سلیمانی
شہید رئیسی اور ان کے ساتھ شہید ہونے والوں کی پہلی برسی پر خطاب
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
والحمد للہ ربّ العالمین والصّلاۃ والسّلام علی سیّدنا ونبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین
یہ جلسہ ہمارے عزیز شہید صدر مرحوم آقائے رئیسی اور دیگر شہدائے خدمت کی یاد میں منعقد ہوا ہے جو ان کے ساتھ اس تلخ حادثے میں شہید ہوئے؛ شہید آل ہاشم،(1) شہید امیر عبداللہیان(2) ایئر اسٹاف کے شہدا (3) صوبہ آذربائیجان کے گورنر(4) سیکورٹی ٹیم کے کمانڈر(5) آج ہی کے دن ان حضرات کی شہادت نے ملت ایران کو سوگوار کر دیا تھا۔
انسان کی زندگی میں تلخ وشیریں واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ ہم ان حوادث پر غور کریں اور ان حوادث کے تناظر میں تاریخ سے اپنے ماضی سے اور خود ان حوادث سے درس حاصل کریں۔
میں شہید رئیسی کے بارے میں کچھ باتیں عرض کروں گا، لیکن مقصد صرف تعریف نہیں ہے، اگرچـہ جو عرض کروں گا وہ اس شہید کی ستائش ہے لیکن مقصد، صرف ستائش نہیں ہے بلکہ درس حاصل کرنا ہے۔
ہم سب، ہماری مستقبل کی نسلیں، ہمارے نوجوان اور وہ لوگ جو اس ملک میں حکمرانی کریں گے، اس قوم کے لئے کام کریں گے، وہ سنیں، جان لیں اور دیکھیں کہ اس طرح کی زندگی، عوام کے جذبات پر، ملک کے مستقبل پر اور ملک کی حالت پر کیا اثر مرتب کرتی ہے؛ یہ سب درس ہے۔
پہلی بات جو شہید رئیسی کے بارے میں عرض کروں گا وہ یہ ہے کہ وہ اس آیہ شریفہ کے مصداق تھے کہ " تِلکَ الدّارُ الآخِرَة نَجعَلھا لِلَّذینَ لا یُریدونَ عُلُوًّا فِی الاَرضِ وَ لا فَسادًا " (6) یہ ملک چلانے کے لئے اہم معیار ہے۔ لا یُریدونَ عُلُوًّا فِی الاَرض۔ سورہ قصص میں، جس میں یہ آیت ہے، یہ آیت سورہ کے اواخر میں ہے، سورہ کے شروع میں ارشاد ہوتا ہے کہ اِنَّ فِرعَونَ عَلا فِی الاَرض (7) اس کا نقطہ مقابل یہ ہے؛ وہ بلندی چاہتا ہے: اَ لَیسَ لی مُلکُ مِصرَ وَ ھذہ الانھار تَجری مِن تَحتی (8) خود کو برتر سمجھنا، اپنا بوجھ لوگوں پر ڈالنا، اورعوام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا، فرعونی حکومت کی خصوصیت ہے۔
اس کا بالکل برعکس، حکومت الہی کی خصوصیت ہے: لا یُریدونَ عُلُوًّا فِی الاَرض جس کے مصداق کامل شہید رئیسی تھے؛ ان کی سیاسی اور سماجی حیثیت بہت بلند تھی۔ وہ جو دورے کرتے تھے، ان میں آپ دیکھتے تھے، لوگوں سے جو ملاقاتیں کرتے تھے، لوگ ان سے کیسی عقیدت کا اظہار کرتے تھے، کتنے لگاؤ کا اظہار کرتے تھے، لیکن وہ خود کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھتے تھے۔ خود کو عوام کے برابر، ان کے جیسا اور بعض معاملات میں عوام سے بھی کمتر سمجھتے تھے۔ وہ اس نقطہ نگاہ کے ساتھ ملک پر حکمرانی کرتے تھے، حکومت چلاتے تھے اور امور کو آگے بڑھاتے تھے۔ ان سیاسی اور سماجی سہولتوں سے اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے تھے۔ اپنے لئے کچھ نہیں لیتے تھے، ان کی ساری توانائی، ساری قوتیں، سب کچھ عوام کی خدمت کے لئے تھا، عوام کے لئے تھا، بندگان خدا کی خدمت کے لئے تھا۔ قومی عزت وآبرو کی بلندی کے لئے تھا؛ راہ خدا میں خدمت کے لئے تھا اور راہ خدمت میں ہی اپنے خدا سے جا ملے۔ یہ اس عزیز شہید کی بہت اہم خصوصیت تھی جو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ الحمد للہ کہ اسلامی نظام میں ایسی خصوصیت رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن بہر حال ان سے درس حاصل کرنا چاہئے۔ اس کو عوام میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔
شہید رئیسی کا قلب خشوع اور ذکر خدا سے مملو تھا۔ ان کی زبان صریح اور صادق تھی۔ مستقل انتھک کام کرتے تھے۔ یہ تین خصوصیتیں ہیں: دل، زبان، اور عمل۔ کسی بھی انسان کی شخصیت اور ماہیت کو سمجھنے کے لئے، یہ تین بنیادی عناصر ہیں، اس کا دل، اس کی زبان اور اس کا عمل۔
شہید رئيسی کا دل، اہل ذکر و خشوع اور اہل توسل تھا؛ اس کا ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کیا تھا۔ پہلے سے، صدر بننے سے پہلے حتی عدلیہ کا سربراہ بننے سے پہلے ہم مشاہدہ کرتے تھے، جانتے تھے کہ اہل خشوع اور اہل توسّل ہیں اور ان کا دل خدا سے مانوس تھا۔ ان کا دل ایک طرف ایسا تھا اور دوسری طرف عوام کے لئے مہربانی سے لبریز تھا۔ عوام سے گلہ مند نہیں تھے۔ عوام سے بدگمان نہیں تھے۔ عوام کی شکایت نہیں کرتے تھے۔ ایک بات جو بہت ہوتی تھی، وہ یہ تھی وہ عوام سے ملتے تھے، لوگ آتے تھے اور شکایت کرتے تھے، بولتے تھے، ممکن ہے کہ بعض اوقات تند باتیں کرتے ہوں، لیکن وہ عوام کے لئے مہربان تھے اور اس طرح کے سلوک سے، ایسی نگاہوں سے اور حرکتوں سے ناراض نہیں ہوتے تھے۔
