سلیمانی

سلیمانی

 حجت الاسلام والمسلمین حجت سروری نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سطح پر امامِ عصرؑ کی حکومت کے قیام اور اس کے فروغ کے لیے، حتیٰ کہ حضرتؑ کے ظہور کے بعد بھی، اخلاص، قربانی، سختیاں برداشت کرنا اور بہت سی مشکلات و رنج و غم سہنا ضروری ہوگا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عالمی موعود حکومت کے قیام کے لیے جنگی اور عسکری مہارتوں کے علاوہ دیگر مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوگی۔ تربیت یافتہ جنگی سپہ سالاروں کی شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ دانا اور پاکیزہ علماء کی حکمت و بصیرت بھی ضروری ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ امامِ زمانہؑ کا ایک اہم ترین مسئلہ اُن لوگوں کے ساتھ علمی اور ثقافتی جہاد ہے جو دین کی نئی نئی تشریحات پیش کرکے لوگوں کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں عسکری میدان میں ماہر بہادر مجاہدین کے ساتھ ایسے پاکیزہ اور باصلاحیت علماء کی بھی ضرورت ہے جو ان انسانی شکل میں موجود شیطانوں کے ساتھ علمی جہاد میں امامِ زمانہؑ کی مدد کر سکیں۔
البتہ ہمیں خود کو اس حد تک تیار کرنا چاہیے کہ حضرتؑ کے ظہور کے فوراً بعد ہم ان کے رکاب میں تلوار لے کر جہاد کر سکیں اور جدید ترین جنگی ہتھیاروں کا استعمال بھی جانتے ہوں۔ لیکن اب جب ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ امامِ زمانہؑ کی ایک اور اہم ذمہ داری بھی ہے، جس کا رنج و غم شاید ہر دوسری چیز سے زیادہ تکلیف دہ ہے، تو ہمیں ان کی مدد کے لیے خود کو علم و آگاہی کے ہتھیار سے مسلح کرنا چاہیے اور پوری قوت کے ساتھ ان شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ حضرتؑ کے دوستوں اور شیعوں کو گمراہ کن شبہات پھیلانے والے شیاطین کے جال سے نجات دلا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ شیعیانِ امامِ عصرؑ کے دلوں کی حفاظت علمائے ربانی کی ذمہ داری ہے۔
روایت میں ہے:«عُلَمَاءُ شِيعَتِنَا مُرَابِطُونَ بِالثَّغْرِ الَّذِي يَلِي إِبْلِيسُ وَعَفَارِيتُهُ...»
یعنی: ہمارے شیعوں کے علماء ان سرحدوں پر محافظ اور نگہبان ہیں جہاں سے ابلیس اور اس کے جنّی و انسانی پیروکار حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے کمزور شیعوں کو ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے تسلط سے محفوظ رکھتے ہیں۔
آگاہ رہو! ہمارے شیعوں میں سے جو شخص اس عظیم ذمہ داری کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس کا اجر و فضیلت ان تمام دشمنانِ اسلام کے ساتھ جہاد کرنے والے شخص سے لاکھوں گنا زیادہ ہے؛ کیونکہ وہ ہمارے محبین کے دین کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ دوسرا ان کے جسموں کی حفاظت کرتا ہے۔

استادِ حوزہ نے بیان کیا کہ ہر زمانے میں ہمارے لیے نمونہ اور اسوہ انبیاء اور ائمہؑ کی سیرت ہے، جن کی ہدایت بھری زندگی کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نمونۂ زندگی قرار دیا ہے:﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾
"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، پس آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔"
کتاب «شوقِ وصال؛ شرحی بر دعای ندبہ» کے

دینی مصنف نے کہا کہ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اسلام کے دشمنوں، یعنی کفار اور منافقین کے مقابلے میں قرآن نے ہمارے لیے کس شخصیت کو اسوہ اور نمونہ قرار دیا ہے؟ اور آخرالزمان کے اس انتہائی حساس دور میں دشمنوں کی فتنہ انگیزی اور منافقین کی جانب سے پیدا کیے جانے والے شبہات کے مقابل ہمیں کس طرح ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

دشمنوں کے مقابلے میں شیعوں کی چار ذمہ داریاں

1۔ فتنوں اور کفریہ شبہات سے دوری

حجت الاسلام والمسلمین سروری نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا﴾

ترجمہ:اور اللہ نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کر دیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں؛ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بے شک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں ایک ساتھ جمع کرنے والا ہے۔

2۔ دشمنوں سے برائت اور دشمنی کا اظہار

انہوں نے مزید کہا کہ سورۂ ممتحنہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ﴾

ترجمہ:اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس کا انکار کر چکے ہیں، اور رسولؐ اور تمہیں تمہارے وطن سے نکالتے ہیں۔

یہ آیت مؤمنین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتی ہے:اے ایمان والو! اگر تم واقعی اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی اور دوستانہ تعلقات قائم نہ کرو۔

3۔ سازش قبول نا کرنا

انہوں نے وضاحت کی کہ دوسروں کے افکار اور ان کے مقدسات کا احترام کریں، لیکن قرآن کہتا ہے کہ واضح طور پر اعلان کرو کہ ہم کافروں سے بیزار ہیں:﴿كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ﴾
ترجمہ:ہم تم سے بیزار ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے، یہاں تک کہ تم صرف اللہ پر ایمان لے آؤ۔

اپنی تعداد کم ہونے سے خوف زدہ نہ ہوں۔ اس بات سے بھی نہ ڈریں کہ ان کے پاس دولت، علم، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتیں موجود ہیں۔ آپ کے پاس اللہ ہے۔ اگر آپ استقامت اور ثابت قدمی اختیار کریں گے تو اللہ آپ کی مدد کرے گا۔

4۔ اللہ کی قدرت، نصرت اور مدد پر ایمان

کتاب «چشم بہ راہِ مُنتَظَر» کے مصنف نے کہا کہ
ہمیں رسولِ اکرم (ص) کی پیروی کرنی چاہیے، جنہوں نے احزاب کے مقابلے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ذرّہ بھر بھی کمزوری نہیں دکھائی؛ اسی طرح مؤمنین نے بھی آپ (ص) کی پیروی کی:﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾
پس ان میں سے کچھ نے اپنی نذر پوری کر دی (شہادت پا گئے) اور کچھ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔

استادِ حوزہ نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس بات سے خوفزدہ نہ ہوں کہ دشمن نے تمہیں گھیر رکھا ہے، وہ طاقتور ہے اور ہم کمزور ہیں۔ دشمن زیادہ طاقتور ہے یا اللہ؟ کیا اللہ ہی نہیں تھا جس نے تمہاری مدد کی؟
﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ﴾
اور یقیناً اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جبکہ تم کمزور اور بے سروسامان تھے۔
اللہ نے تمہاری مدد کی اور تمہیں کامیابی عطا کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر تم وہی بسیجی بن جاؤ جنہوں نے بہادری کے ساتھ دشمن کو اسلامی وطن سے نکالا، جہاد کے لیے اپنی جان کی پروا نہ کی اور اللہ کی راہ میں عشق و اخلاص کے ساتھ جنگ کی، تو اللہ بھی وہی اللہ ہے۔
اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہو، تو پھر ڈرتے کیوں ہو؟
یا تو دنیا کی فتح تمہارا مقدر ہوگی، یا آخرت کی سعادت؛ اور ممکن ہے کہ دونوں ہی تمہیں نصیب ہوں۔

تاریخ اسلام کے مطالعے میں حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام اس ستارے کی مانند ہے جس کی روشنی گہری معرفتِ الٰہی سے پھوٹتی ہے۔ آپ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے یہ سمجھا کہ رسالت دراصل ایک تمدنی منصوبہ ہے جس کا مقصد انسان کو توحید کی بنیاد پر ازسرنو تعمیر کرنا ہے۔

