Super User
داخلی جھڑپیں لبنان کے مفاد میں نہیں
لبنان کے مفتی اعظم نے اس ملک میں مسلحانہ جھڑپوں اور جنگ کے نتائج کے حوالے سے خبر دار کیا ہے۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجینسی کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے مفتی اعظم شیخ "محمد رشید قبانی" نے آج اس ملک میں داخلی جنگ کے وقوع پذیر ہونے کی 39 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں لبنان میں جاری مسلحانہ جھڑپوں اور داخلی جنگ کے نتائج کی بابت خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لبنانی گروہوں کے درمیان تعمیری صلاح مشورے کا جاری رہنا ، عوام کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے عمل کی تقویت کا باعث بن سکتا ہے۔ شیخ "محمد رشید قبانی" نے عوام میں وحدت کی تقویت ، باہمی و سیاسی اختلافات دور رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تاکید کی داخلی جھڑپیں ملک میں تباہی و بربادی اور لبنان کے عوام کے نقصان کے علاوہ کچھ نہیں لاسکتیں۔ واضح رہے کہ آج لبنان میں داخلی جنگ کے آغاز کی 39 ویں برسی ہے اور لبنانی عوام نے 1975 سے لیکر1990 تک داخلی جنگ کے سبب سخت ترین حالات کا سامنا کیا ہے
امام علي (ع) مسجد اور مرکز اسلامی ہمبرگ
مسجد امام علی ﴿ع﴾ اور مرکز اسلامی ہمبرگ
{ إِنّما يَعْمُرُ مَساجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَ الْيَوْمِ اْلآخِرِ وَ أَقامَ الصّلاةَ وَ آتَى الزّكاةَ وَ لَمْ يَخْشَ إِلاّ اللّهَ فَعَسى أُولئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدينَ }
“ خدا کی مساجد کو وہ لوگ تعمیر کرتے ہیں، جنھوں نے خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ھو، نماز قائم کرتے ہیں، زکوة دیتے ہیں اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں۔ امید ہے یہ ہدایت پانے والوں میں سے ھوں”۔
مسجد، دین مقدس اسلام کا دفاعی مورچہ ہے، اور پوری تاریخ میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ ﴿ص﴾ کے با وفا صحابیوں نے اس کا دفاع کیا ہے۔ مسجد کے کافی رول ہیں ان میں سے اہم رول اس کا عبادت کا مرکز ھونا اور مسلمانوں کے درمیان رابطہ بر قرار کرنے کی جگہ ہے۔ جس طرح ستارے آسمان کی زینت کا سبب ہیں، اسی طرح مساجد بھی زمین کی زینت ہیں اور مساجد میں مؤمنین کے دلوں میں خدا کا نور چمکتا ہے اور انھیں مستفید کرتا ہے۔ چنانچہ رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:“ المساجد انوار اللہ”، “ مسجدیں خدا کا نور ہیں”۔
یورپ کی بڑی اور مشہور مساجدوں میں سے ایک مسجد امام علی علیہ السلام اور مرکز اسلامی ہمبرگ ہے، جس کو مرجع عالی قدر مرحوم آیت اللہ العظمی بروجردی کی ہمت اور مؤمنین کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ باشکوہ مسجد اور اسلامی مرکز مسلمانوں کے مختلف گروہوں اور قومون کی عبادت اور اسلام کی ترویج کی جگہ ہے۔ یہ اسلامی مرکز مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کی توجہ کا سبب بنا ہے اور مختلف ممالک سے آنے والے سیاح اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ یورپ کے بہت سے مسلمانوں، خاص کر جرمنی کے لوگوں کے لئے اسلامی مرکز ھمبرگ کا نام جانا پہچانا ہے اور شاید بعض افراد دور دراز علاقوں سے کئی بار آکر اس مسجد اور مرکز اسلامی کو دیکھنے میں کامیاب ھوئے ھوں گے۔
اس مسجد کا آلستر نامی خوبصورت جھیل کے کنارے پر واقع ھونا اور مشرقی معماری کی دلکش عمارت، اس امر کا سبب بنی ہے کہ شہر ھمبرگ میں تازہ داخل ھونے والے افراد اور مختلف ممالک کے سیاح، اس مرکز کو شہر کی دیکھنے کے قابل دینی عمارت کے عنوان سے دیکھنے کے لئے آئیں۔ سالہا سال سے جرمنی کے سیاحت سے متعلق موسسات کی طرف سے شائع کئے جانے والے بروشروں میں شہر ھمبرگ کی قابل دید تاریخی عمارتوں کے عنوان سے اس مسجد کا نام درج ھوتا ہے۔
مسجد اور مرکز کی تعمیر کی تاریخ:
یکم اکتوبر 1957ء میں پہلی بار اس مسجد کے لئے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا گیا اور اسے اندراج کیا گیا۔ جس کا رقبہ3744.4مربع میٹر تھا۔
فروری 1960 عیسوی میں اس مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں پہلی گینتی مارنے سے 1963ء کے اواخر تک کام میں کبھی کبھی وقفوں کے باوجود عمارت کا ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔ لیکن ان ہی دنوں حضرت آیت اللہ العظمی بروجردی وفات پا گئے۔
1963عیسوی کے اواخر میں مسجد کی تعمیر کا کام کچھ مدت کے لئے رک گیا۔ عمارت تعمیر کرنے کی کمیٹی کو بجٹ ختم ھونے کی وجہ سے جرمنی کے بینکوں سے قرض لینا پڑا۔
1965عیسوی میں مراجع تقلید کی تائید سے شہید آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی، اس مسجد کے امام جماعت کے عنوان سے منصوب ھوئے۔ وہ ایک فعال عالم دین اور دانشور تھے۔ انھوں نے یہ عہدہ سنبھالتے ہی اس مسجد اور مرکز اسلامی کی بنیادی تعمیرات کو سرعت بخشی۔
1966ء اور 1967عیسوی کے سالوں کے دوران مسجد کا اندرونی ایک حصہ اور مسجد کی دیواروں پر باہر سے ٹائیل لگانے کا کام مکمل کیا گیا اور اس سلسلہ میں ایران اور جرمنی کے مسلمانوں نے مالی مدد کی۔
آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی کے دوسرے اہم کارناموں میں سے یہ تھا کہ انھوں نے مسجد کے ساتھ ایک اسلامی اور ثقافتی مؤسسہ کی بنیاد ڈالی تاکہ مختلف مذاہب اور فرقوں کے مسلمانوں کے لئے اسلامی اور ثقافتی سرگرمیاں انجام دینے کا موقع فراہم ھوجائے۔ اس طرح شہید بہشتی کی کوششوں کے نتیجہ میں 8 فروری 1966عیسوی کو “ مرکز ھمبرگ” کا قانونی طور پر اندراج کیا گیا اور اس مرکز نے جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کی سطح پر اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔
1970عیسوی میں آیت اللہ بہشتی کے ایران لوٹنے کی مختصر مدت کے بعد ایران کی ظالم شاہی حکومت کے اشاروں پر جرمنی میں“ ملی بینک ” میں اس مسجد کی تعمیر کے بارے میں حساب کو بند کیا گیا اور اس طرح اس بینک نے مسجد اور مرکز کے کام کو جاری رکھنے کے لئے رقومات ادا کرنے سے انکار کیا۔ یہ اقدام اس مسجد اور مرکز کی سرگرمیوں کو مزید ضرر پہنچنے کا سبب بنا۔ لیکن بعض ہمدرد مسلمانوں کی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں، اس مسجد کے مالی مشکلات کافی حد تک حل ھوگئے، اور1969عیسوی سے 1979عیسوی تک کی مدت کے دوران اس مسجد اور مرکز کے اہم کام من جملہ تقریروں کا ہال، مسجد کی بیرونی دیواروں کی زیبائی کا کام اور اس کا تہ خانہ مکمل کیا گیا۔
