Super User

Super User

۲۰۱۴/۱۰/۲۸  - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے رواں برس حج کے اہلکاروں اور حکام کے ساتھ ملاقات میں مخاطبین کی فکری اور معنوی ضروریات کے جواب کے سلسلے میں انقلابی اور خلاقانہ نگاہ کے پیش نظر حج کی کارکردگي کو مزید بہتر اور کارآمد بنانے کے لئے منصوبہ بندی  اور اسی طرح دشمنان اسلام کی جانب سے پیش کئے جانے والے شبہات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اور عالم اسلام کے درمیان دیوار کھینچنا امت مسلمہ کے دشمنوں کے تکنیکی منصوبوں کا حصہ ہے اور حج کے عظيم اجتماع میں امت اسلامی کے خلاف جھوٹی تبلیغات کی وجہ سے غلط اور نادرست تصورات اور شبہات کو دور کرنے اور مصنوعی دیوار کو ختم کرنے کے سلسلے میں بہترین انداز میں استفادہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حج کی کارکردگی کے مفید اور کارآمد ارتقا کی تشریح میں خدمات رسانی کی تقویت اور حج کے مخاطبین کے لئے گرانقدر مواد کی فراہمی کے دو حصوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حج کا مفید ،کارآمد اور حقیقی ارتقا حجاج کی فکری اور معنوی ضروریات کو پورا کرنے میں ہے اور اس سلسلے میں دعائے کمیل، مشرکین سے برائت اور سمیناروں جیسی جاری فعالیتوں کی کیفیت میں اضافہ کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اور اسی طرح عالم اسلام کے اہم مسائل کے سلسلے میں حج کے مخاطبین کی فکری ضروریات کا خلاقانہ اور انقلابی نگاہ سے جواب دینا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےاسی زاویہ سے اسلامی وحدت کو آج عالم اسلام کی حقیقی ضرورت اور نیاز قرار دیتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان اتحاد و برادری ہمارے دینی اصول کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کسی سے کوئی تعارف نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی وحدت کو مختلف اسلامی فرقوں کے عقائد سے عدول کےمعنی میں قرارنہ دیتے ہوئے فرمایا: اسلامی وحدت ،اسلامی جمہوریہ ایران کا بنیادی نعرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان  ایکدوسرے کے ساتھ عداوت اور دشمنی نہ کریں اور اہم عالمی مسائل میں ایکدوسرے کی حمایت کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو عالم اسلام سے جدا اور الگ کرنے کے سلسلے میں دشمن کی وسیع اور جھوٹی تبلیغات اور پروپیگنڈوں نیز دشمن کی جانب سے  تشییع کے بارے میں غلط اور نادرست تصورات اور شبہات پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان شبہات کے جواب میں صرف کتاب لکھنا کافی نہیں ہے، بلکہ جائزہ لینا چاہیے کہ جھوٹی تہمتوں، الزامات اور شبہات کو ذہنوں سے پاک کرنے کے لئے کونسی ارتباطاتی روشوں اور طریقوں کو اختیار کیا جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام میں دشمن کے غیر حقیقی اور جھوٹے پروپیگنڈوں کو قبول کرنےمیں مؤثر عوامل اور خطرات کی شناخت پر بھی تاکید کی۔

اس ملاقات کے آغاز میں ولی فقیہ کے نمائندے اور ایرانی حجاج کے سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین قاضی عسگر نے امسال حج کے دوران انجام شدہ فعالیتوں کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: قرائت قرآن، تفسیر قرآن اور حفظ قرآن کے سلسلے میں سنجیدہ توجہ، دعائے کمیل اور دعائے عرفہ کے شاندار انعقاد، حج کے معارف کی تشریح کے سلسلے میں ممتاز شخصیات سے استفادہ، شہداء کے اہلخانہ کی تجلیل اور جانبازوں کی تکریم ، علماء کے درمیان باہمی فکری جلسات کی تشکیل ، تقریب مذاہب،فلسطین،اہلبیت علیھم السلام اور عالم اسلام کی وحدت کے سلسلے میں سمیناروں کا انعقاد حج میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بعثہ کی اہم سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے۔

اسی طرح ادارہ حج کے سربراہ جناب اوحدی نے اس سال 64 ہزار ایرانی زائرین کی 451 قافلوں میں حج کے لئےمشرف ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی حجاج کی 50 فیصد ضروریات کو ملک کے اندرونی وسائل کے ذریعہ پورا کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سال حجاج کے قیام و طعام ، رفت و آمد نیز طبی ضروریات کو مطلوب سطح پر فراہم کیا گيا۔


 

 

Saturday, 01 November 2014 00:00

حج وحدت کا عملی مظاہرہ

 اسلام اتحاد و وحدت کا دین ہے، اسلام معاشرت پسند دین ہے، اس میں رہبانیت نہیں ہے۔ اسلام انسانی رشتوں کے جوڑنے اور مل جل کر رہنے کی تلقین کرتا ہے، انسانیت کو مختلف گروہ بندیوں میں تقسیم کرنے والے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اسلام نے تین قسم کے عالمی بھائی چارہ کا تصور دیا ہے، ایک اسلامی بھائی چارہ، اس بھائی چارے کے ذریعے اسلام نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک وحدت میں پرو دیا ہے، ان کا تعلق دنیا کے جس ملک سے ہو، یہ کوئی سی بھی زبان بولتے ہوں، ان کا جس نسل سے تعلق ہو، اسلام نے سب کو بھائی بھائی بنا دیا۔ دوسرا وطنی بھائی چارہ ہے، اس کے ذریعے اسلام نے ایک علاقے میں بسنے والے تمام لوگوں کو بلاتفریق مذہب و فرقہ بھائی بھائی قرار دیا، اس کے ذریعے اسلام نے علاقائی وحدت کا تحفظ کیا ہے، تاکہ ایک علاقے کے رہنے والے امن و سکون کی زندگی گزاریں۔ اسلام کا تیسرا بھائی چارہ انسانی بھائی چارہ ہے، اسلام پوری دنیا کو انسانی وحدت کی لڑی میں پرو دیتا ہے، ہر انسان کے دوسرے انسان پر حقوق ہیں، اسلام ان حقوق کی پاسداری کا حکم دیتا ہے، ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان تمام حقوق کو ادا کرے۔ مثلاً اسلام نے ہر انسان کی زندگی کو تحفظ دیا ہے، اسی لئے یہ اسلام کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی انسان پانی میں ڈوب رہا ہے، اس کا تعلق جس مذہب سے ہے، اس کی جان بچانا ضروری ہے۔ اگر کوئی مسلمان نماز پڑھ رہا ہے تو اسلام حکم دیتا ہے کہ اس نماز کو توڑ دو اور ڈوبنے والے انسان کی جان بچاؤ اور اگر تم نے انسانی جان نہیں بچائی تو ایک حکم خدا کی مخالفت کی، جس پر قیامت کے دن سوال ہوگا۔

حج وحدت امت کی علامت ہے، جو تمام مسلمانوں کو ایک الہٰی پلیٹ فارم پر متحد کر دیتا ہے۔ آج ہم حج کے اتحاد و وحدت والے پہلو پر گفتگو کریں گے۔ اسلام کے تمام احکامات میں اتحاد و وحدت کا پہلو پایا جاتا ہے، نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے، اسلام کہتا ہے اس کو جماعت کے ساتھ ادا کرو، جب ایک محلے کے لوگ مل کے نمازا دا کریں گے تو ان میں محبت و الفت کا رشتہ قائم ہوجائے گا۔ نماز باجماعت کی اتنی زیادہ تاکید ہے کہ اگر کوئی شخص نابینا ہے تو بھی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے، اگرچہ اسے گھر سے مسجد تک رسی ہی کیوں نہ باندھنی پڑے۔ اسلام نے جمعہ کے دن نماز جمعہ کا حکم دیا، جس میں شہر کے بڑے حصے کے مسلمان ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں اور بھائی چارہ کا عملی اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح اسلام نے سال میں دو عیدیں قرار دیں، جس میں پورے شہر کے مسلمان عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں، یہ بڑا روح پرور منظر ہوتا ہے، تمام تفاریق کو ختم کرکے سب کے سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

صاحب استطاعت لوگوں پر زندگی میں ایک بار حج واجب قرار دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان خواہ ان کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے، وہ عازم مکہ ہوتے ہیں، خانہ خدا کی طرف امڈ آتے ہیں، وہ خانہ خدا جس کے بارے میں آپ (ص) نے فرمایا دین اسلام اس وقت تک قائم رہے گا، جب تک کعبہ قائم ہے۔ جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے چھتے کو ڈھانپ لیتی ہیں، اسی طرح پوری دنیا کے مسلمان کعبہ کو ڈھانپ لیتے ہیں۔
یہاں اللہ تعالٰی نے تمام دنیاوی امتیازات کو ختم کر دیا ہے، لباس جو الگ تشخص کی علامت ہے، حکم دیا اپنے جدا گانہ لباسوں کو اتار دو، فقط سفید رنگ کی دو چادریں زیب تن ہوں، سب لوگ لباس واحد پہن کر خدائی رنگ کو اختیار کرتے ہیں۔ ایک وجہ امتیاز زبان تھی، اس امتیاز کو لبیک اللھم لبیک کی دلنشین آوازوں نے ختم کر دیا، تمام لوگ سارے اختلافات بھلا کر ایک ملت میں گم ہوگئے، ان کی منشاء فقط رضائے الہٰی کا حصول ہے۔ حج اسلامی قوت کا عملی مظاہرہ بھی ہے، جب دنیا بھر کے مسلمان مل کر اعمال حج کو انجام دیتے ہیں، ایک امام کے پیچھے نمازیں ادا کرتے ہیں، سب کا رخ ایک ہی قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔ منیٰ میں سعی کے وقت شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں، غرض ہر جگہ مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں، سب مل کر عزت و احترام اور تعاون کے ساتھ تمام اعمال بجا لاتے ہیں، اس سے اسلام کی عظمت کا بول بالا ہوتا ہے۔ اعمال حج حاجی کے لئے عملی تربیت گاہ کا درجہ رکھتے ہیں، مخصوص لباس پہن کر سب لوگ ایک طرح کے الفاظ ادا کر رہے ہوتے ہیں، جس سے تمام ظاہری امتیازات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ حاجی امت مسلمہ کا ایک فرد بن جاتا ہے، اس کی پہچان فقط اور فقط اسلام ہوتی ہے۔

حضرت علی(ع) فرماتے ہیں ’’اللہ نے حج کو دین کی تقویت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔‘‘ امام جعفر صادق (ع)  فرماتے ہیں ’’اللہ نے حج میں اجتماع قرار دیا، تاکہ مشرق و مغرب کے لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں۔ اگر ان فرامین پر غور کیا جائے تو حج کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی پہلو بھی سامنے آتے ہیں، جب تمام دنیا کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو درپیش مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں، ان کا حل تلاش کرتے ہیں، مسلمانوں کی بہتری کے منصوبے بنائے جاتے ہیں، غریب مسلمانوں کی مدد کی حکمت عملی تیار کی جاتی ہے، اسلام کا پیغام پوری دنیا تک پہچانے کا عزم کرتے ہیں، یہ تمام باتیں حج حقیقی کے لوازم میں سے ہیں۔ تمام حجاج شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں، اس سے استعمار اور طاغوت کے خلاف لڑنے کی تربیت ملتی ہے، تمام اعمال کو خاص معین وقت میں انجام دینا ضروری ہوتا ہے، اس سے وقت کی پابندی کا درس ملتا ہے۔ جب انسان اللہ کی راہ میں قربانی دے رہا ہوتا ہے تو اسے اسلام و مسلمانوں کے لئے اپنی مال و جان قربان کرنے کا جذبہ ملتا ہے، وہ اس بات کے لئے تیار رہتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے جب بھی اس سے قربانی مانگی گئی، اس سے دریغ نہیں کرے گا۔

حج کر لینا اسلامی معاشرے میں ایک عہدے کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لئے حج کرنے والے کو حاجی کہتے ہیں، معاشرے میں اسے خاص عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے، اس کی بات کو معتبر سمجھا جاتا ہے، حج انجام دینے والے شخص نے اگر وہ تبدیلیاں پیدا کر لی ہیں، جو حج سے مطلوب و مقصود ہیں تو حج واقعاً ایک بڑے اسلامی منصب کا نام ہے، حج سے پہلے اور بعد والی زندگی میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ اگر حج سے پہلے ایک انسان انسانیت میں تفریق کا قائل تھا تو اب اس تفریق کو ختم کرچکا ہو، حج سے پہلے ظالم تھا تو اب ظالم کا دشمن ہو، پہلے کنجوس تھا تو اب سخی ہو، پہلے بداخلاق تھا تو اب صاحب اخلاق ہو، پہلے فرقہ بندی کی جہالت میں گرفتار تھا تو اب وحدت امت کا علمبر دار ہو، اگر انسان میں یہ تبدیلیاں آچکی ہیں تو اس نے صحیح معنوں میں حج انجام دیا ہے۔ پورے اعمال حج اتحاد وحدت کی علامت ہیں، نفرتوں کے خاتمے کا نشان ہیں، محبتوں کے سائبان ہیں، نبی مکرم (ص) کا آخری خطبہ حج بھی اسی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’اے لوگو تمہارا پروردگار ایک، تمہارا باپ ایک ہے، تم سب فرزندان آدم (ع)  ہو اور آدم (ع) خاک سے تھے، عرب کو عجم پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر تقویٰ کی‘‘ خدا ہمیں ایسا حج نصیب کرے جیسا حج وہ چاہتا ہے۔ آمین

 

Saturday, 01 November 2014 00:00

حج شہید مطہری کی نگاہ میں

تمام اسلامی اجتماعات میں سب سے زیادہ اہم، لمبی مدت کیلئے اور گوناگون اجتماع حج ہے جس کو بجا طور پر "عوامی اسلامی اجتماع" کا نام دیا گیا ہے۔ ہر شخص پر واجب ہے کہ استطاعت رکھنے کی صورت میں اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اس عظیم اجتماع میں شرکت کرے۔ تمام مسلمان ایک خاص وقت اور خاص دنوں میں خاص اعمال انجام دینے کے پابند ہیں۔ سب کا ایک طرح کا لباس پہننا اور ایک طرح کے الفاظ کہنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ اس عظیم اسلامی عمل کے انجام دینے میں بہت سے نقائص موجود ہیں لیکن پھر بھی وہ دنیا میں ایسا بے مثال عمل ہے جس میں ایک وقت اور ایک جگہ کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ سب افراد پر لازم ہے کہ وہ اس عمل کو ماہ ذوالحجۃ کے خاص دنوں میں انجام دیں نہ کسی دوسرے ماہ یا دوسرے دنوں میں۔ اسی طرح سب پر لازم ہے کہ وہ اس عمل کو ایک خاص سرزمین پر انجام دیں، ایسی سرزمین جس پر پہلی بار خداوند یکتا کی عبادت کیلئے ایک گھر تعمیر کیا گیا۔ ایسا کیوں ہے؟، کیا اسکے علاوہ اس سرزمین کا فرزندان توحید کی میعادگاہ اور اجتماع کا مرکز قرار پانے کی کوئی اور وجہ ہے؟، کیا اسکے اس سرزمین پر فرزندان توحید کا وحدت اور توحید کے رنگ میں رنگے جانے کی کوئی اور وجہ ہے؟۔ علامہ کاشف الغطاء نے کیا خوب کہا ہے کہ: "بنی الاسلام علی کلمتین کلمۃ التوحید و توحید الکلمۃ" یعنی اسلام کی عمارت دو ستونوں پر قائم ہے، ایک خداوند یکتا کی عبادت اور دوسرا اسلامی معاشرے کی وحدت اور اتحاد۔ 

