Super User
قرآنی تفاسیر سے آشنائی
" عبداللہ بن عمر بیضاوی " ساتویں صدی ہجری کے شافعی فرقے کے فقیہ ، مفسر اور متکلم گذرے ہیں ۔ بیضاوی جنوبی ایران کے صوبے فارس کے شہر بیضا میں ایک علم پرور خاندان میں پیدا ہوئے ۔ بیضاوی کی معروف تفسیر "انوارالتنزیل و اسرارالتاویل " ہے ۔ بیضاوی کی یہ تفسیر ، تفسیر بیضاوی کےنام سے بھی مشہور ہے البتہ تفسیر بیضاوی کو "مختصر کشاف " کا بھی نام دیا گيا ہے کیوں کہ یہ تفسیر زمخشری کی تفسیر کشاف سے بہت زیادہ متاثر ہے ۔ تفسیر بیضاوی فقہی اور کلامی مسائل میں تفسیر کبیر فخر رازی سے بہت زیادہ مشابہ ہے ۔
تفسیر بیضاوی کا ماضی اور حال میں بھی قارئین نے بہت زیادہ خیر مقدم کیاہے ۔ یہ تفسیر قدیم اور جدید مفسرین کے نزدیک بھی بہت اہیمت اور خاص اثر کی حامل رہی ہے ۔ بیضاوی کی تفسیری روش نہ صرف احادیث پر مشتمل ہے اور نہ ہی صرف عقل اور تاویل سے مختص ہے بلکہ یہ سب چیزیں پوری تفسیر ميں قابل مشاہدہ ہیں ۔ انہوں نے آیات کی تفسیر میں ادبی ، تاریخی ، کلامی اور فقہی نکات کا ذکر کیا ہے ۔شیعہ علماء نے بھی تفسیر بیضاوی پر تقریبا بیس کے قریب توضیحات اور حاشیے تحریر کئے ہیں کہ جن ميں سے شیخ بہائی اور قاضی نوراللہ شوستری کے حاشیوں کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔
دیگر معروف مفسرین میں " جلال الدین سیوطی " صاحب تفسیر " ترجمان القرآن " ہیں۔ سیوطی اس سبب سے کہ اس کام کو بڑے حجم کا اور بار خاطر تصورکررہے تھے اس لئے یہ فیصلہ کیا کہ اس تفسیر کو جو مکمل روایات واحادیث پر مشتمل تھی خلاصہ کریں اور اس کا نام انہوں نے " الدر المنثور فی التفسیر بالماثور " رکھا ۔ سیوطی کی الدر المنثور ، صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، سنن نسائی ، ترمذی و ابی داؤد ، مسند احمد بن حنبل ، تفاسیر طبری اور چند دیگر منابع و مآخذ کی بنیاد پر تحریر میں لائی گئی ہے ۔ سیوطی نےکہ جنہیں حدیث کی شناخت ميں بہت زیادہ تبحر حاصل تھا، اپنی کتاب میں تفسیری روایات ذکر کرنے کے بعد مذکورہ روایات کے بارے میں کوئی جائزہ اور توثیق نہيں پیش کی ہے ۔
گیارہویں صدی ہجری کے معروف مفسرین میں سے " ملا محسن فیض کاشانی " کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔ عارف ، حکیم ، محدث اور معروف مفسر فیض کاشانی کی پیدائش 1007 ہجری قمری ميں ہوئی ۔ فیض کاشانی اپنی عمر کے آغاز میں شہر قم میں رہائش پذیر تھے پھر انہوں نے قم سے شیراز کا سفر کیا اور علم حدیث کو سید ماجد بحرانی اور فلسفہ و عرفان کو حکیم و عارف صدرالمتالہین سے سیکھا ۔ اس عظیم شخصیت نے اپنی عمر بابرکت میں بہت زیادہ تالیفات انجام دی ہیں اور اسی سبب سے ،کثرت تالیف سے معروف ہيں ۔ تفسیر صافی ، فیض کاشانی کی تفسیر ہے ۔ یہ تفسیر روایت و احادیث اورعرفانی مسائل پر مشتمل ہے ۔ اس تفسیر کے بارہ مقدمات ہیں جو قرآنی علوم کے بارے ميں ہیں منجملہ ان ميں سے قرآن سے تمسک کی فضیلت ، اہل بیت اطہار علیھم السلام کے نزدیک قرآنی علوم ، متشابہات اور تاویل آيات کے باب میں تحقیق ، اور قرآن کی تفسیر بالرائے جیسے گرانبہا مطالب ہیں ۔ تفسیر صافی کا زیادہ تر حصہ تفسیر بیضاوی سے ماخوذ ہے ۔ البتہ فیض اپنی تفسیر ميں جدت عمل لائے ہیں جیسا کہ ہر آیت سے مربوط روایات کو اسی آيت کے ذیل میں بیان کیا ہے ۔ فیض کاشانی 1091 ميں اس دار فانی سے کوچ کرگئے ۔
لیکن عصر حاضر میں بھی بہت ایسے عظیم مفسر پیدا ہوئے ہيں کہ جن ميں سے ایک تعداد، ایرانی مفسرین کی بھی ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ ایرانی مسلمانوں نے قدیم زمانوں سے لے کر اب تک ، تفسیر آيات الہی کی نسبت انتہائی شوق و اخلاص اور ایمان کا مظاہرہ کیا ہے ۔ منجملہ ان ایرانی مفسرین میں سے ایک ، علامہ سید محمد حسین طباطبائی ہيں ۔ علامہ طباطبائی 1321 ہجری قمری میں پیدا ہوئے جن کا شمار عظیم مفسرین قرآن میں ہوتا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تفسیر کی تدوین کے آغاز سے لے کر چودہویں صدی تک تفسیریں تحریر کئے جانے کی روش میں کوئی نمایاں روش یا تبدیلی کا مشاہدہ نہيں کیا گيا ۔ اگرچہ ہر تفسیر کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے لکھا گیا ہے تاہم چودھویں صدی ميں تفسیر لکھنے کی روش ميں اہم تبدیلی رونما ہوئی اور اس نئی روش کے خالق علامہ طباطبائی ہیں ۔ سید محمد حسین طباطبائی کی مشہور تفسیر "المیزان" ہے ۔ علامہ اپنی تفسیر کے مقدمے ميں اس طرح سے فرماتے ہیں : میں نے اس مقصد سے کہ اہل بیت اطہار کی روش پر تفسیر لکھی ہو صرف مندرجہ ذیل مسائل کو بیان کیا ہے ۔1 ۔ وہ معارف جو خداوند عالم کے اسماء اور صفات پروردگار کے ناموں سے متعلق ہیں ۔ 2 ۔ وہ معارف جو خداوند عالم کے افعال اور اس کے ارادہ و مشیت ، ہدایت و گمراہی ، قضا و قدر ، جبر و تفویض وغیرہ سے مربوط ہيں 3 ۔ وہ معارف جو ان واسطوں کے بارے ميں ہيں جو خدا اور انسان کے درمیان قائم ہیں اور بعض مفاہیم جیسے پردہ ، لوح و قلم ، عرش ، آسمان و زمین اور ملائکہ اور شیاطین وغیرہ پر مشتمل ہيں ۔ 4 ۔ وہ معارف جو دنیا میں انسانوں سے اور اسی طرح دنیا کے بعد کے عوالم یعنی عالم برزخ اور قیامت سے متعلق ہیں ۔ 5 ۔ اور آخر کار نیک اخلاق ، بندگي کی راہ ميں اولیاء الہی کے درجات ، اسلام ، ایمان ، احسان اور اخلاص وغیرہ جیسے مسائل کو بیان کیا ہے ۔