مکہ کے دورِ جاہلیت میں دولت اور سماجی مرتبہ ہی عزت و کرامت کا معیار سمجھے جاتے تھے لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اس معیار کو توڑ دیا اور دولت پر مبنی مردانہ معاشرتی ڈھانچے کے مقابلے میں عورت کی روحانی قوت کو میدان میں اتارا۔ آپ نے جرأت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ میری دولت، میری طاقت اور میری عزت ایمان کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے۔

یہ وہ مقام تھا جہاں فتح حاصل ہونے سے پہلے ہی ’’انفاق‘‘ نے حقیقی معنویت اختیار کی۔ رہبر انقلاب اسلامی فرماتے ہیں:

’’اگر حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی فداکاریاں نہ ہوتیں تو شاید یہ عظیم اور پُرخطر نبوی تحریک اپنے آغاز میں اس قدر استحکام حاصل نہ کر پاتی۔ انہوں نے اپنا سرمایہ خرچ کیا، اپنی عزت لگائی اور اپنی جان بھی قربان کردی کیونکہ وہ باایمان تھیں۔‘‘

مکہ کے محدود اور پُرخطر ماحول میں یہ طرزِ عمل ایک انقلابی اقدام تھا؛ ایک ایسی خاتون کا کردار جس نے فتح سے پہلے اور انتہائی دشوار حالات میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تاکہ توحیدی تہذیب و تمدن جنم لے سکے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے درمیان جو فتح سے پہلے انفاق کرتے اور جہاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو فتح کے بعد ایسا کرتے ہیں، فرق بیان کرتا ہے کیونکہ طاقت حاصل ہونے سے پہلے ایمان، صداقت کا معیار ہے۔

سورۂ حدید کی آیت 10 میں ارشاد ہوتا ہے: لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ۔ اور اس امتیاز کی اولین مثالوں میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا شامل ہیں۔

موجودہ میڈیا دور اور معرفتی جنگ میں بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا پیغام زندہ ہے: "ایمان کو حکمت و بصیرت پر مبنی ہونا چاہیے، محبت کو درست سمت حاصل ہونی چاہیے اور عورت کو تہذیب وتمدن کا ستون بن کر رہنا چاہیے"۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے ہمیں سکھایا کہ دنیا کی عظیم ہستیاں خاموشی اور فداکاری کے ذریعے دنیا کو بدل دیتی ہیں۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ خاتون تھیں جو جاہلیت کے مقابل ایمان کی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی ہوئیں اور فرمایا: "حق کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اسے ادا کرنے والی میں ہوں!"۔

 ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رکھی گئی تو ایران ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں کرے گا۔

محسن رضائی نے سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں لکھا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو نہ آبنائے ہرمز کے ذریعے اور نہ ہی خلیج فارس کے کسی اور راستے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف اقتصادی جنگ میں کسی بھی ملک کی شمولیت یا حمایت کو جنگی اقدام تصور کرے گا۔

علاقائی اسٹریٹجک امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کا فوجی آپشن اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور اب واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔

عطوان نے ایک مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ پابندیوں کا حجم خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس حکمت عملی کا انتخاب اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اختیار کیا گیا فوجی آپشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

صہیونی حکومت کی گمراہ کن معلومات اور ٹرمپ کے غلط اندازے

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گمراہ کن اور زہریلی معلومات، غرور اور غلط اندازوں کے جال میں پھنس گئے اور انہوں نے ایران کی سیاسی و فوجی صلاحیتوں، عوامی حمایت اور جنگ کے دوران اس کی غیر معمولی حکمت عملی کو نظر انداز کیا۔ ایران نے اپنی فوجی، سیاسی اور سفارتی طاقت کے مختلف ذرائع کو انتہائی مہارت، دانش مندی اور غیر معمولی انداز میں استعمال کیا۔

عطوان کے مطابق ٹرمپ اب اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے اور ایسی کسی بھی کامیابی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو انہیں موجودہ بحران سے نکال سکے، لیکن اسرائیل کی جانب سے پیدا کیے گئے اس گہرے بحران سے نکلنے کے امکانات انتہائی کم بلکہ شاید ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امریکہ کی فوجی طاقت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اسی طرح اقتصادی محاصرہ بھی ناکام ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کی ناکامی فوجی آپشن سے بھی زیادہ بڑی ہو۔

ایران کو قحطی میں مبتلا کرنا ناممکن

عطوان نے ایران کی جغرافیائی اور انسانی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران تقریبا ایک براعظم کے حجم کا ملک ہے، اس کا رقبہ تقریباً 20 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، اس کی زمینیں زرخیز ہیں اور اس کی آبادی 9 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان حالات میں ایرانی عوام کو بھوک کا شکار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

عرب تجزیہ کار نے مزید کہا کہ چین، روس اور خلیج فارس کے بیشتر ممالک ایران کے محاصرے سے متعلق ٹرمپ کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مکہ میں جلد بازی میں تشکیل پانے والا تین ملکی اتحاد دراصل خلیجی عرب ممالک کی اس مایوسی کا نتیجہ تھا کہ امریکی فوجی اڈے، جن پر وہ بھاری اخراجات کرتے ہیں، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں انہیں مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

ممکنہ جنگ اور ایران کی تیاری

عطوان نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ ناکام ہوچکے فوجی آپشن کی طرف واپسی کو خارج نہیں کرتے تو ایران بھی اس مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہو رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ خود اس مرحلے کا آغاز کرے، کیونکہ ایرانی کمانڈروں کے بیانات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔

انہوں نے ایرانی عسکری قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل احمد وحیدی نے تمام سطحوں پر دفاعی اور جارحانہ صنعتوں کی پیداوار کو مزید مضبوط بنانے، ملک کی فوجی تیاری کی سطح بلند کرنے اور اس کی ضرب لگانے والی صلاحیتوں کو تقویت دینے پر زور دیا ہے۔

عطوان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے بھی امریکہ اور اس کے صدر کو خبردار کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط اندازے کا سامنا انقلابی، شدید، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب سے ہوگا۔

انہوں نے سپاہ پاسداران کے ترجمان جنرل حسین محبی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کے وار ہیڈز کی کارکردگی، ان کی رینج اور اہداف کو نشانہ بنانے کی درستگی کے حوالے سے بڑی حیرت انگیز صلاحیتیں سامنے آنے والی ہیں، جو مستقبل کی فوجی جھڑپوں میں ظاہر ہوں گی۔

جنگ میں ایرانی عوام کی بے مثال استقامت

عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر کہا کہ وسیع پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اپنے دعووں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور دشمن کو شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ آنے والے دن بھی نئی کامیابیوں کے ذریعے اس حقیقت کی مزید تصدیق کریں گے۔

، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محسن محبی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی جنگ میں شدت لائے جانے کے باوجود ایران نے دشمن کی ہر سازش اور کارروائی سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔

جنرل محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر خود کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا حکم دیا ہے اور ایران کے خلاف تاریخ کی شدید ترین اقتصادی جنگ شروع کردی ہے۔ یہ اعتراف دراصل فوجی میدان میں دشمن کی شرمناک شکست کا خاموش اعتراف ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ اگر امریکہ فوجی میدان میں کامیاب ہوگیا ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ شروع کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اقتصادی جنگ کوئی نئی چیز ہے؟ ہرگز نہیں، امریکہ گزشتہ 47 برس سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے تقریباً تمام اقتصادی شعبوں پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔

جنرل محبی نے کہا کہ ایران بارہا واضح کرچکا ہے کہ دشمن کی ہر مخاصمت آمیز کارروائی کے لیے اس کے پاس ایک مخصوص منصوبہ موجود ہے۔ اقتصادی جنگ بھی دشمن کی انہی کارروائیوں میں شامل ہے۔ ایران نے اس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات آسانی سے قائم رکھنے کے لیے بھی منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اقتصادی میدان میں کوئی تشویش نہیں ہے۔ ایران امریکہ کے بالکل قریب واقع ممالک کے ساتھ بھی اقتصادی روابط رکھتا ہے، امریکہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اقتصادی معاملات آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے نتائج بہت جلد سب کے سامنے ہوں گے۔

