سلیمانی

سلیمانی

تساہلی اور پسماندگی: اسلامی انقلاب سے پہلے ایران کے حفظان صحت کے نظام  کی صورتحال

انقلاب سے پہلے، ایران کے حفظان صحت کا نظام  بہت سی کمیوں کا شکار تھا جن کی جڑ ناکارآمد پالیسیاں، تعلیمی نظام میں کمزوری اور ماہرین کی کمی تھی اور اس سے عوام کی بہبود اور صحت کو خطرہ تھا۔ ماہرین کی کمی اور نظامِ تعلیم و علاج میں بنیادی مسائل، ملک کے علاج معالجے کے نظام کی سب سے بڑی کمزوریوں میں شمار ہوتے تھے۔

ایران میں سابق برطانوی سفیر اینٹنی پارسنز، اس دور کے حفظان صحت کے نامناسب حالات اور ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں اپنی ڈائری میں کہتے ہیں: "اس تاریخ میں (سنہ 1965 کے آس پاس) ایران کے پاس صرف گیارہ ہزار ڈاکٹر تھے، جبکہ چالیس سے پچاس ہزار ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔" وہ ان ڈاکٹروں کی مالی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں: "ان گیارہ ہزار ڈاکٹروں میں سے کم از کم آدھے تہران میں کام کرتے تھے کیونکہ پرائیویٹ طور پر کام کر کے وہ اپنی جیبیں بھر سکتے تھے۔" اس وقت کے برطانوی سفیر کے بقول، "میڈیکل سروسز کے لیے نرسوں اور تربیت یافتہ عملے کی تعداد بھی کم تھی اور نرسوں اور طبی خدمات کے عملے کی تربیت کے پروگراموں کے فوری نتائج بھی نہیں نکلے۔"(1)

یہ نامناسب پالیسیاں ایران کے علاج معالجے کے میدان میں پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلادیشی ڈاکٹروں کے داخلے کا باعث بنیں۔ عموماً یہ ڈاکٹر مطلوبہ کلینکل معلومات نہیں رکھتے تھے، انھوں نے اپنے ملکوں کے میڈیکل کالجوں میں مریضوں کے علاج کے لیے ضروری مہارتیں نہیں سیکھی تھیں اور اکثر بیچلر آف میڈیسن کی ڈگری جتنی مہارت کے ساتھ کام کرتے تھے، فارسی زبان نہیں بولتے تھے اور متعدد ثقافتی مسائل بھی پیدا کرتے تھے۔ ایران ڈاکٹروں کی تعداد کے انڈیکس کے لحاظ سے فیجی اور جمائیکا جیسے غریب ملکوں سے بھی پیچھے تھا، دس ہزار افراد پر 3 ڈاکٹر! اس صورتحال کے نتیجے میں دارالحکومت تک میں بھی علاج ایک بہت مہنگا اور غیر یقینی آپشن سمجھا جاتا تھا۔ ادویات اور علاج کی سہولیات صرف امیر طبقوں سے مختص تھیں۔ چنانچہ اخبار "اطلاعات" نے 23 جون 1977 کو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "ستر ہزار آبادی والے شہر اردکان میں ایک بھی میڈیکل اسٹور نہیں ہے" جلی سرخیوں میں لکھا تھا: "اردکانیوں کو دوا خریدنے کے لیے 120 کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے!" دیہی علاقوں میں یہ صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی۔ ان معدودے طبی مراکز میں بھی، جو کچھ دیہی علاقوں میں تھے، علاج معالجے کے وسائل اور دوائیں کافی مقدار میں نہیں تھیں۔ ناساز موسمی حالات اور سڑکوں کے بند ہونے کی صورت میں یہ مراکز بند ہو جاتے تھے اور علاج کی خدمات طویل عرصے کے لیے پوری طرح سے بند ہو جاتی تھیں۔ اکثر شہروں اور دیہاتوں میں، روایتی دایائیں، جو عموماً مناسب تربیت یافتہ نہیں تھیں اور حفظان صحت کے اصولوں سے آگاہ نہیں تھیں، خواتین کی زچگی میں مدد کی ذمہ داری نبھاتی تھیں۔ ایسے حالات میں حاملہ عورتوں کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی تھی اور ان کے لیے زچگی ایک بہت ہی خطرناک تجربہ ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر 1976 میں، 255 خواتین زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔(2) نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال بھی ماہرین کی نگرانی کے بغیر اور روایتی معلومات اور حفظان صحت کی انتہائی معمولی سہولیات کے ساتھ کی جاتی تھی، اور بعض اوقات حالات اتنے خراب ہوتے تھے کہ صاف پانی تک رسائی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ایسے برے حالات میں، نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کی موت کو ایک ناقابل تبدیل انجام سمجھا جاتا تھا۔

یہ کمزور صورتحال متعدی امراض کے پھیلاؤ کے وقت مہلک صورت اختیار کر جاتی تھی۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم کے نام دزفول کے عوام کے تاریخی ٹیلی گرام میں، جس میں حفظان صحت کی ابتر صورتحال کی شکایت کی گئی تھی، کہا گیا تھا کہ: "ٹائفائیڈ اور ٹائیفس بخار کے ہلاکت خیز امراض، وبائی شکل میں دزفول میں پھیل گئے ہیں اور ڈاکٹر اور دواؤں کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ان امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔"

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چار عشرے گزرنے کے بعد ایران کے حفظان صحت کے نظام کی وہ تاریک اور مہلک صورتحال، اسلامی جمہوری نظام کی نمایاں ترین کامیابیوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے جو انصاف اور علاج معالجے تک سبھی کی دسترسی پر مبنی ہیں، ایران کا میڈیکل نظام اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جدت طرازانہ علاج، ادویات کی تیاری اور طبی صنعت کے بہت سے شعبوں میں ایران دنیا کے صف اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

میڈیکل کی تعلیم کو حفظان صحت کے نظام میں ضم کرنا اور وزارت صحت، علاج و میڈیکل تعلیم کی تشکیل ایک بڑا قدم تھا جو عوام کے علاج معالجے اور حفظان صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار افرادی قوت کی ٹریننگ میں بہت اہم تھا۔ چار عشروں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد جو انقلاب کے آغاز میں 9 تھی، بڑھ کر 68 ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں کی تعداد کا انڈیکس پہلوی حکومت کے دور کے مقابلے میں 5 گنا بڑھ گیا ہے۔ حفظان صحت کے نیٹ ورک کی مضبوطی، حفظان صحت سے متعلق دیکھ بھال اور علاج معالجے کی خدمات سے تمام لوگ کے منصفانہ طور پر استفادے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کا ایک اور بڑا کارنامہ ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں تک میں، دواخانوں کے قیام، تمام لوگوں کے میڈیکل انشورنس کے قانون کی منظوری اور پورے ملک میں میڈیکل انشورنس کوریج میں بتدریج اضافے نے سبھی کے لیے میڈیکل سروسز کے حصول کو ایک آسان اور قابل برداشت عمل بنا دیا ہے۔ یہ اہم کامیابی صحت کے اشاریوں جیسے زندگي کی امید (74 سال) کے پیش نظر دیکھی جا سکتی ہے جو عالمی اوسط سے بھی تین سال زیادہ ہے۔ اس انڈیکس نے انقلاب سے قبل کے دور کے مقابلے میں 60 پائيدانوں سے زیادہ کی چھلانگ لگائی ہے۔

