سلیمانی

سلیمانی

 اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کے دوران اسرائیلی فضائی اڈوں پر میزائل گرنے کی تصدیق کردی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میزائل کچھ اسرائیلی فضائی اڈوں پر گرے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل گرنے کے نتیجے میں فضائی اڈوں کی انتظامی عمارتوں اور جہازوں کی مرمت کی جگہوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل حملے میں فضائیہ کے کسی بھی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔ ایران نے گذشتہ روز اسرائیل پر 190 بیسلٹک میزائل فائر کیے تھے اور اس حوالے سے ایران کے پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ 90 فیصد میزائل نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے زیادہ تر میزائلوں کو امریکا کی مدد سے ناکام بنا دیا، کچھ میزائل زمین پر گرے، تاہم ان میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کی جانب سے حملے کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ صیہونی ریاست کی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل پر اگلا حملہ اس سے بھی کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔

بیان کا متن مندرجہ ذيل ہے:

عظیم اسلامی امت اور شہید پرور ایرانی قوم کچھ لمحے قبل اور صیہونی حکومت کی جانب سے مجاہد شہید ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کے قتل کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی پر طویل صبر اور امریکہ کی حمایت سے غزہ و لبنان میں قتل عام اور لبنان میں مجاہد کبیر، مزاحمت کے رہنما اور حزب اللہ کے سرافراز سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ اور پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلی مشیر اور بہادر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید عباس نیلفروشان کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ نے دسیوں بیلسٹک میزائلوں سے مقبوضہ سر زمین کے قلب میں واقع کئی اہم فوجی و سیکوریٹی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا کہ جس کی تفصیلات بعد میں اعلان کی جائيں گی ۔

واضح رہے یہ آپریشن اعلی قومی سلامتی کی منظوری، چیف آف آرمی اسٹاف کی اطلاع اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور وزارت دفاع کی حمایت سے کیا گيا ہے۔

خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر صیہونی حکومت نے، ملکی و عالمی قوانین کے مطابق کئے گئے اس آپریشن پر فوجی رد عمل ظاہر کیا تو اس کے بعد اسے  زيادہ شدید اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے کو ’’فیصلہ کن ردعمل‘‘ قرار دے دیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حملہ اسرائیلی جارحیت کا ردعمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور خطے میں امن کے لیے جائز حق کا استعمال کیا گیا، صیہونی ریاست کی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن جواب دیا گیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران جنگجو نہیں ہے، لیکن وہ کسی بھی خطرے کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہے، یہ ہماری طاقت کا صرف ایک گوشہ ہے، ایران کے ساتھ تنازعہ میں نہ پڑیں۔ واضح رہے کہ عرب میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر 400 میزائل داغ دیئے جبکہ لبنانی علاقوں سے بھی اسرائیل پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے منگل کے روز مزید کہا: ایرانی شہریوں اور مفادات کو نشانہ بنانے اور اسلامی جمہوریہ کے اقتدار اعلی پر حملہ کرنے والی صیہونی حکومت کے دہشت گردانہ اقدامات کا ایران کی جانب سے جواب، قانونی، منطقی اور جائر ہے۔

 ایران کے نمائندہ دفتر نے کہا ہے کہ  صیہونی حکومت کے رد عمل اور نئی  خباثت کی صورت میں اگلا رد عمل اور تباہ کن ہوگا۔  خطے کے ممالک اور صیہونیوں کے حامی اس حکومت سے اپنا حساب کتاب الگ کرلیں۔

مقبوضہ فلسطین پر میزائل حملے بعد پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا کہ عظیم اسلامی امت اور شہید پرور ایرانی قوم کچھ لمحے قبل اور صیہونی حکومت کی جانب سے مجاہد شہید ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کے قتل کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی پر طویل صبر اور امریکہ کی حمایت سے غزہ و لبنان میں قتل عام اور لبنان میں مجاہد کبیر، مزاحمت کے رہنما اور حزب اللہ کے سرافراز سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ اور پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلی مشیر اور بہادر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید عباس نیلفروشان کی شہادت کے بعد پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ نے دسیوں بیلسٹک میزائلوں سے مقبوضہ سر زمین کے قلب میں واقع کئی اہم فوجی و سیکوریٹی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا کہ جس کی تفصیلات بعد میں اعلان کی جائيں گی ۔

واضح رہے یہ آپریشن اعلی قومی سلامتی کی منظوری، چیف آف آرمی اسٹاف کی اطلاع اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور وزارت دفاع کی حمایت سے کیا گيا ہے۔

خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر صیہونی حکومت نے، ملکی و عالمی قوانین کے مطابق کئے گئے اس آپریشن پر فوجی رد عمل ظاہر کیا تو اس کے بعد اسے  زيادہ شدید اور تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا حکم دیا اور اس حملے کے بعد ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر عباس نیلفروشان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ہم نے اسرائیل کے قلب کو نشانہ بنایا ہے۔

جوانی کی قدر کریں اور منصوبہ بندی کریں!

