Super User

Super User

جوہری مذاکرات کے بارے میں بیان باری غیر سنجیدہ عملاسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ماہرین کی سطح کے نئے مرحلے کے مذاکرات سے متعلق بعض شدت پسند امریکی حکام اور گروہوں کی جانب سے منفی تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے بعض حکام کی جانب سے جوہری مذاکرات کے بارے میں بیان باری غیر سنجیدہ عمل ہے۔ وزارت خارجہ کے پریس نوٹ کے مطابق محترمہ مرضیہ افخم نے کہا کہ ایرانی قوم دھمکیوں اور دباؤ سے متاثر نہیں ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف و صرف باہمی احترام اور ایرانی قوم کے حقوق کے اعتراف کی بنیاد پر ہی مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے قوانین کے تحت اپنے جوہری حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں جنیوا میں تاریخی عبوری جوہری معاہدے طے پانے کے بعد ایران اور چھ عالمی طاقتیں ایک جامع جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

افغانستان ،کامیاب صدارتی انتخابات کی عالمی پیمانے پر ستائشافغانستان میں صدارتی انتخابات کے کامیاب انعقاد اور بھاری ووٹرزٹرن آؤٹ کی افغان اور مغربی رہنماؤں نے تعریف کی اور اسے ایک بڑی کامیابی قراردیا ہے جب کہ پولنگ کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے ۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صدارتی انتخابات کے انعقاد کو ایک عظیم کامیابی قراردیا اور کہا کہ افغان عوام نے دنیا کے سامنے جمہوریت کے لئے حمایت ظاہر کردی ہے افغانستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹر میں سے 70 لاکھ سے زائد افغان عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاہے ۔

ادھر وہائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے بھی انتخابات کی تعریف کی اورکہا کہ ہم انتخابات کے لئے ٹرن آؤٹ پر افغان عوام ، سیکورٹی فورسز اور الیکش حکام کو خراج تحسین پیش کرتے ہيں ،برطانیہ کے وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ افغان عوام کی ایک عظیم کامیابی ہے کہ تشدد کے خطروں کے باوجود بچے ، بوڑھے ، جوان ،مرد اور خواتین اتنی بڑی تعداد میں نکلے اور ملک کے مستقبل کے لئے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

آیت اللہ بشیر نجفی کی جسمانی حالت بہتر

آیت اللہ بشیر نجفی کسی بیماری کے باعث نجف اشرف کے ایک پستپال میں زیر علاج ہیں۔

آیت اللہ العظمیٰ بشیر نجفی کے بیٹے نے بتایا کہ موصوف کی جسمانی حالت اب بہتر ہو گئی ہے تاھم ہسپتال میں زیرنگرانی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نجف اشرف کے مرجع تقلید آیت اللہ حافظ بشیر نجفی جسمانی ناراحتی اور بیماری کے باعث نجف اشرف کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

موصوف کے بیٹے نے ان کی حالت کو بہتر بتاتے ہوئے کہا کہ ابھی ہسپتال میں ہی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور انشاء اللہ جلدی انہیں گھر روانہ کر دیا جائے گا۔

Monday, 07 April 2014 04:46

حکیمہ خاتون

حکیمہ خاتون

تاریخ اسلام کی ایک اور عظیم و نامور خاتون فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور جناب سمانہ کی صاحبزادی اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی " حکیمہ خاتون " ہیں۔

آپ تیسری صدی ہجری کی دوسری دہائی میں پیدا ہوئیں آپ راوی حدیث ، عابدہ ، مفکر ، اور معنویت و عرفان کی اعلی منزل پر فائز تھیں جناب حکیمہ خاتون فرزند رسول حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے وقت موجود تھیں آپ نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی اور اس کے بعد بھی اکثر و بیشتر حضرت امام مهدي علیہ السلام سے ملاقات کی تھی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام مهدي علیہ السلام کے سفیروں میں سے تھیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی جناب نرجس خاتون سے شادی اور امام مهدي علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں جناب حکیمہ خاتون سے بے شمار روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

جناب حکیمہ خاتون دوسو چوہتر ہجری قمری کو وفات پاگئیں اور آپ کا مرقد مطہر حضرت امام حسن عسکری اور امام علی نقی علیہم السلام کے حرم میں آج بھی سامراء میں مرجع خلائق بنا ہوا ہے ۔

آبنائے ہرمز میں ایران و پاکستان کی فوجی مشقیںاسلامی جمہوریۂ ایران اور پاکستان، آٹھ اپریل سے آبنائے ہرمز میں مشترکہ بحری فوجی مشقیں انجام دیں گے۔ ایرانی بحریہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بحریہ کا بیڑا، اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں انجام دینے کی غرض سے کل ہفتے کے روز جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں لنگر انداز ہوگیا۔ ایڈمیرل " شہرام ایرانی" کے بقول پاکستانی بحری بیڑا ، چار دنوں تک بندر عباس میں لنگر انداز رہے گا اور مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کے علاوہ اس کے کمانڈرز ایران کے فوجی حکام سے، فوجی اور سمندری تعاون کے بارے میں مذاکرات کریں گے ۔ پاکستانی بحری بیڑے میں میزائل لانچر جنگي بحری جہاز، لاجسٹک جنگي بحری جہاز اور جدید آبدوز شامل ہیں ۔

ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گےحزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ہفتے کے دن ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملت لبنان کی اکثریت قانونی ٹائم کے اندر نیا صدر منتخب کۓ جانے کی خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استقامت دفاعی اسٹریٹیجی اور دوسرے مسائل کے جائزے کے لۓ مذاکرات میں شرکت کر رہی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت سب سے بڑا خطرہ ہے اور بعض حلقے اس خطرے کو نظر انداز کررہے ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ حزب اللہ ہرطرح کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گي اور علاقے کی تمام قوموں بالخصوص ملت لبنان کے مقابل استقامت کے علاوہ کوئي اور چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے خلاف جاری مزاحمت کے حزب اللہ کا شام کی جنگ میں شامل ہونے یا انیس سو بیاسی اور دوہزار چھ کی جنگوں سے کوئي تعلق نہیں ہے بلکہ استقامتارض فلسطین پر صیہونی حکومت کے قیام سے شروع ہوئي۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ کی دفاعی طاقت کے پیش نظر صیہونی حکومت دوبارہ حملے کرنے کی جرات نہیں کرے گی اور سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ صیہونی حکومت حزب اللہ کی طاقت اور توانائي سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے شام کے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام کا بحران بیرونی مداخلت کی وجہ سے اس مرحلے تک پہنچا ہے اور حزب اللہ اور اسکی موجودگي سے اس کا کوئي تعلق نہیں ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ نے ابتدا ہی سے شام کے بحران کے سیاسی راہ حل پرتاکید کی ہے لیکن کچھ عرب حلقوں نے شام کی حکومت کی سرنگونی پر اصرار کیا تھا۔سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ لبنان کی استقامت ، فوج اور ملت نے لبنان اور اس ملک کے جنوبی علاقے کے دفاع میں کامیابی حاصل کی اور ان تینوں کو شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ استقامت در اصل ایک کلچر اور جہادی کوشش کا نام ہے کہا کہ استقامت لبنان کے تمام گھروں ، شہروں ، دیہاتوں اور مساجد میں موجود ہے اور تاریخی دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے ، کہ استقامتکے بارے میں ہمیشہ قومی اتفاق رہا ہے اور حزب اللہ ماضی کی نسبت بہت زیادہ طاقتور ہوچکی ہے اور اسکی یہ ترقی تمام شعبوں میں دیکھی جاسکتی ہے، کہا کہ حزب اللہ ملت لبنان اور اپنے ملک کی سرزمین کے دفاع کے لئے ہمیشہ آمادہ و مستحکم باقی رہے گي۔

دریں اثناء لبنان کے دروزیوں کے رہنما اور ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ولید جنبلاط نے صیہونی دشمن کے مقابلے کے لۓ استقامت کی حمایت پر زور دیا ہے۔ ولید جنبلاط نے زور دے کر کہا کہ دشمن نے بارہا لبنان کے خلاف جارحیت کی ہے لیکن ہر مرتبہ استقامت نے اسے شکست کا مزہ چکھایا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں استقامت نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اور گزشتہ تیس برسوں کے دوران اس نے طاقت کا وہ توازن تبدیل کردیا ہے جو برسہا برس سے تسلط پسند طاقتوں نے قائم کر رکھا تھا۔

بلاشبہ حزب اللہ لبنان کی قیادت میں لبنانی عوام کی صیہونیت مخالف استقامت صیہونی حکومت کی جارحیتوں کے مقابلے میں ایک سیسہ پلائی ہوئي دیوار شمار ہوتی ہے اور اس کو لبنان کے خلاف تسلط پسند طاقتوں کے خطرات اور سازشوں کی ناکامی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ ان امور کی بناء پر لبنان کے عوام اور خطے کی رائے عامہ میں حزب اللہ لبنان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ کئي برسوں میں استقامت نے صیہونی حکومت کو پے در پے شکستیں دے کر طاقت کا وہ توازن تبدیل کردیا ہے جو صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں نے اس خطے میں برقرار کر رکھا تھا۔ صیہونی حکومت اور اس کے حامی خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے اور صیہونی حکومت کے ناقابل تسخیر ہونے کا پروپیگنڈہ کر کے اس حکومت کی توسیع پسندی اور خطے میں یورپ کی تسلط پسندی کے مقابلے میں ہر طرح کی استقامت کا خاتمہ کرنے کے درپے تھے۔ لیکن لبنان کی استقامت کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی پے در پے شکستوں کے نتیجے میں لبنان اور خطے کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی سازشیں نقش بر آب ہوگئيں۔ سنہ دو ہزار میں صیہونی حکومت کو استقامت سے ذلت آمیز شکست کے نتیجے میں لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپائي اختیار کرنا پڑی۔ اور اس کے بعد سنہ دو ہزار چھ میں تینتیس روزہ جنگ میں استقامت کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی شکست کے ساتھ اس حکومت کے ناقابل شکست ہونے کا طلسم ٹوٹ گیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب تینتیس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست کے ساتھ نئے مشرق وسطی پر مبنی امریکہ کا منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔

مصر: نو ماہ میں تقریبا 500 افراد مارے گئےمصر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک کے سابق صدر محمد مرسی کے تین جون کو ہونے والی معزولی کے بعد سے لیکر اب تک اس ملک میں57 عام شہریوں سمیت 496 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق مصر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہےکہ اس ملک کے معزول صدر "محمد مرسی" کی برطرفی کے بعد سے مصر میں 252 پولیس اہل کار اور 187 دوسرے سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔مصر کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ اس ملک کی سیکیورٹی فورسیز پر سب سے زیادہ حملے اس ملک کے علاقے صحرائے سینا میں ہوئے ہیں اور مسلح گروہوں نے اس علاقے میں سیکیورٹی فورسیز کے خلاف بھاری ہتھیار استعمال کیئے ہیں جبکہ اس علاقے میں دہماکہ خیز مواد کا استعمال بھی دوسرے علاقے سے زیادہ ہوا ہے۔

عراق: مذہبی اختلافات کو ہوا دینا حرام ہے

عراق میں اہل سنّت مفتی نے نظریاتی و مذھبی اختلافات سے اجتناب پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذھبی اختلافات کو ہوا دینا حرام ہے۔ رپورٹ کے مطابق شیخ "مہدی احمد الصمیدعی" نے کہا کہ شیعہ و سنّی کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے اختلافی مسائل سے پرہیز کریں اور علماء کرام کو اس حوالے سے پیشقدم ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔ عراق کے مفتی اہل سنّت نے تاکید کی کہ اہل سنّت کو حتمی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ ان کا اصلی دشمن صہیونی ہیں نہ شیعہ۔ عراق کے اس مذھبی رہنما نے اس امر پر تاکید کے ساتھ کہ مسلمانوں کو اپنے مشترکات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جزوی مسائل اور اہمیت نہیں دینی چاہیے اور مذھب کے نام پر ایک دوسرے پر حملے اور قتل عام کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا اور مسلمان کا خون محترم ہے۔

Sunday, 30 March 2014 08:10

قرب الٰھی کی اهمیت

قرب الٰھی کی اهمیت

اھم گفتگو یہ ھے کہ اس کمال نھائی کا مقام و مصداق کیا ھے؟ قرآن کریم اس کمال نھائی کے مصداق کو قرب الھی بیان کرتا ھے جس کے حصول کے لئے جسمانی اور بعض روحی کمالات صرف ایک مقدمہ ھیں اور انسان کی انسانیت اسی کے حصول پرمبنی ھے اور سب سے اعلی،خالص، وسیع اور پایدار لذت،مقام قرب کے پانے سے حاصل ھوتی ھے،قرب خدا کا عروج وہ مقام ھے جس سے انسان کی خدا کی طرف رسائی ھوتی ھے اور رحمت الھیسے فیضیاب ھوتاھے، اس کی آنکھ اور زبان خدا کے حکم سے خدائی افعال انجام دیتی ھیں۔ منجملہ آیات میں سے جو مذکورہ حقیقت پر دلالت کرتی ھیں درجہ ذیل ھیں:

۱۔إِنَّ المُتَّقِینَ فِی جَنّاتٍ وَ نَھَرٍ فِی مَقعَدِ صِدقٍ عِندَ مَلِیکٍ مُقتَدرٍ

بے شک پرھیزگار لوگ باغوں اور نھروں میں پسندیدہ مقام میں ھر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاھوں میں ھوں گے۔

۲،<فَاَمَّا الَّذِینَ آمَنُوا بِاللّٰہِ وَ اعتَصَمُوا بِہِ فَسَیُدخِلُھُم فِی رَحمَةٍ مِّنہُ وَ فَضلٍ وَ یَھدِیھِم إِلَیہِ صِرَاطاً مُّستَقِیماً>

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اسی سے متمسک رھے تو خدا بھی انھیں عنقریب ھی اپنی رحمت و فضل کے بیخزاں باغ میں پھونچا دیگا اور انھیں اپنی حضوری کا سیدھا راستہ دکھا دے گا۔

اس حقیقت کو بیان کرنے والی روایات میں سے منجملہ حدیث قدسی ھے:

”ما تقرب إلیّ عبد بشیٍ احبّ إلیّ ممّا إفترضت علیہ و انّہ لیتقرب إلی بالنافلةحتیٰ احبہ فإذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ

الذی یبصر بہ و لسانہ الذی ینطق بہ و یدہ التی یبطش بھا“

کوئی بندہ واجبات سے زیادہ محبوب شی کے ذریعے مجھ سے نزدیک نھیں ھوتا ھے،

بندہ ھمیشہ(درجہ بہ درجہ) مستحب کاموں سے(واجبات کے علاوہ) مجھ سے نزدیک ھوتا ھےحتی کہ میں اس کو دوست رکھتا ھوں اور جب وہ مرا محبوب ھوجاتا ھے تواسکا کان ھوجاتا ھوں جس سے وہ سنتا ھے اور اس کی آنکھ ھوجاتا ھوں جس سے وہ دیکھتا ھے اور اس کی زبان ھوجاتا ھوں جس سے وہ گفتگو کرتا ھے اور اسکا ھاتھ ھوجاتا ھوں جس سے وہ اپنے امور کا دفاع کرتا ھے۔

