سلیمانی
آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر سے متعلق سکیورٹی واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
ادارے نے فوجی حکام کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے عمان کے ساحلی علاقے میں واقع بندرگاہی شہر خصب کے قریب مذکورہ آئل ٹینکر کو ایک بغیر پائلٹ جہاز نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم ٹینکر کا عملہ محفوظ ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ادارے نے اس علاقے سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کا غم تمام مصیبتوں سے بڑا ہے: آیت اللہ جوادی آملی
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپؐ کی رحلت امت کے لیے ایسی عظیم مصیبت تھی کہ اس کے مقابلے میں دیگر تمام مصیبتیں معمولی اور حقیر دکھائی دیتی ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے ایک خطاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے عظیم صدمے کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصیبت کو تمام مصیبتوں سے عظیم قرار دیا ہے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس فرمان کی طرف اشارہ کیا کہ: «وَإِنَّ الْمُصَابَ بِکَ لَجَلِیلٌ، وَإِنَّهُ قَبْلَکَ وَبَعْدَکَ لَجَلَلٌ»
یعنی آپ کی رحلت کا صدمہ نہایت عظیم اور ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ آپؐ کی رحلت سے پہلے اور اس کے بعد آنے والی دیگر مصیبتیں اس کے مقابلے میں معمولی ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ یہاں «جَلِیل» سے مراد عظیم اور بہت بڑی مصیبت ہے، جبکہ «جَلَل» کے معنی معمولی اور حقیر کے ہیں۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت ایسی عظیم مصیبت ہے کہ اس کے مقابلے میں باقی تمام مصیبتیں معمولی محسوس ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک دوسرے مقام پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بارے میں فرمایا:
«لَقَدْ خَصَّصْتَ حَتَّی صِرْتَ مُسَلِّیًا عَمَّنْ سِوَاکَ، وَعَمَّمْتَ حَتَّی صَارَ النَّاسُ فِیکَ سَوَاءً»
یعنی آپؐ کی مصیبت ایسی منفرد اور عظیم ہے کہ دوسری تمام مصیبتوں کے مقابلے میں آپؐ کی یاد انسان کے لیے باعثِ تسلی بن جاتی ہے۔ کوئی بھی مصیبت آپؐ کی رحلت کے برابر نہیں، اور آپؐ کے وصال کے بعد آنے والی مشکلات کو بھی اسی عظیم صدمے کے مقابلے میں برداشت کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے یہ کلمات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے عظیم روحانی اور اجتماعی اثرات کو واضح کرتے ہیں۔
حوالہ:
۱۔ نہج البلاغہ، حکمت 292
۲۔ نہج البلاغہ، خطبہ 235
ٹرمپ اور کوڑے کا ٹرک
واشنگٹن پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ایران کی طرف سے خطرے اور خوف کی وجہ سے خفیہ طور پر ایک متبادل فوجی طیارے پر ترکی سے لندن کا سفر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کیمروں کے سامنے ایئر فورس ون جیٹ میں سوار ہوئے اور چند منٹ بعد انہیں خفیہ طور پر ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے ایک چھوٹے طیارے میں منتقل کردیا گیا۔ وہ کوڑے کے ٹرک کے ذریعے طیارے میں پہنچے اور ایک چھوٹے طیارے سے ترکی سے روانہ ہوئے۔
خبر کی تفصیل
اس خبر کی تفصیل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دھمکیوں کے باعث خفیہ پرواز کے ذریعے ترکیے سے واپسی کے واقعے پر لب کشائی کردی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ سے خفیہ فوجی پرواز کے بعد جس طیارے میں سفر کیا وہ زیادہ خطرے میں تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ طیارہ تبدیل کرتے وقت میں سیکرٹ سروس کی ہدایت پر عمل کررہا تھا، جس طیارے پر سفر کررہا تھا، اسے زیادہ خطرہ ہوسکتا تھا، ایران پر بھروسہ نہیں۔ اس سے پہلے امریکی اخبار نے گزشتہ ماہ نیٹو اجلاس کے بعد امریکی صدر کی ترکیے سے نکلنے کی حیران کن رپورٹ جاری کی تھی۔
امریکی اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ گزشتہ ماہ دورہ ترکیہ سے ٹرمپ کی خفیہ واپسی ایران سے ملی دھمکیوں کی وجہ سے ہوئی، انقرہ ائیرپورٹ پر ٹرمپ کیمروں کے سامنے ائیرفورس ون میں سوار ہوئے تھے لیکن ٹرمپ کو خفیہ طور پر ائیرفورس ون سے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے پہنچایا گیا اور ٹرمپ ترکیے سے ائیر فورس کے سی 32 اے طیارے میں برطانیہ پہنچے۔
امریکی اخبار کے مطابق ائیرفورس ون میں صحافیوں کو کھڑکیوں کے شیڈ گرائے رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، صحافی اور وائٹ ہاؤس کا عملہ یہ سمجھتا رہا کہ ٹرمپ ائیرفروس ون میں ہی موجود ہیں، البتہ یہ واضح نہیں کہ برطانیہ میں ٹرمپ کو واپس ائیرفورس ون طیارے میں کیسے پہنچایا گیا۔ یہ خبر تیزی سے ایک "میگا میم" بن گئی، صارفین نے ہیش ٹیگ اور ٹرمپ کی AI تصاویر کو سینڈوچ اور سلاد کے درمیان چھپا کر ان کا جی بھر کر مزاق اڑایا۔
ایئر فورس ون: ایک امریکی علامت جو منہدم ہوگئی
امریکی سیاسی ثقافت میں، "ایئر فورس ون" صرف ایک طیارہ نہیں ہے۔ یہ صدارتی طاقت، خودمختاری اور شان و شوکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب ٹرمپ کیمروں کے سامنے اس پر سوار ہوتے ہیں، تو وہ درحقیقت اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں اور امریکی سیکورٹی فورسز اس کو جاہ و جلال اور اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ امریکہ کی ائیر فورس کا ائیر فورس ون ناقابل تسخیر ہے لیکن کیٹرنگ ٹرک پر ٹرمپ کے خفیہ سفر نے بھانڈا پھوڑ دیا۔
