سلیمانی
جنگ میں دشمن کی پسپائی؛ سورۂ فتح میں اللہ کا یقینی وعدہ
قرآنِ کریم سورۂ فتح کی آیات 22 اور 23 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر کافر تم سے جنگ کریں تو یقیناً وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ یہ اللہ کی وہ سنت ہے جو پہلے سے جاری ہے، اور تم اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
سنتِ الٰہی کا مطلب ایک یقینی اور قطعی قانون ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ جاری اصول ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر دشمن تم پر حملہ کرے اور تم میدان سے فرار نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ دشمن کو لازماً پسپا کر دیتا ہے۔ یہ عقیدہ تمام جنگوں میں ایک اصول کے طور پر کارفرما ہوتا ہے۔
البتہ اگر مؤمن خود جنگ کا آغاز کریں تو اس صورت میں اللہ کی سنت کے طور پر قطعی فتح کی ضمانت نہیں دی گئی؛ یعنی نصرت تو ہو سکتی ہے مگر فتح اور کامل غلبہ یقینی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر دشمن حملہ آور ہو تو اس وقت یہ سنتِ الٰہی جاری ہوتی ہے۔ آیت کا اندازِ بیان بھی بہت دقیق ہے؛ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دشمن مکمل شکست کھائے گا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ پسپا ہو جائے گا۔
جنگِ احزاب کے موقع پر جب مؤمنوں نے دیکھا کہ کفار مختلف گروہوں کی صورت میں حملہ آور ہو گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ وہی وعدہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا اور یقیناً دشمن پر غلبہ ہوگا:
اور جب مؤمنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؛ اور اس سے ان کے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہی ہوا۔ (احزاب: 22)
لہٰذا مؤمن اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں کی تکمیل کو یقینی سمجھتے ہیں، اور جب یہ وعدے پورے ہوتے ہیں تو ان کے ایمان اور یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
مذاکرات کی بجائے جنگ کیوں ہوئی؟
- روایات میں آیا ہے کہ قرآن کریم "یجری مجری الشمس" ہے، یعنی قرآن سورج کی طرح ہے جو ہر روز ایک نئے انداز سے طلوع ہوتا ہے۔ آج کے حالات کے تجزیے میں قرآن کی آیات میں سب سے قریب مثال جنگِ احزاب اور اس سے پہلے جنگِ بدر کے واقعات میں ملتی ہے۔
جب مسلمانوں کا لشکر روانہ ہوا تو ان کے سامنے دو قافلے تھے: ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا قریش کا مسلح لشکر۔ قرآن فرماتا ہے:
وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال: 7)
مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تھی اور ان کے پاس زیادہ جنگی ساز و سامان بھی نہیں تھا۔ فطری طور پر مسلمان چاہتے تھے کہ تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگ جائے، لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ وہ دشمن کے لشکر کے سامنے آئیں، تاکہ حق کو اپنی ہدایات کے ذریعے مضبوط کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے:
وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (الأنفال: 7)
لفظ "يُرِيدُ اللَّهُ" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر تھی، تاکہ فیصلہ کن مرحلہ آئے اور دشمن کی جڑ کاٹ دی جائے" وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ"۔
آج کے ایران کے حالات میں بھی دو راستے موجود تھے مذاکرات یا جنگ۔ عقل اور جنگ کے منفی نتائج کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ ایران اور پورے خطے کے لیے زیادہ پسندیدہ تھا، لیکن اللہ کی تقدیر یہ بنی کہ دشمن نے عقل کے خلاف مذاکرات کی میز کو الٹ دیا اور انقلاب اسلامی کے رہبر، ایرانی کمانڈروں، بچوں اور خواتین کو شہید کرنے کا اقدام کیا۔
حالانکہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ عزت اور سربلندی اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتی ہے اور بالآخر دشمنوں اور بچوں کے قاتل صہیونی نظام کی عسکری قوت اور اس کے تمام سہارے ختم و نابود ہو جاتے ہیں۔
ایرانی ڈرون اور نئے عالمی نظام کی تشکیل
سفارتی و دفاعی محاذ کا سپاہی، شہید علی لاریجانی کون؟
ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہید آیت اللہ سید عیلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی اکثر نظر آتے تھے۔ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود شہادت سے چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکاء کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔ علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ اور اس حملہ میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔ شہید کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ 1958ء میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران ڈاکٹر علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔
بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005ء سے 2007ء کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ 2025ء میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل تھا۔ علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ شہید کے بارے میں بتایا گیا ہے رہبر معظم کی شہادت کے بعد سے ڈاکٹر علی لاریجانی ان مخصوص رہنماوں میں شامل تھے جو اس جنگ کی قیادت کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، ایسے صورتحال میں دشمن شہید علی لاریجانی کے بھرپور تعقب میں تھا۔ علی لاریجانی کا شمار شہید رہبر معظم کے انتہائی قریبی اور باعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔
رپورٹ: سید عدیل عباس
غزہ کی خواتین جنگ، بے گھری اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث انسانی بحران کے دہانے پر
