سلیمانی

سلیمانی

تجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: ایران بمقابلہ سپر پاور: اخلاقی فتح کس کی؟
مہمان تجزیہ کار: ڈاکٹر سید حسن رضا نقوی (تہران)
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
جمہوری اسلامی ایران پہ ام ری ک ی جارحیت کسی بھی عالمی قاعدے پہ پوری نہیں اترتی
ثابت شدہ جنگی مجرم ص ے ہ ن ی وزیراعظم کے ساتھ مل کر جارحیت  کرنا اس جنگ کے غیر اخلاقی و غیرقانونی ہونے واضح ثبوت ہے
مہذب دنیا میں کسی بھی ملک کی اعلی شخصیات کو نشانہ بنانا جنگی جرائم میں شمار کیا جاتا ہے
سو سے زائد اسکول کی بچیوں  کے بہیمانہ  قتل سے لیکر اب تک ا م ر ی ک ہ نے ایرانی آبادیوں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں کو سینکڑوں بار نشانہ بنایا ہے
جمہوری اسلامی ایران کی آثار قدیمہ کی  تاریخی جگہوں تک نشانہ بنایا گیا ہے
اس وقت ا م ر ی ک ی فوج کی کیفیت  شکست خوردہ بوکھلائے جتھے کی سی ہے
امریکی لیڈرشپ کو آج کے دن تک اپنی مقاصد واضح نہیں ہیں
ام ر ی ک ی صدر کے جھلائے ہوئے بیانات اس کے ذہنی خلجان کا واضح ثبوت ہیں
رجیم چینج سے لیکر آبنائے ہرمز تک قبضہ کے خواب  سے لیکر  ا م ر ی ک ی خواہشیں آرزوئے نا آسودہ بن چکی ہیں
دنیا میں جنگیں ختم  کرانے کے انتخابی نعرے والا شخص حالات حاضرہ کی سب سے خوفناک جنگ کا باعث بنا ہے
مخبوط الحواس صدر بٗری طرح جنگ کے دلدل میں پھنس چکا ہے
اس جنگ میں ا م ر ی ک ہ کے سب اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں
ا م ر ی ک ہ  کےاتحادیوں عرب ممالک اور خلیجی ممالک کو  اس کی اوقات نظر آچکی ہے
حتی کہ خود ا م ر ی ک ہ میں اس جنگ کے خلاف عوامی مظاہرے شروع ہوچکے ہیں
امن نکے نوبل انعام کے خوا ہش مند  ام ر ی کی  تاریخ کا جھوٹا ترین صدر بن چکا ہے
واشنگٹن  پوسٹ کے مطابق  ہرورز کم ازکم پندرہ جھوٹ بولتا ہے
ام ر ی ک ی صدر بھی مخبوط الحواس اور ذہنی مریض فرد کا سا رویہ اپنائے ہوئے ہے
شدید جنگی جارحیت کے باوجود جمہوری اسلامی ایران کے دفاعی اثاثے محفوظ ہیں
جمہوری اسلامی ایران نے اس جنگ میں احکام اسلامی کی پاسداری کا مظاہرہ کیا ہے
جمہوری اسلامی ایران نے اس جنگ میں دشمن کے اسٹریٹجک اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے
جمہوری اسلامی ایران نے دشمن کے اڈے جہاں سے جارحیت ہوتی کہیں بھی ہوں کو نشانہ ضرور بنایا ہے
جمہوری اسلامی ایران نے اپنی کاروائیوں کا برملا اعلان اور اعتراف کیا ہے
جمہوری اسلامی ایران نے کسی بھی جگہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا سوائے ان جگہوں کے جہاں ا م ر ی ک ی جاسوس موجود ہیں
جمہوری اسلامی ایران نے چاہے خلیجی ممالک یا ا س ر ا ئ یل جہاں بھی دشمن کی جنگی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اعلان کرکے کیا
جمہوری اسلامی ایران نے بہت ہوشیاری کے ساتھ دشمن کو کاری ضربیں لگائی ہیں
جنگ کے میدان میں جو ممالک عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے وہی فاتح متصور ہوتا ہے
بین الاقوامی میڈیا مان چکا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران اخلاقی طور یہ جنگ جیت چکا ہے
جمہوری اسلامی ایران نے س وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
ایک مہینے  کی جنگ اور مسلسل پورے عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی
بلکہ دوسرے  ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں
جموری اسلامی ایران کے غیور عوام47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ مسلط کردہ جنگ کے باوجود جمہوری اسلامی ایران میں نہ تو لاک ڈاون ہے، نہ بلیک آؤٹ ہے
جمہوری اسلامی ایران کے عوام اور حکومت پوری دلیری کے ساتھ دشمن کے حملوں کا سامنا کررہی ہے
دوسری طرف ام ر ی ک ہ روز بروز مہنگائی اور اقتصادی بد حالی کا شکار ہوتا جارہا ہے
امریکی ماہر اقتصادیات سٹیوو ہانک کے مطابق جب سے جنگ مسلط ہوئی ہے جمہوری اسلامی ایران کی کرنسی کی قدر گیارہ فیصد بہتر ہوئی ہے
جمہوری اسلامی ایران اپنا تیل اب بھی مہنگے کے بجائے مناسب نرخ پہ بیچ رہا ہے
ایران اور عمان آبنائے ہرمز پہ مل کر ٹیکس وصول کرنے کا میکینزم بنارہے ہیں
دنیا جانتی ہے کہ جمہوری اسلامی ایران  دنیا کی اقتصادی شہ رگ پہ  موجود ہے
ایرانی جنرل آغائے محسن رضائی کے مطابق " دنیا بھول جائے کہ آبنائے ہرمز اب جنگ سے پہلے والی حالت پہ جائیگی"
خبروں کے مطابق چالیس سے زائد ایران کو پروپوزل دے چکے ہیں کہ ہم ایران کی شرائط پہ آبنائے ہرمز سے تجارت کرنے کو تیار ہیں
ایرانی پارلیمنٹ نے بھی آبنائے ہر مز پہ ٹول پلازا بناکے ٹیکس  وصول کرنے کا بل پاس کردیا ہے
آبنائے ہرمز کے  انتظامات کے حوالے سے اسلامی ایران اور عمان مل کر ایک کمپنی بنارہے ہیں ، دیگر خلیجی ممالک کو بھی ساتھ ملانا چاہتے ہیں
مستقبل میں ایران خطے کی ایک اقتصادی طاقت بننے کی پوزیشن میں آجائیگا
چینی  کرنسی یوآن میں تیل کی تجارت کرنا چین کو آن بورڈ لینے کی حکمت عملی ہے
آغائے عباس عراقچی کے مطابق  یہ جنگ پورے خطے کے مفادات کے تحفظ کی جنگ ہے جو ہم لڑرہے ہیں
بلکہ  جمہوری اسلامی ایران پورے مزاحمتی بلاک کی جنگ لڑرہا ہے
جمہوری اسلامی ایران  کا انٹلی جین نظام س  چند کمزوریوں کے  باوجواب سنبھل چکا ہے
ص ے ہو ن ی ریاست کے جنگی مقامات اور ا م ر ی ک ی اڈوں کا بالکل صحیح نشانہ ایرانی انٹیلی جینس نظام کے بہتر ہونے کا واضح اظہار ہے
ا م ر ی ک ہ کےسات سو کے قریب فوجیوں کا مختلف مقامات  پہ مارا جانا ایرانی انٹیلی جنس کی کارکردگی کا کمال ہے
ایران اب بھی  ص ے ہو ن ی ریاست کے جنگی مقامات اور ا م ر ی ک ی اڈوں کو ٹارگٹ کررہا ہے
رہبر شہید کے فرمان کے مطابق ایران میں نظام ولایت فقیہ کی برکت سے وہ خطے کی قوت بن چکا ہے
امام زمانہ عج کے ظہور پہ ایمان اور ولایت فقیہ پہ یقین نے ہی ایران کے عوام  کو حکومت اسلامی سے متصل کردیا ہے
جمہوری اسلامی ایران  نے اس جنگ میں ا م ر ی ک ہ کے سپرپاور عفریت ہونے کے خوف سے دنیا کو آزادی دلادی ہے
یقینا کچھ وقت ضرور لگے کا مگر سپر پاور کا زوال شروع ہوچکا ہے
رہبر عظیم الشان آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے  تلوار پہ خون کی فتح کو ثابت کردیا ہے
اس جنگ میں ایرانی عوام پاکستانی عوام کی اپنی حمایت کے معترف ہیں
ایرانی عوام  مختلف مواقع پہ تشکر پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں
باوجودیکہ ایران نے اپیل نہیں کی مگر پاکستانی عوام کا ایران کے لئے مالی امداد دینا بہت قابل تعریف اقدام ہے
ایران پاکستان کی ثالثی اور جنگ رتکوانے کی کوششوں کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے
پاکستان ایران بارڈر جنگ کے باوجود مسلسل  کھلا  ہے اور تجارت جارہی ہے
ایران کی طاقت   اللہ پر بیقین و ایمان جو دشمن کو شکست دے کر فتح مبین کا علم بلند کرے گی
 
