سلیمانی

سلیمانی

 ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بدامنی کے دوران ہلاکتوں سے متعلق دعوے ثبوت کے ساتھ پیش کیے جائیں۔

یہ ردعمل امریکی صدر کی جانب سے ایران میں بدامنی سے متعلق ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر سوال اٹھانے کے بعد سامنے آیا۔

ایرانی حکام نے ان واقعات کو دہشت گرد کارروائیاں قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار پہلے ہی عوام کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ حکومت نے عوام کے سامنے مکمل شفافیت کے وعدے کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران پہلے ہی حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے تمام 3,117 متاثرین کی جامع فہرست جاری کر چکا ہے، جس میں تقریباً 200 قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کی اشاعت حکومت کی شفافیت اور جوابدہی کی پالیسی کا مظہر ہے۔

سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنے عوام کے ساتھ مکمل شفافیت کے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے ایران کی حکومت حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے تمام 3,117 متاثرین کی جامع فہرست پہلے ہی جاری کر چکی ہے، جن میں تقریباً 200 افسران شامل ہیں۔ اگر کوئی ہمارے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھاتا ہے تو براہ کرم اپنے شواہد پیش کرے۔

Saturday, 21 February 2026 07:06

حقیقتِ روزہ، ترک یا حصول

عربی زبان میں صوم یا صیام کا معنی امساکِ فعل ہے، یعنی کسی کام کو ترک کرنا، اس سے رک جانا اور اسے انجام نہ دینا۔ گویا صوم کی بنیاد رکنے اور باز رہنے پر ہے۔ قرآن مجید میں حضرت مریمؑ کے حوالے سے ارشاد ہوتا ہے: "فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا" (سورہ مریم: 26) یہاں صوم سے مراد خاموشی ہے، یعنی کلام کو ترک کرنا اور باتوں سے اجتناب کرنا، نہ کہ محض بھوکا رہنا۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صوم کا اصل معنی رکنا (Abstention) ہے، نہ کہ صرف کھانے پینے سے اجتناب کرنا۔ کھانے، پینے اور خواہشات سے اجتناب بھی دراصل اسی اصل مفہوم کے مختلف مظاہر ہیں۔ اسی بنا پر شرعی روزہ بھی حقیقت میں رکنے اور اجتناب کی ایک عملی مشق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا روزہ صرف ترک کا نام ہے۔؟

اگرچہ ظاہری طور پر صوم ترک ہے، لیکن حقیقت میں صوم حصول ہے۔ روزہ میں انسان ترک کرتا ہے:
غذا کو
خواہش کو
لذت کو
لیکن اسی ترک کے نتیجے میں وہ حاصل کرتا ہے:
ارادہ کی قوت
تقویٰ کی کیفیت
روحانی بالیدگی
اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" (سورہ البقرہ: 183) یعنی روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔

درحقیقت روزہ انسان کو خدا کی صفت الصمد کا جزوی مظہر بناتا ہے اور اسے بے نیازی کی مشق سکھاتا ہے۔ انسان، جو ہمیشہ اپنی خواہشات کا محتاج نظر آتا ہے، روزے کے ذریعے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خواہشات کا غلام نہیں بلکہ ان پر حاکم بن سکتا ہے۔ پس صوم حقیقت میں بھوک کا نام نہیں بلکہ خواہش سے آزادی کا نام ہے۔ یہ ترک کے پردے میں حصول کا سفر ہے۔۔۔ ایسا سفر جس میں انسان حیوانیت کو ترک کرکے انسانیت تک پہنچتا ہے اور اپنی کمزوری سے نکل کر اپنے ارادہ کی قوت کو پا لیتا ہے۔