دوسری طرف انہیں اسلامی فریضے کی انجام دہی کی فکر تھی۔ وہ خدا کے ساتھ بھی تھے اور عوام کے ساتھ بھی تھے۔ انہیں اسلامی فریضے کی انجام دہی کی فکر بھی تھی کہ فریضہ ادا ہوا کہ نہیں ۔ اس طرح جو انجام دیا، وہ کافی ہے یا نہیں؟ انہیں ہمیشہ یہ فکر لاحق رہتی تھی۔ مجھ سے مستقل طور پر ملتے تھے، نظر آتا تھا کہ انہیں کام کی فکر ہے۔ فریضے کی انجام دہی کا فکر ہے۔ ذمہ داری کی سنگینی محسوس کرتے تھے۔ انھوں نے عدلیہ کی سربراہی صرف شرعی فریضے کی حیثیت سے قبول کی تھی۔ یہ میں قریب سے جانتا تھا۔ صدارتی الیکشن میں صرف شرعی فریضے کی انجام دہی کے لئے حصہ لیا۔ اس احساس ذمہ داری کی بات بہت سے لوگ کرتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے شرعی فریضے کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ انھوں نے ذمہ داری کا احساس کیا اورآئے وہاں بھی اور یہاں بھی۔ ان کے دل میں یہ رجحان تھا۔ یہ ان کے دل کی حالت تھی۔
ان کی زبان: عوام سے صراحت اور صداقت سے بات کرتے تھے۔ وہ عوام سے ابہام اور ابہام آمیز علامتوں کے ساتھ بات نہیں کرتے تھے۔ صریح، واضح اور صادقانہ بات کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا تھا کہ عوام سے کہیں کہ اگر کر سکے تو انجام دیں گے اور جہاں نہ کر سکے، وہاں عوام سے کہیں کہ نہیں کر سکتے ۔ وہ بھی اسی طرح عمل کرتے تھے۔ صراحت اور صداقت کے ساتھ۔ یہ صراحت اور صداقت حتی ان کی ڈپلومیسی کے مذاکرات میں بھی نظر آتی تھی اور سامنے والوں کو متاثر کرتی تھی۔ ڈپلومیسی کے مذاکرات میں جہاں باتیں گھمائی جاتی ہیں اور نیتیں چھپائی جاتی ہیں، وہ صراحت اور صداقت کے ساتھ بات کرتے تھے اور سامنے والے کو متاثر کرتے تھے اور وہ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ جانتے تھے کہ جو کہتے ہیں صحیح کہتے ہیں۔ اپنے دور صدارت میں، پہلے انٹرویو میں، رپورٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ امریکا سے مذاکرا ت کریں گے؟ انھوں نے کسی ابہام کے بغیر صراحت کے ساتھ کہا کہ نہیں اور نہيں کیا۔ انھوں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ دشمن یہ کہہ سکے کہ میں دھمکی سے، لالج دے کر اور حیلے سے ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا۔ انھوں نے یہ موقع نہیں دیا۔ یہ جو فریق مقابل براہ راست مذاکرات کے لئے اصرار کر رہا ہے، اس لئے ہے؛ اہم ہدف یہ ہے ، انھوں نے اس کی اجازت نہیں دی۔ البتہ بالواسطہ مذاکرات ان کے زمانے میں بھی تھے۔ جس طرح کہ اب ہو رہے ہیں۔ لیکن بے نتیجہ رہے۔ اب بھی ميں نہیں سمجھتا ہوں کا نتیجہ خیز ہوں گے، پتہ نہیں کیا ہوگا۔
مذاکرات کی بات ہوئی ہے تو میں بریکٹ میں، فریق مقابل کو ایک نصیحت کر دوں۔ امریکی فریق جو ان بالواسطہ مذاکرات میں بات کرتے ہیں اور بولتے ہیں، کوشش کریں کہ فضول کی باتیں نہ کریں۔ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دیں گے، یہ کچھ زیادہ ہی بڑا بول ہے۔ کوئی ان کی اجازت کا منتظر نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی سیاست ہے، اپنی روش ہے اور اپنی سیاست پر عمل کرتا ہے ۔ میں کسی اور موقع پر اس سلسلے میں ایرانی عوام کو بتاؤں گا کہ وہ جو افزودگی پر زیادہ بول رہے ہیں ، اس کی وجہ کیا ہے۔ امریکا اوریورپ والے اتنا اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ ایران میں افزودگی کا کام نہ ہو؛ اس بات کی میں ان شاء اللہ کسی اور موقع پر وضاحت کروں گا تاکہ عوام معلوم ہو جائے کہ ان کی نیت کیا ہے۔
ان کی (شہید رئیسی کی) زبان ایسی تھی: زبان سچی، پاک، گرمجوشی سے بھری اور شفاف تھی۔ یہ بہت اہم ہے۔ اگر ہم اس طرح بولنے کی اہمیت اور قدر کو سمجھنا چاہیں، جو شہید رئیسی کا طریقہ تھا کہ صراحت اور صداقت کے ساتھ بات کریں، تو اس کا موازنہ ، بعض مغربی ملکوں کے سربراہوں کی بات سے کریں جنھوں نے برسوں سے چیخ چیخ کر امن اور انسانی حقوق کے دفاع کے دعوے کرکے دنیا کے کان کا پردہ پھاڑ دیا، مستقل انسانی حقوق کا دم بھرتے ہیں لیکن ہزاروں مظلوم بچوں کے قتل عام پر، بڑوں کے قتل عام کی بات نہیں ہے، مختصر مدت میں غزہ ميں ہزاروں بچے شہید کر دیے گئے، شاید بیس ہزار سے زائد بچـے قتل کر دیئے گئے اور یہ جو انسانی حقوق کا اتنا دم بھرتے ہیں، نہ صرف یہ کہ یہ قتل عام نہیں روکا بلکہ ظالم کی مدد بھی کی! ان کے صلح اور امن کے دعوؤں، ان کے انسانی حقوق کے دعوؤں اور ان کی جھوٹی زبان کا شہید رئیسی جیسے ایک صدر کی صداقت اور صراحت سے موازنہ کریں تو اس کی اہمیت معلوم ہوگی۔ یہ ان کی زبان اور وہ ان کا دل۔