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حج وحدت بخش:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور ان میں مساوات کے بارے میں مشہور و معروف حدیث میں اس طرح سے بیان فرمایا ہے: "ایھا الناس ان ربکم واحد و ان آبائکم واحد کلکم لآدم و آدم من تراب، ان اکرمکم

” امام علی علیہ السلام مختلف اسلامی احکام کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے حج کے بارے میں فرماتے ہیں: "و الحج تقویۃ للدین (یا تقربۃ للدین)" یعنی حج کا فلسفہ دین کی تقویت (یا پیروان دین کو ایکدوسرے سے نزدیک کرنا) ہے۔ “

عنداللہ اتقیکم و لیس لعربی علی عجمی فضل الا بالتقوی"۔ یعنی "اے لوگو، تم لوگوں کا پروردگار ایک ہے، تم لوگوں کا باپ ایک ہے، تم سب لوگ آدم علیہ السلام کے فرزند ہو، اور آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ تم میں سے سب سے زیادہ قابل احترام وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقوی کے ذریعے"۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ باتیں، جو وحدت اور اتحاد کی طرف دعوت ہیں، کہاں اور کس وقت کہیں؟، مکہ، منی اور عرفات کی سرزمین پر، حج انجام دیتے ہوئے، اپنی زندگی کے آخری حج کے موقع پر جو حجۃ الوداع کے نام سے معروف ہے۔ انہوں نے اس اعلان کیلئے اس جگہ کا انتخاب کیوں کیا؟، کیونکہ قیامت تک جب بھی لوگ یہاں حج کرنے آئیں تو وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحت کو یاد کریں اور ہوشیار ہو جائیں کہ تفرقہ بازی کا رستہ اختیار نہ کریں۔ یہاں پر ایکدوسرے کے ہاتھ کو دوستی اور بھائی چارے میں دبائیں۔ باہمی اتحاد کی تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیں اور ایکدوسرے کے ساتھ مادی اور معنوی معاہدوں، قراردادوں اور تحائف کا تبادلہ کریں۔ 

حج، امام علی علیہ السلام کی زبانی:
امام علی علیہ السلام مختلف اسلامی احکام کے فلسفے کو بیان کرتے ہوئے حج کے بارے میں فرماتے ہیں: "و الحج تقویۃ للدین (یا تقربۃ للدین)" یعنی حج کا فلسفہ دین کی تقویت (یا پیروان دین کو ایکدوسرے سے نزدیک کرنا) ہے۔ بہرحال ان دونوں میں سے ایک مقصود ہے۔ اگر اس بیان کا مطلب یہ ہو کہ حج کا فلسفہ دین کو مضبوط کرنا ہے تو اسکا معنا یہ بنے گا کہ حج کے عظیم اجتماع کے ذریعے مسلمانوں کے ایکدوسرے سے تعلقات مزید مضبوط ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کا ایمان مزید پکا ہو جاتا ہے، اس طرح سے اسلام اور زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر امام علی علیہ السلام کا مقصود یہ ہو کہ حج کا فلسفہ دین کو نزدیک کرنا ہے تو اسکا معنا یہ ہو گا کہ حج کا مقصد مسلمانوں کے قلوب کو ایکدوسرے سے نزدیک کرنا ہے جسکا نتیجہ بھی اسلام کی مضبوطی اور طاقت ہے۔ اسی طرح امام علی علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں: "جعلہ سبحانہ و تعالی للاسلام علماً" یعنی خداوند عالم نے کعبہ کو اسلام کا پرچم قرار دیا ہے۔ قدیم الایام سے معمول ہے کہ ایکدوسرے سے جنگ کرنے گروہ

” امام علی علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں: "جعلہ سبحانہ و تعالی للاسلام علماً" یعنی خداوند عالم نے کعبہ کو اسلام کا پرچم قرار دیا ہے۔ “

اپنا ایک مخصوص پرچم بھی ساتھ رکھتے تھے۔ یہ پرچم انکی بقا، آزادی اور مزاحمت کی علامت جانا جاتا تھا۔ اس پرچم کے اونچا ہونے کا مطلب اس گروہ کا اجتماعی اعتبار سے زندہ ہونا اور اسکے سرنگوں ہونے کا مطلب اس کی شکست ہوتی تھی۔ گروہ کا سب سے زیادہ بہادر اور شجاع انسان اس پرچم کو اٹھانے کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔ گروہ کے دلیر افراد اس پرچم کے اردگرد جمع ہوتے تھے تاکہ اسکو گرنے سے بچائے رکھیں۔ لیکن اسکے برعکس، دشمن کی ساری کوشش یہ ہوتی تھی کہ انکے پرچم کو سرنگوں کرے۔ پرچم ایک مقدس اور قابل احترام چیز تھی۔ آج بھی پرچم قوموں اور ملکوں کی خودمختار حیثیت، آزادی اور اتحاد کی علامت ہے۔ ہر ملک کا ایک پرچم ہے جسکو مقدس جانا جاتا ہے اور اس پر قسم بھی کھائی جاتی ہے۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "خانہ کعبہ اسلام کا پرچم ہے"۔ یعنی اسی طرح جیسے ایک پرچم کسی معاشرے کے اتحاد اور باہمی تعاون کی علامت ہوتا ہے اور اس کا سربلند ہونا انکے زندہ ہونے کی نشانی ہے، خانہ کعبہ بھی اسلام کی نسبت وہی مقام رکھتا ہے۔
 
امام جعفر صادق علیہ السلام اور حج:
امام صادق علیہ السلام ایک مفصل حدیث میں جو مختلف کتابوں میں موجود ہے فرماتے ہیں: "فجعل فیھم الاجتماع من الشرق و الغرب لیتعارفوا" یعنی خداوند عالم نے یہ مقرر فرمایا ہے کہ دنیا کے مشرقی اور مغربی حصوں سے تمام افراد وہاں پر جمع ہوں تاکہ ایکدوسرے کو پہچان سکیں۔ آج کل ایک اچھی رسم یہ ہے کہ وہ افراد جو کسی پروگرام یا اجتماع میں پہلی بار ایکدوسرے سے آشنا ہوتے ہیں آپس میں وزیٹنگ کارڈز کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایکدوسرے کا نام اور ایڈریس یادداشت کرتے ہیں۔ یہ کام بعد میں مزید آشنائی کا سبب بن جاتا ہے اور باعث بنتا ہے کہ وہ ایکدوسرے کی مصروفیات سے آگاہ ہوں اور اپنی پسندیدہ کتابیں دوسرے کو بھیج سکیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح سے انکے تعلقات مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ان کاموں کا زمینہ فراہم کر دیا تھا اور حج پر ایکدوسرے سے آشنا ہونے کی تاکید کی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "اسلام نے حج جیسے

” امام صادق علیہ السلام ایک مفصل حدیث میں جو مختلف کتابوں میں موجود ہے فرماتے ہیں: "فجعل فیھم الاجتماع من الشرق و الغرب لیتعارفوا" یعنی خداوند عالم نے یہ مقرر فرمایا ہے کہ دنیا کے مشرقی اور مغربی حصوں سے تمام افراد وہاں پر جمع ہوں تاکہ ایکدوسرے کو پہچان سکیں۔ “

اجتماع کو ایجاد کیا ہے تاکہ دنیا کے مشرق و مغرب سے لوگ اکٹھے ہوں اور ایکدوسرے کے ساتھ آشنا ہوں اور دوستی کریں"۔ ہم میں سے ہر فرد کو عربی اور دوسری مختلف زبانوں میں اپنا وزیٹنگ کارڈ بنوانا چاہئے تاکہ حج کے موقع پر دوسرے ممالک سے آئے ہوئے افراد کو دے سکیں اور اس طرح بعد میں ان سے دوستی کر سکیں۔ انکو کتاب بھیج سکیں، انکو اپنے ملک کی مذہبی صوتحال سے آگاہ کر سکیں، خود انکے ملکی حالات سے واقف ہو سکیں، مختلف ممالک میں اسلام کی حامی اور مخالف تنظیموں کو جان سکیں اور مفید اسلامی تحریکون سے تعاون کر سکیں۔ 

ہدف اور راستے کا ایک ہونا:
احرام دراصل خیالی اور وہمی قسم کی علامات اور افتخارات کو خود سے دور کرنا اور حقیقی افتخارات کی طرف لوٹنا ہے۔ احرام اس سوچ کی طرف پلٹنا ہے کہ آیا ٹوپی کے علاوہ ہم میں مردانگی کی کوئی علامت موجود ہے؟۔ حج خیالی اور نقلی محدودیتوں، لبادوں اور تنگ نظریوں کو توڑنے اور دور پھینکنے کا نام ہے۔ سب کا ایک گھر کے گرد طواف کرنا ایک ہدف اور ایک سوچ کی علامت ہے۔ سب افراد کا اکٹھے ایک صحرا میں رکنا اور ایک جیسے اعمال کا بجا لانا اور اکٹھے حرکت کرنا ایک راستے پر چلنے اور ایک اصول اور بنیاد پر قائم رہنے کی نشانی ہے۔ ایک انسانی معاشرہ مستقل اصولوں اور بنیادوں پر استوار ہونا چاہئے اور اسے انہیں اصولوں میں رہتے ہوئے حرکت کرنی چاہئے۔ انسانی معاشرہ اسی وقت ایک راستے پر متحرک ہو گا جب اس میں موجود افراد ہدف واحد رکھتے ہوں اور اس تک پہنچنے کیلئے ایک راستے کا انتخاب کر چکے ہوں۔ اسکے علاوہ انکا نظم و ضبط کا عادی ہونا، اپنے کمانڈر کے دستورات کی پیروی کرنا، دوسروں کے بارے میں بدبین نہ ہونا اور سب کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "ثم افیضوا من حیث افاض الناس"۔ اس آیہ شریفہ میں "فیضان" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ صحرا میں حجاج سمندر کی موج کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ اسکے بعد قریش اور اہل حمس کو خطاب ہوتا ہے: "آپ لوگ اپنے ٹھہرنے کی جگہ کو جدا نہیں کریں"۔ (وہ عرفات میں نہیں رکتے تھے بلکہ مزدلفہ کے مقام پر جو کچھ بلندی پر واقع ہے رکتے تھے)۔ 

حج اور اجتماعی وحدت:
حج کے اثرات میں سے ایک اجتماعی اتحاد اور ہم آہنگی ہے۔ ایک شخص کے اکیلے عرفات جا کر دعا کرنے اور 10 لاکھ افراد کے اکٹھے ہو کر جانے میں فرق ہے۔ انسان کی روح میں اجتماع کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی

” ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے: "لا یزال الدین قائماً ما قامت الکعبہ" یعنی جب تک کعبہ موجود ہے اسلام بھی قائم و دائم ہے، جب تک حج زندہ اور باقی ہے اسلام بھی زندہ اور باقی ہے۔ “

خصوصیت پائی جاتی ہے جسکو "محاکات" کہا جاتا ہے۔ اسلام نفسیاتی حوالے سے ایسے مذہبی اور معنوی ماحول کو اہمیت دیتا ہے جو انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات کے جاگنے کا سبب بنتا ہے۔ سوشل سائنس کے علماء کے نزدیک "محاکات" صرف مادی حیثیت رکھتا ہے اور محض ایک ردعمل ہے لیکن یہ دراصل روح میں موجود ایک صلاحیت ہے جسکو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف بیدار ہونے کی صورت میں ہی یہ ردعمل کئی سو گنا طاقتور ہو جاتا ہے۔ 

حج، عمل اور سوچ اور بیان اور لباس میں وحدت:
اسلام ہمیں یعنی مختلف قوموں کو جو نہ ایک نسل سے ہیں، نہ ایک زبان بولتے ہیں، نہ ایک رنگ کے ہیں اور نہ ایک حکومت اور قومیت رکھتے ہیں ایک سرزمین پر انتہائی روحانی آمادگی کے ساتھ جمع کرتا ہے۔ یہ ایک بے مثال اجتماع ہے، ایک ایسا اجتماع جو تعداد کے حوالے سے کم نظیر یا شائد بے نظیر لیکن کوالٹی کے لحاظ سے یقیناً بے نظیر ہے۔ کیونکہ یہ بالکل نیچرل ہے اور اسکے پیچھے کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔ یہ ایسا اجتماع ہے جو کسی لالچ کے بغیر ہے، بلکہ ہر لالچ کو ترک کرنے کے بعد ہے، ایک ایسا اجتماع جو عیش و عشرت اور تفریح کی خاطر بھی نہیں ہے۔ آج اسکی مشکلات اگرچہ کافی حد تک کم ہو گئی ہیں لیکن پھر بھی مشکلات کے ہمراہ ہے۔ ایک ایسا اجتماع ہے جس میں کم از کم عارضی طور پر ذاتی افتخارات اور انا پرستی کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ سب افراد ایک سوچ اور ایک ذکر اور ایک لباس اور ایک عمل کے ساتھ ایک راستے پر قدم اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
 
حج، وحدت کا راز:
ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے: "لا یزال الدین قائماً ما قامت الکعبہ" یعنی جب تک کعبہ موجود ہے اسلام بھی قائم و دائم ہے، جب تک حج زندہ اور باقی ہے اسلام بھی زندہ اور باقی ہے۔ کعبہ اسلام کا مقدس پرچم ہے اور مسلمانون کی وحدت اور خودمختاری کا راز ہے۔ یہاں سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام میں حج کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ لوگ کچھ سوچے سمجھے بغیر مکہ جائیں اور ایسے اعمال انجام دیں جنکو سمجھنے سے وہ قاصر ہیں بلکہ اسکا اصلی مقصد یہ ہے کہ خانہ کعبہ یعنی وہ گھر جو انسانی تاریخ میں سب سے پہلے خدای واحد کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا، کے زیر سایہ ایک قوم اور ملت کی صورت میں ایک ارادے کے

