سلیمانی
مغربی تہذیب ایپسٹین کی دلدل میں
یہودی ارب پتی اور عالمی سطح پر لڑکیوں کے اسمگلر جفری ایپسٹین کا کیس، وفاقی عدالت میں زیر بحث ہزاروں مقدمات میں اب محض ایک سادہ مجرمانہ کیس نہیں رہا بلکہ یہ ایک تباہ کن زلزلہ بن چکا ہے جس نے مغرب کی سیاست اور دولت کے محلات کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں اور وہ یکے بعد از دیگرے زمین بوس ہوتے جا رہے ہیں۔ ایپسٹین ایک ایسا شخص بے جو غربت سے بے پناہ دولت تک پہنچا۔ وہ درحقیقت جدید دور میں بھتہ خوری اور منظم بدعنوانی کے سب سے گندے نیٹ ورک کا بانی تھا۔ اس نے کیریبین میں "لٹل سینٹ جیمز" نامی ایک جزیرہ خریدا اور اسے بچوں کی معصومیت کی قربان گاہ اور "سیاہ سفارت کاری" کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کیس سے مربوط 30 لاکھ سے زائد دستاویزات، خفیہ فلم کے لاکھوں رولز اور ہزاروں تصاویر شائع کی ہیں۔
لندن میں سونامی، اسٹارمر کی حکومت ٹوٹنے کے قریب
اگرچہ برطانیہ نے ہمیشہ خود کو پارلیمانی جمہوریت کا گہوارہ اور گڈ گورننس میں اعلیٰ اخلاقی معیارات کا حامل قرار دیا ہے لیکن 2026ء کی نئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعنوانی شاہی خاندان اور موجودہ حکومت کے مرکز تک جا پہنچی ہے۔ پرنس اینڈریو کا اسکینڈل اور ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اس برفانی تودے کی صرف ایک نوک تھی جو برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعلق محض چند یادگار تصاویر سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے محل، ایسی پارٹیوں کی میزبانی کرتے تھے جہاں کم عمر لڑکیوں کو "سفارتی تحائف" کے طور پر منتقل کیا جاتا تھا۔ ان انکشافات نے کیئر اسٹارمر کی حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسٹارمرکو اب ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس نے پوری لیبر پارٹی کی حیثیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
امریکہ کرپشن کی لپیٹ میں، کلنٹن اور ٹرمپ کا منحوس اتحاد
بحر اوقیانوس کے اس پار منظرعام پر آنے والی دستاویزات نے امریکہ میں طاقت کے دو ستونوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن، جن کا نام بار بار "لولیتا ایکسپریس" (ایپسٹین کا پرائیویٹ جیٹ طیارہ) کی فلائٹ لسٹ میں درج تھا، کو اب جزیرے پر ان کی موجودگی اور غیر قانونی اجتماعات اور حتی منحرف مذہبی رسومات میں شرکت کی تصدیق کرنے والی نئی شہادتوں کا سامنا ہے۔ ہمیشہ خود کو خواتین کے حقوق کی محافظ کے طور پر پیش کرنے والی ہیلری کلنٹن کو اب ایسی دستاویزات کا سامنا ہے جو ان جرائم کو چھپانے اور متاثرین کو رشوت دینے میں ان کے دفتر کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایپسٹین کے خفیہ لاکرز سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر اور نوٹس کئی دہائیوں سے ایپسٹین سے اس کے قریبی تعلقات اور مشکوک معاملات کو ظاہر کرتے ہیں۔
خون اور معصومیت کی تجارت، جزیرے کے شوکیس میں لڑکیوں کی نیلامی
شاید اس کیس کا سب سے خوفناک اور غیر انسانی پہلو، بحران زدہ ممالک سے انسانوںوں کی تجارت اور نوجوان لڑکیوں کی اسمگلنگ پر مشتمل ہے۔ دستاویزی رپورٹس اور ایپسٹین کے کچھ ساتھیوں کے چونکا دینے والے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نیٹ ورک نے گزشتہ چند برسوں میں ہیٹی اور ترکی میں آنے والے زلزلوں جیسے ناگوار حادثات سے پیدا ہونے والی افراتفری کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جو یتیم ہو گئے تھے یا اسپتالوں سے اغوا کیے گئے تھے۔ موصولہ مالیاتی دستاویزات کے مطابق، ان میں سے کچھ بچوں کو ناقابل یقین قیمتوں جیسے 200 ملین ڈالر کے عوض خرید کر جزیرے پر پہنچایا گیا تھا۔ ان بے سہارا بچوں کو شدید سیکورٹی والے ماحول میں قید رکھا جاتا تھا اور وہ سیاست دانوں کی ہوس رانی اور جنسی خواہشات کی بھینٹ چڑھتے رہتے تھے۔
موساد کا سایہ اور صیہونی "ہنی ٹریپ" پراجیکٹ
اس کیس کے حتمی تجزیے میں غاصب صیہونی رژیم اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی، موساد کے نمایاں اور مشکوک کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جفری ایپسٹین کے رابرٹ میکس ویل (ایپسٹین کا سسر) سے بہت قریبی تعلقات تھے، جو مغرب میں موساد کے ایک اہم ایجنٹ اور جاسوس کے طور پر جانا جاتا تھا۔ رابرٹ میکس ویل کی مشتبہ موت کے بعد ایپسٹین اور اس کی بیوی گیسلن نے عملی طور پر مغربی اشرافیہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا کام جاری رکھا۔ بہت سے انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین کا جزیرہ دراصل ایک بہت بڑا اور جدید ترین "ہنی ٹریپ" تھا جسے اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز نے ڈیزائن کیا تھا۔ مقصد سادہ لیکن خوفناک تھا: عالمی رہنماؤں کے غیر اخلاقی اعمال، عصمت دری اور شیطانی رسومات کی دستاویز اور فلم بندی کرنا تاکہ انہیں نازک لمحات میں سیاسی بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
مغربی سیاست دان اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے بھیانک جرائم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ یا بلا روک ٹوک مالی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہتے ہیں؟ اس کا جواب ایپسٹین کے جزیرے کے بیڈ رومز میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیجز میں مل سکتا ہے۔ ایپسٹین کے اپارٹمنٹس میں اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود براک کی موجودگی اور وہاں ان کے اکثر دورے ایک گہرے تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کچھ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین کی دولت کا بڑا حصہ ایسے نامعلوم چینلز کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو واشنگٹن اور تل ابیب میں طاقتور صیہونی لابیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقدمے نے ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی صیہونیت اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی اسمگلنگ سے لے کر عالمی رہنماؤں کی اخلاقی بدعنوانی تک کسی بھی گھناؤنے طریقے سے دریغ نہیں کرتی۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
حضرت زینبؑ کی استقامت اور بصیرت نے عاشورا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا
مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: اسلامی تاریخ میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا صبر، بصیرت اور ذمہ دارانہ قیادت کی روشن مثال ہیں۔ واقعہ عاشورا کے بعد حضرت زینبؑ کی استقامت، فکری بصیرت اور حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت نے نہ صرف امام حسینؑ کی تحریک کو زندہ رکھا بلکہ سوئی ہوئی اجتماعی فکر کو بھی جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ حضرت زینبؑ کا صبر محض مصیبت برداشت کرنا ہی نہیں بلکہ یہ ایک باشعور صبر تھا جو ظلم کے مقابل ڈٹ جانے، حق کو بیان کرنے اور باطل کے پردے چاک کرنے سے کا نام ہے۔ کوفہ اور شام کے درباروں میں آپؑ کے خطبات نے اموی حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور عوامی رائے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
حضرت زینبؑ کا تاریخی جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلا» اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کو شہادت امام حسینؑ کے فلسفے کا مکمل ادراک تھا اور آپؑ نے دینِ اسلام کی بقا کے لیے ہر قربانی کو حُسنِ مطلق کے طور پر قبول کیا۔ یہی شعوری صبر اور فکری پختگی نہضتِ عاشورا کی ماندگاری اور امت کی بیداری کا بنیادی سبب بنی۔