تفسیر المیزان کا ماضی کی تفسیروں کی روش کے لحاظ سے ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ ماضی کی تفسیروں ميں اس طرح سے معمول رہا ہے کہ ایک آيت کے بارے میں دو تین معنی بیان کئے جاتے اور مختلف امکانات کو نقل کیا جاتا رہا ہے لیکن آخر یہ واضح نہیں ہوپاتا تھا کہ مصنف نے کس معنی کو ترجیح دی ہے اور اپنے مقصود کو بیان کیا ہے ۔ لیکن المیزان نے قرآن کی قرآن سے تفسیر کی روش کے ذریعے، آيت کے چند معانی میں سے ایک معنی کو آیات کی مدد سے ترجیح دی ہے اور آیت کے مقصود کو واضح کیا ہے ۔ یہ امتیاز ، ایک مضبوط تفسیری روش کا آئینہ دار ہے ۔ کہ جس کا علامہ طباطبائی نے انتخاب کیا اور قرآنی تفسیر کو تفسیر بالرائے کی آفت سے دور رکھا ہے ۔ علامہ نے دینی اور قرآنی اصطلاحات جیسے دعا کی قبولیت ، توحید ، توبہ اور جہاد کی آیات کی مدد سے وضاحت کی ہے ۔ علامہ، قرآنی آیات کو روایات کا صحیح معیار قرار دیتے ہیں لہذا جب اہل بیت اطہار علیھم السلام سے منسوب روایات کا، آیات قرآن سے موازنہ کرتے ہیں تو جتنی بھی روایات اس سلسلے میں نقل کی گئی ہيں ان کا جائزہ لیتے ہيں اوراگر وہ آیات کے ساتھ سازگار نہ ہوں تو انہیں بیان کرنے سے گریزکرتے ہيں ۔
تفسیر المیزان ، شیعہ تفسیروں ميں ایک انتہائی اہم اور جامع تفسیر ہے جو شیعہ امامیہ کے نزدیک ، حالیہ صدی کی ایک اہم ترین تفسیر ہے ۔ یہ تفسیر علامہ طباطبائی کی بیس سالہ پیہم کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ اس وقت تفسیر المیزان بیس جلدوں میں شائع ہوچکی ہے اور ان تمام بیس جلدوں کا، عربی زبان سے فارسی ميں ترجمہ کیا گيا ہے ۔ علامہ طباطبائی 1402 ہجری قمری میں انتقال کرگئے ۔
قرآن میں انسان کی تشبیہ حیوان سے
پروردگار متعال نے انسانوں کی خلقت کچھ اس طرح سے کی ہے کہ وہ فطرتا اور اپنے باطن میں حقیقت کی شناخت کا طالب ہے ۔ اور پیہم اپنی اس گمشدہ شے کی تلاش میں رہتا اور اس سلسلے میں مختلف سوالات اور موضوعات اس کے ذہن میں وجود میں آتے ہیں ۔ اسی بناء پر انسان نے علوم ومعارف میں اب تک نمایا ں پیشرفت کی ہے اور انسان مختلف علوم و فلسفے اور خاص علوم میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ہی علم کی ایجاد کر رہا ہے ۔ اور اس طرح سے جدید انکشافات اور ایجادات انسان کی زندگي کا خاصہ بن گئے ہیں ۔ حقیقت پسندی، ایک فطری اور باطنی رجحان اور میلان ہے جو ہر انسان کے باطن میں موجود ہے جسے کبھی تجسس کی فطرت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس رجحان کو ہم جو بھی نام دیں حقیقت میں انسان کے وجود کا ہی ایک حصہ ہے جو انسان کی سرشت اور اسکے وجود کی گہرائی میں موجود ہے ۔ انسانیت اور کمال انسانی کا یہ تقاضا ہے کہ حقائق کی جستجو اور ان کا ادراک کرے اور اگر اس کام ميں وہ کوتاہی کرے گا تو در حقیقت اس نے اپنی انسانیت کو نقصان پہنچایاہے اور اس طرح سے وہ حیوانیت کی حد بلکہ اس سے بھی زیادہ گرجائے گا ۔ خداوند عالم سورۂ فرقان کی آيت 44 میں اس سلسلے میں ایک مثال پیش کرتاہے اور ارشاد فرماتا ہے کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے ہرگز نہیں یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گم کردۂ راہ ہیں ۔ یہ مثال ان کفار و مشرکین کے بارے میں ہے جو پیغمبر اسلام (ص) سے دشمتی برتتے تھے اور اپنے باطل عقیدوں پر اس طرح سے اصرار کرتے اور اس پر ڈٹے رہتے ، اور اپنی خواہشات نفسانی کے تابع تھے کہ ان سے قوت ادراک سلب ہوگئی تھی ۔ اسی بناء پر خداوند عالم نے ان کی تشبیہ جانوروں بلکہ جانوروں سےبھی بدتر شی سے دی ہے ۔
اس آيت سے ما قبل کی آيات ، پیغمبر اسلام (ص ) پر کفار کے بیہودہ اور نازیبا الزامات اور تنقیدوں سے متعلق ہیں درحقیقت ان آیات میں خداوندعالم کی جانب سے انسان کو جانوروں سے تشبیہ دیئے جانے کی وجہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ گذشتہ پیغمبروں اور رسولوں کے مقابلے میں مستکبروں اور خواہشات نفسانی کے پیروکاروں کا رد عمل، ان پیغمبروں کا تمسخر اور مذاق اڑانا تھا اور یہ مسئلہ مختلف مواقع پر اور مختلف پیغمروں کے ساتھ پیش آيا ، مثلا فرعون کہ جو خدائی کا دعویدار تھا حضرت موسی (ع) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتاہے " جو پیغمبر تمہاری جانب بھیجا گیا ہے وہ مسلم طور پر دیوانہ ہے " ۔ دوسری جانب حضرت محمد (ص) کے خلاف کفار کا تمسخر اور مذاق اڑانے کا انداز یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ پیغمبر اسلام ، وہی پیغمبر ہے کہ جسے خداوند عالم نے پیغمبر کے طور پر انتخاب کیا ہے ؟ اور کہتے تھے کہ وہ اگر خدا کا رسول ہے تو کیوں وہ دیگر انسانوں کی مانند کھانا کھاتا ، راستہ چلتا ، باتیں کرتا اور لباس پہنتا ہے اور مختصر یہ کہ ديگر انسانوں اوراس میں کوئی فرق نہيں ہے جبکہ ان کی نظر میں خدا کے رسول کو فرشتوں میں سے ہونا چاہئے تھا ۔ اس قول کا باطل ہونا واضح ہے کیوں کہ رسول خدا کو چاہئے کہ اسی قوم اور افراد میں سے ہو کہ جن کے درمیان اسے تبلیغ کے لئے بھیجا گيا ہے تاکہ وہ ان کے درد و رنج کو سمجھ سکے اور ان کی مشکلات کا مناسب حل نکال سکے جبکہ اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کی مشکلات اور تکالیف کو درک اور محسوس نہیں کرسکتے تھے ۔اور پھر اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو کوئی بھی انسان ان کی بات پر توجہ نہیں دیتا اور اس وقت وہ یہ اعتراض کرتا کہ یہ فرشتہ جو اس طرح کی باتیں کررہا ہے تو یہ باتیں تو اسی جیسے فرشتوں کے لئے اچھی ہیں کہ جو شہوت نہیں رکھتے اور عصمت کے حامل ہیں ۔ لیکن ہم کہ جو معصوم نہیں ہیں اور شہوت و خواہشات نفسانی میں مبتلا ہیں ، ہم تو ان کی طرح عمل نہیں کرسکتے لیکن اگر اللہ کا رسول ، انسانوں ميں سے ہی ہوگا تو ان کا یہ بہانہ ختم ہوجائے گا ۔ اس طرح سے خداوند عالم نے کفارکی بہانے بازیوں کا ذکر کیا ہے اور پھر کفار کی صفات کی بنیاد پر ان کو جانوروں اور چوپایوں سے تشبیہ دی ہے ۔
