سلیمانی

سلیمانی

Monday, 29 December 2025 10:51

صومالیہ لینڈ کا فتنہ


صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک اور خطرناک جوا کھیلا ہے۔ اس نے جمعے کے دن اعلان کیا کہ وہ صومالیہ لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ "ایکس" پر اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے صیہونی وزیر خارجہ گیدون سعر اور صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔ گیدون سعر نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اعلان کیا کہ فریقین نے "مکمل سفارتی تعلقات بشمول سفیروں کی تقرری اور سفارت خانے کھولنے" پر اتفاق کیا ہے۔ صومالیہ لینڈ کے خود ساختہ صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی ایرو نے بھی تل ابیب کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کرنے کو ایک "تاریخی لمحہ" قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتن یاہو نے صومالیہ لینڈ تسلیم کرنے کے اقدام کو ابراہیم معاہدے سے جوڑ دیا ہے۔
 
 صومالیہ لینڈ کہاں ہے؟
"جمہوریہ صومالی لینڈ" ایک خودمختار علاقے کا نام ہے جو صومالیہ کے پانچ شمالی صوبوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے نے 1991ء سے یک طرفہ طور پر صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم، اب تک اسے صرف اسرائیل نے تسلیم کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اب بھی اسے صومالیہ کے ایک خود مختار علاقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افریقی ملک صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع یہ علاقہ 175,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے۔ صومالیہ لینڈ اپنی علیحدہ کرنسی، فوج اور پولیس فورس کا دعویدار ہے۔ یہ علاقہ خلیج عدن کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور اپنے تزویراتی محل وقوع کے پیش نظر آبنائے باب المندب کے دروازے پر دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جو بحیرہ احمر اور نہر سویز کی طرف جاتا ہے۔
 
اگرچہ صومالیہ لینڈ دیگر اکثر افریقی ممالک کی طرح تنہائی اور غربت کا شکار ہے لیکن صومالیہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ استحکام کا حامل ہے۔ صومالیہ لینڈ کی آبادی 60 لاکھ ہے اور اس کا دارالحکومت ہرگیسا ہے جو موغادیشو کے بعد صومالیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ صومالیہ لینڈ کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششوں میں اس وقت مزید تیزی آئی جب 2024ء میں اس علاقے کے نئے سربراہ عبدالرحمان محمد عبداللہی نے اقتدار سنبھالا۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے خود کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کئے جانے سے صومالیہ لینڈ اپنا سفارتی اثرورسوخ بڑھانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھا ہے لیکن صہیونی رژیم کے اس اقدام کے خلاف ردعمل اس قدر شدید تھا کہ شاید صومالیہ لینڈ آسانی سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔
 
 وسیع پیمانے پر مذمت
اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی خبر سامنے آتے ہی صومالیہ کے اتحادی اور حامی ملک ترکی نے تل ابیب کے اس اقدام کی مذمت کی۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے خلاف تل ابیب کے اقدام کو "صومالیہ کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت" قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ترکی کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں دسمبر 2014ء میں صومالیہ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں صومالیہ کی مرکزی حکومت میں ترک حکومت کا وسیع اثرورسوخ ہے۔ مصر نے بھی ہر قسم کے ایسے یک طرفہ اقدام کی مذمت کی ہے جو صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہو یا اس کے استحکام کو نقصان پہنچاتا ہو۔ مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔
 
چار عرب ممالک کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے: "عرب حکام اسرائیل کی جانب سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہیں اور صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور ملکی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ایسے کسی بھی یک طرفہ اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جو صومالیہ کی خودمختاری کے خلاف ہو یا اس ملک میں عدم استحکام کا باعث بنتا ہو۔" اس بیان میں مزید کہا گیا ہے: "عرب ممالک کے وزرائے خارجہ صومالیہ حکومت کے جائز اداروں کے لیے اپنی حمایت پر زور دیتے ہیں اور صومالیہ کے اتحاد سے متصادم ہم پلہ اداروں کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔" سعودی عرب نے بھی صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا نتیجہ علیحدگی پسندی کی صورت میں نکلے گا جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
 
متحدہ عرب امارات کی پراسرار خاموشی
عرب ممالک میں متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جس نے صومالیہ لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کیے جانے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صومالیہ لینڈ میں ابوظہبی کے نمایاں اثرورسوخ کے پیش نظر کئی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے متحدہ عرب امارات کو اعتماد میں لے کر صومالیہ لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ روایتی طور پر صومالیہ لینڈ کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور بعض ماہرین کے مطابق اماراتی حکام صومالیہ لینڈ کی خودمختاری کو مصر کے خلاف ابوظہبی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابوظہبی وہ واحد عرب ملک ہے جو عرب دنیا میں وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود اسرائیل کی طرف سے صومالیہ لینڈ کو تسلیم کرنے کے بارے میں اب تک خاموش ہے۔ ایک ایسی خاموشی جس سے ابوظہبی کا اطمینان جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

تحریر: رضا عموئی

 رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس کے منتظمین سے ملاقات میں اس عظیم علمی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ آیت اللہ میلانی معنوی، اخلاقی، علمی اور سماجی و سیاسی لحاظ سے ایک جامع شخصیت تھے اور مشہد کا حوزہ علمیہ حقیقت میں ان کا مرہونِ منت ہے۔

رہبرِ انقلاب نے آیت اللہ میلانی کی انفرادی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں وقار، متانت، تواضع اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کا پیکر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علمی میدان میں وہ ایک بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے علامہ نائینی اور شیخ محمد حسین اصفہانی جیسے عظیم اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور اپنے علمی بیان سے فاضل طلباء کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ آیت اللہ میلانی 1960 کی دہائی کے اوائل میں اسلامی نہضت کے آغاز کے وقت اس کے اہم ستونوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کی گرفتاری کے بعد دیگر علماء کے ساتھ تہران کا سفر کیا اور امام (رہ) کی ترکی جلاوطنی کے بعد ان کی حمایت میں جو خط لکھا، وہ آج بھی ایک اہم تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

رہبر معظم نے مزید لہا کہ آیت اللہ میلانی مختلف سیاسی گروہوں سے رابطے میں رہنے کے باوجود کسی خاص سیاسی دھڑے سے منسوب ہونے سے سختی سے گریز کرتے تھے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ہمایش کے ذریعے عوام آیت اللہ میلانی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں گے۔

اس کانفرنس کے آغاز میں آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کانفرنس کے مقاصد، علمی کمیٹیوں کی کارکردگی اور مشہد و کربلائے معلیٰ میں ہونے والے نشستوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

حضرت امام نقی ہادی (ع) کی زندگی کے تاریخی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امام نے اسلامی تاریخ کے ایک مشکل ترین دور میں پوشیدہ انتظام، نظریاتی نیٹ ورکنگ اور مخصوص نظام کی تشکیل کے ذریعے امامت اور شیعہ معاشرے کو مشکلات اور تباہی کے خطرے سے بچایا۔ امام نقی (ع) کا دور اسلامی تاریخ کا ایک مشکل ترین دور تھا۔ یہ وہ دور  تھا، جب امامت عباسیوں کے شدید ترین سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کے سایہ میں تھی، ان تمام مشکلات کے باوجود امام نقی ہادی علیہ السلام نے شیعہ رہنمائی کے راستے کو محفوظ اور مستحکم کیا۔ امام علی النقی ہادی علیہ السلام نے ایسی حالت میں امت اسلامیہ کی امامت سنبھالی، جب خلافت عباسیہ کا ڈھانچہ سیاسی اور سلامتی کی پختگی کے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ اس دور کو عباسی طاقت کے استحکام کا دور سمجھا جاتا تھا اور امامت کے مقام و منزلت کو کنٹرول کرنے، اس پر قابو پانے اور اسے ختم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ پالیسیوں کا آغاز تھا۔ ایک ایسی پالیسی، جس میں نہ صرف خود امام، بلکہ اہل بیت (ع) کے تمام مریدین، رفقاء اور پیروکاروں پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔

بچپن سے شہادت تک سیاسی دباؤ کا تسلسل
امام ہادی علیہ السلام نے اپنی امامت کے دوران نہ صرف عباسی خلفاء کا سامنا کیا بلکہ آپ اپنے بچپن، اپنی جوانی سے اپنے عظیم والد امام جواد علیہ السلام کی امامت کے دوران بھی سخت دباؤ اور حکومتی نگرانی کے ماحول میں بڑے ہوئے تھے۔کل آٹھ عباسی خلفاء آپ کے ہم عصر رہے اور سب کے سب ظلم و تشدد میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔

معاشرے میں امام کی عوامی موجودگی میں بتدریج کمی
امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے دور سے عالم تشیع میں ایک نیا تاریخی رجحان شروع ہوا، جس کے دوران معاشرے اور معصوم امام کے درمیان براہ راست اور کھلے رابطے کا امکان بتدریج کم ہوتا گیا۔ یہ رجحان امام جواد علیہ السلام کے زمانے میں ظاہر ہوا اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں اس مرحلے پر پہنچ گیا کہ امام نقی (ع) کے ساتھ عوام کا رابطہ بہت محدود اور کنٹرول شدہ ہوگیا۔ اس وقت امام ہادی علیہ السلام عملی طور پر خلافت کے اہلکاروں کی مسلسل نگرانی میں تھے۔ نقل و حرکت پر پابندیاں، مواصلات کا کنٹرول، بار بار طلبی اور خوف کی فضا پیدا کرنا عباسی خلفاء کی پالیسی کا اہم حصہ تھا۔ عباسی خلیفہ امام اور امامت کے مقام کو عوام سے الگ تھلگ کرنا چاہتے تھے۔ ایک ایسی پالیسی جس کا حتمی مقصد امام معصوم کو شیعہ سماج سے جدا کرنا تھا۔

متوکل عباسی اور پابندیوں میں شدت
متوکل کی حکومت کے دور کو اہل بیت (ع) کے خلاف دشمنی کی شدت کے حوالے سے ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں مذہبی علامتوں کی تباہی، سادات کا قتل، شیعوں پر جبر اور عقیدہ امامت پر سخت پابندیاں لگانا خلافت کی سرکاری پالیسی بن گئی تھی۔ اس صورتحال نے شیعہ معاشرے کو اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور میں ڈال دیا۔

اہم حکمت عملی کے طور پر رابطہ کے ایک نئے نظام کی تشکیل
ایسے حالات میں شیعہ مذہب کا تسلسل محض کبھی کبھار ردعمل یا عوامی موجودگی سے ممکن نہیں تھا۔ نئی شرائط کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھنے، تعلیمات اسلام کی ترسیل اور دینی کمیونٹی کے انتظام کے لیے ایک طویل مدتی نئے ماڈل کے ڈیزائنگ کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا نمونہ جو امام کی ظاہری اور جسمانی موجودگی پر انحصار کیے بغیر شیعہ مذہب کی بقاء کی ضمانت دے سکے۔ اس تاریخی ضرورت کے جواب میں امام ہادی علیہ السلام نے نیابت کا نظام قائم کیا اور اسے وسعت دی۔ اس نظام کی بنیاد پر عالم اسلام کے مختلف خطوں میں قابل اعتماد افراد کو امام کے نمائندے کے طور پر مقرر کیا گیا، تاکہ وہ امام اور ملت شیعہ کے درمیان رابط کا کردار ادا کریں۔ نیابتی یا نمائندگی کا نظام محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں تھا، بلکہ دینی تعلیمات کی ترسیل، نظریاتی مسائل کا جواب، مالیاتی امور کو منظم کرنے، فکری ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور نظریاتی انحرافات کو روکنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نیٹ ورک تھا۔ ایک ایسا نیٹ ورک جس نے سخت گھٹن اور شدید دباؤ کے حالات میں شیعہ کمیونٹی کے انتظام کو فعال کیا۔

براہ راست رسائی کے بغیر آئندہ دور کیلئے ایک تاریخی مشق
عملی طور پر اس ماڈل نے شیعہ مسلمانوں کو ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کیا، جس میں معصوم امام تک براہ راست اور کھلی رسائی ممکن نہ ہو۔ اس نقطہ نظر سے نیابتی یا نمائندگی کے نظام کو اس دور میں داخل ہونے کے لیے ایک عملی اور بتدریج تجربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جسے بعد میں غیبت کا دور کہا گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد معصوم امام علیہ السلام سے بالواسطہ رابطے کا ڈھانچہ غیبت کے دور میں جاری رہا۔ اس تاریخی تسلسل سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا نتیجہ تھا، جس کی بنیاد امام ہادی علیہ السلام کے دور میں رکھی گئی تھی۔

اس ڈھانچے میں، اگرچہ معاشرے میں امام کی جسمانی موجودگی محدود تھی، لیکن مذہبی، فکری اور نظریاتی رہنمائی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ امام نقی (ع) کے دور میں شیعہ مسلمانوں نے قابل اعتماد نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہوئے اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو محفوظ اور منتقل کرنے کا طریقہ سیکھا۔ عام عقیدہ کے برخلاف، امام ہادی علیہ السلام کی امامت کا دور محض بقا کا دور نہیں تھا بلکہ ترقی کا دور بھی تھا۔ اس دور میں شیعان اہلبیت کے علم، اخلاق اور اعتقاد کی سطح میں بہتری آئی اور ایک زیادہ باخبر اور مربوط ادارہ تشکیل پایا۔

شیعہ دنیا کی بااثر شخصیات کی تربیت
اس طرزِ فکر کا ثمر طلبہ اور شخصیات کی تربیت تھی، جن میں سے ہر ایک بعد میں اسلامی دنیا کے مختلف خطوں میں اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا۔ ان شاگردوں میں تہران کے علاقے شہر رے میں مدفون حسنی سادات کے حضرت عبدالعظیم حسنی ان شخصیات میں سے ایک ممتاز ترین شخصیت ہیں، جنہوں نے امام ہادی (ع) کی رہنمائی میں اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ری کے علاقے میں ان کی موجودگی نے دیرپا تاریخی اور نظریاتی آثار چھوڑے۔

امام ہادی علیہ السلام، شیعہ مذہب کی تاریخی تبدیلی کے معمار
ان تاریخی شواہد کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ہادی علیہ السلام نہ صرف ایک مخصوص دور کے امام تھے بلکہ شیعیت کی ایک اہم ترین تاریخی تبدیلی کے معمار بھی تھے۔ آپ نے عوامی موجودگی کے دور سے پوشیدہ، لیکن مسلسل اور گہری رہنمائی کے ذریعے امامت کی تعلیمات و امامت کی منتقلی کے نظام کو متعارف کرایا۔