تیسرا عمل۔ شہید مستقل کام کرتے تھے؛ مستقل! رات اور دن نہیں دیکھتے تھے۔ انتھک محنت کرتے تھے۔ میں بار بار ان سے کہتا تھا کہ تھوڑا سا خیال رکھیں، ممکن ہے کہ طبیعت برداشت نہ کر سکے، بعض اوقات انسان گر جاتا ہے پھر کام نہیں کر سکتا۔ کہتے تھے، ميں کام سے نہيں تھکتا۔ مستقل کام ، مستقل کام اور معیاری کام، عوام کی خدمت، براہ راست عوام کی خدمت۔ فرض کریں ایک شہری کو پانی کی پائپ لائن جوڑنا ہے، پانی پہنچانا ہے، راستہ نکالنا ہے، روزگار فراہم کرنا ہے، کئی ہزار بند پڑے کارخانوں کو چلانا ہے، جو کام تین سال چار سال میں ختم ہو جانا چاہئے، وہ دس پندرہ سال سے ادھورا پڑا تھا، شہید رئیسی نے ان کاموں کا بیڑا اٹھایا، بہت سے شہروں ميں یہ کام کئے، ان شہروں کے عوام نے نزدیک سے یہ خدمت دیکھی اور اس کو محسوس کیا۔ یہ ایک طرح سے عوام کی خدمت تھی۔
ایک خدمت، ملی عزت و آبرو اور ملت ایران کے اعتبار کی ہے؛ ملت ایران کا اعتبار! یہ بات کہ بین الاقوامی مالیاتی مراکز کے کہنے کے مطابق ایران کا اقتصادی نمو، تین سال میں صفر سے پانچ فیصد تک پہنچ گیا، یہ قومی افتخار ہے۔ یہ ملی عزت ہے، یہ ملک کی پیشرفت کی علامت ہے؛ یہ ہوا اور اس طرح کے بہت سے کام ہوئے۔ مختلف عالمی اقتصادی تنظیموں میں رکنیت حاصل کرنا اور اسے محکم کرنا، ملت ایران کے لئے بین الاقوامی افتخار کی بات ہے۔ صدر مملکت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہاتھ میں قرآن اٹھائے، یا شہید سلیمانی کی تصویر ہاتھ میں اٹھائے،یہ قوم کے لئے باعث افتخار ہے جو قوم کی عزت بڑھاتا ہے۔ یہ دوسری طرح کی خدمت ہے۔ دونوں طرح کی خدمت ان برسوں میں اس شہید عزیز نے انجام دی۔
ان باتوں سے میں جو نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے: اہم یہ ہے کہ شہید رئیسی اور ان کے بہت سے نوجوان ساتھیوں میں وہی جذبہ اور نورانیت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، جو شہید رجائی کے ساتھیوں، جیسے کلانتری(9) جیسے عباس پور(10)جیسے قندی(11)جیسے نیلی (12) اور ان جیسے دوسرے لوگوں میں دیکھتے تھے، وہی نورانیت، وہی جذبہ، وہی ولولہ، وہی احساس ذمہ داری؛ اور وہ بھی چالیس برس بعد! یہ بہت اہم ہے؛ یہ وہی انقلابی قوت ہے۔ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ انقلاب، ایک طاقتور انقلاب ہے، یہ وہی امام بزرگوار کی فتح الفتوح ہے۔ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے انقلاب کے وسیلے سے، کارآمد اور ایثاروفداکاری کا جذبہ رکھنے والے لوگوں کی تربیت کو فتح الفتوح کہا ہے، یہ حاصل ہوئی۔
جب 1979 میں انقلاب کامیاب ہوا تو شہید رئیسی اٹھارہ برس کے نوجوان تھے؛ شہید آل ہاشم سولہ برس کے تھے، شہید امیر عبداللہیان چودہ برس کے بچے تھے، شہید مالک رحمتی پیدا نہيں ہوئے تھے؛ یہ انقلاب کے پروردہ تھے۔ شہید رئيسی مشہد سے، آل ہاشم تبریز سے، رحمتی مراغہ سے، امیر عبداللہیان دامغان سے، موسوی اصفہان کے فریدون شہر سے، مصطفوی گنبد قابوس سے، دریا نوش نجف آباد سے، قدیمی ابہر سے؛ یہ نوجوان ملک کے گوشہ وکنار سے اٹھے اور نمو حاصل کیا۔ انقلاب نے ان نوجوانوں جیسے لاکھوں لوگوں کی تربیت کی اور ان میں سے ممتاز بین الاقوامی شخصیات، ممتاز ہستیاں، ملت ایران کو دیں؛ یہ انقلاب کا کام ہے، یہ انقلاب کی طاقت ہے، یہ انقلاب کا امتیاز ہے کہ اس نے چالیس برس میں اسّی نوے برس کی ایک ضعیف العمر ہستی شہید آیت اللہ اشرفی(13) اور ایک اٹھارہ سال کے نوجوان شہید آرمان علی وردی کو ایک صف میں کھڑا کر دیا، انہیں تیار کیا اور آگے بڑھایا۔ اس نوجوان جیسے بہت سے نوجوان، اسی راہ میں شہید ہوئے جس میں شہید اشرفی اور شہید صدوقی جیسی ہستیاں شہید ہوئيں، سن رسیدہ افراد ابتدائے انقلاب میں شہید ہوئے۔ انقلاب ميں یہ توانائی پائی جاتی ہے کہ اس نے ان برسوں میں ایسے نوجوان تیار کر دیے۔ یہ ناقابل شکست ہے۔
انقلاب کی قدر کو جانیں، اس کی تربیت اور شخصیت کی تعمیر کی قدر کو سمجھیں، ملت ایران کی اس عظیم تحریک کی قدر سمجھیں، خدا سے نصرت طلب کریں اور اس راہ پر آگے بڑھیں؛ ان شاء اللہ ملت ایران بشریت کے لئے ایک جاویدانی درس رقم کرے گی اور فضل الہی سے یہ خدمت پوری دنیا، پوری بشریت کو پیش کرے گی۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