” اسلام میں حج کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ لوگ کچھ سوچے سمجھے بغیر مکہ جائیں اور ایسے اعمال انجام دیں جنکو سمجھنے سے وہ قاصر ہیں بلکہ اسکا اصلی مقصد یہ ہے کہ خانہ کعبہ یعنی وہ گھر جو انسانی تاریخ میں سب سے پہلے خدای واحد کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا، کے زیر سایہ ایک قوم اور ملت کی صورت میں ایک ارادے کے ساتھ اکٹھے ہوں۔ “

ساتھ اکٹھے ہوں۔ اسلام کا بنیادی اور حقیقی نعرہ "توحید" کا نعرہ ہے۔ کعبہ توحید کا گھر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا" یعنی لوگوں کیلئے سب سے پہلا گھر وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں موجود ہے۔
 
حج اور دلوں کا متحد ہونا:
یہ کہ مسلمان ظاہری طور پر مکہ میں جمع ہوں اور انکے دل ایکدوسرے کی دشمنی سے بھرے ہوئے ہوں اور کلام خداوندی "تحسبھم جمیعا و قلوبھم شتی" (تم سمجھتے ہو کہ وہ اکٹھے ہیں لیکن انکے دل ایکدوسرے سے دور ہیں) یا امام علی علیہ السلام کے اس قول "ایھا الناس المجتمع ابدانھم المختلف اھوائھم" (اے ایسے لوگو جنکے بدن اکٹھے ہیں لیکن خواہشیں اور آرزوئیں الگ الگ ہیں) کا مصداق ہوں، ایسا اجتماع اسلام کے مورد نظر نہیں ہے۔ حج ایسا اجتماع نہیں چاہتا اور خدا ایسے اجتماع پر رحمت کی نظر نہیں ڈالتا۔
 
حج اور وحدت:
اسلام خود بھی مسلمانوں کی وحدت کا خواہاں ہے اور حج کا ایک بڑا مقصد بھی اسلامی وحدت ہے۔ پہلا دعوی اس آیہ شریفہ سے ثابت ہوتا ہے کہ: "واعتصموا بحبل اللہ ۰۰۰ ولا تکونوا کالذین تفرقوا ۰۰۰ و لا تنازعوا فتفشلوا ۰۰۰ یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا " اور دوسرا دعوی امام علی علیہ السلام کے اس قول سے کہ: "و جعلہ للاسلام علما" خدا نے حج کو اسلام کا پرچم قرار دیا ہے تاکہ تمام مسلمان خود کو اسکے زیر سایہ جمع کریں۔ حج ایسا پرچم ہے جو تمام مسلمانوں کو اپنے زیرسایہ اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔ مولای متقین امام علی علیہ السلام نے اسی طرح فرمایا: "والحج تقویۃ للدین" حج کا فلسفہ دین کو مضبوط کرنا ہے۔ دین کو اس طرح سے مضبوط کرنا کہ مسلمان حج پر ایکدوسرے سے آشنا ہوتے ہیں اور انکی دوستی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔ 

حج اور مسلمانوں کے درمیان رابطے کی مضبوطی:
اسلام کی مضبوطی یعنی مسلمانوں کے درمیان رابطے کی مضبوطی اور انکو ایکدوسرے سے نزدیک کرنا۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: "یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا و رابطوا و اتقواللہ لعلکم تفلحون"۔ مسلمانوں کے اتحاد کے دو پہلو ہیں: ایک سیاسی میدان میں جو اسلامی ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور قوموں سے مربوط نہیں ہے۔ تمام اسلامی ممالک کا فائدہ اسی میں ہے کہ ایک اسلامی سیاسی پلیٹ فارم یا اعراب کے بقول "موتمر اسلامی" تشکیل پائے۔ مسلمانوں کے اتحاد کا دوسرا پہلو مسلمان قوموں کا اتحاد ہے۔ مسلمان قوموں کے درمیان بدبینی کی دیوار کو گرا دینا چاہئے۔ یہ آج کا سب سے زیادہ اہم وظیفہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے تعلق کو مضبوط کرتے ہوئے دین کو مستحکم کرنے کی خاطر انجام دینا ضروری ہے۔

 

 

 

قرآن کریم اور احادیث پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلط تفسیر و تشریح حالیہ برسوں میں تکفیری گروہوں کے پروان چڑھنے اور ان کی جانب سے دوسرے مسلمانوں بالخصوص شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دیئے جانے، اتحاد بین مسلمین کو پارہ پارہ کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و نفرت کا بیج بونے کے لئے تسلط پسند نظام کے نئے سیناریو کا نتیجہ ہے۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہ دہشتگردگروہ جو بظاہر اسلام پسند نظرآتا ہے خفیہ طور پر دنیا کی بڑی طاقتوں سے مالی مدد حاصل کرتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ طاقتیں ان گروہوں کو اپنے سیاسی اہداف کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

درحقیقت عالمی سامراج اور دنیا کی بڑی طاقتیں ان گروہوں کا پروپیگنڈہ کرکے انھیں مسلمانوں کی علامت کے طور پرپیش کرتی ہیں اور دنیا کے سامنے اسلام کو تشدد پسند مذہب کے طور پرپیش کرتی ہیں۔ اور یہ خود اسلامی ممالک میں مداخلت اور ان پر دباؤ ڈالنے کا بہانہ بن جاتا ہے۔

اس سلسلے میں رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای فرماتے ہيں: امریکہ اور اسرائیل کی سربراہی میں کفر ونفاق کے علمبردار چاہتے ہيں کہ جہاد و استقامت کو فرزندان اسلام کے قتل اور تکفیر کے منصوبے میں تبدیل کردیں، ایک جملے میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ عالم اسلام پر شیعہ و سنی جنگ مسلط کرناچاہتے ہيں اور اپنے خیال خام میں اس طرح عالم اسلام کے تمام مادی و معنوی امورکو اپنے کنٹرول میں لے لیناچاہتے ہیں۔

اس عمل میں انسانی حقوق کی اصلی خلاف ورزی کرنے والے تکفیریوں کے حامی ہيں جو مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ شیعہ و سنی کو برا بھلاکہہ کراور ان پرتہمت لگا کر انھیں مشتعل کیا جاتا ہے اور اس کام میں مغرب کی سرمایہ کاری اور ان کے ذرائع ابلاغ کا استعمال کرکے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا جاتا ہے جو خود اس اختلاف و تفرقہ سےعالمی سامراجی محاذ کوحاصل ہونے والے منافع کو ظاہرکرتا ہے۔

اس سلسلے میں رہبرانقلاب اسلامی فرماتے ہيں : مسلمان سے مسلمان کی جنگ کے عامل وہ لوگ ہیں جو سامراج کے ایجنٹوں کے پیسے استعمال کرتے ہیں ۔ وہ دشمن کی پروپیگنڈہ مشینریوں کے ذریعے، رائے عامہ کی نظر میں اسلام کو برا بنا کر ظاہر کرتے ہیں جب ٹیلی ویژن پر ایک انسان کو ایک دوسرے انسان کا جگر چباتے ہوئے دکھایاجاتا ہے تو دنیا اسلام کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ دشمنان اسلام نے منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ وہ چیزیں نہيں ہے جو اچانک پیدا ہوگئي ہیں یہ گھنٹوں میں وجود میں آنے والی چیزیں نہيں ہيں ، یہ وہ چیزیں ہيں جن کے بارے میں مدتوں پروگرام بنایاگیا ہے، اس کے پیچھے سیاست ہے ،اس کے پیچھے پیسہ ہے ، اس طرح کے کاموں کے پیچھے جاسوس تنظیمیں ہيں۔

رہبرانقلاب اسلامی کی نظر میں یہ لوگ نہ شیعہ ہیں نہ سنی بلکہ صرف جنگ بھڑکانے، جھگڑا کرانے اور دشمنان اسلام کے اہداف و مقاصد کو آگے بڑھانے والے ہيں۔ آپ اسلام کا اصلی دشمن، اشتعال دلانے والوں اور تکفیریوں کی مالی واسلحہ جاتی مدد کرنے والوں کو قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہيں : اصلی دشمن وہ ہیں جو انکا محرک ذرا کمزور پڑ تے ہی ان کی طرح طرح سے مدد کرکے ان کے اندر محرک پیدا کرتے ہیں۔اصلی دشمن وہ شخص ہے جو اس نادان، جاہل، گروہ کو مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کے لئے استعمال کرتا ہے، یہ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں۔ لہذا میں نے باربار کہاہے کہ عقل سے عاری یہ گروہ  جو سلفیت اور تکفیریت کے نام پر، اور اسلام کے نام پر مسلمانوں سے جنگ کررہا ہے ہم اسے اصلی دشمن نہيں سمجھتے ، انھیں فریب خوردہ سمجھتے ہيں ،اصلی دشمن پردے کے پیچھے بیٹھا ہوا ہے، وہ ہاتھ بہت خفیہ بھی نہيں ہے ، بلکہ سیکورٹی ایجنسیوں کی آستینوں سے باہر آتا ہے، اور مسلمانوں کاگریبان پکڑتا ہے اور انھیں ایک دوسرے سے لڑاتا ہے۔                   

قرآن کریم نے تفرقہ ڈالنے سےخبردار کرتے ہوئے تقرقہ ڈالنے والوں کو اسلام سے الگ اور دشمن اسلام قراردیا ہے اور پورے یقین سے کہتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے آئين کو پراگندہ کرلیا، اور طرح طرح کے گروہوں میں بٹ گئے اے پیغمبر ان سے آپ کا کوئي واسطہ نہيں ہے ، ان کا سروکار صرف اللہ سے ہے۔

قرآن کریم نے انتشار اور تفرقے کو مشرکوں کی منصوبہ بندی بتایا ہے اور مسلمانوں کو اس سے سختی سے روکا ہے اور اتحاد کے ساتھ توحید کی طرف دعوت دی ہے اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ : ان مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ کہ جنھوں نے اپنا دین پراگندہ کرلیا اور گروہوں اور دھڑوں میں تقسیم ہوگئے۔

مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقے کا ایک  نتیجہ، اسلامی بیداری سے انحراف ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی اس نکتے کے پیش نظر فرماتے ہيں: آج اسلامی بیداری تحریک کو جس چیز سے سب سے بڑا خطرہ ہے وہ اختلاف ڈالنا اور ان تحریکوں کا خونریز قومی ، نسلی اور مذہبی جھڑپوں میں تبدیل ہوجاناہے۔

یہ سازش اس وقت مغرب اور صیہونیزم کی جاسوسی تنظیموں کی جانب سے، پیٹروڈالر اور خودفروش سیاستدانوں کی مدد سے، مشرق سے لےکر شمالی افریقہ تک بالخصوص عرب علاقے میں پوری سنجیدگی اور زور وشور سے جاری ہے اور جو دولت مخلوق خدا کی خدمت کےلئے خرچ ہونی چاہئےتھی وہ دھمکی، قتل ، بم دھماکوں، مسلمانوں کاخون بہانے اور طویل مدت کینےکی آگ بھڑکانے پرخرچ ہو رہی ہے۔

اس بیچ اس ہلاکت خیز فتنے میں جو چیز ضروری ہے وہ بصیرت غور و فکر ، تدبر و تفکر اور گہرا تجزیہ ہے تاکہ اختلاف و تفرقے اور دشمنان اسلام کی عیاری ومکاری سے بچتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں ناکام بنائی جاسکیں۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اس سلسلے میں فرماتے ہيں:اس طرح کے مواقع پر جس طرح کی بصیرت ضروری ہے اس کاذکر روایتوں اورائمہ علیھم السلام کے کلام میں موجود ہے اور اس پر تاکید کی گئی ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے زمانے کےحالات و واقعات پرغور وفکر کرناچاہئے اور آسانی کے ساتھ اسے نظرانداز نہ کرے۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے بقول عبرت حاصل کرے، حضرت نےفرمایا رحم اللہ امرا تفکر فاعتبر، غور و فکر اور اس کے نتیجے کی بنیاد پر عبرت حاصل کرے یعنی مسائل کا تدبر کےساتھ جائزہ لے۔حالات کا درست جائزہ لینا اور غور و فکر کرنا انسان میں بصیرت کا باعث ہوتا ہے اس سے بصیرت پیدا ہوتی ہے یعنی غور و فکر انسان کے اندر بینائی پیدا کرتی ہے اورانسان کو حقیقت نظرآنے لگتی ہے۔

بابصیرت انسان بخوبی سمجھتا ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنےکی کوشش کرتا ہے اسے ضرور سامراج کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہدایات ملتی ہيں ۔آپ اس سلسلے میں مسلمانوں کے لئے ایک مجموعی اصول بیان کرتے ہوئےفرماتے ہيں:  آج دنیائے اسلام میں اتحاد کے لئے جو آواز بھی بلند ہوتی ہے وہ الہی آواز ہے ۔یعنی وہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اور جو آواز بھی اسلام کے مختلف فرقوں میں اختلاف ڈالے یا ایک دوسرے سے دشمنی کے لئے اکسائے اور تعصب کو ھوا دے وہ شیطانی آواز ہے جو لوگ ابلیس کی زبان میں بات کرتے ہیں وہ خود کو اور اپنے سننےوالے کو جہنم کی طرف لے جاتے ہيں خود کو ہلاکت میں مبتلاء کرتے ہيں۔کیا نہيں دیکھاکہ جو لوگ نعمت الہی کوکفران الہی میں تبدیل کرتے ہيں ، وہ اپنی قوم کو نابودی کی جانب لےجاتے ہيں، نابودی وہی جہنم ہے جس کی آگ میں وہ ڈالے جائيں گے اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے۔

فتنہ و فساد کی آگ میں جو چیز سامراج کے مفادات اور مذموم عقائد کوناکام بناتی ہے وہ وحدت مسلمین ہے چنانچہ قرآن اتحاد کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سب لوگ اللہ کی رسی کومضبوطی سے پکڑ لو اور متفرق نہ ہو۔ اسی طرح پیغمبراسلام فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان ایک ہاتھ کی مانند اغیار کے سامنے متحد ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی فرماتے ہيں : اس وقت عالم اسلام کے پاس اپنی قوموں کے مفادات کے تحفظ کے لئے واحد راستہ اسلام کے محور پر اتحاد قائم کرنا ہے، دشمنوں اور مستکبرین کے سامراجی اہداف کا انکار ہے۔ استکبار کا مقصد دنیائے اسلام بالخصوص مشرق وسطی میں دینی اور قومی  تشخص پامال کرنا ہے ۔ اس مقصد کا مقابلہ کرنے کےلئۓ مزید اتحاد ، مزید یکجہتی، اسلام سے تمسک، اسلام کی ترویج و تبلیغ اور امریکہ اور سامراج کی زیادہ طلبی کا انکار ہے۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تاریخ انسانی میں کسی بھی قوم یا امت کو اختلاف کےعالم میں کوئي نعمت نہيں دی ہے ۔

