سلیمانی
بحرین سے اردن تک "نصر" اور "صاعقہ" آپریشنز کی مسلسل لہریں
سپاہ پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے امریکی فوج کی جارحیت کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
جنوبی ایران میں دھماکوں کی گونج
منگل اور بدھ کی درمیانی شب صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہروں بمپور اور چابہار میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ان کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے اطراف فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
بوشہر کے گورنر نے واضح کیا کہ کسی مقام پر حملہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب صوبہ ہرمزگان کی انتظامیہ نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے تبادلے اور بندرعباس، ساحلی علاقوں اور خلیج فارس کے جزیروں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی تصدیق کی۔
ہرمزگان کے ضلع حاجی آباد میں شہر کے نواحی علاقے میں ایک میزائل یا راکٹ گرنے کی تصدیق کی گئی، جبکہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع سیریک میں بھی دور سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
صوبہ خوزستان اور ایلام میں بھی امریکی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ خوزستان کی صوبائی انتظامیہ کے مطابق دشتِ آزادگان اور ہویزہ میں گندم اور آٹے کے دو گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دہلران کے گورنر نے بتایا کہ موسیان کے علاقے میں معدنی پانی تیار کرنے والی ایک فیکٹری پر تین میزائل گرے، جس سے مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب کا بیان؛ آپریشن "نصر 2" کی متعدد لہریں
سپاہ پاسداران انقلاب نے مسلسل جاری کردہ بیانات میں "آپریشن نصر 2" کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی ساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
تیسری لہر
سپاہ پاسداران کے مطابق بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے گوداموں اور کویت کے علی السالم ایئر بیس پر MQ-9 ڈرونز کی تعیناتی کے مقام کو نشانہ بنایا۔
چوتھی لہر
بیان کے مطابق کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں واقع امریکی فوج کے مرکزی لاجسٹک اور سپورٹ مرکز KJL کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
پانچویں لہر
سپاہ پاسداران انقلاب کے مطابق، بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، لاجسٹک مراکز، فوجی سازوسامان کے گوداموں اور ایندھن کے ذخائر پر میزائل حملے کیے گئے۔
چھٹی لہر
سپاہ نے اردن کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر موجود امریکی ساختہ F-15، F-16 اور F-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز اور متعدد MQ-9 اسٹریٹجک ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں اردنی عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے اقدامات کریں۔
ساتویں لہر
سپاہ کے مطابق خوزستان کے ہویزہ میں گندم کے گودام اور ایلام کے دہلران میں معدنی پانی کی فیکٹری پر حملوں کے جواب میں کویت میں امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز، میزائل اور فضائی دفاعی ریڈار، پیٹریاٹ دفاعی نظام، ایک فوجی لاجسٹک مرکز اور میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب تک امریکہ کی "جارحانہ کارروائیاں" جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی برآمدات معطل رہیں گی۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی نئی کارروائی کا "غیر متوقع اور سخت جواب" دیا جائے گا۔
ایرانی فوج کا مؤقف؛ آپریشن "صاعقہ" کا ساتواں مرحلہ
ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے علیحدہ بیان میں کہا کہ آپریشن صاعقہ کے ساتویں مرحلے کے دوران اردن کے الازرق ایئر بیس پر امریکی فوج کے F/A-18 لڑاکا طیاروں کے اڈوں، رہائشی عمارتوں اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد امریکی حملوں کے جواب میں اب تک خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کے چھ مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں۔