قربت کی حقیقت

اگر چہ مقام تقرب کی صحیح اور حقیقی تصویر اور اس کی حقیقت کا دریافت کرنا اس مرحلہ تک پھونچنے کے بغیر میسر نھیں ھے لیکن غلط مفاھیم کی نفی سے اس کو چاھے ناقص ھی سھی حاصل کیا جاسکتا ھے،

کسی موجود سے نزدیک ھونا کبھی مکان کے اعتبار سے اور کبھی زمان کے لحاظ سے ھوتاھے، یہ بات واضح ھے کہ قرب الٰھی اس مقولہ سے نھیں ھے اس لئے کہ زمان ومکان مادی مخلوقات سے مخصوص ھیں اور خداوندعالم زمان و مکان سے بالاتر ھے،اسی طرح صرف اعتباری اور فرضی تقرب بھی مد نظر نھیں ھوسکتا اس لئے کہ اس طرح کا قرب بھی اسی جھاں سے مخصوص ھے اور اس کی حقیقت صرف اعتبار کے علاوہ کچھ بھی نھیں ھے اگر چہ اس پر ظاھر ی آثار مترتب ھوتے ھیں، کبھی قرب سے مراد دنیاوی موجودات کی وابستگی ھے منجملہ انسان خداوندعالم سے وابستہ ھے اور اسکی بارگاہ میں تمام موجودات ھمیشہ حاضر ھیں جیسا کہ روایات و آیات میں مذکور ھے:

<وَ نَحنُ اَقرَبُ إِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِیدِ>

اور ھم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھیں۔

قرب کا یہ معنی بھی انسان کے لئے کمال نھائی کے عنوان سے ملحوظ نظر نھیں ھے اس لئے کہ یہ قرب تو تمام انسانون کے لئے ھے،

دوست،نزدیک تراز من بہ من است وین عجیب ترکہ من از وی دورم

”دوست مرے نفس سے زیادہ مجھ سے نزدیک ھے لیکن اس سے زیادہ تعجب کی یہ بات ھے کہ میں اس سے دورھوں“

بلکہ مراد یہ ھے کہ انسان اس شائستہ عمل کے ذریعہ جو اس کے تقویٰ اور ایمان کا نتیجہ ھے اپنے وجود کوایک بلند ی پر پاتاھے اور اسکا حقیقی وجود استحکام کے بعد اور بھی بلند ھوجاتاھے، اس طرح کہ اپنے آپ کو علم حضوری کے ذریعہ درک کرتا ھے اور اپنے نفسانی مشاھدے اور روحانی جلوے نیز خدا کے ساتھ حقیقی روابط اور خالص وابستگی کی بنا پر الہٰی جلوے کا اپنے علم حضوری کے ذریعہ ادراک کرتا ھے:

< وُجُوہٌ یَومَئِذٍ نَاضِرَةٌ . إلَیٰ رَبِّھَا نَاظِرَةٌ >۔

اس روز بہت سے چھرے حشاش و بشاش اپنے پروردگار کو دیکھ رھے ھوں گے۔

قرب الٰھی کے حصول کا راستہ

گذشتہ مباحث میں بیان کیا جا چکا ھے کہ انسانی تکامل،کرامت اکتسابی اور کمال نھائی کا حصول اختیاری اعمال کے زیر اثر ھے،لیکن یہ بات واضح رھے کہ ھر اختیاری عمل،ھرانداز اورھرطرح کے اصول کی بنیادپر تقرب کا باعث نھیں ھے بلکہ جیسا کہ اشارہ ھواھے کہ اس سلسلہ میں وہ اعمال، کار ساز ھیں جو خدا،معاد اور نبوت پر ایمان رکھنے سے مربوط ھوں اور تقوی کے ساتھ انجام دیئے گئے ھوں۔ عمل کی حیثیت ایمان کی حمایت کے بغیر ایک بے روح جسم کی سی ھے اور جو اعمال تقویٰ کے ساتھ نہ ھوں بارگاہ رب العزت میں قابل قبول نھیں ھیں:<إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ المُتَّقِینَ> (خدا تو بس پرھیزگاروں سے قبول کرتا ھے)لہٰذا کھا جا سکتا ھے کہ خداوندعالم سے تقرب کے عام اسباب وعلل،ایمان اور عمل صالح ھیں،اس لئے کہ جو عمل تقوی کے ھمراہ نہ ھو خداوندعالم کے سامنے پیش ھونے کی صلاحیت نھیں رکھتا اور اسے عمل صالح بھی نھیں کھا جاسکتاھے۔

