سلیمانی
بچے والدین کی قدر کرنا سیکھیں؛ ماں کی زحمتیں اور مشقتیں ناقابلِ بیان ہیں
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے درسِ تفسیر (18 اپریل 2016) میں والدین کے احترام اور ان کی خدمت کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ گھر اور اخراجات کی ذمہ داری پدرانہ مشقت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن حمل، ولادت، شیرخوارگی اور دودھ پلانے کے مراحل میں ماں جن سختیوں سے گزرتی ہے، وہ ایک انتہائی سخت مرحلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت اولاد کو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ بیٹے بھی قدرشناس ہوں اور بیٹیاں بھی اس راستے کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھیں۔ آیت اللہ جوادی آملی نے سورۂ لقمان کی آیت 14 کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ قرآن کریم خود ماں کی تکالیف کو نمایاں کرتا ہے:
«وَ وَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْهِ … حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ…»
یعنی ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس قرآنی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ بیٹے ماں کی قدر کو سمجھیں اور بیٹیاں اس آیت سے آیینِ مادری کا درس لیں، تاکہ معاشرے میں والدین کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ مضبوط ہو۔
ایران کا شاہد-136 ڈرون، کم خرچ مگر مؤثر ہتھیار، عالمی طاقتوں کے لیے نیا چیلنج
ایران کا شاہد-136 ڈرون عالمی سطح پر جنگی حکمت عملی کے قواعد بدلنے والا ایک اہم عنصر بن کر ابھرا ہے، جس نے بڑی عسکری طاقتوں کو میدان جنگ میں برتری کے طریقے دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمی اسلحہ سازی کے منظرنامے میں جہاں امریکہ، چین اور روس کو ہمیشہ عسکری جدت کے رہنما سمجھا جاتا رہا ہے، وہاں ایران کا شاہد-136 ایک غیر معمولی قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ ڈرون چھوٹا، کم خرچ اور عملی مؤثریت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس نے جدید جنگ کی معیشت اور حکمت عملی کو نئی شکل دی ہے۔ مقامی سطح پر تیار ہونے کے بعد یہ نظام اب عالمی سطح پر معروف ہوچکا ہے اور بڑی عسکری صنعتیں اس کی نقل پر مجبور ہیں، جو ایرانی جدت کی اثر پذیری کو ظاہر کرتا ہے۔
شاہد-136 50 ہارس پاور پسٹن انجن سے چلتا ہے، 40 کلوگرام کا وارہیڈ لے جاسکتا ہے اور تقریباً 2000 کلومیٹر تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فی یونٹ تخمینہ لاگت 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہے، جو مہنگے فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کم پیداوار لاگت اور زیادہ روک تھام لاگت کے اس فرق نے ایران کو عالمی ڈرون جنگ میں منفرد مقام پر پہنچا دیا ہے۔
شاہد-136 کے اثرات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہی طاقتیں جو کبھی ایران کو ثانوی کردار سمجھتی تھیں، اب اس کی ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہیں۔ امریکہ، جو ہمیشہ "یہاں ایجاد ہوا" کے اصول پر کاربند رہا ہے، نے پینٹاگون کے "اسکارپین اسٹرائیک" ٹاسک فورس کے ذریعے اس کا ریورس انجینئرڈ ورژن متعارف کرایا ہے۔ اس نئے نظام کی قیمت بھی ایرانی ماڈل کے قریب بتائی جاتی ہے اور اسے "سوارم کوآرڈینیشن" کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ واشنگٹن کی وسیع تکنیکی صلاحیتیں بھی شاہد-136 جیسے کم خرچ مگر مؤثر خطرے کے سامنے محدود ہوگئی ہیں۔
روس دنیا کے بڑے ڈرون بنانے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اس کے باوجود ماسکو نے ایران کی جدید ٹیکنالوجی کو اپنے "گرین-2" ڈرون میں شامل کیا ہے۔ اس میں بہتر انجن، ریڈار سے بچنے والا مواد، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اور جدید اینٹی-جیمنگ آلات لگائے گئے ہیں تاکہ یوکرین کے میدانِ جنگ میں موجود سخت فضائی دفاعی نظام کا مقابلہ کیا جاسکے۔ روس کے پاس اپنے ڈرون پروگرام موجود ہیں، لیکن شاہد-136 نے اس کی ایک بڑی ضرورت پوری کی ہے۔ ایک سستا، لمبے فاصلے تک جانے والا اور استعمال کے بعد ضائع ہونے والا حملہ آور ڈرون جو مغربی دفاعی نظام کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔
چین بھی اسی راستے پر چل پڑا ہے۔ اس نے "لانگ M-9" ڈرون کا تجربہ کیا ہے جس کا ڈیزائن اور عمل شاہد-136 سے ملتا جلتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیجنگ بھی سمجھتا ہے کہ کم خرچ اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے ڈرون مستقبل کی جنگوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ سب مثالیں ایک حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ بڑے بجٹ رکھنے والے ممالک اکثر اپنے نظام کی سست روی اور زیادہ لاگت کی وجہ سے محدود رہ جاتے ہیں، جبکہ ایران نے پابندیوں کے باوجود خود انحصاری پر زور دے کر ایک ایسا ماڈل بنایا ہے جو سادہ مگر مؤثر ہے اور میدان جنگ میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ یوں شاہد-136 صرف ایک ڈرون نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ضرورت اور حکمتِ عملی کبھی کبھار دولت اور وسائل پر بھاری پڑجاتی ہے۔
اس ڈرون کی وسیع پیمانے پر نقل بنانا اور خریدنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگ کا انداز بدل رہا ہے۔ اب جنگی معیشت مہنگی ٹیکنالوجی کے بجائے تعداد اور کم خرچ ہتھیاروں پر زیادہ انحصار کررہی ہے۔ شاہد-136 دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کردیتا ہے اور اسے مہنگے ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے پرانی سوچ ختم ہوجاتی ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی ہی میدانِ جنگ میں برتری دیتی ہے۔
شاہد-136 نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جدت صرف امیر ممالک کا حق نہیں۔ ایران نے وسائل کی کمی کو اپنی طاقت بنایا اور ایسا ڈرون تیار کیا جس کی اب دنیا کی بڑی فوجیں نقل کر رہی ہیں اور اپنا رہی ہیں
رہبر انقلاب سے شعرا اور مداحان اہلبیت علیہم السلام کی ملاقات؛
ایران کا مصنوعی ذہانت (AI) انقلاب ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے
ایران غیر معمولی عجلت کے ساتھ عالمی مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں داخل ہوچکا ہے۔ تہران اس ٹیکنالوجی کو محض سائنسی یا معاشی ترجیح نہیں سمجھتا، بلکہ اسے قومی طاقت، اندرونی کنٹرول اور اسرائیل و امریکا جیسے حریفوں کے خلاف مستقبل کی حکمتِ عملی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔ شدید پابندیوں اور گہرے معاشی دباؤ کے باوجود، ایران کے اعلیٰ حکام اور سلامتی ادارے اب کھل کر AI کو ایک ایسا شعبہ قرار دے رہے ہیں، جس پر ملک کو خود انحصار حاصل کرنا ہوگا اور جس میں مغربی پلیٹ فارمز پر انحصار خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ مستقبل میں ان تک رسائی محدود یا بند کی جا سکتی ہے۔ حکومتی، تعلیمی اور عسکری ادارے اب باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، تاکہ مقامی AI صلاحیتیں تیار کی جائیں، قومی پلیٹ فارمز بنائے جائیں اور بالآخر ایران کے سائبر اور عسکری نظاموں میں AI کو مکمل طور پر ضم کیا جائے، جن میں جارحانہ (offensive) صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔
اعلیٰ قیادت کی سطح پر ہدایات
سیاسی سطح پر رہبرِ انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای نے AI کی ترقی کو ذاتی طور پر ایک اسٹریٹجک ہدایت بنا دیا ہے۔ 2024ء کے بعد سے وہ مسلسل خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ مستقبل میں کوئی بین الاقوامی ادارہ، جوہری نگرانی کے نظام کی طرز پر۔۔۔ ایران کی جدید AI تک رسائی محدود کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو لازماً خود مختار AI صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی اور صرف غیر ملکی نظاموں کا "صارف" بن کر نہیں رہنا چاہیئے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے قانون سازی اور ایک قومی AI خاکے (blueprint) کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو تحقیقی اداروں، وزارتوں اور مجلس (پارلیمنٹ) کو ایک متحد فریم ورک میں جوڑ دے۔
حکام اور اداروں کا وسیع نیٹ ورک
