سلیمانی
جذب رحمت الهی میں استغفار کا اثر
استغفار کے آثار میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ حضرت صالحؑ اپنی قوم کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے تھے، لیکن وہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اسے ہم پر لے آؤ۔ اس پر آپؑ نے فرمایا: «قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ» (النمل: 46) یعنی تم بھلائی سے پہلے برائی (عذاب) کی جلدی کیوں کرتے ہو؟ تم اللہ سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟
قرآنِ کریم کی آیات میں اعمال کے اثرات کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آیات کے صدر (آغاز) اور ذیل (اختتام) پر غور کیا جائے۔ بہت سی آیات میں جہاں آغاز میں استغفار کا ذکر ہے، وہاں اختتام میں مغفرت کے ساتھ ساتھ رحمتِ الٰہی کا بھی بیان آیا ہے: "وَ اسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرہ: 199) اور ایک دوسری آیت میں فرمایا: "وَ اسْتَغْفِرِ اللّهَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا" (النساء: 106)
اب سوال یہ ہے کہ استغفار اور رحمتِ الٰہی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ انسان اور اللہ کی رحمت کے درمیان ایک پردہ بن جاتے ہیں۔ جب یہ پردہ اور رکاوٹ ہٹ جاتی ہے تو رحمتِ الٰہی نازل ہوتی ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ اگر بندے تک اللہ کی رحمت اور رزق کے نزول کے راستے کو ایک دالان فرض کیا جائے تو گناہ اور نافرمانی اس راستے کو بند کر دیتی ہے۔ لہٰذا استغفار صرف گناہوں کی معافی نہیں، بلکہ اگر خیر اور رحمت کے پہنچنے میں کوئی رکاوٹ موجود ہو تو وہ بھی دور کر دیتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے دعائے کمیل میں اشارہ فرمایا: "اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَيِّرُ النِّعَمَ" اے اللہ! وہ گناہ معاف فرما دے جو نعمتوں کو بدل دیتے ہیں۔
بعض آیات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ استغفار کے بعد انسان اللہ کی خاص رحمت (رحمتِ رحیمیہ) کو پاتا ہے: "وَ مَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا" (النساء: 110) یعنی جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔
ایک اور آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بندے کا اپنا استغفار اور رسولِ اکرم ﷺ کا اس کے حق میں استغفار کرنا، اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا سبب بنتا ہے: "فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا" (النساء: 64) یعنی اگر وہ اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔/
امام محمد تقی علیہ السلام کی سیاسی سیرت
امام محمد تقی علیہ السلام کا نام "محمد" اور کنیت "ابو جعفر" اور لقب "جواد" تھا۔ وہ 195 ہجری قمری میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد امام علی رضا علیہ السلام اور والدہ گرامی "سبیکہ" خاتون تھیں جو حضرت ماریہ قبطیہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ مکرمہ کی نسل سے تھیں۔
شیعیان خاص طور پر علویان جنکی سربراہی ائمہ معصومین علیھم السلام کے ہاتھوں میں تھی بنی امیہ کے دور حکومت اور منصور عباسی اور مہدی عباسی کی حکومت میں شدید ترین حالات سے روبرو تھے۔ شیعہ تحریکیں مسلسل اور یکے بعد دیگرے اٹھتی تھیں اور حکومت کی جانب سے کچل دی جاتی تھیں۔ شیعہ ہونا بہت بڑا جرم بن چکا تھا جسکی پاداش میں قید کر دینا، قتل کر دینا، تمام اموال کا ضبط کر لینا اور انکے گھروں کو مسمار کر دینا حکومت کا قانونی حق بن چکا تھا۔ ائمہ معصومین علیھم السلام بھی تقیہ کی حالت میں تھے اور شیعیان کے ساتھ انکے روابط مخفیانہ طور پر انجام پاتے تھے۔
لیکن امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد جب ائمہ معصومین علیھم السلام کی زیر نگرانی سیاسی فعالیت کے نتیجے میں شیعیان ایک حد تک طاقتور ہو چکے تھے، وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ اظہار وجود کر سکیں اور انکی تعداد بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی۔ لہذا شیعیان کئی سال تک ائمہ معصومین علیھم السلام سے کھل کر اظہار عقیدت کرنے کی طاقت سے محروم ہونے کے بعد اب ایسے مرحلے تک پہنچ چکے تھے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کی اجتمای منزلت اس حد تک بلند ہو چکی تھی کہ خلفای بنی عباس اعلانیہ طور پر ان سے اپنی دشمنی کا اظہار کرنے سے کتراتے تھے۔ دوسری طرف بنی عباس ائمہ معصومین علیھم السلام کو اپنے حال پر بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے تاکہ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مرضی سے جو چاہیں انجام دی سکیں۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کو اپنے قریب رکھیں تاکہ انکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکیں۔
چنانچہ مامون عباسی نے امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے طوس آنے پر مجبور کر دیا۔ یہی چیز علویان کے اجتماعی اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنی۔ امام علی رضا علیہ السلام خراسان میں مستقر ہوئے اور آپ اور اپکے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام کے وکلاء کا نیٹ ورک اسلامی سرزمین کے کونے کونے تک پھیل گیا۔ شیعیان اس قابل ہو گئے کہ ہر سال حج کے موقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں امام جواد علیہ السلام سے براہ راست ملاقات کر سکیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کے ماننے والے بغداد، مدائن، عراق اور مصر تک پھیل گئے اور خراسان اور ری دو بڑے شیعہ مراکز کے طور پر ظاہر ہوئے۔ شیعیان امام جواد علیہ السلام کے وکلاء کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے علاوہ حج کے موقع پر خود امام علیہ السلام سے بھی ملاقات کرتے رہتے تھے اور ان سے براہ راست رابطہ قائم رکھتے تھے۔ قم شیعوں کے بڑے اور اصلی مراکز میں سے ایک تھا۔ قم کے شیعوں نے بھی امام محمد تقی علیہ السلام کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار کر رکھا تھا۔ دوسری طرف قم کے لوگ مامون عباسی کی حکومت کی مخالفت کا بھی اظہار کرتے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مامون عباسی نے علی ابن ھشام کی سربراہی میں قم پر فوجی حملے کا حکم دے دیا لیکن اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح فارس، اہواز، سیستان اور خراسان میں مختلف شیعہ گروہ وجود میں آئے جو امام جواد علیہ السلام سے مکمل رابطے میں تھے۔
مامون عباسی جو بنی عباس کا سب سے زیادہ چالاک اور دوراندیش حکمران تھا خود کو علم اور آزادی بیان کا حامی ظاہر کرتا تھا جسکا مقصد اقتدار پر اپنے قبضے کو باقی رکھنا اور ایسے حقائق کو مسخ کرنا تھا جو بنی عباس کی سیاسی بقا کیلئے خطرہ تھے۔ مامون عباسی امام محمد تقی علیہ السلام کے دوران امامت میں حکمفرما تھا اور انکی زندگی کا بڑا حصہ مامون کے دوران حکومت میں گزرا۔ مامون عباسی نے شیعہ تفکر پر مکمل غلبہ پانے کیلئے امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کے دوران امامت میں بہت سے اقدامات انجام دیئے۔ اس نے کوشش کی کہ گذشتہ حکمرانوں کے رویے کے برعکس ائمہ معصومین علیھم السلام کے ساتھ نئے انداز سے پیش آئے اور انہیں اپنے زمانے کے نامور دانشور اور علماء حضرات کے ساتھ علمی مناظروں کی دعوت دیتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام جنکی عمر بھی کم تھی کو کسی طرح علمی میدان میں شکست سے دوچار کر سکے۔ مامون عباسی ائمہ معصومین علیھم السلام کی علمی شخصیت کو خدشہ دار کر کے تشیع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کی سازشوں میں مصروف تھا۔
امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی بنی عباس کی شیعہ مخالف سازشیں جاری رہیں۔ مامون عباسی کا طریقہ یہ تھا کہ اس نے ہر شخص پر ایک جاسوس مقرر کر رکھا تھا اور یہ کام وہ اپنی کنیزوں سے لیا کرتا تھا۔ وہ جسکی جاسوسی کرنا چاہتا تھا اسے اپنی ایک کنیز تحفے کے طور پر پیش کرتا تھا، یہی کنیز اسکے بارے میں تمام معلومات مامون عباسی تک پہنچاتی رہتی تھی۔ لہذا امام محمد تقی علیہ السلام کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے مامون عباسی نے انکی شادی اپنی بیٹی ام الفضل سے کروا دی جیسا کہ امام علی رضا علیہ السلام کے دور میں بھی انکی شادی اپنی دوسری بیٹی ام حبیبہ سے کروا چکا تھا۔
امام محمد تقی علیہ السلام کا وجود بابرکت جو چھوٹی عمر ہونے کے باوجود امامت کے منصب پر فائز تھے اور قیادت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے نظام حاکم کیلئے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ مامون عباسی اہل تشیع کی جانب سے بغاوت سے سخت خوفزدہ تھا لہذا انہیں اپنے ساتھ ملانے کیلئے مکاری اور فریبکاری سے کام لیتا تھا۔ اس مقصد کیلئے اس نے امام علی رضا علیہ السلام کو عمر میں خود سے کہیں زیادہ بڑا ہونے کے باوجود اپنا ولیعہد بنایا اور انکے نام کا سکہ جاری کیا اور اپنی بیٹی سے انکی شادی کروائی۔ مامون نے امام محمد تقی علیہ السلام سے بھی یہ رویہ اختیار کیا اور 211 ھجری میں انہیں مدینہ سے بغداد بلوا لیا تکہ انکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکے۔
مامون عباسی چاہتا تھا کہ دھمکیوں اور لالچ جیسے سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے امام جواد علیہ السلام کو اپنا حامی بنائے۔ اسکے علاوہ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اہل تشیع کو خود سے بدبین نہ ہونے دے اور امام علی رضا علیہ السلام کو شہید کرنے کا الزم بھی اپنے دامن سے دھو سکے۔
امام محمد تقی علیہ السلام اسکی توقعات کے برعکس اپنی تمام سرگرمیاں انتہائی ہوشیاری اور دقیق انداز میں انجام دیتے تھے۔ وہ حج کے بہانے بغداد سے خارج ہو کر مکہ آ جاتے تھے اور واپسی پر کچھ عرصہ کیلئے مدینہ میں رہ جاتے تھے تاکہ مامون کی نظروں سے دور اپنی ذمہ داریاں انجام دی سکیں۔
مامون عباسی کے بعد اسکا بھائی معتصم برسراقتدار آیا۔ اس نے مدینہ کے والی عبدالملک ابن زیاد کو لکھا کہ امام محمد تقی ع اور انکی اہلیہ ام الفضل کو بغداد بھجوا دے۔ معتصم عباسی کے اقدامات کے باوجود امام محمد تقی علیہ السلام کی محبوبیت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ حکومت کیلئے جو چیز سب سے زیادہ ناگوار تھی وہ یہ کہ امام جواد علیہ السلام چھوٹی عمر کے باوجود سب کی توجہ کے مرکز بنتے جا رہے تھے اور دوست اور دشمن انکے علم اور فضیلت کے قائل ہو رہے تھے۔ جب امام جواد علیہ السلام بغداد کی گلیوں میں جاتے تھے تو سب لوگ آپکی زیارت کیلئے چھتوں اور اونچی جگہوں پر جمع ہو جاتے۔
اسی طرح بنی عباس کے حکمرانوں کی سازشوں کے باوجود امام محمد تقی علیہ السلام کے اثر و رسوخ میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔ معتصم انتہائی پریشان تھا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ امام جواد علیہ السلام انتہائی عقلمندی سے اسکے تمام منصوبوں پر پانی پھیر رہے ہیں۔ سیستان کا رہنے والا بنی حنیفہ قبیلے کا ایک شخص کہتا ہے: ایک بار امام جواد علیہ السلام کے ساتھ حج پر گیا ہوا تھا۔ ایک دن دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے، معتصم کے دربار کے کچھ افراد بھی موجود تھے۔ میں نے امام جواد علیہ السلام سے کہا کہ ہمارا حکمران اہلبیت ع سے محبت رکھنے والا شخص ہے، اس نے مجھ پر کچھ ٹیکس لگائے ہیں، آپ مجھے اسکے نام ایک خط لکھ دیں تاکہ میرے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرے۔ امام جواد علیہ السلام نے لکھا: بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ اس خط کا حامل شخص تمہارے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہے۔ تمہارے لئے فائدہ مند کام یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نیکی سے پیش آو۔
وہ شخص کہتا ہے کہ جب میں سیستان آیا اور حکمران کو خط دیا تو اس نے وہ خط اپنی آنکھوں سے لگایا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟۔ میں نے کہا کہ تمہارے افراد نے مجھ پر بہت بھاری ٹیکس لگایا ہے، آپ دستور دیں کہ یہ ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ اس نے کہا کہ جب تک میں حکمران ہوں تم ٹیکس ادا نہ کرو۔
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امام جواد علیہ السلام کا اثر و رسوخ کس حد تک تھا۔ امام محمد تقی علیہ السلام نے امامت کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور اہلبیت ع کی موقعیت کو حفظ کیا۔ اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء اور دانشور حضرات جیسے یحیی بن اکثم جو ایک بڑی فقیہ تھا، کے ساتھ مناظروں کے ذریعے امام جواد علیہ السلام نے اہلبیت ع کا پیغام سب لوگوں تک پہنچایا۔ بنی عباس کے حکمران کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ امام جواد علیہ السلام کی عظیم شخصیت سے لوگ آشنائی پیدا کریں لہذا انکو شہید کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔
معتصم عباسی نے اپنے ایک وزیر کے ذریعے امام محمد تقی علیہ السلام کو زہر کھلا کر شہید کروا دیا۔ شہادت کے وقت امام جواد علیہ السلام کی عمر 25 سال اور کچھ ماہ تھی۔
شہید راہِ انسانیت قاسم سلیمانیؒ
اکیسویں صدی کا آغاز جس سب سے ہولناک حقیقت کے ساتھ ہوا، وہ دہشت گردی کا وہ عفریت تھا، جس نے ریاستوں کو کمزور، معاشروں کو خوف زدہ اور انسانیت کو یرغمال بنا لیا۔ مذہب کے نام پر قتل، نفرت کو نظریہ اور تشدد کو سیاست بنانے والی تنظیموں نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی امن کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا۔ ایسے ہی ایک پُرآشوب اور تاریک عہد میں کچھ شخصیات تاریخ میں محض کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ وہ انسانی ضمیر کی نمائندہ بن جاتی ہیں۔ شہید قاسم سلیمانیؒ انہی شخصیات میں شامل تھے، جن کی شہادت کو 2026ء میں چھ برس مکمل ہو رہے ہیں، مگر جن کا نام آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انسانی اقدار کی بقاء کے حوالے سے ایک مضبوط حوالہ ہے۔ حاج قاسم سلیمانیؒ کو محض ایک عسکری کمانڈر کے طور پر دیکھنا ان کی شخصیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ وہ اس نسل کے رہنماؤں میں سے تھے، جنہوں نے طاقت کو اخلاق کے تابع رکھنے کی کوشش کی۔
