سلیمانی
ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز "ابراہم لنکن" کو نقصان کیسے پہنچایا؟
، ایران کے حملوں سے بحرین میں امریکی بحریہ کے مرکزی لاجسٹک مرکز کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد امریکی بحریہ کو اپنا علاقائی لاجسٹک مرکز بحرین سے منتقل کرکے ڈیگو گارشیا لے جانا پڑا۔ اس اقدام سے خلیج فارس میں موجود سپلائی نیٹ ورک ایک 2200 میل طویل اور نسبتاً غیر محفوظ بحری رسد کے سلسلے میں تبدیل ہو گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکی طیارہ بردار جہازوں کی کارروائیاں اور ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری رہا، تاہم "یو ایس ایس ابراہم لنکن" میں رپورٹ ہونے والی مشکلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی انفراسٹرکچر کی تباہی، کسی جوہری طیارہ بردار جہاز پر براہ راست حملہ کیے بغیر بھی، بتدریج اس کی جنگی استقامت کو کم کر سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج کے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے "ابراہم لنکن" کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جہاز 260 روز سے زائد عرصے سے سمندر میں موجود ہے اور اس کے کمانڈر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث امریکی بحریہ کو زیادہ عرصے تک سمندر میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کے سابق افسر ہارلن اُولمین نے کہا کہ "ابراہم لنکن" کی طویل سمندری تعیناتی اس کی آپریشنل تیاری اور جنگی صلاحیتوں کو بتدریج متاثر کرتی ہے، جبکہ اس سے عملے پر بھی شدید دباؤ پڑتا ہے اور ان کے حوصلے متاثر ہوتے ہیں۔
صہیونی حکومت میں ایران سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں، جنرل جوانی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سیاسی ونگ کے نائب سربراہ جنرل ید اللہ جوانی نے مسلح افواج میں نئے مقرر ہونے والے کمانڈروں کے سابقہ ریکارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افراد دفاع مقدس کے تجربہ کار اور ایرانی قوم کے بہترین اثاثوں میں سے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی صلاحیت ثابت کرچکا ہے، خصوصا اس دور میں جب اعلی کمانڈروں کو شہید کر دیا گیا تھا اور ان افراد نے نائب کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ میجر جنرل احمد وحیدی کے حکم نامے میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس کے علاوہ ایک نئے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اب ہم جو بھی اقدام کریں گے، اگرچہ اس کی نوعیت دفاعی ہوگی، لیکن اس دفاعی انداز کو جارحانہ شکل اختیار کرنا ہوگی۔
جنرل جوانی نے تاکید کی کہ یہ ایک انتہائی اہم نکتہ ہے۔ ہم نے کبھی جنگ شروع نہیں کی، نہ امام خمینی کے دور میں، نہ شہید امام خامنہ ای کے دور میں اور نہ ہی اب۔ لیکن چونکہ ہم جنگ کی حالت میں ہیں اور دشمن مواقع کی تلاش میں ہے، اس لیے دشمن کو ان احکامات اور ان کے پیغامات سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہماری مسلح افواج اپنے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی لائیں گی۔
سپاہ کے اعلی افسر نے کہا کہ جاری کیے گئے احکامات کی بنیاد پر ایرانی سرزمین کے دفاع، سلامتی کے تحفظ اور دشمن کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے جو کچھ ضروری ہوگا، مناسب وقت پر انجام دیا جائے گا، جیسا کہ ہم نے حالیہ واقعات میں بھی دیکھا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہوگا۔
جنرل جوانی نے واضح کیا کہ اہم بات یہ ہے کہ جنگ شروع کرنے والا دشمن تھا اور اس سلسلے میں ہمارے اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں، اگرچہ ان کی نوعیت جارحانہ بھی ہو سکتی ہے اور یہ مسلح افواج کے نئے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے خلاف اچانک کارروائیاں کرکے ہمیں دھوکا نہیں دے سکتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ ممکن ہے دشمن کو خود تزویراتی نوعیت کے اچانک اقدامات کا سامنا کرنا پڑے اور یہ بھی نئے کمانڈروں کے احکامات میں بیان کیے گئے نئے طریقہ کار کا ایک حصہ ہے۔
انہوں نے جنگ کی روک تھام اور ڈیٹرنس کے لیے مسلح افواج کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اقدامات کا مقصد جنگ شروع ہونے سے روکنا ہے، لیکن دشمن نے غلط اندازے اور غلط حساب کتاب کے ساتھ جنگ شروع کی، تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے بعد اس نے ملک کے اندر بھی کچھ اقدامات کی منصوبہ بندی کی، لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد 12 روزہ جنگ میں اسرائیلی حکومت میدان میں اتری۔ تاہم صہیونی حکومت کی اتنی حیثیت نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہوسکے۔ 12 روزہ جنگ میں بھی اسرائیلی حکومت امریکی حمایت اور پشت پناہی کے سہارے میدان میں اتری تھی۔
ٹرمپ کی ایران کے خلاف تعاون کی اپیل، جنوبی کوریا کا انکار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر نے واشنگٹن کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں سئول سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں میں شامل ہونے کا کہا گیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تاہم جنوبی کوریا کے صدر نے اس درخواست کا جواب "نہیں" میں دیا۔
امریکی صدر نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک کو دیکھ کر خوش ہیں اور یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اپنے دفاع کی صلاحیت بڑھانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ ایک جرات مندانہ، بڑا اور اہم قدم ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے وزیر دفاع کو ہدایت دی ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کے حجم میں نمایاں کمی کی جائے۔
طویل تعییناتی کے دوران ابراہام لنکن کو درپیش مشکلات، امریکی سابق بحری سربراہ کا انکشاف
امریکی بحریہ کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ ایڈمرل مائیک مولن نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کی طویل تعیناتی اور درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک مولن نے کہا کہ یہ جہاز 260 دن سے زائد عرصے سے سمندر میں موجود ہے اور اس کی موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے۔ جہاز کے کمانڈر ڈینیئل کلر ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
مولن نے کہا کہ اس جہاز کو درپیش چیلنجز امریکی بحری بیڑے کو درپیش پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جسے کسی ایک زاویے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے طویل تعیناتی کی وجہ مشرق وسطی میں امریکی فوجی اڈوں کی محدود دستیابی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈے جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، جس کے باعث امریکی افواج کو زیادہ وقت سمندر میں گزارنا پڑا۔
سابق امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی فوجی منصوبہ بندی کو غیر متوقع حالات کے مطابق تیزی سے تبدیل ہونا پڑا، جس کی وجہ سے اہلکاروں کے آرام اور بحالی کے لیے مناسب مقامات تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی بحری بیڑے پر موجودہ دباؤ مستقبل کی عسکری صلاحیتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہام لنکن پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ نے عملے میں خودکشی کی کوششوں کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی دباؤ کے پیش نظر ایسے واقعات میں اضافے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
حالیہ جنگ میں دشمن ایرانی عوام کے عزم و ارادے کو شکست نہیں دے سکا، ایرانی چیف جسٹس
اعلیٰ عدالتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن اژهای نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں دشمن ایرانی عوام کے عزم و ارادے کو شکست نہیں دے سکا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطرات ختم ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن آئندہ بھی سیاسی سازش، نفوذ، بدامنی، اقتصادی دباؤ اور حتیٰ کہ فوجی کارروائی جیسے مختلف ذرائع استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو قومی اتحاد اور داخلی یکجہتی کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
محسن اژهای نے 1953 کی ایران میں ہونے والی بغاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب ایران نے ملک میں بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو کم کیا، جس کے بعد ایران کو مختلف سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی دباؤ کا سامنا رہا۔
ایرانی چیف جسٹس نے عدلیہ کے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو انصاف کی فراہمی، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے عدلیہ میں بعض عہدیداروں کی ممکنہ تبدیلیوں کو بھی انتظامی بہتری اور کارکردگی میں اضافے سے جوڑا، جبکہ افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ایرانی عدالتی حکام نے عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، مقدمات کے آن لائن انتظام اور عدالتی کارروائیوں میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
بحیرہ احمر میں سعودی جنگی بحری جہاز اور کشتیوں پر حملہ
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے بتایا ہے کہ بحیرہ احمر میں المخا بندرگاہ کے ساحلی علاقے میں، سعودی عرب کے ایک فوجی جہاز اور چار کشتیوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بیلسٹک میزائلوں سے کئے جانے والے اس حملے میں پوری دقت کے ساتھ سعودی جنگی بحری جہاز اور کشتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
یمن کی مسلح افوج کے ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں سعودی جنگی جہاز میں آگ لگ گئی اور اس کی کئی جنگی کشتیاں غرق ہوگئيں۔
79واں جشن آزادی، پاکستان کی خیر ہو
آج پاکستان کا 79واں جشن آزادی منایا جا رہا ہے، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں یہ پاک وطن تاریخی جدوجہد، لازوال قربانیوں، بے مثال ہجرتوں کے ساتھ ان مٹ زخموں، وہ زخم جو جسموں کے ساتھ روح کو بھی گھائل کر دیتے ہیں، جو آنکھوں میں بس جاتے ہیں، جن لوگوں نے اس ملک کی محبت میں اپنا گھر بار، کاروبار، مال و متاع چھوڑ کر سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے راستوں میں اپنے پیاروں کی خون میں لت پت لاشیں چھوڑیں اور بنا کفن و دفن عالم مجبوری میں انہیں چھوڑ دیا۔ زرا تصور کریں ان کی آنکھوں کیسے کیسے خواب ہونگے، کیسے سپنے سجا کر وہ لوگ چلے آئے اور سب کچھ برداشت کر لیا، یقیناً یہ آسان نہیں تھا، ہاں وہ جس ایمان کی طاقت سے بھرپور تھے اس سے برداشت کرگئے، وہ جو اقبال و قائد کے خیالات سن چکے تھے ان پہ یقین کرنے کے بعد یہ سب کچھ برداشت کر گئے۔
ایک خدا، ایک رسول، ایک کلمہ، ایک امت، ایک قانون، ایک اصول، ایک قوم، اخوت، بھائی چارہ، مذہب کی آزادی، ڈب کے برابر حقوق، عدل، انصاف، قانون کی حکمرانی، یہی تو وہ فرامین، یہی تو وہ خیالات تھے جن کو پیش نظر رکھ کے برطانوی استعمار سے آزادی اور ہندوستان سے علیحدگی کی جدوجہد میں لاکھوں لوگ جان فدا کر گئے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس پہ ہم سب کو فخر ہے، جس پہ ہم نازاں ہیں، مگر آج 79واں جشن آزادی مناتے ہمیں جن مسائل، جن مشکلات، جن مصائب کا سامنا ہے اس پہ بہت کچھ سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ہر پاکستانی یہ سوچنے پہ مجبور ہے کہ ہم نے جو آزادی اتنی عظیم قربانیوں کے بعد حاصل کی آخر وہ کہاں گم گئی، کس نے چھین لی، کون لے اڑا، یہ سب کیونکر ممکن ہوا؟
پاکستان جب برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تو یہ چار صوبائی اکائیوں، قبائلی و شمالی علاقہ جات پہ مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند تھا، یہ ایسا گلدستہ تھا جس کی مہک شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان والوں نے محسوس کی تو اپنے علاقوں میں ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح جدوجہد کے ذریعے آزادی حاصل کی، قربانیاں دیں اور اس مہکتے گلدستہ میں آن جڑے، اسی طرح بلوچستان کے کچھ علاقے بھی شامل ہوئے۔ تب مختلف رنگ، الگ مہک رکھنے کے باوجود پاکستان کے گلدستہ میں جڑ کے ہی اپنی تر و تازگی باقی رکھی تھی، کوئی پنجاب کی صورت بڑا بھائی تھا تو کوئی شمال مغربی صوبہ سرحد کی شکل میں اس کی مضبوط چٹان تھا، کوئی وادی امن و محبت مہران تو کوئی ساحل سمندر کی صورت اس کے پانیوں کے نگہبان تھے، کوئی چٹیل میدانوں، عظیم تاریخ و روایات کے امین بلوچستان کے وفا شعار تھے تو کوئی بلند بالا پہاڑوں، آسمان کو چھوتی چوٹیوں کی سرزمین کے باسی اس کے محافظ تھے۔
یہ سب کتنا خوبصورت تھا، یہاں امن، سلامتی، تعلیم، ترقی، مذہب کی آزادی، باہمی احترام، حقوق تھے، پھر ناجانے کس کی نظر لگی کہ ایک قوم، ایک گلدستہ پھول کی پتیوں کی طرح بکھر گیا، کہیں لسانیت نے قدم جما لیے تو کبھی فرقہ واریت کا زہر گھول دیا گیا، کبھی صوبائیت کی تفریق اور تقسیم ابھار دی گئی تو کبھی علاقائیت کے بتوں کی پرستش شروع کروادی گئی۔ ان بنیادوں پہ قتل و غارت کروائی گئی، بے گناہوں کے خون کی ہولیاں کھیلی گئیں، مسجدوں، عبادت گاہوں کو معصوم مسلمانوں کے لہو سے رنگین کیا گیا، یوں قائد کے افکار پہ کلہاڑا چلایا گیا، علامہ اقبال رح کی فکر کو قتل کیا گیا، قیام پاکستان کے مقصد کو دفن کر دیا گیا، ایک ملک، ایک کلمہ، ایک قوم، ایک وطن کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ تقسیم، تفریق، نفرین کے جکھڑ چلے اور نفرت کی آندھیوں میں بہت کچھ گم گیا۔
آج ہم 79 ویں جشن ازادی مناتے اپنی اقدار، اپنی روایات، اپنے سماج کو تلاش کر رہے ہیں، قیام پاکستان کے اس مقصد جس کیلئے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں اور ہجرتوں کے عذاب جھیلے اس گم کردہ میراث کے متلاشی ہیں۔ کوئی مانے یا نا مانے یہ سب دو چار برس میں نہیں ہوگیا، یہ کسی ایک فرد، گروہ یا جماعت نے بھی نہیں کیا، یہ فقط اپنی اپنی باری لگانے والے سیاستدانوں کا کیا دھرا نہیں نا ہی اقتدار کے لالچی، کرسی و اختیار کے پجاری دستور سے کھلواڑ کرنے والے سرکاری عسکری مہربانوں کی مہربانی ہے، نا صرف دین کے نام پہ مذہب کے بیوپاریوں کی کارگذاری ہے، یہ سماج کے ہر طبقہ، ہر شعبہ، ہر قومیت، ہر مزہب و مسلک اور سرکاری و غیر سرکاری فرد ملت کا حصہ بقدر جثہ کردار ہے، جس کا جہاں بس چلا اس نے ملک کو نوچنے میں کسر نا چھوڑی۔
آج کی نسل سوچتی ہے کہ آخر ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ترقی کی دوڑ میں ہم سے اتنا آگے کیسے چلے گئے کہ ہمیں اپنا ملک و ملت چھوڑ کے ان کے پاس کام کرنے جانا پڑتا ہے، ہم پیچھے کیوں رہ گئے، کون ہمارا مجرم ہے، کون اس ملک کا دشمن ہے، کون اس ملک کو اس اسٹیج تک پہنچانے والا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کے مستقبل کا اس قوم کی قیادت کرنے والوں پہ بالکل بھی اعتماد نہیں رہا، سیاسی لولا لنگڑا نظام، عدل و انصاف کا بکھرا ڈھانچہ اور کرپٹ ترین سیاستدانوں کی نسل در نسل غلامی میں جکڑے ہم 79 ویں جشن آزادی پہ باجے بجانے میں مشغول بچوں کو بہتر شکل دینے سے قاصر ہیں اور نوجوانوں کو مایوسی کے ماسوا پیش کرنے سے محروم ہیں۔ مذہب، دین، سیاست کے شہسواروں کی موجود و آئندہ کھیپ میں بھی کوئی ایسا نہیں دکھتا جو قائد و اقبال کی روح کو شاد کرنے کا ساماں کرنے کی ہمت و جستجو کرسکتا ہو، لہذا دعا ہے پاکستان کی خیر ہو۔
تحریر: ارشاد حسین ناصر
جنرل وحیدی: سپاہیان اسلام نے دنیا کی مسلح ترین فوج کو شکست دے دی
سپاہ پاسداران کے کمانڈر اںچیف جنرل احمد وحیدی نے،غازیان اسلام کے نام اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ "آپ نے، سخت ترین حالات،جنوبی ساحلی علاقوں اور جزیروں کی آگ برساتی گرمی اور سربفلک پہاڑوں کی جما دینے والی سردی میں، دشمن کے سنگین ترین حملوں کے دوران، خدا پر توکل کے ساتھ فاتحانہ جنگ اور کامیاب جنگی اوردفاعی کارروائیوں سے دنیا کی مسلح ترین فوج کو شکست دے دی۔
سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے غازیان ایران کے نام اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ، قلم اور زبان، آپ کی درخشان مجاہدت کی منزلت کے بیان اور قدردانی سے عاجز ہے۔ خداوند عالم نے، خود مجاہدین اسلام کو دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور قرآن کریم میں ان سے اپنی محبت کا اس طرح اظہار کیا ہے کہ" ان الله یحب الذین یقاتلون فی سبیله صفا کانهم بنیان مرصوص"
جنرل احمد وحیدی نے اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ آپ نے خونخوار ترین دشمنان بشریت کے مقابلے میں اپنے مہینے کے بے نظیر جہاد کے دوران جس شکوہ و عظمت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے دنیا والوں کو آنکھیں خیرہ کردیں اور مستضفعین ( کمزور رکھی گئی اقوام) کے دلوں میں تسلط پسندوں پرغلبے کی امید زندہ کردی۔
آبنائے ہرمز صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلے گی، نائب وزیر خارجہ
ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر لکھا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی شکست کے بعد وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر نہ تو ٹویٹ کے ذریعے قبضہ کیا جا سکتا ہے، نہ طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے، نہ کسی حکم کے اجرا سے اور نہ ہی انتخابی تقریر کے ذریعے۔ ایران دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی طاقت کے مظاہرے سے مرعوب ہوگا۔
غریب آبادی نے واضح کیا کہ ایک بار ہمیشہ کے لیے حقیقت کو تسلیم کرلیں کہ اب تک آپ کو بھاری اور اسٹریٹجک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کی تھی، ہے اور ایران کی ہی رہے گی۔ یہ آبنائے صرف ایران کے حکم کے تحت بند اور کھولی جائے گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جب تک مخالف فریق شکست کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اور خیالی تصورات سے دستبردار نہیں ہوتا، ایران اپنی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔
رہبر اور ولی فقیہ کا حکم حرف آخر ہے، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امام خمینی، شہید امام خامنہ ای اور رہبر معظم آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
ملک کے ثقافتی شعبے سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ میں پورے وجود کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ میرے لیے شہید امام اور رہبر معظم انقلاب کے درمیان کوئی فرق نہیں، ولی فقیہ اور رہبر کا حکم ہی آخری اور فیصلہ کن حکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید امام خامنہ ای نے ہمیں شہادت، شجاعت، مزاحمت، عقلانیت اور استکبار ستیزی جیسے مفاہیم سے آشنا کیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ہمیں اپنے شہید امام کو یاد کرنا چاہیے، وہ شخصیت جنہوں نے اپنی گفتگو، کردار اور عمل کے ذریعے ہم سب کو سکھایا، تربیت دی اور قدم بہ قدم ہماری رہنمائی کی۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ان تمام چیزوں کے ساتھ شہید امام نے ہمیں سوچنا بھی سکھایا، محبت اور درگزر کا درس دیا اور زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا۔ انہوں نے ہمیں تنظیمی کام، خود اعتمادی اور حقیقی جمہوری طریقہ بھی سکھایا۔
قالیباف نے تاکید کی کہ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں اور یہی میرا عقیدہ ہے کہ امام خمینی، شہید امام خامنہ ای اور موجودہ رہبر معظم انقلاب اسلامی میرے لیے ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ ولی فقیہ کا حکم حرف آخر ہے اور رہبر معظم کا حکم ہی آخری حکم ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