تحریر: محمد ویسمرادی

ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال 
ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ، ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﻮ "ﺭﺟﺐ ﺍﻻﺻﺐ" ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ "ﺻﺐ" ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮔﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، روایات میں اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
ماہِ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﺣﺮﺍﻡ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ میں سے ایک ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ. ‏(ﺣﺮﺍﻡ ماہ؛ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ، ﺫﯼ ﺍﻟﻘﻌﺪﺓ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ، ﺫﯼ ﺍﻟﺤﺠۃ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺮﻡ ﺍﻟﺤﺮﺍﻡ ﮨﯿﮟ‏)
ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ، ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﻮ "ﺭﺟﺐ ﺍﻻﺻﺐ" ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ "ﺻﺐ" ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﮔﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ. روایات میں اس کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔
فضیلت ماہِ رجب:
امام کاظمؑ فرماتے ہیں..
"رجب کا مہینہ، ایک عظیم مہینہ ہے، اس میں (اجروثواب) حسنات کئی گنا ہوتے ہیں اور گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، جہنم کی آگ ایک سو سال تک دور ہوتی ہے اور جو تین دن روزہ رکھے، اس کے لیے بہشت واجب ہوتی ہے."
امام کاظمؑ فرماتے ہیں:
"رجب بہشت میں ایک دریا کا نام ہے جو دودھ سے سفید تر اور شہد سے شیریں تر ہے۔ جو شخص رجب کے مہینہ میں ایک دن روزہ رکھے، خداوندمتعال اسے اس دریا کا پانی پلائے گا."
ماہِ رجب کے اذکار وفضیلت:
●رسولِخداؐ نے فرماتے ہیں:
"جو شخص رجب کے مہینہ میں اس ذکر کو سو مرتبہ پڑھے..
"أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ"
اور اس کے بعد کچھ راہ خدا میں دیدے، تو خداوندمتعال اسے رحمت و بخشش عطا کرے گا اور ۔ ۔ ۔ جب وہ قیامت کے دن خداوندمتعال سے ملاقات کرے گا، خداوندمتعال اس سے فرمائے گا؛ تم نے میری سلطنت کا اقرار کیا ہے، پس جو چاہتے ہو مانگو میں اسے قبول کروں گا اور میرے علاوہ کوئی تمھاری حاجتوں کو پورا نہیں کر سکتا ہے."
●آنحضرتؐ نے ایک اور روایت میں فرماتے ہیں:
"جو شخص اس مہینہ میں ایک ہزار مرتبہ..
"َلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"
پڑھے، خداوندمتعال اس کے نامہ اعمال میں ایک لا کھ اجر و ثواب لکھے گا و..."
اس مہینہ کے اذکار و اوراد بکثرت ہیں، جو دعاؤں کی کتابوں میں درج ہیں، جن کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے.
اعمال ماہِ رجب:
●روزہ:
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
حضرت نوحؑ رجب کی پہلی تاریخ کو کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس دن روزہ رکھیں اور فرمایا؛ جو شخص اس دن روزہ رکھے گا جہنم کی آگ ایک سال تک اس سے دور رہے گی اور جو شخص اس مہینہ میں سات دن روزے رکھےگا، اس پر جہنم کے سات دروازے بند ہوں گے اور آٹھ دن روزے رکھے تو بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھل جائیں گے اور جو شخص پندرہ دن روزے رکھے خداوندمتعال اس کی حاجتیں پوری کرے گا اور جو شخص اس سے زیادہ روزے رکھے خداوندمتعال اس کے لیے اس سے زیادہ عنایتیں کرے گا."
رجب کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں.
●غسل:
اس مہینہ کی پہلی شب، پندرھویں شب اور آخری شب میں غسل کرنا ہے.
●نمازیں:
ماہ رجب کی پہلی شبِ جمعہ (لیلةالرغائب) کی نمازیں.
تیرھویں شب، چودھویں شب اور پندرھویں شب (لیالی البیض) کی نمازیں.
●عمرہ بجا لانا.
●امام حسینؑ کی زیارت.
●امام رضاؑ کی زیارت.
●اس مہینہ کے مخصوص اعمال میں سے کچھ نمازیں ہیں جنہیں ہر شب میں پڑھا جاتا ہے ان کی کیفیت روایتوں میں ذکر کی گئی ہے.
ماہ رجب کے مشترکہ اعمال
یہ ماہ رجب کے اعمال میں پہلی قسم کے اعمال ہیں جومشترکہ ہیں اورکسی خاص دن کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں اور یہ چند ایک اعمال ہیں۔
۱۔ رجب کے پورے مہینے میں یہ دعا پڑھتا رہے اور روایت ہے کہ یہ دعا امام زین العابدین علیہ السلام نے ماہ رجب میں حجر کے مقام پر پڑھی۔
يا مَنْ يَمْلِكُ حَواَّئِجَ السّاَّئِلينَ ويَعْلَمُ ضَميرَ الصّامِتينَ لِكُلِّ مَسْئَلَةٍ مِنْكَ سَمْعٌ حاضِرٌ وَجَوابٌ عَتيدٌ اَللّهُمَّ وَمَواعيدُكَ الصّادِقَةُ واَياديكَ الفاضِلَةُ ورَحْمَتُكَ الواسِعَةُ فَاَسْئَلُكَ اَنْ تُصَلِّىَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ واَنْ تَقْضِىَ حَوائِجى لِلدُّنْيا وَالاْخِرَةِ اِنَّكَ عَلى كُلِّشَىْءٍ قَديرٌ
اے وہ جوسوالیوں کی حاجتوں کامالک ہے اور خاموش لوگوں کے دلوں کی باتیں جانتا ہے ہے ہر وہ سوال جو تجھ سے کیا جائے تیرا کان اسے سنتا ہے اور اس کا جواب تیار ہے اے معبود تیرے سب وعدے یقینا سچے ہیں تیری نعمتیں بہت عمدہ ہیںاور تیری رحمت بڑی وسیع ہے پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ رحمت نازل فرما محمد
وآل محمد پر اور یہ کہ میری دنیا اور آخرت کی حاجتیں پوری فرما بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتاہے۔
۲۔ یہ دعا پڑھے کہ جسے امام جعفرصادق علیہ السلام رجب میں ہرروز پڑھا کرتے تھے:
خابَ الوافِدُونَ عَلى غَيْرِكَ وَخَسِرَ المُتَعَرِّضُونَ اِلاّ لَكَ وَضاعَ المُلِمُّونَ اِلاّ بِكَ وَاَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُونَ اِلاّ مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ بابُكَ مَفْتُوحٌ لِلرّاغِبينَ وَخَيْرُكَ مَبْذُولٌ لِلطّالِبينَ وَفَضْلُكَ مُباحٌ لِلسّاَّئِلينَ وَنَيْلُكَ مُتاحٌ لِلا مِلينَ وَرِزْقُكَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصاكَ وَحِلْمُكَ مُعْتَرِضٌ لِمَنْ ناواكَ عادَتُكَ الاِْحْسانُ اِلَى الْمُسيئينَ وَسَبيلُكَ الاِبْقاَّءُ عَلَى الْمُعْتَدينَ اَللّهُمَّ فَاهْدِنى هُدَى الْمُهْتَدينَ وَارْزُقْنىِ اجْتِهادَ الْمُجْتَهِدينَ وَلاتَجْعَلْنى مِنَالْغافِلينَ الْمُبْعَدينَ واغْفِرْلى يَوْمَالدّينِ
ناامید ہوئے تیرے غیر کی طرف جانے والے گھاٹے میں رہے تیرے غیر سے سوال کرنے والےتباہ ہوئے تیرے غیر کے ہاں جانے والے قحط کا شکار ہوئے روزی طلب کرنے والےمگر وہ نہیں جنہوں نے تیرے فضل سے رزق مانگا تیرا در اہل رغبت کے لیے کھلا ہے اور تیری بھلائی طلب گاروں کو بہت بہت ملتی ہے تیرا فضل سائلوں کے لیے عام ہے اور تیری عطا امیدوارو ں کے لیے آمادہ ہے تیرا رزق نافرمانوں کے لیے بھی فراواں ہے تیری بردباری دشمن کے لیے ظاہر وعیاں ہے گناہگاروں پر احسان کرناتیرا مستقل فعل ہے اور ظالموں کو باقی رہنے دینا تیرا شیوہ ہے اے معبود مجھے ہدایت یافتہ لوگوں کی راہ پر لگا اور مجھے کوشش کرنے والوں کی سی کوشش نصیب فرما مجھے غافل اور دور کیے ہوئے لوگوں میں سے قرار نہ دے اور یوم جزا میں مجھے بخش دے
۳۔ شیخ نے مصباح میں فرمایا ہے کہ معلی بن خنیس نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ماہ رجب میں یہ دعا پڑھا کرو:
اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ صَبْرَ الشّاكِرينَ لَكَ وَعَمَلَ الْخائِفينَ مِنْكَ وَيَقينَ الْعابِدينَ لَكَ اَللّهُمَّ اَنْتَ الْعَلِىُّ الْعَظيمُ وَاَنَا عَبْدُكَ الْباَّئِسُ الْفَقيرُ اَنْتَ الْغَنِىُّ الْحَميدُ وَاَنَا الْعَبْدُ الذَّليلُ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاْمْنُنْ بِغِناكَ عَلى فَقْرى وَبِحِلْمِكَ عَلى جَهْلى وَبِقُوَّتِكَ عَلى ضَعْفى يا قَوِىُّ يا عَزيزُ اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الاْوصياَّءِ الْمَرْضيِّينَ وَاكْفِنى ما اَهَمَّنى مِنْ اَمْرِ الدُّنْيا وَالا خِرَةِ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ

اے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے شکرگزاروں کا صبر ڈرنے والوں کا عمل اور عبادت گزاروں کا یقین عطافرما اے معبود توبلندتر بزرگترہے اور میں تیرا حاجت مند اور بے مال ومنال بہد ہوں اور توبے حاجت اور تعریف والا ہے اور میں تیرا پست تر بندہ ہوں اے معبود! رحمت نازل فرما محمداور ان کی آل پر اور میری محتاجی پر اپنے مال سے میری نادانی پر اپنی ملائمت سے اور اپنی قوت سے میری کمزوری پر احسان فرما اے قوت والے اے زبردست اے معبود!رحمت فرما محمد اور ان کی آل پر جوپسندیدہ اوصیاو جانشین ہیں اوردنیا و آخرت کے اہم معاملوں میں میری کفایت فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والےمولف کہتے ہیں کہ کتاب اقبال میں سید بن طاؤس نے بھی اس دعا کی روایت کی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ جامع ترین دعا ہے اور اسے ہروقت پڑھاجاسکتا ہے۔
۴۔ محمد بن ذکوان جو اس لیے سجاد کے نام سے معروف ہیں کہ انہوں نے اتنے سجدے کیے اور خوف خدا میں اس قدر روئے کہ نابینا ہو گئے تھے، سید بن طاؤس نے اس انہی محمدبن ذاکوان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ پر قربان ہو جاؤں یہ ماہ رجب ہے ، مجھے کوئی دعا تعلیم کیجئے کہ حق تعالٰی اس کے ذریعے مجھے فائدہ عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ لکھو اور رجب کے مہینے میں ہرروز یہ دعا پڑھا کرو:
بسم الله الرحمن الرحیم
خدا کے نام سے شروع جو رحمن ورحیم ہے
يا مَنْ اَرْجُوهُ لِكُلِّ خَيْرٍ وَآمَنُ سَخَطَهُ عِنْدَ كُلِّ شَرٍّ يا مَنْ يُعْطِى الْكَثيرَ بِالْقَليلِ يا مَنْ يُعْطى مَنْ سَئَلَهُ يا مَنْ يُعْطى مَنْ لَمْ يَسْئَلْهُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ تَحَنُّناً مِنْهُ وَرَحْمَةً اَعْطِنى بِمَسْئَلَتى اِيّاكَ جَميعَ خَيْرِ الدُّنْيا وَجَميعَ خَيْرِ الاْخِرَةِ وَاصْرِفْ عَنّى بِمَسْئَلَتى اِيّاكَ جَميعَ شَرِّ الدُّنْيا وَشَرِّ الاْخِرَةِ فَاِنَّهُ غَيْرُ مَنْقُوصٍ ما اَعْطَيْتَ وَزِدْنى مِنْ فَضْلِكَ يا كَريمُ
اے وہ جس سے ہربھلائی کی امید رکھتا ہوں اور ہر برائی کے وقت اس کے غضب سے امان میں ہوںاے وہ جو تھوڑے عمل پر زیادہ اجردیتا ہے اے وہ جو ہرسوال کرنے والے کو دیتا ہے اے وہ جو اسے بھی دیتا ہے جوسوال نہیں کرتا اور اسے بھی دیتا ہے جو اسے نہیں پہچانتا اس پر بھی رحم وکرم کرتا ہے تو مجھے بھی میرے سوال پر دنیا وآخرت کی تمام بھلائیاں اور نیکیاں عطا فرمادے اور میری طلب گاری پر دنیاوآخرت کی تمام تکلیفیں اور مشکلیں دور کر کے مجھے محفوظ فرمادے کیوں کہ تو جتناعطا کرے تیرے ہاں کمی نہیں پڑتی اے کرم مجھ پر اپنے فضل میں اضافہ فرما
روای کہتا ہے کہ اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی ریش مبارک کو داہنی مٹھی میں لے لیا اور اپنی انگشت شہادت کو ہلاتے ہوئے نہایت گریہ وزاری کی حالت میں یہ دعا پڑھی:
يا ذَاالْجَلالِ وَالاِْكْرامِ يا ذَاالنَّعْماَّءِ وَالْجُودِ يا ذَاالْمَنِّ وَالطَّوْلِ حَرِّمْ شَيْبَتى عَلَى النّارِ
اے صاحب جلالت وبزرگی اے نعمتوں اور بخشش کے مالک اے صاحب احسان وعطا میرے سفید بالوں کو آپ پر حرام فرما دے
پندرہ رجب کا دن
یہ بڑا ہی مبارک دن ہے اور اس میں چندایک اعمال ہیں:
۱۔ غسل کرے
۲۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے ، ابن بی نصر سے روایت ہے کہ میں امام علی رضا علیہ السلام سے عرض کیا کہ کس مہینے میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کروں ؟

آپ نے فرمایا کہ پندرہ رجب اور پندرہ
شعبان کو یہ زیارت کیا کرو۔
۳۔ نماز سلمان بجا لائے ۔
۵۔ عمل ام داؤد کہ یہی اس دن کا خاص عمل ہے جو حاجات برآری مصیبت کی دوری اور ظالموں کے ظلم سے بچاؤ کے لیے بہت مؤثر ہے، شیخ نے مصباح میں اس عمل کی کیفیت یوں لکھی ہے کہ عمل ام داؤد کرنے کے لیے ۱۳۔۱۴۔۱۵ رجب کو روزہ رکھے اور ۱۵رجب کو زوال کے وقت غسل کرے زوال کے فوراً بعد نماز ظہر وعصر بجا لائے کہ رکوع وسجود میں خوف اور عاجزی کا اظہار کرے اس وقت خلوص کی جگہ پر ہو ، جہاں کوئی شخص اس سے بات نہ کرے ، جب نماز سے فارغ ہو جائے تو قبلہ رو ہو کر اس طرح عمل کرے:
سومرتبہ سورة الحمد، سومرتبہ سورہ اخلاص اور دس مرتبہ آیت الکرسی ، اس کے بعد یہ سورتیں پڑھے: سورہانعام ، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف سورہ لقمان ،سورہ یٰسیٓن سورہ صفآفات، سورہ حم سجدہ، سورہ حٰمٓعٓسقٓ ، سورہ حٰمٓ دخان، سورہ فتح ، سورہ واقعہ ، سورہ ملک ، سورہ نون ، سورہ انشقاق اور اس کے بعد قرآن کی آخری سورت تک مسلسل پڑھے اور پھر قبلہ رخ ہو کہ دعا پڑھے

امام محمد باقر علیہ السلام کے سلسلہ سے تاریخی کتب بتاتی ہیں کہ آپ نے یکم رجب المرجب بروز جمعہ سنہ ۵۷ ہجری مدینہ میں اس ظاہری دنیا میں آنکھیں کھولیں [۱] اور۷ ذی الحجۃ الحرام سنہ ۱۱۴ ہجری کو ہشام بن عبدالملک کے زمانے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔

آپ پہلے وہ امام ہیں جو اپنی ماں اور اپنے والد بزرگوار دونوں ہی کی طرف سے فاطمی و علوی قرار پائے چنانچہ سلسلہ معصوم میں آپ ہی کو یہ افتخار حاصل ہے کہ دادیہال اور نانیہال دونوں ہی طرف سے آپ ہاشمی ہیں [۲]

امام محمد باقرؑ نے عہد طفولی کے چار سال اپنے جد جناب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے آپ کے سلسلہ سے تاریخ کہتی ہے کہ آپ کمسنی کے باجود کربلا میں موجود تھے چنانچہ ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں : “میں چار سالہ تھا جب میرے جدّ امام حسینؑ کو شہید کیا گیا اور مجھے آپؑ کی شہادت کے ساتھ وہ مصائب یاد ہیں جو ہم پر گزرے [۳]

امام محمد باقر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر ہم تمام عاشقان حیدر کرار و دنیا کے حریت پسندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے ہماری یہ کوشش ہے کہ آپکی نظر میں اچھے اور نیک انسان کے معیار کو بیان کیا جا سکے ۔ پروردگار کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ مالک ہمیں اپنے ائمہ طاہرین علیھم السلام کے تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کی نظر میں اچھا اور نیک انسان:

آج دنیا میں روز بروز بدلتی قدروں کے حامل معاشرہ میں انسان کے لئے نیکی اور خیر کا مفہوم بھی بدل رہا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کو پرکھنے کا معیار بھی بدل رہا ہے، ہر ایک خود کو بہت بڑا نیک انسان دکھانے کی کوشش کرتا نظر آتا ہےاور دلیل کے طور پر وہ نیکیاں گنانا شروع کر دیتا ہے جو اس نے کی ہیں اور موجود دور میں انہیں نیکیوں کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے ، جیسے کسی اسکول کی تعمیر ،کسی بچے کی فیس کا انتظام کر دینا ، کسی یتیم کی سرپرستی ، کسی اسپتال کی تعمیر وغیرہ ، یقینا یہ سب نیک کام ہیں اور ان سب کو کرنے والا بھی نیکی کو انجام دینے والا نیک انسان ہی کہا جائے گا لیکن یہ ساری چیزیں اسکی اچھائی اور نیکی کا ملاک و معیار نہیں ہیں بلکہ ملاک و معیار امام علیہ السلام نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ اس کار خیر کرنے والے کے دل میں کیا ہے؟ کیا وہ دل میں ان لوگوں سے محبت کا جذبہ رکھتا ہے جو اللہ کے نیک و اطاعت گزار بندے ہیں یا پھر اسکا رہن سہن تو بدمعاشوں کے درمیان ہے اور اللہ کے اطاعت گزار بندوں سے ہمیشہ اسکی ان بن رہتی ہے لیکن دنیا کے ظاہری نیک کاموں میں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے کیا ایسے انسان کو اچھا انسان کہا جا سکتا ہے ؟

امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جانو تمہارے اندر کوئی خیر کوئی اچھائی پائی جا رہی ہے یا نہیں تو اپنے دل کے اندر جھانک کر دیکھو اگر یہ دل اللہ کی اطاعت کرنے والوں کی طرف مائل ہو اور اس میں ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہو جو خدا کے اطاعت گزار بندے ہیں اور اس دل میں ان لوگوں سے نفرت ہو جو اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ تمہارے اندر خیر و نیکی کا مادہ پایا جاتا ہے اور اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے لیکن اگر تم اللہ کی اطاعت کرنے والے بندوں سے بغض و عناد رکھتے ہو اور اہل معصیت اور گناہ گاروں سے محبت کرتے ہو تو جان لو کہ تمہارے اندر کوئی خیر نہیں پایا جاتا اور اللہ بھی تمہیں دوست نہیں رکھتا اور انسان اسی کے ساتھ مانا جاتا ہے جس سے محبت کرتا ہے ‘‘[۴]

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اگر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے اندر کتنی خوبی پائی جاتی ہے تو اپنے دل کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ دل کن لوگوں کی طرف مائل ہے اگر اس دل میں دنیا پرستوں کی محبت پائی جاتی ہے ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہے جنہیں خدا سے مطلب نہیں اللہ کے دین سے مطلب نہیں صرف اپنے وجود سے مطلب ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمارے وجود کے اندر وہ سرچشمہ نہیں جس سے نیکیاں پھوٹ کر باہر نکلیں لیکن اگر ہمارا دل اہل اطاعت اور اللہ کے نیک بندوں کی طرف مائل ہے تو اسکا مطلب ہے کہ ہمارے اندر خیر پایا جاتا ہے اب ضروری ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کو ویسا ہی بنائیں جیسا کہ اللہ کے نیک بندوں نے بنایا ہوا ہے امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ حدیث ہمیں ایک کسوٹی دے رہی ہے ہمارے سامنے ایک میزان رکھ رہی ہے ہم اپنے آپ کو تول سکتے ہیں کہ ہمارا جھکاوا کس طرف ہے دنیا میں آج بہت سے لوگ ہیں جو اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ اچھے لوگ ہیں نیک ہیں لیکن اس بات کا معیار کیا ہے کہ ہم خیر پر ہیں ؟ ہمارے دل میں خیر ہے کیا اسکا ثبوت ہمارے وہ نیک کام ہیں جو ہم نے انجام دئے چنانچہ اکثر ہم نیک ہونے کی دلیل اپنے نیک کاموں کو بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا ہم نے وہ کیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس حدیث میں جو چیز بیان کی ہے اس سے نیک اور اچھے انسان کا معیار سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نیک کاموں پر نہ جاو بلکہ یہ دیکھو تمہارا دل کس کی طرف مائل ہے تمہارا اٹھنا بیٹھنا کہاں ہے تمہاری نشست و برخواست کن لوگوں کے ساتھ ہے تم ان امیروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہو جو دنیا میں غرق ہیں یا دو منٹ اس غریب کے ساتھ بھی بیٹھنا پسند کرتے ہو جس کے پاس بندگی پروردگار کے سوا کچھ نہیں ہے اب ہم اس حدیث کی روشنی میں اپنا تجزیہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے اندر خیر کی خو پائی جاتی ہے یا ہم شر اور برائی کی طرف مائل ہیں ۔

اگر ہم اچھے اور نیک لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتے انکے لئے کھڑے نہیں ہو سکتے اور بس اپنی نیکیوں کی فکر ہے تو ممکن ہے یہ ہمارے کام نہ آ سکے چنانچہ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’خدا نے جناب شیعب علیہ السلام پر وحی کی میں تمہاری قوم کے ایک ہزار لوگوں پر اپنا عذاب نازل کرونگا اور انہیں ہلاک کر دونگا ان میں سے ساٹھ ہزار وہ ہونگے جو برے اور اشرار لوگوں میں ہوں گے اور چالیس وہ ہونگے جنکا تعلق اچھے اور نیک لوگوں میں ہوگا جناب شعیب علیہ السلام نے عرض کی: ائے میرے پروردگار برے اور نالائق لوگ تو اس لائق ہیں کہ ان پر عذاب ہو لیکن نیک اور اچھے لوگوں پر عذاب کی وجہ کیا ہے ان پر کیونکر عذاب ہوگا؟ خداوند متعال نے جناب شعیب پر وحی کی اس لئے کہ یہ لوگ گناہ کاروں اور معصیت کاروں کے سامنے لاتعلق ہو کر رہتے تھے اور ان کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے تھے‘‘ [۵]

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے ایک اچھا انسان بننے کے لئے جتنا ضروری یہ ہے کہ ہم خود نیکی اور اچھائی کو انجام دیں اتنا ہی ضروری ہے کہ نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ دیں اور برے لوگوں سے اظہار برات کریں۔

اگر اس ملاک و معیار پر دنیا میں عمل ہوتا تو آج ہر طرف برائیوں کا دور دورا نہ ہوتا ظالموں کو ظلم و زیادتی کا موقع نہ ملتا، کسی ایک ملک کو چاروں طرف سے گھیر کر تنہا نہ کیا جاتا، شیخ زکزاکی جیسے مرد مجاہد کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی، ہمارے ملک میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ہم اپنی نیکی تو کرتے رہے لیکن ان برے اور شریر لوگوں کے مقابل نہ کھڑے ہوئے جنہوں نے معاشرے اور سماج میں برائیوں کے چلن کو عام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، ہم بظاہر اچھے کاموں میں مشغول رہے لیکن ان نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ نہ دیا جن پر دنیا میں عرصہ حیات کو تنگ کر دیا گیا ۔

یقینا اگر ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور جس امام کا غم منا رہے ہیں اسکے تعلیمات کو بھی اپنی روح میں اتار لیں اور نیک عمل کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کا اظہار بھی کریں اور بروں سے نفرت بھی کریں تو ہمارا مقام اتنا بلند ہوگا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے اس لئے کہ ایسی صورت میں ہم امام علیہ السلام کی واقعی ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں میں شمار ہونگے اور عصر غیبت میں اگر کوئی ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہے تو امام علیہ السلام ہی کی حدیث ہے کہ اسکا اجر شہداء بدرو حنین کے ہزار شہیدوں کے برابر ہوگا ۔ [۶]

ظاہر ہے اتنا بڑا اجر یوں ہی نصیب نہیں ہو جائے جب ہم اچھے لوگوں کی محبت میں بولیں گے برے لوگوں کی مخالفت میں کھڑے ہونگے تو کہیں ہمارا بائکاٹ ہوگا ، کہیں ہمیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جانا ہوگا، کہیں ہمارے سامنے بندویقیں اور سنگینیں ہوں گی کہیں ہمارے سامنے توپ و ٹینک ہونگے کہیں دار و رسن ہوگی ، لیکن فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ سخت و دشوار ترین حالات میں ہمیں کس طرح ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہنا ہے ، کس طرح شیخ زکزاکی ، شہیدحسن نصر اللہ ، سید علی خامنہ ای اور آیت اللہ سیستانی، وشیخ عیسی قاسم جیسے مردان عرصہ علم و عمل کی راہ کو کسی صورت نہیں چھوڑنا ہے کہ انکی راہ پر چل کر انکے مقاصد کی آبیاری کے ذریعہ ہم امام علیہ السلام کی نظر میں خود کو اچھے اور نیک انسان کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ورنہ اپنے منھ میاں مٹھو تو سبھی بنتے ہیں ان میں ہم بھی سہی بات تو تب ہے کہ اچھے اورنیک صفت انسان ہونے کی مہر امام معصوم ع کی جانب سے لگ جائے ۔

حوالہ جات:

[۱] طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، ص۲۱۵قم، موسسۃ البعثۃ، الاولی، ۱۴۱۳ہ‍جری۔، طبرسی، امین الاسلام، اعلام الوری باعلام الہدی، ترجمہ عزیزاللہ عطاردی، ج۱، ص۴۹۸.تہران، کتابفروشی اسلامیہ، دوم، ۱۳۷۷ ہ‍جری شمسی۔

نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۴ ہ‍جری۔ طبری، دلائل الإمامہ، ؛ طبرسی، إعلام الورى،

