سلیمانی
امریکہ سے محبت کرنے والے ضرور پڑھیں۔ منافقت، نیکی کے بجائے برائی کو ترجیح
ارنا کے مطابق امریکی مصنف اور سیاسیات کے پروفیسر اور واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار کے طور پر کام کرتے ہیں امریکی میگزین "ٹائم" میں لکھتے ہیں: امریکی منافقت سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم اسے بے نقاب کرتے ہیں، اس پر ہنستے ہیں، اور اس سے نفرت کرنے کا بہانہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر سیاست میں منافقت نہ صرف ناگزیر بلکہ ضروری بھی ہو تو کیا ہوگا؟ کیا ہوگا اگر وہی چیز جو ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں کمزور کرتی ہے دراصل وہی چیز ہے جو ہمیں مضبوط کرتی ہے؟ امریکی منافقت کی تاریخ المناک حد تک طویل ہے۔ میں اپنے ملک کے لیے جو بھی خواہشات رکھتا ہوں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری منافقت ختم ہو۔ میری اب بھی یہ آرزو ہے ، لیکن اس کا یقین نہیں ہے۔
ایک وقت تھا جب میں سمجھتا تھا کہ منافقت سب سے بڑی اخلاقی برائی ہے، شاید سب سے بڑی۔ جب میں فلاڈیلفیا کے مضافاتی علاقے میں ایک اسلامی اسکول میں پڑھتا تھا تو منافق ایک بہت ہی دلکش اور پراسرار شخصیت تھا۔ قرآن مجید میں منافقین ایک مخصوص گروہ ہیں جن کا ذکر 29 سورتوں میں بار بار آیا ہے۔ انہیں سب سے برا قرار دیا گیا ہے، کیونکہ وہ تمہارے کھلے دشمنوں سے زیادہ خطرناک تھے، کیونکہ وہ تمہارے دوست ہونے کا دعوی کرتے تھے جب کہ حقیقت میں وہ دوست نہیں تھے۔
بعد میں جب کالج میں گیا، تو میں جنگ مخالف کارکن کی حثیت سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے ریکارڈ سے سخت نالاں تھا ، میں نے امریکی خارجہ پالیسی کی بے ایمانی اور منافقت کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔
امریکہ جمہوریت کا دم بھرتا ہے لیکن انتہائی سفاک آمروں کی حمایت کرتا ہے۔ میں ایسے اجتجاجی خیمے بھی لگائے کہ امریکہ اپنی ہائپوکریسی کی وجہ سے امریکہ عالمی قیادت کے لیے نااہل ہوچکا ہے۔ ہمارے یعنی امریکیوں کے قول اور فعل کے درمیان تضاد ان تمام اقدار کے ساتھ غداری ہے جنہیں میں پسند کرتا ہوں۔
عراق جنگ نے ظاہر کیا کہ آزادی اور جمہوریت کی ہماری بیان بازی کتنی کھوکھلی ہے۔ اچانک، ایک بلا اشتعال حملے کو جواز فراہم کرنے کے لیے، ہم "عرب جمہوریت" پر ایمان لے آئے تھے؟ لیکن عراق جنگ اس سے مستثنیٰ نہیں تھی بلکہ یہ امریکہ میں ایک طویل روایت کا تسلسل تھا، خود کو معصوم ظاہرکرکے اپنے اندر کی بد خوئی پر پردہ ڈالنا۔
ہم کئی دہائیوں سے جمہوریت کی آڑ میں چلی سے لے کر ایران تک اور ایران سے لے کر کانگو تک منتخب عوامی لیڈروں کے خلاف بغاوتیں کر رہے ہیں۔
1953 میں ایران میں "آپریشن ایجیکس" پر غور کریں۔ تھیوڈور روزویلٹ کا پوتا کرمٹ روزویلٹ، منتخب ایرانی وزیر اعظم محمد مصدق کا تختہ الٹنے کے مشن کے ساتھ تہران پہنچا کیونکہ مصدق نے ملک کی تیل کی صنعت کو قومیانے کی جسارت کی تھی۔ سی آئی اے نے جعلی پروپیگنڈہ کیا، کرائے کے فوجیوں کا ہجوم اکٹھا کیا، اور چند ہی دنوں میں بغاوت کامیاب ہوگئی۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں روزویلٹس میں کچھ مشترک تھا: تھیوڈور لاطینی امریکہ میں اپنی "چھڑی" کے ساتھ اور کرمٹ مشرق وسطی میں اپنے "پیسے سے بھرے سوٹ کیس" کے ساتھ۔
خاندانی تعلیم و تربیت | بچوں کے رات کے ڈر کا علاج، دو سنہری اصول
حجت الاسلام والمسلمین سید علیرضا تراشیون، معروف خاندانی مشیر نے ایک والدین کے سوال کا جواب دیتے ہوئے “پریشان اور خوف زدہ بچے کو ذہنی سکون اور اطمینان کیسے دیا جائے؟” کے موضوع پر گفتگو کی ہے۔
? سوال : میرا آٹھ سالہ بیٹا گھر بدلنے کے بعد بہت مضطرب رہتا ہے۔ وہ اکیلے سونے سے ڈرتا ہے اور ماں سے بہت زیادہ وابستگی رکھتا ہے۔ میں اسے کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟
? جواب : میں اپنی بات کا آغاز امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے فرمان سے کرتا ہوں:“خوف کا پھل، امان ہے۔”
یعنی خوف دراصل ایک فطری اور خدائی نظام ہے جو انسان کو خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ لہٰذا اگر بچہ ڈرے تو والدین کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ کوئی غیر معمولی کیفیت نہیں بلکہ ذہنی صحت کی علامت ہے۔