ایران کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین اور ان کے اثرات

طبی نظام کے مردوں پر مبنی ہونے کا مسئلہ، خواتین مریضوں کے تجربات کو نظر انداز کرنا اور ڈاکٹروں کا جنسی تعصب، مغربی ممالک کے حفظان صحت کے نظام کے سنگین بحران شمار ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف اسلامی جمہوریۂ ایران نے بامقصد پالیسیاں اختیار کر کے خاص طور پر خواتین کی صحت کے شعبے میں، ایک الگ راستہ اپنایا۔ انقلاب کے بعد کے برسوں میں خواتین کی میڈیکل کے مختلف شعبوں میں بے مثال شمولیت اور خواتین کی بطور ہیلتھ ورکر، دائی، ڈاکٹر، نرس اور میڈیکل سائنس کی اساتذہ کے طور پر تعلیم و تربیت، انقلاب کے بعد کے برسوں کے ان اہم ترین اقدامات میں تھی جن کا نتیجہ ملک کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین کی وسیع موجودگی کی صورت میں نکلا۔ میڈیکل کے تمام مہارتی شعبوں میں خواتین کی موجودگی کی اہمیت اس حد تک تھی کہ رہبر انقلاب نے سنہ 1989 میں اسے ایک واجب کام اور شرعی فریضہ قرار دیا:(3) "خواتین کا میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا واجب ہے، جتنی ضرورت ہے اتنی خواتین ڈاکٹرز کے موجود ہونے تک خواتین کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔"(4)

خواتین اور زچگی کے شعبے کا خواتین ڈاکٹروں سے مختص ہونا، نہ صرف خواتین کی علاج معالجے کی خدمات تک رسائی میں اضافے کا سبب بنا بلکہ اس نے ڈاکٹر اور مریض کے رشتے میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی۔ خواتین ڈاکٹروں کی موجودگی اس بات کا سبب بنی کہ خواتین مریض اپنی جسمانی اور افزائش نسل سے متعلق مسائل پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بات کر سکیں، یہ ایسی چیز ہے جو براہ راست بیماری کی زیادہ صحیح تشخیص، موثر علاج اور حفظان صحت کے نظام پر زیادہ اعتماد کا باعث بنی۔ اس چیز نے علاج کو ایک سرد اور رسمی تعلق سے، ایک انسانی اور ہمدردانہ تعلق میں بدل دیا۔ خواتین اساتذہ اور معلمات نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ اخلاق کے نمونے کے طور پر علاج معالجے سے متعلق عملے کی ایک نسل کی تربیت کی ہے جو خواتین کے جسم، درد اور ضروریات کی بہتر سمجھ رکھتی ہے، ایسی سمجھ جس کا فقدان آج بہت سے مغربی معاشروں میں حفظان صحت کے نظام کی ایک سنگین کمزوری کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، دیہی علاقوں کے حفظان صحت کے نیٹ ورک میں ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال، ویکسینیشن، فیملی کی صحت کی تعلیم اور حمل کی نگرانی کے لیے خواتین پر مشتمل عملے کی موجودگی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی کو ماہر خواتین افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج ایران میں حاملہ خواتین، حمل کے دوران پوری طرح مفت دیکھ بھال تک رسائی رکھتی ہیں، ماہر ڈاکٹر اور تربیت یافتہ دائی تک دیہی خواتین کی رسائی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ انڈیکس 29 پائیدان کی چھلانگ لگ کر عالمی اوسط سے بھی کم ہو گیا ہے (ہر ہزار بچوں پر 11 بچے)۔ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی ترویج، معاون غذاؤں کا بروقت اور مناسب استعمال، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کی نشوونما کی نگرانی، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور غذائی قلت کا شکار یا اس کا خطرہ رکھنے والے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی غذائی مدد اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں غذائی تحفظ کا نفاذ، بچوں کی ویکسینیشن کوریج قریب سو فیصد تک پہنچانا اور ضروری ویکسینز کی فراہمی، اسلامی جمہوریۂ ایران کے ان دیگر اقدامات میں شمار ہوتے ہیں جو ماؤں اور بچوں کو فراہم کردہ صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

یہ سارے کام اسلامی انقلاب کی برکت سے انجام پائے ہیں جیسا کہ امام خامنہ ای نے فرمایا: "انقلاب نے ہماری قوم کو اور ہمارے ملک کو عزت نفس سے نوازا۔ بار بار یہ کوششیں ہوئیں کہ اس قوم کی فکر و جذبات کو کچل دیا جائے۔ اس قوم کو باور کرا دیا جائے کہ اس میں کسی کام کی کوئی لیاقت نہیں ہے، بیشک تم نے انقلاب لانے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن ملک چلانا تمھارے بس کی بات نہیں، آگے بڑھنا تمھارے بس کی بات نہیں، دنیا کے قدموں سے قدم ملاکر چلنا تمھارے بس کی بات نہیں۔ بنابریں ہر علمی پیشرفت اور کامیابی اس قوم کے لیے ایک عظیم کارنامہ اور اہم نوید ہے کہ اس کے اندر بھرپور لیاقت ہے۔"(5) اور آج ایرانی قوم نے علاج معالجے اور میڈیکل کے میدان میں پوری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ خدا پر توکل اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کر کے بغیر دوسروں پر انحصار کیے ہوئے ترقی کی جا سکتی ہے اور پانچ عشروں سے بھی کم عرصے میں، ایک درآمد کنندہ اور صارف ملک سے، میڈیکل صنعت کے مختلف شعبوں میں برآمد کنندہ اور پروڈکشن والے ملک میں تبدیل ہوا جا سکتا ہے، ایسا ملک جس نے اسلام کے احکام پر اعتماد کرتے ہوئے ایرانی خواتین کے لیے ایک نیا راستہ کھولا اور علاج کی ایک نئی شکل متعارف کرائی۔

 