مسجد ھمبرگ کی عمارت:
مسجد ھمبرگ کی عمارت اس کے دو اہم حصوں پر مشتمل ہے: مسجد کا اصلی حصہ ایک دائرہ کی شکل میں ہے، کہ اس پر ایک بڑا گنبد قرار پایا ہے، جس کی بلندی 18میٹر اور قطر 13.5میٹر ہے۔ یہ گنبد سیمٹ کا بنا ھوا ہے اور اس پر تانبے کی تہ لگائی گئی ہے، اور اس کا رنگ سبز ہے اور اس نے مسجد کو ایک خاص زیبائی بخشی ہے۔
مسجد کی اندرونی دیواروں کو فیروزی رنگ کی ٹائیلوں سے مزین کیا گیا ہے۔ ان دیواروں پر خوشنما خط ثلث میں سورہ جمعہ اور سورہ اسراء کی چند ایات اور ان کا جرمنی زبان میں ترجمہ لکھا گیا ہے اس مسجد کے ٹائیل لگانے کا کام شہر مقدس مشہد کے ماہر استادوں نے انجام دیا ہے۔ مسجد کے قبلہ کی طرف ایک خوبصورت محراب ہے، جسے اینٹوں اور ٹائیلوں سے بنایا گیا ہے اور اس محراب کو بھی مشہد مقدس کے ماہر استادوں نے دوسال کی مدت میں تعمیر کیا ہے۔
محراب کے اوپر سورہ انعام کی آیت نمبر 162کی انتہائی خوبصورت انداز میں خطاطی کی گئی ہے۔ مسجد کے شبستان میں روزمرہ نماز جماعت، نماز جمعہ اور نماز عید الفطر اور نماز عیدقربان بجالائی جاتی ہے۔
گنبد کے دونوں اطراف میں دو مینار ہیں، جو رسول اللہ ﴿ص﴾ کے موذن، حضرت بلال ﴿رض﴾ کی اذان اور خدا کی وحدانیت کا اعلان کرنے کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں مینار بھی سیمٹ کے بنے ھوئے ہیں اور ان کو باہر سے چھوٹی چھوٹی ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔ ان میناروں میں سے ہر ایک کا قطر2.20 میٹر ہے اور ان کی بلندی 18میٹرہے۔ مسجد کا صدر دروازہ مغرب کی طرف کھلتا ہے اور اس کا باہر کا حصہ خوبصورت ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔ یہ صدر دروازہ مسجد کی اصلی سطح سے قدرے بلند تر ہے اور مسجد میں داخل ھونے کے لئے اس کے دونوں طرف دو سیڑھیاں لگی ھوئی ہیں۔ ان سیڑھیوں اور صدر دروازہ کے سامنے پانی کا ایک منظر دکھائی دیتا ہے، جو اس مسجد کے بیرونی منظر کو طراوت اور شادابی بخشتا ہے۔
مسجد کے اطراف میں ایک شبستان ہے، اس میں تقریروں کا بڑا ہال، کتابخانہ، اداری دفاتر، وضوخانہ، بیت الخلاء، کچن اور مرکز اسلامی کی سرگرمیوں کا دفتر ہے۔
تقریروں اور اجتماعات کا ہال مسجد کے شبستان کے کنارے پر واقع ہے اور اس میں200 کرسیاں بچھانے کی گنجائش ہے۔ اس ہال میں بر وقت ترجمہ کا سسٹم نصب کیا گیا ہے اور اس میں مذہبی اور علمی تقریریں کی جاتی ہیں اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ تقریر کرنے کی جگہ کے پیچھے قرآن مجید کے سورہ نحل کی 125ویں آیت پر مشتمل ایک کتبہ نصب کیا گیا ہے۔
بعض گناہگاروں اور کفارکے رفاہ و آسائش میں رہنے کا فلسفہ
اس پروگرام ميں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ بعض کفار اور گنہ گار افراد کیوں رفاہ و آسائش میں رہتے ہیں۔
ایک سوال جو شاید آپ کو درپیش آتا ہو یہ ہے کہ بعض کافر اورگناہگا افراد کیوں کر دنیا میں اچھی اور خوشحال زندگي گذارتے ہيں ؟ یا یہ کہ کیوں بہت سے مواقع پر کفار اور گناہگار مسلمان اور فاسق ، مومنین اور متقین سے بہتر حالت میں ہیں ؟ کیوں بہت سے معاشرے جوکلی طور پر خدا اور پیغمبر کے منکر ہيں ، زیادہ رفاہ و آسائش سے بہرہ مند ہیں ؟ کبھی اس سے بڑھ کر یہ سوال پیش آتا ہے اور بطور طعنہ کہا جاتا ہے کہ تمام عذاب اور مسائل مسلمانوں کےلئے ہی کیوں ہیں ؟ جبکہ کفار آرام و آسائش سے ہیں اور یورپی ممالک کہ جن کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ ہم مسلمانوں سے زیادہ آرام و سکون سے زندگي گذار رہے ہیں ۔
البتہ اس پہلے اعتراض کا جواب واضح ہے ۔ بہت سے کفار اور گناہگار افراد ، خاص طور پر افریقہ ، ایشیاء اور جنوبی امریکہ میں مادی لحاظ سے مناسب حالات میں زندگی نہيں گذار رہے ہيں جبکہ مسلمان اور حتی بہت سے مومنین بھی ایسے ہیں جو خوشحالی اور عشرت میں زندگي گذار رہے ہیں ۔ اور تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالنے سے بھی ہمیں یہ ملتا ہے کہ بہت سے مومنین اور حتی پیغمبروں ، جیسے حضرت داؤد ، سلیمان اور یوسف علیھم السلام ، کے پاس بھی بہت زیادہ دولت وثروت تھی لیکن وہ اپنی اصلی دولت کو، خدا پر ایمان قرار دیتے تھے ۔
لیکن ایک مجموعی جواب کے طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خداوند عالم نے دنیوی نعمتوں کو سب کے اختیار میں دیا ہے خواہ مومن ہو یا کافر ، لیکن ایمان اور عمل صالح کی جزا عالم آخرت ميں مؤمنین کے لئے ہی ہے ۔ خداوند عالم سورۂ اسراء کی آيت 18 میں فرماتا ہے جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اس کے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دے دیتے ہیں پھر اس کے بعد اس کےلئے جہنم ہے جس میں وہ ذلت و رسوائی کے ساتھ داخل ہوگا ۔ اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور اس کے لئے ویسی ہی سعی بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اس کی سعی یقینا مقبول قراردی جائے گی ۔
اصولی طورپر اس دنیا کا نظام ، انتخاب واختیار کی بنیاد پر قائم ہے ۔ وہ جو قرآن کی تعبیر ميں اپنے کانوں اور آنکھوں کو بند کرلیتا ہے تو اسے زور وزبردستی اور جبری طور پر خدا اور حق و کمالات کی جانب نہيں بلایا جاسکتا ۔ اسی بناء پر خداوند عالم ان افراد کو "استدراج" یعنی تدریجی سزا یا عذاب استدراج کی سنت میں گرفتار کردیتا ہے ۔ استدراج کی نوبت اس وقت آتی ہے جب انسان ، اسلام اور وحی کی تعلیمات کامنکر ہوجائے اور تمام معجزات اور دلائل کے باوجود گمراہی اور کفر کاراستہ اختیار کرلے اور حق اور مسلمات کا منکر ہوجائے ۔سورۂ قلم کی آیت 44 میں خداوند عالم ، کفارکے بارے میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔ " تو اب مجھے ، میری بات کے جھٹلانے والوں کے ہمراہ چھوڑدو ، ہم عنقریب انہیں اس طرح سے گرفتار کریں گے کہ انہيں اندازہ بھی نہ ہوگا اور ہم تو اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ہماری تدبیر مظبوط ہے" ۔ درحقیقت ان کے لئے بدترین عذاب ، یہی آسائشیں اور امکانات ہیں کہ جسے وہ نعمت سمجھ رہے ہیں وہ دھیرے دھیرے عذاب الہی کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن اس طرف متوجہ نہیں ہیں ۔
