Super User

Super User

 تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی کے جہادی گروہوں نے پچاس دنوں کی جنگ میں تمام میدانوں میں صیہونی حکومت پر فتح حاصل کی ہے۔ فلسطین کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ نے ہفتے کے دن غزہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملت فلسطین نے فوجی ، سیاسی ، اخلاقی اور ذرائع ابلاغ سمیت تمام میدانوں میں صیہونی حکومت کو شکست دی ہے۔ اسماعیل ہنیہ نے میدان جنگ میں استقامت کی کارکردگی ، ملت فلسطین کی مثالی ثابت قدمی  اور فلسطینی مذاکراتی ٹیم کی سیاسی استقامت کو صیہونی حکومت پر فتح کے اصل اسباب قرار دیا اور کہاکہ اس فتح نے دنیا والوں کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ اور دوست و دشمن سب ہی اس فتح کے معترف ہیں۔

 

 

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کو جنیوا اقدام کے منافی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران کی کچہ شخصیتوں، کمپنیوں اور مالی اداروں کے خلاف امریکہ کی نئي پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  یہ اقدام ، ایران کے ایٹمی مسئلےکے حل کےلئے موجودہ عمل کے پوری طرح منافی ہے۔ مرضیہ افخم نے مزيد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، امریکہ کی جانب سے جنیوا معاہدے کی یک طرفہ ، ناقابل قبول اور من مانی تشریح کو مسترد کرتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اعلان کی جانے والی پابندیاں جنیوا معاہدے کی بنیاد پر امریکی وعدوں کے بر خلاف ہیں۔ مرضیہ افخم نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے اقدامات کا، ایٹمی مذاکرات کے عمل میں غیرتعمیری اورمنفی اثر پڑے گا کہا کہ اس طرح کے اقدامات، بالخصوص امریکہ کی سنجیدگی، صداقت اور نیک نیتی نیز ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے تمام فریقوں پرسوال کھڑے کرتے ہیں۔ مرضیہ افخم نے کہا کہ ایسے عالم میں جب ایران، جنیوا معاہدے کی بنیاد پر بحالی اعتماد کے اقدامات انجام دے چکا ہے جس کا ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ میں بھی ذکرکیاجاچکا ہے تو تہران کو بھی توقع ہے کہ امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک کے دوسرے اراکین عملی میدان میں بھی اپنے معاہدے پرعمل کریں۔ واضح رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے جمعہ کی رات جنیوا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی کچہ شخصیتوں ، کمپنیوں اورمالی اداروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں۔ امریکہ نے ایسے عالم میں یہ پابندیاں لگائي ہیں کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان نئے مذاکرات کاآغاز ستمبردوہزارچودہ میں ہوگا۔

 

 

 

تہران کے خطیب نماز جمعہ نے علاقائی اور عالمی حالات کے سلسلے میں ایرانی حکومت کے اقدامات کو نہایت مناسب اور موثرقراردیا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین کاظم صدیقی نے آج تہران کے خطبہ نماز جمعہ میں کہا کہ عزہ ، عراق ، شام  اور بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی زيادہ طلبی سمیت  علاقائی اور عالمی مسائل میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف نہایت شفاف اور واضح رہا ہے۔

تہران کے خطیب جمعہ نے ہفتہ حکومت کی مناسبت سے سابق صدر شہید محمدعلی رجائي اور وزیراعظم محمدرضاباہنر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ دونوں شہید اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے لئے نمونہ عمل ہیں۔

حجت الاسلام کاظمی صدیقی نے مزيد کہا کہ حکومتوں کوچاہئے کہ وہ خود کو ان دونوں عظیم شہداء ، شہید رجائي اور شہید باہنر کی اخلاقی خصوصیات، ایثار و قربانی اور عملی و شعوری ولایت محوری ، بندگی خدا اور عوام کی خدمت کے مطابق ڈھالیں ۔

تہران کے خطیب نماز جمعہ نے غزہ میں عوامی استقامت کی کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے اس کامیابی کو استقامت کا معجزہ قرار دیا اور کہا کہ بچوں، عورتوں اور بزرگوں کا قتل عام صیہونی حکومت کے شرمناک جرائم ہیں۔

حجت الاسلام صدیقی نے عراق و یمن کے حالات کی جانب اشارہ کیا اور امید ظاہر کی کہ عوام کی معنوی مدد اور عراقی حکومت کی تشکیل اس ملک کو تعطل سے باہر نکالے گی اور یمن جلد سے جلد موجودہ بحران سے باہر نکل جائےگا۔

 

 

 

 

ایران نے اپنی فضائی حدود میں ایک اسرائیلی ڈرون کی حالیہ دراندازی کو اشتعال انگیز قدم قرار دیتے ہوئے اس کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ تہران کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفیر غلام حسین دہقانی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون، سلامتی کونسل کے سربراہ مارک لیال گرانٹ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر جان ایشے کو خط لکھ کر ایران کی فضائی حدود میں اسرائیلی ڈرون کی دراندازی کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر طرح کی دفاعی کارروائی کا حق محفوظ ہے۔