جب داعش اور دیگر انتہاء پسند تنظیموں نے عراق اور شام میں قتل عام، ثقافتی تباہی اور مذہبی نفرت کا بازار گرم کیا۔ عبادت گاہیں، بازار، تعلیمی ادارے اور تاریخی ورثہ ان کی درندگی کا نشانہ بنے، تو یہ صرف ایک علاقائی بحران نہیں رہا بلکہ انسانی تہذیب کے وجود پر حملہ بن گیا۔ ایسے میں قاسم سلیمانی کی قیادت میں سامنے آنے والی مزاحمت کا مقصد محض عسکری غلبہ نہیں بلکہ انسان کی جان، عزت اور شناخت کا تحفظ تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاج قاسم سلیمانیؒ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ اسے صرف بندوق کی جنگ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ اگر دہشت گردی کے نام پر شہری آبادی، عورتوں، بچوں اور کمزور طبقات کی جانیں بے وقعت ہو جائیں تو ایسی جنگ خود دہشت گردی کی ایک نئی شکل بن جاتی ہے۔ اسی لیے ان کی حکمتِ عملی میں مقامی سماج، مذہبی حساسیتوں اور انسانی جان کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ ان کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا مقصد شہروں کو بچانا، معاشروں کو ٹوٹنے سے روکنا اور ریاستی نظم کو دوبارہ کھڑا کرنا تھا۔
شہید قدس حاج قاسم سلیمانی ؒکی بصیرت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ دہشت گردی کو زندہ رکھنے والے عوامل سیاسی، معاشی اور نظریاتی ہوتے ہیں، اس لیے اس کا مقابلہ بھی ہمہ جہتی ہونا چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت وہ عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی سرگرم رہے۔ مختلف ممالک اور قوتوں کے درمیان رابطہ، باہمی اعتماد اور مشترکہ خطرات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ان کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ وہ خاموشی سے اتحاد بناتے اور انتشار کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فرقہ واریت کو دہشت گردی کی سب سے خطرناک خوراک سمجھتے ہوئے قاسم سلیمانی نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور باہمی احترام پر مسلسل زور دیا۔ ان کا عملی رویہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلکی تقسیم سے اوپر اٹھ کر مشترکہ انسانی اور اسلامی اقدار کو مقدم رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ مختلف مسالک اور قومیتوں میں ان کے لیے احترام پایا جاتا ہے اور انہیں ایک ایسے رہنماء کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو نفرت نہیں بلکہ وحدت کی بات کرتا تھا۔ فلسطین شہید قاسم سلیمانی ؒکی فکر کا ایک مستقل اور گہرا حوالہ تھا۔ ان کے نزدیک فلسطین محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی، جب تک طاقت کے نام پر کی جانے والی ریاستی جارحیت اور مظلوم اقوام کے حقوق کی پامالی پر بھی سوال نہ اٹھایا جائے۔ فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی وابستگی دراصل اسی انسانی اصول کی توسیع تھی۔
شہید قاسم سلیمانیؒ کی زندگی کا اخلاقی محور ولایتِ فقیہ سے ان کی غیر متزلزل وابستگی تھی۔ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ان کا تعلق محض عسکری نظم و ضبط کا نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی اور مقصد کی یکسانیت کا رشتہ تھا۔ وہ خود کو ہمیشہ نظام کا خادم اور ایک سپاہی سمجھتے رہے، نہ کہ طاقت کا مرکز۔ یہی سوچ انہیں ذاتی مفاد، شہرت اور اقتدار کی خواہش سے دور رکھتی تھی۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کے باوجود قاسم سلیمانیؒ کی ذاتی زندگی سادگی کی مثال تھی۔ نہ شاہانہ طرزِ زندگی، نہ نمود و نمائش۔ وہ عام سپاہیوں کے ساتھ بیٹھتے، شہداء کے خاندانوں سے براہِ راست ملتے اور خود کو جواب دہ سمجھتے تھے۔ یہ سادگی دراصل ان کی اخلاقی قوت کی علامت تھی۔
3 جنوری 2020ء کو بغداد میں کیا جانے والا امریکی ڈرون حملہ نہ صرف ایک شخص کی ہلاکت تھا بلکہ بین الاقوامی قوانین، ریاستی خود مختاری اور انسانی اقدار کے لیے ایک خطرناک مثال بھی۔ ایک خود مختار ملک کی سرزمین پر ایک اعلیٰ عہدیدار کا ماورائے عدالت قتل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ جب طاقت قانون سے بالاتر ہو جائے تو سب سے پہلے انسانیت پامال ہوتی ہے۔ اسی لیے اس اقدام کو دنیا کے مختلف حلقوں میں غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر جمہوری قرار دیا گیا۔ آج، چھ برس بعد، شہید قاسم سلیمانیؒ اس لیے زندہ ہیں کہ ان کی جدوجہد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو انسانی اقدار کے ساتھ جوڑتی ہے۔
وہ ہمیں یہ سوال یاد دلاتے ہیں کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، اخلاق اور انسانی وقار کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔ انہیں جسمانی طور پر خاموش کیا جا سکتا تھا، مگر اس فکر کو نہیں، جو انسانیت کے دفاع کو اپنا مقصد بنائے۔ ہم انسانیت کے اس عظیم علمبردار اور آپ کے رفقاء بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کو اُن کی چھٹی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عالم انسانیت کو بالعموم، ملت اسلامیہ، ایرانی عوام اور مقام معظم رہبری سید علی خامنہ ای کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ شہید سلیمانی ؒ اور آپ کے رفقاء بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کے درجات بلند تر فرمائے۔
قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے
تسنیم نیوز کیساتھ محمد مدثر ٹیپو کا انٹرویو:
تہران میں پاکستان کے سفیر نے بارہ روزہ مسلط کردہ جنگ سمیت مختلف چیلنجز کے مقابلے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک موجودہ صلاحیتوں سے زیادہ بہتر استفادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان گزشتہ برسوں میں بالخصوص حالیہ مہینوں کے دوران قریبی اور بتدریج مضبوط ہوتے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی حکام مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور یہ تعلقات آگے بڑھنے کے عمل میں ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی جارحیت کی پاکستان کی واضح مذمت اور ایران کی حمایت کے بعد، دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب پاکستان کو 2025ء میں بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے تناظر میں افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ ان تمام پیش رفتوں میں ایران نے ایک علاقائی ثالث کے طور پر مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیتوں اور پاکستان کے مشرقی و شمالی ہمسایوں کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے، تسنیم نیوز نے تہران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو سے گفتگو کی ہے۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے لئے اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
تسنیم: اس وقت ہم تہران میں پاکستان کے سفارت خانے میں موجود ہیں اور جمہوریہ اسلامی پاکستان کے سفیر جناب محمد مدثر ٹیپو کے ساتھ ایک انٹرویو کے لیے حاضر ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنا وقت دیا۔