گویندہ : کلمہ استدراج ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کے معنی گناہگاروں کو نعمتیں دے کر تدریجا غفلت ميں ڈال دینا یا انہيں ڈھیل دینا ہے ۔اس طرح سے کہ خدا کی مادی نعمتوں میں ڈوبا ہوا انسان ، خدا ، معنوی کمالات ، استغفار اور شکر کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ گناہ میں مبتلا ہوتا جاتا ہے ۔
لغت میں ”استدراج“ کے دومعانی ہیں: ایک یہ کہ کسی چیز کو تدریجاً اور آہستہ آہستہ لینا (کیونکہ یہ لفظ ”درجہ“ سے اخذ کیا ہے ) اسی طرح جب کسی چیز کو تدریجاً اور مرحلہ بہ مرحلہ لیں یا گرفتار کریں تو اس عمل کو استدراج کہتے ہیں) استدراج کا دوسرا معنی ہے لپیٹنا اور تہ کرنا ۔ جس طرح کاغذوں کے ایک پلندے کو لپیٹتے ہیں (یہ دونوں معانی ایک کلی اور جامع مفہوم ”انجام تدریجی“) کی ہی ترجمانی کرتے ہیں ۔
حدیث میں ہے کہ شیعب پیغمبر (ع) کے زمانے میں ایک کافر اور فاسق و فاجر شخص ان کے حضور ميں آیا اور کہا کہ شعیب تم نے جس عمل کو بھی گناہ کا نام دیا ہے ہم ، ان سب کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن ہم پر تو کوئی بلا نازل نہیں ہوئی اس سے تو پتہ چلتا ہےکہ خدا ہمیں بہت چاہتا ہے ۔ شعیب پیغمبر نے خدا سے کہا کہ یہ بندہ تواس طرح سے کہہ رہا ہے ۔ تو جناب شعیب (ع) کو وحی ہوئی کہ اس سے کہہ دو کہ ہم جو اس کے کسی کام میں کوئی مشکل پیدا نہیں کررہے ہیں تو یہی بدترین بلاہے کیوں کہ ہم نہيں چاہتے کہ وہ ہم سے توبہ کرسکے اور ہمارا شکر کرسکے۔ ”
استدراجی سزا“ کے بارے میں آیات قرآن اور احادیث ميں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس کی توضیح یہ ہے کہ خدا گنہگاروں اور منہ زور سرکشوں کو ایک سنت کے مطابق فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دیتا ہے تو وہ زیادہ سرکشی دکھاتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کو ضرورت سے زیادہ اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ اس کے دو مقاصد ہوتے ہیں یا تو یہ نعمتیں ان کی اصلاح اور سیدھے راستے پر آنے کا سبب بن جاتی ہیں اور اس موقع پر ان کی سزا دردناک مرحلہ پر پہنچ جاتی ہے کیونکہ جب وہ خدا کی بے شمار نعمتوں اور عنایتوں میں غرق ہوجاتے ہیں تو خدا ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لیتا ہے اور زندگی کی بساط لپیٹ دیتا ہے ایسی سزا بہت ہی سخت ہے ۔
البتہ یہ معنی اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف لفظ استدراج میں پنہاں نہیں ہے ۔
بہر حال استدراج سے متعلق آيت میں تمام گنہگاروں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ عذاب الٰہی کی تاخیر کو اپنی پاکیزگی اور راستی یا پروردگار کی کمزوری پر محمول نہ کریں اور وہ عنایات اور نعمتیں جن میں وہ غرق ہیں انھیں خدا سے اپنے تقرب سے تعبیر نہ کریں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو کامیابیاں اور نعمتیں انھیں ملتی ہیں ۔ پروردگار کی استدراجی سزا کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ۔ خدا انھیں اپنی نعمتوں میں محو کردیتا ہے اور انھیں مہلت دیتا ہے انھیں بلند سے بلندتر کرتا ہے لیکن آخر کار انھیں اس طرح زمین پر پٹختا ہے کہ ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے ۔ اور ان کے تمام کاروبار زندگی اور تاریخ کو لپیٹ دیتا ہے ۔
امیرالمومنین حضرت علی (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں ۔
وہ شخص کہ جسے خدا بے بہا نعمات اور وسائل دے اور وہ اسے استدراجی سزا نہ سمجھے تو وہ خطرے کی نشانی سے غافل ہے ۔“(۱)
نیز حضرت علی (علیہ السلام) سے کتاب ”روضہ کافی“ میں نقل ہوا ہے آپ نےفرمایا: ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کوئی چیز حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ ظاہرو آشکار اور خدا اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنے سے زیادہ نہیں ہوگی ۔“
یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:
”اس زمانے میں کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ صرف قرآن کی ایک آیت سن کر (اس کی تحریف کریں گے) اور خدا کے دین سے نکل جائیں گے اور ہمیشہ وہ ایک حاکم کے دین کی طرف اور ایک شخص کی دوستی سے دوسرے کی دوستی کی طرف اور ایک حکمراں کی اطاعت سے دوسرے حکمراں کی اطاعت کی طرف اور ایک کے عہد و پیمان سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے رہیں گے اور آخر کار ایسے راستے سے کہ جس کی طرف ان کی توجہ نہیں ، پروردگار کی استدراجی سزا میں گرفتار ہوجائیں گے ۔
فرزند رسول خدا حضرت امام حسین (ع) استدراج کی تعریف میں فرماتے ہیں " استدراج کا معنی یہ ہےکہ خدا اپنی نعمت کو اپنے بندے پر انڈیل دیتا ہے اور دوسری طرف ، اس سے شکر کی نعمت کو سلب کرلیتا ہے ۔ اس بناء پر استدراج کے آثار ونتائج میں سے ایک ناشکری ہے البتہ اس امر پر توجہ دینا چاہئے کہ جو کوئی خدا کی نعمت سے بہرہ مند ہواور وہ خدا کا شکرگذار بھی ہو توایسا شخص استدراج کا مصداق نہیں ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) کے ایک صحابی نے عرض کی ، میں نے خدا سے مال طلب کیا تھا اس نے مجھے روزی عطاکی ، میں نے خداسے بیٹا مانگا اس نے وہ بھی مجھے عطا کیا ، گھر کی طلب کی وہ بھی مرحمت فرمایا اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ استدراج یا تدریجی عذاب نہ ہو ، امام صادق (ع) نے فرمایا اگر یہ تمام نعمتیں، تمہاری جانب سے شکر کے ساتھ مل رہيں ہیں تو یہ استدراج میں شامل نہيں ہے ۔
اکثر افراد نعمت کو، پیسے اور سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتے جبکہ یہ سوچ صحیح نہیں ہے بلکہ مال و ثروت کے مقابلے میں، انسان کا عکس العمل اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ نعمت ہے یا نہيں ۔ وہ شخص جو مال و ثروت اور اپنی سلامتی کو، رضائے الہی اور خدمت خلق ميں صرف کرتا ہے اور شکر خدا بھی بجا لاتا ہے تو یقینی طور پر وہ نعمت الہی سے بہرہ مند ہے لیکن اگر یہی مال اور سلامتی غرور اور اسراف کا سبب بن جائے تو وہ نہ صرف نعمت نہيں ہے بلکہ عذاب بھی بن سکتی ہے ۔ اس کے مقابلے ميں بہت سے ایسے فقیرو نادار لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فقیری و غربت کے سبب نا شکری اور کفرکی بات زبان پر لاتے ہیں اور جہنمی ہوجاتے ہیں ۔
