سلیمانی
ایران کی فوجی مشقیں اور امریکہ میں صف ماتم
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی افواج کے آپریشنز کے ڈپٹی چیف آف سٹاف بریگیڈیئر جنرل ولی معدنی اور شنگھائی تعاون تنظیم کی انسداد دہشت گردی کی انتظامی کمیٹی کے نمائندے جنرل سرگئی کسنین کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں سہند 2025ء فوجی مشقوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پریس کانفرنس میں کیے گئے اعلان کے مطابق، مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشقوں میں، ایران، چین، بیلاروس، پاکستان، بیلجیم، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن کی حیثیت سے اپنی افواج کے خصوصی یونٹس کو اس فوجی مشق میں شرکت کے لیے بھیجا ہے۔ سعودی عرب، آذربائیجان اور عراق کی افواج بھی اس مشق میں بطور مبصر حصہ لے رہی ہیں۔ پریس کانفرنس کے مطابق اس ایونٹ میں مختلف ممالک کے 20 اعلیٰ سیکورٹی اہلکار، 60 چیف آف اسٹاف اور آپریشنل یونٹس کے 40 کمانڈر حصہ لے رہے ہیں۔
سہند 2025ء فوجی مشق کی مدت پانچ دن ہے۔ مجلس شورائے اسلامی میں شیراز اور زرگان کے نمائندے اور پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے فارس نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے بات چیت میں کہا ہے کہ سہند 2025ء مشقوں کے انعقاد سے علاقائی سلامتی کے معاملات میں ہمارے ملک کے بڑھتی ہوئی پوزیشن کا اظہار ہوتا ہے۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کا فعال رکن ہے، بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دائرے میں ایک بنیادی کردار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان مشقوں کی میزبانی سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے ایک ذمہ دار طاقت کے عنوان سے، کثیر القومی مشقوں کے انعقاد کے لئے علاقائی ممالک کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وسیع پیمانے پر، مختلف ممالک کے وفود کی شرکت خطے اور اس سے باہر کے علاقوں کے لئے ایک واضح پیغام کی حامل ہے اور یہ اجتماعی سلامتی، اجتماعی تعاون کا نتیجہ ہے۔
آج شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اس مشترکہ فہم تک پہنچ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خطرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ممالک کی "صلاحیتوں کے باہمی اشتراک و اتحاد" کی ضرورت ہے۔ یہ مشقیں بین الاقوامی برادری کو تصادم کے بجائے تعاون پر مبنی پیغام بھیجتی ہیں۔ عزیزی نے کہا ہے کہ ہمارا ملک گذشتہ دہائیوں میں دہشت گردی کا شکار رہا ہے، لیکن ایران اپنی دفاعی اور معلوماتی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو یہ تجربات منتقل کرنا، مشق کے انعقاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ میدانی مقابلے کی صلاحیت کے علاوہ، منصوبہ بندی، کمانڈ اور انسداد دہشت گردی کے لئے کارروائیوں کے انتظام کے دائرے میں بھی اعلیٰ سطح کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔
12 روزہ مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم کے مضبوط دفاع کے بعد ایران میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی شرکت کے ساتھ "سہند 2025ء انسداد دہشت گردی مشق" کا انعقاد ایران کے لیے بہت ہی قابل قدر نتائج اور اثرات کا حامل ہوگا۔ اس فوجی مشق کا، ایک اہم علاقائی ایونٹ اور ایک تزویراتی و آپریشنل حکمت عملی کے نقطہ نظر سے تجزیہ کیا جانا چاہیئے۔ اس مشترکہ مشق کے انتہائی قیمتی اثرات اور نتائج پر توجہ دینے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ اس میں کونسے ممالک شریک ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام 10 رکن ممالک، جن میں ایران، ازبکستان، بیلاروس، پاکستان، تاجکستان، بھارت، چین، روس، قازقستان اور کرغزستان شامل ہیں، اس فوجی مشق میں شریک ہیں۔
اس ملٹری ایکسرسائز کو جاننے کے لئے مندرجہ ذیل نکات کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔
1۔ اس تنظیم کے رکن ممالک کا رقبہ زمین کے کل رقبے کا ایک چوتھائی ہے، جس میں دنیا کی تقریباً 45 فیصد آبادی ہے۔
2۔ یہ مشق اسلامی جمہوریہ ایران میں اور پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی افواج کی ذمہ داری کے تحت منعقد کی جائے گی۔
3۔ گذشتہ 47 برسوں میں ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا، لیکن امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک نے ایران کو دہشت گردی کے ایک اسپانسر کے طور پر متعارف کرایا اور اس الزام کے بہانے ایران کو انتہائی ظالمانہ پابندیوں سمیت مختلف دباؤ کا نشانہ بنایا۔
4۔ دہشت گردی کی ایک مخصوص تعریف کرکے امریکی حکومت اپنی بالادستی کا نظام نافذ کرنے کے لئے اپنے مخالف ممالک کو دہشت گرد ممالک یا دہشت گردی کے اسپانسر کے طور پر متعارف کراتی ہے اور پھر اس بہانے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ اس وقت ہے جبکہ امریکہ خود دنیا کے دہشت گردوں کا سرغنہ ہے اور اس نے اپنی پالیسیوں اور مفادات کے لئے داعش جیسے خطرناک ترین دہشت گرد گروہوں کو بنایا، انہیں اسلحہ سے لیس کیا، ان کی حمایت کی اور انہیں استعمال کیا۔
5۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے گذشتہ دہائیوں میں قومی اور علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا علمبردار ہونے کے ساتھ ساتھ شہید جنرل حاج قاسم سلیمانی کی کمان میں داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں ایک شاندار ریکارڈ قائم کیا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ مغربی ممالک اور ان کے پیروکاروں جیسے کہ آسٹریلیا وغیرہ نے سپاہ پاسداران کو دہشت گرد گروپ یا دہشت گردی کے اسپانسر کے طور پر پیش کیا ہے۔
مندرجہ بالا نکات پر غور کرتے ہوئے، بریگیڈیئر جنرل ولی منانی کی سربراہی میں ایران میں مشترکہ انسداد دہشت گردی مشق سہند 2025ء کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس فوجی مشق کی مسئولیت IRGC کی زمینی فورس کے آپریشنل یونٹ کے ذمہ ہے۔ یہ فوجی مشق دہشت گردی اور دہشت گردوں کی عالمی کارروائیوں کے بارے میں علمی، منصفانہ اور حقیقت پسندانہ نظریہ کے ساتھ ایک حقیقی تبدیلی کے مظہر کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس قسم کا یہ نیا علمی نظریہ، جو مختلف شعبوں اور دنیا کے کونے کونے میں تشکیل پا رہا ہے، یقینی طور پر نئے عالمی نظام کی فکری اور نظریاتی بنیادیں فراہم کرے گا۔ مثال کے طور پر، آپریشن طوفان الاقصیٰ سے پہلے، مغربی میڈیا ایک غیر حقیقی اور غلط تصورات کی بنیاد پر صیہونی حکومت کو ایک جمہوری اور اخلاقی حکومت سمجھتا تھا اور دوسری طرف اپنی مقبوضہ سرزمین کی آزادی کے لیے لڑنے والے فلسطینیوں کو اکثر رائے عامہ میں دہشت گرد تصور کیا جاتا تھا۔
لیکن اب دنیا کی مختلف قومیتوں کے لوگ حتیٰ کہ یورپ اور امریکہ کے باشندے بھی تاریخی حقائق سے آگاہ ہوچکے ہیں اور انہوں نے نہ صرف اپنے سابقہ نظریات سے خود کو دور کر لیا ہے، بلکہ فلسطین کی آزادی اور صیہونی حکومت کی نابودی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج نیتن یاہو اور صیہونی حکومت کے دیگر رہنماء غزہ اور مغربی ایشیائی خطے کے دیگر ممالک میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر اقوام عالم کی نظر میں سب سے زیادہ قابل نفرت لوگ ہیں۔ لہٰذا، عالمی پیش رفت کے تزویراتی نقطہ نظر کے ساتھ، امریکہ کی طاقت اور وقار میں کمی اور ڈالر کی طاقت کو توڑنے کے لئے برکس یونین میدان میں حاضر ہے۔ برکس کے ذریعے پابندیوں اور ڈالر مخالف محاذ کی تشکیل نیز، اقوام کی بیداری اور ایشیاء میں تعاون اور ہم آہنگی کی مضبوطی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم سے ہمیں توقع کرنی چاہیئے کہ وہ طاقت کو مغرب سے مشرق کی جانب منتقل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گی۔
سہند 2025ء انسداد دہشت گردی مشق کے نتائج اور اثرات کو مذکورہ میکرو تجزیہ کے فریم ورک کے اندر شامل کیا جانا چاہیئے۔ اس مشق میں، دہشت گردی کو پہچاننے اور دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معرکے میں اسلامی جمہوریہ کے قیمتی تجربات کو شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر اراکین کو منتقل کیا جاسکتا ہے اور اس اہم خطے کی اقوام اور حکومتوں کے درمیان(جو کہ دنیا کی 45 فیصد آبادی پر مشتمل ہے،) دہشت گردی کے بارے میں ایک مشترکہ فہم قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ نتیجہ اور اثرات وقت کے ساتھ ساتھ درج ذیل شعبوں میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ برکس ممالک کے ساتھ یہ فوجی مشقیں اسلامی جمہوریہ کی علاقائی پوزیشن کو مضبوط بنانے، قومی مفادات کے حصول کو یقینی بنانے اور قومی مفادات میں سرفہرست، قومی سلامتی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
اس مسئلے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے، جب ہم استکباری محاذ کی پالیسیوں پر توجہ دیتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دشمن دہشت گردی یا فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں ایران کے استحکام اور سلامتی کو درہم برہم کرنے کے درپے ہے۔ یاد رہے کہ
1۔ یہ مشق دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے فوجی-سکیورٹی کے شعبے میں ایران کی فعال موجودگی کی راہ ہموار کرے گی۔
2۔ سہند 2025ء مشق شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بشمول چین، روس، ہندوستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ایران کے فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرے گی۔
3۔ یہ مشق شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین کے درمیان مفادات اور خطرات کے بارے میں مشترکہ فہم کو مضبوط بنا کر سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ شمالی-جنوبی کوریڈور سمیت توانائی کے منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائنوں میں تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔
تحریر: یداللہ جوانی جونی
جنوبی لبنان میں صیہونی جارحیت جاری ہے
لبنانی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی فوج نے مقبوضہ فلسطین (اسرائيل) علاقوں "رمثا" اور "رویسات العالم" سے جنوبی لبنان کے علاقوں بسترہ اور کفر شوبہ کے مضافات کی طرف گولہ باری کی۔