درحقیقت انسان کی نفسانی خواہشات نے کفار کے دلوں پر ایک پردہ ڈال دیا ہے ۔ اس طرح سے کہ وہ حقائق کو درک کرنے سے عاجز ہے ۔ بت پرستی ، نفس پرستی ، دولت پرستی ، مقام پرستی اور اسی جیسی چیزیں ، ایسے حجاب کا باعث بنتی ہیں جو کفار کے ادراک میں مانع بنتی ہیں اور یہ وہ موانع اور رکاوٹیں ہیں جو عذاب الہی کے ذریعے ہی برطرف ہوتی ہیں ۔ بہر صورت ، جب خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت غرور و جہل کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور اس وقت کفار یہ سمجھتے ہیں کہ کتنی گہری گمراہی میں وہ گرفتار تھے ۔
خداوند عالم اس آيت میں مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے حق کی آواز اور خداوند عالم کی نشانیوں سے پوری دنیا لبریز ہے اور ہر سمت اس کی نشانیاں ہيں لیکن حق کی آواز سننے کے لئے ، سنائی دینے والے کانوں اور حق کے آثار کا مشاہدہ کرنے کے لئے ، دیکھنے والی آنکھوں اور عقل کی ضرورت ہے جس سے کفار محروم ہیں ۔چنانچہ اگر سورج کی روشنی پوری دنیا پر چھاجائے پھر بھی نابینا انسان کچھ بھی دیکھ نہیں سکتا ہے ۔ اسی طرح اگر ایک بہرہ انسان جو سمندر کے ساحل کے کنارے پر کھڑا ہو اور اس کی تلاطم خیز موجوں کو دیکھ بھی رہا ہو ، پھر بھی وہ ان موجوں کی لہروں کی آواز نہیں سن سکتا ۔ کفار بھی ایسے ہی ہیں ، نہ وہ حق کو دیکھتے ہيں نہ ہی حق کی آواز سن سکتے ہیں بلکہ وہ جانوروں کی مانند ہیں اور اس سے بھی پست تر ہیں ۔ اس بناء پر مشرکین حق کی آواز سننے سے عاجز اور ان کے ادراک سے ناتواں ہيں جس طرح سے کہ جانور یہ صفات نہيں رکھتے ۔
انسان اور جانور کے درمیان اصلی فرق ، مطالب اور مضامین کا درک کرنا ہے ۔ حیوان میں کسی مسئلے کو درک کرنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے کیوں کہ ان میں عقل و فہم نہیں ہوتی اور ان کے سارے کام ، غریزے اور ان کے شعور کے تحت ہیں ۔ اس بناء پر کفار کی تشبیہ جانوروں اور چوپایوں سے دینے کا سب یہ ہے کہ کفار، کائنات کو وجود میں لانے خدا کے بارے میں ادراک اور شعور کی قوت و صلاحیت نہیں رکھتے اور اسی وجہ سے وہ نور حقیقت کی تجلی کو نہيں دیکھ سکتے ۔ دوسری جانب حیوان میں ذمہ داری کا احساس نہيں ہوتا ہے ۔ حیوان اپنے مالک کے کھیت اور دوسرے کے کھیت میں تشخیص نہیں دے سکتا وہ حلال وحرام کو نہیں سمجھ سکتا اور ان مسائل کے مقابلے میں خود کو ذمہ دار نہيں سمجھتا ۔ اس بناء پر عدم ذمہ داری کا احساس ، اس کے عدم ادراک کی علامت ہے ۔ کفار بھی حیوانوں کی مانند کسی ذمہ داری کا احساس نہيں کرتے ۔ دوسری جانب حیوانات ، منطق کے تابع نہیں ہیں اور استدلال کو نہيں سجھ سکتے اسی طرح کفار بھی ، مختلف مسائل کے بارے میں قرآن کے سادہ بیان اور قوی و مستحکم دلائل کے باوجود مختلف امور خاص طور پر توحید ، نبوت اور قیامت کو درک کرنے سے عاجز ہیں اور صرف اپنی ہی بات پر اڑے رہتے ہيں اور اسی کی تکرار کرتے ہيں ۔ اسی طرح حیوانات ، مستقبل پر نظر نہیں رکھتے اور وہ کبھی اپنے نفع اور نقصان کو نہيں پہچانتے اسی بناء پر کبھی وہ خطرناک راستوں پر نکل جاتے ہیں اور غیر منطقی اور غیر عاقلانہ کام انجام دیتے ہیں کیوں کہ وہ محاسبہ نہیں کرسکتے ۔ کفار و مشرکین بھی اسی طرح سے ہیں اور وہ اپنی راہ سعادت کو حاصل نہیں کرپاتے ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ بتوں کی عبادت ، اور نفسانی خواہشات کی پیروی ان کے فائدے میں نہیں ہے اور عزت و سعادت اور فلاح و نجات توحید کے سائے ميں ہے ۔ مشرکین ان باتوں کو نہیں سمجھتے اسی لحاظ سے مشرکوں اور حیوانوں میں تشبیہ دی گئی ہے ۔
اگر چوپائے کچھ نہيں سمجھتے اور حقائق کے مقابلے میں سننے والے کان اور دیکھنے والی آنکھیں یا بالفاظ دیگر بصیرت و بصارت سے عاری ہیں تو اس کی دلیل ، عدم استعداد ہے ۔ لیکن اس سے زیادہ وہ انسان ، بیچارہ ہے کہ جس میں سعادت و کامیابی تک رسائی کا مادّہ پوشیدہ ہے اور خدا نے اس قدر اسے استعداد عطا کی ہے کہ وہ روی زمین پر خدا کاخلیفہ اور نمائندہ قرار پاسکتا ہے ۔ لیکن اس کا کام اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ حیوانیت کی حد سے بھی گذر جاتا ہے اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور استعداد کو تباہ کردیتا ہے ۔ البتہ ظاہر ہے کہ قرآن کافروں کے عدم ادراک اور حیوانوں سےان کا موازنہ کرتے ہوئے جو کچھ فرمارہا ہے وہ دنیوی مسائل کے بارے ميں نہيں ہے ۔ لوگ چاہے بی دین ہوں یا دیندار ، دنیوی امور کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے ميں سوچتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جو بعض دانشور اور مفکرین خداوند عالم پر اعتقاد نہيں رکھتے اور وہ سائنس و ٹکنالوجی میں سب سے پیش قدم بھی رہے ہیں پھر بھی ان کی یہ فکر اور ان کا علم ، محض ان کی دنیاوی زندگي کے بہتر گذارنے کے لئے تھا۔ اور ایسے افراد اخروی زندگي کو درک کرنے اور خدا کی نشانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے سے قاصر اور عاجز رہے ہیں اور انہوں نے اپنی آخرت کے بدلے ، عذاب آور زندگي خریدلی ہے ۔