سیاسی اور بین الاقوامی ردعمل
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران ان دھمکیوں کا جواب "عملی اقدامات" سے دے گا اور ملک کی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو امریکہ "تمام پلوں" کو نشانہ بنائے گا اور بعد کے مراحل میں دیگر بنیادی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں ہوں گی۔
آسٹریا کی سابق وزیر خارجہ کارین کنائسل نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایران کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا، اس پر کنٹرول حاصل کرنا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ آئندہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قابض اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔
غیر مہذب الفاظ کے وہ خود مستحق ہیں، ایرانی قوم نہیں: ٹرمپ کے بیانات پر صدر ایران کا ردعمل
مسعود پزشکیان نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان بازی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا یہ قدرتی بات ہے کہ دشمن کی بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے، لیکن کیا وہ زمینی سطح پر اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں؟
انہوں نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کر رہے تھے؟
صدر ایران نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا عملی طور پر دفاع کرنا چاہیے، اور غیر مہذب الفاظ صرف انہی کے مستحق ہیں، ایرانی قوم نہیں۔
رہبرِ شہیدؒ کا حسینی کردار، عصمت کا دفاع، شہادت کا مقام اور ہمارا رویہ
جب ہم آج کے دور کے کسی شہید کو "حسینی" کہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں اسی بیداری کے فریضے کو نبھایا ہے، جس کا آغاز امام حسینؑ نے کیا تھا۔ اگر ہم آج کے عالمی حالات، ہماری حالیہ تاریخ اور دورِ حاضر کی یزیدیت کا بغور جائزہ لیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ موجودہ صدی اور حالیہ ماضی میں رہبرِ شہیدؒ وہ بے مثال شخصیت ہیں، جنہوں نے سب سے بڑھ کر خود کو امام حسین علیہ السلام کے مشن کے قریب ترین ثابت کیا ہے۔ انہوں نے یزیدِ وقت اور عالمی استکبار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر محض زبانی دعوے نہیں کیے، بلکہ اپنی پوری زندگی اور بالآخر اپنے پاکیزہ لہو سے ثابت کر دیا کہ وہ سچے معنوں میں امامِ مظلومؑ کے اسی فرمان کے عملی محافظ اور اس دور کے سب سے بڑے "حسینی" تھے۔
صبر کا مطلب خاموشی نہیں، دشمنان انسانیت کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے، آیت اللہ مصطفی خامنہ ای
شہید رہبر انقلاب اسلامی کے فرزند ارشد آیتالله سید مصطفی حسینی خامنهای نے کہا ہے کہ عظیم سانحے پر صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی یا ان سے مقابلہ روک دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق، مصلائے امام خمینی میں شہید رہبر انقلاب اسلامی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آیتالله سید مصطفی حسینی خامنهای نے کہا کہ وہ اس تقریب میں ایک پیغام پہنچانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔
انہوں نے شہادت کے واقعے پر حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (عج)، امت مسلمہ، ایرانی قوم اور تقریب میں شریک افراد کو تعزیت پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت "وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ" کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات میں صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان بڑی مصیبت کو اس طرح برداشت کرے کہ وہ اپنے روشن راستے کو درست انداز میں جاری رکھ سکے اور اپنے آخری ہدف تک پہنچنے کے لیے ثابت قدم رہے۔
آیتالله سید مصطفی حسینی خامنهای نے واضح کیا کہ صبر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بڑے جرائم میں ملوث دنیا کے شرپسند عناصر کے خلاف انتقام اور مقابلے سے دستبردار ہوا جائے۔
