سلیمانی
آیت اللہ علم الہدی: گھر میں خواتین کی فداکاری و خدمت، مردوں کے جہاد کے برابر ہے
ایران کے صوبہ خراسان رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے اپنے دفتر میں سمنان کے ائمہ جمعہ کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا: ہماری عزت اور سرفرازی امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت سے وابستہ ہے۔ آپ حضرات جو دین کی خدمت کی توفیق رکھتے ہیں یہ برکتیں آپ کی خانگی زندگی میں بھی شامل ہیں، خصوصاً آپ کی زوجات کی محنت اور صبر کے سبب۔ اگر وہ ساتھ نہ ہوتیں تو یہ کامیابیاں بھی نصیب نہ ہوتیں۔
انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم «جِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّل» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عورت کا جہاد یہ ہے کہ وہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کو حسنِ اخلاق، بردباری اور خلوص کے ساتھ نبھائے۔
آیت اللہ علم الہدی نے مزید کہا: یہ روایت اسماء بنت عمیس سے نقل ہوئی ہے کہ جب وہ شہداء اور مجاہدین کے اہل خانہ کے ساتھ خدمت کے جذبے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "عورتوں کا یہ صبر و خدمت اور ایثار، مردوں کے میدانِ جنگ میں جہاد کے برابر ہے"۔
انہوں نے کہا: خواتین جب مشکلات، تنگی حالات، سماجی دباؤ اور خانگی ذمہ داریوں کو صبر و وقار کے ساتھ نبھاتی ہیں، یتیم بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بے سہارا خاندانوں کی مدد کرتی ہیں اور گھر کے محاذ کو مضبوط رکھتی ہیں تو یہ سب اعلیٰ ترین درجات کے جہاد میں شمار ہوتا ہے اور آخرت میں اس کا اجر و مقام بہت عظیم ہے۔
خطرناک تر ٹرمپ، امریکہ کے جوہری تجربات کی بحالی کا فیصلہ
اسٹریٹجک اور سیکیورٹی اثرات:
چین اور دیگر جوہری طاقتیں:
برطانیہ اور فرانس جیسے اتحادی ممالک جو واشنگٹن کی جوہری چھتری (deterrence) پر انحصار کرتے ہیں، اس اعلان کے بعد امریکہ کی اخلاقی ساکھ کے کمزور ہونے پر تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر داریل کیمبال نے متنبہ کیا ہے کہ یہ قدم اسلحہ کنٹرول مذاکرات کو کمزور کرے گا اور امریکہ کے مخالفین کو یہ موقع دے گا کہ وہ اسے ایک غیر ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کریں۔ مزید برآں یہ اعلان جوہری عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) کے 191 رکن ممالک کو بھی کمزور کر سکتا ہے، جسے عالمی امن کے لیے ایک بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
ماحولیاتی اثرات:
جیسا کہ 1973 میں سوویت یونین کے ایک جوہری تجربے سے 6.97 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ ایسے زلزلے حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کو نقصان پہنچاتے ہیں، مچھلیوں کی اجتماعی ہلاکت اور دریاؤں کی آلودگی جیسے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے حالیہ دنوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسے جوہری تجربات کے لیے ’’کوئی تکنیکی، عسکری، اور نہ ہی سیاسی جواز موجود ہے، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی تجربات کے احکامات صادر کرنے کے اس فیصلے کے خطرات اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
اسپورٹس مقابلوں کے چیمپینز اور اولمپیاڈز میں میڈل حاصل کرنے والوں سے رہبر انقلاب کی ملاقات
پھول، جس نے ڈارون کو سوچنے پر مجبور کیا: ہر کمال میں ایمان کی جھلک ہے
اسلامی علمِ کلام کے علما اور عیسائی الہیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات کی تخلیق میں پائی جانے والی خوبصورتی، نظم اور کمال خدا کے وجود کی سب سے مضبوط دلیلیں ہیں۔ یہ حقیقت بعض مشہور ملحد سائنس دانوں نے بھی تسلیم کی ہے، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ کوانٹم میکینکس پروفیسر ڈیوڈ ڈوئچ بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں موجودہ دور کے ملحدوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اسے اس کائنات اور اس کے قوانین میں پائے جانے والے حیرت انگیز نظم و ضبط پر کوئی تعجب نہیں ہوتا تو وہ دراصل حقیقت سے منہ موڑ رہا ہے۔ اس کائنات میں بہت سی حیرت انگیز اور ناقابل یقین مخلوقات ہیں۔" (دی گارڈین، جمعرات 8 جنوری 2009)
یہ بات ایک ایسے شخص نے کی ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ کہنا اس الجھن اور بے بسی کو ظاہر کرتاہے جو ملحدانہ سوچ کائنات کے حیرت انگیز نظم اور ہم آہنگی میں محسوس کرتی ہے۔