اختلاف و تفرقہ باعث بنتا ہے کہ اللہ تعالی لوگوں سے عزت اور فراوانی نعمت سلب کرلے۔ چنانچہ اس وقت عالم اسلام کو ہرچیز سے پہلے ، پہلے سے زيادہ اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ مسلمانوں کی صفیں، دشمنان اسلام کے پیکر پر لرزہ طاری کردیں۔

 

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے محرم الحرام کے مہینے میں عزاداری سیدالشہداء سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر تاکید کے ساتھ، لبنان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے شمال میں فتنوں اور سازشوں کو کچلنے کے لئے اچھی منصوبہ بندی کریں۔

 المنار ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ نے عشرہ محرم کی پہلی رات اپنے ایک ویڈیو خطاب میں فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایام شہادت کی مناسبت سے تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علاقے اور لبنان کو وسیع تبدیلیاں کا سامنا ہے۔

 حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ سال  1436 ہجری قمری کا سال ایسی صورت حال میں شروع ہورہا ہے کہ علاقے کو وسیع سیاسی، سیکیورٹی، نظریاتی، دینی، ایمانی، اقتصادی، سماجی اور حیاتی خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے اور لبنان بھی اس علاقے کا حصہ ہے اور آج جو کچھ لبنان کے شمال میں واقع شہر طرابلس میں ہورہا ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ان ایام میں عزاداری اباعبداللہ الحسین پرامن طریقے سے منعقد  ہوگی اور لبنان کی سیکیورٹی فورسز ملک میں جاری فتنہ و فساد پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی۔

 حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے لبنان کے تمام سیاسی گروہوں کے رہنماؤں، سرکاری حکام اور علماء سے اپیل کی کہ وہ ملک میں پائیدار امن کی برقراری میں ایک دوسرے سے تعاون کریں، تاکہ تفرقہ پھیلانے پر مبنی دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوں۔

 

 

رپورٹ کے مطابق ایران کے بزرگ مرجع تقلید آيت اللہ نووری ہمدانی نے کہا کہ آج شیعہ و سنی کا مسئلہ درپیش نہيں ہے اور عالمی صیہونیزم اور سامراج کے سامنے ہم سبھی ایک صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔
آیت اللہ نوری ہمدانی نے کہا کہ آج ایران کی طاقت اور امن وامان حریت پسندوں اور تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔
آيت اللہ نوری ہمدانی نے مزید کہا کہ سنی شیعہ آپس میں بھائی اور اس دشمن کے سامنے متحد ہیں جوکمین لگائے بیٹھا ہے اوراللہ تعالی کے لطف وکرم سے رہبرانقلاب اسلامی کے افکار و نظریات کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عظمت واقتدار اپنے عروج پر ہے.

 

۲۰۱۴/۱۰/۲۲-  رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بین الاقوامی اور داخلی اولمپکس کے ممتاز طلباء اور یونیورسٹیوں کے سیکڑوں طلباء کے ساتھ ملاقات میں علمی تحقیقاتی مراکز اور یونیورسٹیوں میں علمی پیداوار کے عظیم اور کامل نیٹ ورک کے قیام پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایران کو ملک کے جوانوں کی استعداد اور صلاحیتوں نیز ایرانی زمین کے اوپر موجود وسائل پر تکیہ کرتے ہوئے ادارہ کرنا چاہیے اور زمین کے اندر موجود تیل کی درآمد  اور دوسرے زیر زمین وسائل پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےممتاز اور ملک کے تابناک مستقبل کی نوید دینے والے طلباء کے ساتھ ملاقات کو بہت ہی لطف اندوز اور شریں قراردیا اور برتر علمی جوانوں کو سفارش کی کہ وہ وطن کے مایہ ناز گھر کو اپنی فکری طاقت اور عزم و ارادہ کے ساتھ اس طرح بنائیں کہ وہ ایرانی قوم اور تاریخ کے لئے مایہ ناز اور قابل فخر ہو۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے برتر اور ممتاز ہونے اور اس کے اصل مفہوم کے بارے میں غور و فکر کرنے کی تمام ممتاز طلباء کو دعوت دیتے ہوئے فرمایا: برتری تین خصوصیات " ہوش و استعداد" ، " کام و تلاش اور مطالعہ کے لئے بڑی ہمت" اور " اس کے نتائج کے حصول کے لئے قابل تحسین حوصلہ" پر مشتمل ہے اور ان خصوصیات پر عالمانہ اور حکیمانہ نگاہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالی کی نعمت اور رزق ہیں۔

رہبر معظم انقلاب سلامی نے الہی رزق کے انفاق کے بارے میں قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: علم و دانش کے رزق کو اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے ساتھ نیکی کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور اس کو ملک و قوم اور معاشرے کی حال و آئندہ کی خدمت میں صرف کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ممتاز جوان طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اگر آپ علمی برتری کی نعمت کو انفاق کریں تو اللہ تعالی کی ہدایت آپ کے شامل ہوجائے گی اور آپ کی اس علمی برتری میں مزید اضافہ ہوجائےگا اور اللہ تعالی آپ کو ایسے میدانوں کی طرف ہدایت کرےگا جو آپ کے علم و دانش کے لئے ضروری ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دفاع مقدس میں شہید چمران کے حضوراور ایٹمی میدان میں شہید شہریاری کی کوششوں کو ملک اور معاشرے کے لئے علمی انفاق کے دو مصداق اور الہی ہدایت کے دو واضح اور آشکار نمونے قراردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حالیہ ایک عشرے میں ملک کی علمی و سائنسی ترقیات اور برق رفتار علمی حرکت کے استمرار کو حقیقی اور واقعی ضرورت قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے نام حالیہ حکم میں تاکید کی گئی کہ علمی اور سائنسی حرکت کو کسی بھی وجہ سے تعطل کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر تعطل پیچھے رہنے کا موجب بنتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےعلم و دانش کے میدان میں قوموں اور ملکوں میں جاری سریع عالمی مقابلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علمی اور سائنسی برق رفتار ترقی کے باوجود ایران کی علمی پسماندگی اتنی زيادہ ہے کہ ابھی تک ایران دنیا میں اپنے شائستہ مقام تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ تمام شرائط اور ضروریات کے ساتھ  علمی ترقی و پیشرفت ، علمی بنیاد پر اقتصاد اور علمی بنیاد پر کمپنیوں کی حمایت اور تقویت کے ساتھ جاری و ساری رہنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی نجات اور قوم کے روشن مستقبل کو علمی بنیاد کی تقویت پر مبنی قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ قومی ماہرین فاؤنڈیشن کے سربراہ نے صحیح اور درست بات کہی کہ زمین کے اندر موجود وسائل پر تکیہ کرنے سے ماہر و ممتاز افراد اور شخصیات کی پہچان، جذب اور ان کی فعالیت کے بارے میں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوگی اور ملک میں بھی عملی طور پرحقیقی پیشرفت حاصل نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زیر زمین ذخائر کی فروخت کے ذریعہ ملک کے چلانے کو قومی امیر بچوں سے تشبیہ کرتے ہوئے فرمایا: امیر اور مالدار لوگوں کے بچوں کو اپنے پیسے کی کوئی قدر نہیں ہوتی اور وہ پیسے کا غلط مصرف کرتے ہیں اور ملک کو تیل کی فروخت کے ذریعہ چلانے کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیل کی درآمد پر ملک کی معاشی اور اقتصادی منصوبہ بندی کے انحصار کا مطلب ایران کی معاشی اور اقتصادی پوزیشن کو عالمی پالیسی سازوں کے سپرد کرنا قراردیا اور تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کے اوپر نیچے ہونے اور اس میں اتار و چڑھاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جو ملک اپنے اقتصاد اور معیشت کی منصوبہ بندی اس طرح کرےگا ، اس کا مستقبل بھی معلوم ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذکورہ حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: ایران کو زیرزمین  وسائل پر تکیہ کرنے کے بجائے زمین کے اوپر کے وسائل یعنی جوانوں کے ہوش و استعداد اور علم و دانش پر تکیہ کرکے ملک کو چلانا چاہیے اور اس صورت میں دنیا کی کوئی بھی طاقت ایران کے اقتصادمیں خلل ایجاد کرنے پر قادر نہیں ہوگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مقالہ کی تحریر اور علمی پیدوار کے درمیان تفاوت اور تفکیک کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: البتہ علمی سطح پر اہم اور مرجع مقالات کی خاص اہمیت اور قدر و منزلت ہے لیکن یہی سب کچھ نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سفارش کرتے ہوئے فرمایا: علمی مقالات کو اختراعات و ایجادات پر منتج اور ملک کی اندرونی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تمام اداروں اور وزارتخانوں کو علمی پیشرفت و ترقی کے سلسلے میں تلاش و کوشش کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ملک کا جامع  علمی نقشہ تمام شعبوں کے وظائف کو مشخص اور معین کرسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس حصہ میں اپنے بیان کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: تمام اداروں کی کوشش اور منصوبہ بندی کے ذریعہ  عظیم علمی پیداوار کا ایک حلقہ اور نیٹ ورک قائم کرنا چاہیے اور تمام شعبوں کو اس کے نفاذ میں ایکدوسرے کا بھر پور تعاون کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ممتاز و ماہر افراد کو اللہ تعالی کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط و مستحکم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: آپ جوانوں کے نورانی اور پاک  دل ، اللہ تعالی کی مرضی کے حصول اور الہی نعمات کے اضافہ میں گرانقدر عامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی ماہرین فاؤنڈیشن کے سربراہ اور سائنس و ٹیکنالوجی میں صدر جمہوریہ کے معاون ڈاکٹر ستاری کے اچھے بیانات کی تعریف اور تحسین کرتے ہوئے فرمایا: ان کے شہید والد بھی فکر ، ذہن اور آپریشن میں ممتاز و ماہر ہونے کے علاوہ  جذبہ ، ایمان اور سخت ترین میدانوں میں حاضر ہونے میں بھی بڑے ممتاز اور ماہر تھے۔

اس ملاقات کے آغاز میں سائنس و ٹیکنالوجی میں صدر  جمہوریہ کے معاون اور قومی ماہرین فاؤنڈیشن کے سربراہ جناب ڈاکٹر ستاری نے اپنے خطاب میں ایمان، اعتماد، اخلاص،ایثار اور وطن دوستی کو ملک کے ممتاز ماہرین کی نمایاں خصوصیات قراردیتے ہوئے کہا: ممتاز ماہرین اپنے وطن کے مقروض اور مدیون ہیں۔ ماہر وہ شخص ہے جو اپنے ملک و عوام کی خدمت میں اپنی تمام توانائیوں کو صرف کرے ۔

قومی ماہرین فاؤنڈیشن کے سربراہ نے اس ادارے کا اصلی مقصد ماہرین کی توانائیوں کے فروغ کو قراردیا اور ملک کی معیشت اور اقتصاد کے بعض طریقوں کی اصلاح پر تاکید کرتے ہوئے  کہا: ایک ایسی معیشت اور اقتصاد میں ممتاز ماہرین کی تربیت اور پرورش نہیں ہو سکتی جس کی معیشت اور اقتصاد تیل کی درآمد اور زیر زمین ذخائر سے وابستہ ہو۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں صدر جمہوریہ کے معاون نے ممتاز ماہرین کے تعاون سےملک کے اقتصاد و معیشت کی سمت و سو مختصر مدت میں تبدیل ہوسکنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ملک کی معیشت اور اقتصاد کی سمت و سو علم و دانش کے بنیاد پر تبدیل ہونی چاہیے اور یہ کام صرف تلاش و کوشش اور خلاقیت کے ذریعہ ممکن ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ستاری نے قومی ماہرین فاؤنڈیشن کے آئین ناموں کی اصلاح ، مہر ماہ سے اندراجات کے چارگنا اضافہ، وزارت تعلیم کے تعاون سے شہاب منصوبہ کے نفاذ ، ماہرین فاؤنڈیشن کے ثقافتی شعبہ میں تغییر و تحول، دوسرے ممالک میں مقیم  ایرانیوں کی ظرفیت سے استفادہ  اور ملکی ضروریات کے شعبوں میں دانشوروں کی تربیت کو قومی ماہرین فاؤنڈیشن کی فعالیت اور منصوبوں کا حصہ قراردیا۔


 

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انقلاب کے وفادار ساتھی اور سچے مجاہد مرحوم حبیب اللہ عسگر اولادی کے اہلخانہ اور ان کی یاد منعقد کرنے والے بعض اہلکاروں سے  ملاقات کی اور اس ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مرحوم عسگر اولادی کو تین ممتاز خصوصیات تدین، تخلق اور تفکر کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا: مرحوم عسگر اولادی کی سبق آموز خصوصیات میں ان کی تلاش و کوشش ، پیہم سیاسی تحرک اس حقیقت کا مظہر ہے کہ انسان کو جد وجہد اور جہاد کے میدان میں کبھی بھی ضعف ، سستی، کاہلی ، غفلت کا احساس اور گوشہ نشینی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔

اس ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات کے متن کو اس انقلابی شخصیت کی پہلی برسی کے موقع پر شائع کیا گيا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مؤمن کی موت اور حیات مبارک  اور برکات کی حامل ہے؛ اور جناب عسگر اولادی اس قسم کے انسان تھے، ان کی زندگی بھی بابرکت زندگی تھی اور موت کے بعد بھی ان کے برکات نمایاں ہیں، میری نظر میں زندگی کے تین حصوں میں  مرحوم عسگر اولادی ممتاز اور نمایاں انسان تھے۔

مرحوم کی زندگی کا پہلا حصہ دینی حصہ تھا؛ وہ حقیقت میں ایک دیندار، مذہبی انسان  ، عبادتگذار، دینی اور شرعی احکام کے پابند انسان تھے اور ان کی جوانی کے دور میں جدو جہد، سیاسی جماعت مؤتلفہ میں جد وجہد، جیل کے اند اور جیل سے باہر انقلاب کی کامیابی کے لئے ان کی تلاش و کوشش ، انقلاب کی کامیابی سے لیکر ابھی حال تک ان کی تلاش و کوشش اور نامہ نگاری کا اصلی سرچشمہ دینداری اور تدین تھا یعنی وہ حقیقت میں ذمہ داری کا احساس کرتے تھے۔

انھوں نے حال ہی میں مجھے ایک خط لکھا تھا خط کا مضمون تقریبا یہ ہے- میں اپنی زندگی کے اس آخری دور میں اپنی تمام کوششوں کو بروی کار لانا چاہتا ہوں، ان خطوط کو لکھ رہا ہوں اس رابطہ کو برقرار کررہا ہوں شرعی اور دینی ذمہ داری کے عنوان سے – یعنی مرحوم میں تدین کا جذبہ تھا جو انھیں ان برسوں میں انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد  دشوار جد وجہد کی طرف مائل کررہا تھا، تحریک انقلاب سے قبل اور جیسا کہ میں نے سنا ہے کہ فدائیان کے دور سے لیکن علماء کے جہاد تک اور سن 1341 اور 1342 سے لیکر عمر کے آخری حصہ تک مرحوم کی تمام کوششیں دینی جذبہ پر استوار تھیں یہ ایک ممتاز نقطہ ہے جو میری ںظر میں ایک انسان کی شخصیت میں بہت مؤثر ہے۔