اسرائیلی ڈرونز نے الضھیرہ قصبے کی طرف دو صوتی بم بھی داغے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق صہیونی فوجیوں نے کفر شعبا قصبے کے مضافاتی علاقوں پر بھی گولہ باری کی ہے۔
صیہونی حکومت کے ایک ڈرون نے میس الجبل قصبے کے مشرقی حصے کی طرف بھی صوتی بم پھینکا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جیسے ہی کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو XIV لبنان پہنچے تو صیہونی حکومت نے خطے میں بدامنی کو جاری رکھتے ہوئے لبنان کے جنوبی علاقوں پر ایک بار پھر حملے شروع کردیے۔
ایران کی پاکستانی نوجوانوں کو فلم سازی کی تربیت دینے کی تجویز/ مشترکہ فلمین بھی بنائیں گے
فجر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے سیکریٹری روح اللہ حسینی نے فلم پاکستانی پویلین کا دورہ کیا اور پاکستان کے وزیر ثقافت و قومی ورثہ اورنگ زیب کھچی ملاقات اور باہمیدلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔
روح اللہ حسینی نے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور شہر شیراز میں پاکستانی وزیر ثقافت کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیراز ہمارے ملک کا سب سے تاریخی اور ثقافتی شہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ اس سال فلم مارکیٹ میں پاکستان کا پولین بھی موجود ہے۔ انہوں بتایا کہ عالمی میلے کی فلم مارکیٹ میں 15 دیگر ممالک نے اپنے اسٹال لگائے ہیں اور اس دوران تقریباً 40 ممالک کے فلمساز اور حکام شریک ہیں اور 46 فلموں کو نمائش کے لیے منتخب کیا گیا۔
مشترکہ پروڈکشن کی تیاری کی خواہش
فیسٹیول کے سیکریٹری نے مزید کہ بدقسمتی سے اس سال اس فیسٹیول میں پاکستان کی کوئی فلم نہیں دکھائی گئی لیکن ہمیں امید ہے کہ اگلے سال ایران اور پاکستان بنائی ہوئی مشترکہ فلم اس فیسٹیول کا حصہ بنے گي۔
ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔
پاکستانی وزیر ثقافت نے شیراز اور فجر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیسٹیول میں شرکت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ ایران اور پاکستان دو دوست اور برادر ملک ہیں فیسٹیول میں وزارتی سطح کے وفد کی شرکت کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کے وزیر ثقافت و قومی ورثہ نے کہا کہ انشاء اللہ اگلے سال ہم دونوں ممالک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ فلم کے ساتھ فیسٹیول میں شرکت کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایران کا ایک وفد بھی پاکستان آئے گا اور مشترکہ پیداوار کے امکانات کا جائزہ لے گا۔ مجھے امید ہے کہ فجر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ ایران ایک قدیم، متنوع اور پرکشش ثقافت کا حامل ملک ہے۔
ایران کی پاکستانی نوجوانوں کو فلم سازی کی تربیت دینے کی تجویز
اس ملاقات کے بعد روح اللہ حسینی نے کہاکہ اس فیسٹیول میں دارالفونون کے نام سے ایک سیکشن ہے جو سنیما کی تعلیم کے لیے وقف ہے۔ ہم نوجوانوں کے لیے فلمی تعلیم کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس سیکشن میں ایرانی اور بین الاقوامی فلم سازوں اور پروفیسروں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔
حسینی نے تجویز پیش کی کہ اگر آپ 10 سے 20 پاکستانی نوجوانوں کے گروپ تیار کریں، تو ہم ان کے لیے ایران یا پاکستان میں فلم سازی کے تربیتی کورس منعقد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح مشترکہ فلم سازی کے میدان میں آسانی سے قدم رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ "ہم دو ہفتے سے ایک ماہ کے کورسز کے ذریعے نوجوان پاکستانی فلم سازوں کو ایرانی سنیما کے تجربات منتقل اور تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔"
ایران کی اولین مقامی ڈسٹرائر ’جماران‘ خود انحصاری کی راہ میں اہم قدم ہے، ریئر ایڈمرل سیاری
ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیشن کمانڈر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی پہلی جدید جماران ڈسٹرائر مکمل طور پر ملکی انجینئرز کی مدد سے تیار کی، جو دفاعی خودکفالت اور قومی پیش رفت کی روشن علامت ہے۔
شہید ستاری یونیورسٹی آف ایروناٹیکل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی ساز و سامان اور جنگی آلات میں خود کفالت کی فکر سب سے پہلے امام خمینیؒ نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران پیش کی تھی، اور آج ایران اسی نظریے کے تحت اہم کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔
ریئر ایڈمرل سیاری نے بتایا کہ جماران ڈسٹرائر نہ صرف ایران میں ڈیزائن کی گئی بلکہ اسے مکمل طور پر مقامی ماہرین نے تیار کیا، جو ملکی دفاعی صنعت کی مہارت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس ڈسٹرائر کو ایران کی صنعتی ترقی اور خود انحصاری کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ ایرانی بحریہ کو ایک اسٹریٹجک فورس قرار دیا ہے۔ بحریہ ملکی سلامتی کے تحفظ اور سرحدوں کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے فوائد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے فوائد
