سلیمانی
سپاہ کے میزائل حملے؛ امریکی انجینئروں اور پائلٹوں کے خفیہ ٹھکانے نشانہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ بحری دستوں نے آج سحر کے وقت وعدۂ صادق 4 کے 91ویں مرحلے میں امریکہ اور صہیونی دہشت گردوں سے وابستہ فوجی و بنیادی ڈھانچے کے مراکز کو جنوبی خلیج فارس کے ممالک میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
سپاہ کے مطابق یہ کارروائی مبارک رمز "یا صادِقاً لٰا یُخلِفُ" کے ساتھ انجام دی گئی اور اسے انجینئروں اور جہاد کرنے والوں کے نام منسوب کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران دشمن کے فوجی اور انفراسٹرکچر اہداف پر بڑی تعداد میں قدیر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ تباہ کن ڈرونز کے ذریعے شدید حملہ کیا گیا۔
سپاہ کے بیان کے مطابق اس آپریشن میں شمالی بحر ہند میں موجود امریکی جارح بحری بیڑے آبراہام لنکن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں اس پر قدیر 380 کے 4 کروز میزائل داغے گئے۔
سپاہ نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے دوسرے مرحلے میں امارات میں دشمن کے ایک اڈے کے باہر موجود امریکی جنگی طیاروں کے پائلٹوں اور فلائٹ انجینئروں کے خفیہ ٹھکانے کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق زمینی اطلاعات اور ایمبولینسوں کی بڑے پیمانے پر آمد و رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
سپاہ پاسداران نے کہا ہے کہ اگلے مرحلے میں امریکی MQ-1 ڈرون یونٹ کے خلاف کویت کے علی السالم اڈے پر بھی شدید حملہ کیا گیا۔
سپاہ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت اس کے بحری نظاموں کی مسلسل نگرانی میں ہے اور دشمن کی معمولی سی حرکت بھی اللہ کے فضل سے سپاہ کے جوانوں کے فیصلہ کن ردعمل کا سبب بنے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی صورتحال میں پیدا ہونے والی بے امنی، امریکہ کی جارحانہ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
وسطی ایران میں دوسرا امریکی ایف-35 تباہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی دستوں نے وسطی ایران کی فضاؤں میں امریکی جدید ترین جنگی طیارے ایف-35 کو تباہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران نے آج جمعہ کو جاری بیان میں بتایا کہ تباہ ہونے والا جنگی طیارہ امریکی اسکواڈرن لاک ہیڈ۔ مارٹن سے تعلق رکھتا تھا، جسے وسطی ایران میں سپاہ کے جدید دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جنگی طیارہ زمین پر گر مکمل تباہ ہوگیا۔
بیان کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا امریکی جنگی طیارہ ہے جسے سپاہ کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ مار گرایا ہے۔
سپاہ پاسداران نے مزید بتایا کہ جنگی طیارہ نشانہ بننے کے بعد شدید دھماکے کے باعث مکمل طور پر بکھر گیا، اسی لیے پائلٹ کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع موجود نہیں۔ دھماکے کی شدت کے باعث پائلٹ کے طیارے سے نکلنے کا امکان بھی کم دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کی جنگی دلدل سے نکلنے کی کوششیں؛ ایران کے مسلسل حملے، 32 روز میں 5644 میزائل و ڈرون داغے گئے
تہران میں شہید تنگسیری کی شاندار آخری رسومات، عوام کا سمندر اُمڈ آیا
آج تہران میں میں بھی شہید تنگسیری اور جنگ رمضان کے دیگر شہداء کی مشترکہ تشییع جنازہ منعقد ہوئی، جو میدان انقلاب اسلامی سے معراج شہداء تک جاری رہی۔

عوام نے بھرپور اور جوش و جذبے سے شرکت کرتے ہوئے رہبر معظم کے ساتھ تجدید عہد کیا اور شہداء، بالخصوص امت کے شہید رہبر کے مشن سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
شرکاء کی بڑی تعداد نے شہداء کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہو کر ان کو تسلی دی اور ساتھ ہی دشمنوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت، یکجہتی اور مضبوطی کا پیغام بھی دیا۔



مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے/ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں: وزیر خارجہ عراقچی
الجزیرہ نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کی 15 شقوں پر مشتمل تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے نہ ہی کوئی تجویز یا شرط پیش کی ہے۔
سید عباس عراقچی نے بین الاقوامی تعلقات میں، آمنے سامنے بیٹھ کر مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کو مذاکرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسی کوئی صورتحال ایران اور امریکہ کے مابین موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے جسے مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے بعض اوقت براہ راست یا دوست ملکوں کے ذریعے پیغام بھیجے جاتے ہیں اور ایران ضرورت کے حساب سے بعض کا جواب بھی دیتا ہے۔
وزیر خارجہ نے زور دیکر کہا کہ پیغامات کا تبادلہ محض وزارت خارجہ کے ذریعے انجام پا رہا ہے اور طریقہ کار کا تعین اعلی قومی سلامتی کونسل میں کیا جا چکا ہے۔
سید عباس عراقچی نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کا جواب دیا ہے اور کہا کہ ایران نے امریکہ کے مذکورہ پلان کا کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی اس پلان پر کوئی شرط رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی 5 شرطوں پر مشتمل فہرست کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ باتیں ذرائع ابلاغ کے اندازے ہیں۔
وزیر خارجہ عراقچی نے زور دیکر کہا کہ ایران جنگ بندی نہیں بلکہ پورے خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے جارحیت کے دوہرائے نہ جانے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کو ایران کی شرطوں میں سے قرار دیا۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کردیا کہ امریکہ قابل اعتماد فریق نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے نکل گیا اور مذاکراتی عمل کے بیچ حملہ بھی کر چکا ہے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس وقت امریکہ پر اعتماد کی سطح صفر کے قریب ہے۔
انہوں واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ڈیڈلائن کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے عوام کے حقوق اور ملک کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیں گے۔
سید عباس عراقچی نے دھونس دھمکی کی زبان کو ایران پر بے اثر قرار دیا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ یہ آبی راستہ ایران اور عمان کے بحری حدود میں واقع ہے اور موجودہ حالات کے تحت ایران سے جنگ میں ملوث ملکوں کی جہازرانی کے لیے بند ہے لیکن دوسرے ممالک کے جہازوں کے لیے پرامن طریقہ کار فراہم کردیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے دشمنوں کو خبردار کیا کہ ایران کی دفاعی طاقت معیاری ہے اور ہر طرح کے فوجی اقدام کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے جھڑپوں کی شدت اور وسعت میں اضافے اور باب المندب کے بند ہونے کے امکان کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ علاقے کے ممالک سے وابستہ ہے اور ایران نے ایسی کوئی درخواست کسی سے نہیں کی ہے۔
سید عباس عراقچی نے زور دیکر کہا کہ علاقے کے ممالک ہی خطے کی سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیرعلاقائی افواج کی موجودگی نہ صرف سلامتی کا باعث نہیں بلکہ اس سے عدم استحکام کو ہوا ملے گی۔
صیہونی حکومت کے رافائل ملٹری انڈسٹریزکمپلیکس کو بھاری نقصان
ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے شعبہ رابطہ عامہ نے بتایا ہے کہ حساس اور فوجی مراکز پر حملے کی خبروں پر سخت ترین سنسر کے باوجود، دشمن کے مکالمات نیز سوشل میڈیا کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ، مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی حکومت کے رافائل ملیٹری انڈسٹریز کمپلیکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجی صنعت کے اس کمپلیکس سے آگ کے شعلے بلند ہوتے اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے گزشتہ چند دنوں سے غاصب صیہونی حکومت کی بنیادی تنصیبات، اسلحے کے کارخانوں اور رافائل انڈسٹریز گروپ کی فوجی اور دفاعی مصنوعات اور جدید ترین ڈیفنس سسٹمس کے پیداواری مراکزپر حملوں کی شدت اور وسعت بڑھا دی ہے۔
رہبر انقلاب کا شیخ نعیم قاسم کو پیغام، امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مقاومت کی حمایت کا اعادہ
حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کے نام اپنے پیغام میں امام خامنہ ای کی شہادت پر ان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی پر شکریہ ادا کیا۔
پیغام میں رہبر معظم نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کے سب سے سخت دشمنوں، یعنی امریکہ اور صہیونی حکومت کے مقابلے میں ثابت قدمی اور استقامت، شہید امام خامنہ ای کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عظیم رہبر کے دور قیادت میں مزاحمت کا راستہ مسلسل جاری رہا اور اس راستے کی سچائی کی گواہی ان عظیم شہداء نے دی، جن میں حاج قاسم سلیمانی اور سپاہ پاسداران و فوج کے دیگر اعلی کمانڈر شامل ہیں۔
آیت اللہ خامنہای نے تاکید کی کہ اسلامی مزاحمت کی تاریخ جدوجہد، شجاعت اور قربانی سے بھری ہوئی ہے، جہاں مزاحمتی رہنماؤں نے کسی خوف کے بغیر امت کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ حزب اللہ کے رہنما، شہید شیخ راغب حرب اور سید عباس موسوی سے لے کر سید حسن نصر اللہ اور سید ہاشم صفی الدین تک، اس راہ کے حقیقی اور ثابت قدم نمونے رہے ہیں۔
رہبر انقلاب نے شیخ نعیم قاسم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس دور میں مزاحمت کی قیادت کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ شیخ نعیم قاسم اپنی ہوشیاری، ذہانت اور شجاعت کے ذریعے صہیونی دشمن کو شکست دیں گے اور لبنان کے عوام کو عزت و سعادت واپس دلائیں گے۔
آیت اللہ خامنہای نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران صہیونی حکومت اور امریکہ کے مقابلے میں مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے تمام مجاہدین کے لیے کامیابی کی دعا بھی کی۔
معاہدہ نہ بھی ہوا تو بھی امریکہ جنگ ختم کرکے نکل جائے گا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے ایک نیا اور حیران کن دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اب واشنگٹن جلد ہی اس جنگی مشن کو ختم کرنے جا رہا ہے، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران پر حملے کے نتائج بیان کرتے ہوئے ایک بار پھر عجیب و غریب اور غیر معمولی دعوے کیے اور کہا کہ ایران کی حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو عصر حجر میں واپس دھکیل دیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بے بنیاد دعووں کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہمارا مشن بہت جلد مکمل ہوجائے گا، دو سے تین ہفتوں کے اندر ہم ایران کو چھوڑ دیں گے، اور ممکن ہے اس سے پہلے کوئی معاہدہ بھی طے پا جائے۔
ٹرمپ نے مزید دعوی کیا کہ ہم یہ آپریشن اس صورت میں بھی ختم کر دیں گے اگر کوئی معاہدہ نہ ہو۔ امریکہ بغیر معاہدے کے بھی جنگ روک دے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے میں امریکی اور صہیونی مفادات شدید دباؤ میں ہیں اور واشنگٹن پر جنگ روکنے کے لیے داخلی و خارجی سطح پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی جنگی دلدل سے نکلنے کی کوششیں؛ ایران کے مسلسل حملے، 32 روز میں 5644 میزائل و ڈرون داغے گئے