فوڈ یا کیٹرنگ ٹرک؛ ذلت اور فرار کی علامت
ٹرمپ کے بلند بانگ دعووں کے پیش نظر جس میں وہ وہ کئی بار ایران کی نیوی اور ائیر فورس کو ختم کرنے کا میڈیا کے سامنے اظہار کرچکے ہیں۔ موجوہ خوفزدہ اقدام کئی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ٹرمپ کے مخالفین اس ذلت آمیز علامت کو استعمال کرتے ہوئے ان کی ناقابل تسخیر ہونے کے افسانے کو ہمیشہ کے لیے بکھیرنے میں کامیاب ہوگئے۔ میک ڈونلڈز کے کھانے میں چھپے ٹرمپ کی AI تصاویر نے "طاقت" کی داستان کو مضحکہ خیز بننے کی داستان سے بدل دیا۔ سیاست میں نرگسیت پسند کردار کے لیے مشہور ٹرمپ کے لئے اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور مہلک کوئی چیز نہیں ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر اور سنجیدہ لطیفہ
امریکہ کے سابق وفاقی اور ریاستی اٹارنی رون فلپکوسکی نے ٹویٹ کیا ہے کہ اگر آپ دنیا کی سب سے طاقتور فوج کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن ایک کوڑے کے ٹرک میں چھپ جاتے ہیں، تو آپ فاتح ہرگز نہیں ہیں۔
امام رضا علیہ السلام کا فکری تحریکوں سے مقابلہ؛ علمی مناظروں سے فکری نظام کی تشکیل تک
مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: عباسی دور میں مختلف مذہبی، کلامی اور فکری مکاتب کے درمیان فکری مباحث عروج پر تھے۔ امام رضا علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب مامون عباسی نے انہیں مدینہ سے خراسان بلا کر ولی عہد مقرر کیا۔ اگرچہ یہ اقدام سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا تھا، لیکن امام نے اس مسلط کردہ صورتحال کو اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور شیعی فکر کی وضاحت کے لیے ایک علمی موقع میں تبدیل کردیا۔ مختلف ادیان و مذاہب کے علماء کے ساتھ امام کے مناظرے، اعتقادی سوالات کے جوابات اور ان کے خطبات اسی علمی جدوجہد کا اہم حصہ تھے۔ زیر نظر گفتگو میں حجۃ الاسلام رضا غلامی نے امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی، اس کے سیاسی پس منظر اور اس دور میں معارف اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔
مہر نیوز: کیا امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی اہل بیت علیہم السلام کی معارف کو پھیلانے کا ایک موقع تھی یا عباسی خلافت کی طرف سے ایک سیاسی مجبوری؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام کی ولی عہدی بنیادی طور پر ایک سیاسی مجبوری کا نتیجہ تھی۔ مامون نے امام کو مدینہ سے خراسان بلایا، انہیں ان کے اصل مرکز سے دور کیا اور حکومت کی براہ راست نگرانی میں رکھا۔ اس لیے اس واقعے کو امام کی آزادانہ مرضی یا مامون کی سیاسی پالیسی سے ان کی ہم آہنگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اگرچہ یہ صورتحال امام پر مسلط کی گئی تھی، لیکن امام رضا علیہ السلام نے اسی جبری ماحول سے اہل بیت علیہم السلام کی معارف کی وضاحت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ امام کی سیرت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ انتہائی دشوار حالات میں بھی موجود مواقع کو پہچانتے تھے اور حکمران طبقے کو معاشرے کی فکری فضا پر مکمل قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
اس دور کے اہم ترین نتائج میں مختلف ادیان اور مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کے علمی مناظرے شامل تھے۔ ان مناظروں سے ظاہر ہوا کہ امام نہ صرف دینی علوم میں ممتاز مقام رکھتے تھے بلکہ مختلف ادیان اور فکری تحریکوں کے پیروکاروں کے ساتھ علمی گفتگو کرنے اور استدلال پیش کرنے کی بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔
اس دور میں امام کے خطبات، اعتقادی بیانات اور علمی سوالات کے جوابات نے توحید، نبوت، امامت اور اخلاق کے بہت سے بنیادی اصولوں کو لوگوں کے لیے واضح کیا۔ مرو میں امام کی موجودگی کے باعث شیعی معارف ایک محدود دائرے سے باہر نکلے اور مختلف افکار و مذاہب کے سامنے استدلالی انداز میں پیش ہوئے۔
دوسری جانب مامون کی جانب سے پیش کی گئی ولی عہدی اور دیگر تجاویز کے مقابلے میں امام کے طرز عمل نے اس منصب کی سیاسی حقیقت کو بھی واضح کردیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ امام نہ صرف حکومتی امور میں مداخلت نہیں کرتے بلکہ سرکاری تقریبات اور رسمی معاملات میں بھی اپنی آزادی اور استقلال برقرار رکھتے ہیں۔ لہذا مامون کی نظر میں ولی عہدی امام کو اپنے سیاسی نظام میں قابو کرنے کا ایک ذریعہ تھی، لیکن امام رضا علیہ السلام کی تدبیر کے نتیجے میں یہی صورتحال اہل بیت علیہم السلام کے افکار کو متعارف کرانے کا ایک موقع بن گئی۔