حضرت زینبؑ کے صبر اور عام انسانوں کے صبر میں کیا فرق ہے؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر کی توضیح میں صبر کے دقیق اور عمیق مفہوم پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ دینی نگاہ میں صبر صرف دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے یا ایک جذباتی بردباری کا نام نہیں، بلکہ صبر ایک با شعور استقامت اور پائیداری ہے جو بحران کے مؤثر نظم و نسق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ صبر ہے جو انسان کو ایک باوقار، فکری طور پر بالغ اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔
اسی بنیاد پر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر کوئی عام صبر نہیں، بلکہ آگاہی، ذمہ داری اور بحرانی حالات کی دانشمندانہ مدیریت سے آراستہ ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عاشورا کے دن اس عظیم خاتون نے بنی ہاشم کے اٹھارہ نوجوانوں کی شہادت کا منظر دیکھا؛ وہ نوجوان جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے، کوئی بھائی، کوئی بیٹا، کوئی بھتیجا اور کوئی قریبی عزیز۔
حضرت عباس اور حضرت امام حسین علیہ السلام جیسے عظیم ہستیوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے دو فرزند بھی راہِ خدا میں قربان کیے، اور اپنے بھائی کے فرزندوں، جن میں علی اکبر، قاسم بن حسن اور عبداللہ بن حسن شامل ہیں، کی شہادت کی گواہ بھی بنیں۔ ان تمام مصائب کے ساتھ اموی حکومت کی شدید اور منظم پروپیگنڈا مہم نے حالات کو غیر معمولی طور پر دشوار بنا دیا تھا۔
اس کے باوجود حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے اسیر قافلے کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھالی اور 80 سے زائد عورتوں اور بچوں کو دوران اسیری عزت، وقار اور تدبیر کے ساتھ سنبھالا؛ یہاں تک کہ نہ صرف ان کی حرمت محفوظ رہی بلکہ کسی کو گستاخی یا حتی قریب آنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا گہرے غم اور عزاداری کے عالم میں بھی، جب اپنے بھائی کے سر مطہر کو نیزے پر بلند دیکھا، تو دردناک اشعار کے ذریعے اپنے دل کا کرب بیان کیا، مگر اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہ ہوئیں۔ اسیروں کا قافلہ جب کوفہ میں داخل ہوا تو شہر خوشی اور ہلہ گلہ کے شور سے گونج رہا تھا، لیکن زینب کبری سلام اللہ علیہا کی بصیرت افروز خطبات نے اس فضا کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
حضرت زینبؑ نے سخت ترین حالات میں اپنی سیاسی و سماجی بصیرت کیسے برقرار رکھی؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے سماجی حالات کا گہرا اور درست ادراک رکھتے ہوئے، پیغام عاشورا کی رسانی کے لیے شہر کی خواتین کو مخاطب بنانے کی حکمت عملی اختیار کی؛ اس لیے کہ کوفہ کے مرد پہلے ہی امام حسین علیہ السلام کے براہ راست مخاطب تھے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ چنانچہ حضرت زینبؑ نے ایک واضح، جرات مندانہ اور ولولہ انگیز خطبے کے ذریعے کوفہ کے لوگوں کو ان کی خیانت، فریب اور بے وفائی پر جھنجھوڑا۔
اس خطبے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق پورے شہر پر ایک خوفناک خاموشی طاری ہوگئی، یہاں تک کہ اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز بھی سنائی دینا بند ہوگئی۔ کوفہ کے حاکم عبیداللہ بن زیاد بھی اس روحانی عظمت کے سامنے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار کہہ اٹھا: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے علی کی روح اپنی بیٹی کے وجود میں زندہ ہوگئی ہو۔
ان خطبات کے نتیجے میں عوامی شعور بیدار ہوا اور اس سے پہلے کہ مرد اپنے گھروں کو لوٹتے، پیغام عاشورا لوگوں کے دلوں میں اتر چکا تھا۔ کوفہ خوشیوں کے شہر سے ایک سوگوار بستی میں بدل گیا، اور کوفی خواتین اس جنایت کی سنگینی کو سمجھ گئیں جس کے مرتکب ان کے شوہر بنے تھے۔
یہ تمام واقعات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے اسی صبر اور مدبرانہ طرزعمل کا نتیجہ تھے۔ ایسا صبر جو اطاعت میں استقامت، معصیت سے اجتناب اور مصیبت میں ثابت قدمی تینوں پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا، اور جس نے ایک غفلت زدہ معاشرے کو جھنجھوڑ کر بدل دیا۔
حضرت زینبؑ اتنے دردناک حالات میں بھی «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کیسے کہہ سکیں کہ انہیں سب کچھ خوبصورت دکھائی دیا، اور یہ جملہ ان کے ایمان کی کس بلندی کو ظاہر کرتا ہے؟
حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے منقول مشہور جملہ «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» نہایت وضاحت کے ساتھ اس بلند مقام رضا اور کامل تسلیم و رضا کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے اپنے عظیم بھائی حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے معرفتی مکتب میں سیکھا تھا۔ یہ کوئی عام یا معمولی جملہ نہیں، بلکہ ایک خاص اور ممتاز کلام ہے، جس کی حقیقت اور عظمت کو سمجھنے کے لیے اس مجلس کے ماحول کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے جہاں یہ جملہ ادا ہوا۔
وہ مجلس یزید کی مجلس تھی؛ ایسی محفل جو اموی حکومت کی ظاہری فتح کے اظہار کے لیے منعقد کی گئی تھی، اور جس میں اس دور کے اوباش، لمپن اور آلودہ کردار رکھنے والے لوگ مبارک باد اور خوشی کے اظہار کے لیے جمع تھے۔ یزید کو یہ خبر مل چکی تھی کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ میں کس طرح ایک فکری طوفان برپا کیا، کیسے مردوں کے گھروں کو لوٹنے سے پہلے پیغامِ عاشورا کو دلوں تک پہنچا دیا، اور خوشیوں میں ڈوبا ہوا شہر ایک سوگوار بستی میں بدل دیا۔ اسی احساسِ شکست اور غصے کے زیرِ اثر یزید نے اس مجلس میں اس عظیم خاتون سے انتقام لینے کا ارادہ کیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے دورانِ اسارت جس شہر، گاؤں یا آبادی میں قدم رکھا، وہاں اپنے بھائی کی مظلومیت بیان کی اور لوگوں کے دلوں کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کی حقیقت کی طرف مائل کیا۔ یہی مسلسل روشنگری تھی جس نے یزید کو مجبور کیا کہ سب سے پہلے ایک تحقیر آمیز جملے کے ذریعے حضرت زینبؑ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ اس نے کہا: “دیکھا، خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟” اس کے جواب میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»، یعنی میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ جملہ اس عظیم خاتون کے قلبی اطمینان، معرفتِ الٰہی اور بلند روحانی مقام کی گواہی دیتا ہے۔
لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حضرت زینبؑ کی نظر میں خوبصورتی صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں تھی۔ خوبصورتی ایک گہری حقیقت ہے، جس کی جڑیں انسان کی روح اور معرفت میں پیوست ہوتی ہیں۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے: اے یزید! خدا نے تمام بھائیوں میں سے میرے بھائیوں کو چن لیا، تمام بیٹوں میں سے میرے بیٹوں کو منتخب کیا، اور بنی ہاشم کے تمام جوانوں میں سے انہی کو اس لائق سمجھا کہ ان کا خون درختِ اسلام کی آبیاری کے لیے بہایا جائے۔ ہم خاندانِ نبوت ہیں؛ اسلام ہمارے ذریعے زندہ رہا، پروان چڑھا، اور تم جیسے اوباش، ظالم اور بدکار لوگوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا رہا، تاکہ دین اور قرآن لوگوں کے درمیان سے مٹ نہ جائیں۔
اس سے بڑی خوبصورتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے عزیزوں کا خون راہِ خدا میں بہنے کے لائق ٹھہرا اور تاریخ ساز بن گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اسی نگاہ سے اپنے بھائیوں، فرزندوں اور عزیزوں کی شہادت کو دیکھتی تھیں؛ وہ اسے شکست نہیں بلکہ حسنِ الٰہی کا ظہور سمجھتی تھیں، اور اسی یقین کے ساتھ کہتی تھیں: «ما رأیتُ إلّا جمیلاً»۔