زندگی کا دوسرا پہلو ، جو جناب عسگر اولادی میں موجود تھا وہ ان کا اخلاقی پہلو تھا وہ ایک ایسے انسان تھے جو شرعی حسن اخلاق کے حامل تھے؛ وہ حوصلہ مند، بہت زيادہ متین، صبور اور منصف مزاج انسان تھے ، تدین کی یہی تو علامتیں ہیں ورنہ اگر کوئی شخص نماز بھی پڑھے، نوافل بھی ادا کرے، نماز شب بھی پڑھے لیکن عوام کے ساتھ اس کی رفتار غیر منصفانہ ہو تو وہ کچھ نہیں ہے، مرحوم عسگر اولادی اخلاقی لحاظ سے دینی اخلاق کے حامل تھے یعنی وہ ایک صابر انسان تھے، وہ ایک متین انسان تھے، منصف مزاج انسان تھے، اور ان علائم کو ہم نے ان کی رفتار میں مشاہدہ کیا ہے۔ وہ ایک چوکس اور ہوشیار انسان تھے وہ اپنے نفس کے بارے میں چوکس اور ہوشیار تھے، وہ اپنی باتوں اور گفتگو کے بارے میں ہوشیار تھے یہ بہت اہم چیزیں ہیں کہ ہم اپنی زبان پر کنٹرول کریں ہرچیز بیان نہ کریں،وہ اپنے آپ کو کنٹرول کرتے تھے؛ یہ ان کی زندگی کا دوسرا پہلو اور اخلاقی پہلو ہے اور یہ اخلاق دین کی روح و جان ہےہر انسان کے لئے اس کا اخلاق اس کی دینداری کی روح ہے؛ بُعِثتُ لِاُتَمِّمَ مَكارِمَ الاَخلاق؛ مکارم اخلاق یہی ہیں یعنی انسان صبور ہو، متین ہو، منصف مزاج ہو، خوش اخلاق ہو، عوام کے ساتھ نیک رفتار ہو، خدمتگزار ہو، جد وجہد و تلاش و کوشش کا پیکر ہو، پیشقدم ہو، کاہل اور سست نہ ہو، یہی اسلامی اخلاقیات ہیں، یہ سب چیزیں جناب عسگر اولادی میں موجود تھیں  آپ سب نے مشاہدہ کیا اور آپ سب جانتے ہیں۔

مرحوم عسگر اولادی کی زندگی کا تیسرا پہلو فکری پہلو تھا،وہ یک فکری انسان تھے، سیاسی مسائل اور سماجی مسائل میں وہ ایک خوش فکر انسان تھے، ہرگز وہ ایک عام انسان نہیں تھے وہ تمام مسائل میں صاحب فکر و نظر تھے، وہ اقتصادی مسائل میں ، سیاسی مسائل میں اہل فکر تھے ، وہ صاحب فکر انسان تھے، وہ باشعور انسان تھے مسائل کو سمجھتے اور اچھی طرح پہچانتے تھے، میں جناب عسگر اولادی کو دور دور سے جانتا تھا، قریب سے نہیں دیکھا تھا، جب وہ جیل میں تھے، یہاں تک کہ وہ آزاد ہوئے، وہ جناب حیدری کے ہمراہ مشہد میں ہمارے گھر آئے؛ تو میں نے پہلی مرتبہ آقائ عسگر اولادی کو قریب سے مشاہدہ کیا اس سے قبل میں نے ان کو نہیں دیکھا تھا وہ آئے اور بیٹھ کر جیل کے بارے میں رپورٹ پیش کرنا شروع کی اور جیل میں موجود ان دوستوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ ہمیں پیش کی جو جیل میں آپس میں ایکدوسرے کے ساتھ لڑتے اور جھگڑتے تھے حقیقت میں ان کی باتوں کو میں نے توجہ اور غور کے ساتھ سنا ، انھوں نے انہی منافقین کی صورتحال کو دلائل کے ساتھ اور اچھے انداز میں پیش کیا، آرام اور سکون کے ساتھ تشریح کی، میں نے حقیقت میں کہا کہ یہ انسان اچھی طرح مسائل کو پہچانتا اور سمجھتا ہے، مرحوم ایک فکری انسان تھے۔ وہ جب بھی یہاں آتے تھے مختلف مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے تھے، اور اسی طرح ان کا چہرہ ایک فکری چہرہ تھا۔یعنی وہ صاحب فکر انسان تھے، صاحب استدلال انسان تھے، خوش فکر انسان تھے،صاحب منطق انسان تھے، وہ ایک جامع انسان تھے جن کا ذہن مختلف مسائل کے بارے میں کام کرتا تھا۔

اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے، انھوں نے بہت زیادہ کام انجام دیئے،امید وار ہیں کہ اللہ تعالی انھیں اجر و ثواب عطا فرمائے، ہمیں سبق سیکھنا چاہیے یہی تین خصوصیات جو میں نے ان کے بارے میں بیان کی ہیں یہ تینوں خصوصیات ہم سب کے لئے ایک درس ہیں تدین اور دینداری کی خصوصیت بھی، دینی اخلاق کی خصوصیت بھی اور فکر کی خصوصیت بھی؛ انسان کو دینی اصولوں کا پابند بھی ہونا چاہیے، شرع اسلام کا پابند بھی ہونا چاہیے، ہمیں محرمات الہی سے اجتناب اور پرہیز کرنا چاہیے؛ افراد کے لئے محرمات الہی مختلف ہیں، بعض کے لئے محرمات الہی کچھ اور ہیں اور ہمارے لئے محرمات کچھ اور ہیں؛ ہم غیبت کرتے اور غیبت سنتے ہیں خلاف واقعہ اور جھوٹی بات کرتے ہیں غلط اور جھوٹا فیصلہ بھی کرتے ہیں جہاں ہمیں بات کہنی چاہیے وہاں ہم خاموش رہتے ہیں، اور جہاں ہمیں خاموش رہنا چاہیے وہاں ہم بول جاتےہیں؛ یہ ہماری شرعی خلاف ورزیاں ہیں۔ان کی مراعات کرنی چاہیے ان کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے اخلاف و تخلق کی رعایت کرنی چاہیے یہ اخلاق حقیقت میں دینداری کی روح ہے؛ صبرکو حوصلہ کو، انصاف کو، عفو و درگذر کو سنجیدگی کو تلاش کو کاہلی اور سستی نہ کرنے جیسے اسباق کو ہمیں یاد کرنا چاہیے یہ چیزيں بہت ضروری ہیں۔

مرحوم کا سیاسی تحرک اسی (80) سال سے زائد کی عمر میں بھی جاری رہا یہ بات بہت اہم ہے، کہ انسان بڑھاپے کا احساس نہ کرے، اور جد وجہد کے میدان میں کاہلی ،سستی، کا احساس اور گوشہ نشینی اختیار نہ کرے ، یہ باتیں بہت ہی اہم ہیں۔

امید ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کے ساتھ اور ہمارے ساتھ اپنے لطف کے ساتھ عمل کرےگا انشاء اللہ اور اپنی رحمت سے ہمیں نوازےگا۔

والسّلام عليكم و رحمةاللَّه و بركاته


a

 

۲۰۱۴/۱۰/۲۱ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراق کے وزير اعظم جناب حیدر العبادی اور ان کے ہمراہ وفد کے ساتھ ملاقات میں علاقہ کے اہم ملک کے عنوان سےعراق میں امن و سلامتی،رفاہ و فلاح اور عزت اور اقتدار کو  اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے بہت بڑی اہمیت کا حامل قراردیا اور ایران کی طرف سےعراق کی نئی حکومت کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: عراق اور علاقہ کی موجودہ صورتحال شام میں بعض علاقائي اور غیر علاقائي ممالک کی غلط اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ عراقی عوام، حکومت اور عراقی جوان ملک میں امن برقرار کرنے اور دہشت گردوں کا بھر پور مقابلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور غیر ملکیوں کی عراق کو کوئي ضرورت نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آغاز میں عراق میں نئی حکومت کی تشکیل اور اس  بڑی کامیابی کے سلسلے میں عراقی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا: عراق علاقہ کا ایک بہت بڑا ، مؤثر اور عظیم ملک ہے اور اگر عراق میں امن و سلامتی برقرار ہوجائے اور حالات معمول پر آجائیں  تو یہ ملک اس صورت میں خطے میں اہم نقش ایفا کرسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کی سابق حکومت کی طرف سے امن و سلامتی برقرار کرنے اور عوام کی مشکلات دور کرنے کے سلسلے میں زحمات اوراقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم عراق اور علاقہ کے لئےجناب آقائ نوری مالکی کی عظیم خدمات اور زحمات کو فراموش نہیں کريں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جناب ڈاکٹر حیدر العبادی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ہم آپ کے ساتھ ہیں اور گذشتہ حکومت کی طرح آپ کا بھی اسی طرح سنجیدگی کے ساتھ دفاع کریں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہم دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کے روز افزوں استحکام پر اعتقاد اور یقین رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران اپنی استعداد اور توانائی کے مطابق ہر قسم کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔

رہبر معظم النقلاب اسلامی نے سکیورٹی اور امن و سلامتی کو عراق کی پہلی ترجیح قراردیتے ہوئے فرمایا: جیسا کہ ہم پہلے بھی اعلان کرچگے ہیں کہ عراقی عوام اور حکومت کو سکیورٹی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے دوسرے ممالک اور غیر ملکیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  عراق کی سکیورٹی اور سلامتی کو ایران کے لئے بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے  فرمایا: علاقہ کے پیچيدہ شرائط ایسے ہیں کہ علاقائي ممالک کی امن و سلامتی اور سکیورٹی ایکدوسرے سے الگ نہیں ہے اور اس کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران ، عراق کی سلامتی اور سکیورٹی کو اپنی سکیورٹی اور سلامتی سمجھتا ہے عراق ایران کا برادر اور ہمسایہ ملک ہےاور دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حالیہ برسوں میں شامی حکومت کے خلاف عراقی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی پالیسی کو درست اور مدبرانہ پالیسی قراردیتے ہوئےفرمایا: علاقہ کی موجودہ صورتحال غیر علاقائی اور بعض علاقائی طاقتوں کی  شام کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور غلط رفتار کا نتیجہ ہے اور پختہ عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے داعش کے خلاف کارروائي کرنے والے اتحاد کے دعوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمیں داعش کے خلاف بننے والے اتحادی ممالک کی باتوں پر کوئی اطمینان اور اعتماد نہیں ہے اور ہمارا اعتقاد اس بات پر ہے کہ داعش اور دہشت گردی کے معاملہ کا علاج علاقائي ممالک کے ذریعہ ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراقی حکومت کے قبائلی اور قومی اتحاد کی پالیسی کو کامل صحیح اور درست قراردیتے ہوئے فرمایا: عراق ایک جغرافیائی اکائی ہے اور اس میں شیعہ و سنی ، عرب و کرد کی تفکیک اور جدائی بے معنی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس معاملے کے بعض فریقوں اور بعض قبائل کو اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے اور عراق کے قومی اتحاد کے خلاف کوئی بھی اقدام عراق کی مصلحت میں نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کی گذشتہ حکومت کی طرح نئی حکومت کے ایک امتیاز کو عوامی آراء کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض افراد نہیں چاہتے کہ عوامی آراء اور انتخابات پر مبنی حکومت عراق اور علاقہ میں تشکیل پائے لیکن یہ اتفاق واقع ہوگیا ہے اور عراقی حکومت کو اس اہم محصول کی طاقت اور قدرت کے ساتھ حفاظت کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عراق کےدفاع کے لئے آمادہ جوانوں کو عراق کا بہت بڑا اور گرانبہا سرمایہ قراردیتے ہوئے فرمایا: حالیہ واقعات میں سب نے مشاہدہ کیا کہ خطرناک شرائط میں عراقی جوان کس طرح جان ہتھیلی پر رکھ کر  میدان میں وارد ہوئے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس عظیم سرمایہ کی قدر و منزلت پہچاننی چاہیے، اس لئے کہ یہی جوان ہیں جو ضرورت کے وقت عراقی حکومت کی مدد کریں گے۔

اس ملاقات میں ایران کے نائب صدر جناب جہانگیری بھی موجود تھے، عراقی وزير اعظم حیدرالعبادی نے عراق کی نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ایران کے اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئےکہا: ہم جنابعالی کے مؤقف اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے داعش اور دہشت گردوں کے خلاف ایران کے مدد اور حمایت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

عراقی وزير اعظم نے داعش دہشت گردوں کو پورے خطے کے لئے بہت بڑاخطرہ قراردیتے ہوئے کہا: افسوس ہے کہ بعض ممالک ابھی بھی اس عظیم خطرے کی طرف متوجہ نہیں ہیں ہم اس بات پر اعتقاد اور یقین رکھتے ہیں کہ ایران و عراق کی دونوں قوموں کی بصیرت، جنابعالی کی ہدایات اور علماء کی حمایت کے ذریعہ اس مرحلے سے عبور کرجائیں گے  اور دہشت گردوں کو پسپا کردیں گے۔

عراقی وزیر اعظم نے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بعض سازشوں کی طرف اشارہ کیا اور عراق کی نئی حکومت کو قومی اتحادی حکومت اور ایران و عراق کے باہمی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: ہم اس سفر میں دونوں ممالک کے مختلف میدانوں میں باہمی روابط کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔

 

 

Tuesday, 02 September 2014 00:00

سورہ انعام

بسم الله الرحمن الرحيم

عظیم اور دائمی رحمتوں والے خدا کے نام سے

        1      الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِم يَعْدِلُونَ

(1) ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور تاریکیوں اور نور کو مقرر کیا ہے اس کے بعد بھی کفر اختیار کرنے والے دوسروں کو اس کے برابر قرار دیتے ہیں 

        2        هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٍ ثُمَّ قَضَى أَجَلاً وَأَجَلٌ مُّسمًّى عِندَهُ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ

(2) وہ خدا وہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مقررہ مدت اس کے پاس اور بھی ہے لیکن اس کے بعد بھی تم شک کرتے ہو 

        3        وَهُوَ اللّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

(3) وہ آسمانوں اور زمین ہرجگہ کا خدا ہے وہ تمہارے باطن اور ظاہر اور جو تم کاروبار کرتے ہو سب کو جانتا ہے 

        4        وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

(4) ان لوگوں کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر یہ کہ یہ اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں 

        5        فَقَدْ كَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءهُمْ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاء مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ

(5) ان لوگوں نے اس کے پہلے بھی حق کے آنے کے بعد حق کا انکار کیا ہے عنقریب ان کے پاس جن چیزوں کا مذاق اڑاتے تھے ان کی خبریں آنے والی ہیں 