محمد مدثر: میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں۔ آپ کی یہاں تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ایران اور پاکستان کی بندرگاہوں کے درمیان مسابقت نہیں، بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔
تسنیم: جنابِ سفیر، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم موجودہ صلاحیتوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ تاہم شمال-جنوب اور مشرق-مغرب راہداریوں کے تناظر میں تعاون بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گوادر بندرگاہ کو ایران کی بندرگاہوں سے جوڑا جا سکتا ہے؟ اور کیا گوادر اور چابہار کے درمیان مبینہ مسابقت کو باہمی تکمیل اور تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔؟
محمد مدثر: گفتگو کے آغاز میں، میں شبِ یلدا کے موقع پر پوری ایرانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ایران کے لیے ایک تہذیبی لمحہ ہے، جس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں اور جو ایمان، محبت اور مہربانی کی تجدید کی علامت ہے۔ کل پاکستان کے معزز صدر نے ایران کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ایرانی عوام کے نام اسی مناسبت سے پیغام بھیجا، جو ہمارے باہمی تعلقات کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ میں بھی اسی پیغام کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور جیسا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اتفاق کیا ہے، اسے 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، اگرچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، کیونکہ تجارت لاجسٹکس، سپلائی چین، ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں سے جڑی ہوتی ہے، لیکن سیاسی عزم اس حوالے سے بہت مضبوط ہے۔ راہداریوں کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ علاقائی روابط میں ایران کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ ہم ایران-اسلام آباد-ترکیہ ریلوے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے جا رہے ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر ترقی کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اسی طرح علاقائی رابطوں کے تناظر میں ہم اس وقت ایران کے ساتھ چابہار اور گوادر کے درمیان تعاون پر مشاورت کر رہے ہیں۔ میری نظر میں یہاں مسابقت کا نہیں بلکہ تعاون کا معاملہ ہے۔ دونوں ممالک کے اپنے اپنے فوائد اور صلاحیتیں ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری عوام، صنعتیں، حکومتیں اور ضابطہ جاتی ادارے مل کر کام کریں، تاکہ سمندری، ریلوے اور زمینی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
بیرونی دباؤ کے باوجود ایران-پاکستان معاشی تعاون میں پیشرفت:
تسنیم: ایران اور پاکستان کے معاشی تعاون میں بعض بیرونی طاقتوں کے دباؤ اور اثراندازی کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن اسکی واضح مثال ہے۔ اسکے علاوہ بارٹر ٹریڈ اور آزاد تجارتی معاہدے (FTA) سے متعلق پیشرفت کی خبریں بھی ہیں۔ اصل رکاوٹیں کیا ہیں اور کیا دونوں ممالک مشترکہ اقدامات کے ذریعے ان بیرونی دباؤ کو کم کرسکتے ہیں۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ، سلامتی اور معاشی پالیسیوں کے فیصلے مکمل خودمختاری کے ساتھ کرتا ہے۔ اعداد و شمار اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ تعاون رکا ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف پچھلے دو برسوں میں سیاسی اور سفارتی روابط غیر معمولی حد تک مضبوط اور ہمہ گیر رہے ہیں۔ دنیا ایک پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی جگہ ہے، جہاں ہر ملک کو اپنے اپنے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ایران اور پاکستان کے تعلقات واقعی منفرد ہیں۔ ہمارے پاس باقاعدہ فورمز ہیں، جن کے ذریعے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان-ایران تجارتی فورم منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں کمپنیوں نے شرکت کی، جو اپنی نوعیت کا پہلا بڑا فورم تھا۔ ایران-پاکستان آزاد تجارتی معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ آج آپ کی آمد سے پہلے میں ایک بڑے ایرانی تاجر سے ملا تھا۔ حالیہ مہینوں میں کاروباری دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں تک آزاد تجارتی معاہدے کا تعلق ہے، اس پر کافی حد تک اتفاق ہوچکا ہے اور اب صرف مناسب وقت کا انتظار ہے۔
تسنیم: یہ مناسب وقت کب آسکتا ہے؟ کیا قریب ہے یا دور۔؟
محمد مدثر: بہت قریب ہے۔ میں درست تاریخ تو نہیں بتا سکتا، لیکن ذاتی رائے میں تقریباً تین ماہ کے اندر یہ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے بارٹر ٹریڈ کے لیے بھی ضابطہ جاتی فریم ورک طے کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستانی تاجر ایران کے ساتھ اشیاء کے تبادلے کی بنیاد پر تجارت کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں پاکستان اور ایران دونوں طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور ہم ایرانی فریق کے ساتھ مل کر اس نظام کو عملی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔ چند ماہ قبل پاکستان کے وزیر مواصلات نے تہران کا دورہ کیا اور ایران کی وزیرِ راہ و شہری ترقی سے مفید ملاقات کی۔ ہم نے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ دس برسوں میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، جو میرے نزدیک ایک شاندار موقع ہے۔ اگرچہ اس خطے میں چیلنجز موجود رہیں گے، لیکن میں ہمیشہ مواقع پر توجہ دیتا ہوں۔ دونوں ممالک کی تجارتی برادریاں پہلے ہی قریبی روابط قائم کرچکی ہیں۔ چیمبرز آف کامرس، تجارتی فورمز اور کاروباری کونسلیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں، تاکہ رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
تسنیم: آپ نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحد کا ذکر کیا، جو تعاون کا ایک موقع بھی ہوسکتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ چیلنج بھی بن جاتی ہے، مثلاً سرحدی سلامتی اور مشترکہ سرحدی علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں۔ سفارتی مذمت کے علاوہ، ان مسائل سے نمٹنے کیلئے کون سے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جو دونوں قوموں کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں حکومتیں ان چیلنجز کی نوعیت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ خطہ ایسے حالات سے متاثر ہے، جو بیرونی عوامل کے زیر اثر رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ یہی عوامل علاقائی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں وسیع تر اسٹریٹجک چیلنجز کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون بہت اچھا رہا ہے، اعتماد کی ایک مضبوط فضا قائم ہوئی ہے اور ہمارے ادارے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ آپ خود ان کوششوں کے ٹھوس نتائج دیکھ چکے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ مزید بہتر ہم آہنگی پیدا ہوگی اور ان مسائل سے نمٹنے کے مؤثر طریقے سامنے آئیں گے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے چینلز بدستور موجود ہیں:
تسنیم: آئیے ایک اہم علاقائی مسئلے یعنی افغانستان پر بات کرتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں، توقعات کے برخلاف، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ اور جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد حالات مختلف ہوں گے۔ کیا افغانستان یا کابل کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ ان حالیہ کشیدگیوں کی بنیادی وجہ کیا ہے۔؟
محمد مدثر: سب سے پہلے میں ایک بنیادی اصول واضح کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ یہ علاقہ ایک شاندار تاریخ اور بے پناہ معاشی مواقع کا حامل ہے، اس لیے عوام کو قریب لانا انتہائی ضروری ہے۔ ہماری سب سے بڑی اور بنیادی تشویش ہمیشہ دہشت گردی رہی ہے اور اس کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت۔ گزشتہ سال پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے یہ تشویش بالکل جائز اور حقیقی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نائب وزیراعظم نے تین مرتبہ کابل کا دورہ کیا، وزیر داخلہ بھی وہاں گئے اور مختلف سطحوں پر وسیع مذاکرات کیے گئے، تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ رابطے کے تمام چینلز اب بھی کھلے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ افغانستان پاکستان کے جائز تحفظات کو سنجیدگی سے لے گا، تاکہ دونوں ممالک مل کر امن اور ترقی کے لیے کام کرسکیں۔
علاقائی امن کیلئے ایران کی کوششیں مخلصانہ اور قابلِ قدر ہیں:
تسنیم: ایران اور پاکستان دونوں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور انکی سلامتی بڑی حد تک افغانستان کے استحکام سے جڑی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے قیام میں ایران کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیز علاقائی امن کیلئے مختلف اقدامات، جیسے استنبول اجلاس اور خاص طور پر ہمسایہ ممالک کا فریم ورک، آپکے نزدیک کس حد تک مؤثر ہیں۔؟
محمد مدثر: جی ہاں، ہم واقعی ایران کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ایران مغربی ایشیا میں ایک نہایت اہم ملک ہے اور اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، جیسے پاکستان کی بھی ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے۔ تینوں ممالک کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ امن، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کا ہم نے خیرمقدم کیا۔ گزشتہ ہفتے افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور روس کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جو نہایت تعمیری تھا۔ ایران نے اس عمل میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ حتی بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران بھی ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا، اگرچہ بھارت نے رد کر دیا۔ یہ بات خطے میں امن کے لیے ایران کی سنجیدہ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔
تسنیم: موجودہ حالات میں آپ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ کیا پاکستان کے نزدیک تعلقات کی بحالی کیلئے کوئی پیشگی شرط موجود ہے۔؟
محمد مدثر: میرے خیال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے تحفظات کو دور کیا جائے، یہ نہایت ضروری ہے۔
تسنیم: یہ تحفظات کیا ہیں۔؟
محمد مدثر: بنیادی طور پر افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، یہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔
تسنیم: آپ ان تعلقات کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ مسئلہ کسی مخصوص مدت میں حل ہوسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ زمینی صورتحال کس سمت جاتی ہے۔
تسنیم: ایک اور اہم علاقائی مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہے۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان سرکاری یا غیر سرکاری، اعلانیہ یا خفیہ رابطے موجود ہیں، تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ تصادم خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس لیے اسے کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش ضروری ہے۔ پاکستان ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے، جو امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دے۔
تسنیم: ایران کے پاکستان اور بھارت دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران اس معاملے میں مؤثر ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔؟
محمد مدثر: بھارت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران ایران نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے قبول کیا۔ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور ہم ان کوششوں کو سراہتے ہیں۔
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد ہے
تسنیم: پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ کیساتھ بھی، خاص طور پر ٹرمپ کے دور میں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان توازن کیسے قائم رکھتا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔ ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے قائم رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ بھی، جو ہمیں خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔
تسنیم: بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بیرونی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔؟
محمد مدثر: نہیں، میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ پاکستان مکمل طور پر خودمختار ہے اور اس منصوبے کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے۔
تسنیم: فلسطین اور غزہ کا مسئلہ بھی ایک بڑا علاقائی چیلنج ہے۔ پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔؟
محمد مدثر: پاکستان ہر اس تجویز کی حمایت کرتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں امن و استحکام لائے اور جنگ کا خاتمہ کرے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔
تسنیم: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے پاکستان کا کیا مؤقف ہے۔؟
محمد مدثر: جب بھی بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کا منشور یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، پاکستان اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ایران پر حملے کے وقت بھی پاکستان نے سب سے پہلے ایران کے حقِ دفاعِ خود کو تسلیم کیا۔
تسنیم: ایران کے خلاف حالیہ جنگ سے کیا سبق حاصل ہوا۔؟
محمد مدثر: سفارت کاری اب بھی مسائل کا بہترین حل ہے۔ جنگیں انتہائی مہنگی اور تباہ کن ہوتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسے خطے اور دنیا کی ضرورت ہے، جو امن سے بھرپور ہو۔
تسنیم: یہ پیغام کس کے لیے ہے۔؟
محمد مدثر: سب کے لیے۔
تسنیم: کیونکہ ایران سفارتکاری کے راستے پر تھا، مگر اچانک اس پر حملہ ہوا۔؟
