Super User

Super User

Friday, 16 August 2013 00:00

مريم مقدس - 2

Friday, 16 August 2013 00:00

مريم مقدس - 1

Friday, 16 August 2013 00:00

ابراهيم خيليل الله - 2

Friday, 16 August 2013 00:00

ابراهيم خيليل الله - 1

Sunday, 10 August 2014 10:38

مسجد سلطان قابوس - عمان

مسجد سلطان قابوس - عمان

مسجد سلطان قابوس مملکت عمان کے شہر مسقط میں واقع ہے۔ اس کی مساحت 4620 مربع میٹر ہے اور یہ دنیا کی گیارھویں بڑی مسجد شمار ھوتی ہے۔

مسجد سلطان قابوس - عمان

اس مسجد میں بیک وقت بیس ہزار لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔اس کا گنبد33 میٹر بلند اور 24 میٹر ضخیم ہے۔ اس گنبد کا وزن 12ٹن ہے۔

مسجد سلطان قابوس - عمان

اس مسجد کا محراب 14میٹر بلند ہے اور اس طرح عالم اسلام کا سب سے بڑا محراب شمار ھوتا ہے۔

مسجد سلطان قابوس - عمان

اس مسجد کی تعمیر میں ایران کے بے مثال معماروں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اس مسجد کا قالین 4263 مربع میٹر ہے اور اس میں ایک ارب ستر کروڑ گانٹھیں استعمال ھوئی ہیں اور اس قالین کی نیشاپور کی 600 ہنر مند خواتین نے بنائی کی ہے۔ اس مسجد کی ٹائیلیں﴿کاشی﴾ بھی ایران میں بنی ہیں۔

مسجد سلطان قابوس - عمان

غزہ میں 60 مساجد شہید ہو گئیںصیہونی فوج نے غزہ پٹی پر حملے کے دوران ساٹھ مساجد کو شہید کردیا ہے۔ فلسطین کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی وزارت اوقاف اور دینی امور نے جمعے کے دن ایک بیان میں کہا کہ صیہونی حکومت نے غزہ پٹی پر حالیہ حملوں کے دوران ساٹھ مساجد کو مکمل طور پر جبکہ ایک سو پچاس مساجد کو جزوی طور پر منہدم کردیا ہے۔ فلسطین کی وزارت اوقاف اور دینی امور نے صیہونی حکومت پر ان مساجد کو جان بوجھ کر شہید کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہےکہ اسرائيلی فوج نے غزہ میں گیارہ مقبروں ، زکوۃ کمیٹیوں کی تین عمارتوں اور لڑکوں کے ایک دینی مدرسے کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ ادھر فلسطین کی وزارت زراعت نے بھی کل ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گيا ہےکہ فلسطین کی زرعی زمینوں پر صیہونی حکومت کے حملوں کے نتیجے میں چار سو ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

صہیونی حکومت کا خاتمہ اسکے جرائم کا واحد علاج، رہبر معظم

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ صہیونی حکومت کے جرائم کا علاج صرف اس غاصب حکومت کے خاتمے میں ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کی شام ایران کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں غزہ کے عوام کے خلاف صہیونی حکومت کے حالیہ جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ انسانی تصور سے بالاتر یہ جرائم، درحقیقت صہیونی حکومت کی بھیڑیا صفت اور بچوں کی نسل کشی پر مبنی طینت کا حصہ ہے اور اس کا علاج صرف صہیونی حکومت کی نابودی اور اس کا خاتمہ ہے، البتہ اس وقت فلسطینیوں کی ٹھوس اور مسلح مزاحمت اور غرب اردن میں اس کی توسیع اس وحشی حکومت کے مقابلے کی تنہا راہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا غزہ کے مظلوم عوام کو اس وقت جن مصائب کا سامنا ہے وہ اس غیرقانونی و جعلی صہیونی حکومت کی 66 سالہ عمر میں وحشیانہ جارحیت پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے اور غاصب صہیونی حکومت متعدد بار بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس قسم کی گستاخیاں انجام دیتی رہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کے اس ارشاد کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ اسرائیل کو حتمی طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ البتہ اسرائيل کی نابودی اس علاقے سے یہودی عوام کی نابودی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کے لئے منطقی اور عملی کام کی ضرورت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حوالے سے راہ حل عالمی اداروں میں پیش کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا اس کام کے لئے ضروری ہے کہ اس علاقے میں زندگی بسر کرنے والے عوام اور وہ افراد کہ جن کا تعلق اس علاقے سے ہے، وہ اپنی من پسند حکومت کے لئے ایک ریفرنڈم کا اعلان کریں اور اس کے ریفرنڈم کے ذریعے غاصب و جعلی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے جنگ بندی کے لئے صہیونیوں کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسی حکومت کہ جو انسان کے تصورات سے بالاتر جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے، فلسطینیوں کی طاقتور مزاحمت کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے اور کسی بھی راہ حل کے درپے ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صہیونی صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے عوام کی سیاسی حمایت کو تمام مسلمان و غیرمسلمان قوموں کی ذمہ داری قرار دیا اور تاکید کی انشاءاللہ یوم القدس کو دنیا ملت ایران کے عظیم الشان جوش و ولولے کا مشاہدہ کرے گی اور ملت ایران ثابت کرے گی کہ فلسطین کی حمایت کا جذبہ، اس اسلامی سرزمین میں اپنی پوری طاقت و توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عالمی سامراج اور ان میں سرفہرست امریکہ کی جانب سے صہیونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات اور ظلم و بربریت کی حمایت اور غزہ کے عوام کے خلاف ان وحشیانہ جرائم کی حمایت اور دفاع کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ چند مغربی حکومتیں خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کی خبیث حکومتیں ایسے جرائم کہ جن کو کوئی بھی انسان قبول نہیں کرسکتا، کا دفاع اور حمایت کررہی ہیں اور امریکی صدر بے شرمانہ طریقے سے کہتا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ غزہ کے مظلوم عوام پر روا رکھی جانے والی بربریت کے حوالے سے تسط پسندوں کے رویّے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ لوگ انسانی حقوق اور انسانیت پر سرے سے اعتقاد ہی نہیں رکھتے ہیں اور آزادی و انسانی حقوق کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں وہ آزادی و انسانی حقوق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

