Super User

Super User

غزہ میں مساجد منہدم کرنے کے اقدام کی شدید مذمتاسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی نے غزہ پٹی میں صیہونی حکومت کے مظالم نیز اس علاقے میں مساجد کے انہدام کی مذمت کی ہے۔ الیوم السابع کی ویب سائٹ کے مطابق ایاد امین مدنی نے آج کہا کہ تمام مسلمانوں اور بیدار ضمیر لوگوں کو فلسطینیوں کے مسلمہ حقوق کے دفاع کے سلسلے میں اپنی ذمےداریاں ادا کرنے کے لۓ اپنے سیاسی ، اقتصادی اور ثقافتی وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہۓ کیونکہ اب صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے مظالم پر خاموش رہنے کا موقع نہیں ہے۔ ایاد امین مدنی نے غزہ پٹی کے بچوں اور خواتین کے قتل عام پر مبنی صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی حمایت کرنے والے اور اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں اسرائيلی مظالم کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کریں۔

عالم اسلام فلسطینیوں کی مدد کرے: آیت اللہ مکارم شیرازیآیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے عالم اسلام سے کہاہےکہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کی مدد اور حمایت کریں۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ناصر مکارم شیرازی نے اتوار کے دن ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات پر تاکید کی گئي ہے کہ ہر مسلک اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام مسلمانوں اور باضمیر انسانوں پر لازم ہے کہ وہ غزہ میں صیہونی حکومت کے مظالم کے مقابلے میں اپنا فرض انجام دیں ۔ انہوں نے ا پنے بیان میں کہا ہےکہ غزہ میں وحشیانہ قتل عام اور اسکولوں، اسپتالوں اور گھروں پرحملے امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی حمایت سے انجام پارہے ہیں۔ اس بزرگ مرجع تقلید نے غزہ پر صیہونی حکومت کے جرائم پر عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ قدس کی غاصب حکومت اپنے ناجائزہ مفادات تک پہنچنے کے لئے ہر طرح کے مجرمانہ اقدامات کررہی ہے۔

اسلام آباد میں فوج بلانا نوازشریف کی سیاسی غلطی ہےپاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں فوج بلاکر آئین کے آرٹیکل 245 کا غلط استعمال کیا ہے۔ اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں ایوان میں دوستانہ اپوزیشن ختم کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں بھر پور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، تاکہ پارلیمانی جمہوریت کو بچایا جاسکے۔ خورشید شاہ کے مطابق اسلام آباد کو کوئی خطرہ نہیں، اگر فوج بلانا ہی تھی تو پشاور اور بنوں میں بلائی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ ذولفقار علی بھٹو نے 1977 میں لاہور میں فوج طلب کی اور یہ اُن کی سنگین غلطی ثابت ہوئی۔ خورشید شاہ نے فوج بلانے کے عمل کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی غلطی قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ‘ فوج کے بلاوے جیسے اہم فیصلے کے سلسلے میں پارلیمنٹ یا کسی بھی سیاسی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ فوج بلانے سے پہلے پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے تھا۔ قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سیاسی بات چیت کو اہمیت نہیں دے رہی۔ انھوں نے کہا کہ ہم فوج کی طلبی کا معاملہ چار اگست کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔

فلسطینی خالی ہاتھ اسرائیل کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیںاسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے غزہ کے محاصرے اور جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کی امداد کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ منصور حقیقت پور نے ایسنا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ فلسطین کے عوام خالی ہاتھ اسرائیل کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ملت ایران، فلسطینی قوم کی مادی و معنوی مدد کے لئے تیار ہے اور اگر مصر غزہ کے باڈر پر رفح کی گذر گاہ کو کھول دے تو ایران، فلسطینیوں کو بھر پور امدار فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسلامی جمہوریۂ ایران کے نائب وزیر خارجہ " حسین امیر عبداللہیان" نے ایران کی جانب سے فلسطینی عوام کے لئے غذائی اشیاء اور دواؤں پر مشتمل امدادی سامان غزہ بھیجے جانے کا پرمٹ جاری کرنے کی مصری حکام سے درخواست کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ستاون افراد پر مشتمل فلسطینیوں کا پہلا گروپ، جس میں شدید زخمی عورتیں اور بچے شامل ہیں مصر میں ایران کی امدادی پرواز اور علاج کے لئے فوری طورپر تہران منتقل کئے جانے کا منتظر ہے۔

