سلیمانی

سلیمانی

 آوا  نیوز کے حوالے سے آیت اللہ محمد باقر فاضلی بہسودی، جو افغانستان کے شیعہ مراجع تقلید میں شمار ہوتے ہیں، نے اعلان کیا کہ قرآنِ کریم کی آیات کے مطابق امریکہ اور صہیونی رژیم کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاع مسلمانوں پر " شرعی واجب" ہے۔

انہوں نے مصر کی مجلسِ علماء الازہر کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جبکہ امریکہ اور صہیونی رژیم برسوں سے اسلامی سرزمینوں، خصوصاً فلسطین میں قتل و غارت اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے ہیں، توقع یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے دینی ادارے ان ممالک کی حمایت کریں جو ان جارحیتوں کے خلاف کھڑے ہیں، نہ کہ ان کے دفاع کی مذمت کریں۔

اس مرجعِ تقلید نے سورۂ حج کی آیت 39 کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی کہ قرآنِ کریم نے مظلوموں کو دفاع کی اجازت دی ہے اور ان کی نصرت کا وعدہ بھی کیا ہے۔

آیت اللہ فاضلی بہسودی نے واضح کیا کہ ایسے حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت صرف علماء کے فتوے یا ذاتی رائے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بنیاد قرآن کے صریح حکم میں ہے، اور ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ہے۔

انہوں نے ایران کے فوجی کمانڈروں اور سائنسی شخصیات کے قتل کو بھی دشمنانِ اسلام کی کھلی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کے مقابلے میں دفاع اور مزاحمت ایک فطری اور جائز عمل ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں بعض سنی دینی اداروں کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے اقدامات کی مذمت نہ کرنا، اور اس کے برعکس ایک اسلامی ملک کے دفاع پر تنقید کرنا، مسلمانوں کے درمیان تشویش اور افسوس کا باعث بن رہا ہے۔

 
 

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے مشاور ٹیم کے سربراہ جنرل علی فدوی نے کہا ہے کہ امریکہ یہ تصور کر بیٹھا تھا کہ ایران کو تباہ کرسکتا ہے لیکن کوئی بھی معمولی ہدف بھی حاصل نہیں کرسکا۔

جنرل علی فدوی نے کہا کہ امریکہ نے غلط اندازوں کے تحت کچھ اہداف معین کیے تھے جنہیں اپنے زعم میں 3 سے 5 دن میں حاصل کیا جانا تھا لیکن ان میں سے ایک ٹارگیٹ بھی پورا نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے مغربی ماہرین نے بھی امریکہ کی شکست کی تصدیق کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایران کو تباہ کرسکتے ہیں لیکن ان کی اس غلطی کے نتیجے میں دنیا کے عوام آبنائے ہرمز سے محروم ہوگئے۔

 وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ایران کی ادویات بنانے والی ترقی یافتہ فیکٹری پر صیہونی حملے کی خبر دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیر خارجہ عراقچی نے لکھا ہے کہ جنگی مجرم اسرائیل نے کھلے عام اور پوری بے شرمی کے ساتھ ادویات بنانے والی کمپنیوں پر بمباری شروع کردی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ صیہونیوں کی نیت واضح ہے لیکن دشمن ایران کو نہتے فلسطینی شہریوں کی طرح سمجھ بیٹھے ہیں۔

وزیر خارجہ نے انتباہ دیا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج جارحیت کرنے والوں کو سخت سزا دیں گی۔ 

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے شہری مراکز، عام شہریوں اور سول شخصیات پر حملہ نہ کرنے پر مبنی ہمارے انتباہات کو نظرانداز کیا لہذا اب کے بعد ICT اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرگرم تمام امریکی کمپنیاں جن کا ایران میں قتل عام کی ڈیزائننگ اور ٹارگیٹ کلنگ میں مرکزی کردار رہا ہے، ہماری جوابی کارروائی کے زد پر ہوں گی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ان کمپنیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے اس میں سرگرم کارکنوں اور اطراف میں رہنے والے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ اپنی جان محفوظ رکھنے کے لیے ان کمپنیوں کے دفاتر سے کم از کم 1 ہزار میٹر کی دوری برقرار رکھیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام کمپنیاں جنہوں نے مذکورہ دہشت گردانہ اقدامات میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، انہیں ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔

اس انتباہی بیان میں آیا ہے کہ ایران پر ہر جارحیت اور ہر قاتلانہ حملے کی صورت میں بدھ، پہلی اپریل شام 8 بجے سے درج ذیل کمپنیاں، ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد میں آئيں گی۔

1. sisco

2. HP

3. Intel

4. Oracle

5. microsoft

6. Apple

7. Google

8. Meta

9. IBM

10. DEL

11. Plantier

12. Nvidia

13. GP. Morgan

14. Tesla

15. GE

16. Spire Solution

17. G42

18. Boeing

 

جنگ کے بتیسویں روز بھی ایران کی مسلح افواج نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور مختلف محاذوں پر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران کی بحریہ نے امریکی اور صہیونی اہداف کے خلاف ایک بھاری حملہ کیا جس میں دشمن کو شدید نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ حملوں میں ایرانی میزائلوں کی ایک نئی لہر تل ابیب کی جانب داغی گئی جس کے بعد تل ابیب، اس کے جنوبی علاقوں اور مغربی کنارے کی شمالی بستیوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔

صہیونی میڈیا کے مطابق صرف دس منٹ کے اندر ایران کی جانب سے تل ابیب پر دو میزائل حملے کیے گئے اور مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اسی دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے عمومی علاقے میں دشمن کا ایک جدید MQ‑9 ڈرون نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ایران کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مار گرائے گئے امریکی و صہیونی ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب سپاہ پاسداران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی مجموعی تعداد 88 تک پہنچ گئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پینٹاگون کے دعوے کے برعکس ایک ماہ گزرنے کے باوجود ایران کی حملہ آور صلاحیت میں کمی نہیں آئی بلکہ حملے پہلے سے زیادہ منظم، مربوط اور شدید ہوگئے ہیں۔

 خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق کویت کی وزارتِ بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی مزدور ہلاک جبکہ پلانٹ کو شدید نقصان بھی ہوا ہے۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ملک کی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 ڈرون کی نشاندہی کی گئی۔ بعض حملوں کا ہدف مسلح افواج کا ایک کیمپ تھا جس کے نتیجے میں 10 فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک نجی لاجسٹک کمپنی کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے مالی نقصان ہوا تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

رپورٹس کے مطابق کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سعودی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں واقع ایک امریکی اڈے کی جانب پانچ بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ جس کے بعد شہریوں کو ہنگامی الرٹ سسٹم کے ذریعے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب بحرین میں بھی کم از کم سات دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

عراق میں ایک ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ بغداد ایئرپورٹ کے مغرب میں واقع امریکی لاجسٹک سپورٹ کیمپ (ویکٹوریا بیس) کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہاں سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

مزید اطلاعات کے مطابق اربیل میں الحریر امریکی اڈے کو بھی ایک میزائل نے نشانہ بنایا جبکہ شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں واقع الرميلان کے علاقے میں امریکی اڈے کے قریب بھی شدید دھماکے کی خبر دی گئی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجیوں کی خفیہ رہائشگاہ نیز ریڈار اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا ہے۔

فوج کے 48ویں بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو امارات میں نصب دشمن کے ریڈار اسٹیشنوں اور مراکز کو ڈھونڈ نکال کر، میزائلوں اور جنگی ڈرون طیاروں سے نشانہ بنا دیا گیا۔

اس بیان میں آیا ہے کہ ان حملوں میں دہشت گرد امریکی فوج کے اہل کاروں پر بھی خودکش ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا جو ایک خفیہ رہائشگاہ میں روپوش تھے۔

27 مارچ 2026ء کو امریکی صدر ٹرمپ نے Future Investment Initiative سرمایہ کاری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا، جس میں متعدد عالمی لیڈرز، کاروباری شخصیات اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “He thought it’d be just another American president that was a loser … He didn’t think he’d be kissing my ass … but now he has to be nice to me.” یعنی محمد بن سلمان نے پہلے نہیں سوچا تھا کہ یہ سب ہوگا، اور ”وہ میری پچھواڑا چاٹ رہا ہوگا“ (crude slang) لیکن اب اسے میرے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا پڑے گا۔ بظاہر یہ جملہ طنز یا مذاق کے طور پر سنا جا سکتا ہے، لیکن سیاسی اور سفارتی تناظر میں یہ ایک واضح اور معقول اشارہ بھی رکھتا ہے۔

