سلیمانی
ہم نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دیا؛ ایرانی قوم سے احترام کے ساتھ بات کریں، جنرل ابن الرضا
ایرانی قائم مقام وزیرِ دفاع و مسلح افواج کے معاون نے کہا ہے کہ ایران نے عملی میدان میں خطے کی طاقت کے توازن کو بدل دیا اور ثابت کر دیا کہ ”مارو اور بھاگ جاؤ“ کا دور، سمندر پار سے فوجیں لانے کا زمانہ اور دھمکیوں کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کا مضحکہ خیز پروپیگنڈا میدانِ عمل کی حقیقت اور فاتح فریق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
جنرل ابن الرضا نے کہا کہ ایران کی ہزاروں سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں، تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ایرانی قوم سے احترام کی زبان میں بات کرنا ضروری ہے۔
پاک ایران تجارت جاری ہے، تہران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کے پابند نہیں، پاکستان
مہر خبررساں ایجنسی نے ایکسپریس نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر دورہ تہران کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ کشیدگی میں کمی کی پاکستانی کی کوشش کا حصہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے دورے کو امریکا سے منسلک کرنے کی خبریں بےبنیاد ہیں۔ فیلڈ مارشل کا دورہ خالصتا ثالثی کوششوں کا حصہ تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ تجارت بین الاقوامی تجارت قوانین کے تابع ہے۔ پاک ایران تجارت جاری ہے اور پاکستان اسے فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ پاکستان ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کا پابند نہیں۔ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی کی پابندیاں عائد ہوں تو معاملہ دوسرا ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرے سے باہر پابندیوں جیسے یکطرفہ اقدامات کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔
امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے، سربراہ عالمی فوجداری عدالت
بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ توموکو اکانے نے کہا ہے کہ اگر خود عدالت کو بھی امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا تب بھی ہم ہار نہیں مانیں گے۔
تفصیلات کے مطابق جاپانی نژاد بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ نے امریکہ کی جانب سے اس عالمی ادارے اور ان کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا عزم مضبوط ہے۔
توموکو اکانے نے کہا کہ کسی صورت اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ ایک مستقل ادارے کی حیثیت رکھنے والی بین الاقوامی فوجداری عدالت کمزور ہو یا ختم ہوجائے۔ ہم اس ادارے کی تباہی کی اجازت نہیں دیں گے اور پوری طاقت کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کچھ کمزور ممالک ایسے ہوں جو امریکہ کے دباؤ کے سامنے جھک جائیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے نکلنے کا فیصلہ کریں، لیکن ہمیں مل کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ کوئی بھی ملک اس ادارے سے الگ نہ ہو۔ ہمیں متحد رہ کر مضبوطی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزارت خزانہ نے گزشتہ منگل کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی پابندیوں کا ہدف عدالت کی سربراہ جاپانی جج توموکو اکانے اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے جج عبداللہ یایا سو تھے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے پاس موجود تمام ذرائع اور اپنے اتحادیوں کے تعاون سے ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرے گا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ختم کر دے گا، جبکہ ضرورت پڑی تو اسے اینٹ اینٹ کر کے گرا دیا جائے گا۔
امریکا کی جانب سے اس عدالت کے خلاف ناراضی کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت سے ہوا، جب عدالت نے افغانستان میں امریکی افواج کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی کوشش کی تھی۔
ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں بھی امریکی اور اسرائیلی اقدامات سے متعلق تحقیقات کی کوششوں پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بعض حکام کے خلاف پابندیاں عائد کی گئیں۔
عالمی سائنسی اولمپیاڈ میں ایران کے آٹھ تمغے اور ایک عالمی پوزیشن
ایران کی طالبہ مہرانہ واشقانی فراھانی نے شارٹ ڈاکیومنیٹر فلم سیکشن میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
یہ ایران کی قومی اولمپیاڈ ٹیم کی سب سے نمایاں کامیابی شمار ہوتی ہے۔
انفرادی ٹیسٹ کے حصے میں، شمیم مولا قلی زادہ اور جواد نامجو نے ایک ایک چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ غزل غازی زادہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہیں۔
جواد نامجو نے "ارتھ سسٹم پروجیکٹ" (ESP) کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ بھی جیتا، اور "انٹرنیشنل ٹیم فیلڈ انویسٹی گیشن" (ITFI) کیٹیگری میں شمیم ملا قلی زادے، جواد نامجو، غزل غازی زادہ، اور مہرانہ واشقانی فراھانی نے ایک ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
اسی مناسبت سے ایرانی ٹیم نے بین الاقوامی ارتھ سائنس اولمپیاڈ کے اس ایڈیشن کے انفرادی اور گروپ سیکشن میں مجموعی طور پر چاندی کے 2 اور کانسی 6 تمغوں سمیت 8 تمغے جیتے اور مختصر دستاویزی فلم کے زمرے میں دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