کتاب " جلاء الإفهام في فضل الصلاة و السلام علی محمد خير الأنام " میں پیامبر اکرم صلی الله علیه و آله و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت کے چالیس فوائد بیان کیے گئے ہیں جو درج ذیل ہیں:
۱۔ اللہ کےفرمانبرداری اور حکم کی اطاعت کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ موافقت (اگرچہ اللہ کا درود اور ہمارا درود مختلف ہے)۔
۳۔ فرشتوں کے ساتھ موافقت۔
۴۔ ایک درود بھیجنے پر اللہ دس گنا اجر عطا فرماتا ہے۔
۵۔ ہر درود پر جنت میں دس درجے بلندی۔
۶۔ ہر درود پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
۷۔ ہر درود پر دس گناہ مٹائے جاتے ہیں۔
۸۔ درود دعا کی قبولیت کا ذریعہ ہے۔
۹۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا حصول۔
۱۰۔ گناہوں کی بخشش۔
۱۱۔ اللہ کا انسان کے معاملات میں کافی ہوجانا۔
۱۲۔ قیامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربت۔
۱۳۔ غریب کے لیے درود بھیجنا صدقے کے برابر ہے۔
۱۴۔ حاجات اور ضرورتوں کا پورا ہونا۔
۱۵۔ اللہ اور فرشتوں کا درود بھیجنا۔
۱۶۔ گناہوں سے پاکیزگی اور دل کی طہارت۔
۱۷۔ موت سے پہلے جنت کی بشارت۔
۱۸۔ قیامت کی سختیوں سے نجات۔
۱۹۔ بھولی ہوئی باتوں کا یاد آنا۔
۲۰۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درود بھیجنا۔
۲۱۔ محفل کی خوشبوئی اور قیامت میں ندامت سے نجات۔
۲۲۔ غربت کا خاتمہ۔
۲۳۔ بخل کا خاتمہ۔
۲۴۔ لوگوں کی بری دعاؤں کا قبول نہ ہونا۔
۲۵۔ جنت کا راستہ۔
۲۶۔ اللہ و رسول کے ذکر سے خالی محفلوں کی برائی سے بچاؤ۔
۲۷۔ خطبہ وغیرہ میں کلام کے اثر میں اضافہ۔
۲۸۔ پل صراط پر نور کی فراوانی۔
۲۹۔ ظلم و تاریکی سے نجات۔
۳۰۔ آسمان و زمین میں تعریف کا پھیلاؤ۔
۳۱۔ زندگی میں برکت۔
۳۲۔ اللہ کی رحمت کا نزول۔
۳۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا حصول۔
۳۴۔ صلوات بھیجنا، صلوات بھیجنےوالے کے دل میں دوام محبت پیامبر ﷺ اوراستحکام کا باعث ہے
۳۵۔ صلوات مایہ هدایت و حیات قلب کا باعث ہے
۳۶۔ سلوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنےصلوات بیھجنےوالے کا نام پیامبر ص کے سامنے عارضے کا باعث ہے۔
۳۷۔صلوات پل صراط پرثابت قدم رہنے کا باعث ہے
۳۸۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض حقوق کی ادائیگی ہے۔
۳۹۔ صلوات ذکر الہی اور شکرپرودگار کا احاطہ۔
۴۰۔ صلوات دعاہ ہے چونکہ اللہ سے رسول کی ثنا یا اپنی مشکلات کے حل کی درخواست کرنا لہذا زندگی کی مشکلات کی ردوریا کا باعث ہے ۔
ماخوذ از سایت زمزمہ وصال
دشمنوں کو فیصلہ کن جواب دیں گے: ایران کے آرمی چیف کا دوٹوک اعلان
بحریہ کے قومی دن کے موقع پرایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران آرمی کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ فعال دفاع اور اسمارٹ ڈیٹرنس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف یہ کہ دشمن کے حملے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ قومی مفادات کی بنیاد پر کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ دشمن کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج ملک کی بحری صنعت سرفیس اور انڈر سرفیس فلوٹنگ کے میدان میں بہترین پوزیشن پر پہنچ گئی ہے اور ہمارا ملک بحری دفاع کے مختلف ہتھیاروں کی تیاری میں خود کفیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کام مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آيت اللہ خامنہ ای کے احکامات اور سفارشات کی روشنی میں پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
میجرجنرل امیرحاتمی کا کہنا تھا کہ ہماری دفاعی طاقت ملک و قوم کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کا بھی ایک ہہم عنصر ہے کیونکہ آج ہم علاقائی سلامتی اور ملکوں کی سلامتی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے۔
ایران کے آرمی چیف نے صیہونی حکومت کی ریشہ دوانیوں کو خطے کے ممالک کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اس وقت خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحلی ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا ایک اچھا رجحان پایا جاتا ہے اور امریکہ و صیہونی حکومت کی پریشانی کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران موجودہ اور آئندہ کے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے فعال دفاع اور اسمارٹ ڈیٹرنس کی حکمت پر عمل پیرا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہ صرف یہ دشمن کے حملے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ دشمن کو فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب دیں گے۔
وینیزویلا کی فضائی حدود کی بندش کے امریکی اقدام کی مذمت
ہفتہ کی رات جاری کردہ بیان ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اقدام وینیزویلا کی قومی خودمختاری اور ارضی سالمیت کے خلاف اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل ہے.