دفاعی صنعتوں کے قومی دن کے موقع پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگیں اپنی توانائیوں کو سمجھنے، نئی ضروریات کا اندازہ لگانے اور مسقبل کا روڈ میپ تیار کرنے کا موقع فراہم کرتیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی وزارت دفاع حالیہ جنگوں کے نتائج اور اسباق کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کی دفاعی صنعتوں کو تعمیرنو، تجدید اور اپ گریڈ کرنے میں مصروف ہے۔

وزارت دفاع نے اپنے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ حالیہ مسلط کردہ جنگیں ملک کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے حقیقی امتحان کا میدان تھیں، دفاعی صنعت میں ایرانی ماہرین کے علم اور کوششوں سے جو کچھ برسوں کے دوران بنایا اور تیار کیا گیا تھا، اسے میدان میں استعمال کیا گیا اور ایرانی مسلح افواج اور قوم کی آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ، دشمن کے مذموم اہداف کا ایک بڑا حصہ ناکام بنادیا گیا۔

واضح رہے کہ ایران میں ہر سال 20 کو دفاعی صنعتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

 سربراہ حوزات علمیہ ایران، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے گزشتہ رات رہبر شہید کی تشییع و تدفین کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کیا۔ یہ مجلس رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شبستانِ امام خمینیؒ میں منعقد کی گئی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی تلاوت اور محمد و آل محمد علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کے بعد، امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت پر علمائے کرام، مراجعِ عظام اور حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں منعقدہ مجلس عزاء کے شرکاء اور عوام کو تعزیت پیش کی، جبکہ بقیۃ اللہ الاعظم، حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے آغاز پر مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے اولیائے الٰہی، شہداء، جنگ اور دفاع مقدس کے شہداء، رہبر شہید کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی ارواح مطہرہ کے لیے دورود و صلوات کا نذرانہ پیش کیا۔

آیت اللہ اعرافی نے آیاتِ عظام، مراجعِ تقلید، امام راحل اور رہبرِ معظم انقلاب کے خاندان، عظیم شخصیات، اساتذہ، مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان، جامعہ مدرسین، حوزات علمیہ کی اعلیٰ کونسل اور علمی، حوزوی، یونیورسٹی اور ثقافتی اداروں سے وابستہ افراد کی اس مجلس عزاء میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا: ’’اپنی گفتگو کے آغاز میں آج کے حالات کے بارے میں چند جملے عرض کروں گا، اس کے بعد رہبر شہید کی شخصیت اور ان کی زندگی اور سیرت کے ایک دو پہلو بیان کروں گا۔‘‘

رہبر شہید کے خون کا بدلہ ذاتی انتقام نہیں

سربراہ حوزات علمیہ نے کہا کہ ایرانی قوم اب بھی رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے سوگ میں ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم آج بھی اپنے عزیز رہبر کے غم میں سوگوار ہیں، رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لیے کھڑے ہیں اور اس عظیم شہید کے خون کا انتقام لینے کے عزم پر بھی قائم ہیں۔‘‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’یہ بات ہمیں واضح طور پر یاد رکھنی اور اس پر تاکید کرنی چاہیے کہ ہمارے عظیم شہید کا انتقام اور ایران و امتِ مسلمہ کی آزادی و خودمختاری کے دشمنوں سے انتقام، کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ یہ امتِ اسلام کا انتقام ہے۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ نے مزید کہا: ’’یہ خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور دنیا بھر کے تمام مظلوموں کی خونخواہی ہے، لہٰذا اس معاملے میں مغالطہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایرانی قوم اور محاذ مقاومت کی جانب سے رہبر شہید اور عظیم المرتبت شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور ان کے خون کے بدلے کا مطالبہ کرنے کا یہ معاملہ کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے کہ کوئی اس کے مقابلے میں مزاحمت کرنا چاہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’یہ انتقام ایک قوم کا انتقام اور دنیا بھر کے مستضعفین کا انتقام ہے۔ ہم رہبر شہید کے انتقام اور خونخواہی کے اس عہد پر قائم ہیں اور ہماری قوم رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی کرتے ہوئے اس عہد پر ڈٹی ہوئی ہے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے واضح کیا: ’’6 ماہ تو کوئی مدت ہی نہیں؛ اگر چھ سال بھی گزر جائیں، تب بھی یہ قوم میدان میں موجود رہے گی اور رہبر شہید کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اسی طرح ڈٹی رہے گی۔‘‘

انہوں نے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: ’’شاد و آباد رہے وہ قوم جو آج بھی دل و جان اور اپنی پوری ہستی، جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ اسلام کے دفاع اور شہداء کے مقاصد کی پاسداری کے لیے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔ خدا کی عنایت آپ کے ساتھ ہے اور ان شاء اللہ آپ اسی راستے کو جاری رکھیں گے۔‘‘

رہبرِ شہید؛ ایک جامع شخصیت

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے رہبرِ شہید کی شخصیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’اپنی گفتگو کے آغاز میں ہمارے عظیم شہید کے بارے میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخ میں جن شخصیات کو ہم دیکھتے اور ان کا جائزہ لیتے ہیں، ان میں بعض شخصیات یک رخی، دو رخی یا تین رخی ہوتی ہیں، لیکن کبھی ہمیں ایسی شخصیت کا سامنا ہوتا ہے جو متعدد مختلف اور متعدد پہلوؤں کی حامل ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے رہبرِ شہید بھی ان نورانی، درخشاں اور گوناگوں پہلوؤں کے حامل افراد میں سے تھے، جو علم و دانش، مہارت، انتظام و انصرام اور قیادت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’جب ہم دیگر شخصیات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں غور و فکر کرنا پڑتا ہے تاکہ ان کی عظمت کے کچھ پہلوؤں کو دریافت کرکے پیش کر سکیں، لیکن جب ہم اس عظیم شخصیت کے سامنے آتے ہیں تو اس عزیز اور شریف چہرے میں اتنی تابانی اور درخشندگی موجود ہے کہ ہمیں بیٹھ کر سوچنا پڑتا ہے کہ ان اوصاف کے اس پورے مجموعے، فضائل اور بے شمار خوبیوں کے اس کہکشاں میں سے کس خوبی کو منتخب کریں اور کس پہلو کو نمایاں کریں۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے واضح کیا: ’’ہمارے رہبرِ شہید بھی ایسی ہی جامع، بلند مرتبہ اور گوناگوں پہلوؤں کی حامل شخصیت تھے، جن کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد نشستیں اور مجالس منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ’’رہبر کی شخصیت کی جامعیت اور ان کی یہ خصوصیات اس قدر نمایاں اور بلند ہیں کہ جب ہم ان اوصاف و امتیازات کے اس مجموعے کے سامنے آتے ہیں تو حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’خطے اور ایران کی ہزاروں سالہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجیے؛ دینی پہلوؤں سے قطع نظر بھی، امام راحل کی عظمت اور ہمارے رہبرِ شہید کی عظمت کے مقابلے میں ہمیں اس مقام و مرتبے کی کوئی دوسری شخصیت نظر نہیں آتی۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’ایران کی عظیم قوم کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ اسلامی انقلاب کے دوران ہمارے ملک کو ایسی عظیم، یگانہ اور بلند مرتبہ شخصیات نصیب ہوئیں۔ ہم ان عظیم رہنماؤں کی علمی، ایمانی اور اخلاقی زندگی اور ان کی مجاہدتوں کا ایران اور خطے کے تمام سابق رہنماؤں کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہم ثابت کریں گے کہ انقلاب کے یہ دونوں قائد، خاص کر رہبرِ شہید ایسی عظمت، شان و شوکت اور درخشندگی کے حامل تھے کہ جس کی مثال کہیں اور تلاش کرنا ممکن نہیں۔‘‘

