسٹم اسرائیلی طیاروں کی پرواز، اور ان کے لبنانی حدود میں داخل ہونے کی تشخیص دینے کی توانائی رکھتا ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے بے دخلی کا سامنا
رپورٹ کے مطابق اراکان پروجيکٹ سے موسوم انساني حقوق کے لئے کام کرنے والے ايک گروہ نے اعلان کيا ہے کہ صرف گزشتہ تين ہفتے کے دوران ميانمار کے چودہ ہزار پانچ سو مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کے تھائلينڈ داخل ہوئے ہيں جہاں سے وہ مليشيا جائيں گے ۔
واضح رہے کہ ميانمار کي حکومت نے ايسے بل کي منظوري دي ہے جس کے تحت صرف انہي افراد کو ميانمار ميں رہنے کي اجازت ہوگي جو يہ بات ثابت کرسکيں کہ ان کے اہل خانے ساٹھ سال سے زيادہ عرصے سے ميانمار ميں مقيم ہيں ۔
ميانمار ميں گذشتہ دوسال کے دوران انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں ميں سيکڑوں مسلمان مارے گئے ہيں اور ہزاروں ديگر اپنا گھر بار چھوڑ نے پر مجبور ہوگئے ہيں۔ ميانمار ميں تقريبا تيرہ لاکھ روہينگيا مسلمان انتہائي کس مپرسي کي حالت ميں زندگي گزار رہے ہيں
تحریک حماس، عوامی فوج بنائے گی
تحریک حماس نے صیہونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے عوامی فوج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق عزالدین قسام کے ایک ترجمان محمد ابو عسکر نے کہا ہے کہ اب تک عوامی فوج میں ڈھائي ہزار افراد نے نام لکھوائے ہیں اور اس کاھدف غزہ کا دفاع اور مسجدالاقصی نیز فلسطین آزاد کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیس سے زیادہ عمر کے افراد عوامی فوج میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ واضح رہے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصی پر صیہونی حکومت اور اس کے حمایت یافتہ شر پسند صیہونی عناصر کے حملوں میں کافی اضافہ ہوچکا ہے اور اس نے مسجدالاقصی میں فلسطینی جوانوں کے داخلے پر پابندی لگادی ہے۔
امیر سعود بن نایف بن عبد العزیز نے الاحساء علاقے میں دھشتگردوں کی طرف سےشب عاشور کو ہوئے حسینی عزاداروں پر حملے میں زخمی افراد کی عیادت کی
سعودی عرب کے علاقے الشرقیہ کے امیر سعود بن نایف بن عبد العزیز نے الاحساء علاقے میں دھشتگردوں کی طرف سےشب عاشور کو ہوئے حسینی عزاداروں پر حملے میں زخمی افراد کی عیادت کی۔
انہوں نے سعودی عرب کے بعض عہدہ داروں کے ہمراہ ہفوف شہر میں ملک فہد ہسپتال میں زخمی افراد کی عیادت کی اور کہا کہ ملک عبد اللہ آپ لوگوں کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔
سعود بن نایف بن عبد العزیز نے اس واقعے میں شہید ہوئے افراد کے اہل خانہ کی دلداری بھی کی اور کہا کہ اس واقعے کے عاملین کی شناسائی کر کے انہیں عدالت کے کٹیرے میں کھڑا کیا جائے گا تاکہ ان کے بارے میں شرعی حکم صادر ہو سکے۔
واضح رہے کہ شب عاشور کو نامعلوم مسلح افراد نے اس شہر کی المصطفیٰ امام بارگاہ سے مجلس کر کے نکلنے والے افراد پر حملہ کر کے آٹھ افراد کو شہید جبکہ تیس کو زخمی کر دیا تھا۔
پیغام کربلا، مظلوم کربلا کی زبان مبارک سے
حضرت امام حسین (ع) اپنے خطبے کا آغاز، اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا (ص) کی ایک حدیث سے فرماتے ہیں ۔
اے لوگو پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا ہے ، ہر وہ مسلمان جو ایسے منھ زور سلطان یا بادشاہ کے بالمقابل قرار پاجائےجو حرام خدا کو حلال کرے اور عہد الہی کو توڑے اور قانون و سنت پیغمبر کی مخالفت کرے اور بندگان خدا کے درمیان معصیت کو رواج دے ، لیکن اس کے رویے اور طرز عمل کا مقابلہ نہ کرے تو خداوند عالم پر واجب ہےکہ اسے بھی اس طاغوتی بادشاہ کے ساتھ جہنم کے شعلوں میں ڈھکیل دے ۔ اے لوگوں آگاہ ہوجاؤ کہ بنی امیہ نے اطاعت پروردگار چھوڑکر اپنےاوپر شیطان کی پیروی واجب کر لی ہے انہوں نے فساد اور تباہی کو رواج دیا ہے اور حدود و قوانین الہی کو دگرگوں کیا ہے اور میں ان بد خواہوں اور دین کو نابود کرنے والوں کے مقابلے میں مسلمان معاشرے کی قیادت کا زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے علاوہ تمہارے جو خطوط ہمیں موصول ہوئے وہ اس بات کے آئینہ دار ہیں کہ تم نے میری بیعت کی ہے اور مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ مجھے دشمن کے مقابلے میں تنھا نہیں چھوڑوگے ۔ اب اگر تم اپنے اس عہد پر قائم اور وفادار ہوتو تم رستگار وکامیاب ہو۔ میں حسین بن علی (ع) تمہارے رسول کی بیٹی فاطمہ زہرا کادلبند ہوں ۔ میرا وجود مسلمانوں کے وجود سے جڑا ہوا ہے اور تمہارے بچے اور اہل خانہ، ہمارے بچوں اور گھر کے افراد کی مانند ہیں ۔ میں تمہارا ہادی و پیشوا ہوں لیکن اگر تم ایسا نہ کرو اور اپنا عہدو پیمان توڑ دو اور اپنی بیعت پر قائم نہ رہو جیسا کہ تم ماضی میں بھی کرچکے ہو اور اس سے قبل تم نے ہمارے بابا ، بھائی اور چچازاد بھائی مسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے ۔ ۔۔۔ تم وہ لوگ ہو جو نصیب کے مارے ہو اور خود کو تباہ کرلیا ہے اور تم میں سے جو کوئی بھی عہد شکنی کرے اس نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے اور امید ہے کہ خداوند عالم مجھے تم لوگوں سے بے نیاز کردے گا ۔
امام حسین بن علی (ع) کا یہی وہ خطبہ تھا، جسے امام (ع) نے، حر اور ا سکے لشکر کے سپاہیوں کے سامنے ، کہ جس نے امام کا راستہ روک دیا تھا، اتمام حجت کے لئے اور ان کو حق کی جانب بلانے کے لئے ارشاد فرمایا تھا ۔اس خطبے کی چند خصوصیات قابل ذکر ہيں ۔اموی نظام حکومت کی خصوصیات بیان کرنے کے لئے پیغمبر خدا (ص) کے اقوال کا ذکر، امام کی عظمت و منزلت کا بیان ،اپنے قیام اور تحریک کے علل واسباب کا ذکر اورمعاشرے کے افراد کے ساتھ امام کے رابطے کی نوعیت اور اس تحریک کے روشن افق کو بیان کرنا اس خطبے میں پیش کئے جانے والے موضوعات ہیں ۔
امام حسین (ع) کا قافلہ، ماہ محرم کی دوسری تاریخ کو کربلا میں وارد ہوتا ہے ۔ اس سرزمین پر امام (ع) اور ان کے خاندان اور اصحاب باوفا کے لئے حالات مزید سخت ودشوار ہوجاتے ہيں دشمن امام (ع) اور ان کے بچوں پر پانی بند کردیتے ہیں تاکہ شاید امام اور ان کے ہمراہ اصحاب ، اپنی استقامت کھو بیٹھیں اور ان کے سامنے تسلیم ہوجائیں لیکن ایسے حالات میں کربلا والوں نے ایثار وفداکاری کا ایسا اعلی ترین نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے لئے نمونۂ عمل بن گيا ۔
امام (ع) اچھی طرح جانتےتھے کہ میدان جنگ میں بڑے اور عظیم حادثوں کا متحمل ہونے کے لئے عظیم قوت برداشت کی ضرورت ہے ۔ اسی بناء پر ہر مقام پر اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کو ایمان اور یقین کی بنیادیں مستحکم ہونے کی تلقین فرماتے تھے اورشب عاشور ، اصحاب و انصار نے خود کوامام پر قربان کرنے کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔ شب عاشور ایسے اضطراب کی شب تھی جس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس شب امام حسین (ع) نے اپنے اصحاب کوبلایا اور واضح طور پران سے کہا کہ ہماری شہادت کا وقت نزدیک ہے اورمیں تم پر سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں لہذا تم رات کی تاریکی سے استفادہ کرو اور تم میں سے جو بھی کل عاشور کے دن جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتا اس کے لئے اپنے گھر اور وطن لوٹ جانے کا راستہ کھلا ہوا ہے ۔ یہ تجویز درحقیقت امام حسین (ع) کی جانب سے آخری آزمائش تھی ۔ اور اس آزمائش کا نتیجہ، امام کے ساتھیوں میں جنگ میں شرکت کے لئے جوش وجذبے میں شدت اور حدت کا سبب بنا اور سب نے امام (ع) سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور کہا کہ خون کے آخری قطرے تک وہ استقامت کریں گے اور آپ کے ساتھ رہیں گے، اوراس طرح سے اس آزمائش میں سرافراز و کامیاب ہوں گے۔