        6        أَلَمْ يَرَوْاْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَيْهِم مِّدْرَارًا وَجَعَلْنَا الأَنْهَارَ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ

(6) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے جنہیں تم سے زیادہ زمین میںاقتدار دیا تھا اور ان پر موسلادھار پانی بھی برسایا تھا -ان کے قدموں میں نہریں بھی جاری تھیں پھر ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری نسل جاری کردی 

        7        وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ

(7) اور اگر ہم آپ پر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی نازل کردیتے اور یہ اپنے ہاتھ سے چھو بھی لیتے تو بھی ان کے کافر یہی کہتے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے 

        8        وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ يُنظَرُونَ

(8) اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر مُلکُ کیوں نہیں نازل ہوتا حالانکہ ہم ملُک نازل کردیتے تو کام کا فیصلہ ہوجاتا اور پھر انہیں کسی طرح کی مہلت نہ دی جاتی 

        9         وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَاهُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ

(9) اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بھی بناتے تو بھی مرد ہی بناتے اور وہی لباس پہنچاتے جو مرد پہنا کرتے ہیں 

        10      وَلَقَدِ اسْتُهْزِىءَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ

(10) پیغمبر آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کا مذاق اُڑایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں مذاق اُڑانے والوں کے لئے ان کا مذاق ہی ان کے گلے پڑ گیا اور وہ اس میں گھر گئے 

        11      قُلْ سِيرُواْ فِي الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

(11) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ زمین میں سیر کریں پھر اس کے بعد دیکھیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے 

        12      قُل لِّمَن مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُل لِلّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ

(12) ان سے کہئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ سب کس کے لئے ہے؟ پھر بتائیے کہ سب اللہ ہیکے لئے ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دے لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے -جن لوگوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے وہ اب ایمان نہ لائیں گے 

        13      وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

(13) اور اس خدا کے لئے وہ تمام چیزیں ہیں جو رات اور دن میں ثابت ہیں اور وہ سب کی سننے والا اور سب کا جاننے والا ہے 

        14      قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلاَ يُطْعَمُ قُلْ إِنِّيَ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكَينَ

(14) آپ کہئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کسی اور کو اپنا ولی بنالوں جب کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا وہی ہے اور وہی سب کو کھلاتا ہے اس کو کوئی نہیں کھلاتا ہے. کہئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا اطاعت گزار بنوں اور خبردار تم لوگ مشرک نہ ہوجانا 

        15      قُلْ إِنِّيَ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

(15) کہئے کہ میں اپنے خدا کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے سنگین دن کے عذاب کا خطرہ ہے 

        16      مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ

(16) اس دن جس سے عذاب ٹال دیا جائے اس پر خدا نے بڑا رحم کیا اور یہ ایک کھلی ہوئی کامیابی ہے 

        17      وَإِن يَمْسَسْكَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدُيرٌ

(17) اگر خدا کی طرف سے تم کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کے علاوہ کوئی ٹالنے والا بھی نہیں ہے اور اگر وہ خیر دے دے تو وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے 

        18      وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ

(18) اور اپنے تمام بندوں پر غالب اور صاحب حکمت اور باخبر رہنے والا ہے 

        19       قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادةً قُلِ اللّهِ شَهِيدٌ بِيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

(19) آپ کہہ دیجئے کہ گواہی کے لئے سب سے بڑی چیز کیا ہے اور بتادیجئے کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں اور جہاں تک یہ پیغام پہنچےسب کو ڈراؤں کیا تم لوگ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ میں اس کی گواہی نہیں دے سکتا اور بتادیجئے کہ خدا صرف خدائے واحد ہے اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں 

        20      الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمُ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ

(20) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پیغمبر کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہنچاتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اپنے نفس کو خسارہ میں ڈال دیا ہے وہ ایمان نہیں لاسکتے 

        21      وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ

(21) اس سے زیادہ ظالم کون ہوسکتا ہے جو خدا پر بہتان باندھے اور اس کی آیات کی تکذیب کرے -یقینا ان ظالمین کے لئے نجات نہیں ہے 

        22     وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

(22) قیامت کے دن ہم سب کو ایک ساتھ اُٹھائیں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکائ کہاں ہیں جو تمہارے خیال میں خدا کے شریک تھے 

        23      ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

(23) اس کے بعد ان کا کوئی فتنہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے 

        24      انظُرْ كَيْفَ كَذَبُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ

(24) دیکھئے انہوں نے کس طرح اپنے آپ کو جھٹلایا اور کس طرح ان کا افترا حقیقت سے دور نکلا 

        25      وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ آيَةٍ لاَّ يُؤْمِنُواْ بِهَا حَتَّى إِذَا جَآؤُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَذَآ إِلاَّ أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ

(25) اور ان میں سے بعض لوگ کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں ... یہ سمجھ نہیں سکتے ہیں اور ان کے کانوں میں بھی بہراپن ہے -یہ اگر تمام نشانیوں کو دیکھ لیں تو بھی ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آئیں گے تو بھی بحث کریں گے اور کفار کہیں گے کہ یہ قرآن تو صرف اگلے لوگوں کی کہانی ہے 

        26      وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

(26) یہ لوگ دوسروں کو قرآن سے روکتے ہیں اور خود بھی دور بھاگتے ہیں حالانکہ یہ اپنے ہی کو ہلاک کررہے ہیں اور انہیں شعور تک نہیں ہے 

        27      وَلَوْ تَرَىَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

(27) اگر آپ دیکھتے کہ یہ کس طرح جہنّم کے سامنے کھڑے کئے گئے اور کہنے لگے کہ کاش ہم پلٹا دئیے جاتے اور پروردگار کی نشانیوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں شامل ہوجاتے 

        28       بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

(28) بلکہ ان کے لئے وہ سب واضح ہوگیا جسے پہلے سے چھپارہے تھے اور اگر یہ پلٹا بھی دئیے جائیں تو وہی کریں گے جس سے یہ روکے گئے ہیں اور یہ سب جھوٹے ہیں 

        29      وَقَالُواْ إِنْ هِيَ إِلاَّ حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

(29) اور یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اور ہم دوبارہ نہیں اُٹھائے جائیں گے 

        30      وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى رَبِّهِمْ قَالَ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

(30) اور اگر آپ اس وقت دیکھتے جب انہیں پروردگار کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ان سے خطاب ہوگا کہ کیا یہ سب حق نہیں ہے تو وہ لوگ کہیں گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کی قسم یہ سب حق ہے تو ارشاد ہوگا کہ اباپنے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو 

        31      قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَاء اللّهِ حَتَّى إِذَا جَاءتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُواْ يَا حَسْرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلاَ سَاء مَا يَزِرُونَ

(31) بیشک وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے اللہ کی ملاقات کا انکار کیا یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آگئی تو کہنے لگے کہ ہائے افسوس ہم نے قیامت کے بارے میں بہت کوتاہی کی ہے -اس وقت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پشت پر لادے ہوں گے اور یہ بدترین بوجھ ہوگا 

        32      وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ

(32) اور یہ زندگانی دنیا صرف کھیل تماشہ ہے اور دار آخرت صاحبان تقوٰی کے لئے سب سے بہتر ہے ... کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے 

        33      قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ

(33) ہمیں معلوم ہے کہ آپ کو ان کے اقوال سے دکھ ہوتا ہے لیکن یہ آپ کی تکذیب نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ ظالمین آیات الٰہی کا انکار کررہے ہیں 

        34      وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ وَلَقدْ جَاءكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ

(34) اور آپ سے پہلے والے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے تو انہوں نے اس تکذیب اور اذیت پر صبر کیا ہے یہاں تک کہ ہماری مدد آگئی اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور آپ کے پاس تو مرسلین کی خبریں آچکی ہیں 

        35      وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاء فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ

(35) اور اگر ان کا اعراض و انحراف آپ پر گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کے بس میں ہے کہ زمین میں سرنگ بنادیں یا آسمان میں سیڑھی لگا کر کوئی نشانی لے آئیں تو لے آئیں ....بیشک اگر خدا چاہتا تو جبرا سب کو ہدایت پر جمع ہی کردیتا لہذا آپ اپنا شمار ناواقف لوگوں میں نہ ہونے دیں 

        36       إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

(36) بس بات کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مفِدوں کو تو خدا ہی اُٹھائے گا اور پھر اس کی بارگاہ میں پلٹائے جائیں گے 

        37      وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللّهَ قَادِرٌ عَلَى أَن يُنَزِّلٍ آيَةً وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ

(37) اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی تو کہہ دیجئے کہ خدا تمہاری پسندیدہنشانی بھی نازل کرسکتا ہے لیکن اکثریت اس بات کو بھی نہیں جانتی ہے 

        38      وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

(38) اور زمین میں کوئی بھی رینگنے والا یا دونوں پروں سے پرواز کرنے والا طائر ایسا نہیں ہے جو اپنی جگہ پر تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتا ہو -ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے اس کے بعد سب اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہوں گے 

        39      وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ مَن يَشَإِ اللّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

(39) اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ بہرے گونگے تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور خدا جسے چاہتا ہے یوں ہی گمراہی میں رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم پر لگا دیتا ہے 

        40      قُلْ أَرَأَيْتُكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

(40) آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے پاس عذاب یا قیامت آجائے تو کیا تم اپنے دعوے کی صداقت میں غیر خدا کو بلاؤ گے

        41      بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ

(41) نہیں تم خدا ہی کو پکارو گے اور وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو رفع کرسکتا ہے ....اور تم اپنے مشرکانہ خداؤں کو بھول جاؤ گے 

        42      وَلَقَدْ أَرْسَلنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ

(42) ہم نے تم سے پہلے والی اُمتوں کی طرف بھی رسول بھیجے ہیں اس کے بعد انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ شاید ہم سے گڑ گڑائیں 

        43      فَلَوْلا إِذْ جَاءهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(43) پھر ان سختیوں کے بعد انہوں نے کیوں فریاد نہیں کی بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہوگئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا ہے 

        44      فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ

(44) پھر جب ان نصیحتوں کو بھول گئے جو انہیں یاد دلائی گئی تھیں تو ہم نے امتحان کے طور پر ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں سے خوشحال ہوگئے تو ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ مایوس ہوکر رہ گئے 

        45       فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

(45) پھر ظالمین کا سلسلہ منقطع کردیا گیا اور ساری تعریف اس خد اکے لئے ہے جو رب العالمین ہے 

        46      قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَـهٌ غَيْرُ اللّهِ يَأْتِيكُم بِهِ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ

(46) آپ ان سے پوچھئے کہ اگر خد انے ان کی سماعت و بصارت کو لے لیا اور ان کے دل پر مہر لگادی تو خدا کے علاوہ دوسرا کون ہے جو دوبارہ انہیں یہ نعمتیں دے سکے گا دیکھو ہم اپنی نشانیوں کو کس طرح الٹ پلٹ کردکھلاتے ہیں اور پھر بھی یہ منہ موڑ لیتے ہیں 

        47      قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ

(47) آپ ان سے کہئے کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ اگر اچانک یا علی الاعلان عذاب آجائے تو کیا ظالمین کے علاوہ کوئی اور ہلاک کیا جائے گا 

        48      وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

(48) اور ہم تو مرسلین کو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں اس کے بعد جو ایمان لے آئے اور اپنی اصلاح کرلے اس کے لئے نہ خوف ہے اور نہ حزن 

        49      وَالَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفْسُقُونَ

(49) اور جن لوگوں نے تکذیب کی انہیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے گا 

        50      قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ

(50) آپ کہئے کہ ہمارا دعو ٰی یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس خدائی خزانے ہیں یا ہم عالم الغیب ہیں اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مُلک ہیں. ہم تو صرف وحی پروردگار کا اتباع کرتے ہیں اور پوچھئے کہ کیا اندھے اور بینا برابرہوسکتے ہیں آخر تم کیوں نہیں سوچتے ہو 

        51      وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

(51) اور آپ اس کتاب کے ذریعہ انہیں ڈرائیں جنہیں یہ خوف ہے کہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور اس کے علاوہ کوئی سفارش کرنے والا یا مددگار نہ ہوگا شاید ان میں خوف خدا پیدا ہوجائے 

        52      وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ

(52) اور خبردار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے گا. نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انہیں دھتکار دیں اور اس طرح ظالموں میں شمارہوجائیں 

        53       وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاء مَنَّ اللّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ

(53) اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ وہ یہ کہیں کہ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہمارے درمیان فضل و کرم کیا ہے اور کیا وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بھی نہیں جانتا 

        54      وَإِذَا جَاءكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(54) اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ان سے کہئے السلام علیکم ...._ تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم قرر دے لی ہے کہ تم میں جو بھی ازروئے جہالت برائی کرے گا اور اس کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلے گا تو خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے 

        55      وَكَذَلِكَ نفَصِّلُ الآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ

(55) اور ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا راستہ ان پر واضح ہوجائے

        56      قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَهْوَاءكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ

(56) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس بات سے روکا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کا اتباع نہیں کرسکتا کہ اس طرح گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہ رہ سکوں گا 

        57      قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبْتُم بِهِ مَا عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ

(57) کہہ دیجئے کہ میں پروردگار کی طرف سے کھلی ہوئی دلیل رکھتا ہوں اور تم نے اسے جھٹلایا ہے تو میرے پاس وہ عذاب نہیں ہے جس کی تمہیں جلدی ہے حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے 

        58      قُل لَّوْ أَنَّ عِندِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ

(58) کہہ دیجئے کہ اگر میرے اختیار میں وہ عذاب ہوتا جس کی تمہیں جلدی ہے تو اب تک ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالمین کو خوب جانتا ہے 

        59      وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

(59) اور اس کے پاس غیب کے خزانے ہیں جنہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے اور وہ خشک و تر سب کاجاننے والا ہے -کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک و تر ایسا نہیں ہے جو کتاب همبین کے اندر محفوظ نہ ہو 

        60       وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

(60) اور وہی خدا ہے جو تمہیں رات میں گویا کہ ایک طرح کی موت دے دیتا ہے اور دن میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور پھر دن میں تمہیں اُٹھادیتا ہے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کی جاسکے -اس کے بعد تم سب کی باز گشت اسی کی بارگاہ میں ہے اور پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا 

        61      وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّىَ إِذَا جَاء أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ

(61) اور وہی خدا ہے جو اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم سب پر محافظ فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے نمائندے اسے اُٹھالیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے 

        62      ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ

(62) پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دئیے جاتے ہیں .... آگاہ ہوجاؤ کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بہت جلدی حساب کرنے والا ہے 

        63      قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَـذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ

(63) ان سے کہئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جسے تم گڑگڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گزار بن جائیں گے 

