Super User
امریکہ کا گوانتا ناموبے جیل بند کرنے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گوانتا ناموبے جیل کو بند کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بار اک اوبامہ نے کہاہے کہ امریکی وزار ت دفاع نے گوانتا ناموبے حراستی مرکز بند کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا ہے جسے جلد ہی امریکی کانگریس کو سامنے پیش کردیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ گوانتا نا موبے کے قیدیوں کو 13دیگر امریکی جیل خانوں میں منتقل کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کو کیو با کے بجائے امریکہ میں رکھنے سے 65سے 85ملین ڈالر کم خرچ ہو نگے.
اسٹیٹ بینک آف پاکستان: پاکستان اور ایران کے درمیان بینکنگ کے شعبے میں تعاون کا جلد آغاز
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے مقامی بینکوں کو ایرانی بینکوں کے ساتھ براہ راست لین دین کرنے کی جلد اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستانی اداروں کے لئے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تجارت میں آسانی پیدا ہو گی اور رقوم کی وصولی اور منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایران کے سینٹرل بینک کو حکومت پاکستان کے فیصلہ سے آگاہ کیا جائے گا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے، ایران کے سینٹرل بینک کے ساتھ رابطے کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کا ملت بینک، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں آئندہ ماہ سے اپنی سرگرمیاں پھر سے شروع کر دے گا۔ سیؤل میں ملت بینک کے برانچ مینیجر کم تائے گل نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور ہم مارچ کے اوائل میں بینکاری تعاون کا آغاز کر دیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے خلاف مغرب کی ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے سن دو ہزار نو میں ملت بینک کی سیؤل برانچ کی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔
آمنہ ، حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی (ص) کی مادر گرامی

"آمنہ" وھب بن عبد مناف کی بیٹی، جن کی مادر گرامی " برہ" بنت عبد العزی تھیں۔[1] ان کا نسب پاک کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تک پہنچتا ہے۔ "آمنہ " کے ماں باپ آپس میں چچیرے بھائی بہن تھے۔
"بنو زھرہ " کا خاندان ہمیشہ قریش کے ساتھ بافخر اور با شکوہ واقعات میں برابر کا شریک تھا، مکہ کی تاریخ کو، ان کے بافخر نام سے زینت دی گئی ہے۔
عبد مناف، آنحضرت کے تیسرے جد، کا نام مغیرہ تھا [2] انہیں قمر البطحاء کہا جاتا تھا، انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل تھا ، مورخین نے ان کے بارے میں یہ لکھا ہے: پرھیزگاری ، تقوی کی طرف دعوت ، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ، صلہ رحم ان کا پیشہ تھا۔ حجاج کو پانی پہنچانا اور حجاج بیت اللہ الحرام کی مہمان نوازی عبد مناف کے بیٹوں کے ذمے تھی، یہ عالی منصب ان کے لیے پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے تک قائم تھا۔
"آمنہ " قمر البطحاء (مکہ کے چاند) کی بیٹی نہ صرف ظاھری طور پر خوبصورت تھیں بلکہ انھوں نے پرھیزگاری ،مہمان نوازی وغیرہ کو اپنے باپ سے ورثہ میں پایا تھا۔ " برہ" حضرت آمنہ کی ماں بھی " بنی کلاب" کے شریف اور بزرگ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، وہ نسب میں وھب بن عبد مناف کے ساتھ شریک ہیں، "برہ" کی ماں ام حبیبہ بھی اسی نسب سے " ارحام مطھرہ" کے خوبصورت جلوؤں میں سے تھیں۔
حضرت آمنہ(س) کی اعلیٰ خصوصیات
جو بھی چیز انسان کو جاودان اور ہمیشگی عطا کرتی ہے وہ اس کے نیک صفات اور عظیم اخلاق ہیں ، انساںوں کی اخلاقی خصوصیات ان کی شخصیت کی عظمت کو نمایان کرتی ہیں ۔
یہ اعلی ترین صفات شیخ البطحاء حضرت عبد المطلب ، کی زبانی یوں بیان ہوئی ہیں ، عبد المطلب ، آمنہ کا رشتہ مانگنے سے پہلے بنی ہاشم کے باعزت نوجوان عبد اللہ کے پاس آئے اور یوں کہا :
میرے بیٹے، آمنہ ایک ایسی لڑکی ہے جو تمہاری رشتہ دار ہے مکہ میں کوئی اورلڑکی اس جیسی نہیں ہے، پھر فرمایا : خدا کی عزت و جلال کی قسم ، کہ شہر مکہ میں اس جیسی کوئی اور لڑکی نہیں ہے کیونکہ وہ با حیاء اور باادب ہے ، اس کی روح پاک ہے ، وہ عاقل سمجھ دار اور دیندار لڑکی ہے : فو اللہ ما فی بنات اھل مکہ مثلھا لانھا محتشمۃ فی نفسھا طاھرۃ و مطھرہ عاقلۃ دیںہ[3]
اس خاتون کی گہری نظر ، عفت اور پاکدامنی اتنی زیادہ تھی کہ تاریخ نے یوں لکھا ہے[4] : آمنہ اس دور میں نسب اور بیاہ کے لحاظ سے قریش کی با فضیلت لڑکیوں میں تھی۔
اس خاتون کی دوسری عمدہ صفات میں سادہ زندگی، اور مادی جلوؤں سے دوری تھی جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا[5]: بے شک میں قریش کے اس خاتوں کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھاتی تھی، انما انا ابن امرءۃ مں قریش تاکل القدید"
آمنہ کی دینداری
آنحضرت (ص) کو سید الناس و دیان العرب " کہتے تھے۔
بعض لوگ تاریخی اور عقیدتی مسائل کو سطحی نظر سے دیکھ کر یہ کہتے ہیں: چونکہ آمنہ اسلام کے ظہور سے پہلے رہتی تھی لہذا وہ مومنہ نہیں ہوسکتی تھی پس وہ مشرک خواتین میں سے ہیں " لیکن مسلمان مورخین اور محققین کایہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت کے آباء اور امہات سب مومن تھے۔
وہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اس حدیث سے استناد کرتے ہیں: لم یزل ینقلنی اللہ من اصلاب الشامخۃ الی الارحام المطھرات حتی اخرجنی الی عالمکم ھذا و لم یدسننی دنس الجاھلیۃ " [6]
خداوند نے مجھے پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل کیا ہے یھاں تک کہ میں اس تمہاری دنیا میں آیا اور کبھی بھی میں جاھلیت کے افکار اور ناپاکیوں سے آلودہ نہیں ہوا ہوں۔
اس حدیث شریف سے جو مختلف عبارتوں میں نقل ہوئی ہے حضرت آمںہ کا پاک ہونا اور ان کا فطری طہارت ثابت ہوتی ہے۔
مسلماںوں میں اھل سنت سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے علماء نے حضرت آمنہ کے پاک ہونے کو ثابت کرنے کے لیے یہ روایت بیان کی ہے کعب الاحبار نے معاویہ سے کہا میں نے بہتر کتابوں میں پڑھا ہے کہ فرشتے حضرت مریم اور آمنہ بنت وھب کے علاوہ کسی اور پیغمبر کی ولادت کے لیے زمیں پر نازل نہیں ہوئے نیز مریم اور آمنہ کے علاوہ کسی اور عورت کے لیے بہشتی حجاب نہیں لے آئے ہیں[7]
واقدی اور اھل سنت کے مختلف مذاھب کے علماء نے اس حدیث کو نقل کرکے بیان کیا ہے.
خداوند متعال کبھی بھی ایک کافر عورت کو حضرت مریم جیسی با ایمان عورت کے مقابلے میں قرار نہیں دے سکتا ہے اگر حضرت آمنہ با ایمان نہ ہوتیں تو کبھی بھی حضرت مریم کے مقامات ان کے لیے موجود نہ ہوتے کیونکہ ایمان اور کفر کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے اور یہ دو کبھی جمع نہیں ہوسکتے [8]
شیخ صدوق بھی اپنی کتاب اعتقاد میں بیان کرتے ہیں : اعتقادنا فی آباء النبی انھم مسلمون من آدم الی ابیہ و ابا طالب و کذا آمنہ بنت وھب ام رسول اللہ [9]
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت (ص) کے باپ دادا، حضرت آدم سے حضرت عبد اللہ تک اور ابو طالب اور اسی طرح آمنہ ، حضرت رسول اللہ (ص) کی مادر گرامی بھی مسلمان ہیں.