[۲] ۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ محمد باقر ساعدی، ص۵۰۸۔ تہران، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ ہ‍جری شمسی۔

[۳] ۔ یعقوبی، ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران، ج۲، ص۲۸۹۔۔ج۲، ص۲۸۹۔ انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸ ہ‍جری شمسی

[۴] ۔ قالَ الاْمامُ أبوُ جَعْفَر محمّد الباقر (عَلَیْہ السلام): إذا أرَدْتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فیكَ خَیْراً، فَانْظُرْ إلى قَلْبِكَ فَإنْ كانَ یُحِبُّ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَیُبْغِضُ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَفیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُحِبُّك، وَإذا كانَ یُبْغِضُ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَ یُحِبّ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَلَیْسَ فیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُبْغِضُكَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أحَبَّ. اصول كافى: ج ۲، ص ۱۰۳، ح ۱۱، وسائل الشّیعه: ج ۱۶، ص ۱۸۳، ح ۱٫

[۵] ۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): إنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحى إلى شُعَیْب النَّبی(صلى الله علیه وآله وسلم): إنّی مُعَذِّبٌ مِنْ قَوْمِكَ مِائَهَ ألْف، أرْبَعینَ ألْفاً مِنْ شِرارِهِمْ وَسِتّینَ ألْفاً من خِیارِهِمْ. فقال: یارَبِّ هؤُلاءِ الاْشْرار فَما بالُ الاْخْیار؟ فَأوحىَ اللهُ إلَیْهِ: إنَّهُمْ داهَنُوا أهْلَ الْمَعاصى وَ لَمْ یَغْضِبُوا لِغَضَبی.الجواهرالسنّیه: ص ۲۸، بحارالأنوار: ج ۱۲، ص ۳۸۶، ح ۱۲، به نقل از كافى.

[۶] ۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): مَنْ ثَبَتَ عَلى وِلایَتِنا فِی غِیْبَهِ قائِمِنا، أعْطاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اَجْرَ ألْفِ شَهید مِنْ شُهَداءِ بَدْر وَحُنَیْن.

إثبات الهداه: ج ۳، ص ۴۶۷٫

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزۂ علمیہ میں درسِ خارج کے استاد، حجت‌الاسلام احمد عابدی نے ماہِ رجب کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اس مہینے کی فضیلت اور اعمال سے متعلق متعدد روایات کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے مطابق ماہِ رجب عبادت، دعا اور روحانی مواقع سے بھرپور ایک ایسا زمانہ ہے جو انسان کے تعلق کو خداوندِ متعال کے ساتھ مضبوط بناتا ہے۔

بعض روایات کے مطابق ماہِ رجب کو «ماہِ خدا» کہا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کتاب مفاتیح اور متعدد روایات میں یہ تعبیر ملتی ہے۔

اسی طرح روایات میں نقل ہوا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: «رجب میرا مہینہ ہے اور شعبان رسولِ خدا ص کا مہینہ ہے»

اور کئی روایات میں ماہِ رجب کو خاص طور پر امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب کیا گیا ہے۔

تاہم اس بحث سے ہٹ کر کہ ماہِ رجب کو ماہِ خدا کہا جائے، یا ماہِ رسولؐ یا ماہِ امیرالمؤمنینؑ، سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماہِ رجب حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔

اس مہینے کے لیے ایک معروف تعبیر «رجبُ الأصمّ» بھی استعمال ہوئی ہے۔ اس کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ ماہِ رجب وہ مہینہ ہے جس میں جنگ، خون‌ریزی، جھگڑا اور ہر قسم کی لڑائی ممنوع تھی، یہاں تک کہ لوگ اپنے ہتھیار اور زرہیں بھی ایک طرف رکھ دیتے تھے۔

یعنی اس مہینے میں جنگ و جدال کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور اگر کوئی اس زمانے میں ایسی حرکت کرتا تو اس کا گناہ کہیں زیادہ سنگین سمجھا جاتا تھا۔

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جس طرح شبِ قدر کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اسی طرح ماہِ رجب میں بھی ایک ایسی رات ہے جو سال کی تمام راتوں سے افضل ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ وہ رات ستائیسویں رجب کی رات ہو۔

عبادت اور ثواب کے اعتبار سے ماہِ رجب بے شمار فضیلتوں کا حامل ہے۔

جس طرح ماہِ رمضان میں ہزار رکعت مستحب نماز کا ذکر ملتا ہے "جسے اہل سنت تراویح کی صورت میں ادا کرتے ہیں، حالانکہ فقہِ شیعہ میں نمازِ تراویح نہیں ہے" اسی طرح ماہِ رجب میں بھی ہزار رکعت مستحب نماز نقل ہوئی ہے۔

فرق یہ ہے کہ ماہِ رمضان کی مستحب نمازوں کا طریقہ زیادہ تر یکساں ہے، جبکہ ماہِ رجب کی نمازیں مخصوص اذکار اور سورتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر ماہِ رجب کی پہلی رات ۳۰ رکعت مستحب نماز دو رکعت کر کے نقل ہوئی ہے، جس کی ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد بارہ مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھا جاتا ہے۔

اسی طرح اس مہینے کی کئی راتوں اور دنوں میں خاص نمازیں، مخصوص اذکار اور سورتوں کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔

نمازوں کے علاوہ ماہِ رجب میں وارد ہونے والی دعائیں بھی بہت زیادہ ہیں؛ جیسے عملِ اُمِّ داوود، اعتکاف، اور وہ دعائیں جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے اس مہینے میں نقل ہوئی ہیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس درجے کی دعائیں حتیٰ کہ ماہِ رمضان میں بھی کم ملتی ہیں۔

یہ بھی نقل ہوا ہے کہ زمانۂ جاہلیت، یعنی اسلام سے پہلے بھی ماہِ رجب کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ اگر دو افراد کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا تو ایک دوسرے سے کہتا:“میں ماہِ رجب میں تم پر بددعا کروں گا”۔

یعنی اس مہینے کو اتنا مؤثر سمجھا جاتا تھا کہ دعا یا بددعا کو اس میں فیصلہ کن مانا جاتا تھا، چاہے وہ خیر کے لیے ہو یا شر کے لیے۔

روایات کے مطابق ماہِ رجب میں تمام ائمۂ اطہار علیہم السلام کی زیارت مستحب ہے۔ خاص طور پر امام رضا علیہ السلام کی زیارت پر زور دیا گیا ہے، البتہ دیگر ائمہ کی زیارت بھی اس مہینے میں سفارش شدہ ہے۔

ماہِ رجب میں روزہ رکھنا بھی بہت اہم عمل ہے۔ اس مہینے کے ہر دن کے لیے الگ الگ فضیلت اور اجر بیان ہوا ہے؛ پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ہر روز کے لیے مخصوص روایات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ساتویں، آٹھویں اور نویں رجب کے روزوں کی فضیلت پر بھی متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں۔

یہ تمام اعمال دینی اقدار اور مقدسات کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ انسان کو خداوندِ متعال، معصومین علیہم السلام اور اولیائے الٰہی سے جوڑتے ہیں۔ دعا، ذکر اور روحانی تعلق انسان کی زندگی کو سنوارنے والے بنیادی عوامل ہیں۔

اس کے برعکس صرف علمی مشغولیت—چاہے وہ عقائد اور فقہ ہی کیوں نہ ہو—اگر روحانیت سے خالی ہو تو بعض اوقات انسان کو محض علمی اعتراضات اور تنقید کی فضا میں لے جاتی ہے، جس سے دل میں ایک طرح کی تاریکی پیدا ہو سکتی ہے۔

روایات میں آیا ہے:«العِلمُ هو الحِجابُ الأکبر»

یعنی اگر علم کے ساتھ معنویت نہ ہو تو وہ خود سب سے بڑا پردہ بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دعا اور ذکر کو اس پردے کو ہٹانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

ماہِ رجب کی دعاؤں کے بارے میں مختلف کتابوں میں تفصیلی بحثیں موجود ہیں، جیسے مرحوم آیت اللہ شوشتریؒ کی کتاب «الأخبار الدخیلة»۔

اہل سنت کے حوالے سے بھی ذکر ملتا ہے کہ ان کے ہاں دعا کا وہ رواج نہیں جو شیعہ معاشرے میں پایا جاتا ہے، بلکہ وہ زیادہ تر قرآن کی تلاوت پر زور دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بعض اہل سنت جبر کے قائل ہیں، اور جبر کا نظریہ دعا کے اثر کو کم کر دیتا ہے۔