قرآنی اصطلاحات میں سے ایک " بلاء حسن " بھی ہے سورۂ انفال کی آیت 17 میں ارشاد ہوتا ہے " ولیبلی المؤمنین منہ بلاء حسنا " تاکہ صاحبان ایمان پر خوب اچھی طرح احسان کردے کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے ۔ بلا کے معنی آزمائش اور آزمانے کے ہیں ۔ امتحان کا جو فلسفہ ہے اس میں اسی بات پر تاکید ہے کہ انسان ان آزمائشوں ميں اپنی صلاحیتوں ميں اضافہ کرسکتا اور اپنی استعداد کو اجاگر کرنے کے ساتھ ہی کمالات کی اعلی منازل کو طے کرسکتا ہے ۔ درحقیقت الہی آزمائشیں ، محض استعدادوں اور صلاحیتوں کا اندازہ لگانے کے لئے نہيں ہوتیں بلکہ نئی صلاحیتیوں اور توانائیوں کے ظہور اور ان ميں اضافے کا سبب ہوتی ہیں ۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب (ع) فرماتے ہيں : بلا و آزمائش ، ستمگر کے لئے ادب ، سزا اور تنبیبہ ہے جبکہ مؤمنین اور پیغمبروں کے لئے آزمائش ، درجات اور مرتبے میں بلندی کے لئے ہے ۔
سختیاں اور گرفتاریاں ، ترقی وکمال کا پیش خیمہ ہیں ۔ قرآن کریم سورۂ بلد کی آیت چار میں ارشاد فرمارہا ہے ہم نے انسان کو سختی اور مشقت ميں رہنے والا بنایا ہے ۔ اس بناء پر انسان کو چاہئے کہ مشقتوں اور مصائب کو برداشت کرے اور سختیوں کے مقابلے میں استقامت کرے تاکہ کمال تک رسائی حاصل کرسکے ۔ حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں مخلوقات کے درمیان سب سے شدید بلاؤں ميں پہلے انبیاء علیھم السلام اور پھر ان کے اوصیاء اور اس کے بعد انبیاء و اوصیاء جیسے کمالات کے حامل انسان گرفتار ہوتے ہيں ۔ مومن کو اس کی نیکیوں کی مقدار کےبرابر آزمائش ميں ڈالا جاتا ہے جو کوئی اپنے دین و ایمان ميں پختہ اور نیک عمل ہوگا اس کی بلائیں بھی شدید ہیں کیوں کہ خداوند عالم نے دنیا کو، مومن کے لئے جزا ، اور کافر کے لئے سزا اور عذاب کا وسیلہ قرار نہیں دیا ہے ۔ اسی بناء پر جنہیں معرفت الہی کے مراتب حاصل ہیں ان کے لئے وہ چیز جو عام انسانون کے نقطۂ نگاہ سے سخت اور ناقابل تحمل ہے ، ان کے لئے شیریں اور پسندیدہ ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہ سختیاں اسے خدا سے نزدیک کردیں گی ۔ دنیا کی مصیبتیں نہ صرف ان کو خدا سے دور نہیں کرتیں بلکہ وہ ان مصیبتوں کو برداشت کرکے دنیا ميں بھی معنوی لذتیں حاصل کرتے ہیں اور آخرت ميں بھی معنوی اجر وپاداش کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
بعض مومنین کی آزمائش اور ابتلاء اس بناء پر ہے تاکہ ان کے دلوں سے زنگ دور ہوجائے اور وہ بہشت کے اعلی مقام کے مستحق اور لائق قرار پاسکیں ۔ حضرت امام محمد باقر (ع) فرماتے ہيں خداوند عالم کیوں کہ اپنے بندوں کو چاہتا اور ان سے محبت کرتا ہے اس لئے ان پر مصیبتیں اور بلائیں نازل کرتا ہے اور جب یہ بندہ خدا کو اس عالم ميں پکارتا ہے تو خدا فرماتا ہے لبیک اے میرے بندے بیشک اگر میں چاہوں تو تیری دعا جلدی بھی قبول کرلوں لیکن ميں چاہتا ہوں کہ اسے آخرت کے لئے ذخیرہ کردوں کہ جو تیرے لئے بہتر ہے ۔ امام محمد باقر(ع) اس دنیا میں مومنین کی گرفتاریوں کے بارے ميں فرماتے ہیں :خداوندعالم اپنے مومن بندے کی ، رنج وبلا کے ذریعے دلجوئی کرتا ہے ۔جس طرح سے کہ ایک انسان کسی سفر سے ہدیہ لیکر آتا ہے تو اس کے ذریعے سے اپنے گھر والوں کی دلجوئی کرتا ہے اور خدا مومن کو دنیا سے دور رکھتا ہے جس طرح سے کہ طبیب بیمار کو بعض کھانے اور پینے والی چیزوں سے پرہیز کرنے اور دوری اختیار کرنےکو کہتا ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّـهَ ذِكْرًا كَثِيرًا
آیت اللہ باقر الصدر کا یوم شھادت
![]()
آیت اللہ العظمیٰ سید باقرالصدر کا شمار گذشتہ صدی کے عظیم فلسفیوں ،مذہبی اسکالرز،اور مفکرین میں ہوتا ہے۔ آپ کی تحریروں اور قیادت نے عراقی عوام سمیت دنیا بھر کے دبے ہوئے محروم طبقوں کو متاثر کیا اور حرارت دی،آپ نے نہ صرف مذہبی عناصر کو چیلنج کیا بلکہ ان نام نہاد مذہبی عناصر کو بھی چیلنج کیا جو انقلابی اسلامی فکر کی راہ میں رکاوٹ تھے۔یہ شہید باقر الصدر ہی تھے جنہوں نے عراق میں اسلامی دعوۃ پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے صدام کے دور میں مظلوم شیعوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی،بلکہ آج بھی اسی تنظیم کے افراد عراق بھر میں شیعیان عراق اور مظلوم عراقی مسلمانوں کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں،موجودہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔
شہید باقر الصدر بغداد کے علاقے قدیمیہ میں 1مارچ 1935ء کو پیدا ہوئے ان کی عمر جب دو سال تھی تو آپ کے والد معروف مذہبی اسکالر سید حیدر الصدر انتقال کر گئے،آپ نے پرائمری کی تعلیم قدیمیہ کے اسکول سے ہی حاصل کی اور پھر مرجع تقلید شہید باقر الصدر اور ان کے اہل خانہ نے 1945ء میں نجف اشرف کا رخ کیا جہاں انھوںنے اپنی باقی ماندہ زندگی گزار دی،انھوں نے نجف اشرف میں حوذہ علمیہ میں داخلہ لیا اور انتہائی تیزی کے ساتھ حصول علم کی منازل طے کرت چلے گئے۔آپ حیرت انگیز طور پر صرف 20سال کی عمر میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو چکے تھے،انہی سالوں کے دوران شہید باقر الصدر کے افکارات پر مشتمل معروف کتابیں ہمارا فلسفہ ،اسلامی اقتصادیات المعروف اقتصادنا،شائع ہوئیں جو آج بھی اسلامی اور خارجی حلقوں میں ایک سند کی حامل ہیں۔شہید باقر الصدر کی کتاب اقتصادنا اسلامی اقتصادیات کے موضوع پراب تک لکھی جانے والی سب سے مفصل کتاب ہے۔
1957ء میں شہید باقر الصدر نے اسلامی دعوہ پارٹی یعنی حزب الدعوۃ کی بنیاد رکھی تاکہ بعث پارٹی کی جانب سے عراق میں لادینیت کے فروغ کو روکا جا سکے اور اسلامی افکارات کا احیاء کیا جا سکے،70ء کی دہائی کے آغاز میں ہی شہید باقر الصدر اس بات کو جان چکے تھے کہ بعثی دہشت گرد عراق کے اسلامی تشخص کے لئے خطرہ ہیں اور خطرے کے باوجود آپ نے اپنی دینی اور تعلیمی سر گرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ،دوسری جانب صدام کے بعثی دہشت گرد بھی شہید باقر الصدر کی اہمیت کو سمجھ چکے تھے اور وہ یہ جان چکے تھے کہ آپ کی شخصیت عراقی عوام کے لئے محبوب ترین ہے۔لہذٰا انہوں نے شہید باقر الصدر کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ہر طرح کے امکانات بروئے کار لانا شروع کر دئیے۔حتیٰ کے آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔
راہ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے پیرو شہید باقر الصدر کو1971,1974.1977.اور آخری مرتبہ1979میں گرفتار کیا گیا اور شہید باقر الصدر کے کئی ساتھیوں اور رفقائے کار سمیت دعوہ پارٹی کے اہم اراکین کو ظالم صدام ملعون کے حکم پر گرفتار کر کے ان کو پھانسی دی گئی ۔
شہیدہ سیدہ آمنہ بنت الہدیٰ:
یہ 1979ء کی بات ہے جب بعثی دہشت گردوں نے شہید باقر الصدر کو نجف اشرف سے گرفتار کر لیا ،اسی وقت ایک باحجاب خاتون حرم امام علی علیہ السلام میں بھاگتے ہوئے داخل ہوئی اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا،اے لوگو!”کیوں تم خاموش ہو؟جب کہ تمھارے رہنما کو گرفتار کیا جا چکا ہے،کیوں تم خاموش ہو؟جب کہ تمھارے مرجع تقلید پر بیہمانہ تشدد کیا جا رہاہے،باہر نکلو اور احتجاج کرو”۔شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کے ان ملکوتی اور الہیٰ الفاظ کا اثر تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے نکل آئے اور شہید باقر الصدر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج شروع کر دیا،جس کے سبب صدامیوں نے انھیں اسی دن مجبوراً رہا کر دیا۔اس احتجاج نے صدامی دہشت گردوں کو ایک واضح پیغام دیا کہ لوگ صدام ملعون کی شیطانی حکومت کے خلاف قیام کے لئے تیار ہیں۔
اپنی اس مختصر زندگی میں عظیم خاتون شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ نے صدامی دہشت گردوں کے خلاف بلا خوف و خطر عراقی غریب عوام کے بہبود اور تعلیم کی پسماندگی کی دوری اور شعور اسلامی کی بیداری کے لئے فعال ترین کردار ادا کیا ،اپنی زندگی اور فعالیت سے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا۔
شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ جو 1937ء میں قدیمیہ بغداد میں پیدا ہوئیں اپنے گھر کی واحد خاتون تھیں،شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ نے ابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی اور بعد میں باقی تعلیم اپنے عظیم بھائی شہید باقر الصدر سے حاصل کی تھی،آپ اسلامی دعوہ پارٹی کی خواتین ونگ کی سربراہ تھیں،1966ء میں آپ نے الدعوۃ میگزین کا آغاز کیا تا کہ معاشرے میں شعور کی بیداری کے لئے کام کیا جا سکے ،آپ کی تحریروں نے جو خواتین میں انتہائی مقبول و معروف ہیں معاشرے کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔1967ء میں آپ نے نجف اشرف ،بغداد اور دیگر مستضعف شیعہ علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کے لئے اسکولوں کا جال بچھا دیا تھا تا کہ شیعہ بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔آپ نے سینکڑوں کتابیں تحریر کیں جن میں اکثر فکشنل کہانیاں ہیں جو معاشرے کے مسائل اور ان کے حل پر مشتمل ہیں۔
شہید باقر الصدر کی گرفتاری اور شہادت:
شہید باقر الصدر کو 1979ء میں گرفتار کر لیا گیا عراق میں بے پناہ مظاہرے ہوئے ،مظاہروں میں عراقی عوام کا صدام ملعون کے خلاف شدید غم وغصہ سامنے آیا جس کے سبب یذید صفت صدام نے دس ماہ سے جاری شہید باقر الصدر اور شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کی نظر بندی کو ختم کر دیا اور انھیں 5اپریل 1980ء کو رہا کر دیا گیا،لیکن چند دنوں بعد ہی 9اپریل 1980ء کو سفاک صدامیوں نے نجف اشرف شہر کی بجلی منقطع کر دی اور شہید باقر الصدر کے عزیز سید محمد الصدر کے گھر سیکیوریٹی حکام کو بھیج کر ان کے اپنے ہمراہ بعثی یذیدیوں کے ہیڈ کوارٹر بلوا لیا گیا،جہاں یذیدی صفت صدامیوں نے سید محمد الصدر کو شہید باقر الصدر اور شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کی لاشیں دکھائیں،جو خون میں نہائے ہوئے تھے،اور جسم پر بیہمانہ تشدد کے نشانات تھے،شہید باقر الصدر اور ان کی بہن کو نجف اشرف میں واقعہ قبرستان دارالسلام میں اسی رات دفن کر دیا گیا۔
شہید باقر الصدر اور ان کی بہن شہیدہ آمنہ بنت الہدیٰ نے راہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر چلتے ہوئے جب دیکھا کہ وقت کا یزید لعین صدام لعین اسلام حقیقی کو مٹانے کی سازشوں میں مصروف ہے اور ظلمت بڑھتی جا رہی ہے تو آپ نے اپنے جد امجد ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے صدام لعین کے خلاف قیام کر دیا اور اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔
تاریخ میں یہ جملہ بھی ملتا ہے کہ جب صدام لعین شہید باقر الصدر کو پھانسی لگانے کے بعد کہا کہ میں یذید کی طرح غلطی نہیں کروں گا اور پھرا س نے سیدہ آمنہ بنت الہدیٰ کو بھی پھانسی دے دی۔لیکن یذید لعین کی طرح صدام لعین بھی یہ بات بھول چکا تھا کہ ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کے خون مقدس کی طرح شہید باقر الصدر اور شہیدہ آمنہ کا خون بھی اسلام کی نشو نما اور زندگی کا باعث بنے گا۔خواہ ایران میں آنے والا اسلامی انقلاب ہو یا لبنان میں ہونے والی حزب اللہ کی مقاومت ہو،یا ارض فلسطین میں چلنے والی تحریک اسلامی حماس کی جد وجہد ہو اور یا پھر عراق میں اسلامی نشاۃ ثانیہ ،یہ سب شہیدوں کے خون کی برکت ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قرارداد، مغرب کی دشمنانہ پالیسیوں کا تسلسل
تہران کی مرکزی نماز جمعہ آج آیت اللہ امامی کاشانی کی امامت میں منعقد ہوئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ ایٹمی ٹکنالوجی میں ملت ایران کی کامیابیوں سے علاقائي اور عالمی سطح پر اس کے اعتبار میں اضافہ ہوا ہے۔