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جبرئیل حضرت رسول اکرم (ص ) پر نازل ہوئے اور فرمایا: یا محمد (ص) ان اللہ یقرئک السلام ۔۔۔[10]
اے محمد(ص) خداوند متعال آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے : " میں نے اس صلب اور پشت پر جس میں آپ منقتل ہوئے ہیں اور اس رحم پر جس نے تمہیں حمل کیا اور اس دامن پر جس نے تمہاری تربیت کی آگ حرام کردی ہے
مرحوم مجلسی رقمطراز ہیں: یہ حدیث حضرت عبد اللہ ، حضرت آمنہ ، حضرت ابو طالب کے ایمان کو ثآبت کرتی ہے کیوںکہ خداوند متعال نے سب مشرکوں اور کفار پر عذاب کو واجب کیا ہے اگر یہ مومن نہ ہوتے تو آگ ان پر حرام نہیں ہوتی۔
با حجاب ، با حیاء اور محتشمہ
اس خاتون کی ایک اور خصوصیت ان کی حیاء اور ادب تھا ، جس کو عربوں کے درمیان محتشمہ کے نام سے جانتے ہیں۔
لغت کی کتابوں میں اس لفظ کی یوں تعریف کی گئی ہے [11]
احتشام و ھو افتعال من الحشمہ بمعنی الانقباض و الاستحیاء و الحشمہ و الحیاء و الادب ، احتشام حشمت سے لیا گیا ہے جس کے معنی شان و شوکت ، با حیاء اور با ادب ہونے کے ہیں۔
حشمت کے معنی ادب اور حیاء کے ہیں یہ خوبصورت صفات جن خواتین کے اندر موجود ہوتی ہیں وہ اسی کے زیر سایہ جسمانی اور روحانی سکون حاصل کرسکتے ہیں۔
عبد المطلب کی بیوی "فاطمہ" کا حضرت آمنہ سے رشتہ مانگنے کا واقعہ اور جو کچھ اس محفل میں واقع ہوا عرب کی اس عظیم لڑکی کے باادب اور با حیاء ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب عبد المطلب کی زوجہ وھب بن عبد مناف کے گھر آئیں، تو آمنہ ان کے سامنے میں کھڑی ہوگئیں اور انہیں خوش آمدید کھہ کر گھر کے اندر لے گئی ، جب فاطمہ نے حضرت آمنہ کی خصوصیات اور ان کے نیک اخلاق کو مشاھدہ کیا تو ان کی ماں سے کہا: میں نے اس سے پہلے بھی آمنہ کو دیکھا تھا مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی حسین اور با کمال لڑکی ہوگی۔
پھر جب حضرت آمنہ نے گفتگو کی ، تو فاطمہ نے اسے مکہ کی سب سے فصیح خاتون پایا وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور عبد اللہ کے پاس آکر فرمایا: میرے بیٹے میں نے عرب لڑکیوں کے درمیان اس جیسا کسی کو نہیں پایا میں نے اس کو تمھارے لیے پسند کرلیا۔
عقلمندی اور سمجھ داری۔
سمجھ دار اور عقلمند ہونا اولیاء الھی کے صفات میں سے ہے، عبد المطلب نے حضرت آمنہ کی " عاقلہ" یعنی عقل مند کے نام سے تعریف کی ہے۔ حضرت آمنہ عربوں کی عقل مند خاتون ،فھم اور سمجھ میں بے نظیر تھیں ، موت کے وقت اس عظیم خاتون کی گفتگو سے ان کے فھم اور عقل کا کمال سامنے آیا۔ وہ اپنے بیٹے حضرت محمد (ص) سے کہتی ہیں :"کل حی میت و کل جدید بال و کل کثیر یفنی ، و انا میت و ذکری باق و قد ترکت خیرا و ولدت طھرا "
ہر زندہ مرجائے گا ہر نیا پرانا ہوگا ، ہر جماعت فنا پذیر ہوگی میں بھی مرجاؤں گی لیکن میری یاد ہمیشہ رہے گی ، میں نے خیر(اپنا بیٹا) باقی رکھا اور ایک پاک و پاکیزہ مولود کو جںم دیا [12]
فصاحت و بلاغت
مکہ کی اس لائق لڑکی کی ایک اور صفت اس کی شیرین بیانی اور قوت کلام تھی، جو اشعار اس کے موجود ہیں وہ اس کی دلیل ہیں۔ اس نے اپنے بیٹے حضرت محمد(ص) کو خطاب کرکے بیان کیا ہے :۔
ان صح ما ابصرت فی المنام فانت مبعوث علی الانام
من عند ذی الجلال و الاکرام تبعث فی الحل و فی الحرام
تبعث بالتحقیق و الاسلام دین ابیک البر ابراھیم
فاللہ انھاک عن الاصنام ان لا توالیھا مع الاقوام
خلاصہ کے طور پر شعر کے معنی یوں ہیں:
جو خواب میں دیکھا ہے اگر صحیح ہوگا تو تم لوگوں پر مبعوث ہوجاو گے۔
خدا کی طرف سے جو صاحب جلال و الاکرام ہے، حلال اور حرام کو بیان کرنے کے لئے۔
تم مبعوث ہوں گے حق بیان کرنے کےلیے اور اسلام پر جو تمہارے باپ حضرت ابراھیم کا دین ہے ، کیونکہ خدا نے تمہیں بتوں کی عبادت اور بت پرستوں کی پیروی سے دور رکھا ہے۔
پاک و طاھرہ ، عفیفہ
حضرت آمنہ کی طہارت و پاکیزگی اھل مکہ پر پوشیدہ نہیں تھی ، یہ طہارت مختلف مواقع پر عربوں کے مختلف اشعار اور الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس کریم خاتون کی توصیف میں یوں لکھا گیا ہے : "انھا کان وجھھا کلفلقۃ القمر المضیئہ و کانت مں احسن النساء جمالا و کمالا و افضلھن حسبا و نسبا"
بے شک کہ آمنہ کا چہرہ چمکتے چاند کے مانند تھا وہ عورتوں میں سب سے خوبصورت اور با کمال خاتون تھیں وہ صفات اور حسب و نسب میں سب سے بہترین تھیں"
بہترین شادی
بے شک حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کی شادی کا ثمر سب سے عزیز اور شریف النفس انسان کی ولادت تھی ، اس لئے ان کی شادی سب سے اہم اور با برکت شادی مانی جاتی ہے کیونکہ اس شادی کے بے شمار مثبت نتائج کے علاوہ یہ شادی خود بخود بھی مقدس اور دینی رسوم کے مطابق انجام پائی تھی ہمیں اس شادی کے لیے مادی اور ظاھری توجیہ کو مد نظر نہیں رکھنا چاھیئے، کیونکہ عرفان اور فلسفہ کے مسلمات کے مطابق عالم وجود میں کوئی واقعہ خودبخود رونما نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز ایک علت و سبب کا معلول اور مسبب ہوتا ہے، اس لئے دو انسانوں کا ملنا بھی اسباب و عوامل کے مطابق ہوتا ہے ، چونکہ خداوند متعال کے علم ازلی میں یہی مقدر تھا کہ سب سے عظیم موجود یعنی حضرت رسول اکرم (ص) (نہ کہ حضرت آدم جو بغیر ماں و باپ کے پیدا ہوئے اور نہ ہی حضرت عیسی جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ) ایک پاکدامن خاتون کے دامن سے اس دنیا میں تشریف لائیں لہذا بے شک ان دو انسانوں کی شادی ایک عام اور معمولی شادی نہیں تھی ، بلکہ یہ سب سے مبارک شادی تھی اور خداوند متعال کی ایک خاص نظر عنایت ان پر تھی [13]
شادی کا طریقہ
حضرت عبد اللہ کی حضرت آمنہ سے شادی کا واقعہ مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ، عظیم عالم مرحوم شیخ عباس قمی اس سلسلے میں رقمطراز ہیں" جب عبد اللہ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا نبوت کا نور اس کی پیشانی سے چمکنے لگا ، اس علاقے کے سب اکابر اور اشراف یہ تمنا کرتے تھے کہ ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کریں تا کہ اس نور میں شریک ہونے کا شرف حاصل کر سکیں۔ کیونکہ حسن و جمال میں وہ یکتا فرد تھے اور ہر دن کے گزرنے سے ان سے مشک و عنبر کی خوشبو سونگھی جاسکتی تھی ، مکہ کے لوگ انہں "مصباح الحرم" کہتے تھے یہاں تک کہ تقدیر الھی سے عبد اللہ حضرت رسالتماب کے گوھر کے صدف یعنی حضرت آمنہ بنت وھب بن عبد مناف بن زھر بن کلاب بن مرۃ سے متصل ہوگئے۔ [14]
"برہ" آمنہ کی ماں اپنے شوھر وھب کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد عبد المطلب(ع) کے گھر آئیں اور حضرت عبد اللہ کے ساتھ اپنی بیٹی آمنہ کی شادی کی تجویز پیش کی ، انہوں نے بڑے فخر سے کہا: ہماری بیٹی آپ کے فرزند حضرت عبد اللہ کے لیے بہترین ہمسر ہے، عبد المطلب نے اپنے بیٹے کی جانب مڑ کر فرمایا: میرے بیٹے اس سلسلے میں تمھارا کیا خیال؟ خدا کی قسم مکہ کی لڑکیوں کے درمیان آمنہ جیسی کوئی لڑکی موجود نہیں ہے۔ کیونکہ وہ با حیا ، با ادب ، عقلمند ، اور دین دار اور پاک دامن لڑکی ہے۔
حضرت عبد اللہ کی خاموشی سے ان کے والد نے سمجھ لیا کہ وہ اس رشتے سے راضی ہیں۔ اس وقت عبد اللہ کی ماں فاطمہ نے کہا : میں برہ کے ساتھ ان کے گھر جاتی ہوں اور ان کی بیٹی آمنہ کو دیکھ لوں گی ، اگر میں نے اس کو اپنے بیٹے عبد اللہ کے لیے مناسب پایا تو میں اس رشتے پر راضی ہوجاؤں گی۔
جب عبد المطلب کی بیوی فاطمہ وھب بن عبد المناف کے گھر آئی ، آمنہ نے مسکراھٹ سے انہیں خوش آمدید کہہ کر ان کا احترام کیا، آخر کار جب فاطمہ ںے آمنہ کی لیاقت ، معنوی کمالات، اور ظاھری حسن کو نزدیک سے مشاھدہ کیا، اور اس کے چہرے سے جھلکتے نور کو ملاحظہ کیا تو کہا، برہ ، میں نے اس سے پہلے بھی آمنہ کو دیکھا تھا لیکن میں نہیں سوچتی تھی کہ وہ اتنی حسین اور با کمال اور دلنشین ہوگی۔ گفتگو کے درمیان اسے اس بات کا اندازہ ہوا کہ آمنہ بات بھی بڑے فصیح اور ادیبانہ انداز میں کرتی ہے ، تو حضرت عبد المطلب اور عبد اللہ کے پاس آکر کہا: میرے بیٹے ! عرب لڑکیوں کے درمیان اتنی با لیاقت لڑکی موجود نہیں ہےوہ میرے دل میں بیٹھ گئی ہے اور اس کو تمہارے لئے منتخب کیا ہے۔
ابتدائی گفتگو کے بعد عبد المطلب وھب کے گھر آئے اور رسمی طور پر آمنہ کا ہاتھ مانگا آمنہ کے باپ نے خوشی خوشی اور رضایت سے کہا: اے عبد المطلب میری بیٹی آپ کے بیٹے کے لیے ایک ہدیہ ہے مجھے کسی طرح کا مھرنہیں چاھیئے۔
عبد المطلب نے کہا: خدا آپ کو نیک جزا عنایت کرے، لڑکی کا مہر ہونا چاھیئے اور ہماری طرف سے اور آپ کی طرف سے کچھ افراد اس پر شاھد رہیں۔ اس کے بعد ایک محفل جشن کا اہتمام کیا گیا اور دونوں طرف کے رشتہ نے شادی کی تقریب میں شریک ہوکر اس مبارک شادی کے گواہ رہے، یہ جشن چار دن تک جاری رہا اور اس مدت میں عبد المطلب نے پورے اھل مکہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کو ولیمہ کے لیے دعوت دی اور اس طرح حضرت عبد اللہ نے آمنہ کے ساتھ عقد نکاح کیا۔ [15]
مسعودی نے حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کی شادی کی کیفیت کے بارے میں لکھا ہے ، جب عبد اللہ نے اپنے باپ حضرت عبد المطلب سے کہا : اے میرے بابا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ "بطحاء " سے باہر آیا ہوں اور میری پشت سے دو نور نکل آئے ایک مشرق کی جانب اور دوسرا نور مغرب کی جانب پھیل گیا اور وہ دو نور بڑی تیزی سے پلک چھپکتے ہی میری پشت میں چلے گئے۔
حضرت عبد المطلب نے کہا: اگر تمھارا خواب سچا ہوگا تو تم سے عالم کی بہترین مخلوق وجود میں آئے گی۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ نے ۲۵ یا تیس سال کی عمر میں شادی کی[16] جو نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت آمنہ حضرت عبد اللہ کی چچیری بہن تھی۔
تاریخ میں آیا ہے کہ ذبیحہ عبداللہ کے واقعہ کے بعد جس میں ایک سو اونٹ کو نحر کیا گیا عبد المطلب نے عبد اللہ کو وھب بن عبد مناف جو اس زمانے میں اپنے قبیلے یعنی قبیلہ بنی زھرہ کے بزرگ تھے کے گھر لے آئے اور ان کی بیٹی حضرت آمنہ جو اس زمانے میں نسب اور مقام کے لحاظ سے قریش کی عظیم خاتون تھیں، سے شادی کرائی۔[17]