قرآنِ کریم نے بھی اس حقیقت کو کئی آیات میں بیان کیا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ۚ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۚ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ (النمل: 88)
اور آپ پہاڑوں کو دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جگہ ساکن ہیں جب کہ (اس وقت) یہ بادلوں کی طرح چل رہے ہوں گے، یہ سب اس اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو پختگی سے بنایا ہے، وہ تمہارے اعمال سے یقینا خوب باخبر ہے۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (السجدة: 7)
جس نے ہر اس چیز کو جو اس نے بنائی بہترین بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے شروع کی۔
یہ آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ کمال و حسن کوئی اتفاقی وصف نہیں ہےبلکہ ایک ایسا آفاقی قانون ہے جو پوری کائنات کو محیط ہے۔
کمالِ تخلیق کے شاہکاروں پر غور و فکر
جب انسان مخلوقات کی دقیق ترین معلومات پر غور کرتا ہے تو وہ تخلیق کے عظیم الشان نظام پر حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ اسی کی ایک مثال آرکیڈ کا پھول ہے۔ یہ پھول صرف اپنی دلکش خوبصورتی ہی سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ حیرت انگیز طور پر مادہ مکھی کی شکل کی مشابہت بھی رکھتا ہے تاکہ نر مکھی کو اپنی طرف متوجہ کرسکے۔ نر مکھی یہ سمجھ کر اس پر بیٹھتی ہے کہ یہ اس کی ساتھی ہے اور اسی عمل کے دوران وہ پولن (جراثیمِ نر) کو ایک پھول سے دوسرے پھول تک منتقل کر دیتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ آرکیڈ کا پھول صرف شکل کی نقل نہیں کرتا بلکہ بالکل وہی خوشبو خارج کرتا ہے جو مادہ مکھی خارج کرتی ہے۔یوں یہ حیاتیاتی فریب مکمل ہوتا ہے اور پھول کا تخم ریزی کا عمل یقینی بن جاتا ہے۔ یہی وہ منظر تھا جس نے چارلس ڈارون جو نظریۂ ارتقاء کے بانی ہیں کو وفات سے ایک سال قبل یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا کہ یہ کیفیت اس کے ذہن کو ہلا دینے والی ہے کیونکہ اس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اس تخلیق کے پیچھے ایک باقاعدہ منصوبہ اور مقصد کارفرما ہے۔
دوسری جانب، اگر ہم انسانی جسم پر غور کریں تو اس میں بھی اتنی ہی حیرت انگیز باریک بینیاں پائی جاتی ہیں جتنی باریکیاں نباتات کی دنیا میں ہیں۔ مثال کے طور پر ہرمونِ نمو (Growth Hormone) کو لیجیے، جو خون میں نہایت معمولی مقدار میں جو تقریباً5 نینوگرام کے تناسب سے خارج ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی معمولی مقدار ہے مگر صرف ایک گرام ہرمون تین ہزار انسانوں کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اگر اس کے توازن میں ذرا سا بھی فرق آ جائے تو پورے جسم کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ مثلاً اگر اس کا تناسب ایک سو ملین میں سے صرف ایک حصےکے برابر بڑھ جائے تو انسان عظمتِ جسم (Gigantism) کے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اگر اتنا ہی کم ہو جائے تو بونا پن (Dwarfism) کا شکار ہو جاتا ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز توازن اور درستگی اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ کوئی حکمت و تدبیر رکھنے والی ذات اس نظام کو نہایت باریکی سے سنبھالے ہوئے ہے؟
قدرت کے کمالات بہت زیادہ ہیں یہ تو محض چند مثالیں ہیں۔ پوری کائنات خواہ وہ کوانٹم ذرات کی باریک دنیا ہو یا عظیم کہکشاؤں کا پھیلا ہوا نظام ہو سب ایک نہایت درست اور متوازن قانون کے تابع ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک قانون معمولی سا بھی بدل جائے تو کائنات کا وجود ہی ممکن نہ رہے۔ یہی حقیقت مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عظمت کو اورپختہ کر دیتی ہے:
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِنْ فُطُورٍ (الملك: 3)
۳۔ اس نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، تو رحمن کی تخلیق میں کوئی بدنظمی نہیں دیکھے گا، ذرا پھر پلٹ کر دیکھو کیا تم کوئی خلل پاتے ہو؟
