جدید اسلامی تہذیب کا قیام شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں، رہبر معظم انقلاب اسلامی Featured

Rate this item
(0 votes)
جدید اسلامی تہذیب کا قیام شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں، رہبر معظم انقلاب اسلامی

اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رسول اکرم ص اور امام جعفر صادق ع کی ولادت نیز ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء اور اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اکرم ص کی سیرت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریوں کے بارے میں چند اہم نکات بیان کئے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے "انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر مشتمل دین مبین اسلام کی جامعیت کی وضاحت اور ترویج" اور "اتحاد بین المسلمین کے فروغ" کو امت مسلمہ کی دو اہم ذمہ داریاں قرار دیا اور کہا: "وحدت اسلامی ایک اصولی چیز اور قرآنی فریضہ ہے اور جدید اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام جیسا عظیم اور مقدس ہدف شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔"
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے دین مبین اسلام کی جامعیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "سیاسی مادی قوتوں نے ہمیشہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام ایک جامع دین نہیں ہے نیز اس کے پاس انسانی زندگی کے تمام پہلووں کیلئے مناسب منصوبہ بھی نہیں پایا جاتا بلکہ (دین اسلام) فردی عمل اور قلبی عقیدے تک محدود ہے۔ انہوں نے اپنے لکھاریوں اور محققین کی زبانی اس نظریے کا بھرپور پرچار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دین اسلام تہذیب و تمدن سازی، معاشرے کی مدیریت، اقتصاد، طاقت اور دولت کی تقسیم، جنگ اور امن، اندرونی اور عالمی سیاست، عدل کا قیام اور ظلم اور شرپسند عناصر کے مقابلے جیسے اہم ایشوز کے بارے میں نہ تو نظریہ فراہم کرتا ہے اور نہ ہی عملی میدان میں کوئی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔"
 
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی متون واضح طور پر اسلام کے بارے میں ایسے تاثر کی نفی کرتے ہیں، مزید کہا: "دین اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر مشتمل ہے۔ دل کی گہرائیوں اور عبادت سے متعلق امور سے لے کر سیاسی، اقتصادی، سماجی، سکیورٹی اور بین الاقوامی مسائل اس میں شامل ہیں۔ جو شخص اس بات کا منکر ہے اس نے یقیناً قرآن کریم کی متعدد واضح آیات پر توجہ نہیں دی۔" آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سماجی امور اور تہذیب و تمدن سازی جیسی اہم ذمہ داری پر اسلام کی تاکید کو حاکمیت کی جانب اسلام کی توجہ قرار دیا اور کہا: "اسلام میں سماجی نظم و نسق کا مطالبہ حکومتی امور اور امام کے تعین کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کریم میں بھی انبیاء علیہم السلام کو امام یعنی معاشرے کے سربراہ اور کمانڈر کا عنوان دیا گیا ہے۔"
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے اتحاد بین المسلمین کو یقینی فریضہ اور قرآنی حکم قرار دیتے ہوئے کہا: "وحدت اسلامی ایک اصولی بات ہے اور کچھ خاص حالات کے تحت ایک عارضی حکمت عملی نہیں ہے۔ باہمی اتحاد مسلمانوں کی طاقت میں اضافے کا باعث بنتا ہے تاکہ اس طرح وہ غیر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی فوقیت اور برتری کے حامل ہو سکیں۔" امام خامنہ ای نے مزید کہا: "آج شیعہ اور سنی کی اصطلاحات امریکہ کے سیاسی کلچر میں بھی داخل ہو چکی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اصل اسلام کے ہی مخالف اور دشمن ہیں۔" آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کو اتحاد بین المسلمین کا حقیقی معیار قرار دیا اور کہا: "مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا حقیقی معیار مسئلہ فلسطین ہے۔ جس قدر فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے سنجیدگی کا اظہار کیا جائے گا اسی قدر اتحاد بین المسلمین بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔"

Read 40 times

Add comment


Security code
Refresh