سلیمانی

سلیمانی

نیویارک- ارنا- ہمارے رپورٹر کے اس سوال کے جواب میں کہ:" کیا پلوں، ہسپتالوں اور دیگر بنیادی شہری تنصیبات پر امریکہ کا جارحانہ حملہ انسانی اور بین الاقوامی قوانین اور حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرم نہیں ہے اور کیا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ان جارحیتوں کی مذمت کریں گے؟"  فرحان حق نے کہا کہ جی ہاں! شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور ایسے جارحانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی میں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل کو ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی کشیدگی کی جانب سے تشویش لاحق ہے۔

فرحان حق نے ان جارحیتوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔

الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴿بقره۱۹۴﴾

 سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبہ رابطہ عامہ نے  دہشت گرد امریکی فوج کے خلاف اپنے آپریشن اور مہلک واروں کے بارے میں انتیسواں اعلامیہ جاری کیا ہے جس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

 بسم اللہ قاصم الجبارین

  فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيہ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ

 اردن کے باشرف عوام اورغیرتمند فوجیو!

جس طرح کہ 140 دن سے اسلامی انقلاب کی حمایت میں سڑکوں پر ایرانی عوام کی رات اور دن کی موجودگی نے دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے، اسی طرح خدا کی غیبی امداد سے غازیان اسلامی  کی کامیاب جوابی کارروائیوں نے دشمن کو مبہوت اورشکست سے دوچار کردیا ہے اور دشمن نے میدان جنگ سے فرار اختیار کرکے، غیر فوجی تنصیبات اورمراکز پر بزدلانہ حملے اور جںگی جرائم کا راستہ اختیار کیا ہے۔  
   بچوں کی قاتل امریکی فوج، اسپتالوں، پلوں، ریلوے لائنوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر حملے نیز غیر فوجیوں کا  قتل عام کرکے میدان جنگ میں راست مقابلے میں اپنی شکست کی پردہ پوشی کی ناکام کوشش کررہی ہے۔  
 سپاہ کی ایرواسپیس فورس کے بہادرسپاہیوں نے امریکی دشمن کی گزشتہ رات کی جارحیتوں کے جواب میں، آج صبح آپریشن نصر2 کی بیسویں لہر میں جو یا ابوالفضل العباس کے مقدس رمزیہ کلمات سے شروع ہوئی، اردن میں امریکا کے الازرق فوجی اڈے کے ایک بڑے ریمپ اور جنگی طیاروں کے ہینگروں پر ایک ساتھ میزائل اور ڈرون حملے کرکے کم سے کو دو جنگی طیاروں اور تین جنگي ہیلی کاپٹروں کو مکمل طورپر تباہ اور ان کی ایک تعداد کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔  

   اب آپ، اردن کے باشرف عوام اور غیرتمند فوجیوں کی باری ہے ۔ سبھی اسلامی مذاہب اور فرقوں کے علمائے اسلام  کے فتوے کے مطابق اسلامی سرزمینوں پر حملہ کرنے والے کافر فوجی مہدورالدم ہیں ( یعنی ان کا خون بہنا مباح ہے)  
 مہدور الدم امریکی فوجی جنہوں نے افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، عراق میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا، ایران، یمن، لبنان، لیبیا، سوڈان، فلپائن اور فلسطین میں ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں غلطاں کیا، اس وقت آپ کی دسترس میں ہیں اور آپ کا دینی فریضہ ہے کہ جو وسیلہ بھی آپ کو دستیاب ہو ، اس سے کام لے کر، انہیں ختم کریں اور اردن کی مقدس سرزمین مظلوم مسلمانوں کے قاتلین سے پاک کریں۔  
  
  "إنْ تَنْصُرُوا اللَّہ یَنْصُرْکُمْ وَ یُثَبِّتْ أقْدَامَکُمْ "