تحریر: زہرا شافعی، کلچرل اسکالر

Monday, 09 February 2026 10:13

انٹرنیشنل جھوٹے

 
اسلامی جمہوریہ ایران میں حالیہ ہنگاموں کے بعد اس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والے چینلز نے پورے زور و شور سے یہ ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا تھا کہ ان واقعات میں کم از کم 30 ہزار افراد قتل ہوئے ہیں لیکن مختصر عرصے میں ہی اصل حقائق سامنے آ جانے کے بعد اب وہ اپنے ہی جھوٹ کے بنے ہوئے جال میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایران کے سرکاری ذرائع ان ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کی تمام کوائف کے ہمراہ فہرست جاری کر چکے ہیں۔ اس فہرست کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 3117 ہے۔ اس اقدام کے بعد ایران کے خلاف پروپگنڈہ کرنے والے میڈیا ذرائع سے بھی یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ آپ بھی اپنے اعدادوشمار کے مطابق ایک تفصیلی فہرست جاری کریں اور جن افراد کے جاں بحق ہونے کا دعوی کر رہے ہیں ان کی تفصیلات بھی بیان کریں۔
 
گزشتہ چند دنوں سے ایران مخالف ذرائع ابلاغ نے ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں ہونے والے جانی نقصان پر مبنی شائع کردہ فہرست کے بارے میں پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یاد رہے ان ذرائع ابلاغ نے پہلے 12 ہزار افراد قتل ہونے کا دعوی کیا اور پھر یہ تعداد بڑھا کر 30 ہزار کر دی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنے کے لیے غیر اخلاقی حربہ بھی اپنایا ہے۔ ان میڈیا ذرائع نے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کے طور پر کچھ ایسے افراد کے نام بھی شائع کیے ہیں جنہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پر اپنے زندہ ہونے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ان افراد کے خلاف بھی شدید پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا اور حتی بعض کو تو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
 
درحقیقت یہ میڈیا ذرائع پہلے ایسے افراد کا نام ہنگاموں میں قتل ہونے والے افراد کے طور پر جاری کرتے ہیں جو حقیقت میں زندہ ہیں اور اس کے بعد ان پر یہ دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ وہ اس جھوٹ کی تردید نہ کریں۔ اسی طرح بعض افراد تو ایسے بھی ہیں جنہیں ان میڈیا ذرائع نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایسی اوچھی اور اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں کا مقصد اپنے مبینہ اعدادوشمار کو درست ثابت کرنا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کی جانب سے بروئے کار لایا گیا ایک اور غیر انسانی حربہ یہ ہے کہ وہ مختلف حادثات و واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کو بھی ہنگاموں کے مقتولین کے طور پر جاری کرتے ہیں۔ اب تک بارہا ایسے افراد کے لواحقین کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آ چکا ہے۔
 
ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف میڈیا ذرائع اس وقت جس اصلی بحران اور پریشانی سے روبرو ہیں وہ یہ ہے کہ ایران کے سرکاری ذرائع کی جانب سے ہنگاموں میں قتل ہونے والوں کے نام اور تفصیلات شائع کرنے پر مبنی اقدام کے جواب میں کیا کیا جائے؟ رائے عامہ اور جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، مخالفین کا ایک بڑا حصہ بھی یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہ میڈیا ذرائع بھی اپنے مبینہ اعدادوشمار کی تصدیق کے لیے متاثرین کے نام شائع کریں۔ اس عوامی مطالبے کے جواب میں ان میڈیا ذرائع نے اب تک صرف خاموشی اختیار کی ہے لیکن یہ خاموشی ان میڈیا ذرائع اور خاص طور پر "ایران انٹرنیشنل" نامی فارسی زبان کے چینل کو اس قدر مہنگی پڑی ہے کہ وہ متاثرین کا نام شائع نہ کرنے کا جواز پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
 
جمعرات کے دن ایران انٹرنیشنل نے اس بارے میں ایک ٹاک شو پیش کیا۔ اس پروگرام میں میزبان نے بلائے گئے مہمان سے مبینہ 30 ہزار افراد کے نام شائع نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا۔ اس سوال پر بلائے گئے مہمان کا جواب فکر انگیز تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ ان لوگوں کے نام اس وقت تک شائع نہیں کیے جا سکتے جب تک بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بن جاتی! اس عجیب و غریب بہانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی تو آپ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ 30,000 لوگ مارے گئے ہیں؟ ایران انٹرنیشنل کی طرف سے اس عجیب و غریب جواز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چینل حالیہ واقعات میں 30 ہزار اموات کے دعوے کو سچ ثابت کرنے میں بالکل بے بس ہے۔
 
ان میڈیا ذرائع کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 30 ہزار کا عدد بالکل غلط ہے اور یہ دعوی محض ایران پر فوجی حملے کے لیے میدان صاف کرنے اور اسے جواز فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یاد رہے ایران انٹرنیشنل کے تانے بانے اسرائیل کے جاسوسی ادارے موساد سے ملتے ہیں۔ ایران میں حالیہ بدامنی اور ہنگاموں کا منصوبہ بھی موساد نے تیار کیا تھا تاکہ یوں امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا مناسب جواز فراہم ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ان میڈیا ذرائع کی جانب سے جعلی اعدادوشمار جاری کرنے کا عمل موساد کے منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ موساد نے ایک طرف ایران میں ہنگامے اور دہشت گردی کروائی اور دوسری طرف ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں جھوٹے دعوے کر کے اصل مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جو ایران پر فوجی حملہ تھا۔

تحریر: محمد امین ہدایتی

﴿الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ﴾

یہ آیتِ کریمہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اب کفار تمہارے دین کے مقابلے میں مایوس ہو چکے ہیں؛ وہ اس قابل نہیں رہے کہ تمہارے دین کو نقصان پہنچا سکیں۔ تمہارے خارجی دشمن شکست کھا چکے ہیں اور اب ان کی جانب سے کوئی فوری خطرہ باقی نہیں رہا۔ تاہم قرآن اسی مقام پر ایک نہایت باریک نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آج، یعنی کامیابی کے دن، ایک اور خوف ضروری ہے—اور وہ ہے خدا کا خوف۔

مفسرینِ قرآن اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ یہاں خطرے کے ختم ہونے سے مراد صرف بیرونی دشمنی کا خاتمہ ہے، نہ کہ خطرے کا مکمل اختتام۔ اصل خطرہ اب اندر سے پیدا ہو سکتا ہے۔ آیت میں خدا سے ڈرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خدا کے قانون سے خوف محسوس کرے؛ اس بات سے ڈرے کہ کہیں خدا اس کے ساتھ اپنے فضل کے بجائے عدل کے مطابق معاملہ نہ کرے۔

اسی مفہوم کی بازگشت امیرالمؤمنین علیؑ کی ماثور دعا میں سنائی دیتی ہے:

"اے وہ ذات کہ جس کے عدل کے سوا کسی اور چیز سے خوف نہیں کیا جاتا!"