اسلامی تاریخ کے اس درخشاں کردار میں آج ہمارے لیے کیا درس ہے؟
یہی حقیقت ہمیں آج بھی شہداء کے خاندانوں کے طرزِ عمل میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ ماں جو اپنے شہید بیٹے کے جسدِ خاکی کے پاس کھڑی ہو کر کہتی ہے: “بیٹا، تمہیں نیا ٹھکانہ مبارک ہو”، یا وہ زوجہ جو اپنے شوہر کی شہادت پر مبارک باد دیتی ہے۔ یہ مبارک باد دراصل اسی حقیقت کا ترجمہ ہے جسے حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بیان فرمایا تھا؛ یعنی تم نے وہ راستہ چُنا جس کے نمونے امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام ہیں، اور تم نے خود کو اس بلند مقام تک پہنچانے کی کوشش کی۔
شہداء کے خاندانوں کی جانب سے مبارک باد دینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا خون اس قدر قیمتی ٹھہرا کہ وہ اسی راہ میں بہا جس میں تم سے پہلے امیرالمؤمنین، امام حسین، امام حسن، علی اکبر اور حضرت عباس علیہم السلام کا خون بہایا گیا۔ اس سے بڑھ کر کون سا اعزاز ہو سکتا ہے کہ خداوندِ متعال اپنے بندے کی جان اور مال کو خرید لے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
«إِنَّ اللَّهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ»۔
اللہ تعالیٰ اس سودے پر خود مبارک باد دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس الٰہی خرید و فروخت کی بشارت دو۔ لہٰذا جب شہداء کے خاندان اپنے عزیزوں کی قبروں کے پاس ان کو مبارک باد دیتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی الٰہی کلام کو دہراتے ہیں اور مقام رضا کو عملا پیش کرتے ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے «ما رأیتُ إلّا جمیلاً» کہہ کر یہ دکھانا چاہا کہ مقامِ رضا کتنا بابرکت اور بلند مرتبہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو انسان کو اس منزل تک پہنچا دیتا ہے جہاں تمام غموں اور مصیبتوں کے باوجود ہر چیز خوبصورت دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور تقدیر کے تحت ہوتا ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں کوئی ناگوار چیز نظر نہیں آتی، اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی دنیا میں اس مقام کو پا لیا تھا۔
اسی ایک جملے کے ذریعے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف یزید کی سازش کو ناکام بنایا بلکہ اس کی سوچ اور شخصیت کو تاریخ اور انسانیت کے سامنے ہمیشہ کے لیے مجرم ٹھہرا دیا۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے بھی فرمایا: «القتل لنا عادة»؛ شہادت ہمارے لیے ایک عادت ہے اور ہماری کرامت شہادت ہی میں ہے، کیونکہ اللہ مؤمنوں کی جانوں کا خریدار ہے۔
امریکی بالادستی کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا، سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر کا دوٹوک اعلان
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ امریکہ اس وقت اسٹریٹجک زوال کے مرحلے میں ہے اور وہ ذرائع اور طریقے جن کے ذریعے وہ ماضی میں دنیا پر اپنی برتری قائم رکھتا تھا، اب مؤثر نہیں رہے۔ اسی کمزوری کے باعث واشنگٹن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت، جنگ، دہشت گردی اور لوٹ مار جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو اغوا کرنا یا شہید قاسم سلیمانی جیسی عظیم شخصیت کو قتل کرنا طاقت کی علامت نہیں بلکہ ذلت اور شکست کے آثار ہیں۔ ان اقدامات سے امریکہ کی کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن آشکار ہوتا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ آپریشن طوفان الاقصی کی صورت میں سامنے آیا، جس نے صہیونی حکومت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا اور آج وہ دنیا کی سب سے زیادہ منفور ہوچکی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمنوں کے اندازوں کے برخلاف، شہید سلیمانی کی شہادت سے ایران کمزور نہیں ہوا بلکہ ایرانی قوم مزید مضبوط ہوئی ہے، اور سلیمانی کا راستہ اور اثر آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ محاذ مزاحمت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل وحیدی نے کہا کہ ایران اپنے دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکی تسلط کو تسلیم کرے گا۔ دشمن کے سامنے ثابت قدمی ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل ایرانی قوم کا ہوگا۔ دشمنوں کی دھمکیوں کو خوف یا کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
فرقہ واریت دشمن کی سازش ہے، اتحادِ امت ہی پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے: ملی یکجہتی کونسل پاکستان
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مصالحتی کمیشن کا اہم اجلاس کمیشن کے چیئرمین علامہ رمضان توقیر کی زیرِ صدارت کونسل کے مرکزی دفتر جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے کوآرڈینیٹر علامہ عارف حسین واحدی، مفتی گلزار احمد نعیمی، ڈاکٹر سید علی عباس نقوی، مولانا عرفان حسین، سید صفدر رضا، مولانا سید وزیر حسین کاظمی،مولانا فرحت حسین، تصور عباس، ناصر عباس، سعادت علی، اسرار احمد نعیمی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ اور وحدت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان کے قیام کے وقت پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔ ہم نے صرف زمین ہی آزاد نہیں کروائی تھی بلکہ ایک نظریاتی ریاست قائم کی تھی۔ آج بھی دشمن اس تاک میں ہے کہ پاکستان کیوں وجود میں آیا، اسی مقصد کے تحت فرقہ واریت اور انتشار کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے وقت علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد،علامہ سید ساجد علی نقوی،مولانا سمیع الحق،پروفیسر ساجد میر،مولانا فضل الرحمان جیسے عظیم قائدین نے انتہائی مشکل حالات میں اتحادِ امت کا علم بلند رکھا، جب اتحاد کی بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ ان قائدین کی دانشمندانہ قیادت کے باعث ملک میں فرقہ واریت پر بڑی حد تک قابو پایا گیا۔1995سے لے کر اب تک ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے علماء، بزرگان اور تمام مسالک کے لوگ سب اکھٹے ہیں اور ہم اکھٹے رہیں گے موجودہ ملکی صورتحال میں فرقہ واریت،شدت پسندی، تکفیر اور انتشار پھیلایا جا رہا ہےاس کو کنٹرول کرنے کے لیے دو چیزیں اتنہائی اہم ہیں ایک منبر و محراب سے قرآن کے حکم کے مطابق اتحاد و وحدت کی بھر پور آواز اٹھنی چاہیے اور سوشل میڈیا پر جتنا بھی گند پھیلایا جا رہا ہے اس پر سائبر کرائم اور حکمران متوجہ ہوں۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دشمن کبھی خاموش نہیں بیٹھتا، وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی تکفیر اور مسلکی نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے کیونکہ اتحاد ہی مسلمانوں اور پاکستان کی بقا کی ضمانت ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مصالحتی کمیشن کو بھرپور فعال کیا جائے گا جہاں بھی فرقہ واریت کا ناسور ہوگا کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا ہمیں اپنے مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحادِ امت کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور دشمن کی تمام سازشوں کا مقابلہ یکجہتی سے کرنا ہوگا۔