1۔ حجت الاسلام سید محمد علی آل ہاشم(تبریز کے امام جمعہ اور صوبہ مشرقی آذربائیجان میں نمائندہ ولی فقیہ)
2۔ جناب امیر عبداللہیان ( وزیر خارجہ)
3۔ بریگيڈیئر پائلٹ سید طاہر مصطفوی، بریگیڈیئر پائلٹ، محسن دریا نوش اور کرنل بہروز قدیمی
4۔ جناب مالک رحمتی
5۔ بریگیڈیئر سید مہدی موسوی
6۔ سورہ قصص، آیت نمبر 83؛"آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے ہے جو زمین پر برتری نہیں چاہتے اور بدعنوانی نہیں پھیلاتے۔۔۔۔"
7۔ سورہ قصص، آیت نمبر 4؛"فرعون نے زمین پر ( سرزمین مصر میں) سرکشی کی۔
8۔ سورہ زخرف، آیت نمبر 51؛ "۔۔۔۔۔ کیا مصر کی بادشاہت اور یہ نہریں جو میرے محل کے نیچے جاری ہیں، میری نہیں ہیں"۔۔۔۔"
9۔ شہید موسی کلانتری (شہید رجائی کی کابینہ میں روڈ اور ٹرانسپورٹ کے وزیر تھے) 28 جون 1982 کو جمہوری اسلامی پارٹی کے دفتر میں بم کے دھماکے میں شہید ہوئے۔
10۔ شہید عباس پور(شہید رجائی کی کابینہ کے وزير توانائی) 28 جون 1982 کو جمہوری اسلامی پارٹی کے دفتر میں بم کے دھماکے میں شہید ہوئے
11۔شہید محمود قندی ( شہید رجائی کی کابینہ کے پوسٹ اور ٹیلی کمیونکیشن کے وزیر) 28 جون 1982 کو جمہوری اسلامی پارٹی کے دفتر میں بم کے دھماکے میں شہید ہوئے
12۔ شہید حسن نیلی احمد آبادی ( 1983 سے 1985 تک، محکمہ دھات و معدنیات کے وزیر) 29 جون 1989 کو جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی اس کی ادائگی اورخدمت کے دوران شہید ہوئے۔
13۔ شہید آیت اللہ عطاء اللہ اشرفی اصفہانی (کرمانشاہ کے امام جمعہ)
مسلمان خاتون کو جدید اسلامی ثقافت کے لیے نمونہ بننا چاہیے
، لبنان کے شہدائے مقاومت کی بیواؤں اور چند منتخب خواتین نے مدیر جامعہ الزہرا سلام اللہ علیہا، محترمہ سیدہ زہرہ برقعی سے ملاقات کی۔
انہوں نے مہمان خواتین کو خوش آمدید کہتے ہوئے رہبر معظم انقلاب کے فرمان کا حوالہ دیا کہ شہداء "محفلوں کے چراغ" ہیں اور فرمایا: آپ کی موجودگی ہر محفل کو منور کر دیتی ہے۔ آج جامعہ الزہرا سیدہ سلام اللہ علیہا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ شہداء مقاومت کی اہل خانہ کی میزبانی کر رہا ہے۔
سیدہ زہرہ برقعی نے کہا کہ شہداء کا راستہ جاری رکھنا ایک الٰہی ذمہ داری ہے۔ قرآن ہمیں بشارت دیتا ہے کہ شہداء کے راستے کو اہل ایمان جاری رکھیں گے، اور ان کی یاد کو زندہ رکھنا ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔
انہوں نے خواتین کے کردار کو ثقافتی، شناختی اور استعماری چیلنجز کے مقابلے میں نہایت اہم قرار دیا اور کہا: خواتین امت اسلامیہ میں فکری و ثقافتی تبدیلی کی صفِ اوّل میں کھڑی ہیں، اور لبنانی خواتین نے نسل نو کی تربیت اور گفتمانِ مقاومت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب کے "زنِ تمدنساز" کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: مسلمان خاتون ایسی ہستی ہے جو دین و عبادت سے وابستہ، فکر و علم میں مصروف، خاندان کی نگراں اور سماجی میدان میں فعال ہو، اور اپنے خاندانی فرائض سے غافل نہ ہو۔
سیدہ برقعی نے جبهه مقاومت کی حوزوی و دانشگاهی خواتین پر مشتمل ایک عالمی اتحادیہ کے قیام کی تجویز دی اور کہا: جامعہ الزہرا سلام اللہ علیہا اس اتحادیہ کے مرکز کے قیام کے لیے آمادہ ہے، تاکہ ایران، لبنان، شام اور دیگر مقاومتی ممالک کی خواتین کے درمیان سائنسی و ثقافتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
شہید آیت اللہ رئیسی کی صاحبزادی کا دورۂ پاکستان؛ شہید کی برسی کی تقریبات میں شرکت اور خطاب
غزہ میں قحط، مغربی تہذیب کی سفاکیت
غزہ کی پٹی اور اس کے لاکھوں محصورین اس وقت شدید کرب کی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ غزہ جو پہلے ہی گذشتہ انیس ماہ میں امریکی اور اسرائیلی گولہ بارود کی زد میں ملبہ کا ڈھیر بن چکا ہے اور اب گذشتہ دو ماہ سے غزہ میں بھوک اور پیاس کی شدت سے اموات ہو رہی ہیں۔ یعنی غزہ میں بدترین قحط پڑ چکا ہے۔ یہ قحط مغربی تہذیب کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ امریکی اور اسرائیلی غاصب حکومت کے مشترکہ منصوبہ کے تحت غزہ میں آنے والی امداد کو روک دیا گیا ہے، تاکہ لوگ بھوک اور پیاس کی شدت سے مارے جائیں اور دبائو کے باعث غزہ کے علاقہ کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر کھلم کھلا ڈھٹائی اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ کے لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ مشکلات میں ہیں۔ ہم ان کو روٹی اور پانی دینا چاہتے ہیں، لیکن وہ حماس سے الگ ہو جائیں اور غزہ سے نکل جائیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا عرب حکمرانوں کے سامنے یہ بیان دراصل مغربی حکومتوں کے اصل مکروہ چہرہ کو عیاں کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ عرب حکمرانوں کی بے شرمی اور بے غیرتی پر دلیل بھی تھا۔ اسی طرح ٹرمپ کا یہ بیاں واضح طور پر مغربی دنیا کی سفاک تہذیب کی عکاسی کر رہا تھا کہ ہم کس طرح غزہ کے لوگوں کو بھوک اور پیاس سے مارنا چاہتے ہیں۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے اپنے سفاک چہرے پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی اور غزہ کی سرزمین جہاں ہر سانس بھوک، خوف اور محرومی کی گواہی بن چکی ہے، وہاں قابض اسرائیل ایک نیا مکروہ کھیل کھیلنے کا ارادہ کیا۔ دو ماہ سے زائد کی مکمل ناکہ بندی کے بعد اچانک چند درجن امدادی ٹرکوں کی اجازت، انسانیت کے نام پر ایک نئی چال بازی اور دھوکہ ہے۔ ایسا دھوکہ جو بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر قابض ریاست کی مکروہ تصویر کو دنیا کے سامنے صاف کرنا چاہتا ہے۔
غاصب صیہونی ریاست کے اس مکر و فریب کی چال سے متعلق مرکز برائے فلسطینی انسانی حقوق نے اپنے بیان میں اس سازش کو بے نقاب کیا ہے اور کہا ہے کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا نام نہاد انسانی رویہ درحقیقت ایک بے رحم مداخلت ہے، جو نہ صرف امدادی کارروائیوں کو محدود کر رہا ہے، بلکہ غزہ کے باسیوں پر "منظم بھوک” مسلط کرکے ان کی بنیادی انسانی اقدار کو پامال کر رہا ہے۔ غزہ کو بھوک اور قحط سے بچانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر کم سے کم 600 ٹرک امداد کی ضرورت ہے، لیکن غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے امدادی قافلوں کی غزہ آمد پر پابندی لگا رکھی ہے۔ کچھ روز قبل چند ٹرک چھوڑ کر غاصب صیہونیوں نے اپنے انسانی چہرے کو عیاں کرنے کی جو ناکام کوشش کی، اس سے مزید یہ ثابت ہوا کہ غاصب ریاست اسرائیل غزہ کے لئے امداد نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کو تڑپا تڑپا کر مار دینا چاہتی ہے۔
گذشتہ دنوں کی بات ہے کہ غزہ کی کرم ابو سالم کراسنگ سے داخل ہونے والی امدادی گاڑیوں کی تعداد درجنوں سے آگے نہ بڑھ سکی، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی زندہ رہنے کی بنیادی ضروریات کے لیے روزانہ کم از کم 600 ٹرک درکار ہیں، لیکن آج بھی سیکڑوں ٹن امدادی سامان، دوائیں، طبی سازوسامان اور غذائی اشیاء اسرائیلی رکاوٹوں کی نذر ہو کر غزہ کی دہلیز پر تباہی سے دوچار ہو رہے ہیں۔ غزہ کو بھوک اور قحط سے نکالنے کے لئے عالمی ادارہ برائے خوراک کی کارکردگی بھی ناقص رہی ہے۔ دوسری طرف اونروا کہ جس کا غزہ میں ایک نظام موجود تھا، اس ادارے کو بھی غاصب صیہونی ریاست اسرائیل امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے نہیں دے رہی ہے اور اس عالمی ایجنسی کے ادارے کے امدادی کارکنوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس ساری صورتحال میں امریکی صدر ٹرمپ سمیت مغربی و یورپی دنیا کی حکومتیں فقط بیان بازیوں تک ہی محدود ہیں۔ اگر یہ صورتحال کسی اور ملک میں رونما ہوتی تو شاید امریکی اور نیٹو کی فوجیں جا کر وہاں جنگ مسلط کر دیتیں، لیکن غاصب اسرائیل کے لئے تو امریکہ اور یورپی ممالک کی حکومتیں مدد گار ہیں، نیٹو آخر یہاں کس کے لئے کاروائی کرے گی۔؟ چاہے یہاں دو لاکھ لوگ مر جائیں یا پھر بھوک کی وجہ سے غزہ کے بیس لاکھ لوگ بھی مارے جائیں، لیکن یہاں مغربی تہذیب کو نہ تو انسانیت نظر آنے کی ہے اور نہ ہی امن و امان کی بات کی جائے گی۔ کیا امریکی حکومت اس قدر بے بس ہے کہ وہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو لگام نہیں دے سکتی۔؟ ہرگز نہیں بلکہ امریکی حکومت اس قتل عام اور نسل کشی میں برابر کی شریک ہے۔ یہی مغربی دنیا کی سفاک تہذیب ہے، جو دنیا کو انارکی اور تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔
غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا منصوبہ واضح ہے۔ محدود امداد کی آڑ میں مخصوص علاقوں جیسے رفح میں فلسطینیوں کو یکجا کرنا، شمالی اور وسطی غزہ کو انسانی وجود سے خالی کرنا اور ان علاقوں کو تباہ شدہ زمین میں تبدیل کرنا، امداد یہاں ایک انسانی ذمہ داری نہیں بلکہ سیاسی آلہ کار بن چکی ہے۔ غاصب اسرائیلی حکومت یہ سب کچھ امریکی حکومت کی مدد سے انجام دے رہی ہے۔غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ بیان کہ امداد کی اجازت فوجی کارروائی کے لیے ضروری ہے، دراصل اس گھناؤنے منصوبے کا کھلا اعتراف ہے کہ خوراک اور دواوں کو اب غاصب ریاست کے ہاتھوں میں ایک جنگی ہتھیار بن چکی ہے، ایک ایسا ہتھیار جو بچوں، عورتوں، مریضوں اور بزرگوں سب کو یکساں نشانہ بنا رہا ہے۔