 
 
 
 

 

 تہران – ارنا – اپنے تباہ شدہ جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو ریسکیو کرانے کے لئے اصفہان آنے والے امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوگئے۔

ارنا کے مطابق ایران میں مار گرائے جانے والے امریکی جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو ریسکیوکرانے کے لئے امریکا نے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا جو دستہ بھیجا تھا، وہ شہر اصفہان کے مضافات میں ایران کے ایئئر ڈیفنس کا نشانہ بنکر تباہ ہوگئے۔

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

 

 ایران کی مسلح افواج کے خاتم الانبیا ہیڈکواٹر نے بتایا ہے کہ امریکی پائلٹوں کو ریسکیو کرانے کے آپریشن کے دوران  اصفہان کے مضافات میں امریکا کے  دو C130  کارگو فوجی طیارے اور دو بلیک ہاک جنگی ہیلی کاپٹر آج ایرانی ایئر ڈیفنس کی فائرنگ کا نشانہ بنکر تباہ ہوگئے۔

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

 امریکا کے ان فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ جہاں وہ گرکر تباہ ہوئے ہیں، بکھرا پڑا ہے۔

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

امریکا کے تباہ شدہ جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ

خاتم‌الانبیا سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل علی عبداللهی نے امریکہ اور صہیونی حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن نے ایرانی تنصیبات پر مزید جارحیت کی تو ایران کی مسلح افواج دشمن کے تمام بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنائیں گی اور یہ حملے محدود نہیں ہوں گے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مسلسل ناکامیوں کے بعد بوکھلاہٹ، غصے اور غیر متوازن کیفیت میں ایران کے بنیادی ڈھانچوں اور قومی سرمایہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج ملت کے حقوق کے دفاع اور قومی سرمایہ کی حفاظت کے لیے ایک لمحہ بھی غفلت نہیں کریں گی اور ہر جارح کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

جنرل عبداللهی نے تاکید کی کہ اگر امریکی-صہیونی دشمن نے کوئی حملہ کیا تو ایران، امریکہ کی دہشت گرد فوج کے زیرِ استعمال تمام بنیادی ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ صہیونی حکومت کے انفراسٹرکچر کو بھی بغیر کسی رحم کے تباہ کن اور مسلسل حملوں کا نشانہ بنائے گا۔

 صہیونی حکومت کے طبی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 113 صہیونی زخمی ہوئے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق صہیونی وزارت صحت نے جاری بیان میں کہا ہے کہ جنگ میں شدت آنے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 زخمیوں کو مختلف علاقوں میں واقع اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی طبی مراکز میں زخمیوں کی مسلسل آمد کا سلسلہ جاری ہے اور اسپتالوں میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

صہیونی وزارت صحت نے زخمیوں کے نئے اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال کے باعث طبی مراکز پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور زخمیوں کے علاج کا عمل بدستور جاری رہے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سید محمد الموسوی کا قتل فقط ایک المناک واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایسے تسلسل کا حصہ ہے جس میں جیلوں میں تشدد کا شکار افراد کی لاشیں معاشرے کو ڈرانے کے لیے بطور پیغام استعمال کی جاتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ جرم دراصل خوف و ہراس پھیلانے، عوامی ارادے کو توڑنے اور انتقام و جبر کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرانے کی کوشش ہے۔ انجمن کے مطابق، سید الموسوی کی نہایت پرتشدد انداز میں موت ایک مکمل جرم ہے، جو سنگین بین الاقوامی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے فوری، آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہیں۔

انجمن نے کہا کہ بحرین میں بعض سرکاری اداروں، حتیٰ کہ عدالتی نظام کو بھی جبر و تشدد کی پالیسیوں کو جواز دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل اس خطرناک طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ناقد آوازوں کو خاموش کرنا اور جیل، تشدد یا موت کے خوف کے ذریعے پورے معاشرے کو مرعوب بنانا ہے، جبکہ وہاں بنیادی قانونی ضمانتیں بھی شدید کمزور ہو چکی ہیں۔

بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے بحرینی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس جرم کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور معتبر بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی جائے، جبری لاپتہ افراد کی فوری معلومات فراہم کی جائیں، جیلوں میں تشدد اور بدسلوکی کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور خودسرانہ طور پر گرفتار تمام افراد کو رہا کیا جائے۔

ارنا کے فارن پالیسی گروپ کے مطابق، مجرمانہ امریکی صیہونی جارحیت کے دوران آج صبح، 4 اپریل بروز ہفتہ، تقریباً 08:30 پر، بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی سائٹ کے احاطے کی باڑ سے ایک پروجیکٹائل سے ٹکرا گیا۔

 اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی دھماکے کی لہر اور جھٹکے سے پاور پلانٹ کی ایک طرف کی عمارت کو نقصان پہنچا اور بدقسمتی سے پاور پلانٹ کی سیکورٹی مامور ایک کارکن شہید ہوگیا۔

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ واقعے سے پلانٹ کے اہم حصوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور پلانٹ کا آپریشن متاثر نہیں ہوا۔

 حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر یہ چوتھا حملہ ہے۔

واضح رہے ک بوشہر جوہری پاور پلانٹ پوری طرح فعال ہے اور قابل ذکر مقدار میں تابکار مواد کی موجودگی کی وجہ سے، اسے کسی بھی قسم کا شدید نقصان ایک بڑے جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہے جس سے پورے خطے کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

۔

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

موجودہ بین الاقوامی نظام کے تحت مختلف حکومتوں کے مابین امن اور تعلقات کو منظم کرنا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ذمہ داری کا حصہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس عالمی ادارے کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی لیکن ابتدا سے ہی بالخصوص گزشتہ چند برسوں کے دوران اس بین الاقوامی ادارے کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں اور اس کی اصل وجہ غیرجانبداری سے دور اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کا رویہ ہے۔

بین الاقوامی حقوق کی نگاہ میں، جارحیت ایک سنجیدہ قانون شکنی ہوتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر 4-2 کے مطابق، کسی بھی ملک کی ارضی سالمیت اور سیاسی استقلال پر حملہ غیرقانونی ہے۔

لیکن جب بات ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور وینزویلا و غیرہ کی آئی تو معیار بدلتے دکھائی دیے۔

اس جیسے دیگر قوانین اور اصول موجود ہیں جن پر عملدرامد اور ان کے نفاذ کی نگرانی عالمی برادری کے لیے ضروری ہے لیکن اب ان معاملات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے جا رہے ہیں کہ کیا دنیا بھر کے ملکوں کی سلامتی کی ضمانت ان قوانین کے ذریعے ممکن بھی ہے یا نہیں؟

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے جس کی تازہ ترین مثال ایران پر کھلے عام اور وحشیانہ جارحیت ہے۔

اس قسم کی حرکتیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دنیا بھر کی ضمیر پر ایک ٹہوکے کی طرح ہیں کہ کیا اقوام متحدہ کا تعلق تمام ممالک سے ہے یا پھر چند گنے چنے ملکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس ادارے کی تشکیل دی گئی ہے؟

اس سوال کا جواب آئندہ نسلیں، ہم سے ضرور مانگیں گی۔  

 اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی نے فوج کی تمام فورسز کو حالات پر گہرائی کے ساتھ اور لمحہ بلمحہ نظر رکھنے کی ہدایت دی اور دشمنوں کی جارحانہ حرکتوں کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔

انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر وطن عزیز پر زمینی جارحیت کی گئی تو دشمن کے ایک بھی فوجی کو زندہ نکلنے دیا نہیں جائے گا۔

میجر جنرل امیر حاتمی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وطن پر سے جنگ کا سایہ ختم ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ [جنگ میں ملوث] خطے کے بعض علاقے محفوظ رہیں اور ہمارے عوام عدم تحفظ کا شکار ہوں۔

جنگ کا پینتیسواں روز امریکی افواج کے لیے ممکنہ طور پر سب سے مشکل دن قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس سے پہلے بھی امریکی نقصانات کم نہیں تھے، تاہم جمعہ کے دن کی صورتحال مختلف رہی۔