ایرانی سفیر نے یاد دہانی کرائي کہ اسرائیلی ڈرون کی جانب سے ایران کی فضائی حدود میں حالیہ دراندازی اسلامی جمہوریہ کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس خلاف ورزی کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک خطرہ قرار دیا اور بین الاقوامی برادری خاص طور سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اس دراندازی کی مذمت کی اپیل کی۔

اتوار کو ایرانی کی انقلاب کی خصوصی فورسز آئی آر جی سی نے ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ اس نے جوہری تنصیبات نطنز کی جانب پرواز کر رہے ایک اسرائیلی جاسوسی طیارہ کو مار گرایا ہے۔

 

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے  صدر جمہوریہ اور کابینہ کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں معاشرے میں نفسیاتی اور روحی آرام و سکون کے قیام ، مہنگائی پر کنٹرول، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں ثبات اور حفظان صحت کے منصوبے کے نفاذ کو گذشتہ ایک سال میں حکومت کے اچھےاور گرانقدر اقدامات میں قراردیا اور حکومت کے تمام اہلکاروں کو انقلابی جذبہ اور سمت و سو کی تقویت اور حفاظت ، اندرونی ظرفیتوں اور پیداوار پر تکیہ، مزاحمتی اقتصاد کی پالیسیوں کے دقیق نفاذ، زراعت کے شعبہ پر خصوصی توجہ، دیہاتوں میں تبدیلی صنائع ، علمی رشد و ترقی جاری رکھنے پر سنجیدہ توجہ، دانش محور کمپنیوں کی تقویت، عالمی اور علاقائی مسائل بالخصوص امریکہ کی مداخلت کے بارے میں صریح اور روشن  مؤقف، حکومت کے اندرونی انسجام کی تقویت،ریڈ لائنوں بالخصوص سن 1388 ہجری شمسی کے فتنہ سے فاصلہ کی رعایت اور منصفانہ تنقید کے مقابلے میں آرام و سکون اور بردباری کی سفارش کی۔

یہ ملاقات ہفتہ حکومت کی مناسبت سے منعقد ہوئی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید رجائی اور شہید باہنر کی یادتازہ کرتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا  اور اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول اور انقلابی جذبہ اور انقلابی سمت و سو کو ان دو شہیدوں کی اہم خصوصیات قراردیتے ہوئے فرمایا: ہم سب کو اسلامی نظام کے حکام ہونے کے لحاظ سے انقلابی جذبہ اور سمت و سو کی ہمیشہ حفاظت کرنی چاہیے اور مقصد بھی اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب سلامی نے صدر جمہوریہ کی طرف سے گیارہویں حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے بارے میں رپورٹ کو اچھا اور گرانقدر قراردیتے ہوئے فرمایا: حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ عام لوگوں کے سامنے پیش کی جانی چاہیےتاکہ عوام انجام پانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ رہیں اور حکومت کے آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں بھی مطلع رہیں۔

رہبر معظم انقلاب سلامی نے فرمایا: حکومت کی طرف سے عوام کے سامنے رپورٹ پیش کرنے سے عوام میں مستقبل کے سلسلے میں امید پیدا ہوگی لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ رپورٹ حقائق اور واقعیات پر مبنی ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کے اندر امید پیدا کرنے کو مختلف حکومتوں کے مختلف نعروں کے ساتھ بر سر اقتدار آنے کے برکات میں قراردیتے ہوئے فرمایا: عوام میں اس امید کو قائم اور دائم رکھنا چاہیے اور اس کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہیے اور امید کو مضبوط بنانے کا ایک راستہ انجام پانے والے کاموں کے بارے میں عوام کو آگاہ اور مطلع کرنا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ عوام کی امید صرف رپورٹ پیش کرنے سے مضبوط نہیں ہوگی بلکہ عوام عملی طور پر حکومتی کارکردگی کے نتائج کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

 

پاکستان کے پانی و بجلی کے وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کا ملک، ایران سے مزید بجلی خریدے گا۔پاکستان کے اس وزیر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں میں بجلی شامل نہیں ہے کہ کہا ہے کہ ان ملک، آئندہ برسوں میں ایران سے بجلی کی درآمدات کو ایک ہزار میگا واٹ تک پہنچانے کا اردہ رکھتا ہے۔پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی کہا ہے کہ ان کے ملک میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ایران سے بجلی کی درآمدات سے پاکستان میں توانائی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد ملے گی۔واضح رہے کہ پاکستان کو توانائی کی شدید قلّت کا سامنا ہے اور اس ملک کے عوام کو سال بھر دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹوں کے دوران صرف چار گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

 

 

 

 

Wednesday, 27 August 2014 00:00

ایران سعودی عرب تعلقات

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اپنے دورۂ جدہ میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں فریقین نے دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات میں نیا باب کھولے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔فریقین کے درمیان جدہ میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے دو طرف علاقائی اور عالمی مسائل پر گفتگو کی اور عالم اسلام کو لاحق خطرات منجملہ غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کے بارے تبادلۂ خیال کیا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے علاقے میں امن و استحکام کی برقراری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض انتہا پسند گروہ، دین کے نام پر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کا مقصد دین اسلام کو بدنام کرنا ہے۔انھوں نے دہشتگردی کا متحدہ طور پر مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔

 

 

مصر کے سابقہ مفتی نے اہل بیت اطہار(ع) اور اولیاء اللہ سے توسل کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت اور ان سے توسل کرنا بالکل شرک نہیں ہے۔
ڈاکٹر علی جمعہ نے عالمی نٹ ورک ’’سی بی سی‘‘ سے گفتگو میں ان لوگوں کی مخالفت کرتے ہوئے جو اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کو حرام سمجھتے ہیں کہا: اولیاء الہی کی قبور کی زیارت، زیارت کرنے والے کے عشق و محبت کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا شرک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈاکٹر جمعہ نے کہا: وہ کلمات جو پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ اطہار(ع) سے مدد طلب کرنے کے معنی پر مشتمل ہیں بالکل شرکت آمیز نہیں ہے اور ان کا ادا کرنے والا یکتا پرست ہے اور وہ ائمہ سے دعا اور مدد کی درخواست کرتا ہے۔
انہوں نے اس بارے میں مذاهب اربعه  کے منابع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ سب سے پہلے جس شخص نے رسول اسلام حضرت محمد مصطفیٰ(ص) سے مدد طلب کی ابوالبشر حضرت آدم (ع) تھے کہ جنہوں نے آپ(ص) کا نام گرامی عرش الہی پر لکلھا ہوا دیکھا تھا اور اپنی مغفرت کے لیے بارگاہ خدا میں انہیں واسطہ قرار دیا۔
مصر کے سابقہ مفتی نے مزید تاکید کے ساتھ کہا کہ اولیاء الہی اور صالح بندے، توسل کرنے والوں کی دعا کو سنتے ہیں اور انہیں دیکھتے ہیں۔

 

 

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے ايران کے ٹيلي ويژن کے ساتھ انٹرويو ميں ايک بار پھر صيہوني حکومت کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے ميں مزاحمت جاري رکھنے پر زور ديا۔

انہوں نے غزہ کي تازہ ترين صورتحال اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتي تحريکوں نے اپنے جنگي وسائل کي کمي کے باوجود صہیونی دشمن کے مقابلے ميں نماياں کاميابياں حاصل کي ہيں۔

تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے کہا کہ القسام بريگيڈ اور سرايا القدس نامي فورس سميت فلسطين کي تمام مزاحمتي تنظيميں پہلے کي نسبت بہت زيادہ طاقتور ہوچکي ہيں اور ان کے مابين پوري طرح سے ہماہنگي پائي جاتي ہے۔

خالد مشعل نے کہا کہ فلسطيني تنظيموں نے فوجي وسائل کي تياري ، ميزائيل داغنے اور صيہوني حکومت کے مراکز کو نشانہ بنانے ميں خاصي مہارت حاصل کرلي ہے۔ انہوں نے ايک بار پھر جنگ بندي کے لئے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے پرزور ديا اور کہا کہ يہ ہر قوم کا مسلمہ حق ہے کہ آزادانہ اور کسي قسم کي مشکل کے بغير زندگي گزارے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے محاصرے کا مکمل خاتمہ، تجارتي لين دين کے لئے بينکاري سہولتوں کي بحالي ، قومي آشتي حکومت کے خلاف جارحيت سے پرہيز ، غزہ اور غرب اردن کے مابين رابطے کي سہولتوں کي بحالي ، صيہوني حکومت سےجنگ بندي فلسطيني گروہوں کے مطالبات ميں شامل ہيں۔

 

 

رہبر انقلاب اسلامی نے انقلابی جدوجہد کے زمانے میں تاجر برادری کی سرگرم موجودگی کو ایران کے اسلامی انقلاب کی تاریخ کے اہم واقعات میں سے قرار دیا ہے۔ ایران کی تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے دس ہزار شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ہونے والے سیمینار کی کمیٹی کے ارکان کی 16 جون 2014 کو رہبر انقلاب اسلامی سے ہونے والی ملاقات میں حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بیانات کا متن، پیر کی صبح تھران میں منعقد ہونے والے اس سیمینار میں شائع ہوا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں فرمایا تھا کہ پورے ایران کی تاجر برادری، اس ہراول دستہ میں شامل تھی کہ جنہوں نے سب سے پہلے اسلامی تحریک کے دوران بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی آواز پر لبیک کہا تھا اور 1962 میں ایران کی فضاء کو پرجوش کیا تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور مقدس دفاع کے دوران تاجر برادری کی گرانبہا کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے بعض افراد انفرادی جذبہ کی بنا پر جنگ کے محاذوں پر گئے یا اپنے کام کو جنگ کے محاذوں پر لے گئے یا جنگ کے محاذ کے لئے بھر پور مالی مدد کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے اکثر شہداء شناختہ شدہ نہیں ہیں، تاجر برادری سے تعلق رکھنے والے دس ہزار شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اس سیمینار کے انعقاد کو ایک احسن قدم قرار دیا۔