حضرت عبد المطلب نے اس محفل میں خطبہ عقد پڑھا اٹھ کر حمد و ثنا الھی بجا لانے کے بعد لڑکی کے گھر والوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: یہ عبد اللہ میرا بیٹا جس کو آپ سب جانتے ہیں ، آپ کی لڑکی آمنہ سے ایک معین مھر کے مقابلے میں رشتہ مانگتا ہے کیا آپ لوگ راضی ہیں؟
آمنہ کے باپ وھب نے کھا ! جی ہاں، ہم اس رشتہ پر مکمل طور پر راضی ہیں۔
عبد المطلب نے کہا: اے حاضرین مجلس ، آپ سب اس پر گواہ رہنا ، پھر دونوں گھرانوں نے آپس میں ہاتھ ملایا ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی اور گلے لگایا [18]
عبد اللہ نے اپنی پوری عمر میں صرف آمنہ سے شادی کی اور دوسری شادی نہیں کی۔ اس طرح حضرت آمنہ نے عبد اللہ کی موت کے بعد کئی سال تک اس دنیا میں رہ کرہی رحلت فرمائی ، اس مبارک شادی کا ثمرہ صرف ایک فرزند تھا اور وہ بھی حضرت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (ص) کا وجود مقدس [19]
حضرت عبد اللہ کا تجارتی سفر اور ان کی رحلت
عبد اللہ کی زندگی میں شادی کے بعد ایک نئی فصل کا آغاز ہوا جس نے اس کی زندگی کے گوشے گوشے کو حضرت آمنہ جیسی بیوی کے ذریعے روشن کیا ، شادی کے کچھ ہی مدت کے بعد وہ تجارت کی غرض سے ایک کاروان کے ساتھ مکہ سے شام کی جانب روانہ ہوئے۔
نکلنے کا وقت آیا اورکاروان چل پڑا اس کاروان نے سو دلوں کو اپنے ساتھ لیا، اس وقت حضرت آمنہ حاملہ تھیں ، کچھ ہی مہینوں کے بعد جب کاروان کی گھنٹیاں سنائی دینے لگی اور مکہ کے بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کے استقبال کے لئے شہر کے باہر چلے آئے۔
عبد اللہ کے باپ بھی اپنے بیٹے کے انتظار میں تھے، ان کی بہو کی آنکھیں بھی کاروان میں عبد اللہ کو ڈھونڈ رہی تھیں ، لیکن صد افسوس کہ وہ کارواں کے درمیان موجود نہیں تھے، تحقیق کے بعد پتا چلا کہ عبد اللہ یثرب میں واپسی کے دوران بیمار ہوئے وہ آرام کرنے اور تھکاوٹ دور کرنے کے لیے وہاں اپنے رشتہ داروں کے یہاں ٹھر گئے، اس خبر سے ان دونوں کے چہروں پر غم و اندوہ چھا گیا اور ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب آمڈ آیا۔
عبد المطلب نے اپنے بڑے بیٹے حارث کو یثرب بھیجا تا کہ وہ عبد اللہ کو اپنے ساتھ مکہ واپس لائے ، لیکن جب وہ مدینہ پہنچا تو اسے یہ اطلاع ملی کہ عبد اللہ کاروان نکلنے کے ایک مہیںے کے بعد اسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے۔
حارث نے واپس آکر پورا ماجرا عبد المطلب کو سنایا عبد اللہ اس کی بیوی کو بھی ان کے شوھر کی سرگزشت سے مطلع کیا ، جو کچھ ان کے مال سے باقی رہ گیا تھا وہ پانچ اونٹ ، بھیڑوں کا ایک جھنڈ ایک لونڈی "ام ایمن" کے نام سے تھی جو حضرت رسول اکرم (ص) کی خدمتگار بنی [20]
عفا جانب البطحاء من آل ھاشم
و جاور لحدا خارجا فی القماقم
دعتہ المنایا دعوہ فاجابھا
و ما ترکت فی الناس مثل ابن ھاشم
عشیہ راحوا یحملون سریرہ
تعاورہ اصحابہ فی التزاحم
فان تک غالیہ المنون و ریبھا
فقد کان معطا کثیر التراحم [21]
بطحاء (مکہ) کی آغوش میں ، ھاشم کے خاندان کا چشم و چراغ گم ہوگیا ، ( اس نے خاک کا لباس پہنا)
وہ لحد میں سو گیا، جبکہ وہ بخشش اور بزرگواری میں مشہور تھا، (دوسروں کے زباں زد تھا)
موت نے اسے لپیٹ لیا ، اس نے ملک الموت کی دعوت کو لبیک کہا، اور ھاشم کو، فرزند کے مانند لوگوں میں نہیں چھوڑ دیا ،
رات کے وقت چلا گیا اپنا بستر اٹھا کر اس کے احباب اس کے جسد پر جمع ہوئے۔
اگر موت اور زمانے کے حوادث نے اس کو ہم سے چھین لیا کوئی بات نہیں کیونکہ وہ بہت سخی اور مہربان تھا۔
پیغمبر کے نور کی حامل
شوھر کی وفات کے بعد سب سے بڑی عزت حضرت آمنہ کو عطا ہوئی انہیں حضرت رسول اکرم کے نور کا حامل ہونے کا فخر حاصل ہوا ان کے شکم مبارک کو خداوند حکیم نے حضرت رسول اکرم (ص) کے رشد و نمو کرنے کے لیے انتخاب کیا تھا وہ سب سے بہترین جگہ تھی، اسی بناء پر حضرت آمنہ عالم وجود کی سب سے بہترین ماں تھیں ، کیونکہ ان کا شکم مبارک ہی آنحضرت کی پرورش اور تخلیق کے لیے باقی عورتوں کے شکم کی بہ نسبت زیادہ ھموار تھا۔
حمل کے دوران اور اس کے بعد آںحضرت کے معجزات اور کرامات۔
جو غیر معمولی اور غیبی واقعات، کرامات حضرت آمنہ کے حمل کے دوران اور اس کے بعد واقع ہوئیں ان میں سے بعض کا یہاں پر ذکر کرنا ضروری ہے۔
اس عظیم القدر خاتون سے منقول ہے کہ فرمایا: جب میں آنحضرت کے نور سے حاملہ تھی مجھے ان تکالیف اور سختیوں کا احساس ہی نہیں ہوا جو عام عورتیں، حمل کے دوران اٹھاتی ہیں۔ میں نے خواب میں دیکھا جیسے کہ کوئی میرے پاس آیا اور کہا: تم بہترین انسان کی حاملہ ہو جب ولادت کاوقت نزدیک آیا وضع حمل میرے لئے بہت آسان ہوا اور میں حمل سے فارغ ہوئی[22]
تیسری صدی ہجری کے مشہور مورخ ابن ھشام رقمطراز ہیں : حضرت آمنہ نے کہا ہے کہ جب حضرت رسول خدا(ص) میرے شکم میں تھے میں نے ایک آواز سنی جو یہ کہتی تھی اے آمنہ ! کیا تم جانتی ہو کہ تمہارے بطن مبارک میں کون ہیں ، وہ پیغمبر آخر الزمان ہیں ، جب وہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو یہ ذکر اس پر پڑھنا اور اس کے بعد اس کا نام محمد رکھنا ، اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد اس کو ہر حسد کرنے والے سے خداوند متعال کی پناہ میں رکھتی ہوں۔
دوسری کرامت یہ تھی کہ مکہ کے لوگوں پر نعمت اور مناسب وقت پر رحمت کی بارشیں ہوتی تھیں۔
کتاب " العدد" میں اس سلسلے میں آیا ہے :
مروی ہے کہ قریش کا قبیلہ شدید قحط میں مبتلا ہوا اور زندگی سختی سے گزرتی تھی، یہاں تک کہ حضرت آمنہ بنت وھب حضرت رسول اکرم (ص) سے حاملہ ہوئیں ، تو مکہ کی زمین سر سبز اور درخت پھلوں سے بھر گئے اور ہر جانب سے مسافر مکہ کی جانب آنے لگے اور ان کی وجہ سے تجارت اور اقتصاد کو چار چاند لگ گئے نتیجہ کے طور پر مکہ کے لوگوں کو بہت زیادہ نعمتیں نصیب ہوئیں اس لئے جس سال حضرت رسول(ص) شکم مادر میں آئے اس سال کو سالِ فتح ، استیفاء اور ابتہاج کا نام دیا گیا۔
مشہور روایت کی بناء پر حضرت آمنہ کے فرزند نے اپنے باپ کی رحلت کے دو مہینے بعد ولادت پائی ۔ اسی لئے ان کی سرپرستی ان کے دادا حضرت عبد المطلب نے اپنے ذمہ لی ، ان کو قریش کے درمیان موجود رسم کے مطابق صحرا میں رہنے والی "حلیمہ" کے سپرد کیا گیا جو شرافت اور لیاقت کے لحاظ سے بہت مشہور تھیں تاکہ وہ آنحضرت کو دودھ پلائیں اور آںحضرت، صحرا کی کھلی فضا میں پرورش پائیں۔ اور مکہ میں موجود بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔
نام گزاری
ساتواں دن آن پہنچا عبد المطلب نے خداوند متعال کی بار گاہ میں شکرانہ کی غرض سے ایک بھیڑ ذبح کیا کچھ افرا کی دعوت کی اور اس عظیم الشان جشن میں جس میں سب قریش کو دعوت کی گئی تھی اپنے بیٹے کا نام "محمد" رکھا ، یہ نام عربوں کے درمیان رائج نہیں تھا ، انھوں نے کہا میں چاھتا ہوں کہ آسمان اور زمین میں اس کی تعریف کی جائے اس سلسلے میں آنحضرت کے دور کا مشہور شاعر حسان بن ثابت کہتا ہے:
فَشَقَّ لَہٗ مِنْ اِسمِہِ لِیُجِلّہ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُودُ وَ ھٰذَا مُحَمّدُ
خداوند متعال نے اپنے ناموں سے آنحضرت کے لیے ایک نام مشتق کیا اسی لئے خدا محمود اور اس کے پیغمبر محمد ہیں دونوں لفظ ایک ہی مادہ سے مشتق ہیں اور ان کے معنی ایک ہی ہیں۔ [23]
اس نام کے انتخاب میں بے شک خدائی الھام موجود تھا ، کیونکہ محمد کا نام اگرچہ عربوں کے درمیان مشہور تھا لیکن بہت کم بچوں کا آج تک یہ نام رکھا گیا تھا ، بعض دقیق تحقیقات کے مطابق جو مورخوں نے انجام دیتی ہیں اس زمانے تک صرف سولہ آدمیوں کا نام محمد تھا اسی لئے شاعر کہتا ہے۔
ان الذین سموا باسم محمد
من قبل خیر الناس ضعف ثمان [24]
جن کا آنحضرت سے پہلے محمد نام رکھا گیا تھا وہ صرف سولہ تھے۔
یہ واضح ہے کہ جتنا بھی ایک لفظ کا مصداق کم ہو اس کے بارے میں غلطی کم ہوتی ہے کیونکہ آسمانی کتابوں نے آنحضرت کے نام ، جسمانی اور روحانی علامتوں اور نشانوں کو بیان کیا ہے، تو آنحضرت کے صفات اتنے واضح ہونے چاھئیں کہ اس میں کسی طرح کی غلطی ممکن نہ ہو ، ان علامتوں میں ایک علامت آنحضرت کا نام گرامی ہے۔اس نام کے مصادیق اتنے کم ہونے چاھئیں تا کہ آنحضرت کی تشخیص میں ہر طرح کا شک و شبہہ ختم ہوجائے ، خصوصا جب دوسری صفات اور علامتیں اس نام میں ضمیمہ ہوجائیں ، تاکہ وہ انسان واضح طور پر پہچانا جائے جس کے ظہور کی خبر توریت اور انجیل نے دی ہے۔[25]
ابواء،حضرت آمنہ کی منزل اورمعراج
ابواء، مکہ اور مدینہ کے درمیان "ودان" نامی جگہ کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جو سقیا سے انیس اور جحفہ سے ۲۷ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ [26]
اس مقدس جگہ پر حضرت آمنہ کی قبر مطہر واقع ہے اس عظیم خاتوں کو یہاں پر دفنانے کا سبب یہ تھا کہ حضرت عبداللہ ہمیشہ مدینہ ، خرما لے جانے کےلیے یہاں آتے تھے ایک دن وہ مدینہ پہنچ کر ہی اس دنیا سے رحلت کرگئے حضرت عبد اللہ کی وفات کے بعد حضرت آمنہ اپنے شوھر کی قبر کی زیارت کےلئے ہر سال جاتی تھیں جب آنحضرت چھ سال کی عمر کو پہنچے حضرت آمنہ اپنے معمول کے مطابق اپنے شوھر کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے مدینہ کی جانب روانہ ہوئیں اس سفر میں حضرت عبد المطلب اور ام ایمن رسول اکرم (ص) کی دائی بھی ان کے ہمراہ تھی حضرت آمنہ کی رحلت ہجرت نبوی کے ۴۵ سال قبل ۵۷۵ ء میں واقع ہوئی ، جب وہ قبر مطہر کی زیارت سے فارغ ہوئیں اور مکہ کی جانب روانہ ہوئیں تو راستے میں ابواء نامی جگہ پر اس دار فانی سے چل بسیں اور ملکوت اعلی کو پہنچ گئیں۔[27]
ایک روایت میں آیا ہے کہ رحلت کے وقت حضرت آمنہ نے رسول اکرم (ص )کے نورانی چہرے پر نظر رکھی اور یہ اشعار پڑھے۔
بارک فیک اللہ من غلام
یابن الذی من حومہ الحمام
نجابعون الملک المنعام
فدی غداہ الضرب بالسھام
بماۃ من ابل سوام
ان صح ما ابصرت فی المنام
فانت مبعوث الی الانام
تبعث فی الحل و فی الحرام
تبعث فی التحقیق و الاسلام