 صہیونی حکومت نے فلسطینی قیدیوں کو خوف زدہ کرنے اور دباؤ میں رکھنے کے لیے مگرمچھوں کے استعمال کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی ماحولیاتی تحفظ کی وزیر عیدیت سلیمان نے دریائے نیل کے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی میں تبدیلی کی، جس کے بعد انہیں خطرناک جنگلی جانور کے بجائے مختلف قانونی زمرے میں شامل کیا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو ان جانوروں کے استعمال کی اجازت دینا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صہیونی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر سے منسوب کیا جا رہا ہے، جن کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی نگرانی کرنے والی جیلوں کے اطراف جنگلی جانوروں کے استعمال کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس منصوبے کا تجربہ نقب کے صحرائی علاقے میں واقع کتزیوت جیل میں شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی سے زیادہ قیدیوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا ہے۔

 ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جنوبی ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین، فضائی حدود اور سمندری راستوں کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، جبکہ امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز دفاع قرار دیا۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں امریکہ کی اس پالیسی کی مذمت کی جس کے تحت وہ دیگر ممالک میں فوجی اڈے اور افواج تعینات کرتا ہے۔ ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین، پانیوں اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کی تیاری یا آغاز کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی جانب سے ان امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو نشانہ بنانا جو ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔

وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکی-صہیونی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں، جس کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان دشمنی اور بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔ ایسا کرنے سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک یا خطے کے دیگر ممالک سے دشمنی نہیں ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ پائیدار علاقائی سلامتی صرف باہمی تعاون، افہام و تفہیم اور خطے سے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر جنرل مجید موسوی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے دشمن کے خلاف جوابی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جنوبی ایران میں امن و سلامتی بحال نہیں ہو جاتی۔

تفصیلات کے مطابق جنرل مجید موسوی نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری اسٹریٹجک سوچ میں زمین، زمین ہے؛ تہران سے لے کر جنوب تک ایران کا ہر حصہ ایک متحد اور مکمل اکائی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران بھر سے دشمن کے خلاف مؤثر اور درست نشانے پر کیے جانے والے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز میں امن و امان بحال نہیں ہو جاتا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سپاہ پاسداران نے اعلان کیا کہ آپریشن "نصر-2" کی 15ویں لہر کے تحت ایرو اسپیس فورس نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی ہے۔

سپاہ پاسداران کے مطابق اس کارروائی میں ایک طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا ریڈار نظام اور متعدد امریکی فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے تباہ کیے گئے، جبکہ دیگر اہم فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا جواب اس سے بھی زیادہ سخت کارروائیوں کی صورت میں دیا جائے گا۔

یہ حملہ آپریشن "نصر-2" کے تازہ ترین مرحلے کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد شروع کی گئی جوابی کارروائیوں کی ایک توسیع شدہ مہم ہے۔

اس سے قبل آپریشن کے مختلف مراحل میں شام، کویت، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کی جانب سے اسلام آباد امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے نتیجے میں مشرق وسطی میں سیکورٹی کے حالات دوبارہ گھمبیر ہوگئے ہیں۔ ایران کے ساحلی علاقوں پر حملوں کے بعد ایران نے بھی خلیج فارس کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی دوران یمن پر بھی سعودی عرب کی جارحیت کے بعد یمنی فوج نے جوابی کاروائیوں کی دھمکی دی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب دونوں کی بندش کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر امریکہ اور سعودی اتحاد کی علاقائی جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں ایک ساتھ بند ہو جائیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق باب المندب دنیا کی اہم ترین تجارتی اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ آبنائے ایشیا میں یمن کو افریقہ کے ممالک جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن، بحیرہ عرب، نہر سویز اور بحیرہ روم سے ملاتی ہے، جس کے باعث یورپ، ایشیا اور امریکہ کے درمیان تجارت میں اس کی کلیدی حیثیت ہے۔ روزانہ 70 سے 100 لاکھ بیرل خام تیل اس راستے سے گزرتا ہے، جبکہ عالمی تجارت کا تقریباً 12 سے 15 فیصد حصہ بھی اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کی مائع قدرتی گیس کی تقریباً 25 فیصد ضروریات بھی اسی راستے سے پوری کی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباً 21 ہزار تجارتی جہاز، یعنی اوسطاً 57 جہاز روزانہ، باب المندب سے گزرتے ہیں اور ان کی مجموعی تجارتی مالیت تقریباً 700 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر باب المندب کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر نقل و حمل کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ایشیا سے یورپ تک بحری سفر کا دورانیہ 31 دن سے بڑھ کر 41 دن ہو جائے گا، جبکہ ایک اوسط کنٹینر بردار جہاز کے سفر کی بنیادی لاگت تقریباً 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 17 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

