Super User
الازہر اور ویٹیکن کے توسط سے اسلامی- مسیحی انجمن کا قیام
ایران کی قرآنی خبر رساں ایجنسی (ایکنا) اطلاع رساں ویب سائیٹ کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے کہاہے کہ ویٹیکن میں مصر کے جامعہ الازہر اور برطانوی کلیسا کے نمائندوں سمیت "انڈرو فارسٹ" نامی معروف آسٹریلین تاجر کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں ۔
واضح رہے کہ ۲۰۲۰ تک فعالیت کرنے والی اس انجمن کا اصلی ہدف دنیا میں پروان چڑھتی ہوئی دور جدید کی غلامی اور مختلف ممالک میں جاری جبری مشقت جیسے مسائل کا مقابلہ کرنا ہے ۔
آسٹریلین تاجر انڈرو فارسٹ نے کہا : پہلے مرحلے میں اسلام اور مسیحیت سے تعلق رکھنے والے تقریبا تین ارب لوگ اس انجمن کا حصہ بنیں گے لیکن دیگر ادیان کے پیروکار بھی اس عظیم منصوبے میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
نیکی کا راستہ
انسان کی ایک اہم ترین اور بااثر دعا، خدا سے اپنی عاقبت بخیر ہونے کی درخواست کرنا ہے ۔ عاقبت کے معنی کام کا انجام اور اختتام ہے ۔ اور عاقبت بخیر ہونے کامطلب، ان تمام سرگرمیوں اور تمام امور کا بخیر انجام پانا ہے کہ جسے وہ انجام دے رہا ہے ۔ عاقبت بخیر ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے فیض و رحمت سے متصل ہونا اور قربت الہی کی اس منزل تک رسائی حاصل کرنا ہے جس سے انسان خدا کی خوشنودی حاصل کرسکے ۔
مجموعی طورپر انسانوں کی تقسیم چار حصوں میں ہوتی ہے : پہلا گروپ ان کا ہے جو اپنی عمر کے آغاز سے انجام تک، نیک کام انجام دیتے اور اچھے اخلاق اور صحیح راستے کو اپنی زندگی کا لائحۂ عمل قرار دیتے ہیں ۔ اس قسم کے افراد بہت کم ہیں اور ان کی واضح مثال انبیاء و ائمہ اور اولیاء الہی ہیں یہ افراد یقینا نیک انجام کے حامل ہیں.
دوسرا گروہ ان افراد کا ہے جو زندگي کے اوائل میں نیک راستے پر چلنے والے ہیں لیکن نفسانی خواہشات پر عدم تسلط اور ناپسندیدہ صفات میں آلودہ ہونے کے سبب ، رفتہ رفتہ انحراف سے دوچار ہوجاتے ہيں اور آخر کار وہ ایمان کے بغیر اور گناہ میں آلودہ ہوکر موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ، اس قسم کے افراد بری عاقبت والے کہلاتے ہیں ۔ لیکن ایک اور گروہ ، جو زندگی کے اوائل میں غفلت و نادانی کے سبب گناہ اور معصیت سے دوچار رہتا ہے لیکن وقت گذرنے اور شعور پیدا ہونے کے ساتھ ہی، دھیرے دھیرے صحیح راستہ پالیتا ہے اور آخر کار اپنے نیک اعمال اور توبہ و استغفار کے سبب ، اس دنیا سے مومن اور عاقبت بخیر اٹھتا ہے ۔
قرآن کریم کی متعدد آيات میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گيا ہے وہ مسلمان مریں اور ان کا انجام بخیر ہوچنانچہ سورۂ آل عمران کی آيت 102 میں مومنین کو اس طرح سے تلقین کی جارہی ہے کہ اے ایمان والو اللہ سے اس طرح سے ڈرو جو ڈرنے کاحق ہے اورخبردار اس وقت تک نہ مرنا جب تک مسلمان نہ ہوجاؤ ۔ اسی طرح جناب ابراہیم اوریعقوب علیھما السلام اپنی زندگي کے آخری لمحات میں اپنے فرزندوں کو اسی بات کی وصیت کرتے ہیں اور اپنے ہرفرزند سے فرماتے ہيں ، میرے فرزندوں اللہ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کردیا ہے لہذا اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک کہ واقعی مسلمان نہ ہوجاؤ۔ نیک انجام اور عاقبت بخیر ہونے کی اہمیت پر متعدد روایات موجود ہیں پیغمبر اکرم (ص) سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان لوگوں کی نظروں میں اہل بہشت کا کام کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ جہنمیوں میں سےہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان لوگوں کی نظروں میں جہنمیوں کا کام انجام دیتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ اہل بہشت ہے" کیوں کہ بعض افراد بظاہر اعمال نیک انجام دیتے ہیں لیکن اپنی عمرکے آخر میں برے انجام اور عاقبت سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ جیسا کہ خداوندمتعال سورۂ کہف کی آيات 103 اور 104 ميں ارشاد فرماتا ہے ۔ پیغمبر کیا ہم آپ کو ان لوگوں کے بارے میں اطلاع دیں جو اپنے اعمال میں بدترین خسارے ميں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش، زندگانی دنیا میں بہک گئي ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔
البتہ یہ تصور نہ کیا جائے کہ صرف گنہگاروں کو ہی عاقبت بخیر ہونے کی دعا اور آرزو کرنی چاہئے ۔ شیطان ترجیح دیتا ہےکہ ہم پوری عمر عبادت کریں اور وہ زندگي کے آخر میں دین وایمان کو تباہ کردے اور ہمیں دوزخ میں لے جائے ۔ اس بناء پر مومنین ہمیشہ برے انجام سے خوف کھاتےہیں ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوی ، بیٹے ، دوست ، پڑوسی اور گمراہ ساتھی بھی انسان کی نیک عاقبت سلب ہونے کاباعث بن جاتے ہیں ۔ اسی لئے پیغمبر اکرم (ص) اپنی نمازوں میں اس دعا کی تلاوت فرمایا کرتے تھے " خدایا مجھے ایک لمحہ بھی میرے حال پر مت چھوڑنا " جب ان کی کسی زوجہ نے آنحضرت کے اعلی مقام و منزلت کا ذکر کرتے ہوئے اس دعا کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا خداوند عالم نے میرے بھائی یونس کو ایک لمحہ ان کے حال پر چھوڑ دیا تو ان کا کیا انجام ہوا ۔
اسی طرح روایت میں ہے کہ پیغمبر اعظم (ص) ماہ رمضان کی آمد پر خطبۂ شعبانیہ پڑھنے کے بعد گریہ کرنا شروع کردیتے ہیں تو اس موقع پر حضرت علی (ع) نے عرض کی اے رسول خدا آپ گریہ کیوں کررہے ہیں ؟ فرمایا اے علی میں جو گریہ کررہا ہوں ، وہ اسی ماہ رمضان میں تمہارے ساتھ پیش آنے والے واقعے پرہے ۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ ميں نماز پڑھ رہے ہو اور اسی حالت نماز میں تمہیں ایک شقی ترین انسان ، تمہارے سر پر ضربت مار رہا ہے جس کے باعث تمہاری داڑھی خون سے خضاب ہوجاتی ہے ۔ حضرت علی (ع) فورا سوال کرتے ہیں اے رسول خدا (ص) کیا یہ شہادت اس حال میں ہوگي کہ میرا دین و ایمان سالم رہے ؟ گا پیغمرنے فرمایا ہاں اےعلی تم ایمان کامل کے ساتھ دنیا سے جاؤگے ۔ اسی بناء پر حضرت علی (ع) کو اپنی شہادت سے کوئی خوف نہيں تھا بلکہ مولا علی کا سارا ہم و غم یہ تھا کہ دنیا سے مومن اور مسلمان اٹھیں ۔ اس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کامیاب زندگی کاہنر یہ ہے کہ انسان اپنے دین و ایمان کا تحفظ اپنی عمر کے آخری لمحات تک کرے اور مسلمان دنیا سے اٹھے ۔ لہذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نیک انجام سے آراستہ نہ ہونے کی تشویش دنیا کی برگزیدہ اور انسان ساز شخصیتوں ميں بھی پائی جاتی تھی ۔ وہ ایک لمحہ بھی اپنے نیک اعمال پر مغرور نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ زیادہ سے زیادہ نیک اور اچھے اعمال بجا لانے کی فکر میں رہتے ہیں ۔
زندگی کے سرانجام سے تشویش کا، انسان پر بہت زیادہ اثر ظاہر ہوتا ہے۔ درحقیقت پروردگار کی محبت کی چاشنی سے فیضیاب ہونے کا سب سے خوبصورت ، آسان اور تیز رفتار راستہ ، اپنے انجام اور عاقبت سے خوف و تشویش لاحق ہونا ہے ۔ جس بندے کو اپنےانجام کا خوف ہوتا ہے وہ مغرور اور اپنے اعمال کا فریفتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل کو خدا کی پناہ میں آرام اور قرار ملتا ہے اور خداوندعالم بھی اسے آرام و سکون عطا کرتا ہے ۔ ساتھ ہی یہ کہ انسان مومن ، پیہم اپنے اعمال و افکار کا محافظ ہوتا ہے تاکہ کہیں خدا کی یاد سے غفلت ، اسے برےانجام ميں مبتلا نہ کردے ۔
اسی طرح اپنے انجام کار سے تشویش ، عجب اور غرور کا قلع قمع کردیتی ہے ۔ عجب، انسان کے اچھےاور نیک اعمال کی تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہے ۔ چنانچہ اسی سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں ۔ اگر کوئی گناہ نہ کرو پھر بھی میں تمہارے لئے اس چیزسے ڈرتا ہوں کہ جو معصیت اور گناہ سے بدتر ہے اور وہ عجب اور غرور ہے ۔ ( معراج السعادہ ص 199) آنحضرت (ص) کا یہ بیان اس امر کا آئینہ دار ہے کہ عجب ایسی بدترین صفت ہے جو گناہ انجام دینے سے بدتر ہے ۔ عجب یہ ہے کہ انسان اپنے عمل صالح کو زیادہ اور عظیم شمارکرے اور اس پرخوشحال بھی ہو ۔ جو شخص عجب اور غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ دوسروں کو حقارت اور جہالت کی نظر سے دیکھتا ہے جب کہ پرہیزگار انسان سب سے ، حتی کہ گناہگاروں کے ساتھ بھی مہربان ہوتا ہے اور انہیں بھی اپنے سے کم نہیں سمجھتا ۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان مومن اپنے انجام کار سے مطمئن نہيں ہے ۔ اپنے انجام سے تشویش لاحق ہونے کا ایک بنیادی فائدہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ عاقبت بخیر ہونے کی تشویش کے سبب امید ہے کہ انسان آخر الزمان کے فتنوں سے محفوظ سے رہے اس لئے کہ آخرالزمان میں سقوط اور تباہی کی دلیل ، دین سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے ۔ کیوں کہ آخرالزمان میں کہ جب دین کے حوالے سے خطرات بڑھ گئے ہيں ایسے میں اس بات کا زيادہ امکان ہے کہ انسان اپنے ایمان سے دور ہوجائے اس لئے مومن کو ہمیشہ اور خاص طور پر اس آخری زمانے میں دیگر زمانوں سے زیادہ اپنے عاقبت بخیر ہونے کی فکر لاحق ہونی چاہئے ۔
بندگي کا سلسلہ دائمی اور پائيدار ہے جو ایک دن ، ایک مہینے اور ایک سال ميں ختم نہيں ہوتا ۔ اگر اس درمیان کوئی خطا و لغزش انجام پاجائے تو انسان کے اعمال کو نقصان پہنچتا ہے ۔ شیطان ہر لمحہ کمین میں بیٹھا ہوا ہے تاکہ انسان کے دین کو نابود کردے سورۂ مبارکہ حجر کی آیات 39 اور 40 میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ابلیس نے کہا کہ پروردگار جس طرح تونے مجھے گمراہ کیا ہے میں ان بندوں کے لئے زمین میں سازو سامان آراستہ کروں گا اور سب کو اکٹھا گمراہ کروں گا علاوہ تیرے ان بندوں کے ، جنہیں تونے خالص بنا لیا ہے ۔ انسان جتنا زیادہ بندگي کے مراحل کو طے کرتا ہے شیطان بھی مضبوط حیلوں اور بہانوں سے داخل ہوتا ہے اور کبھی بھی انسان ، اپنے اس قسم خوردہ دشمن سے مکمل طور پر آرام سے نہیں رہے گا۔ اس بناء پر بندۂ مومن اپنی زندگي کے آخری لمحات تک اپنی عاقبت سے تشویش میں مبتلا رہتا ہے اور ہیمشہ خداوندمتعال سے عاقبت بخیر ہونے کی دعا کرتا ہے ۔ انسان اپنے پروردگار کے سامنے جتنا زیادہ خاضع اور متواضع ہوگا اتنا ہی زیادہ محبوب ہوگا اور یہ تواضع اس کو اخروی سعادت اور انجام بخیر ہونے کی ضمانت فراہم کرنے میں موثر ثابت ہوگا ۔ انسان کو ہمیشہ خداوندعالم کی خوشنودی کے حصول میں کوشاں رہنا چاہئے اور نیکی کے راستے پر گامزن رہنے کے لئے اس سے مدد کا طالب ہونا چاہئے ۔
قبور کي زيارت
بعض لوگ عورتوں پر قبور کي زيارت حرام قرار ديتے ہيں اور مندرجہ ذيل دو حديثوں کو اپني دليل قرار ديتے ہيں:۱۔ "لعن اللہ زوارات القبور"(۱)۔ ٢۔ دوسري روايت ميں "زائرات القبور" ذکر ہوا ہے(٢)۔ "خدا زائر عورتوں پر لعنت کرے۔" کيا عورتوں کو قبور کي زيارت سے نہي کرنا صحيح ہے؟
جواب:
اس ميں حديث سے استدلال کيلئے شرط لازم مفقود ہے، کيونکہ گزشتہ ذکر کئے گئے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس روايت کو منسوخ جاننا چاہيے اور اتفاق سے بعض اہل سنت بهائيوں کے محدثوں نے اسے منسوخ کہا بھي ہے، مثلاً ترمذي (اس حديث کے ناقل) کا کہنا ہے: اس حکم ميں مرد اور عورتيں برابر ہيں(۳)۔ قرطبي کہتے ہيں: يہ حکم ان عورتوں کے متعلق ہے جو اپنا اکثر وقت قبرستانوں ميں گزارتي ہيں اور اس طرح سے اپنے شوہروں کے حقوق پامال کرتي ہيں اور اس کي دليل يہ ہے کہ پيغمبر (ص) نے اس حديث ميں صيغہ مبالغہ "زوارات القبور" کو استعمال کيا ہے۔ ابن ماجہ، علي بن ابيطالب (ع) سے نقل کرتا ہے: ايک دن پيغمبر (ص) گھر سے باہر گئے تو ديکھا کہ عورتيں بيٹھي ہوئي ہيں، پيغمبر نے پوچھا: کيوں بيٹھي ہو؟ انھوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کررہے ہيں۔ فرمايا: غسل دو گي؟ عرض کيا: نہ، فرمايا: جنازہ اٹھاؤ گي؟ عرض کيا: نہ، فرمايا: اسے قبر ميں رکھو گي؟ عرض کيا: نہ فرمايا: جاؤ، تم گنہکار ہو نہ کہ ثواب اور نيکي کرنے والي۔ يہ حديث بھي سند اور دلالت کے لحاظ سے مشکل رکھتي ہے اور ناقابل استدلال ہے کيونکہ اس کي سند ميں دينار بن عمرو ہے کہ جسے علماء رجال نے مجہول اور متروک کے طور پہ پہچنوايا ہے۔ جس حديث کا راوي اس حد تک ضعيف ہو، کيا اس کي حديث سے استدلال کيا جا سکتا ہے؟ اس کے علاوہ (اگر فرض کر ليا جائے کہ اس کي سند صحيح ہے) اس حديث کا متن بھي زيارت سے غير مربوط ہے کيونکہ پيغمبر(ص) ايسي خواتين سے مخاطب ہيں جو جنازے کا تماشا ديکھنے آئي تھيں اور کسي قسم کا کام انجام دينے نہيں آئي تھيں اور اس عمل کا زيارت قبور سے کوئي رابطہ نہيں ہے۔ ادھر ايک نکتے کا ذکر کرنا ضروري ہے اور وہ يہ کہ دين اسلام فطرت کے مطابق اور سہل و آسان ہے۔ پيغمبر اسلام(ص) نے فرمايا: آئين اسلام ايک مستحکم آئين ہے اور اس سے رفق و مدارا کے ساتھ سلوک کرو۔ فرض کريں، ايک مومنہ ماں کے جواں سال بيٹے کا انتقال ہوگيا اور اسے کئي خروار مٹي کے نيچے دفن کرديں تو روشن ہے کہ اس کا دل تڑپ رہا ہے اور اس بے تاب اور بے قرار ماں کي تسلي کيلئے ايک ہي راستہ ہے کہ اپنے بيٹے کي قبر کي زيارت کرے۔ اس صورت ميں ماں کو ايک ايسے عقلي اور عقلائي عمل سے روکنا (جو ساري دنيا ميں رائج ہے) اس کے روح پہ فشار لانے کا سبب بنے گا۔ اگر اسلام ايسے عمل سے نہي کرے تو کيا ايسے دين کو سہل اور آسان سمجھا جائے گا؟ اصولي طور پہ قبور کي زيارت،عبرت اور آخرت کو ياد کرنے کا بہترين وسيلہ ہے اور زيارت ميں ہميشہ اقربا کے ايصال ثواب کيلئے تلاوت قرآن اور فاتحہ خواني کي جاتي ہے۔ پھر کيسے ممکن ہے کہ عورتوں کو اس فيض سے محروم کيا جائے؟ دوسرے الفاظ ميں زيارت قبور کا فلسفہ آخرت کي ياد اور عبرت ہے جو قابل تخصيص نہيں ہے۔ ہاں يہ زيارت ہر قسم کے گناہ اور خطا سے پاک اور منزہ ہو اور اگر فرض کر ليا جائے کہ عورتوں کو زيارت سے نہي کي گئي ہے، يہ نہي شائد اس لئے کي گئي ہو کيونکہ اس زمانے ميں عورتيں ان شرائط کا خيال نہيں رکھتي تھيں۔
منابع اور مآخذ:
۱) سنن ابن ماجہ: ج۱، ص۵۰۳ ۔
٢) سنن ابو داؤد: ج۳، ص۲۱۸۔
۳) سنن ترمذي: ج۳، ص۳۷۱۔
رسول خدا(ص): تمہارے درمیان قرآن و اہل بیت چھوڑے جارہا ہوں
قال رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله: اني تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي ما ان تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي: كتاب الله فيه الهدی والنور حبل ممدود من السماء الی الارض وعترتي اهل بيتي وان اللطيف الخبير قد اخبرني انهما لن يفترقا حتي يردا علی الحوض وانظروا كيف تخلفوني فيهما.