19واں بین الاقوامی ارتھ سائنس اولمپیاڈ (IESO 2026) 20 سے 27 اگست 2026 تک اٹلی کے شہر ٹورین میں منعقد ہوا جس میں 41 ممالک کے 160 سے زائد طلباء نے حصہ لیا۔
امریکہ نے شرارت کی تو ایسا سبق سکھائیں گے جو تاریخ میں ثبت ہو جائے گا، محسن رضائی
ایرانی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے تہران میں ملاقات کے دوران کہا کہ ایران نے مشکل حالات اور کڑے وقت میں قطر کی مدد کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور برادرانہ تعلقات پر زور دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امریکہ پر اعتماد نہیں ہے، کیونکہ اس نے کئی مرتبہ سفارت کاری اور مذاکرات کے دوران غداری کی ہے۔
محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کوئی شرارت شروع کی تو ہم اس کے فوجی اور اقتصادی مفادات کو ایسا نقصان پہنچائیں گے کہ وہ تاریخ میں ثبت ہو جائے گا۔
جنرل محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکہ کو پہلے ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، اس کے بعد ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اقدام کرے گا۔
ملاقات میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ ہم مشکل حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کبھی بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون میں تردد نہیں کیا۔
قطر کے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی موجودہ حساس صورتحال میں، احساسِ ذمہ داری پر مبنی جذبے کے ساتھ، ہم ہمیشہ ایران کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ اور پُرعزم ہیں۔
تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز، 600 ملکی و غیر ملکی مہمانوں کی شرکت
تہران کے سمٹ ہال میں صدر مسعود پزشکیان اور اسلامی دنیا کے ممتاز علما و دانشوروں کی شرکت سے شروع ہوگئی، کانفرنس کا مرکزی موضوع "شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے افکار میں اسلامی وحدت" ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس جمعرات کو تہران کے سمٹ ہال میں صدر مملکت مسعود پزشکیان اور اسلامی دنیا کے ممتاز علما اور دانشوروں کی موجودگی میں شروع ہوئی۔
اس سال کانفرنس کا انعقاد "شہید امام آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے افکار میں اسلامی وحدت" کے عنوان سے کیا جارہا ہے۔
مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام حمید شہریاری نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان اور اندرون و بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی اس اہم کانفرنس میں شرکت کا خیرمقدم کیا۔
شہریاری نے گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم واقعہ وہ جنگ تھی جو امریکہ اور دہشت گرد صہیونی حکومت نے ایرانی قوم کے خلاف مسلط کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ایران کے خلاف چھ ماہ تک جاری رہی، کیونکہ عالمی استکبار ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہے اور کسی حریف کی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک مضبوط ایران اسلامی ممالک اور مظلوم اقوام کے لیے ایک نمونہ ہے۔
ایران کے خلاف امریکی دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے حجت الاسلام شہریاری نے کہا کہ ایران کے دشمن نہیں چاہتے کہ ملک جوہری توانائی، میزائل طاقت، جدید بنیادی ڈھانچے، تیل، سائنس دانوں، بہادر فوجیوں، مضبوط حکومت اور نظام اور حتی کہ مضبوط قیادت کا حامل ہو، کیونکہ ان میں سے ہر ایک عنصر اسلامی قوم کے قومی اتحاد اور مزاحمت کو مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے 28 فروری کو ہرمزگان کے جنوبی شہر میناب میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر امریکی حملے کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں اسکول کے 168 سے زائد طلبہ اور اساتذہ شہید ہوئے تھے۔ شہریاری نے امریکہ سے سوال کیا کہ میناب اسکول کے معصوم طلبہ کو شہید کرنے سے اسے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ اور مغربی ذرائع ابلاغ اس سوال کے سامنے خاموش کیوں رہے؟
حجت الاسلام شہریاری نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران امریکی پالیسیوں کی ناکامی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کے باوجود امریکی حکومت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکی، کیونکہ شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران خطے کی پہلی طاقت بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی سائنس دان ٹیکنالوجی کی سرحدوں تک پہنچے، نوجوانوں نے میزائل اور اسٹریٹجک ڈرون تیار کیے، جبکہ ایرانی افواج اور فوجیوں نے دنیا کی سب سے بڑی فوج کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، خطے میں امریکی اڈوں کو تباہ کیا اور دنیا بھر کے آزادی پسندوں کو ظالموں کے خلاف مزاحمت کا سبق دیا۔
مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے خطے کے ممالک کے لیے امریکہ کی موجودگی کے تلخ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ کی موجودگی مزید مسائل پیدا کرتی ہے، لہذا سلامتی صرف خطے کے ممالک خود ہی یقینی بنا سکتے ہیں۔
40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں تقریباً 600 ملکی و غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔ ان میں اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والی ممتاز علمی، ثقافتی اور مذہبی شخصیات، جن میں عراق، پاکستان، ترکی، لبنان، افغانستان اور خلیج فارس کے ممالک کے نمائندے شامل تھے، کے علاوہ تہران میں مقیم متعدد سفیر اور بزرگ دینی مراجع کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اتحاد بین المسلمین کے لیے مسلم ممالک کا علمی و عملی اشتراک ضروری ہے
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ہفتۂ وحدت اور میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس، ڈائریکٹر مرکزِ تحقیقِ ریاضیاتی علوم (MSRC)، صدرِ شعبۂ ریاضیاتی علوم، بانی و نگران، LAMDA، الطوسی STAR و الخوارزمی DIUI مسلم ریاضی دان تحقیقی یونٹس، وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کیمپس نے مہر خبررساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کی ہے۔
سوال: رسولِ خدا کی سیرتِ طیبہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ فکری و تہذیبی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آپ کے نزدیک دور حاضر میں سیرتِ نبوی کو وحدتِ امت کے عملی نمونے کے طور پر کس طرح اجاگر کیا جا سکتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس: رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ کی سیرتِ طیبہ مسلمانوں کے درمیان مشترکہ فکری و تہذیبی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم اس سوال کو سمجھنے کے لیے عہدِ نبوی کے معاشرے کی طرف واپس جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعثتِ رسول سے قبل عرب معاشرہ مختلف قبائل، خاندانوں اور گروہی شناختوں میں منقسم تھا۔ قبائلی عصبیت اس معاشرے کی بنیادی فکری و سماجی قوت تھی۔ ہر قبیلہ اپنی شناخت، مفادات اور برتری کو مقدم سمجھتا تھا، جس کے نتیجے میں باہمی رقابت، تنازعات اور طویل جنگیں معاشرتی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں؛ یعنی اس معاشرے میں ایک ایسی جامع فکری بنیاد موجود نہیں تھی جو مختلف قبائل کو ایک مشترکہ انسانی اور اجتماعی مقصد کے تحت متحد کر سکے۔
ایسے ماحول میں رسولِ خدا نے صرف ایک مذہبی پیغام نہیں دیا، بلکہ ایک جامع فکری، اخلاقی اور تہذیبی نظام پیش کیا۔ اس نظام کی بنیاد توحید تھی، جس نے انسان کو مختلف مصنوعی برتری سے نکال کر ایک خدا کے سامنے مساوات کا تصور دیا۔ اس کے ساتھ اخوت، عدل، مساوات، انسانی کرامت، ایثار، رواداری اور اجتماعی ذمہ داری جیسے اصولوں نے ایک منتشر معاشرے کو ایک امت میں تبدیل کیا۔
رسولِ خدا کی عظیم کامیابی یہ تھی کہ آنحضرت نے مختلف قبائل، خاندانوں، علاقوں اور معاشرتی طبقات کو ان کی الگ الگ شناخت ختم کیے بغیر ایک مشترکہ امت کا حصہ بنایا۔ اس سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ وحدت کا مطلب یکسانیت نہیں ہے۔ ایک امت میں شامل ہونے کے باوجود لوگ اپنی زبان، علاقائی ثقافت، روایات اور معاشرتی خصوصیات رکھ سکتے ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک مشترکہ فکری اور اخلاقی بنیاد موجود ہونی چاہیے۔
آج کے دور میں بھی مسلم دنیا مختلف ممالک، زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور معاشرتی روایات میں تقسیم ہے۔ یہ تنوع اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اسے ختم کرنا نہ ضروری ہے اور نہ ہی ممکن۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تنوع کو اختلاف اور تصادم کے بجائے وحدت اور تعاون کی قوت بنایا جائے۔ آج بھی توحید، رسالتِ محمدی، قرآن، عدل، اخوت، انسانی کرامت، علم، امن اور مظلوم کی حمایت جیسے اصول پوری امت کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
چنانچہ دورِ حاضر میں سیرتِ نبوی کو وحدتِ امت کے عملی نمونے کے طور پر اجاگر کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سیرت کے واقعات کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر بیان نہ کریں، بلکہ ان کے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔ مسلکی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دینا، مختلف ثقافتوں کا احترام کرنا، علمی مکالمے کو فروغ دینا، عدل و مساوات کو یقینی بنانا، ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا اور امت کے مشترکہ مسائل پر مشترکہ آواز بلند کرنا اسی نبوی منہج کی عملی صورتیں ہیں۔
میرے نزدیک سیرتِ نبوی کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ امت کی وحدت کا مطلب سب کو ایک جیسا بنانا نہیں، بلکہ مختلف شناختوں کو ایک مشترکہ اخلاقی، فکری اور روحانی مقصد کے تحت جمع کرنا ہے۔جس طرح رسولِ خدا نے قبائلی تقسیم کو اخوتِ اسلامی میں تبدیل کیا، اسی طرح آج مسلم دنیا اپنی لسانی، ثقافتی، علاقائی اور مسلکی تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے توحید، رسالت، عدل، اخوت، علم اور انسانی خدمت کی مشترکہ بنیاد پر ایک مضبوط اور باوقار امت تشکیل دے سکتی ہے۔
سوال: آج عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانیہ سازی، اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کیا مسلم دنیا کی علمی و فکری وحدت اس منفی بیانیے کا مؤثر جواب بن سکتی ہے؟ اگر بن سکتی ہے تو اس کے لیے کن علمی اقدامات کی ضرورت ہے؟
ڈاکٹر شاہین عباس: اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف منفی بیانیے کا مؤثر جواب جذباتی ردِعمل کے بجائے علمی، تحقیقی اور فکری قوت سے دیا جانا چاہیے۔
میری ذاتی رائے ہے کہ مسلم دنیا کو مشترکہ طور پر ایسے تحقیقی مراکز اور علمی پلیٹ فارمز قائم کرنے چاہییں جو اسلام کی حقیقی تعلیمات، مسلم تہذیب کی علمی خدمات اور عصرِ حاضر کے مسائل پر مستند تحقیق پیش کریں۔ جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبے، بین الاقوامی کانفرنسیں، علمی جرائد، ڈیجیٹل آرکائیوز اور مختلف زبانوں میں معیاری تحقیقی مواد کی تیاری اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان محققین کو اسلاموفوبیا، میڈیا بیانیے، بین المذاہب تعلقات اور مسلم دنیا کے مسائل پر جدید تحقیقی طریقۂ کار سے کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس طرح مسلم دنیا دفاعی ردِعمل کے بجائے علم اور دلیل کی بنیاد پر اپنا مؤثر علمی اور عالمی بیانیہ پیش کر سکتی ہے۔