خطیب جمعہ تہران آیت اللہ امامی کاشانی نے نو اپریل کو ایٹمی ٹکنالوجی کے قومی دن قراردئیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایرانی ماہرین اور سائنسدانوں نے انتھک کوششیں کرکے ایٹمی شعبے میں ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی شعبے میں ایران کی ترقی دشمن کے لئے ناقابل یقین تھی اور وہ ایٹمی شعبے میں اتنی تیز ترقی کو برداشت نہیں کر پارہا تھا، اسی وجہ سے اس نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن نہ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف طرح کے الزامات لگانا شروع کردیے۔ آیت اللہ امامی کاشانی نے کہا کہ پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنا ملت ایران کا حق ہے اور ملت ایران کو اس کے اس حق سے محروم کرنے کی دشمنوں کی سازشیں ناکام ہوکر رہیں گي۔ خطیب جمعہ تہران نے ایران کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قرارداد کو بے وقعت اقدام سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہ قرارداد ایرانی اور اسلامی ثقافت کے خلاف مغرب کی دشمنانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
رہبر معظم سے جوہری ادارے کے سربراہ اور اہلکاروں کی قومی جوہری دن کی مناسبت سے ملاقات
۲۰۱۴/۰۴/۰۹- رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قومی جوہری دن کی مناسبت سے ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ، مدیروں،دانشوروں ،سائنسدانوں اور ماہرین کے ساتھ ملاقات میں ملک کےجوہری شعبہ میں ترقیات اور نتائج کو ملک میں قومی خود اعتمادی کی تقویت اور دیگر علمی و سائنسی ترقیات کا مظہر قراردیا اور اسلامی جمہوریہ ایران و گروپ1+5 کے درمیان مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے بارے سامراجی اور دشمن محاذ کی طرف سے معاندانہ رفتار ختم کرنے کے پیش نظر مذاکرات کرنےکے سلسلے میں موافقت کی گئی تھی اور ان مذاکرات کو جاری و ساری رہنا چاہیے اور یہ بات بھی سبھی کو جان لینی چاہیے کہ جوہری تحقیق اور فروغ کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سرگرمیاں کسی صورت میں متوقف نہیں ہوں گي اور نہ ہی ایران کے جوہری تحقیقاتی پروگرام میں سے کسی کو بندکیا جائےگا اور اس کے ساتھ ہی ایران اور بین الاقوامی جوہری ادارے کے روابط بھی متعارف اور معمول کے مطابق ہونےچاہییں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملاقات کے آغاز میں بیس فروردین ماہ مطابق 9 اپریل قومی جوہری دن کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور ملک کے سرکاری کلینڈر میں اس دن کے ثبت کو ملک کے جوہری شعبہ میں سرگرم ماہرین اور سائنسدانوں کی کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ قراردیا اور جوہرے ادارے کے فداکار اور مجاہد شہداء کی تجلیل کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ جوہری علم و دانش سے صنعت، تجارت، صحت، زراعت اور خوراک کی سکیورٹی کے سلسلے میں استفادہ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جوہری علم و دانش کا سب بڑا فائدہ قومی خود اعتمادی کی تقویت پر مبنی تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قوموں پر تسلط پیدا کرنے اور ان کے حقوق پامال کرنے کے سلسلے میں قدیم اور جدید استعمار کے اہم طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کے اس مکر و فریب کو جو عامل باطل کرے وہ عامل ایک قوم کی ترقی اور عظيم حرکت کا اصلی عامل ہوگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کے ابتدائی دور میں ہی ایران کو پسماندہ اور کمزور ملک قرار دینے کے سلسلے میں دشمن کی کوششوں اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کے مد مقابل ، نیز ملک کی سیاسی مدیریت کو مقہور بنانے اور بلند مدت پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں دشمن نے بہت زيادہ تلاش و کوشش کی اور یہ تلاش و کوشش دشمن کے بہت سے منصوبوں کا حصہ ہے لیکن سامراجی محاذ کو اس سلسلے میں آج تک کوئي کامیابی نصیب نہیں ہوئی اور آئندہ بھی اسے کوئي کامیابی نصیب نہیں ہوگي۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر ایران کے خلاف ماحول کو سازگار بنانے اور رائے عامہ ہموار کرنےکے لئے عام بہانہ تلاش کرنے کو انقلاب اسلامی کے مقابلے میں دشمن کا ایک اور مکر و فریب قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کا ایٹمی معاملہ اس کا ایک واضح نمونہ ہےجس کے بارے میں دشمن نے پروپیگنڈہ کرنے کی بہت تلاش و کوشش کی اور ایرانی نظام کے خلاف دل کھول کر جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حتی اب جبکہ شرعی، عقلی اور سیاسی حکم کے پیش نظر واضح ہوگیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاربنانے کی تلاش و کوشش میں نہیں ہے، پھر بھی امریکی حکام جب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ صراحت کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کو بیان کرتے ہیں جبکہ انھیں خود اچھی طرح یقین ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس جھوٹے اور غلط پروپیگنڈہ سے ان کا مقصد ایران کی خلاف عالمی رائے عامہ کو باقی رکھنا ہے اور اسی بنیاد پر نئی حکومت کے پروگرام کے مطابق ایٹمی معاملے پر مذاکرات کے سلسلے میں موافقت کی گئي تاکہ عالمی سطح پر پیدا کی گئي غلط فہمی اور جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جاسکے اور فریق مقابل سے اس بہانہ کو سلب کیا جاسکےاور عالمی رائے عامہ کے لئے حقیقت بھی روشن اور مشخص ہوجائے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: البتہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران اپنی جوہری تحقیقات سے پیچھے ہٹ جائے گا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: اب تک جو جوہری ترقیات اور نتائج حاصل ہوئے ہیں وہ درحقیقت ایرانی قوم کے لئے بشارت اور خوشخبری ہیں کہ ایرانی قوم علم و ٹیکنالوجی کی بلند ترین چوٹیوں کو فتح کرسکتی ہے۔