سلیمانی
شہادت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہمارے ساتویں امام ہیں ۔ آپؑ کے والد ماجد معلم بشریت، مربی انسانیت صادق آل محمد ؑ قرآن ناطق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا ہیں کہ جن کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ حمیدہ کنیزوں کی سردار ہیں، ہر برائی اور گندگی سے پاک ہیں جیسے شمس طلا (گولڈ بلین)، ملائکہ ہمیشہ ان کی حفاظت کرتے تھے یہاں تک کہ کرامت خدا ان کا نصیب ہوئی۔’’ اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘حمیدہ گندگی سے پاک ہیں جیسے شمس طلا(گولڈ بلین )۔ ملائکہ انکی حفاظت کرتے یہاں تک کہ وہ مجھ تک پہنچ گئیں، یہ اللہ کی کرامت ہے ہم پر اور ہمارے بعد آنے والے ائمہ ؑ پر۔ ’’
روایت میں ہے کہ جب جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں پہنچی تو امام ؑ نے ان سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا ‘‘حمیدہ’’ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘تم دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہو’’
مذکورہ روایات سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و اضح ہوتی ہے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا نام موسیٰؑ، کنیت ابوابراہیم، ابوالحسن اول اور ابو علی ہے اور آپؑ کے القاب کاظم (غصہ کو پی جانے والا)، عبد صالح اور باب الحوائج زیادہ مشہور ہیں ۔ اہل مدینہ آپؑ کو زین المجتہدین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔
سن ۱۲۸ یا ۱۲۹ ہجری میں فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد جب امام جعفرصادق علیہ السلام اپنی شریکہ حیات جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے تو مقام ابواء پر امام عالی مقام کے کاروان نے استراحت کے لئے قیام کیا ۔ یہ ابواء وہی مقام ہے جہاں رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ ماجدہ صدف رسالت حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا کی قبر مبارک ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ خیمہ میں غذا نوش فرما رہے تھے کہ خادم نے اطلا ع دی کہ جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا کی طبیعت ناساز ہے ، یہ سننا تھا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام فوراً اٹھے اور جناب حمیدہ سلام اللہ علیہا کے خیمے میں گئے ۔ آپؑ کے وہاں پہونچتے ہی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد امام علیہ السلام واپس اپنے اصحاب کے پاس شاد و خوشحال تشریف لائے تو سب آپؑ کے احترام میں کھڑے ہوگئے اور احوال پرسی کی تو فرمایا: ‘‘حمیدہ (سلام اللہ علیہا ) بخیر و عافیت ہیں ۔ اللہ نے مجھے ایک بیٹا دیا ہے کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ ’’
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اصحاب سے فرمایا : ‘‘حمیدہ ؑ نے مجھے کچھ باتیں بتائیں وہ سمجھ رہی تھیں کہ مجھے نہیں معلوم ’’ حاضرین نے پوچھا مولا واقعہ کیا ہے تو امامؑ نے فرمایا:‘‘جیسے ہی میرے نور نظر موسیٰؑ دنیا میں آئے، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی جانب بلند کر کے اللہ کی تسبیح، تہلیل و تحمید فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجا۔ ’’
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے حمیدہ ؑسے کہا کہ‘‘ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، امیرالمومنین علیہ السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی روش ہے کہ دنیا میں قدم رکھتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے ہیں اور سر آسمان کی جانب بلند کر کے اللہ کی تسبیح، تہلیل و تحمید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کا اعتراف و اقرار اور اسکی گواہی دیتے ہیں۔ جیسے ہی یہ جملے انکی زبان سے جاری ہوتے ہیں تو اللہ انکو اولین و آخرین کا علم عطا کر دیتا ہے اور شب قدر میں ملائکہ انکی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ ’’
ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے فرزند امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت با سعادت پر تین دن تک ولیمہ کیا اور ہم سب نے کھانا کھایا۔
اگرچہ ۷؍ صفر آپؑ کی تاریخ ولادت مشہور ہے لیکن چونکہ یہ روایت اکثر بلکہ تقریباً تمام کتب میں مرقوم ہے کہ سفر حج سے واپسی پر مقام ابواء پر آپؑ کی ولادت ہوئی ہے لہذا بعض محققین نے آپؑ کی تاریخ ولادت ۲۰؍ ذی الحجہ بیان کی ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے صحابی یعقوب سراج کا بیان ہے کہ ایک دن میں اپنے مولا و آقا امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کے نزدیک گہوارہ میں آپ کے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام تھے۔ میں نے آپؑ کو سلام کیا آپؑ نے جواب دیا اور گہوارے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اپنے مولا و آقا کو سلام کرو۔ میں حسب حکم گہوارے کے نزدیک گیا اور امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپؑ نے جواب سلام عطا کیا اور فرمایا "یعقوب اللہ نے کل تمہیں ایک بیٹی عطا فرمائی ہے تم نے اس کا جو نام رکھا ہے بدل دو کیوں کہ اللہ کو وہ نام پسند نہیں۔" جب میں واپس ہونے لگا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اپنے مولا کے حکم کی تعمیل کرنا اسی میں دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔
یعقوب سراج کا بیان ہے کہ ہم نے امام موسی کاظم علیہ السلام کے حکم کے مطابق اپنی بیٹی کا نام بدل دیا۔
(اصول کافى : ج 1، ص 310، ح 11، إ ثبات الهداة : ج 3، ص 158، ح 12.)
جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث ہے کہ ‘‘ہم اہلبیتؑ کی امامت کی دلیل ہمارا علم ہے۔’’ یہی علم امامت تھا کہ جس نے ہر دور کے ظالم و جابر اور غاصب کو آپؑ حضرات کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا ۔ اگر چہ دعویٰ ‘‘سلونی’’ صرف امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا لیکن اس دعویٰ کی دلیل ہمارے ہر معصوم امام نے دی۔ کیوں کہ ائمہ ہدیٰ علیہم السلام کا علم لدنی ہے ، وہ اللہ کی تمام مخلوقات پر اس کی حجت ہیں ، لہذا اگرچہ ظاہرا ً انکی زبان عربی تھی لیکن وہ تمام مخلوقات کی زبان سے واقف تھے۔ وہ چاہے گہوارے میں ہوں یا ایام پیری میں ، سن وسال یا حالات سے ان کا علم و یقین متاثر نہیں ہوتا تھا۔ جیسا کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘اگر حجابات ہٹا بھی دئیے جائیں تو میرے یقین میں اضافہ نہیں ہو گا۔ ’’ جس طرح منزل علم میں دعویٰ صرف امیرالمومنین علیہ السلام نے کیا لیکن دلیل بارہ اماموں نے دی اسی طرح مرحلہ یقین میں بھی دعویٰ صرف مولا علی علیہ السلام نے کیا لیکن دلیل ہمارے بارہ اماموں نے دی۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جسکی متعدد روایتیں تائید کرتی ہیں کہ جب آپ حضرات شکم مادر میں تھے تو اس وقت بھی آپؑ کے علم و کرامت کا فیض جاری تھا اور مادران گرامی کے انیس و یاور رہے اور بعد شہادت بھی فیض علم و کرامت عام ہے۔
اگر ہم سرکار باب الحوائج حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی علمی سیرت کو ملاحظہ کریں تو آپ ؑ نے گہوارے سے شہادت تک وہ نمونے پیش کئے جو عام انسان کے لئے نہ فقط قابل تصور نہیں بلکہ انہیں پڑھ کر انسان حیرت و تعجب میں پڑ جاتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے کمسنی میں امام ابوحنیفہ نے متعدد بار علمی مناظرے کئے اور ہر بار انہیں امام عالی مقام کی علمی مرتبے کا اقرا ر کرنا پڑا۔ اسی طرح عباسی خلفاء، یہود ونصاریٰ اور منکرین خدا سے مناطرے کئے جن میں مقابل کو ہمیشہ شکست کا سامنا ہی کرنا پڑا۔ کتب تاریخ میں کتنے واقعات ہیں کہ جن میں غیر عربوں نے جب عربی زبان میں سوال کیا تو امامؑ نے انہیں انکی مادری زبان میں جواب دیا ، بلکہ بعض اوقات ان کے اصل نام و نسب سے بھی آگاہ کیا جسے سن کر وہ تصویر حیرت بن گئے۔
جس طرح آپؑ کی علمی شخصیت بے نظیر تھی اسی طرح آپ ؑ کی اخلاقی سیرت بھی لا جواب تھی۔ آپؑ کی اخلاقی سیرت آپؑ کے مشہور لقب ‘‘کاظم’’ یعنی غصہ کو پی جانے والا، سے ہی واضح ہے، آپ کا لطف و کرم مخالفین کے بھی شامل حال رہتا تھا، خلیفہ دوم کی نسل کا ایک شخص جو اکثر آپؑ کی برائی کرتا تھا آپؑ نے اس پر احسان کیا ۔ رات کی تاریکی میں فقراء و مساکین کی امداد فرماتے۔ بشر حافی جو پہلے لہو و لعب اور غنا میں تباہ تھے جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے خود انکی کنیز کے ذریعہ انکی ہدایت کی تو وہ توبہ کر کے عابد و زاہد بن گئے۔ لیکن افسوس دور حاضر میں کچھ نام نہاد مدّاح جو اسیر دنیا ہیں اور ان کا مقصد صرف دنیا ہے وہ میوزک پر نوحے اور منقبتیں گا رہے ہیں ۔ میرا ان تمام اسیرانِ دنیا سے چاہے وہ ہمارے ملک کے ہوں یا پڑوسی ملک سے ، سوال ہے کیا تمہیں مدح اہلبیت اطہار علیہم السلام کے سبب عزت، دولت ، شہرت نہیں ملی ، تمہیں حلال سے کیا نہیں ملا جو تم حرام میں گئے اور وادی ظلمت کے مسافر ہو گئے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا دورہ امامت سن ۱۴۸ ہجری میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت سے شروع ہوا ، ماحول انتہائی پر آشوب تھا، کچھ کمزور عقیدہ والے آپؑ کے مرحوم بھائی اسماعیل کی امامت کے قائل ہو گئے جب کہ انکی وفات والد ماجد کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے انکی وفات صراحت و وضاحت سے بیان بھی کی تھی، دوسری جانب آپؑ کے ایک بھائی عبداللہ افطح نے امامت کا دعویٰ کر دیا ، آپؑ نے آگ روشن کرائی اور جب شعلے بلند ہونے لگے تو انکو بلایا اور کہا کہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچّے ہیں کہ آپ امام ہیں تو آگ میں جائیں ، انہوں نے کہا کہ پہلے آپؑ جائیں تو فخر ابراہیم امام موسیٰ کاظم علیہ السلم آگ میں گئے اور تھوڑی دیر بعد راکھ جھاڑتے ہوئے نکل آئے ، جسم تو دور لباس بھی نہیں جلا تھا یہ دیکھتے ہی عبداللہ افطح نے فرار کو قرار پر ترجیح دی لیکن اپنے دعویٰ سے پیچھے نہیں ہٹے اور کچھ کمزور عقیدے والوں کو گمراہ کر تے رہے۔