سابق نائب صدر محمد مخبر AI تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور ’’نالج بیسڈ کمپنیوں‘‘ کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہیں۔ ایرانی ایسوسی ایشن برائے مصنوعی ذہانت کے سیکرٹری خبردار کرتے ہیں کہ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر پر پابندیاں پہلے ہی پیش رفت میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور اگر مغربی ممالک نے AI ٹیکنالوجی پر اسی طرح قدغن لگائی، جیسے جدید ہتھیاروں پر لگائی گئی تھی، تو یہ تقریباً مکمل ناکہ بندی کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے وابستہ ماہرینِ تعلیم AI تحقیق کو براہِ راست فوجی حکمتِ عملی سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ AI میدانِ جنگ میں فیصلوں کی رفتار کو غیر معمولی حد تک تیز کرسکتی ہے۔
عسکری میدان میں AI
فوجی کمانڈر اس سے بھی آگے جاتے ہیں۔ مرحوم IRGC کمانڈر حسین سلامی AI کو نہایت درست نشانہ بندی (precision targeting) کے لیے ناگزیر قرار دے چکے ہیں، خصوصاً بحری جنگ میں۔ IRGC نیوی کا دعویٰ ہے کہ وہ AI کو میزائل اور فضائی نظاموں میں ضم کر رہی ہے، جبکہ بری فوج اب ایسے کسی بھی ساز و سامان کی خریداری سے انکار کر رہی ہے، جو "سمارٹ" نہ ہو۔ ایران کے سلامتی اداروں کے نزدیک AI محض ایک تکنیکی انقلاب نہیں بلکہ ایک عسکری انقلاب ہے اور ان کے خیال میں ایران اس سے پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ادارہ جاتی پیش رفت
ادارہ جاتی سطح پر بھی ایران تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جون 2024ء میں مجلس نے ’’قومی دستاویز برائے مصنوعی ذہانت‘‘ کی منظوری دی، جو خامنہ ای کے وژن کو بنیاد بناتے ہوئے انفراسٹرکچر، انسانی وسائل، بین الاقوامی تحقیقی قیادت اور معاشی استحکام کے اہداف طے کرتی ہے۔ 2025ء کے اواخر میں ایک ’’قومی تنظیم برائے مصنوعی ذہانت‘‘ قائم کی گئی، جو صدارتی دفتر کے تحت کام کرے گی، ضابطہ کاری (regulation) کو مربوط کرے گی اور عالمی سطح پر ایران کی نمائندگی کرے گی۔ تہران نے ایک مقامی تجرباتی AI پلیٹ فارم بھی لانچ کیا ہے، جسے طب، ٹرانسپورٹ اور تعلیم جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے اور جس کا مقصد مغربی نظاموں پر انحصار کم کرنا ہے۔
ہیکنگ، فِشنگ اور گمراہ کن معلومات
اگرچہ ایرانی حکام "دفاعی سائبر استعمال" پر زور دیتے ہیں، لیکن مغربی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایرانی کوششوں میں واضح اضافہ رپورٹ کرچکی ہیں، جن کا مقصد AI کو جارحانہ سائبر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا ہے۔ مائیکروسافٹ، گوگل اور اوپن اے آئی (OpenAI) سب نے انکشاف کیا ہے کہ ایران بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) کو ہیکنگ، فِشنگ، گمراہ کن معلومات اور سافٹ ویئر کمزوریوں کی تلاش کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غلط معلومات پھیلانے والا گروپ STORM-2035 نے 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران AI ٹولز استعمال کرتے ہوئے کثیر لسانی مواد تیار کیا، جو سماجی تقسیم کو ہوا دیتا اور ایران نواز بیانیے کو فروغ دیتا تھا۔ یہ گروپ خود کو مقامی شہری ظاہر کرتے ہوئے امریکا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے سامعین کو نشانہ بناتا رہا۔
ایک اور IRGC سے منسلک کردار CyberAv3ngers نے کمرشل AI ٹولز کے ذریعے صنعتی کنٹرول سسٹمز کو اسکین کیا، بدنیتی پر مبنی کوڈ کو چھپایا اور اہداف کی فہرست وسیع کی۔ گوگل کے Gemini پلیٹ فارم نے بھی ایسے ایرانی اقدامات کی نشاندہی کی، جن میں اسرائیلی دفاعی نظام، سیٹلائٹ انفراسٹرکچر، ڈرون ٹیکنالوجی اور عبرانی زبان میں فِشنگ کی کوششیں شامل تھیں، یعنی AI ماڈلز سے عملی طریقۂ کار سیکھا جا رہا تھا۔ ایرانی گروپ APT-42 نے AI نظاموں کو دھوکہ دے کر "ریڈ ٹیم" طرز کی حملہ آور رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ تمام مثالیں ایران کی بڑھتی ہوئی مہارت کے ساتھ ساتھ اس کی حدود کو بھی ظاہر کرتی ہیں: ایران اب بھی بڑی حد تک مغربی AI ماڈلز پر انحصار کرتا ہے، کیونکہ اس کے مقامی پلیٹ فارمز ان کے مقابلے میں کہیں پیچھے ہیں۔ خودمختار AI پر سیاسی زور دراصل تہران کے اس خوف کی عکاسی کرتا ہے کہ کہیں غیر ملکی نظام مستقبل میں ایران کو مکمل طور پر باہر نہ کر دیں۔