میں تمہارے درمیان دو عمدہ اور گرانبہا امانتیں چھوڑے جارہا ہوں: ایک کتاب اللہ ہے اور دوسری میری عترت اور اہل بیت ہیں۔ جب تک تم ان دو کا دامن تھامے رہوگے کبھی بھی گمراہی سے دوچار نہ ہوگے؛ کتاب اللہ، جس میں ہدایت اور نور (روشنی) ہے یعنی قرآن مجید اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک کھچی ہوئی ہے اور بےشک لطیف خبیر (خداوند متعال) نے مجھے خبر دی ہے کہ قرآن و اہل بیت کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے حتی کہ حوض کوثر کے کنارے مجھ پر وارد ہوجائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث ثقلین کے منابع:
٭ صحیح مسلم بن حجاج ج 7 ص 122
٭ ابو داؤد مسند میں
٭ ترمذی جزء دوم ص 307 سنن، میں
٭ نسائی در ص 30 خصائص میں
٭ احمد بن حنبل جلد سوئم صص 14 و 17، جلد صص 26 و 59 جلد چہارم و صص 182 و 189 جلد پنجم مسند، میں
٭ حاکم جلد سوئم صص 109 و 148 مستدرک میں
٭ حافظ ابو نعیم اصفهانی ص 355 جلد اول حلیة الاولیاء میں
٭ سبط ابن جوزی صفحه 182 تذکره الاولیاء میں
٭ ابن اثیر الجزری جلد 2 ص 12 و ص 147 ج 3 اسدالغابه میں
٭ حمیدی جمع بین الصحیحین میں
٭ رزین جمع بین الصحاح السته میں
٭ طبرانی معجم الکبیر میں
٭ ذهبی تلخیص مستدرک میں
٭ ابن عبد ربه عقد الفرید میں
٭ محمد بن طلحه شافعی مطالب السؤل میں
٭ خطیب خوارزمی مناقب میں
٭ سلیمان بلخی حنفی باب 4 ینابیع الموده میں
٭ میر سید علی همدانی مودة دوئم از مودة القربی میں
٭ ابن ابی الحدید شرح نهج البلاغه میں
٭ شبلنجی ص 99 نور الابصار میں
٭ نورالدین ابن صباغ مالکی ص 25 فصول المهمة میں
٭ حموینی فرائد السمطین میں
٭ امام ثعلبی تفسیر البیان میں
٭ سمعانی و ابن مغازلی شافعی مناقب میں
٭ محمد بن یوسف گنجی شافعی باب اول صحت خطبه غدیر خم کے ضمن میں اور ص 130 کفایة الطالب باب 62 میں
٭ محمد بن سعد کاتب ص 8 جلد 4 طبقات میں
٭ فخر رازی در ص 113 ج 4 تفسیر آیت اعتصام کی تفسیر میں
٭ ابن کثیر دمشقی ص 113 جلد چہارم تفسیر میں آیت مودت کی تفسیر میں
٭ ابن عبد ربه ص 158 اور 346 جلد 2 عقد الفرید میں
٭ ابن ابی الحدید ص 130 جزء ششم شرح نهج البلاغه میں
٭ سلیمان حنفی قندوزی صص 18، 25، 29، 30، 31، 32، 34، 95، 115، 126، 199 و 230 ینابیع المودة میں مختلف عبارات کے ساتھ
٭ ابن حجر مکی صص 75، 78، 90، 99 و 136 صواعق المحرقة میں،
اور دیگر اکابر علمائے اہل سنت نے مختصر سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس حدیث شریفہ کو شیعہ اور سنی منابع کے حوالے سے تواتر کے ساتھ رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
"انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی لن یفترقا حتی یردا علی الحوض من توسل (تمسک) بهما فقد نجی و من تخلف عنها فقد هلک - ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا۔
میں تمہارے درمیان دو بھاری امانتیں چھوڑے جارہا ہوں جو کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں حتی کہ حوض کے کنارے مجھ پر وارد ہوجائیں پس جس نے ان دو کا دامن تھاما اس نے نجات پائی اور جس نے ان کی مخالفت کی وہ نابود ہوگیا ۔۔۔ جب تک تم ان دو کا دامن تھامے رہوگے میرے بعد کبھی بھی ضلالت و گمراہی کا شکار نہ ہونگے۔
علامه فاضل العجیلی نے ذخیرة المآل میں اس سلسلے میں امام محمد ابن ادریس شافعی کے بعض اشعار نقل کئے ہیں جو اس حدیث کی تصدیق و تائید کرتے ہیں:
اہل سنت کے شافعی فرقے کے امام محمد بن ادریس شافعی اہل بیت علیہم السلام کی شان میں کہتے ہیں:
ولما رایت الناس قد ذهبت بهم
مذاهبهم فی ابحر الغی والجهل
جب میں نے دیکھا لوگوں کو کہ ان کے مذاہب انہيں جہل و گمراہی کے بحر ظلمات میں ڈبوئے ہوئے ہیں
ركبتُ على اسم الله في سفن النَّجا
وهم آلُ بيت المصطفى خاتمِ الرُّسْلِ
میں اللہ کا نام لے کر نجات کی کشتیوں میں سوار ہوا
اور وہ حضرت مصطفی کے اہل بیت ہیں، جو خاتم الرسل ہیں
وأمسكتُ حبلَ الله وهو ولاؤهم
كما قد أُمِرنا بالتمسكِ بالحبلِ
اور میں نے اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑ لی جو اہل بیت رسول کی ولایت ومودت ہے
جس طرح کہ ہمیں خدا کی طرف سے حبل اللہ پکڑنے کا حکم ہوا ہے۔
إذا افترقَت في الدين سبعونَ فِرقةً
ونَيفاً، كما قد صَحَّ في مُحكم النقلِ
جب اسلام کی امت واحدہ ستر سے زائد فرقوں میں بٹ گئی، جس طرح کہ ایک صحیح حدیث میں منقول ہے۔
ولم يكُ ناجٍ منهمُ غير فرقةٍ
فقُل لي بها يا ذا الرجاحةِ والعقلِ
اور نہیں ہے نجات یافتہ ان میں سے سوائے ایک فرقے کے، اے کمال عقل بردباری کے مالک کہہ دو مجھے۔
أفي فرَق الهُلاّكِ آلُ محمدٍ
أم الفرقة اللاتي نجت منهمُ ؟! قُل لي
کیا خاندان محمد(ص) ہلاک اور نابود ہونے والے فرقوں میں شمار ہوتا ہے؟ یہ وہی ہیں جو فرقہ ناجیہ اور فلاح یافتہ ہیں، دے دو میرا جواب۔
فإن قلتَ: في الناجين، فالقولُ واحدٌ
وإن قلتَ: في الهُلاّك، حِفتَ عن العدلِ
پس اگر تم کہہ دو کہ آل محمد نجات یافتگان میں شمار ہوتے ہیں تو میرا اور تمہارا عقیدہ ایک ہی ہے [اور میرا مدعا درست ہے] اور اگر کہہ دو کہ [معاذاللہ) وہ نابود ہونے والوں میں سے ہیں تو بےانصافی کے مرتکب ہوئے اور حق و عدل سے منحرف ہوچکے ہو۔
إذا كان مولى القوم منهم.. فإنني
رَضِيتُ بهم ما زالَ في ظلّهم ظلّي
جب مسلمانوں کا امام اور مولا اہل بیت میں سے ہو ـ جبکہ ایسا ہی ہے ـ پس میں فیصلہ کن انداز سے کہتا ہوں کہ میں نے ہی کے مکتب کو اختیار کرچکا ہوں اور ان کی معیت پر راضی و خوشنود ہوں جب تک کہ میری بوندیں ان کی بارش میں شامل ہیں [اور میں ان کے اصحاب و انصار میں شمار ہوتا رہوں گا]۔
فخَلِّ عليّاً لي إماماً ونسلهُ
وأنت من الباقين في سائرِ الحِلِّ
پس چھوڑ دو کہ علی اور ان کی نسل میرے امام و راہبر ہوں اور تم دوسروں کے سلسلے میں آزاد ہو۔
یا امام شافعی ہی کہتے ہیں:
یا آل بیت رسول الله حبكم
فرض من الله فی القرآن انزله
یكفیكم من عظیم الفخر انكم
من لم یصل علیكم لا صلاة له
اے رسول اللہ(ص) کے خاندان، آپ کی محبت، اللہ کی طرف سے فرض ہے اور خدا نے اس کا حکم قرآن میں نازل فرمایا ہے۔
آپ کے فخر کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ جو نماز میں آپ پر دورد و صلوات نہ بھیجے اس کی نماز ہی باطل ہے۔
آل النبی ذریعتی
وهمو الیه وسیلتی
ارجوا بهم اعطی غدا
بیدی الیمین صحیفتی
آل النبی میرا ذریعہ ہیں، وہ خدا کی طرف میرا وسیلہ ہیں، میں ان کی برکت سے امید رکھتا ہوں کہ کل روز قیامت، میرا صحیفہ میرے داہنے ہاتھ میں دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسناد دوسرے انداز سے
1. مصابیح السنة، البغویالشافعی، ج2، ص205 (چاپ مصر)؛
2. نظم درر السمطین، الزرندیالحنفی، ص231؛
3. تفسیر الخازن، ج1، ص4؛
4. مشکاة المصابیح، العمری، ج2، ص255 (چاپ دمشق)؛
5. السیرة النبویة، احمدزیندحلان الشافعی (مفتی مکه) در حاشیه السیرة الحلبیة، ج3، ص330؛
6. الفتح الکبیر، النبهانی، ج1، ص352؛
7. مناقب علیبنابیطالب(علیهالسلام)، ابنالمغازلی الشافعی، ص236، ح214؛
8. ذخائر العقبی، الطبریالشافعی، ص16؛
9. کفایة الطالب، الگنجیالشافعی، ص53؛
10. فرائد السمطین، الجوینیالخراسانی، ج2، ص268، ح535؛
11. المسند، احمدبنحنبل، ج5، ص181 (چاپ المیمنة، مصر)؛
12. مجمع الزوائد، ج5، ص195 و ج9، ص162و164؛
13. شرح نهجالبلاغه، ابنابیالحدید، ج6، ص375 (چاپ مصر)؛
14. تاریخ دمشق، ابنعساکر الشافعی، ج2، ص36، ح534و545 (چاپ بیروت)؛
15. انساب الاشراف، البلاذری، ج2، ص110، ح48؛
16. النهایة، ابنالاثیر، ج1، ص155 (چاپ مصر)؛
17. نهایة الارب، النویری، ج18، ص377 (چاپ مصر)؛
18. حلیة الاولیاء، ابونعیم، ج1، ص355؛
19. الاتحاف بحب الاشراف، الشبراویالشافعی، ص6؛
20. الدر المنثور فی تفسیر المأثور، جلالالدین السیوطی، ج2، ص60.