عباسی حاکم نے آپؑ کو تقریباً چودہ برس سخت ترین قید میں رکھا اور یہ اسیری آپؑ کی شہادت ۲۵؍ رجب سن ۱۸۳ ہجری پر تمام ہوئی ۔ امام علیہ السلام نے ایسے سخت ترین حالات میں کہ جب آپؑ قید خانہ میں تھے، لوگوں سے ملاقات نہیں کر سکتے تھے تو مومنین کی ہدایت کے لئے مختلف علاقوں میں وکیل معین کر کے نظام وکالت کو قائم کیا تا کہ جب حجت خدا پردہ غیبت میں ہو تو مومنین خود کو لا وارث نہ سمجھیں بلکہ وکلاء اور نمایندگان امام سے ہدایت حاصل کرتے رہیں۔ آپؑ نے علی بن یقطین کو اس شرط پر عباسی حکومت میں وزارت قبول کرنے کی اجازت دی کہ وہ مومنین کو فائدہ پہنچائیں اور انہیں نقصان سے بچائیں، و گرنہ آپؑ نے صفوان جمّال کو واضح طور پر شغل بدلنے اور اونٹ بیچنے کا حکم دیا تا کہ کسی مومن کے دل میں کسی ظالم کی زندگی کی معمولی سی خواہش بھی نہ آئے۔
جناب بہلول رضوان اللہ تعالیٰ علیہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے سچے شیعہ تھے ، وہ اپنے دور کے اعلم اور فقیہ اعظم تھے جب مسجد میں درس دیتے تو مسجد علماء ، فقہاء اور طلاب سے بھر جاتی ، ہر ایک انکا احترام کرتا تھا لیکن جب ہارون نے انہیں منصب قضاوت پر مجبور کیا اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے منصب قضاوت کے قبول کرنے سے منع کیا تو انہوں نے اپنے ایمان اور جان کو بچانے کے لئے دیوانگی اختیار کر لی کہ ایک دور وہ تھا کہ بڑے بڑے عالم و فقیہ ہونے کے سبب احترام کرتے تھے لیکن اب گلی کے بچّے مذاق اڑانے لگے ۔ جناب بہلول رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی شخصیت، اپنی عزت ، اپنا وقار تو قربان کر دیا لیکن حجت خدا امام معصوم کی نافرمانی نہیں کی۔ قرآن کریم نے ہمیں سوچنے، سمجھنے اور فکر کرنے کی دعوت دی ہے لہذا ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئیے۔
تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
کیا توبہ میں جلدی کرنا ضروری ہے ؟
کیا توبہ میں جلدی کرنا ضروری ہے ؟
مختصر جواب:
تمام علمائے اسلام کا وجوب توبہ پر اتفاق ہے اور قرآن مجید کی آیات میں متعدد بار اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ، سورہ تحریم کی آٹھویں آیت میں پڑھتے ہیں : '' یا اَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَى اللّهِ تَوْبَهً نَصُوحاً عَسَى رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّیاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّات تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الاَْنهارُ '' ۔
انبیاء الہی کو جس وقت منحرف امتوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا تھا تو ان کا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ توبہ کی دعوت دیتے تھے ، کیونکہ توبہ اور لوح دل کو دھلے بغیر توحید اور فضائل کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
نبی خدا حضرت ہود علیہ السلام کا سب سے پہلا کلام یہ تھا : '' وَ یا قَومِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیْهِ '' ۔ اے میری قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو ، پھر اس کی طرف پلٹ آئو اور توبہ کرو! (١) ۔
نبی خدا حضرت صالح علیہ السلام نے بھی اسی بات کو اپنی بنیاد قرار دیا اور کہا : ''............فاستغفروہ ثم توبوا الیہ'' ۔ اس سے بخشش طلب کرو اور خدا کی طرف پلٹ آئو اور توبہ کرو (٢) ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اسی منطق کے ساتھ اپنی قوم کو دعوت دی اور کہا : '' وَاستَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیْهِ اِنَّ رَبّى رَحیمٌ وَدُودٌ '' ۔ اور اپنے پروردگار سے استغفار کرو اس کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ کہ بیشک میرا پروردگار بہت مہربان اور محبت کرنے والا ہے ۔
اسلامی روایات میں بھی فورا توبہ کرنے کے اوپر تاکید ہوئی ہے جیسے :
١
مفصل جواب:
قرآن کریم کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ میں جلدی کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ سورہ تحریم کی ٨ ویں آیت میں ملتا ہے : '' يا أيها الذين آمنوا توبوا إلى الله توبة نصوحا '' ۔ اسلامی روایات میں بھی توبہ کرنے میں جلدی کرنے کی تاکید ہوئی ہے ، جیسا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے فرمایا ہے : '' وَاِنْ قارَفْتَ سَيِّئَةً فَعَجِّلْ مَحْوَها بِالتَّوبَةِ '' ۔ اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو توبہ کے ذریعہ جلدی سے جلدی محو کردو !
صنعتکاروں اور معاشی میدانوں میں کام کرنے والوں نے بعض میدانوں میں پابندیوں کو مواقع میں بدل دیا
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے منگل کی صبح ملک کے صنعتی و پیداواری شعبوں میں سرگرم تقریبا ایک ہزار افراد سے ملاقات کی۔ انھوں نے بڑے معاشی اہداف کو عملی جامہ پہنانے میں نجی شعبے کی پوری طرح سے مؤثر گنجائش اور صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کام کاج اور کاروبار کے میدان کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں حکومت کی حمایت اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے ذمہ داریاں قبول کیے جانے پر زور دیا اور انہیں ملک کے حالات کو بہتر بنانے اور بھرپور پیشرفت کی راہ ہموار کرنے والی دو بہت اہم ضرورتیں قرار دیا۔
انھوں نے پیداواری شعبوں میں سرگرم 12 افراد کی باتیں سننے کے بعد، مینوفیکچررز کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے کام کرنے کی ہدایت کی۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے، ملک کی پیداواری توانائیوں کی نمائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس کا انھوں نے گزشتہ روز معائنہ کیا تھا، اس نمائش کو زبردست اشتیاق انگیز بتایا اور کہا کہ ہم اس نمائش کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی طاقت کے ایک نمونے کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
انھوں نے پابندیوں جیسے محدود کرنے والے بعض مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رکاوٹوں کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر کی کوشش اور پیشرفت، لوگوں کو پرامید کرتی ہے اور یہ سیکٹر، ایران کو ساتویں پنج سالہ ترقیاتی پروگرام کی مطلوبہ 8 فیصدی کی پیشرفت تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے جدت عمل کو کل کی نمائش اور آج کی نشست کی نمایاں خصوصیت بتایا اور کہا کہ جدت عمل، ماہر افرادی قوت کی عکاسی کرتی ہے اور ماہر افرادی قوت، ایک عظیم سرمائے کی حیثیت سے بڑے مسائل کے حل، دشوار راہوں کو طے کرنے اور ایران کے اوج پر پہنچنے کی راہ میں ایک قابل اطمینان سہارا ہوگی۔
انھوں نے حکومت اور معاشی کارکنوں میں ذمہ داری کے احساس کو، عوامی سرمائے کی گنجائش سے بھرپور طریقے سے استفادے کا لازمہ بتایا اور کہا کہ حکومت کی ذمہ داری عام طور پر کام کاج کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا اور اس کے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی نگرانی، نجی شعبے کی حمایت کے عمل کو مکمل کرتی ہے اور اس نگرانی کو، جو مداخلت سے بالکل الگ ہے، بالکل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے دنیا کی حکومتوں کی جانب سے اپنی بڑی کمپنیوں کی حمایت اور پشت پناہی کو ان کمپنیوں کی کامیابی کا ایک سبب بتایا اور کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو حکومت کی ایک ضروری مدد، برآمد اور غیر ملکی منڈیوں کا دائرہ بڑھانا ہے اور اس سلسلے میں معاشی ڈپلومیسی کو حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ محنت سے مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
انھوں نے پابندیوں اور دشمنوں کے معاندانہ اقدامت جیسے باہری مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتیں یقینی طور پر نقصان پہنچانے والی ہیں اور ملک کے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں لیکن ان ہی مسائل کو مواقع میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ہمارے جوانوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور آج ہم نے فوجی ہتھیاروں یا فضائی میدان میں اور ثریا سیٹلائٹ کی لانچنگ جیسی پیشرفت کی مانند زبردست سائنسی کارنامے انجام دیے ہیں اور اگر پابندیاں نہ ہوتیں تو آج ہم یہ کارنامے انجام نہ دے پاتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں کہا کہ نجی شعبے میں صحیح مینیجمنٹ ہو اور اس کی صحیح طریقے سے حمایت کی جائے تو زبردست گنجائش، بے پناہ قدرتی ذخائر، ماہر افرادی قوت اور حکومت اور عوام کے درمیان اچھے روابط کے پیش نظر ایران کی بھرپور پیشرفت، ہر ایک کو نظر آنے والی ایک حقیقت میں تبدیل ہو جائے گی۔
حق کی حکمرانی؛ ولایتِ فقیہ کی مرکزیت میں مضمر ہے
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبائی حوزہ ہائے علمیہ کے نائب سربراہ حجت الاسلام والمسلمین احمد فرخ فال نے کہا کہ انسانی ارتقاء کے اہم مقاصد اور ذرائع میں سے ایک، رسولوں کی بعثت اور کتابوں کا نزول تھا، جس کی وجہ سے انسان زمین پر خدا کا خلیفہ بنا؛ اگر یہ افق اور یہ دنیا بنی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمین پر کچھ ایسی ہستیاں آئیں جو اللہ تعالیٰ کی جانشین تھیں۔
