بحرین کانفرنس کا مقصد، فلسطینی عوام اور اسلامی امت کو دھوکا دینا ہے: علی برکہ

Rate this item
(0 votes)
بحرین کانفرنس کا مقصد، فلسطینی عوام اور اسلامی امت کو دھوکا دینا ہے: علی برکہ

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے نامہ نگار نے لبنان میں اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے نمائندے “علی برکہ” کے ساتھ ’منامہ کانفرنس‘ اور ’صدی کی ڈیل‘ کے موضوع پر گفتگو کی ہے جسے قارئین کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
خیبر: امریکی نام نہاد امن منصوبے’ صدی کی ڈیل‘ کے نفاذ کے لیے امریکہ کا پہلا اقدام ’منامہ اقتصادی کانفرنس‘ کا انعقاد ہے آپ کا اس کانفرنس کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟ اور کیوں بحرین ہی اس کانفرنس کے لیے انتخاب کیا گیا ہے؟
۔ ’منامہ اقتصادی کانفرنس‘ کا انعقاد امریکی منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کے نفاذ کا مقدمہ ہے اور ہم بحرین میں اس کے انعقاد کی مذمت کرتے ہیں۔ عربی اور اسلامی ممالک سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس خائنانہ کانفرنس کی مذمت کریں۔ اس لیے کہ یہ کانفرنس صہیونیوں اور امریکیوں سے متعلق ہے اور اس کانفرنس کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو خاتمہ دینے اور اسے ایک سیاسی مسئلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس کانفرنس کے منعقد کرنے والے کوشش کر رہے ہیں کہ مسئلہ حق و باطل کو کھانے پینے والی چیزوں میں تبدیل کر دیں!۔ فلسطینی عوام غاصبوں کے ساتھ خوراک و پوشاک کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے، اپنے مقدسات کی بازیابی کے لیے اور اس سرزمین پر اپنی حکومت کے قیام کے لیے لڑ رہے ہیں جس کا دار الحکومت قدس ہو۔ لہذا ہم قائل ہیں کہ بحرین کانفرنس فلسطینی عوام اور مسئلہ فلسطین کے خلاف امریکی اور صہیونی سازشوں کا حصہ ہے۔
خیبر: امریکہ سینچری ڈیل کے نفاذ کے لیے پہلے مرحلے پر ’مسئلہ اقتصاد‘ کو بحرین کانفرنس کی صورت میں بروئے کار لانا چاہتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اور بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کو معیشتی سہولیات دینے کے دعووں کے پس پردہ کیا مقاصد پوشیدہ ہیں؟
۔ امریکی حکومت کے ذریعے بحرین میں اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد فلسطینی عوام اور عربی اسلامی امت کو دھوکہ دینا ہے تاکہ امریکہ اس طریقے سے ظاہر کرے کہ اسے فلسطینی عوام کے معیشت کی فکر ہے۔ یہ ایسے حال میں ہے کہ امریکہ فلسطینی غاصبوں کے مظالم اور جرائم میں ان کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔
لہذا ہمیں نہ اقتصادی کانفرنسوں کی ضرورت ہے نہ سیاسی کانفرنسوں کی، بلکہ ہماری عربی اسلامی امت سے اپیل ہے کہ فلسطینی مزاحمت کی حمایت کریں۔ امت مسلمہ ۱۳ سال سے غزہ پر جاری محاصرے کے خاتمہ کے لیے کوشش کرے، ہم اس کانفرنسوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس کانفرنس میں صہیونی ریاست کی شرکت کو مذموم سمجھتے ہیں جس کا مقصد عرب ممالک کے ساتھ روابط کو معمول پر لانا ہے۔ ہم اس کانفرنس کی مذمت کرتے ہیں اور جو عرب اور اسلامی ممالک اس میں شرکت کریں گے ان کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
خیبر: مسئلہ فلسطین کی پشت پر خنجر گھونپنے کے لیے مزدور عرب حکومتوں کا صہیونیوں کے ساتھ مل جانا اور عالمی یوم القدس کی ریلیوں کو ناکام بنانا چہ معنی دارد؟
۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ عرب حکمرانوں کے صہیونی ریاست کے ساتھ ہر طرح کے روابط کی سخت مذمت کرتی ہے اور تاکید کرتی ہے کہ ان تعلقات کی بہتری گویا مسئلہ فلسطین اور فلسطینیوں کی پشت پر خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ مزاحمت اور واپسی ریلیاں تنہا راستہ ہے اپنے حقوق اور مقدسات کی بازیابی کا۔
عالمی یوم القدس کو بھی اس مقصد کی خاطر وجود میں لایا گیا کہ مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا پہلا مسئلہ قرار دیا جائے، تمام امت مسلمہ قدس کو یہودی سازشوں اور ہتھکنڈوں سے آزادی دلانے کے لیے کوشاں رہے نہ خود صہیونیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں اور ان کے ساتھ چھپ چھپ کر ملاقاتیں کریں۔ لہذا بحرین کانفرنس میں بھی صہیونیوں کو دعوت دینا اور ان کے ساتھ ملاقاتیں کرنا مسئلہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ خیانت ہے۔
خیبر: فلسطینی مزاحمتی گروہ اور اسلامی ممالک کیسے سینچری ڈیل منصوبے کو ناکام بنا سکتے ہیں؟ واپسی ریلیوں کا اسے حوالے سے کیا کردار ہے؟
۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سینچری ڈیل منصوبے کو ناکام بنائیں اس لیے کہ فلسطینی عوام اور تمام سیاسی گروہ اس کے مخالف ہیں۔ ملت فلسطین ہر دور سے زیادہ آج متحد ہے۔ اور تمام فلسطینی گروہ اس امریکی منصوبے کے مخالف ہیں۔ ہم مزاحمت، جہاد اور واپسی مارچ کے راستے کو جاری رکھیں گے تاکہ غزہ پر جاری محاصرے کو توڑ سکیں اور قدس کو آزاد کروا سکیں۔
ہم اسلامی امت کو خطاب کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں پر بھروسہ کریں۔ فلسطینی عوام اور مزاحمت کی پشت پناہی کریں نہ یہ کہ امریکی دباؤ کے آگے تسلیم ہو جائیں اور صہیونی رہنماؤں کا اپنے دار الحکومتوں میں استقبال کریں فلسطینی عوام کبھی بھی تسلیم نہیں ہوں گے لہذا اسلامی امت کو فلسطینی مزاحمت کی حمایت کرنا چاہیے اس لیے کہ دشمن صرف وقت اور طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔
خیبر: فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاد صدی کی ڈیل منصوبے کی ناکامی میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
۔ میں یہ تاکید سے کہتا ہوں کہ فلسطینی گروہوں کی صفوں میں اتحاد امریکی منصوبے صدی کی ڈیل کوناکام بنانے میں اہم ترین عامل ہے۔ ہم ابومازن اور تحریک فتح کے برادران کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ فلسطین میں اتحاد کی فضا قائم کریں اور اختلاف اور انتشار کا راستہ چھوڑ دیں اور مزاحمت کی راہ میں اتحاد کو ترجیح دیں۔ نیز صہیونی ریاست کے ساتھ سکیورٹی روابط اور سیاسی مذاکرات کو خاتمہ دیں اسلو معاہدے کو باطل قرار دے کر صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کریں۔ لہذا پہلا قدم فلسطینیوں کو یکجا کرنا اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ اس لیے کہ ہمیں اس مرحلے میں امریکی صہیونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ اگر مزاحمتی گروہوں میں یکجہتی پیدا ہو گی تو انشاء اللہ ہم صدی کی ڈیل منصوبے کو ناکام بنا پائیں گے۔
خیبر: آپ کا بہت بہت شکریہ جو آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا۔

Read 105 times

Add comment


Security code
Refresh