گذشتہ مطالب کی روشنی میں واضح ھوجاتا ھے کہ جوچیز حقیقت عمل کو ترتیب دیتی ھے وہ در اصل عبادی عمل ھے یعنی فقط خدا کے لئے انجام دینااور ھر عمل کا خدا کے لئے انجام دینا یہ اس کی نیت سے وابستہ ھے ”إنّما الاعمال بالنیات“ آگاہ ھو جاو کہ اعمال کی قیمت اس کی نیت سے وابستہ ھے اور نیت وہ تنھا عمل ھے جو ذاتاً عبادت ھے لیکن تمام اعمال کا خالصةً لوجہ اللہ ھونا، نیت کے خالصةً لوجہ اللہ ھونے کے اوپر ھے، یھی وجہ ھے تنھا وہ عمل جو ذاتاً عبادت ھوسکتا ھے وہ نیت ھے اور تمام اعمال، نیت کے دامن میں عبادت بنتے ھیں اسی بنا پرنیت کے پاک ھوئے بغیر کوئی عمل تقرب کا وسیلہ نھیں ھوسکتا ھے، یھی وجہ ھے کہ تمام با اختیار مخلوقات کی خلقت کا ھدف عبادت بنایا گیا ھے: <وَ مَا خَلَقتُ الجِنَّ وَ الإنسَ إِلا لِیَعبُدُونَ> (اور میں نے جنوں اور آدمیوں کو اسی غرض سے پیدا کیا ھے کہ وہمیری عبادت کریں۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ھے کہ قرآن کی زبان میں مقام قرب الٰھی کو حاصل کرنا ھر کس و ناکس، ھر قوم و ملت کے لئے ممکن نھیں ھے اور صرف اختیاری ھی عمل سے(اعضاو جوارح کے علاوہ)اس تک رسائی ممکن ھے۔

مذکورہ تقریب کے عام عوامل کے مقابلہ میں خداوندعالم سے دوری اور بد بختی سے مراد ؛ خواھش دنیا، شیطان کی پیروی اور خواھش نفس(ھوائے نفس) کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ھے،حضرت موسی(ع)کے دوران بعثت،یھودی عالم” بلعم باعور“ کے بارے میں جو فرعون کا ماننے والا تھا قرآن مجید فرماتا ھے:

<وَاتلُ عَلَیھِم نَبَاَ الَّذِی آتَینَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنھَا فاَتبَعَہُ الشَّیطَانُ فَکَانَ

مِنَ الغَاوِینَ وَ لَوشِئنَا لَرَفَعنَاہُ بِھَا وَ لٰکِنَّہُ اَخلَدَ إِلَیٰ الارضِ وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ>

اور تم ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنادو جسے ھم نے اپنی آیتیں عطا کی تھیں پھر وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا پکڑااور آخر کار وہ گمراہ ھوگیا اور اگر ھم چاہتے تو ھم اسے انھی آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے مگر وہ تو خود ھی پستی کی طرف جھک پڑا اور اپنی نفسانی خواھش کا تابعدار بن بیٹھا۔

تقرب خدا کے درجات

قرب الھی جو انسان کا کمال نھائی اور مقصود ھے خود اپنے اندر درجات رکھتا ھےحتی انسان کا سب سے چھوٹا اختیاری عمل اگر ضروری شرائط رکھتا ھوتو انسان کو ایک حد تک خداسے قریب کردیتا ھے اس لئے انسان اپنے اعمال کی کیفیت ومقدار کے اعتبار سے خداوند قدوس کی بارگاہ میں درجہ یا درجات رکھتا ھے، اور ھر فرد یا گروہ کسی درجہ یا مرتبہ میں ھوتا ھے:<ھُم دَرَجَاتٌ عِندَ اللّٰہِ> (وہ لوگ(صالح افراد)خدا کی بارگاہ میں(صاحب)درجات ھیں۔)اسی طرح پستی اور انحطاط نیز خداوندعالم سے دوری بھی درجات کا باعث ھے اورایک چھوٹا عمل بھی اپنی مقدار کے مطابق انسان کو پستی میں گراسکتا ھے، اسی بنا پر انسان کی زندگی میں ٹھھراو اور توقف کا کوئی مفھوم نھیں ھے،ھر عمل انسان کویا خدا سے قریب کرتا ھے یا دور کرتاھے، ٹھھراو اس وقت متصور ھے جب انسان مکلف نہ ھو، اور خدا کے ارادہ کے مطابق عمل انجام دینے کے لئے جب تک انسان اختیاری تلاش و جستجو میں ھے مکلف ھے چاھے اپنی تکلیف کے مطابق عمل کرے یا نہ کرے، تکامل یا تنزل سے ھمکنار ھوگا۔

<وَ لِکُلِّ دَرَجَ-اتٌ مِمَّا عَمِلُ-وا وَ مَا رَبُّ-کَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعمَل-ُونَ>

اور جس نے جیسا کیا ھے اسی کے موافق(نیکوکاروں اور صالحین کے گروہ میں سے) ھر ایک کے درجات ھیں اور جو کچھ وہ لوگ کرتے ھیں تمھارا پروردگار اس سے بے خبر نھیں ھے۔