لہذا ملک میں جوہری حرکت کسی بھی صورت میں نہ متوقف ہوگی اور نہ ہی سست ہوگی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی مذاکراتکاروں کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: جوہری فروغ و تحقیق کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہیں اور ملک کے کسی بھی جوہری تحقیقیپروگرام کو بند یا ختم نہیں کیا جائےگا اور کسی کو اس کے بارے میں معاملہ کرنے کا بھی کوئي حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئي ایسا کام کرےگا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جوہری سائنسدانوں اور ماہرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: جس راستے کو آپ نے شروع کیا ہے اس پر قدرت ، طاقت اور سنجیدگی کے ساتھ گامزن رہیں کیونکہ ملک کو اس وقت سائنس و ٹیکنالوجی اور جوہری شعبہ میں پیشرفت اور ترقی کی ضرورت ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر جوہری شعبہ میں علمی حرکت اسی قدرت اور طاقت کے ساتھ جاری رہے تو سرعت کے ساتھ مختلف قسم کی ٹیکنالوجیاں حاصل ہوں گی، لہذا جوہری شعبہ میں علمی حرکت نہ متوقف ہوسکتی ہے اور نہ ہی سست ہوسکتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے جوانوں کی صلاحیتوں کے پیش نظر مختلف ٹیکنالوجیوں کے حصول کو ممکن قراردیتے ہوئے فرمایا: جس میدان میں بھی بنیادی تعمیری وسائل موجود ہوں اس میدان میں ہمارے سائنسداں اور ماہرین حیرت انگیز کارنامے انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں چند سال قبل تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے ایندھن کے لئےدو ممالک کے ساتھ مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس دور میں ایندھن کی تیاری کے لئے ایک فارمولہ تیار کیا گیا لیکن امریکیوں نے اپنے دوست ممالک اور اسی طرح جنوبی امریکہ کے ایک ملک سے جو کچھ کہہ رکھا تھا اور بعض ہمارے حکام کو بھی یقین دلادیا تھا اس کے برخلاف انھوں نے اس کام میں خلل ایجاد کیا اور یہ تصور کرلیا کہ انھوں نے ایران کو مکمل طور پر مشکل میں ڈالدیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: میں نے اس دور میں بھی پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ امریکہ اس معاملے کو حل نہیں کرنا چاہتا اور بعد میں سب نے دیکھ لیا کہ جب معاہدہ عمل کے مرحلے میں پہنچ گیا تو اس وقت امریکہ نے اسے عملی جامہ پہنانے سے روک دیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کے عزم و ولولہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسی دور میں ہمارے سائنسدانوں اور ماہرین نے اعلان کیا کہ وہ تہران ری ایکٹر کے لئے ایٹمی ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مغربی ممالک نے مذاق اڑایا، لیکن ہمارے جوانوں نے اس کام کو طے شدہ مدت سے بھی کم عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچا کر دشمنوں کو مبہوت کردیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی دفاعی اور بایو ٹیکنالوجی کو ملک کے جوانوں کی صلاحیتوں اور توانائيوں کےدیگر نمونے قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کے جوہری ادارے کے تمام شعبوں میں اس جذبہ اور ولولہ کی حفاظت بہت ضروری ہے اور ایران کے جوہری ادارے کو اپنی تحقیقات اور علمی نتائج کے بارے میں بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی حکام کو بھی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی حکام کو بھی ایرانی سائنسدانوں کی علمی کاوشوں اور علمی نتائج کے بارے میں دقت سے کام لینا چاہیے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کے فائدہ اور اخراجات کے سلسلے میں ملک کے اندر موجود بعض نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی معاملے کے بارے میں ایسے نظریات سادہ اندیشی پر مبنی اور غیر شعوری ہیں کیونکہ اگر بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ پابندیاں جوہری پروگرام اور ایٹمی تحقیقات کی وجہ سے ہیں تو انھیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ایٹمی معاملے کے ظہور سے پہلے بھی موجود تھیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اس دور میں جب ایٹمی بہانہ نہیں تھا ایک مغربی عدالت نے ایران کے صدر کے خلاف غائبانہ مقدمہ درج کیا لیکن اب ملکی اقتدار کے باوجود وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک کی طرف سے پابندیاں اور دباؤ ایٹمی معاملے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ وہ ایرانی قوم کے استقلال، اسلامی تشخص، ایمان اور اسی طرح ایرانی قوم کے درخشاں اور تابناک مستقبل کے خلاف ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: لہذا یہ جو کہا جاتا ہے کہ ایران کو ایٹمی معاملے کی وجہ سے پابندیوں اور دباؤ کا سامنا ہے صحیح بات نہیں ہےکیونکہ اگر ایٹمی معاملہ بھی نہ ہوتا تب بھی وہ کوئی دوسرا بہانہ تلاش کرلیتے۔، جیسا کہ اب بھی امریکیوں نے مذاکرات کے دوران ہی انسانی حقوق کو بہانہ بنالیا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر انسانی حقوق کا مسئلہ بھی حل ہوجائے تو وہ کوئی اور مسئلہ اور بہانہ تلاش کرلیں گے لہذا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے دباؤ میں نہ آئیں اور اپنی علمی و سائنسی پیشرفت و ترقی کو قدرت اور طاقت کے ساتھ جاری رکھیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مذاکرات کو جوہری دائرے کے اندر جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے ملک کے مذاکراتکاروں کو فریق مقابل کےکسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرنا چاہیے اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ روابط اور تعلقات کو بھی متعارف اور معمول کے مطابق ہونا چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جوہری ماہرین اور دانشوروں کی علمی و سائنسی کاوشوں اور نتائج کو ان کے اللہ تعالی پر ایمان و توکل اور ذمہ داری کے احساس کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: ہم اس ایمان کے نتیجے میں الہی ہدایت اور قابل توجہ پیشرفت کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے روزافزوں ترقیات و پیشرفت کو جاری رکھنے کی توقع اور امید کا اظہار کیا اور جوہری ادارہ کے موجودہ اہلکاروں منجملہ جوہری ادارے کے سربراہ ڈاکٹر صالحی اور اسی طرح گذشتہ اہلکاروں کی کوششوں اور زحمتوں کا شکریہ ادا کیا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ جناب ڈاکٹر صالحی نے جوہری ادارے میں انجام پانے والے اقدامات اور جوہری پیشرفت کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
ڈاکٹر صالحی نے ملک میں بجلی کی پیداوار اور انرجی کی ضروریات اور اس کے ساتھ صنعت ، زراعت ، صحت اور دیگر مختلف شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کو جوہری ادارے کی اصلی اور اسٹراٹیجک ذمہ داری قراردیتے ہوئے کہا: حالیہ برسوں میں ایٹمی ایندھن کی تیاری ایران کے جوہری ادارے کے درخشاں کارناموں میں شامل ہے۔
ڈاکٹر صالحی نےملک کی جوہری ترقیات اور مختلف شعبوں میں تحقیق اور توسعہ اور جدید ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : یورینیم کے جدید وسائل کی شناخت اور ہوائی و زمینی اکتشافات جوہری ادارے کے دیگر اقدامات میں شامل ہیں۔
بوشہر سائٹ میں بجلی کےجدید یونٹوں کی تعمیر اور دارخوین کے بجلی پلانٹس کی پیشرفت دیگر موارد تھے جن کی طرف ڈاکٹر صالحی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج جوہری ٹیکنالوجی کے دن کی مناسبت سے اراک کے تحقیقاتی ری ایکٹر میں آسوٹوپ آکسیجن18 کے تعمیری یونٹ کا آغاز ہوگيا ہے۔
رہبر معظم سے آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف کی ملاقات
۲۰۱۴/۰۴/۰۹ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آذربائیجان کے صدر الہام علی اوف کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی ، مذہبی ،ثقافتی تعلقات اور ہمسائیگي کو دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے سلسلے میں مؤثر اور اہم عامل قراردیتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو سیاسی عزم اور سنجیدگی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے مخالفین کی سازشوں کو سیاسی عزم کے ساتھ ناکام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور دونوں قوموں اور دونوں حکومتوں کے باہمی روابط کو روز بروز مضبوط اور مستحکم کرنے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام اور ان کے عقائد کے ساتھ گہرے استحکام کو حکومتوں کی کامیابی کا ضامن قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض مذہبی انتہا پسند گروہوں کو اسلامبی مذاہب کے درمیان اختلاف ڈالنے اور قومی اتحاد کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان انجام پانے والے مذاکرات اور دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کی تشکیل کو مطلوب اور پسندیدہ اقدام قراردیتے ہوئے فرمایا: دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی تبادلہ فریقین کے وسیع وسائل اور ظرفیتوں کے پیش نظر بہت کم ہے اس سفر کےاقتصادی اور علاقائی تعاون میں سنگ میل ثابت ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طرفین کے سیاسی عزم و ارادہ اور سنجیدگی کو باہمی روابط کے فروغ کے لئے بہت ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: بعض ممالک منجملہ غاصب صہیونی حکومت ، ایران اور آذربائیجان کے باہمی مضبوط روابط کے فروغ سے خوشحال نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں مسلسل و پیہم خلل ایجاد کررہے ہیں لیکن سیاسی عزم و پختہ ارادے کے ساتھ ان کے تخریبی اقدامات کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
اس ملاقات میں صدر حسن روحانی بھی موجود تھے، جمہوریہ آذربائیجان کے صدر جناب الہام علی اوف نے بھی ایران کے سفر پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو بہت ہی مفید اور تعمیری قراردیتے ہوئے کہا: ایران اور آذربائیجان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کا کام آج ہی سے آغاز ہوگیا ہے اور یہ سفر صنعت، تجارت، روڈ و ٹرانسپورٹ ،سیاحت اور دیگر مختلف شعبوں میں باہمی روابط کے فروغ میں اہم ثابت ہوگا۔
آذربائیجان کے صدر نے مذہبی انتہا پسندی کو دونوں ممالک کے لئے مشترکہ خطرہ قراردیا اور ایران و آذربائیجان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آذربائیجان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
آذربائیجان کے صدر نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی سرپرستی میں علاقہ اور عالمی سطح پر ایران کی مستقل پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ایران کے اقتدار کو اپنا اقتدار سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور مضبوط روابط ،دوسروں کو منفی اثرات قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اہلسنت کی جانب سے حکومت کےمنصوبوں کی حمایت
ایران کے اہلسنت، حکومت کے منصوبوں کی بھرپورحمایت کرتے ہيں
جنوب مشرقی ایران میں واقع شہرزاہدان کے اہلسنت امام جمعہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے منصوبوں کی حمایت پرتاکید کی ہے۔
ارنا کی رپورٹ کےمطابق زاہدان کے اہلسنت امام جمعہ اور مدرسہ دارالعلوم کے سربراہ مولوی عبدالحمید اسماعیل زھی نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ صوبہ سیستان وبلوچستان کے ہرطبقے کے عوام بالخصوص اہلسنت، حکومت کےمنصوبوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کومستحکم کرنے کےلئے اس کے منصوبوں کی ہمہ گیرحمایت کرتے ہیں۔
مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی کے آئندہ دورہ سیستان وبلوچستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرحسن روحانی کا دورہ نہایت اہم ہوگا اور یقینا مختلف پہلوؤں سے نتیجہ خیزثابت ہوگا۔
آیت اللہ حکیم: پاکستان کے عوام اسلام پسند، آزادی پسند اور دین دوست ہیں
رپورٹ کے مطابق بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمٰی سید سعید الحکیم نے پاکستانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان کے پیروان ولایت سے واقف ہوں، پاکستان کے عوام اسلام پسند، آزادی پسند اور دین دوست ہیں، اگرچہ شیعیان علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خلاف تکفیری فرقہ برسرپیکار ہے لیکن پاکستان کے غیور شیعہ اور سنی مسلمان ہمیشہ ان کے عزائم کے مقابلے میں کھڑے رہے اور استقامت دکھاتے رہے۔
آیت اللہ العظمٰی سید سعیدالحکیم نے کہا کہ تاریخی طور پر سلفی تکفیری ہمیشہ اسلامی مقدسات کے خلاف متحرک رہے اور شروع سے ہی رسول پاک (ص) اور اُن کی آل پاک (ع) کے آثار کو مٹانے کے درپے رہے، لیکن مسلمانوں نے اپنے اتحاد سے اُنہیں ہمیشہ ناکام بنایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مقابلے کے لیے شیعہ سنی اتحاد اور بھائی چارے کو آگے بڑھانے کی ہمیشہ ضرورت رہی اور آج یہ ضرورت دوچند ہوگئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو میری طرف سے سلام کہہ دیجئے گا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