والدین کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ماضی میں کسی ناخوشگوار یا صدمہ دینے والے واقعے سے گزرا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آٹھ یا نو سالہ بچہ ایسی صورتحال کے بعد خوف و اضطراب کا شکار ہو سکتا ہے۔
? پہلا اصول:
بچے کے ڈر پر پرسکون ردِعمل دکھائیں، منطقی باتوں سے نہیں۔
اکثر والدین تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں: “فکر نہ کرو، ہمارا نیا محلہ محفوظ ہے” یا “دروازہ بند ہے، کوئی نہیں آئے گا” یا “چھت کا راستہ بند کر دیا ہے”
یہ سب باتیں بظاہر تسلی بخش لگتی ہیں، مگر دراصل بچے کے ذہن میں پرانی خوفناک یادیں تازہ کر دیتی ہیں۔بہتر یہ ہے کہ والدین اپنے رویّے سے اسے اطمینان دلائیں۔اگر بچہ صرف اس وقت پرسکون ہوتا ہے جب ماں پاس ہو، تو ماں کچھ وقت کے لیے بطور مہمان اس کے کمرے میں سو سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ماں اپنا پورا بستر وہاں لے جائے تاکہ بچے کو لگے وہ ہمیشہ وہیں رہے گی۔بس ایک ہلکا بستر اور تکیہ لے کر اسے کہنا چاہیے: “چونکہ تم اس وقت ڈر رہے ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں تاکہ تمہیں سکون ملے۔” یہ عارضی قربت بچے کے اندر اعتماد اور ذہنی سکون پیدا کرتی ہے۔
? دوسرا اصول:
بچے کی اضافی توانائی کو دن میں خرچ کرنے کا موقع دیں۔ اکثر ایسے بچے جو رات کو سونے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، دن میں کم سرگرم رہتے ہیں۔ ان کے جسم میں توانائی جمع رہ جاتی ہے جو سوتے وقت بےچینی پیدا کرتی ہے۔
لہٰذا والدین کو چاہیے کہ دن کے اوقات میں کھیل، دوڑ، یا جسمانی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کریں تاکہ بچہ شام تک تھک جائے۔
ایسا بچہ جب بستر پر سر رکھتا ہے تو بغیر کسی پریشانی کے جلد سو جاتا ہے۔
✳️ خلاصہ:
بچے کے رات کے خوف کو ختم کرنے کے لیے دو بنیادی اصول یاد رکھیں:
1. ماں یا والدین کی موجودگی سے بچے میں اعتماد اور ذہنی سکون پیدا کریں۔
2. دن کے وقت کھیل اور سرگرمیوں کے ذریعے اس کی توانائی کو خرچ ہونے دیں۔
اگر والدین صبر اور نرمی سے ان اصولوں پر عمل کریں تو بچے کے رات کے ڈر آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے اور وہ پھر سے پُرسکون نیند لینے لگے گا۔
ایران کیخلاف پابندیاں ناکام، دشمن حیران و سرگرداں
مغربی ذرائع ابلاغ اب بھی پابندیوں کی دوبارہ واپسی کی خبریں نشر کر رہے ہیں، لیکن انہی نیٹ ورکس کے ماہرین اب اس منصوبے کی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ بی بی سی اور ایران انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹس کے مطابق ایران کے تیل فروخت کرنے کے نیٹ ورک نے پابندیوں کے اثرات کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے، اور ٹرمپ دور کی پابندیوں کی پالیسی مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ ایران انٹرنیشنل اور بی بی سی جیسے ادارے، جو برسوں سے امریکہ کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے موافق بیانیے کو آگے بڑھاتے رہے، اب مغرب کے لیے ایک تلخ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ پابندیاں اور دھمکیاں نہ صرف ایران کو نہیں روک سکیں، بلکہ عملاً ایران کی مقامی صلاحیتوں کی تقویت اور تیل برآمدات میں اضافہ کا باعث بنی ہیں۔
لندن اور تل ابیب کے اسٹوڈیوز میں نمایاں اضطراب:
گزشتہ دنوں ایران انٹرنیشنل اور حتیٰ کہ بی بی سی کے ماہرین و مبصرین نے اپنے تجزیوں میں حیرت اور برہمی کے ملے جلے لہجے میں اسنپ بیک (Snapback) پابندیوں کے بے اثر ہونے پر گفتگو کی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سلامتی کونسل کی پابندیوں کی واپسی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے تسلسل کے باوجود ایران نہ صرف تیل کی برآمد جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کر چکا ہے؟۔ مغربی تجزیہ کار یہ سمجھتے تھے کہ اقتصادی دباؤ سے ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کیا جا سکتا ہے، اب ایران کی طرف سے زیادہ طاقت کیساتھ مزاحمت اور پابندیوں کو ناکام بنانے کے عملی طریقۂ کار کے سامنے ششدر ہیں۔