عالمی رجحانات اور مستقبل کے خدشات
ایران کی سمت عالمی رجحانات سے مطابقت رکھتی ہے، جہاں AI پر مبنی سائبر کارروائیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، چاہے وہ شمالی کوریا کی مالی دھوکہ دہی ہو یا مختلف ریاستوں کی خفیہ اثرانداز مہمات۔ تہران موجودہ ماڈلز کا مطالعہ کر رہا ہے اور انہیں اپنی جغرافیائی سیاسی کشمکش کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ اگرچہ ایران میں AI کے بیشتر استعمالات ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں، لیکن جو انفراسٹرکچر اب تعمیر ہو رہا ہے، وہ مستقبل میں اسلامی جمہوریہ کو خودکار سائبر ہتھیاروں، اثرانداز مہمات اور میدانِ جنگ میں AI کے نئے اوزار فراہم کرسکتا ہے، خصوصاً اسرائیل اور مغرب کے ساتھ آئندہ تصادمات میں۔
نتیجہ
ایران کی AI مہم کو محض بیانات یا نعرہ بازی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔ یہ ایک گہرا اسٹریٹجک قومی منصوبہ ہے، جو ایران کی معیشت، حکمرانی، عسکری حکمتِ عملی اور خارجہ پالیسی کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے اور حیران کن رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔
نوٹ:
اس تجزیئے کا مکمل نسخہ ڈاکٹر آوی داویدی نے Jerusalem Institute for Strategy and Security کے لیے تحریر کیا تھا۔ ڈاکٹر آوی داویدی Times of Israel کے فارسی ایڈیشن کے مدیر ہیں، تل ابیب یونیورسٹی کے Elrom Air and Space Research Center میں سینیئر محقق اور Ono Academic College میں MBA پروگرام کے لیکچرر ہیں
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
داعش کی شکست کا راز
10 دسمبر 2025ء کے دن عراقی قوم اور حکومت نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش پر فتح کی آٹھویں سالگرہ منائی ہے۔ یہ دن عراق کے قومی کیلنڈر میں مسلح افواج، حشد الشعبی (پاپولر موبیلائزیشن فورسز) اور عراقی عوام کی قربانیوں کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی سرزمین کو تکفیری دہشت گردی سے بچانے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی۔ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نیز حشد الشعبی کے کمانڈروں نے مبارک باد پر مبنی اپنے پیغامات میں اس فتح کو ایک تاریک خواب کا خاتمہ اور استحکام کے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے اس دن کو عراقیوں کے شجاعانہ موقف کی یاد تازہ کر دینے والا دن قرار دیا اور کامیابیوں کے تحفظ پر زور دیا۔ عراقی صدر عبداللطیف رشید نے بھی عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے باہمی اتحاد پر زور دیا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمود المشہدانی نے مسلح افواج کے اقدامات کو تاریخ کا ایک روشن صفحہ قرار دیا۔ سپریم اسلامی کونسل کے صدر شیخ ہمام حمودی نے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور اتحاد کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر محسن المندلاوی نے اس شجاعانہ جنگ کی تعریف کی جو ملک کی خودمختاری اور وقار بحال ہو جانے کا باعث بنی۔ حشد الشعبی کے سربراہ فلاح الفیاض نے عوامی رضاکار فورس کی تشکیل میں مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی کے فتوے کے کردار پر روشنی ڈالی اور اس فتح کو عوام کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس خز علی نے ایران کی برادرانہ حمایت کو سراہا۔ قومی حکمت پارٹی (نیشنل وزڈم موومنٹ) کے سربراہ سید عمار حکیم نے مرجع عالی قدر اور ان کے فتوے پر لبیک کہنے والوں کو مبارکباد پیش کی۔شیعہ، سنی اور کرد رہنماؤں کے یہ پیغامات عراق میں سلامتی اور ترقی برقرار رکھنے کے اجتماعی عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
دہشت گردی کا خطرہ ظاہر ہونے کی کہانی