        64      قُلِ اللّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ

(64) کہہ دیجئے کہ خد اہی تمہیں ان تمام ظلمات سے اور ہر کرب و بے چینی سے نجات دینے والا ہے اس کے بعد تم لوگ شرک اختیار کرلیتے ہو 

        65      قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

(65) کہہ دیجئے کہ وہی اس بات پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا پیروں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یا ایک گروہ کو دوسرے سے ٹکرادے اور ایک کے ذریعہ دوسرے کو عذاب کا مزہ چکھادے -دیکھو ہم کس طرح آیات کو پلٹ پلٹ کر بیان کرتے ہیں کہ شاید ان کی سمجھ میں آجائے 

        66      وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ

(66) اور آپ کی قوم نے اس قرآن کی تکذیب کی حالانکہ وہ بالکل حق ہے تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں 

        67      لِّكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

(67) ہر خبر کے لئے ایک وقت مقررہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا 

        68      وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

(68) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کررہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مصروف ہوجائیں اور اگر شیطان غافل کردے تو یاد آنے کے بعد پھرظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا 

        69       وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَـكِن ذِكْرَى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

(69) اور صاحبان هتقو یٰ پر ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے لیکن یہ ایک یاددہانی ہے کہ شاید یہ لوگ بھی تقوٰی اختیار کرلیں 

        70      وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُواْ دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِهِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللّهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ وَإِن تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لاَّ يُؤْخَذْ مِنْهَا أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُواْ بِمَا كَسَبُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ

(70) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور انہیں زندگانی دنیا نے دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتے رہو کہ مبادا کوئی شخص اپنے کئے کی بنا پر ایسے عذاب میں مبتلا ہوجائے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سفارش کرنے والا اور مدد کرنے والا نہ ہو اور سارے معاوضے اکٹھا بھی کردے تو اسے قبول نہ کیا جائے یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے کرتوت کی بنا پر بلاؤں میں مبتلا کیا گیا ہے کہ اب ان کے لئے گرم پانی کا مشروب ہے اور ان کے کفر کی بنا پر دردناک عذاب ہے 

        71      قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللّهِ هُوَ الْهُدَىَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ

(71) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان اور اس طرح اللہ کے ہدایت دینے کے بعد اُلٹے پاؤں پلٹ جائیں جس طرح کہ کسی شخص کو شیطان نے روئے زمین پر بہکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں مارا مارا پھر رہا ہو اور اس کے کچھ اصحاب اسے ہدایت کی طرف پکار رہے ہوںکہ ادھر آجاؤ .... آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کی بارگاہ میں سراپا تسلیم رہیں 

        72      وَأَنْ أَقِيمُواْ الصَّلاةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِيَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

(72) اور دیکھو نماز قائم کرواور اللہ سے ڈرو کہ وہی وہ ہے جس کی بارگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے 

        73      وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّوَرِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ

(73) وہی وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ جب بھی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے اس کا قول برحق ہے اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہوگا وہ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا صاحب حکمت اور ہر شے سے باخبر ہے 

        74       وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ

(74) اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم  نے اپنے مربی باپ آزر سے کہا کہ کیا تو ان بتوں کو خدا بنائے ہوئے ہے .میں تو تجھے اور تیری قوم کو کِھلی ہوئی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں 

        75      وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ

(75) اور اسی طرح ہم ابراہیم  کو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوںمیں شامل ہوجائیں 

        76      فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَـذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِينَ

(76) پس جب ان پر رات کی تاریکی چھائی اور انہوں نے ستارہ کو دیکھا تو کہا کہ کیا یہ میرا رب ہے . پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا 

        77      فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَـذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لأكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ

(77) پھر جب چاند کو چمکتا دیکھا تو کہا کہ پھر یہ رب ہوگا .پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا کہ اگر پروردگار ہی ہدایت نہ دے گا تو میں گمراہوں میں ہوجاؤں گا 

        78      فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَـذَا رَبِّي هَـذَآ أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

(78) پھر جب چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا تو کہا کہ پھر یہ خدا ہوگا کہ یہ زیادہ بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اے قوم میں تمہارے شِرک سے بری اور بیزار ہوں 

        79      إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

(79) میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں 

        80      وَحَآجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلاَّ أَن يَشَاء رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ

(80) اور جب ان کی قوم نے ان سے کٹ حجتی کی تو کہا کہ کیا مجھ سے خدا کے بارے میں بحث کررہے ہو جس نے مجھے ہدایت دے دی ہے اور میں تمہارے شریک کردہ خداؤں سے بالکل نہیں ڈرتا ہوں .مگر یہ کہ خود میرا خدا کوئی بات چاہے کہ اس کا علم ہر شے سے وسیع تر ہے کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ہے

        81      وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

(81) اور میں کس طرح تمہارے خداؤں سے ڈر سکتا ہوں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ تم نے ان کو خدا کا شریک بنادیا ہے جس کے بارے میں خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں نازل ہوئی ہے تو اب دونوں فریقوں میں کون زیادہ امن و سکون کا حقدار ہے اگر تم جاننے والے ہو تو بتاؤ 

        82       الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ

(82) جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لئے امن وسکون ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں 

        83      وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاء إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

(83) یہ ہماری دلیل ہے جسے ہم نے ابراہیم  کو ان کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی اور ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے درجات کو بلند کردیتے ہیں . بیشک تمہارا پروردگار صاحب هحکمت بھی ہے اور باخبر بھی ہے 

        84      وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

(84) اور ہم نے ابراہیم  کو اسحاق  و یعقوب  دئیے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح  کو ہدایت دی اور پھر ابراہیم  کی اولاد میں داؤد ,سلیمان (ع)ایوب(ع) یوسف ,موسٰی ,اور ہارون  قرار دئیے اور ہم ِسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں 

        85      وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ

(85) اور زکریا  ,یحیٰی ,عیسٰی  اور الیاس کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے 

        86      وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ

(86) اور اسماعیل , الیسع ,یونس اور لوط  بھی بنائے اور سب کو عالمین سے افضل و بہتر بنایا 

        87      وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

(87) اور پھر ان کے باپ دادا ,اولاد اور برادری میں سے اور خود انہیں بھی منتخب کیا اور سب کو سیدھے راستہ کی ہدایت کردی 

        88      ذَلِكَ هُدَى اللّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(88) یہی خدا کی ہدایت ہے جسے جس بندے کو چاہتا ہے عطا کردیتاہے اور اگر یہ لوگ شرک اختیار کرلیتے تو ان کے بھی سارے اعمال برباد ہوجاتے 

        89      أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَـؤُلاء فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُواْ بِهَا بِكَافِرِينَ

(89) یہی وہ افراد ہیں جنہیں ہم نے کتاب ,حکومت اور نبوت عطا کی ہے . اب اگر یہ لوگ ان باتوں کا بھی انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں کا ذمہ دار ایک ایسی قوم کو بنایا ہے جو انکار کرنے والی نہیں ہے 

        90      أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُل لاَّ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ

(90) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے لہذا آپ بھی اسی ہدایت کے راستہ پر چلیں اور کہہ دیجئے کہ ہم تم سے اس کار تبلیغ و ہدایت کا کوئی اجر نہیں چاہتے ہیں یہ قرآن تو عالمین کی یاددہانی کا ذریعہ ہے 

        91       وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاء بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُكُمْ قُلِ اللّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ

(91) اور ان لوگوں نے واقعی خدا کی قدر نہیں کی جب کہ یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نہیں نازل کیا ہے تو ان سے پوچھئے کہ یہ کتاب جو موسٰی  لے کر آئے تھے جو نور اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی اور جسے تم نے چند کاغذات بنادیا ہے اور کچھ حصّہ ظاہر کیا اور کچھ چھپادیا حالانکہ اس کے ذریعہ تمہیں وہ سب بتادیا گیا تھا جو تمہارے باپ دادا کو بھی نہیں معلوم تھا یہ سب کس نے نازل کیا ہے اب آپ کہہ دیجئے کہ وہ وہی اللہ ہے اور پھر انہیں چھوڑ دیجئے یہ اپنی بکواس میں کھیلتے پھریں 

        92      وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى صَلاَتِهِمْ يُحَافِظُونَ

(92) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بابرکت ہے اور اپنے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ اس لئے ہے کہ آپ مکّہ اور اس کے اطراف والوں کو ڈرائیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں 

        93      وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوْحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثْلَ مَا أَنَزلَ اللّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِكَةُ بَاسِطُواْ أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ

(93) اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے یا اس کے نازل کئے بغیر یہ کہہ دے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے اور جو یہ کہہ دے کہ میں بھی خدا کی طرح باتیں نازل کرسکتا ہوں اور اگر آپ دیکھتے کہ ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور ملائکہ اپنے ہاتھ بڑھائے ہوئے آواز دے رہے ہیں کہ اب اپنی جان نکال دو کہ آج تمہیں تمہارے جھوٹے بیانات اور الزامات پر رسوائی کا عذاب دیا جائے گا کہ تم آیات خدا سے انکار اور استکبار کررہے تھے 

        94      وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاء ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاء لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

(94) اور بالآخر تم اسی طرح ہمارے پاس تنہا آئے جس طرح ہم نے تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ تمہیں دیا تھا سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارش کرنے والوں کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم نے اپنے لئے خدا کا شریک بنایا تھا. تمہارے ان کے تعلقات قطع ہوگئے اور تمہارا خیال تم سے غائب ہوگیا 

        95       إِنَّ اللّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ

(95) خدا ہی وہ ہے جو گٹھلی اور دانے کا شگافتہ کرنے والا ہے -وہ لَردہ سے زندہ اور زندہ سے لَردہ کو نکالتا ہے. یہی تمہارا خدا ہے تو تم کدھر بہکے جارہے ہو 

        96      فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ

(96) وہ نور سحر کا شگافتہ کرنے والا ہے اور اس نے رات کو وجہ سکون اور شمس و قمر کو ذریعہ حساب بنایا ہے . یہ اس صاحب هعزّت و حکمت کی مقرر کردہ تقدیر ہے 

        97      وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

(97) وہی وہ ہے جس نے تمہارے لئے ستارے مقرر کئے ہیں کہ ان کے ذریعہ خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرسکو -ہم نے تمام نشانیوں کو اس قوم کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جو جاننے والی ہے 

        98      وَهُوَ الَّذِيَ أَنشَأَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ

(98) وہی وہ ہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے پھر سب کے لئے قرار گاہ اور منزلِ ودیعت مقررکی ہے. ہم نے صاحبانِ فہم کے لئے تمام نشانیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے 

        99      وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

(99) وہی خدا وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر ہم نے ہر شے کے کوئے نکالے پھر ہری بھری شاخیں نکالیں جس سے ہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے شگوفے سے لٹکتے ہوئے گچھےّ پیدا کئے اور انگور و زیتون اور انار کے باغات پیدا کئے جو شکل میں ملتے جلتے اور مزہ میں بالکل الگ الگ ہیں -ذرا اس کے پھل اور اس کے پکنے کی طرف غور سے دیکھو کہ اس میں صاحبان هایمان کے لئے کتنی نشانیاں پائی جاتی ہیں 

        ۱۰۰    وَجَعَلُواْ لِلّهِ شُرَكَاء الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُواْ لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ

(100) اور ان لوگوں نے جنّات کو خدا کا شریک بنادیا ہے حالانکہ خدا نے انہیں پیدا کیا ہے پھر اس کے لئے بغیر جانے بوجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی تیار کردی ہیں .جب کہ وہ بے نیاز اور ان کے بیان کردہ اوصاف سے کہیں زیادہ بلند وبالا ہے 

        101    بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

(101) وہ زمین و آسمان کا ایجاد کرنے والا ہے -اس کے اولاد کس طرح ہوسکتی ہے اس کی تو کوئی بیوی بھی نہیں ہے اور وہ ہر شے کا خالق ہے اور ہرچیز کا جاننے والا ہے 

        102     ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

(102) وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں -وہ ہر شے کا خالق ہے اسی کی عبادت کرو .وہی ہر شے کا نگہبان ہے 

        103    لاَّ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

(103) نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے 

        104    قَدْ جَاءكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ

(104) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلائل آچکے ہیں اب جو بصیرت سے کام لے گا وہ اپنے لئے اور جو اندھا بن جائے گا وہ بھی اپنا ہی نقصان کرے گا اور میں تم لوگوں کا نگہبان نہیں ہوں 

        105    وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ وَلِيَقُولُواْ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

(105) اور اسی طرح ہم پلٹ پلٹ کر آیتیں پیش کرتے ہیں اور تاکہ وہ یہ کہیں کہ آپ نے قرآن پڑھ لیا ہے اور ہم جاننے والوں کے لئے قرآن کو واضح کردیں 

        106    اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ

(106) آپ اپنی طرف آنے والی وحی الٰہی کا اتباع کریں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور مشرکین سے کنارہ کشی کرلیں 

        107    وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكُواْ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ

(107) اور اگر خدا چاہتا تو یہ شرک ہی نہ کرسکتے اور ہم نے آپ کو ان کا نگہبان نہیں بنایا ہے اور نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں 

        108    وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(108) اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا 

        109    وَأَقْسَمُواْ بِاللّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الآيَاتُ عِندَ اللّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءتْ لاَ يُؤْمِنُونَ

(109) اور ان لوگوں نے اللہ کی سخت قسمیں کھائیں کہ ان کی مرضی کی نشانی آئی تو ضرور ایمان لے آئیں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں اور تم لوگ کیا جانو کہ وہ آبھی جائیں گی تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے 

        110    وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ

(110) اور ہم ان کے قلب و نظر کو اس طرح پلٹ دیں گے جس طرح یہ پہلے ایمان نہیں لائے تھے اور ان کوگمراہی میں ٹھوکر کھانے کے لئے چھوڑ دیں گے 

        111  وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلآئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلاً مَّا كَانُواْ لِيُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن يَشَاء اللّهُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

(111) اور اگر ہم ان کی طرف ملائکہ نازل بھی کردیں اور ان سے مردے کلام بھی کرلیں اور ان کے سامنے تمام چیزوں کو جمع بھی کردیں تو بھی یہ ایمان نہ لائیں گے مگر یہ کہ خدا ہی چاہ لے لیکن ان کی اکثریت جہالت ہی سے کام لیتی ہے 

        112    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاء رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

(112) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جنات و انسان کے شیاطین کو ان کا دشمن قرار دے دیا ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دھوکہ دینے کے لئے مہمل باتوں کے اشارے کرتے ہیں اور اگر خدا چاہ لیتا تو یہ ایسا نہ کرسکتے لہذا اب آپ انہیں ان کے افترا کے حال پر چھوڑ دیں 

        113    وَلِتَصْغَى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُواْ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