انہوں نے شہید رہبر انقلاب اسلامی کی تشییع جنازہ میں عوام کی وسیع شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے بڑے واقعات اور شہید امام خامنہ ای کے تشییع جنازے میں توحید کا ایک عظیم مظہر دیکھنے کو ملا، جس کی قدر کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً پچاس برس سے اسلامی معاشرے میں اسلام کے مطلوبہ تصورِ توحید کا ایک منفرد انداز میں اظہار دیکھنے کو مل رہا ہے، جو انسانوں کی سعادت کا سبب بنتا ہے۔
شہید رہبر انقلاب کے فرزند نے کہا کہ روایات کے مطابق اگر کسی معاشرے کا امام اللہ کا نمائندہ ہو اور امت اس کی قیادت کو قبول کرتے ہوئے اس کی پیروی کرے تو وہ معاشرہ اعلی روحانی مقام سے جڑ جاتا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر رہبر معظم انقلاب کی جانب سے عوام کے نام تشکر کا پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ انہیں ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ عظیم، شاندار اور بے مثال اجتماع پر رہبر معظم انقلاب کی طرف سے عوام کا شکریہ ادا کریں۔
آیتالله سید مصطفی حسینی خامنهای نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی وفاداری اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا منظر پیش کیا جو دشمنوں کے لیے انتہائی سخت اور ناقابل برداشت تھا۔
انہوں نے کہا کہ تہران، قم، مشہد اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے عوام نے لاکھوں کے اجتماعات کی صورت میں انقلاب اسلامی کے اقدار اور نظریات سے اپنی وابستگی کا تاریخی اظہار کیا۔ عوام کی یہ عظیم شرکت اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی اس کے مثبت اثرات اور برکات سامنے آئیں گی۔
ایران کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتا، مفاہمتی یادداشت ختم ہوچکی ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب ایران کے ساتھ مزید تعامل یا بات چیت نہیں کرنا چاہتے اور ان کے خیال میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران بارہا رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، نے واضح طور پر کہا کہ وہ اب ایران کے ساتھ کسی قسم کا تعامل نہیں چاہتے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی حکام کے خلاف سخت اور غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا۔ وہ ایران کے ساتھ بات چیت میں بہت زیادہ وقت ضائع کرچکے ہیں، اس لیے اب مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس اتحاد نے ہر چیز مفت میں حاصل کی ہے۔
نصر2 آپریشن، سپاہ پاسداران کا بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر بڑا حملہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے منگل کی شام بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر آپریشن نصر 2 کے تیسرے مرحلے کے تحت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی منگل کو جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
پریس ٹی وی کے مطابق سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں کہا کہ بحری اور فضائی یونٹوں نے "یا زین العابدین" کے کوڈ نام سے مربوط میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بحرین کے شیخ عیسی فوجی اڈے پر موجود دشمن بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کے لیے اسلحہ اور پرزہ جات رکھنے والے متعدد گودام تباہ کر دیے گئے جبکہ کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ایم کیو 9 ڈرونز کی تعیناتی کے مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی اسی روز دوپہر کے وقت امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران میں مسلح افواج کی متعدد ساحلی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔
سپاہ پاسداران نے خبردار کیا کہ جب تک امریکہ اپنی جارحیت جاری رکھے گا، اس کے خلاف جوابی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی، اور آئندہ کسی بھی حملے کا سامنا امریکہ کو غیر متوقع ردعمل سے کرنا پڑے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جب تک خطے میں امریکی مداخلت اور جارحیت برقرار رہے گی، اس وقت تک خطے سے تیل اور گیس کی ایک بوند بھی برآمد نہیں ہوسکے گی، جبکہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی بھی مزید تاخیر کا شکار ہوگی۔
اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ امریکہ نے جنوبی ایران میں قشم، کیش اور اندیمشک سمیت متعدد علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے 7 اپریل کو یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی ایرانی سرزمین کی متعدد بار خلاف ورزیاں کیں۔ جون میں پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود، جس کی پہلی شق ہر محاذ پر جارحیت کے خاتمے سے متعلق تھی، امریکی کارروائیاں جاری رہیں۔
شہیدِ امت کی تسبیحِ وحدت
برصغیر پاک و ہند کی مٹی گواہ ہے کہ یہاں کی تاریخ محض بادشاہوں کی فتوحات کا نام نہیں، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں اور افکار کے ملاپ کی ایک لازوال داستان ہے۔ اس داستان میں حسینی پیروکاروں کا کردار ایک ایسی بنیادی کڑی ہے، جس نے اس خطے کی مذہبی، سماجی اور سیاسی ساخت کو ایک نیا رخ دیا۔ برصغیر میں حسینیوں کی آمد کا سلسلہ براہِ راست حسینیت اور کربلا کے تپتے ہوئے صحرا سے جڑا ہوا ہے۔ جب سانحہ کربلا کے بعد ساداتِ عظام اور محبانِ اہلِ بیت علیھم السلام نے دینِ حق کی حفاظت کے لیے ہجرت کا راستہ اختیار کیا اور اس سرزمین کا رُخ کیا۔ حسینی فکر کی یہ خوشبو آگے چل کر تحریکِ پاکستان کا وہ منطقی ثمر بنی، جہاں تمام مسلمانوں نے مسلک اور برادری سے بالاتر ہو کر ایک منزل کی جستجو کی۔
اگرچہ سر سید احمد خان نے ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد "علی گڑھ تحریک" چلائی، جو ایک عظیم تعلیمی اور فکری تحریک تھی اور اس کے بعد نواب عبداللطیف نے کلکتہ میں ۱۸۶۳ء میں "محمڈن لٹریری سوسائٹی" کی بنیاد رکھی، جو ایک بہترین علمی و سماجی فورم تھا، لیکن برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے اور عملی طور پر انہیں ایک الگ "سیاسی قوم" کے طور پر منظم کرنے والے سب سے پہلے معمار ساداتِ مشہد کے چشم و چراغ جسٹس سید امیر علی تھے۔ انہوں نے ۱۸۷۷ء میں "سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن" قائم کرکے برصغیر کی پہلی باقاعدہ مسلم سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی، جس کا سہرا تاریخ میں ہمیشہ کے لیے انہی کے سر ہے۔
اس انقلابی روح میں رنگ بھرنے والے مسلمانوں کے دردمند دلِ بیدار، حکیم الامت علامہ محمد اقبال لاہوری تھے اور جب اس طویل جدوجہد کو ایک ریاست کی شکل دینے کا حتمی وقت آیا، تو بانیِ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسندی اور بے باک سیاسی بصیرت نے اس منتشر قوم کو ایک پرچم تلے متحد کر دیا۔ تحریکِ پاکستان کی مالی ریڑھ کی ہڈی راجہ امیر احمد خان آف محمود آباد جیسے رئیسِ باوفا بنے، جنہوں نے اپنی کروڑوں کی موروثی جاگیر نو مولود ریاست کے قدموں میں ڈھیر کر دی اور معیشت و سفارت کے محاذ پر مرزا ابوالحسن اصفہانی قائد کے معتمدِ خاص بنے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان جیسی مستورات نے ثابت کیا کہ اس ملک کی جڑوں میں حسینیؑ عزم اور کربلا کا آفاقی پیغام ایک روح کی طرح دوڑ رہا ہے۔
یہ اس مٹی کا خمیر تھا جہاں مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر سب نے ایک توحیدی نظام کے سائے میں جینے کا عہد کیا تھا، اور ۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک "پاکستان" اُبھرا۔ تقریباً ایک صدی بعد حسینی پیروکاروں نے ایک مرتبہ پھر مینارِ پاکستان کے مقدس سائے تلے اس تاریخ کو دہرایا ہے اور شہید امت کانفرنس معقد کرکے غیور ملتِ پاکستان نے طاغوتی طاقتوں، استعمار اور یہود و نصاریٰ کی ثقافتی یلغار کے بندھنوں سے نکل کر وحدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والی عظیم الشان "شہیدِ امت کانفرنس" عملی طور پر ایک تاریخی، انتہائی کامیاب اور امتِ مسلمہ کی وحدت کا مرکز رہی۔ اس کانفرنس میں پورے پاکستان سے تمام مسالک کے افراد، سیاسی رہنماؤں، جید علماء و مشائخ، ذاکرینِ عظام اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں غیور عوام نے شانِ بے نظیر کے ساتھ شرکت کر کے عالمی طاغوت کو یہ پیغام دیا کہ تمہاری تفرقہ بازی کی تمام سازشیں ناکام ہو چکی ہیں اور انہوں نے میدانِ عمل میں "امتِ واحدہ" ہونے کا ایک ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کانفرنس دلوں کو گرما دینے والی کانفرنس تھی، شاید میری طرح تمام دردمند ملت کی بھی دلی خواہش ہوگی کہ بیداری کے یہ دل اسی طرح گرم رہیں اور کبھی سرد نہ ہونے پائیں، اگرچہ ملت تشیع کی کوششوں سے یہ کانفرنس منعقد کی گئی، جو وحدت مسلمین کا اعلٰی نمونہ تھی، لیکن اس وحدت کو برقرار رکھنا کسی ایک مسلک کا کام نہیں، اس میں سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ صرف کسی جماعت یا گروہ کی نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ قومی اور شرعی ذمہ داری ہے۔ شہید اُمت کانفرنس دیکھ کر مجھے امام رضا علیہ السلام کی منقبت میں کہا ہوا اپنا ایک شعر یاد آیا، جو میں نے مشہدِ مقدس کی زمین پر بلا تفریقِ رنگ و مسلکِ زائرین کو اکٹھا دیکھ کر کہا تھا:
ہم بکھرے ہوئے موتی ہیں بس ایک لڑی کے
معلوم ہوا جا کے یہ مشھد کی زمیں پر
شہید امت کانفرنس میں مینارِ پاکستان کا منظر بھی ایسا ہی تھا، جہاں بکھرے ہوئے موتی ایک ہی لڑی میں پروئے نظر آئے اور تمام مسالک کے افراد، سیاسی رہنماؤں، علمائے کرام، مشائخ، ذاکرینِ عظام اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں غیور عوام ایک جگہ اکٹھے نظر آئے۔ یہ افراد صرف مادی طور پر ہی نہیں بلکہ حسینی اور نظریاتی نظریئے کے تحت جمع ہوئے۔ یہاں حقیقت میں یہ بات عیاں ہوئی کہ شہید کو موت نہیں ہوتی، بلکہ وہ زندہ جاوید ہوتا ہے۔ شہیدِ امت حضرت سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت ان کے پاک خون اور ان کی بلند روح نے، جو دراصل پوری امت کا مشترکہ اثاثہ ہیں، تفرقے اور نفرت کے تمام بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ ان کے اس ایثار نے اہلِ تشیع اور اہلِ تسنن کو "یک جان اور دو قالب" بنا کر ایک ہی تسبیح کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ یہ "شہیدِ امت کی تسبیح" ہے! اگر ہم اسی طرح اس رہبرِ شہید کی تسبیح بن کر رہے، اس کے دانوں کو بکھرنے نہ دیا اور اتحاد کے اس مضبوط دامن کو تھامے رکھا، تو آنے والا وقت دنیا کے نقشے پر ایک نئے انقلابِ وحدت کا پیش خیمہ ہوگا۔
مینارِ پاکستان میں بلا تفریقِ مسلک سب حسینیوں نے بیک زبان "لبیک یاحسینؑ'" کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ امام حسین علیہ السلام کی ذات اور حسینی راہ ہمارے لیے ایک ایسی مشعلِ راہ ہے کہ ہم یزیدیت کا انکار بھی کریں اور متحد ہو کر حسینی ہدف کی طرف بڑھ سکیں۔ مینارِ پاکستان میں ملت پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک غیور قوم ہے۔ خدا نے شہید کے خون کی بدولت دلوں میں وہ کارنامہ انجام دے دیا ہے، جس کے لیے صدیوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہواؤں میں رحمتِ خداوندی کی خوشبو چل رہی ہے، حجت قائم امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور تشریف آوری کی نوید سنا رہی ہے۔ ہماری مشکلات کا اب ایک ہی حل رہ گیا ہے کہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام تشریف لائیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
اس کانفرنس کی ایک بہت ہی اطمینان اور سرور بخش بات یہ تھی کہ نامور اور جید علمائے کرام اور شخصیات کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا۔ میں ان تمام قابلِ احترام علمائے کرام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس موقع پر یہ سب اپنے مختلف ذاتی نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ساتھ بیٹھے۔ کافی عرصے سے ملت یہ خواب دیکھ رہی تھی، جو اس کانفرنس میں ایک حسین تعبیر کی صورت میں نظر آیا اور جس نے دشمنوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، کیونکہ اس کانفرنس سے پاکستان اور اسلام کے بد نیت دشمنوں کے خوابوں اور قابلِ نفرت خواہشات کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ ان شاء اللہ! جب تک اس مٹی میں حسینیت کی خوشبو اور اتحاد کا یہ جذبہ موجود ہے، دنیا میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہر طاغوتی نظام کے سامنے سربلند اور قائم و دائم رہے گا۔"
تحریر: حاجی شبیر احمد شِگری
ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی شکست