انہوں نے حدیث قدسی «یـا أَحْمَدُ، لَوْلاکَ لَما خَلَقْتُ الْأَفْلاکَ، وَ لَوْلا عَلِیٌّ لَما خَلَقْتُکَ، وَ لَوْلا فاطِمَةُ لَما خَلَقْتُکُما» کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ولایت اور اہل بیت (ع) کے بارے میں بحث اس لیے کی جاتی ہے کہ یہ جانشینی اور یہ الٰہی خلافت وحی اور خاندان عصمت و طہارت سے وصل کے بغیر ممکن نہیں ہے اور اگر اس دنیا میں صلح، عدالت اور پاکدامنی کا بول بالا ہو تو وہ خدا کی ولایت کی حاکمیت اور موجودگی کے بغیر ممکن نہیں اور اس کے علاؤہ اس زمین پر صلح نہیں ہوگی اور استکبار ختم نہیں ہوں گے۔
حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے سیکرٹریٹ کے سربراہ نے کہا کہ آج حق کی حکمرانی، سوائے رسول اللہ (ص) اور اہل بیت (ع) کی ولایت اور غیبت کبریٰ میں جامع الشرائط ولی فقیہ کی مرکزیت کے سوا ممکن نہیں ہے اور مبلغین کو بھیجے بغیر عالمی معاشرے کی ہدایت بھی ناممکن ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین فرخ فال نے دور حاضر میں تبلیغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد، 60 مبلغین کو آمادہ کر کے دنیا بھر میں الٰہی اور اسلامی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بھیجا، دشمنانِ اسلام نے ان تمام مبلغین کو بے دردی سے شہید کر دیا، لیکن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے تبلیغ سے ہاتھ نہیں اٹھائے۔
کوثر سیٹلائٹ کا اپ گریڈ ورژن خلا میں روانگی کے لیے تیار
ایوان صدر کے شعبہ ٹیکنالوجی کے سربراہ حسین شہرابی نے نجی شعبے کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کی نمائش میں رہبر انقلاب کے دورہ کے موقع پر "کوثر" نامی سیٹلائٹ کے جدید ورژن لانچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سیٹلائٹ اگلے ایرانی سال کی پہلی ششماہی میں خلا میں بھیجا جائے گا۔
کوثر 1.5 سیٹلائٹ جو کہ ملکی ماہرین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، دراصل دو سیٹلائٹس کوثر اور ھدھد کا اپ گریڈ ورژن ہے، جو گزشتہ 5 نومبر کو لانچ کیے گئے تھے۔ یہ دونوں سیٹلائٹس اپنے ریموٹ سینسنگ اور انٹرنیٹ آف تھنگز کے ساتھ زراعت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
حسن شہرابی نے مزید کہا کہ ان سیٹلائٹس کے نہ صرف ٪85 سے زیادہ اجزاء مقامی ہیں بلکہ ان سیٹلائٹس کا پورا ڈیزائن بھی مقامی ماہرین نے تیار کیا ہے اور یہ منصوبہ مکمل طور پر مقامی سمجھا جاتا ہے۔
حماس اور عالمی طاقتوں کی تحقیر
یاد رہے اقوام متحدہ ایسا بین الاقوامی ادارہ ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور تباہ کن جنگوں کی روک تھام کے لیے تشکیل پایا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذمہ داران غزہ جنگ کے دوران انجام پانے والی نسل کشی اور بربریت کے خلاف نہ صرف مناسب اقدامات انجام دینے میں ناکام رہے بلکہ انہوں نے ان انسان سوز جرائم پر غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مناسب ردعمل اور تادیبی کاروائیاں بھی انجام نہیں دیں اور یہ سہل انگاری خود کو دنیا میں جمہوریت کے محافظ قرار دینے والے مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کے دباو پر انجام پائی ہے۔ لیکن اب غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔
غزہ کے شجاع عوام اور اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے مجاہدین نے خالی ہاتھ اور شدید ترین دباو کے باوجود غاصب صیہونی رژیم اور اس کے حامی مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ ہمارے زمانے میں تلوار پر خون کی فتح کا بہترین مصداق ہے۔ غزہ کے واقعات سے ثابت ہو گیا ہے کہ کس طرح ایک شجاع قوم اپنی استقامت اور مزاحمت کے ذریعے جابر ترین طاقتوں کو جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ غزہ میں ایک بے دفاع اور نہتی قوم نے صرف اور صرف محدود اسلامی ممالک جیسے ایران، یمن، لبنان، عراق اور ایک حد تک شام کی مدد کے ذریعے عالمی استکباری طاقتوں سے مقابلے کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ لہذا گذشتہ ڈیڑھ سال میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں درج ذیل چند نکات قابل غور ہیں:
1)۔ بنجمن نیتن یاہو، جس نے حماس کو نابود کرنے کا دعوی کیا تھا عملی طور پر خود حماس سے ہی دوبارہ جنگ بندی معاہدہ انجام دینے پر مجبور ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حماس زندہ ہے اور نیتن یاہو اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پایا۔
2)۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس یہ ظاہر کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ وہ ایک مزاحمتی گروہ ہونے کے ناطے امریکہ سمیت اسرائیل کی حامی عالمی طاقتوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ ان مغربی طاقتوں کی تحقیر ہے جو خود کو دنیا کی سپر پاورز کے طور پر متعارف کرواتی پھرتی ہیں۔