کمالِ تخلیق کی یہ نشانیاں کہ جن میں انسانی ہارمونز کی نازک ترتیب، قدرتی پھولوں کی حیرت انگیز کاریگری، فزکس کے قوانین کی ہم آہنگی اور ستاروں سے سجی آسمان کی خوبصورتی شامل ہیں سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ کائنات گویا ایک کھلی ہوئی کتاب ہےجسے ہر منصف مزاج انسان پڑھ سکتا ہے۔ تخلیق کا یہ کمال کسی اتفاق یا بے ترتیبی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایمان کے دروازے کھولتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ سارا حسین و منظم نظام اسی خدا کی صناعت ہے جس نے ہر چیز کو کمال کے ساتھ بنایا۔
لہٰذا الحاد کا دعویٰ، چاہے اس کے ماننے والے اسے کتنے ہی خوبصورت الفاظ میں پیش کریں، آخرکار ایک ایسی حقیقت سے ٹکرا جاتا ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔وہ یہ ہے کہ اس مکمل اور منظم کائنات کے پیچھے ایک حکمت و علم والا رب موجود ہے اور صرف وہی ذات عبادت کے لائق ہے۔
ایران، روس اور چین کا اقوام متحدہ کو خط تینوں بڑی طاقتوں کے اتحاد کی علامت ہے
اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ قرارداد 2231 کی میعاد ختم ہونے کے ساتھ ہی ایران کے ایٹمی پروگرام پر عمل درآمد کی نگرانی اور تصدیق کے حوالے سے آئي اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا رپورٹنگ مشن بھی ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، روسی فیڈریشن اور عوامی جمہوریہ چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط ان تینوں عظیم طاقتوں کی اسٹریٹجک یکجہتی کی علامت ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسنیپ بیک مکینیزم کو فعال کرنے کے لیے تین یورپی ممالک کی کوششیں بنیادی طور پر قانونی جواز سے عاری ہیں۔
ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ قرارداد 2231 کے پیراگراف 8 کی بنیاد پر اس قرارداد میں درج تمام پابندیاں اور تقاضے ختم ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منسوخ شدہ قراردادوں کی بحالی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے اور ایران کے افزودگی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایٹمی معاملہ بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے خارج ہوگیا ہے۔
ایران میں حکومت کی تبدیلی کا خواب
ایران اور اسرائیل کی جنگ کے بعد اپنے تجزیئے میں خود سابقہ اعلیٰ اسرائیلی سیکورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل 12 روزہ جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور ایران میں حکومت کی تبدیلی محض خواب ہے۔ اسرائیلی فوج کے انٹیلی جنس مرکز کے سابق سربراہ برائے تحقیق و تجزیہ میجر (ریٹائرڈ) ڈینی سیترینووِچ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل 12 روزہ جنگ میں ایران کے خلاف شکست سے دوچار ہوا۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم ایرانی اپوزوزیشن اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں کے متعلق مکمل مایوسی کا اظہار کیا۔
سیترینووِچ اس وقت صہیونی تحقیقی ادارے آبا اِیبان انسٹی ٹیوٹ میں سینئر ریسرچ افسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی فارسی (برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام میڈیا) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت نے ایران کے بارے میں غلط اندازے لگائے تھے اور یہ سمجھ لیا تھا کہ چند فضائی حملے ایرانی حکومت کو گرا سکتے ہیں، ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے اسرائیل میں کوئی حقیقت پسند نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ہم نے سمجھا کہ صرف فضائی بمباری سے ایران کی حکومت کو بدلا جا سکتا ہے، مگر نتیجہ بالکل الٹا نکلا، ایران نے اسی جنگ کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس سابقہ اسرائیلی انٹیلی جنس عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران میں کوئی حقیقی اپوزیشن موجود نہیں اور بیرون ملک مقیم مخالفین بھی کچھ کرنے کے قابل نہیں، میں رضا پہلوی کو ایسا شخص نہیں سمجھتا جو ایران واپس جا کر حالات پر قابو پا سکے۔
صہیونی تحقیقی ادارے کا دعویٰ:
انہوں نے ایک تو یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ 12 روزہ جنگ نے واضح کر دیا کہ ہم باہر سے ایران کی حکومت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ دوسرا ان کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے سے 950 ایرانی میزائل بھی اسرائیل پر گرے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی ادارہ انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز (INSS)” کی مبینہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل کو متعدد محاذوں پر بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال کی جنگوں میں 1,986 اسرائیلی ہلاک ہوئے، جن میں 919 فوجی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں غزہ محاذ پر ہوئیں، جہاں 1,724 افراد مارے گئے۔
