سلیمانی

سلیمانی

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانچیسکا آلبانیز نے کہا کہ صیہونی حکومت کو دو عالمی فوجداری عدالتوں میں مجرم ٹہرایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطین کے غصب کا سلسلہ اسرائیل کی جانب سے جاری ہے اور یہ مجرم حکومت بین الاقوامی قوانین، عالمی فوجداری عدالتوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے، تب تک اقوام متحدہ کے رکن کسی بھی ملک کو اسرائیل کی حمایت یا مدد نہیں کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹر نے اس موقع پر یورپی ملکوں کی مذمت کی جو ایسے حالات میں صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بجائے، تل ابیب کو مالی، اسلحہ جاتی اور غذائی امداد فراہم کر رہے ہیں اور اسرائیل سے جاسوسی آلات کی خریداری میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک اسرائیل کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کو کچل رہے ہیں جو یورپی معاشروں کو اسرائیلی زدہ کرنے کے مترادف ہے۔

تہران (IRNA) موساد کے ایک سابق سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ جوہری مسئلے پر ایران کے خلاف امریکی صیہونی حکومت کی جنگ ناکام ہوگئي ہے۔

موساد کے سابق سینئر اہلکار رامی ایگرا کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوگي کہ افزودہ یورینیئم ایران سے نکالا نہیں جاسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں اسرائیل کے چینل 11  کے سیاسی تجزیہ کار یارا شاپیرا نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کرکے غیر حقیقی توقعات پیدا کرنے کوشش کی تھی لیکن اب رائے عامہ ان کی جانب سے  بار بار کیے جانے والے فتح کے دعوؤں کو بھی قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی طاقت برقرار رکھنے کے معاملے پر کوئی معاہدہ ہوگيا تو پھر رسہی کسر بھی پوری ہوجائے گي اور کوئی بھی نیتن یاھو کی باتوں پر یقین نہیں کرے گا۔

روزنامہ ڈیفنس نیوز کی وب سائٹ نے ایران کے سلسلے میں امریکی صدر کے رویہ کو "حماقت آمیز غنڈہ گردی" قرار دیا ہے۔

 اس وب سائٹ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے: "میڈ مین" کا نظریہ نہ تو تحفظ  کا باعث بنا ہے اور نہ ہی استحکام کا سبب بنا ہے بلکہ اس سے صرف واشنگٹن کی پالیسیوں میں نا پختگی کی ثابت ہوئی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ "میڈ مین" کی یہ پالیسی اکثر اونچی آواز میں دھمکیوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کوئی واضح یا قابل اعتماد حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔

اس امریکی جریدے نے لکھا ہے: ٹرمپ نے گو کہ نئے انداز میں اس حربے کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اگر ہم اس حربے کی تاریخ پر غور کریں تو اگر اسے پوری طرح سے نا کامیاب قرار نہ بھی دیں تب بھی یہ یقینی ہے کہ یہ حربہ ناقص ثابت ہوا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز سے اب تک، ایران کو مختلف طرح کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے غزہ کی جانب جانے والے بین الاقوامی انسانی امدادی قافلے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی ضمیر پر حملہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ صمود فلوٹیلا ایک خالصتاً انسانی اور بین الاقوامی اقدام ہے، جس میں دنیا کے درجنوں ممالک کے افراد فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ کا غیر قانونی محاصرہ توڑنے کے مقصد سے شریک تھے، تاکہ وہاں کے شہریوں تک ضروری امداد پہنچائی جاسکے۔

بقائی نے کہا کہ صمود قافلے پر حملہ صرف ایک امدادی مشن پر حملہ نہیں، بلکہ یہ بیدار عالمی ضمیر اور مشترکہ انسانی اقدار پر کاری ضرب ہے۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گرفتار شدہ افراد کو کتزیعوت جیل منتقل کیا گیا ہے، جسے سخت اور غیر انسانی حالات کے باعث بدنام سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ صہیونی حکومت کے نام نہاد داخلی سلامتی کے وزیر کا توہین آمیز اور غیر انسانی رویہ اسرائیلی حکومت کی اخلاقی پستی کا واضح ثبوت ہے۔

بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کی بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف مضبوط مؤقف اپنائیں، قابض قوتوں کو جوابدہ بنائیں اور غزہ کے عوام کے لیے جاری انسانی امدادی مہم کی غیر مشروط حمایت کریں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی تحویل میں موجود صمود فلوٹیلا کے تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط رہا کیا جائے۔

شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے امت اسلامی کی وحدت کے موضوع پر اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے اسلامی اخوت ایک عظیم سماجی اور ثقافتی سرمایہ ہے جس کے تحقق سے معاشرہ ترقی، سلامتی، معنویت اور عزت کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

اس اصول کی پابندی الہی رحمت، معاشرے کی ذہنی صحت اور مسلمانوں میں ذمہ داری کے احساس کو تقویت دینے کی ضامن ہوگی اور امت اسلامی کی ترقی و سربلندی کا سبب بنے گی۔

اسلام کا بقا اور اسلامی معاشرے کا استحکام مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے حصول پر منحصر ہے۔

یہ الہی اصول جو قرآن و سنت میں بنیاد رکھتا ہے، نہ صرف جذباتی اور سماجی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ہمدردی اور مہربانی پیدا کرکے معاشرے کو بیرونی خطرات کے خلاف مقاوم بناتا ہے اور دشمنوں کی امید کو مایوسی میں بدل دیتا ہے۔

وحدت اور سماجی ہماہنگی انسانی زندگی کی بدیہی اور ضروری ترین ضروریات میں سے ہے کیونکہ منتشر اور بکھرا ہوا اجتماع طاقت اور اثرپذیری سے عاری ہوتا ہے لیکن چھوٹی قوتوں کے ملاپ سے ایک بڑی اور تبدیلی لانے والی طاقت تشکیل پاتی ہے۔

تاہم تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہری عوامل جیسے نسل، زبان، مشترکہ تاریخ یا سرزمین، اگرچہ ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن چونکہ مادی اور غیر ارادی امور پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے پائیدار وحدت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

اس قسم کے اتحاد عموماً عارضی ہوتے ہیں اور مشترکہ اہداف کے حصول کے بعد اختلافات پھر سر اٹھاتے ہیں۔

اسلام ان نظریات کے مقابلے میں ایک گہرا اور زیادہ پائیدار حل پیش کرتا ہے اور وہ ہے "ایمان اور عقیدے کے محور پر وحدت"۔

اس نقطہ نظر کی بنا پر، مسلمان خدا پر ایمان کی روشنی میں ایک واحد پیکر کے اعضا کی طرح ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور اسلامی اخوت کے اصول کو تحقق بخشتے ہیں۔

قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" اور مومنین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ اس برادرانہ تعلق کو برقرار رکھیں اور اس کی اصلاح و مضبوطی کی راہ میں کوشش کریں۔

یہ تعبیر انسانی رشتوں کی گہری ترین قسم کو ظاہر کرتی ہے جو ایمان اور ہدف میں اشتراک کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔

تاہم، اسلام کے دشمن ہمیشہ اس مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش میں رہے ہیں اور فکری، سیاسی اور قومی اختلافات پیدا کر کے مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بعض اسلامی معاشروں میں تنازعات کا تسلسل ان سازشوں کی نسبتی کامیابی اور اسلامی اخوت کے اصول سے غفلت کی علامت ہے۔
https://taghribnews.com/vdcd9z05nyt0xz6.432y.html
 
ڈونلڈ ٹرمپ اندرونی تنازعات اور بحری محاصرے کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے ہم، فوجی اور سیاسی حکام رھبر انقلاب کے حکم پر مکمل اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی عوام دشمن کے مکروہ عزائم کو شکست دیں گے۔ ایک آڈیو فائل میں پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے اہم ترین مسائل خصوصاً ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے دشمن کے نئے  منصوبے کے بارے میں بتایا ہے۔ اس گفتگو کے اہم حصے حسب ذیل ہیں: پہلے دن سے دشمن نے رہبر انقلاب اور فوجی کمانڈروں کو قتل کرکے نظام کو تین دن کے اندر ختم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