سوال: پاکستان اور ایران سمیت مسلم ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور یونیورسٹی سطح کے روابط وحدتِ اسلامی کے فروغ میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں؟ آپ کے نزدیک اس سلسلے میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور علمی تبادلوں کی کیا اہمیت ہے؟
ڈاکٹر شاہین عباس:پاکستان اور ایران سمیت مسلم ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور یونیورسٹی سطح کے روابط وحدتِ اسلامی کے فروغ کے لیے صرف ایک خوبصورت تصور نہیں، بلکہ ایک عملی ضرورت ہیں۔ میرے نزدیک اب ہمیں وحدتِ امت کے حوالے سے محض کانفرنسوں اور بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ایسے عملی ادارہ جاتی اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتیجے میں مختلف ممالک کے اساتذہ، محققین، طلبہ اور صنعتی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مستقل بنیادوں پر کام کریں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان اور ایران کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان مشترکہ فنڈنگ اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کا آغاز ہونا چاہیے۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور دیگر تحقیقی و سائنسی ادارے مختلف ممالک اور اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے لیے فنڈنگ اور پروگرامز فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح ایران میں بھی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف فنڈنگ ایجنسیاں اور تحقیقی جامعات موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے باقاعدہ Pakistan-Iran Joint Research Funding Programme جیسے منصوبے شروع کریں، جن کے تحت دونوں ممالک کے اساتذہ اور محققین مشترکہ طور پر پروجیکٹس تیار کریں اور دونوں طرف سے ان کی فنڈنگ ہو۔
دوسرا اہم پہلو:جامعات اور صنعت کے درمیان تعاون ہے۔ جامعات کے اساتذہ اور محققین کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے شروع کرنے چاہییں جو دونوں ممالک کے حقیقی مسائل حل کریں۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت، ریاضیاتی ماڈلنگ، ڈیٹا سائنس، موسمیاتی تبدیلی، پانی، توانائی، زراعت، صحت اور صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ اس سے تحقیق صرف مقالے تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ Research to Industry اور Research to Society کے تصور کے تحت عملی نتائج پیدا کرے گی۔
تیسرا اہم میدان: طلبہ اور اساتذہ کا تبادلہ ہے۔ آج پاکستانی طلبہ دنیا کے مختلف ممالک میں اسکالرشپس پر جا کر MS، MPhil اور PhD کر رہے ہیں، تحقیق کر رہے ہیں اور بعض جگہوں پر علمی و پیشہ ورانہ خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایران میں بھی مضبوط تحقیقی مراکز اور اعلیٰ معیار کی جامعات موجود ہیں۔ ہمیں ایران کے ساتھ بھی باقاعدہ Student Exchange، Faculty Exchange، Joint PhD Supervision، Visiting Professorships، Postdoctoral Fellowships اور مشترکہ MS/PhD پروگرامز شروع کرنے چاہییں۔ اس سے دونوں ممالک کے نوجوان محققین ایک دوسرے کی علمی صلاحیتوں اور تحقیقی تجربات سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔
بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان اور ایران کے درمیان اس علمی و تحقیقی تعاون پر اس سطح کی توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔ خصوصاً ہمارے سینئر محققین اور PhD اسکالرز کے لیے ایران کے تحقیقی اداروں کے ساتھ زیادہ مضبوط روابط پیدا کیے جانے چاہییں۔ ایران نے مختلف شعبۂ ہائے سائنس اور ٹیکنالوجی میں قابلِ ذکر تحقیقی اور تکنیکی صلاحیت پیدا کی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی بھی ملک کی علمی ترقی کو سیاسی یا روایتی تصورات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے علمی میرٹ اور تحقیق کے معیار کی بنیاد پر اس سے سیکھنا چاہیے۔
میری تجویز یہ ہوگی کہ پاکستان اور ایران کے پالیسی ساز ادارے اس سلسلے میں ایک مستقل مشترکہ فریم ورک بنائیں، جس میں HEC، سائنسی و تحقیقی فنڈنگ ایجنسیاں، جامعات، ریسرچ سینٹرز اور صنعت کے نمائندے شامل ہوں۔ اس فریم ورک کے تحت ہر سال ترجیحی تحقیقی شعبوں کا تعین کیا جائے، مشترکہ فنڈنگ فراہم کی جائے، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے کے مواقع پیدا کیے جائیں اور مشترکہ تحقیقی نتائج کو صنعت اور معاشرے تک منتقل کیا جائے۔
میرے نزدیک وحدتِ امت کا ایک مضبوط راستہ علم اور تحقیق بھی ہے۔ اگر پاکستان، ایران اور دیگر مسلم ممالک اپنے بہترین اساتذہ، سائنس دانوں، انجینئرز، محققین اور نوجوان اسکالرز کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم پر لے آئیں تو ہم نہ صرف ایک دوسرے کو سمجھ سکیں گے، بلکہ اپنی اجتماعی علمی و تکنیکی صلاحیت کو بھی مضبوط بنا سکیں گے۔
یہ تعاون صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط نہیں کرے گا، بلکہ وسیع تر مسلم دنیا میں علمی وحدت، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی بنیاد بھی بنے گا۔
ایران کی مزاحمت نے امریکہ کی کمزوری آشکار کردی/انقرہ-تل ابیب جنگ کا امکان نہیں