انہوں کہا کہ یہ اقدام امریکہ کی خود سرانہ کارروائیوں کی ایکاور مثال ہے.
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس اقدام کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرناک قرار دیا.
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق ایک پیغام میں اعلان کیا کہ وینیزویلا اور اس کے آس پاس کی تمام فضائی حدود کو بند تصور کیا جائے۔
سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ایران آئيں گے
ارنا کی خارجہ پالیسی ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق ، وزارت خارجہ شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ سعودی بن محمد الساطی تہران آنے والے ہیں۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ کا یہ دورہ تہران اور ریاض کے درمیان مشاورتی مکینیزم کا حصہ ہے۔
بیان کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ تہران میں اپنے قیام کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات اور فلسطین، لبنان اور شام سمیت اہم علاقائی معاملات پر پر مشاورت کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ان کے دورہ تہران کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
مزاحمت لبنان کی سرزمین پر موجود ہے
مزاحمت اور مزاحمتی قوتوں کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔ عام طور پر تجزیہ نگار مزاحمتی قوتوں کو فوجی انداز میں اپنے تجزیوں کا حصہ بناتے ہیں۔ یہیں سے ان کے تجزیئے اور مستقبل کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوتی ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شام کا سقوط ہوچکا تھا، ہر طرف یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ اب مزاحمت کا راستہ کٹ گیا ہے اور اب مزاحمت کا مستقبل داو پر لگ چکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک عہدیدار کے بیان نے اس وقت مایوسی کو امید میں بدل دیا تھا کہ مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے راستے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ مزاحمت کا ایک آسان راستہ بند ہوا ہے، یہ بات بالکل درست ہے، مگر سارے راستے بند ہوگئے ہیں۔؟ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ مزاحمت کے راستے کھلے رہتے ہیں اور ہمیشہ کوئی نیا ذریعہ مزاحمت کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے۔ قابض قوتیں مزاحمتی قوتوں کو بھی اپنی طرح کی کوئی فورسز سمجھتے ہیں، جو تنخواہ پر کام کرتی ہے۔
مزاحمت وقتی طور پر حالات کے مطابق پیچھے ہٹ سکتی ہے، حالات میں کچھ وقت کے لیے مکمل خاموشی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ سب مزاحمت کا حصہ ہوتا ہے کہ شدید دباو میں کیسے سروائیو کرنا ہے۔؟ دشمن جسے ناکامی اور اختتام سمجھ رہا ہوتا ہے، دراصل وہ تحریک آزادی کے لیے بڑی تیاری کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے جب جب دشمن نے اپنی طرف سے مزاحمت کو کہیں بھی کمزور سمجھا، اسے جلد ہی اپنی ناکامی کا احساس ہوا۔ اسرائیلی عوامی نشریاتی ادارے KAN کی رپورٹ ملاحظہ کریں: اسرائیل لبنان میں فوجی کارروائی کو وسعت دینے پر غور کر رہا ہے، جس کی وجہ لبنانی گروپ حزب اللہ کی اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی مبینہ کوششیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کے لیے ایک مختصر سکیورٹی اجلاس منعقد کیا، جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اپنی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک نامعلوم سینیئر اسرائیلی عہدیدار نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ "حزب اللہ نے جزوی طور پر اپنی فوجی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے "حالیہ مہینوں میں شام سے لبنان میں سینکڑوں قلیل فاصلے کے راکٹ اسمگل کیے ہیں" اور اپنی قیادت کے ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ قارئین کرام، یہ بتاتا ہے کہ راستے موجود ہوتے ہیں، بس وہی بات کہ آسان راستے بند ہوتے ہیں، ذرا مشکل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ اب خود اسرائیلی کہہ رہے ہیں کہ شام کے ذریعے سپلائی جاری ہے اور حزب اللہ خود کو دوبارہ کھڑا کر رہی ہے۔ آپ لبنانی ریاست کو دباو میں لا کر کیے گئے فیصلوں کو دیکھیں، آپ کو لگے گا کہ جیسے مزاحمت اب مکمل طور پر ختم ہوگئی، اس فیصلے کے بعد تو مزاحمت کے لیے کوئی راستہ ہی نہیں بچتا۔
بہت بار تو ایسا لگا کہ اب یا خانہ جنگی شروع ہوگی یا حزب اللہ اور فوج کی جنگ شروع ہو جائے گی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور آج دشمن بے نقاب ہوچکا ہے۔ لبنان کی حکومت بھی چیخ چیخ کر دنیا کو مدد کے لیے پکار رہی ہے کہ معاہدہ کروایا تھا، اب اس پر عمل بھی کراو۔ معاہدہ بھی بڑا دل دلچسپ تھا، اس میں دو چیزیں شامل تھیں: امریکی اور فرانسیسی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے تحت حزب اللہ نے دریائے لیطانی کے جنوب (سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) سے اپنی عسکری موجودگی ختم کرنی تھی اور اس علاقے میں اسلحہ رکھنے کا حق صرف سرکاری اداروں کو حاصل ہونا تھا۔ اسی معاہدے میں اسرائیل کو ان علاقوں سے انخلا کرنا تھا، جہاں وہ آخری جنگ کے دوران آگے بڑھایا تھا، تاہم اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان کی پانچ اسٹریٹیجک پہاڑی چوکیوں پر قابض ہے۔
معاہدہ کروانے والوں نے اپنے زعم میں حزب اللہ کو باندھ لیا تھا، مگر آج حالات بدل رہے ہیں۔ مزاحمت دوبارہ یکجا ہو رہی ہے اور اسرائیلی پروپیگنڈا ناکام ہو رہا ہے۔ عام لبنانی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کیوں قابض ہے۔؟ لبنان کی رائے عامہ مزاحمت کو ہی اپنی محافظ قرار دے رہی ہے۔ یہ بات کسی بھی مزاحمت کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے کہ وہاں کی عوام مزاحمت کے ساتھ کھڑی ہو۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اب اسرائیل براہ راست حملے کرنے لگا ہے اور اس نے حزب اللہ کے چیف آٖف سٹاف ہیثم علی طباطبائی کو شہید کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل علامہ نعیم قاسم نے اسے ایک کھلی جارحیت اور ایک بھیانک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کو جواب دینے کا حق ہے اور ہم اس کے لیے وقت کا تعین کریں گے۔
انہوں نے کہا: کیا آپ جنگ کی توقع کرتے ہیں؟ ہاں، اس کا امکان موجود ہے اور جنگ نہ ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ شیخ قاسم نے یہ بھی کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پوپ لیو کا لبنان کا آنے والا دورہ امن لانے اور (اسرائیلی) جارحیت کے خاتمے میں کردار ادا کرے گا۔ شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ نے نومبر 2024ء کی اس جنگ بندی کی پابندی کی ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری لڑائی کو ختم کرنا تھا اور انہوں نے لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ آپ شیخ نعیم قاسم کے بیان کو دیکھیں، اس میں دشمن کے لیے پیغام بھی ہے اور اپنے لوگوں کے لیے امید بھی ہے۔ دشمن کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے اور ہم جنگ چاہتے ہیں یا امن چاہتے ہیں۔؟ اس کا فیصلہ بھی ہم خود کریں گے۔ مزاحمت لبنان کی ہے، لبنان کے لیے ہے اور لبنان میں موجود ہے۔ مزاحمت خطے کے فرزندوں کی آزادی کا کارواں ہے، جو قابض قوتوں کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔
نظریہ وحدتِ دین اور کثرتِ مذاھب اور اسلام کی حقیقت
دور حاضر کے فکری مباحث میں ایک خطرناک اشکال اٹھایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس بات میں شک پیدا کرنا ہے کہ کیا واقعی کوئی واحد اسلامی حقیقت موجود ہے جو اللہ تعالیٰ کی مراد کی نمائندگی کرتی ہو۔ یہ اشکال اس نظریے سے جنم لیتا ہے کہ "حقیقت" اپنی فطرت میں ایک نسبتی چیز ہے، جس کے بارے میں یقین حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس خیال کے مطابق، تمام اسلامی مذاہب باوجود اس کے کہ ان میں شدید اختلافات اور تناقضات ہیں برابر طور پر اسی حقیقت کے مختلف اظہار ہیں ۔ یوں تمام مذاہب کو ایک جیسا قرار دیا جاتا ہے، چاہے ان کے عقائد کے اصول اور فہم کے مناہج ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہی کیوں نہ ہوں۔ بظاہر یہ دعویٰ رواداری اور وسعتِ نظری کی دعوت دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ دین کی بنیاد کو منہدم کر دیتا ہے، کیونکہ یہ یقین اور برہان پر قائم دین کو ایک غیر واضح، متزلزل تصور میں بدل دیتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اسلام خود ایک غیر متعین مفہوم بن جاتا ہے، اور وحی محض ایک انسانی تجربہ نظر آنے لگتی ہے جو تبدیلی اور تحریف کے نشانے پر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی حقیقت میں ایک پیغام ہے، جو ایک ربّ کی طرف سے ایک رسول پر ایک کتاب کی صورت میں نازل ہوا، اور جس کا مقصد بھی ایک ہی ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ واحد پیغام اپنی مختلف اور متناقض صورتوں میں ظاہر ہو کر سب کو درست قرار دے؟ قرآنِ کریم واضح طور پر بتاتا ہے کہ حق ایک ہی ہے، اس کے علاوہ سب باطل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ﴾
حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہو سکتا ہے؟
لہٰذا، مذاہب کے درمیان اختلاف کو اسلام کی حقیقت واحدہ کے انکار سے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ برہان و دلیل کی روشنی میں یہ معلوم کیا جائے کہ ان میں سے کون سا مذہب اللہ تعالیٰ کی اصل مراد کے زیادہ قریب ہے۔ اگرچہ بعض جدید فکری رجحانات نے نسبیت (ریلیٹیوزم)کے نظریے کو اپنا لیا ہے، لیکن اس نظریے کی جڑ دراصل انسان کی کمزوری کے پہلو سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ نظریہ علم و معرفت کو عقلِ فعال کی بجائے ماحول کے اثرات اور ذاتی حالات کا نتیجہ قرار دیتا ہے، گویا انسان اپنے گردوپیش اور نفسیاتی عوامل سے متاثر ہو کر چیزوں کو جانتا ہے، نہ کہ ایک ایسی عقلی قوت کے ذریعے جو ان اثرات سے بلند ہو کر حقیقت تک رسائی حاصل کر سکے۔
پس، جو انسان اپنے اوپر نفسیاتی اور سماجی عوامل کے غلبے کو تسلیم کر لیتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہر علم صرف ایک ذاتی موقف کا عکاس ہے، اور کوئی ثابت و معروضی حقیقت وجود نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس، اسلام نے انسان کے بارے میں اپنا نظریہ قوت اور ضعف کے توازن پر قائم کیا ہے۔ اسلام کے نزدیک عقل وہ سرچشمۂ قوت ہے جو انسان کو بلند کرتی ہے اور اسے زمان و مکان اور ذاتی میلان کی حدود سے ماورا کر دیتی ہے، جبکہ خواہشِ نفس وہ سرچشمۂ ضعف ہے جو انسان کو اپنی نفسانی خواہشات اور مادی حالات کا قیدی بنا دیتا ہے۔
اسی لیے قرآنِ کریم نے عقل اور خواہشِ نفس کے درمیان فرق کو نہایت اہمیت کے ساتھ واضح کیا ہے۔ جس طرح اس نے انسان کو عقل، غور و فکر اور تدبر کا حکم دیا، اسی طرح خواہشات کی پیروی سے سختی سے روکا ہے، کیونکہ خواہشات بصیرت کو اندھا کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾
خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر، وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔
اور فرمایا: ﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى﴾
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف رکھا اور نفس کو خواہش سے روکے رکھا۔ اور فرمایا:
﴿وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطاً﴾
اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور جس نے اپنی خواہش کی پیروی کی، اور جس کا کام حد سے بڑھ گیا۔
اگر ذاتی نقطۂ نظر اور نسبیت واقعی ناگزیر (حتمی) ہوتے، جیسا کہ نسبیت کے حامی کہتے ہیں، تو قرآن کبھی اس سے انکار نہ کرتا، اور نہ ہی انسان کو اس کے خلاف جدوجہد کی دعوت دیتا
درحقیقت، پورا قرآنی پیغام اسی بنیاد پر قائم ہے کہ انسان اپنی معرفت کو خواہشات اور شہوات کے غلبے سے آزاد کرے، کیونکہ انہی کے تابع ہو جانے سے حقیقت مسخ ہو جاتی ہے اور انسان حقیقت کو میلانِ نفس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق۔
یہی وجہ ہے کہ کہا جا سکتا ہے: معرفتی نسبیت صرف فکری گمراہی نہیں بلکہ اخلاقی انحراف بھی ہے، کیونکہ یہ انسان کو یہ جواز دیتی ہے کہ وہ بغیر کسی ذمہ داری کے جو چاہے عقیدہ اختیار کر لے،اور حقیقت کو محض ذوق اور پسند کا کھیل سمجھنے لگے۔جبکہ اسلامی منہج اس اصول پر قائم ہے کہ حقائق کا وجود انسان کے باطن سے باہر، ایک معروضی صورت میں موجود ہے، اور انسان کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ انہیں گھڑ لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انہیں عقل و برہان کے ذریعے دریافت کرے۔
چنانچہ، جس قدرمحقق اپنی ذات، تعصب اور خواہش سے بلند ہو کر سوچتا ہے، اتنا ہی وہ حقیقت کے قریب ہوتا ہے۔ اور جتنا زیادہ وہ اپنی خواہشات کا تابع بنتا ہے۔ اتنا ہی حقیقت سے دور چلا جاتا ہے۔ جب اسلامی مذاہب (فرقوں) کی تشکیل کا غیر جانبدارانہ اور تحقیقی مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے بہت سے مذاہب خالص علمی تحقیق کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئے، بلکہ ان کے پسِ منظر میں سیاسی، قبائلی یا شخصی محرّکات کارفرما تھے، جنہوں نے فہمِ دین اور تاویل کے میدان میں انحرافات پیدا کر دیے۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ تمام مذاہب لازماً اسی اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا۔ درحقیقت، ان میں سے بہت سے مذاہب انسانی کوششوں کے نتائج ہیں جو اپنے زمانی و تاریخی حالات سے متاثر ہوئے۔ تاہم، حقیقت کی نسبیت (Relativism)کو ردّ کرنا تعصّب یا مکالمے کے انکار نہیں، بلکہ اس کے برعکس، یہ عقل، برہان اور سائنسی منہج کے احترام کی دعوت ہے ۔ تاکہ اختلافی آراء کے باوجود گفتگو اور تحقیق کا دروازہ کھلا رہے۔اور مقصد یہ ہو کہ ہم ایک حق تک پہنچیں نہ کہ متضاد "حقائق" کے جواز تلاش کریں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم دو باتوں میں فرق کریں:
پہلی بات: یہ تسلیم کرنا کہ مختلف مذاہب سماجی و تاریخی حقیقت کے طور پر موجود ہیں یہ ایک ناقابلِ انکار امر ہے۔
دوسری بات: یہ مان لینا کہ کوئی مکتبِ فکر الہی حقیقت کی درست ترجمانی یہ تبھی تتب کر سکتا ہے جب اس کے پاس برہانِ قاطع موجود ہو۔ پس مذاہب کا احترام اس معنی میں نہیں کہ تمام مذاہب خدا تک پہنچنے کے یکساں راستے ہیں، کیونکہ اللہ ایک ہے، اس کا دین ایک ہے، اور اس کی شریعت ایک ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ حقائق متعدد ہیں، دراصل اس بات کے مترادف ہے کہ اسلام کے اندر خود کئی "ادیان" موجود ہیں۔ اور یہ تصور قرآن کے منطق اور توحیدِ دین کے اصول سے سراسر متصادم ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حقیقت کی تلاش میں تعصّب، جذباتیت اور اندھی تقلید سے دُور رہے، اورِ فیصلہ کرنے میں اپنا معیارعقل و برہان کو بنائے، نہ کہ مذہبی وابستگی یا سماجی وراثت کو۔ مذہب یا مسلک کو حق کے پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ حق کو مسلکی پیمانوں کے تابع بنایا جائے۔ اگر لوگوں کے درمیان مذاہب کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں، تو اس کا حل یہ نہیں کہ حقیقت ہی کو منسوخ کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حقیقی علمی مکالمے کے دروازے کھولے جائیں، تاکہ درست بات غلط سے الگ ہو جائے، اور اسلام کا حقیقی اور خالص چہرہ مختلف متضاد رجحانات کے درمیان واضح ہو سکے۔ یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے خود اپنے اندر حقیقت کو دریافت کرنے کے اصول مقرر کیے ہیں، جن میں سب سے اہم اصول برہان (دلیل) کا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾
کہہ دو: اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔
پس برہان ہی وہ فیصلہ کن میزان ہے جو مختلف مذاہب کے درمیان حق و باطل کا فرق واضح کرتا ہے، نہ کہ جذبات، اکثریت یا تاریخی وراثت۔ اسی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مذہب برابر درجے میں حق کا حصہ دار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو "کچھ حصے" کی سچائی تک پہنچنے کا نہیں، بلکہ مکمل حق کے دین تک رسائی کا مکلف بنایا ہے۔
اور جو کچھ اس کامل حق سے کم ہو، وہ "نسبی" اور ناقص و باطل ہے۔ اور اگر تشیع ایک منصف محقق کی نظر میں ایسی مکمل عقلی و استدلالی بنیادوں کی حامل منظم فکر ہے جو اسے رسالت کے حقیقی جوہر سے جوڑتی ہے، تو یہ بات کسی دعویٰ کے طور پر پیش نہیں کی جاتی، بلکہ اسے علمی مکالمے اور غیر جانبدارانہ تحقیق کے سپرد کیا جاتا ہے،تاکہ برہان کے ذریعے خود حقیقت ظاہر ہو۔ کیونکہ حق کا غلبہ نعروں یا وابستگیوں سے نہیں بلکہ دلیل اور خلوص سے حاصل ہوتا ہے۔ درحقیقت، حق کو پہچاننے کا معیار اس کی دلیل ہے، نہ کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی عقل اس نظریے کو قبول نہیں کر سکتی کہ حقیقت نسبتی ہے، کیونکہ ایسا مان لینا ایمان کی بنیاد کو ہی ختم کر دیتا ہے چونکہ ایمان یقین پر قائم ہوتا ہے، احتمال پر نہیں۔ اسی لیے نسبیت کا انکار تنگ نظری نہیں بلکہ اس بات پر ایمان ہے کہ حقیقت تک رسائی ممکن ہے، بشرطیکہ انسان اپنے نفس کو خواہشات سے پاک کرے اور اپنی عقل کو جو دراصل خدا کی عطا کردہ ہدایت کا نور ہے بروئے کار لائے۔ یوں عقل اور خواہشِ نفس کے درمیان ہی انسان کی تقدیر طے ہوتی ہے: اگر وہ عقل کی پیروی کرے تو حق کو پہچانتا ہے، اور اگر خواہش کا اسیر ہو جائے تو باطل میں بھٹک جاتا ہے۔ قوموں کی تعمیر بھی انہی دو بنیادوں پر ہوتی ہے یا تو عقل و برہان پر، یا جذبات اور اندھی تقلید پر۔
نتیجہ کلام یہ ہے کہ:
اسلام یہ نہیں کہتا کہ حقیقت تک پہنچنے کا راستہ آسان ہے، بلکہ یہ کہتا ہے کہ وہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ انسانی خودپسندی اور خواہشِ نفس اگرچہ بڑی رکاوٹیں ہیں، مگر یہ ناگزیر تقدیر نہیں، بلکہ قابلِ اصلاح کمزوریاں ہیں۔ اور چونکہ اللہ نے عقل سے کام لینے کا حکم دیا ہے اور خواہش کی پیروی سے روکا ہے،تو یہ بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقت کو جاننا ممکن ہے، اور یہ کہ وہ حقیقت ایک ہی ہے، متعدد نہیں، کیونکہ حق کا ربّ ایک ہے، اس کی کتاب ایک ہے، اس کا رسول ایک ہے، اور حق کبھی تقسیم یا متکثر نہیں ہو سکتا ۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