یہ عرائص جو پیش کی گئيں ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسان اگر اپنے حقیقی مقام ومنزلت تک رسائی کا خواہاں ہے اور اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرناچاہتا ہے اور حقیقی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہےتو اسے چاہئے کہ پروردگار کی اطاعت اور اس پرایمان کی سمت قدم بڑھائے اور حضرت امام علی (ع) کے فرمان کے مطابق " اگر عزت اور شان وشوکت کے طلبگار ہوتو گناہ کی تاریکی سے نکل کر خدا کی عزت آفریں اطاعت کی سمت قدم اٹھاؤ "۔
عمار حکیم، سید مقتدی صدر سیاست میں واپس آئیں
مجلس اعلائے اسلامی عراق کے سربراہ سید عمار حکیم نے معروف سیاسی رہنما مقتدی صدر سے اپیل کی ہے کہ سیاست میں واپس آجائيں۔ عمار حکیم نے کہا ہے کہ سید مقتدی صدر کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے سیاسی میدان میں دوبارہ آجانا چاہیئے۔ سید عمار حکیم نے مقتدی صدر کو ایک نہایت اہم سیاسی رہنما قرار دیا اور کہا کہ ملک میں سیاسی، عوامی اور قانونی سازی نیز اجرائي سطح پر ان کی موجودگي کا نہایت گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتدی صدر کو اپنے ملک و ملت کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے سیاسی فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہیئے۔واضح رہے کہ صدر گروہ کے لیڈر مقتدی صدر نے کچھ دنوں قبل سیاست سے علیحدگي کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ شہید سید محمد باقرالصدر اور سید محمد صادق الصدر کے خاندانوں کی شان کو محفوظ رکھنے کےلئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔
تحفظ پاکستان بل منظور
پاکستان کی قومی اسمبلی نے تحفظ پاکستان ترمیمی بل 2014 ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا ہے جس میں قومی سلامتی کو درپیش خطرات وضع کیے گئے ہیں جبکہ دہشتگردی کے خلاف تیز رفتار ٹرائل کیلئے بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ اسلام آباد سے ہمارے زرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں تحفظ پاکستان ترمیمی بل 2014 پیش کیا گیا جس میں تحفظ پاکستان بل 2013 کی شقیں بھی شامل تھیں۔ تحفظ پاکستان بل کے مندرجات میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف مقدمات کے ٹرائل کو تیز کیا جائیگا، دہشتگردی کے مقدمے کی تفتیش مشترکہ ٹیم کرے گی اور دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کیلئے خصوصی عدالتیں بھی قائم ہوں گی جبکہ بل کے تحت سزا یافتہ شخص کو ملک کی کسی بھی جیل میں رکھا جاسکے گا۔ بل میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مشتبہ دہشتگرد کو نوے روز کیلیے حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ بل کے مطابق مقدمے کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 10 کے متصادم نہیں ہوگی جبکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کیخلاف 15 دنوں میں سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی۔
رہبر معظم نے صحت کی کلی پالیسیوں کا ابلاغ کردیا
۲۰۱۴/۰۴/۰۷ - رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے بنیادی آئين کی دفعہ 110 کی شق ایک کے نفاذ کے سلسلے میں مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد صحت و سلامتی کی کلی پالیسیوں کا ابلاغ کردیا ہے۔
رہبر معظم نےصحت کی کلی پالیسیوں کے متن کو تینوں قوا کے سربراہان اور مجمع تشخيص مصلحت نظام کے سربراہ کو ابلاغ کردیا ہے۔ کلی پالیسیوں کا متن حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صحت کی کلی پالیسیاں
1۔ اسلامی اور انسانی اقدار کی بنیاد پر تعلیم ، تحقیق، صحت ، علاج، اور صحت کی بحالی کے سلسلے میں خدمات پیش کرنا اور اسے معاشرے میں فروغ دینا
1۔1۔ اساتید، طلباء اور مدیروں کے لئے تعلیم و تربیت ، تشخیص اور انتخاب کے نظام کے سلسلے میں ارتقاء اور اسلامی و طبی اخلاق و آداب کے اقدار کے متناسب یونیورسٹی اور علمی ماحول میں تغیر و تحول۔
1۔2۔ عوام کو اپنی سماجی ذمہ داریوں اور حقوق کے بارے میں آگاہ کرنا اور معاشرے میں اسلامی اخلاق و معنویت کے فروغ کے سلسلے میں حفظان صحت کے مراکز کی ظرفیت سے استفادہ کرنا۔
2۔ تمام قوانین میں صحتمند انسان اور صحت کے جامع نظام پر توجہ، اجرائی پالیسیوں اور قوانین و مقررات کی رعایت۔
2۔1۔ علاج و معالجہ سے پہلے بیماری کی روک تھام پر توجہ۔
2۔2۔ صحت اور علاج کے پروگراموں کو وقت کے مطابق قراردینا۔
2۔3۔ معتبر علمی شواہد کے پیش نظر صحت کو لاحق خطرات اور بیماریوں کو کم کرنے پر توجہ
2۔4۔ بڑے اور جامع منصوبوں کے لئے صحت کا پروگرام تیار کرنا۔