اپنی جوانی کی قدر کریں۔ ایک وسیع میدان آپ کے سامنے ہے۔ انشاء اللہ، آپ اس دنیا میں اب سے 60 یا 70 سال بعد بھی ہوں گے۔ اس طویل مدت کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ آپ کے منصوبے کامیاب ہونے کے لیے آپ کو غور وفکر کی ضرورت ہے اور اس کیکئے قرآن کو جاننا یقینی بنائیں۔ قرآن پڑھیں اور اس پر غور وفکر کریں۔ ان لوگوں سے سیکھیں جنہوں نے اس پر آپ سے پہلے اور آپ سے زیادہ غور وفکر کیا۔

 

باہدف زندگی کے راستے کو پہچانیں!

اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اس راستے کو پہچانیں جس کی آپ کو پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم معاملات کو صحیح طریقے سے سمجھیں، اور اگر ہم اس طریقے سے کوشش کریں، تو ہماری زندگی معنی اور مقصد حاصل کرے گی۔

 

مقصدِ حیات اور اسکا واحد راستہ!

پیسہ کسی کی زندگی کا مقصد بننے کے لائق نہیں ہے۔ حیثیت، طاقت، اور سماجی عہدے کسی شخص کی زندگی کے مقاصد کے لیے بہت معمولی ہیں۔ زندگی کا مقصد [خدا کی] بندگی ہے۔ مقصد خدا تک پہنچنا ہے، اور ایسا کرنے کا واحد طریقہ “إِنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ” ہے۔

 عہد جوان ، رہبر معظم

مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے ایکا اور حیفہ بے میں یکے بعد دیگرے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

المیادین کے حوالے سے صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ ایکا کے علاقے اور اس کے اطراف سے مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ دھماکے کی آواز کے بعد مغربی الجلیل علاقے، ایکا اور حیفہ بے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی۔

اس سلسلے میں لبنان سے ایکا  کے علاقے تک حالیہ حملے میں 35 میزائل اور راکٹ دیکھے گئے ہیں۔

نیز صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کی حزب اللہ نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں اتوار کی شام حملوں کے دوران مغربی الجلیل کے قصبے "شاتولہ" کو نشانہ بنایا ہے۔

لبنان کی حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کفر شعبا کی بلندیوں میں واقع سماقہ فوجی اڈے پر توپ خانے سے حملہ کیا۔

دریں اثناء لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان میں اعلان کیا: آج صبح (اتوار) لبنانی اسلامی مزاحمتی مجاہدین نے غزہ کی پٹی میں ثابت قدم فلسطینی قوم کی حمایت اور ان کی جرأت مندانہ اور باوقار مزاحمت اور لبنان اور اس کی قوم کے دفاع میں، غزہ کی پٹی میں فلسطینی قوم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 

لبنانی مزاحمت نے آج صبح ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں صیہونی حکومت کے "اوویک" اڈے کو متعدد "فادی 1" میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
 
 
 
 

پاسداران انقلاب اسلامی کی سپاہ قدس کے کمانڈر، جنرل اسماعیل قاآنی نے سردار استقامت  کی شہادت پر اپنے پیغام تعزیت میں لکھا ہے کہ حزب اللہ کے مجاہد قائد سید حسن نصراللہ کی مظلومانہ اور المناک شہادت نے ہميں داغدار اور اسلامی استقامتی محاذ نیز دنیا کے سبھی حریت پسندوں کو سوگوار کردیا۔

 انھوں نے اپنے پیغام میں کہا  ہے کہ حزب اللہ کے شہید قائد نے اپنی پوری بابرکت اور قابل فخر عمر اسلام اور قرآن کے خبیث ترین دشمن کے ساتھ جنگ کے میدان میں گزار دی  اور بالآخر اپنا خون اور جان اعلی اسلامی اصولوں اور ملت فلسطین کی حمایت نیز لبنانی عوام کی سربلندی کی راہ میں  فدا کردی ۔