خود مغربی ماہرین تسلیم کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسی ایران کے رویّے میں تبدیلی نہیں لا سکی، بلکہ نتیجتاً واشنگٹن کی عالمی تنہائی میں اضافہ ہوا۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں ایران کی تیل برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق پابندیوں سے قبل کی سطح کو بھی عبور کر چکی ہیں۔ مغربی میڈیا نے تیل بردار جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے مشرقی ممالک کی منڈیوں میں تیل فروخت کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کر لیا ہے، یہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو ان ہی کے الفاظ میں پابندیوں کو بے اثر کر چکا ہے۔
مغربی ماہرین کا اسنپبیک کی ناکامی پر اعتراف:
واشنگٹن اور بعض یورپی حکومتیں اسنپ بیک (Snapback) پابندیوں کو دھمکی کے طور پر پیش کر رہی تھیں، اب وہ خود مغربی تجزیاتی حلقوں میں بھی غیر سنجیدہ اور غیر مؤثر سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نفاذ کے لیے کوئی عالمی اتفاقِ رائے موجود نہیں، اور چین، روس سمیت کئی علاقائی ممالک اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں۔ جبکہ ایران مخالف میڈیا بے بسی اور پریشانی کے ساتھ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی کی ناکامی پر گفتگو کر رہا ہے، دوسری جانب مغربی سفارت کار بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ تہران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور ضروری ہے۔ یہاں تک کہ بعض امریکی تھنک ٹینکس نے سفارش کی ہے کہ واشنگٹن کو پابندیوں کی بجائے تدریجی اور تعلقات کی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔
ایران، ایک فعال اور پراعتماد کھلاڑی:
ایران کی چین اور روس کے ساتھ اقتصادی شراکت داریوں میں توسیع، نئی برآمدی راہداریوں کی ترقی، اور توانائی کے شعبے میں نجی و سرکاری کمپنیوں کی مؤثر فعالیت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ایران نہ صرف پابندیوں کے مرحلے سے گزر چکا ہے بلکہ اب ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں عالمی توانائی منڈی کے بڑے کھلاڑی بھی تہران کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ تل ابیب کے ٹی وی اور سوشل میڈیا چینلوں سے لے کر لندن کے سرکاری نیٹ ورکس تک ایک ہی لہجہ سنائی دیتا ہے، ایران کی مزاحمت پر حیرت اور مغرب کی ناکامی پر خفگی کا اظہار۔ ان کے اپنے مبصرین کا اعتراف ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی شکست دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال مزاحمتی حکمتِ عملی کی کامیابی کا ثبوت ہے، ایسی حکمتِ عملی جس نے پیچیدہ ترین پابندیوں کے جال کو غیر مؤثر زنجیر میں بدل دیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان مصالحت کیوں ممکن نہیں؟
بین الاقوامی تعلقات میں کوئی بھی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ دوستی دشمنی میں اور دشمنی دوستی میں کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔ اس فارمولے کی بنیاد پر ایران میں رہنے والے بعض افراد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اختلافات کو ختم کیا جانا چاہیئے اور اس ملک کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ملک کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع معاہدہ ہونا چاہیئے۔ اس نظریہ اور مفروضے کے برعکس ایک اور قول یہ ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت ممکن نہیں ہے۔ اس نظریئے میں سب سے آگے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے سیاسی اور گروہی نظریات سے بالاتر ہو کر سمجھنا چاہیئے کہ کون سا نقطہ نظر درست ہے اور کون سا غلط ہے۔؟
اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے، جب قومی مفادات کے تناظر میں ہر فریق کے اسباب اور نکات پر غور کیا جائے۔ مثال کے طور پر پہلا نظریہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکہ کے ہر طرح کے دباؤ اور پابندیوں کی وجہ سے ایران کے لیے ترقی کا راستہ بند ہوگیا ہے اور اس ملک کی ترقی کا واحد راستہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ دوسری طرف رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کے بارے میں امام خمینی (رح) کے اسی نقطہ نظر کے ساتھ تاکید کی ہے کہ ایران کی حقیقی ترقی کی شرط یہ ہے کہ امریکہ آگے نہ آئےو کیونکہ امریکہ ایران کی ترقی کا سخت مخالف ہے۔ سیاسی عقلیت کی کسوٹی پر اور قومی مفادات کے اشاریہ کی بنیاد پر ان دو آراء کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