2۔5۔ جنوب مغربی ایشیائی علاقہ میں پہلا مقام حاصل کرنے کے لئے صحت کے معیاروں کے ارتقاء پر توجہ۔
2۔6۔ نگراں سسٹمز کی اصلاح و تکمیل، عوام اور بیماروں کے حقوق کی حفاظت کے لئےنگرانی ، تشخیص اور کلی پالیسیوں کا صحیح نفاذ۔
3۔ اسلامی و ایرانی زندگی کی ترویج کے ساتھ معاشرے کی نفسیاتی صحت و سلامتی کا ارتقاء، خاندانی بنیاد کا استحکام، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کشیدگی پیدا کرنے والے عوامل کا خاتمہ ، اخلاقی و معنوی تعلیم کی ترویج اور نفسیاتی صحت کے معیاروں کے ارتقا پر توجہ۔
4۔ دواؤں، ویکسین،، حیاتیاتی مصنوعات اور بین الاقوامی معیاروں کے مطابق طبی وسائل و آلات کی پیداوار کے لئے خام مال کی تیاری کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچوں کے استحکام پر توجہ۔
5۔ ڈیمانڈ اور مطالبہ کی تنظیم،غیر ضروری مطالبات کی روک تھام، اور طبی ہدایات اور نظام کی بنیاد پر تجویز کی اجازت، ملک کے قومی دوائی اور کلی منصوبے ، پالیسی سازی اوربرآمدات کے فروغ اور قومی پیداوار کی حمایت کے مقصد کے تحت دواؤں کی پیداوار ، استعمال ، ویکسین ، حیاتیاتی مصنوعات اور طبی وسائل و آلات کی پیداوار اور درآمدات پر مؤثر نگرانی۔
6۔ غذا و خوراک کی سکیورٹی پر توجہ، صحتمند ، مطلوب اور کافی غذا سے تمام افراد کو منصفانہ طور پر بہرہ مند بنانے پر توجہ، صاف پانی و ہوا، اور بین الاقوامی و علاقائي اور قومی معیاروں کی رعایت کے ساتھ سب کے لئے طبی مصنوعات اور کھیل کے وسائل کی فراہمی پر توجہ۔
7۔ ذمہ داریوں کی تقسیم، جوابدہی اورضروریات کو پورا کرنے کے مقصد کے تحت صحت کے شعبہ میں مالی خدمات اور وسائل کی فراہمی پر توجہ، مندرجہ ذيل طریقہ سے عوام کو انصاف پر مبنی طبی سہولیات کی فراہمی پر تاکید:
7۔1۔ اجرائی پالیسیوں پر مشتمل نظام صحت، مؤثر اور اسٹراٹیجک منصوبہ بندی، وزارت صحت کی جانب سے نگرانی اور تشخيص پر توجہ۔
7۔2۔ وزارت صحت کے محور پر بیمہ سسٹم کے ذریعہ صحت کے وسائل کی مدیریت،اور اس سلسلے میں تمام مراکز اور اداروں کا تعاون۔
7۔3۔ حکومتی، عمومی اور نجی شعبوں میں خدمت کرنے والوں کے ذریعہ خدمات کی فراہمی
7۔4۔ مذکورہ امور کی ترتیب و تنظیم اور ہمآہنگی کو قانون کے مطابق ہبنانا۔
8۔ طبی خدمات کی کیفیت، بہبود اور حفاظت میں اضافہ،اور عدل و انصاف کی بنیاد پر صحت و علاج کے منصوبوں کی دیکھ بھال،اور مندرجہ ذیل طریقہ سےگریڈنگ سسٹم کے مطابق جوابدہی، شفاف سازی ، اطلاع رسانی،تاثیر،کارکردگي ، پیداوار پر تاکید:
8۔1۔ حفظان صحت، تعلیم اور خدمات کے سلسلے میں صحت کے جامع معیاروں اور ہدایات کے ساتھ سائنسی اور علمی نتائج کی بنیاد پر اقدام اور فیصلہ کی ضرورت اور نظام صحت کے ارتقاء اور بیماریوں کی روک تھام اور خدمات کے سسٹم کی درجہ بندی اور پھر اس کے طبی تعلیمی نظام میں ادغام پر تاکید۔
8۔2۔ طبی ہدایات اور معیاروں کی ترجیحات اور قیام کے ساتھ حفظان صحت کی خدمات کی کیفیت میں اضافہ پر توجہ۔
8۔3۔ جانبازوں اور معذوروں کی بحالی صحت اور ان کی توانائی کے فروغ کے لئے جامع حمایتی اور مراقبتی پروگرام کی تدوین۔
9۔ صحت و علاج کے بیموں کے معیاروں اور مقدار کے فروغ پر تاکید:
9۔1۔ علاج کے بیمہ کو ہمہ گیر بنانے پر توجہ۔
9۔2۔ معاشرے کے ہر فرد کے لئے بیموں کے ذریعہ مکمل علاج ، اور علاج و معالجہ کے اخراجات میں اتنی کمی کہ بیمار کوصرف بیماری کا درد ہو کوئي اور درد و رنج محسوس نہ ہو ۔
9۔3۔ قانونی دستورات کے دائرے میں تکمیلی بیمہ کو بنیادی بیمہ سے مزید خدمات پیش کرنا جو ہمیشہ صاف و شفاف خدمات اور علاج کا آئینہ دار ہو۔
9۔4۔ وزارت صحت کی جانب سے بنیادی اور تکمیلی بیموں میں صحت اور علاج کے پیکیج کا تعین اور بیموں کی طرف سے اس پیکیج کی خریداری اور پیکیجوں کے نفاذ و اجراء پر دقیق نگرانی اور معائنہ میں غیر ضروری اخراجات کے حذف کا اقدام اور علاج تک بیماری کی تشخيص پر توجہ۔
9۔5۔ علاج کے انشورنس کی خدمات پیش کرنے کے سلسلے میں رقابتی بازار کی تقویت۔
9۔6۔ حکومتی اور غیر حکومتی شعبوں میں افزودہ قدر کی بنیاد پر اور موجود شواہد کی روشنی میں صحت کی دیکھ بھال اور طبی خدمات کے نرخوں کی تدوین۔
9۔7۔پسماندہ علاقوں میں بیماری کی روک تھام، صحت کے ارتقاء کے سلسلے میں فعالیتوں پر خاص توجہ اور خدمات پیش کرنے والے اداروں کی مثبت حوصلہ افزائی اور منصفانہ درآمد کی ایجاد ، کارکردگی اور عملی کیفیت پر مبنی ادائیگی کے سسٹم میں اصلاح پر توجہ۔
10۔ صحت کے شعبہ میں پائدار مالی وسائل کی فراہمی پر توجہ:
10۔1۔ درآمدات، اخراجات اور طبی فعالیتوں کو قانونمند طور پر شفاف بنانے پر تاکید۔
10۔2۔ حکومتی بجٹ اور ناخالص داخلی پیداوار سے طبی خدمات پیش کرنے میں متناسب کیفیت کا ارتقاء ،طویل مدت پالیسی کے اہداف کو محقق کرنے اور علاقائی ممالک کے اوسط درجہ سے بالاتر رہنے کے لئے صحت کے بجٹ میں اضافہ پر تاکید۔
10۔3۔ صحت کے لئے مضر محصولات، مصنوعات ، مواد اور خدمات پر ٹیکس میں اضافہپر تاکید۔
10۔4۔ کم درآمد ، ضرورتمند طبقات اور پسماندہ علاقوں میں صحت کے مسائل پر توجہ دینے اور انصاف کی فراہمی کے لئے صحت کے شعبہ میں دی جانے والی سبسیڈی کو بامقصد بنانے اور مزید سبسیڈی ادا کرنے پر تاکید۔