یہی حکمران نظام اور امام کے الہی نقطہ نظر کے درمیان بنیادی فرق تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ امام کو اپنے سیاسی ڈھانچے میں ضم کرلیا جائے، لیکن امام رضا علیہ السلام نے اسی مسلط کردہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرے کے فکری نظام کو متاثر کیا اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو وسیع پیمانے پر پیش کیا۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام نے اپنے دور کے سیاسی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حق کی تبلیغ کیسے کی؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام نے اپنے دور میں عباسی تاریخ کے پیچیدہ ترین سیاسی حالات میں سے ایک کا سامنا کیا۔ مامون نے اپنے بعض سابق خلفاء کے برعکس اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے علم، گفتگو اور دینی نعروں کو بھی استعمال کیا۔ وہ اپنی حکومت کو عقل و دانش، عدل و انصاف اور اہل بیت علیہم السلام سے قربت رکھنے والی حکومت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
امام نے اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے جلد بازی اور جذباتی انداز میں تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے صرف حکومت کے خلاف منفی موقف اختیار کرنے کے بجائے خلافت کے سیاسی مرکز میں اپنی موجودگی کے موقع سے اسلام کے حقیقی اصولوں کو بیان کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا۔
امام کی سرگرمیوں کے اہم ترین میدانوں میں سے ایک علمی گفتگو اور مناظرے تھے۔ ان نشستوں میں مختلف افکار پیش کیے جاتے تھے اور امام اپنے مخاطب کے فکری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح، پرسکون اور مناسب استدلال کے ساتھ جواب دیتے تھے۔ اس طریقے سے یہ بات واضح ہوئی کہ اہل بیت علیہم السلام کا مکتب منطقی اور علمی گفتگو سے خوفزدہ نہیں ہے۔
امام نے اپنے طرز عمل سے اصلی دینی حکومت اور ظاہری دینی حکومت کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔ آپ نے عوامی احترام برقرار رکھتے ہوئے مامون کی غلط پالیسیوں کا ساتھ نہیں دیا اور یہ اجازت نہیں دی کہ ان کی موجودگی کو خلیفہ کے اقدامات کی تائید سمجھا جائے۔ نیشاپور میں حدیث سلسلہ الذهب بیان کرنا بھی اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ امام نے عوامی مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امامت کے مقام کو واضح کیا۔ امام نے ایک بڑے اجتماع میں توحید کے ساتھ ولایت کو بھی بیان کیا اور واضح کیا کہ حقیقی توحید الہی ہدایت اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے راستے سے جدا نہیں ہے۔
اس طرح امام رضا علیہ السلام نے موجود سیاسی ماحول سے حق کی تبلیغ کے لیے فائدہ اٹھایا، لیکن اس راستے میں اپنی فکری آزادی اور الہی موقف کو برقرار رکھا۔ آپ کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی تبلیغ صرف سرکاری یا رسمی عہدوں پر موجود رہ کر نہیں ہوتی، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر صورتحال میں حکمت، شجاعت اور درست طریقے سے حق بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام کے علمی مناظروں نے اہل بیت علیہم السلام کی منطق کی برتری ثابت کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام کے مناظرے آپ کے دور امامت کی اہم ترین علمی سرگرمیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان نشستوں میں مختلف ادیان کے نمائندے، متکلمین، فلسفی اور مختلف نظریات رکھنے والے افراد شریک ہوتے تھے اور اعتقادی و فلسفیانہ مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔
ان مناظروں کی اہمیت یہ تھی کہ امام رضا علیہ السلام اپنے مخالفین کے ساتھ تحقیر، توہین یا انہیں خاموش کرانے کے انداز میں گفتگو نہیں کرتے تھے۔ آپ پہلے اپنے مخاطب کے فکری اصولوں کو سمجھتے اور پھر انہی اصولوں کی بنیاد پر اپنے جوابات پیش کرتے تھے۔ یہ طریقہ منطقی اور اخلاقی گفتگو کی ایک بہترین مثال ہے۔
ان مناظروں میں توحید، خدا کی صفات، انبیاء کی نبوت، دینی متون میں تحریف کا مسئلہ، عقل کا مقام اور امامت جیسے موضوعات زیر بحث آتے تھے۔ امام ان سوالات کے جواب میں عقلی استدلال کے ساتھ معتبر دینی منابع سے بھی استفادہ کرتے تھے۔ ان علمی گفتگووں سے واضح ہوا کہ شیعی فکر محض جذباتی یا موروثی عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک منظم استدلالی نظام رکھتی ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے مشکل فکری سوالات کے مقابلے میں شیعہ عقائد کی بنیادوں کو واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا۔
دوسری جانب ان مناظروں کے باعث علماء اور عام لوگوں کے درمیان امام کا علمی مقام مزید نمایاں ہوا۔ یہاں تک کہ جو لوگ مذہبی اعتبار سے امام کے ہم خیال نہیں تھے، وہ بھی آپ کی علمی صلاحیت اور استدلال کی گہرائی کو تسلیم کرتے تھے۔ اس امر نے معاشرے میں اہل بیت علیہم السلام کے فکری مقام کو مزید مضبوط کیا۔
البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ امام کا مقصد صرف بحث میں کامیابی حاصل کرنا نہیں تھا۔ آپ کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت، حقیقت کو واضح کرنا اور شبہات کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ اس اعتبار سے امام رضا علیہ السلام کے مناظرے آج کے فکری سوالات کا سامنا کرنے اور علمی، باادب اور حق پر مبنی گفتگو کو فروغ دینے کے لیے ایک قابل قدر نمونہ ہیں۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام کو کن اہم فکری تحریکوں اور نظریات کا سامنا تھا؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام کا دور فکری اور ثقافتی اعتبار سے بڑی تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔ مختلف اقوام کی فلسفیانہ اور سائنسی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہونے کی وجہ سے یونانی، ایرانی، ہندوستانی اور مسیحی افکار اسلامی معاشرے میں پھیل رہے تھے اور عقائد کے میدان میں نئے سوالات پیدا ہو رہے تھے۔