فرض کریں کہ کسی کے پاس دوسرے کا کوئی حساس یا نجی راز ہو یا کوئی یا اسکے ساتھ کوئی نجی برا فعل اس کے ساتھ انجام دیا ہو اور وہ اس سے اپنے جائز یا ناجائز کام میں بھرپور حمایت چاہتا ہو۔ اس صورت میں دنیا کے مہذب لوگوں کے سامنے صرف ایک چھوٹا سا اشارہ یا جملہ دے دینا کافی ہے کہ وہ خود بخود سمجھ جائے گا۔ یہاں پہ ٹرمپ ایم بی ایس کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تمہارے نجی رازوں کو بتانے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے اگر تم نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ صدر ٹرمپ کوئی عام شہری یا محض بات کرنے والا نوجوان نہیں ہیں، بلکہ دنیا کے طاقتور ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کے جملے اکثر مقاصد، اشارے، اور leverage کے حربے کے طور پر ہوتے ہیں۔

نجی معاملات اور leverage عالمی سیاست میں طاقتور رہنما اور ممالک اپنے اتحادیوں یا حلیف ممالک کے ساتھ نجی اور حساس معلومات کو leverage کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کسی رہنما کے ذاتی یا جنسی راز اب صرف ذاتی نہیں رہے بلکہ سیاسی ہتھیار بن گئے ہیں۔ Edward Snowden کے لیکس نے واضح کیا کہ امریکہ نجی شہریوں اور عالمی رہنماؤں کی آن لائن اور مواصلاتی سرگرمیوں میں بھی جاسوسی کرتا ہے۔ CIA کے Vault 7 لیکس اور سفارتی کیبلز نے ظاہر کیا کہ حساس معلومات کس طرح اثرورسوخ اور دباؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بے تکلف جملہ اس زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اب جب کہ امریکی صدر ٹرمپ عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں یورپی ممالک ان کا ساتھ نہیں دے رہے اور عرب ممالک بھی صرف زبانی خرچ سے زیادہ کچھ نہیں کر رہے اس موقع پر یہ گفتگو کرنا ایم بی ایس کے لیے ایک پیغام ہے کہ ہم تمہارے حساس یا نجی معاملات سے آگاہ ہیں، اور تمہیں ہمارے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا۔ یہ ایک دوہری پیغام رسانی رکھتا ہے۔ 
ظاہری سطح پر طنز و مذاق
خفیہ سطح پر leverage کا اشارہ
نجی راز اور عالمی سیاست
تاریخی اور جدید مثالیں بتاتی ہیں کہ Edward Snowden لیکس (2013) اور امریکی NSA سمیت CIA کی نگرانی کے پروگرامز PRISM، XKeyscore، Boundless Informant نے واضح کیا کہ نہ صرف دہشت گردی بلکہ عام شہریوں کی نجی زندگی بھی ٹریک ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر یہ افشا ہوا کہ طاقتور ممالک نجی معلومات کے ذریعے leverage حاصل کرتے ہیں۔