تفصیلات کے مطابق ایک ایف-15 جنگی طیارہ ایران کے جنوب مغربی علاقے میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔ اسی طرح ایک اے-10 جنگی طیارہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہوا، جبکہ ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، جو ایف-15 کے پائلٹس کی تلاش اور ریسکیو آپریشن میں مصروف تھا، اسے بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے مزید فضائی اثاثوں کو نشانہ بنائے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک گرائے گئے طیارے کے عملے میں سے ایک کو ایران سے نکال لیا گیا ہے، تاہم اگر یہ دعویٰ درست بھی مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے اہلکار کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی امریکی پائلٹ کی گرفتاری ایک اہم عسکری کامیابی ہو سکتی ہے، تاہم اس دن کے واقعات میں اس سے بھی زیادہ اہم پہلو موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریر کے تقریباً ایک دن بعد پیش آیا، جس میں انہوں نے جاری جنگ کے حوالے سے امریکہ کی کامیابیوں اور برتری کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔

امریکی صحافی فریڈ کاپلان نے ٹرمپ کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اسے ایک اہم خطاب قرار دیا ہے، تاہم درحقیقت یہ ایک غیر مؤثر بیان ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی دباؤ اور غصے کا شکار دکھائی دے رہے تھے اور بعض اقدامات کو غیر معمولی انداز میں پیش کر رہے تھے، جبکہ حالیہ واقعات کے بعد ان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو کے طور پر مقامی آبادی کے ردعمل کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں لوگوں نے سادہ ہتھیاروں کے ذریعے ان فضائی ذرائع پر فائرنگ کی جو تلاش اور ریسکیو آپریشن کے لیے آئے تھے۔ اگرچہ اس فائرنگ کو عسکری لحاظ سے مؤثر قرار نہیں دیا گیا، تاہم اسے عوامی سطح پر مزاحمت اور اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کسی ممکنہ زمینی کارروائی کی صورت میں شدید ردعمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

یورپی ممالک نے ایران کے معاملے میں امریکی دباؤ میں آ کر ڈپلومیسی کے مواقع ضائع کئے جس کے نتائج اب یورپ کے سامنے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ میں یورپی ممالک نے امریکہ کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے تاہم آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپی ممالک معاشی طور پر بہت حد تک متاثر ہورہے ہیں۔ اگر آج یورپ کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جو کچھ اس براعظم پر ہوا، وہ اچانک بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ پچھلے برسوں میں کیے گئے سلسلہ وار غلط فیصلوں، اور ایران کے ساتھ دشمنی اور خصومت کا نتیجہ ہے۔ یہ فیصلے، جو اس وقت دانشمندانہ لگتے تھے، اب اپنی قیمت چکا رہے ہیں۔ یورپ آج بالکل اسی وقت کا حساب دے رہا ہے جب اس کے پاس مختلف راستہ اختیار کرنے کا موقع تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

ایران کے ایٹمی مسئلے میں یورپ کی تاریخی غلطی

ایران کے ایٹمی مسئلے میں یورپ کے پاس موقع تھا کہ وہ صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک حقیقی ثالث بن کر ڈپلومیسی کو آگے بڑھائے اور ایک پائیدار معاہدے میں مددگار ثابت ہو۔ یورپ میں سیاسی اور تجرباتی سطح پر یہ صلاحیت موجود تھی، مگر عملی طور پر یورپ نے یہ راستہ ترک کر دیا اور اس نے امریکی خواہش کے مطابق اقدامات کیے، خصوصا ڈونلڈ ٹرمپ کے احکام پر عمل کیا جنہوں نے بار بار ثابت کیا کہ وہ نہ قواعد کے پابند ہیں اور نہ اپنے اتحادیوں کے لئے وفاداری رکھتے ہیں۔

یورپی ممالک کی اصل غلطی یہاں سے شروع ہوئی کہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ ٹرمپ کے ساتھ رہیں تو کم قیمت ادا کریں گے یا کسی طرح کا فائدہ حاصل کریں گے۔ اسی وجہ سے، جب ڈپلومیسی کو بڑھانے کی ضرورت تھی، یورپ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی سمت میں کام کیا۔ یہاں تک کہ اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، جس کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی دکھانا تھا۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ نہ صرف بحران حل نہیں ہوا بلکہ پیچیدہ تر ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود ٹرمپ نے کبھی یورپ کی اس ہم آہنگی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے بار بار یورپ کو ذلیل کیا، ان پر الزام لگایا کہ وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور حتیٰ کہ ایسے دھمکیاں بھی دیں جو اتحادیوں کی تاریخ میں کم نظیر ہیں۔ ٹرمپ کی نظر میں یورپ ایک مستقل شریک نہیں بلکہ وقتی آلہ ہے، جسے جب ضرورت ہو استعمال کیا جاتا ہے اور پھر کنارے رکھ دیا جاتا ہے۔