اجلاس میں عالمِ اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اپنی عوام کے جذبات کا احترام کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بنیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کی ہمیشہ مخالفت کی اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ ہم ہر سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے۔آخر میں شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرئے گی جو عوامی خواہشات اور قومی مفاد کے خلاف ہو۔
نام نہاد بین الاقوامی تنظیم عفو (Amnesty International) امویوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کا تسلسل ہے
امام خمینی قدس سرہ الشریف نے کہا: "انہوں نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ظالم کے مقابل اور ظلم و جور کی حکومت کے سامنے نہ عورتوں کو ڈرنا چاہیے اور نہ مردوں کو۔ یزید کے مقابل حضرت زینب سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں اور انہوں نے بنی امیہ کو اس انداز سے ذلیل کیا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی ذلت کبھی نہیں دیکھی تھی۔
اور وہ تقاریر جو راستے میں اور کوفہ و شام میں کی گئیں اور وہ منبر جس پر حضرت امام سجاد علیہ السلام تشریف لے گئے اور یہ بات واضح کر دی کہ معاملہ صرف حق اور ناحق کی آمنے سامنے جنگ کا نہیں تھا بلکہ ہمیں بدنام کیا گیا تھا؛ (وہ لوگ) حضرت سید الشہداء علیہ السلام کو اس طرح پیش کرنا چاہتے تھے گویا وہ اس وقت کی حکومت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کے مقابل کھڑے ہو گئے ہوں۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے یہ حقیقت مجمع کے سامنے آشکار کی اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بھی اسی طرح یہ فریضہ انجام دیا۔
آج ہمارا ملک بھی اسی طرز پر ہے۔ تنظیم عفو بین الاقوامی (Amnesty International) جسے میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دراصل «بین الاقوامی جعل کی تنظیم» اور «بین الاقوامی جھوٹ کی تنظیم» ہے، اس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وہی تہمتیں جو صدرِ اسلام میں اسلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی اولاد اور پیروکاروں پر لگائی جاتی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہمارے ملک پر عائد کی گئی ہیں۔
وہی جھوٹ جو یزید کے پیروکار پھیلایا کرتے تھے آج یہی نام نہاد تنظیم عفو بین الاقوامی اسی قسم کے جھوٹ پھیلا رہی ہے۔
انسان کو شرم آتی ہے کہ وہ کہے ہم ایسے ملکوں میں اور ایسی دنیا میں زندگی کر رہے ہیں جہاں یہ ان کے جیسے ذرائع ابلاغ ہیں اور یہی ان جیسی عفو کی بین الاقوامی تنظیمیں اور دیگر ادارے ہیں۔"
(25 مہر 1361/ 17 اکتوبر 1982ء، صحیفۂ امام، جلد 17، صفحہ 52)
کیریبین کے قزاق، تیل کے لٹیرے
منشیات صرف بہانہ ہے تیل اصل نشانہ ہے
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف فوجی کاروائی کا اصل مقصد منشیات کی روک تھام اعلان کیا ہے اور وینزویلا کے صدر نیکولاس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کرنے والے مافیا کا سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے لیکن 2024ء کے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حریف اور امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی صدر صرف وینزویلا کے تیل کے پیچھے ہے۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسی بات پر زور دے رہے ہیں۔ کملا ہیرس نے ایکس پر اپنے پیغام میں ٹرمپ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری پر مبنی اقدام کو "غیرقانونی" اور "نامعقول" قرار دیا ہے۔ اس ڈیموکریٹک لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اصل مقصد تیل ہے لیکن ٹرمپ منشیات اور جمہوریت کو بہانہ بنا کر اپنی کاروائی کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر وینزویلا میں تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں موجود تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ہے۔ یاد رہے وینزویلا میں پایا جانے والا تیل بھاری ہے جسے زمین سے باہر نکالنے کے بھاری اخراجات ہیں لیکن اس کے باوجود وینزویلا دنیا کا تیل برآمد کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران جب کیریبین سمندر میں امریکہ کی جنگی کشتیوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا، تب بھی وینزویلا روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل چین، یورپی ممالک اور حتی امریکہ کو برآمد کر رہا تھا۔ درحقیقت یوں دکھائی دیتا ہے کہ وینزویلا میں تیل کے ذخائر اور کنویں اب تک کی امریکی فضائی بمباری اور حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔
وینزویلا میں امریکہ کی فوجی مداخلت پر عالمی ردعمل
دنیا کے کئی ممالک میں وینزویلا پر امریکی فوجی جارحیت اور صدر نکولاس مادورو کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرے حتی تمام یورپی ممالک اور امریکہ میں بھی منعقد ہوئے ہیں اور بعض ذرائع ابلاغ کے بقول گذشتہ دو دنوں میں عظیم ترین بین الاقوامی مظاہرے بن چکے ہیں۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں امریکہ کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ ہوا جس میں امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح کے مظاہرے ایتھنز میں بھی منعقد ہوئے اور مظاہرین نے وینزویلا کے عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی مظاہرین نے امریکہ کی خارجہ سیاست کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔ اسی طرح انہوں نے وینزویلا اور فلسطین کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اٹلی میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا ہے۔
غیرقانونی مداخلت
خود امریکہ کے اندر بہت سے سیاسی حلقوں اور عوام نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی جارحیت کو ناجائز اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے کالم میں اس بارے میں لکھا: "اگر گذشتہ صدی میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سے کوئی اہم سبق حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ حتی کمزور ترین رجیم کی سرنگونی کی کوشش حالات خراب ہو جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں 20 سال تک ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا جبکہ لیبیا میں ایک ڈکٹیٹرشپ ختم کر کے وہاں انتشار اور انارکی پھیلا دیا۔ 2003ء میں عراق کی جنگ کے افسوسناک نتائج نے بدستور امریکہ اور مشرق وسطی کو متاثر کر رکھا ہے۔" اس امریکی اخبار نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے اب تک وینزویلا کے خلاف اقدامات کا کوئی قابل قبول جواز پیش نہیں کیا ہے۔
دوسری طرف برطانوی اخبار گارجین نے بین الاقوامی قانون کے چند ماہرین سے بات چیت شائع کی ہے جنہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادرور کی گرفتاری کو اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جیفری رابرٹسن، سیرالئون میں اقوام متحدہ کی جنگی جرائم کی عدالت کے سابق سربراہ، نے کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 4 کے تبصرے 2 کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ جارحیت کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جسے نورن برگ کی عدالت نے سب سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔" کنگسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ایلویرا ڈومینگو ریڈوینڈو نے بھی امریکی اقدام کو دوسرے ملک کے خلاف طاقت کا غیرقانونی استعمال قرار دیا ہے۔
اسلوبِ حیاتِ علیؑ؛ قرآنی اور اسلامی زندگی کا کامل نمونہ
علیؑ کے آنے کی سب کو خوشی نہیں ہوتی وہ بت شکن ہے بتوں کو برا ہی لگتا ہے!