تبرک
پيغمبر اور آپ کے باقيماندہ آثار سے تبرک حاصل کرنے کے جواز پر کيا دليل پائي جاتي ہے؟ کيا يہ عمل توحيد جو کہ دين اسلام کا اصلي شعار ہے، سے سازگاري رکھتا ہے؟
خداوند متعال کو اس کي خالقيت اور آفرينش ميں وحدہ لاشريک قرار دينا توحيد کے مراتب ميں سے ايک مرتبہ ہے،اس کا مطلب يہ ہے کہ کائنات کا خالق صرف ايک ہے اس کے علاوہ اور کوئي نہيں،کائنات اپنے تمام مختلف جلووں کے ساتھ اسي خدا کي خلق کردہ ہيں،تمام مخلوقات چاہے وہ مادي ہوں يا غير مادي ذاتي طور پر ہر قسم کے کمال سے فاقد اور بے بہرہ ہيں،اگر ظاہري طور پران ميں کمال پايا جاتا ہے تو بس اسي کي مشيت اور ارادہ کي مرہون منت ہيں، اور اس بارے ميں مشرک اور موحد ايک طرح ہيں،قرآن نے اسي چيز کو "يعني کائنات کي خلقت مشرک اور موحد کے اعتبار سے مساوي ہے"،قضيہ شرطيہ کے طور پر بيان کيا ہے،جيسا کہ ارشاد ہوا:
﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَکُونَ﴾ (۱)۔
ترجمہ: "اے رسول! اگر تم ان سے پوچھو کہ(بھلا)کس نے سارے آسمان وزمين کو پيدا کيا؟ اور چاندو سورج کو کام ميں لگايا،تو وہ ضرور يہي کہيں گے کہ الله نے،پھر وہ کہاں بہکے چلے جاتے ہيں۔" عصر رسالت کے مشرکين اور موحدين کے درميان تدبير عالم کا اختلاف تھا،موحدين کا کہنا تھا کہ صرف خداوندعالم ہي اس نظام ہستي کا مدبر ہے،يعني اس کائنات کو چلانے والا تنہا ذات وحدہ لاشريک ہے،ليکن وہ کہتے تھے کہ اس ميں ان جھوٹے خداوٴوں کا بھي حصہ ہے،يعني عالم کي تدبير ميں ہمارے ہاتھوں سے بنائے ہوئے خدا بھي شرکت رکھتے ہيں۔ جب ہم نے اس قاعدہ اور اصل کو قبول کرليا کہ اس عالم کا مدبر صرف خدا وندمتعال ہے،تو اس کا يہ مطلب نہيں کہ مخلوقات ايک دوسرے کيلئے موٴثر نہيں،يعني مذکورہ قاعدہ اس بات کو نہيں کہتا کہ موجودات عالم ايک دوسرے کيلئے تاثير نہيں رکھتے،کيونکہ قرآني،علمي اور فلسفي دلائل سے يہ بات ثابت ہو چکي ہے کہ موجودات عالم با ہم علت و معلول کا رشتہ رکھتے ہيں،خدا وند متعال نے اس عالم کو علت اور معلول کے نظام پر سنوارا ہے،يعني يہ کائنات اسباب و مسببات کے نظام پر قائم ہے،ہر سابق وجود؛ اپنے مابعد کے وجود ميں(خاص شرائط کے اعتبار سے) تاثير رکھتا ہے، ليکن تمام موجودات عالم اپنے موٴثر اور اثر سے خدا کي مشيت اور ارادہ کے سايہ ميں تاثير پذير ہوتے ہيں، جيسے سورج کي چمک، چاند کي روشني، آگ کي حرارت، اور درختوں کي(پاني وغيرہ کے ذريعہ) پرورش، يہ تمام چيزيں خدا کي مشيت کے بعد ہي انجام پاتي ہيں،اگر ايک لحظہ بھي خدا کي مشيت نہ ہو تو يہ عالم درہم برہم ہوجائے،اور کچھ کائنات ميں باقي نہ بچے ۔ المختصر يہ کہ اس کائنات ميں صرف ايک ہي واقعي اور حقيقي سبب ہے،اور وہ صرف خدا ہے، ليکن اس کے باوجود اس عالم ميں ايک فرعي اور تبعي(عارضي)اسباب و علل کا رشتہ بھي کار فرما ہے جو خدا کي مشيت اور اس کے اذن سے اس عالم کے محرِّک ہيں،مثلاً درختوں اور انسانوں کي زندگي کي پرورش عادي اور طبيعي چند عناصر پر موقوف ہے،اگر يہ عناصرو عوامل (جيسے پاني،ہوا اور روشني) اٹھالئے جائيں تو انسان کي زندگي خطرہ ميں پڑ جائےگي،البتہ خدا کي مشيت ان عوامل سے پہلے موٴثر ہے،يعني ان تمام اسباب وعوامل کي حاکم؛ اس کي مشيت اور ارادہ ہے،گويا يہ ظاہري علل و اسباب ارادہ خدا کے لشکري ہيں،اور وہ يعني خدا کا ارادہ کل ظاہري علل و اسباب کا کمانڈر ہے، سب اسي کے فرمانبردار ہيں۔ قرآن کريم سورہ بقرہ ميں ان عادي عوامل کي تاثير۔جسے فلسفي اصطلاح ميں ظلي تاثير کہتے ہيں۔ کي تصريح ان الفاظ ميں کرتا ہے:
﴿الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاء بِنَاء وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّکُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (٢)۔
ترجمہ: "جس نے تمہارے لئے زمين کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنايا اور آسمان سے پاني برسايا، پھر اسي نے تمہارے کھانے کيلئے بعض پھل پيدا کئے،پس کسي کو خدا کا ہم سر نہ بناؤ،حالانکہ تم خوب جانتے ہو۔" آيت ميں لفظ "به" ميں "ب" سببيت کے معني کو بتاتا ہے،يعني خدا وند متعال پاني کو پھلوں کي پرورش ميں ايک موٴثر عامل ہونے کي تصريح کر رہا ہے ۔ درحقيقت (اس) علم کا کام دنيا ميں يہي ہے کہ وہ مخلوقات کے درميان پائے جانے والے روابط کي تحقيق کرے تاکہ ان کے مابين پائے جانے والے مادي اور طبيعي (عادي) اسباب وعلل معلوم ہو سکيں، اور اس کے وجود کو اس طرح پہچانے، تاکہ ان کے منافع سے فائدہ اٹھائے اور ان کے ضرر سے دور رہے۔ مادي دنيا کي غلط فہمي يہي ہے کہ وہ صرف اس ظاہري عالم کو ديکھتي ہے،اور اس کے عارضي اسباب کو مستقل سمجھ ليتي ہے،جبکہ درحقيقت اس نظام کے پس پشت ايک واقعي سبب کارفرما ہے جو حقيقت ميں حقيقي اس کائنات کا حقيقي مدبر ہے،اور تمام موجودات زمين و آسمان،کي تاثير گزاري اسي کي مشيت کي بنا پر ہے،عالم اسي کے نظام کے تحت چل رہا ہے،اور آگے بڑھ رہا ہے۔ مولوي نے اس حقيقت کو چند اشعار کے ضمن ميں بيان کيا ہے: دست پنہان و، قلم بين خط گذار اسب در جولان و، نا پيدا سوار "گويا حرکت دينے والے ہاتھ پنہاں ہيں، اور قلم بين السطور لکھ رہا ہے،گھوڑا حرکت ميں ہے ليکن اس کا سوار پوشيدہ ہے۔" گہ بلندش مي کند، گاھيش پست گہ درستش مي کند، گاھي شکست "کبھي اسے بلند کرتا ہے، اور کبھي نيچے، کبھي صحيح کرتا ہے تو کبھي توڑتا ہے۔" گہ يمينش مي برد، گاھي يسار گہ گلستانش کند، گاھيش خار "کبھي دائيں ليجاتا ہے تو کبھي بائيں، کبھي گلستان کرتا ہے تو کبھي کانٹے۔" تير پران بين، وناپيدا کمان جانھا پيدا و پنھان جان جان "گويا تير حرکت کرتے دکھائي دے رہا ہے،اور اس کي کمان پوشيدہ ہے،يعني جانيں سامنے ہيں ليکن ان کا خالق پنہاں ہے۔" تير را مشکن کہ اين تير شھي است نيست پرتابي زشصت آگھي است "تير کو مت توڑو کہ يہ بادشاہ کا تير ہے، يہ نہيں چھوڑا گيا ہے مگر باخبر ہاتھوں سے چھوڑا گيا ہے۔" ما رميت اذ رميت گفت حق کارحق بر تارھا دارد سبق "
﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾
کہ جسے خدا نے ارشاد فرمايا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا کام کمان کي اس ڈوري سے بھي پہلے کار گر ہوتا ہے کہ جس کي مدد سے تير چھوڑا جاتا ہے"(۳)۔ پروين اعتصامي کہتي ہيں: ما بہ دريا حکم طوفان مي دھيم ما بہ سيل و موج فرمان مي دھيم "ہم ہي دريا کو طوفان پيدا کرنے کا حکم ديتے ہيں، ہم ہي سيلاب و امواج کو فرمان صادر کرتے ہيں۔" نقش ہستي، نقشي از ايوان ما است خاک و باد و آب، سرگردان ما است "يہ کائنات ہمارے ہي تيار کردہ محل کا برآمدہ ہے، يہ مٹي دھول، ہوا، اور پاني سب ہمارے ہي حکم سے سرگرداں اور حرکت ميں ہيں۔" قطرہ اي کز جويباري مي رود از پي انجام کاري مي رود "پاني کا وہ قطرہ جو ايک ندي سے باہر نکلتا ہے وہ بھي کسي مقصد کے تحت باہر جارہا ہے"(۴)۔ خدا سبب ساز اور سبب سوز ہے: جيسے خدا کي مشيت سببيت اور سبب سازي سے متعلق ہوتي ہے اسي طرح کبھي اس کي مشيت اس بات سے متعلق ہوتي ہے کہ عادي اسباب سے ان کي سببيت کو سلب کرلے، مثلاً آگ کي طبيعي(عادي) سببيت يہ ہے کہ وہ جلائے ليکن خدا اس کي سببيت کو ختم کرديتا ہے،اور اس کو حکم ديتا ہے کہ وہ حضرت ابراہيم کو نہ جلائے،دريا کو حکم ديتا ہے کہ وہ موسي اور ان کي قوم کو غرق نہ کرے،اس طرح خدا کبھي سبب ساز(يعني سببيت پيدا کرتا ہے) ہے تو کبھي سبب سوز ہوتا ہے يعني اس کي سببيت کو سلب کرليتا ہے، مولوي نے اس حقيقت کو اپنے اشعار ميں اس طرح بيان کيا ہے:در خرابي، گنج ھا، پنھان کند خار را گل، جسم ھا را جان کند "خدا کي ذات وہ ہے جو خرابے اور بيابان ميں خزانے پنہاں رکھتي ہے،وہ کانٹوں کو پھول اور بے جان جسموں کو جاندار بناديتي ہے۔" آن گمان انگيز را سازد يقين مہرھا انگيزد از اسباب کين "خدا وہ ہے جو خواب و خيال کو محکم يقين ميں تبديل کرديتا ہے، اور اسباب بغض وعناد سے محبتيں پيدا کر ديتا ہے۔" پرورد در آتش ابراھيم را ايمن روح سازد، بيم را "وہ ابراہيم کو آتش نمرود ميں پرورش کرتا ہے، وہ ڈر کو چين و سکون ميں تبديل کرديتا ہے۔" از سبب سازيش من سودائيم وز سبب سوزيش سوفسطائيم "اس کي سبب سازي کا ميں عاشق ہوں،ليکن اس کي سبب سوزي سے متعجب ہوں۔" در سبب سازيش سرگردان شدم در سبب سوزيش ھم حيران شدم(۵) "اس کي سبب سازي کے عشق ميں،ميں سرگرداں اور پريشان ہوں،ليکن اس کي سبب سوزي سے دنگ و حيران ہوں۔" جب حضرت موسي کو ان کي ماں نے دريائے نيل ميں ڈالا ليکن ان کے اسباب موت ان کيلئے اسباب حيات بن گئے، اس بارے ميں پروين اعتصامي کہتي ہيں: سطح آب از گاھوارش خوشتر است دايہ اش سيلاب و موجش مادر است "(جس دريا ميں حضرت موسي(عليہ السلام)کا صندوق تير رہا ہے)اس کے پاني کي سطح گہوارے سے اچھي ہے،کيونکہ اس کي جنباني کرنے والي دايہ دريا کے سيلاب ہيں،اور اس کي موجيں ماں ہيں۔" بحر را گفتم، دگر طوفان مکن اين بناي شوق را ويران مکن "ميں(خدا) نے دريا کو حکم دے ديا ہے کہ طوفان پيدا نہ کرے، اور عشق و محبت کي عمارت کو ويران نہ کرے۔" صخرہ را گفتم، مکن با او ستيز قطرہ را گفتيم، بدان جانب مريز "پتھر سے کہہ ديا ہے کہ وہ اس صندوق سے نہ ٹکرائے،دريائي قطروں کو حکم دے ديا ہے کہ وہ اس کي جانب قدم نہ بڑھائيں۔" امر دادم باد را، کان شير خوار گيرد از دريا، گزارد در کنار "ہواؤں کو حکم دے ديا گيا ہے کہ وہ اسے شير خوار بچے کي طرح دريا سے اٹھا کر ايک کنارے پيار سے رکھ دے۔" سنگ را گفتم بزيرش نرم شو برف را گفتم کہ آب گرم شو "سنگريزوں سے ميں نے کہہ ديا ہے کہ وہ اس کے نيچے نرم ہوجائيں، اور برف سے کہہ ديا ہے کہ وہ اس کيلئے آب گرم کي مانند ہوجائے۔" خار را گفتم کہ خلخالش مکن مار را گفتم کہ طفلک را مزن "کانٹوں سے کہہ ديا ہے کہ اس کے نہ چبھيں، اور سانپ کو آڈر دے ديا ہے کہ وہ اس بچے کو ڈنگ نہ مارے"(۶) خدا کي سبب سازي کا دوسرا جلوہ: خدا کي مشيت اس بات سے متعلق ہوتي ہے کہ کائنات کي ہر موجود شئے اپنے خاص طبيعي (عادي) سبب کے تحت وجود ميں آئے،ليکن کبھي بعض مصالح کي بناپر کچھ موجودات اپنے غير عادي اسباب کے ذريعہ وجود ميں آتے ہيں،اور يہ اس لئے ہے کہ تا کہ الله کے انبياء اس کے ذريعہ يہ ثابت کر سکيں کہ ان کا رابطہ اس کائنات سے برتر و افضل ذات سے مرتبط ہے،اس خاص عمل کو معجزہ کہا جاتا ہے،انبيائے کرام کے معجزات بغير کسي استثناء کے اسي راستہ سے عالم وجود ميں قدم رکھتے ہيں،يقيني طور پر خشک لکڑي کا اژدہا ہونا، عصائے موسي کے ذريعہ پاني کا ايک طرف ہوجانا، نابينا لوگوں کا بينا ہونا، اور لا علاج مريضوں کا صحت ياب ہونا، يہ سب وہ چيزيں ہيں جو اپنے غير عادي راستے سے وجود ميں آئے ہيں،لہٰذا يہاں سے نتيجہ يہ نکلتا ہے کہ اکثر اوقات فيوض الٰہيہ ہم تک طبيعي اور عادي اسباب کے ذريعہ پہنچتے ہيں،ليکن خاص مواقع پر خدا کا وہي فيض طبيعي اور عادي راستے سے ہٹ کر پہنچتا ہے،اسي کو اصطلاح ميں معجزہ کہا جاتا ہے،البتہ اس صورت ميں کہ معجزہ کو انجام دينے والا اثبات نبوت کے مقام ميں ہو،اور اس کا ارتباط عالم غيب سے ہو،ليکن اگر يہ کام دعوي نبوت کے ساتھ نہ ہو تو کرامت کہلاتا ہے۔ جناب مريم کي دو کرامتيں: قرآن کريم جناب مريم کي دو کرامتوں کا تذکرہ کرتا ہے: ۱۔ وہ ہميشہ محراب عبادت ميں اپنے سامنے اپني روزي کو پاتي تھيں،جب حضرت ذکريا (عليہ السلام)ان سے سوال کرتے تو مريم کہتي:
﴿هُوَ مِنْ عِندِ اللّهِ إنَّ اللّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (۷)۔
"يہ الله کي جانب سے ہے بيشک الله جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق ديتا ہے۔" ٢۔ جب حضرت عيسي کي ولادت کا وقت قريب ہوا تو جناب مريم شدت درد کي وجہ سے ايک خشک کھجور کے درخت کے نيچے چلي جاتي ہيں،اور اس سے ٹيک لگا کر بيٹھ گئيں،خطاب ہوا: اس خشک درخت کو ہلاوٴ تاکہ اس سے تازہ رطب گريں:
﴿وَهُزِّي إِلَيْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْکِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ (۸)۔