ان اہم فکری تحریکوں میں سے ایک توحید اور خدا کی صفات سے متعلق کلامی مباحث تھے۔ بعض گروہ خدا کی صفات کی ایسی تشریح کرتے تھے جو اللہ کو مخلوقات سے مشابہ قرار دینے کا باعث بنتی تھی، جبکہ بعض دوسرے گروہ خدا کی تنزیہ پر اس قدر زور دیتے تھے کہ عملی طور پر اللہ کی بہت سی صفات ہی کا انکار کردیتے تھے۔
ایک اور اہم مسئلہ جبر اور اختیار سے متعلق اختلافات کا تھا۔ ایک گروہ انسان کو اپنے اعمال میں مکمل طور پر مجبور سمجھتا تھا، جبکہ دوسرا گروہ انسان کے اختیار کو اس انداز میں بیان کرتا تھا کہ اسے مکمل اور مطلق اختیار حاصل ہوجاتا تھا۔ امام رضا علیہ السلام نے اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک درمیانی نظریے پر زور دیا، یعنی نہ مکمل جبر اور نہ ہی تمام امور انسان کے حوالے کردینا۔
اسی طرح بعض ایسے غالی گروہ بھی موجود تھے جو اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا دعوی کرتے تھے۔ یہ لوگ ائمہ کے مقام کو اللہ کی بندگی کے مقام سے آگے بڑھا دیتے اور ان کے بارے میں انتہا پسندانہ عقائد پیش کرتے تھے۔ امام رضا علیہ السلام نے ان نظریات کا سختی سے مقابلہ کیا اور اللہ کی بندگی، عبودیت اور امام کے حقیقی مقام پر زور دیا۔
دوسری جانب واقفیہ جیسے فرقے بھی شیعہ معاشرے میں سرگرم تھے۔ انہوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام رضا علیہ السلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا اور امامت کے تسلسل کے مقابلے میں اپنا موقف اختیار کیا۔ امام رضا علیہ السلام نے ان انحرافات کے مقابلے میں امامت کے دلائل بیان کیے اور شبہات کے جوابات دے کر شیعوں کے اعتقادی راستے کو واضح کیا۔
لہذا امام رضا علیہ السلام کا فکری تحریکوں کے ساتھ مقابلہ صرف ردعمل اور دفاع تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپ نے ایک منظم فکری نظام پیش کیا۔ توحید، عقلانیت، اختیار، غلو سے واضح حدبندی اور ولایت کی ضرورت اس فکری نظام کے اہم محور تھے، جو آج کے معاشرے کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
مہر نیوز: مامون امام رضا علیہ السلام کے علمی مقام سے کیوں خطرہ محسوس کرتا تھا؟
حجت الاسلام رضا غلامی: مامون سیاسی اعتبار سے خود کو علم و دانش کا شیدائی ظاہر کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ علماء اور متکلمین کے درمیان اسے ایک خاص علمی مقام حاصل ہو۔ تاہم وہ جانتا تھا کہ امام رضا علیہ السلام کا علم عام علماء کے علم سے قابل تقابل نہیں تھا اور معاشرے میں امام کی موجودگی حکومت کی علمی حیثیت کو متاثر کرسکتی تھی۔
امام رضا علیہ السلام نہ صرف اسلامی علوم پر گہری دسترس رکھتے تھے بلکہ مختلف ادیان اور مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ گفتگو میں بھی مکمل مہارت رکھتے تھے۔ مناظروں میں امام کے دقیق، پرسکون اور مدلل جوابات سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ایک عام عالم سے کہیں بلند علمی مقام رکھتے تھے۔
مامون کا خیال تھا کہ مناظروں کا انعقاد امام کو مشکل سوالات کے سامنے لاکر عوام کے سامنے ان کے مقام کو کم کرسکتا ہے۔ لیکن ان نشستوں کا نتیجہ اس کی توقع کے بالکل برعکس نکلا۔ جتنے زیادہ مناظرے ہوئے، امام کا علمی مقام اتنا ہی زیادہ نمایاں ہوتا گیا۔
علم کے علاوہ امام رضا علیہ السلام وسیع اخلاقی اور روحانی مقام کے بھی حامل تھے۔ لوگ آپ کو صرف ایک عظیم عالم ہی نہیں بلکہ پاکیزہ، کریم، متواضع اور قیادت کے اہل انسان کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔ علم اور اخلاق کا یہ امتزاج امام کی مقبولیت کو مزید بڑھا رہا تھا۔
مامون کو یہ خدشہ بھی تھا کہ لوگ امام کی موجودگی کو اس بات کی علامت سمجھنے لگیں گے کہ معاشرے کی قیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاندان زیادہ اہل ہے۔ اگر یہ تصور عوام میں پھیل جاتا تو عباسی حکومت کی سیاسی حیثیت پر ایک سنجیدہ سوال کھڑا ہوسکتا تھا۔
اسی لیے امام رضا علیہ السلام کا علمی مقام مامون کے لیے محض ایک علمی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کی سیاسی حیثیت کے لیے براہ راست خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ دربار خلافت نے بظاہر امام کا احترام کیا، لیکن عملی طور پر وہ ان کے سماجی، علمی اور روحانی اثر و رسوخ سے خوفزدہ تھا اور بالآخر یہی خدشات امام کو راستے سے ہٹانے کے مامون کے فیصلے میں اہم کردار بنے۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام کی شہادت کو کس سیاسی منصوبے کا تسلسل سمجھا جانا چاہیے؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام کی شہادت کو سمجھنے کے لیے اسے اہل بیت علیہم السلام کے حوالے سے عباسی حکومت کی مجموعی سیاسی پالیسی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ عباسیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کی حمایت کے نعروں کے ساتھ اقتدار حاصل کیا، لیکن حکومت قائم کرنے کے بعد انہوں نے بہت سے علویوں اور شیعہ ائمہ پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔
مامون نے ابتدا میں امام رضا علیہ السلام کے نام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت کے لیے سیاسی ساکھ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ولی عہدی کی پیشکش کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ خود کو اہل بیت علیہم السلام کا حامی ظاہر کرنا اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے امام کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
لیکن خراسان میں امام کی موجودگی کا نتیجہ اس کی توقع کے برعکس نکلا۔ لوگوں نے امام کی علمی، اخلاقی اور روحانی شخصیت کو قریب سے دیکھا اور عوام کے ساتھ امام کا تعلق مزید وسیع ہوگیا۔ اس صورتحال نے مامون کی پوزیشن مضبوط کرنے کے بجائے امام اور خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کو معاشرے میں مزید نمایاں کردیا۔
امام رضا علیہ السلام نے بھی اپنے قول و عمل سے یہ اجازت نہیں دی کہ ولی عہدی حکومت کے لیے سیاسی حیثیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ امام کی شرائط، انتظامی امور میں عدم مداخلت اور ان کے آزادانہ موقف سے واضح ہوتا تھا کہ خلافت کا نظام امام کی موجودگی کو اپنی پالیسیوں کی تائید کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔
ایسے حالات میں مامون کے سامنے دو راستے تھے۔ امام کو اسی طرح موجود رہنے دے اور ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مقبولیت کا مشاہدہ کرے، یا خفیہ طریقے سے اس اثر و رسوخ کا خاتمہ کرے۔ عباسی حکومت کی جانب سے ائمہ کے ساتھ سابقہ طرز عمل کو دیکھتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کی شہادت کو معاشرے کی فکری اور روحانی قیادت رکھنے والی شخصیات کو ختم کرنے کی پالیسی کا ایک حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔
لہذا امام رضا علیہ السلام کی شہادت اس دور کی سیاسی تبدیلیوں سے الگ کوئی واقعہ نہیں تھا۔ یہ واقعہ امامت کی تحریک کو کنٹرول کرنے، محدود کرنے اور بالآخر ختم کرنے کی عباسی حکومت کی کوششوں کا تسلسل تھا۔ یہ وہ تحریک تھی جس نے سیاسی دباؤ کے باوجود شیعہ مذہبی اور فکری شناخت کو محفوظ رکھا اور اسے مزید مضبوط کیا۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام کی شہادت کی تاریخ میں خراسان اور مرو کی کیا اہمیت ہے؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام کے دور میں خراسان عالم اسلام کے اہم ترین سیاسی اور ثقافتی علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ مامون نے امین کے ساتھ سیاسی کشمکش کے بعد اپنا دارالحکومت مرو منتقل کردیا تھا اور یہ شہر عباسی خلافت کے اہم فیصلوں کا مرکز بن گیا تھا۔
امام رضا علیہ السلام کو خراسان منتقل کرنا بظاہر انہیں حکومت کے مرکز کے قریب لانے کا اقدام تھا، لیکن حقیقت میں اس کے ذریعے امام کو مدینہ اور ان کے سماجی و خاندانی مرکز سے دور کردیا گیا۔ یہ جبری منتقلی امام پر نگرانی اور کنٹرول کی پالیسی کا ایک حصہ تھی۔
اس کے باوجود مدینہ سے خراسان تک امام کا سفر اہل بیت علیہم السلام کی معارف کی ترویج کا ایک تاریخی سفر بن گیا۔ نیشاپور جیسے شہروں میں لوگوں نے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ امام کا استقبال کیا اور انہیں امام کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔
نیشاپور میں حدیث سلسلہ الذهب کا بیان کیا جانا اس سفر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ خراسان میں امام کی آمد محض ایک جغرافیائی منتقلی نہیں تھی بلکہ اس کے نتیجے میں وسیع مسلم آبادی کے درمیان امامت کا پیغام پہنچا۔
مرو مامون کے سیاسی مرکز کی حیثیت سے امامت کی فکر اور خلافت کی سیاست کے درمیان اصل مقابلے کا میدان بھی بن گیا۔ اسی شہر میں علمی مناظرے، ولی عہدی کی پیشکش اور امام رضا علیہ السلام کی زندگی کے آخری دور کے بہت سے اہم واقعات پیش آئے۔
آخرکار امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد خراسان، رضوی ثقافت کے اہم ترین مراکز میں تبدیل ہوگیا۔ مشہد میں موجود آپ کا روضہ صدیوں سے نہ صرف زیارت کا مرکز رہا ہے بلکہ علم، ثقافت، فن، خدمت رسانی اور اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ لوگوں کے جذباتی تعلق کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔
مہر نیوز:امام رضا علیہ السلام کی شہادت دیار غیر میں ہوئی اور اس نے شیعہ تاریخ میں اتنا گہرا جذباتی اثر کیوں چھوڑا؟
حجت الاسلام رضا غلامی: امام رضا علیہ السلام مدینہ سے دور ایک ایسی سرزمین میں زندگی گزار رہے تھے جہاں بہت سے لوگ خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ براہ راست اور گہرا تعلق نہیں رکھتے تھے اور آپ عباسی حکومت کی نگرانی میں زندگی گزار رہے تھے۔
امام رضا علیہ السلام کو مدینہ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر اور آپ کے خاندان کے رہنے کی جگہ سے خراسان منتقل کردیا گیا۔ یہ جبری سفر خاندان، ساتھیوں اور مدینہ کے مانوس ماحول سے جدائی کا باعث بنا اور اسی وجہ سے امام رضا علیہ السلام کی زندگی میں سفر کے تصور کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی۔
دوسری جانب امام بظاہر مامون کی جانب سے عزت و احترام کے مستحق قرار دیے گئے تھے، لیکن حقیقت میں وہ حکومت کی نگرانی اور پابندیوں میں تھے۔ ظاہری احترام اور پوشیدہ دباؤ کے درمیان یہ تضاد امام کی مظلومیت میں مزید اضافہ کرتا ہے اور عباسی حکومت کی اصل حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے۔