11۔ وزارت صحت کی نگرانی میں ملکی ذرائع ابلاغ، تعلیمی ، ثقافتی اداروں کی ظرفیتوں سے استفادہ کرتے ہوئےنظام صحت کے ارتقا اور حفاظت کے سلسلے میں معاشرے ، خاندان اور ہر فرد کی آگاہی ، ذمہ دار ی ، توانمندی اور شراکت پر تاکید۔
12۔ ایران کے سنتی طب کی پہچان، ترویج، تشریح اور فروغ کے سلسلے میں ٹھوس اقدام۔
12۔1۔ وزارت زراعت کے تحت جڑی بوٹیوں کی کاشت پر اہتمام اور وزارت صحت کے تحت سنتی مصنوعات اور محصولات کے نتائج ، پیداوار اور علمی فروغ کے اہتمام پر توجہ۔
12۔2۔ طب سنتی اور اس سے مربوط نتائج میں علاج اورتشخیص کے طریقوں کو معیاری اور وقت کے مطابق قراردینے پر توجہ۔
12۔3۔ طب سنتی کے سلسلے میں تمام ممالک کے تجربات پر تبادلہ خیال۔
12۔4۔طب سنتی کی دواؤں اور خدمات پر وزارت صحت کی نگرانی۔
12۔5۔ علاج کے طریقوں اور تجربات میں تعاون کے لئے جدید طب اور سنتی طب کے درمیان منطقی بات چیت اور تبادلہ نظر برقرار کرنے پر تاکید۔
12۔6۔ خوراک اور غذائی شعبہ میں زندگی کی روش میں اصلاح۔
13۔ ملک کے مختلف علاقوں کی ضروریات کے پیش نظراور اسلامی و اخلاقی توانائیوں اور مہارتوں کے پیش نظر کارآمد ، متعہد اور مفید افراد کی تربیت اور بامقصد طور پر طبی تعلیمی نظام کی کمیت و کیفیت کے فروغ پر تاکید۔
14۔ عالم اسلام اور جنوب مغربی ایشیائی ممالک میں ایران کوطبی مرکز میں تبدیل کرنے اور طبی خدمات پیش کرنے اور علوم و فنون میں مرجع بنانے کے حصول کے لئے منصوبہ بندی ، خلاقیت اور مؤثرطبی تحقیق پر تاکید۔
حزب اللہ طاقتورنامزد صدارتی امیدوار کی حمایت کریگی
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ حزب اللہ اس ملک کے صدارتی انتخابات میں طاقتور اور عزم و ارادے کے حامل نامزد امیدوار کی حمایت کرے گی۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل "سید حسن نصراللہ" کے لبنانی اخبار السفیر کو دیئے گيئے انٹرویو کا دوسرا حصہ کہ جو آج کے السفیر اخبار میں شائع ہوا ہے، حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے اس انٹرویو میں اس بات پر تاکید کے ساتھ کہ لبنان کا عام ماحول ، اس ملک کے صدارتی انتخابات کے انعقاد کا ماحول ہے کہا کہ حزب اللہ ایسے طاقتور نامزد امیدوار کہ جوقومی مفادات کو عملی جامہ پہنائے حمایت کرے گی۔ "سید حسن نصراللہ" نے مزید کہا کہ آج لبنان کے داخلی گروہ ، ہر زمانے سے زیادہ صدارتی انتخابات میں موثر ہیں اور اس وقت لبنان کے نئے صدر کے انتخاب کے لئے ماحول ساز گار ہے۔ حزب لبنان کے سیکریٹری جنرل نے اسی طرح لبنان کی حکومت کی جانب سے اس ملک کے شمال و مشرق میں کیئے جانے والے سیکیورٹی انتظامات کو سراہا۔ "سید حسن نصراللہ" نے وضاحت کی حزب اللہ کی جانب سے حالیہ قومی مذاکرات کے بائیکاٹ کی ایک وجہ ، لبنان کے صدر کا موقف تھا اور اس موقف سے قومی مذاکرات میں "میشل سلیمان" کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ لبنان میں سیاسی مفاہمت اور سیاسی گروہوں کے درمیان حقیقی آشتی کو اہمیت دیتی ہے ، سیاسی گروہوں اور جماعتوں کے درمیان باہمی گفتگو پر تاکید کرتی ہے۔
توہین کرنے کا یورپی پارلیمنٹ کو کوئی حق نہیں پہنچتا
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایران کی غیور و عظیم قوم کی توھین کرے۔ صدارتی پریس نوٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج نوروز کی مناسبت سے ایران کے اعلی حکام ، ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ملاقات میں ، ایران کے خلاف یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قرار داد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں اور گذشتہ چار برسوں میں یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ قرارداد سے زیادہ تند و تیز لہجے پر مبنی 60 قراردادیں جاری کی جاچکی ہیں ، جن کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور کسی نے ان کی طرف توجہ تک نہیں دی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر "روحانی" نے مزید کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کی شقیں مذاکرات اور جوہری پروگرام کے سیاسی راہ حل پر تاکید پر مبنی ہیں کہ جو امریکہ کے بعض حکمرانوں کے "تمام آپشن میز پر رکھے رہنے" جیسے بیانات سے متصادم ہے۔صدر مملکت "حسن روحانی" نے دنیا کے ساتھ ایران تعلقات کے فروغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مسائل کے حوالے سے جامع سمجھوتے کے حصول کے لئے غیرملکی فریقوں کے ساتھ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے مذاکرات پیچیدہ و دشوار ہیں لیکن امید کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور ان مذاکرات کو متاثر کرنے کے لئے بھی بعض عناصر کوشش کررہے ہیں۔
عظمت حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کی نظر میں
حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ ''' انا اعطیناک الکوثر''' کوثر سے بالاتر کوئی کلمہ نہیں ۔اس زمانہ میں جب کہ عورت کو شر مطلق اور گناہ و فریب کا عنصر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے پر فخر کیا جاتا تھا اور خواتین پر ظلم کو اپنے لئے شرف شمار کیا جاتا تھا ایسے زمانہ میں ایک خاتون کے لئے قرآن مجید نہیں کہتا '' خیر''' بلکہ کہتا ہے کوثر یعنی ''خیر کثیر'' ۔
حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام گھر کے کاموں کو ایک دوسرے کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ رسول خدا ۖ اس بارے میں اظہار نظر فرمائیں ۔لہذا رسول خدا ۖ سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ فرمائیں گھر کا کون سا کام علی کریں اور کون سا میں انجام دوں ؟ رسول خدا ۖ نے گھر کے کام حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد کئے اور گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری علی علیہ السلام کو سونپ دی۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میری خوشی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ میرے بابا نے مجھے گھر کے باہر کے کاموں سے سبکدوش کیا ۔ عالم و با شعور عورت کو ایسا ہونا چاہئے جسے گھر سے باہر نکلنے کی حرص و ہوس نہ ہو ۔
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کس درجہ بلند ہے؟ ان کے کمالات اور صلاحیتیں کیسی ہیں ؟ان کا علم کیسا ہے ؟ان کی قوت ارادی کس قدر ہے ؟ اور انکی خطابت و بلاغت کیسی ہے؟
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جوانی کے ایام میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور انکے دشمن اس قدر زیادہ تھے کہ ان کے علمی آثار بہت کم ہم تک پہنچے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ان کا ایک طولانی اور مفصل خطاب تاریخ میں ثبت ہوا ہے جسے صرف شیعوں نے ہی نقل نہیں کیا بلکہ بغدادی نے تیسری صدی میں اسے نقل کیا ہے ۔ یہی ایک خطبہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مسلمان عورت خود کو شرعی حدود میں رکھتے ہوئے اور غیروں کے سامنے خود نمائی کئے بغیر معاشرہ کے مسائل میں کس قدر داخل ہو سکتی ہے۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ توحید کے بیان میں نہج البلاغہ کی سطح کا ہے ۔ یعنی اس قدر بلند مفاہیم کا حامل ہے کہ فلاسفہ کی پہنچ سے بالاتر ہے ۔ جہاں ذات حق اور صفات باری تعالیٰ کے بارے میں گفتگو ہے وہاں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کائنات کی سب سے بڑی فلسفی محو سخن ہے۔ پھر فلسفہ احکام بیان کرتی ہیں :خداوند عالم نے نماز کو اس لئے واجب کیا ،روزہ کو اس مقصد کے تحت واجب قرار دیا ، حج و امر بالمعروف و نہی از منکر کے وجوب کا فلسفہ یہ ہے ۔ پھر اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر گفتگو کرتی ہیں کہ تم عرب لوگ اسلام سے پہلے کس حالت میں تھے اور اسلام نے تمہاری زندگی میں کیسا انقلاب برپا کیا ہے۔ مادی اور معنوی لحاظ سے ان کی زندگی پر اشارہ کرتی ہیں اور رسول خدا ۖکے توسط سے انہیں جو مادی اور معنوی نعمتیں میسر آئیں انہیں یاد دلاتی ہیں اور پھر دلائل کے ساتھ اپنے حق کے لئے احتجاج کرتی ہیں ۔
حضرت امام خامنہ ای کی زبان سے انقلاب اسلامی کی یادیں
رہبر معظم انقلاب اسلامی، حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ۱۴ جنوری ۱۹۸۴ کو عشرہ فجر کے ایام میں ایک نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہوئے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے دنوں کی یادوں کا تازہ کرتے ہوئے کہا:
میں ایک دلچسپ بات بتاوں آپ کو سن کر تعجب ہو گا:
۲۲ بھمن (انقلاب اسلامی کی کامیابی کا دن) کے کچھ دن گذرنے کے بعد میں اس فکر میں تھا کہ کیا میں سو رہا ہوں یا جاگ رہا ہوں۔ و میں کوشش کر رہا تھا کہ اگر سو رہا ہوں تو اٹھ جاوں۔ ایک ایسی خوشگوار خواب کی طرح جسے انسان چاہتا ہے کہ دیکھتا رہے اگر جگ گیا تو وہ منظر نہیں دیکھ پائے گا۔ اتنا یہ مسئلہ حیرت انگیز تھا۔
سجدہ شکر۔۔۔
اس وقت جب ریڈیو نے سب سے پہلی مرتبہ کہا: ’’انقلاب اسلامی کی آواز‘‘ میں گاڑی میں تھا کارخانہ سےرہائشگاہ امام کی طرف جا رہا تھا، ایک کار خانہ تھا جس میں کچھ فتنہ پرور افراد جمع تھے اور ایک ہنگامہ وہاں کھڑا کر رکھا تھا انقلاب کے شروع کے دن تھے شاید سترہواں اٹھارہوں دن تھا، مشکلات اپنی اوج پر تھیں۔ ابھی کوئی بھی کام انجام نہیں پایا تھا۔ کچھ بلیکمیل کرنے والے لوگ وہاں کارخانہ میں جمع تھے اور کچھ ھنگامہ کھڑا کرنے جا رہے تھے، ہم وہاں گئے تاکہ انہیں سمجھا بجھا کر ادھر ادھر کریں۔ تو واپسی پر میں گاڑی میں تھا ڈرائور نے ریڈیو چلایا تو ایک مرتبہ ’’ انقلاب اسلامی کی آواز‘‘ ریڈیو سے نشر ہوئی۔ میں نے فورا گاڑی کو رکوایا اور نیچے اتر کر سجدہ شکر بجا لایا۔ یعنی اس قدر ہمارے لیے ناقابل تصور تھا یہ مسئلہ۔ نا قابل یقین تھا۔ اس وقت کا ہر لمحہ ایک یادگار ہے۔ مثلا اگر میں چاہوں انقلاب کے پہلے بیس دنوں کی یادوں کو بیان کروں تو میں بیان نہیں کر پاوں گا، اس احساس کو بیان نہیں کر سکوں گا جو احساس ان دنوں میں ہمارے وجود میں پایا جاتا تھا۔
امام کا ایران میں داخل ہونا
جس دن امام کو آنا تھا ہم یونیورسٹی میں بند تھے ہم وہاں سے نکلے اور راستے میں گاڑی میں لوگ خوش ہو رہے تھے ہنس رہے تھے لیکن میں امام کی وجہ سے نگران تھا کہ کبھی کوئی برا حادثہ نہ ان کے ساتھ پیش نہ آ جائے اس لیے کہ کچھ افرد نے دھمکیاں دی تھیں اس وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