رہبر معظم کے نقطہ نظر سے، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا مکتب، روحانیت، انصاف اور عقلیت کی تین جہتوں کا حامل ہے۔ درحقیقت امریکہ کے بارے میں امام کا نظریہ جو یہ کہتا ہے کہ امریکہ بڑا شیطان ہے اور ہم امریکہ سے تعلقات نہیں چاہتے ہیں، ایک مضبوط دلیل پر مبنی ہے۔ امام کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ہر ملک دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرکے اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ امام کا خیال تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات نہ صرف ایرانی قوم کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں، بلکہ یہ تعلق ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایک مثال کے ساتھ واضح کیا کہ اس تعلق سے ایران کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ رشتہ بھیڑیئے اور بھیڑ کا رشتہ ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ بھیڑ کے بھیڑیئے کے قریب آتے ہی کیا ہوگا اور کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان ہوگا۔ یہ مثال عقلی دلیل پر مبنی ہے۔ بھیڑیئے کی دلچسپی بھیڑوں کی جان لینے میں ہے۔
امریکہ ایک متکبر مزاج ملک ہے اور وہ دوسروں پر اپنی برتری قائم کرنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کرتا ہے۔ امریکہ دنیا کی غالب طاقت بن کر دوسروں کو زیر کرنا چاہتا ہے۔ اس ملک کے قائدین پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایران کو دنیا پر امریکہ کے تسلط کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایرانی قوم کے اہم مفادات اور فطری حقوق جیسے سیاسی آزادی، قومی وقار، علاقائی سالمیت کا تحفظ اور امریکہ کے غلبہ اور تسلط پسندانہ مفادات کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ مفادات کا یہ تصادم حکمت عملی کی نوعیت کا نہیں ہے، جسے دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سٹریٹجک اور متضاد مفادات کی سطح پر فطری ہیں۔
گذشتہ 46 سالوں کے دوران امریکہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایرانی قوم کے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے کم کسی چیز پر مطمئن نہیں ہوگا۔ 12 روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ٹرمپ نے اس جنگ میں فتح کا تصور کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ بنیادی طور پر امریکہ ایران جیسے ثقافتی اور تہذیبی پس منظر کے حامل ایک آزاد ملک کو برداشت نہیں کرتا، وہ بھی ایسا ملک جس کا ترقی پذیر جغرافیائی محل وقوع اتنا اہم اور اسٹریٹجک ہو۔ ایرانی قوم کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کی تمام تر وجوہات میں سب سے اہم اسلامی انقلاب سے اس کی دشمنی ہے۔ یہ دشمنی امریکہ کی زیادتیوں میں پنہاں ہے۔ ایسے حالات میں ایرانی قوم کو طاقت کے حصول کی راہ پر ہوشیاری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیئے۔ ایک مضبوط ایران کی تعمیر کا نظریہ، جس پر کئی سالوں سے رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیا اور تاکید کی ہے، اسی مقصد کے لیے ہے۔
ایرانی قوم کا روشن مستقبل ایرانی قوم کی مضبوطی پر منحصر ہے۔ ایران اور ایرانیوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ تسلط پسند امریکہ کے خلاف مضبوط اور ہمہ گیر پیشرفت کریں۔ امریکہ کی غنڈہ گردی اور جبر کا مقابلہ، مضبوط ہونے سے ہی ممکن ہے۔ ملک کے مسائل مذاکرات، مفاہمت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ذریعے حل کرنے کی سوچ ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایرانی قوم عقلیت سے کام لیتی ہے اور خارجہ پالیسی میں قومی مفادات کے اشاریہ کے ساتھ عقلیت اور حساب کتاب کی بنیاد پر اپنے طرز عمل کو منظم کرتی ہے اور اس سلسلے میں بہت سے تاریخی تجربات سے سبق حاصل کرنے کا بھی خیال رکھتی ہے۔ انگلستان کے شر سے چھٹکارا پانے کے لیے مصدق کا امریکہ سے رابطہ کرنے کا تجربہ، جس کی وجہ سے بالآخر اینگلو امریکن بغاوت کے ذریعے ڈاکٹر محمد مصدق کی قومی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یہ تجربہ ایرانی قوم کے سامنے ہے۔