تیرہ رجب المرجب، مولودِ کعبہ، مظہرِ فضل و کمال، سرچشمۂ عدل و انصاف، پیکرِ صبر و ثبات، امانتوں کے امین، شجاعت و شہامت، عزم و استقامت اور عبادت و اطاعتِ خدا اور رسولؐ کی زندہ مثال ، اسدُاللہ الغالب، غالب کل غالب و مطلوب کل طالب ،صاحب المفاخر و المناقب، مولی الکونین امام المشرقین والمغربین، امام المتقین، سید الوصین،امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولادتِ باسعادت و با برکت کے موقع پر تمام محبانِ امامت و ولایت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔
کس قدر باعثِ سعادت ہے کہ ہم وارث و جانشین ختم المرسلین ،امیر المؤمنین ،امامِ متقین حضرت علی علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ سے زندگی کے ہر گوشے میں رہنمائی حاصل کریں—اطاعت و عبادت میں اخلاص، سیاست میں دیانت، عدل میں استقامت، مہربانی میں وسعت، محبت میں خلوص اور اخلاق میں بلندی۔ یقیناً حضرت علی علیہ السلام تمام بنی نوع انسانی کے لئے بہترین رول ماڈل ہیں آپ ؑ کا اسلوبِ حیات ہر دور کے مسلمانوں اور چاہنے والوں کے لیے کامل نمونہ اور روشن مینار ہے۔
قرآنِ مجید کی روشن آیات اور معصومینؑ سے منقول روایاتِ معتبرہ کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ جو شخص قرآنی و اسلامی طرزِ حیات اختیار کرنے کا خواہاں ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کا درس امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے حاصل کرے۔
بغیرِ حب علی ؑ، لطف ِزندگی کیا ؟ یہ زندگی تو ملی ہے برائے عشقِ علی ؑ
سید المرسلین ،رحمت العالمین ،خاتم النبین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی نظر میں جو بھی حضرت علیؑ کا شیعہ بنا اور ان کے نقشِ قدم پر چلا، وہی کامیاب و کامران ہوا اور اسی کے لیے جنت کی بشارت ہے۔
''شیعة علّی ھم الفائزون''علیؑ کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔ (کنوز الحقائق صفحہ ٨٢- مجمع الزوائد : ج٩ ص ١٣١- فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ : ج٢ ص ١١٧ ص ١١٨-بشارت مصطفی : ص ١٩٧)
پس ہر مسلمان خاص کرعلی ابن ابیطالب علیہ السلام کے شیعوں اور محبوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کے اسلوبِ زندگی کو سمجھے، پہچانے اور اپنے گفتار و کردار میں اسے عملی جامہ پہنائیں۔اس لئے کہ علی ؑ کے شیعہ ہونے کا مفہوم محض دعویٰ نہیں، بلکہ علیؑ کے نقشِ قدم پر قدم رکھنا اور عملی طور پر ان کی پیروی کرنا ہے۔
ہم اہلِ بیتؑ سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اہل بیت اطہار علیہم السلام کی مرضی کے مطابق نہیں چلتے ! شیعہ ہونا ایک بھاری اور ذمہ داری سے بھرپور مقام و مرتبہ ہے۔ اگر ہم واقعی امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے شیعہ بننا چاہتے ہیں اور امت کے پدرِ مہربان کی اطاعت کا عزم رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی اور اپنے لواحقین کی تعلیم و تربیت کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر خاص توجہ دینا ہوگی۔
یہ پہلو درحقیقت ہمارے زمانے کا بھی امتحان ہے اور اس دنیا میں انسان کے لیے ہمیشہ سے جاری آزمائش بھی—اور وہ یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جامعُ الاضداد ہو۔ یعنی اس کے دل میں امید اور خوف، رجاء اور خشیت، محبت اور احتیاط ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہوں۔ نہ امید اتنی غالب ہو کہ انسان غفلت میں مبتلا ہو جائے، اور نہ خوف اس قدر چھا جائے کہ انسان مایوسی کا شکار ہو جائے۔ یہی وہ توازن ہے جو خداوندِعالم اپنے بندوں سے طلب کرتا ہے، اور یہی سیرتِ علویؑ کا نمایاں درس ہے۔
ذیل میں امامِ المتقین حضرت علی علیہ السلام کے اسلامی طرزِ حیات کی چند اہم اور بنیادی خصوصیات کا اجمالی ذکر کیا جاتا ہے:
1- حلال روزی اور رضائے الٰہی کا حصول
امام علیؑ کی زندگی کی سب سے نمایاں خصوصیت حلال روزی اور رضائے الٰہی ہے۔ آپؑ نے کبھی حرام کو اپنے دامن سے نہ لگایا اور جب بھی دو ایسے راستوں کے درمیان قرار پائے جن دونوں میں خدا کی رضا تھی، تو ہمیشہ کٹھن اور دشوار راستے کو اختیار فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کو رسولِ خدا ﷺ کا امین اور معتمد سمجھا جاتا تھا اور ہر نازک موقع پر آپؑ ہی سے مدد لی جاتی تھی۔
مولا ئے کائنات حضرت علی ؑ کی یہ سیرت موجودہ دور میں تمام مسلمانوں کو خاص کرعلی ؑ کے چاہنے والوں سے مخاطب ہے کہ وہ حلال روزی کمانے کے لیے اسلامی اور علوی اصولوں پر مبنی کاروبار، نوکری، زراعت یا دستکاری جیسے جائز ذرائع اپنائیں، سود، دھوکہ دہی، ملاوٹ، رشوت، جوا اور دیگر حرام کاموں سے پرہیز کریں، نیت خالص رکھیں، محنت سے کمائیں، شفافیت برتیں، اور حقوق العباد کا خیال رکھیں؛ یہ تمام طریقے رزق حلال کو یقینی بناتے ہیں اورخداو رسول ؑ اور اہل بیتؑ رسول ؑ کی خشنودی و رضا کا باعث بنتے ہیں۔
2- حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت
اسلوبِ علویؑ میں حق کی حمایت اور باطل سے عدمِ مصالحت ایک اٹل اصول ہے۔ آپؑ نے کبھی عدل کے مقابل کسی مصلحت کو قبول نہ کیا اور نہ ہی ظالم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔ آپؑ کا فرمان آج بھی تاریخ کے سینے پر نقش ہے کہ حق کے دشمن کے مقابلے میں نہ نرمی ہے اور نہ کمزوری۔ یہی قاطعیت حکومتِ علویؑ کا امتیاز بنی، اگرچہ یہی عدل دنیا پرستوں کو ناگوار گزرا۔اور یہ نہایت ہی معروف جملہ ہے کہ : قتل علی فی محراب المسجد لشدۃ عدلہ محراب؛محراب مسجد میں علی علیہ السلام کو ضربت، شدت عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔۔۔لہذاتاریخ ہمیشہ اس بات کی گواہ رہے گی کہ حق کی حمایت حضرت علی ؑ کی سیرت کا بنیادی حصہ رہاہے، وہ ایک مثالی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ انصاف، حقوق انسانی اور سچائی کا ساتھ دیا، اور اپنے اعمال سے دوسروں کو نصیحت کی۔
3- سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی
سیاستِ علویؑ کی بنیاد رضائے خداوندی پر استوار تھی۔ نہ شمشیر کی دھمکی آپؑ کو خوف زدہ کر سکی اور نہ نیزوں کی چمک آپؑ کے عزم کو متزلزل کر پائی، کیونکہ آپؑ کا سہارا یقینِ محکم اور توکلِ کامل تھا۔ وہ سیاست جو خدا کی رضا سے جڑی ہو، کبھی خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوتی۔
۴- عدل و انصاف
عدل و انصاف حضرت امام علیؑ کی زندگی کی روح تھا۔ حضرت علیؑ کی نگاہ میں عدالت اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک فریضۂ الٰہی اور ناموسِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ انسان اپنے سامنے ظلم و ستم ہوتے دیکھے اور خاموش تماشائی بن کر کھڑا رہے۔ ان کے نزدیک ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کے فروغ کے لیے سعی و کوشش کرے۔
حضرت علیؑ قانون کے نفاذ میں خاندان پرستی یا ذاتی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ جب آپؑ کے سگے بھائی جنابِ عقیلؑ نے بیت المال سے اضافی رقم کا مطالبہ کیا تو آپؑ نے اصول و انصاف کی خاطر سختی سے انکار کر دیا۔ آپؑ کا اعلان تھا کہ اگر یہ مال میرا ذاتی بھی ہوتا تب بھی میں مساوات سے کام لیتا، چہ جائیکہ یہ اللہ کا مال ہے۔ یہی عدل علویؑ تھا جو تقویٰ کے سب سے قریب تر تھا۔
۵- محروموں اور مظلوموں سے ہمدردی
حضرت امیرالمؤمنینؑ کا دل ہمیشہ محروموں اور مظلوموں کے ساتھ دھڑکتا تھا، اور آپؑ اپنی پوری زندگی میں ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔آپؑ عوام کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے اور اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ حاکم شکم سیر ہو اور رعایا بھوکی۔ آپؑ کی شبیں فاقہ میں گزرتیں مگر معاشرے کے کمزور طبقے کے چہروں پر مسکراہٹ باقی رہے—یہی ہمدردی علویؑ تھی۔