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ادلب میں ابو ظہور ایئربیس پر اسرائیل کے حملے نے ایک بار پھر انقرہ اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی کو بھڑکا دیا ہے۔ اسرائیل نے اس اقدام کو شام میں ترکیہ کی فوجی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے جواز پیش کیا ہے، جبکہ انقرہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان خفیہ رابطے کے چینلز موجود ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں اور دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ایسا نہیں لگتا کہ ابو ظہور پر حملہ شام میں دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کا آخری واقعہ ہوگا، خصوصا ایسے وقت میں جب تل ابیب حالیہ عرصے میں ترکیہ کو اپنے لیے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ تل ابیب کی حکمت عملی میں ترکیہ کے ایک خطرے کے طور پر نمایاں ہونے سے دونوں فریقوں کے تعلقات کس سمت جائیں گے؟ کیا آنے والے عرصے میں شام میں کشیدگی میں اضافے اور ایک دوسرے کے خلاف زمینی اقدامات کا مشاہدہ ہوگا یا دونوں فریق امریکہ کی ثالثی سے کشیدگی کم کرنے اور عدم تصادم کے لیے کسی طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے؟
اسی تناظر میں مہر نیوز نے ترکیہ کی بحریہ کے ریٹائرڈ اسٹاف افسر اور پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین یاووز سے تفصیلی گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
مہر نیوز: ایران کے خلاف جنگ کے بعد اب ہم صہیونی حکام کی جانب سے ترکیہ کے خلاف دھمکیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ بھی ترکیہ کو ایک وجودی خطرہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ طرز عمل ترکیہ کے ساتھ تصادم کی تیاری کی علامت ہے؟
جلال الدین یاووز: سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ آج ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونی حکومت خطے کے استحکام کو درہم برہم کر رہی ہے، سنگین ترین خطرات پیدا کر رہی ہے، نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ خطے کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور عالمی سطح پر بھی کسی حد یا اصول کو تسلیم نہیں کرتی۔ زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اسرائیل کی حماس کے ساتھ جنگ، پھر لبنان میں داخل ہونا، شام میں پیش قدمی، اس کے بعد ایران پر حملہ اور ان حملوں میں امریکہ کو اپنے ساتھ شامل کرنا، یہ سب خطے میں انتہائی اہم ہیں۔
اس کے مقابلے میں حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ امریکہ اب خطے کو منظم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ اس ملک کے مقام سے دور ہوچکا ہے جو ماضی میں سیاسی استحکام کو منظم یا حتی کہ اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دیتا تھا۔ یہ مسئلہ فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر پوری طرح نمایاں ہوچکا ہے۔ البتہ امریکہ کی اس کمزوری کو آشکار کرنے میں ایران کا اتحاد، یکجہتی اور دفاعی استقامت اہم اور نمایاں عوامل میں شامل تھے۔
اب آپ کے سوال کے جواب میں، میرے خیال میں اگر اسرائیل ترکیہ کو وجودی خطرہ قرار دیتا ہے تو ترکیہ اس کا پہلا وجودی خطرہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں طویل عرصے سے کہتا آیا ہوں، ایران ہی پہلا وجودی خطرہ تھا۔ خصوصا اس وقت سے جب ایران کے اس وقت کے صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہیے، اسرائیل نے ایران کو وجودی خطرہ سمجھا ہے۔
ترکیہ کے بارے میں بھی آپ جانتے ہیں کہ موجودہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت نے ابتدا میں اسرائیل کے حوالے سے انتہائی مثبت رویہ اختیار کیا تھا۔ یہاں تک کہ ترکیہ کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز یعنی TOBB کے ذریعے غزہ میں ایک صنعتی شہر قائم کرنے کا منصوبہ تھا اور اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ لیکن 2008 کے اواخر میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر زمین، فضا اور سمندر سے کیا جانے والا شدید اور غیر متناسب 22 روزہ حملہ ترکیہ میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔ یہ اس وقت ہوا جب اس حملے کے آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل اسرائیل کے اس وقت کے وزیراعظم نے انقرہ میں ترکیہ کے اس وقت کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی تھی۔
اس کے بعد 2009 کے اوائل میں ڈیووس میں اردوغان اور شیمون پیریز کے درمیان معروف "ون منٹ" واقعہ پیش آیا اور 31 مئی 2010 کو ماوی مرمرہ کشتی کا واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک مکمل طور پر غیر فوجی قافلہ تھا جو غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جا رہا تھا اور اس میں ترکیہ سمیت مختلف ممالک کے کارکن موجود تھے۔ اسے غزہ کے ساحلی پانیوں سے 270 کلومیٹر کے فاصلے پر علی الصبح اسرائیلی کمانڈوز نے جارحانہ کارروائی کا نشانہ بنایا اور 9 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد اگرچہ ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات وقتا فوقتا بہتر ہوتے رہے، لیکن عملی طور پر دونوں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پڑ گئی اور کم از کم سیاسی تعلقات ہمیشہ کشیدہ اور بحرانی رہے۔
