سلیمانی

سلیمانی

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ قطر اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

تفصیلات کے مطابق، محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ قطر کی موجودہ کوششوں کا محور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا عمل جاری رکھنا ہے۔

انہوں نے بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی مداخلت کے بغیر آزادانہ بحری آمد و رفت کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

قطری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا۔

انہوں نے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تو اس کے نتائج سب پر اثر انداز ہوں گے۔

دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ قطر اور خلیج فارس کے برادر ممالک کی سلامتی مصر کی قومی سلامتی اور عرب خطے کی سلامتی کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کو مضبوط بنانے کے لیے مصر اور قطر کے درمیان مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے۔ قاہرہ بحری جہاز رانی کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایران اور عراق کی دو قوموں نے یہ قبول نہیں کیا کہ ان کی تقدیر دوسرے ممالک کے دارالحکومتوں میں لکھی جائے۔

تفصیلات کے مطابق محمدباقر قالیباف نے جمعرات کو کربلائے معلیٰ میں شہید امام خامنہ ای کی تدفین کے چالیسویں روز منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی اور ملت ایران کا سلام عراقی عوام تک پہنچانے آئے ہیں۔

انہوں نے عراقی عوام کی جانب سے شہید رہبر کی تاریخی تشییع میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملت عراق نے اس موقع پر حق برادری ادا کیا اور دنیا کو حیران کر دیا۔

قالیباف نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات دشمنوں کی کوششوں کے باوجود مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے دور کرنے کے لیے دشمنوں نے جتنے قدم اٹھائے، دونوں قومیں اتنی ہی زیادہ قریب آتی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کی بنیاد مشترکہ تاریخ، جغرافیہ اور اہل بیت عصمت و طہارتؑ سے وابستہ عقائد پر قائم ہے، جبکہ دونوں ممالک کو قریب لانے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں دینے سے انکار کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایران اور عراق وہ دو قومیں تھیں جنہوں نے دوسروں کی کہانی کا حصہ بننے سے انکار کیا اور اپنی سرنوشت مغربی حکومتوں کے دارالحکومتوں میں نہیں لکھنے دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اپنی مزاحمت، عوامی استقامت اور باہمی تعاون سے سلامتی قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اب وقت ہے کہ دونوں قوموں کی اقتصادی خوشحالی، ترقی اور پیشرفت کے لیے بھی مل کر کام کریں۔

قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور عراق صرف الفاظ دہرانے کے لیے یہاں موجود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے، بیرونی مداخلت کا راستہ محدود کرنے اور عوامی زندگی بہتر بنانے کے لیے واضح منصوبے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق سخت ترین حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، مشکلات میں ساتھ دیا ہے اور کامیابیوں میں بھی ایک دوسرے کے شریک رہیں گے۔

قالیباف نے کہا کہ دونوں قوموں کی اصل طاقت ان کی برادری اور باہمی اتحاد میں ہے۔

کربلائے معلی میں منعقدہ اس تقریب میں محمدباقر قالیباف کے علاوہ ایرانی پارلیمانی وفد، عراق میں رہبر انقلاب کے نمائندے، ایرانی سفیر، کربلا کے حکام، قبائلی عمائدین اور بڑی تعداد میں عراقی و ایرانی زائرین نے شرکت کی۔

Thursday, 20 August 2026 14:51

ٹرمپ، اندھا باکسر


اسرائیلی اخبار ہارٹز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے سامنے کوئی واضح راستہ موجود نہیں اور وقت ایران کے حق میں جا رہا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے گروپ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں امریکا کو درپیش تعطل کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی حلقوں کے تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی اخبار ہارٹز نے معروف اسرائیلی تجزیہ کار زوی بارئیل کے قلم سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنے کے لیے وقت درکار ہے، لیکن ایران اس وقت کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیلی اخبار نے مزید لکھا کہ اسلام آباد مذاکرات میں طے کردہ 60 روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے، اگرچہ عملی طور پر اس پورے عرصے کے دوران کوئی حقیقی جنگ بندی موجود نہیں رہی۔ ہارٹز کے مطابق، اس عرصے میں ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو متاثر کرنا جاری رکھا اور امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اخبار نے مزید لکھا کہ دوسری جانب حوثی (یمنی) فورسز بحیرۂ احمر کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ سعودی عرب سے سامان لے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ نے باب المندب کے قریب واقع بندرگاہ المخا کی جانب بھی بحری دباؤ برقرار رکھا ہے۔ ہارٹز کے اس تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ جتنا فیصلہ کرنے میں وقت لیتے ہیں، ایران اور اس کے اتحادی اسی عرصے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے وقت حاصل کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے نقطۂ نظر سے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور کئی ہفتے گزرنے کے باوجود کسی مذاکرات کا آغاز نہ ہونے کے بعد 60 روزہ جنگ بندی اب قابلِ عمل نہیں رہی۔ دوسری جانب ٹرمپ کے پاس کوئی حقیقی حل موجود نہیں اور وہ ایک نابینا باکسر کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔

اس اسرائیلی میڈیا ادارے نے زور دے کر کہا کہ جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر مسقط ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں مداخلت کرے گا تو عمان پر بمباری کی جائے گی، یا جب انہوں نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اور حتیٰ کہ ایران کے ساتھ تنازع کے اگلے مرحلے کو اقتصادی جنگ قرار دیا، تو وہ ایک ایسے نابینا باکسر کی طرح دکھائی دیے جو محض اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس مضمون کے مطابق، عالمی میڈیا جن نئے جنگی منظرناموں کی بات کر رہا ہے، ایسا نہیں لگتا کہ ٹرمپ فی الحال ان پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نہ پہلی بار ہے اور نہ آخری بار کہ انہوں نے اس نوعیت کی بات کی ہے۔ ہارٹز نے نشاندہی کی کہ اس سے قبل امریکی شہریوں کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اس خوفناک اقتصادی جنگ کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ وقت کو ایک اسٹریٹجک عنصر میں تبدیل کر رہے ہیں، جو بظاہر جنگ کے انجام کا تعین کرے گا۔ وہ یہ فرض کر رہے ہیں کہ ایران کے پاس اقتصادی طور پر امریکا یا دنیا کے مقابلے میں کم وقت ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وقت صرف انہی کے ہاتھ میں ہے۔

اس اسرائیلی میڈیا ادارے نے زور دیا کہ اس دوران عمان کے خلاف ٹرمپ کی دھمکی بظاہر اس خوف کی وجہ سے سامنے آئی ہے کہ ایران اور عمان ایک ایسا بحری معاہدہ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کو وہ مراعات حاصل ہو جائیں گی جو ٹرمپ کے منصوبے میں شامل نہیں ہیں۔ ہارٹز نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر خلیج فارس کے دیگر ممالک بھی اس معاہدے کی حمایت کریں، تو اسے ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پر رعایت دینے پر مجبور ہوں۔ مضمون کے آخر میں زور دیا گیا ہے کہ دوسری جانب ایران، جو بظاہر ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے بے نیاز دکھائی دیتا ہے، مسلسل وقت کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے اور اپنے اتحادیوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدرالبوسعیدی نے کہا ہے کہ عمان بحری سلامتی، عالمی قوانین کی پابندی اور کشیدگی میں کمی لانے کا بدستور پابند ہے۔

بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ مسقط خطے میں کشیدگی میں اضافے اور جھڑپوں کے جاری رہنے کا خواہاں نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران اور عمان کے مابین آبنائے ہرمز کے آمد و رفت کے کوریڈور پر گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔

 کاظم غریب آبادی نے لکھا ہے کہ [امریکیوں کا] دعوی ہے کہ ایران شکست کے دہانے پر ہے اور بس ایک تنکے کا سہارا لیے ہوئے ہے حالانکہ وہ خود اپنے تمام اتحادیوں سے مدد کی بھیک مانگ رہے ہیں!

نائب وزیر خارجہ نے اپنے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ مسئلہ، ان غلط اندازوں کا ہے کہ جس کی پردہ پوشی کے لیے امریکی اور بھی بڑی شکست کی تیاری کر بیٹھتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ:" فوجی میدان میں جنگ بے نتیجہ ثابت ہوئی، تو [امریکہ نے] اب اگلی شکست کا نام "معاشی جنگ" رکھ دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے دعوی کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ایسی معاشی کارروائی کرنے جا رہا ہے جو بقول ان کے بے مثال ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایران کو گزشتہ 47 سال یعنی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے اب تک، مسلسل امریکی دباؤ، پابندیوں اور محاصرے کا سامنا رہا ہے تاہم ایرانی عوام نے اب تک ان تمام سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دورہ عراق کے دوران بغداد میں عراقی وزیر اعظم علی الزیدی سے ملاقات کی اور باہمی تعلقات سمیت علاقائی مسائل پر گفتگو کی۔

ملاقات میں عراق کے وزیر اعظم علی زیدی نے اپنے ملک کے لیے ایران کی حمایت کو سراہتے ہوئے تہران کا شکریہ ادا کیا ہے۔

علی زیدی نے عراق اور ایران کے درمیان تعلقات کی گہرائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی رشتوں اور مشترکہ اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے عراق کی حمایت میں ایران کے مؤقف کو سراہا، بالخصوص داعش کے خلاف جنگ کے دوران تہران کے تعاون کو اہم قرار دیا۔

ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے بھی اربعین کے موقع پر ایرانی زائرین کی میزبانی اور خدمات انجام دینے پر عراقی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔

قالیباف نے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے عراق کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بدھ کے روز بغداد پہنچے تھے، جہاں انہوں نے اپنے عراقی ہم منصب ہیبت الحلبوسی اور عراقی صدر نزار محمد سعید عمیدی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل حسین محبی نے ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتوں میں مسلسل پیش رفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں نئی جنگ مسلط کی گئی تو ایران کے ہتھیار ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید، دقیق اور تباہ کن ہوں گے۔

جنرل حسین محبی نے ایک گفتگو میں ایران کی عسکری صلاحیتوں اور جنگ کے بعد ایرانی میزائلوں کے وارہیڈز میں ہونے والی بہتری کے حوالے سے کہا کہ ایران تمام جنگی ہتھیاروں کے شعبوں میں روز بروز ترقی کر رہا ہے اور اپنے ہتھیاروں کو زیادہ دقیق، مؤثر اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو ایران کے ہتھیار یقینی طور پر ماضی سے مختلف ہوں گے۔ اس فرق کا اظہار میزائلوں کے وارہیڈ، ہدف کو نشانہ بنانے کی درستگی، میزائلوں کی رینج یا دیگر عسکری شعبوں میں ہوسکتا ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے ہتھیاروں کی تیاری اور ترقی کے میدان میں کبھی وقفہ نہیں کیا بلکہ اس شعبے میں مسلسل پیش رفت جاری ہے اور مستقبل کے حوالے سے ہر امکان قابل تصور ہے۔

جنرل محبی نے یمن کی انصاراللہ تحریک کی عسکری صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل دو سال سے زائد عرصے سے جنگ میں مصروف ہے، لیکن وہ اب تک حماس کو کوئی بڑا نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اسرائیل اپنی تمام عسکری صلاحیتوں کے باوجود حماس کو شکست نہیں دے سکا تو سعودی عرب، جس کی عسکری صلاحیت اسرائیل سے کم ہے، انصاراللہ اور یمنی جنگجوؤں کا مقابلہ کیسے کرسکتا ہے؟ ان کے مطابق یہ ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر قوم اپنی بقا اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے کوشش کرتی ہے اور خود کو اس مقصد کے لیے مضبوط بناتی ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب یمن اور انصاراللہ کو قابو کرنے اور ان کے حملوں سے محفوظ رہنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔

جنرل محبی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں بھی یہ دیکھا گیا کہ سعودی عرب جتنا حملہ کرتا ہے، اس کے مقابلے میں اسے کئی گنا زیادہ ضربوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے مزید کہا کہ انصاراللہ یمن نے برسوں کی جدوجہد کے دوران جو صلاحیت حاصل کی ہے، وہ مسلسل بڑھ رہی ہے اور یمنی مزاحمت اپنی ترقی کا سفر مضبوطی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔

 پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی فوجی منصوبہ آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی مکمل حفاظت، اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور خطے میں توانائی کے استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

امریکی فوجی معاملات سے واقف ایک انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کو خلیج فارس میں ایک پیچیدہ تزویراتی تعطل کا سامنا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریبا پانچواں حصہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے لیے ایک اہم کمزوری بن چکی ہے۔

علاقائی امور سے واقف ذریعے نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ پینٹاگون کا جائزہ یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی فوجی منصوبہ سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے اس صلاحیت کا حامل نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، محفوظ بحری راستہ یقینی بنانے اور توانائی کے استحکام کو برقرار رکھنے کی ضمانت دے سکے۔

یہ اعتراف امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کو ایک اہم تزویراتی گزرگاہ سمجھتے ہوئے وہاں مسلسل بحری موجودگی برقرار رکھتا آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس اہم آبی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکامی نے خطے میں امریکہ کی تزویراتی پوزیشن کو متاثر کیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کی غیر روایتی دفاعی صلاحیتوں کے مقابلے میں امریکی فوجی طاقت کی کچھ حدود موجود ہیں۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ اس تعطل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شدید ناراضی کا شکار ہیں اور وہ اپنی انتظامیہ کے اندر ذمہ داری کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انٹیلی جنس ذریعے کے مطابق ٹرمپ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں اور وہ فوجی و سیاسی حلقوں میں ذمہ داری عائد کرنے اور اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے فوجی اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کے بعد ایران کی معیشت کے خلاف دباؤ اور نفسیاتی جنگ کی مہم تیز کر دی ہے، جس میں دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کو بطور ذریعہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے اعتراف کو اس بات کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے کہ محدود جغرافیائی راستے پر ایران کو تزویراتی فائدہ حاصل ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی ساخت دفاع کرنے والے فریق کے لیے زیادہ سازگار سمجھی جاتی ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والا راستہ اس وقت مکمل طور پر محفوظ ہوجائے گا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جنگی اقدامات تمام محاذوں پر ختم ہوں گے اور واشنگٹن اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج ایران کے جائز مطالبات کو تسلیم کرے گا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کسی بھی خطرے یا جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کی دیگر مسلح افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے اسلامی انقلاب، ایران کی علاقائی سالمیت، آزادی، وقار اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گی۔

 امریکی ٹی وی چینل سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر ناراض ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سی این این نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلی نمائندوں کو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات روکنے کی ہدایت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے سینئر سفارتی نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو فی الحال معطل کر دیں۔

سی این این نے بعض ذرائع کے حوالے سے مزید کہا کہ امریکی حکام نے اپنے اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہا ہے اور ایران کے خلاف بتدریج دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اس بات سے ناخوش ہیں کہ تہران ان کے مطالبات کے مطابق اقدامات کے لیے تیار نہیں اور وہ انتظار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایرانی قیادت مستقبل میں ایسے معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کرے جس کی خواہش امریکی صدر رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف انتہائی سخت اور شدید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی حکام کو طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں امریکہ کی ناکامی اور اس پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کے درمیان فاصلہ، واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان موجود 7 ہزار میل کے فاصلے سے بھی زیادہ ہے۔

محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں امریکی حکام پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے سے قاصر ہے، لیکن اس کے باوجود اس پر ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا: "خلیج فارس میں امریکہ کے بعد کے نظام میں خوش آمدید۔"