رہبرِ شہید؛ فکر و عمل کا حسین امتزاج

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے رہبرِ شہید کی ایک اور خصوصیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’ممالک کے رہنماؤں کو دو یا تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ بعض رہنما فکر و نظریے کے میدان میں تو صاحبِ نظر ہوتے ہیں، لیکن عملی میدان اور انتظام و قیادت میں زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’دنیانکے رہنماؤں کا ایک دوسرا اور بہت بڑا گروہ ایسا ہے جو عملی میدان میں تو مضبوط ہوتا ہے، لیکن نظریے، فکری بنیادوں اور معرفتی اصولوں کے میدان میں خالی ہاتھ اور کمزور ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’لیکن رہنماؤں کا ایک مختصر گروہ ایسا بھی ہے جو نظریے کے میدان میں بھی مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے اور عملی میدان، انتظام، قیادت اور رہنمائی میں بھی ماہر اور باصلاحیت ہوتا ہے، اور ہمارے رہبرِ شہید بھی اسی قسم کی شخصیت تھے۔‘‘

اول: اسلامی نظریہ ساز اور نظریہ پرداز

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: رہبرِ شہید ایک عظیم اور بلند مرتبہ رہنما تھے، جنہوں نے اپنی پوری نورانی زندگی اسلام کے لیے وقف کیے رکھی، قوم کے لیے جانفشانی کی اور فکر و عمل دونوں کو یکجا کیا۔ ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ رہبرِ شہید نے تین بڑی خصوصیات کو ایک ساتھ جمع کیا تھا۔ پہلی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اسلامی نظریہ پرداز اور نظریہ ساز تھے۔

انہوں نے کہا: ہمارے رہبرِ شہید ایک اسلامی نظریہ پرداز اور اسلامی نظریہ ساز تھے۔ اسلامی حکمرانی کے حوالے سے نظریات اور افکار کی ایک پوری دنیا ان کے فکر و منطق اور ان کی گفتگو میں موجزن تھی۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: رہبرِ شہید کی گفتگو مضبوط نظریاتی مواد پر مشتمل تھی اور تقریباً چار دہائیوں کے دوران انہوں نے اسلامی حکمرانی کے بارے میں مختلف شعبوں میں درجنوں گہرے نظریات اخذ کیے، انہیں پیش کیا اور ان کی وضاحت فرمائی۔

انہوں نے کہا: یہاں اس موضوع کو تفصیل سے بیان کرنے کی گنجائش نہیں، لیکن رہبرِ شہید کے پاس معاشرت، ثقافت، معیشت اور سیاست کے شعبوں میں مختلف نظریات اور افکار موجود تھے۔ اگر رہبر نہ ہوتے تو وہ ایک نظریہ پرداز، مرجع تقلید، ماہر عالم اور اسلامی تمدن کی تعمیر کی راہ میں اسلامی حکمرانی کے لیے بے شمار نظریات رکھنے والی شخصیت ہوتے۔ وہ اسلام کی راہ میں ایک ایسے قائد تھے جو نظریہ پرداز، صاحبِ معرفت اور نظریہ ساز تھے۔

دوم: عملی میدان کے معمار اور عملی رہنما

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: رہبر شہید نظریہ سازی کے ساتھ ساتھ عملی میدان کے معمار اور عملی رہنما بھی تھے۔ وہ نظریے کو فکر اور منطق سے نکال کر عملی میدان میں لے آتے تھے، جن کے بعض نتائج کی طرف میں آگے اشارہ کروں گا۔ رہبرِ شہید نظریہ پرداز، عملی میدان کے معمار، تحریکوں کے رہنما اور اسلامی حکمرانی کے قیام کے لیے عملی اور میدانی نیٹ ورک تشکیل دینے والے معمار تھے۔

سوم: طاقت پیدا کرنے کے معمار

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ہمارے رہبر کی تیسری خصوصیت یہ تھی کہ ان کی نظریہ سازی اور عملی میدان کی معماری صرف اسی حد تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اسلامی نظریات اور عملی میدان کی معماری کو معاشرے، ثقافت، علم و دانش اور دفاع کے شعبوں میں طاقت پیدا کرنے میں تبدیل کر دیا۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ایسے رہنما بھی ہیں جو اقتدار اور قوت پیدا کرتے ہیں، لیکن ہمارے رہبرِ شہید ان دو عظیم خصوصیات، یعنی نظریاتی قوت اور عملی رہنمائی کے ساتھ ساتھ طاقت پیدا کرنے کے معمار بھی تھے؛ ایسی طاقت کے معمار جس کے سامنے آج دنیا حیرت زدہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اس قوم کی طاقت اسی رہبرِ عظیم کی قیادت اور معماری کا نتیجہ ہے۔ وہی تھے جنہوں نے ہمیں یہ طاقت اور صلاحیت عطا کی، وہی تھے جنہوں نے ہمیں حوصلہ دیا اور وہی ایران، محاذ مقاومت اور امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کا سبب بنے۔

رہبرِ شہید؛ ایران اور امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کے معمار

آیت اللہ اعرافی نے کہا: میں نے یہاں شہید کی طاقت پیدا کرنے اور ان کی قیادت کے چھ شعبے نوٹ کیے ہیں، جن میں سے ایک دو کا ذکر کروں گا۔ ہمارے رہبر ہمارے اور آپ کے ساتھ ساتھ امتِ اسلام کے لیے طاقت پیدا کرنے کے معمار تھے اور انہوں نے مختلف شعبوں میں ہمارے، آپ کے اور امتِ اسلام کے لیے اقتدار و طاقت پیدا کی۔

علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں طاقت

حوزات علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے رکن نے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کو اقتدار کے اہم شعبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ میں نوجوانوں، یونیورسٹی سے وابستہ افراد اور عوام سے کہتا ہوں کہ علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت حاصل کرنے کا یہ راستہ رہبرِ شہید سے سیکھیں۔

انہوں نے مزید کہا: بھائیو اور بہنو! امتِ اسلام گزشتہ دو سو سال سے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ ہم کئی سالوں اور صدیوں تک علمی و ٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب کے محتاج رہے اور ہمارے تمام علمی و فنی امور مغرب پر منحصر رہے۔

امام جمعہ قم نے مزید کہا: آج بھی عالمِ اسلام وسیع پیمانے پر دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ ہمارے عظیم رہبر نے تقریباً چالیس سال کی اپنی الٰہی قیادت اور ولایت کے دوران ایک سنجیدہ اور مستقل راستہ اختیار کیے رکھا، اور وہ ایران کے لیے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت پیدا کرنا تھا۔

آیت اللہ اعرافی نے اس پالیسی کی بنیادیں بیان کرتے ہوئے کہا: ان کا عقیدہ تھا کہ ہماری یونیورسٹیاں، ہمارے حوزات، ہمارے ماہرین اور ہمارا علمی و ٹیکنالوجی کا معاشرہ علم و ٹیکنالوجی کی سرحدوں پر آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: دوسری بات یہ تھی کہ یہ علم اور ٹیکنالوجی ایرانی اور مسلمان ذہن سے جنم لینا چاہیے اور علم کی جدید ترین سرحدوں پر استوار ہونا چاہیے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: تیسری بات جس پر وہ زور دیتے تھے، وہ یہ تھی کہ ہمیں جہادی انداز میں کام کرنا چاہیے، مختصر راستہ اختیار کرنا چاہیے، علم کی سرحدوں کو عبور کرنا چاہیے اور اپنی تاریخی پسماندگی پر قابو پانا چاہیے۔