انسان کے اختیاری تکامل وتنزل کاایک وسیع میدان ھے؛ایک طرف تو فرشتوں سے بالا تر وہ مقام جسے قرب الہٰی اورجوار رحمت حق سے تعبیر کیا جاتا ھے اور دوسری طرف وہ مقام جو حیوانات و جمادات سے پست ھے اور ان دونوں کے درمیان دوزخ کے بہت سے طبقات اور بھشت کے بہت سے درجات ھیں کہ جن میں انسان اپنی بلندی و پستی کے مطابق ان درجات وطبقات میں جائے گا۔

ایمان ومقام قرب کا رابطہ

ایمان وہ تنھا شی ھے جو خدا کی طرف صعود کرتی ھے اور اچھا ونیک عمل ایمان کو بلندی عطا کرتا ھے:

<إِلَیہِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ العَمَلُ الصَّالِحُ یَرفَعُہُ>

اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں پھونچتی ھیں اور اچھے کام کو وہ خوب بلند فرماتا ھے۔

انسان مومن بھی اپنے ایمان ھی کے مطابق خداوندعالم سے قریب ھے،اس لئے جس قدر انسان کا ایمان کامل ھوگااتناھی اس کا تقرب زیادہ ھوگا، اور کامل ایمان والے کی حقیقی توحیدیہ ھے کہ قرب الہٰی کے سب سے آخری مرتبہ پر فائز ھواور اس سے نیچا مرتبہ شرک و نفاق سے ملاھوا ھے جو تقرب کے مراتب میں شرک اورنفاق خفی سے تعبیر کیا جاتا ھے اور اس کے نیچے کا درجہ جو مقام قرب کے ماسواء ھے شرک اور نفاق جلی کا ھے اور کھا جا چکا ھے کہ یہ شرک ونفاق صاحب عمل وفعل کی نیت سے مربوط ھیں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرماتے ھیں:

”نیّة الشرک فی امتی اخفی من دبیب النملة السوداءِ علیٰ صخرة الصّافی اللیلة الظلماء“

میری امت کے درمیان نیت ِشرک، تاریک شب میں سیاہ سنگ پر سیاہ چیونٹیوں کی حرکت سے زیادہ مخفی ھے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا انسانیت کی معراج

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو انسانیت کی معراج قرار دیا اور فرمایا: میں اسلام کے نام سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہوں اور اسلام کے پیغام کو عظیم پیغام مانتا ہوں۔ آپ جیسی خواتین پر مجھے فخر ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئي دعوی عمل کے مرحلے کے نزدیک پہنچ جاتا ہے تب اسے اس کی حقیقی اہمیت حاصل ہوتی ہے ہم ایک طرف تو خواتین کے مسئلے میں اور دوسری طرف علم و سائنس کے مسئلے میں جب کہ دوسرے پہلو سے انسانیت کی خدمت کے مسئلے میں خاص نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