حالیہ عرصے میں بھی ترکیہ نے غزہ کے واقعات، لبنان پر حملوں، شام میں اسرائیل کے اقدامات اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ میزائل اور فضائی حملوں کے حوالے سے، جو مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے خلاف تھے، انتہائی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ترکیہ نے عالمی سطح پر اسرائیل کو خطے کے استحکام کو درہم برہم کرنے والا بنیادی عنصر اور ناسور کے طور پر پیش کرنے کی مہم بھی شروع کی، جس میں اسے بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ اس تشہیری اور حقائق سامنے لانے کی مہم میں ترکیہ سب سے آگے ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ ترکیہ کو ایک وجودی خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب فوجی تصادم کی تیاری ہے؟
اسرائیلی حکومت کا طرز عمل عموما غیر متوقع ہوتا ہے۔ امریکہ کی مدد سے ایران پر حملہ ممکن تھا، لیکن غزہ اور پھر لبنان میں بیک وقت جاری تنازع کے پیش نظر یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل ایسا قدم نہیں اٹھائے گا اور غالبا ایران میں بھی ایسا اندازہ نہیں تھا، لیکن ہم نے دیکھا کہ اس نے حملہ کردیا۔
تاہم ترکیہ کی صورتحال مختلف ہے۔ سب سے پہلے، ترکیہ جغرافیائی قربت اور قریبی سمندری حدود کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف فضائی اور بحری سطح پر مضبوط جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسرا، ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔ امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اپنے قریبی اتحادی اسرائیل اور نیٹو کے ایک اہم اتحادی ترکیہ کے درمیان تصادم ہو، کیونکہ ایسا منظرنامہ واشنگٹن کے حریفوں، خصوصا روس اور چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگا۔ خصوصا حالیہ برسوں میں یورپ کے یونان اور جنوبی قبرص کے جوڑے کی حمایت پر مبنی رویوں اور بائیڈن اور ٹرمپ کے ادوار میں انقرہ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے پیش نظر، مغربی ذرائع ابلاغ میں ترکیہ کے مغرب سے دور ہونے کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ ایسے میں ایک مضبوط فوج، متحرک معیشت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت رکھنے والے ترکیہ کو مشرقی بلاک کی طرف دھکیلنا امریکہ اور یورپ کے لیے کسی بھی صورت مطلوب نہیں ہوگا۔
لہذا اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی ناممکن ہے۔ اگر وہ ایسی حماقت کرتا بھی ہے تو ترکیہ کی جانب سے اسے ملنے والا جواب اس طمانچے سے کہیں زیادہ بھاری ہوگا جو اسے ایران سے ملا۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ لہذا اگر اسرائیل جوہری دھمکی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان کی جوہری طاقت ترکیہ کے لیے ایک دفاعی چھتری کے طور پر کام کرسکتی ہے۔
مہر نیوز: اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کی سرحدوں کے قریب شام کی سرزمین میں حالیہ حملے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس حملے کا پیغام کیا ہے اور کیا آپ ترکیہ کی جانب سے فوجی یا سفارتی ردعمل کی توقع رکھتے ہیں؟
جلال الدین یاووز: یہ حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اس وقت شام میں ایک حکومت برسر اقتدار ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضے اور غزہ کے بعد کی کارروائیوں کے علاوہ، اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گولان سے آگے بھی پیش قدمی کی ہے اور مقبوضہ علاقے کو دمشق سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے تک بڑھا دیا ہے۔
ترکیہ نے بہت سے دوسرے ممالک کی طرح اس قبضے کی شدید مذمت کی، اسرائیل سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا اور اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ میں موثر موقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترکیہ کی سرحد سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فضائی اڈے پر حالیہ حملہ بھی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر یہ اڈہ اسرائیل کی اپنی سرحدوں کے قریب ہوتا تو یہ جواز پیش کیا جاسکتا تھا کہ کسی خطرے کو روکنے کے لیے اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن یہ اڈہ شمالی شام میں ترکیہ کی سرحد سے متصل واقع ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، سعودی عرب، مصر اور متعدد ممالک نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
تاہم اس وقت ترکیہ کا ردعمل سفارتی اور سیاسی سطح تک محدود رہے گا، کیونکہ ترکیہ کی سرزمین یا شام میں اس کے اڈوں اور فوجیوں پر براہ راست حملہ نہیں ہوا اور انقرہ کی جانب سے فوجی جوابی کارروائی کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ واضح ہے کہ اسرائیل اور خصوصا نیتن یاہو اس حملے کے ذریعے ترکیہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ترکیہ کا جواب یقینا شام میں اسرائیل کے قریب کسی اڈے کو نشانہ بنانا نہیں ہوگا، کیونکہ شام کی حکومت انقرہ کی اتحادی ہے اور ترکیہ احمد الشرع کی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔ لہذا ترکیہ سفارتی ذرائع اور اقوام متحدہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور یورپی یونین کے ذریعے ان اقدامات کو غیر قانونی اور ناجائز ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔
تاہم نیٹو کی رکنیت اور اس کے آرٹیکل 5 کے طریقہ کار کے باوجود ترکیہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیٹو اپنی سابقہ کارکردگی اور اثر و رسوخ کھو چکا ہے اور اس پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا تصور بھی اسی تناظر میں تشکیل پایا ہے۔