تحریر: ساجد علی گوندل

Wednesday, 18 February 2026 04:16

ماہ رمضان کے فضائل و اعمال

شیخ صدوقرحمه‌الله نے معتبر سند کیساتھ امام علی رضا -سے اور حضرت نے اپنے آبائ طاہرین + کے واسطے سے امیرالمومنین -سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک روز رسول اللہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے۔ جس میںگناہ معاف ہوتے ہیں۔ یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے۔ جس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوںسے بہتر، جس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر اور جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حق تعالیٰ نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا ہے اور اس مہینے میںخدا نے تمہیں بزرگی والے لوگوںمیں قرار دیا ہے کہ اس میں سانس لینا تمہاری تسبیح اور تمہارا سونا عبادت کا درجہ پاتا ہے۔ اس میں تمہارے اعمال قبول کیے جاتے اور دعائیںمنظور کی جاتی ہیں۔
پس تم اچھی نیت اور بری باتوں سے دلوں کے پاک کرنے کے ساتھ اس ماہ میںخدا ئے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ تم کو اس ماہ کے روزے رکھنے اور اس میں تلاوتِ قرآن کرنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ جو شخص اس بڑائی والے مہینے میں خدا کی طرف سے بخشش سے محروم رہ گیا وہ بدبخت اور بدانجام ہوگا اس مہینے کی بھوک پیاس میں قیامت والی بھوک پیاس کا تصور کرو، اپنے فقیروں اور مسکینوںکو صدقہ دو، بوڑھوںکی تعظیم کرو، چھوٹوں پر رحم کرواور رشتہ داروںکے ساتھ نرمی و مہربانی کرو اپنی زبانوں کو ان باتوں سے بچاؤ کہ جو نہ کہنی چاہئیں، جن چیزوں کا دیکھنا حلال نہیں ان سے اپنی نگاہوں کو بچائے رکھو، جن چیزوں کا سننا تمہارے لیے روا نہیں ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو، دوسرے لوگوں کے یتیم بچوں پر رحم کرو تا کہ تمہارے بعد لوگ تمہارے یتیم بچوں پر رحم کریں ،اپنے گناہوں سے توبہ کرو، خدا کی طرف رخ کرو، نمازوں کے بعد اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھاؤ کہ یہ بہترین اوقات ہیںجن میں حق تعالیٰ اپنے بندوںکی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جو بندے اس وقت اس سے مناجات کرتے ہیں وہ انکو جواب دیتا ہے اور جو بندے اسے پکارتے ہیں ان کی پکار پر لبیک کہتا ہے اے لوگو! اس میں شک نہیں کہ تمہاری جانیںگروی پڑی ہیں۔ تم خدا سے مغفرت طلب کرکے ان کو چھڑانے کی کوشش کرو۔ تمہاری کمریں گناہوںکے بوجھ سے دبی ہوئی ہیں تم زیادہ سجدے کرکے ان کا بوجھ ہلکا کرو کیونکہ خدا نے اپنی عزت و عظمت کی قسم کھارکھی ہے کہ ا س مہینے میں نمازیںپڑھنے اور سجدے کرنے والوںکو عذاب نہ دے اور قیامت میںان کو جہنم کی آگ کا خوف نہ دلائے اے لوگو! جو شخص اس ماہ میںکسی مؤمن کا روزہ افطار کرائے تو اسے گناہوںکی بخشش اور ایک غلام کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔
آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میںسے بعض نے عرض کی یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ! ہم سب تو اس عمل کی توفیق نہیں رکھتے تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ تم افطار میں آدھی کھجور یا ایک گھونٹ شربت دے کر بھی خود کو آتشِ جہنم سے بچا سکتے ہو۔ کیونکہ حق تعالیٰ اس کو بھی پورا اجر دے گا جو اس سے کچھ زیادہ دینے کی توفیق نہ رکھتا ہو۔ اے لوگو! جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق درست کرے تو حق تعالیٰ قیامت میں اس کو پل صراط پر سے با آسانی گزاردے گا۔ جب کہ لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے۔ جو شخص اس مہینے میںاپنے غلام اور لونڈی سے تھوڑی خدمت لے تو قیامت میں خدا اس کا حساب سہولت کے ساتھ لے گا اور جو شخص اس مہینے میں کسی یتیم کو عزت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے تو قیامت میں خدا اس کو احترام کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں سے نیکی اور اچھائی کا برتاؤ کرے تو حق تعالیٰ قیامت میںاس کو اپنی رحمت کے ساتھ ملائے رکھے گا اور جو کوئی اپنے قریبی عزیزوںسے بدسلوکی کرے تو خدا روز قیامت اسے اپنے سایہ رحمت سے محروم رکھے گا۔ جوشخص اس مہینے میںسنتی نمازیں بجا لائے تو خدا ئے تعالیٰ قیامت کے دن اسے دوزخ سے برائت نامہ عطا کرے گا۔ اور جو شخص اس ماہ میں اپنی واجب نمازیں ادا کرے توحق تعالیٰ اس کے اعمال کا پلڑا بھاری کردے گا۔ جبکہ دوسرے لوگوںکے پلڑے ہلکے ہوںگے۔ جو شخص اس مہینے میں قرآن پاک کی ایک آیت پڑھے تو خداوند کریم اس کے لیے کسی اور مہینے میں ختم قرآن کا ثواب لکھے گا، اے لوگو! بے شک اس ماہ میںجنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ انہیںتم پر بند نہ کرے۔ دوزخ کے دروازے اس مہینے میں بند ہیں۔ پس خدائے تعالیٰ سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر نہ کھولے اور شیطانوں کو اس مہینے میںزنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ پس خدا سے سوال کرو کہ وہ انہیںتم پر مسلط نہ ہونے دے الخ
شیخ صدوقرحمه‌الله نے روایت کی ہے کہ جب ماہِ رمضان داخل ہوتا تو رسول اللہ تمام غلاموں کو آزاد فرمادیتے اسیروں کو رہا کردیتے اور ہر سوالی کو عطا فرماتے تھے۔
مؤلف کہتے ہیں کہ رمضان مبارک خدائے تعالیٰ کا مہینہ ہے اور یہ سارے مہینوں سے افضل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میںآسمان جنت اور رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیںاور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میںایک رات ایسی بھی ہے، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ پس اے انسانو! تمہیں سوچنا چاہیئے کہ تم اس مہینے کے رات دن کس طرح گزارتے ہو اور اپنے اعضائے بدن کو خدا کی نافرمانی سے کیونکر بچاسکتے ہو، خبردار کوئی شخص اس مہینے کی راتوں میںسوتا نہ رہے اور اس کے دنوںمیں حق تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ رہے کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ماہِ رمضان میں دن کا روزہ افطار کرنے کے وقت اللہ تعالیٰ ایک لاکھ انسانوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن ہر گھڑی میںخدائے تعالیٰ ایسے ہزاروں انسانوں کو آتشِ دوزخ سے رہائی بخشتا ہے جو دوزخی بن چکے ہوتے ہیں۔نیز اس مہینے کی آخری رات اور دن میںحق تعالیٰ اپنے اتنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے جتنے کہ پورے رمضان میں آزاد کرچکا ہے۔ پس اے عزیزو! توجہ کرو کہ مبادا یہ مبارک مہینہ تمام ہوجائے اور تمہاری گردن پر گناہوں کا بوجھ باقی رہ جائے اور جب روزہ دار اپنے روزوں کا اجر پارہے ہوں تو تم ان لوگوںمیںگنے جاؤ جن کو محروم کیا جارہا ہو۔ تمہیںتلاوتِ قرآن کرکے افضل وقت میںنمازیں بجا لاکر دیگر عبادتوں میں سعی کرکے اور توبہ واستغفار کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہیئے، کیونکہ امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ جو شخص اس بابرکت مہینے میں نہیںبخشا گیا تو وہ آیندہ رمضان تک نہیںبخشا جائیگا سوائے اس کے کہ وہ عرفہ میں حاضر ہوجائے۔ پس تمہیں ان چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیئے جن کو خدائے تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ یعنی حرام چیزوں سے روزہ افطار نہیںکرناچاہیئے، اور تمہیں اس طرح رہنا چاہیئے جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام نے وصیت فرمائی ہے کہ جب تم روزہ رکھو تو تمہارے کانوں آنکھوں بدن کے رونگٹوںاور جلد اور دوسرے سب اعضائ کو بھی روزہ دار ہونا چاہیئے یعنی ان کو حرام بلکہ مکروہ چیزوں اور کاموں سے بچائے رکھو۔ نیز فرمایا کہ تمہارا روزہ دار ہونے کادن اس طرح کا نہ ہو جیسے تمہارا روزہ دار نہ ہونے کا دن تھا۔پھر فرمایا کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک ہی نہیں۔ بلکہ حالتِ روزہ میں اپنی زبانوں کو جھوٹ سے اور آنکھوں کو حرام سے دور رکھو۔ روزے کی حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرو، کسی سے حسد نہ رکھو۔ کسی کا گلہ شکوہ نہ کرو اور جھوٹی قسم نہ کھاؤ۔ بلکہ سچی قسم سے بھی پرہیز کرو، گالیاںنہ دو، ظلم نہ کرو، جہالت کا رویہ نہ اپناؤ۔ بیزاری ظاہر نہ کرو اور یاد خدا اور نماز سے غفلت نہ برتو ۔ ہر وہ بات جو نہ کہنی چاہیئے۔ اس سے خاموشی اختیار کرو ، صبر سے کام لو ، سچی بات کہو برے آدمیوں سے الگ رہو بری باتوں، جھوٹ بولنے، بہتان لگانے، لوگوں سے جھگڑنے ، گلہ کرنے اور چغلی کھانے جیسی سب چیزوں سے پرہیز کرو ۔ اپنے آپ کو آخرت کے قریب جانو ۔ حضرت قائم آلِ محمدعليه‌السلام کے ظہور کے انتظار میں رہو، آخرت کے ثواب کی امید رکھو، آخرت کیلئے اچھے اعمال کا ذخیرہ تیار کرو۔ تمہیں خدا کے خوف میں اس طرح عاجز وخوار رہنا چاہیئے، جیسے وہ غلام کہ جو اپنے آقا سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل رکا ہوا اور جسم سہما ہوا ہوتا ہے۔ خدا کے عذاب سے ڈرو اور اس کی رحمت کی امید رکھو۔ اے روزہ دارو! تمہارے دل عیبوں سے تمہارے باطن مکر و فریب سے اور تمہارے بدن آلودگیوں سے پاک ہونے چاہیے۔ ﷲ کے سوا دوسرے خداؤں سے بیزاری اختیار کرو اور روزے کی حالت میں اپنی محبت و نصرت کو ﷲ کیلئے خالص کرو۔ ہر وہ چیز ترک کردو جس سے خدا نے ظاہر و باطن میں روکا ہے خدا وند قہار سے ظاہر و باطن میں ایسا خوف رکھو جو خوف رکھنے کا حق ہے اور روزے کی حالت میں اپنا بدن اور روح خدا کے حوالے کردو اور اپنے دل کو صرف اس کی محبت اور یاد کیلئے یکسو کر لو اور اپنے جسم کو ہر اس چیز کیلئے فرمان بردار بناؤ جس کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ اگر تم ان سب چیزوں پر عمل کر لو جو روزے کیلئے مناسب ہیں توپھر تم نے خدا کی فرمائشوں پر عمل کیا ہے اور جن چیزوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے اگر ان میں سے کچھ کم کر دوگے تو تمہارے ثواب اور فضیلت میں کمی آجائے گی ۔ بے شک میرے والد بزرگوار نے فرمایاکہ:رسول ﷲ نے سنا کہ ایک عورت بحالت روزہ اپنی کنیز کو گالیاں دے رہی ہے تو حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کھانا منگوایا اور اس عورت سے کہا کہ یہ کھانا کھا لو ۔ اس نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ یہ کس طرح کا روزہ ہے جبکہ تونے اپنی کنیز کو گالیاں دی ہیں ۔ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے ہی کا نام نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے تو روزے کو تمام قبیح کاموں یعنی بد کرداری و بد گفتاری وغیرہ سے محفوظ قرار دیا ہے پس اصل و حقیقی روزے دار بہت کم اور بھوکے پیاسے رہنے والے بہت زیادہ ہیں امیر المؤمنین -نے فرمایا کہ کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ جن کے لئے اس میں بھوکا پیاسا رہنے کے سوا کچھ نہیں اور کتنے ہی عبادت گزار ہیں کہ جن کا حصہ ان میں سوائے بدن کی زحمت اور تھکن کے کچھ نہیں ہے ۔ کیا کہنا اس عقل مند کی ننید کا جو جاہل کی بیداری سے بہتر ہے اور کیا کہنا اس صاحب فراست کا جس کا روزے سے نہ ہونا روزداروں سے بہتر ہے جابر بن یزید نے امام محمد باقر -سے روایت کی ہے کہ رسول ﷲ نے جابر ابن عبد ﷲ(رض) سے فرمایا: اے جابر! یہ رمضان مبارک کا مہینہ ہے ، جو شخص اس کے دنوں میں روزہ رکھے اور اس کی راتوں کے کچھ حصے میں عبادت کرے۔ اپنے شکم اور شرمگاہ کو حرام سے بچائے رکھے اپنی زبان کو روکے رکھے تو وہ شخص گناہوں سے اس طرح باہر آئے گا جیسے یہ مہینہ جلدی ختم ہو گیا ہے ۔ جناب جابر (رض) نے عرض کی یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ﷲ! آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بہت اچھی حدیث فرمائی ہے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا وہ شرطیں کتنی سخت ہیں جو میں نے روزے کیلئے بیان کی ہیں ۔ مختصر یہ کہ اس ماہ مبارک کے اعمال دو مطالب اور ایک خاتمہ میں ذکر کیئے جائیں گے ۔