مدینہ سے دور ایک سرزمین میں امام کی شہادت نے شیعوں کے درمیان یہ احساس پیدا کیا کہ امام اپنی شہادت کے لمحے میں بھی اپنے وطن اور خاندان سے دور تھے۔ یہی بات شیعی ثقافت میں امام رضا علیہ السلام کے سوگ اور عزاداری کے جذباتی پہلو کو مزید گہرا کرتی ہے۔
تاہم امام کی وطن سے دوری کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ میں آپ بے یار و مددگار رہ گئے۔ ایران کے عوام اور دیگر شیعوں نے صدیوں کے دوران زیارت، خدمت، وقف، عزاداری اور رضوی معارف کی ترویج کے ذریعے آپ کے حرم کو اہل بیت علیہم السلام کی محبت کے عالمی مرکز میں تبدیل کردیا۔
آج امام رضا علیہ السلام کی مظلومیت ہمیں صرف جذباتی غم تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ یہ ہمیں امام کی سیرت کو سمجھنے، حق کا دفاع کرنے، انسانوں کا احترام کرنے، رحمت و شفقت کو فروغ دینے اور تحریف و ظلم کا مقابلہ کرنے کی طرف لے جانی چاہیے۔ کیونکہ امام کے ساتھ وفاداری کا بہترین طریقہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔
مہر نیوز: امام رضا علیہ السلام کی شہادت اور بعض دیگر ائمہ کی حکومت کے ساتھ طرز تعامل میں کیا فرق تھا؟
حجت الاسلام رضا غلامی: شیعہ ائمہ میں سے ہر ایک نے اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حالات کے مطابق دین کی حفاظت اور معاشرے کی رہنمائی کے لیے حکمت پر مبنی طریقہ اختیار کیا۔ اس لیے ائمہ کے طرز عمل کا تجزیہ تاریخی حالات کے فرق کو نظر انداز کرکے یکساں انداز میں نہیں کیا جاسکتا۔
امام رضا علیہ السلام ایسے دور میں زندگی گزار رہے تھے جب مامون علم اور گفتگو کے ذرائع کو استعمال کرکے عباسی حکومت کا ایک مختلف چہرہ پیش کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اسی وجہ سے حکومت کے ساتھ امام کا معاملہ صرف کھلی جدوجہد یا براہ راست مخالفت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں عملی تنقید، فکری حدبندی اور مامون کی پالیسیوں کو بے نقاب کرنا بھی شامل تھا۔
مشروط طور پر ولی عہدی قبول کرنا امام رضا علیہ السلام کے دور کی ایک خاص خصوصیت تھی۔ بعض دوسرے ائمہ کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں تھا بلکہ وہ مختلف حالات میں نظر بندی، سکیورٹی نگرانی، عوام سے رابطوں پر پابندی یا حکومت کے براہ راست دباؤ کا سامنا کرتے رہے۔
امام رضا علیہ السلام نے علمی مناظروں اور عوامی سطح پر اپنی موجودگی سے امامت کے مقام کو واضح کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا۔ اس کے برعکس بعض دوسرے ائمہ نے اپنے زمانے کے سخت سکیورٹی حالات کے باعث وکالت کے نظام، خفیہ رابطوں اور مومن افراد کی تربیت کے ذریعے اپنے مشن کو آگے بڑھایا۔
ایک اور فرق حکومت کی تشہیری پالیسی کا تھا۔ مامون نے امام کو بظاہر خلافت کے قریب لاکر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن امام نے اپنی شرائط اور حکومتی امور میں عدم مداخلت کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ بالآخر امام کی یہی فکری آزادی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت انہیں راستے سے ہٹانے کا باعث بن گئی۔
آبنائے ہرمز بند، قواعد کی پابندی نہ کرنے پر کاروائی کی جائے گی، ایرانی عہدیدار
ظاہر نہ کرنے والے ایک ایرانی سیاسی و دفاعی عہدیدار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولی نہیں گئی اور ایران نے اس گزرگاہ کے حوالے سے اپنی پالیسی میں معمولی سی بھی ترمیم نہیں کی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مقرر کردہ قواعد و ضوابط اور اقدامات کی پابندی نہیں کرے گا، اسے ضروری تنبیہ اور مناسب کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ بڑے بحری جہاز آبنائے ہرمز میں موجود خطرات کے باعث اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بحری جہاز ایران کے مقرر کردہ اقدامات اور ضوابط کی پابندی نہ کرنے کے باعث غلطی کرتا ہے تو اسے تکنیکی مسائل یا سلامتی سے متعلق خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ایک بار پھر تاکید کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایران کی نگرانی اور انتظام کے تحت ہے۔
ایران کے خوف سے ٹرمپ کا انقرہ سے خفیہ فرار، مزید تفصیلات سامنے آگئیں
امریکی نشریاتی ادارے نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ سے خفیہ طور پر منتقل کرنے کا فیصلہ اس اطلاع کے بعد کیا گیا کہ ایک ایرانی سیل، کندھے سے داغے جانے والے میزائلوں سے لیس ہو کر علاقے میں داخل ہوچکا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ترکی کے دورے کے دوران ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرے سے متعلق رپورٹس اسرائیلی ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں۔
اس امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے متعلق معلومات فراہم کرنا، ممکن ہے کہ امریکی صدر کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی غرض سے کیا گیا ہو۔
اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس سامنے آچکی ہیں کہ ٹرمپ کو انقرہ سے روانگی کے دوران، ایران کے خوف کے باعث، ان کے اصل صدارتی طیارے سے ایک چھوٹے فوجی طیارے میں خفیہ طور پر منتقل کیا گیا تھا۔