محمد مدثر: اسی لیے میں اصولوں کی بات کرتا ہوں، سفارت کاری ہی اصل راستہ ہے، جنگ ہر لحاظ سے تباہ کن ہوتی ہے۔
تسنیم: کیا آپ بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: حقیقت یہ ہے کہ میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان گیا ہوا تھا۔ اسی رات میری پرواز تھی کہ جنگ شروع ہوگئی، لیکن جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا، میں فوراً زمینی راستے سے ایران واپس آگیا۔ ارادہ، عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار، ایران کی پہچان ہے۔
تسنیم: آپ نے اس صورتِحال کو کیسے دیکھا، خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آپکے ساتھی تہران میں موجود تھے۔؟
محمد مدثر: میرا خیال ہے ایران یقیناً ایک نہایت مضبوط اور مزاحم ملک ہے، ایران کی تاریخ چھ ہزار سال پرانی ہے اور اس نے اپنی تاریخ میں بے شمار اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ صاف بات کروں تو اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں، تو میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کوئی ملک اس قدر مضبوط، اس قدر متحرک اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے لیے اس قدر پُرعزم ہوسکتا ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ملک میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی اور کہیں یہ احساس نہیں تھا کہ نظام یا معاشرتی زندگی میں کوئی بڑی رکاوٹ آگئی ہو۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔
12 روزہ جنگ ایک طرح سے بڑی آفت جیسی تھی، لیکن یہی چیز ایران کی شناخت ہے: ایران کا عزم، مشکلات کے مقابلے میں عوام کی صلاحیت اور قیادت کا معیار۔
تسنیم: جب ہم اس سال کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں، تو تہران میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے آپکے نزدیک ایرانی معاشرے اور عام لوگوں، یعنی صرف سیاسی سطح پر نہیں، کا عمومی احساس کیا ہے۔؟ خاص طور پر اس لیے کہ جنگ ہوچکی تھی اور بیرونِ ملک کچھ لوگ سمجھتے ہوں گے کہ حالات ابھی بھی بہت کشیدہ ہیں۔ کیا لوگوں میں احساسِ تحفظ ہے یا عدم تحفظ۔؟ آپکا مجموعی تاثر کیا ہے۔؟
محمد مدثر: میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایران چھ ہزار سالہ تاریخ رکھتا ہے اور اس نے بڑے بڑے معرکے، شدید تصادمات اور بے شمار چیلنجز برداشت کیے ہیں۔ یہی چیزیں ایران کی فطرت اور شناخت بناتی ہیں۔ ایران نے اپنی تاریخ، شناخت، ثقافت، تہذیب اور زبان کو محفوظ رکھا اور یہ ایرانی عوام، ایرانی قوم اور ایرانی سماج کے بلند معیار کی علامت ہے۔ اسی لیے میرا اس قوم پر بہت مضبوط یقین ہے۔ میرے لیے یہ ایک منفرد اعزاز ہے کہ میں ایسے وقت میں پاکستان کا سفیر بن کر ایران میں موجود ہوں، جب عالمی ماحول بہت پیچیدہ ہے۔ میں نے ایرانی قیادت، عام ایرانی شہریوں اور ایرانی اداروں کے ساتھ تعامل کیا ہے اور دیکھا ہے کہ وہ کس قدر دور اندیش ہیں اور اپنے اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہیں۔
ایران کی ہمسایہ ممالک سے تعامل کی پالیسی کامیاب رہی:
تسنیم: خطے کے بعض ممالک پاکستان نہیں بلکہ دیگر میں پہلے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران خطے کیلئے خطرہ ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں اور خاص طور پر حالیہ مہینوں میں، اسرائیل کے اقدامات اور فلسطینیوں، لبنانیوں، ایرانیوں، قطریوں اور دیگر کیخلاف اسکے جرائم کے بعد، یہ ادراک آہستہ آہستہ بدل رہا ہے کہ حقیقی خطرہ کہیں اور سے ہے۔ اس سے ایران اور عرب ممالک، نیز پاکستان جیسے غیر عرب ممالک کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔ آپ اس تبدیلی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اور خطے میں امن و استحکام کیلئے ایران پاکستان تعاون میں کیا امکانات ہیں۔؟
محمد مدثر: اگر آپ گزشتہ دو سال میں ایران کی خارجہ پالیسی دیکھیں تو میرے خیال میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعامل کی پالیسی کے فائدے اور ثمرات واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔ ایران نے بہت فعال انداز میں اپنے ہمسایوں، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات اور رابطے بڑھائے ہیں اور یہ ایرانی قیادت کی گہری بصیرت کی علامت ہے۔ جہاں تک پاکستان اور ایران کے تعاون کی بات ہے، آپ نے یہ تعاون چار روزہ جنگ میں بھی دیکھا اور بارہ روزہ جنگ میں بھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ مستقبل میں یہ تعاون مزید مضبوط اور گہرا ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان اور ایران کے عوام اپنے ممالک کی عظیم صلاحیتوں کو زیادہ بہتر سمجھیں اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ میں اس موقع پر دونوں ممالک کے وسیع عوامی حلقوں سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سیاحت بہت اہم ہے، فنون، ادب اور ثقافت بہت اہم ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے، جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیئے۔ ہمیں کلیشوں پر ہرگز یقین نہیں کرنا چاہیئے، کلیشے ایک منظم اور مقصدی کوشش کے ذریعے بنائے جاتے ہیں۔ ایران کو اس کی حقیقی صلاحیتوں اور اس کی قوت و مزاحمت کی بنیاد پر دیکھنا چاہیئے، نہ کہ ان میڈیا بیانیوں کے ذریعے جو وسیع اور منظم انداز میں مسلط کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پاس بھی بے پناہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں اور ان دونوں جنگوں نے واضح کر دیا کہ ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
تسنیم: آپ کئی برس سے ایران میں سفیر کی حیثیت سے موجود ہیں۔ دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کیلئے آپ کن بنیادی عناصر کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں؟ آپ نے سیاحت کی بات کی اور ہم اقتصادی روابط پر بھی گفتگو کرچکے ہیں۔ آپکے نزدیک وہ سب سے اہم امور کون سے ہیں، جن پر دونوں ممالک کے اہلِ فکر اور عام لوگوں کو توجہ دینی چاہیئے۔؟
محمد مدثر: میرے نزدیک سب سے اہم چیز یہ ہے کہ معاشروں کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بڑھے، ثقافت، تاریخ اور ہماری مشترکہ جدوجہد کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔ جامعات کے درمیان تعاون، میڈیا کے درمیان رابطہ، اور شہروں کی سطح پر زیادہ تعامل اور یقیناً باہمی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم ایک انتہائی پیچیدہ عالمی ماحول میں رہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم خطرات کو واضح طور پر پہچانیں اور آنے والی نسلوں کو تیار کریں، تاکہ وہ اس تعلق کی نوعیت کو سمجھ سکیں، جو دونوں ممالک کو مستقبل میں اختیار کرنی چاہیئے۔ لہٰذا اعتماد، زیادہ تعامل، عوام سے عوام کے رابطے کو گہرا کرنا اور اس بات پر مسلسل توجہ رکھنا کہ بیرونی عناصر دہشت گردی کے ذریعے اس تعلق کو متاثر نہ کرسکیں، یہ سب نہایت ضروری ہیں۔
تسنیم: جنابِ سفیر، آپکا وقت دینے اور ہمارے ساتھ رہنے کا بہت شکریہ۔
محمد مدثر: شکریہ۔ بہت شکریہ، یہ میرے لیے بڑا اعزاز تھا۔