یا کرنل قذافی کے دور میں لیبیا کا تجربہ، جس نے مغرب اور امریکیوں پر بھروسہ کرکے ملک کو زوال اور تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ سوڈان اور عمر البشیر کے امریکہ کے قریب پہنچنے میں غلط حساب کتاب کا تجربہ، جس کا نتیجہ سوڈان کی تقسیم اور تباہ کن خانہ جنگیوں کی صورت میں نکلا۔ ایرانی قوم نے ایران اور امریکہ کے درمیان عدم مفاہمت کی وجہ کو صحیح طور پر سمجھ لیا ہے اور اسی بنیاد پر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اس ملک کی زیادتیوں کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کی پالیسی اور نقطہ نظر کا انتخاب کیا ہے۔ قومی اتحاد اور سماجی یکجہتی کی روشنی میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی رہنمائی میں ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش اور محنت سے ایک مضبوط ایران کی تعمیر سے تمام مسائل پر قابو پانا ممکن ہے۔ اس راستے پر ایمان اور روحانیت کی طاقت پر بھروسہ نیز اللہ تعالیٰ کی مدد پر اعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے، جو مومنوں کو سکون بخشتا ہے: "ولا تهنوا و لا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین"
تحریر: یداللہ جوانی
اسلامی تہذیب کی خصوصیات:
اسلامی ثقافت کی تاریخ اور مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کے تحقیق کاروں کے لئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام کی خصوصیات نے بہت سارے ممالک اور شہروں میں رہنے والوں پر بہت سے آثار مرتب کئے ہیں۔ اسلامی تہذیب و ثقافت اور ان کے آثار کو دیکھ کر لوگوں میں نہ صرف روحانی اعتبار سے تبدیلی آئی ہے بلکہ ان کی سوچ، فکر اورسماج پر ایک واضح تبدیلی آگئی ہے۔
دین اسلام تمام مذاہبِ عالم سے کامل و جامع اور آخری دین ہے۔ اس آخری اور کامل دین کے آثار ہر جگہ موجود ہیں۔ چونکہ ثقافت ِ اسلامی جامعیت اور جدیدیت پر مشتمل ثقافت ہے اس لئے دنیا میں موجود دیگر ثقافتوں کی نسبت اسلامی ثقافت میں وسعت پائی جاتی ہے۔ یہ ثقافت انسانی رویوں، عادتوں، ذاتی، اجتماعی اور اخلاقی پہلوؤں کو شامل ہوتی ہے۔ دین اسلام کے پیرو کار ہمیشہ احکام خداوندی کی تعمیل کے ساتھ ان حقیقی راہوں پر گامزن ہوکر ان خصوصیات کو اپنے اندر اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی رضایت شامل ہو۔اسی لئے مسلمانوں کی نشست و برخاست اور اطاعت و بندگی غرض ان کے ہر سماجی و اخلاقی افعال میں ایک اعلیٰ رنگ نمایاں نظر آتا ہے، اس کو ثقافت اسلامی کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ ثقافت بھی الٰہی حکم کی تکمیل کا ایک حصہ ہے۔سماج میں مل جل کر بیٹھنے اور اسلام کی اصل راہوں پر چلنے سے اس معاشرے میں موجود دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی فکری، عملی زندگی میں نہ صرف تبدیلی آجاتی ہے بلکہ قلبی طور پر وہ لوگ متاثر ہوکر انہی اسلامی راہوں اور تقاضوں کو اپنالیتے ہیں اور اس سے ایک بڑا مہذب معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
اسلامی ثقافت ایک مستحکم، لازوال اور فطرت سے ہم آہنگ ثقافت ہے اس لئے یہ کبھی بھی ختم یا معدوم نہیں ہو سکتی۔ جبکہ دیگر ثقافتوں میں کوئی دوام و بقا نہیں پائی جاتی۔ اسلامی ثقافت دین اسلام کی طرح جامع اور لافانی ثقافت ہے۔ اس کی بنیاد عدل و انصاف اور شعورپر قائم ہے۔ مرور زمن کے ساتھ جدید رنگوں، اصولوں اور خیالوں کو منظم انداز میں اپنے اندر شامل کرنے کی وسعت رکھتی ہے۔ اسی لئے اسلامی ثقافت مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لئے بھی قابل قبول ہے۔ جبکہ دیگر ثقافتوں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو وہ صرف اپنی اقوام وغیرہ کے ساتھ محدود نظر آتی ہیں۔ آخر الامر ان اقوام اور زمانوں کے گزرنے کے ساتھ یہ تمام غیر اسلامی ثقافتیں معدوم ہوجاتی ہیں۔
اگر ہم اسلامی ثقافت کو دیگر ثقافتوں سے موازنہ کرے تو ہمیں واضح ہوتا ہے کہ اسلامی ثقافت میں کوئی جبرو اکراہ کا پہلو نہیں ہے۔ اسی لئے غور و فکر کرنے والے لوگ اس سے متاثر نظر آتے ہیں۔ لیکن دیگر ثقافتوں سے لوگ نالاں اور گریزاں نظر آتے ہیں۔ اسلامی ثقافت، جس میں آزادی اور انسانیت کی عظمت اور فلاح کے لئے اصول پائے جاتے ہیں اور دوسری ثقافتوں میں ظلم و بربریت وغیرہ کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ اسلامی ثقافت کی عمارت توحید کی بنیاد پر قائم ہےاس میں ذاتی اور اجتماعی عادات واطوار کے اصول منظم طریقے سے مرتب کئے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری ثقافتوں کی بنیاد جبر، ظلم اور ستم پر ہوتی ہے اور اس کا انجام و عاقبت اچھی نہیں ہوتی۔