55 اسرائیلی گرفتار یا لاپتہ ہوئے، جن میں سے 13 کی لاشیں اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ 30,135 اسرائیلی زخمی ہوئے، اور 164,500 افراد کو اپنے گھروں سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا، جن میں سے 74,600 غزہ کے اطراف کے رہائشی تھے۔ غزہ سے اسرائیل کی سمت 51 ڈرون داغے گئے، اور اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران 3 لاکھ ریزرو فوجی بلائے۔ مجموعی طور پر 37,500 راکٹ اور میزائل اسرائیل پر فائر کیے گئے، جن میں سے 10,200 صرف غزہ سے تھے۔
مغربی کنارا اور بیت المقدس: 76 اسرائیلی ہلاک اور 565 زخمی ہوئے، جن میں 32 فوجی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج نے 129 فضائی حملے کیے اور جنین و طولکرم کے کیمپوں کو تباہ کیا یا خالی کروایا۔ مجموعی طور پر 15,456 گرفتاریاں ہوئیں اور 10,496 آپریشنز کیے گئے، جن میں ہزاروں پتھراؤ اور آتش گیر بموں کے واقعات شامل تھے۔
ایرانی محاذ: رپورٹ کے مطابق جون 2025 کی مختصر جھڑپوں کے دوران 950 ایرانی میزائلوں کے نتیجے میں 33 اسرائیلی ہلاک اور 3,550 زخمی ہوئے۔
لبنانی محاذ: حزب اللہ کی راکٹ اور ڈرون حملوں میں 132 اسرائیلی مارے گئے، 17,300 راکٹ اور 593 ڈرون فائر کیے گئے، جبکہ 68,500 شمالی اسرائیلی باشندے بے گھر ہوئے۔
یمنی محاذ: یمن کی جانب سے داغے گئے 500 میزائل و ڈرون میں سے 70 میزائل اور کئی ڈرون اسرائیل کے اندر گرے، جن کے نتیجے میں کم از کم ایک اسرائیلی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان حملوں سے ایلات بندرگاہ کی 80 فیصد سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کے جواب میں اسرائیل نے 19 حملے یمن پر کیے اور 90 اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ رپورٹ مجموعی طور پر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسرائیل متعدد محاذوں پر بیک وقت دباؤ کا شکار ہے، اور اندرونی طور پر بھی اس کے سیکورٹی ماہرین اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگی یا نفسیاتی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے۔
علامہ نائینی فقیہ کی ولایت پر مبنی جس حکومت کے قائل تھے، اسے آج اسلامی جمہوریہ کہا جاتا ہے
علامہ میرزا محمد حسین نائینی پر بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین سے رہبر انقلاب کی ملاقات کے دوران ہونے والا رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب، آج جمعرات 23 اکتوبر 2025 کی صبح شہر قم میں کانفرنس کے انعقاد کے مقام پر جاری کیا گيا۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس ملاقات میں علامہ نائینی کو نجف اشرف کے قدیم حوزہ علمیہ کو بلند علمی اور معنوی ستونوں میں سے ایک قرار دیا اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مہارت کے پہلو سے مرحوم نائینی کی نمایاں خصوصیت، اپنی علمی و فکری بنیادوں اور مضبوط اور بے شمار جدت عمل کی اساس پر علم اصول میں ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کرنا ہے۔
انھوں نے نمایاں شاگردوں کی پرورش کو علامہ نائینی کی ایک اور خصوصیت شمار کیا اور کہا کہ ان کی ایک دوسری نمایاں خصوصیت، جو انھیں مراجع کے درمیان ایک غیر معمولی شخصیت میں تبدیل کرتی ہے، سیاسی سوچ کا حامل ہونا ہے جو ان کی گرانقدر کتاب "تنبیہ الامۃ" میں بخوبی سامنے آتی ہے تاہم اس کتاب پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے آمریت کے مقابلے میں ولایت کے نظریے پر مبنی ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے عقیدے کو علامہ نائینی کے سیاسی نظریات کا ایک اہم عنصر بتایا اور کہا کہ مرحوم نائینی کی سیاسی سوچ کے مطابق حکومت اور اس کے تمام ذمہ داروں کو، قومی نگرانی میں اور جوابدہ ہونا چاہیے جس کے لیے نگرانی اور قانون سازی کی غرض سے انتخابات کے انعقاد کے ذریعے ایک مجلس (پارلیمنٹ) کی تشکیل ہے اور اس مجلس کے قوانین کا اعتبار، فقہاء اور جید علماء کی تائيد و توثیق پر منحصر ہے۔