باب المندب کی بندش کے ممکنہ اثرات

بین الاقوامی تیل اور توانائی کی منڈی کے ماہر عامر الشوبکی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ باب المندب کو تجارتی اعتبار سے غیر محفوظ بنا سکتی ہے، اور ایسی صورت حال عملی طور پر آبنائے کی مکمل بندش کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بحری جہازوں پر 100 سے زائد حملے کیے، جس کے باعث بڑی عالمی شپنگ کمپنیوں کو اپنے بحری راستے تبدیل کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں باب المندب سے گزرنے والے تیل کی مقدار 2023 میں تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 2024 میں 40 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔

اس صورت حال نے نہر سویز کو بھی براہ راست متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق نہر سویز کی آمدنی 2023 میں 10.2 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2024 میں تقریباً 4 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ نہر سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی 26 ہزار سے گھٹ کر تقریباً 13 ہزار رہ گئی۔ اس کے باعث مصر اپنی غیر ملکی زرِ مبادلہ کی اہم ترین آمدنی سے محروم ہوا اور ملکی بجٹ اور مصری پاؤنڈ پر اضافی دباؤ بڑھ گیا۔

عالمی تیل کی آبی گزرگاہوں کا گھیرا تنگ ہونے کا خدشہ

عامر الشوبکی کے مطابق سب سے بڑا خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں کو ایک ساتھ بند ہونے کا سامنا کرنا پڑے۔ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو سعودی عرب نے اپنے مشرقی تیل کے ذخائر کو مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کے لیے مشرق۔مغرب پائپ لائن کا استعمال کیا، تاکہ اپنے تیل کا ایک حصہ عالمی منڈیوں، خصوصاً ایشیائی ممالک، تک پہنچا سکے۔

الشوبکی نے بتایا کہ حالیہ بحران کے دوران اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 47 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا گیا، جس کا تقریباً نصف چین جاتا تھا۔ تاہم بندرگاہ ینبع سے ایشیا جانے والے اس تیل کو باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر یمن باب المندب کو بند کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل راستہ بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس صورت حال میں سعودی عرب، چین اور مصر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہوں گے۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب بیک وقت بند ہو جائیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا اور مصر، سعودی عرب، یورپ، چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کے معاشی اور تجارتی مفادات براہِ راست اس بحران کی زد میں آ جائیں گے۔

عالمی رسد کا نظام نئے امتحان سے دوچار

اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کی رپورٹ کے مطابق، 2024 کے وسط تک بحری جہازوں کا باب المندب کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر کرنے سے عالمی سطح پر جہازوں کی طلب میں 3 فیصد، جبکہ کنٹینر بردار جہازوں کی طلب میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورت حال عالمی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔

توانائی کے امور کی ماہر لوری ہیتایان کے مطابق باب المندب کی بندش کے اثرات صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ایشیا سے یورپ سامان کی ترسیل میں اوسطاً 15 سے 20 دن کی تاخیر ہوسکتی ہے، جس سے نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اور خطے کے ممالک کی معیشتوں پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