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور لڑکیاں جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر 22 سالہ ہند اپنے نومولود بچے کو شدید سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بچہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ پیدا ہوا اور اب بھی غزہ کے چند فعال اسپتالوں میں سے ایک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔
ہند کا کہنا ہے کہ زچگی کے وقت اس کا وزن صرف تقریباً ۴۳ کلوگرام تھا کیونکہ حمل کے دوران اسے شدید غذائی قلت کا سامنا رہا۔ وہ اپنے دوسرے بچے کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا اور ایک سرد اور نم خیمے میں رہنے کے باعث بیمار رہتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہند کی کہانی غزہ میں ہزاروں خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔ جنگ اور انسانی بحران کے کئی پہلوؤں نے فلسطینی خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔
شہیدوں کی راہ
ایران پر امریکی_صہیونی جارحیت کا پندرہواں دن، ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے پندرہویں دن ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اس کے میزائلوں کی ہدف پر لگنے کی صلاحیت میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دو گنا اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے آپریشن “وعدہ صادق 4” کے تسلسل میں اسرائیل کے نواتیم فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر سردار سید مجید موسوی نے میدانِ جنگ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایرانی میزائلوں کی ہدف تک پہنچنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایرانی میزائل اب پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکہ کو آخری انتباہ
دراین اثناء خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی تیل، توانائی یا اقتصادی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود ان تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں امریکی کمپنیوں کا حصہ ہے اور تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، ایرانی بحریہ
ایرانی بحریہ کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشتیوں کی آمد و رفت پر مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی جہازوں کی ساحلی علاقوں سے دوری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ ردعمل سے محتاط ہیں۔
عالمی یوم القدس مزاحمت کا استعارہ ہے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو کر ہم آواز ہو جائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی خواہ دنیا بھر میں متحد ہیں۔ امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے ایک مرکز ی دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے۔ انہوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انہوں نے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیااور کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کاروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ 7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جو کہ 23 رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ ایسے حالات میں آئے گا کہ جب دنیا کی شیطانی قوتیں امریکہ و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔ ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں۔ اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہو جائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔ یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال بھی بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کر لیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔ عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنا بھی ہے۔
جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرار کی ہے کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجو دہیں۔ ان کا راستہ ہمارے لئے واضح ہے۔ اگرا ٓج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤں نےاپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔ یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لئے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
شہید خامنہ ای مرکز وحدت اُمت
"بے شک تمہاری یہ اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔"یہ سورہ انبیاء کی اس آیت کا ترجمہ ہے جو شہید آیت اللہ العظمٰی رہبر معظم سید علی خامنہ ای اپنے اکثر خطابات میں بیان فرماتے تھے۔ ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ اس عظیم شہید نے ساری زندگی مسلمانوں کی وحدت کے لئے کوششوں میں صرف کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ بے مثال اور ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ان کی شہادت نے بکھری ہوئی امتِ مسلمہ کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد وحدت کا ایک عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر کوئی اس شہید کے گُن گاتا نظر آ رہا ہے۔
خامنہ ایؒ کون تھے دشمن ان سے اتنا خائف کیوں تھا؟ کیوں کہ وہ دشمنوں کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیتے تھے اور ان کے ہر اس عمل میں رکاوٹ ڈال دیتے تھے جس کے تحت دشمن مسلمانوں کو کمزور کرکے آپس میں لڑوا کر فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ شروع میں تو دشمن اس میں کافی کامیاب بھی رہا لیکن رہبر کی قیادت نے بہت جلد تمام مسلمانوں کے سامنے ان سازشوں کو آشکار کیا اور دشمن کے خوابوں کو چکنا چُور کر دیا۔ جب دشمن کی سازشوں کا شکار ہو کر عالم اسلام کے مختلف فرقے اور مسالک دست و گریبان تھے تو 2010 میں خامنہ ای صاحب نے عالم اسلام کے لئے ایک ایسا تاریخی فتوٰی دیا جس نے مسلمانوں کے درمیان کشیدگی اور کدورتوں کو ختم کرکے انھیں امت واحدہ بنا دیا۔