ایک ایسا کامل عادلانہ نظام، جس میں ذرّہ برابر بھی ظلم کی گنجائش نہ ہو، انسان کو خوف زدہ کر دیتا ہے؛ اس اندیشے سے کہ کہیں اس سے کوئی لغزش سرزد نہ ہو جائے اور وہ سزا کا مستحق ٹھہرے۔

انقلابات اور داخلی اختلافات

دنیا کے اکثر انقلابات اور تحریکوں میں یہ منظر دہرایا جاتا ہے کہ مختلف انقلابی، آزادی پسند اور سیاسی فکر رکھنے والے افراد فرسودہ نظام کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ ایک مشترکہ دشمن اور ایک مشترکہ ہدف کی موجودگی ان کے باہمی اختلافات کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ مگر فتح کے بعد، جب مشترکہ دشمن ختم ہو جاتا ہے، تو وہی اختلافات بتدریج سر اٹھانے لگتے ہیں۔

ایران کا اسلامی انقلاب—جو مؤرخین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا کے دیگر انقلابات سے نمایاں طور پر مختلف ہے—اس عمومی قاعدے سے کلیتاً مستثنیٰ نہیں، تاہم اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس انقلاب میں معاشرے کے مختلف طبقات، نظریات اور سیاسی کردار شامل تھے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پہلوی حکومت کے خلاف متعدد گروہوں نے اپنے اپنے نظریاتی پس منظر کے ساتھ جدوجہد کی، مگر ان سب میں سب سے زیادہ منظم، عوامی اور روشن فکر تحریک وہ تھی جو علمائے دین، بالخصوص امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھی۔

منافقین کی پیدائش

امام خمینیؒ کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی تحریک میں جہاں علماء پیش پیش تھے، وہیں معاشرے کے دیگر طبقات اور گروہ بھی شاہی حکومت کی مخالفت میں شریک ہوئے۔ تاہم ان میں سے بعض گروہ نصف راستے میں ہی رک گئے اور فتح کے سورج کے طلوع کے منتظر ہو گئے، تاکہ انقلاب کی کامیابی کے بعد نئی ابھرتی ہوئی طاقت سے اپنے حصے کا مطالبہ کر سکیں۔

یہاں رہبرِ انقلاب امام خمینیؒ کی غیر معمولی بصیرت، حالات پر گہری نظر اور سیاسی ہوشیاری قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے ان گروہوں کے پوشیدہ عزائم کو بھانپ لیا اور انہیں عملی جامہ پہننے سے روک دیا۔ اسی مرحلے پر سازشوں کے طوفان نے جنم لیا اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔

فرقانی گروہ کا قیام

شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد دراصل ان گروہوں کے مابین شدید اختلافات کا آغاز ہوا جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے انقلاب کا حصہ بنے تھے۔ وہ اس امید میں تھے کہ اسلامی انقلاب کی نئی سیاسی طاقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی حریفوں پر غلبہ حاصل کریں گے۔ یہی سبب تھا کہ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد بعض سیاسی گروہ اس تحریک سے دور ہونا شروع ہو گئے۔

ان میں سے کچھ گروہ تو انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی قیادت کے مخالف بن گئے تھے اور کامیابی کے بعد مسلح گروہوں کی صورت میں انقلاب کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ ان میں سب سے نمایاں فرقانی گروہ تھا، جس نے 12 بہمن 1357ھ ش میں اپنا ہینڈ بل شائع کر کے یہ دعویٰ کیا کہ اسلامی انقلاب اپنے اصل راستے سے منحرف ہو چکا ہے۔

علمائے دین کی مخالفت

اس منحرف گروہ نے دینی تعلیمات سے دوری، کج فکری، انحرافی نظریات اور خوارجی طرزِ فکر کے تحت علماء دین کی مخالفت کو اپنا بنیادی ہدف بنایا۔ یہی وہ گروہ تھا جس نے انقلاب کی کامیابی کے بعد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری اور شہید آیت اللہ ڈاکٹر مفتح جیسی عظیم علمی و فکری شخصیات کو شہید کیا۔

یہی عناصر بعد ازاں "منافقین" کے عنوان سے اسلامی انقلاب کے بدترین دشمن بن کر سامنے آئے اور نو تشکیل شدہ اسلامی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ ایران کے پہلے صدر بنی صدر کی منافقت آشکار ہونے اور اس کی برطرفی کے بعد، انہی منافقین نے مسلح بغاوت کا اعلان کیا۔ بنی صدر عوامی ردِعمل سے بچنے کے لیے انہی کے خفیہ مراکز میں پناہ لے کر رجوی کے ذریعے ملک سے فرار ہوا اور مغربی طاقتوں کی آغوش میں جا پناہ لی۔

نتیجہ

اسلامی انقلاب کی کامیابی محض خارجی دشمن کی شکست کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نئے نظام کی تشکیل اور داخلی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا مرحلہ بھی ہے۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ بیرونی خطرات ختم ہو سکتے ہیں، مگر سب سے بڑا خطرہ اندرونی اختلافات، منافقت اور انسانی کمزوریوں سے جنم لیتا ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ انقلاب کے آغاز میں اتحاد مضبوط ہوتا ہے، مگر کامیابی کے بعد ذاتی مفادات رکھنے والے عناصر نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔ امام خمینیؒ کی بصیرت اور قیادت نے ان داخلی خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا اور اسلامی نظام کو استحکام بخشا۔

یہ تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی صرف دشمن کی شکست میں نہیں، بلکہ نظام کی اخلاقی، سیاسی اور عدالتی مضبوطی میں مضمر ہے۔

تحریر: عادل کھوسہ

یہودی ارب پتی اور عالمی سطح پر لڑکیوں کے اسمگلر جفری ایپسٹین کا کیس، وفاقی عدالت میں زیر بحث ہزاروں مقدمات میں اب محض ایک سادہ مجرمانہ کیس نہیں رہا بلکہ یہ ایک تباہ کن زلزلہ بن چکا ہے جس نے مغرب کی سیاست اور دولت کے محلات کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں اور وہ یکے بعد از دیگرے زمین بوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین ایک ایسا شخص بے جو غربت سے بے پناہ دولت تک پہنچا۔ وہ درحقیقت جدید دور میں بھتہ خوری اور منظم بدعنوانی کے سب سے گندے نیٹ ورک کا بانی تھا۔ اس نے کیریبین میں "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرہ خریدا اور اسے بچوں کی معصومیت کی قربان گاہ اور "سیاہ سفارت کاری" کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے مربوط 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، خفیہ فلم کے لاکھوں رولز اور ہزاروں تصاویر شائع کی ہیں۔
 