مرکز برائے فلسطینی انسانی حقوق نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل امدادی عمل کو دانستہ سیاسی حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تاکہ فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، ان کی آبادی کو منتشر کیا جا سکے اور ایک زندہ، مزاحمت کرتی قوم کو بھوک، موت اور تباہی کی سرحد پر لا کھڑا کیا جائے۔یہ ساری صورتحال مغربی دنیا کی حکومتیں خاموشی سے دیکھ رہی ہیں اور کوئی بھی عملی اقدام کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ مغربی تہذیب ان حکومتوں کو اجازت نہیں دیتی، اس لئے اس تہذیب کو سفاک تہذیب کہا گیا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
یورینیم کی افزودگی سرخ لکیر کیوں؟
ایران اور مغرب کے درمیان دو دہائیوں پر محیط جوہری مذاکرات کے دوران اختلاف کا سب سے اہم نکتہ "یورینیم کی افزودگی" کا مسئلہ رہا ہے۔ افزودگی دونوں فریقوں کے درمیان اس قدر متنازعہ کیوں ہے؟ اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جوہری ٹیکنالوجی میں، (جو برسوں سے بنی نوع انسان کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے) "ایٹمی ایندھن کی پیداوار کے سائیکل" کو ایک کلیدی عنصر سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ملک اس عمل پر مکمل کنٹرول رکھتا ہو تو اسے حقیقی معنوں میں جوہری طاقت کہا جاتا ہے۔ اس سائیکل میں، جو سرنگوں سے یورینیم نکالنے سے شروع ہوتا ہے اور اس کی دوبارہ پروسیسنگ تک جاری رہتا ہے، اس میں سب سے اہم مرحلہ "یورینیم کی افزودگی میں اضافہ" ہے، تاکہ اسے توانائی کی پیداوار کے لیے تیار کیا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں، نیوکلیئر ہونے کا انحصار مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل ہونے پر ہے اور ایک مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل صنعتی طور پر یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
افزودگی کے عمل میں سنٹری فیوجز کی اعلیٰ سطح کا ہونا ضروری ہے، جس میں مصنوعات کو حاصل کرنے کے لیے ایک خاص درستگی اور معیار کا ہونا ضروری ہے۔ درحقیقت، جوہری ایندھن کی پیداوار کے سلسلے کا سب سے پیچیدہ حصہ افزودگی ہے۔ بلاشبہ، افزودگی مختلف سطحوں اور فیصدوں پر کی جاتی ہے اور افزودگی کی یہ شرح مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کم افزودگی (5 فیصد تک) بنیادی طور پر جوہری توانائی پیدا کرنے کے مقصد کے لیے ہے، درمیانی افزودگی (20 فیصد تک) کا استعمال ادویات اور زراعت میں ریڈیو آسوٹوپس بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، زیادہ افزودگی (60 فیصد تک) جدید آلات جیسے آبدوزوں میں استعمال کی جا سکتی ہے اور 90 فیصد اور اس سے اوپر کی افزودگی فوجی ایپلی کیشن یا ایٹم بم کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
تحریر: محمد جواد اخوان
سنوار زندہ ہے
اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کو ہلاک کرنے والا نوجوان امریکی "مزاحمت" اور "اسرائیل کے ڈراؤنے خواب" کی علامت بن گیا ہے اور سوشل میڈیا کے صارفین اس کا موازنہ یحییٰ سنوار سے کر رہے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی انٹرنیشنل گروپ کے مطابق، عربی بولنے والے اور ترکی بولنے والے صارفین نے X-Space پر یحییٰ سنوار اور الیاس روڈریگز کی تصویر شیئر کی، جس میں اسرائیل کے خلاف فلسطین کی حمایت کرنے کے لیے ان دونوں افراد کی ہمت اور آزادی کی تعریف کی گئی ہے۔ کارکنوں نے سنوار کو قتل کر دیا۔ سنوار واشنگٹن کے مرکز میں زندہ ہوگیا۔ بدھ کی شام 11 مئی کو امریکی نوجوان الیاس روڈریگز نے واشنگٹن ڈی سی میں یہودی میوزیم کے سامنے اسرائیلی سفارت کاروں کے ایک گروپ پر حملہ کیا اور صیہونی حکومت کے سفارت خانے کے دو ملازمین کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل امریکی فوج کے ایک پائلٹ ایرون بشنیل نے بھی غزہ کی جنگ اور تل ابیب کے جنگی جرائم کی امریکہ کی بھرپور حمایت کے خلاف احتجاجاً اپنی جان خطرے میں ڈال کر واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود کو آگ لگا لی تھی۔ اس معاملے میں جس چیز نے صارفین کی توجہ مبذول کروائی، وہ یہ ہے کہ روڈریگز شوٹنگ کے بعد موقع سے فرار نہیں ہوئے بلکہ میوزیم کے گیٹ کے قریب پولیس کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔ شکاگو سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی مصنف اور محقق جو افریقی نژاد امریکی رہنماؤں کی سوانح حیات کو دستاویزی شکل دینے میں مہارت رکھتے ہیں، انہوں نے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے پر "فلسطین کو آزاد کرو" کا نعرہ لگایا اور کہا کہ اس نے یہ کام فلسطینی عوام کی حمایت میں کیا ہے۔