یہ تاریخی فتویٰ اہلسنت کے مقدسات کے بارے میں تھا۔ انھوں نے فتوٰی دیا کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی فتویٰ تھا کہ جس کا عالم اسلام میں زبردست انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس فتوے کے عملی اور عالمی اثرات کا میں خود شاہد ہوں کیونکہ اس سلسلے میں خانہ فرہنگ ایران لاہور نے ایک کتاب چھاپی جسے ایڈٹ کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہے۔ بعد میں اس کتاب کو دوبارہ اسلامی ثقافتی قونصلیٹ اسلام آباد نے شائع کیا۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان کدورتیں ختم ہوگئیں۔ اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ اور انھیں آپس میں لڑانے کی اس سازش کو بھی سمجھ گئے۔ غرض یہ فتویٰ ان کی زندگی کا وہ اہم ترین موڑ ہے، جس نے فرقہ واریت کی آگ بجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
رہبر معظم نے مسلمانوں کو دشمن کے ایک بہت ہی باریک نکتے اور وار سے خبردار کیا۔ وہ فرماتے تھے کہ وہ شیعہ جو لندن سے بیٹھ کر اشتعال انگیزی کرتا ہے اور وہ سنی جو امریکہ کی شہ پر نفرت پھیلاتا ہے، دونوں اسلام کے دشمن اور استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے "خالص محمدی اسلام" بمقابلہ "امریکی اسلام" کی اصطلاح متعارف کرائی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اور آسان کلیہ دیا کہ "ہر وہ آواز جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرے، وہ چاہے کسی بھی گلے سے نکلے، وہ شیطان کی آواز ہے۔ ان کا یہ نظریہ امت کو فرقہ وارانہ تعصب سے نکال کر 'بصیرت' کی اس بلندی پر لے گیا جہاں دشمن کی ہر چال بے نقاب ہو گئی۔"
مجمع تقریب مذاہب اسلامی ادارے کا قیام بھی ان کے وحدت اسلامی کی کوششوں کا عملی اقدام ہے۔ "مجمع تقریب مذاہب اسلامی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ شہید سید علی خامنہ ای کے اس عالمی وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو مسلکی جنگوں سے نکال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ رہبر بننے کے بعد وحدت اسلامی کی ان کا یہ پہلا اقدام تھا، جب ۱۹۹۰ء میں انہوں نے اس عالمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد علماء کو قریب لانا اور اسلامی فقہ کے درمیان مشترکات کو تلاش کرنا ہے۔ ہر سال "ہفتہ وحدت" کے موقع پر تہران میں ایک عظیم الشان "بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس" منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں مفتیانِ کرام، سکالرز اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت بنتی ہے کہ خلافت ہو یا امامت، تمام مسلمان "کلمہ توحید" پر ایک ہیں۔ رہبر کے نزدیک مسئلہ فلسطین بھی وحدت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر حماس اور جہاد اسلامی کی حمایت کی جائے۔ ان کا یہ موقف ثابت کرتا ہے کہ ایران کی حمایت کا معیار "مسلک" نہیں بلکہ "مظلومیت اور اسلام" ہے۔ مسئلہ فلسطین شہید سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں"اسلامی غیرت" اور "عملی وحدت" کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب بات اسلام کے قبلہ اول کی ہو، تو شیعہ اور سنی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس، وحدت کا عالمی دن مسلمانوں کے "نفسیاتی وحدت" کی وہ لہر ہے، جس کی آبیاری شہید خامنہ ای نے زندگی بھر حتٰی اپنے خون سے کی ہے۔ اس لئے مسلمانوں پر اس دن کی اہمیت اب کئی گنا اور بڑھ جاتی ہے۔
میری اپنی نظر میں رہبر کی تمام زندگی وحدت کا عملی نمونہ بنی رہی لیکن ان کی شہادت نے اس کو ایک نیا اور بھرپور موڑ دے دیا ہے۔ ان کی شہادت پر تمام عالم اسلام کا نہ صرف غم و غصے کا دیکھنے میں آیا بلکہ حقیقی طور پر عملی وحدت کا مظاہر ہ بھی نظر آیا۔ موجودہ دور میں جس طرح اسلام کے اس واحد شیر نے دشمن کو للکارا بھی اور لتاڑا بھی اس کی مثال نہیں ملتی اور بے اختیار بلا تفریق و مسلک تمام مسلمان رہبر کے معترف ہو گئے ہیں۔ شہادت کے واقعے نے مسلمانوں کو یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر یاد دلائی کہ صیہونی اور استعماری طاقتیں کسی خاص مسلک کی دوست یا دشمن نہیں، بلکہ ہر اس آواز کی دشمن ہیں جو "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر بلند ہوتی ہے۔
سید علی خامنہ ای نے اپنی شہادت سے اس کلمے کی آبیاری کی ہے کہ ان کے بعد، ان کے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور نئے رہبرِ انتخاب بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ منصب سنبھالنے کے بعد ان کے ابتدائی بیانات اور پیغامات میں اسی "وحدت" پر زور دیا گیا ہے جو ان کے والد کا خاصہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں فلسطین اور اتحادِ اسلامی کی اہمیت پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔ اس دور کے تیسرے خمینی تقریبی نظریات کو ہی آگے بڑھائیں گے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان شااللہ دشمن کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکے گا۔
تحریر: حاجی شبیر احمد شگری
رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی خبر سن کر سوگوار عوام سڑکوں پر نکل آئے
امریکہ اور صیہونی حکومت کے ہاتھوں رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی خبر سن کر اپنے قائد کے لیے سوگوار ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران میں عزاداروں کا سب سے بڑا اجتماع انقلاب اسکوائر پر دیکھا گیا جہاں دسیوں ہزار شہریوں نے اکٹھا ہوکر رہبر انقلاب اسلامی کے لیے عزاداری کی اور ان کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے دنیا کے مظلوموں کی حمایت اور ظالم طاقتوں کے مقابلے کا عہد کیا۔ تہران کے اجتماع کی تصویر پیش خدمت ہے۔




































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