ادھر رائٹرز نے خبردار کیا ہے کہ باب المندب کی بندش کی مسلسل دھمکی بھی عالمی تجارت کو مفلوج کرنے کے لیے کافی ہے۔ بڑھتے ہوئے انشورنس اخراجات اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے خطرات کے ازسرِ نو جائزے کے باعث بحری جہاز طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے کسی حملے سے پہلے ہی نقل و حمل کی لاگت اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق باب المندب محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کی ایک اہم شہ رگ ہے۔ اس کی بندش سے صرف تیل کی منڈی ہی نہیں بلکہ عالمی نقل و حمل، سپلائی چین، لاجسٹکس اور بین الاقوامی تجارت کا پورا نظام شدید مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔
 

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کہا ہے کہ کویت کے علی السالم فوجی اڈے پر قائم امریکی فوج کے اجتماع اور سی-رام (C-RAM) فضائی دفاعی نظام کے ابتدائی انتباہی ریڈار کو مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ شب ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور شہروں پر ہونے والے دشمن کے حملوں کے جواب میں بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے نصر 2 آپریشن کی آٹھویں لہر کے دوران، "یا زینب کبریٰؑ" کے رمز کے ساتھ مشترکہ کارروائی انجام دی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے علی السالم اڈے پر موجود سی-رام (C-RAM) کے ابتدائی انتباہی ریڈار اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کویت کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں امریکی افواج کی جانب سے کویتی سرزمین استعمال کرتے ہوئے انجام دی جا رہی ہیں۔ بیان میں کویت کے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملک کو غیر ملکی جارح افواج سے پاک کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کو نہ تو جغرافیے کی پیمائش کرنے والی لکیر سے تقسیم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی الفاظ کے ذریعے ٹکڑوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔

سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ جان بوجھ کر ’جنوبی ایران‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل مخاطب کے ذہن میں ایسے خطے کا تصور پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی شناخت صرف جغرافیائی سمتوں سے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو جغرافیائی پیمانوں سے تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی زبان و الفاظ کے ذریعے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا جاسکتا ہے۔

بقائی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران صرف شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک متحد جسم اور ایک ایسی روح ہے جو باہم جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے بلند پہاڑوں سے لے کر گہرے سمندروں تک، دھوپ سے روشن ساحلوں سے لے کر خاموش اور با عظمت صحراؤں تک، اس سرزمین کا ہر ذرہ ایران ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ سرزمین تاریخ کے برابر وسعت رکھنے والا ایک دل ہے، جو ہزاروں سال سے دھڑک رہا ہے، زخم سہتا ہے، جوش و ولولے کا اظہار کرتا ہے، لیکن کبھی اپنی دھڑکن نہیں روکتا۔ ہر ایرانی اس سرزمین کے ہر حصے کو اپنے دل کا حصہ سمجھتا ہے، ایسا دل جو اپنے فخر، محبت اور استقامت رکھنے والے وطن کے لیے بے پناہ جذبات رکھتا ہے۔

 ایرانی آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن صاعقہ کے ساتویں مرحلے کے دوران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ڈرون حملوں کا نیا مرحلہ انجام دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی ایف 18 جنگی طیاروں کی تنصیب، فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ اور امریکی فوج کے بڑے سازوسامان کے گودام کو خودکش ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی آرمی نے کہا کہ ایرانی فوج کے جوان دشمن کے لیے شہید رہبر انقلاب کا یہ اسٹریٹجک پیغام عملی طور پر ثابت کریں گے کہ مار کر نکل جانے کا دور ختم ہو چکا ہے اور ایران کی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود کے خلاف کسی بھی کارروائی کا مناسب اور موثر جواب دیا جائے گا۔

 

ایرانی فوج نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایران کے مختلف علاقوں پر حملوں کے آغاز کے بعد اب تک امریکی فوج کے اڈوں اور مراکز کے خلاف ڈرون حملوں کے چھ مراحل مکمل کیے جا چکے تھے، جبکہ ساتواں مرحلہ بھی انجام پا گیا ہے۔

 

بیان کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کے خلاف یہ کارروائیاں حتمی کامیابی تک جاری رہیں گی۔