(ماخوذ از مفاتیح الجنان)

مجتہدین کے فتاوی کے مطابق روزےکی نیت پورے مہینہ کا ایک ہی دن کیا جاسکتا ہے لیکن   افضل ہے کہ ہر روز سحری کے وقت نیت کی جائے اور رات کے کسی بھی وقت روزہ کی نیت کرنا جائز ہے،
اور کافی ہےکہ نیت اس طرح کی جائے کہ پروردگار کی خشنودی کےارادہ سے مفطرات روزہ(روزہ توڑنے والی چیزوں) سے پرہیز کرے،  اور(نماز تہجد)نماز شب کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہ کرے۔

عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اسرائیلی فوج کو درپیش ایک نئے بحران سے پردہ اٹھاتے ہوئے فوج میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد سے متعلق تفصیلی اور سرکاری اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کے 50 ہزار 632 اہلکار ایسے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے ساتھ ساتھ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں سے 12 ہزار 135 اہلکار امریکی، 6 ہزار 100 فرانسیسی اور 5 ہزار سے زائد روسی شہریت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی، یوکرین، برطانیہ، کینیڈا اور لاطینی امریکا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں اہلکار بھی فوج میں شامل ہیں، جبکہ محدود تعداد میں بعض عرب ممالک کی شہریت رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ مزید یہ کہ 4 ہزار 440 اہلکار دو غیر ملکی شہریتوں کے حامل ہیں اور تقریباً 162 افراد کے پاس تین یا اس سے زائد شہریتیں ہیں۔

فوجی امور کے ماہر نضال ابو زید نے الجزیرہ میں اپنے تجزیے میں کہا کہ یہ اعداد و شمار اسرائیلی فوج کی صفوں میں شدید کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے باعث اسے دوہری شہریت رکھنے والے فوجیوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقل اہلکاروں میں ان کی شرح تقریباً ایک تہائی تک پہنچ چکی ہے، جو فوج میں وفاداری کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔

ابو زید کے مطابق اسرائیلی فوج بنیادی طور پر اپنے ریزرو اور مستقل اہلکاروں پر انحصار کرتی ہے، تاہم یہ اعداد و شمار انسانی وسائل کی محدود صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے باعث فوج کو دوہری شہریت رکھنے والوں کو بھرتی کرنا پڑ رہا ہے اور وہ وسیع زمینی کارروائیوں کے بجائے گوریلا طرز کی حکمت عملی، محدود آپریشنز، ڈرونز اور خصوصی دستوں کے استعمال پر زور دے رہی ہے۔

ماہر نے مزید کہا کہ ان سرکاری اعداد و شمار کی اشاعت دراصل اسرائیلی فوج کی کمزوری کا اعتراف ہے، کیونکہ ماضی میں ایسی معلومات شائع کرنے پر پابندی تھی۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں دوہری شہریت رکھنے والے اہلکاروں اور حتیٰ کہ مقامی مسلح گروہوں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج وسیع زمینی کارروائیوں کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتی، جو موجودہ اور آئندہ آپریشنز میں کمانڈرز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔


ایران اور امریکہ کی کشیدگی تا حال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دبائو بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہار انہوں نے گذشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔ اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکہ اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا۔؟ اگر امریکہ ایران پر حملہ بھی کر لے تو کیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکہ کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلہ میں امریکہ کو متعدد نقصانات ہوں گے۔؟ اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکہ کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لئے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟ اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکہ نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکہ اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیشکشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کر دیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔

کروک کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اور کنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی، تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔ تاہم تہران نے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔ یہ مؤقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے، جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔ کروک نے اپنے مقالہ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی۔ مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔

اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انہیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔ یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کر ریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کرسکتا ہے۔ اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ امریکہ، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے، جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہوچکا ہے۔ افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔ ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔

دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کشیدگی میں اس وقت امریکہ جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جو کچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے، جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔

دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے، اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔ خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگر کوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ برطانوی مؤرخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں غلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں امریکہ کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بڑی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکہ کو اٹھانا ہوگا۔ آج امریکہ اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا ردعمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔ یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہر کارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک پیغام ہے۔ یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لئے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی، یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔؟ بہر صورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں نہیں رہے گا۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان


برطانوی تجزیہ کار نے امریکی بحری بیڑے کے خلاف ایرانی میزائل نظام کو ایک بڑے  خطرے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ سابق برطانوی سفارت کار نے ایران کی میزائل، دفاعی اور بحری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکی بحری بیڑے کے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری دفاعی طاقت نہیں ہے۔ ججنگ فریڈم پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور ریٹائرڈ برطانوی سفارت کار نے امریکی بحری بیڑے کے ایران کی فائرنگ رینج سے دور ہونے کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ الیسٹر کروک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کو خطرے سے باہر نکلنے کے لیے ایران کی ساحلی پٹی سے مزید دور جانے پر مجبور کیا گیا ہے، کیونکہ یہ (بحری بیڑہ) کافی فضائی دفاعی میزائلوں سے لیس نہیں ہے۔ اس طرح کے ہر ڈسٹرائر کے پاس تقریباً 50 سے 100 میزائل ہوتے ہیں، لیکن آپ ایک وقت میں صرف دو یا تین میزائل استعمال کرسکتے ہیں۔"

تجزیہ کار نے مزید کہا کہ "اگر ڈرونز کے ایک غول، مثال کے طور پر 300 ایرانی ڈرونز بیک وقت فائر کئے جاتے ہیں تو انہیں امریکی بحری بیڑے کو اپنے تقریباً تمام فضائی دفاع کو استعمال کرنا پڑے گا، جس سے وہ دفاعی حوالے سے کمزور ہو جائے گا۔ الیسٹر نے مزید کہا البتہ یہ صرف زمینی حملوں کا معاملہ نہیں ہے اور یہ کہ "ایران کے پاس ایک آبدوز کا بیڑا ہے، جو 25 سے 30 چھوٹی آبدوزوں سے لیس ہے، جن میں سے ہر ایک اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ تیز رفتار کشتیاں بھی ہیں، جن کو نشانہ بنانا مشکل ہے اور وہ اینٹی شپ میزائلوں سے بھی لیس ہیں۔ برطانوی ماہر کے مطابق "لہذا یہ پورا بحری بیڑہ مکمل طور پر ایرانی فائر رینج میں ہے۔اسی طرح العدید اور امریکہ کے دیگر اڈے بھی ایران کی میزائل رینج میں ہیں۔

حالیہ مہینوں میں، امریکی فوج نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی مہم جوئی کا خطے میں فیصلہ کن ایرانی جواب دیا جائے گا۔ اسی تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں، اگرچہ یہ بحری بیڑہ خطرناک ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک ہمارے وہ ہتھیار ہیں، جو ان کو سمندر میں غرق کر دیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سترہ فروری انیس سو اناسی میں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے عوام کے قیام کی سالگرہ کی مناسبت سے مختلف طبقات سے خطاب کیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں فرمایا کہ امریکہ کے صدر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے، لیکن دنیا کی سب سے مضبوط فوج بھی کبھی ایسا تھپڑ کھا سکتی ہے کہ دوبارہ کھڑی نہ ہوسکے۔ وہ مسلسل کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑے بھیجے ہیں۔ ٹھیک ہے، بحری بیڑا یقیناً ایک خطرناک چیز ہے، لیکن اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے، جو اس جہاز کو سمندر کی تہہ میں غرق کرسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی صدر نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ سینتالیس برس سے امریکہ، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کرسکا اور اس بات کی شکایت انہوں نے اپنے عوام سے کی۔ سینتالیس برس سے اسلامی جمہوریہ کو ختم نہ کرسکنے کا ٹرمپ یہ اعتراف ایک اہم اعتراف ہے اور میں کہتا ہوں کہ تم بھی یہ کام نہیں کرسکو گے۔