انہوں نے کہا: یہ وہ مستقل اور مسلسل خطوط تھے جن کے لیے وہ کوشش کرتے رہے؛ ماہرین اور نخبگان کو محفوظ رکھنا، علمی و ٹیکنالوجی کی خودمختاری، انسانی علوم میں اسلامی نقطۂ نظر اور علمی و ٹیکنالوجی کی خودمختاری پر توجہ، رہبرِ شہید کی جانب سے علمی اور ٹیکنالوجی کی طاقت پیدا کرنے کے بنیادی اصولوں میں شامل تھے۔

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: آپ نے بارہا دیکھا ہے کہ وہ کس طرح حکومتی عہدیداروں کو جھنجھوڑتے تھے، سائنسی اداروں کی بنیاد رکھی اور اسے مضبوط کیا، علم و دانش کے مراکز کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور مسلسل ان امور کی پیروی کرتے تھے۔

انہوں نے کہا: وہ بارہا پوچھتے تھے کہ دنیا میں ہماری علمی اور ٹیکنالوجی کی درجہ بندی کہاں ہے؟ وہ بڑی حساسیت کے ساتھ خبردار کرتے تھے کہ کہیں ہم خطے اور دنیا میں علمی ترقی کے میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

ایران کی دو سو سالہ پسماندگی کا ازالہ

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ایران کی دو سو سالہ پسماندگی بڑی حد تک ان کی کوششوں سے دور ہوئی اور اس کے نتائج ہم جوہری ٹیکنالوجی، اسٹیم سیلز، علومِ شناختی، جدید اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز، نینو ٹیکنالوجی، ادویات سازی کی صنعت اور ان تمام صلاحیتوں میں دیکھ رہے ہیں جو ہمارے نوجوانوں، ماہرین اور سائنس دانوں کی صلاحیتوں سے وجود میں آئیں اور ایران ایک ترقی یافتہ اور علمی طور پر خودمختار ملک بن گیا۔

آیت اللہ اعرافی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’عزیز نوجوانو، محترم بھائیو اور بہنو! یاد رکھیں کہ ہم تمام شعبوں میں دوسروں پر منحصر اور پسماندہ تھے۔ یہ انقلاب آیا، امام آئے اور رہبرِ شہید آئے؛ انہوں نے جدید علم اور ٹیکنالوجیز کو مقامی سطح پر فروغ دیا اور ایران کو علمی جدوجہد کے میدان میں خودمختار بنایا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’مجھے کبھی کبھار غیر ایرانی شخصیات سے گفتگو کا موقع ملتا تھا اور میں دیکھتا تھا کہ وہ اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ ایک ایسا ملک جو پابندیوں، محاصرے اور جنگ کا سامنا کر رہا ہو، وہ مختلف صنعتوں میں اس طرح ترقی کیسے کر رہا ہے اور جوہری ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں سے کیسے تیار کر رہا ہے؟‘‘

آیت اللہ اعرافی نے اس مسئلے کو زمانے کے حیرت انگیز واقعات میں شمار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ ہمارے زمانے کی حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین باتوں میں سے ایک ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کبھی مختلف اجلاسوں میں جب اعداد و شمار پیش کیے جاتے اور خطے میں ایران کی علمی درجہ بندی ذرا بھی نیچے آتی تو وہ برہم ہو جاتے تھے۔ وہ اس قوم، امتِ اسلام اور عزیز ایران سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ ایران خطے میں سب سے آگے ہو۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’بڑے بڑے اقدامات کیے گئے اور وہ اس معاملے میں کسی صورت پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں تھے۔ اس راستے کی کامیابیاں بھی بے شمار ہیں اور آج بھی ہمیں اس راستے کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘

دفاعی اور فوجی طاقت

آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے طاقت کے دوسرے میدان، یعنی دفاعی اور فوجی طاقت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’’ہم جانتے ہیں کہ ہم ایک ایسی قوم تھے جس پر دوسری عالمی جنگ کے دوران غیر ملکیوں نے حملہ کیا اور چند ہی گھنٹوں میں ہمارا پورا دفاعی نظام بکھر گیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ہماری فوج اور لشکر کے تمام اعلیٰ افسران ایک طرف ہوگئے، انہوں نے اپنے فوجی عہدے اور نشان اتار دیے اور فرار ہوگئے، جبکہ ملعون شاہ بھی ملک سے فرار ہوگیا۔ ملک کے حالات درہم برہم ہوگئے، حالانکہ ہم جنگ میں بھی شامل نہیں تھے۔ یہی ہماری طاقت تھی؛ ہماری تمام دفاعی صلاحیت اور اسلحہ ایک ہی لہر میں تباہ ہوگیا۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: ’’ہماری تاریخ میں بارہا یہ بات ثابت ہوئی ہے۔ 28 مرداد کے واقعے میں ایک لہر آئی، شاہ فرار ہوگیا اور سب پیچھے ہٹ گئے۔ امریکی آئے، انہوں نے انہیں بچایا اور دوبارہ قوم پر مسلط کردیا۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے کہا: ’’ہمارے طیارے، ہماری بحری اور فوجی طاقت، سب دوسروں پر منحصر اور محتاج تھے اور ان کے حکم کے بغیر ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ آپ کے رہبرِ شہید نے دفاعی طاقت کو ایک انتہائی جدید فوجی نظریے کی بنیاد پر استوار کیا۔‘‘

دفاع، جنگ طلبی نہیں

مجلسِ خبرگان کے فقہاء کی کونسل کے رکن نے کہا: ’’ایک اصول یہ تھا کہ ہم جنگ طلب نہیں ہیں، لیکن اگر دفاع کی نوبت آئے تو ہم آخری دم تک اور بغیر پیچھے ہٹے آگے بڑھیں گے۔‘‘ انہوں نے ان نظریات کے سامنے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا جو پسپائی اختیار کرنے اور اسلحہ و میزائل ترک کرنے کی دعوت دیتے تھے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے ہتھیاروں کی ترقی کا سلسلہ روکنے سے متعلق بعض نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’بیس یا تیس سال پہلے ایک سوچ اور نظریہ پیش کیا گیا کہ ہمیں ہتھیاروں کی ترقی کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ اگر ہم تیس سال پہلے اس نظریے کے سامنے تسلیم ہوگئے ہوتے تو آج کہاں کھڑے ہوتے؟ ہمارے سر پر ذلت کی خاک ہوتی۔‘‘

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’’انہوں نے بے دفاعی، خوش فہمی اور ہتھیاروں و دفاعی سازوسامان کی تیاری سے پیچھے ہٹنے کے نظریے کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘‘

دفاعی حکمت عملی اور فوج کا مستقبل

آیت اللہ اعرافی نے رہبرِ شہید کی دفاعی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’اسی طرح ہوشمندانہ اور جارحانہ دفاع بھی ان کی پالیسی کا حصہ تھا۔ ان کی جانب سے کہی گئی آخری باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ اگر آپ جنگ میں داخل ہوتے ہیں تو یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ہم جارحیت پسند نہیں ہیں، لیکن جب دفاع کا وقت آئے گا تو ہم دشمن پر حملہ کریں گے اور دشمنوں کے لیے حالات کو سخت بنا دیں گے۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے واضح کیا: ’’اس عظیم رہبر کی دوراندیشی، مستقبل بینی، پیش بینی اور دفاعی و فوجی قیادت نے ایران کو خطے میں ایک منفرد طاقت اور دنیا میں ایک نمایاں قوت بنا دیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’انہوں نے ایران کو ایسی واحد طاقت بنایا جو دنیا کی طاقتور ترین افواج کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔ اللہ کے فضل سے اور رہبرِ معظم انقلاب کی رہنمائی اور مسلح افواج کی قربانیوں کے ذریعے اسلام اور ایران کے دشمنوں کے مقابلے میں یہ برتری اور مزاحمت جاری اور برقرار رہے گی۔‘‘