ہمارا نقطہ نظر اسلام کے تناظر میں ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اچھے انسانی معاشرے میں عورتیں اس بات کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں اس کا موقع بھی ملنا چاہئے کہ، اپنے طور پر علمی، سماجی، تعمیری اور انتظامی شعبوں میں اپنی کوشش اور بھرپور تعاون کریں۔ اس زاویہ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔ ہر انسان کی تخلیق کا مقصد پوری انسانیت کی تخلیق کا مقصد ہے، یعنی انسانی کمال تک رسائي ایسی خصوصیات اور صفات سے خود کو آراستہ کرنا جن سے ایک انسان آراستہ ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئي فرق نہیں ہے۔ اس کی سب سے واضح علامت پہلے مرحلے میں تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ذات با صفات ہے اور اس کے بعد انسانی تاریخ کی دیگر عظیم خواتین کا نام لیا جا سکتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا آسمان انسانیت آفتاب کی مانند ضو فشاں ہیں کوئی بھی ان سے بلند و برتر نہیں ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ خود کو انسانیت کی اوج پر پہنچا دیا۔ لہذا مرد اور عورت کے درمیان کوئي فرق نہیں ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جب اچھے اور برے انسانوں کی مثال دی ہے تو عورت اور مرد دونوں سے متعلق مثال پیش کی ہے۔اگر ایک جگہ فرعون کی بیوی کا تذکرہ فرمایا ہے تو دوسرے مقام پر حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کا ذکر فرمایا ہے '' و ضرب اللہ مثلا للذین آمنوا امرءۃ فرعون " اس کے مقابلے میں برے انسانوں کے لئے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال دی ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ تاریخ میں عورت کے سلسلے میں جو غلط تصور قائم رہا اس کی اصلاح کرے۔ مجھے حیرت ہے کہ معدودے چند مثالوں کے علاوہ ایسا کیوں ہے ؟ کیوں انسان نے مرد اور عورت کے مسئلے میں ہمیشہ غلط طرز فکر اختیار کیا اور اس پر وہ مصر رہا۔ آپ انبیا کی تعلیمات سے ہٹ کر دیکھیں تو عورتوں کے سلسلے میں جو بھی نظریات قائم کئے گئے ہیں ان میں مرد اور عورت کا مقام حقیقت سے دور ہے اور مرد و عورت کے درمیان جو نسبت بیان کی گئي ہے وہ بھی غلط ہے۔ حتی بہت قدیمی تہذیبوں میں بھی جیسے کہ روم یا ایران کی تہذیبیں ہیں، عورت کے سلسلے میں جو تصور اور نظریہ ہے درست نہیں ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، آپ خود ہی اس سے واقف ہیں اور خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ آج بھی دنیا کی وہی حالت ہے۔ آج بھی عورتوں کی حمایت کے بڑے بڑے دعوے اور اس کی ذات کے انسانی پہلو پر تاکید کے نعروں کے باوجود عورتوں کے سلسلے میں جو نظریہ ہے وہ غلط ہے۔ چونکہ یورپی ممالک، مسلم ممالک کی مقابلے میں ذرا تاخیر سے اس بحث میں شامل ہوئے ہیں اس لئے خواتین کے مسئلے میں ذرا دیر سے جاگے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے تک یورپ میں کہیں بھی کسی بھی خاتون کو اظہار رائے کا حق نہیں ہوتا تھا جہاں جمہوریت تھی حتی وہاں بھی عورت کو اپنا مال خرچ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔ بیسوی صدی کے دوسرے عشرے سے یعنی سن انیس سو سولہ یا اٹھارہ سے رفتہ رفتہ یورپی ممالک میں فیصلہ کیا گيا کہ عورتوں کو بھی اپنے سرمائے کے سلسلے میں اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیا جائے اور وہ سماجی امور میں مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرے۔ اس بنا پر یورپ بہت تاخیر کے ساتھ خواب غفلت سے جاگا اور بڑی دیر میں وہ اس مسئلے کو سمجھا۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ وہ کھوکھلے دعوؤں کا سہارا لیکر اپنے اس پسماندگی کی تلافی کرنا چاہتا ہے ۔ یورپ کی تاریخ میں کچھ ملکہ اور شہزادیاں گذری ہیں لیکن کسی ایک خاتون، ایک گھرانے، خاندان یا قبیلے کی عورتوں کا مسئلہ عورتوں کے عام مسئلے سے الگ ہے۔ تفریق ہمیشہ رہی ہے۔ کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جو اعلی مقام تک پہنچیں کسی ملک کی حاکم بن گئیں اور انہیں حکومت وراثت میں مل گئی، لیکن معاشرے کی سطح پر عورتوں کو یہ مقام نہیں ملا اور ادیان الہی کی تعلیمات کے برخلاف کہ جن میں اسلام کی تعلیمات سب سے زیادہ معتبر ہیں عورت ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھی گئی۔ آپ آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کی مہذب دنیا، عورتوں کے سلسلے میں اپنی شرمناک پسماندگي کی تلافی کرنے کے در پے ہے اور اس کے لئے ایک نیا طریقہ اختیار کر رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ عورتوں کے انسانی پہلو کو سیاسی، اقتصادی اور تشہیراتی مسائل کی نذر کردیتے ہیں۔ یورپ میں روز اول سے ہی یہ صورت حال رہی۔ اسی وقت سے جب خواتین کو ان کے حقوق دینے کے مسئلہ اٹھا، انہیں غلط معیاروں کا انتخاب کیا گیا۔ جب ہم دنیا کے فکری اور نظریاتی نظام پر نظر ڈالتے ہیں اور پھر اسلام کی تعلیمات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ انسانی معاشرہ اسی صورت میں خواتین کے مسئلے میں اور مرد اور عورت کے رابطے کے تعلق سے مطلوبہ منزل تک پہنچ سکتا ہے، جب اسلامی تعلیمات کو من و عن قبول کرے اور بغیر کسی کمی بیشی کے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ دنیا میں عورت کے تعلق سے ہمارا یہ خیال ہے۔ آج کی دنیا پرست تہذیبوں میں عورتوں کے سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ہم اس سے ہم متفق نہیں ہیں اسے ہم عورتوں کے لئے سودمند اور معاشرے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ اسلام چاہتا ہے کہ، خواتین، فکری، علمی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر روحانی اور اخلاقی کمال کو پہنچیں۔ ان کا وجود معاشرے اور انسانی برادری کے لئے بھرپور انداز میں ثمر بخش ہو۔حجاب سمیت اسلامی تعلیمات کی بنیاد یہی ہے۔ حجاب، خواتین کو الگ تھلگ کر دینے کے لئے نہیں ہے۔ اگر کوئی حجاب کے سلسلے میں ایسا نظریہ رکھتا ہے تو یہ بالکل غلط اور گمراہ کن نظریہ ہے۔ حجاب در حقیقت معاشرے میں عورتوں اور مردوں کی جنسی بے راہ روی کو روکنےکے لئے ہے کیونکہ یہ صورت حال دونوں بالخصوص عورتوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ حجاب کسی بھی طرح سیاسی، سماجی اور علمی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالتا اس کی زندہ مثال خود آپ لوگ ہیں۔ شائد کچھ لوگ حیرت میں رہے ہوں یا آج بھی حیرت زدہ ہوں کہ کسی بلند علمی مقام پر فائز کوئي خاتون اسلامی تعلیمات بالخصوص حجاب کی پابند ہو۔ یہ بات کچھ لوگوں کے لئے نا قابل یقین تھی اور وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ شاہ کی طاغوتی حکومت کے زمانے میں پردے کا مذاق اڑانے والوں کے ناروا سلوک کا تذکرہ تو چھوڑیں ۔اس زمانے میں یونیورسٹی میں بہت کم خواتین اور لڑکیاں با حجاب تھیں کہ جنہیں تمسخر اور استہزا کا شانہ بنایا جاتا تھا ۔ ہمارے اسلامی انقلاب کی جد وجہد میں عورتوں نے مرکزی کردار ادا کیا اور ان غلط نظریات پر خط بطلان کھیچ دیا۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ کس طرح خواتین نے انقلاب کے لئے بنیادی کردار ادا کیا اس میں میں کوئي مبالغہ آرائي نہیں کر رہا ہوں ۔ ہم نے انقلاب کے دوران دیکھا کہ ہمارے ملک میں خواتین نے ہراول دستے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اگر خواتین نے اس انقلاب کو قبول نہ کیا ہوتا اور اس سے انہیں عقیدت نہ ہوتی تو یہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار نہ ہو پاتا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر خواتین نہ ہوتیں تو انقلابیوں کی تعداد خود بخود نصف ہو جاتی دوسری بات یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی کہ ان کے فرزندوں بھائیوں اور شوہروں پر بھی اثر پڑتا گھر کے ماحول پر اثر پڑتا کیوں کہ خواتین گھر میں اپنا خاص انداز رکھتی ہیں۔ خواتین کا بھرپور تعاون تھا جس کے نتیجے میں دشمن کی کمر ٹوٹ گئي اور ہماری تحریک آگے بڑھی۔ سیاسی شعبے میں بھی ہم نے خواتین کو دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں، وہ مسایل کے حل میں خاص صلاحتیوں سے آراستہ ہیں اور اسلامی نظام میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے پر قادر۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہنا چاہئے۔ علمی میدان میں بھی، خواتین کی پیش رفت کا مصداق آپ خود ہیں اسی طرح آپ کی بہنیں ہیں جو دیگر شعبوں میں مشغول ہیں۔ ہمارے معاشرے میں علم کے مختلف موضوعات کی تعلیم جو معاشرے کی تعمیر کے لئے لازمی ہے ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔ آج تحصیل علم سماجی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ہی شرعی فریضہ بھی ہے۔ تحصیل علم صرف ذاتی خصوصیت نہیں ہے کہ جس کے سہارے کوئی شخص کسی خاص مقام پر پہنچ جائےاور اسے اچھی آمدنی ہونے لگے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو افراد تحصیل علم پر قادر ہیں ان کے لئے تحصیل علم واجب ہے اسپشلائزیشن واجب ہے۔ بقیہ موضوعات کی مانند میڈیکل سائنس کی تعلیم مردوں کی لئے واجب ہے تو عورتوں کے لئے اس سے بڑھ کر واجب ہے۔ کیوں کہ معاشرے میں خواتین کے مقابلے میں کام کے مواقع محدود ہیں۔ ہمارے پاس خاتون ڈاکٹروں کی کمی ہے اس بنا پر اسلام کے نقطہ نظر سے یہ مسئلہ حل شدہ ہے اور ہمارے معاشرے کے لئے ترقی ضروری ہے۔