۶- سادگی اور قناعت پسندی
باوجود اس کے کہ آپؑ کے پاس حلال ذرائع سے آمدنی موجود تھی، سادگی اور قناعت آپؑ کا شعار رہی۔ اقتدار ہو یا گوشہ نشینی، زندگی کا رنگ ایک ہی رہا۔ نہ محلات بنے، نہ خزانے جمع ہوئے، بلکہ پیوند لگا لباس اور خالی ہاتھ ہی آپؑ کی دنیاوی میراث تھی۔
۷-اطاعت و عبادت میں بندگی مجسم پیکر
عبادت کے میدان میں امام علیؑ بندگی کا مجسم نمونہ تھے۔ آپؑ نماز کو امانتِ الٰہی سمجھتے اور وقتِ نماز لرز اٹھتے، کیونکہ یہی شعورِ عبادت انسان کو حقیقی بندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
حتی آپؑ کی انگوٹھی کے نگین پر کندہ کلمات بھی توحید، استغفار اور عزتِ الٰہی کا درس دیتے تھے، تاکہ انسان ہر لمحہ خدا کو یاد رکھے۔ اسی طرح آپؑ کے نزدیک نیک اولاد دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی—ایسی اولاد جو خدا کی اطاعت گزار ہو اور والدین کے لیے ذخیرۂ آخرت بنے۔
۸-اولاد سے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی
موجودہ دور میں اولاد کی تربیت کے لیے تربیتی اصولوں پر عمل، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، اخلاقی اور روحانی اقدار، کھلا اور دوستانہ ماحول، اور تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی تیاری ضروری ہے تاکہ بچے مضبوط معاشرے کے معمار بن سکیں، عصرِ حاضر میں بچوں کی اخلاقی تعلیم وتربیت کے لئےحضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی تعلیمات و ہدایات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، آپ ؑ نے اپنی سیرتِ تابندہ کے ذریعے محبت، شفقت اور باہمی ہمدردی کو تربیتِ اولاد کی اساس قرار دیا اور اس امر کو واضح فرمایا کہ باپ محض نظم و سختی کا مظہر نہ ہو، بلکہ اولاد کے لیے جائے امان، پشت پناہ اور حوصلہ بخش رفیق بھی ہو۔ آپؑ کے گفتار و کردار نے معاشرے کو یہ درس دیا کہ علم کی جستجو اور اخلاقِ فاضلہ کی پرورش ہی انسان کی حقیقی عظمت کی ضامن ہے۔
آج کے پُرآشوب دور میں بھی حضرت علیؑ کی حیاتِ مبارکہ والدین، بالخصوص والدکے لیے ایک زندہ اور ہمہ گیر نمونہ ہے، جو آئندہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر میں رہنمائی کا روشن مینار ثابت ہو سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ امام المتقین ، امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا طرزِ زندگی محض تاریخ کا ایک باب ہی نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں خاص کر مسلمانوں اور علی ؑ کے شیدائیوں کے لیے زندہ دستورِ حیات ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو اگر دل و عمل میں روشن ہو جائے تو انسان ہی نہیں بلکہ پوراملک و معاشرہ بھی سنور سکتاہے۔
سب سے بڑی یہی تو فضیلت علیؑ کی ہے سیرت جو ہے نبی کی وہ سیرت علی ؑکی ہے۔
بے شبہ کٹ رہی ہے عبادت میں زندگی جب تک نگاہ شوق میں صورت علیؑ کی ہے۔
جو عاشق رسولؐ ہے وہ عاشق علی ؑہے حب نبی کے ساتھ محبت علی کی ہے۔
منہ سے نکل ہی جاتا ہے مشکل میں یا علیؑ ہر دور میں جہاں کو ضرورت علیؑ کی ہے۔
منابع و ماخذ
الارشاد، ص ۲۵۵
المناقب، ج ۳، ص ۱۱۰٫
اسطوانه الحرس
نهجالبلاغه، الخطب: ۲۴
نهجالبلاغهْ، خ ۲۲
سوره مائده، آیه ۸؛ سوره انعام، آیه ۱۵۲٫
نهجالبلاغهْ،، خ ۱۲۴
حلیهْ الاولیاء، ج ۱، ص ۷۱
نهجالبلاغهْ،، نامه: ۴۵
المناقب ابن شهر آشوب، ج۲، ص۹۵
المناقب، ج۲، ص ۱۲۴؛ الاحزاب، آیه ۷۲
الخصال، ص ۱۹۹٫
تفسیرالصافی، ج۴، ص ۲۷
تحریر: مولانا سید تقی عباس رضوی کلکتوی
مغربی معاشرے میں خاندانی مسائل اوران کا حل
ماضی میں باپ خاندان کے اندر نظم و ضبط اور ذمہ داری جیسی بنیادی قدروں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھایا کرتا تھا۔ وہ خصوصاً اپنے بچوں کو اس قابل بناتا تھا کہ جب وہ گھریلو ماحول سے باہر قدم رکھیں تو زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ پھر یہی بچے اساتذہ کے سپرد کیے جاتے تھے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اصولوں، سماجی قوانین اور نظم و ضبط کی پابندی کرانے میں باپ ہی کا سا کردار ادا کرتے تھے۔ اس طرح گھر میں باپ کی ذمہ داریاں اور معاشرے میں استاد کا کردار، عورت کی فطری اور بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ مل کر ایک متوازن اور مکمل خاندانی نظام تشکیل دیتے تھے۔
لیکن آج یہ توازن بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ گھر ہو یا سکول، دونوں میدانوں میں باپ کا کردار کمزور پڑتا جا رہا ہے، اور تربیت کا پورا بوجھ صرف ماں کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ یہی عدمِ توازن مغربی معاشروں میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کے اندر پیدا ہونے والے گہرے نفسیاتی بحران اور اخلاقی انحرافات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
فرانس ہی کی مثال لیجیے کہ جہاں علیحدگی اختیار کرنے والے والدین کے ۸۰ فیصد بچے صرف اپنی ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ ۱۶فیصد اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھتے، اور ۱۶ فیصد ایک ماہ میں ایک بار سے بھی کم اپنے پاب سے ملاقات کر پاتے ہیں۔ (ماخذ: "جدل النسوية والذكورية"، ص115)
مغربی معاشروں میں اگر باپ کا کردار ہے بھی تو یہ صرف مالی اخراجات کی ادائیگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اوریا پھر بچوں سے ہفتہ وار وہ مختصر ملاقاتیں جن میں باپ کے لیے تربیت کا بنیادی کردار ادا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ وہاں ایک اصطلاح بھی عام ہو چکی ہے کہ "اتوار والے باپ" یعنی وہ باپ جو صرف اتوار کی چھٹی کے موقع پر بچوں سے ملتے ہیں، اور یہ ملاقات بھی محض چند تفریحی سرگرمیوں تک محدود رہتی ہے کسی روزمرہ تربیت کا حصہ نہیں ہوتی۔مزید یہ کہ جن خاندانوں میں ماں اور باپ دونوں گھر میں موجود ہوتے ہیں، وہاں بھی باپ اکثر عملی طور پر تربیتی ذمہ داریوں سے دور ہی رہتا ہے۔
آج مغربی معاشرے میں ایک خاص خاندانی ماڈل کو ’’جدید نظریات‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں ماں کو بچوں کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کی ذمہ دار ٹھہرا دیا گیا ہے جس میں خوراک اور لباس سے لے کر صحت و اخلاق کی نگرانی تک، اسباق کی پیروی سے لے کر اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سے رابطے تک، حتیٰ کہ بچوں کو اسکول لانے لے جانے اور روزمرہ ضروریات کی خریداری تک ہر ذمہ داری ماں کے کاندھوں پر ہی ڈال دی گئی ہے۔
اس کے برعکس، باپ اپنے بچوں کے لیے محض چند لمحے اور معمولی سی توجہ کا موقع نکال پاتا ہے حتی کہ وہ اگر گھر میں بھی موجود ہو بھی تو بھی عموماً شام کو ٹی وی کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر فٹبال میچ دیکھنے میں مشغول رہتا ہے۔
یہ صورتِ حال صرف ان گھروں تک محدود نہیں جہاں باپ باہر ملازمت کرتا ہے اور ماں گھر پر ہوتی ہے، بلکہ اُن خاندانوں میں بھی یہی منظر نظر آتا ہے جہاں میاں اور بیوی دونوں تقریباً یکساں وقت کے ساتھ بیرونِ خانہ ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عورت ہی اپنے بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے اپنا باقی ماندہ وقت وقف کرتی ہے۔ مغرب میں ایسی عورت کو "ڈبل ذمہ داری اٹھانے والی ماں" کہا جاتا ہے۔