ٹرمپ ہار ماننے پر مجبور ہو گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخرکار ایران کے سامنے ہار ماننے کا فیصلہ کرتے ہوئے سفید جھنڈا لہرا دیا ہے۔ وہ اس طرح کم ترین نقصانات کے ساتھ عزت پتی سے جنگ سے نکلنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ سمجھ گیا ہے کہ وہ جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس سے باہر نکلنے کا راستہ وہی مفاہمتی یادداشت ہے جو پاکستان میں اسے پیش کی گئی ہے۔ یہ مفاہمت جنگ بندی، تھکا دینے والی جنگ مزید وسعت اختیار کرنے سے روکنے اور آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کی رٹ اور حاکمیت قبول کیے جانے پر منتج ہو گی جسے ڈونلڈ ٹرمپ نہ چاہنے کے باوجود ماننے پر مجبور ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے بہت بڑا دھوکہ کھانے اور طویل اور شدید سرگردانی کے بعد اب انہیں ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جنہوں نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ ٹرمپ آج ایران کے اسی اسلامی نظام کے عہدیداروں سے مفاہمت کرنے پر مجبور ہو چکا ہے جس کی سرنگونی کے لیے اس نے جنگ شروع کی تھی۔
ایران نے جنگ اور مذاکرات میں ذہانت سے عمل کیا ہے
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ اصل اختلافات، خاص طور پر جوہری سرگرمیوں کے بارے میں مذاکرات کو موخر کر دینا اور فی الحال جنگ ختم کرنے پر زور دینا اور آئندہ دو ماہ کے دوران مرحلہ وار ایران کے دسیوں ارب منجمد اثاثے واپس کر دینے کا عندیہ وہ اہم کامیابیاں ہیں جو ایران نے اپنی ذہانت سے حاصل کی ہیں۔ ساتھ ہی ایران نے فوجی میدان میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بہترین ڈیٹرنس برقرار کر رکھی ہے۔ دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کی تمام تر کھوکھلی دھمکیوں، جیسے ایران کو نابود کر دینے، اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے اور اسے جہنم میں ڈال دینے کی پرواہ کیے بغیر اس کے ہر جارحانہ اقدام کا دوٹوک اور منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔ ماضی میں بھی ایران نہ صرف امریکہ بلکہ مغربی ممالک سے بھی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کر چکا ہے۔
ایران نے امریکہ اور یورپی ممالک سے دو سال تک اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات انجام دیے۔ یہ مذاکرات ویانا سے لے کر مسقط تک اور آخرکار جنیوا میں انجام پائے جن میں یورینیم افزودگی جیسے حساس ایشوز بھی زیر بحث لائے گئے تھے۔ ان مذاکرات میں بھی ایران نے اپنے حقوق کا دفاع کیا اور دشمن کو مراعات نہیں دیں۔ ایران کے پاس حالیہ جنگ میں بھی بہت سے کارڈ تھے جن سے اس نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بہت ذہانت سے استعمال کیا۔ ان کارڈز میں جوہری پروگرام، میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور ان شعبوں میں خودکفائی شامل ہے۔ لیکن ایران کے پاس جو سب سے زیادہ اہم کارڈ موجود ہے وہ اسلامی مزاحمتی بلاک اور مزاحمتی محاذوں میں اتحاد اور وحدت ایجاد کرنا ہے۔ اسی طرح جنگ کو تھکا دینے والی علاقائی جنگ تک وسعت دینا بھی اہم کارڈ ہے۔
سب سے بڑی ہار اسرائیل کی ہوئی ہے
اہران کے پاس موجود یہ کارڈز نتیجہ بخش ثابت ہوئے اور ٹرمپ کو ذلت آمیز انداز میں ایران کی پیش کردہ شرائط پر جنگ روکنے اور مفاہمتی یادداشت قبول کرنے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہے۔ اس بات سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ اس مفاہمی یادداشت پر کس حد تک عمل کیا جائے گا اور امریکہ اس کی کتنی پابندی کرے گا، سب سے بڑی ہار اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی ہوئی ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ اگرچہ غاصب صیہونی رژیم نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ مفاہمتی یادداشت تیار کرنے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں طے پانے والے ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور یہ اسرائیل کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
مزاحمتی محاذوں میں اتحاد، صیہونی رژیم پر کاری ضرب