خودمختار، سائنسی اور عوامی بنیادوں پر دفاعی نظام کی بنیاد

آیت اللہ اعرافی نے مزید کہا: ’’ہمارے رہبرِ شہید، جو ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھے، انہوں نے فوجی صنعت اور فوجی سازوسامان کی تیاری کو خودمختار بنیادوں پر آگے بڑھایا؛ کمانڈ کے لیے افرادی قوت اور مسلح افواج کے اہلکاروں کی تربیت کی اور مسلح افواج کے ایمان اور جذبے کی رہنمائی کی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’انہوں نے دفاع کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا اور دفاع کو عوامی بنایا۔ عوامی بسیج کے ذریعے عوام پر مبنی اور ایمان کی بنیاد پر قائم دفاعی نظام کی بنیاد رکھی، جس کی بنیاد علم و دانش پر تھی۔ یہ دفاعی نظام خونِ جگر دے کر تشکیل دیا گیا۔‘‘

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے کہا: ’’اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ چھ ماہ سے میدان میں موجود ہیں، اس کا نتیجہ دنیا بھر میں ہماری مسلح افواج کی درخشاں کارکردگی ہے اور اس کا نتیجہ ٹرمپ اور ایران و محورِ مقاومت کے دشمنوں کی بے بسی اور درماندگی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ راستہ مقدس اتحاد، رہبرِ معظم انقلاب کی پیروی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی قیادت میں جاری رہے گا۔‘‘

رہبرِ شہید اور اسلامی انقلاب کے نظریات سے تجدیدِ عہد

انہوں نے کہا: ’’آج رات ہم یہاں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں رہبرِ معظم انقلاب کے ساتھ عہد کرتے ہیں کہ رہبرِ شہید، امامِ کبیر اور اسلامی انقلاب کے راستے پر آخری سانس تک ڈٹے رہیں گے۔‘‘

آیت اللہ اعرافی نے محاذ مقاومت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’محاذ مقاومت، درماندگی کا محور نہیں بلکہ استقامت اور مجاہدت کا محور ہے۔ رہبرِ شہید عملی میدان میں انتظام اور قیادت کرتے تھے اور امام، ایران اور امتِ اسلام کے لیے طاقت و اقتدار پیدا کرنے کے معمار تھے۔ یہ طاقت سیاست، بین الاقوامی تعلقات، ثقافت، معیشت، ٹیکنالوجی، علم اور دفاع کے شعبوں میں تشکیل پائی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’میں نے اس طاقت کے دو شعبوں کی طرف اشارہ کیا، لیکن ہمارے حکومتی عہدیداروں، ہماری پارلیمنٹ، ہماری انتظامی قوتوں اور سب کو ایران کی خودمختاری اور عظمت کی راہ اور ہمہ گیر ثقافتی، علمی، ایمانی، جہادی اور دفاعی طاقت کی راہ کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘

تمام اداروں میں خودمختاری اور طاقت کے راستے کو جاری رکھنے کی ضرورت

آیت اللہ اعرافی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہمیں اس نظریے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، کہا: ’’ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة‘‘ کی گونج ہماری عدلیہ، ہمارے تمام سرکاری محکموں، انتظامی ڈھانچوں اور اداروں کی گہرائیوں میں، ہمارے حوزات، یونیورسٹیوں اور نظامِ تعلیم و تربیت کے ہر گوشے میں پہنچنی اور نمایاں ہونی چاہیے۔

سربراہ حوزات علمیہ ایران نے مزید کہا: ’’ہمارے پاس واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سب کو اللہ کی عطا کردہ وحدت، مضبوط دلوں اور پختہ ارادوں کے ساتھ رہبرِ معظم انقلاب کی قیادت میں اس امام کے راستے کو جاری رکھنا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’آج رات ہم یہاں ایک بار پھر اعلان کرتے ہیں کہ پورے ایران کے عوام، پورے خطے میں موجود لوگ، دنیا کے گوشہ و کنار میں اسلامی انقلاب سے محبت رکھنے والے افراد اور دنیا بھر کے مستضعفین، استکباری طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے رہنے اور امامِ عظیم کے راستے کو جاری رکھنے کے عہد پر قائم ہیں، اور آج ہم بھی عہد و پیمان کرتے ہیں کہ اسی طرح ڈٹے رہیں گے۔‘‘

 

حوزہ علمیہ کے مبلغ حجت الاسلام والمسلمین سید محمد تقی قادری نے «امام حسن عسکریؑ اور 250 سالہ سازش کا خاتمہ» کے عنوان سے ایک تحریر میں آنحضرت کے دورِ امامت کی درخشاں کارکردگی، سیاسی حالات کے مقابل، آنحضرت کے دوٹوک اور سنجیدہ مؤقف اور اہلِ بیتؑ کے دشمنوں کی انتہائی خطرناک اور پیچیدہ سازشوں کے مقابل، آنحضرت کی حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ پیش کیا ہے، جس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ کیجیے:

اگر ہم امام حسن عسکریؑ کے دورِ امامت کی اہم کارکردگی اور سیاسی حالات کے مقابل، آنحضرت کے دوٹوک اور سنجیدہ مؤقف، نیز اہلِ بیتؑ کے دشمنوں کی انتہائی خطرناک اور پیچیدہ سازشوں کے مقابل، آنحضرت کی حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ کرنا چاہیں تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب دو نہایت اہم اور بنیادی نکات کا درست طور پر تجزیہ کیا جائے:

پہلا نکتہ:

دسویں ہجری میں واقعۂ غدیر اور اس کے بعد سقیفۂ بنی ساعدہ کے قیام سے لے کر 260 ہجری تک، یعنی تقریباً 250 سال کے عرصے میں، اہلِ بیتؑ کے دشمنوں نے اس مقصد کے لیے کہ ائمہؑ میں سے کوئی بھی حکومت تشکیل نہ دے سکے اور مسلمانوں کی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے، مختلف مراحل اور منصوبوں کے تحت کاروائیاں کیں اور انہیں سیاسی و جسمانی طور پر منظر سے ہٹانے کی کوشش کی۔

پہلا مرحلہ: سیاست سے دوری

دسویں ہجری سے 36 ہجری تک، یعنی تقریباً 25 سال کے عرصے میں جو کچھ پیش آیا، وہ درحقیقت اہلِ بیتؑ کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی کوشش تھی۔

یعنی ولایت و امامت کے منصب کو خلافت میں تبدیل کرکے، رسولِ اکرم (ص) کی جانشینی کو اس کے قدسی و الٰہی مقام سے گرا کر محض ایک انتظامی و اجرائی منصب کی سطح تک محدود کر دیا گیا۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں سازش کرنے والے عناصر اس طرح امام علیؑ کو ان کے مشروع اور منصوص منصب سے دور کرنے میں کامیاب ہوئے اور امتِ اسلامی کو نظامِ ولایت سے محروم کر دیا۔

دوسرا مرحلہ: سیاسی اور جسمانی خاتمہ

40 ہجری سے 132 ہجری تک، یعنی اموی اور مروانی حکومت کے دور میں، اموی و مروانی حکمرانوں نے اہلِ بیتؑ کو منظر سے ہٹانے کے لیے دو مراحل میں کاروائیاں کیں۔

پہلے مرحلے میں سیاسی اخراج تھا۔ انہوں نے اس امر کی اجازت نہیں دی کہ اس دور کے کسی بھی امام، یعنی امام حسنؑ، امام حسینؑ اور امام زین العابدینؑ کو حکومت اور قیادتِ امت سنبھالنے کا موقع ملے۔

دوسرے مرحلے میں جسمانی اخراج (شہید کرنے) کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں امام حسنؑ، امام حسینؑ اور امام زین العابدینؑ کو شہید کیا گیا۔

تیسرا مرحلہ: سیاسی، نسلی اور جسمانی خاتمہ

132 ہجری میں جب بنی عباس برسرِ اقتدار آئے اور سفاح، منصور، ہارون اور مأمون جیسے خلفاء اقتدار میں آئے تو انہیں اہلِ بیتؑ کے بارے میں پہلے سے زیادہ اور دقیق معلومات حاصل تھیں۔ چنانچہ انہوں نے سیاسی اخراج کے ساتھ ساتھ ایک نئی پالیسی اختیار کی۔