 پھر وہ ملک کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کی طرف بڑھے، لیکن جوں جوں وقت گزرا، انہوں نے دیکھا کہ ہمارے میزائلوں اور ڈرونز کی آوازیں بڑھتی ہی رہیں۔ پھر وہ ایران کو وینزویلا بنانے کی طرف بڑھے اور دوبارہ ناکام رہے۔ پھر وہ ملک کے مغربی علاقے سے علیحدگی پسندوں کو متحرک کرنے کی طرف بڑھے، جنہیں خدا کے فضل اور فوج و انٹیلی جنس فورسز کی کوششوں سے ناکام بنا دیا گیا۔ کئی مہینوں کی منصوبہ بندی اور جنگ کے دوران ملکی سلامتی کے اڈوں پر حملے کے بعد انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنایا لیکن ایرانی عوام نے متحد ہو کر انہیں شکست دی۔

دشمن نے ملک میں فوجیں لانے کی کوشش کی اور اصفہان میں اس منصوبے کا تجربہ کیا لیکن یہ اقدام طبس دوم میں بدل گیا۔ ایران کے خلاف بنائے گئے منصوبوں  میں سے کوئی ایک منصوبہ بھی کسی ملک کو تباہ کر سکتا تھا، لیکن ایرانی قوم نے خدا کے فضل و کرم سے دشمن کے ان منصوبوں میں سے ہر ایک کو ناکام بنا دیا ہے۔ دشمن کی اس شکست کی ایک وجہ ایران کا  سماجی و سیاسی ڈھانچہ تھا جس کے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہ ہوتی اور وہ عوام کی سڑکوں پر منظم، مربوط اور فعال موجودگی تھی۔ تاہم دشمن اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور بحری ناکہ بندی اور میڈیا کے پروپگینڈوں کے ذریعے معاشی دباؤ اور اندرونی تقسیم کو متحرک کرنا چاہتا ہے تاکہ ہمیں اندر سے کمزور یا گرا  سکے۔

ٹرمپ کھلے عام ملک ایران کو دو گروہوں انتہا پسند اور اعتدال پسند میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر فوری طور پر بحری ناکہ بندی کی بات کرتے ہیں تاکہ اقتصادی دباؤ اور اندرونی تقسیم کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔ دشمن کی نئی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا حل صرف ایک چیز ہے اور وہ عوام کی ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔ جنگ کے پہلے دن سے لے کر آج تک اتحاد برقرار رکھنا دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں مؤثر رہا ہے اور آج دشمن کے نئے ڈیزائن کے پیش نظر یہ اور بھی اہم ہے لہذا کوئی بھی تفرقہ انگیز اقدامات دشمن کے نئے ڈیزائن کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو میدان کے وسط میں ہے، میں ایرانی عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم حکام مسئولین رہبر  انقلاب کے حکم کے ماتحت ہیں، اور وہ ہمارے ولی اور امام زمانہؑ کے نائب ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں سلامتی عطا فرمائے، اور ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی اس کے حکم پر عمل کرنے میں ہے۔ آپ یقین کریں کہ ہم عسکری اور سیاسی حکام کے درمیان مکمل اتحاد کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ہمارے اتحاد کا محور ولی امر مسلمین کا حکم ہے۔ میں ایران کے لوگوں کے بارے میں جو علم رکھتا ہوں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے فضل سے ایرانی عوام دشمن کے اس مکروہ منصوبے کو ناکام بنا دیں گے، اور ہم اس جنگ میں شاندار فتح حاصل کریں گے، اور ہم اس خدائی وعدے میں شامل ہوں گے کہ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔

https://farsnews.ir/Ghalibaf/1777487071797069593/%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8% AA%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%DB%B6-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86
 
 
 

اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی ہدایت و ثقافت کے وزیر سید عباس صالحی نے جو خلیج فارس کے قومی اور آرٹس فیسٹیول میں شرکت کے لئے صوبہ ہرمزگان کے دورے پر ہیں، شہر میناب کا دورہ کیا۔ انھوں نے شجریہ طیبہ پرائمری اسکول پر امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہونے والوں میں سے بعض کے لواحقین سے ملاقات، زخمیوں کی عیادت، مذکورہ اسکول کا معائنہ اور گلزار شہدائے میناب میں حاضری دی جہاں امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہونے والی اسکولی بچیاں سپرد خاک کی گئی ہیں۔