اسلامی ثقافت اخلاق سے آراستہ ہے اور اخلاق کی نسبت سے ہی وہ ممتاز ہے۔ دنیا کے کسی ایسے معاشرے میں جہاں قانون ناپید ہو اور اخلاقی قدریں روبہ زوال ہوں وہاں اسلامی ثقافت کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔اسلامی ثقافت کی ایک خوبی خوشدلی ہے یعنی انفرادی واجتماعی تعلقات میں سامنے والے کو خوشحالی کے ساتھ قبول کرنا ہے۔جبکہ دیگر ثقافتیں پستی اور قید کاشکار ہیں جو انفرادی طور سے منفی اثرات مرتب کرتی ہے،بلکہ یہ اپنے ماننے والوں کے لئے دوسروں کے خلاف اس طرح بدگمانی پیداکرتی ہے۔
اسلامی ثقافت کے اندر یکساں روحانی وجسمانی توازن کا تصور موجود ہے جودراصل دین اسلامی کا معیار ہے۔یہاں روح جسم سے الگ نہیں ہے اورنہ ہی بشری جسم کو روح پر کوئی فوقیت حاصل ہے،بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں کے اپنے حقوق موجود ہیں بشری تقاضے کے مطابق جس کے اثرات اس کے ماننے والوں پرجسمانی اور روحانی اعتبار سے پڑتے ہیں ،جو انسان کی ضروریات کے توازن قائم کرتا ہے۔ دین اسلام جہاں دنیا سنوارنے کی تاکیدکرتا ہے وہاں آخرت کی درستگی اور خیر کی آرزو رکھنے پر بھی زور دیتا ہے۔ دین اسلام اپنے والوں کوایک بہترین امت قرار دیتا ہے۔جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ۔
تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح) کے لیے پیدا کیے گئے ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔آل عمران:110۔
تھائی لینڈ میں عالمی چیلنجز اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہداریوں پر نشست
ایران کے ثقافتی مراکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس میں مہاچولا یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر وات سوتیوارارام (یونیورسٹی کے نائب صدر اور معبد کے سربراہ)، متعدد اساتذہ، منتظمین، اور ایران کی ثقافتی رایزنی کے ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں پروفیسر وات سوتیوارارام نے دونوں علمی و روحانی اداروں کے درمیان تعاون کے اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاچولا یونیورسٹی اس بینالمللی اجلاس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا: مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں کے درمیان مکالمہ، قوموں کے مابین امن، ہمآہنگی اور دوستی کے فروغ کا راستہ ہے، اور ہم اپنی تمام علمی و روحانی صلاحیتوں کے ساتھ اس کانفرنس کی حمایت کریں گے تاکہ ایک ایسا ماحول قائم کیا جا سکے جو احترام، تفکر اور گفتوگو سے سرشار ہو۔
انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا میں مذہبی مطالعات اور بینالادیان مکالمے کے میدان میں یونیورسٹی کی نمایاں حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار ایران اور تھائی لینڈ کے درمیان ثقافتی و دینی تعلقات کو مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو امن، مفاہمت اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے ہوں۔
پروفیسر سوتیوارارام نے مزید کہا کہ دینی رہنماؤں کا کردار سماجی و اخلاقی بحرانوں کے خاتمے اور معاشروں میں ہمدلی پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں جہاں اخلاقی، سماجی اور ماحولیاتی بحران بڑھ رہے ہیں، مذہبی رہنماؤں کو صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے عمل سے بھی انسانیت اور ایمان کی مشترکہ زبان کو زندہ رکھنا چاہیے۔
بعد ازاں، ایران کے ثقافتی نمایندے نے تھائی لینڈ کی مرحومہ ملکہ والدہ کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے مہاچولا یونیورسٹی کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں مذاہب کے درمیان مکالمہ صرف ایک ثقافتی اقدام نہیں بلکہ عالمی معاشرے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔
رایزن نے اس بات پر زور دیا کہ مذاہبی رہنما اور دانشور پائیدار امن، اخلاقی قدروں اور بینالاقوامی مفاہمت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور تھائی لینڈ اپنے طویل ثقافتی و روحانی روابط کی بنیاد پر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کی ایک کامیاب مثال پیش کر سکتے ہیں۔