بانجھ پن کا کامیاب اور سستا علاج، علاج کے لیے یورپ سے لوگ ایران آرہے ہیں
تہران کے معروف رویاں انسٹی ٹیوٹ کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق، ہر سال سینکڑوں غیر ملکی بانجھ پن سے متاثرہ جوڑے طبی علاج کے لیے ایران کا سفر کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ عبدالحسین شاہوردی نے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران علاقائی اور آپریشنل چیلنجز کے باوجود، یہ ادارہ بین الاقوامی مریضوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں رویاں انسٹی ٹیوٹ ہر سال 500 سے زائد غیر ملکی جوڑوں کا علاج کر چکا ہے، جن میں خطے کے ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ سے آنے والے مریض بھی شامل ہیں۔
عبدالحسین شاہوردی نے اس رجحان کی اہم وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی طبی مراکز کی مضبوط سائنسی ساکھ اور علاج کی اچھی شرح بین الاقوامی مریضوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران میں علاج کے دوران ثقافتی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری بھی غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑا پلس پوائنٹ ہے، جس کی وجہ سے وہ یہاں پرسکون محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے مریضوں میں وہ ایرانی بھی شامل ہیں جو بیرون ملک مقیم ہیں یا جن کے شریک حیات غیر ملکی ہیں، جو اپنی نسل بڑھانے کے لیے ایران واپس آتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایران میں 'فرٹیلٹی ٹورازم' یا بانجھ پن کے علاج کی سیاحت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مغربی ممالک کے مقابلے میں علاج کے انتہائی مناسب اور کم اخراجات ہیں۔
شاہوردی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں کچھ لاجسٹک مشکلات کا سامنا رہا ہے، لیکن ادارہ اب بھی بڑی تعداد میں غیر ملکی مریضوں کو قبول کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کے اندر اور بیرون ملک کامیاب پیدائشیں ریکارڈ کی جارہی ہیں۔
سپریم کمانڈر آيت اللہ امام سید مجتبی خامنہ ای کی جانب سے مسلح افواج کے کمانڈروں کی تقرری
رہبر انقلاب اسلامی اور سپریم کمانڈر آیت اللہ امام سید مجتبی خامنہ ای نے میجر جنرل علی عبداللہی کو مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے عہدے پر منصوب کردیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری کو مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا عہدہ سونپ دیا۔
سپریم کمانڈر نے بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو میجر جنرل کا رینک دیتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا کمان سونپ دیا اور میجر جنرل مصطفی ایزدی کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر منصوب کردیا۔
اس کے علاوہ آیت اللہ امام سید مجتبی خامنہ ای نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری فورس کی کمان ریئر ایڈمیرل علی عظمائی اور بسیج رضاکار فورس کی کمان حجت الاسلام و المسلمین حسین طائب کے حوالے کی۔
مکہ معاہدہ اور سعودی عرب کے چار مقاصد
ایسے وقت میں جب عرب ممالک میں بیرونی طاقتوں کی جانب سے سکیورٹی ذمہ داریوں میں کمی کا احساس بڑھ رہا ہے، یہ معاہدہ نئی سکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے اور روایتی حفاظتی چھتریوں کے بجائے مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی تہوں کو متبادل کے طور پر قائم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش سمجھا جا سکتا ہے، تاکہ ممکنہ خلا کو پُر کیا جا سکے۔
طاقت کے توازن اور سکیورٹی نظام میں تبدیلی کے نقطۂ نظر سے، ایک جوہری طاقت یعنی پاکستان اور ایک ایسے ملک یعنی ترکی، جس کے پاس جدید فوجی صلاحیتیں اور جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی موجود ہے، کو سعودی عرب کے وسیع مالی اور توانائی کے وسائل کے ساتھ جوڑنے سے اس اتحاد کا سیاسی اور نفسیاتی وزن علاقائی معاملات میں نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
یہ معاہدہ ایک متوازی سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دے کر بالواسطہ اور کئی سطحوں پر مشتمل ڈیٹرنس کا ایک ایسا نیٹ ورک بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں ’’اجتماعی دفاع‘‘ کی شق مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اس معاہدے کے منصوبہ ساز اپنے حریفوں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تزویراتی آبی گزرگاہوں اور علاقائی سرحدوں میں رکن ممالک کے بنیادی مفادات کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کشیدگی یا دھمکی کا سامنا اس محور کی جانب سے مشترکہ اور مربوط ردعمل سے ہوگا۔
درحقیقت ریاض اس نئی صف بندی کے ذریعے اپنے علاقائی حریفوں کے لیے کسی بھی سخت تصادم یا غیر روایتی جنگ کی قیمت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریاض کے نئے شراکت داروں نے سفارتی وعدوں اور سیاسی بیانات کے باوجود عملی طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تقاضوں اور اپنے اخراجات و فوائد کے محتاط حساب کتاب کے باعث وہ علاقائی تنازعات کے دلدل میں داخل ہونے میں کسی بھی صورت دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی ترجیح یہ ہے کہ ان کی ذمہ داریاں مشاورتی معاونت، فوجی سازوسامان کی فروخت اور محدود مشترکہ فوجی مشقوں تک ہی رہیں۔