دین ابیک البر ابراھام
فاللہ انھاک عن الاصنام
ان لا توالیھا مع الاقوام
یعنی اے میرے فرزند خداوند تمہیں خیر اور برکت عطا کرے ، اے اس کے فرزند جس کو خدا نے اپنے فضل و کرم سے موت سے محفوظ رکھا۔
اس دن کہ جب عبد اللہ اور اونٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا گیا اور ایک سو قیمتی اونٹ اس پر فدا کئے گئے۔
اگر جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا سچ ہوگا تو بے شک جلدی تم کائنات کے لئے مبعوث ہوجاؤ گے تا کہ لوگوں کو حلال و حرام سکھاؤ
اسلام کے متحقق ہونے کے لیے وہی دین جو تمہارے دادا حضرت ابراھیم کا دین ہے اسی بر مبعوث ہو گے۔
خدا نے تمہیں اور سب لوگوں کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور اسی طرح تم کو ان کی دوستی سے دور رکھا ہے۔
اس کے بعد فرمایا:
کل حی میت و کل جدید بال و کل کثیر یغنی و انا میت و ذکری باق و قد ترکت خیرا و ولدت طھرا۔[28]
ہر زندہ مرجائے گا اور ہر نیا پرانا ہوگا ہر زیادہ کم ہوگا میں مرجاؤں گی لیکن میرا ذکر باقی ، زندہ اور جاوداں ہوگا کیوں کہ میں نے ایک نیک اور پاکیزہ فرزند یادگار کے طور پر چھوڑدیا ہے۔
اپنی ماں کے مزار پر آنحضرت کی عزاداری۔
جو کچھ مسلم ہے کہ رسول اکرم(ص) اپنی ماں کی رحلت کے بعد ان کی زیارت کےلیے تشریف لے جاتے تھے اور اس عمل کو کئی مرتبہ انجام دیا ، ایک زیارت کے دوران آنحضرت اپنی ماں کی قبر پر روئے اور عزاداری کی ، آنحضرت کے گریہ سے اصحاب بھی گریہ کرنے لگے ، ابو ھریرہ ، اس سلسلے میں کہتے ہیں: زار النبی قبر امنہ فبکی و بکی من حولہ۔
آنحضرت نے اپنی ماں کے مرقد کی زیارت کرکے گریہ کیا اور جو بھی آنحضرت کے ارد گرد تھے انہوں نے بھی گریہ کیا۔
[1] ریاحین الشریعۃ ، ذبیح اللہ محلاتی ، ج ۲ ص ۳۸۶۔
[2] فرازھایی از تاریخ پیامبر اسلام ، جعفر سبحانی ، ص ۳۸۔
[3] بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج ۱۵ ، ص ۹۹۔
[4] مادر پیامبر، ڈاکٹر بنت الشاطی ، ترجمہ دکتر احمد بہشتی ، ص ۹۹۔
[5] ایضا ص ۱۸
[6] ریاحین الشریعۃ ج ۲ ص ۸۸،۸۳
[7] بحار الانوار ج ۱۵ ، ص ۱۱،۱۲،۱۱۷، ۱۳،۹ ۱۰۔
[8] ایضا ص ۱۰۰، ۱۴۹۹،
[9] ریاحین الشریعۃ ، ج ۲ ، ۱۵۳۸۷
[10] ایضا ص ۱۶
[11] خصائص فاطمیہ ، ملا باقر واعظ کجوری ، ص ۲۹۲
[12] تذکرۃ الخواتین ص ۵ ، ۶ ، آخرین گفتار ، ج ۱ ص ۱۶۹ ، ۱۷۰
[13] رجوع کریں مادر پیامبر ، بنت الشاطی ترجمہ احمد بہشتی سازمان تبلیغات اسلامی۔
[14] منتھی الآمال ج ۱ ص ۴۱۔
[15] درسھایی از تاریخ تحلیلی اسلام ج۱ ص ۹۹۔
[16] رجوع کریں تنقیح المقال ج ۳، دوسرا معہ ص ۶۹ و ۷۰
[17] سیرہ ابن ھشام ج ۱ ص ۱۵۶۔
[18] بحار الانوار ج ۱۵ ص ۱۰۲۔
[19] سبل الھدیٰ و الرشا ج ۱ ص ۳۳۱، عیون الاثر ج ۱ ص ۳۶۔
[20] تاریخ پیامبر اسلام ص ۵۴، ، تاریخ طبری ج ۲ ص ۷ ، ۸۔
[21] تذکرۃ الخواتین ، ص ۶۔
[22] بحار الانوار ص ۲۶۹ ، ۲۷۰
[23] سیرت رسول خدا (ص) ابن ھشام ، ترجمہ و انشای رفیع الدین اسحاق بن محمد ھمدانی ، تصحیح مھدوی ، خوارزمی ، طبع دوم ، ۱۳۶۱ ص ۱۴۱ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ۔
[24] بحار الانوار ج ۱۵ ، ص ۲۹۶ ، منتھی الآمال ، ج ۱ ص ۴۱۔
[25] ایضا ص ۲۶۱ ، ۲۶۲۔
[26] سیرہ حلبی ج ۱ ص ۹۳۔
[27] رجوع کریں معجم البلدان ج ۱ مادہ ابواء معارف و معاریف ج ۱ ص ۳۴۷۔
[28] تذکرۃ الخواتین ، ص ۵ ، ۶، آخرین گفتار ، ج ۱ ص ۱۶۹ - ۱۷۰
عوام اپنی بصیرت اور قومی عزت اور عظمت میں اضافے کے جذبے کے ساتھ شرکت کرکے دشمن کو مایوس کردیں
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی اور مجلس خبرگان رہبری کے لئے منعقدہ انتخابات کے لئے ہونے والی ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوتے ہی حسینیہ امام خمینی رح میں اپنا ووٹ بلیٹ بکس نمبر ۱۱۰ میں ڈالا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ووٹ دالنے کے بعد اپنی گفتگو میں انتخابات کو ملت ایران کا وظیفہ اور حق قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات ایک عظیم کام ایک عمل خیر اور ہر دور میں اہمیت کا حامل عمل ہے اور بعض مواقع پر اس کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے اور اسلامی معارف اور احکامات میں بھی کار خیر انجام دینے کے لئے پیشقدمی اور تیزی دکھانے کا حکم دیا گیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس وظیفے کے انجام دینے اور حق کا اظہار کرنے کے لئے تیزی دکھانے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ایران کے سارے عوام ، وہ تمام افراد کہ جو اسلامی جمہوریہ اور ایران سے اور قومی عزت، عظمت اور شان و شوکت سے محبت کرتے ہیں ان انتخابات میں شرکت کریں۔
آپ نے اسی طرح عوام کو انتخابات میں خلوص نیت اور ملکی اعتبار میں اضافے اور ملکی استقلال اور قومی عزت اور حمیت کے ساتھ شرکت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات میں شرکت، قومی عزت اور استقلال ہے اور ہمیں ایسے دشمنوں کو سامنا ہے کہ جنہوں نے حریصانہ نظریں جما رکھی ہیں اور انتخابات کو اس طرح منعقد ہونا چاہئے کہ جو دشمن و مایوس اور نا امید کردے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ عوام کو سنجیدگی اور بصیرت اور آنکھیں کھلی رکھ کر ووٹ ڈالنا چاہئے اور یہ عمل بھی ان حسنات کی طرح ہے کہ جس کا اجر جلد یا بدیر دنیا میں ملنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی دیا جائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملت ایران ان انتخابات میں گذشتہ انتخابات کی طرح شرکت کرنے کی توفیق حاصل کر کے ملک کی عزت اور ترقی و پیشرفت کا سبب بنیں گے۔
اسلامی معارف کی ترویج سے حکومت کو عوام کی جانب سے پذیرائی ملے گی
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علی اف سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران اور آذربائیجان کے عمدہ سیاسی تعلقات اور دونوں ملکوں کے مختلف موضوعات خاص طور پر دینی اور مذہبی اشتراک پائے جانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی معارف کی ترویج اور دینی مناسک اور رسومات کا احترام کئے جانے سے حکومت کو رائے عامہ کی جانب سے پذیرائی ملے گی اور پابندیوں کے مقابلے میں عوامی پشت پناہی کا سبب بنے گی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں آذربائیجان کے عوام کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ کو بھائی چارے کے دائرے میں اور ایک دوست اور ہمسایہ ملک سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آذربائیجان کے عوام کا سیاسی استحکام، امن و امان اور رفاہ عامہ ہمارے لئے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور دونوں ملتوں کے درمیان قلبی مفاہمت کے باوجود ہمیں چاہئے کہ معیشتی لین دین اور دیگر شعبوں میں تعاون میں اضافہ کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور آذربائیجان کے عوام کے مذہبی اشتراک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آذربائیجان کے عوام کے اسلامی اور شیعہ عقائد گرانبھا سرمایہ ہیں اور حکومت عوام کے ان عقائد اور مظاہر کا جتنا زیادہ احترام کرے گی بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے دشمنی کے مقابلے میں عوام کی جانب سے حکومت کی پشت پناہی اور استقامت میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوگا۔
آپ نے مختلف قوموں کی جانب سے تکفیری گروہوں کے فتنہ و فساد سے مقابلے کو اسلامی سرگرمیوں کو تقویت پہچانے سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ آذربائیجان کا علاقہ مذہبی لحاظ سے مضبوط بنیادوں کا حامل اور اسلام کے بعض بزرگ علماء کا مبداء ہے اور آذربائیجان کے عوام بھی نیز آگاہ اور ذہین افراد ہیں اور حکومت کی جانب سے انکی مذہبی سرگرمیوں میں مدد اور انکی حوصلہ افزائی کیا جانا عوام کی ہمدردیاں اور توجہ حاصل کرنے میں نہایت موثر کردار ادا کرتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے آذربائیجان کے صدر کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہ ان دونوں ملکوں کو درپیش خطرات کا منبع ایک ہی ہے فرمایا کہ اسلامی اور شیعہ معارف کی ترویج مشکلات اور خطرات کے مقابلے میں خداوند متعال کی رضایت اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی عنایات حاصل کرنے کا سبب بنے گی۔
اس ملاقات میں صدر مملکت جناب روحانی بھی موجود تھے، آذربائیجان کے صدر الہام علی اف نے تہران اور باکو کے قریبی تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہمارے ملک میں اپنے مذاکرات کو بہت زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ثقافت، مذہب اور مشترک تاریخ نے ایران اور آذربائیجان کے درمیان گہرا تعلق پیدا کر دیا ہے۔
انہوں نے تہران اور باکو کے درمیان تعاون کی دس سے زیادہ دستاویزات پر دستخط اور دو طرفہ تعلقات کو بھائی چارے کی علامت اور بہت بہترین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت، نقل و حمل، انرجی اور صنعتی شعبے میں تعاون کے زریعے بہت اچھا قدم اٹھایا گیا ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ ان دو ملکوں کے درمیان اتحاد اور رابطے کو دوسرے شعبوں میں بھی توسیع دیں۔
آذربائیجان کے صدر نے تہران اور باکو کو بین الاقوامی مسائل کے بارے میں ہم عقیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے دنیا میں امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ہم ایران کے امن و ثبات کو اپنا امن و ثبات قرار دیتے ہیں۔
صدر علی اف نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کو درپیش خطرات کا منبع ایک ہی ہے کہا کہ اس سفر میں ہم نے اس بات پر اتفاق رائے کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ایران کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے تاکہ اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔
انہوں نے اسلامی اقدار کا احترام کئے جانے کے سلسلے میں آذربائیجان کی حکومت کے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کی آزادی کے دور میں دو ہزار مسجدیں تعمیر کی گئی تھیں کہ جن میں سے نصف کی ذمہ داری میرے اوپر تھی۔