انھوں نے کہا کہ علامہ نائینی جس اسلامی اور عوامی حکومت کی تشکیل کے قائل تھے، وہ آج کی زبان میں "اسلامی جمہوریہ" ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرزا نائینی نے اپنی کتاب تنبیہ الامۃ کو خود اپنے ہاتھوں سے واپس لے لیا جس کی وجہ یہ تھی کہ مرحوم نائینی اور نجف کے دیگر علماء نے جس آئینی تحریک کی حمایت کی تھی وہ دراصل انصاف کی حکومت کے قیام اور آمریت کے خاتمے کی حمایت تھی اور انگریزوں نے جو کچھ آئینی تحریک کے نام پر ایران میں شروع کیا تھا، اس سے بالکل مختلف تھی۔
اس ملاقات میں ایران کے اعلی دینی تعلیمی مراکز کے سربراہ آيت اللہ اعرافی نے علامہ نائینی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے کانفرنس کے پروگراموں اور سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔
ایران اور پاکستان کے درمیان مواصلاتی رابطوں کومضبوط بنائيں گے: وزیر ٹرانسپورٹ
ٹرانسپورٹ اور اربن ڈویلپمنٹ کی وزیر فرزانہ صادق نے ایران اور پاکستان کے درمیان مواصلاتی رابطوں کو مضبوط بنانے کی غرض ٹھوس اقدامات کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد جاری ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کے پہلے دن ارنا کے نمائندے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
محترمہ فرزانہ صادق نے مواصلاتی رابطوں کو مضبوط بنانے کی غرض سے دونوں ملکوں میں پائي جانے والی صلاحیتوں اور گنجائشوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہونے جاری ٹرانسپورٹ منسٹر کانفرنس دوران ٹرانزٹ اور کوریڈور رابطوں کو آسان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایران کی وزیر ٹرانسپورٹ و اربن ڈویلپمنٹ نے مزید کہا کہ اس کانفرنس کے دوران، دو طرفہ اور کثیر الجہتی بات چیت ہوگی جن میں ٹرانزٹ سہولیات اور ریجنل کوریڈور جیسے معاملات سرفہرست ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران پاکستان دوطرفہ تعلقات کے میدان میں ٹرانزٹ اور روڈ ٹرانسپورٹ، کسٹم سہولت کاری ، ریلوے روٹس کی مرمت کے معاملات میں باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ارنا کے مطابق ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس جمعرات سے اسلام آباد میں شروع ہوگئي ہے جو دو روز تک جاری رہے گی۔
شنگھائی انسداد دہشت گردی مشترکہ مشقیں ایران میں ہوں گی
شنگھائی تعاون تنظیم کے شعبہ انسداد دہشت گردی کے ڈائریکٹر اولار بیگ شارشیف نے جو تاجکستان کے دورے پر گئے ہوئے ہیں،صحافیوں کو بتایا کہ "سہند اینٹی ٹررزم 2025 " کے نام سے شنگھائی تعاون کی مشترکہ انسداد دہشت گردی مشقیں ایران میں تبریز کے نزدیک انجام پائيں گی۔
انھوں نے بتایا کہ ان مشقوں میں شرکت کرنے والے ملکوں اور مبصرین کو دعوت نامے عنقریب بھیج دیئے جائيں گے۔
قرآنِ مجید امت کو ایک واحد امت قرار دیتا ہے، اسلام کا پیغام توحید و وحدت ہے
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں منعقدہ عظیم الشان “علماء و مشائخِ اسلام کانفرنس” میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام اور ممتاز مذہبی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے اتحادِ امت، قومی ہم آہنگی اور اسلامی وحدت کے فروغ پر زور دیا۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جامعۃ الکوثر اسلام آباد کی جانب سے ایک عظیم الشان “علماء و مشائخِ اسلام کانفرنس” منعقد ہوئی، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام اور ممتاز مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر حرمِ مطہرِ امام حسین علیہ السلام سے تشریف لائے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے حجۃ الاسلام علامہ علی القرعاوی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتامی خطاب میں قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اتحادِ امت، قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جناب سردار محمد یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان عالمِ اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے، اور اس کی بقا و ترقی اتحادِ بین المسلمین میں مضمر ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر اور رحمۃ اللعالمین اتھارٹی کے ممبر علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ عالَمِ اسلام کے عظیم دینی اور علمی ادارے جامعۃ الکوثر میں تمام مسالک کے جید علمائے کرام اور مشائخ عظام نے وحدت امت کا خوبصورت پیغام دیا۔ وطن عزیز کے استحکام و سالمیت،امت کی عزت و عظمت اور مسلمانوں میں انتشار و افتراق کے خاتمے کے لئے ایسے پروگرام کسی نعمت سے کم نہیں۔