(113) اور یہ اس لئے کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل ان کی طرف مائل ہوجائیں اور وہ اسے پسند کرلیں اور پھر خود بھی ان ہی کی طرح افترا پردازی کرنے لگیں 

        114    أَفَغَيْرَ اللّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ

(114) کیا میں خدا کے علاوہ کوئی حکم تلاش کروں جب کہ وہی وہ ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب نازلکی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے انہیں معلوم ہے کہ یہ قرآن ان کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا ہرگز آپ شک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں 

        115    وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

(115) اور آپ کے رب کا کلمہ قرآن صداقت اور عدالت کے اعتبار سے بالکل مکمل ہے اس کا کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے 

        116    وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللّهِ إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَخْرُصُونَ

(116) اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کرلیں گے تو یہ راسِ خدا سے بہکادیں گے.یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں 

        117    إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

(117) آپ کے پروردگار کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے راستے سے بہکنےوالا ہے. اور کون ہدایت حاصل کرنے والا ہے 

        118    فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ

(118) لہذا تم لوگ صرف اس جانور کا گوشت کھاؤ جس پر خد اکا نام لیا گیا ہو اگر تمہارا ایمان اس کی آیتوں پر ہے 

        119     وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ

(119) اورتمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم وہ نہیں کھاتے ہو جس پر نام خدا لیا گیا ہے جب کہ اس نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے انہیں تفصیل سے بیان کردیا ہے مگر یہ کہ تم مجبور ہوجاؤ تو اور بات ہے اور بہت سے لوگ تو اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو بغیر جانے بوجھے گمراہ کرتے ہیں اور تمہارا پروردگار ان زیادتی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے 

        120    وَذَرُواْ ظَاهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُواْ يَقْتَرِفُونَ

(120) اور تم لوگ ظاہری اور باطنی تمام گناہوں کو چھوڑ دو کہ جو لوگ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا

        121    وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

(121) اور دیکھو جس پر ناهِ خدا نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھانا کہ یہ فسق ہے اور شیاطین تو اپنے والوں کی طرف خفیہ اشارے کرتے ہی رہتے ہیں تاکہ یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کر لی تو تمہارا شمار بھی مشرکین میں ہوجائے گا 

        122   أَوَ مَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(122) کیا جو شخص مفِدہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کیااوراس کے لئے ایک نور قرار دیا جس کے سہارے وہلوگوں کے درمیان چلتا ہے اس کی مثال اس کی جیسی ہوسکتی ہے جو تاریکیوں میں ہو اور ان سے نکل بھی نہ سکتا ہو -اسی طرح کفار کے لئے ان کے اعمال کو آراستہ کردیا گیا ہے 

        123    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

(123) اور اسی طرح ہم نے ہر قریہ میں بڑے بڑے مجرمین کو موقع دیا ہے کہ وہ مکاّری کریں اور ان کی مکاّری کا اثر خود ان کے علاوہ کسی پر نہیں ہوتا ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں ہے 

        124    وَإِذَا جَاءتْهُمْ آيَةٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللّهِ اللّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَ

(124) اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسی ہی وحی نہ دی جائے جیسی رسولوں کو دی گئی ہے جب کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے گا اور عنقریب مجرمین کو ان کے جرم کی پاداش میں خدا کے یہاں ذلّت اور شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا ہوگا 

        125     فَمَن يُرِدِ اللّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ

(125) پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ,وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کردیتاہے 

        126    وَهَـذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ

(126) اور یہ ہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے .ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے آیات کو مفصل طور سے بیان کردیا ہے 

        127    لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ

(127) ان لوگوں کے لئے پروردگار کے نزدیک دارالّسلام ہے اور وہ ان کے اعمال کی بنا پر ان کا سرپرست ہے 

        128    وَيَوْمَ يِحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِيَ أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلاَّ مَا شَاء اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌ

(128) اور جس دن وہ سب کو محشور کرے گا تو کہے گا کہ اے گروہ هجناّت تم نے تو اپنے کوانسانوں سے زیادہ بنا لیا تھا اور انسانوں میں ان کے دوست کہیں گے کہ پروردگار ہم میں سب نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے اور اب ہم اس مدّت کو پہنچ گئے ہیں جو تو نے ہماری مہلت کے واسطے معین کی تھی .ارشاد ہوگا تواب تمہارا ٹھکانہ جہّنم ہے جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے مگر یہ کہ خدا ہی آزادی چاہ لے -بیشک تمہارا پروردگار صاحب هحکمت بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے 

        129    وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ

(129) اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو ان کے اعمال کی بنا پر بعض پر مسلّط کردیتے ہیں 

        130    يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَـذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَ

(130) اے گروہ جن و انس کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے جو ہماری آیتوں کو بیان کرتے اور تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے -وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں اور ان کو زندگانی دنیا نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دی کہ وہ کافر تھے 

        131    ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ

(131) یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار کسی بھی قریہ کو ظلم و زیادتی سے اس طرح تباہ و برباد نہیں کرنا چاہتا کہ اس کے رہنے والے بالکل غافل اور بے خبر ہوں 

        132     وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

(132) اور ہر ایک کے لئے اس کے اعمال کے مطابق درجات ہیں اور تمہارا پروردگار ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے 

        133    وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاء كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ

(133) اور آپ کا پروردگار بے نیاز اور صاحبِ رحمت ہے -وہ چاہے تو تم سب کو دنیا سے اٹھالے اور تمہاری جگہ پر جس قوم کو چاہے لے آئے جس طرح تم کو دوسری قوم کی اولاد میں رکھا ہے 

        134    إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لآتٍ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

(134) یقینا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ سامنے آنے والا ہے اور تم خدا کو عاجز بنانے والے نہیں ہو 

        135    قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ

(135) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ تم بھی اپنی جگہ پر عمل کرو اور میں بھی کررہا ہوں -عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہے -بیشک ظالم کامیاب ہونے والے نہیں ہیں 

        136    وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُواْ هَـذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ

(136) اور ان لوگوں نے خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی میں اور جانوروں میں اس کا حصہّ بھی لگایا ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ یہ ان کے خیال کے مطابق خد اکے لئے ہے اور یہ ہمارے شریکوں کے لئے ہے -اس کے بعد جو شرکائ کا حصّہ ہے وہ خدا تک نہیں جاسکتا ہے .اور جو خدا کا حصہّ ہے وہ ان کے شریکوں تک پہنچ سکتاہے.کس قدر بدترین فیصلہ ہے جو یہ لوگ کررہے ہیں 

        137    وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلاَدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُواْ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

(137) اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کردیا ہے تاکہ ان کو تباہ و برباد کردیں اور ان پر دین کو مشتبہ کردیں حالانکہ خدا اس کے خلاف چاہ لیتا تو یہ کچھ نہیں کرسکتے تھے لہذا آپ ان کو ان کی افترا پردازیوں پر چھوڑ دیں اور پریشان نہ ہوں 

        138     وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ يَطْعَمُهَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاء عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَ

(138) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی اچھوتی ہے اسے ان کے خیالات کے مطابق وہی کھاسکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چاہیں گے اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھ حرام ہے اور کچھ چوپائے جن کو ذبح کرتے وقت نام خدا بھی نہیں لیا گیا اور سب کی نسبت خدا کی طرف دے رکھی ہے عنقریب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہیں دیا جائے گا 

        139    وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاء سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حِكِيمٌ عَلِيمٌ

(139) اور کہتے ہیں کہ ان چوپاؤں کے پیٹ میں جو بچے ّہیں وہ صرف ہمارے مذِدوں کے لئے ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں -ہاں اگر مفِدار ہوں تو سب شریک ہوں گے ,عنقریب خدا ان بیانات کا بدلہ دے گا کہ وہ صاحب هحکمت بھی ہے اور سب کا جاننے والا بھی ہے 

        140    قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاء عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ

(140) یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں 

        141    وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

(141) وہ خدا وہ ہے جس نے تختوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور اس کے خلاف بھی ہر طرح کے باغات پیدا کئےہیں اور کھجور اور زراعت پیدا کی ہے جس کے مزے مختلف ہیں اور زیتون اورانار بھی پیدا کئے ہیں جن میں بعض آپس میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعض مختلف ہیں -تم سب ان کے پھلوں کو جب وہ تیار ہوجائیں تو کھاؤ اور جب کاٹنے کا دن آئے تو ان کا حق ادا کردو اور خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے 

        142    وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

(142) اور چوپاؤں میں بعض بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین سے لگ کر چلنے والے ہیں -تم سب خدا کے دئیے ہوئے رزق کو کھاؤ اور شیطانی قدموںکی پیروی نہ کرو کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے 

       143     ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ نَبِّؤُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

(143) آٹھ قسم کے جوڑے ہیں -بھیڑ کے دو اور بکری کے دو -ان سے کہئے خدا نے ان دونوں کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا وہ بچے جو ان کی مادہ کے پیٹ میں پائے جاتے ہیں -ذرا تم لوگ اس بارے میں ہمیں بھی خبردو اگر اپنے دعویٰ میں سچے ہو 

        144    وَمِنَ الإِبْلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاء إِذْ وَصَّاكُمُ اللّهُ بِهَـذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

(144) اور اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو .... ان سے کہیے کہ خدا نے نروں کو حرام قرار دیا ہے یا مادینوں کو یا ان کو جو مادینوں کے شکم میں ہیں .... کیا تم لوگ اس وقت حاضر تھے جب خدا ان کو حرام کرنے کی وصیت کررہا تھا -پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹا الزام لگائے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے بوجھے گمراہ کرے -یقینا اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا ہے 

        145    قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(145) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی طرف آنے والی وحی میں کسی بھی کھانے والے کے لئے کوئی حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ مفِدار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت ہوکہ یہ سب نجس اور گندگی ہے یا وہ نافرمانی ہو جسے غیر خد اکے نام پر ذبح کیا گیا ہو .... اس کے بعد بھی کوئی مجبور ہوجائے اور نہ سرکش ہو نہ حد سے تجاوز کرنے والا تو پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے 

        146    وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ

(146) اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کردیا اور گائے اور بھیڑ کی چربی کو حرام کردیا مگر جو چربی کہ پیٹھ پر ہو یا آنتوں پر ہو یا جو ہڈیوں سے لگی ہوئی ہو .... یہ ہم نے ان کو ان کی بغاوت اور سرکشی کی سزادی ہے اور ہم بالکل سچےّ ہیں 

        147     فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ

(147) پھر اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو کہہ دیجئے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے لیکن اس کا عذاب مجرمین سے ٹالابھی نہیں جاسکتا ہے 

        148    سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم حَتَّى ذَاقُواْ بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ

(148) عنقریب یہ مشرکین کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم مشرک ہوتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے -اسی طرح ان سے پہلے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا -ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو ہمیں بھی بتاؤ -تم تو صرف خیالات کا اتباع کرتے ہواور اندازوں کی باتیں کرتے ہو 

        149    قُلْ فَلِلّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاء لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ

(149) کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس منزل تک پہنچانے والی دلیلیں ہیں وہ اگر چاہتا تو جبرا تم سب کو ہدایت دے دیتا

        150    قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللّهَ حَرَّمَ هَـذَا فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

(150) کہہ دیجئے کہ ذرا اپنے گواہوں کو تو لاؤ جو گواہی دیتے ہیں کہ خدا نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے ...._ اس کے بعد وہ گواہی بھی دے دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیجئے گا اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کیجئے گا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار کا ہمسر قرار دیتے ہیں 

        151    قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

(151) کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے .... خبردار کسی کو اس کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا .اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی ... اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہری ہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو .یہ وہ باتیں ہیں جن کی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے 

        152     وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللّهِ أَوْفُواْ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

(152) اور خبردار مال هیتیم کے قریب بھی نہ جانا مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو یہاں تک کہ وہ توانائی کی عمر تک پہنچ جائیں اور ناپ تول میں انصاف سے پورا پورا دینا -ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہیں اور جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ چاہے اپنی اقرباہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور عہد خدا کو پورا کرو کہ اس کی پروردگار نے تمہیں وصیت کی ہے کہ شاید تم عبرت حاصل کرسکو 

        153    وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

(153) اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ راہ هخدا سے الگ ہوجاؤ گے اسی کی پروردگار نے ہدایت دی ہے کہ اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ 

        154    ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيَ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاء رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ

(154) اس کے بعد ہم نے موسٰی  کو اچھی باتوں کی تکمیل کرنے والی کتاب دی اور اس میں ہر شے کو تفصیل سے بیان کردیا اور اسے ہدایت اور رحمت قرار دے دیا کہ شاید یہ لوگ لقائے الٰہی پر ایمان لے آئیں 

        155    وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

(155) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بڑی بابرکت ہے لہذا اس کا اتباع کرو اور تقوٰی اختیار کرو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے 

        156    أَن تَقُولُواْ إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ

(156) یہ نہ کہنے لگو کہ کتاب خدا تو ہم سے پہلے دو جماعتوں پر نازل ہوئی تھی اور ہم اس کے پڑھنے پڑھانےسے بے خبر تھے 

        157    أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَ

(157) یا یہ کہو کہ ہمارے اوپر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے تو اب تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل اور ہدایت و رحمت آچکی ہے پھر اس کے بعد اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے اعراض کرے ...عنقریب ہم اپنی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں پر بدترین عذاب کریں گے اور وہ ہماری آیتوں سے اعراض کرنے والے اور روکنے والے ہیں 

        158     هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلآئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

(158) یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا خود پروردگار آجائے یا اس کی بعض نشانیاں آجائیں تو جس دن اس کی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نہیں لایا ہے یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی بھلائی نہیں کی ہے اس کے ایمان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا تو اب کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کررہا ہوں 

        159    إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ

(159) جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے -ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا 

        160    مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ

(160) جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ہی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جائے گا 

        161    قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

(161) آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے دی ہے جو ایک مضبوط دین اور باطل سے اعراض کرنے والے ابراہیم  کا مذہب ہے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے 

        162    قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

(162) کہہ دیجئے کہ میری نماز ,میری عبادتیں ,میری زندگی ,میری موت سب اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے 

        163    لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ

(163) اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں 

        164    قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

(164) کہہ دیجئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہر شے کا پالنے والا ہے اور جو نفس جو کچھ کرے گا اس کا وبال اسی کی ذمہ ہوگا اور کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا -اس کے بعد تم سب کی بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پھر وہ بتائے گا کہ تم کس چیز میں اختلاف کررہے تھے 

        165    وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

(165) وہی وہ خدا ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا تاکہ تمہیں اپنے دئیے ہوئے سے آزمائے -تمہارا پروردگار بہت جلد حساب کرنے والا ہے اور وہ بیشک بہت بخشنے والامہربان ہے