سلیمانی
ایران ہماری فوجی چھاؤنیوں کی رگ رگ سے واقف ہے: صیہونی ذرائع ابلاغ
چند روز قبل صیہونی ذرائع نے 21 سالہ اسرائیلی فوجی "رافائل روونی" کی گرفتاری کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ فوجی ایران کے لیے حساس معلومات اکٹھا کر رہا تھا۔
اس شخص کی گرفتاری کے بعد صیہونی حلقوں میں صیہونی فوج اور انٹیلی جنس کے سسٹم میں ایران کے نفوذ پر گہما گہمی بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ جمعرات کو ٹائمز آف اسرائیل اخبار میں ایک صیہونی نوجوان کی گرفتاری کی خبر شایع ہوئی جس میں اس شخص پر الزام عائد کیا گيا تھا کہ اس کا ایک ایرانی انٹیلی جنس کے افسر سے رابطہ تھا اور اس نے مقبوضہ علاقوں من جملہ بس اسٹاپس اور شاپنگ سینٹروں کی تصاویر اور ویڈیو ایرانی افسر کے لیے بھیجی ہیں۔
صیہونی ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ اس شخص نے اپنے فوجی شناختی کارڈ کی تصویر اور اس فوجی مرکز کی معلومات ایرانی افسر کو فراہم کی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ شخص صیہونی فوج کے انتہائی حساس اور خفیہ مرکز "ہاتزاریم" میں تعینات تھا جس کے نتیجے میں صیہونی فوجی اور انٹیلی جنس مراکز میں ایران کے نفوذ کے بارے میں حساسیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
اسرائیل کے چینل 15 نے اعتراف کیا ہے کہ "ایران کے انٹیلی جنس ادارے صیہونی فوج کے انتہائی حساس مراکز، من جملہ اسٹریٹیجک ایئربیسز میں نفوذ کرچکے ہیں۔"
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند مہینے کے دوران، صیہونی فوجی عدالتوں میں 50 سے زیادہ اسرائيلیوں کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کے جرم میں کیسز کھل چکے ہیں جن میں سے 5 کا تعلق صیہونی فوج سے ہے۔
حضرت فاطمہ(س)کی معنوی و اخلاقی شخصیت تاریخی منابع کی روشنی میں
یہ سلسلہ اہل بیت (ع) کی طرزِ زندگی سے آشنائی کے مقصد سے مرتب کیا گیا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ معصومین (ع) کی عملی و اخلاقی تعلیمات کو آج کی زندگی میں قابلِ استفادہ بنایا جائے۔
مصنف نے کتاب "خاطرِ نازک گل" کی تدوین کے لیے ۵۰۰ سے زائد مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۲۲۹ مآخذ کو متن میں استعمال کیا ہے۔ یہ وسیع تحقیقی دائرہ مصنف کی تاریخی و روائی مطالب کو صحیح اور معتبر انداز میں پیش کرنے پر خاص توجہ کو ظاہر کرتا ہے اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی، فضائل اور اخلاقی سیرت کا جامع تجزیہ پیش کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
کتاب کے آغاز میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ظاہری شخصیت کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں آراستگی، نظافت، حفظانِ صحت، کھانے کے آداب اور بعض ذاتی رویوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد ان کی معنوی زندگی اور شخصی فضائل پر بحث کی گئی ہے اور قرآن کی آیات و معتبر احادیث کی بنیاد پر حضرت زہرا (س) کا مقام و منزلت بیان کیا گیا ہے۔
کتاب "خاطرِ نازک گل" میں مختصر کہانیوں اور عملی مثالوں کے ذریعے حضرت زہرا (س) کی زندگی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں ادب، احترام، عفت، حیاء، ولایت مداری، ایثار، صبر، عصمت، زہد، فروتنی، سخاوت، پاکدامنی، دوراندیشی، حکمت، شجاعت، علم، تدبیر، مظلومیت، نیکوکاری، عبادت، مہمان نوازی اور تقویٰ جیسے اوصاف کا تفصیلی ذکر ہے۔
یہ کتاب اس سلسلے کا تیسرا جلد ہے جو 80 کی دہائی میں "کتاب سال" کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مجموعہ "سیرتِ عملی چہاردہ معصومین (ع)" اس سوال کا جواب دینے کے لیے مرتب کیا گیا ہے کہ معصومین (ع) کس طرح اکیسویں صدی کے انسان کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں اور ان کی تعلیمات روزمرہ مسائل کے حل میں کس طرح مددگار ہو سکتی ہیں۔
یہ مجموعہ ۵۰ سے زائد موضوعات پر مشتمل ہے؛ جن میں ظاہری و باطنی شخصیت، فردی، خاندانی، سماجی و سیاسی طرزِ زندگی، دفاعِ ولایت، انقلابی خطبات، واقعۂ فدک، خدا، انسان اور فطرت سے تعلق، حتیٰ کہ مخالفین اور حیوانات کے حقوق بھی شامل ہیں۔ اس کتاب کے مخاطب عام لوگ بالخصوص نوجوان اور طلبہ ہیں، اور مصنف نے معتبر تاریخی و روائی مآخذ کی بنیاد پر معصومین (ع) کی سیرت کو قابلِ فہم اور عملی زبان میں پیش کیا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی آراستگی اور نظافت
کتاب "خاطرِ نازک گل" کے ابتدائی حصے میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ظاہری شخصیت اور آراستگی کا بیان کیا گیا ہے۔ ان کی نمایاں خصوصیات میں ذاتی نظافت اور مناسب لباس شامل ہیں۔ شادی جیسے مواقع پر، رسول اکرم (ص) نے اپنی ازواج کو ہدایت دی کہ فاطمہ (س) کو آراستہ کریں۔ حضرت زہرا (س) بھی نبی اکرم کے حکم کے مطابق سرمہ اور خوشبو استعمال کرتی تھیں اور پہلی شبِ ازدواج اور نماز کے وقت خوشبو لگانے کا اہتمام کرتی تھیں۔