ہم ایئرپورٹ میں داخل ہوئے امام اس عظیم استقبال کے ساتھ ایران میں داخل ہوئے جب امام کو میں نے آرام و سکون کے ساتھ آتے ہوئے دیکھ لیا تو میں بھی مطمئن ہو گیا۔ میرا اضطراب ختم ہو گیا۔ اور شاید بہت سارے دوسرے لوگ بھی جو مضطرب تھے مطمئن ہو گئے ہوں گے۔
کئی سال بعد بھی جب میں امام کی زیارت کرتا تھا تو وہ لمحات میری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتے تھے۔
اس کے بعد جب ایئرپورٹ سے شہر میں داخل ہوئے تو وہ کیسا منظر تھا جو سب کو یاد ہو گا کوئی بھی اسے بھول نہیں سکتا ہے اس کے بعد بھشت زہرا میں گئے اور امام کی تقریر کے بعد آقائے ناطق نوری انہیں آرام کرنے کے لیے ایک نامعلوم جگہ لے گئے چونکہ امام پچھلی رات سے مسلسل جاگ رہے تھے بالکل آرام نہیں کیا تھا۔
امام مدرسہ رفاہ میں
ہم مدرسہ رفاہ میں کچھ انتظامات کرنے کے لیے پہلے سے گئے ہوئے تھے امام کے آنے سے پہلے ہم وہاں دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور امام کے قیام و ان کے آنے کے بعد کے بارے میں پروگرام ترتیب دے رہے تھے ان دنوں میں ایک عجیب احساس تھا۔
ان دنوں میں ہم ایک رسالہ نکالتے تھے جس میں بعض خبریں چھاپتے تھے اسی مدرسہ رفاہ سے سے یہ رسالہ نکلتا تھا۔ میں واپس آیا کہ دیکھوں کیا خبر ہے حالات کی عکاسی کروں اور اس رسالہ میں خبر دوں۔ امام آرام کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ رات کے تقریبا دس بج رہے تھے میں خبریں ترتیب دینے میں مشغول تھا اتنے میں دیکھا کہ اسی مدرسہ رفاہ کے سامنے گلی کے سرے سے ہا ہو کی آوازیں آ رہی تھیں میں نے سوچا خدا نہ کرے کوئی حادثہ ہو گیا ہو میں اور ایک اور صاحب اٹھ کر کھڑکی سے دیکھنے لگے اتنے میں دیکھا کہ امام اکیلے مدرسہ میں داخل ہوئے کوئی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ صرف چند سپاہی جو وہاں باہر تھے انہوں نے جونہی امام کو دیکھا تو وہ بھی مبہوت ہو گئے کہ کیا کریں صرف امام کو اطراف سے گیر لیا۔ امام پورے دن کی تمام تھکاوٹ کے باوجود ان سے کھڑے ہو کر باتیں کر رہے تھے انہوں نے امام کے ہاتھ چومے۔ شاید وہ دس پندرہ افراد تھے سارے، امام اسی طرح مدرسہ میں داخل ہوئے اور پہلے طبقہ کے زینہ پر پہنچے زینہ چڑھنے کے بعد پہلا وہی کمرہ تھا جہاں میں کام کر رہا تھا میں کمرہ سےنکل کر ہال میں آیا جہاں چند مدرسہ کے لڑکے تھے اور امام انہیں دیکھ کر ان کی طرف چلے گئے سب نے امام کے ہاتھ چومنا شروع کر دئے۔
میں بھی نزدیک ہو کر ہاتھ چومنا چاہتا تھا لیکن یہ سوچ کر کہ مزید امام کے لیے مزاحمت ہوجائے گی نزدیک نہیں گیا۔ میں کنارہ پر کھڑا ہو گیا اور امام میرے سامنے سے گذر گئے۔
میں نزدیک نہیں گیا چونکہ دیکھا کہ امام کو پہلے سے لڑکوں نے گیرے میں لے رکھا ہے اور اسی آرزو اور احساس کو میں ایئرپورٹ پر بھی رکھتا تھا لیکن وہاں بھی نزدیک نہیں جا پایا۔ اپنے آپ کو روک لیا کہ امام کے لیے مزید مزاحمت ایجاد نہ کروں دوسروں کو بھی نزدیک جانےسے روک رہا تھا۔
امام زینہ چڑھ کر اوپر جانا چاہتے تھے لیکن یکدم وہیں زمین پر بیٹھ گئے اور تیس چالیس لوگ جو اطراف میں تھے سب بیٹھ گئے ایک طالبعلم نے نامنظم طریقہ سے خیر مقدم پیش کیا چونکہ امام بغیر کسی پروگرام کے اچانک مدرسہ میں داخل ہو گئے تھے کسی کو یہ تصور بھی نہیں تھا۔ اس کے بعد کچھ منٹ امام نے گفتگو کی اس کے بعد اوپر جا کر ایک کمرہ میں آرام کرنے لگے۔
سيد حسن نصر اللہ: شام کی حکومت کا گرانا اب ممکن نہیں
حسن نصر اللہ نے اس انٹرویو میں شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : شام میں بشار الاسد کی حکومت کی سرنگونی کا خطرہ اب ختم ہو گیا ہے اب بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ممکن نہیں۔
لبنان کے اخبار السفیر نے حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری سید حسن نصر اللہ کے ایک انٹرویو کو شائع کیا ہےجو حالیہ دنوں میں انہوں نے علاقے کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے دیا ہے۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اس انٹرویو میں لبنان، شام، صہیونی حکومت اور اسلامی بیداری کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔
اخبار السفیر میں حسن نصر اللہ کے انٹرویو کے شائع شدہ ایک حصے میں آیا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ لبنانی فوج کی کوششوں سے لبنان میں بم دھماکوں کا سلسلہ کافی کنٹرول ہو گیا ہے۔
انہوں نے اس انٹرویو میں شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : شام میں بشار الاسد کی حکومت کی سرنگونی کا خطرہ اب ختم ہو گیا ہے اب بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ممکن نہیں۔
حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نے واضح کیا ہے کہ اس وقت اکثر ممالک کی کوشش ہے کہ بحران شام کے حل کے لیے کوئی سیاسی راہ حل نکلنا چاہیے۔ شام میں جنگ چھیڑنے کا مقصد ڈیموکریسی اور عدالت قائم کرنا نہیں ہے بلکہ اقتدار کی کرسی حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شام کے حالات میں بہتری اسرائیل کے لیے باعث نگرانی ہے کہا ہم جنوبی شام اور سرحدی علاقوں میں فتنے کی آگ بھڑکانے والوں کو خوب جانتے ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا: ایران کی نسبت اسرئیل کی بے چینی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