مزید تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ ماں اور بچوں کے درمیان یہ حد سے زیادہ انحصار اور لگاو صرف ابتدائی عمر تک محدود نہیں رہتا جیسا کہ اسلام میں ہے کہ بچے کا فطری تعلق ابتدائی بچپن تک ماں سے زیادہ ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں یہ تعلق جوانی تک جاری رہتا ہے۔ اس رجحان کو "حد سے زیادہ پرورش کرنے والی ماؤں "کہا جاتا ہے، جو شدید نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوں کی پرورش و نگہداشت میں عورت کا مرکزی کردار کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ہمیشہ سے چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق اور فطری طورپر یہ اہلیت عورت کے پاس رہی ہے، اور یہی خاندان کے توازن کا ایک حصہ تھا۔ مگر اس کے باوجود پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گھر کی اقدار اس حد تک عورت کے رحم و کرم کے تابع ہوجائیں جیسا کہ آج کے مغربی معاشرے میں نظر آ رہا ہے۔
لہٰذا اصل مسئلہ دو بنیادی باتوں میں پوشیدہ ہے:
اوّل: جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، بچوں کی نگہداشت کا یہ سلسلہ بچپن سے بڑھ کر نوجوانی اور جوانی کی عمر تک پھیل جانا۔
دوم: خاندان اور معاشرے میں مرد و عورت کے کرداروں کا بنیادی طور پر بدل جانا۔ یعنی دونوں نے اپنے اپنے روایتی اور فطری کردار ترک کر کے نئے کردار اختیار کر لیے ہیں اور یہ سب مکمل صنفی مساوات کے نام پر کیا گیا۔
مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی معاشرے میں خاندانی مسائل کی وجہ بچوں کی پرورش کا فقدان نہیں بلکہ باپ اور ماں کے تربیتی کرداروں میں توازن کا بگڑ جانا ہے۔ باپ کے کردار کو غیر تربیتی بنا دینا، ماں کی سرپرستی کو فطری حدود سے آگے بڑھا دینا، اور فطری خاندانی ڈھانچے کو صنفی برابری کی آڑ میں توڑ دینا ۔ان سب عوامل نے ایک ایسی نسل پیدا کر دی ہے جو نفسیاتی مسائل اور شدید اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ باپ کی ذمہ داری کو صرف اخراجات کی فراہمی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے تربیت کا بنیادی ستون تسلیم کیا جائے۔کیونکہ خاندان کے اندراس کے فطری کرداروں میں دوبارہ توازن قائم کرنا ہی بچوں اور معاشرے کی نفسیاتی و سماجی صحت کی بحالی کی واحد مؤثر راہ ہے۔
شیخ مصطفیٰ الہجری
مولود کعبہ ایک اصول پسند سیاستدان
ایک اچھے سیاستدان کی بنیادی خصوصیات میں انصاف پسندی، امانت داری، پرہیزگاری، اخلاقِ حسنہ، علم و بصیرت، حق گوئی، احساسِ ذمہ داری، مشاورت، تواضع، عوام دوستی، غریب پروری، قانون کی پاسداری، ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا، سستا اور فوری انصاف، تحمل مزاجی، وعدہ وفا، مضبوط قوتِ ارادی، بروقت و برمحل فیصلہ سازی اور قائدانہ صلاحیت شامل ہیں۔ اگر تاریخِ انسانی میں ان تمام اوصاف کو کسی ایک شخصیت میں کامل صورت میں تلاش کیا جائے تو وہ بلا شبہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ذاتِ گرامی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسانیت کی سب سے جامع اور کامل شخصیت ہیں۔ آپ کی عظمت کا احاطہ نہ تاریخ کرسکی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہوگا۔ مولودِ کعبہ ہونے کے ناطے 13 رجب المرجب کی مناسبت سے حضرت علی علیہ السّلام کی سیاسی حیات کے چند روشن پہلو پیش کرنا اس تحریر کا مقصد ہے۔
آپ عدل و انصاف میں "صوت العدالۃ الانسانیۃ"، علم و بصیرت میں "انا مدینۃ العلم و علی بابھا، انا دار الحکمۃ و علی بابھا" آپ علم و حکمت کا دروازہ ہیں۔ تحمل مزاجی میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کا حق خلافت چھن جانے اور آپ کے در اقدس کو نذر آتش کرنے کے باوجود آپ نے پچیس سال تک گوشہ نشینی اختیار کی اور کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ طرزِ عمل Political Tolerance کی اعلیٰ مثال ہے۔ احساس ذمہ داری میں آپ بے مثال تھے۔ آپ کے سامنے جب کھانا لایا جاتا تو فرماتے کہ میں کیسے سیر ہوکر کھانا کھاؤں، شاید حجاز اور یمامہ میں کوئی ایک لقمے کے لیے ترس رہا ہو۔ غریب پروری میں راتوں کو اپنے پیٹھ پر غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کے گھروں تک ہر شب خوراک پہنچاتے تھے، حدیث نبوی کی رو سے "اقضی الناس علی" یعنی بہترین فیصلہ کرنے والے علی علیہ السلام ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کی امانت داری کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ رات کے وقت آپ چراغ روشن کرکے امور حکومتی انجام دینے میں مصروف عمل تھے، اتنے میں ایک شخص آپ سے ملنے آیا تو آپ نے اس چراغ کو گل کرکے ذاتی چراغ کو روشن کیا۔
احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ آپ گمنام طریقے سے کوفے کی گلیوں میں گھومتے تھے، تاکہ وہاں کے غریبوں، مسکینوں اور بیواؤں کی داد رسی کی جاسکے۔ حکومتی امور میں آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ جب مصر کے حالات خراب ہوگئے تو آپ نے حضرت مالک اشتر کو وہاں کا گورنر بنایا۔ اسے ایک خط تھمایا، جو بعد میں عہدنامہ مالک اشتر کے عنوان سے مشہور ہوا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ ہے: اپنے دل میں لوگوں کے لیے محبت پیدا کرو، کیونکہ وہ یا تو تمہارے دینی بھائی ہے یا تمہارے ساتھ انسانیت میں مشترک ہے۔ آپ کی سادہ زیستی کا یہ عالم تھا کہ پرانے صاف ستھرے پیوند شدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا اے مولا، اگر آپ نیا لباس زیب تن کرتے تو آپ کی شخصیت کے مطابق ہوتا۔ فرمایا: یہ لباس دل کو فروتنی عطا کرتا ہے، تکبر سے محفوظ رکھتا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے یہی کافی ہے۔
اگرچہ آپ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند تھے، لیکن حکومتی امور میں آپ بسا اوقات لوگوں سے مشورہ بھی لیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے حکومتی کاموں کی خاطر ایک خاص مقام سے افراد کے چناؤ سے پہلے چند تجربہ کار لوگوں کو بلاکر وہاں کے لوگوں کی امانت داری اور اجتماعی امور میں ان کی کارکردگی کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان سے رائے لینے کے بعد فرمایا: جو بھی بغیر کسی مشورے کے کسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو تباہی کے داہنے تک پہنچا دیتا ہے۔ مساوات کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ مسجد سے نکلے تو ایک عمر رسیدہ فقیر لوگوں سے کچھ مانگ رہا تھا۔ لوگوں نے اہانت آمیز لہجے میں کہا کہ مولا! یہ شخص مسیحی ہے۔ امام علیہ السلام نے ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوکر فرمایا: جب یہ جوان تھا تو تم لوگوں نے ان کی طاقت سے استفادہ کیا ہے۔ جب یہ کمزور ہوگیا ہے تو تم لوگ اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ فرما کر بیت المال سے اس کا خرچہ دینے کا حکم دیا۔
بنابریں حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شخصیت محض ایک مذہبی یا تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ آپ تاریخِ انسانی میں دانش پر مبنی سیاست (Wisdom-based Politics) کا نادر نمونہ ہیں۔ آپ کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ حق، عدل، اخلاق اور انسانیت کے قیام کے لیے تھی۔ حضرت علیہ السّلام کی سیاست کا بنیادی ستون اصول پسندی تھا نا کہ مصلحت۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سیاست اگر اصول سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ آپ نے کبھی بھی حق کو مصلحت پر قربان نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے معاویہ جیسی مکار سیاست کا سہارا نہیں لیا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وقتی طور پر یہ طرزِ سیاست کامیاب ہوسکتی ہے۔ آپ کا مشہور فرمان ہے: اگر دینی اصول مانع نہ ہوتے تو میں سب سے بڑا سیاست دان ہوتا۔ یہ جملہ حضرت علی علیہ السلام کی دانشمندانہ سیاست کی واضح دلیل ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک حکومت غنیمت نہیں، ذاتی حق نہیں، خاندانی میراث نہیں بلکہ الٰہی امانت ہے۔ اسی لیے خلافت قبول کرتے وقت فرمایا: اگر حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ مجھ پر لازم نہ کیا جاتا تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ یہ فکر جدید سیاسی فلسفے میں Public Trust Theory سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاست کا مرکز عدلِ مطلق تھا۔ عدل ایسا کہ خلیفہ اور عام شہری برابر، مسلمان اور غیر مسلم قانون کے سامنے مساوی، امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد خلافت میں ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ قاضی شریح کے پاس پہنچا۔ آپ کے پاس گواہ نہ ہونے کے باعث فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا، مگر علی علیہ السلام نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ جس پر یہودی نے متاثر ہوکر آپ کی خلافت کو خلافت الہیہ قرار دے کر زرہ آپ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ رویہ آپ کو Rule of Law کا بانی ثابت کرتا ہے۔