اس نوجوان امریکی کے بارے میں سوشل میڈیا کے صارفین کے کچھ تبصرے درج ذیل ہیں: "امریکہ میں دو صہیونیوں کی موت کی خبر سے شروع ہونے والا دن خدا کا دن ہے، تعطیل اور چھٹی کا دن۔ محترم الیاس روڈریگز، ہمیں یاد دلانے کے لیے آپ کا شکریہ کہ صیہونیوں کے لیے اب کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ آپ کا یہ عمل اور کورونا وائرس دونوں بہت زیادہ تیزی سے پھیلے، لیکن آپ کا عمل مثبت تھا اور دوسرا انفیکشن منفی تھا۔ لاطینی کرسچن #Elias_Rodriguez اس نے تاریخ کا مطالعہ کیا اور پھر اسے بنایا۔ اس نے جو دیکھا، وہ برداشت نہ کرسکا۔ ٹی وی پر غزہ کے لوگوں کے بارے میں پروگرام چل رہے تھے، وہ ان کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے طریقے سے بدلہ لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ الیاس کا رول ماڈل ابو ابراہیم السنور تھا۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے سنور کو مارا ہے، لیکن وہ ہر اس جگہ ظاہر ہوتا ہے، جہاں آپ کو لگتا ہے کہ آپ سب سے محفوظ ہیں، وہ آپ کے دماغ میں جاکر پھٹتا ہے۔
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
شیراز مرصع کاری ہاؤس
شیرازی مرصع کاری،اہم ترین اور خالص ترین ایرانی مرصع کاری شمار ہوتی ہے جس کی تاریخ ایک ہزار برس سے زیادہ ہے۔ مرصع کاری کے شیرازی فنکار، معیاری سامان خاص قسم کی لکڑیوں اور قدرتی ہڈیوں پر اپنی منفرد مہارت کے ساتھ فنکاری کے جوہر دکھاتے ہیں اور اس بات نے شیرازی مرصع کاری کو ممتازکردیا ہے۔ شیرازی مرصع کاری کے ممتاز فنکار، حمید اطمینان نے اپنے ذاتی خرچ سے اس شہر کی ایک تاریخی عمارت میں، " خانہ خاتم شیراز" یعنی شیراز مرصع کاری ہاؤس کے نام سے شیرازی مرصع کاری کا ایک میوزیم بنایا ہے جو ایران کی ایک ثقافتی میراث، شیراز کے مخصوص فن مرصع کاری کو متعارف کرانے اور معروف فنکاروں کے تیار کردہ نادر فنپاروں کے تحفظ اور نمائش کا مرکز شمار ہوتا ہے۔
شہید رئیسی چیلنجوں کے مقابلے میں کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوئے، مشیر رہبر انقلاب
، ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محسنی ایجی نے شہید رئیسی کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 1976ء کے بعد کے سالوں میں، دینی مدارس میں ایک نیا ماحول تھا، اور جن لوگوں نے سیاسی مسائل کو اٹھایا، ان میں سے ایک شہید بہشتی تھے، اس دور کے نوجوان ان بزرگوں سے قریب ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ تب سے میری شہید رئیسی سے شناسائی شروع ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں انقلاب سے پہلے ان سے واقف نہیں تھا، اور انقلاب کے بعد ہی میں شہید رئیسی سے آشنا ہوا۔" انقلاب کے بعد نوجوان عدلیہ میں آنے لگے۔ اس وقت ایک انقلابی ماحول اور بدعنوانی کے خلاف جنگ (کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف جنگ) غالب تھی، اس وقت ہمارے رابطے میں اضافہ ہوا۔
حجت الاسلام اژہ ای نے مزید کہا کہ 1987 کے بعد سے ان کی شہادت تک، کبھی بھی ہمارے رابطے میں خلل نہیں پڑا اور ان چالیس سالوں کے دوران، ہم نے سب سے زیادہ تعاون کیا۔
انہوں نے شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات کے بارے میں کہا کہ انقلاب کے بعد ایسے لوگ تھے جو ظاہری طور پر انقلابی تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا، تاہم کچھ لوگ انقلاب کے آغاز سے ہی صراط مستقیم اور رہبری اور نظام کے راستے پر قائم رہے، میری رائے میں یہ ان اہم خصوصیات میں سے ایک ہے جو شہید رئیسی میں موجود تھی اور وہ آخر تک اس راستے پر قائم رہے۔
ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ شہید رئیسی کی ایک اور خصوصیت مسائل کی پیروی تھی، اور یہ میرے لیے دلچسپ تھا، جب وہ عدلیہ کے سربراہ تھے تو میں ان کا نائب تھا اور میں نے شہید رئیسی کی مختلف مسائل میں باقاعدہ پیروی کا مشاہدہ کیا، اپنے اہداف کے حصول میں انتھک رہنا ان کی واضح خوبیوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے شہید رئیسی کی شہادت کے حوالے سے کہا: ہم اس دن کو کیسے بھول سکتے ہیں، ہم نے معاشرے کی ایک عظیم اور ہر دلعزیز شخصیت کو کھو دیا۔ مجھے صحیح وقت یاد نہیں، لیکن مجھے یاد ہے جب مجھے بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر غائب ہے۔ میں شہید رئیسی کو جانتا تھا اور مجھے یہ خبر سن کر کوئی صدمہ نہیں ہوا۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ کسی گاؤں میں رک گئے ہیں، لیکن اس کے بعد آنے والی خبروں نے میری پریشانی بڑھا دی۔ ان کی شہادت کی خبر بہت دل دہلا دینے والی تھی۔
ایران کا فضائی دفاعی نظام پہلے سے کئی گنا مضبوط ہوگیا ہے، جنرل باقری
، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور تیاریوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
تہران میں فضائی دفاع کے کمانڈروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں میں ہم نے غیر ملکی طاقتوں کی سرگرمیوں کی شناخت اور نگرانی کی صلاحیت میں پانچ گنا اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکوک پروازوں اور انہیں تباہ کرنے والے نظاموں کی صلاحیتیں دو سے تین گنا بہتر ہو چکی ہیں۔
جنرل باقری نے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے دشمنوں کو کسی بھی قدم سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیے۔ وہ جان لیں کہ ہمارے فضائی حدود کی خلاف ورزی ان کے لیے بھاری نقصان کا باعث بنے گی۔ ان کا نقصان متوقع فوائد سے کئی گنا زائد ہوگا۔
شہید رئیسی آغاز سے ہی نظام ولایت کے راستے پر ثابت قدم رہے، ایرانی چیف جسٹس
مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محسنی ایجی نے شہید رئیسی کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 1976ء کے بعد کے سالوں میں، دینی مدارس میں ایک نیا ماحول تھا، اور جن لوگوں نے سیاسی مسائل کو اٹھایا، ان میں سے ایک شہید بہشتی تھے، اس دور کے نوجوان ان بزرگوں سے قریب ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ تب سے میری شہید رئیسی سے شناسائی شروع ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں انقلاب سے پہلے ان سے واقف نہیں تھا، اور انقلاب کے بعد ہی میں شہید رئیسی سے آشنا ہوا۔" انقلاب کے بعد نوجوان عدلیہ میں آنے لگے۔ اس وقت ایک انقلابی ماحول اور بدعنوانی کے خلاف جنگ (کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف جنگ) غالب تھی، اس وقت ہمارے رابطے میں اضافہ ہوا۔
حجت الاسلام اژہ ای نے مزید کہا کہ 1987 کے بعد سے ان کی شہادت تک، کبھی بھی ہمارے رابطے میں خلل نہیں پڑا اور ان چالیس سالوں کے دوران، ہم نے سب سے زیادہ تعاون کیا۔
انہوں نے شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات کے بارے میں کہا کہ انقلاب کے بعد ایسے لوگ تھے جو ظاہری طور پر انقلابی تھے لیکن بعد میں انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا، تاہم کچھ لوگ انقلاب کے آغاز سے ہی صراط مستقیم اور رہبری اور نظام کے راستے پر قائم رہے، میری رائے میں یہ ان اہم خصوصیات میں سے ایک ہے جو شہید رئیسی میں موجود تھی اور وہ آخر تک اس راستے پر قائم رہے۔
ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ شہید رئیسی کی ایک اور خصوصیت مسائل کی پیروی تھی، اور یہ میرے لیے دلچسپ تھا، جب وہ عدلیہ کے سربراہ تھے تو میں ان کا نائب تھا اور میں نے شہید رئیسی کی مختلف مسائل میں باقاعدہ پیروی کا مشاہدہ کیا، اپنے اہداف کے حصول میں انتھک رہنا ان کی واضح خوبیوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے شہید رئیسی کی شہادت کے حوالے سے کہا: ہم اس دن کو کیسے بھول سکتے ہیں، ہم نے معاشرے کی ایک عظیم اور ہر دلعزیز شخصیت کو کھو دیا۔ مجھے صحیح وقت یاد نہیں، لیکن مجھے یاد ہے جب مجھے بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر غائب ہے۔ میں شہید رئیسی کو جانتا تھا اور مجھے یہ خبر سن کر کوئی صدمہ نہیں ہوا۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ کسی گاؤں میں رک گئے ہیں، لیکن اس کے بعد آنے والی خبروں نے میری پریشانی بڑھا دی۔ ان کی شہادت کی خبر بہت دل دہلا دینے والی تھی۔
























































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