میدانِ جنگ میں یہ عملی بے عملی دراصل ان ممالک کے تزویراتی محدودیتوں، شدید اقتصادی مشکلات اور مشرقی و مغربی سرحدوں پر موجود علاقائی سکیورٹی چیلنجز سے جڑی ہوئی ہے، جو انقرہ اور اسلام آباد کو مزاحمتی محور کے ساتھ براہِ راست سخت تصادم اور نیابتی جنگ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
سعودی عرب کی سرزمین پر اس اتحاد کے فوجی اہلکاروں یا سازوسامان کی موجودگی اور شرکت زیادہ تر ریاض کے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے علامتی، حفاظتی اور سیاسی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ علاقائی بحرانوں میں براہِ راست مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بھاری سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی قیمتیں عملی طور پر ان ممالک کے لیے مشترکہ فوجی کارروائی یا فعال ڈیٹرنس کے آپشن کو غیر منطقی اور انتہائی خطرناک بنا دیتی ہیں۔
چنانچہ یہ معاہدہ ایک متحدہ جارحانہ محاذ تشکیل دینے کے بجائے زیادہ تر سعودی عرب کی سکیورٹی کمزوریوں کو ڈھانپنے کے لیے ایک علامتی حصار کی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مکہ معاہدہ بلاشبہ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہونے والی اہم ترین سکیورٹی پیش رفتوں میں سے ایک ہے۔ سعودی عرب نے اس معاہدے پر دستخط کرکے علاقائی اتحاد سازی کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس اتحاد کے مقاصد ایک سادہ دفاعی معاہدے سے کہیں آگے ہیں، جن میں امریکہ پر انحصار کم کرنا، تینوں ممالک کی تزویراتی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، ریاض کے علاقائی کردار کی نئی تعریف کرنا اور واشنگٹن کو پیغام دینا شامل ہے۔
حتمی تجزیے میں اس معاہدے کا مستقبل اور اس کی کارکردگی کسی متحدہ فوجی دفاعی حصار پر منحصر ہونے کے بجائے ایک ایسے دعوے کی حیثیت رکھتی ہے جسے عملی آزمائش سے گزرنا ابھی باقی ہے۔ فی الحال یہ معاہدہ زیادہ تر ان تین تشویش زدہ طاقتوں کے لیے سیاسی خطرات کو کم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب امریکی حفاظتی چھتری پر مکمل انحصار کے بجائے اپنی سکیورٹی کی تہوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔
تاہم یمن کی مسلح افواج کے حملوں کا جاری رہنا اور ترکی و پاکستان کی جانب سے عملی ردعمل کا فقدان جو ریاض کی جانب سے جنگ لڑنے کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے اور سعودی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اس معاہدے کی سنگین حدود کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسی لیے موجودہ مرحلے میں مکہ معاہدہ یمن کو ڈیٹرنس کے پیغامات دینے کے باوجود مؤثر فوجی ڈیٹرنس میں تبدیل ہونے کی مطلوبہ صلاحیت نہیں رکھتا اور اسے زیادہ تر بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سفارتی آلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بقائی: جنگ میں مال غنیمت کا دعوی کرنے والے کو پہلے جنگ جیتنی ہوتی ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا: "امریکی صدر نے کہا ہے کہ 'مال غنیمت فاتحین کا حق ہے۔"انہوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ "ہم وینزویلا سے بہت زیادہ تیل لے رہے ہیں؛ اربوں اور اربوں بیرل تیل... اور ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بھی یہی کریں گے۔'"
بقائی نے مزید کہا: "یہ باتیں انسان کو جوزف ہیلر کے ناول 'کیچ-22' کی یاد دلاتی ہیں، وہی ناول جس میں 'میلو میندربائنڈر'، ایک موقع پرست کردار، جنگ کو منافع کمانے کا موقع بنا لیتا ہے۔ جوزف ہیلر ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتا ہے جس میں 'جنگ' اور 'مفادات' اس طرح سے ایک دوسرے میں گھل گئے ہیں کہ صاف نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ ذاتی سرمایہ اور مفادات کے لیے لڑ رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا: "ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکومت اس تخیل کو افسانوی اور مجازی دنیا سے نکال کر امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محور بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"
بقائی نے مزید لکھا: "وہ ایران کے سلسلے میں وعدہ کرتے ہیں کہ وینزویلا والا راستہ اپنائیں گے۔ لیکن یہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے؛ اس سے پہلے کہ کوئی جنگ کا مال غنیمت تقسیم کرے، اسے جنگ جیتنی ہوگی ، نہ یہ کہ ایک آبی گزر گاہ میں پھنس کر ہاتھ پیر مارے، اس کے اعلان کردہ اہداف میں سے کوئی بھی حاصل نہ ہو، اسے اسلحے کی کمی کا سامنا ہو اور آخر کار اس پر کوئی کوئی اعتبار بھی نہ کرے۔ "
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ "ایسی صورت حال میں، 'ایران کا مال غنیمت' اس فتح کے لیے ایک کاغذی نشان سے زیادہ نہیں جو کبھی حاصل نہیں ہوگی۔"
بقائی نے مزید کہا: "میلو کم از کم جنگ سے دولت کمانے کا طریقہ جانتا تھا، لیکن یہ لوگ بغیر مال غنیمت کو ہاتھ لگائے، کیمروں کے سامنے خیالی مال غنیمت تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔"


























![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