ایران نے اپنے تین سیٹیلائیٹس کو کامیابی سے فضا روانہ کردیئے
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے تین سیٹیلائٹس کامیابی سے فضا کی جانب روانہ کردیئے۔
تینیوں سیٹیلائٹس کو سایوز ب 2۔1 راکٹ کے زریعے روانہ کیا گیا۔
ایران نے اپنے سیٹیلائٹس بھیجنے کے لئے روسی خلائی اسٹیشن استوچنی کو انتخاب کیا تھا جہاں سے آج تہران کے مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 48 منٹ پر یہ راکٹ کامیابی سے خلائی مدار کی جانب روانہ ہوگیا۔
شہید سلیمانی کا ہدف اسلامی وحدت کی بنیاد پر اسلامی تمدن کا احیاء تھا
سردار قلوب شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر ایران میں مقیم افغانی باشندوں کی ثقافتی اور سماجی فاؤنڈیشن کی جانب سے مشہد میں دوسری بین الاقوامی کانفرنس "الغالبون، مکتب شہید سلیمانی، مزاحمت کا راستہ اور روایت" کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایرانی اور غیر ملکی شخصیات اور رہنماؤں سمیت افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
بحرین کے شیعہ رہنما کے نمائندے شیخ "عبداللہ الدقاق" نے شہید حاج قاسم سلیمانی کے منفرد مقام کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ حاج قاسم سلیمانی تین بنیادی افعال کی مربوط کڑی تھے۔ ایک طرف انہوں نے اپنے تزویراتی ویژن سے افق کو صحیح طور پر دیکھا تو دوسری طرف وفادار اور بہادر انسانی وسائل کی تربیت اور تنظیم کے ذریعے مزاحمت کے جسم کو مضبوط کیا اور بالآخر مزاحمتی محور کے ممالک کی تمام سہولیات اور صلاحیتوں کو مقبوضہ سرزمینوں کو آزاد کرانے اور قوموں کی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شیخ دقاق نے مزاحمتی کمانڈروں کے خلاف استکبار کی شدید دشمنی کی وجہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ حاج قاسم سلیمانی، ابومہدی المہندس اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کو قتل اور شہید کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس گہرے تہذیبی اور اسٹریٹجک وژن کے حامل تھے۔ ایک ایسا وژن جس نے دشمن کی مساوات میں خلل ڈالا اور تسلط کی بنیادیں ہلا دیں۔
مزاحمتی مکتب کی قرآنی جڑوں پر تاکید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکتب شہید حاج قاسم سلیمانی نے حکمت عملی کے تجزیے، انسانی وسائل کی تربیت اور ولایت کو قبول کرتے ہوئے، نجات کے الہی وعدے کو پورا کرنے اور مزاحمتی محاذ کی فتح کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے۔
اس نشست کے دوسرے مہمان اور مقرر لبنان میں حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ حسن علی البغدادی نے راہ خدا میں شہادت یا جنگ میں فتح کو مزاحمتی جنگجوؤں کے لیے دو ممکنہ نشیب و فراز قرار دیا اور کہا کہ "قاسم سلیمانی"، شهید "سید حسن نصرالله"، شهید "توسلی"، شهید "حسینی"، شهید "ابومهدی المهندس" و شهید "محمد عبدالکریم جماری" جیسے عظیم شہداء کا نقصان ہوا اور ان شہیدوں نے مزاحمت کے عزم اور ارادے میں کچھ کمی نہیں دکھائی ہے، اس لئے مزاحمت اپنی سرزمین، عزت اور شناخت کا دفاع کرے گی اور دشمن کو جہاں اس سے کم سے کم توقع بھی ہو اسے کچل دے گی۔
البغدادی نے کہا کہ "صیہونی دشمن مزاحمتی قوتوں کو شہید کر کے اپنے لیے ایک "فریبانہ فتح" اور "فریبانہ نتیجہ" حاصل کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل تسلط اور دباؤ کے ذریعے جنگ میں جو کچھ کھو چکے ہیں اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک "نیا مشرق وسطی"، "خطے کے وسائل کو تاراج کرنے،" "خطے کی تقسیم" اور "اسلام سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن آخر کار مزاحمت ہی نے یہ جنگ جیت لی۔
بعض لوگ قرآنی وارننگ پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟
حجت الاسلام علیرضا قبادی، سماجیات اور مذہبی امور کے محقق، نے ایک یادداشت میں، جو انہوں نے ایکنا کو فراہم کی ، "قرآنِ کریم میں سوالیہ اسلوب"کے موضوع کو مرکز بنا کر سورۂ مدثر میں موجود قرآنی سوالات کے پسِ پردہ معارف کو بیان کیا ہے، جسے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سورۂ مدثر کا آخری سوال استفہامِ تعجبی یا توبیخی کے اسلوب میں اس طرح بیان ہوا ہے:
«فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ؟» (تو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ نصیحت اور تنبیہ (قرآن) سے منہ موڑ رہے ہیں؟) (سورۂ مدثر، آیات ۴۹ اور ۵۰)
قرآنِ کریم چونکہ تذکیر اور انذار کا سرچشمہ ہے، اس لیے یہ توقع تھی کہ کفار یا مشرکین قرآن کی نصیحت اور تنبیہ سننے کے بعد متنبہ ہوتے، نہ کہ اس سے منہ موڑ لیتے۔ لیکن اس کے برعکس ان کا رویہ حیرت انگیز بلکہ قابلِ ملامت ہے۔
یہ روی گردانی اس لیے بھی باعثِ تعجب اور توبیخ ہے کہ قرآنِ کریم کی نصیحت اور تنبیہ کوئی بے بنیاد یا بے اثر انذار نہیں ہے۔ مزید یہ کہ قرآن ان کے اس اعراض کو ایک معمولی بے رخی قرار نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک خاص اور نہایت معنی خیز تشبیہ کے ذریعے بیان کرتا ہے، جو تعجب اور ملامت دونوں پہلو رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
«كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ» (گویا وہ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں)«فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ» (جو کسی شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوں)
یہ تشبیہ واضح کرتی ہے کہ قرآنِ کریم سے ان کا فرار اور بے اعتنائی نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ سخت قابلِ ملامت بھی ہے۔ اس کے بعد قرآن ان کی طرف سے پیش کی جانے والی بہانہ سازیوں اور بے جا توقعات کو رد کرتا ہے اور ان کے اس طرزِ عمل کی اصل جڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
قرآن کے مطابق ان کے پند نہ قبول کرنے اور قرآن سے منہ موڑنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یا تو وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، یا پھر ان کا ایمان ایسا نہیں جو آخرت کے خوف اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ جڑا ہو۔
اس گفتار کا اختتام ہم امام ہادیؑ کی بارگاہِ قدسی میں سلام کے نذرانے کے ساتھ کرتے ہیں:
«السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُبَيِّنُ لِلْحَلالِ مِنَ الْحَرامِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَلِيُّ النَّاصِحُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّرِيقُ الْواضِحُ»
آج دنیا کی اہم ضرورت، ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام ہے
،رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے یورپ میں اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمنوں کی یونین کی سالانہ نشست کے نام اپنے ایک پیغام میں اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کی تلملاہٹ کی اصل وجہ ایٹمی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے کے پرچم کا بلند ہونا اور ایران اسلامی کی جانب سے ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانا ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عزیز جوانو!
