سلیمانی

سلیمانی

غاصب صیہونی فوج کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حکومت، حزب اللہ کے حملوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔

   غاصب صیہونی فوج کے ترجمان نے یہ اعتراف ایسی حالت میں کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر جنگ نے جنوبی لبنان کے علی الطاہر نامی پہاڑی علاقے پر تسلط کا مبہم دعویٰ کیا ہے۔  

لبنان کے المیادین ٹی وی نے غاصب صیہونی حکومت کے وزیر جنگ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے، اس کو تل ابیب کی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔  

 اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے  ایک فوجی تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ آج کی جنگ ارادوں کی جنگ ہے۔  

انھوں نے کہا کہ آج سختیوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے اور ارادوں کی جنگ ہے اور اس جنگ میں ہم کامیاب ہیں۔

 ایڈمیرل سیاری نے کہا کہ آج ہم اس کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے ہیں جس کے پاس پوری دنیا کے وسائل اور ٹیکنالوجی موجود ہے بنابریں ہمارا سر فخر سے اوںچا رہنا چاہئے کہ ہم ایسے دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔

انھوں نے اپنے اہداف میں دشمن کی ناکامی کو ایران کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ ہم نے حالیہ جنگوں میں بہت کامیابی کے ساتھ اپنا کام کیا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دشمن ان جنگوں میں اپنے اہداف حاصل نہ کرسکا۔  

 مجتبیٰ قہرمانی نے ہفتے کے روز امریکی فورسز کے حملے کا نشانہ بننے والے رہائشی مکان کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی تحقیقات کے مطابق استعمال کیا گیا یہ ہتھیار درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا گائیڈڈ ہتھیار تھا۔تحقیقات، جائے وقوعہ سے ملنے والے ٹکڑوں کے تجزیے اور باقی ماندہ میزائل کے حصوں پر درج تحریروں، بارکوڈز اور انتباہی علامات کے باریک جائزے سے استعمال کیے گئے ہتھیار کی نوعیت کو واضح طور پر اور ناقابلِ تردید انداز میں متعین کر لیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اس کا تعلق امریکی فوج سے ہے۔

صوبۂ ہرمزگان کے چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ حملے میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور ہتھیاروں میں موجود تھرمل بیٹری (Thermal Battery) کی نوعیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دریافت ہونے والا سلنڈر نما حصہ ایک ہائی وولٹیج تھرمل بیٹری کا ہے، جو خصوصی طور پر امریکہ کے تیار کردہ میزائلوں اور درست رہنمائی والے ظالم امریکی بموں کے پروازی رہنمائی کے نظام میں استعمال ہوتی ہے۔

قہرمانی نے مزید کہا کہ ملنے والا ایک اور اہم حصہ گائیڈنس اور فلائٹ الیکٹرانکس ماڈیول (Avionics Unit) ہے، جو اس کاروائی میں استعمال ہونے والے ہتھیار کا حصہ تھا۔ یہ ایک محفوظ دھاتی ڈبہ ہے جس میں ہتھیار کے راستے کی پروسیسنگ اور اس کے کنٹرول کے لیے الیکٹرانک سرکٹ بورڈز موجود تھے، جبکہ اس پر بین الاقوامی الیکٹرو اسٹیٹک ڈسچارج (ESD) سے متعلق انتباہی لیبل بھی واضح طور پر موجود ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان تمام شواہد اور فنی دستاویزات کو باقاعدہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے، جبکہ اس جنگی جرم کے احکامات دینے والوں، اس کے مرتکب افراد اور استعمال کیے گئے ہتھیار فراہم کرنے والوں کے خلاف اندرونِ ملک متعلقہ عدالتوں اور بین الاقوامی قانونی اداروں میں کاروائی کے لیے ایک جامع قانونی مقدمہ تیار کیا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ عدلیہ اس معاملے کو مجرموں کو مکمل اور مؤثر سزا ملنے تک سنجیدگی اور سختی سے آگے بڑھائے گی۔

قہرمانی کے مطابق، شہریوں کے اجتماعات اور روایتی شادی کی تقریبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے لازمی قواعد اور جنیوا کے چاروں کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور ہتھیاروں کے ٹکڑے استعمال کیے گئے اسلحے اور اس جارحانہ اقدام کے عسکری معاونین کی حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔

 

صوبۂ ہرمزگان کے چیف جسٹس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعے کے مختلف پہلوؤں کا فیلڈ معائنہ کیا، شہداء اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا اور شواہد کی مکمل دستاویز بندی، ثبوتوں کو محفوظ کرنے اور معاملے کی قانونی و عدالتی تحقیق کے لیے ضروری احکامات جاری کیے۔

 

واضح رہے یکم ستمبر کو امریکی فورسز نے ہرمزگان کے بندرگاہی شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کے مقام پر حملہ کیا تھا کہ جس میں اب تک پانچ افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ شادی میں شریک تقریباً 70 افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

 ایران نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی مداخلت کے حوالے سے جنوبی کوریا کو سخت خبردار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایک اعلی ایرانی سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران جنوبی کوریا کو خبردار کرتا ہے کہ وہ واشنگٹن کے دباؤ میں آکر امریکی فوج کی غیر قانونی کارروائیوں میں تعاون پر مجبور نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ سیول کو امریکی دشمنانہ پالیسیوں کی خاطر اپنے مفادات اور خطے میں اپنی حیثیت کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا اچھی طرح جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ عدم تحفظ کی بنیادی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت ہے، اس لیے اسے اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف جنوبی کوریا کی کسی بھی قسم کی شرکت کو تہران ایران کے خلاف براہ راست فوجی حملے میں شرکت تصور کرے گا۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران اپنے عوام کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی ملی بھگت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق جب تک ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی مداخلت، دشمنانہ محاصرہ اور معاشی جنگ جاری رہے گی، خطے میں حقیقی امن و سلامتی بحال نہیں ہوسکتی۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ایک روز قبل دعوی کیا تھا کہ حکومت آبنائے ہرمز کے معاملے پر مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کو اب اپنی صلاحیتوں اور امریکی فوجی طاقت کی محدودیتوں کا پہلے سے زیادہ اندازہ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ امریکہ کے نئے انٹیلی جنس جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ امریکی طاقت کی حدود سے بھی پہلے کی نسبت زیادہ واقف ہوگیا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکی مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات نے بتایا تھا کہ امریکی پیٹریاٹ PAC-3 MSE میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے میں 28 فروری سے اب تک 65 فیصد کمی ہوئی ہے اور ان کی تعداد تقریباً 759 رہ گئی ہے۔

اس امریکی ادارے کے مطابق، امریکہ سالانہ صرف 183 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کرتا ہے، جبکہ ان کی فراہمی میں تقریباً ساڑھے تین سال لگتے ہیں۔

مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی تھاڈ میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ بھی 452 سے کم ہو کر 278 رہ گیا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ تھاڈ نظام کے میزائل شکن میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے این بی سی نے حال ہی میں امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخیرے میں تیزی سے کمی کے باعث امریکی فوج کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں منتخب اہداف پر میزائل داغنے کی پالیسی اختیار کرنا پڑی ہے۔

 مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج شیطان صفت ارو شرپسند امریکی دشمن پر سخت اور کاری ضربیں لگائيں گی۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ امریکی دہشت گرد فوج خطے میں شرپسندی پر جتنی زیادہ اصرار کرے گی ، اسے اتنا ہی زیادہ اور بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

بیان میں آيا ہے کہ ہم نے بارہا اپنے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ بہادر ایرانی قوم کے حقوق پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کریں گے اور امریکی دشمن پر جنگ کے بھاری اخراجات مسلط کر دیں گے۔

حسن قشقاوی نے منگل (یکم ستمبر) کو صحافیوں کو بتایا کہ آج کے اجلاس میں "آبنائے ہرمز کی سلامتی اور پائیدار پیشرفت کے حوالے سے اسٹریٹجک ایکشن پلان پر نظر ثانی کا سلسلہ جاری رہا اور شق نمبر پانچ کے نوٹ نمبر دو کی منظوری دی گی۔   

  انہوں نے بتایا کہ اس ایکشن پلان کے آرٹیکل (6) پر بھی غور اور اس کی منظوری دی گئي۔ یہ آرٹیکل آبنائے ہرمز میں سروسز اور انشورنس ٹیرف کے تعین کے لیے میکانزم اور انتظامی ضوابط کے تعین کے بارے میں ہے۔

رکن پارلینمٹ حس قشقاوی نے بتایا کہ مسودے کی شق (7) کی منظوری بھی دی گئی جس کے مطابق تمام ممالک، تنظیمیں اور افراد اور کمپنیاں جنہوں نے جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان پہنچایا ہے، اس بات کی پابند ہیں کہ وہ معاوضے کی ادائیگی کے طریقہ کار پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کریں۔

قشقاوی نے واضح کیا کہ اس بل کے مطابق اگر یہ ممالک یا کمپنیاں معاوضے کی ادائیگی کے لیے اقدام نہیں کرتے یا اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتے تو ان کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا۔

- صوبہ خوزستان کے نائب گورنر ولی اللہ حیاتی  نے بتایا ہے کہ صوبہ خوزستان میں گزشتہ رات کے امریکی میزائل حملوں میں سات افراد شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گرد امریکی فوج نے گزشتہ رات صوبہ خوزستان کے تین علاقوں پر میزائل حملہ کیا ہے۔

ایران کا صوبہ خوزستان اس سے پہلے بھی  کئی بار امریکی جارحیت کا نشانہ بن چکا ہے۔

 صہیونی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ بعض اطلاعات میں اردن میں موجود امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر ایرانی میزائلوں کے براہِ راست لگنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کی مسلح افواج نے حالیہ امریکی جارحیت کے جواب میں کارروائی شروع کی ہے۔ اردنی میڈیا نے بھی کچھ دیر قبل ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی۔

بعض اطلاعات کے مطابق اردن میں واقع موفق السلطی ایئربیس پر شدید حملہ کیا گیا اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، امریکہ نے آج ایک مرتبہ پھر ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے فوری طور پر فیصلہ کن اور بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

 خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے جنوبی علاقوں میں بعض فوجی اور غیر فوجی مقامات پر فضائی حملوں اور بمباری کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے، تنصیبات، ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ متعدد امریکی کمانڈروں اور فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ امریکیوں کے خلاف یہ سبق آموز جارحانہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ اپنے جرائم پر پشیمان نہیں ہوتے۔

کرنل ذوالفقاری نے مزید خبردار کیا کہ خطے میں امریکی شرارتوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسے مزید بھاری، وسیع اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے اس کے خطرناک نتائج بھگتنا پڑے گا۔