آپ اپنا عملی پیغام دنیا کو دیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ خواتین کے پاس دنیا کے لئے پیغام ہے۔ اس پیغام کو منظم شکل دیں اور دنیا کے سامنے پیش کریں۔ پیغام صرف تحریری اور زبانی نہیں ہے، بلکہ عملی پیغام ہے۔ ایرانی خواتین بالخصوص وہ خواتین جنہوں نے اسلام کے تناظر میں اور اسلامی احکامات پر عمل آوری خاص کر حجاب کی پابندی کے ساتھ، مختلف علمی میدانوں میں پیش رفت کی ہے، دنیا کی طالبات کو عملی پیغام دیں کہ علم اور سائنس کا مطلب بے راہ روی نہیں ہے سائنس کا مطلب مرد اورعورت کے درمیان رابطے میں اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ان اصولوں پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی جا سکتی ہے اور اعلی علمی مدارج پر پہنچا جا سکتا ہے۔ آپ کا وجود اسلامی کے عالمی پیغام کا مظہر اور مصداق ثابت ہو سکتا ہے۔ میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ دنیا ادیان کا پیغام سننے کے لئے بیتاب ہے۔ آسمانی ادیان میں جو دین و دنیا کو معاشرے کو سنوار دینے کی صلاحیت رکھنے کا دعوی کرتا ہے وہ اسلام ہے۔ عیسائیت اور دیگر ادیان اس وقت یہ دعوی نہیں کر رہے ہیں لیکن اسلام اس کا دعویدار ہے کہ اس کے پاس ایک آئیڈیل معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں اور ضروری عناصر موجود ہیں وہ ان بنیادوں اور ستونوں کے سہارے ایک مثالی سماجی نظام اور معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تمام شعبوں میں بالخصوص علم و دانش کے شعبے میں اور خواتین کے تعلق سے یہ ثابت کریں کہ اسلام میں اس کی صلاحیت ہے۔