عراق میں القاعدہ کی ذیلی شاخ کے طور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش 2011ء میں امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد اور سیاسی عدم استحکام اور فوج کی کمزوری کے سائے میں تیزی سے پروان چڑھا۔ اس گروہ نے 2013ء شام کی داعش سے الحاق کا اعلان کر دیا اور یوں "اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا" (ISIS) کا نام اختیار کرگیا۔ 2014ء میں سعودی عرب، قطر، اور سلفی وہابی تحریکوں کی مالی اور عسکری مدد سے نیز امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے واضح طور پر آنکھیں بند کر لینے کے ساتھ داعش نے عراق پر ایک بڑے حملے کا آغاز کر دیا جس کا عروج 10 جون 2014ء کے دن موصل پر اس کے قبضے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ قبضہ محض چند سو دہشت گردوں کے مقابلے میں عراقی فوج کے دسیوں ہزار سپاہیوں کے فرار ہو جانے کا نتیجہ تھا۔
موصل پر قبضے کے بعد داعش نے مرکزی بینک سے 1.5 ارب ڈالر سے زائد رقم بھی لوٹ لی اور اسلحے کے ذخائر پر قبضہ کر کے دنیا کا امیر ترین دہشت گرد گروہ بن گیا۔ موصل کے بعد تکریت، رمادی، فلوجہ اور صوبہ الانبار کے وسیع علاقے نیز صلاح الدین اور نینویٰ ایک ایک کر کے داعش کے قبضے میں جاتے چلے گئے۔ 2015ء کے وسط تک داعش نے عراق کے تقریباً 40 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور بغداد کے اندر بھی کئی کلومیٹر تک پیش قدمی کر لی تھی۔ یہ وحشیانہ پیشقدمی منظم قتل و غارت، اسپائیکر واقعے سمیت وسیع قتل عام کے واقعات، مزارات اور مساجد کی تباہی، یزیدی خواتین کو غلام بنانا اور دہشت کی فضا پیدا کرنے کے ہمراہ تھی۔ نوری المالکی حکومت کی کمزوری، فوج میں بدعنوانی اور بعض سنی قبائل کی ناراضگی نے بھی دہشت گردوں کو عراق کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچانے اور خطے کو معصوم لوگوں کی قتل گاہ میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کی۔ ایک ایسی سازش جو امریکہ، مغرب اور غاصب صیہونی رژیم کی پس پردہ حمایت سے آگے بڑھ رہی تھی۔
تاریخی فتوا اور عوامی دفاع کا آغاز
تکفیری دہشت گردی سے درپیش بحران کے عروج پر، آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی کی طرف سے 13 جون 2014ء کے دن ایک تاریخی فتوا جاری کیا گیا جس میں داعش کے خلاف جہاد کو واجب کفائی قرار دیا گیا۔ نجف سے جاری ہونے والی اس فتوے میں عراقی شہریوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ وطن کے دفاع کی خاطر سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیں اور نہ صرف شیعہ بلکہ سنی، کرد اور عیسائیوں کو بھی متحرک کریں۔ اس فتوے کی اہمیت فوجی پہلو سے بھی آگے نکل گئی اور وہ عراق کی قومی تاریخ میں ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہوا جس نے میدان جنگ کا توازن دفاع سے حملے کی طرف موڑ دیا اور عوام میں قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا۔ اس فتوے نے دسیوں ہزار رضاکاروں کو متحرک کیا اور فرقہ وارانہ اتحاد کی لہر پیدا کی جس کے باعث سقوط بغداد کا خطرہ ٹل گیا۔ اس فتوے نے ایک وسیع عوامی جدوجہد کو جنم دیا اور جنگ کا رخ تبدل کر دیا اور اس کی اہمیت کے پیش نظر عراقی پارلیمنٹ نے 13 جون کو قومی دن قرار دے دیا۔
داعش کے خاتمے میں ایران کا نمایاں کردار
اسلامی جمہوریہ ایران نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے واضح حکم پر عراق پر داعش کے حملے کے آغاز سے ہی اس ملک کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا شروع کر دی تھیں۔ یہ اسٹریٹجک حکم عراقی قوم اور حکومت کے لیے ایران کی غیر مشروط، تیز رفتار اور جامع حمایت کی بنیاد بن گیا۔ میدان جنگ میں بھی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی نے ایک بے مثال اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ وہ خود کو "مرجع عالی قدر کا سپاہی" کہتے ہوئے آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کے فوراً بعد عراق میں داخل ہوئے اور داعش کے خلاف حتمی فتح کے دن تک عملی طور پر پورے مزاحمتی محاذ کے مرکزی کمانڈر کا کردار ادا کرتے رہے۔ آمرلی اور سامرا کا محاصرہ توڑنے سے لے کر جرف النصر، تکریت، بیجی، فلوجہ، رمادی اور موصل کو آزاد کرانے تک تمام فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد شہید قاسم سلیمانی کی براہ راست، چوبیس گھنٹے کی نگرانی سے انجام پاتا رہا۔
تحریر: مہدی سیف تبریزی
مقبوضہ فلسطین میں سیلاب، دسیوں ہلاک، زخمی اور لاپتہ، متعدد علاقے خالی کرا دیے گئے