ثقافتی نمایندے نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مکالمے کو باہمی شناخت، غلط فہمیوں کے ازالے اور اقوام کے مابین تعلقات مضبوط کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق “الٰہی مذاہب اگرچہ اپنی عبادات و رسوم میں مختلف ہیں، مگر ان کی اصل تعلیم ایک ہی ہے ، انسان کو اخلاق، عدل، محبت اور خدمت کی طرف بلانا۔
طے شدہ منصوبے کے مطابق، بینالمللی سیمینار برائے گفتوگوی ادیان بعنوان “عالمی چیلنجز اور مذہبی رہنماؤں و دانشوروں کی ذمہداریاں” ۱۶ دسمبر ۲۰۲۵ (۲۵ آذر ۱۴۰۴) کو بینکاک میں مہاچولا یونیورسٹی کے دفتر میں منعقد ہوگا۔
اس تقریب میں اسلام، بدھ مت، مسیحیت سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ۱۵۰ سے زائد علمی، ثقافتی اور مذہبی شخصیات شرکت کریں گی۔ اہم مہمانوں میں ایران کے اسلامی ثقافت و ارتباطات تنظیم کے سربراہ، تھائی لینڈ اور سری لنکا کے بدھ رہنما، شیخالاسلام تھائی لینڈ، اور وزیرِ ثقافت شامل ہوں گے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے سیمینار کے مقام کا معائنہ کیا اور ہالوں کی ترتیب، سہولیات اور انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ بھی طے پایا کہ دونوں فریق ایک مشترکہ تفصیلی پروگرام تیار کریں گے تاکہ اس بینالمللی تقریب کی شایانِ شان میزبانی کو یقینی بنایا جا سکے۔/
غزہ۔۔۔۔ مظلومیت کی علامت
یہ ایک عجیب اور دردناک مرحلۂ فکر ہے کہ دنیائے اسلام کا قلب و مرکز، فلسطین، گذشتہ ستر پچھتر برسوں سے عالمی کفر و نفاق کی سازشوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ اس طویل مظلومیت نے نہ صرف مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے بلکہ دنیا کے انصاف پسند انسانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آخر کب تک ظلم و جبر کے یہ سائے معصوم انسانوں پر مسلط رہیں گے۔؟ ایسے ہی تاریک حالات میں جب اسلامی دنیا مایوسی کے اندھیروں میں گھری ہوئی تھی، ایران میں انقلابِ اسلامی برپا ہوا۔ امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والے اس انقلاب نے نہ صرف ایران کے مقدر کو بدلا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امید کی ایک نئی کرن روشن کی۔ امام خمینیؒ اور ان کے بعد آنے والی قیادت نے ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کو اپنا ایمانی و انقلابی فریضہ سمجھا۔ انقلاب کے آغاز سے آج تک ایران کی خارجہ و دینی پالیسی کے محور میں فلسطین کی آزادی اور مظلوموں کی نصرت کا جذبہ نمایاں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت کی پاداش میں عالمی استعمار۔۔۔۔ خصوصاً امریکہ اور اسرائیل۔۔۔۔ نے ہمیشہ ایران کو نشانہ بنایا۔ چند ماہ قبل کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں، جب ایرانِ اسلامی کے صفِ اوّل کے کئی بہادر جنرل اور سپاہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ لیکن ایران نے کسی دباؤ یا حملے کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنے کا عزم ایک بار پھر ثابت کر دیا۔ اس ثابت قدمی کا ایک بڑا ثمر یہ ہے کہ دنیائے اہلِ سنت کے عوام اب اُن مذہبی رہنماؤں پر سوال اٹھانے لگے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ شیعیت کے چہرے کو مسخ کرکے پیش کیا اور اتحادِ امت کے بجائے تفرقہ انگیزی کو ہوا دی۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ہونے والے بعض مظاہروں میں جس طرح امریکی و صیہونی بیانیے کی تائید میں ایرانِ اسلامی کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی اور "شیعہ کافر" کے نعرے لگائے گئے، اس نے اہلِ سنت کے چہرے کو مزید داغدار کیا۔
اب وقت آگیا ہے کہ اہلِ سنت کے باشعور افراد اور تمام دردِ امت رکھنے والے مسلمان اپنی صفوں سے ایسے ناپاک اور فتنہ انگیز عناصر کو الگ کریں، جو دراصل کفر و نفاق کے آلہ کار ہیں۔ یہ وہی گروہ ہیں، جو گذشتہ تیس برسوں سے پاکستان کے مظلوم مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب رہے ہیں اور آج بھی امریکی و اسرائیلی مفادات کے لیے زمین ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ مملکتِ خداداد پاکستان کے عوام کو چاہیئے کہ وہ بیدار اور ہوشیار رہیں، تاکہ کوئی بھی گروہ بیرونی سازشوں کے ذریعے ہمارے اتحاد، ایمان اور استحکام کو نقصان نہ پہنچا سکے۔