ایسے حالات میں جب امریکہ میں ٹرمپ جیسے صدور موجود ہوں جو یورپ کے خلاف مختلف موقف اختیار کرتے ہیں، ڈنمارک سے گرین لینڈ کا مطالبہ کرتے ہیں یا کینیڈا کے الحاق کی بات کرتے ہیں، نیٹو کے آرٹیکل 5 پر زیادہ انحصار حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ دوسری جانب، یورپی یونین کے دروازے پر کئی دہائیوں تک انتظار کے بعد ترکیہ نے سکیورٹی کے نئے راستے تلاش کیے اور جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان اور عرب دنیا میں دولت مند اور بااثر سعودی عرب کے ساتھ مکہ معاہدہ کیا، جس کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے دروازے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں۔ لہذا اگرچہ اس وقت اسرائیل کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ترکیہ ممکنہ خطرات کو سمجھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت، خصوصا کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام جسے آئرن ڈوم کہا جاتا ہے، کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں اسلسان کمپنی کو تقریباً 800 ملین ڈالر مالیت کے نئے میزائلوں کا آرڈر دیا گیا ہے اور ملک کی فوجی جہاز سازی کی صنعت بھی بیک وقت 7 سے 8 جدید جنگی بحری جہاز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مہر نیوز: روزنامہ حریت نے ایک تجزیے میں دعوی کیا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کو ایک محدود تصادم میں گھسیٹ کر امریکی کانگریس میں ایف 35 جنگی طیاروں کی ترکیہ کو حوالگی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا یہ تجزیہ حد سے زیادہ پرامید یا سادہ لوحی پر مبنی نہیں ہے؟
جلال الدین یاووز: امریکی کانگریس نے ابھی تک ترکیہ کو ایف 35 طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی، یہودی اور یونانی لابیاں اس معاملے کی شدید مخالفت کر رہی ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں امریکی حکومت اس سلسلے میں کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔
اگرچہ ٹرمپ نے اس حوالے سے کچھ بیانات دیے ہیں، لیکن ان کے مؤقف میں تبدیلی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ترکیہ کے ایف 16 طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانے کے لیے درکار انجن اور دیگر سازوسامان، جن کی درخواست بائیڈن کے دور میں تقریباً 2022 میں کی گئی تھی، ابھی تک فراہم نہیں کیے گئے۔
اس کے باوجود یہ تجزیہ مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔ اگر واشنگٹن کی جانب سے ایف 35 طیارے فروخت کرنے کے ارادے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو ترکیہ کسی تصادم میں شامل ہونے کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ تاہم اگر کانگریس میں موجود لابیاں یہ بیانیہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئیں کہ انقرہ اسرائیل کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے تو بلا شبہ وہ ایف 35 کے معاملے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔
مہر نیوز: ترکیہ ایک طرف مشرقی بحیرہ روم میں اہم اقدامات کر رہا ہے، جن میں لیبیا میں خلیفہ حفتر جیسی شخصیات کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اور بات چیت شامل ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل کو اس خطے میں یونان اور جنوبی قبرص کی حمایت حاصل ہے۔ کیا مشرقی بحیرہ روم شدید مسابقت کا میدان بن چکا ہے؟
جلال الدین یاووز: مشرقی بحیرہ روم مسابقت کا میدان بننے کے مرحلے میں نہیں ہے، بلکہ کم از کم 2007 سے، یعنی گزشتہ 19 برس سے، یہ انتہائی شدید اور سخت مسابقت کا میدان بن چکا ہے۔ یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب قبرص کے یونانی حصے نے شمالی قبرص کے ترک باشندوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے تیل اور گیس کی تلاش کے لیے لائسنس جاری کرنا شروع کیے۔ ترکیہ نے ان اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کیا، اپنے براعظمی شیلف اور سمندری حدود کا تعین کیا اور بحری بیڑا روانہ کرکے ضروری اقدامات کیے۔
ان برسوں میں، خصوصا مصر اور عرب ممالک کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات میں کشیدگی کے دور میں، اسرائیل، یونان اور جنوبی قبرص پر مشتمل ایک بلاک تشکیل پایا، جس میں مصر بھی عارضی طور پر شامل ہوا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے لیبیا میں حفتر کی افواج کی حمایت کے ذریعے ان معاملات میں قدم رکھا۔
یونان اور جنوبی قبرص یورپی یونین کے ذریعے سویل نقشے کے نام سے معروف ایک غیر رسمی نقشے کو سمندری سرحدوں کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن ترکیہ نے 2019 میں لیبیا کے ساتھ سمندری سرحدوں کی حد بندی کے معاہدے پر دستخط کرکے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اگرچہ یونان نے بعد میں مصر کے ساتھ الگ معاہدہ کرلیا۔
آج اسرائیل کے علاوہ بڑی امریکی، فرانسیسی اور اطالوی تیل کمپنیاں بھی مشرقی بحیرہ روم میں گیس کی منتقلی اور بجلی کی لائنوں کے منصوبوں میں مفاد رکھتی ہیں۔ اس دوران ترکیہ نے لیبیا میں موجود دونوں طاقت کے مراکز، یعنی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت اور حفتر کے دھڑے، دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھا ہے اور ترکیہ کی کمپنیاں اور جاسوسی و جنگی ڈرونز لیبیا میں فعال موجودگی رکھتے ہیں۔