حضرت زہرا (س) نظافت اور ہاتھ دھونے کو خاص اہمیت دیتی تھیں اور جسم و روح کی پاکیزگی کو لازمی سمجھتی تھیں۔ روایات میں آیا ہے کہ وہ پشمی چادر اور ریشمی کپڑا استعمال کرتی تھیں اور لباس کے انتخاب میں سادگی اور وقار کو ملحوظ رکھتی تھیں۔
معنوی سیرت اور اخلاقی فضائل
کتاب کے اگلے حصوں میں حضرت زہرا (س) کے معنوی اور اخلاقی فضائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آیہ تطہیر، جو اہل بیت (ع) کی طہارت اور عصمت پر زور دیتی ہے، مصنف کے تجزیے کا بنیادی محور ہے۔ اس آیت میں اہل بیت کی روحانی و اخلاقی پاکیزگی کو واضح کیا گیا ہے اور حضرت زہرا (س) کو اس مقامِ الٰہی کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مصنف نے واقعۂ فدک کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی وفات کے بعد، ابوبکر نے حضرت زہرا (س) کے کارندوں کو فدک سے بے دخل کر دیا اور زمین ضبط کر لی، بغیر اس کے کہ ان کے دعوے کو سنا جائے۔ حضرت علی (ع) نے اس اقدام کے جواب میں حضرت زہرا (س) کی عصمت اور طہارت پر زور دیا اور یاد دلایا کہ اس حقیقت کا انکار دراصل کتابِ خدا کی تکذیب ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اخلاقی فضائل اور شخصی خصوصیات
کتاب "خاطرِ نازک گل" میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اخلاقی رویوں اور شخصی خصوصیات کے متعدد نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں ادب، احترام، عفت، حیاء، ولایت مداری، ایثار، صبر، عصمت، زہد، فروتنی، سخاوت، پاکدامنی، دوراندیشی، حکمت، بزرگواری، شجاعت، علم، تدبیر، مظلومیت، نیکوکاری، خداباوری، عبادت اور مہمان نوازی شامل ہیں۔ مصنف نے ان اوصاف کو معتبر تاریخی و روائی مآخذ کی بنیاد پر مختصر کہانیوں اور عملی مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے تاکہ قاری حضرت زہرا (س) کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے آشنا ہو سکے۔
حضرت زہرا (س) قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر کو خاص اہمیت دیتی تھیں۔ ان کی تاکید سورۂ حدید، واقعہ اور الرحمن کی قراءت اور ان پر عمل کرنے پر تھی۔ مصنف نے قرآن کو انسانیت کی ہدایت کے لیے دائمی نسخہ قرار دیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل دنیا و آخرت میں سکون اور نجات کا ذریعہ ہے۔
کتاب کا ایک اہم حصہ واقعۂ فدک ہے۔ فدک خیبر کے قریب ایک بستی تھی جو سات ہجری میں رسول اکرم (ص) کے اختیار میں آئی۔ رسول اکرم (ص) کی وفات کے بعد، ابوبکر کے کارندوں نے حضرت زہرا (س) کے نمائندے کو وہاں سے بے دخل کر دیا اور زمین ضبط کر لی۔ یہ واقعہ حضرت زہرا (س) کی مظلومیت اور ان کے حقوق و اہل بیت کے دفاع کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مصنف نے معتبر تاریخی و روائی منابع کی بنیاد پر اس واقعے کو تفصیل سے بیان کیا اور اس کے اثرات کو تاریخِ اسلام میں تجزیہ کیا ہے۔
کتاب "خاطرِ نازک گل" ایک جامع اور مستند تجزیہ پیش کرتی ہے اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کی طرزِ زندگی اور اخلاقی فضائل کو معاصر قاری کے لیے قابلِ فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ اثر بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اہل بیت (ع) کی سیرت سے الہام لے کر اخلاقی و معنوی اقدار کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
یہ جلد، مجموعہ "سیرتِ عملی چہاردہ معصومین (ع)" کا تیسرا حصہ ہے جو حضرت زہرا (س) کی زندگی پر مرکوز ہے۔ پہلے دو جلدیں رسول اکرم (ص) اور امام علی (ع) کی زندگی پر مشتمل تھیں۔ یہ مجموعہ معتبر منابع اور مستند روایات کی بنیاد پر معصومین (ع) کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی کے لیے عملی زبان میں پیش کرتا ہے۔
چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود حضرت زہرا (س) کی تعلیمات دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں اور اہل بیت کے چاہنے والوں کی زندگی پر اثرانداز ہیں۔ کتاب "خاطرِ نازک گل" نہ صرف حضرت زہرا (س) کی عظیم شخصیت اور اخلاقی فضائل کو واضح کرتی ہے بلکہ موجودہ معاشرے کی معنوی و اخلاقی ضرورتوں کا جواب بھی فراہم کرتی ہے اور فرد، خاندان اور سماج کے لیے عملی رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے۔
کتاب "خاطرِ نازک گل" سید حسین سیدی کی تصنیف ہے، ۳۰۲ صفحات پر مشتمل ہے اور "نشر معارف" سے شائع ہوئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ اور امریکا کا اختلاف ماہیتی اور دو نظریات کے مفادات کا ٹکراؤ ہے
آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس ملاقات کے دوران اپنے خطاب میں ایران کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کے بعض امریکی عہدیداروں کے بیانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ تعاون، ملعون صیہونی حکومت کے ساتھ امریکا کے تعاون اور مدد سے میل نہیں کھاتا۔ انھوں نے عالمی رائے عامہ میں صیہونی حکومت سے نفرت اور اس کی مذمت کے باوجود امریکا کی جانب سے اس حکومت کی مدد، پشت پناہی اور حمایت جاری رہنے کے بعد بھی ایران کے ساتھ تعاون کی درخواست کو لایعنی اور ناقابل قبول بتایا۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکا صیہونی حکومت کی پشت پناہی پوری طرح سے چھوڑ دے، خطے سے اپنے فوجی اڈوں کو ختم کر دے اور اس علاقے میں اپنی مداخلت بند کر دے تو اس مسئلے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی اس وقت اور مستقبل قریب میں نہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم سے امریکا کی دشمنی کے ماضی اور اسی طرح 4 نومبر 1979 کو امریکا کے جاسوسی کے اڈے پر قبضے کے مختلف پہلوؤں کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی جوانوں کے ہاتھوں امریکی سفارتخانے پر قبضے کے واقعے کا، تاریخی اور ماہیتی پہلو سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے تاریخی پہلو سے اسٹوڈنٹس کے اس شجاعانہ اقدام کو ایرانی قوم کے فخر اور فتح کا دن قرار دیا اور کہا کہ ایران کی تاریخ میں، فتح کے دن بھی ہیں اور کمزوری کے بھی اور دونوں کو قومی حافظے میں محفوظ رہنا چاہیے۔ انھوں نے اس بڑے واقعے کے ماہیتی پہلو کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارتخانے پر قبضے نے، امریکی حکومت کی ماہیت اور اسی طرح اسلامی انقلاب کی حقیقی ماہیت کو عیاں کر دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے آپ کو برتر سمجھنے کے معنی میں قرآن میں استعمال ہونے والے لفظ "استکبار" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی زمانے میں برطانیہ جیسی اور آج کل امریکا جیسی کوئی حکومت اس بات کو اپنا حق سمجھتی ہے کہ اقوام کے حیاتی مفادات کو لوٹ کر ان پر حکم چلائے یا کسی ایسے ملک میں جہاں مضبوط حکومت اور ہوشیار عوام نہیں ہیں، اپنے فوجی اڈے قائم کرے اور اقوام کے تیل اور دیگر ذخائر کو لوٹے اور یہ وہی استکبار یا سامراج ہے جس کے ہم دشمن ہیں اور جس کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ انھوں نے ایران میں دسیوں سال پہلے مصدق کی حکومت کو گرانے کے لیے برطانیہ اور اس کے ہمنواؤں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، برطانیہ سے بچنے کے لیے ان کی جانب سے امریکا سے مدد مانگنے میں ان کی سادہ لوحی اور غفلت کی یاددہانی کرائی اور کہا کہ امریکیوں نے مصدق کو بھروسہ دلایا لیکن ان کی پس پشت انھوں نے انگریزوں سے ہاتھ ملا کر بغاوت کرائي اور ایران کی قومی حکومت کو گرا کر ملک سے فرار ہو چکے شاہ کو ایران میں واپس لوٹایا۔
انھوں نے امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف پاس ہونے والے معاندانہ بل کو اسلامی انقلاب سے امریکا کا پہلا ٹکراؤ بتایا اور محمد رضا کو امریکا میں آنے دینے پر ایرانی رائے عامہ کے غیظ و غضب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کو محسوس ہوا کہ امریکی اپنے ملک کو شاہ کو بسا کر، ایک بار پھر ایران میں بغاوت کرانا اور شاہ کو واپس لوٹانا چاہتے ہیں اور اسی لیے وہ طیش میں سڑکوں پر آ گئے اور ان کے اور اسٹوڈنٹس کے مظاہروں کا ایک حصہ، امریکی سفارتخانے پر قبضے پر منتج ہوا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ابتدا میں اسٹوڈنٹس صرف دو تین دن سفارتخانے میں رہنا اور دنیا کے سامنے صرف ایرانی قوم کے غصے کا اظہار کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں سفارتخانے میں ایسے دستاویزات ملے جن سے پتہ چلا کہ معاملہ تصور سے کہیں آگے کا ہے اور امریکی سفارتخانہ، انقلاب کو ختم کرنے کی سازشوں کا مرکز ہے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے دنیا میں سفارتخانوں کے معمول کے کاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارتخانے کا مسئلہ، معلومات اکٹھا کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکی سازشوں اور چالوں کا ایک مرکز بنا کر انقلاب کے خلاف کارروائی کے لیے شاہ کی حکومت کی باقیات، فوج کے بعض افراد اور کچھ دوسرے لوگوں کو اکٹھا کرنا چاہ رہے تھے اور جب اسٹوڈنٹس کو یہ پتہ چلا تو انھوں نے سفارت خانے کو اپنے قبضے میں باقی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے امریکی سفارتخانے پر قبضے کو ایران اور امریکا کے درمیان مسائل کی شروعات بتائے جانے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ امریکا کے ساتھ ہمارا مسئلہ 4 نومبر 1979 کو نہیں بلکہ 19 اگست 1956 کو شروع ہوا تھا جب برطانیہ اور امریکا نے مصدق کے خلاف بغاوت کرائي تھی۔ اس کے علاوہ امریکی سفارتخانے پر قبضے کی وجہ سے انقلاب کے خلاف بہت گہری سازش اور خطرے کا پتہ چلا اور اسٹوڈنٹس نے یہ اہم کام کر کے اور دستاویزات کو اکٹھا کر کے اس سازش کو بے نقاب کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب سے دشمنی اور اس کے خلاف طرح طرح کی سازشوں کی اصل وجہ، امریکا کے منہ سے ایک شکار کا نکل جانا اور ایران کے ذخائر پر سے امریکا کا تسلط ختم ہو جانا بتایا اور کہا کہ وہ اتنی آسانی سے ایران کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے اور اسی لیے انھوں نے شروع سے ہی نہ صرف اسلامی جمہوریہ کے خلاف بلکہ ایرانی قوم کے خلاف اپنی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے انقلاب کے بعد کے برسوں میں ایرانی قوم کے خلاف امریکا کی لگاتار دشمنی کو امام خمینی کے اس جملے کی حقانیت کی نشانی بتایا کہ "آپ جتنا بھی برا بھلا کہنا چاہتے ہیں، امریکا کو کہیں۔" انھوں نے کہا کہ امریکا کی دشمنی صرف زبانی نہیں تھی بلکہ امریکیوں نے ایرانی قوم کو نقصان پہنچانے کے لیے پابندی، سازش، اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں کی مدد، ایران پر حملے کے لیے صدام کو ترغیب دلانے اور اس کی حمایت، تین سو افراد کے ساتھ ایران کے مسافر بردار طیارے کو مار گرانے، پروپیگنڈوں کی جنگ اور براہ راست فوجی حملے جیسا ہر کام کیا کیونکہ امریکا کی ماہیت، اسلامی انقلاب کی خودمختارانہ ماہیت سے میل نہیں کھاتی اور امریکا اور اسلامی جمہوریہ کا اختلاف کوئی ٹیکٹکل اور جزوی اختلاف نہیں بلکہ بنیادی اور وجودی اختلاف ہے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے بعض لوگوں کی طرف سے "امریکا مردہ باد" کے نعرے کو ایرانی قوم سے امریکا کی دشمنی کی وجہ قرار دیے جانے کو تاریخ کو الٹا لکھنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ نعرہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے امریکا ہماری قوم سے ٹکرا جائے، اسلامی جمہوریہ سے امریکا کا اصل مسئلہ، ماہیت کا اختلاف اور مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ انھوں نے بعض لوگوں کے اس سوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہم امریکا کے سامنے نہیں جھکے لیکن کیا ابد تک ہمارے اس سے تعلقات نہیں ہوں گے؟ کہا کہ امریکا کی سامراجی ماہیت، فریق مقابل کے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز کو نہیں مانتی اور یہ چیز سبھی امریکی سربراہان مملکت چاہتے تھے لیکن زبان پر نہیں لاتے تھے تاہم ان کے موجودہ صدر نے یہ بات کھل کر زبان سے کہہ دی اور امریکا کے باطن پر پڑا ہوا پردہ ہٹا دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اتنی زیادہ توانائی، ثروت، فکری و نظریاتی ماضی اور ذہین و پرجوش نوجوان رکھنے والی ایرانی قوم سے سرینڈر ہو جانے کی توقع رکھنے کو فضول بتایا اور کہا کہ مستقبل بعید کے بارے میں تو نہیں کہا جا سکتا لیکن اس وقت سبھی جان لیں کہ بہت سے مسائل کا علاج، طاقتور بننا ہے۔ انھوں نے اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب علیہا السلام کے ایام شہادت کی مناسبت سے جوانوں کو ان درخشاں مناروں کی عملی پیروی کی نصیحت کی اور کہا کہ آپ اپنے اطراف کے لوگوں کو ان عظیم ہستیوں کی سیرت پر توجہ دینے اور اس سے سبق سیکھنے کی ترغیب دلائیے۔
ملک کا سب سے بڑا سرمایہ امن ہے، اتحاد سے ہی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے: حجۃ الاسلام حکیم الہی
ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے جماعت اسلامی مہاراشٹرا کے اراکین سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کی پسماندگی کا بڑا سبب اندرونی کمزوریاں اور غفلت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن صرف باہر سے حملہ نہیں کرتا بلکہ قوم کی اپنی بے توجہی بھی اس کی طاقت کو کمزور کرتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی داخلی کمزوریوں کو پہچانیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلمانوں پر تاریخ میں ظلم ہوا، وسائل لوٹے گئے اور انہیں کمزور کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امت کے اندر موجود کمزوریاں بھی اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلمان عملی میدان سے غیر حاضر تھے اور انہی حالات میں عالمی طاقتوں نے مسلم زمینوں کی تقسیم کر لی، اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو اپنی سر زمین کی تقسیم کبھی قبول نہ کرتے، مگر یہ ہماری تاریخ کا ایک تلخ باب ہے۔
نمائندۂ ولی فقیہ نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں اور ملک کے تمام شہریوں پر لازم ہے کہ وہ غیر حاضر نہ رہیں بلکہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی سب سے بڑی نعمت امن و امان ہے، جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی صحت اور امن کو ایسی نعمتیں قرار دیا ہے جن کی قدر اکثر لوگ نہیں کرتے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے امن کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے اور شرپسند عناصر کو موقع نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ محبت، احترام، پرامن بقائے باہمی اور سماجی تعاون ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں، خصوصاً کمزور اور محروم طبقات کی مدد کرنا ہم سب کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ علمی و فکری نشستیں، تربیتی مجالس اور وحدتِ امت کے موضوعات پر مشترکہ پروگرام زیادہ منظم انداز میں منعقد ہوں گے تاکہ نوجوان نسل کو صحیح راستہ دکھایا جا سکے۔