CIA کے ہیکنگ ٹولز، میل ویئر، اور جاسوسی کے طریقے افشا ہوئے۔ اس نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل آلات اور رابطوں پر مکمل نگرانی ممکن ہے۔ عام تجزیہ نگار یہی کہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے پاس امریکی صدر ٹرمپ کے نجی راز موجود ہیں جس کی وجہ سے ٹرمپ مجبور ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہو جب بھی ٹرمپ نے اسرائیل کو کوئی انکار کی صورت دی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی ٹرمپ کا ایک سکینڈل نجی یا جنسی سامنے آ جاتا ہے اور ٹرمپ نتن یاہو کی زبان بولنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نجی اور ذاتی راز سیاست اور اثرورسوخ کا ہتھیار بن چکے ہیں۔ طاقتور ممالک یا رہنما اپنے اتحادیوں کو leverage میں رکھنے کے لیے حساس معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی گفتگو کا تجزیاتی منظر
صدر ٹرمپ کی محمد بن سلمان کے لیے بے تکلف جملہ ایک سیاسی حربہ اور اشارہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 
طنز یا مذاق عوام کے لیے: بے تکلفی، کھلے رویے کا تاثر
خفیہ leverage: محمد بن سلمان کو یہ واضح کرنا کہ ان کے حساس یا نجی راز جاننے کا امکان موجود ہے
اثرورسوخ اور تعاون: عالمی یا امریکی مفادات کے مطابق رویہ رکھنے کی ضرورت
یہ حکمت عملی قدرتی طور پر سیاسی دباؤ، اثرورسوخ، اور leverage کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا محمد بن سلمان کے لیے جملہ
محض طنزیہ یا مذاق نہیں، بلکہ عالمی سیاست میں leverage کے حربے کا مظہر ہے۔ نجی، حساس، اور جنسی راز اب عالمی تعلقات اور اثرورسوخ کے ہتھیار بن چکے ہیں، جس کی تازہ مثال ایپسٹین فائلز کا کیس ہے۔ اس ہتھیار کو طاقتور ممالک یا رہنما اپنے حلیفوں کے نجی راز سے واقف رہ کر، انہیں سیاسی اور سفارتی دباؤ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس منظر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں عوامی بیانات کے علاوہ، خفیہ معلومات اور نجی راز کے ذریعے بھی اپنی حکمت عملی اور leverage قائم کرتی ہیں۔

تحریر: میثم عابدی

خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر کو خبردار کیا ہے کہ ایران نے اب تک کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا ہے لیکن ہر جارحیت کے بعد، پروردگار عالم کی مدد سے، جنگ کے اختتام کا تعین ضرور کیا ہے۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے زور دیکر کہا کہ امریکی صدر کے جرائم، ان کی جنگ پسندی اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ صرف قتل عام اور علاقے اور دنیا میں بدامنی کی شکل میں سامنے آیا ہے جس کے خلاف دسیوں لاکھ امریکی عوام اور دنیا کے دیگر ملکوں کی قومیں سڑکوں پر نکل آئیں۔

انہوں نے امریکی صدر کی خودپسندی، آمرانہ رویے اور غلط اندازوں کو ان کے وہم زدہ دماغ، غرور اور غیرمتوازن شخصیت کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا کے تمام ممالک ٹرمپ کی حرکتوں کے نتیجے میں بدامنی اور مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے جنگ کے مبہم مستقبل کے خلاف امریکی عوام کے مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے امریکی صدر کو ایپسٹین کیس میں پھنسا کر اپنی باتیں ان سے منوا رہی ہے تا کہ شائد اپنی قبل از وقت موت سے بچ سکے لیکن اس کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔

خاتم الانبیا (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے زور دیکر کہا کہ اگر چہ ٹرمپ نے غرور اور وہم کے نتیجے میں بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا لیکن اسے بخوبی علم ہے کہ ایران کے شجاع اور باتجربہ عوام اور دلیر مسلح افواج کے مقابلے میں اسے شکست کے علاوہ کچھ ملنے والا نہیں ہے اور اسی لیے دیگر ملکوں کے سربراہوں کے ذریعے جنگ ختم کرانے کی درخواستیں بھیج رہا ہے۔

کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بارہا اعلان کیا جا چکا ہے کہ ایران کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کرتا لیکن دشمن کی جارحیت کے بعد، جنگ کے خاتمے اور خاتمے کے وقت کا فیصلہ ایران کرتا ہے۔

 اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایک خبر پر ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ غاصب اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے کیتھولک چرچ کے سب سے بڑے مذہبی رہنما کو Palm Sunday یا کھجور کے اتوار تیہوار کو منانے سے روک دیا اور انہیں گرجا گھر میں داخل ہونے نہیں دیا۔

اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے اپنے تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ [عیسائی شہریوں نے] Palm Sunday تیہوار، اسرائیل کے ہاتھوں عام شہریوں کی وحشیانہ بمباری کے باوجود ایران کے تہران، تبریز اور ارومیہ شہروں میں منایا۔

1945 سے قبل عیسائیوں کی آبادی مقبوضہ سرزمینوں کے ساڑھے 12 فیصد پر مشتمل تھی جو اب گھٹ کر 1 فیصد رہ گئی ہے۔

صیہونیت اسلام اور عیسائیت کے تمام آثار کو مٹانا چاہتی ہے۔