آذربائیجان کے صدر نے اسلام مخالف تحریکوں کو رد کرتے ہوئے، اپنے ملک سے دشمنی کی ایک وجہ وہاں کے عوام کے مذہبی عقائد کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام اور شیعیت آذربائجان کے عوام کے درمیان بہت زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے اور اس خطے میں آپ جیسی بزرگ شخصیات کا وجود بھی ہمیں طاقت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔
علاقائی ملکوں اور قوموں کے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر تاکید
پاکستانی فوج کے اسٹریٹیجک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ میجر جنرل نوئیل اسرائیل کھوکھر نے تہران میں ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل مصطفی ایزدی سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برگیڈیئر جنرل مصطفی ایزدی نے ایران اور پاکستان کے درمیان مشترکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجودہیں۔ بریگیڈیئر جنرل ایزدی نے مشرق وسطی کی تبدیلیوں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے علاقے کے ملکوں اور قوموں کے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کی مسلح افواج کے جنرل ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی کمانڈر نے ایران اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان تعاون، تجربات کے تبادلے اور اسٹریٹیجک معاملات میں تبادلہ خیال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پاکستانی فوج کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک ریسرچ اینڈ اینالیسس کے ڈائریکٹرجنرل، میجرجنرل نوئیل اسرائیل کھوکھر نے اس موقع دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستانی فوج کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مختلف میدانوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
عوام انتخابات میں دشمن کی خواہشات کے برعکس عمل کریں گے
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے مشرقی آذربائیجان کے مکتلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے ملاقات میں اس سال گیارہ فروری کی ریلیوں میں ایران کی عظیم ملت کی بھرپور شرکت کو عوام کے عزم راسخ، استقامت اور بیداری سے تعبیر کرتے ہوئے اور اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آئندہ ماہ منعقد ہونے والے انتخابات ملت کی بیداری کا مظہر، نظام کا دفاع، استقامت اور قومی عزت ہے فرمایا کہ انتخابات میں عوام کی ہر انداز میں اور بصیرت و دانائی کے ساتھ شرکت دشمن کی خواہشات کے برعکس عمل کرنے کے مترادف ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں کہ جو تبریز کے عوام کی جانب سے اٹھارہ فروری انیس سو اٹہتر کے تاریخی قیام کی مناسبت سے انجام پائی، مختلف ادوار اور ملک کے اہم تاریخی واقعات خاص طور پر اسلامی انقلاب کے دوران آزربائیجان کے عوام کے راسخ ایمان، بیداری، نشاط اور استقامت کی قدردانی کرتے ہوئے اور انقلاب کے تاریخی ایام کی یاد منانے کی تاکید کرتے ہوئے اور گیارہ فروری کو ایک انتہائی اہم دن قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ملک کے معتبر اداروں سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس سال گیارہ فروری کے اجتماعات میں عوام کی تعداد میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں قابل توجہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے گیارہ فروری کے اجتماعات اور ریلیوں میں عوام کی باشکوہ شرکت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ استکباری طاقتوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر عوام کے ذہنوں سے انقلاب کو فراموش کرنے یا اسے کم رنگ کرنے کی بے پناہ کوششوں کے باجود قوم کی عزم راسخ میں زرہ برابر بھی کمی نہیں آئی ہے۔
آپ نے 26 فروری کو ہونے والے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ دشمن مخصوص منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں ہے، بنابریں اس ملک کے اصلی مالکوں کی حیثیت سے ایرانی عوام کو چاہئے کہ بعض اہم حقائق سے آگاہ رہیں تاکہ یہ پلید عزائم پورے نہ ہو سکیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات کو مقدمہ بناتے ہوئے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ایران پر سے امریکا اور صیہونی حکومت کا اثر و رسوخ کتم ہوجاناان کی سب سے بڑی توہین تھی اور ان طاقتوں نے گزشتہ 37 سالوں کے دوران ملت ایران کی تیز رفتار پیشرفت کو روکنے کے لئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کیا، فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے اولین ایام سے ہی اغیار کی سازش ایران میں انتخابات کے انعقاد کا راستہ روکنا تھا اور اس سلسلے میں کچھ کوششیں بھی انجام دی گئیں لیکن چونکہ انہیں مایوسی ہی ہوئی اس لئے گزشتہ برسوں میں انہوں نے یہ کوشش کی کہ انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا کر انتخابات پر اثرانداز ہوں۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ 26 فروری کے انتخابات کے لئے ان طاقتوں کی سازش شورائے نگہبان یعنی نگراں کونسل کی شبیہ خراب کرنے اور اس کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگانے سے شروع ہوئی اور یہ ادارہ اسلامی نظام کے ان کلیدی اداروں میں سے ایک ہے جن کی امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے اولین ایام سے ہی شدید مخالفت کی تھی۔
آپ نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ نگراں کونسل کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگانے کا مطلب انتخابات کے غیر قانونی ہونے کے مسئلے کو ترویج دینا ہے فرمایا کہ جب انتخابات کے غیر قانونی ہونے کا مطرح ہوجائے تو پھر ان انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہو نے والی پارلیمنٹ اور اس کے فیصلے بھی غیر قانونی ہوں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس مکارانہ سازش کا مقصد آئندہ چار سالوں کے دوران ملک کے اندر آئینی اور پارلیمانی خلا پیدا کرنا ہے اس لئے عوام الناس کو چاہئے کہ اس مسئلے پر توجہ رکھیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ان افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہ جو ملک کے اندر نگراں کونسل کی شبیہ خراب کرنے کے زریعے دشمنوں کے ہم صدا ہوگئے ہیں فرمایا کہ ان میں سے بیشتر افراد کی توجہ اس بات کی جانب نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اس لئے ان پر خیانت کا الزام نہیں لگایا جا سکتا، لیکن انھیں اس بات کی جانب متوجہ۰ ہونا چاہئے کہ دشمن سے ہم صدا ہونے کا مطلب دشمن کی خطرناک سازش کی تکمیل ہے۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے استکباری محاذ کا ایک اہم مقصد مسلمانان جہان کو اسلامی جمہوریہ کے بے نظیر، پرکشش اور حیرت انگیز جلوؤں سے محروم کرنا ہے اور مجلس شورائے اسلامی یعنی پارلیمنٹ کا مقام انتہائی اہم ہے فرمایا کہ پارلیمنٹ قوانین پاس کرکے حکومت اور مجریہ کی کارکردگی کے لئے پٹری بچھانے کا کام کرتی ہے لہذا بصیرت و آگاہی کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ کا انتخاب ملک کی پیش قدمی کے لئے پٹری بچھانے کے عمل میں بہت موثر کردار کا حامل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اگر پارلیمنٹ عوامی رفاہ، معاشرتی مساوات، اقتصادی لحاظ سے آسائش، سائنس کے میدان میں ترقی و پیشرفت اور قومی اقتدار و خود مختاری سے وابستہ ہوگی تو اس پٹری کی تعمیر کا عمل انہی اہداف کے تحت انجام دیگی، لیکن اگر پارلیمنٹ مغرب اور امریکا سے مرعوب اور اشرافیہ تہذیب و ثقافت کی ترویج میں دلچسپی لے گی تو اسکی جانب سے پٹری بچھانے کا عمل اسی سمت میں ہوگا اور وہ ملک کو بدبختی کے راستے پر ڈال دیگی۔
حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی رح کی گفتگو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پارلیمنٹ تمام امور میں سر فہرست ہے فرمایا کہ تمام امور میں سر فہرست ہونے کا مطلب اجرائی سلسلہ مراتب نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ملکی ترقی وپیشرفت کے لئے راستے اور سمت کے تعین کے لحاظ سے پارلیمنٹ کا کلیدی کردار ہے۔
آپ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے اسلامی نظام کے اندر مجلس خبرگان یعنی ماہرین کی کونسل کے بنیادی اور کلیدی کردار کا بھی حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ماہرین کی کونسل کی اس وجہ سے اہمیت ہےکہ ملک کے رہبر کے انتخاب میں کہ جو ملکی امور کے بارے میں فیصلہ کرنے اور پالیسی مرتب کرنے والے سب سے اہم شخص ہے یہ کونسل مرکزی کردار ادا کرتی ہے، بنابریں اس کونسل کے اراکین کا انتخاب بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر ماہرین کی کونسل کے ممبران انقلاب کے گرویدہ، عوام کے شیدائی، دشمنوں کی سازشوں سے باخبر اور ان سازشوں کے سامنے سینہ سپر ہوں گے تو ضرورت پڑنے پر وہ مختلف انداز سے فیصلے کریں گے، لیکن اگر ماہرین کی کونسل کے اراکین میں یہ خوبیاں نہیں ہوں گے تو پھر ان کی کارکردگی کی شکل بالکل مختلف ہوگی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ماہرین کی کونسل پر استکبار کے تشہیراتی اداروں کی خاص توجہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انتخابات میں عوام کی آگاہی، بصیرت اور دانائی پر توجہ کی ضرورت پر تاکید کی یہی وجہ ہے کہ دشمن کے ارادوں کے برخلاف عمل کیا جائے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر ملت ایران کو انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور اسلامی نظام، خود مختاری اور قومی عزت و وقار کے دفاع کی دعوت دی اور ملت ایران کے مدمقابل موجود لاپرواہ اور خطرناک محاذ سےکہ جو صیہونی نیٹ ورک کے زیر اثر کام کرتا ہے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا اور بہت سی یورپی حکومتوں کی پالیسیاں اسی نیٹ ورک سے متاثر رہتی ہیں اور ایٹمی مسئلے میں امریکیوں کا رویہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ طولانی مذاکرات اور پھر ایٹمی معاہدے کے بعد ایک بار پھر ایک امریکی عہدیدار نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہم وہ کام کریں گے کہ دنیا کے سرمایہ کار ایران میں قدم رکھنے کی ہمت نہ کر سکیں۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اس طرح کے بیانات ملت ایران سے امریکا کی شدید دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں فرمایا کہ جو افراد گزشتہ دو سال تک ایٹمی مذاکرات میں مصروف تھے اور حقیقت میں انھوں نے بڑی زحمتیں اٹھائی ہیں اور ان کا ایک ہدف غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی مسائل پر قابو پانا تھا لیکن امریکی اس سلسلے میں بھی اب ایران کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ جو بار بار کہا گیا کہ امریکی قابل اعتماد نہیں ہیں اس کا یہی مطلب ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی سیاستدانوں کی جانب سے ایران میں ریلیوں کے دوران امریکا مردہ باد کے نعروں پر اعتراض کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ کا یہ طرز عمل ہے اور آپ کا ماضی و حال آشکارا دشمنی کا آئینہ دار ہے تو پھر آپ ملت ایران سے اور کس قسم کے رد عمل کی توقع رکھتے ہیں؟
آپ نے مزید فرمایا کہ البتہ وہ خصوصی ملاقاتوں میں مسکراتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں اور دل لبہانے والی باتیں بھی کرتے ہیں، لیکن انکا یہ رویہ سفارتی اور خصوصی ملاقاتوں تک محدود ہے اور اس کا زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ طولانی مذاکرات انجام پانے، معاہدہ ہو جانے اور تمام امور کے ختم ہو جانے کے بعد اب وہ یہ باتیں کہہ رہے ہیں اور صراحت کے ساتھ نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ یہی امریکا کی حقیقت ہے اور اس دشمن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی اور اس پر ہرگز اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
آپ نے عوام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ عزیز ملت ایران، آپ کا واسطہ ایک ایسے عنصر سے ہے، لہذا آپ کو چاہئے کہ بیدار و ہوشیار رہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ملک کی مشکلات کا حل عوام کی بیداری، معاشرے کے اندر ایمانی و دینی جذبات کی حفاظت، مون اور پرجوش نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنا اور ایمان، معیشت، علم اور انتظامی اداروں کے لحاظ سے ملک کو اندرونی طور پر تقویت پہنچانا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب اور اس کے اصول و اہداف کی حفاظت کے لئے عوام کے اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی برقرار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ حکومتی عہدیدار بھی جو ملک کے مستقبل میں دلچسپی رکھتے ہیں، اللہ کی خوشنودی اور عوام کے لئے کام کریں اور ملک کے اندر موجود افرادی قوت اور توانائیوں پر اعتماد کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ استقامتی معیشت کا مطلب ملک کے چاروں جانب حصار کھینچنا نہیں ہے فرمایا کہ استقامتی معیشت اگر خوکفیل نہ ہو اور اسکی نگاہ ملک سے باہر کے معاملات پر نہ ہو تو وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی۔
آپ نے دنیا کے ممالک سے اقتصادی تعاون کو ایک اچھا عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ البتہ یہ تعاون ہوشیاری کے ساتھ اور اس کا نتیجہ داخلی معیشت کے خود کفیل ہونے کی صورت میں سامنے آئے اور اس ہدف تک عوام کی استقامت اور اعلی حکام کے ہوشمندانہ اقدمات کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں فرمایا کہ خداوند متعال کے فضل و کرم سے ملک کے نوجوان وہ دن ضرور دیکھیں گے جب امریکا ہی نہیں اس کے بڑےبھی ملت ایران کا کچھ بھی بگاڑ نہ پائیں گے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے پہلے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں ولی امر مسلمین کے نمائندے اور شہر تبریز کے امام جمعہ آیت اللہ مجتہد شبستری نے حساس مواقع پر جلوہ گر ہونے والی صوبہ آذربائیجان کے عوام کی دینی حمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18 فروری 1978 کا تبریز کے عوام کا قیام اسلامی انقلاب کی تاریخ میں بہت اہم موڑ اور ولی امر مسلمین سے عقیدت رکھنے والے آذربائیجان کے عوام کی بصیرت کی نشانی ہے۔
تبریز کے امام جمعہ نے انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قدرت و طاقت کی علامت قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ آذربائیجان کے عوام پورے ملک کے عوام کے ساتھ آئندہ 26 فروری کو وسیع پیمانے پر اور مکمل آگاہی کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہوں گے اور ایک بار پھر پر شکوہ اور یادگار کارنامہ رقم کریں گے۔
شام کے عوام شام کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے، نا کہ امریکہ اور یورپی ممالک
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گھانا کے صدر جان درامانی ماھاما سے ملاقات میں افریقی ممالک کے ساتھ تعاون کے فروغ کے سلسلے میں انقلاب کے ابتدائی دور سے لے کر ایران کی مثبت اور جانبدارانہ نقطہ نظر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تسلط پسند طاقتیں ایران اور افریقا کے روابط کے مخالف اور اسی طرح بہت ساری جنگوں اور جھڑپوں کے آغاز اور دہشتگرد گروہوں کو تقویت پہچانے کا سبب ہیں لیکن ان تمام مشکلات کا علاج آزاد ممالک کے ایک دوسرے سے نزدیک ہونے اور ایک دوسرے سے تعاون میں ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں نا امنی اور مختلف جنگیں برپا کرنے میں استکباری طاقتوں کا فائدہ ہے فرمایا کہ ہمارے علاقے میں اور افریقا میں موجود دہشتگرد گروہ امریکی، برطانوی اور صیہونی حکومت کے جاسوس اداروں کے پروردہ ہیں۔
رہبر انقلاب نے گھانا کے صدر کے شام میں دہشتگردی کی وجہ سے نقصانات کے بارے میں اظہار افسوس کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سوال کے زریعے کہ کس طرح پیشرفتہ اسلحوں کا انبار اور مالی امداد دہشتگردوں کے حوالے کی جاتی ہے فرمایا کہ ان تمام مشکلات کی بنیاد استکباری طاقتیں ہیں اور امریکہ ان سب کے اوپر موجود ہے اور غاصب صیہونی حکومت شرارتوں کا مظہر ہے۔
آپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی شام کے مسئلے کے بارے میں مستقل سیاست کو صلح کی طرفداری قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ یہ مسئلہ شام کے عوام کے فائدے میں ختم ہو اور ہمارا نظریہ ہے کہ کسی بھی ملک کے باہر بیٹھ کر اسکی قوم کے معالجے کے لئے نسخہ نہیں لکھا جا سکتا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ امریکی اور یورپی ممالک ملت شام کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور یہ ملت شام ہی ہے کہ جو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔
رہبر انقلاب نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شام کے مسئلے کا حل اور دہشتگردی جیسی مشکلات اور فلسطین کے عوام کے رنج و غم کا حل آزاد ممالک کے درمیان تعاون اور ایک دوسرے کے نزدیک آنے میں مضمر ہے فرمایا کہ ایران اور گھانا بہت بہترین صلاحیتوں کے حامل ممالک ہیں اور ہمیں امید ہے کہ آپ کا یہ سفر باہمی تعاون میں اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
آپ نے افریقہ کی بعض شخصیات کی جانب سے تسلط پسند طاقتوں کے خلاف آزادی طلب جدوجہد کی قدر دانی کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ان برجستہ شخصیات نے افریقہ کی شناخت کو دنیا میں اجاگر کیا ہے۔
اس ملاقات میں صدر مملکت ڈاکٹر روحانی بھی موجود تھے، گھانا کے صدر جان درامانی ماھاما نے ایران کی غنی ثقافت اور علمی میدان میں ترقی و پیشرفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کی گفتگو کو فروغ امن کی جانب دنیا کی حوصلہ افزائی قرار دیا اور خاص طور پر فلسطین کے مسئلے کے بارے میں کہا کہ ملت فسطین کی مشکلات نے تمام اقوام عالم کا رنجیدہ کردیا ہے اور ہمیں چاہئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے زریعے ملت فلسطین کے حقوق کا دفاع کریں۔
انہوں نے افریقہ اور مغربی ایشیا میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اور دہشتگردی کے خلاف ایران کے سنجیدہ اقدامات خاص طور پر شام کی پیچیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خارجہ سیاست اپنے مستقبل کے تعین کے سلسلے میں اقوام عالم کے حقوق کے احترام پر استوار ہے اور ہمیں امید ہے کہ دہشتگردی سے مقابلے کے سلسلے میں ایران کے موثر کردار کی وجہ سے شام کا مسئلہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔
صدر ماہاما نے ایران کی جانب سے گھانا کے عوام کے لئے انسان دوستانہ امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بر اعظم افریقہ میں آزادی کی تحریکوں خاص طور پر جنوبی افریقہ میں آپارتھائیڈ مخالف تحریک کی حمایت کی وجہ سے افریقی ممالک کے عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی قدر دانی کرتا ہوں۔
گھانا کے صدر نے تہران میں اپنے مذاکرات اور تعاون کی چند یادداشتوں پر دستخط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مختلف شعبوں میں ایران کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہیں۔
انقلاب ِ اسلامی ایران کے ٣٧ سال
تحریر : سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