اقتصادی اور دفاعی اثرات

ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یورپ کے لیے اس غلطی کے اثرات واضح ہوگئے۔ سب سے پہلا اور فوری دھچکا اقتصادی تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بہاؤ میں خلل نے یورپی معیشتوں کو شدید متاثر کیا۔ وہ ممالک جو توانائی کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، اچانک قیمتوں میں اضافے، غیر یقینی صورتحال اور داخلی دباؤ کا سامنا کرنے لگے۔ یہ وہ نتائج تھے جن کی پیش گوئی مشکل نہیں تھی، مگر سنجیدگی سے نہیں لیے گئے۔ اسی دوران، ایک اور یوکرین کے مسئلے نے سر اٹھایا۔ امریکہ اب ایک نئی جنگ میں مصروف ہوچکا ہے اور اس کی توجہ تبدیل ہوگئی ہے، جس سے یورپ کو یوکرین کے حوالے سے کم مدد ملی اور وہ خود کو ایک سیکورٹی بحران میں پایا جس کا انتظام کرنے کے لیے واشنگٹن پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ، نیٹو کے حوالے سے بھی سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ جب ٹرمپ نے امریکہ کی ممکنہ شمولیت یا عہدوں میں کمی کی بات کی، تو یورپ کا پورا سیکورٹی ڈھانچہ داؤ پر لگ گیا۔ وہ نیٹو جسے یورپ کی سیکورٹی کا ستون سمجھا جاتا تھا، اب خود ایک تشویش کا باعث بن گیا۔ یورپ نے اس ڈھانچے میں کئی سالوں کی سرمایہ کاری کی تھی، مگر اب وہ آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہا ہے۔

یورپی ممالک کی اسٹریٹجک غلطی

یہ تمام عوامل ملانے سے ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ یورپی ممالک نے ایران کے معاملے میں سنگین اور غلط اندازے لگائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ کے کھیل میں شامل ہوکر اپنے مفادات برقرار رکھ سکتے ہیں اور تنازعات سے بچ سکتے ہیں، لیکن عملی طور پر وہ مقصد حاصل نہیں کرسکے اور خود بحران میں پھنس گئے۔ یہ کوئی عام غلطی نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک غلطی کا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک معاملے پر اثرانداز نہیں ہوا، بلکہ یورپ کی عالمی سطح پر حیثیت، معیشت، سیکورٹی، خارجہ پالیسی اور داخلی اتحاد کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ایران اس دوران ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پر موجود رہا، جسے یورپ نے نظر انداز کیا۔

یورپ نے سوچا تھا کہ دباؤ اور امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی سے ایران کو پیچھے ہٹایا جاسکتا ہے، مگر نتیجہ بالکل الٹا نکلا۔ ایران نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور بحران کے اخراجات زیادہ تر یورپ اور اس کے اتحادیوں پر آئے۔ اب یورپ ایک ایسے بحران کے سامنے ہے جس میں ہر عنصر چیلنجنگ ہے۔ اقتصادی دباؤ، سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی سطح پر سیاسی ساکھ میں کمی۔ یہ تمام امور ایک غلط انتخاب کی نشاندہی کرتے ہیں؛ انتخاب جو بظاہر آسان لگتا تھا، مگر اب اس کی پیچیدگی واضح ہوگئی ہے۔

یورپ اور دیگر عالمی کھلاڑی کے لیے سبق

آخر میں، اس سوال کا جواب کہ یورپ کس چیز کی قیمت ادا کر رہا ہے؟ پیچیدہ نہیں۔ یورپ فیصلہ سازی کی خودمختاری کھونے کی قیمت ادا کر رہا ہے، ڈپلومیسی کے مواقع نظرانداز کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے، اور سب سے اہم، اس کھیل میں اس شخص پر اندھے اعتماد کرنے کی قیمت ادا کر رہا ہے جس نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قابل اعتماد نہیں۔ یہ اہم سبق ہے نہ صرف یورپ کے لیے بلکہ ہر عالمی کھلاڑی کے لیے جو سمجھتا ہے کہ غیر مستحکم طاقتوں پر انحصار کرکے طویل مدتی مفادات یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں اسٹریٹجک غلطیوں کی دیر یا جلد قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یورپ آج اسی کی قیمت ادا کر رہا ہے۔

News ID 1938740