اس میدان میں ترکیہ کی اہم حکمت عملی یہ ہے کہ مصر کو مکمل طور پر مشرقی بحیرہ روم میں اپنے ساتھ شامل کیا جائے۔ اگرچہ یورپی ممالک اپنے بیانات میں ایتھنز اور نکوسیا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ترکیہ کی بحری اور سیاسی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انقرہ نے عملی میدان میں متعدد بار اس بات کو ثابت بھی کیا ہے۔ اسی تناظر میں صدر اردوغان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ رواں سال ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں پانچویں مرتبہ بھی یہ مطالبہ دہرائیں گے۔
یہاں میں اپنے ایرانی بھائیوں اور معزز ایرانی حکومت کے نام ایک براہ راست پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مناسب ہوگا کہ اسلامی جمہوری ایران بھی شمالی قبرص کی آزادی کو تسلیم کرے۔ ترکیہ نے ہمیشہ منصفانہ معاملات میں ایران کی حمایت کی ہے۔ قبرص میں بھی 1974 کی امن کارروائی کے بعد، یعنی گزشتہ 52 برس کے دوران، دونوں برادریوں کے درمیان کوئی فوجی تصادم نہیں ہوا، جبکہ اس سے قبل ترک باشندوں کے خلاف حملے، نسل کشی کی کوششیں اور انہیں اپنی شناخت سے محروم کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ قائم کی گئی حد بندی نے امن و سکون پیدا کیا ہے اور شمالی قبرص کو تسلیم کرنے کی وجوہات 2008 میں کوسوو جیسے معاملات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
مہر نیوز: کیا ترکیہ کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط کرنے کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیل کے خطرات کو بے اثر کرنا تھا؟
جلال الدین یاووز: جی ہاں، اس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا، نیٹو کی کارکردگی میں کمی، انقرہ کا یورپی یونین اور امریکہ پر اعتماد کھو دینا، اور دونوں فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کے بحران میں شدت بھی ترکیہ کی جانب سے نئے دفاعی اتحاد کی طرف بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
امریکا کے پاس ہتھیاروں کی قلت کا اعتراف
سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران سے جنگ میں وسیع پیمانے پر ہتھیاروں کے استعمال نیز خلیج فارس میں واشنگٹن کے اتحادیوں کو اسلحے دیئے جانے کے نتیجے میں، اس وقت امریکا کے پاس غیر متوقع خطرات سے نمٹنے کے لئے ضروری اسلحے نہیں ہیں۔
ہلیری کلنٹن نے ہیمپٹنس انسٹی ٹیوٹ کی میزبانی میں منعقدہ ایک نشست سے خطاب میں ایران کے خلاف جنگ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں وسیع پیمانے پر اسلحے استعمال کئے گئے اور اس وقت ملک میں غیر متوقع خطرات سے نمٹنے کی توانائی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اس جنگ میں بہت زیادہ اسلحے استعمال کئے اور اسی کے ساتھ بھاری مقدار میں اسلحے اور گولے بارود، خلیج فارس میں اپنے اتحادیوں کو دیئے۔
ہفتۂ وحدت شیعہ سنی اتحاد مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے: متولی حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ
حرم حضرت عبدالعظیم حسنیؑ تہران کے متولی حجۃ الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے کہا ہے کہ ہفتۂ وحدت شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی مضبوط کرنے کا اہم موقع ہے۔ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرکے عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل سنت 12 ربیع الاول جبکہ شیعہ 17 ربیع الاول کو ولادتِ رسول اکرمؐ کا دن مانتے ہیں۔ ان دونوں تاریخوں کے درمیان ایام کو ’’ہفتۂ وحدت‘‘ قرار دینے کا مقصد شیعہ سنی اتحاد اور امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا تھا، جسے امام خمینیؒ نے بھی قبول کیا۔
حجۃالاسلام قاضی عسکر نے قرآن کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو اتحاد اور تفرقے سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ باہمی نزاع مسلمانوں کی قوت اور اقتدار کو کمزور کردیتا ہے، اس لیے اگر مسلمان دنیا میں مضبوط بننا چاہتے ہیں تو انہیں متحد رہنا ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ شیعہ اپنے عقائد چھوڑ کر سنی ہوجائیں یا اہل سنت شیعہ ہوجائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے مشترکات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ تمام مسلمان ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قبلہ کے ماننے والے ہیں اور ان کے درمیان متعدد دینی و اخلاقی اقدار مشترک ہیں۔
حرم حضرت عبدالعظیمؑ کے متولی نے مقدسات کی توہین سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور ایسے اقدامات کو شیعہ مذہب سے منسوب کرتے ہیں، حالانکہ اس طرز عمل کا امام خمینیؒ، رہبر انقلاب یا مکتب اہل بیتؑ سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم حتیٰ کہ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین سے بھی روکتا ہے، کیونکہ اس سے ردعمل اور مزید اختلافات جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کسی صورت درست نہیں۔
حجۃالاسلام قاضی عسکر نے داعش جیسے تکفیری گروہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن شیعہ اور سنی میں فرق نہیں کرتا۔ ایسے گروہوں نے شیعوں کے ساتھ اہل سنت کے علماء کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہفتۂ وحدت باہمی شناخت، مشترکات پر توجہ اور تفرقہ پیدا کرنے والی سازشوں کے مقابلے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان جتنا اپنے مشترکات پر توجہ دیں گے اور ایک دوسرے کی توہین و اختلاف سے دور رہیں گے، اتنا ہی عالم اسلام مضبوط ہوگا اور دشمنوں کے لیے مسلمانوں کو کمزور کرنا مشکل ہوجائے گا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