لندن میں سونامی، اسٹارمر کی حکومت ٹوٹنے کے قریب
اگرچہ برطانیہ نے ہمیشہ خود کو پارلیمانی جمہوریت کا گہوارہ اور گڈ گورننس میں اعلیٰ اخلاقی معیارات کا حامل قرار دیا ہے لیکن 2026ء کی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی شاہی خاندان اور موجودہ حکومت کے مرکز تک جا پہنچی ہے۔ پرنس اینڈریو کا اسکینڈل اور ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اس برفانی تودے کی صرف ایک نوک تھی جو برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعلق محض چند یادگار تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے محل، ایسی پارٹیوں کی میزبانی کرتے تھے جہاں کم عمر لڑکیوں کو "سفارتی تحائف" کے طور پر منتقل کیا جاتا تھا۔ ان انکشافات نے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسٹارمرکو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس نے پوری لیبر پارٹی کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
 
امریکہ کرپشن کی لپیٹ میں، کلنٹن اور ٹرمپ کا منحوس اتحاد
بحر اوقیانوس کے اس پار منظرعام پر آنے والی دستاویزات نے امریکہ میں طاقت کے دو ستونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن، جن کا نام بار بار "لولیتا ایکسپریس" (ایپسٹین کا پرائیویٹ جیٹ طیارہ) کی فلائٹ لسٹ میں درج تھا، کو اب جزیرے پر ان کی موجودگی اور غیر قانونی اجتماعات اور حتی منحرف مذہبی رسومات میں شرکت کی تصدیق کرنے والی نئی شہادتوں کا سامنا ہے۔ ہمیشہ خود کو خواتین کے حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کرنے والی ہیلری کلنٹن کو اب ایسی دستاویزات کا سامنا ہے جو ان جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو رشوت دینے میں ان کے دفتر کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے خفیہ لاکرز سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر اور نوٹس کئی دہائیوں سے ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اور مشکوک معاملات کو ظاہر کرتے ہیں۔
 
خون اور معصومیت کی تجارت، جزیرے کے شوکیس میں لڑکیوں کی نیلامی
شاید اس کیس کا سب سے خوفناک اور غیر انسانی پہلو، بحران زدہ ممالک سے انسانوںوں کی تجارت اور نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔ دستاویزی رپورٹس اور ایپسٹین کے کچھ ساتھیوں کے چونکا دینے والے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے گزشتہ چند برسوں میں ہیٹی اور ترکی میں آنے والے زلزلوں جیسے ناگوار حادثات سے پیدا ہونے والی افراتفری کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جو یتیم ہو گئے تھے یا اسپتالوں سے اغوا کیے گئے تھے۔ موصولہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق، ان میں سے کچھ بچوں کو ناقابل یقین قیمتوں جیسے 200 ملین ڈالر کے عوض خرید کر جزیرے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان بے سہارا بچوں کو شدید سیکورٹی والے ماحول میں قید رکھا جاتا تھا اور وہ سیاست دانوں کی ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہتے تھے۔
 
موساد کا سایہ اور صیہونی "ہنی ٹریپ" پراجیکٹ
اس کیس کے حتمی تجزیے میں غاصب صیہونی رژیم اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے نمایاں اور مشکوک کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جفری ایپسٹین کے رابرٹ میکس ویل (ایپسٹین کا سسر) سے بہت قریبی تعلقات تھے، جو مغرب میں موساد کے ایک اہم ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رابرٹ میکس ویل کی مشتبہ موت کے بعد ایپسٹین اور اس کی بیوی گیسلن نے عملی طور پر مغربی اشرافیہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا کام جاری رکھا۔ بہت سے انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا جزیرہ دراصل ایک بہت بڑا اور جدید ترین "ہنی ٹریپ" تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے ڈیزائن کیا تھا۔ مقصد سادہ لیکن خوفناک تھا: عالمی رہنماؤں کے غیر اخلاقی اعمال، عصمت دری اور شیطانی رسومات کی دستاویز اور فلم بندی کرنا تاکہ انہیں نازک لمحات میں سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
 
مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔

تحریر: مہدی سیف تبریزی

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اسلامی تاریخ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا صبر، بصیرت اور ذمہ دارانہ قیادت کی روشن مثال ہیں۔ واقعہ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ کی استقامت، فکری بصیرت اور حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت نے نہ صرف امام حسینؑ کی تحریک کو زندہ رکھا بلکہ سوئی ہوئی اجتماعی فکر کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔  حضرت زینبؑ کا صبر محض مصیبت برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ یہ ایک باشعور صبر تھا جو ظلم کے مقابل ڈٹ جانے، حق کو بیان کرنے اور باطل کے پردے چاک کرنے سے کا نام ہے۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں آپؑ کے خطبات نے اموی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور عوامی رائے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

 حضرت زینبؑ کا تاریخی جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلا» اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کو شہادت امام حسینؑ کے فلسفے کا مکمل ادراک تھا اور آپؑ نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے ہر قربانی کو حُسنِ مطلق کے طور پر قبول کیا۔ یہی شعوری صبر اور فکری پختگی نہضتِ عاشورا کی ماندگاری اور امت کی بیداری کا بنیادی سبب بنی۔

حضرت زینبؑ کے صبر اور عام انسانوں کے صبر میں کیا فرق ہے؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر کی توضیح میں صبر کے دقیق اور عمیق مفہوم پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ دینی نگاہ میں صبر صرف دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے یا ایک جذباتی بردباری کا نام نہیں، بلکہ صبر ایک با شعور استقامت اور پائیداری ہے جو بحران کے مؤثر نظم و نسق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ صبر ہے جو انسان کو ایک باوقار، فکری طور پر بالغ اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔

اسی بنیاد پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر کوئی عام صبر نہیں، بلکہ آگاہی، ذمہ داری اور بحرانی حالات کی دانشمندانہ مدیریت سے آراستہ ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عاشورا کے دن اس عظیم خاتون نے بنی ہاشم کے اٹھارہ نوجوانوں کی شہادت کا منظر دیکھا؛ وہ نوجوان جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، کوئی بھائی، کوئی بیٹا، کوئی بھتیجا اور کوئی قریبی عزیز۔

حضرت عباس اور حضرت امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم ہستیوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے دو فرزند بھی راہِ خدا میں قربان کیے، اور اپنے بھائی کے فرزندوں، جن میں علی اکبر، قاسم بن حسن اور عبداللہ بن حسن شامل ہیں، کی شہادت کی گواہ بھی بنیں۔ ان تمام مصائب کے ساتھ اموی حکومت کی شدید اور منظم پروپیگنڈا مہم نے حالات کو غیر معمولی طور پر دشوار بنا دیا تھا۔