 
1 مئی، 2026، 11:54 AM
 
 
 

ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے نے ٹیلیفونی گفتگو میں تازہ ترین میدانی اور سیاسی تغیرات پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکا کے سمندری محاصرے کو ہر قسم کی اعتمادی سازی اور سفارتی پیشرفت میں  رکاوٹ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف گفتگو  اور مذاکرات کے لئے پیغامات مل رہے ہیں لیکن دوسری طرف سمندری محاصرے اور دباؤ میں شدت عملا اعتماد سازی  کے لئے ضروری فضا کو خراب کررہی ہے۔
 صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظریہ ہے کہ مذاکرات کے لئے حالات اسی وقت  سازگار ہوسکتے ہیں جب فریق مقابل دباؤاور دھمکی کا راستہ ترک کرکے باہمی احترام اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار کرے۔  

انھو نے کہا کہ ایران مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور اصول وضوابط کے مطابق اپنے عوام کے حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس سے بالا تر ہوکر کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا ہے۔  

صدر ایران نے اسی طرح امریکا کی فوجی نقل و حرکت اور علاقے میں  نئے فوجی دستے  روانہ کرنے کے اقدام کو اس کے سیاسی راہ حل  اختیار کرنے  کے دعوؤں کے برخلاف قرار دیا  اور کہا کہ    یہ اقدامات حالات کی پیچیدگی بڑھانے اور مذاکرات کے ماحول کو خراب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتے۔

صدر ایران نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکا کو مسائل کے حل کے لئے پہلے سبھی رکاوٹیں ہٹانا اور محاصرہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے میں ہرگز مذاکرات نہیں کرے گا۔

 پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں صدر ایران سے، رہبر انقلاب اسلامی اور ایرانی عوام کو اپنا پرخلوص سلام پہنچانے کی درخواست کی اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کی قدردانی کی ۔

انھوں بتایا کہ اس دورے میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ، تہران کا واضح پیغام ملا اور مسائل کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔
 

 رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر ملک کی ترقی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے؛ علم اور عمل۔

انہوں نے کہا کہ علم کی بنیاد رکھنے میں معلم کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہ صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ نئی نسل کی تربیت، سوچ کی تشکیل اور شناخت کی تعمیر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے طلباء مستقبل میں اپنے اساتذہ کے اخلاق، انداز گفتگو اور رویّے کو عملی زندگی میں ظاہر کریں گے۔

انہوں نے مزدور اور محنت کش طبقے کے بارے میں کہا کہ ملک میں کام کا میدان بہت وسیع ہے جو گھروں، دفاتر، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپس، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر یہ میدان محنت اور ذمہ داری کے جذبے سے بھر جائے تو قومی ترقی یقینی طور پر مضبوط ہوگی۔

پیغام میں مزید کہا گیا کہ بعض اوقات ایک مزدور اپنی محنت اور دیانت کے ذریعے اتنا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ہاتھ کو بھی استاد کی طرح احترام کے ساتھ چومنے کے قابل سمجھا جانا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو سب سے پہلے والدین اور پھر استاد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے 47 سال کی جدوجہد کے بعد دشمنوں کے مقابلے میں اپنی عسکری طاقت دنیا پر ثابت کر دی ہے، اب ضروری ہے کہ ایران اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست سے دوچار کرے۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ثقافتی جنگ میں سب سے مؤثر کردار معلم کا ہے اور اقتصادی جنگ میں مزدور طبقہ سب سے اہم عناصر میں شامل ہے، اسی لیے یہ دونوں ملک کی ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ اور مزدوروں کو اپنے مقام کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

رہبرِ انقلاب نے سالانہ رسمی تقریبات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف زبانی تعریف کافی نہیں، بلکہ ان طبقات کی عملی مدد ضروری ہے۔ جس طرح عوام اپنے دفاعی اداروں کی حمایت کے لیے میدان میں نکلتے ہیں، اسی طرح انہیں چاہیے کہ معلموں اور مزدوروں کے ساتھ بھی مضبوط تعاون کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے اپیل کی کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے انتظام میں والدین اور خاندانوں کا کردار بڑھایا جائے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر مزدور طبقے کی حمایت کی جائے۔ رہبر انقلاب نے کاروباری افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ مشکل حالات میں ملازمین کو نکالنے سے حتی المقدور پرہیز کریں اور ہر مزدور کو ادارے کا اثاثہ سمجھیں۔ حکومت کو بھی ایسے خیر خواہانہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔

رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اسلامی و ایرانی شناخت کو مضبوط کرکے، نئی نسل کی تربیت اور ملکی پیداوار کی حمایت کے ذریعے ترقی اور بلندی کی منزلوں کی طرف مزید تیزی سے بڑھے گا۔

 ایسٹ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین امیرحسینی نے اپنی ایک یاد داشت میں لکھا ہے خلیج فارس کا نام پانی پر نہیں لکھا ہے  بلکہ تاریخ کے حافظ میں ن‍قش ہوچکا ہے اوراس کا دفاع سیاسی تحریف کے مقابلے میں حقیقت کا دفاع ہے۔  

انھوں نے ارنا کے لئے لکھے گئے اپنے اس مقالے میں لکھا ہے کہ  آج لڑائیاں صرف فوجی میدان میں ہی شروع نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ایک اصطلاح اور ایک نام حتی نقشے سے کسی صفت کو حذف کردینا بھی بہت گہرا تنازعہ شروع ہوجانے کا باعث ہوسکتا ہے۔

  پروفیسرمحمد حسین امیرحسینی لکھتے ہیں کہ خلیج فارس وہ جگہ ہے کہ جہاں، تاریخ، سیاست اور تشخص، سب ایک نام میں  ضم ہوجاتے ہیں اور خلیج فارس ایک جغرافیائی نام ہے جو ایک  تمدن کا تاریخی حافظہ ہے۔

  وہ لکھتے ہیں کہ خلیج فارس کا مسئلہ ایک جغرافیائی نام پر صرف لفظی اختلاف کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس نام میں، تہہ در تہہ ، تاریخ ایران، تجارتی گروہ، جہازرانی، علاقائی سلامتی، نقشوں  کی زبان، سفرناموں کی ادبیات، سفارتی دستاویزات اور نام رکھنے کا بین الاقوامی نظام، سب کچھ موجود ہے۔ بنابریں، اس وسیع سمندری علاقے کے نام سے لفظ " فارس" کو حذف کرنے کی کوشش، درحقیقت، اہم ترین جیوپولیٹیکل خطے اور قدیمی ترین تہذیب سے ایران کا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش ہے۔  

وہ لکھتے ہیں کہ یورپی نقشوں میں بھی یہی نام موجود ہے۔  معتبر برطانوی آرکائیوز، منجملہ بریٹش لائبریری میں متعدد نقشے اور سمندری چارٹ موجود ہیں جن میں اس خطے کے مقامی اور عربی  نام کے ساتھ ہی، انگریزی میں  Persian Gulf  یعنی خلیج فارس لکھا ہوا ہے۔ ان میں، انیسویں اور بیسویں صدی کے  اوائل سے متعلق نقشے اورسمندری چارٹ بھی شامل ہیں۔  اس سے  پتہ چلتا ہے کہ  جس زمانے میں یورپی نقشہ نویس، جنوبی ساحلوں کے نام لکھ رہے تھے، انھوں نے  اس پورے سمندری علاقے کا نام خلیج فارس لکھا ہے۔  

  پروفیسرمحمد حسین امیر حسینی نے لکھا ہے کہ " خلیج کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال اورمستقبل سے ہے۔ جب ہم اس کام صحیح نام لیتے ہیں تو صرف ایک صحیح اصطلاح  کا دفاع نہیں کرتے بلکہ تاریخ رابطے اور حقیقت کا بھی دفاع کرتے ہیں۔

 وہ لکھتے ہیں کہ  خلیج فارس پانی پر لکھا ہوا نام نہیں ہے جس کو  لہریں مٹادیں، یہ نام تاریخ کے حافظ میں محفوظ ہے۔