 جنرل قاآنی نے کہا ہے کہ اس نورانی سید نے روحانیت اور اعلی تدابیر سے تحریک حزب اللہ کی قیادت کی اور اس کو جاویدانی روحانی اور جہادی عزت و طاقت کی بلند ترین چوٹی تک پہنچادیا۔

انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ نے جنگ تموز( تینتس روزہ جنگ) اور اسی طرح عراق اور شام میں داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کے خلاف جنگ میں مجاہدتوں کے زریں ابواب رقم کئے۔

  جنرل قاآنی نے آخر میں لکھا ہے کہ میں غمزدہ قلب  لیکن فضل و عنایت الہی کی امید کے ساتھ حزب اللہ کے اپنے مجاہد بھائیوں، شہید کے صابر کنبے  اورمحاذ اسلامی استقامت کے اپنے سبھی بھائیوں کو تعزیت وتبریک پیش کرتا ہوں اور ان شاء اللہ فتح فلسطین اور آزادی قدس تک شہید کی راہ کو جاری رکھنے میں آپ کے ساتھ باقی رہوں گا۔ 

ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اتوار 29 ستمبر کی شام کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اگرچہ صیہونی بزدلوں کو ان کے جرائم کا ٹھوس جواب یقینا دیا جائے گا، لیکن تاریخی تجربات گواہ ہیں کہ بیداری پیدا کرنے والی حریت پسند تحریکیں ان کے لیڈروں اور افراد کے دہشت گردانہ قتل سے ختم نہیں ہوتی ہیں۔

 انھوں نے کہا کہ ان تحریکوں کا ایک لیڈر قتل کیا جاتا ہے تو دسیوں افراد ظلم کی  مخالفت اور انصاف پسندی کا پرچم اٹھانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

 صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے اس خطاب میں مجاہد کبیر سید حسن نصراللہ کی شہادت کی تعزیت پیش کرتے ہوئے سفاک صیونی حکومت کے جرائم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔   

انھوں نے کہا کہ اس حکومت کے حالیہ جرم نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی اصول وضوابط کی پابند نہیں ہے۔

صدر ایران نے کہا کہ امریکا اور یورپ کے حکام یہ وعدے کررہے تھےکہ اگر شہید ہنیہ کے قتل کا ایران کی جانب سے  جواب نہ دیئے جائے جنگ بندی ہوجائے گی لیکن یہ سبھی وعدے جھوٹے تھے ۔

انھوں نے کہا کہ صیہونیوں کو  ان جرائم کے ارتکاب پر چھوٹ  دیئے جانے پران کی جرائتیں زیادہ بڑھیں گی۔

صدر ایران نے بتایا کہ انھوں نے ایک امریکی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں یہ واضح کیا تھا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ جنگ میں حزب اللہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی میرا نظریہ یہ ہے کہ لبنانی  مجاہدین کو اس اس سفاک حکومت کے ساتھ جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ استقامتی محاذ کے دیگر ملکوں پر بھی حملہ کرکے وہاں بھی عورتوں اور بچوں کا قتل عام کرے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے علاقے میں صیہونی حکومت کی درندگی اور سفاکی پر عرب اور غیر عرب اسلامی ملکوں کی سنگین ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ملکوں کو صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم پر خاموش نہیں رہنا چاہئے کیونکہ آج دنیا کے سبھی لوگوں پر ثابت ہوگیا ہے کہ دنیا میں جنگ ، بدامنی اور انسانوں کے قتل عام کا اصلی عامل اور مجرم کون ہے۔

صدر ایران نے  صیہونی حکومت کی کھلی دہشت گردی پر مغربی میڈیا کے دوغلے پن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذرائع ابلاغ جو ایران میں معمولی سے واقعے کو بہت بڑا بناکر پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارے ملک کو بدنام کرسکیں، انہیں اتنے بڑے جرائم کیوں نظر نہیں آتے اور انھوں پر ان پر کس طرح اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں؟

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ یہ جرائم ہمارے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہیں اور بغیر جواب کے نہیں رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ ان بزدلوں کے جرائم کا جواب ضروری ہے اور یقینا دیا جائے گا لیکن تاریخی گواہ ہے کہ بیداری پیدا کرنے والی حریت پسند تحریکوں کو ان کے لیڈران اور شخصیات کے قتل سے ختم نہیں کیا جاسکتا اور ایک فرد قتل ہوگا تو دسیوں افراد ظلم کی مخالف  اور انصاف پسندی کی تحریک کا پرچم اٹھانے کے لئے تیار رہیں گے۔