مقبوضہ فلسطین میں سیلاب کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سیلابی بارشوں نے مقبوضہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے۔
جنوبی مقبوضہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں سڑکوں پر کشتیوں اور ناؤ کے ذریعے کارروائی کر رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر لوگ اپنا گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
عبری میڈیا کے مطابق، ایک شخص کی لاش بھی ایک گڑھے سے برآمد ہوئی ہے۔
عسقلان میں دسیوں افراد سیلاب میں پھنس چکے ہیں جن میں سے 16 زخمی ہیں۔
ادھر سیلابی بارشوں کے باوجود طبریہ جھیل میں پانی کی سطح بری طرح نیچے چلی گئی ہے جس کے نتیجے میں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ طبریہ جھیل کی صیہونیوں کے قریب مذہبی اہمیت بھی ہے اور اس جھیل میں پانی کی قلت کے نتیجے میں ان کا نام نہاد اعتقاد بھی خشک پڑ رہا ہے۔
مشترکہ تعاون کو مضبوط اور معاہدوں پر عملدرامد کی رفتار تیز کی جائے گی، ایران اور پاکستان کی قیادت پرعزم
ترکمانستان میں امن اور اعتماد کانفرنس کے موقع پر صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے بھی ملاقات اور گفتگو کی۔
اس موقع پر دونوں فریقوں نے ایران اور پاکستان کے تعلقات کی آخری صورتحال کا جائزہ لیا اور موجودہ باہمی معاہدوں پر عملدرامد کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا۔
صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم نے ایران اور پاکستان کی وسیع گنجائشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور اسلام آباد نقل و حمل اور راہداری منصوبوں، سرحدی تنصیبات میں فروغ اور صدر ایران کے دورہ اسلام آباد میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرامد کے لیے پرعزم ہیں۔
دونوں فریقوں نے معاشی، تجارتی اور مواصلاتی تعلقات میں اضافے نیز مشترکہ کاوشوں پر بھی زور دیا۔
صدر پزشکیان نے ایران اور پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور سرحدی مشترکات کو توانائی، تجارت، باہمی سلامتی، سرحدی مارکیٹوں میں فروغ اور عوامی رابطے کی بنیاد قرار دیا جس کے ذریعے پورے علاقے میں استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
"انا اعطینٰک الکوثر” بے شک ہم نے ہی آپ کو کوثر عطا فرمایا۔
کلامِ الٰہی اور تفاسیر میں شان حضرت زہراء (ع)
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سردار انبیاء و رحمۃ للعالمین کی دختر، سید الاوصیاء امام علی ؑ کی زوجہ اور امام حسن و امام حسین علیہما السّلام کی مادر گرامی ہیں۔ آپ اصحابِ کساء، پنجتن پاک میں سے اور معصومہ ہیں۔ زہراء، بتول، سیدۃ النساء، عذراء، محدثہ، معظمہ اور ام ابیہ وغیرہ آپ کے مشہور القابات ہیں۔
حضرت فاطمہ(س) واحد خاتون اسلام ہیں جو نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ میں پیغمبر اکرمؐ کے ہمراہ تھیں اس کے علاوہ سورہ کوثر ، آیت تطہیر،آیت مودت، آیت اطعام اورحدیث بضعۃ آپؑ کی شان اور فضیلت میں وارد ہوئی ہیں۔روایات میں آیا ہے کہ رسول اکرمؑ نے فاطمہ زہراؑ کو سیدۃ نساء العالمین کے طور پر متعارف کیا اور ان کی خوشی اور ناراضگی کو اللہ کی خوشنودی و ناراضگی قرار دیا ہے۔اسی کے ضمن میں ہم قرآن کی بعض آیات کے زریعے آپ کی شان بیان کریں گئے۔
قرآن کی آیات کی روشنی میں :
آیت تطہیر
"انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت لیطھرکم تطھیرا” ( احزاب :33)
"اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔”
یہاں اہل بیت سے مراد امام علی علیہ السلام، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور امام حسن وحسین علیھما السلام ہیں۔ اس حدیث کو شیعہ اور اہلسنت دونوں نے نقل کیا ہے۔ مثال کےطور ایک حدیث میں جناب ام سلمہ ؒ بیان فرماتی ہیں۔
یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیھم السلام کو بلایا اور ان پر چادر ڈال دی پھر فرمایا:
اللھم ھولاء اھل بیتی
اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔
آپ ہی کی ایک روایت ہےکہ جناب ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ ؐ کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا!