ڈاکٹر حکیم الہی نے قرآن کریم میں بیان کردہ امانت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسان ایک عظیم ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے، اسی لیے اسے امین کہا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی بعثت سے پہلے "محمد الامین" کے لقب سے جانا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امت کی ذمہ داری موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ آنے والی نسلوں اور انسانیت تک پھیلتی ہے۔ "دنیا کے آٹھ ارب انسان اس پیغام کے منتظر ہیں، ہمیں اپنی آواز وہاں تک پہنچانی ہوگی۔"
اس موقع پر ڈاکٹر سلیم خان، نائب صدر جماعت اسلامی مہاراشٹر، نے اپنے خطاب میں انقلاب اسلامی ایران کے ساتھ اپنی تاریخی وابستگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انقلاب کے ابتدائی ایام میں حیدرآباد میں ایک عظیم پروگرام منعقد ہوا تھا جس میں امام خمینیؒ کی آمد کی خواہش ظاہر کی گئی تھی، لیکن امام نے آیت اللہ خامنہ ای کو نمائندہ بنا کر بھیجا، جن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ "آج ہمیں خوشی ہے کہ آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے نمائندے کا ممبئی میں استقبال کرنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔"
اسی طرح جناب ظفر انصاری، سیکرٹری جماعت اسلامی ہند، نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے جماعت اسلامی کے ماحول سے وابستہ رہے اور نوجوانی کے دور میں انقلاب اسلامی کے لیے منعقدہ احتجاجات اور تحریکوں میں سرگرم رہے۔
انہوں نے کہا کہ علامہ مودودی کے افکار نے ان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا، اور انہیں امام خمینیؒ کے نظریات میں اس کی زیادہ مضبوط اور عملی شکل نظر آئی، جو آج بھی امت کے لیے رہنما ہیں۔
وہ انقلاب جس نے عورت کو فیصلے اور ارادے کی قوت عطا کی
مرحوم علامہ طباطبائیؒ "جو تفسیر المیزان کے مصنف ہیں" نے سورہ بقرہ کی آیات 228 تا 242 کی تفسیر میں یہ وضاحت کی ہے کہ اسلام اور دیگر ادیان و اقوام میں عورت کے حقوق، شخصیت اور سماجی مقام کے بارے میں کیا اصول پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں اسی سلسلے کی گیارہویں قسط پیش کی جا رہی ہے۔
اسلام میں عورت کا سماجی مقام اور حیثیت
اسلام نے عورت اور مرد دونوں کو معاشرتی معاملات، فیصلہ سازی اور اجتماعی ذمہ داریوں میں برابر کا حق دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مرد کھانے، پینے، پہننے اور زندگی کے دیگر تقاضے پورے کرنے کا محتاج ہے، عورت بھی انہی ضروریات کی حامل ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: "بَعۡضُکُم مِّنۢ بَعۡضٍ" یعنی تم سب ایک دوسرے ہی کی جنس سے ہو۔
لہٰذا جس طرح مرد اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنے، خود عمل کرنے اور اپنی محنت کا مالک بننے کا حق رکھتا ہے، اسی طرح عورت بھی اپنی کوشش اور عمل کی مالک ہے۔
قرآن فرماتا ہے: "لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ"یعنی عورت اور مرد، دونوں اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔چنانچہ اسلام کے نزدیک حقوق کے دائرے میں عورت اور مرد برابر ہیں۔ البتہ اللہ نے فطرتِ انسانی کے تحت عورت میں دو خصوصی صفات رکھی ہیں جن کی وجہ سے اس کی ذمہ داریاں اور معاشرتی کردار کچھ پہلوؤں میں مرد سے مختلف ہو جاتا ہے۔
عورت کی تخلیق میں دو امتیازی خصوصیات
1. نسلِ انسانی کی پرورش کا مرکز
اللہ نے عورت کو نسلِ انسانی کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنایا۔
بچہ اسی کے وجود میں نشوونما پاتا ہے، اسی کے بطن میں پروان چڑھ کر دنیا میں آتا ہے۔
اس لیے بقایائے نسلِ بشر عورت کے وجود سے وابستہ ہے۔
اور چونکہ وہ "کھیتی" (قرآن کے لفظ میں: حرث) ہے، اس حیثیت سے اس کے کچھ خاص احکام ہیں جو مرد سے مختلف ہیں۔
2. جذب و محبت کی لطیف فطرت
عورت کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ مرد کو اپنی طرف مائل کر سکے تاکہ نکاح قائم ہو، خاندان وجود میں آئے اور نسل باقی رہے۔
اسی مقصد کے تحت:
اللہ نے عورت کی جسمانی ساخت کو لطیف بنایا
اور اس کے احساسات و جذبات کو نرم و رقیق رکھا
تاکہ وہ بچے کی پرورش اور گھر کی ذمہ داریوں کے مشقت بھرے مرحلوں کو بہتر طریقے سے نبھا سکے۔
یہ دونوں خصوصیات "ایک جسمانی، ایک روحانی" عورت کی سماجی ذمہ داریوں اور کردار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
یہی ہے اسلام میں عورت کا مقام اور سماجی حیثیت، اور اسی بیان سے مرد کا سماجی مقام بھی واضح ہو جاتا ہے۔ یوں دونوں کے مشترک احکام اور ہر ایک کے مخصوص احکام میں جو پیچیدگیاں نظر آتی ہیں، وہ بھی آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہیں۔
جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: «وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَکُمْ عَلَیٰ بَعْض لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِه إِنَّ اللَّهَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمًاـ»
"اور تم اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے۔ مردوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ۔ اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو؛ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔"
اسلام کا توازن: نہ مرد افضل، نہ عورت
اسلام وضاحت کرتا ہے کہ: کچھ فضیلتیں خالص فطری ذمہ داریوں کی وجہ سے مختص ہوتی ہیں
کچھ فضیلتیں عمل اور کردار پر منحصر ہوتی ہیں، جو دونوں کے لیے یکساں ہیں مثلاً: مرد کا حصۂ وراثت عورت سے زیادہ رکھا گیا۔
گھر کا خرچ عورت پر لازم نہیں کیا گیا— یہ اس کی فضیلت ہے لہٰذا: مرد یہ آرزو نہ کرے: "کاش گھر کا خرچ میری ذمہ داری نہ ہوتا" عورت یہ آرزو نہ کرے: "کاش وراثت میں میرا حصہ برابر ہوتا"
اس لیے کہ یہ فطری ذمہ داریوں کی بنیاد پر تقسیم ہیں، نہ فضیلت یا کمی کی بنیاد پر۔ باقی فضیلتیں "جیسے ایمان، علم، عقل، تقویٰ اور نیکی" خالصتاً عمل پر منحصر ہیں۔ یہ نہ مرد سے مخصوص ہیں نہ عورت سے؛ جو زیادہ عمل کرے گا، وہی زیادہ مقام پائے گا۔ اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا: "وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ" یعنی اللہ کے فضل کا طلبگار بنو۔
(منبع: ترجمہ تفسیر المیزان، جلد 2، صفحہ 410)
سفارتی کوششوں کی طرح، اسرائیل اور امریکہ نے "قاہرہ معاہدے" کا بھی گلا گھونٹ دیا: سید عباس عراقچی
سید عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ جون کے مہینے میں جس طرح اسرائیل اور امریکہ نے سفارتکاری پر وار کیا اسی طرح "قاہرہ معاہدے" کو بھی امریکہ اور یورپی ٹرائیکا نے قتل کردیا۔
انہوں نے لکھا کہ اس ناپسند اور شرمناک سلسلے نے صورتحال کو یہاں تک پہنچایا ہے۔
وزیر خارجہ نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ جب ایران امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے چھٹے دور کی تیاری کر رہا تھا تو اسے صیہونی حکومت اور پھر امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑا اور ان واقعات کے بعد اور ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملے کے باوجود، جب قاہرہ میں مصر کی ثالثی میں معائنہ کاری کو بحال کرنے کے لیے آئی اے ای اے کے ساتھ اتفاق حاصل ہوا، تو یورپی ٹرائیکا نے امریکہ کے دباؤ میں آکر ایرانی عوام پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو بحال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔
اور اس بار جب ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو دسترسی دینا شروع کی اور ان جوہری مراکز کا معائنہ کروایا گیا جو بمباری سے محفوظ تھے تو امریکہ اور تین یورپی ملکوں نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف قرارداد منظور کروا دی۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اب سب پر واضح ہوگیا ہے کہ: یہ ایران نہیں جو ایک نئے بحران کا خواہاں ہے بلکہ یورپی ٹرائیکا اور امریکہ کشیدگی بڑھا رہے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ قاہرہ معاہدے کا خاتمہ بھی انہیں کی حرکتوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
اسرائیلی قرارداد
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ چند ماہ کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ قرارداد نمبر 2803 منظور کر کے کیا ہے جس نے غزہ کے مستقبل کو نیا رخ دے دیا ہے اور ایسے راستے پر گامزن کر ڈالا ہے جو امید کے ساتھ ساتھ خوف بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ قرارداد 13 ووٹوں کی حمایت سے منظور کی گئی جبکہ روس اور چین نے غیر جانبدارانہ ووٹ دیا اور اس کے تحت غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت "امن کمیٹی" اور "انٹرنیشنل فورس" کی تعیناتی قانونی قرار دے دی گئی ہے۔ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ انتظامی ڈھانچہ غزہ میں تعمیر نو اور معیشت کی بحالی کی ذمہ داری سنبھالے گا اور نیز اسلامی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا کام بھی انجام دے گا۔ اس قرارداد پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔
ایک طرف مغربی ممالک اس فیصلے کو فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم قرار دے رہے جبکہ دوسری طرف فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے اسے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی تھونپنے اور اسے واحد فلسطینی جغرافیے سے کاٹ دینے کی ایک کوشش قرار دی ہے۔ اس تنظیم کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی قوم کے تاریخی حقوق کے لیے خطرہ ہے اور اس سے نئے اور خطرناک حقائق جنم لیں گے۔ حماس نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی مسلط کردہ انتظامی ڈھانچہ اس عوام کی مرضی کا متبادل قرار نہیں پا سکتا جو دو سال کی تباہ کن جنگ کی ویرانیوں پر کھڑے ہو کر اب بھی اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے لیے لڑ رہی ہے۔ ایسی جنگ جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب بھی جاری ہے اور غزہ کی عوام اسے متاثر ہو رہی ہے۔
غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت
حماس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت ایک جائز اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں طے شدہ حق ہے، اپنے بیانیے میں کہا ہے کہ اسلامی مزاحمت کے ہتھیار قومی تشخص کا حصہ ہیں اور وہ غاصبانہ قبضے کے تسلسل سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا ان ہتھیاروں کے بارے میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت کا آغاز غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیے جانے سے مشروط ہو گا۔ اس بیانیے میں حماس کو غیر مسلح کرنے سمیت غزہ کے اندرونی معاملات کسی انٹرنیشنل فورس کے سپرد کیے جانے کو اس فورس کی غیر جانبداری کے خاتمے اور اسے فلسطین تنازعہ کے فریق میں تبدیل کر دینے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
حماس کی نظر میں یہ اقدام عملی طور پر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے حق میں رہے گا۔ حماس نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ انٹرنیشنل فورس تشکیل پاتی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف سرحدوں پر تعیناتی اور جنگ بندی کی نظارت تک محدود ہونی چاہیے اور اسے اپنی سرگرمیاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی انجام دینی چاہئیں نیز اسے فلسطین کے سرکاری اداروں سے تعاون کا پابند بھی ہونا چاہیے اور غاصب صیہونی رژیم کا اس میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ حماس نے مزید کہا ہے کہ اس انٹرنیشنل فورس کا اصل مقصد انسانی امداد کی فراہمی ضروری بنانا ہونا چاہیے اور اسے عوام پر مسلط کردہ سیکورٹی فورس کے طور پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح اسلامک جہاد فلسطین نے بھی ملتا جلتا موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی ہر گز قبول نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ منصوبے کی عنقریب شکست
ڈونلڈ ٹرمپ نے بیس نکات پر مشتمل غزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا اور صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 29 ستمبر کے دن امریکہ میں اس کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے، غزہ کو تمام ہتھیاروں سے عاری علاقہ بنانے، غزہ کی تعمیر نو، غزہ کا انتظام انٹرنیشنل سٹیبلٹی فورس کے سپرد کرنے اور غزہ کا انتظام ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں تشکیل پائی امن کمیٹی کے حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔ دوسری طرف صیہونی چینل 13 نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاوس حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ دیگر ممالک غزہ کو ہتھیاروں سے عاری کرنے کے لیے انٹرنیشنل فورس بھیجنے پر راضی نہیں ہیں۔ صیہونی وزیر جنگ یسرائیل کاتز نے کہا: "اسرائیل کی پالیسی واضح ہے، کوئی فلسطینی ریاست تشکیل نہیں پائے گی۔"
محمود عباس کو گرفتار کرنے کی دھمکی
سلامتی کونسل میں امریکہ کے پیش کردہ امن منصوبے کا ایسی سمت میں جانا جس کا صیہونی انتہاپسند حلقے توقع نہیں کر رہے تھے، ان انتہاپسند حلقوں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات بڑھ جانے کا باعث بنا ہے۔ صیہونی رژیم کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن غفیر نے پیر کے دن کہا کہ اگر اقوام متحدہ ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی سمت آگے بڑھی تو فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو گرفتار کر لیا جائے گا اور فلسطین اتھارٹی کے دیگر اعلی سطحی رہنماوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ یہ بیان سلامتی کونسل کی جانب سے قرارداد منظور کیے جانے کے چند ہی گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ میں شامل انتہاپسند وزرا نے فلسطین کے خلاف زہر آلود بیانات دینے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے میں شدید چیلنجز کا سامنا ہو گا۔
تحریر: علی احمدی
امام خمینیؒ نے دین کو انسانی زندگی کا بنیادی عنصر قرار دیا
امام خمینیؒ نے دین کو انسانی زندگی کا بنیادی عنصر قرار دیا، رہبر انقلاب اسلامی
امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے 2006ء میں اپنے ایک تاریخی خطاب میں انقلابِ اسلامی کے بانی امام خمینیؒ کی غیر متزلزل ایمان، بصیرت اور عزم و استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینیؒ نے خالص اور پختہ ایمان کے سہارے، مشکلات اور دھمکیوں کے باوجود، میدان میں قدم رکھا اور دین کو انسانی زندگی کا بنیادی ستون قرار دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اُس دور میں دین پر مبنی نظامِ حکومت کی بنیاد رکھی جب مذہب کو صرف انفرادی معاملات تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ اُن کے پختہ عزم اور دوراندیشی نے ایک ایسی حقیقت کی بنیاد رکھی جو آج اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ بڑی طاقتیں اپنی تمام تر سازشوں اور کوششوں کے باوجود اس کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
رہبر انقلاب نے فرمایا کہ استکباری طاقتوں کی دشمنی دراصل اسلامی نظام نہیں بلکہ امام خمینیؒ کے افکار و نظریات کے خلاف ہے۔ امام کی وفات کے سترہ برس بعد بھی ان کی شخصیت اور ان کے نظریات دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ کے افکار و نظریات آج بھی دنیاۓ اسلام میں زندہ ہیں، اور مختلف اسلامی ممالک میں ایرانی حکام کے دوروں کے دوران مسلمان عوام کی محبت و عقیدت اس بات کی علامت ہے کہ امام کے افکار نے عالمِ اسلام میں گہری جڑیں پکڑ لی ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیا کہ امام خمینیؒ کے کلمات، پیغامات اور وصیت نامہ اُن کے نظریات کا واضح اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ امام کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں اپنے طرزِ عمل سے اس وفاداری کو ثابت کرنا چاہیے۔ امام کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے وابستگی یا ذاتی مفاد کے حصول کی کوششیں امام کے راستے سے انحراف ہیں۔
بحیرہ کیسپین ہمارے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ خلیج فارس/ایران کے روس کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں: وزیر خارجہ عباس عراقچی
رشت میں بحیرہ کیسپین کے ساحلی ممالک کے ساحلی صوبوں کے گورنروں کے پہلے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے پڑوسی ہماری خارجہ پالیسی کی ترجیح ہیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم اصول ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کیسپین سی کے تمام ساحلی ممالک کے ساتھ تعلقات بہترین ہیں اور ہم نے ان میں سے کچھ ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات بھی قائم کیے ہیں۔
انہوں نے روس اور ایران کو ایک دوسرے کے اسٹریٹیجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے بیس سالہ طویل مدتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان نے روس کے بعد جمہوریہ آذربائیجان کا بھی اہم دورہ کیا تھا اور وہ اگلے مہینے میں قزاقستان اور ترکمانستان کا بھی دورہ کریں گے۔
سیدعباس عراقچی نے کہا کہ اس خطے کے سربراہان مملکت کے درمیان بہت گہرے تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحیرہ کیسپین کا خطہ توانائی اور راہداریوں اور ٹرانزٹ روٹس دونوں لحاظ سے اہم ہے، کیسپین سی کے راستوں کو استعمال کرتے ہوئے اس خطے کے ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کا فروغ اہمیت کا حامل ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے زیارتی شہروں کے ساتھ ساتھ بحیرہ کیسپین کے ساحل پر واقع ایران کے تین صوبے گیلان، مازندران اور گلستان ایرانیوں کے لیے سب سے بڑے سیاحتی مقامات ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ بحیرہ کیسپین سے متصل ممالک سیاحوں کے لیے بھی سیاحتی مقام میں تبدیل ہوجائيں گے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کی جانب سے مغرب کے ایران مخالف اقدامات کی مخالفت
24ویں اجلاس کے اختتام پر، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے اعظم نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں بات چیت اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا اور جوہری مسئلے کے بہانے مغربی ملکوں کے ایران مخالف اقدامات کی مخالفت کا اعلان کیا۔
اس مشترکہ بیان پر ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف اور اجلاس میں شریک شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے دستخط کیے۔
مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گيا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اقتصادی پابندیوں سمیت ہر قسم کے یکطرفہ کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں سے متصادم بھی ہیں اور بین الاقوامی تعاون اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی رکاوٹ ہیں۔
بیان میں کہا گيا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 8 کے تحت قرارداد 2231 منسوخ ہوچکی ہے۔























![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