اس سال آپ کے ملک نے، ایمان، اتحاد اور خود اعتمادی کی برکت سے دنیا میں ایک نئی حیثیت اور نیا وقار حاصل کیا ہے۔ امریکا کی فوج اور خطے میں اس کی شرمناک اولاد کے بھاری حملے، اسلامی ایران کے جوانوں کی جدت طرازی، شجاعت اور ایثار کے سبب مغلوب ہو گئے۔ ثابت ہو گيا کہ ایرانی قوم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایمان اور عمل صالح کے سائے میں خبیث اور ظالم سامراجیوں کے مقابلے میں ڈٹ سکتی ہے اور اسلامی اقدار کی طرف دعوت کو پہلے سے کہیں بلند آواز میں دنیا تک پہنچا سکتی ہے۔
ہمارے کچھ سائنسدانوں، کمانڈروں اور عزیز عوام کی شہادت کا گہرا غم، پرعزم ایرانی جوان کو نہ تو روک سکا ہے اور نہ روک پائے گا۔ ان شہیدوں کے اہل خانہ خود اس کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں شامل ہیں۔
ایٹمی مسئلے اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کی بات نہیں ہے، بات موجودہ دنیا میں غیر منصفانہ نظام اور تسلط پسندانہ نظام کے تحکم سے مقابلے اور ایک منصفانہ اسلامی قومی اور بین الاقوامی نظام کی طرف قدم بڑھانے کی ہے۔ یہ وہی بڑی دعوت ہے جس کا پرچم اسلامی ایران نے لہرایا ہے اور جس نے خبیث اور برائی پھیلانے والے منہ زوروں کو برہم کر دیا ہے۔
آپ اسٹوڈنٹس اور خاص کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے کندھوں پر اس عظیم ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اپنے دلوں کو خدا کے حوالے کر دیجیے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیے اور انجمنوں کو اس سمت میں آگے بڑھائيے۔
اللہ آپ کے ساتھ ہے اور مکمل فتح آپ کے انتظار میں ہے، ان شاء اللہ
سیّد علی خامنہ ای
مکتبِ اہل بیتؑ خواتین کو خاندان اور سماج کے درمیان انتخاب پر مجبور نہیں کرتا: مدیر جامعۃ الزہراء (س) قم
جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا کی مدیرہ محترمہ سیدہ زہرہ برقعی نے مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں عورت کے کردار کو جامع، متوازن اور تمدن ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مکتب میں عورت کی شناخت ایمان، عقلانیت، عطوفت، مادری کردار اور سماجی ذمہ داری کے ہم آہنگ امتزاج پر قائم ہے، نہ کہ کسی ایک محدود دائرے تک۔
انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں ایمان صرف ذاتی یا باطنی معاملہ نہیں بلکہ عورت کے طرزِ زندگی، فیصلوں اور سماجی رویّوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح عقلانیت ایمان کے مقابل نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے عورت بصیرت کے ساتھ درست فیصلے کرتی اور معاشرتی اقدار کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
سیدہ زہرہ برقعی نے مادری کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ میں مادری محض گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ ایک گہرا، تمدن ساز فریضہ ہے۔ نسل کی تربیت صرف علم یا مہارت کی منتقلی نہیں بلکہ توحیدی، اخلاقی اور ذمہ دار انسانوں کی تشکیل کا عمل ہے، جس میں ماں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ بدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کا مستقبل درحقیقت ماؤں کے ہاتھوں تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجی ذمہ داری عورت کے ایمان سے جدا نہیں۔ مکتبِ اہل بیتؑ میں عورت کی سماجی موجودگی مقصدی، اخلاقی اور باوقار ہوتی ہے، جو عفت و کرامت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور اخلاقی سرمائے کے استحکام میں معاون بنتی ہے۔ اس نظرئیے میں عورت نہ خاندان سے کٹتی ہے اور نہ سماج سے الگ ہوتی ہے بلکہ دونوں کے درمیان درست توازن قائم رکھتی ہے۔
مدیر جامعۃ الزہرا سلاماللہعلیہا نے سیدہ فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کی سیرت کو عورت کے لیے مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیرۂ فاطمی خاندان اور سماج کے درمیان حکیمانہ توازن کی روشن مثال ہے۔ حضرت فاطمہؑ نے مکمل گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی شعور، حق طلبی اور عدل کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اپنی اولاد کو بھی اسی شعور کے ساتھ پروان چڑھایا۔
ایپسٹین فائلز کے معمے سے آپ کیا سمجھے؟
ایپسٹین فائلز کو ہلکا نہ لیجئے۔ امریکی قانون سازوں نے ایک سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کردہ بیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان، ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن، سابق شہزادہ اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اگرچہ ایپسٹین اب موجود نہیں، یہ دستاویزات اس کے وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں اور عالمی سطح پر گہری توجہ اور مباحثے کا سبب بنی ہیں۔ یہ فائلز نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کے ہاں طاقت، دولت اور خاموشی کے گٹھ جوڑ کا دستاویزی ثبوت ہیں۔ یہ وہ عدالتی ریکارڈ ہیں، جو بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے نام سے وابستہ ہوئے اور اسی نسبت سے ایپسٹین فائلز کہلائے۔ نام ایک فرد کا ہے، مگر مفہوم ایک پورے نظام پر محیط ہے۔ ان فائلز میں فرد کی لغزش بھی ہے اور اداروں کی کمزوری بھی۔
یہ معاملہ دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں سامنے آیا اور سن 2019ء میں عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ جیفری ایپسٹین کی گرفتاری، موت اور پھر دستاویزات کی اشاعت نے اس قصے کو دبنے نہ دیا۔ عدالتوں میں کھلنے والی فائلز نے بتدریج وہ روابط آشکار کیے، جو برسوں پردے میں رہے۔ یوں ایپسٹین فائلز ماضی کا واقعہ نہیں رہیں بلکہ حال کی بحث بن گئیں۔ یاد رہے کہ قانون کی نظر میں یہ دستاویزات شہادت ہیں اور شہادت فیصلہ نہیں ہوتی۔ ناموں کا ظاہر ہونا الزام نہیں کہلاتا اور تعلق کا ذکر جرم نہیں بنتا۔ اس کے باوجود طاقتوروں کے باہمی تعلقات میں عام آدمی کیلئے چھپے خطرات اب سب کے سامنے آگئے ہیں۔ اگر اس وقت ان کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر کبھی نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ موصوف کا نام ایپسٹین کے سماجی تعلق داروں کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ الگ زاویہ ہے کہ یہ تعلق حقیقت میں اشرافی میل جول تک محدود رہا یا اس سے بھی آگے کا تھا۔ البتہ ابھی تک کسی عدالت نے اسے مجرمانہ رابطہ قرار نہیں دیا۔ اس کے باوجود سیاست دانوں کے ایسے سماجی تعلقات عوام کے لئے کیا پیغام رکھتے ہیں، وہ اب عوام ہی بتائیں گے۔ البتہ قابل ذکر ہے کہ میڈیا نے اس فرق کو پوری طرح برقرار نہیں رکھا۔ خبر نے قلم سے رفتار پائی اور مفہوم سکرین سے پیچھے رہ گیا۔ پبلک کے سامنے سرخی نے فیصلہ سنایا اور وضاحت حاشیے میں چلی گئی۔ یہی قلم کا امتحان ہوتا ہے، ایسی ہی صورتحال میں صحافت آزمائش میں پڑتی ہے اور سچ دباؤ میں آتا ہے۔
بلاشبہ اخلاقی سطح پر ایپسٹین فائلز ایک نمایاں دھبہ ہیں، امریکی سوسائٹی کے چہرے پر۔ امریکہ میں اب یہ چیلنج سامنے آگیا ہے کہ امریکی معاشرے میں طاقتور کا احتساب کہاں تک ممکن ہے اور کمزور کی آواز کب سنی جائے گی۔؟ متاثرین کی موجودگی اس کہانی کی اصل بنیاد ہے اور ان کی خاموشی اس نظام، اداروں، معاشرے اور سیاست کی سب سے بڑی ناکامی۔ ایپسٹین فائلز بے ںس لوگوں کی مظلومیت کا انجام نہیں ہیں بلکہ اعلان ہیں۔ یہ اعلان انصاف کی تاخیر کا بھی ہے اور اصلاح کی ضرورت کا بھی۔ یہ فائلز عالمی انسانی برادری کو یاد دلا رہی ہیں کہ قانون کاغذ پر نہیں، کردار میں زندہ رہتا ہے۔ قانون کو کاغذوں سے کردار میں ڈھالنے کی ہر جگہ ضرورت ہے اور شاید سب سے زیادہ ضرورت امریکہ میں ہے۔
ان فائلز سے پتہ نہیں آپ کیا کچھ سمجھے ہونگے، تاہم ایک بات مجھے بھی سمجھ آئی ہے اور وہ ایک بات یہ ہے کہ "طاقتور جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قانون کمزور پڑ جاتا ہے اور انصاف محض ایک لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں یہ بھی انہی فائلز سے ہی سمجھ لیجئے کہ مضبوط ادارے قانون کے آگے طاقتور کو قانونی طور پر جھکاتے ہیں، جبکہ کمزور ادارے طاقتور کے آگے قانون سمیت جھک جاتے ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