اس کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے اسیر قافلے کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھالی اور 80 سے زائد عورتوں اور بچوں کو دوران اسیری عزت، وقار اور تدبیر کے ساتھ سنبھالا؛ یہاں تک کہ نہ صرف ان کی حرمت محفوظ رہی بلکہ کسی کو گستاخی یا حتی قریب آنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا گہرے غم اور عزاداری کے عالم میں بھی، جب اپنے بھائی کے سر مطہر کو نیزے پر بلند دیکھا، تو دردناک اشعار کے ذریعے اپنے دل کا کرب بیان کیا، مگر اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہ ہوئیں۔ اسیروں کا قافلہ جب کوفہ میں داخل ہوا تو شہر خوشی اور ہلہ گلہ کے شور سے گونج رہا تھا، لیکن زینب کبری سلام اللہ علیہا کی بصیرت افروز خطبات نے اس فضا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

حضرت زینبؑ نے سخت ترین حالات میں اپنی سیاسی و سماجی بصیرت کیسے برقرار رکھی؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے سماجی حالات کا گہرا اور درست ادراک رکھتے ہوئے، پیغام عاشورا کی رسانی کے لیے شہر کی خواتین کو مخاطب بنانے کی حکمت عملی اختیار کی؛ اس لیے کہ کوفہ کے مرد پہلے ہی امام حسین علیہ السلام کے براہ راست مخاطب تھے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ چنانچہ حضرت زینبؑ نے ایک واضح، جرات مندانہ اور ولولہ انگیز خطبے کے ذریعے کوفہ کے لوگوں کو ان کی خیانت، فریب اور بے وفائی پر جھنجھوڑا۔

اس خطبے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق پورے شہر پر ایک خوفناک خاموشی طاری ہوگئی، یہاں تک کہ اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دینا بند ہوگئی۔ کوفہ کے حاکم عبیداللہ بن زیاد بھی اس روحانی عظمت کے سامنے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار کہہ اٹھا: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علی کی روح اپنی بیٹی کے وجود میں زندہ ہوگئی ہو۔

ان خطبات کے نتیجے میں عوامی شعور بیدار ہوا اور اس سے پہلے کہ مرد اپنے گھروں کو لوٹتے، پیغام عاشورا لوگوں کے دلوں میں اتر چکا تھا۔ کوفہ خوشیوں کے شہر سے ایک سوگوار بستی میں بدل گیا، اور کوفی خواتین اس جنایت کی سنگینی کو سمجھ گئیں جس کے مرتکب ان کے شوہر بنے تھے۔

یہ تمام واقعات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اسی صبر اور مدبرانہ طرزعمل کا نتیجہ تھے۔ ایسا صبر جو اطاعت میں استقامت، معصیت سے اجتناب اور مصیبت میں ثابت قدمی تینوں پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا، اور جس نے ایک غفلت زدہ معاشرے کو جھنجھوڑ کر بدل دیا۔

حضرت زینبؑ اتنے دردناک حالات میں بھی «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کیسے کہہ سکیں کہ انہیں سب کچھ خوبصورت دکھائی دیا، اور یہ جملہ ان کے ایمان کی کس بلندی کو ظاہر کرتا ہے؟

حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے منقول مشہور جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» نہایت وضاحت کے ساتھ اس بلند مقام رضا اور کامل تسلیم و رضا کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے اپنے عظیم بھائی حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے معرفتی مکتب میں سیکھا تھا۔ یہ کوئی عام یا معمولی جملہ نہیں، بلکہ ایک خاص اور ممتاز کلام ہے، جس کی حقیقت اور عظمت کو سمجھنے کے لیے اس مجلس کے ماحول کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے جہاں یہ جملہ ادا ہوا۔

وہ مجلس یزید کی مجلس تھی؛ ایسی محفل جو اموی حکومت کی ظاہری فتح کے اظہار کے لیے منعقد کی گئی تھی، اور جس میں اس دور کے اوباش، لمپن اور آلودہ کردار رکھنے والے لوگ مبارک باد اور خوشی کے اظہار کے لیے جمع تھے۔ یزید کو یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ میں کس طرح ایک فکری طوفان برپا کیا، کیسے مردوں کے گھروں کو لوٹنے سے پہلے پیغامِ عاشورا کو دلوں تک پہنچا دیا، اور خوشیوں میں ڈوبا ہوا شہر ایک سوگوار بستی میں بدل دیا۔ اسی احساسِ شکست اور غصے کے زیرِ اثر یزید نے اس مجلس میں اس عظیم خاتون سے انتقام لینے کا ارادہ کیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دورانِ اسارت جس شہر، گاؤں یا آبادی میں قدم رکھا، وہاں اپنے بھائی کی مظلومیت بیان کی اور لوگوں کے دلوں کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیقت کی طرف مائل کیا۔ یہی مسلسل روشنگری تھی جس نے یزید کو مجبور کیا کہ سب سے پہلے ایک تحقیر آمیز جملے کے ذریعے حضرت زینبؑ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس نے کہا: “دیکھا، خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟” اس کے جواب میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»، یعنی میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ جملہ اس عظیم خاتون کے قلبی اطمینان، معرفتِ الٰہی اور بلند روحانی مقام کی گواہی دیتا ہے۔

لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت زینبؑ کی نظر میں خوبصورتی صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں تھی۔ خوبصورتی ایک گہری حقیقت ہے، جس کی جڑیں انسان کی روح اور معرفت میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے: اے یزید! خدا نے تمام بھائیوں میں سے میرے بھائیوں کو چن لیا، تمام بیٹوں میں سے میرے بیٹوں کو منتخب کیا، اور بنی ہاشم کے تمام جوانوں میں سے انہی کو اس لائق سمجھا کہ ان کا خون درختِ اسلام کی آبیاری کے لیے بہایا جائے۔ ہم خاندانِ نبوت ہیں؛ اسلام ہمارے ذریعے زندہ رہا، پروان چڑھا، اور تم جیسے اوباش، ظالم اور بدکار لوگوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا رہا، تاکہ دین اور قرآن لوگوں کے درمیان سے مٹ نہ جائیں۔

اس سے بڑی خوبصورتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے عزیزوں کا خون راہِ خدا میں بہنے کے لائق ٹھہرا اور تاریخ ساز بن گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسی نگاہ سے اپنے بھائیوں، فرزندوں اور عزیزوں کی شہادت کو دیکھتی تھیں؛ وہ اسے شکست نہیں بلکہ حسنِ الٰہی کا ظہور سمجھتی تھیں، اور اسی یقین کے ساتھ کہتی تھیں: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»۔