اس کے باوجود، اہل سنت کی بعض کتابوں مثلاً «الأذکار» میں ماہِ رجب کی کئی دعائیں اور استغفار نقل ہوئے ہیں، جو اس مہینے میں ذکر و دعا کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

لہٰذا ماہِ رجب کے اذکار اور دعائیں دینی اقدار کا اہم حصہ ہیں اور ان پر خاص توجہ دینا چاہیے۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ بعثت سے پہلے جب رسول اکرم ص غارِ حرا میں عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے تھے "جسے «یتحنّث» کہا جاتا ہے" تو حضرت خدیجہ رات بھر دروازہ بند کر کے طلوعِ فجر تک ذکر و ورد میں مشغول رہتی تھیں۔

یہ روایت بتاتی ہے کہ ذکر و ورد صرف اسلام کے بعد نہیں، بلکہ بعثت سے پہلے بھی ان مقدس ہستیوں کے ہاں رائج تھا۔

عام طور پر کسی دعا یا آیت کو جو انسان مسلسل پڑھتا رہے «وِرد» کہا جاتا ہے۔

اسی لیے ماہِ رجب کو ذکر کا مہینہ، ورد کا مہینہ، استغفار کا مہینہ اور مستحب نمازوں کا مہینہ کہا جا سکتا ہے۔

صہیونی سلامتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل درحقیقت فتح کا صرف تاثر دے رہا ہے، جبکہ وہ اندرونی اور بیرونی بحرانوں کے ایک طوفان میں گھرا ہوا ہے، خاص طور پر غزہ کی جنگ کے بعد۔ ان حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیل کے لیے اندر سے بتدریج انہدام کی واضح مثال ہے۔ غزہ کی جنگ اور ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد صہیونی حلقوں میں اسرائیل کے بحران اور اس کے انہدام سے متعلق متعدد تجزیے سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں معروف صہیونی سیاسی تجزیہ کار اور اسرائیل کے سابق داخلی سلامتی مشیر اوری گولڈ برگ نے ایک مضمون میں، جسے الجزیرہ نے شائع کیا، اسرائیل کے خاموش اور تدریجی اندرونی انہدام پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ 

طاقت کا وہم، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی حقیقت:
بہت سے لوگوں کو اسرائیل بظاہر ایک غالب اور فاتح طاقت دکھائی دیتا ہے، ایسی قوت جو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہی ہے، دشمنوں کو شدید ضربیں لگا رہی ہے اور مغربی دنیا کی بھرپور سیاسی حمایت سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہے، چاہے ان مغربی ممالک کے عوام اس کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ لیکن اس ظاہری خول کے نیچے اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد، جس میں قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں، آہستہ آہستہ غزہ کو اسرائیلی کنٹرول سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شام اور لبنان میں اپنی توسیع پسندانہ مہمات ترک کرے۔ اسرائیلی کابینہ بظاہر اس عمل کی مخالفت کرتی ہے، مگر حقیقت میں اسے اس دباؤ کو قبول کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسرائیل اپنے اعلان کردہ جنگی اہداف، یعنی حماس کی مکمل تباہی اور زندہ قیدیوں کی واپسی، حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مغرب کی خاموش پسپائی:
مغربی رہنماؤں کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ اسرائیل خود خطے میں عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔ اسی لیے ان کے لیے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اور خاموشی سے اپنی حمایت کم کریں، تاکہ اسرائیل خود نئی حقیقت سے ہم آہنگ ہونے پر مجبور ہو جائے۔ خطے کی بدلتی صورتحال نے اسرائیل کے کردار کو کمزور اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ وہ غیر مشروط حمایت جو اسرائیل کو کبھی امریکہ اور یورپ سے حاصل تھی، اب گھٹ رہی ہے، اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون بھی زوال پذیر ہے۔ برسوں تک فلسطینیوں کو، اخوان المسلمون کی طرح، اسرائیل سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ تصور بدل چکا ہے۔ جہاں کبھی مغربی حکمران حماس کی مذمت اور اسرائیل کو مغربی اقدار کا محافظ قرار دیتے تھے، آج غزہ میں نسل کشی کے ناقابلِ تردید شواہد دیکھ کر وہ خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اب ماضی کی نسبت حماس کے خلاف کم جارحانہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ مغرب اب اسرائیل کو سرد مہری سے جواب دے کر انتظار میں رکھتا ہے تاکہ وہ خود حقیقت کو قبول کرے۔

سفارتی محاذ پر اسرائیل کی شکست:
علاقائی حملوں کے لیے اسرائیل کو بین الاقوامی تعاون درکار ہے، اور اسی حمایت میں کمی کے باعث ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام، لبنان اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی شدت اور تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اسرائیل اب مزید اسٹریٹجک گہرائی بڑھانے کے قابل نہیں رہا۔ سفارتی محاذ پر اسرائیل واضح طور پر نقصان اٹھا رہا ہے۔ جہاں حماس مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، وہیں اسرائیلی کابینہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اسرائیل کو ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مثال کے طور پر، اب بین الاقوامی سطح پر یہ تجاویز زیر غور ہیں کہ غزہ میں دو سالہ تباہی کے ملبے کو ہٹانے کے اخراجات خود اسرائیل کو برداشت کرنے چاہئیں۔

اندرونی انتشار اور ادارہ جاتی بحران:
ایک طرف اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی کھونے کے قریب ہے، تو دوسری طرف اس کی توانائی اندرونی جھگڑوں میں ضائع ہو رہی ہے، اسرائیل کی روح اور فلسطینی سرزمین پر غیرقانونی قبضے کو مزید گہرا کرنے کے تنازعات میں۔ اسرائیلی معاشرہ اب جغرافیائی سیاست سے ہٹ کر یہودیوں کو لاحق خطرات اور اجتماعی وجود جیسے موضوعات میں الجھ چکا ہے، جبکہ عالمی رائے عامہ اور زمینی حقائق کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہدام کی واضح مثالیں:
حال ہی میں اسرائیلی فضائیہ کا ایک اسکینڈل سامنے آیا کہ مستقبل کے پائلٹس کو سخت تربیتی مرحلے کے بعد ایک خفیہ مقام پر آرام کے لیے بھیجا گیا، مگر انہوں نے ہوٹل کا مقام اہلِ خانہ کو بتا دیا اور بعض نے شراب نوشی بھی کی، یہ سب اپنے کمانڈر کی اجازت سے ہوا۔ اس پر فضائیہ کے سربراہ نے سخت انضباطی کارروائی کا اعلان کیا اور اخلاقی اقدار کی بات کی۔ یہی اصل تضاد ہے: وہ فضائیہ جو غزہ کی تباہی، شہری انفراسٹرکچر کی بمباری اور عالمی سطح پر خوف و غصے کی وجہ بنی، اب اخلاقیات کا درس دے رہی ہے، جبکہ اصل مسئلہ صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ پائلٹس نے بغیر اجازت شراب پی۔

سماجی و ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ:
سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اپنی اندرونی ہم آہنگی کھو چکا ہے، ویکسین نہ لگنے کے باعث بچے خسرہ اور فلو سے مر رہے ہیں، نوجوان فلسطینی صفائی کرنے والوں اور بس ڈرائیوروں پر حملے کر رہے ہیں، 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہری جرائم پیشہ اسرائیلی گروہوں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں، غزہ جنگ میں شریک فوجی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ اسرائیل کا عوامی ذہنی صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے، اسکولوں کی کلاسیں منسوخ ہو رہی ہیں، وزارتِ تعلیم میں 25 اعلیٰ عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں، اور تل ابیب میں عملے کی کمی کے باعث سرکاری ملازمین کو بچوں کے مراکز میں رضاکارانہ کام پر لگایا جا رہا ہے۔ 

کھوکھلا ہوتا ہوا ڈھانچہ:
عدالتی نظام بھی اسی بحران کا شکار ہے، ججوں کی کمی ہے، وزیر انصاف اور چیف جسٹس کے درمیان رابطہ منقطع ہے، اور نتن یاہو کی کابینہ میں دو وزراء بیک وقت نو اہم عہدوں پر قابض ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیل تیزی سے ایک کھوکھلے خول میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کے ادارے اندر سے ٹوٹ رہے ہیں، اور موجودہ و آئندہ نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی جو ادارہ جاتی، مالی اور ثقافتی لحاظ سے اندر سے بکھر چکا ہو گا۔
 
 
 