انہوں نے نہ صرف یہ کہ چار ائمہؑ، یعنی امام محمد باقرؑ، امام جعفر صادقؑ، امام موسیٰ کاظمؑ اور امام علی رضاؑ کو امتِ اسلامی کی قیادت و رہبری سنبھالنے اور حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی، بلکہ ان چاروں ائمہؑ کو بھی شہید کر دیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اہلِ بیتؑ کو نسلی طور پر ختم کرنے کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا۔ اسی مقصد کے تحت سادات کو گرفتار کرنا اور انہیں شہید کرنا شروع کیا گیا، تاکہ اہلِ بیتؑ کی نسل کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک امامؑ کو ختم کرنے کے باوجود امام زادے قیام کرتے ہیں، اپنے بزرگوں کے راستے اور طرزِ عمل کو جاری رکھتے ہیں اور یوں بنی عباس کے ظالم حکمرانوں کے لیے ایک حقیقی اور بالفعل خطرہ بن جاتے ہیں۔

چوتھا مرحلہ: سلسلۂ امامت کی آخری کڑی اور مرکزِ الہام کا خاتمہ

218 ہجری سے شروع ہونے والے بنی عباس کے دوسرے دورِ اقتدار میں، جب متوکل، مستعین، معتز، مہتدی اور معتمد جیسے ظالم خلفاء برسرِ اقتدار تھے اور امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کا دورِ امامت تھا تو ان ستم پیشہ حکمرانوں نے اہلِ بیتؑ کو ختم کرنے کے لیے چار مراحل اختیار کیے:

پہلا: ائمہؑ کے جسمانی خاتمے کے لیے انہوں نے اپنے پیشرو خلفاء کی روش میں تبدیلی کی اور اس دور کے ائمہؑ کو جوانی ہی میں شہید کر دیا، تاکہ انہیں افراد سازی، تربیتِ کارکنان اور ولائی افکار کی ترویج و اشاعت کا موقع نہ مل سکے۔ چنانچہ امام جوادؑ 25 سال، امام ہادیؑ 41 سال اور امام حسن عسکریؑ 28 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

دوسرا: ائمہؑ کو امت سازی سے روکنے اور شیعوں کے ساتھ ان کا رابطہ منقطع کرنے کے لیے امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کو مدینہ سے سامرا منتقل کیا گیا اور وہاں ایک فوجی چھاؤنی میں نظر بند اور خانۂ حصر میں رکھا گیا۔

تیسرا: چونکہ عباسی حکمران رسولِ اکرم (ص) کی روایات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں، اس لیے انہوں نے اس آخری کڑی کو، جو ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے، ختم کرنے اور اہلِ بیتؑ کے خلاف اپنے منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ حضرت امام مہدیؑ کی والدہ ماجدہؑ کو سخت نگرانی میں رکھا گیا اور دایاؤں کے ذریعے مسلسل ان کی طبی جانچ کروائی جاتی تھی، تاکہ اگر حمل کا پتا چلے تو ماں اور بچے دونوں کو جسمانی طور پر ختم کیا جا سکے۔

چوتھا: چونکہ حضرت امام حسینؑ کی تربتِ پاک اور مرقدِ مطہر علویوں اور شیعوں کی تحریکوں اور قیام کے لیے مرکزِ الہام تھا، اس لیے عباسی خلیفہ متوکل نے اس تحریک کو خاموش کرنے کے لیے امام حسینؑ کی مقدس قبر کو منہدم کرنے کی کوشش کی اور آپؑ کے روضۂ اقدس کو مسمار کروایا۔

دوسرا نکتہ:

ایسے سخت اور کٹھن دور میں، جب یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اہلِ بیتؑ اپنے سفر کی آخری منزل تک پہنچ چکے ہیں اور سقیفۂ بنی ساعدہ کا وہ منصوبہ، جس کا مقصد اہلِ بیتؑ کو جسمانی، سیاسی اور اعتقادی طور پر ختم کرنا تھا، کامیابی کے قریب ہے، امام حسن عسکریؑ نے اپنے غیر معمولی کردار، چار بنیادی اور کلیدی اقدامات کو عملی جامہ پہنانے اور اپنے انتہائی سنجیدہ، دقیق اور مقدس مؤقف کے ذریعے امویوں اور عباسیوں کے نہایت خطرناک سیاسی، سلامتی اور ثقافتی منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

یوں امام حسن عسکریؑ نے اہلِ بیتؑ کو تاریخ کے ہر دور کے لیے غالب، سربلند اور ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا، جبکہ ان کے دشمنوں کو مغلوب کرکے تاریخ کے صفحات سے مٹا دیا۔

آخری حلقۂ امامت کی مخفیانہ ولادت

بنی عباس کی حکومت کے تمام تر حفاظتی انتظامات اور آخری حلقۂ امامت کی ولادت کا سراغ لگانے کے لیے ان کے کارندوں کی سخت نگرانی کے باوجود، امام حسن عسکریؑ نے اپنی غیر معمولی کرامت اور تدبیر کے ذریعے آخری حلقۂ امامت کی ولادت کے لیے حالات سازگار کیے۔

چنانچہ حضرت امام مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اپنی پاکیزہ والدہ حضرت نرجس خاتونؑ کے دامن میں دنیا میں تشریف لائے، امامتِ اہلِ بیتؑ کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ:﴿یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللّٰهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾(سورۂ صف، آیت ۸)

ترجمہ:وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

شیعوں کو غیبتِ کبریٰ کے دور کے لیے تیار کرنا

شیعوں کو بارہویں امام حضرت مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے دور کے لیے تیار کرنا بھی امام حسن عسکریؑ کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک تھا؛ کیونکہ کسی بھی قوم یا جماعت کے پیشوا اور رہبر کا نظروں سے اوجھل ہوجانا ایک غیر معمولی اور غیر مانوس واقعہ ہے، جس پر یقین کرنا اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنا لوگوں کے لیے دشوار ہوتا ہے۔

رسولِ اکرم (ص) اور سابق ائمہؑ نے بتدریج لوگوں کو اس حقیقت سے آشنا کیا اور ان کے اذہان کو اس امر کی قبولیت کے لیے تیار کیا۔ امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں یہ کوشش زیادہ سنجیدہ اور نمایاں ہوگئی، جبکہ امام حسن عسکریؑ کے دور میں اس کی خاص اہمیت سامنے آئی۔

اگرچہ امام حسن عسکریؑ نے حضرت مہدیؑ کی ولادت پر تاکید فرمائی، لیکن آپؑ انہیں صرف اپنے خاص اور انتہائی قریبی شیعوں کو دکھاتے تھے۔

آپؑ فرماتے ہیں: «صاحبُکم بعدی...»

یہ میرے بعد تمہارے صاحب اور پیشوا ہیں۔(الارشاد، ج ۲، ص ۳۴)

«إنَّ ابنی هو القائمُ من بعدی...»