اسلامی تاریخ کے اس درخشاں کردار میں آج ہمارے لیے کیا درس ہے؟

یہی حقیقت ہمیں آج بھی شہداء کے خاندانوں کے طرزِ عمل میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ ماں جو اپنے شہید بیٹے کے جسدِ خاکی کے پاس کھڑی ہو کر کہتی ہے: “بیٹا، تمہیں نیا ٹھکانہ مبارک ہو”، یا وہ زوجہ جو اپنے شوہر کی شہادت پر مبارک باد دیتی ہے۔ یہ مبارک باد دراصل اسی حقیقت کا ترجمہ ہے جسے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بیان فرمایا تھا؛ یعنی تم نے وہ راستہ چُنا جس کے نمونے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام ہیں، اور تم نے خود کو اس بلند مقام تک پہنچانے کی کوشش کی۔

شہداء کے خاندانوں کی جانب سے مبارک باد دینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا خون اس قدر قیمتی ٹھہرا کہ وہ اسی راہ میں بہا جس میں تم سے پہلے امیرالمؤمنین، امام حسین، امام حسن، علی اکبر اور حضرت عباس علیہم السلام کا خون بہایا گیا۔ اس سے بڑھ کر کون سا اعزاز ہو سکتا ہے کہ خداوندِ متعال اپنے بندے کی جان اور مال کو خرید لے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

«إِنَّ اللَّهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ»۔

اللہ تعالیٰ اس سودے پر خود مبارک باد دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس الٰہی خرید و فروخت کی بشارت دو۔ لہٰذا جب شہداء کے خاندان اپنے عزیزوں کی قبروں کے پاس ان کو مبارک باد دیتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی الٰہی کلام کو دہراتے ہیں اور مقام رضا کو عملا پیش کرتے ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کہہ کر یہ دکھانا چاہا کہ مقامِ رضا کتنا بابرکت اور بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسان کو اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جہاں تمام غموں اور مصیبتوں کے باوجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور تقدیر کے تحت ہوتا ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں کوئی ناگوار چیز نظر نہیں آتی، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی دنیا میں اس مقام کو پا لیا تھا۔

اسی ایک جملے کے ذریعے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف یزید کی سازش کو ناکام بنایا بلکہ اس کی سوچ اور شخصیت کو تاریخ اور انسانیت کے سامنے ہمیشہ کے لیے مجرم ٹھہرا دیا۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے بھی فرمایا: «القتل لنا عادة»؛ شہادت ہمارے لیے ایک عادت ہے اور ہماری کرامت شہادت ہی میں ہے، کیونکہ اللہ مؤمنوں کی جانوں کا خریدار ہے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا۔

بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ امریکہ اس وقت اسٹریٹجک زوال کے مرحلے میں ہے اور وہ ذرائع اور طریقے جن کے ذریعے وہ ماضی میں دنیا پر اپنی برتری قائم رکھتا تھا، اب مؤثر نہیں رہے۔ اسی کمزوری کے باعث واشنگٹن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت، جنگ، دہشت گردی اور لوٹ مار جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو اغوا کرنا یا شہید قاسم سلیمانی جیسی عظیم شخصیت کو قتل کرنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ ذلت اور شکست کے آثار ہیں۔ ان اقدامات سے امریکہ کی کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن آشکار ہوتا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ آپریشن طوفان الاقصی کی صورت میں سامنے آیا، جس نے صہیونی حکومت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا اور آج وہ دنیا کی سب سے زیادہ منفور ہوچکی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمنوں کے اندازوں کے برخلاف، شہید سلیمانی کی شہادت سے ایران کمزور نہیں ہوا بلکہ ایرانی قوم مزید مضبوط ہوئی ہے، اور سلیمانی کا راستہ اور اثر آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ محاذ مزاحمت کی رہنمائی کر رہا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکی تسلط کو تسلیم کرے گا۔ دشمن کے سامنے ثابت قدمی ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل ایرانی قوم کا ہوگا۔ دشمنوں کی دھمکیوں کو خوف یا کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مصالحتی کمیشن کا اہم اجلاس کمیشن کے چیئرمین علامہ رمضان توقیر کی زیرِ صدارت کونسل کے مرکزی دفتر جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر سید علی عباس نقوی، مولانا عرفان حسین، سید صفدر رضا، مولانا سید وزیر حسین کاظمی،مولانا فرحت حسین، تصور عباس، ناصر عباس، سعادت علی، اسرار احمد نعیمی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔

فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ اور وحدت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔ ہم نے صرف زمین ہی آزاد نہیں کروائی تھی بلکہ ایک نظریاتی ریاست قائم کی تھی۔ آج بھی دشمن اس تاک میں ہے کہ پاکستان کیوں وجود میں آیا، اسی مقصد کے تحت فرقہ واریت اور انتشار کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔

فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

مقررین نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے وقت علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد،علامہ سید ساجد علی نقوی،مولانا سمیع الحق،پروفیسر ساجد میر،مولانا فضل الرحمان جیسے عظیم قائدین نے انتہائی مشکل حالات میں اتحادِ امت کا علم بلند رکھا، جب اتحاد کی بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ ان قائدین کی دانشمندانہ قیادت کے باعث ملک میں فرقہ واریت پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔1995سے لے کر اب تک ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے علماء، بزرگان اور تمام مسالک کے لوگ سب اکھٹے ہیں اور ہم اکھٹے رہیں گے موجودہ ملکی صورتحال میں فرقہ واریت،شدت پسندی، تکفیر اور انتشار پھیلایا جا رہا ہےاس کو کنٹرول کرنے کے لیے دو چیزیں اتنہائی اہم ہیں ایک منبر و محراب سے قرآن کے حکم کے مطابق اتحاد و وحدت کی بھر پور آواز اٹھنی چاہیے اور سوشل میڈیا پر جتنا بھی گند پھیلایا جا رہا ہے اس پر سائبر کرائم اور حکمران متوجہ ہوں۔

فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دشمن کبھی خاموش نہیں بیٹھتا، وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی تکفیر اور مسلکی نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے کیونکہ اتحاد ہی مسلمانوں اور پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔

فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

شرکاء نے کہا کہ مصالحتی کمیشن کو بھرپور فعال کیا جائے گا جہاں بھی فرقہ واریت کا ناسور ہوگا کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا ہمیں اپنے مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحادِ امت کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور دشمن کی تمام سازشوں کا مقابلہ یکجہتی سے کرنا ہوگا۔

فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان

اجلاس میں عالمِ اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اپنی عوام کے جذبات کا احترام کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بنیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کی ہمیشہ مخالفت کی اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ ہم ہر سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے۔آخر میں شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرئے گی جو عوامی خواہشات اور قومی مفاد کے خلاف ہو۔