 صہیونی میڈیا معاریو نے اسرائیلی تجزیہ کار آوی اشکنازی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیکرز گروپ حنظلہ کی جانب سے اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے موبائل فون تک رسائی کے بعد، ایران بلاشبہ اسرائیل اور بالخصوص اس کے داخلی سلامتی کے ادارے کو ایک سخت اور مشکل صورتحال میں ڈالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

اشکنازی نے اعلان کیا کہ نفتالی بینیٹ ایک ایسی شخصیت ہیں جو شاباک کے وی آئی پی تحفظ کے یونٹ 730 کی حفاظت میں ہیں۔ اس معاملے میں شاباک کی جانب سے خود کو اس رسوائی سے دور رکھنے کی کوششیں کام نہیں آئیں گی۔ شاباک ان تمام شخصیات کے مکمل سیکیورٹی سسٹم کا ذمہ دار ہے جن کی وہ حفاظت کرتا ہے اور اس میں غفلت یا چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈیوڈ زینی کی سربراہی میں شاباک ناکام ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بینیٹ کے فون کا نہیں ہے؛ معاملہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایران مختلف طریقوں سے اسرائیل میں نفوذ کی ایک مربوط کوشش کر رہا ہے اور اسرائیلی اہداف پر حملے کے لیے سائبر اسپیس کا استعمال کر رہا ہے۔

اشکنازی کا کہنا تھا کہ اسرائیل ان تبدیلیوں کو غلط طریقے سے مینیج کر رہا ہے۔ سیکیورٹی ادارے کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔۔ آج ایرانی نفتالی بینیٹ کا فون ہیک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؛ کل وہ اسرائیل کے اسٹریٹجک سسٹم کو ہیک کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل صہیونی چینل 12 نے اعتراف کیا تھا کہ ایرانی ہیکرز نے سابق صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا فون ہیک کر لیا ہے۔ ہیکرز نے ہزاروں نجی نمبرز، تصاویر اور بینیٹ کے داخلی گروپس سے متعلق گفتگو شائع کر دی ہے۔

 ویب سائٹ میری ٹائم ایگزیکٹو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شاہد-136 کے ذریعے بڑی تعداد میں اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا پسٹن انجن والا ون وے اٹیک ڈرون ہے جسے ایرانی اور روسی افواج استعمال کر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر کے یوکرائنی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں پر داغے گئے ہیں، جن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چونکہ شاہد ڈرون اپنی جنگی صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان ہے، اس لیے امریکی بحریہ اور میرین کور نے نئے سرے سے تحقیق و ترقی کے بجائے اس مشہورِ زمانہ ایرانی ڈیزائن شدہ ڈرون کے امریکی ورژن کی جانچ شروع کر دی ہے۔

منگل کے روز، انڈیپینڈنس کلاس کے لٹورل جنگی جہاز یو ایس ایس سانٹا باربرا (LCS-32) نے اپنے ہیلی پیڈ سے شاہد-136 کی طرز کے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون کو لانچ کیا۔ اس ڈیوائس کو ڈرونز کے ایک خصوصی اسکواڈرن ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک نے تیار کر کے روانہ کیا، جسے سینٹرل کمانڈ میں نئے بغیر پائلٹ کے نظام متعارف کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اصل شاہد ڈرون کی طرح، لوکاس کو بھی مختلف پلیٹ فارمز سے کئی طریقوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ یو ایس ایس سانٹا باربرا پر استعمال کیے گئے راکٹ کی مدد سے ٹیک آف کر سکتا ہے، یا اسے گاڑی پر نصب کیٹاپلٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فضا میں پہنچنے کے بعد یہ نگرانی اور ون وے اسٹرائیک سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ مستقبل میں اس میں ہتھیاروں کی تنصیب اور ہدف کی آٹومیٹک شناخت پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال تجربے کے لیے اس میں موجود بارودی مواد غیر فعال رکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کے لیے شاہد ڈرون کی کشش اس کی سادگی اور تیاری میں آسانی ہے، یہ وہی خوبیاں ہیں جنہوں نے روسی آپریٹرز کو بھی اس کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر افسر کرنل نکولس لا نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا، ہم اسے ایسی قیمت پر چاہتے ہیں جہاں ہم تیزی سے بڑی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر سکیں۔ یہ صرف ایک مینوفیکچرر کے لیے نہیں بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے کئی مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔

لوکاس ڈیوائس کو امریکی ڈرون کمپنی اسپیکٹر ورکس نے تیار کیا ہے، جو کہ اصل ایرانی ڈیزائن کی ریورس انجینئرنگ اور چھوٹے پیمانے پر تیار کردہ نقل ہے۔ اس کی دم پر ایک فلیٹ پینل ٹرمینل کا اضافہ اسے سیٹلائٹ کمیونیکیشن لنک فراہم کرتا ہے، جس سے دشمن کے ماحول میں بھی اسے دور سے کنٹرول اور نگرانی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپیکٹر ورکس کی تیار کردہ اس ڈیوائس کی قیمت اصل ایرانی ورژن کے برابر بتائی جا رہی ہے، جو کہ چند ہزار ڈالرز کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔

 ویب سائٹ میری ٹائم ایگزیکٹو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے شاہد-136 کے ذریعے بڑی تعداد میں اور کم لاگت والے خودکش ڈرونز کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ایک چھوٹا پسٹن انجن والا ون وے اٹیک ڈرون ہے جسے ایرانی اور روسی افواج استعمال کر رہی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر کے یوکرائنی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں پر داغے گئے ہیں، جن کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چونکہ شاہد ڈرون اپنی جنگی صلاحیت ثابت کر چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر تیار کرنا آسان ہے، اس لیے امریکی بحریہ اور میرین کور نے نئے سرے سے تحقیق و ترقی کے بجائے اس مشہورِ زمانہ ایرانی ڈیزائن شدہ ڈرون کے امریکی ورژن کی جانچ شروع کر دی ہے۔

منگل کے روز، انڈیپینڈنس کلاس کے لٹورل جنگی جہاز یو ایس ایس سانٹا باربرا (LCS-32) نے اپنے ہیلی پیڈ سے شاہد-136 کی طرز کے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون کو لانچ کیا۔ اس ڈیوائس کو ڈرونز کے ایک خصوصی اسکواڈرن ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک نے تیار کر کے روانہ کیا، جسے سینٹرل کمانڈ میں نئے بغیر پائلٹ کے نظام متعارف کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اصل شاہد ڈرون کی طرح، لوکاس کو بھی مختلف پلیٹ فارمز سے کئی طریقوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ یو ایس ایس سانٹا باربرا پر استعمال کیے گئے راکٹ کی مدد سے ٹیک آف کر سکتا ہے، یا اسے گاڑی پر نصب کیٹاپلٹ سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فضا میں پہنچنے کے بعد یہ نگرانی اور ون وے اسٹرائیک سمیت مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔ مستقبل میں اس میں ہتھیاروں کی تنصیب اور ہدف کی آٹومیٹک شناخت پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال تجربے کے لیے اس میں موجود بارودی مواد غیر فعال رکھا گیا ہے۔

پینٹاگون کے لیے شاہد ڈرون کی کشش اس کی سادگی اور تیاری میں آسانی ہے، یہ وہی خوبیاں ہیں جنہوں نے روسی آپریٹرز کو بھی اس کا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر افسر کرنل نکولس لا نے اس ماہ کے شروع میں ایک بیان میں کہا، ہم اسے ایسی قیمت پر چاہتے ہیں جہاں ہم تیزی سے بڑی تعداد میں یہ ڈرون تیار کر سکیں۔ یہ صرف ایک مینوفیکچرر کے لیے نہیں بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے کئی مینوفیکچررز بڑے پیمانے پر تیار کر سکیں۔

لوکاس ڈیوائس کو امریکی ڈرون کمپنی اسپیکٹر ورکس نے تیار کیا ہے، جو کہ اصل ایرانی ڈیزائن کی ریورس انجینئرنگ اور چھوٹے پیمانے پر تیار کردہ نقل ہے۔ اس کی دم پر ایک فلیٹ پینل ٹرمینل کا اضافہ اسے سیٹلائٹ کمیونیکیشن لنک فراہم کرتا ہے، جس سے دشمن کے ماحول میں بھی اسے دور سے کنٹرول اور نگرانی کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسپیکٹر ورکس کی تیار کردہ اس ڈیوائس کی قیمت اصل ایرانی ورژن کے برابر بتائی جا رہی ہے، جو کہ چند ہزار ڈالرز کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