انک علی خیر،انک من ازواج النبی.
تم خیر پر ہو اور تم ازواج پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہو۔
اس کے علاوہ ابو سعید خدری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت کےساتھ فرمایا
ھذہ الایۃ فی خمسۃ فی و فی علی وحسن و حسین و فاطمہ۔
یہ آیت پنجتن کی شان میں ہے، یعنی میرے ، علی اور حسن و حسین و فاطمہ سلام اللہ علیھم کی شان میں نازل ہوئی ہے۔(الکوثر فی تفسیر القرآن ، سورہ احزا ب: ۳۳)
آیت مباہلہ:
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ“ “(آل عمران،)61
"آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی بیٹیوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی بیٹیوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔”
شیعہ اور اہلسنت مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجران کےنصاری کے مناظرے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ کو اقنوم ثلاثہ میں سے ایک مانتے ہوئے انکو معبود کے درجے تک لے جاتے تھے اورعیسیٰؑ کےبارے میں قرآن کریم کی توصیف سے متفق نہیں تھے جس میں انہیں خدا کا پارسا بندہ اور نبی قرار دیا گیا تھا۔ جب پیغمبر اکرم(ص) کی گفتگو اور دلائل عیسائیوں پر مؤثر ثابت نہ ہوئے تو آپؐ نے ان کو مباہلے کی دعوت دی۔
محدثین، مفسرین،مورخین اور سیرت نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور(ص) نے مباہلے کے موقع پر حسنین ، فاطمہ اور علی علیھم السلام کو ساتھ لیا۔
سیرت نگاروں اور مورخین میں سے کسی نے بھی اس بات میں اختلاف نہیں کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن ، حسین ، فاطمہ اور علی علیھم السلام کا ہاتھ پکڑ کر نصاریٰ کو مباہلے کی دعوت دی۔(الکوثر فی تفسیر القرآن ، آل عمران: ۶۱)
آیت مودت
"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى” (سورہ شوریٰ ۲۳)
کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوائے صاحبان قرابت کی محبت کے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت مدینہ اور اسلامی معاشرے کی داغ بیل ڈالنے کے بعدانصار نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلامی نظام کے انتظام کے لیے کہا کہ ” اپنے نئے معاشرے کی تشکیل کے لئے اگر آپ کو مالی اور معاشی ضرورت ہے تو ہماری پوری دولت اور تمام وسائل آپ کے اختیار میں ہیں، جس طرح آپ خرچ کریں اور ہمارے اموال میں جس طرح بھی تصرف کریں، ہمارے لئے اعزاز و افتخار کا باعث ہوگا تو فرشتہ وحی آیت مودت لے کر نازل ہوا۔
سعید بن جبیر سے روایت ہےکہ جب آیت مودت نازل ہوئی تو ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ! آپ کے وہ قریبی کون سے ہیں؟ کہ جن کی مودت ہم پر واجب ہے تو آپ (ص) نے ارشاد فرمایا اس سے مراد علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ (تفسیر نمونہ، سورہ شوریٰ:۲۳)
سورۂ کوثر
"انا اعطینٰک الکوثر” ( کوثر:1)
بے شک ہم نے ہی آپ کو کوثر عطا فرمایا۔
مفسرین نے لفظ کوثر کی تفسیر میں بہت سارے مطالب بیان کئے ہیں۔ اس سلسلے میں لفظ کوثر کے مصداق کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ شیعہ علماء "کوثر” کے مصداق کو حضرت فاطمہؑ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سورت میں ان اشخاص کا تذکرہ ہے جو پیغمبر اکرمؐ کو بے اولاد اور ابتر سمجھتے تھے حالنکہ آنحضرت ؐ کی اولاد آپ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہؑ کی نسل سے آگے بڑھی جنہوں نے امامت جیسے عظیم عہدے کو سنبھال کر دین اسلام کی آبیاری کی جس کی بنا پر آج اسلام کا یہ تنومند درخت پوری آب و تاب کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔(تفسیر نمونہ، سورہ کوثر)
آیت قربیٰ
واٰت ذاالقربیٰ حقہ.