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملے کا الٹی میٹم جاری کرنے پر بنجمن نیتن یاہو کو پاگل کہا اور اس کی خوب درگت بنائی۔ دوسری طرف ایران نے بیروت پر حملے کو ریڈ لائن قرار دیا اور ایسی صورت میں جوابی حملے کی وارننگ بھی دی۔ لہذا جب اسرائیل نے بیروت کو نشانہ بنایا تو چند گھنٹے بعد ہی ایران نے اسرائیل کو شدید میزائل حملوں سے نشانہ بنا ڈالا۔ ایران کے اس اقدام نے اسلامی مزاحمتی محاذوں کے درمیان اتحاد کی مساوات کو مضبوط کر دیا۔ یہ ایران کی ایک بہت بڑی اسٹریٹجک فتح ہے۔ اسی طرح ایران کے سربراہان کی جانب سے جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے جو اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم پر کاری ضرب ہے۔ ممکنہ معاہدے میں ایران کے اس مطالبے کی قبولیت سے حزب اللہ لبنان کو مزید مشروعیت فراہم ہو جائے گی۔
جنگ کا نتیجہ، زیادہ طاقتور ایران
نیتن یاہو نے ٹرمپ کو دھوکہ دیا اور اسے ایک بھیڑ کی مانند جنگ میں دھکیلا۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یقین دہانی کروائی کہ امریکہ اور اسرائیل کے پہلے مشترکہ حملے میں ہی ایران ٹوٹ جائے گا اور دسیوں لاکھ ایرانی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیکن آج تقریباً 100 دن گزر جانے کے بعد جو نتائج برآمد ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر برعکس ہیں۔ ایران کا اسلامی نظام پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے اور اس کے عوام میں بھی وحدت کو فروغ ملا ہے۔ یہ حقیقت بہت واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے کہ ٹرمپ کو شکست ہوئی ہے اور اسرائیل بہت تیزی سے زوال اور انتشار کی جانب گامزن ہے۔ غاصب صیہونی رژیم روز بروز تنہا اور منفور ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی عوام میں اسرائیل سے نفرت بڑھ رہی ہے کیونکہ انہیں نیتن یاہو کی جنگ میں شمولیت کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔
ایران نے امریکہ کے سپر پاور ہونے کے وہم کو نچوڑ کے رکھ دیا ہے
فارن پالیسی میگزین نے جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ہال برانڈز کی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنازع محض مشرق وسطیٰ کا علاقائی بحران نہیں تھا، بلکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیت کا ایک امتحان بھی تھا۔ مصنف کے مطابق اس جنگ نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر وسیع اثرات مرتب کرنے کے علاوہ واشنگٹن کی عالمی حیثیت اور سپر پاور ہونیکے ناطے ذمہ داریوں اور اس کے پاس موجود حقیقی وسائل کے درمیان خلیج کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
فارن پالیسی کے مطابق خلیج فارس میں جنگ نے میدان جنگ سے آگے بھی اثرات مرتب کیے ہیں اور عالمی تجارت، توانائی کی سیکورٹی، بحری جہاز رانی کی آزادی اور جیو پولیٹیکل مساوات کو متاثر کیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس بحران کے اہم ترین نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ امریکہ بیک وقت متعدد محاذوں پر کردار ادا کرنے میں بڑھتی ہوئی حدود کا سامنا کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت نے تنازع کے ابتدائی مراحل میں اپنی فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حکمت عملی کی کامیابیوں کا مطلب اسٹریٹجک اہداف کا حصول نہیں ہے۔
فارن پالیسی کے مطابق جنگ کے جاری رہنے سے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا اور امریکی مسلح افواج پر دباؤ بڑھ گیا، یہ معاملہ اب واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ مصنف امریکی مطالعاتی مراکز کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جدید دفاعی نظاموں کی ایک قابل ذکر مقدار استعمال کر لی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاماہاک میزائل، جی اے ایس ایس ایم، ایس ایم-3 انٹرسیپٹرز، تھاڈ اور پیٹریاٹ سسٹم ان آلات میں شامل ہیں، جن کا امریکی فوجی حکمت عملیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں اہم کردار ہے اور ان تیاری اور ٹرانسپورٹیشن کے لیے وسیع وقت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے بھی بہت سے امریکی ماہرین نے ایک طویل تنازع کا سامنا کرنے کے لیے امریکی ہتھیاروں کے محدود ذخائر کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ ہتھیاروں کی موجودہ پیداواری شرح بتاتی ہے کہ ان میں سے کچھ ذخائر کی مکمل بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی افواج پر پڑنے والے دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ اور دیگر امریکی اسٹریٹجک آلات پچھلے چند مہینوں میں دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان بار بار منتقل کیے گئے ہیں۔ مصنف اس صورتحال کو واشنگٹن کی فوجی ذمہ داریوں کے اندازے سے زیادہ وسعت اختیار کرنے اور بیک وقت متعدد بحرانوں کے انتظام کی دشواری کی علامت قرار دیتا ہے۔
فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں اس چیلنج کی جڑ کو گزشتہ برسوں سے جوڑا ہے۔ مصنف کے مطابق باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن تک مختلف امریکی حکام نے بار بار مشرقی ایشیا پر توجہ مرکوز کرنے اور چین کے ساتھ مسابقت پر زور دیا، لیکن مشرق وسطیٰ کی پیش رفت، یوکرین کی جنگ اور دیگر بین الاقوامی بحرانوں نے اس ہدف کو مکمل طور پر حاصل نہیں ہونے دیا۔ مصنف کے خیال میں امریکہ کی سب سے اہم اسٹریٹجک سوچ اب چین کے ساتھ مسابقت سے متعلق ہے۔ بیجنگ نے پچھلے چند سالوں میں اپنی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک وسیع پروگرام پر عمل کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے ارد گرد کے علاقوں میں فوجی تیاری بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
ایسے حالات میں، امریکی فوجی ذخائر اور صلاحیت کے ایک حصے میں کمی مشرقی ایشیا میں سلامتی کے محاسبات کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایشیا میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے بعض عہدیداروں اور ماہرین نے بھی واشنگٹن کے فوجی وسائل کے ایک حصے کو مشرق وسطیٰ میں منتقل کرنے کے نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایشیائی اتحادیوں کو کچھ فوجی آلات کی فراہمی میں تاخیر اور دفاعی نظاموں کے ایک حصے کی نقل مکانی نے مختلف بحرانوں کا بیک وقت جواب دینے کی امریکی صلاحیت کے بارے میں سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ مصنف زور دیتا ہے کہ جنگ کے نتائج صرف کمزوریوں تک محدود نہیں تھے، اس تنازع نے یہ دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجیز بشمول ڈرون، ذہین نظام اور مصنوعی ذہانت مستقبل کے میدان جنگ میں بڑھتا ہوا کردار ادا کریں گی۔
اس جنگ کا تجربہ امریکی فوج اور دیگر طاقتوں کے لیے مستقبل کی حکمت عملیوں کی تشکیل میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ اب بھی وسیع فوجی، معاشی اور تکنیکی صلاحیتوں کا حامل ہے اور جیو پولیٹیکل مسابقت کا حتمی نتیجہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ، فوجی صنعتوں کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنا ان اختیارات میں سے ہیں جن پر امریکی پالیسی سازی کے حلقوں میں بحث ہو رہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ واشنگٹن کے لیے محض ایک علاقائی تصادم نہیں تھی، بلکہ یہ امریکی عالمی ذمہ داریوں کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔ آنے والے سالوں میں امریکہ کا ان چیلنجوں پر ردعمل عالمی طاقت کے توازن، اس کے
شہباز شریف: امن کا مفاہمت نامہ منظور، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائی فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے مابین امن مفاہمت نامہ حاصل ہوگیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ مفاہمت نامے پر دستخط کی باضابطہ نشست 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں جنگ کے خاتمے پر مبنی ایران اور امریکہ کی سفارتی کوششوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر ثالثی کے لیے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے کردار کی بھی قدردانی کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ مفاہمت نامے کے ابتدائی اقدامات اور فنی مذاکرات کی تیاری کے لیے رواں ہفتے کے دوران اجلاس منعقد ہوں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