حضرت علی علیہ السّلام طاقت کو تلوار یا فوج سے نہیں، بلکہ اخلاقی اتھارٹی سے حاصل کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ظلم وقتی طور پر طاقتور ہوتا ہے، مگر عدل دائمی طاقت رکھتا ہے۔ اسی لیے آپ فرماتے تھے: حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ یہ جملہ سیاسی حکمت کا شاہکار ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی دیانت داری کا اعلیٰ ترین نمونہ حضرت عقیلؑ کا واقعہ ہے۔ بھائی ہونے کے باوجود بیت المال سے زائد دینے سے انکار کیا۔ دہکتی ہوئی سلاخ تھامنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ رشتہ قانون سے بالاتر نہیں، سیاست میں قرابت داری کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصور آج کے دور میں Anti-Corruption Governance کی بنیاد ہے۔ حضرت علی علیہ السلام اشرافیہ نواز سیاست کے سخت مخالف تھے۔
آپ کی سیاست عوام دوست، غریب نواز اور کمزور طبقے کی محافظ تھی۔ آپ خود راتوں کو اناج اٹھا کر یتیموں اور بیواؤں کے گھروں تک پہنچاتے تھے۔ یہ محض ہمدردی نہیں، بلکہ Social Justice Policy تھی۔ حضرت علی علیہ السلام کا خط مالک اشتر کے نام دنیا کا ایک عظیم سیاسی و انتظامی منشور ہے۔ اس میں انسانی حقوق، گورننس، عدالتی شفافیت، فوجی اخلاقیات، عوامی فلاح و بہبود سب کچھ موجود ہے۔ آج بھی اقوامِ متحدہ اور جدید سیاسی مفکرین اسے Ideal Governance Charter مانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ بھی اصولوں کے تحت لڑی۔ آپ خود سے جنگ کا آغاز نہیں کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست اخلاقی سیاست (Ethical Politics) کہلاتی ہے۔
مسجد میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت اس بات کی دلیل ہے کہ سچی سیاست اکثر مظلومیت پر ختم ہوتی ہے، مگر تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکر جارج جرداق نے کہا: "قتل علی لشدۃ عدلہ" علیہ السلام کو ان کے شدید عدل کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ بنابریں حضرت علی علیہ السلام فقط سیاست دان نہیں، بلکہ سیاست کے استاد بھی ہیں۔ آپ کی سیاست ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ اصول کامیابی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ عدل سیاست کی روح ہے۔ اگر آج کی دنیا حضرت علی علیہ السّلام کی سیاست سے صرف چند اصول ہی اپنا لے تو ظلم کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا اور انسانیت محفوظ ہوسکتی ہے۔
نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان 10 بنیادی فرق
ایران کے سابق سفیر اور سینئر سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ نیابتی نہیں بلکہ ایک حقیقی مزاحمتی قوت ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے نمائندے کے مطابق، شہید سردار قاسم سلیمانی کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب بدھ کی شام تہران میں واقع شہید آوینی فیکلٹی میں منعقد ہوئی۔
اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سابق سفیر برائے ترکیہ اور سابق سفارت کار محمد فرازمند نے 12 روزہ جنگ اور محورِ مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے میں ایک منظم بیانیہ سازی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محورِ مزاحمت اور ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور امریکہ و صہیونی رژیم جب چاہیں ایران پر حملہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ محورِ مزاحمت اور نیابتی قوت میں اصل فرق کیا ہے، اور کہا کہ انہوں نے یہ بات رائج کرنے کی کوشش کی کہ حزب اللہ، الحشد الشعبی اور انصاراللہ ہماری نیابتی قوتیں ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں۔ یہ نیابتی نہیں بلکہ مزاحمتی قوتیں ہیں۔ اس سابق سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کم از کم 10 بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں:
1۔ مزاحمتی قوت کا بنیادی ہدف صہیونی قبضے اور امریکہ کے علاقائی منصوبے کے خلاف مزاحمت ہے، جبکہ نیابتی قوت کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔
2۔ مزاحمتی قوت کرائے کی نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی کرائے کے جنگجو تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کرائے کے جنگجو، جیسے ویگنر گروپ، صرف پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔
3۔ مزاحمتی قوت عدل، حق طلبی اور تسلط کے انکار پر مبنی بیانیہ رکھتی ہے۔
4۔ مزاحمتی قوت نظریاتی اور بامقصد ہوتی ہے، جبکہ نیابتی قوتیں جیسے داعش آرمان پسند نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے پاس انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔
5۔ مزاحمتی قوت اپنے سیاسی جغرافیے میں منصوبہ رکھتی ہے اور عوامی حمایت کی حامل ہوتی ہے۔
6۔ مزاحمتی قوت اپنے ہی ملک کی حکومت اور عوام کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتی، جبکہ نیابتی قوت ایسا کرتی ہے۔
7۔ نیابتی قوت کا اپنے بیرونی حامیوں سے رابطہ منقطع ہوتے ہی وجود ختم ہو جاتا ہے، لیکن مزاحمتی قوت ایسا نہیں ہوتی۔
8۔ مزاحمتی قوت علیحدگی پسند نہیں ہوتی بلکہ علیحدگی پسندی کے خلاف جدوجہد کرتی ہے؛ اس کی مثال عراقی کردستان میں ہونے والا علیحدگی کا ریفرنڈم ہے جس کے خلاف الحشد الشعبی نے کردار ادا کیا۔
9۔ مزاحمتی قوت فرقہ وارانہ یا نسلی نہیں ہوتی بلکہ ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہوتی ہے۔
10۔ مزاحمتی قوت کا کمانڈر خودمختار ہوتا ہے اور باہر سے احکامات نہیں لیتا۔
محمد فرازمند نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی برسی پر سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کریں اور جعلی روایات کا مؤثر جواب دیں۔ خطے کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ریاض، دوحہ اور مسقط سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو بے مثال ہیں۔ 2017 میں جب خلیجی ممالک نے قطر کا محاصرہ کیا اور یہ ملک ایران اور ترکیہ کی مدد سے بچ نکلا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سے لوگ منتظر تھے کہ امارات کوئی غلطی کرے تاکہ سعودی عرب اس کا جواب دے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، امارات کے القائی بیانیوں کے زیرِ اثر یمن کی جنگ، جمال خاشقجی کے معاملے اور دیگر کئی سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارا جنوبی ہمسایہ (امارات) خطے میں اسرائیل کے منصوبوں کا عملی آلہ بن چکا ہے، جس کی تازہ مثال صومالی لینڈ کا معاملہ ہے۔

























![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