اور قریب ترین رشتہ دار کو اس کا حق دیا کرو۔
"ذَا الْقُرْبَىٰ” کے بارے میں مفسرین کے درمیان یہ سوال ایجاد ہوتے ہیں کہ آیا اس سے مراد ہر رشتہ دار ہیں یا صرف پیغمبر اکرمؐ کے رشتہ دار مراد ہیں؟ تفسیر نمونہ کے مطابق شیعہ آئمہ معصومین سے نقل شدہ احادیث کے مطابق "ذَا الْقُرْبَىٰ” سے صرف اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں لیکن یہ احادیث آیت کے مصادیق کو صرف اہل بیت میں منحصر نہیں کرتیں بلکہ اہل بیت کو اس کا کامل مصداق قرار دیتی ہیں لہٰذا ہر شخص سے اپنے رشتہ داروں سے متعلق پوچھا جائے گا۔
شیعہ اور اہلسنت احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے لئے فدک بطور ہدیہ عطا فرمایا۔ حدیث میں ہے۔
جب آیت واٰت ذاالقربیٰ حقہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ سلام اللہ علیھا کو بلایا اور انہیں فدک عنایت فرمایا۔ (الکوثر فی تفسیر القرآن، الاسراء :۲۶ )
آیت اطعام
وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًۭا وَيَتِيمًۭا وَأَسِيرًاإِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءًۭ وَلَا شُكُورًا" (دھر)
یہ آیت اس مشہور واقعہ کے بعد نازل ہوئی ۔جب امام حسن اور امام حسین علیھما السلام بیمار ہوئے تو گھر میں تما م افراد نے ان کی صحتیابی کےلیے تین دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ۔ جب آپ دونوں تندرست ہوگئے تو سب گھر والوں نے روزہ رکھا اور افطار کے وقت دروازے پر سائل نے صدا دی اے اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !کوئی ہے جوبھوکے کو کھانا کھلائے۔ انہوں نےاپنا مکمل کھانا سوالی کو عطا کردیا یہی واقعہ تین دن پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی۔
بعض اہلسنت مفسرین کی نگاہ میں آیت اطعام اہل بیت علیھم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں اہلسنت کے 34 علماء کا نام لکھا ہے جنہوں نے متواتر طور پر تائید کی ہےکہ یہ آیات اہل بیتؑ کی شان اورامام علی، فاطمہ حسن اور حسین علیھم السلام کے فضائل بیان کرتی ہیں۔ شیعہ علماء کی نگاہ میں اس سورہ کی اٹھارہ آیات مکمل سورہ انسان اہل بیتؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے اور تفسیر یا حدیث کی کتابوں میں اس واقعہ سے مربوط روایت کو علیؑ، فاطمہ ؑ اور ان کے فرزندان کے افتخارات اور اہم فضائل میں سے ایک قرار دیا ہے۔(تفسیر نمونہ، سورہ انسان 9،۸)
بے نمازی کو نماز کی طرف مائل کرنے کا سنہری نسخہ
حجتالاسلام والمسلمین علیرضا پناہیان نے اپنی ایک تقریر میں لوگوں کو نماز کی جانب راغب کرنے کے عملی طریقے بیان کرتے ہوئے کہا: "بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ بے نمازی افراد کو کیسے قائل کریں کہ وہ نماز پڑھیں؟"
اس کا جواب یہ ہے کہ انہیں یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ نماز کیوں ضروری ہے؛ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ خود نماز گزار نے نماز سے کیا فائدہ حاصل کیا ہے؟
نماز پڑھنے والا شخص اپنی نماز کا اثر اپنے کردار اور رویّے میں ظاہر کرے۔ جو سکون، لذت اور برکتیں اسے نماز سے ملی ہیں، وہ دنیا کے سامنے اپنے اخلاق اور عمل سے نمایاں کرے تاکہ دوسرے بھی نماز کے شوق میں آگے آئیں۔ اکثر بے نماز لوگ نماز پڑھنے والوں کو دیکھ کر کہتے ہیں: "تم جو نماز پڑھتے ہو، تمہاری زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟"
نماز گزار کا اخلاق، برتاؤ اور شخصیت یہ بتائے کہ نماز نے اس کی زندگی کے کس حصے کو سنوارا اور کیسے اس کی روحانی کیفیت دوسروں کے لیے باعثِ کشش بنی۔
ہمیشہ ایک سنہری اصول یاد رکھیں: "جب تک اچھے لوگ مزید بہتر نہیں بنتے، بُرے لوگ اچھے نہیں بنیں گے۔"































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