 امام خمینی قدس سرہ الشریف نے کہا: "انہوں نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ظالم کے مقابل اور ظلم و جور کی حکومت کے سامنے نہ عورتوں کو ڈرنا چاہیے اور نہ مردوں کو۔ یزید کے مقابل حضرت زینب سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں اور انہوں نے بنی امیہ کو اس انداز سے ذلیل کیا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی ذلت کبھی نہیں دیکھی تھی۔

اور وہ تقاریر جو راستے میں اور کوفہ و شام میں کی گئیں اور وہ منبر جس پر حضرت امام سجاد علیہ السلام تشریف لے گئے اور یہ بات واضح کر دی کہ معاملہ صرف حق اور ناحق کی آمنے سامنے جنگ کا نہیں تھا بلکہ ہمیں بدنام کیا گیا تھا؛ (وہ لوگ) حضرت سید الشہداء علیہ السلام کو اس طرح پیش کرنا چاہتے تھے گویا وہ اس وقت کی حکومت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کے مقابل کھڑے ہو گئے ہوں۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے یہ حقیقت مجمع کے سامنے آشکار کی اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بھی اسی طرح یہ فریضہ انجام دیا۔

آج ہمارا ملک بھی اسی طرز پر ہے۔ تنظیم عفو بین الاقوامی (Amnesty International) جسے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دراصل «بین الاقوامی جعل کی تنظیم» اور «بین الاقوامی جھوٹ کی تنظیم» ہے، اس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وہی تہمتیں جو صدرِ اسلام میں اسلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی اولاد اور پیروکاروں پر لگائی جاتی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہمارے ملک پر عائد کی گئی ہیں۔

وہی جھوٹ جو یزید کے پیروکار پھیلایا کرتے تھے آج یہی نام نہاد تنظیم عفو بین الاقوامی اسی قسم کے جھوٹ پھیلا رہی ہے۔

انسان کو شرم آتی ہے کہ وہ کہے ہم ایسے ملکوں میں اور ایسی دنیا میں زندگی کر رہے ہیں جہاں یہ ان کے جیسے ذرائع ابلاغ ہیں اور یہی ان جیسی عفو کی بین الاقوامی تنظیمیں اور دیگر ادارے ہیں۔"

(25 مہر 1361/ 17 اکتوبر 1982ء، صحیفۂ امام، جلد 17، صفحہ 52)

امریکی حکومت نے اپنی تازہ ترین فوجی مداخلت سے وینزویلا کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ اقدام دنیا والوں کے لیے کوئی غیر متوقع اور حیران کن اقدام نہیں تھا کیونکہ امریکہ گذشتہ کئی سالوں سے کراکس کی امریکہ مخالف حکومت گرانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ گذشتہ تقریباً تین دہائیوں سے وینزویلا میں ہوگو چاویز کی سربراہی میں امریکہ مخالف سیاسی جماعتیں برسراقتدار آ جانے کے بعد سے وینزویلا کی حکومت امریکہ کے گلے میں کانٹا بنی رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے دن ریاست فلوریڈا کے شہر مارالاگو میں اپنی رہائشگاہ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اس میں وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کر لینے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ایسے وقت وینزویلا کے قانونی صدر کے اغوا کا اعلان کیا جب وہ اس سے پہلے وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی بارہا تاکید کر چکا تھا۔
 
منشیات صرف بہانہ ہے تیل اصل نشانہ ہے
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کا اصل مقصد منشیات کی روک تھام اعلان کیا ہے اور وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کرنے والے مافیا کا سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے لیکن 2024ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حریف اور امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر صرف وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسی بات پر زور دے رہے ہیں۔ کملا ہیرس نے ایکس پر اپنے پیغام میں ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری پر مبنی اقدام کو "غیرقانونی" اور "نامعقول" قرار دیا ہے۔ اس ڈیموکریٹک لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اصل مقصد تیل ہے لیکن ٹرمپ منشیات اور جمہوریت کو بہانہ بنا کر اپنی کاروائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
 
حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر وینزویلا میں تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں موجود تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ہے۔ یاد رہے وینزویلا میں پایا جانے والا تیل بھاری ہے جسے زمین سے باہر نکالنے کے بھاری اخراجات ہیں لیکن اس کے باوجود وینزویلا دنیا کا تیل برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران جب کیریبین سمندر میں امریکہ کی جنگی کشتیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا، تب بھی وینزویلا روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل چین، یورپی ممالک اور حتی امریکہ کو برآمد کر رہا تھا۔ درحقیقت یوں دکھائی دیتا ہے کہ وینزویلا میں تیل کے ذخائر اور کنویں اب تک کی امریکی فضائی بمباری اور حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔
 
وینزویلا میں امریکہ کی فوجی مداخلت پر عالمی ردعمل
دنیا کے کئی ممالک میں وینزویلا پر امریکی فوجی جارحیت اور صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے حتی تمام یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی منعقد ہوئے ہیں اور بعض ذرائع ابلاغ کے بقول گذشتہ دو دنوں میں عظیم ترین بین الاقوامی مظاہرے بن چکے ہیں۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں امریکہ کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ ہوا جس میں امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح کے مظاہرے ایتھنز میں بھی منعقد ہوئے اور مظاہرین نے وینزویلا کے عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین نے امریکہ کی خارجہ سیاست کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔ اسی طرح انہوں نے وینزویلا اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اٹلی میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔
 
غیرقانونی مداخلت
خود امریکہ کے اندر بہت سے سیاسی حلقوں اور عوام نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی جارحیت کو ناجائز اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے کالم میں اس بارے میں لکھا: "اگر گذشتہ صدی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سے کوئی اہم سبق حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ حتی کمزور ترین رجیم کی سرنگونی کی کوشش حالات خراب ہو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں 20 سال تک ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا جبکہ لیبیا میں ایک ڈکٹیٹرشپ ختم کر کے وہاں انتشار اور انارکی پھیلا دیا۔ 2003ء میں عراق کی جنگ کے افسوسناک نتائج نے بدستور امریکہ اور مشرق وسطی کو متاثر کر رکھا ہے۔" اس امریکی اخبار نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے اب تک وینزویلا کے خلاف اقدامات کا کوئی قابل قبول جواز پیش نہیں کیا ہے۔
 
دوسری طرف برطانوی اخبار گارجین نے بین الاقوامی قانون کے چند ماہرین سے بات چیت شائع کی ہے جنہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادرور کی گرفتاری کو اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جیفری رابرٹسن، سیرالئون میں اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت کے سابق سربراہ، نے کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 4 کے تبصرے 2 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ جارحیت کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جسے نورن برگ کی عدالت نے سب سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔" کنگسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایلویرا ڈومینگو ریڈوینڈو نے بھی امریکی اقدام کو دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا غیرقانونی استعمال قرار دیا ہے۔
 
تحریر: رضا عموئی