عاشور کی صبح آئی تو امام (ع) نے نماز صبح کے بعد اپنے اصحاب کے سامنے عظیم خطبہ دیا ایسا خطبہ جو ان کی استقامت اور صبر کا آئینہ دار تھا امام (ع) نے فرمایا اے بزرگ زادوں ، صابر اور پر عزم بنو ۔ موت انسان کے لئے ایک پل اور گذرگاہ سے زیادہ کچھ نہيں ہے کہ جو رنج و مصیبت سے انسان کورہائی دلاکرجنت کی جاوداں اور دائمی نعمتوں کی جانب لے جاتی ہے ۔ تم ميں سے کون یہ نہیں پسند کرے گا کہ جیل سے رہائی پاکر محل اور قصر میں پہنچ جائے جب کہ یہی موت تمہارے دشمن کے لئے قصر اور محل سے جہنم ميں جانے کا باعث بنے گی ۔ اس عقیدے کی جڑ خدا پر اعتماد اور یقین ہے اور یہ چیز صبر اور استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے ۔ پھرامام (ع) نے اپنے لشکر کو ترتیب دیا اور پھر تیکھی نظروں سے دشمن کے بھاری لشکر کو دیکھا اور اپنا سر خدا سے رازو نیاز کے لئے اٹھایا اور فرمایا " خدایا مصائب و آلام اور سختیوں میں میرا ملجا اور پناہگاہ توہی ہے میں تجھ پر ہی اعتماد کرتا ہوں اور برے اور بدترین و سخت ترین حالات میں میری امید کا مرکز توہی ہے ۔ ان سخت و دشوار حالات میں صرف تجھ ہی سے شکوہ کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد کر اور میرے غم کو زائل کردے اور آرام و سکون عطا کر ۔ صبح عاشور کی جانے امام (ع) کی اس دعا میں ، تمام تر صبر و استقامت کا محور خدا پر یقین و اعتمادہے بیشک خدا پر یقین اوراعتماد ، سختیوں کو آسان اور مصائب و آلام میں صبر و تحمل کی قوت عطا کرتا ہے ۔
حضرت امام حسین بن علی (ع) یہ دیکھ رہے تھے کہ دشمن پوری قوت سے جنگ کےلئے آمادہ ہے یہاں تک کہ بچوں تک پانی پہنچنے پر بھی روک لگارہا ہے اور اس بات کا منتظرہے کہ ایک ادنی سا اشارہ ملے تو حملے کا آغاز کردے ۔ ایسے حالات میں امام (ع) نہ صرف جنگ کا آغازکرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے دشمن کی سپاہ کو وعظ و نصیحت کریں تاکہ ایک طرف وہ حق و فضیلت کی راہ کو باطل سے تشخیص دے سکيں تو دوسری طرف کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے درمیان کوئی نادانستہ طورپر امام کا خون بہانے میں شریک ہوجائے اور حقیقت سے آگاہی اور توجہ کے بغیر تباہی اور بدبختی کا شکار ہوجائے ۔ اسی بناء پر امام حسین (ع) اپنے لشکرکو منظم کرنے کے بعد گھوڑے پر سوار ہوئے اور خیموں سے کچھ فاصلے پر چلے گئے اور انتہائی واضح الفاظ میں عمر سعد کے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ اے لوگوں میری باتیں سنو اور جنگ و خون ریزی میں عجلت سے کام نہ لو تاکہ میں اپنی ذمہ داری کو یعنی تم کو وعظ ونصیحت کرسکوں اور اپنے کربلا آنے کا تمہیں سبب بتادوں اگر تم نے میری بات قبول نہيں کی اور میرے ساتھ انصاف کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر تم سب ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنی باطل فکر اور فیصلے پر عمل کرو اور پھر مجھے کوئي مہلت نہ دو لیکن بہرحال تم پر حق مخفی نہ رہ جائے ۔ میرا حامی و محافظ وہی خدا ہے کہ جس نے قرآن کو نازل کیا اور وہی بہترین مددگار ہے ۔
یہ ہے ایک امام اور خدا کے نمائندے کی محبت و مہربانی کہ جواپنے خونخوار دشمن کے مقابلےمیں، حساس ترین حالات میں بھی انہیں دعوت حق دینے سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ امام (ع) نے روزعاشورا باوجودیکہ موقع نہیں تھا تاہم لوگوں کو وعظ ونصیحت کی اور اپنے راہنما ارشادات سے لوگوں کو حق سے آگاہ فرماتے رہے اور یہ کام آپ پیہم انجام دے رہے تاکہ شاید دشمن راہ راست پر آجائیں ۔ امام (ع) اپنے خطبے میں لشکر عمر سعدکو یہ بتاتے ہیں کہ کوفے اور عمر سعد کے لشکر کے افراد یہ نہ سوچ لیں کہ میں ان خطبوں اور وعظ و نصیحت کے ذریعے کسی ساز باز یا سمجھوتے کی بات کررہا ہوں ۔ نہیں۔ میرا ہدف ومقصد ان خطبوں اور بیانات سے یہ ہےکہ میں تم پر حجت تمام کردوں اور کچھ ایسے حقائق اور مسائل ہیں کہ جنہیں امام کے لئے منصب امامت اور ہدایت و رہبری کے فرائض کے سبب لوگوں کو آگاہ کرنا اور انہیں ان سے باخبر کردینا ضروری تھا.




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