تحریر: محمد رضا جعفری

ڈیرہ اسماعیل خان قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر سانحہ ترلائی اسلام آباد کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر کی قیادت میں بعد از نماز جمعہ کوٹلی امام حسین ڈیرہ سے سانحہ ترلائی اسلام اباد کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔احتجاجی ریلی میں کثیر تعداد میں نماز جمعہ کے شرکاء نے شرکت کی۔

دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے: علامہ محمد رمضان توقیر

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ اسلام اباد ترلائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ترلائی انتہائی دلخراش واقعہ تھا جس نے پورے ملک کی فضا سوگوار کر دیا ہے اس سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔مسجد میں دھماکہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ان کا اسلام اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے شروع دن سے موقف رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ الہ کار ہیں اور کرائے کے لوگ ہیں۔اسلام اباد سانحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر وطن عزیز میں دہشت گردانہ کاروائی میں مصروف عمل ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے ان کی سرکوبی کے لیے سست روی کا شکار ہیں ائے روز ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔

دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے: علامہ محمد رمضان توقیر

علامہ محمد رمضان توقیر نے چند دن پہلے ڈیرہ میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص پولیس پارٹی پر ہونے والی دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا دہشت گرد عناصر وطن عزیز کے امن کی فضا کو دن بدن خراب کر رہے ہیں۔

دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے: علامہ محمد رمضان توقیر

پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی یہ قربانی ڈیرہ کے عمل کے لیے کافی موثر ثابت ہوگی۔ مقتدر سیکیورٹی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان دہشت گرد عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درامد کرتے ہوئے بے رحمانہ کاروائیوں کی جائیں تاکہ وطن عزیز میں امن قائم ہو۔

دہشت گرد عناصر کا کوئی مذہب نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے: علامہ محمد رمضان توقیر

 

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ برسوں قبل ہم نے ایک غلط رویہ برکس ارکان کی جانب اپنایا جس کے نتیجے میں ہم ان سے دور ہوگئے۔

یوہان واڈیفول نے دعوی کیا کہ روس اور چین سے اختلافات کے برخلاف  ہندوستان اور برازیل سے مشترکات بہت ہیں جس پر مرکوز ہونے کی ضرورت ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپ اور جرمنی اب اس نئی نگاہ کو نافذ کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ برکس تنظیم کی معیشت دنیا کی 40 فیصد معیشت پر مشتمل ہے جبکہ جرمنی کی معیشت سن 2000 سے تنزلی کا شکار ہوگئی ہے اور گزشتہ 5 سال کے دوران کی اس رفتار میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یورپ بالخصوص جرمنی کی کمزور پڑتی معیشت انہیں اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرے گی۔



اقدار، اخلاق، انسان دوستی،خواتین کے حقوق کے دعویدار مغرب بالخصوص امریکہ میں ایپسٹین کیس نے قانون اور مساوات کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ایپسٹین کے ساتھ اپنے دیرینہ اور قریبی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔ جو ماضی میں کئی بار جھوٹ بول چکا ہے اور اب اعتراف کر چکا ہے، وہ اب بھی وائٹ ہاؤس کے ذریعے محفوظ ہے اور اپنے عہدے پر برقرار ہے۔ اب، ایپسٹین کیس، جو برسوں سے زیر بحث ہے، اب کوئی سادہ سکینڈل یا مجرمانہ کیس نہیں رہا، بلکہ ایک تیز دھار چاقو بن گیا ہے جس نے امریکی معاشرے میں قانونی بدعنوانی کے پردے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ چونکا دینے والی تفصیلات سے بھرے اس کیس نے امریکہ میں چھپے مراعات یافتہ طبقوں کے نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے اور "قانون کی مکمل حکمرانی" اور "قانون کے سامنے مساوات" کے پرانے افسانوں کو رسوا کر دیا ہے، جن کا امریکہ ہمیشہ دعویٰ کرتا رہا ہے۔