3)۔ دنیا بھر کے انسان اور عالمی رائے عامہ غزہ جنگ کے دوران بہت اچھی طرح امریکی حکمرانوں اور ان کے دیگر اتحادی ممالک کے دوغلے معیاروں کو پہچان چکے ہیں۔
4)۔ اس وقت ایک عالمی ادارہ ہونے کے ناطے اقوام متحدہ اس اہم سوال سے روبرو ہے کہ کیا وہ اپنی ان ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کامیاب رہی ہے جو اقوام متحدہ کے منشور میں بیان ہوئی ہیں یا اس میں ناکام رہی ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ عملی طور پر فلسطینی قوم کے خلاف انجام پانے والے بہیمانہ جرائم جیسے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، قتل عام اور انہیں جبری طور پر جلاوطن کر دینا وغیرہ کی روک تھام میں بری طرح ناکامی کا شکار رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی رہنما اور ممالک جو ہر عالمی مسئلے میں اقوام متحدہ کے ذریعے اقدامات انجام دینے پر زور دیتے ہیں اس وقت موجودہ حالات کے جوابدہ ہیں اور انہیں ان تمام نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے۔
5)۔ آخری نکتہ یہ ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو مختلف پہلووں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر قانونی میدان میں وہ بہت کمزور ہو گیا ہے اور گوشہ نشین کا شکار ہو چکا ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سمیت کچھ صیہونی حکمرانوں پر عالمی عدالت انصاف کی جانب سے غزہ میں نسل کشی جیسے جنگی جرم کا ثابت ہو جانا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اور یوآو گالانت کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو جانا اس کی واضح دلیل ہے۔ سیاسی لحاظ سے بھی غاصب صیہونی رژیم بحرانی ترین حالات کا شکار ہے۔ عالمی رائے عامہ میں اسرائیل آئندہ طویل عرصے تک ایک نسل پرست، جنگ طلب اور جرائم پیشہ رژیم کے طور پر جانا جائے گا۔ مذکورہ بالا تمام اسباب اسرائیل کی جعلی رژیم کی نابودی اور خاتمے میں تیزی کا باعث بنیں گے۔
علاقائی و عالمی سطح پر ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید مستحکم ہوگا، جنرل محمد باقری
جنرل محمد باقری نے کہا کہ خوش قسمتی سے حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ ہم نے آپس میں اچھے معاہدے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان طویل سرحد موجود ہے۔ دونوں ممالک ہر وقت سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں تاکہ سرحدوں پر ایک دوسرے کے تعاون سے دونوں ممالک کی عوام کے اقتصادی مفاد کو وسعت دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے اس دورے کے اہم ترین موضوعات میں بارڈرز، دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں اور مسلح افواج کے درمیان تعلقات میں وسعت شامل ہے۔ واضح رہے کہ آرمی چیف کی باضابطہ دعوت پر جنرل محمد باقری ایک اعلیٰ سطحی عسکری وفد کے ہمراہ اپنے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ جہاں وہ بری و فضائی افواج کے سربراہان، صدر، وزیراعظم اور وزیر دفاع سے جدا جدا ملاقات کریں گے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جنرل محمد باقری کا اپنی تعیناتی کے دوران یہ تیسرا دورہ پاکستان ہے۔
کیا خدا کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے؟
علم کلام میں عقاید کے بارے میں بحث ہوتی ہے اس طرح علم کلام وہ علم ہے جس میں اسلامی عقائد سے بحث کی جاتی ہے اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کس پر اعتقاد رکھنا اور ایمان لانا ضروری ہے۔ اس میں وہ نظریات سکھائے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر دینی عقائد کو ثابت کیا جاتا ہے یا یہ وہ علم ہے جس میں اللہ تعالی کی ذات، اس کی صفات اور اس کے ممکن احوال کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے۔اس طرح کہ علم کلام میں اللہ کی صفات کمالیہ اور صفات جمالیہ پر بحث کی جاتی ہے۔اس علم میں سب سے پہلے بہت ہی دقیق اور حکمت والی دلیلوں سے اللہ کے وجود کی معرفت کے ضروری ہونے کو ثابت کیا جاتا ہے اور پھر اللہ کے وجود کو ثابت کیا جاتا ہے۔
اس علم کے اہم مباحث میں سے یہ ہے کہ ان دلیلوں کو بیان کیا جائے جو خالق کے وجود کو ثابت کریں کہ وہ اس کائنات کے بنانے والا ہے۔ایسا خاص ادلہ کے ساتھ ممکن ہے جو بہترین انداز میں پیش کی گئی ہوں ہم یہاں پر چند کو ذکر کریں گے۔
پہلی دلیل:انسان کی فطرت سلیمہ اس کا تقاضا کرتی ہے:
انسان کی فطرت سلیمہ جس پر وہ پیدا ہوتا ہے وہ اس کا تقاضا کرتی ہے اور فطرت وہ عقل ہے جو خواہشات سے داغدار نہ ہو،اسی طرح اس یہ سب سے پہلے انسان کو اپنے وجود کے سبب پر غور کا کہتی ہے اور پھر خالق پر وجود پر غور کا حکم دیتی ہے۔کچھ ایسے امور ہیں جن کی طرف ہر صاحب عقل کی سوچ جاتی ہے اور کوئی صاحب عقل ان کا انکار نہیں کر سکتا بالخصوص وہ سوالات انسانی نفس میں موجود ہوں تو وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان سوالات پر غور و فکر کیا جائے اور تحقیق کر کے ان کو حل کیا جائے۔
ان سوالات پر غور و فکر کر کے ان کے جوابات کو تلاش کرنا ہی در اصل خالق،مخلوق اور زندگی کی معرفت حاصل کرنا ہے۔
دوسری دلیل: یقینی اور محتمل نقصان سے بچنا:
عقل کسی بھی نقصان سے بچنے کا حکم دیتی ہے اگرچہ اس کا فقط احتمال ہی کیوں نا ہو۔اگر وہ نقصان ایسا ہو جس کے بارے میں مصلحین کی بڑی تعداد،فلاسفہ اور اہل عقل فضلاء کی بڑی تعداد نے بھی کہا ہو تو عقل اس سے بچنے کا کہتی ہے۔اسی طرح ایک بڑی حقیقت کے طور پر سامنے ہو جیسے اللہ تعالی کا وجود جو اس کائنات کا خالق ہےاس کو ماننے اور نہ ماننے کے اثرات بہت زیادہ ہوں۔ لوگوں کو اس خالق پر ایمان لانے کی دعوت دینا،اس کی اطاعت کرنا،اس کے احکامات کو ماننا اور اس کی مخالفت سے بچنا چاہیے۔اسی طرح کچھ اثرات اور بھی ہیں جیسے یہ عقیدہ کہ اگر خالق نہیں ہے تو انسان کی زندگی مرنے ختم ہو جائے گی مگر یہ زندگی کا اختتام نہیں ہے اللہ کے ہاں ایک اور زندگی ہے اور اس زندگی کی مثال ایک پل جیسی ہے جس کے ذریعے سے انسان ایک اور ابدی زندگی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے انسان جس عالم میں منتقل ہوتا ہے وہ عالم آخرت ہے۔اس آخرت کی زندگی کا دارو مدار اس دنیا کی زندگی میں کیے گئے اعمال پر ہے۔
یہ واضح ہے کہ ان امور کے بارے میں سب سے پہلے انسان کی فطری عقل بحث کرتی ہے یہ انسان کے لیے غور و فکر اور تدبر کا مقام بھی ہے جب انسان کے سامنے کچھ سوالات جیسے خود انسان کی تخلیق کا سوال وغیرہ آتا ہے تو عقل سوچتی اور غور و فکر کرتی ہے۔
انسان کی عقل ان حقائق کو نظر انداز نہیں کرتی جن میں نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہو۔اس خوف کا احتمال حقائق میں غور و فکر کا نتیجہ ہے،ضرر کا خوف ہی اس باعث بنا ہے کہ انسان غور و فکر کرے اور سوچے جبکہ یہ نقصان کا اندیشہ تواتر کے ساتھ ایسے لوگوں کی طرف سے آیا ہے جو صاحبان عقل و دین ہیں اگرچہ اس نقصان کا احتمال ضعیف ہی کیوں نہ ہوتا اہل عقل کو اس سے بچنا چاہیے تھا۔
عقل کا کام ہے وہ کبھی بھی ان مقامات کو ایسے ہی نہیں چھوڑتی جہاں سے اسے نقصان کا اندیشہ ہو وہ غور و فکر کرتی ہے اوربڑی دقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔عقل جانچ پڑتال کر کے اس کے درست و غلط ہونے کو پرکھتی ہے اس وقت تک سعی کو جاری رکھتی ہے جب تک اسے دلیل میسر نہ آجائے اور صحیح غلط کا پتہ نہ چل جائے۔عقل و منطق کا یہ تقاضا ہے کہ انسان احتمال کی تحقیق کرے یہ احتمال کس کی طرف سے آیا ہے اسے نظرانداز نہ کرے خود احتمال کی تحقیق کرے مثلا ایک بچہ بھی کہے تو بھی غور کرے۔جب بچوں کی بات کو عقل نظر انداز نہیں کرتی جن کا زندگی کا تجربہ نہیں ہوتا تو انبیاء، مرسلین ،حکماء، مصلحین،فلاسفہ اور اہل عقل و منطق کی بات کو عقل کیسے نظر انداز کر سکتی ہے؟اگر ان سب کی آواز پر کوئی متوجہ نہیں ہوتا تو عقل سے انحراف ہے اور اپنی تقدیر کو خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔
تیسری دلیل:نعمت دینے والے کا شکریہ ضروری ہے:
ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے خالق اور اپنے بنانے والے کی نعمتوں پر اس کا شکریہ ادا کریں۔ یہ ایک اخلاقی اور ادبی مسئلہ ہے یہ عقیدتی مسئلہ بعد میں بنتا ہے۔خالق نے انسان کو اتنی نعمتیں دی ہیں کہ وہ ان کو شمار نہیں کر سکتا اور ہر طرف سے نعمتوں میں گھرا ہوا ہے۔اس کی نعمتوں کا سلسلہ انسان کی زندگی سے لے کر اس کی موت تک جاری رہتا ہے۔کسی بھی ضمیر کا مالک انسان ہو وہ ان نعمتوں کا انکار نہیں کر سکتا۔ہر صاحب عقل کی سوچ و فکر یہ کہتی ہے کہ ایسی ڈھیروں نعمتیں دینے والے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور جب تک ہم اس نعمتیں عطا کرنے والے کو پہچان نہیں لیں گے اس وقت تک ہم اس کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔اس طرح ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ان نعمتوں کے خالق کی معرفت حاصل کریں جو اللہ تعالی ہے اور ہر خیر کی بنیاد وہی ہے۔وہی علم و مرتبہ کی بنیاد ہے اور سب سے پہلا علم خالق کی معرفت ہی ہے اور پھر یہ جانا جائے کہ اس خالق کے احکامات کیا ہیں؟ وہ کن چیزوں کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے؟اس کو وظائف اور تکالیف شرعیہ کا نام دیا جاتاہے ان میں سے کچھ ایسے اخلاقی احکام ہیں جن کا تعلق اجتماعی حقوق سے ہے جیسے یہ جاننا کہ وہ کونسے حقوق ہیں جو ہم نے ادا کرنے ہیں اور کون سے حقوق و واجبات ہیں۔