خداوندِ متعال سے دعا ہے کہ وہ ان سرکشوں اور دہشت گردوں کو نیست و نابود فرمائے، اسلامِ نابِ محمدیؐ کے پیروکاروں اور مدافعین کو فتح و نصرت عطا فرمائے اور رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آپ کی دیرینہ حمایت اور دفاع، جو غزہ کے مظلوموں کے لیے انجام دیا جا رہا ہے، بارگاہِ الہیٰ میں مقبول و منظور ہو۔ خداوندِ منّان مظلوم و بے کس فلسطینیوں، بالخصوص غزہ کے معصوم عوام کو جلد از جلد اسرائیل اور امریکہ کے ظلم و استبداد سے نجات عطا فرمائے اور پوری امتِ مسلمہ کو ایک بار پھر بیداری، اتحاد اور عزتِ ایمانی کی راہ پر گامزن کرے اور بقولِ جوش ملیح آبادیؔ:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مِٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
تحریر: م ح بھشتی
نتن یاہو، ٹرمپ اور گروسی کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائی جائے، ایرانی اراکین پارلیمنٹ کا مطالبہ
ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین نے امریکی صدر، صہیونی وزیر اعظم اور عالمی جوہری ایجنسی کے سربراہ کے خلاف عالمی اداروں میں شکایت کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس میں 76 اراکین نے مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ صہیونی وزیر اعظم نتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کے خلاف بین الاقوامی اداروں میں باضابطہ شکایت درج کرائی جائے۔
یہ مطالبہ سبزوار سے رکن پارلیمنٹ بہروز محبی نجم آبادی اور دیگر 75 اراکین نے وزیر انصاف امین حسین رحیمی کے نام ایک تحریری درخواست کے ذریعے کیا۔
اراکین نے کہا کہ ایران کو عالمی سطح پر ان شخصیات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے جنہوں نے ایران کے خلاف کھلی دشمنی، دباؤ اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
پارلیمنٹ کے اراکین نے زور دیا کہ ایران کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف اقدامات پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق عالمی اداروں میں شکایت درج کرانے سے نہ صرف ایران کا مؤقف مزید مضبوط ہوگا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ ایران اپنے حقوق کے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
اراکین نے کہا کہ نتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کے خلاف کھلی جارحانہ پالیسیاں اپنائیں جبکہ گروسی نے عالمی ایٹمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا۔ ایران کو چاہیے کہ ان اقدامات کو عالمی سطح پر چیلنج کرے تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات اور موقف کی حوصلہ شکنی ہو۔
غزہ میں صہیونی حکومت کے جنگی جرائم، ایران اور سعودی عرب کا او آئی سی کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریبآبادی نے دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی وزارت خارجہ کے معاون برائے امور بینالملل عبدالرحمن الرسی سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا اور بین الاقوامی، علاقائی و کثیرالجہتی تنظیموں میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
غریبآبادی نے اس موقع پر کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہم آہنگی، تعاون اور خوشگوار تعلقات سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ ان کے مثبت اثرات خطے اور عالمی سطح پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کئی شعبوں میں مشترکات رکھتے ہیں لہذا باہمی احترام اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت اپنے تعلقات کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ تنظیم عالمی سطح پر مسلمانوں کی مؤثر آواز بن سکے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے بین الاقوامی تنظیموں میں جاری تعاون، حقوق بشر، قانونی و عدالتی امور اور اسلامی تعاون تنظیم کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا اور کہا کہ OIC کو غزہ میں قابض حکومت کی جارحیت اور خطے میں اس کے مظالم کے خلاف مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔















































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