اس کیس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جسے "قانون کی حکمرانی" کہتا ہے وہ دراصل "دولت کی حکمرانی" اور "طاقت کی حکمرانی" ہے۔ 2008 میں، میامی فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر اور ایپسٹین کے وکلاء کے درمیان 11 گھنٹے کی بات چیت کے بعد، ایک درخواست کا معاہدہ طے پا گیا جس نے ایپسٹین کو استغاثہ سے استثنیٰ دیا تھا۔ یہ فیصلہ اعلیٰ وفاقی پراسیکیوٹرز نے متاثرین کے علم میں لائے بغیر خفیہ مذاکرات میں کیا۔ یہ نظام میں کوئی بے ترتیب واقعہ نہیں تھا، بلکہ امریکہ میں چھپے ہوئے نظام کے کام کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ اگر کوئی جنسی مجرم اپنے جرم کے حتمی ثبوت کے ساتھ اپنی دولت اور وکلاء کی اپنی ٹیم پر بھروسہ کر کے بند دروازوں کے پیچھے نظام انصاف کے ساتھ گفت و شنید کر سکتا ہے اور سخت سزا سے بچ سکتا ہے، تو "عدالتی انصاف" ایک خالی نعرہ بن جاتا ہے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ میں دو متوازی انصاف کے نظام ہیں، ایک عام لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے، اور دوسرا ایک خاص طبقے کی خدمت کے لیے جو ان کے خلاف قانونی سزا کے خلاف "فائر وال" بنانے کے لیے بہت زیادہ فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایپسٹین نے "نیٹ ورک" بنایا۔ اس نے جو نیٹ ورک تشکیل دیا اس میں سیاسی، مالیاتی، سائنسی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں بہت سی شخصیات شامل تھیں۔ یہ اب مساوی افراد کے درمیان ایک سادہ سماجی کاری نہیں ہے، بلکہ امریکی اشرافیہ کے اندر مفادات کے تبادلے اور باہمی تعاون کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی یونیورسٹیوں کو خاموش رہنے اور معلومات کو روکنے کے لیے بڑی رقم ادا کرنا، مشترکہ مفادات کا خفیہ معاشرہ بنانے کے لیے نجی جزیرے پر خصوصی تفریح ​​کا استعمال، یہ سب اخلاقیات اور سماجی انصاف کی ایک منظم بدعنوانی کی خصوصیات ہیں۔ ایپسٹین کے جرائم کے سامنے آنے کے بعد بھی بہت سی معروف شخصیات کا اس سے مسلسل تعلق اور اسکینڈل کے بعد اجتماعی خاموشی اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ طاقتور اور دولت مندوں کے حلقوں میں گروہی وفا داری اور مشترکہ مفادات کو برقرار رکھنا سچائی اور سماجی انصاف کے تحفظ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

جیل میں ایپسٹین کی پراسرار موت، اس کے سخت نگرانی کے اقدامات اور "اہم دستاویزات" کے غائب ہونے اور اس کی موت سے متعلق دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے عوامی اعتماد کو ایک مہلک دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے ایک ہنر مندانہ طریقہ کار کا پتہ چلتا ہے کہ جب بھی نظام کے بنیادی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، سچائی کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، یہاں تک کہ یہ ’’بادشاہ کو بچانے کے لیے ایک سپاہی کی قربانی‘‘ کے تلخ مرحلے پر ہی کیوں نہ آئے۔ ظاہر ہے اس میں زیادہ قیمت مظلوموں کے حقوق اور انصاف کی ہے۔ ایپسٹین کیس اب صرف ایک فرد کی برائی کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ایک کھڑکی بن گیا ہے کہ کس طرح سرمایہ اور طاقت، اور ریاستہائے متحدہ میں نام نہاد "غیر قانونی اشرافیہ" آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس ملک میں جب دولت کا ذخیرہ ایک خاص سطح پر پہنچ جاتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ ایک ذاتی ڈومین عام قانون اور عوامی اخلاقیات کی پابندیوں سے تقریباً آزاد ہو۔ اس کے ساتھ ہی، جیفری ایپسٹین کے ہولناک کیس نے انسانی حقوق کی تعلیم کی دنیا کے حامیوں کے منہ پر سخت طمانچہ مارا ہے۔ جو ملک خود سکینڈلز اور قانونی بدعنوانی سے بھرا ہوا ہو اسے کیا حق ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی حالت اور قانون کی حکمرانی پر تبصرہ کرے؟ ایپسٹین کیس ایک آئینے کی طرح ہے جو امریکہ کی ادارہ جاتی بدعنوانی اور "قانون کی حکمرانی" کے پیچھے کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام ٹائمز: