سلیمانی
حضرت فاطمہ زہرا (س) عالمِ ہستی میں عبد و معبود کے درمیان رابطے کی سب سے عظیم کڑی ہیں
حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ، حجۃ الاسلام و المسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے کہا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پوری کائنات میں انسان اور خدای متعال کے درمیان رابطے اور اتصال کا عظیم ترین وسیلہ ہیں، جن کی معرفت انسان کو قربِ الٰہی تک پہنچاتی ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین کوہساری نے قزوین میں شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی دو عالم سلام اللہ علیہا نبوت اور امامت کے درمیان ایک مقدس اور ناگزیر حلقۂ اتصال ہیں، جنہوں نے امت اسلامیہ تک معارفِ نبوت اور تعلیماتِ امامت کی صحیح اور محفوظ شکل پہنچانے میں بے مثال کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا وجود خداوندِ متعال کی سب سے بڑی نعمت ہے، اور ہمیں اس عظیم عطیۂ الٰہی پر ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہیے۔
حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے مزید کہا: "مشکلات اور گرفتاریوں میں سب سے کارگر وسیلہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا توسل ہے۔ اگر کوئی پریشانی لاحق ہو تو اس صلوات کو اخلاص کے ساتھ ایک بار پڑھیں: «اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی فاطِمَة وَ اَبیها وَ بَعْلِها وَ بَنیها وَ سِرِّ الْمُسْتَوْدَعِ فیها بِعَدَدِ ما اَحَاطَ بِهِ عِلْمُکَ»"
انہوں نے کہا کہ قرآن و احادیث میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی عظمت، مقام اور طہارت کے بارے میں بے شمار دلنشین اور ایمان افروز بیانات موجود ہیں، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہدایتِ انسانیت کا مرکزی نقطہ ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ خداوندِ عالم نے ہمیں دنیا میں اس لیے رکھا ہے کہ ہم قربِ الٰہی تک پہنچ سکیں، اور یہ راستہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ مومنین کو چاہیے کہ دعا، مناجات اور شکرگزاری کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں اور خدا کی نعمتوں کو اس کی رضا کے راستے میں استعمال کریں۔
ڈکٹیٹ شدہ مذاکرات میں ہرگز شرکت نہیں کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ
تہران ڈائيلاگ فورم کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران انصاف، برابری اور باہمی مفادات پر استوار مذاکرات کا خواہاں ہے۔ امریکی حکومت کا موجودہ طرز عمل کسی بھی طرح سے باہمی مفادات کے حصول کی غرض سے مساوی اور منصفانہ مذاکرات کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن زیادہ سے زیادہ مطالبات ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لہذا ایسے مطالبات کے پیش نظر ہمیں بات چیت کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ البتہ میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے، ہے اور رہے گا، لیکن وہ کسی طور بھی ڈکٹیٹ شدہ مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
مصر کی ثالثی میں آئي اے ای اے کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک خطے میں امن و آشتی کے قیام اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کی کوشش اور اس سلسلے میں وہ ہم سے رابطہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں اور ویانا میں ہمارے سفیر پوری طرح متحرک ہیں جبکہ دو رات قبل ایران، روس اور چین کے سفیروں نے ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے مشترکہ طور پر ملاقات کی تھی۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے واضح اصول موجوہیں اور جب تک ان اصولوں پر عمل کیا جائے گا، عالمی ادارے کے ساتھ تعاون بھی جاری رہے گا۔
تہران-اسلام آباد مشاورت؛ ایران اور پاکستان کا دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر زور
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے، جو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیاسی مشاورت کے 13ویں اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
ارنا کے نامہ نگار کے مطابق مجید تخت روانچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ میں ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات میں پاکستان کی نائب وزیر خارجہ محترمہ آمنہ بلوچ اور اسلام آباد میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں ملاقات میں دو طرفہ سیاسی مشاورت، اہم علاقائی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کا دورہ اسلام آباد ایسے وقت انجام پارہا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے الگ الگ فون کالز میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگي کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔
ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا بارہواں اجلاس 2023 موسم گرما کے آخر میں تہران میں منعقد ہوا تھا۔
وہ واحد دین جس نے عورت کو اس کی حقیقی قدر و منزلت دی
مرحوم علامہ طباطبائیؒ ـ صاحبِ تفسیرِ عظیم المیزان ـ نے سورہ بقرہ کی آیات ۲۲۸ تا ۲۴۲ کی تفسیر میں “اسلام اور دیگر مذاہب میں عورت کے حقوق، اُس کی حیثیت اور سماجی مقام” کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ذیل میں اسی بحث کا آٹھواں حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
اس گفتگو سے حاصل ہونے والے نتائج
علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ پوری بحث سے چند نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ اسلام سے پہلے انسان کے ہاں عورت کے بارے میں دو بنیادی نظریے موجود تھے:
پہلا نظریہ:بہت سے لوگ عورت کو انسان نہیں بلکہ بے زبان جانور کے درجے کی مخلوق سمجھتے تھے۔
دوسرا نظریہ: کچھ لوگ عورت کو پست اور کمزور انسان سمجھتے تھے، ایسا وجود جس سے مرد ـ یعنی مکمل انسان ـ اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتا جب تک عورت اُس کی مکمل تابع نہ ہو۔
اسی لیے عورت کو ہمیشہ مرد کی ماتحتی میں رکھا جاتا تھا، اور اسے کسی بھی طرح کی ذاتی آزادی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
پہلا نظریہ زیادہ تر جنگلی قوموں میں پایا جاتا تھا، جبکہ دوسرا نظریہ اُس زمانے کی مہذب اقوام کا رویّہ تھا۔
۲۔ اسلام سے پہلے عورت کی سماجی حیثیت کے بارے میں بھی دو طرح کے تصوّر تھے:
پہلا تصور: کچھ معاشروں میں عورت کو انسانی معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔
وہ اسے گھر یا سامان کے درجے کی کوئی ضرورت سمجھتے تھے، جیسے رہائش ایک ضرورت ہے مگر انسانوں کے اجتماع کا حصہ نہیں۔
دوسرا تصور: کچھ اقوام میں عورت ایک قیدی یا غلام کی طرح سمجھی جاتی تھی۔
وہ معاشرے کے طاقت ور طبقے کی اسیر ہوتی، اس سے محنت لی جاتی اور اس کے کسی بھی اثر و نفوذ کو روک دیا جاتا۔
۳۔ عورت کی محرومی مکمل اور ہمہ جہت تھی۔
ان معاشروں میں عورت کو ہر اس حق سے محروم رکھا جاتا تھا جس سے وہ کسی فائدے یا مقام کی مستحق ہو سکتی تھی…
سوائے اُن حقوق کے جن سے آخرکار فائدہ مردوں کو پہنچتا تھا، کیونکہ مرد ہی عورت کے مالک اور قیم سمجھے جاتے تھے۔
۴۔ عورت کے ساتھ برتاؤ کا بنیادی اصول: طاقت ور کا کمزور پر غلبہ
غیر مہذب اقوام عورت سے ہر معاملہ محض اپنی خواہش، تسلط اور فائدے کے حصول کے تحت کرتی تھیں۔
مہذب معاشروں میں بھی یہی سوچ موجود تھی، البتہ وہ اس میں یہ نظریہ بھی شامل کرتے تھے کہ:
عورت فطری طور پر کمزور اور ناقص ہے، وہ اپنی زندگی کے امور میں خود مختار نہیں ہو سکتی، اور وہ ایک خطرناک وجود ہے جس کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہنا مشکل ہے۔
ممکن ہے کہ ان مختلف قوموں کے میل جول اور وقت کے تغیر نے ان نظریات کو مزید پختہ کر دیا ہو۔
اسلام نے عورت کے بارے میں جو انقلاب پیدا کیا
یہ تمام حقائق اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ اسلام کے آنے سے پہلے دنیا عورت کے بارے میں کس قدر پست اور توہین آمیز نظریات رکھتی تھی۔
علامہ فرماتے ہیں: کسی بھی قدیم تاریخ یا قدیم تحریر میں عورت کی عزت و احترام کا واضح تصور نہیں ملتا۔البتہ تورات اور حضرت عیسیٰؑ کی چند نصیحتوں میں تھوڑی بہت ہمدردی ملتی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی اور سہولت کا معاملہ کیا جائے۔
لیکن اسلام ـ یعنی وہ دین جس کے قیام کے لیے قرآن نازل ہوا ـ نے عورت کے بارے میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو اس سے پہلے پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتا تھا۔
اسلام نے عورت کو اسی حقیقت اور فطرت پر متعارف کرایا جس پر وہ پیدا کی گئی ہے،انسانوں کے بنائے ہوئے غلط تصورات اور ناجائز رسموں کو منسوخ کیا، عورت کے مقام کے بارے میں ساری پست سوچوں کو باطل قرار دے دیا، اور ایک نئی، باوقار، متوازن اور فطری حیثیت عورت کو عطا کی۔
اسلام نے سب اقوامِ عالم کی رائج سوچوں کا مقابلہ کیا اور عورت کو اس کی اصل اور حقیقی منزل دکھائی، جسے انسانوں نے صدیوں سے مٹا دیا تھا۔
(ماخذ:ترجمہ تفسیر المیزان، جلد ۲، صفحہ ۴۰۶)
کن چیزوں پر خمس واجب ہوتا ہے؟
درجہ ذیل چیزوں پر خمس واجب ہوتا ہے :
(1) مال غنیمت: اگرمسلمان امام علیہ السلام کے حکم سے کفارسے جنگ کریں اورجو چیزیں جنگ میں ان کے ہاتھ لگیں انہیں ’’غنیمت‘‘ کہاجاتاہے اورجومال، خاص امام علیہ السلام کاحق ہے اسے علیٰحدہ کرنے کے بعد باقی ماندہ پرخمس اداکیاجائے۔مال غنیمت پرخمس ثابت ہونے میں اشیائے منقولہ اورغیر منقولہ میں کوئی فرق نہیں ۔اگرمسلمان کافروں سے امام علیہ السلام کی اجازت کے بغیر جنگ کریں اور ان سے مال غنیمت حاصل ہوتوجوغنیمت حاصل ہووہ امام علیہ السلام کی ملکیت ہے اورجنگ کرنے والوں کااس میں کوئی حق نہیں ۔اگراس کامالک محترم المال( یعنی مسلمان یاذمی کافر یا جس سے معاہدہ ہوا ہو)تو اس پرغنیمت کے احکام جاری نہیں ہوں گے اسی شخص کو واپس کرنا واجب ہے۔
(2)معدنیات: اس میں زمین سے نکلنے والی تمام معدنیات شامل ہیں، جیسے سونے، چاندی، سیسے، تانبے، لوہے، (جیسی دھاتوں کی کانیں ) نیز پیٹرولیم، کوئلے، فیروزے، عقیق، پھٹکری یانمک کی کانیں اور (اسی طرح کی) دوسری کانیں انفال کے زمرے میں آتی ہیں۔ مرجع اعلی آیۃ اللہ سید علی سیستانی کے نزدیک ،احتیاط لازم کی بنا پر جپسم،چونا،چکنی مٹی اورسرخ مٹی پرمعدنی چیزوں کے حکم کااطلاق ہوتاہے۔ لہٰذااگریہ چیزیں حدنصاب تک پہنچ جائیں توسال بھر کے اخراجات نکالنے سے پہلے ان کاخمس دیناضروری ہے۔کان سے نکلی ہوئی چیزکانصاب (۱۵؍)مثقال مروجہ سکہ دار سوناہے یعنی اگرکان سے نکالی ہوئی کسی چیز کی قیمت (۱۵؍)مثقال سکہ دار سونے تک پہنچ جائے توضروری ہے کہ اس پرجواخراجات آئے ہوں انہیں منہاکرکے اگر اس کی مقدار پندرہ مثقال مروجہ آنے کے سکہ تک پہونچے تو اس کے بعد کے اخراجات من جملہ اس کےتصفیہ وغیرہ کے خرچ منہا کرنے کے بعد جوباقی بچے اس کاخمس دے۔
(3)دفینہ: دفینہ منتقل ہونے والا وہ مال ہے جو چھپا ہوا ہے اور لوگوں کی دسترسی سے دور ہے جوزمین ،درخت ،پہاڑ یادیوارمیں گڑاہواہو اور ایسی جگہوں پر عام طورسے نہ پایاجاتا ہو۔اگرانسان کوکسی ایسی زمین سے دفینہ ملے جوکسی کی ملکیت نہ ہو یا مردہ ہے اور وہ خود ا س زمین کو آباد کرے اور اس میں کوئی دفینہ مل جائے تو وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتاہے لیکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔
(4)غوطہ خوری سے حاصل کئے ہوئے موتی: اگر کوئی نہر یا سمندرمیں غوطہ لگا کر لُو ٔلُو ٔ،مرجان یا دوسرے موتی نکالے توخواہ وہ ایسی چیزوں میں سے ہوں جواگتی ہیں یا معدنیات میں سے ہوں تو نصاب کے مطابق ضروری ہے کہ اس کا خمس دیاجائے ۔مچھلیوں اوران دوسرے (آبی)جانوروں کاخمس جنہیں انسان سمندر میں غوطہ لگائے بغیرحاصل کرتاہے اس صورت میں واجب ہوتاہے جب ان چیزوں سے حاصل کردہ منافع تنہایاکاروبار کے دوسرے منافع سے مل کراس کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہو۔
(5)وہ زمین جوذمی کافرکسی مسلمان سے خریدے: اگرذمی کافر مسلمان سے زمین خریدے تومشہورقول کی بناپر اس کا خمس اسی زمین سے یااپنے کسی دوسرے مال سے دے لیکن آیت اللہ سیستانی کے نزدیک خمس کے عام قواعدکے مطابق اس صورت میں خمس کے واجب ہونے میں اشکال ہے۔
(6)وہ حلال مال جوحرام مال میں مخلوط ہوجائے: اگرحلال مال حرام مال کے ساتھ اس طرح مل جائے کہ انسان انہیں ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے اورحرام مال کے مالک اوراس مال کی مقدار کابھی علم نہ ہو اور یہ بھی علم نہ ہوکہ حرام مال کی مقدارخمس سے کم ہے یازیادہ توتمام مال کاخمس دینے سے حلال ہوجائے گا ۔
(7)کاروبار کامنافع: جب انسان تجارت، صنعت وحرفت یادوسرے کام وغیرہ س پیسہ کمائے اور یہ خود اوراس کے اہل و عیال کے سال بھرکے اخراجات سے زیادہ ہوتوضروری ہے کہ زائد کمائی کا خمس( یعنی پانچواں حصہ) بلکہ ہر مال مملوک جیسے کسی کو کمائی کئے بغیر کوئی آمدنی ہوجائے مثلاً کسی کو کوئی تحفہ ، میراث ، انعا م ، ہبہ، یا مال وقف سے کوئی فائدہ حاصل ہوجائے اس پر بھی خمس واجب ہے۔ لیکن وہ عورت جو شوہر سے خلع دینے کے عوض جو مال حاصل کرتا ہے اور اسی طرح ملنے والی دیت پرخمس نہیں ہے۔
امریکہ کا غیر فعال وار ہیڈ کے حامل ایٹم بم کا تجربہ
روسی خبر رساں ایجنسیTASS نے امریکی محکمہ توانائی سے منسلک سانڈیا نیشنل لیبارٹریز کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ نے وار ہیڈ کے بغیر ایٹم بم (B61-12) کا یہ کامیاب تجربہ موسم گرما کے وسط میں کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تجربات 19 سے 21 اگست تک نیواڈا میں ایک ٹیسٹ سائٹ پر کیے گئے۔ تجربات کے دوران، پانچویں نسل کے F-35 لڑاکا طیاروں نے غیر فعال وار ہیڈز کے ساتھ ہتھیاروں کو کامیابی کے ساتھ لوڈ اور فرضی اہداف پر گرایا۔
یہ ٹیسٹ نیشنل نیوکلیئر سیکورٹی ایڈمنسٹریشن (NNSA) کے ساتھ مل کر کیے گئے۔ بیان کے مطابق، نیشنل نیوکلیئر سیکورٹی ایجنسی نے 2024 کے آخر میں ان فضائی بموں کی سروس لائف کو 20 سال تک بڑھانے کا منصوبہ بھی ممکل کرلیا ہے۔
زہریلا کچرا، فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کا نیا اسلحہ
ارنا کے مطابق رزنامہ العربی الجدید نے اپنی تازہ رپورٹ میں ماحولیات سے متعلق صیہونی حکومت کے سامراجی منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکام مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا میں کچرا جلانے کا ایک کارخانہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ پروجیکٹ کچرے کی مینجمنٹ سے بالاتر ہوکر ان پالیسیوں کے وسیلے میں تبدیل ہورہا ہے جن کا مقصد فلسطینیوں پر رصہ حیات تنگ کرنا ہے۔
کچرا،ایک سامراجی وسیلہ کے زیر عنوان اس رپورٹ میں آیا ہے کہ غرب اردن میں کچرا دفن کرنے کے تقریبا 70 غیر منظم مراکزموجود ہیں جہاں دسیوں ٹرک کچرا خالی کرتے ہیں۔
اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ان مراکز ميں فلسطینیوں کا کچرا صرف 10 فیصد ہے اور 90 فیصد صیہونی آبادی کے علاقوں سے لاکر گرایا جاتا ہے۔
صیہونی کالونیوں کے کچرے کا بڑا حصہ غرب اردن میں قائم کئے گئے کچرے کے ان مراکز میں، مقامی آبادی کے لوگوں کی صحتمند زندگی کے حق اور ماحولیات کے قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے گرایا جاتا ہے۔
خود صیہونی حکومت کے شہری امور کے محکمے کے اعتراف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بحران کتنا وسیع ہے۔
صیہونی حکومت کے شہری امور کے محکمے نے اعلان کیا ہے کہ 2016 سے 2020 کے درمیان، ان ٹرکوں کی تعداد میں جو صیہونی کارخانوں کا کچرا غرب اردن لے جاتے ہیں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ یہ ناقص اعتراف ہے جس میں حقیقت کے ہزارویں حصے کا بھی اقرار نہیں کیا گیا ہے۔
غرب اردن میں لاکر گرائے جانے والے کچرے میں خطرناک کچرے بھی شامل ہیں۔ ان ميں سیور لائن کے کیچڑ، الیکٹرانک کوڑے کرکٹ اور کیمیائی مواد سے لے کر، اسپتالوں کے کچرے،عمارتوں کے کوڑے، گھروں کے کچرے اور ایسے کیمیکلس کہ جن کے لئے معلوم نہیں ہے کہ کہاں سے لائے لاجاتے ہیں، سبھی کچھ شامل ہے اورکچرے کے یہ ڈھیر فلسطین کے ماحول حیات کو برباد کررہے ہیں۔
اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی کارخانوں کے مالکین کچرا اٹھانے والے ٹرکوں کے ڈرائیوروں سے براہ راست معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے کارخانوں کا کچرا رات میں لے جاکر غرب اردن میں گرائيں گے۔
عام طور پر یہ کام غرب اردن کے ساکنین کو کوئی طلاع دیئے بغیر کیا جاتا ہے۔
صیہونی کارخانے غرب اردن میں خطرناک، مضر صحت اور ماحول حیات ختم کردینے والا کچرا پہنچا نے میں ایسی حالت میں سرگرم ہیں کہ اس سلسلے میں نہ کوئی نگرانی ہے اور نہ ہی قانون، اور قانون نیز نگرانی کا یہ خلا اتفاقیہ یا عارضی نہیں ہے بلکہ یہ فقدان اور خلا دانستہ تیار کیا گیا ہے تاکہ کسی خرچے اور کسی معیار اور قانون کی کوئی پروا کئے بغیرفلسطینی آبادی کے اندر یہ انتہائی تخریبی سرگرمیاں جاری رہیں۔
ایران پابندیوں کے بعد کے دور سے نمٹنے کے لیے تیار ہے
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور کے ماہر میر قاسم مومنی نے کہا ہے کہ اگرچہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی مدت قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، لیکن ایران نے اپنی مزاحمتی صلاحیت اور داخلی خود انحصاری کے ذریعے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ پابندیوں کے بعد کے دور سے کامیابی سے نمٹنے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231، جس میں 2015 کے جوہری معاہدے کی توثیق کی گئی تھی، اپنی 10 سالہ مدت مکمل کرچکی ہے، جس سے JCPOA قانونی طور پر ختم ہوگیا ہے۔ اس قرارداد کے تحت اسلحہ کی تجارت، جہاز رانی اور تجارتی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں اب ختم ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے نقطۂ نظر اور وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ قرارداد اپنی مدت پوری کرچکی ہے۔ اگرچہ P5+1 ممالک نے JCPOA کے اختتام کو تسلیم کرلیا ہے، لیکن امریکہ اب بھی دیگر ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرسکے۔
انہوں نے ایران کی مزاحمتی پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے جو "نہ مشرق، نہ مغرب" کی پالیسی کے تحت اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود قومی اتحاد اور اندرونی صلاحیتوں پر انحصار ہی ایران کی ترقی کا راز ہے۔
مومنی نے کہا کہ تہران نے 1979 کے انقلاب کے بعد سے بین الاقوامی دباؤ اور قراردادوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ جس طرح ایران نے ماضی کی پابندیوں کو شکست دی، اسی طرح اس نئے مرحلے سے بھی کامیابی سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ JCPOA جولائی 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے پرامن جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں قبول کیں، جن میں یورینیم کی افزودگی میں کمی، سینٹری فیوجز کی تعداد محدود کرنا، اور اراک ری ایکٹر کی ازسرنو تشکیل شامل تھی تاہم مغربی ممالک حتی کہ اوباما انتظامیہ کے دور میں بھی ایران سے کیے گئے اقتصادی وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی اور یورپی مالیاتی نظام INSTEX بھی ایران کو پابندیوں کے اثرات سے بچانے میں ناکام رہا۔
18 اکتوبر 2025 کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی مدت خودبخود ختم ہو گئی، جس کے ساتھ ہی JCPOA کا قانونی دور بھی باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اور اسٹریٹجک نوعیت کے تنازعات ہیں، جنرل یدالله جوانی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یدالله جوانی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو فطری اور اسٹریٹجک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ وقتی یا سطحی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے مفادات کے تصادم پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 46 سالوں میں امریکی حکومت نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایرانی قوم کی مکمل اطاعت کے سوا کسی چیز پر راضی نہیں ہوتی۔ 12 روزہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے غیر مشروط طور پر شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس سے امریکہ کی جارحانہ حکمت عملی واضح ہوگئی۔
جنرل جوانی کے مطابق، ایران اس تنازعے کو صرف ایک سیاسی یا سفارتی اختلاف نہیں بلکہ ایک اصولی اور طویل مدتی چیلنج قرار دیتا ہے، جس میں قومی خودمختاری اور اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
ایران میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کی تعداد 65 ہزار، جبکہ تین لاکھ کی ٹارگٹ
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، براعظم امریکا کے ممالک میں تعیینات ایرانی سفیروں کے ساتھ تعلیمی سفارت کاری پر مبنی ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس میں معاون وزیر تعلیم سعید حبیبا، معاون برائے اسکالرشپ عباس قنبری، اور بین الاقوامی طلبہ کے امور کے ڈائریکٹر محمد باقر جعفری نے شرکت کی۔
سعید حبیبا نے کہا کہ ساتویں ترقیاتی منصوبے کے اختتام تک 3 لاکھ 20 ہزار غیر ملکی طلبہ کو ایران میں داخلہ دینا ایک قانونی ہدف ہے۔ انہوں نے ایران کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی علمی ساکھ اور کم اخراجات کو بین الاقوامی طلبہ کی دلچسپی کے دو اہم عوامل قرار دیا۔
فی الوقت ایران میں 65 ہزار غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں 6 ہزار نئے طلبہ رواں تعلیمی سال میں شامل ہوں گے۔ ان میں سے 2 ہزار طلبہ ایران میں اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
عباس قنبری نے بتایا کہ وزارت علوم کے تحت 60 اعلیٰ جامعات 2 لاکھ 80 ہزار بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جب کہ 31 ممتاز جامعات کو دوسری زبان میں کورسز کروانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ایران میں تعلیم کو مزید پرکشش بنایا جا سکے۔
انہوں نے آن لائن تعلیم کو براعظم امریکہ سے طلبہ کو جذب کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
محمد باقر جعفری نے براعظم امریکہ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی موجودہ تعلیمی صورتحال پر تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے۔
نشست میں ایرانی سفیروں نے بین الاقوامی طلبہ کے داخلہ کے مواقع اور چیلنجز پر گفتگو کی، جن میں تعلیمی سفارت کاری، فارسی زبان کے اساتذہ کی صلاحیت، ثقافتی فرق، فاصلے اور اخراجات جیسے مسائل شامل تھا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