صہیونی حکومت غزہ میں انسانی حقوق پامال کر رہی ہےمصر میں مذاکرات کرنے والی فلسطینی ٹیم کے دو ارکان نے صیہونی حکومت پر غزہ میں فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ فلسطین کی شعب پارٹی کے سیکرٹری جنرل بسام الصالحی نے بی بی سی عربی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائيل غزہ پٹی کا محاصرہ جاری رکھنے کے درپے ہے حالانکہ غزہ پٹی کے فلسطینیوں کو پوری آزادی کےساتھ اور غیر مشروط طور پر مغربی کنارے میں رفت و آمد کا حق حاصل ہے۔ قاہرہ میں فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے ایک اور رکن ماہر الطاہر نے جنگ بندی کے مذاکرات کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائيل فلسطینیوں کے کسی بھی مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے وہ صرف ٹائم کلنگ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ماہر طاہر نے فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کے بغیر ہر طرح کی جنگ بندی کو مسترد کردیا۔

یورپی ممالک نے اسرائیل کو اسلحہ دیاپاکستان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ بعض ممالک نے غزہ پٹی پر حملے کے لۓ اپنے ہتھیار صیہونی حکومت کو دیۓ ہیں۔ تسنیم خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پرویز رشید نے فلسطین کے مظلوم عوام پر صیہونی حکومت کے حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض یورپی ممالک نے غزہ پٹی پر حملے کے لۓ اسرائیل کو اپنا اسلحہ دیا ہے۔ پرویز رشید نے مزید کہا کہ یورپی ممالک صیہونی حکومت کی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہے ہیں جس سے دہشتگردی سے مقابلے کے بارے میں ان کی نیک نیتی کے فقدان کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پرویز رشید نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک عالمی ادارے کے طور پر صیہونی حکومت کے مظالم کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے اس حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔

غزہ اس وقت عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہےتہران کی مرکزی نماز جعمہ آیت اللہ سید کاظم صدیقی کی امامت میں ادا کی گئي۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھون نمازیوں سے خطاب میں کہاکہ بحران غزہ اس وقت عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ آیت اللہ کاظمی صدیقی نے غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے بے گناہ عوام پر صیہونی حکومت کی جارحیت کا کوئي منطقی اورقانونی جواز نہیں پیش کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت صیہونی حکومت فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہے اور دوہزار فلسطینیوں کا قتل عام نیز دسیوں ہزارافراد کو آوادہ وطن کرنے کی علاقائي تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے۔ انہوں نے غزہ پرصیہونی حکومت کے حملوں اور ان حملوں کے نتیجے مین رونما ہونے والے المناک واقعات پر عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی ادارے بظاہر مظلوم قوموں کی حمایت کے لئے قائم کئے گئے ہیں لیکن انہوں نے غزہ کے مظلوم عوام پر صیہونی حکومت کے مظالم پر چپ سادھ رکھی ہے اور اپنی خاموشی سے صیہونی حکومت کے مظالم کی حمایت کررہے ہیں۔ خطیب جمعہ تہران نے ایک صیہونی فوجی کی رہائي کی ضرورت پر مبنی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ غزہ پرصیہونی حکومت کے حملوں میں اب تک سیکڑوں بچے شہید ہوگئے ہیں لیکن اقوام متحدہ نے اس بہیمانہ قتل عام کو رکوانے کی کوئي کوشش نہیں کی ہے۔ آيت اللہ کاظم صدیقی نے امریکہ اور دیگر ملکوں کی جانب سے صیہونی حکومت کی سیاسی، تشہیراتی،اور فوجی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی جرائم پر علاقے کے بعض ملکوں کی خاموشی تاریخ میں ان کےلئے رسوائي بن جائے گي۔ خطیب جمعہ تہران نے صیہونی جارحیت کے مقابل غزہ کے عوام کی استقامت کو مثالی استقامت قراردیا۔