نبی انسانیت حضرت محمد ﷺ سے مروی ہےایک اعرابی کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایاجس نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا مجھے غرائب علم کی تعلیم دیں؟ کیا تم نے اصل علم کو حاصل کر لیا ہے کہ تم غرائب علم کا سوال کر رہے ہو؟ اعرابی نے پوچھا اے اللہ کے رسول اصل علم کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی اس طرح معرفت حاصل کرنا جیسا اس کی معرفت حاصل کرنے کا حق ہے۔اعرابی نے پوچھا اللہ کی ایسی معرفت جس میں حق معرفت ادا ہو جائے وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اس کو کسی مخلوق جیسا یا مخلوق کی شبیہ جیسا نہ جاننا اور اسے واحد و یکتا قرار دینا،وہ ظاہر و باطن ہے ،وہ اول آخر ہے ،اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے،اس کی نظیر کوئی نہیں اور یہ اللہ کا حق معرفت ہے۔
میجر جنرل سلامی کی موجودگی میں آئی آر جی سی نیوی کے بحری جہازوں کے کمپلیکس کی رونمائی
پاسداران انقلاب فوج کی بحریہ کے بحری جہازوں کے ایک زمین دوز مرکز کی رونمائی آئی آر جی سی کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی کی موجودگی میں کی گئی۔
اس تقریب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر جنرل سلامی نے ایک خطاب میں کہا: "آج ہم نے پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے معزز کمانڈر کے ساتھ جس کمپلیکس کا معائنہ کیا، وہ ان بہت سے کمپلیکسز میں سے ایک ہے جہاں پاسداران انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور میزائل لانچ کرنے والے اور بارودی سرنگ بچھانے والے بحری جہاز رکھے جاتے ہيں۔
میجر جنرل سلامی نے مزید کہا: "اگرچہ یہ کمپلیکس جس کا آج عزیز ایرانی قوم مشاہدہ کر رہی ہے ایک شاندار کمپلیکس ہے، لیکن یہ آئی آر جی سی کی بحریہ کی پوری دفاعی طاقت کے سامنے ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔"
انہوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی جنگی اور دفاعی صلاحیت میں روز بروز اضافے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: "ان بحری جہازوں کی جنگی صلاحیت اور ان پر نصب میزائل سسٹم ان متعدد جنگی جہازوں کے علاوہ ہیں جو اس وقت خلیج فارس میں ہمارے وطن کی آبی سرحدوں کے تحفظ کے لیے گشت کر رہے ہیں
جنرل سلامی نے کہا : "خدا کے فضل سے،پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ میں گزشتہ اور موجودہ برسوں میں، اس فورس کے ساز و سامان اور ہتھیاروں کی مقدار اور معیار دونوں میں ہی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔"
میجر جنرل حسین سلامی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "خدا کے فضل سے، کشتی رانی کی رینج، جہازوں کی رفتار، ان جہازوں پر نصب میزائلوں کی رینج، ان کا نشانہ ، اور ان کی تباہ کن طاقت ، ہر شعبے میں غیر معمولی پیش رفت ہوئي ہے۔"
جنرل سلامی نے کہا ہے ہم اپنے عزم و ٹھوس ارادے کے ساتھ رہبر انقلاب اسلامی کے ایک حکم پر، ایرانی قوم کی عظمت کے دفاع اور مختلف دفاعی شعبے میں نئي تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہيں۔
لاس آنجلس آگ پر مفتی عمان کا عقیدہ
ایکنا نیوز، عربی ۲۱ نیوز کے مطابق عمان کے مفتی اعظم احمد بن حمد الخلیلی نے لاس اینجلس میں آتشسوزیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خدا کی قدرت کا مظہر ہے، جو ظالموں اور متکبروں کو ان کے غرور کے سبب سزا دیتا ہے۔
مفتی الخلیلی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو جهنم میں تبدیل کرنے کی دھمکی دی تھی، لیکن اس کے بعد خود ان کے ملک کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی، اور یہ آگ سردی کے موسم میں لگی، جہاں جدید ترین حفاظتی نظام بھی موجود تھے۔
الخلیلی نے حضرت علی علیہ السلام کے خطبہ مالک اشتر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: إِيَّاکَ وَ مُسَامَاةَ اللهِ فِي عَظَمَتِهِ، وَالتَّشَبُّهَ بِهِ فِي جَبَرُوتِهِ، فَإِنَّ اللهَ يُذِلُّ کُلَّ جَبَّار وَ يُهِينُ کُلَّ مُخْتَال (خبردار! خود کو عظمت میں خدا کے برابر کرنے اور جبروت میں اس سے مشابہت اختیار کرنے سے بچو، کیونکہ خدا ہر جابر کو ذلیل اور ہر متکبر کو رسوا کرتا ہے)۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغاز سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی قیدی رہا نہ ہوئے تو مشرق وسطیٰ کو جہنم میں بدل دیا جائے گا۔
لاس اینجلس میں آتشسوزی نے چند دنوں میں خشک موسم اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوا کے باعث ہزاروں ہیکٹر اراضی کو خاکستر کر دیا۔ ان آگوں نے شہری علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیل گئی۔/




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