ترجمہ: "(اے مريم!) اور خرمے کي جڑ پکڑ کر اپني طرف ہلاوٴ تم پر پکے پکے تازے خرمے جھڑ پڑيں گے۔" مذکورہ مقامات پر جناب مريم کے مقام و منزلت اور ان کے پاکيزہ نفس ہونے کي بناپر خدا نے يہ چيزيں (تازہ کھجور اور جنتي کھانا) غيرعادي راستے سے بھيجيں، بغير اس کے کہ وہ اپنے مقام و منزلت کا دعوي کرتيں ۔ جب آپ کرامت اور معجزہ کي خصوصيات سے آشنا ہوگئے،تو اب ہم مفہوم تبرک پر قدرے روشني ڈالتے ہيں۔ تبرک کيا ہے؟ تبرک؛ لفظ "برکت" سے اخذ کيا گيا ہے جس کے معني زيادتي نعمت کے ہيں،يعني نعمت ميں اضافہ ہونا۔ اصطلاح ميں تبرک کے معني يہ ہيں کہ کوئي مسلمان کسي ذات سے يا انبياء اور صالحين بندوں کے باقيماندہ آثار کے ذريعہ خير و برکت (اور زيادتي نعمت) طلب کرے ۔ کسي ذات يا انبياء اور صالحين بندوں کے باقيماندہ آثار کے ذريعہ خير و برکت طلب کرنے کا مطلب يہ نہيں کہ تبرک طلب کرنے والے نے اس اقدام سے امور متحقق ہونے کے طبيعي اور عادي راستوں کو بند کرديا،بلکہ اس کا مطلب يہ ہے کہ اس کے باوجود کہ وہ عادي اسباب سے متوسل ہے،اس نے اپنے لئے باب تبرک بھي باز کيا ہے،اور وہ اس طريقہ سے بھي خدا کے فيض کا طلب گار ہوا ہے ۔ يقينا انبياء اور خدا کے صالح بندوں کے باقي رہے آثار اور وہ خير و برکت جسے بشر اس راستہ سے حاصل کرتا ہے، ان کے درميان کوئي مادي رابطہ نہيں ہے،ليکن جيسا کہ ہم نے اس سے پہلے کہا کہ کبھي خدا کا فيض غير طبيعي راستوں سے انسان تک پہنچتا ہے،اور خدا کي مشيت اس سے متعلق ہوتي ہے کہ يہ شخص اس پاک ذات اور اس سے باقي ماندہ آثار سے توسل کرے،اور اس راستے سے اس کي حاجتيں پوري ہوں،يہ ايک ايسي حقيقت ہے جس کي قرآن نے بھي تصديق فرمائي ہے،اور اس بارے ميں متواتر روايات بھي نقل ہوئي ہيں،اور نہ کوئي عقلي طور پر مانع پيش آتا ہے کہ وہ آثار جو صالحين بندوں سے منسوب ہيں وہ موٴثر نہيں ہو سکتے ۔ اب ہم ان آيات کي وضاحت کرتے ہيں جو اس بارے ميں پائي جاتي ہيں: ۱۔ مقام ابراہيم سے تبرک حاصل کرنا: خداوند متعال نے زمين کے بعض ان حصوں کو جائے عبادت قرار ديا ہے جہاں کي زمين توحيد کي علمبرداروں کے جسموں سے متمسک اور وابستہ رہي، جيسے حکم ہوا کہ مقام ابراہيم ميں نماز پڑھو:
﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاکِفِينَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ﴾ (۹)۔
ترجمہ:"(اے رسول! وہ وقت بھي ياد دلاوٴ) جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کي جگہ قرار دي اور (حکم ديا کہ) ابراہيم کي (اس) جگہ کو نماز کي جگہ بناوٴ، اور ابراہيم و اسماعيل سے عہد و پيمان ليا کہ ميرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کيلئے صاف ستھرا رکھو ۔" مسجد الحرام کے اس مقام پر نماز ادا کرنا اس کے دوسرے مقامات سے کوئي فرق نہيں رکھتا سوائے اس کے کہ يہ جگہ حضرت ابراہيم کے مقام کي بنا پر زيادہ متبرک ہے،لہٰذا نمازي حضرات يہاں نماز ادا کرکے زيادہ برکت حاصل کرنا چاہتے ہيں۔ دوسري جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ مسعي (وہ جگہ جو کوہ صفا اور مروہ کے درميان پڑتي ہے) کو جائے عبادت قرار دو، کيونکہ ايک موحد اور جانثار عورت کے مبارک قدم سات دفعہ اس زمين سے متمسک اور وابستہ رہے اس لئے حکم ہوتا ہے کہ زائرين سات مرتبہ ان دونوں پہاڑوں کي درميان رفت و آمد کريں،يہ کام اس کے علاوہ کچھ نہيں علت رکھتا کہ اس جگہ سے برکت کا حاصل کرنا ہے۔ ٢۔ حضرت يوسف کي قميص اور جناب يعقوب کي بينائي کا پلٹنا: حضرت يعقوب يوسف کے فراق ميں سالہا سال روتے رہے، يہاں تک ان کي بينائي ختم ہوگئي، تو خدا اب چاہتا ہے کہ ان کي بينائي کو واپس کرے، يوسف کي قميص کو جيسے ہي اپنے چہرے پر رکھتے ہيں تو ان کي بينائي پلٹ آتي ہے، چنانچہ ارشاد ہوا:
﴿اذْهَبُواْ بِقَمِيصِي هَذَا فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا﴾ (۱۰)۔
"ميري اس قميص کو ليجاوٴ اور اسے ان کي آنکھوں پر ڈال دو تاکہ ان کي بينائي آجائے۔" واضح رہے کہ جناب يوسف کي قميص کي بينائي ديگر قميصوں سے کوئي جدا نہيں تھي،يہ قميص بھي اسي شہر مصر کي روئي سے بني سلي ہوئي تھي، جس سے دوسري قميصيں سلي جاتي تھيں،ليکن خدا کي مشيت اس سے متعلق ہوئي کہ اپنے بندے پر فيض اس راستہ سے پہنچائے،لہٰذا يعقوب نے جيسے ہي اس قميص کو اپني آنکھوں پر ڈالا ان کي بينائي آگئي، چنانچہ قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:
﴿فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا﴾ (۱۱)۔
"جب خوشخبري دينے والا آيا اور ان کے چہرے پر اس قميص کو ڈالا تو ان کي بينائي آگئي۔" ۳۔ صندوق عہد يعني سکون و کاميابي کا وسيلہ: حضرت موسي(عليہ السلام)نے اپني عمر کے آخري حصہ ميں ان الواح کو جن پر خدا کے احکام لکھے ہوئے تھے اور اپني زرہ اور دوسري يادگار ايک صندوق ميں رکھ ديں اور اپنے وصي يوشع بن نون کے سپرد کرديا، اس لئے بني اسرائيل کي نظر ميں اس صندوق کي اہميت بہت زيادہ ہوگئي، چنانچہ جب ان کے دشمنوں کے درميان کوئي جنگ واقع ہوتي تو اس کو اپنے ساتھ حمل کرکے ليجاتے، اور اس طرح اپنے دشمنوں پر کاميابي حاصل کرتے، جب تک انہوں نے اپنے ديني تقدسات کو محفوظ رکھا يہ صندوق ان کے پاس رہا، اور وہ کامياب ہوتے رہے،اور ہر جگہ سر اٹھا کر زندگي کرتے رہے، ليکن جب ديني اعتبار سے يہ لوگ انحطاط ميں آئے تو دشمنوں نے ان کے اوپر غلبہ پاليا اور وہ صندوق بھي ان سے چھين ليا۔ ايک مدت کے بعد خدا کے حکم سے طالوت کو بني اسرائيل کے لشکر کا سردار بنايا گيا، اور ان کے موجودہ پيغمبر نے ان سے بتايا کہ اس کي سرداري خدا کي جانب سے ہے، اور اس کي نشاني يہ ہے کہ وہ صندوق جو تمہارے سکون اور کاميابي کي دليل تھا وہ جنگ کي صورت ميں تمہارے پاس آجائے گا:
﴿وَقَالَ لَهُمْ نِبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْکِهِ أَن يَأْتِيَکُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَکِينَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِي ذَلِکَ لآيَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (۱٢)۔
ترجمہ:"اور ان کے نبي نے ان سے (يہ بھي)کہا کہ اس (طالوت) کے (منجانب الله) بادشاہ ہونے کي ہونے کي يہ پہچان ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا، جس ميں تمہارے پروردگار کي طرف سے تسکين دہ چيزيں اور ان تبرکات ميں سے بچا کچھا ہوگا جو موسي اور ہارون کي اولاد يادگار چھوڑ گئي ہے،اور صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوں گے،اگر تم ايمان رکھتے ہو تو بيشک اس ميں تمہارے واسطے پوري نشاني ہے۔" قرآن کريم نے اس جگہ بني اسرائيل کي جانب سے صندوق کے ذريعہ برکت طلب کرنے کے واقعہ کو ايک نبي کي زباني نقل کيا ہے، اور اس کي عظمت کيلئے يہي کافي ہے کہ قرآن کريم نے اس صندوق کے اٹھانے والوں کو فرشتے بتايا ہے،لہٰذا اگر يہ کام اصول توحيد کے خلاف ہوتا تو ان کا نبي ان کے اس کام کو ايک خوش خبري کے طور پر نہ سناتا۔ ۴۔ اصحاب کہف کي جائے خواب سے برکت حاصل کرنا: اصحاب کہف کے مدفن کي خبر پانے کے بعد تمام توحيد پرست نمازيوں نے اس بات پر اتفاق نظر کيا ہے کہ ان کے سامنے مسجد بنائيں، اور ان کے اجساد کے کنارے عبادت کرکے برکت حاصل کريں، چنانچہ قرآن اس حقيقت کو اس طرح نقل کرتا ہے:
﴿قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا﴾ (۱۳)۔
ترجمہ: "ان کے بارے ميں جن (مومنين) کي رائے غالب رہي انہوں نے کہا کہ ہم تو ان (کي غار) پر ايک مسجد بنائيں گے۔" مفسرين کہتے ہيں کہ نمازيوں کي طرف سے اس جگہ مسجد بنانے کا مقصد اصحاب کہف کے جسموں سے برکت حاصل کرنا ہے۔ بہر کيف تبرک کے بارے ميں انہيں چند آيات کے بيان پر اکتفا کرتے ہيں، کيونکہ انہيں آيات ميں توجہ کرنے سے ايک علمي اور قرآني اصل کا پتہ چلتا ہے، وہ يہ کہ خدا کي مشيت اگرچہ اسي بات سے متعلق ہوتي ہے کہ وہ اپني مادي اور معنوي نعمتوں کو طبيعي اور عادي اسباب کے ذريعہ انسان تک پہنچائے، اور اس مسئلہ ميں مادي اور معنوي امور ميں فرق نہيں پايا جاتا ہے، مثلاً خدا لوگوں کي ہدايت ميں عادي اسباب سے استفادہ کرتا ہے، اور رسولوں کو ان کي ہدايت کيلئے بھيجتا ہے، ليکن اس کے باوجود کبھي خدا کي مشيت اس چيز سے متعلق ہوتي ہے کہ اس کا فيض غير طبيعي(عادي)راستوں سے بشر تک پہنچے،اور تبرک حاصل کرنے کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہيں کہ انسان غير طبيعي سبب کے ذريعہ فيض الٰہي کو طلب کرے۔ تبرک کا محرک: تبرک کي محرک اور باعث دو چيزيں ہيں: ۱۔ معنوي آثار اور فيوض الٰہي کي اميد، يہ دونوں چيزيں کبھي غير طبيعي راستہ سے انسانوں سے تک پہنچتي ہيں، جيسا کہ اس کي مثالوں کو ہم نے آپ کے سامنے بيان کيا۔ ٢۔ رسول اسلام(ص)، آپ کي آل اور سچے ناصرين سے محبت اور موٴدت کرنا ايک قرآني دستور ہے ليکن محبت اور موٴدت کے اظہار کيلئے ايک مظہر کا ہونا لازمي ہے، يعني وہ چيز جس کے ذريعہ انسان اپنے عشق و محبت کا اظہار کرتا ہے، ان حضرات کي حيات ميں ان کي محبت کي مظہر وہي چيزيں تھيں جن کو ان کے سچے چاہنے والے انجام ديتے تھے، ليکن ان حضرات کي موت واقع ہونے کے بعد ان سے اظہار محبت کيلئے ايسي چيزوں کو انجام دينا ضروري ہوگا جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ ہم ان سے محبت کرتے ہيں،اور يہ چيزيں ان حضرات کي محبت کا مظہر ہيں ،اور ان مظاہر محبت ميں سے سب سے اہم مظہر محبت يہ ہے کہ ان کي ولادت پر خوشي اور مسرت کا اظہار کرے، اور ايام وفات ميں غم و اندوہ کو ظاہر کرے، اور جب ان کے مقبروں ميں حاضر ہوئے تو ان کا بوسہ لے، گويا ان کي ضريح، درو ديوار کا چومنا يہ تمام چيزيں ان کي محبت اور موٴدت کا مظہر ہيں، کيونکہ انہيں امور کے انجام دينے سے اس بات کا اندازہ لگتا ہے کہ يہ شخص ان حضرات سے محبت کرتا ہے، اور يہ چيز مسلمين کے دلوں ميں قديم زمانہ سے ايک سنت کے طور پر چلي آرہي ہے،در حقيقت در و ديوار کا چومنا اور ضريح کا بوسہ دينا يہ اس تختہ اور در و ديوار سے عشق نہيں،بلکہ آنحضرت اور آپ کے سچے ناصرين سے عشق ہونے کا نتيجہ ہے،چونکہ ہاتھ معشوق تک نہيں پہنچ سکتے،تو وہ آثار جو اس کي طرف منسوب ہيں انہيں کے ذريعہ اپني عشق و محبت کا اظہار کرتے ہيں،بقول مجنون (عامري) کہ جب وہ کہتا ہے: امر علي الديار ديار ليلي اقبل ذا الجدار و ذا الجدارا "جب ميں (اپني معشوقہ) ليلي کي گلي سے گزرتا ہوں تو اس ديوار اس ديوار کے بوسے ليتا ہوں۔" وما حب الديار شغفن قلبي ولکن حب من سکن الديارا "ايسا نہيں ہے کہ معشوقہ کي گلي اور کوچہ نے ميرے دل کو فريفتہ اور مجنون کرديا ہو،بلکہ اس کے عشق نے ميرے دل کو پاگل بنا ديا ہے جو اس گلي ميں رہتي ہے۔" يہ زيارتي مقامات اگرچہ ظاہري طور پر پتھر، لکڑي، درو ديوار اور ضريح وغيرہ ہيں، ليکن ان سے محبت کا اظہار کرنا ہمارے اس باطني عشق و محبت کا پتہ ديتے ہيں جو ہم انبياء اور ائمہ اطہار سے رکھتے ہيں، ان پتھروں اور لکڑيوں نے ان ذوات کي طرف نسبت پانے سے قداست حاصل کرلي ہے، اور جب کسي کا دل کسي کي محبت کا گھر بن جائے تو اس محبوب کا نام و ياد، لباس، جوتے، کپڑے، گلي و کوچہ اور شہر وغيرہ سب اچھے محسوس ہونے لگتے ہيں، محبوب کي ان چيزوں سے انسان لذت حاصل کرتا ہے، گويا يہ تمام چيزيں رخِ محبوب کي تصوير کشي کيلئے ايک آئينہ بن جاتي ہيں۔ مسلمان رسول خدا(ص)سے اس قدر محبت رکھتے ہيں کہ اگر انہيں پتہ چل جائے کہ فلاں جگہ آنحضرت کے قدموں کي نشاني ہے،تو وہ بڑے شوق وولولہ سے اس کي زيارت کرنے جاتے ہيں۔ اس بارے ميں عصر رسالت کے مسلمانوں کي سيرت اس قدر وسيع ہے کہ ان کا نقل کرنا مقدور نہيں يعني دور رسالت کي مسلمانوں کے واقعات ہماري مذکورہ بحث سے متعلق اس قدر زيادہ ہيں کہ ان سب کا نقل کرنا مشکل ہے،ليکن اگر ہم تمام نقل نہيں کرسکتے تو کم از کم کچھ نقل کرسکتے ہيں بقول اس شعر کے: آب دريا را گر نتواں کشيد ھم بقدر تشنگي بايد چشيد "اگر دريا کا مکمل پاني نہيں لا سکتے، تو کم ازکم اپني تشنگي بجھانے کي مقدار بھر پاني تو لا ہي سکتے ہيں۔" لہٰذا چند واقعات اس کے نقل کرتے ہيں: ۱۔ اصحاب کے بچوں کي تالو برداري: حضرت رسالت مآب کے دور ميں جب بھي کوئي بچہ مدينہ ميں پيدا ہوتا تھا تو لوگ اس کو فورا ً رسول کے حضور ميں ليجاتے تھے، آنحضرت اس کے تالو کو خرما سے اٹھا ديتے تھے، اور اس کيلئے دعا کرتے، چنانچہ ابن حجر کہتے ہيں: "جو بچہ بھي ہجرت کے بعد مدينہ ميں پيدا ہوا ہے اس نے آنحضرت کو يقينا ديکھا ہے، کيونکہ رسول کے اصحاب کا طريقہٴکار تھا کہ جب ان کے يہاں بچہ پيدا ہوتا تو رسول سے اس کا تالو اٹھواتے، چنانچہ جناب عائشہ کہتي ہيں: بچے لائے جاتے تھے اور حضرت ان کو متبرک اور صاحب برکت قرار ديتے۔" عبد الرحمن بن عوف کہتے ہيں: "کوئي بچہ ايسا نہيں جو کسي کے يہاں پيدا ہوا ہو، اور وہ حضرت کي خدمت ميں نہ لايا گيا ہو، رسول اس کيلئے دعا کرتے"(۱۴)۔ جب عبد الله ابن عباس پيدا ہوئے تو رسول اور ان کے خاندان والے سب شعب ابي طالب ميں تھے، اس جگہ رسول نے ان کے تالو کو اپنے لعاب دہن سے اٹھايا۔ ٢۔ صحابہ کا آنحضرت کي نوازش سے برکت حاصل کرنا: يہ صرف بچے ہي نہيں تھے جو رسول سے تالو اٹھوانے کے ذريعہ متبرک قرار پاتے بلکہ بزرگ صحابہ ايسے تھے جو اس بات پر اصرار کرتے تھے کہ رسول اپنا دست نوازش ان پر پھير ديں اور اس طرح ان کو متبرک قرار دے ديں، زياد بن عبد الله ان لوگوں ميں سے ہيں جن کے بارے ميں رسول نے دعا کي، اور اپنے ہاتھوں کو ان کے سر پر رکھا اور ان کي ناک تک کھينچا، شاعر زياد کے بچہ (علي نام) کي مدح ميں شعر پڑھتا ہے: ابن الذي مسح النبي براٴسه ودعا له بالخير عند المسجد "کيا کہنا اس بچہ کا جس کے سر پر نبي نے دست شفقت پھيرا اور اس کے لئے دعائے خير کي مسجد کے پاس۔" ۳۔ رسول کے وضو اور غسل کے پاني سے صحابہ کا تبرک حاصل کرنا: حيات رسول خدا(ص)ميں جو امور رائج تھے ان ميں سے ايک کام يہ تھا کہ آپ کے وضو اور غسل کے پاني کو اصحاب بعنوان تبرک اخذ کرتے،اور کسي کو اجازت نہيں ديتے کہ ايک قطرہ پاني زمين پر گر جائے،اور اگر پاني زيادہ ہوتا تو اسے پي جاتے تھے،ورنہ اپنے چہروں پر مل ليتے تھے ۔ عروہ بن مسعود ثقفي جو کفار قريش کي جانب سے صلح حديبيہ ميں نمائندگي کر رہا تھا، جب اس نے اس منظر کو ديکھا تو سرداران قريش سے اس طرح کہنے لگا: "محمد کے اصحاب وضو کا باقيماندہ پاني لينے کے لئے آپس ميں ايک دوسرے پر سبقت کرتے ہيں اور نہ صرف يہ کہ وہ وضو کے پاني کے بارے ميں ايسا کرتے ہيں بلکہ حضرت کے ہر باقي ماندہ پاني اور کھانا يہاں تک کہ وہ پيالہ جس ميں آپ نے پاني نوش کيا ہو يا وہ کنواں جس سے پاني پيا،اسے بھي رسول کے صحابہ متبرک سمجھتے ہيں"(۱۵)۔ ۴۔ قبر پيغمبر سے تبرک حاصل کرنا: الف) ايک مرتبہ مروان بن حکم مسجد ميں داخل ہوا ديکھا کہ ايک مرد ہے جو رسول کي قبر پر اپنے چہرے کو رکھے ہوئے ہے،مروان نے اس کي گردن کو پکڑا اور اس کو پيچھے ڈھکيل ديا،اور اس سے کہا: تو جانتا ہے کہ کيا کر رہا ہے؟ جب اس شخص نے اپنا سر اٹھايا تو ديکھا وہ کوئي اور نہ تھا بلکہ رسول کا ميزبان اور بزرگ صحابي حضرت ابو ايوب انصاري تھا، وہ مروان کے جواب ميں اس طرح کہنے لگے: "ميں پتھروں کي طرف نہيں آيا ہوں، بلکہ ميں نے پيغمبر کا قصد کيا ہے، اے مروان! ميں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ جب دين کي قيادت صالح افراد کريں تو اس وقت گريہ نہ کرنا ليکن اس وقت گريہ کرنا جب نا اہل افراد دين کي رہبري کريں، يعني تو اور بني اميہ والے"۔ اس واقعہ کو تاريخ حاکم نيشاپوري سے نقل کيا ہے جسے انہوں نے"مستدرک الصحيحين" ميں نقل کيا ہے، اس سے اصحاب پيغمبر کے عمل کا پتہ چلتا ہے کہ وہ رسول کي قبر اطہر پر چہرے کو رکھ کر برکت حاصل کرتے ہيں، اور مروان بن حکم جيسے افراد (کہ جن کے دل ايمان سے خالي تھے) کي امر تبرک کے بارے ميں مخالفت کا پتہ چلتا ۔ ب) رسول اسلام کے دوسرے بزرگ صحابي حضرت بلال حبشي ہيں، جو رحلت رسالت مآب کے بعد مدينہ چھوڑ کر سرحدي علاقہ ميں گوشہ نشين ہوگئے، انہوں نے ايک شب رسول کو خواب ميں ديکھا،جو ان سے کہتے ہيں: اے بلال! آخر يہ جفا کب تک؟ بلال يہ سن کر بيدار ہوئے، اور رسول کي شکايت کے بارے ميں سوچنے لگے، خيال آيا کہ جب سے ميں نے مدينہ چھوڑا ہے قبر رسول کي زيارت کو نہيں گيا ہوں، لہٰذا دوسرے دن مدينہ کا رخ کيا، جب مدينہ پہنچے تو رسول کي قبر کے کنارے بيٹھ کر گريہ کرنے لگے، اور اپنے چہرے کو قبر سے ملنے لگے، اور جب امام حسن اور حسين کو ديکھا تو ان کو گلے سے چمٹا کر ان کے بوسے لئے، اور حسنين کي خواہش پر اس شب وہيں کھڑے ہوکر اذان دي جہاں ہميشہ کھڑے ہوکر اذان ديتے تھے(۱۶)۔ حضرت فاطمہ زہرا(ع) رسول کي وفات اور دفن کے بعد آپ کي قبر کي کنارے کھڑي ہوگئيں اور کچھ قبر کي خاک کو اپنے چہرے پر ڈالا، اور اشکبار ہوئيں اور کہنے لگيں: ماذا علي شم تربة احمدا ان لا يشم مدي الزمان غواليا صبت علي مصائب لو انھا صبت علي الايام صرن لياليا "کيا ہوگا اس شخص کا جو قبر احمد کي خاک کي خوشبو سونگھ رہا ہے اور جب تک زندہ رہے گراں قيمت مشک کي خوشبو نہ سونگھي ہو۔ ميرے اوپر ايسي ايسي مصيبتيں پڑي ہيں کہ اگر وہ روشن دنوں پر پڑتيں تو وہ رات کي طرح تاريک ہوجاتے۔" اب ہم ان ہي چند واقعات کو ان دسيوں واقعات ميں سے نقل کرنے پر بحث کو تمام کرتے ہيں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کے صحابہ آثار پيغمبر سے طلب برکت کرتے تھے،اور کتب احاديث و تواريخ کے تتبع اور تحقيق سے پتہ چلتا ہے کہ پيغمبر اور صالحين کي آثار سے تبرک حاصل کرنا تواتر کي حد تک پہنچا ہوا ہے ۔ نتيجہ بحث: صدر اسلام کے مسلمانوں کي تاريخ کي تحقيق سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ باقيماندہ آثار يا وہ چيزيں جو رسول کي جانب منسوب ہيں ان سے تبرک حاصل کرنا ايک اسلامي ثقافت تھي، اور اس کي محرک دو باتوں ميں سے ايک چيز ہے: ۱۔ آثار سے تبرک حاصل کرنا،اس اميد ميں کہ فيض الٰہي اس راستہ سے ان تک پہنچے،جيسے خدا کا فيض حضرت يعقوب (عليہ السلام) کو حضرت يوسف (عليہ السلام) کي قميص کے ذريعہ پہنچا ۔ ٢۔ صدر اسلام کے مسلمانوں کي رسول اسلام سے عشق و محبت سبب ہوتي تھي کہ جو چيز ان کي طرف منسوب ہے اس کو محترم اور بابرکت سمجھتے، لہٰذا آپ کے تمام آثار جيسے زرہ، تلوار، خود، جوتے، بال، ناخن اور وہ پيالے جس ميں رسول پاني پيتے تھے، يہاں تک کہ وہ کوزے اور کنويں جن سے آپ نے پاني پيا، ان تمام چيزوں کو بڑي احتياط سے محفوظ رکھتے، اور آپ کے عصا اور کپڑوں سے تبرک حاصل کرتے، يہاں تک آپ کي انگوٹھي خلفاء کے ہاتھوں دست بدست گشت کرتي رہي۔ آخري قابل توجہ نکتہ: امام احمد بن حنبل جو فرقۂ حنبلي کے پيشوا ہيں، اہل سنت ميں تقوي اور تقدس کے اعتبار سے کافي اہميت رکھتے ہيں،حسن اتفاق سے آپ آثار رسول اسلام سے تبرک حاصل کرنے کے بارے ميں کافي وسيع نظر رکھتے ہيں، چنانچہ يہاں پر ہم آپ کے چند اقوال نقل کرتے ہيں: ۱۔ احمد بن حنبل کے بيٹے عبد الله کہتے ہيں: ميں نے اپنے باپ سے پوچھا: ايک شخص رسول خدا (ص) کے منبر پر ہاتھ رکھتا ہے، اور وہ اس طريقہ سے تبرک حاصل کرتا ہے، اس کو چومتا ہے، اور ثواب کي اميد ميں يہي کام قبر رسول کے ساتھ انجام ديتا ہے، ميرے باپ نے جواب ميں کہا: کوئي حرج نہيں(۱۷)۔ ٢۔ احمد بن محمد مقري مالکي (متوفي ۱۰۴۱) اپني کتاب "فتح المتعال" ميں ولي الدين عراقي سے ايک واقعہ نقل کرتے ہيں: وہ کہتے ہيں کہ ميرے استاد ابو سعيدنے ايک قديم کتاب سے جس ميں ابن ناصر کي تحرير تھي اس ميں اس طرح موجود تھا: "ميں نے امام احمد بن حنبل سے پيغمبر(ص) کي قبر کا بوسہ لينا اور اس سے تبرک حاصل کرنے کے بارے ميں سوال کيا۔ انہوں نے کہا: کوئي ممانعت نہيں ہے۔" ابن ناصر کہتے ہيں کہ ميں نے اس نسخہ کو ابن تيميہ کو دکھايا، وہ احمد کے اس قول کو ديکھ کر تعجب ميں پڑ گيا، ميں نے اس سے کہا اس مسئلہ ميں تعجب کي کوئي بات نہيں، کيونکہ امام احمد وہ شخص ہيں جو امام شافعي کے کپڑے دھوتے تھے، اور جس پاني سے کپڑے دھوتے تھے اسے پيتے بھي تھے۔ امام شافعي کے لباس سے تبرک حاصل کرنے کے واقعہ کو ابن کثير نے اپني تاريخ ميں (۱۰/ ۳۶۵) ۲۴۱ ھ کے حوادث کے ذيل ميں نقل کيا ہے ۔ جب امام احمد بن حنبل کي معرفت علماء کے بارے ميں اس قدر تھي تو لازمي طور پر جو ان سے افضل ہوں گے بالخصوص انبياء وصالحين کے بارے ميں کہيں زيادہ معرفت اور عقيدت و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوں گے(۱۸)،(۱۹)۔
********************
منابع اور مآخذ:
۱) سورہ عنکبوت،آيت ۶۱۔
٢) سورہ بقرہ،آيت ۲۲۔
۳) مثنوي: دفتر دوم، ص ۱۳۳، مطبوعہ علمي پريس ۔
۴) ديوان پروين اعتصامي: قطعہ ۱۸۲، تحت عنوان لطف حق ۔
۵) مثنوي: دفتر اول ص، ۱۴، مطبوعہ علمي پريس ۔
۶) پروين اعتصامي، ص ۲۳۷، قطعہ ۱۸۲۔
۷) سورہ آل عمران،آيت ۳۷۔
۸) سورہ مريم،آيت ۲۵۔
۹) سورہ بقرہ،آيت ۱۲۵۔
۱۰) سورہ يوسف،آيت ۹۳ ۔
۱۱) سورہ يوسف،آيت ۹۶ ۔
۱٢) سورہ بقرہ،آيت ۲۴۸۔
۱۳) سورہ کہف،آيت ۲۱۔
۱۴) اصابہ ج ۱، ص ۵، استيعاب (اصابہ کي حاشيہ ميں) ج ۳، ص ۶۳۱۔
۱۵) کنز العمال ج ۱۶،ص ۲۴۹۔ سيرہ دحلان،ج ۲،ص ۲۴۶۔ صحيح مسلم ج ۴،ص۱۹۴۳ باب فضائل ابي موسي ۔
۱۶) تاريخ ابن عساکر، دبيان حالات ابراہيم بن محمد: ۷ / ۱۳۷ نمبر ۴۹۳۔
۱۷) اقتصاد الصراط المستقيم، موٴلفہ ابن تيميہ ۔
۱۸) فتح المجيد، ص ۳۲۹۔ ۱۹) وہابيت، مباني فکري و کارنامہ عملي؛ جعفر سبحاني تبريزي، صص ۳۲۴،۳۴۱۔
امام جعفر صادق علیہ السّلام اور سیاست
امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں بنی امیہ اور بنی عباس اقتدار کی جنگ میں مصروف تھے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ اور آپ کے والد بزرگوار حضرت امام باقرعلیہ السلام نے اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا شروع کیا اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ دونوں نے اس زمانے میں پہلی اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
اس یونیورسٹی کا مقصد خالص اسلام کی ترویج تھا اس کے ساتھ ساتھ امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانے کے خلیفہ کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ حکومت اور معاشرے کی رہبری ہمارا حق ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے منصور دوانیقی کے زمانے میں جب کہ بنی عباس اپنی حکومت قائم کر چکے تھے لیکن حکومت کو مضبوط کر نے کے لئے ہر مخالف کو تہہ تیغ کر رہے تھے۔ حضرت نے اس وقت بھی اپنے اقوال کے ذریعے سے خلیفہ تک یہ بات پہنچائی کہ حکومت اور معاشرے کی قیادت ہمارا حق ہے اس کے ساتھ ساتھ امام جعفر صادق- نے ان شیعان حید ر کرار کو جو ظلم و ستم کی وجہ سے یا پھر نادانی کی وجہ سے یہ سمجھنے لگے تھے کہ حکومت کوئی الگ چیز ہے اور دین ایک دوسری چیز، ان کے لئے بھی یہ بات واضح کر دی کہ حکومت حق ولایت ہے اور ولایت فقط ہمارے لئے ہے مثال کے طور پر امام- نے ایک دفعہ فرمایا کہ:
اسلام پانچ چیزوں پر قائم ہے نماز، زکوة ، حج، روزہ، اور ولایت۔
زرارہ نے امام علیہ السلام سے سوال کیا ان میں سے برتر کون سی چیز ہے؟
امام نے بلا جھجھک فرمایا:
"ولایت بر تر ہے کیونکہ ولایت تمام چیزوں کی چابی ہے اور حاکم، لوگوں کو ان کی طرف راہنمائی کرتا ہے"
(وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ ۸۰۷)
اس وضاحت کے ساتھ امام نے ان افراد کو جو کہ یہ سوچتے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں یہ ثابت کر دیا کہ دین کا اجراء اور اس کا کمال حکومت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، حکومت ہی ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دین کا اجراء کماحقہ کر ے حکومت ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ قدرت عطا کرتی ہے کہ وہ دین کے خلاف ہو نے والی ہر سازش کو ختم کر دے اس لئے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہر ظالم و فاسق شخص خلافت کے عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا متقی اور پر ہیز گار ہو نا ضروری ہے۔
اسی زمانے میں جب کچھ علماء نے بنی عباس کی حکومت کو اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے صحیح ثابت کر نے کی کوشش کی اور لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ یہ حکومت صحیح ہے تو امام جعفر صادق- نے اس کے خلاف بھی اپنا جہاد شروع کیا اور اپنے اقوال کے ذریعے سے ایسے علماء کی مذمت کی جو ظالم اور جابر حکمرانوں کے دربار میں زندہ لاشوں کے عنوان سے جاتے تھے امام جعفر صادق- نے فرمایا:
فقہاء انبیاء کے نمائندہ ہیں اور جب بھی یہ فقہاء سلاطین کے دربار کے چکر لگا نا شروع کر دیں تو ان کو متہم کر و (یعنی اس کے صحیح عالم ہونے کے بارے میں شک کرو۔)(کشف الغمہ جلد ۲ صفحہ۱۸۲)
کبھی امام- نے اپنے درسوں میں یا اپنی تقریروں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ حدیث نقل کر نی شروع کر دی کہ:
"فقہاء اس وقت تک انبیاء کے نمائندہ ہیں جب تک دنیا ان پر حاوی نہ ہو جائے۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دنیا کب حاوی ہو گی تو فرمایا ظالم سلطان کی اطاعت کے وقت اور جب بھی تم ایسا دیکھو تو اپنے دین کو ان سے جداکر لو" (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۲)
ایک دفعہ امام صادق- بازار سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ عذافر دوکان پر کھڑے کچھ خرید رہے ہیں امام(ع) نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا عذافر سنا ہے کہ ابو ایوب اور ربیع (خلیفہ کے دو وزیر) کے لئے کام کررہے ہو یاد رکھو قیامت کے دن تمہارا حال ان دو جیسا ہو گا سوچو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم کو ظالم کی مدد کر نے والے کے نام سے آواز دے کر بلایا جائے گا یہ سنتے ہی عذافر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
امام- نے پھر فرمایا کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا فقط اسی چیز سے ڈرا رہا ہوں جس سے خداوند نے مجھ کو ڈرایا ہے۔
یہ کہنے کے بعد امام- آگے چل دئیے عذافر اس قدر متاثر ہوئے کہ کہتے ہیں کہ آخر عمر تک غمگین و افسردہ رہے۔ (وسائل الشعیہ جلد ۱۲صفحہ ۱۲۸)
امام نے سربازار اپنے ماننے والے کی مذمت کر نے کے لئے اور ان کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے یہ بات کہی یقینا امام- یہ بھی چاہتے ہوں گے کہ جو افراد اطراف میں کھڑے ہوئے ہیں وہ بھی یہ بات سن لیں کہ ظالم کی مدد کر نا ایسا ہی ہے جیسا کہ خود ظلم کر نا۔
ایک اور موقعہ پر امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"جو کوئی یہ چاہے کہ ظالمین باقی رہیں وہ ایسے ہے کہ جیسے وہ چاہتا ہو کہ خدا کی معصیت اور نافرمانی ہو تی رہے۔
(وسائل شعیہ جلد ۲صفحہ۱۳۰)
ان اقوال کے ذریعے سے امام- لوگوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے شیعہ یا ہمارے ماننے والے ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے کہ ہم ان ظالموں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو ایسا نہیں ہے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں نہیں بلکہ ہمارا جہاد ظالموں سے جاری ہے اور وہ زبان کے ذریعے سے ہے جس کو ختم کر نے کا فقط ایک ہی طریقہ ہے کہ ہماری زبانوں کو کاٹ دیا جائے۔
امام صادق علیہ السلام ہی کے زمانے میں بنی عباس کی حکومت کے قیام کے بعد لوگوں میں یہ باتیں کی گئیں کہ اگر یہ حکومتیں صحیح نہیں ہیں تو کم از کم ان کے ساتھ مل کر لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام تو کیا جا سکتا ہے ۔ بہت سے سادہ لوح افراد اس دھوکہ میں آگئے اور حکومت کا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔ امام نے حکومت کی اس حکمت عملی کو بھی فقط اپنے اقوال کے ذریعے سے شکست دی امام- نے ایک موقعہ پر ایک چھوٹا سا جملہ ارشاد فرمایا کہ
"حتیٰ مسجد کی تعمیر میں بھی ظالموں کی مدد نہ کرو"۔
(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ۱۳۴)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے معاشرے میں پھیلے ہوئے ان افراد کی بھی مذمت کی جو دولت کے لالچ میں جانتے ہوئے بھی کہ یہ حکمران غاصب اور ظالم ہیں ان کی مدح و سرا میں مشغول تھے۔
امام گرامی قدر فرماتے ہیں کہ:
"اگر کوئی ظالم حکمرانوں کی مدح کر ے اور اس کی دولت کے لالچ میں عزت کر ے تو وہ شخص اسی ظالم کا پڑوسی ہوگا آخرت میں"۔
(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۳)
لمحہ فکر یہ ہے ہم لوگوں کے لئے کہ آج ہم اگر کسی ایسے شخص کی مدح کریں کہ جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ ظالم ہے لیکن کیونکہ وہ ہمارے ذاتی حقوق ہم کو دلادے گا یا پھر ہم کو کسی اچھی جگہ نوکری دلوا سکتا ہے اور ہم اس ظالم شخص کی مدح شروع کر دیں تو یاد رکھئے کہ ہماری جگہ بھی دوزخ میں ہو گی۔
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ آئمہ(علیہم السلام) بار بار لوگوں تک یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ حکومت اور ولایت ہمارا حق ہے اور ہم ہی اس منصب کے اہل ہیں۔ اسی ضمن میں امام- کی بھی سیاسی حکمت عملی کا تقاضہ یہی تھا کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ اول اسلام سے لے کر انتہا تک جتنے بھی خلیفہ آئیں گے اگر وہ ہمارے علاوہ کوئی ہو تو غاصب ہے۔ ان نظریات کا اظہار ایسا تھا جیسے شیر کے منہ سے شکار چھین لینا امام- نے حالات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے بیانات اس طرح سے دیئے کہ افراد تک یہ بات پہنچ گئی اور وہ اس طرح سے ہوا کہ اس زمانے میں لوگ بنی امیہ یا بنی عباس کے خلفاء کو امیرا لمومنین کہہ کر پکارتے تھے ایک شیعہ نے آپ سے سوال کیا کہ کیا امام قائم (عج) کے ظہور کے بعد ان کو امیر المومنین کہہ کر سلام کر سکیں گے؟
امام- نے اس سوال کے جواب میں ایک پورا نظریہ دیااور فرمایا:
"یہ نام مخصوص ہے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب- سے ان سے پہلے نہ کسی کو اس نام سے پکارا گیا اور نہ ان کے بعد کسی کو اس نام سے پکارا جائے گا مگر کافر"۔
(اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۱۳)
امام- نے کمال صراحت سے یہ بات لوگوں تک پہنچاد ی کہ جو بھی اپنے آپ کو امیرالمومنین کہلوائے وہ کافر ہے۔
اپنے آخر ی دور میں بھی امام- نے سیاسی نزاکتوں کو سمجھااور اس کے توڑکے مطابق عمل کیا۔ منصور دوانیقی نے آپ- کو بے انتہا پریشانیوں میں مبتلا کیا اور کئی مرتبہ آپ- کو قتل کر نے کی دھمکی دی آپ- نے منصور دواینقی کی ان ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وصی کی جان بچانے کے لئے ایک اور سیاسی حربہ استعمال کیا ۔
امام صادق- نے اپنی وصیت میں اپنے پانچ وصی مقرر کئے۔
۱۔ ابو جعفر منصور دوانیقی خلیفہ وقت
۲۔ محمد بن سلیمان (مدینہ کا گورنر )
۳۔ عبداللہ افطح (آپ- کے فرزند)
۴۔ موسیٰ بن جعفر(آپ-کے فرزند)
۵۔ حمیدہ (آپ کی زوجہ محترمہ)
البتہ یہ وصیت جیسا کہ پہلے عرض کیا سیاسی تھی کیونکہ امام صادق کے وصی اور جانشین امام موسیٰ کاظم تھے۔
جب امام کے انتقال کی خبر منصور کو ملی تو اس نے اپنے ایک وزیر کو بلایا اور کہا کہ والی مدینہ کے نام خط لکھو۔
"یہ خط والی مدینہ محمد بن سلیمان کے لئے خلیفہ وقت منصور کی طرف سے ہے اگر جعفر بن محمد نے کسی خاص شخص کو اپنا وصی بنایا ہو تو اس کو اپنے پاس بلاؤ اور اس کا سر تن سے جدوا کر دو"۔
یہ خط والی مدینہ کے پاس پہنچا تو اس کا جواب کچھ یوں آیا کہ جعفر بن محمد نے پانچ افراد کو اپنا وصی بنایا ہے۔
۔ منصور دوانیقی1
۲۔ محمد بن سلیمان
۳۔ عبداللہ افطح
۴۔ موسیٰ بن جعفر
۵۔ حمیدہ۔ (اصول کافی جلد ۱ صفحہ۳۱۰)
جب منصور کو یہ خط ملا تو اس نے کہا کہ
"میرے پاس ان افراد کو قتل کر نے کا کوئی راستہ نہیں "۔
(اعلام الوری صفحہ ۱۹۰)
اس کے علاوہ امام نے ایک اور وصیت بھی کی کہ میری وفات کے سات سال بعد تک حج کے ایام میں عزاداری امام حسین کی جائے اور اس عزاداری کے لئے آپ نے اپنے مال کا کچھ حصہ مقرر فرمایا۔
یہ وصیت بھی سیاسی تھی کیونکہ ان مجالس کے ذریعے سے دوسرے افراد امام کی مظلومیت سے با خبر ہوتے اور ان کو پتہ چلتا کہ کس طرح امام پر ظلم ہوئے ہیں اور جب اس کے ذریعے ان کے دل اماموں کی طرف مائل ہوتے اور وہ آئمہ کی زندگی کے بارے میں جستجو کر تے جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ لوگ باطل حکومت سے دوری اختیار کرتے اور صالح افراد لوگوں کے امور کو سنبھالتے۔
ماخوز از کتاب أئمّہ اور سياست مؤلّف : سيد افتخار عابد نقوي
ائمہ معصومین(ع) کی علم کو کتابت کے ذریعے محفوظ رکھنے پر تاکید
حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے ایک تحریر میں معصومین علیھم السلام کے کلام میں کتابت اور نگارش کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، الہی علوم کی کتابت اور تحقیق کے کلی اصول بیان کیے۔
لکھنا پیغمبر کی نظر میں
پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: علم کو لکھ کر محفوظ کرو اور اس کو نابود ہونے سے بچاو «قيّدوا العِلمَ»، قيل: و ما تقييدُهُ؟ قال(صلّي الله عليه وآله وسلّم): «كتابَتُه». (۱)
انصار کا ایک شخص پیغمبر اکرم (ص) کی بزم میں تعجب خیز باتیں سنتا تھا مگر وہ ان کو یاد نہیں رکھ پاتا تھا ؛ اس نے حضرت سے شکایت کی۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو؛ یعنی لکھو: «إنّ رجُلاً مِنَ الانصارِ كان يَجلسُ إلي النبي(صلّي الله عليه وآله وسلّم) فيسمع منهُ الحديث فيُعجبهُ و لايحفظهُ فشكا ذلك إلي النبي(صلّي الله عليه وآله وسلّم) فقال له رسول الله(صلّي الله عليه وآله وسلّم): استعنْ بيمينك و اَومأ بيدهِ أي خُطّ». (۲)
امام حسن (ع) کی اپنے فرزندوں کو وصیت
حضرت امام حسن مجتبی (ع) سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے فرزندوں اور بھتیجوں کو بلوایا اور ان سے فرمایا: تم قوم کے بچے ہو اور امید ہے کہ آیندہ کے بزرگ بنو گے علم حاصل کرو اور اگر کوئی یاد کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو وہ اس کو لکھے اور اس کو محفوظ کر لے: «اِنّه دعا بنيه و بني أخيه فقال: أنّكم صِغارُ قومٍ و يُوشكَ أن تكُونوا كبارَ قومٍ آخرين فتعلّموا العلمَ فمن يستطيعُ منكم اَن يحفظهُ فليكتبه و ليضعه في بيته». (۳)
ایک صفحہ لکھنے کی فضیلت
رسول اکرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ اگر کسی با ایمان انسان کا ایک ورق علمی سرمایہ ہو تو وہ ورق اس کے اور دوزخ کی آگ کے درمیان حجاب بن جائے گا : «المُؤمنُ إذا ماتَ و تركَ ورقةً واحدةً عليها علمٌ تكونُتلك الورقةُ يوم القيامة ستراً فيما بينه و بين النار... ». ۔۔۔۔۔۔۔۔(۴)جب ایک عالم کا ترکہ امام حسن عسکری (ع) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آنحضرت نے فرمایا :خداوند سبحان اس کے ہر حرف کے بدلے میں قیامت کے دن ایک نور اس کے لکھنے والے کو عطا فرمائے گا: عرضتُ علي أبي محمّد صاحب العسكری(عليهالسلام) كتاب يومٍ و ليلةٍ ليونس، فقال لي: «تصنيفُ مَن هذا؟» فقلتُ تصنيفُ يونس مولي آل يقطين، فقال: «اعطاه الله بكلّ حرفٍ نوراً يوم القيامة». (۵)
آئمہ (ع)کی اپنے شاگردوں کو تاکید
کبھی آئمہ معصومین علیھم السلام اپنے شاگردوں کو کتابت اور قلمی آثار نشر کرنے کی ترغیب دلاتے تھے کہ وہ ان کی علمی یاد گار رہے جیسا کہ چھٹے امام (ع) نے مفضل کو حکم دیا کہ لکھو اور اپنے علم کو اپنے بھائیوں کے درمیان پھیلاواور جب مر جاو تو اپنے فرزندوں کو اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابیں میراث کے طور پر دے کر جاو اس لیے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی تحریر کے سوا کسی اور چیز سے مانوس نہیں ہوں گے؛ «اُكتُبْ وبُثّ علمك في إخوانكَ فإنْ متّ فورث كُتبك بنيك فأنّه يأتي علي الناس زمان هرجٍ ما يأنسونَ فيه إلاّ بِكتبهم». (۶)
صرف لکھنا نہ ہو بلکہ مکتوب کے اندر عمیق میٹر ہو اس کے لیے دینی پیشواوں کی تربیتی روش یہ تھی کہ ان کے شاگرد خطا اور خواہشات سے خالی باتوں کو لکھیں اور جس حال میں بھی ان سے کوئی بات سنی جائے اس کو لکھ لیں چونکہ وہ ہر حال میں حق کہتے ہیں اور زمانے کے حوادث ان کو حق سے ہر گز منحرف نہیں کر سکتے اور باطل کی طرف نہیں موڑ سکتے ۔
ایک شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا: میں جو کچھ بھی آپ سے سنوں اس کو لکھ لوں؟ فرمایا؛ ہاں ۔ پوچھا: چاہے آپ کی خوشی کی حالت میں یا غصے کی حالت میں ؟فرمایا: ہاں ، اس لیے کہ ہم ان تمام حالات میں حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ؛ قُلت يارسول الله! أكتُبُ كُلّما اسمعُ منكَ؟ قال: «نعم». قُلت: في الرضا و الغضب؟ قال: «نَعَم، فإنّي لا أقُولُ في ذلك كلّه إلاّ الحقّ». (۷)
اور تحریر کے زیادہ پائیدار ہونے کی خاطر رہبران الہی کا حکم یہ تھا کہ حساس مطالب کو کھال پر لکھو تا کہ وہ زیادہ پائیدار رہیں نہ کہ کاغذ کے اوپر کہ وہ دیر پا نہیں ہوتا ۔
ایک شخص امام رضاء علیہ السلام کی خدمت میں پہونچا اور ایک کتاب یا کاغذ کہ جس پر امام صادق علیہ السلام کی حدیث لکھی ہوئی تھی آپ کی خدمت میں پیش کیا ؛ اس حدیث کا مضمون یہ تھا کہ ولایت الہی کے مقام پر فائز انسان کے سامنے دنیا ایک اخروٹ کی مانند ہے کہ جو ہر چیز پر اطلاع کے لحاظ سے بھی اور ہر چیز پر اقتدار کے اعتبارسے بھی اس کے اختیار میں ہے ، حضرت امام رضاء علیہ السلام نے فرمایا؛ خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس حدیث کو کاغذ سے کھال پر منتقل کرو کہ پائیدار ہو جائے : دخلتُ علي الرضا(عليهالسلام) و معي صحيفةٌ أو قرطاسُ فيه عن جعفر(عليهالسلام): «إنّ الدنيا مُثّلت لصاحبِ هذا الأمر في مثلِ فَلْقَةِ الجوزة. فقال: يا حمزة! ذا والله حقٌّ فانقلوهُ الي أديم». (۸)
سونے کے پانی سے لکھو
تحریر کے دوام کے ساتھ خوبصورتی کے ہنر سے بھی بہرہ مند ہونے کے لیے اولیائے الہی کا دستور یہ تھا کہ عمیق علوم خاص کر وہ کہ جو مسئلہ ولایت اور اہل بیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی امامت کے بارے میں ہوں ان کو سونے کے پانی سے لکھو : قال الصادق(عليهالسلام): «نفسُ المهموم لظلمنا تسبيحُ و همّه لنا عبادة و كتمان سرّنا جهادٌ في سبيل الله»، ثم قال ابوعبدالله(عليهالسلام): «يجبُ أن يكتبَ هذا الحديث بماء الذهب». (۹)
جس وقت چھٹے امام علیہ السلام کے سامنے امیر المومنین علیہ السلام کا نام لیا گیا ، آنحضرت نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے مزار کی شناخت اور معرفت رکھتے ہوئے زیارت کی فضیلت بیان کی اور اس کے بعد راوی سے فرمایا : «... اكتب هذا الحديث بماء الذهب»؛ (۱۰) اس حدیث کو سونے کے پانی سے لکھو۔
پیغمبر (ص)کی نظر میں اصول تحریر
اور اس لیے کہ کتابت ہنر کی زیبائی اور تحریر کے سلیقے سے بہرہ مند ہو تا کہ وہ اہل مطالعہ کو اپنی طرف پڑھنے کے لیے جذب کرے، پیغمبر اکرم (ص) کا اپنے بعض منشیوں کو یہ حکم تھا کہ روشنائی میں کچھ لیقہ ملا لیں اس لیے کہ لیقہ کے ہوتے ہوئے تحریر کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے اور قلم گندہ نہیں ہوتا اور حروف کو برابر ایک الگ نظم کے تحت کہ جیسا حضرت فرماتے تھے لکھا جائے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قلم منشی کے پاس رہے اور کھو نہ جائے اور گردو غبار سے محفوظ رہے حضرت نے یہ حکم دیا کہ قلم کو کان کے پیچھے رکھو چنانچہ آج بھی ارباب ہنر اور ہاتھ سے کام کرنے والے ایسا ہی کرتے ہیں : قال(صلّي الله عليه وآله وسلّم)لبعض كُتّابه: «القِ الدّواةَ و حَرّف القَلَم... وَ ضَعْ قلمكَ علي اُذُنكَ اليُسري، فإنّه اذكر لك». (۱۱)
حوالے
(۱)۔بحار الانوار۔۔۔ ج ۲ ص ۱۵۱
(۲)۔وہی۔ص۱۵۲
(۳)۔وہی
(۴)۔وسائل الشیعہ ج ۲۷ ص ۹۵
(۵)۔وسائل الشیعہ ج۲۷ ص۱۰۲
(۶)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۵۰
(۷)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۴۷
(۸)وہی ص۱۴۵
(۹)۔بحار الانوار ج۲ ص۱۴۷
(۱۰)۔وسائل الشیعہ ج۲۷ ص۸۲
(۱۱)۔بحار الانوار ج۸۹ ص۳۴
عقل کے مقابلے میں جہالت، معاشرے کی سب سے بڑی مصیبت ہے
حضرت فاطمہ زہرا(ع) کے وجود مبارک سے بہت سی دعائیں نقل ہوئی ہیں جنھیں صحیفۂ فاطمیہ کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔
کے وجود مبارک سے یہ فقرے ملتے ہیں:"اللہم انی اسئلک الہدی و التقی و العفاف و الغنی و العمل بما تحب و ترضی" پروردگارا ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور بے نیازی طلب کرتی ہوں اور جس چیز کو تو پسند کرتا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق چاہتی ہوں۔
آیۃ اللہ جوادی آملي نے بی بی سے منسوب، دعا کی مختصر سی شرح بیان کرتے ہوۓ فرمایا: صحیفۂ فاطمیہ میں حضرت فاطمہ زہرا
خداۓ سبحان نے ابتدائی ہدایت ہر انسان کو عطا کی ہے، کیونکہ سورہ مبارکہ بقرہ میں ارشاد ہورہا ہے:" شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ" لیکن جس ہدایت کا تقاضا خداوند سے حضرت فاطمہ زہرا(ع) کر رہی ہیں، وہ ہدایت جزائی اور انعامی ہے یعنی خدایا ! تو ہمیں خاص جذبہ اورتوفیق مرحمت فرما تاکہ ہم تیری ارشادات سے عملی اور علمی طور پر استفادہ کرسکیں اور ہمیں تقوی نصیب کر تاکہ کسی مشکل سے دوچار نہ ہوں۔
مختلف دینی و دنیاوی کتابوں میں اس معرفتی راستے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ " من فقد حسا، فقد فقد علما" یعنی اگر کوئی شخص کسی ایک قوت حسّی کھو بیٹھے تو وہ اس راہ سے حاصل ہونے والے تمام علوم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ لیکن دین اس بات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ، باب معرفت میں ایک دوسری نکتہ بھی بیان کرتا ہے کہ "من فقد تقوی فقد فقد علما" اگر کسی سے تقوی کا کوئی خاص پہلو چھوٹ گیا تو وہ اس راستے سے حاصل ہونے والے تمام معارف اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گے کیونکہ تقوی ایک باطنی حس کا نام ہے اور اس کی وساطت سے انسان بہت سی اشیاء کا ادراک کرتا ہے۔
ہمارے دینی معارف میں اگر آیا ہے " ان تتق اللہ یجعل لکم فرقانا" یا اس سے بڑھ کر فرمایا: " اتقوا اللہ و یعلمکم اللہ" تو اس کا مطلب ہے کہ تقوی، طہارت روح اور آئینہ دل کی گرد صاف کرنے کا ذریعہ ہے اور اگر ہم نے اس آئینہ سے گرد صاف کر دی تو کائنات کے بہت سے اسرار و رموز اس پہ تاباں ہوں گے اور انسان عالم وآگاہ ہو جائیگا۔
اگر کوئی با تقوی ہوگا، تواپنے کسی بھی ذمہ دارانہ کام میں کبھی بھی مشکل سے دچار نہ ہوگا۔
معاشرے کی مشکلات کی ایک وجہ، عفت و پاکدامنی کا فقدان ہے، اسی لئے بی بی حضرت فاطمہ زہرا(ع) خدا سے عفت و پاکدامنی کی دعا کر رہی ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا(ع) سے منقول دعا میں لفظ " بے نیازی" کی تشریح کرتے ہوۓ بے نیازی دو طرح کی ہوتی ہے؛ ایک وقت انسان کسی بھی چیز کی کثرت اور بہتات کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے، اس طرح کی بے نیازی محض خیالی ہے اور ایک وقت انسان کوثر کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے کہ یہ واقعا بے نیازی ہے۔ آپ نے بتایا کہ بے نیازی کا مطلب، تونگری اورکثرت مال نہیں ہے۔ اور پھر اسی کےمتعلق امیر المؤمین (ع) کی روایت کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: انسان دو طرح سے بے نیاز ہوتا ہے؛ کبھی مال سے بے نیاز ہوتا ہے اور کبھی مال کے ذریعے۔ اگر وہ تونگری کے لئے اس لئےکوشش کرے کہ وہ مال سے بے نیاز ہو سکے تو بہت سے مقامات تک پہنچ سکتا ہے لیکن اگر بے نیازی کے لئے مال کا سہارا لے تو وہ فراواں مشکلات سے دوچار ہوجائیگا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکثر علماء کا تعلق پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں سے ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ مال و دولت سے بے نیاز ہونا، خدا والوں کا شیوہ ہے کیونکہ مال جہاں بہت بڑی نعمت ہے وہاں بہت بڑی مصیبت بھی ہے اور جو کوئی بھی کسی رفیع مقام تک پہنچا ہے وہ سادہ زیستی اور قناعت کی وجہ سے پہنچا ہے۔
حضرت علی(ع) کا ارشاد گرامی ہے: مال سے بے نیاز ہونا اس سے بہتر ہے کہ مال کے ذریعے بے نیاز ہوا جاۓ" قرآن کریم کے مفسر کبیر نے حضرت فاطمہ زہرا(ع)سے منقول دعا کی شرح کرتے ہوۓ بی بی کے اس جملے کو نقل کیا:" اللہم انی اسئلک من قوتک لضعفنا، و من غناک لفقرنا وفاقتنا، و من حلمک و علمک لجھلنا"۔ خدایا ! ہمیں اتنی قدرت عطا فرما کہ ہم اپنے ضعف کو تیری قدرت، اپنے فقر و فاقے اور اپنی نیازمندی کو تیری بے نیازی، اور اپنے جہل کو تیرے حلم و علم سے برطرف کر سکیں۔
موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ علم کے مقابلے میں جہالت چندان مشکل ساز نہیں ہے لیکن عقل کے مقابلے میں جہالت، معاشرے کی سب سے بڑی مصیبت ہے کہ جسے اخلاق کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔
" اللھم صل علی محمد و آل محمد، و اعنّا علی شکرک و ذکرک، و طاعتک و عبادتک، برحمتک یا أرحم الراحمین"
نہج البلاغہ سے امیر المؤمین(ع) کے مکتوب نمبر۲۴ کی مختصر سی شرح
امیر المؤمین(ع)کا یہ خط در حقیقت وقف نامہ ہے جس میں آپ نے اپنے اموال کے متعلق وصیت کی تھی۔
ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ اس زمانے میں بعض صحابہ کے پاس بالکل مال نہیں تھا لیکن امیر المؤمین(ع)کے پاس بہت سی دولت تھی۔ توجواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ آنحضرت(ع) نے ۲۵ سال کی خانہ نشینی میں زراعت اور کسب رزق و معاش میں بہت محنت کی تھی جبکہ بالمقابل بعض صحابہ کسب معاش سے بے بہرہ تھے، ان افراد کی بے بضاعتی اور ناداری کی وجہ، خود ان کی سستی اور کاہلی ہے۔
امیر المؤمین(ع) نے اس وصیت میں فرمایا: میرا بڑا بیٹا حسن اس وقف نامے کا متولی ہے اور اگر خود اسے ضرورت ہو تو وہ ان اموال سے دیگر نیازمندوں کی طرح استفادہ کر سکتا ہے۔ اگر وہ رحلت کر جاۓ اور حسین زندہ رہے تو وہ اس وقف نامے کا نگران کار ہے اور میری وصیت پر اپنے بھائی کی طرح عمل کرے۔ فاطمہ(ع) کے بچے میرے دوسرے بچوں کی طرح اس صدقے میں حصے دار ہیں۔ اگر میں نے فاطمہ(ع) کے بچوںکو متولی بنایاہے تو وہ صرف خدا کی خشنودی اور رسولخدا(ص) کے تقرب کے لئے ہے۔
امیر المؤمین (ع) نے اپنے اموال کی حفاظت کےبارے میں فرمایا: اصل مال کو اسی طرح رہنے دیا جاۓ اور اس کے منافع سے استفادہ کیا جاۓ اور جب تک پورا باغ درختوں سے پر نہ ہو جاۓ اور درخت سرسبز اور ثمرآور نہ ہو جائیں، پودوں کو بیچنے سے گریز کیا جاۓ۔
خود شناسی ، خدا شناسی کا مقدمہ
بہت سے لوگ فطرت کی رعنائیوں سے آشنائی کے لئے کوہ پیمائی اور مسافرت میں پر جاتے ہیں اور کبھی خود کو بہت زیادہ زحمت میں ڈالتے ہیں ۔ لیکن ان گردشوں اور سیرو سیاحت سے زيادہ اہم ، اپنے باطن کی سیر اور اپنے وجود کے اسرار و رموز سے آشنا ہونا ہے کہ جسے دنیا کے رازوں سے آشنائي کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ چنانچہ خدا وند عالم سورۂ ذاریات کی آيات 20 اور 21 ارشاد فرماتا ہے ۔ اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں پائي جاتی ہیں ۔ اورخود تمہارے اندر بھی ، کیا تم نہيں دیکھ رہے ہو ؟ اس بناء پر دنیا کی معرفت کےساتھ ہی ایک اہم ترین معرفت ، اپنی معرفت ، یا وہی خود شناسی ہے ۔
خودشناسی ، خداشناسی کامقدمہ ہے ۔ جیسا کہ حضرت امام علی (ع) فرماتے ہیں "حیرت ہے اس شخص پر، جو خود کو نہیں پہچانتا، بھلا وہ اپنے پروردگار کو کیسے پہچانے گا ۔ اس اعتبار سے کہ انسان کی فطرت خدا کی معرفت سے وابستہ ہے ، خود شناسی کی دعوت بھی درحقیقت خدا شناسی اور خدا سے مربوط ہے ۔ چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) اس سلسلے میں فرماتے ہیں "خدایا تونے ہی ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے ، اور عقلوں کو اپنی معرفت سے آراستہ کیا ہے " درحقیقت خود شناسی ، خدا کی شناخت اور محبت کا باعث ہے کیوں کہ انسان کا وجود خدا کے وجود سے وابستہ ہے اور ایسی مخلوق اپنی ہی خلقت کا سبب نہیں بن سکتی ۔ اس بناء پر جب انسان میں خود شناسی پیدا ہوجاتی ہے تو اس وقت اسے خدا سے اپنی وابستگي کااحساس ہونے لگتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں سورۂ فاطر کی آیت 15 ميں ارشاد ہوتا ہے " اے لوگوں تم خدا کے محتاج ہو اور خدا بے نیاز اور منزہ ہے ۔"
اگر آدمی ہرچیز سے قبل خود کو پہچان لے تو بہتر طور پر اپنے وجود کے سرمائے سے استفادہ کرسکتا ہے اور ان ميں نشو و نما پیدا ہوسکتی ہے کیوں کہ خود شناسی کا نقطۂ آغاز ، انسان کے وجود کے سرمائے سے آگاہی ہے ۔ انسان شناخت و معرفت کے ذریعے نور اور روشنی کے دریچوں کو اپنے لئے وا کرتا ہے اور خودشناسی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو برطرف کرکے عظیم ترین نجات کے راستے کو حاصل کرلیتا ہے ۔ اسی بناء پر حضرت علی (ع) فرماتے ہیں جس شخص نے اپنے نفس کے خلاف جہاد کیا اس نے اپنے نفس کی شناخت حاصل کرلی اور جس نے شناخت حاصل نہ کی اس نے خود کو اپنے ہی حال پر چھوڑ دیا ۔اس بناء پر جو خود کو نہ پہچانے، وہ اپنی پوزیشن اور وہ چیز جو کمال یا اس کی تباہی کا سبب قرار پاتی ہے ، اس کی تشخيص نہیں دے سکے گا اور ایسا انسان فطری طور پر خود کو رفتہ رفتہ شیطان اور نفسانی خواہشات کا غلام بنا لیتا ہے اور شیطانی لذتیں ، عقلی و منطقی لذتوں کی جگہ لے لیتی ہیں اور عملی طور پر وہ غیر خدا کی پرستش کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے ۔ اسی سلسلے میں بہت زیادہ تعداد میں حضرت علی (ع) کے حکیمانہ ارشادات ملتے ہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں عارف وہ شخص ہے جو خود کو پہچانے اور اپنے آپ کو شیطانی وسوسوں اور بندشوں سے رہائي دلائے اور وہ چیز جو اسے خدا سے دور کردے اور اس کی ہلاکت کا سبب بنے اس سے خود کو منزہ بنائے ۔
انسان خود شناسی کے ذریعے کرامت نفس اور اس عظیم خلقت الہی کے بارے میں ادراک حاصل کرتا ہے اور اس بات کو درک کرلیتا ہے کہ اس گوہر گرانبہا کو آسانی سے نہیں کھوناچاہئے ۔ خود شناسی کے بارے میں اسلام کی تاکید یہ ہے کہ انسان جیسا کہ ہے خود کو پہچان لے اور اپنے مقام ومنزلت کو عالم وجود میں درک کرے ۔ اس شناخت کا مقصد یہ ہےکہ انسان خود کو اس اعلی مقام تک پہنچائے کہ جو اس کے لئے شائستہ ہے ۔ امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) بہت سے حکیمانہ ارشاد میں فرماتے ہيں " جو شخص اپنی عزت نفس کا صحیح ادراک کرلے تو اسی قدر خودکو اس ميں مصروف کردیتا ہے اور تمام دنیوی اور مادی لذتیں اس کی نظر ميں بے اہمیت ہوجاتی ہیں " ایسا شخص اس بات پر تیار نہیں ہوتا کہ اپنے وجود اور اپنے وجود کے اقدار کا، دنیا کے معمولی مقام و منصب اور مال ومنال سے سودا کرے ۔ صرف وہی افراد خود کو اخلاقی برائیوں میں آلودہ کرتے اور اپنی پاکیزہ روح کو تباہی سے دوچار کرتے ہيں کہ جو اس کی عظمت سے بے خبر ہوتے ہيں ۔
اسلام انسان کو ایسی مخلوق قرار دیتا ہے جو جسم اور مادی بدن کے علاوہ ، غیر مادی روح کا بھی حامل ہے ۔ درحقیقت انسان کی اصل اور بنیاد اس کی روح ہے اور بدن ، صرف انسان کی ترقی وکمال کے لئے ، وسیلے کے طور پر روح کو عطا کیا گيا ہے کبھی انسان ، غفلت کی بناء پر اپنی حققیت سے ، جو روح ہے توجہ موڑکر ، جسم اور اس کی ضروریات اور خواہشات کی طرف کھینچا چلا جاتاہے اور یہی غفلت انسان کے حقیقی کمال تک رسائی میں مانع ہوتی ہے کیوں کہ انسان جب تک خواب غفلت میں رہتا ہے وہ کمال کی جانب قدم نہيں بڑھا سکتا ۔ حضرت علی (ع) ایک روایت میں اس مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں "اپنے نفس اور اپنی ذات سے جاہل اور لاعلم مت رہو اس لئے کہ جو اپنے نفس سے جاہل ہے وہ درحقیقت تمام چیزوں سے جاہل ہے ۔ حضرت علی(ع) خود شناسی کی توصیف میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں
رحم اللہ امرء علم من این؟ وفی این؟ والی این؟
”خدا اس پر رحمت کرے جو یہ جان لے کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ وہ کہاں ہے؟ اور کہاں جا رہا ہے؟“
اس طرح کی ”خود شناسی“ انسان میں ایک لطیف ترین اور باعظمت ترین درد پیدا کرتی ہے‘ جو اس کائنات کی دوسری ذی روح چیزوں میں نہیں پایا جاتا اور وہ درد ہے ”حقیقت رکھنے“ کا درد اور یہی وہ خود شناسی ہے جو ان کو حقیقت کا پیاسا اور یقین کا متلاشی بناتی ہے‘ شک و تردد کی آگ اس کی روح میں روشن کرتی اور اس کو ادھر سے ادھر کھینچتی ہے ۔
جنّت کا آسان راستہ
صبر کہتے ہیں جو کام مرضی کے خلاف ہوں، ان پر ناجائزعمل سے خود کو روک لینا۔ جس طرح صبح سے شام تک بے شمار کام ہماری مرضی کے مطابق ہوتے ہیں، اسی طرح بہت سے کام مرضی کے خلاف بھی ہوتے ہیں، مثلاً بس اسٹاپ پر پہنچے اور بس نکل گئی۔ غرض مرضی کے خلاف چھوٹا واقعہ ہو یا بڑا، اس میں اللہ پر نظر رکھیں اور خود کو آپے سے باہر نہ ہونے دیں، یہ صبر ہے اور اس میں قلب کا بہت اہم عمل ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی قوت ایمانی کی آزمائش ہوتی ہے۔
زندگی میں روزانہ، دن رات نہ جانے کتنی باتیں ایسی ہوتی رہتی ہیں جو ہمیں ناگوار اور نفس پریشانی یا موت کا صدمہ لاحق ہوتاہے یا مال یا منصب کے نقصان کا رنج ہوتا ہے، غرض ہر ایسی بات جو قلبی سکون وعافیت کو درہم برہم کرنے والی ہو صبر آزما ہوتی ہے، لیکن چوں کہ غیر اختیاری ہوتی ہے، لہٰذا اس کے منجانب اللہ ہونے کا عقیدہ رکھنا واجب ہے، کیوں کہ اس میں بہت سی حکمتیں اور رحمتیں شامل ہوتی ہیں ، ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ نے خود اپنے فضل وکرم سے اطمینان قلب کے لیے بڑا مفید و موثر علاج یہ تلقین فرمایا: {انا للہ وانا الیہ راجعون} پڑھا جائے، اس سے سکون اور برداشت کی قوت پیدا ہوتی ہے، غرض کوئی کام بھی جو مرضی کے خلاف پیش آجائے، کوئی بڑا صدمہ ہو یا معمولی ناگواری اس پر {انا للہ وانا الیہ راجعون} پڑھنے سے اسی قدر ثواب ملتا ہے، جتنا کہ واقعے کے وقت ہے۔ "انا للہ" صرف انتقال کے ساتھ نہیں ہمارے معاشرے میں یہ تصور رائج ہے کہ "انا للہ" کا کلمہ صرف اسی وقت پڑھاجاتاہے جب کسی کا انتقال ہوجائے، اس کلمے کو صرف انتقال کے ساتھ خاص کرلینا درست نہیں۔ روایات میں آتاہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلى الله عليه و سلم کے سامنے ایک چراغ جلتے جلتے بجھ گیا تو آپ صلى الله عليه و سلم نے "اناللہ وانا الیہ راجعون" پڑھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضى الله عنها نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلى الله عليه و سلم! کیا یہ بھی مصیبت ہے؟ فرمایا: ہاں! جس چیز سے مسلمان کو تکلیف ہو وہ مصیبت ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: مسلمان کو جو ایک کانٹا چبھتا ہے، اس سے بھی اس کا ثواب ملتاہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: مومن ہر حالت میں کامیاب ہے، اس لیے کہ کوئی خوشی ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو صابر وشاکر بندہ بہت پسندہے۔
ملانصرالدین کی ایک بات یاد آگئی ، یہ وہی ہیں جن کے لطائف بہت مشہور ہیں۔ ملاجی کے بارے میں آتا ہے کہ بہت خوب صورت تھے اور بیوی بہت بدصورت۔ ایک مرتبہ اپنی بیوی سے کہنے لگے: بیگم! تم بھی جنتی ہو اور میں بھی جنتی۔ بیوی نے پوچھا، وہ کیسے؟ ملاجی نے جواب دیا: اس لیے کہ جب تم مجھے دیکتھی ہو تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہو کہ کتنا خوب صورت شوہر ملا میں تمہیں دیکھتاہوں تو صبر کرتاہوں اور صابر و شاکر دونوں جنتی ہیں۔
*صابر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔ غرض ہر چھوٹی بڑی ناگوار چیز پر صبر کرنا چاہیے اور "اناللہ وانا الیہ راجعون" کہنا چاہیے، کیونکہ صبر سے اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یقینا ًاللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورہ البقرہ) اور جسے اللہ کی معیت نصیب ہوجائے پھر کون اس کا بال بیکا کرسکتا ہے؟ جولوگ مصیبت یا تکلیف وناگواری کے موقع پر "اناللہ" پڑھتے ہیں تو قرآن کہتا ہے: ایسے لوگوں پر ان کے رب کی عام رحمتیں بھی اترتی ہیں اور خاص رحمت بھی انہیں ملتی ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔(سورۃ البقرہ)
خلاصہ یہ کہ صبر کے موقع پر یہ کلمہ پڑھنے سے واضح طور پر محسوس ہوگا کہ رحمت خداوندی شامل حال ہے، بندہ ان چار اعمال کی عادت ڈال لے تو چند دنوں میں محسوس ہوگا کہ کسی نے رحمت کا ہاتھ اس کے دل پر رکھا ہوا ہے اور کوئی پشت پناہی کررہاہے جس سے تنہائی دور ہوگی اور زندگی میں لطف آنے لگے گا۔ اس عمل سے زندگی میں استقامت اور ضبط وتحمل کا وقار پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق ہوجاتی ہے، جو بندگی کا بہت اعلیٰ مقام ہے۔ صبر کرنے والوں میں کسی سے اپنی ذات کے لیے غصے اور انتقام کے جذبات پیدا نہیں ہوتے یا پیدا ہوں تو جلد ختم ہوجاتے ہیں، ان جذبات پر عمل کرنے سے آدمی بچار ہتاہے۔
*توبہ واستغفار: تیسرا عمل استغفار ہے اور اس میں بھی جان ومال یا دقت کچھ خرچ نہیں ہوتا، جب بھی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ سرزد ہوجائے تو نادم ہوکر کہہ دیا "استغفراللہ" یعنی اے اللہ! میں معافی مانگتا ہوں۔
جب حضرت آدم عليه السلام کو دنیا میں بھیجا جانے لگا تو ان کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی شیطان یہ چیلنج کرکے آیاتھا کہ یااللہ ! میں تیرے بندون کو گمراہ کردوں گا اور جہنم تک پہنچا کر چھوڑوں گا (کیونکہ انسان میرا حریف ہے، جس کی وجہ سے میں اونچے مقام سے معزول ہوا ہوں) حضرت آدم عليه السلام نے عرض کیا: "اے اللہ آپ نے میرے دشمن شیطان کو اتنی طاقت دے کر بھیجا ہے کہ جتنی طاقت میرے اور میری اولاد کے پاس بھی نہیں ہے، یہ مختلف شکلیں اختیار کرسکتا ہے اور یہ ایسے طریقے سے آسکتاہے کہ ہم اسے نہ دیکھ سکیں گے، مگر یہ ہمیں دیکھ سکتا ہے، یہ جن ہے، ہم انسان ہیں، ہماری اور اس کی خاصیتوں میں فرق ہے یہ تو ہمیں جہنم تک دھکیل دے گا۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم عليه السلام! بے شک ہم نے اسے بے پناہ قوتیں دے رکھی ہیں، لیکن اس کی قوتوں سے مقابلہ کرنے کا ایک ہتھیار تمہیں دیتے ہیں، جب تک اس ہتھیار کو استعمال کرتے رہوگے تو شیطان کو کوئی حملہ کارگر نہیں ہوگا اور اس ہتھیار کا نام "استغفار" ہے۔ جب کبھی گناہ ہوجایا کرے تو دل سے استغفراللہ کہہ دیا کرو۔
استغفار سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جو لوگ استغفار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نہیں بھیجتا، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ لوگوں کو عذاب نہیں دیتا جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔(سورۃ الانفال)
اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلون میں گناہ کے جذبات بھی رکھے ہیں اور گناہ میں لذتیں بھی رکھی ہیں، گناہ سے بچنا آسان نہیں، آدمی بے اختیار ان کی طرف لپکتاہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت واسعہ سے ایسے کشادہ دروازے کھول رکھے ہیں کہ اگر ہم سے گناہ سرزد ہوجائے تو بس ندامت کے ساتھ سچے دل سے توبہ استغفار کرلیں معاف ہوجائے گا۔
حضور اکرم صلى الله عليه و سلم کا ارشاد ہے: "توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔" (ابن ماجہ)
گناہ پر ہر مرتبہ توبہ کرلیں، اگر ایک مرتبہ گناہ ہوگیا، توبہ کرلی، پھر دوبارہ وہی گناہ ہوگیا تو پھر دوبارہ وہی گناہ ہوگیا تو پھر توبہ کرلیں، اللہ تعالیٰ پھر معاف فرما دیں گے، یہاں تک کہ اگر ایک ہی گناہ ستر مرتبہ بھی کیا جائے اور ہر مرتبہ توبہ کرلی جائے تو وہ ہر بار معاف ہوجائے گا، کیوں کہ توبہ کے دوازے کھلے ہوئے ہیں، لہٰذا اگر ہزار مرتبہ بھی توبہ ٹوٹ جائے تو پھر جوڑلو، وہ رحیم و کریم ہزار مرتبہ بھی معاف فرما دے گا۔
توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ ہرگناہ معاف ہوجاتاہے، البتہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے، جب تک کہ حق دار معاف نہ کرے یا اس کا حق ادانہ کردیا جائے۔
استغفار کے بہت سے فائدے ہیں، استغفار عبادت بھی ہے، گناہوں سے معافی کا ذریعہ بھی اور قرب خداوندی کا ذریعہ بھی۔ جب بار بار استغفار ہوگی، رفتہ رفتہ گناہ کرتے ہوئے شرم آنے لگے گی اور رحمت خداوندی کی وسعت کا اندازہ ہوگا کہ میں کتنے گناہ کررہاہوں اور وہ پروردگار کس قدر نواز رہا ہے، جس کے دل میں ہر وقت اپنی غلطیوں کا احساس اور جرائم پر ندامت ہو اس کے دل میں کبھی بھی کبر اور بڑائی پیدا نہیں ہوگی اور نہ ہی تقویٰ کا غرور پیدا ہوگا، کیوں کہ جتنی عبادات کی ہوں گی اس سے زیادہ اپنے گناہ یاد آئیں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