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی اور ایٹمی طاقت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ پورا عالمِ اسلام اس ملک پر فخر کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے چند دہائیوں سے فرقہ وارانہ اور تکفیری عناصر نے اس کے استحکام کو نقصان پہنچایا۔ ان عناصر نے امن و سلامتی کو متاثر کیا اور مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو مجروح کیا۔
مقررین نے کہا کہ ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء نے ہمیشہ اتحاد و وحدت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دیوبندی، شیعہ، بریلوی، اہلِ حدیث اور جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں نے ماضی میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے ملک میں امن و وحدت کا پیغام عام کیا۔
۱۹۹۵ء میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے علماء، جن میں قاضی حسین احمد مرحوم، علامہ سید ساجد علی نقوی، مولانا سمیع الحق مرحوم، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، مولانا فضل الرحمن اور پروفیسر ساجد میر شامل تھے، نے مل کر ملی یکجہتی کونسل قائم کی، جس نے ملک میں ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔
مقررین نے کہا کہ آزادیِ وطن کی جدوجہد بھی اتحاد ہی کے نتیجے میں کامیاب ہوئی۔ اگر اس وقت مختلف مکاتبِ فکر اور قیادتیں متحد نہ ہوتیں تو قیامِ پاکستان ممکن نہ تھا۔آج بھی ہمیں انہی خطوط پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ وطنِ عزیز کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید امت کو ایک واحد امت قرار دیتا ہے: “إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ” (یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو۔) قرآن کسی مسلک یا مکتب کی نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی بات کرتا ہے۔ اسلام کا پیغام توحید، اخوت اور وحدت کا پیغام ہے۔
قاضی حسین احمد مرحوم کا نعرہ “دردِ مشترک، قدرِ مشترک” آج بھی امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے بہترین اصول ہے۔ اگر ہم اس جذبے کے تحت آگے بڑھیں تو یقیناً دوست خوش ہوں گے اور دشمن مایوس۔
مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ کے موجودہ عالمی حالات، خصوصاً فلسطین، غزہ میں جاری مظالم،ان حالات میں ایران کا صہیونی ریاست کو پوری قوت کے ساتھ جواب دینے سے پتہ چلتا ہے کہ دشمن اسلام کمزور ہے امریکی صدر اور ان کے اتحادی ان قاتلوں کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
یہ حالات امتِ مسلمہ کے اتحاد اور بیداری کا تقاضا کرتے ہیں۔ استعماری قوتیں مسلمانوں کو تقسیم اور کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، لہٰذا امت کو ہوشیاری اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
آخر میں مقررین نے کہا کہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ فضا میں بہتری آئی ہے، تاہم مزید مثبت پیش رفت کے لیے محراب و منبر کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔انہوں نے اتحادِ امت کے فروغ کے لیے اس طرح کی کانفرنسوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
اختتام پر جامعۃ الکوثر کے مہتمم علامہ شیخ انور نجفی، علامہ شیخ اسحاق نجفی اور ان کے رفقاء کو اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جس نے اتحادِ امت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو مزید تقویت دی۔
کانفرنس میں سابق امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق، سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل جناب لیاقت بلوچ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ مفتی راغب نعیمی،حضرت پیر مجتبی فاروق گل بادشاہ سجادہ نشین دربار عالی موھڑہ شریف راولپنڈی،علامہ محمد رمضان توقیر،صدر ملی یکجہتی کونسل شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم،علامہ شیخ حسن جعفری،علامہ تنویر علوی،علامہ شفا نجفی سمیت بڑی تعداد میں تمام مسالک کے ممتاز علمائے کرام،مشائخ عظام اور شخصیات نے شرکت کی اور اتحادِ امت کے موضوع پر مدلل و بصیرت افروز خطابات پیش کیا۔

































































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