١٠ فروری ١٩٧٩ ء کو ریڈیو تہران سے اعلان کیا گیا کہ توجہ فرمائیے: '' یہ انقلاب کی آواز ہے'' یہ اعلان کرتے ہوئے ریڈیو نے در حقیقت ٢٥٠٠ سالہ شہنشاہی اور ظالم شاہی نظام کی سر نگونی کی نوید اور باطل پر حق کی فتح کی خوشخبری دی ۔ ٣٧ برس قبل اسلامی انقلاب ١٠ فروری ١٩٧٩ء کو بیسویں صدی کے عظیم رہنما امام روح اللہ الموسوی الخمینی علیہ رحمہ کی سرپرستی ،رہنمائی اور قیادت میں قیام پذیر ہوا اور خطے سے شیطانی و طاغوتی قوتوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا۔ عمر خیام، سعدی، فردوسی، حافظ ، شمس تبریز اور حسین بن منصور حلاج کی سرزمین ایران میں انقلاب آج اسی آب و تاب اور پورے جوش و ولولے کے ساتھ ترقی کرتا ہوا اپنی منزلوں کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ انقلاب نہ صرف دن کی روشنی میں خورشید اور رات کی تاریکیوں میں مہتاب کی مانند چمک دمک رہا ہے بلکہ دنیا بھر کی مظلوم قوموں کی حمایت اور عالمی سامراجی اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر آواز بلند کرنے میں سر فہرست خطے میں موجود ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے مظلوم، مجبور اور محکوم اقوام کی حمایت و نصرت کوفرضِ عین سمجھ کر اسکی ادائیگی میں مصروف عمل ہے ۔ جسکی روشن مثال قبلہ اوّل کی آزادی کے لیے اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنا اور فلسطینیوں کی تحریک کی حمایت ہے۔ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے چند سو جوانوں کا اسرائیل کے حملوں کے جواب میں مزاحمت ، حزب اللہ کی طرف سے لبنان وشام میں اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ اور اسرائیل اور اسکے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبا کر ذلت و رسوائی کے ساتھ شکست سے ہمکنار کرنا بھی انقلابِ اسلامی ایرانی کے ثمرات میں سے ایک ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے۔ مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں القاعدہ، دولتِ اسلامیہ، جنداللہ، طالبان، آئی ایس آئی ایس اور داعش کے خلاف برسرِپیکار ہونا اور بوسنیا ، چیچنیا، کشمیر میں آزادی کی تحریکوں کی حمایت بھی انقلابِ اسلامی ایران کی بدولت ممکن ہو سکا۔ اخلاقی و انسانی اقدار کی پامالی اور عالمی استعمار و استبداد کے خلاف برپا ہونے والے اس انقلاب نے سرمایہ داری اور اشتراکی نظام میں بٹی دنیا میں ایک ہمہ گیر ارتعاش برپا کر دیا۔ اپنی خصوصیت کے اعتبار سے سامراج دشمن انقلاب جوآج ٣٧ سال گذر جانے کے بعد نہ صرف مزید طاقتور ہو رہا ہے بلکہ اسی اسلامی انقلاب کی بہاریں دنیا کے دیگر ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور خطے میں شروع ہونے والی اسلامی بیداری اور شعور و فکر کی لہر بھی انقلابِ اسلامی ایران کی مرہون منت ہے۔ اٹھارویں صدی کے انقلاب فرانس اور بیسویں صدی کے انقلاب روس اور چین کے بعد انقلابِ ایران تاریخ کا ایک سنہری حصہ ہے۔ اس انقلاب کے ذریعے ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت، آمریت اور مطلق العنانیت کا خاتمہ کرکے ملک میں ''ولایت فقہیہ'' نافذ کی گئی لیکن ملک کو جمہوری راستوں پر چلانے کا بھی عزم کیا گیا۔ قدامت پسند سخت گیر قیادت بھی رہی اور اصلاح پسند بھی حکومت میں رہے لیکن ایران جمہوری طریقے سے اپنی مضبوط قومی سوچ اور منظم انداز میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر آگے بڑھا اور اس دوران ایرانی قوم کسی بھی موقع پر تقسیم کا شکار ہوتے نظر نہیں آئی۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ایرانی قوم نے بقاء کی غیر معمولی جبلت کے ساتھ حالات کا سامنا اور اسکا مردانہ وار مقابلہ بھی کیا اور ایران کی معیشت اور سماج کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔ان ٣٧ سالوں میں ایران کے ارد گرد خوفناک انتشار اور افراتفری کی آگ کے شعلے بہت تیزی کیساتھ بھڑکتے رہے، تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک خانہ جنگی کا شکار رہے اور انکی معیشت آئے دن کمزور ہوتی رہی، لیکن ایران سیاسی، سماجی ، مذہبی اور معاشرتی طور پر ایک مستحکم ریاست میں تبدیل ہوتا رہا اور اسکی معیشت مسلسل ترقی کی منزلیں طے کرتی رہی۔ اس دوران ایران کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے اپنے تدبر ، سیاسی بصیرت ، گڈ گورننس ،بہترین خارجہ و داخلی پالیسیوں اور کامیاب سفارت کاری کے ذریعے اس خطے کی جیو پولیٹک اور جیو اسٹریٹیجک میں ایران کو مرکزی حیثیت بھی دلائی۔ انقلاب ِاسلامی ایران ایک ایسی آئیڈیالوجیکل تحریک تھی جو جغرافیائی سرحدوں میں پابند نہیں تھی اور یہی نقطہ مغربی دنیاکی ایران سے دشمنی کا آغاز تھا۔ وہ خوفزدہ تھے کہ اس انقلاب کے افکار کا دائرہ ایران کی سرحدوں سے باہر پھیلے گا اور دنیا کی آزادی بخش تحریکیں اس انقلاب کی قومی و اسلامی قدروں سے متاثر ہو کر بیدار ہو جائیں گی لہذا سامراج و استبدادی طاقتوں نے انقلاب کے آئیڈیالوجک افکار، اسٹریجیک اور سیاسی نتائج کی تاثیر کو بھانپ لیا اور شروع دن سے اسے ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف رہے۔ اس تمام عرصے میں عالمی طاقتوں نے انقلاب ِ ایران کو ناکام بنانے، اپنی جنگی معیشت کو فروغ دینے اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ کرنے کی غرض سے ایران کے گرد گھیرا تنگ بھی کیا اوراپنی پشت پناہی میں ایران کو عراق کے ساتھ جنگ میں الجھا بھی دیا گیا، جس کے نتیجے میں١٩٨٠ء سے ١٩٨٨ء تک کی ٨ سال کی اس جنگ میں ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کا حامل ملک عراق معاشی طور پر تباہ اور عدم استحکام کا شکار ہوگیالیکن اس جنگ سے بھی ایران میں سیاسی ، مذہبی اور داخلی افراتفری پیدا کرنے کی عالمی سازشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ فرزندانِ توحید نے مغربی ممالک کی جانب سے دیئے گئے اسلحہ سے لیس اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کی ناپاک سوچ رکھنے والوں کا مسلسل آٹھ سال تک سینہ سپر ہو کر اس یک طرفہ جنگ کاا یمانی قوت و جذبے کیساتھ نہ صرف اپنی سرزمیں کے انچ انچ کا تحفظ کیا بلکہ انقلابِ اسلامی کی بھی حفاظت کی اور آخر کار عراق سمیت اسکے پشت بانوں کو اقوام متحدہ کی مدد کا سہارا لیکر جنگ بندی کا مطالبہ کرناپڑا۔عرب دنیا نے جس طرح صدام حسین کی معاشی، سیاسی، اخلاقی، دفاعی پشت پناہی کی وہ بھی ایک کھلا راز ہے اور جسطرح امریکہ کے عزائم کو تقویت پہنچائی وہ بھی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔انقلاب کی وجہ سے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا رویہ ایران کیساتھ انتہائی جارہانہ متعصبانہ اور مخاصمانہ رہا اورامریکہ ،اسرائیل اور اُنکے مغربی اتحادیوں کی طرف سے ایران پر حملے کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو بنیاد بنا کر ہر طریقے سے ایران کو دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں ۔ امریکہ و مغرب کی طرف سے دنیا کے شائد کسی دوسرے ملک کو اس قدر طویل ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو جتنا ایران کو کرناپڑا۔ سرد جنگ کے خاتمے اور سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ہمارا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ایران کے پڑوسی ملک افغانستان میں ١٩٧٩ء میں لگنے والی آگ نے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا مگر ایران اس سے محفوظ رہا۔درحقیقت اس دہشت گردی نے عالمی سامراجی ایجنڈے کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس خطے میں اس عالمی ایجنڈے کا سب سے بڑا ہدف ایران تھا ، اس کے باوجود بھی ایران نے اپنی سرزمیں کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک رکھا۔ ان تمام غیر معمولی سازشوں ،پابندیوں اور جارحانہ رویوں کے باوجودسیاسی ، دفاعی ،داخلی،خارجی و اقتصادی ماہرین اور غیر جانبدار مبصرین یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ ایران ہر حوالے سے ایک مضبوط ، منظم اورمستحکم طاقت اور ریجنل لیڈر کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور ان غیر معمولی چیلنجز ، رکاوٹوں اور نامساعد حالات میں ایران میں استحکام اسی طرح حیرت انگیز ہے جس طرح ایران کا انقلاب حیرت انگیز تھا اور انقلاب کے بعد کے ٣٧ سالوں میں ایران کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کی داستان بھی اتنی ہی حیرت انگیز ہے۔ ان ٣٧ سالوں میں ایران میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس نے تعلیمی، سائنس وٹیکنالوجی، میڈیسن، کیمسٹری، ریاضی اور دیگر اقتصادی و سماجی شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی۔ دنیا میں سائنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی میں ایران نے گیارہ گناہ زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ عہد ِ حاضر میں ایران میں ٧٥٠ ایسے تحقیقاتی سینٹر ، کالج اور حکومت سے متعلق یونیورسٹیاں موجود ہیں کہ جن میں موجود ماہرین کی شبانہ روز محنت کی بنا پر ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ کیمسٹری، میڈیسن، کمپیوٹر سائنس اور ریاضی میں اس کا شمار دنیا کے پہلے ٢٠ ملکوں میں ہوتا ہے۔ایران اسٹیم سیل اور کلوننگ ریسرچ میں دنیا کے ١٠ ملکوں میں شامل ہے۔آئی بائیو امپلانٹس کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔١٩٧٨ء میں ایران میں صرف آٹھ ہزار ڈاکٹر موجود تھے جبکہ اس وقت ایک لاکھ دس ہزار سے زائد قابل ترین ڈاکڑز موجود ہیں۔ایشیا میںنئی دوائیں ایجاد کرنے اور نئی ترکیب والی دوائیں بنانے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور بنیادی سیلوں میں پیوند لگانے میں ایران دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ١٩٧٩ ء سے پہلے صرف پچیس فیصد دوائیں ملک کے اندر سے تیارکی جاتی تھیں لیکن اب یہ شرح ٩٥ فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اب ایران میں ١٢٠٠ سو سے زیادہ ادویات تیار کی جاتی ہیں۔اینجی پارس نامی دوا ایرانی ماہرین طب نے سات سال کی محنت کے بعد دریافت کی ے جو شوگر کے مریضوں کے لئے نہایت ہی مفید ہے اور اگر کسی مریض کا کوئی اعضا ء کاٹنے کی نوبت بھی آجائے تب بھی اس کے استعمال سے مریض کو شفا ملتی ہے۔نینو ٹیکنالوجی کا علم پیدا کرنے والے ملکوں میں ایران کا دنیا بھر میں ساتواں نمبر ہے۔