بے شک میرا فرزند میرے بعد قائم ہے۔(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۳، ص ۵۲۴)

«هذا إمامُکم من بعدی و خلیفتی علیکم...»یہ میرے بعد تمہارے امام اور تم پر میرے جانشین ہیں۔(حوالۂ سابق، ص ۵۲۴)

«ابنی محمد هو الإمامُ الحجةُ بعدی...» میرا فرزند محمدؑ میرے بعد امام اور حجت ہیں۔(حوالۂ سابق، ص ۴۰۹)

دوسری جانب، خود امام حسن عسکریؑ سے شیعوں کا براہِ راست رابطہ بھی روز بروز محدود اور کم ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ سامرہ میں بھی آپؑ لوگوں کے سوالات اور مسائل کے جوابات خطوط یا اپنے نمائندوں کے ذریعے دیتے تھے۔

اس طرح امام حسن عسکریؑ نے شیعوں کو بتدریج ایسے حالات کا عادی بنایا کہ وہ دورانِ غیبت امام سے براہِ راست ملاقات کے بجائے بالواسطہ رابطے کے ذریعے دینی رہنمائی حاصل کر سکیں اور یوں انہیں عصرِ غیبت کے حالات اور تقاضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا۔

وکالتی نظام کی تشکیل

گھر میں نظر بندی کے باوجود امامؑ کا شیعوں کے ساتھ رابطہ منقطع نہ ہو، اس مقصد کے لیے وکالتی نظام کو منظم اور وسیع کیا گیا۔ اس زمانے میں تشیع مختلف شہروں اور علاقوں میں پھیل چکا تھا اور متعدد مقامات پر شیعوں کے مضبوط مراکز قائم ہو چکے تھے۔

کوفہ، بغداد، نیشاپور، قم، خراسان، مدائن، یمن، رے، آذربائیجان، سامرہ، جرجان اور بصرہ شیعوں کے اہم مراکز شمار ہوتے تھے۔

امام حسن عسکریؑ نے اپنے والد امام ہادیؑ کے قائم کردہ وکالتی نظام کو مزید وسعت دی، جس کا مقصد ایک طرف شیعوں کا سلسلۂ امامت سے رابطہ برقرار رکھنا اور دوسری طرف خود شیعوں کے درمیان باہمی ارتباط کو مضبوط بنانا تھا۔

اسی مقصد کے تحت امامؑ نے شیعوں کے درمیان موجود ممتاز اور قابلِ اعتماد شخصیات کو منتخب کرکے مختلف علاقوں میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ امامؑ ان نمائندوں سے مسلسل رابطے میں رہتے اور ان کے ذریعے مختلف علاقوں میں اپنے پیروکاروں کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔

امامؑ کے نمائندے ایک منظم اور درجہ بندی پر مبنی نظام کے تحت کام کرتے تھے اور ہر نمائندے کے دائرۂ فعالیت کا تعین کیا گیا تھا۔ مختلف علاقوں سے جمع ہونے والے مالی حقوق اور دیگر وجوہات بالآخر مرکزی وکیل تک پہنچتے، جو انہیں امامؑ کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔

امام حسن عسکریؑ نے اس مؤثر وکالتی نظام کے ذریعے نہ صرف شیعوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا، بلکہ شیعہ اقلیت کی اجتماعی شناخت، تنظیم اور وجود کو بھی محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

تربتِ سیدالشہداءؑ کی زیارت کو زندہ رکھنا

عباسی خلفاء نے حکومت کے آغاز ہی سے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ سیدالشہداء امام حسینؑ کی مقدس تربت، قیام اور تحریکوں کے لیے ایک مرکزِ الہام ہے؛ کیونکہ خود انہوں نے بھی «یا لَثَارَاتِ الْحُسَیْن» یعنی خونِ حسینؑ کا بدلہ لینے کے نعرے کے تحت مروانیوں کے خلاف قیام کیا اور عباسی حکومت قائم کی۔

لیکن حکومت مضبوط ہونے کے بعد، پہلے منصور دوانیقی، پھر ہارون اور متوکل نے امام حسینؑ کی مقدس قبر اور گنبد کو منہدم کیا اور آپؑ کی قبرِ مطہر پر پانی بہانے کی کوشش کی۔

اس کے مقابل امام حسن عسکریؑ نے اپنے نورانی کلام کے ذریعے زیارتِ امام حسینؑ کو زندہ اور ہمیشہ کے لیے ماندگار بنا دیا۔

آپؑ نے فرمایا:«عَلاماتُ المؤمنِ خَمسٌ: صَلَواتُ إحدی و خَمسینَ، و زیارةُ الأربعینِ، و التَّخَتُّمُ بالیَمینِ، و تَعفیرُ الجَبینِ، و الجَهرُ بِبسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحیمِ.»(اقبال، ج ۳، ص ۱۰۰)

ترجمہ:مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں:

1. 51 رکعت نماز ادا کرنا

2. امام حسینؑ کی زیارتِ اربعین بجا لانا

3. دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا

4. سجدے کے وقت پیشانی کو خاک پر رکھنا

5. جہری نمازوں (فجر، مغرب اور عشاء) میں بسم الله الرحمٰن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھنا

امام حسن عسکریؑ نے اپنے اس نورانی فرمان کے ذریعے اپنے جدِّ بزرگوار امام حسین بن علیؑ کے روضۂ اقدس اور تربتِ پاک کی زیارت کو اس قدر زندہ اور ماندگار کردیا کہ واقعۂ کربلا کے 1383 سال بعد بھی دنیا بھر سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ عاشقانِ حسینؑ زیارتِ اربعین کے لیے نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ قطر اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

تفصیلات کے مطابق، محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اپنے مصری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ قطر کی موجودہ کوششوں کا محور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا عمل جاری رکھنا ہے۔

انہوں نے بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی مداخلت کے بغیر آزادانہ بحری آمد و رفت کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

قطری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کرے گا۔

انہوں نے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تو اس کے نتائج سب پر اثر انداز ہوں گے۔

دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ قطر اور خلیج فارس کے برادر ممالک کی سلامتی مصر کی قومی سلامتی اور عرب خطے کی سلامتی کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری کو مضبوط بنانے کے لیے مصر اور قطر کے درمیان مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے۔ قاہرہ بحری جہاز رانی کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایران اور عراق کی دو قوموں نے یہ قبول نہیں کیا کہ ان کی تقدیر دوسرے ممالک کے دارالحکومتوں میں لکھی جائے۔

تفصیلات کے مطابق محمدباقر قالیباف نے جمعرات کو کربلائے معلیٰ میں شہید امام خامنہ ای کی تدفین کے چالیسویں روز منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موقع پر رہبر انقلاب اسلامی اور ملت ایران کا سلام عراقی عوام تک پہنچانے آئے ہیں۔

انہوں نے عراقی عوام کی جانب سے شہید رہبر کی تاریخی تشییع میں بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملت عراق نے اس موقع پر حق برادری ادا کیا اور دنیا کو حیران کر دیا۔

قالیباف نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات دشمنوں کی کوششوں کے باوجود مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے دور کرنے کے لیے دشمنوں نے جتنے قدم اٹھائے، دونوں قومیں اتنی ہی زیادہ قریب آتی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کی بنیاد مشترکہ تاریخ، جغرافیہ اور اہل بیت عصمت و طہارتؑ سے وابستہ عقائد پر قائم ہے، جبکہ دونوں ممالک کو قریب لانے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں میں دینے سے انکار کرتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایران اور عراق وہ دو قومیں تھیں جنہوں نے دوسروں کی کہانی کا حصہ بننے سے انکار کیا اور اپنی سرنوشت مغربی حکومتوں کے دارالحکومتوں میں نہیں لکھنے دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک اپنی مزاحمت، عوامی استقامت اور باہمی تعاون سے سلامتی قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اب وقت ہے کہ دونوں قوموں کی اقتصادی خوشحالی، ترقی اور پیشرفت کے لیے بھی مل کر کام کریں۔

قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور عراق صرف الفاظ دہرانے کے لیے یہاں موجود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے، بیرونی مداخلت کا راستہ محدود کرنے اور عوامی زندگی بہتر بنانے کے لیے واضح منصوبے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق سخت ترین حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، مشکلات میں ساتھ دیا ہے اور کامیابیوں میں بھی ایک دوسرے کے شریک رہیں گے۔

قالیباف نے کہا کہ دونوں قوموں کی اصل طاقت ان کی برادری اور باہمی اتحاد میں ہے۔

کربلائے معلی میں منعقدہ اس تقریب میں محمدباقر قالیباف کے علاوہ ایرانی پارلیمانی وفد، عراق میں رہبر انقلاب کے نمائندے، ایرانی سفیر، کربلا کے حکام، قبائلی عمائدین اور بڑی تعداد میں عراقی و ایرانی زائرین نے شرکت کی۔