، ایران کی جانب سے امریکی۔صہیونی جارحیت کے جواب میں بھرپور اور مسلسل جوابی کارروائیاں جاری ہیں، اور یہ آپریشن اب 33ویں روز میں داخل ہوچکا ہے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے دلدل سے نکلنے کے لیے بے بسی اور بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر چین اور پاکستان نے بھی جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کر کے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ترک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے بدھ کی صبح تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران نے گزشتہ 32 دنوں کے دوران کم از کم 5644 میزائل اور ڈرون اسرائیل اور عرب ممالک میں دشمن کی تنصیبات کی سمت فائر کیے، جبکہ اسی مدت میں دو جنگی طیاروں کے ذریعے ایک حملہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام متعدد بار واضح کرچکے ہیں کہ ان حملوں کا ہدف عرب ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور امریکی مفادات ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات میں رپورٹ ہوئے، اس کے بعد بالترتیب کویت، بحرین، قطر، سعودی عرب اور اردن کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ عمان سب سے کم نشانہ بننے والا ملک بتایا گیا۔
اسی تناظر میں خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے 26 مارچ کو دعوی کیا تھا کہ خطے کے ممالک کی سمت پانچ ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون فائر کیے گئے۔
ایرانی قوم کی استقامت، عاشورا واقعے کا عصر حاضر میں تکرار
حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف نے ایکنا سے گفتگو میں امریکی–صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: ایران کے عوام اور رہبر نے امام حسینؑ کی پیروی کرتے ہوئے زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا اور یہ راستہ بدستور جاری ہے۔
اس انٹرویو میں مسجد حنّانہ نجف کے متولی کے بیان کا متن درج ذیل ہے: إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا؛ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے، اور جب آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں اور دل گلے تک آ پہنچے، اور تم اللہ کے بارے میں مختلف گمان کرنے لگے؛ وہاں اہلِ ایمان آزمائش میں ڈالے گئے اور سخت اضطراب سے دوچار ہوئے۔
آج مجرم امریکہ اور غاصب صہیونی عناصر خلیج فارس کے ان عرب ممالک کے ساتھ مل کر، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، ایران کے خلاف جنگ شروع کر چکے ہیں، اور رمضان کی اس جنگ کو ایک ماہ گزر چکا ہے۔
یہ جنگ بالکل جنگِ احزاب کی مانند ہے، جب مشرکین اور کفار نے ہر طرف سے نبی اکرم ﷺ پر حملہ کیا اور مدینہ میں محاصرہ کر لیا، لیکن بالآخر فتح نبی اکرم ﷺ کی ہوئی۔ آج بھی کامیابی غیور ایرانی قوم کی ہوگی جو میدان میں موجود ہے اور اسلام کے درخت کو اپنے پاک ترین انسانوں، بالخصوص اپنے بہادر اور غیور رہنما کے خون سے سیراب کر رہی ہے۔
یزید بن معاویہ نے امام حسینؑ سے کہا تھا کہ یا تو بیعت کرو یا قتل کر دیے جاؤ گے۔ : ألا وإن الدعي بن الدعي قد ركز بين اثنتين السلة أو الذلة و هیهات من الذّلّة؛
امام حسینؑ نے جواب دیا: خبردار! اس بدکار کے بیٹے بدکار نے مجھے دو چیزوں کے درمیان رکھا ہے: تلوار یا ذلت، اور ذلت ہم سے بہت دور ہے (ہیہات منا الذلة)۔
آج بھی زمانے کے یزید یعنی ٹرمپ نے شہید رہنما کے سامنے یہی بات رکھی، اور انہوں نے بھی یہی جواب دیا: "ہیہات منا الذلة۔
ایران کے عوام اور جبهۂ مقاومت نے بھی اپنے شہید رہنما کی پیروی کرتے ہوئے ٹرمپ کو ٹھکرا دیا اور کہا: "ہیہات منا الذلة۔ ہیہات منا الذلة۔"
یاد رہے کہ حجتالاسلام والمسلمین سید احمد موسوی، متولی مسجد حنّانہ نجف، عید الفطر کے بعد سے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات میں شرکت کر رہے ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