لیبارٹری میں کام آنی والی مشینیں، مائیکروسکوپ، ایس ٹی ایم، کیرو میٹر گرافی، اینٹی بیکٹیریا محصولات کی ایجاد، افزائش کی قوت بڑھانے والے نینو میٹرز کی ایجاد اور اسی طرح توانائی کو کنٹرول،گاڑیوں میں ایندھن کا کم خرچ اورانواع اقسام کے ایسے لباس جس پر پانی کا اثر نہ ہو شامل ہیں۔بائیوٹیکنالوجی کے بعد طب کے میدان میں دوسرا بڑا انقلاب بنیادی خلیوںکی تحقیق کا علم ہے۔ ایران میں قائم تحقیقاتی سینٹرز نے انسان کے بنیادی خلیے تیار کر کے ایران کا نام دنیا کے ان پہلے دس ملکوں میں درج کروا دیا ہے جنہوں نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے۔انفلیونزا، ہیپاٹائیٹس اور تپ دق کی بیماریوں کی ویکسین تیار کرنے میں ایران کا پہلا نمبر ہے۔ ایران میں استعمال ہونے والے ٩٩ فیصد لین لائن اور ٦٢ فیصد موبائل فون ایران میں بنائے جاتے ہیں ۔ ایران میں تین کروڑ ٦٩ لاکھ انٹر نیٹ کے مراکز، موبائل فون کے ٢٧٣ آپریٹرز، دنیا کے کے ١١٢ ممالک کے ساتھ رومنگ کے ذریعے رابطے کی سہولت موجود ہے۔ایران خطے کا وہ واحد ملک ہے جو بغیر کسی بیرونی امداد کے سٹیلائٹ بنانے میں نہ صرف کامیاب ہوا ہے بلکہ دنیا کا آٹھوں ملک ہے جو اپنے بل بوتے پر سٹیلائٹ فضا میں بھیجنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ دنیا کا ٩واں ملک ہے، جس کی اپنی اسپیس ٹیکنالوجی ہے اور جس نے مدار میں کامیابی سے سٹیلائٹ چھوڑے ہیں۔١٩٨٠ء سے ٢٠١٢ء تک اوسط عمر ، تعلیم تک رسائی اور معیار زندگی کے حوالے سے ایران ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ٦٧ فیصد اضافہ ہوا اور اس انڈیکس میں ایران کا شماردنیا کے سرفہرست ملکوں میں ہے۔ ١٩٧٦ء کے مقابلے میں شرح خواندگی ٣٦ فیصدسے ٩٩ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایران نے اپنی فوج اور ملکی دفاع کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ ڈراؤن ٹیکنالوجی میں ایران نے اتنی ترقی کی ہے کہ اسکی مثال امریکہ کا ڈراؤن صحیح سلامت اتار کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنا ہے۔ اسکے علاوہ ایرانی بحریہ دنیا کی مضبوط ترین اور بہترین تربیت یافتہ بحریہ ہے جس نے گذشتہ دور میں کئی بار امریکہ سمیت غیر ملکی مداخلت کو روکا اور انہیں نہائت ہی مستعدی سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور بھی کیا ۔ ایرانی ریڈار ٹیکنالوجی بھی دنیا کی ایڈوانس ترین ٹیکنالوجی ہے جو کسی بھی قسم کی نقل و حرکت کو بھانپنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران کے پاس دنیا کا جدید ترین میزائل سسٹم موجود ہے جو فضا اور زمین میں اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے اپنے بل بوتے پر پُرامن مقاصد کے لئے بیس فیصدیورینیم کی افزدگی کرکے بھی دنیا کو ورطہ ء حیرت میں ڈالا ہے۔ بجلی ، گیس، تیل، قدرتی معدنیات و قیمتی دھات کے حوالے سے ایران انتہائی خود کفیل ہے اور وہ یہ چیزیں دوسرے ملکوں کو برآمد بھی کرتا ہے۔دنیا کے ملکوں کو ضروری ٦٥ فیصد توانائی اسی علاقے سے گذرتی ہے اس لئے مشرق وسطیٰ کے خطے کی جیو پولیٹیک اور جیو اسٹریٹیجک کی اہمیت کے پیش نظر ایران کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔اسی لئے عرب بہار اور عراق پر امریکہ کے حملے نے ایران کے لئے جہاں نئے چیلنج پیدا کئے وہیں ایران کو نئے مواقع بھی ملے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ زیادہ ہوا اور یمن، لبنان، بحرین، شام، عراق ان سب خطوں میں ایرانی اثر و رسوخ میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اب مشر ق وسطیٰ میں امن کے قیام اور اس خطے میں نئی صف بندی کے لئے ایران کی طرف دیکھا جارہا ہے۔ایران نے ٣٧ سالوں میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی مکارانہ چالوں ،سازشوں اور دھمکیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اُنکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ایران نے عالمی طاقتوں کو چیلنج بھی کیا اور سفارت کاری کے ذریعے دباؤ باوقار طریقے سے برابری کی بنیاد پر ان کے ساتھ مفاہمت بھی کی۔یہ ایران کی کامیاب سیاسی، سفارتی اور خارجی حکمت عملی ہے کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اس بات پر مجبور ہوئیں کہ اسلامی انقلاب ایران کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے مذاکراتی میز پر ایرانی شرائط کے ساتھ بیٹھیں اور تمام شرائط مان کر ماضی کی تمام پابندیاں ختم کر کے ایران کی اہمیت و حیثیت اور اسے خطے کی ایک بڑی اسلامی طاقت کے طور پر تسلیم کیا، حالانکہ ان سامراجی و طاغوتی طاقتوں کی یہ تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی شرائط پر دنیا کی اقوام سے بات کی ہے اور اپنے سے کمزور ممالک پر ہمیشہ فوجی چڑھائی کے ذریعے اپنے مطالبات تسلیم کروائے ہیں۔لیکن ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعے خطے کی سیاست میں اپنی اہمیت و کردار کو تسلیم کروایا۔ چین کے صدر شی چن پنگ کا ٨٠٠ افراد کے ہمراہ کسی بھی ملک کا سب سے پہلا دورہ اور دونوں ملکوں کی تجارت کاحجم ٦٠٠ ارب ڈالرز تک لے جانے پر اتفاق، یورپی یونین اور ایران کے درمیان تجارتی لین دین چھ گناہ سے زیادہ بڑھانے کے اعلانات، جرمنی کے وزیر اقتصادی امورکا اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ اور اس کے بعد جرمنی اور فرانس کی بڑی بڑی کمپنیوں کے نمائندہ وفود کی تہران آمد، روس کے صدر پیوٹن، جرمنی کے چانسلر اور دیگر مغربی ممالک کا بڑے پیمانے پر ایران میںسرمایہ کاری اور امریکہ کی طرف سے ١٠٠ ارب ڈالر سے زائد کے منجمد اثاثے ایران کو واپس کرنے کا اعلان بھی ایران کی بڑی کامیابیاں ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے حالیہ تنازعہ کو حل کرنے میں پاکستان کے علاوہ چین، روس اور امریکہ کی قیادت کے کردار کا کچھ عرصہ پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کے تنازعات پہلے بھی پیدا ہوئے لیکن ان میں ایران کو ہی عالمی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اب صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ایران کی کامیابیوں اور انقلابِ ایران کے ثمرات کی ایک طویل داستان ہے جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں مگر۔۔۔۔۔!
رہبر انقلاب اسلامی: یورپی ممالک کو امریکہ کی تقلید نہیں کرنی چاہیے
رپورٹ کے مطابق یونان کے وزیر اعظم نے تہران میں رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی ۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس ملاقات میں اپنی گفتگو میں فرمایا کہ یورپ پر یہ تنقید بجا ہے کہ امریکا کے مقابلے میں اس کے اندر آزادی عمل نہیں پائی جاتی بنا بریں یورپ کو اپنی یہ کمزوری دور کرنی چاہئے ۔
یونان کے وزیراعظم الیکسیس سیپراس نے پیر کی شام تہران میں رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی - رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ثفافتی اور تہذیبی لحاظ سے ایران اور یونان کے درخشاں ماضی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یونان کے وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی معاملات میں اضافے اور طویل المیعاد تعاون کے لئے بہترین آغاز ثابت ہو سکتا ہے -
رہبرانقلاب اسلامی نے یورپ میں متضاد نظریات اور مفادات کے بارے میں یونانی وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یورپ پر یہ تنقید بجا ہے کہ ماضی کے برخلاف امریکا کے مقابلے میں اب یورپ کے اندر آزادی عمل نہیں پائی جاتی اس لئے یورپ والوں کو چاہئے کہ وہ اس کمزور پہلو کی اصلاح کریں -
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شام کے بارے میں یونانی وزیراعظم کے موقف کے بارے میں کہا کہ دہشت گردی ایک وبائی اور انتہائی خطرناک بیماری ہے- آپ نے فرمایا کہ اگر سب متحد ہوکر سنجیدگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن افسوس کہ بعض ممالک براہ راست یا بالواسطہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہے ہیں -
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران اور یونان کی پالیسیوں میں پائی جانے والی مشترک باتوں کا ذکر کرتے ہوئے یونانی وزیر اعظم سے فرمایا کہ آپ کی اور آپ کی حکومت کی پالیسی آزاد ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ یونان کے اقتصادی مسائل پر غلبہ پالیں گے اور آپ کا یہ دورہ بھی دونوں ملکوں کے مفادات کی تقویت کا باعث بنے گا -
اس ملاقات میں جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری بھی موجود تھے یونان کے وزیراعظم الیکسیس سپراس نے رہبرانقلاب اسلامی سے کہا کہ آپ ایک عظیم اور صاحب افتخار قوم کے رہبر ہیں جس نے اپنی تاریخ اور اپنی امنگوں اور آزادی کے دفاع میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے -
یونانی وزیراعظم نے اپنے دورہ تہران کو تمام میدانوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ سیاسی عزم کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں سنگ میل اور دونوں ملکوں کے لئے سود مندثابت ہوگا ۔ یونان کے وزیراعظم نے یورپ میں پائے جانے والے متضاد نظریات و مفادات اور مشکلات و پیچیدگیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ملکوں کی معیشت ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور اس میں تبدیلی بہت ہی مشکل ہے - انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں تبدیلی کے لئے خود یورپی یونین کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی ضرورت ہے -
انہوں نے شام کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ شام کے سلسلے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی کیونکہ اس بحران کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے اور دہشت گردوں کے حملوں کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دیگر ملکوں منجملہ یونان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں -




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