غزہ میں 72گھنٹے کی جنگ بندی/ 1459 شہید اور 8400 زخمی

غزہ میں 25 دن کی بمباری کے بعد جنگ بندی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے مطابق تمام فریقین انسانی بنیادوں پر امن معاہدے کے لیے رضامند ہوگئے ہیں، جمعہ کی صبح سے تین دن کے لیے فائر بندی کر دی جائے گی۔ غزہ میں صبح کا سورج طلوع ہوا اور اس بار بموں کی برسات نہیں ہوئی، 72 گھنٹوں تک نہ تل ابیب سے کوئی میزائل آئے گا نہ حماس راکٹوں سے جواب دے گا، عالمی طاقتوں کے دبائو پر صیہونی حکومت اور حماس اگلے 3 دن تک فائر بندی پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ بان کی مون اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق فائر بندی کا آغاز فلسطین میں صبح آٹھ بجے ہوا۔ سیز فائر کے دوران غزہ میں امدادی کاموں کے علاوہ علاقہ مکینوں کو خوراک فراہم کی جائے گی، جاں بحق افراد کی تدفین بھی عمل میں آئے گی جبکہ بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی پانی کی پائپ لائنیں اور دیگر ضروری کام بھی اس دوران انجام دیے جائیں گے۔ جان کیری کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی حکام فوری طور پر قاہرہ روانہ ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حماس نے بھی اگلے 72 گھنٹوں کے لیے فائر بندی کے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ 25 روز میں غزہ میں 1400 سے زائد افراد صیہونی جارحیت کی نذر ہوچکے ہیں ،جبکہ 56 صیہونی فوجی حماس کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا شکار ہوئے۔

دیگر ذرائع کے مطابق اسرائیل اور حماس نے غزہ کی پٹی میں بہتر گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں بتایا کہ جنگ بندی یکم اگست کو صبح آٹھ بجے مقامی وقت پر شروع ہوگی۔ بیان کے مطابق، جنگ بندی کے دوران فورسز اپنی جگہ پر رہیں گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی زمینی فوج واپس نہیں جائے گی۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشرق وسطٰی کے لیے یو این کے سفیر رابرٹ شیری کو تمام فریقین سے یقین دہانیاں ملی ہیں۔ بان کی مون اور کیری کا کہنا ہے کہ "ہم تمام فریقین پر زور دیں گے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی شروع ہونے تک تحمل کا مظاہرہ کریں۔ یہ سیز فائر معصوم شہریوں کو جاری تشدد سے ریلیف دینے میں انتہائی اہم ہے۔" بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیلی اور فلسطینی وفد فوری طور پر قاہرہ جائیں گے تاکہ پائیدار جنگ بندی کے لئے مصری حکومت سے مذاکرات کئے جا سکیں۔

خیال رہے کہ آٹھ جولائی سے شروع ہونے والی صیہونی جارحیت میں اب تک 1459 فلسطینی شہید جبکہ آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حماس کی جوابی کارروائیوں میں 56 صیہونی فوجی ہلاک جبکہ 400 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ حماس کی راکٹ شیلنگ سے تین اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اٹھارہ لاکھ آبادی والے غزہ میں ایک چوتھائی بے گھر ہوئے، جن میں سے دو لاکھ بیس ہزار یو این کے مختلف مراکز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس تنازعے میں یو این کے آٹھ ملازمین بھی اپنی جانوں سے گئے۔

غزہ کا مسئلہ عالم اسلام کا سب سے پہلا مسئلہ

تہران میں عید الفطر کی نماز رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئي۔ لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں رہبرانقلاب اسلامی نے غزہ کے مسئلے کو عالم اسلام کا پہلا مسئلہ قراردیا۔

رہبرانقلاب اسلامی نے تاکید فرمائي کہ انسانیت کو اس مسئلے پر رد عمل دکھانا چاہیے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ غزہ میں صیہونی حکومت کے اقدامات نسل کشی اور عظیم تاریخی المیہ ہے۔ آپ نے فرمایا اس مجرم حکومت اور اس کے حامیوں پر ایک عالمی عدالت میں مقدمہ چلاکر انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا میں قوموں کو خطاب کرنے والوں اورمصلحین کو چاہیے کہ وہ صیہونی مجرموں کو سزا دئے جانے کا مطالبہ کریں خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار میں نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں کو بھی سزا دئے جانے کامطالبہ کیا جائے جو صیہونی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ غزہ کے عوام جو اپنے برحق ہونے پر استقامت کا ثبوت دیتے رہے ہیں ان کی طاقت و استقامت فلسطین کی طاقت و استقامت کی نشاندہی کرتی ہے اور آخر کار ملت فلسطین صیہونی دشمن پر کامیاب ہوکر رہے گي۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دشمن اب پشیمان ہوچکا ہے اور اگر وہ غزہ پر جارحیت جاری رکھے گا تو اسکو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑےگا۔ آپ نے فرمایا کہ امریکہ اور دنیا کے تمام مجرمین صیہونی حکومت کو نجات دلانے کے لئے غزہ پر جنگ بندی کا معاہدہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سامراج فلسطین کی تحریکوں حماس اور تحریک جہاد اسلامی کو ہتھیار ڈالنے پرمجبور کرنا چاہتے ہیں لیکن عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ صیہونی حکومت کے مقابل ملت فلسطین کو زیادہ سے زیادہ ہتھیار فراہم کرے۔

اگر مصر رفح کی گذر گاہ کھول دے تو ایران فلسطین کو بھرپور امداد فراہم کرے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے غزہ کے محاصرے اور جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کی امداد کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ منصور حقیقت پور نے ایسنا کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ فلسطین کے عوام خالی ہاتھ اسرائیل کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ملت ایران، فلسطینی قوم کی مادی و معنوی مدد کے لئے تیار ہے اور اگر مصر غزہ کے باڈر پر رفح کی گذر گاہ کو کھول دے تو ایران، فلسطینیوں کو بھر پور امدار فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسلامی جمہوریۂ ایران کے نائب وزیر خارجہ " حسین امیر عبداللہیان" نے ایران کی جانب سے فلسطینی عوام کے لئے غذائی اشیاء اور دواؤں پر مشتمل امدادی سامان غزہ بھیجے جانے کا پرمٹ جاری کرنے کی مصری حکام سے درخواست کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ستاون افراد پر مشتمل فلسطینیوں کا پہلا گروپ، جس میں شدید زخمی عورتیں اور بچے شامل ہیں مصر میں ایران کی امدادی پرواز اور علاج کے لئے فوری طورپر تہران منتقل کئے جانے کا منتظر ہے۔

نایجیریا ؛ عالمی یوم القدس پر خونی مظاہرہ

نائجیریا کی ریاست کاڈونا کے شہر زاریا میں جمعۃ الوداع کی نماز کے بعد فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں نکالی گئی ریلی پر سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ کر دیا۔

سکیورٹی اہلکاروں نے یوم القدس کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے نکالی گئی ریلی پر فائرنگ کر کے ۲۴ کو شہید جبکہ ۴۰ کو زخمی کر دیا ہے۔

شہید ہونے والوں میں نائجیریا کے مسلم رہنما ’’شیخ ابراہیم زکزاکی‘‘ کے تین بیٹے بھی شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی یوم القدس کے موقع پر نائجیریا کے ۱۰ شہروں میں مظاہرے کئے گئے لیکن صرف زاریا شہر میں سکیورٹی دستوں نے مظاہرین پر حملہ کیا اور ۲۴ روزہ داروں شہید کیا ہے۔

تل ابیب کے ایٹمی پاور پلانٹ پر راکٹ حملےتحریک جھاد اسلامی فلسطین نے تل ابیت کے ایٹمی پاور پلانٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ فلسطین الیوم نامی اخبار کے مطابق تحریک جھاد اسلامی کے قدس بریگیڈ نے جمعہ کی رات ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے اسرائیل کے علاقے تسوراک میں واقع ایٹمی پاور پلانٹ پر راکٹ حملہ کیا۔ اس بیان میں آیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے بیت حانون کے علاقے خیابان نعیم میں گھات لگا کر صہیونی فوج کے چند اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایک فوجی گاڑی کو بھی آر پی جی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ قسام بریگیڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک اور صہیونی جنگی طیارے کو نشانہ بنایا ہے جبکہ 11 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔ اس طرح غاصب صہیونی حکومت کے ہلاک شدہ فوجیوں کی تعداد 80 تک جا پہنچی ہے۔

Saturday, 26 July 2014 05:31

مسجد جامع قروہ - ايران

مسجد جامع قروہ - ايران

مسجد جامع قروہ، ابہر کے مشرق میں قروہ نامی گاؤں میں تاریخی عمارتوں میں سے ایک عمارت ہے، جو دریائے ابہر کے کنارے پر تاکستان کی طرف واقع ہے۔ یہ مسجد، مسجد جمعہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ دورہ سلجوقی ﴿ پانچویں صدی ہجری﴾ کے آثار قدیمہ میں سے ہے۔ یہ مسجد چار محرابوں کی صورت میں تعمیر کی گئی ہے، اور ان پر گنبد واقع ہے اور اس کا ایک گنبد والا شبستان ہے اور اس کے علاوہ دو طرف خام اینٹوں اور پختہ اینٹوں کے شبستان بنے ھوئے ہیں اور ان کے اندرونی حصہ میں چونے پر نقاشی کی گئی ہے۔ یہ نقاشی نباتاتی شکل میں ہے اور اس مسجد کی معماری آل بویہ کے زمانہ کی معماری کے مانند ہے۔ اس کے محراب میں چونے کے برجستہ اور خوبصورت خط ثلت میں ایک کتبہ ہے اور اس کتبہ پر اس کی عبارت میں یہ لکھا گیا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر ۴١۳ ہجری قمری میں شروع کی گئی ہے۔

مسجد جامع قروہ - ايران

اس عمارت کے حاشیہ پر ایک اور کتبہ ہے جو خط ثلت میں لکھا گیا ہے اور بہت ہی خوبصورت اور گراں بہا ہے۔ اس کتبہ پر اس مسجد کے مکمل ہونے کی تاریخ ۵۸۵ ہجری قمری لکھی گئی ہے۔

مسجد جامع قروہ - ايران

اس مسجد کا ایک عظیم گنبد ہے جو اینٹوں سے بنا ھوا ہے ۔ اس گنبد کے نیچے والی چھت چار گوشہ ہے اور اس کو خط کوفی میں لکھے گئے کتبہ سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے محراب کا اوپر والا حصہ آل بویہ کے زمانہ کی معماری کی صورت میں بنا ھوا ہے اور اسے محراب نما مختلف شکلوں میں مزین کیا گیا ہے۔

مسجد جامع قروہ علاقہ ابررود ﴿بڑے دریا﴾ کی ایک تاریخی اور گراں قیمت عمارت ہے۔ اس مسجد کے شبستان مسجد جامع قزوین اور کابل کے شبستانوں سے قابل موازنہ ہیں۔ مسجد جامع قروہ ایک ہزار سال پرانی مسجد ہے اور قصبہ ابہر کے مشرق میں ١۸ کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