سلیمانی

سلیمانی

گذشتہ رات امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران میں اعلی تعلیمی مراکز پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے بعد ایران نے جواب میں دشمن کی جامعات کو نشانہ بنانے کی وارننگ جاری کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی جامعات پر حملے کے بعد اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی جامعات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کی افواج نے تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بمباری کر کے ایک مرتبہ پھر ایران کی جامعات کو نشانہ بنایا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکمرانوں کو جان لینا چاہیے کہ اب سے اسرائیلی جامعات اور مغربی ایشیا میں موجود امریکی جامعات کو اس وقت تک نشانہ بنایا جاسکتا ہے جب تک ایرانی جامعات پر کیے گئے حملوں کا بدلہ نہ لے لیا جائے۔

بیان میں ان جامعات کے عملے، اساتذہ، طلبہ اور اردگرد رہنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں۔

سپاہ پاسداران کے مطابق اگر امریکی حکومت پیر 30 مارچ کو تہران کے وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے تک ایک سرکاری بیان میں جامعات پر ہونے والی بمباری کی مذمت کر دے تو اس مرحلے پر صرف دو جامعات کے خلاف تلافی کی کارروائی تک معاملہ محدود رکھا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر دھمکی پر مکمل عمل کیا جائے گا۔

بیان میں سپاہ پاسداران نے خلیج فارس کے جنوبی ممالک سے ایران کے صنعتی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایک مشترکہ فوجی کارروائی کا بھی اعلان کیا۔

سپاہ کی فضائیہ اور بحریہ کے دستوں نے ایک مشترکہ اور ہدفی آپریشن میں امریکہ کی فوجی اور فضائی صنعت سے وابستہ دو بڑی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ان میں ایمال (EMAL) اور آلبا (ALBA) کے ایلومینیم کارخانے شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ایمال دنیا کی سب سے طویل ایلومینیم پروڈکشن لائن رکھنے والی فیکٹری ہے جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریبا 1.3 ملین ٹن ہے، جبکہ آلبا فیکٹری میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور شراکت داری موجود ہے اور یہ امریکی فوجی صنعت کے لیے اہم مواد کی تیاری میں کردار ادا کرتی ہے۔

سپاہ پاسداران نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ ایران کا ردعمل اب صرف آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمن کی کسی بھی سطح کی جارحیت کے جواب میں اس کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو اس سے زیادہ سخت ضرب لگائی جائے گی۔

انگریزی اخبار ڈیلی میل کی جاری کردہ نئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک امریکی آواکس طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ تصاویر، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس  کی ہیں، ایک E-3G طیارے کے تباہ شدہ ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہیں، جو امریکی فوج کے نگرانی اور فضائی کمانڈ نظام کا اہم ترین بازو ہے۔ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

اطلاعات کے مطابق جمعہ کو کیے گئے حملے کے دوران اس طیارے کو کم از کم چھ بیلسٹک میزائلوں اور 29 ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 15 کے قریب امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

جاری کردہ تصاویر تباہی کی وسیع حد کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں، ہوائی جہاز کا درمیانی حصہ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کے اندرونی حصے تخریب کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں، طیارے کی دم الگ ہو گئی ہے اور رن وے پر گری ہوئی ہے، اس کے ارد گرد ملبہ بکھرا ہوا ہے۔ ایک اور تصویر میں، حفاظتی سوٹ میں امدادی کارکن طیارے کے پروں کے نیچے نظر آ رہے ہیں، جو تباہی کے سطح کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ طیارہ، نمبر 81-0005، مبینہ طور پر امریکی فضائیہ کے 552 ویں ایئر کنٹرول ونگ میں شامل تھا۔ فضائی کارروائیوں کی نگرانی، کمانڈ اور کنٹرول میں اہم کردار ادا کرنے والا E-3 بحری بیڑا پہلے ہی محدود ہے اور طیارے کا نقصان امریکی آپریشنل صلاحیتوں کے لیے ایک سنگین دھچکا شمار ہوتا ہے۔

یاض کے قریب پرنس سلطان ایئر بیس، جو امریکی فوجیوں اور ساز و سامان کی میزبانی کرتا ہے، حالیہ ہفتوں میں کئی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ اس حملے کو خطے میں امریکی فوجی اثاثوں پر سب سے اہم براہ راست حملوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

ایران کا نشانہ بننے والے جدید امریکی طیارے + تصویر

پاسداران انقلاب اسلامی نے آج اتوار 29 اپریل 2026 کو ایک بیان میں اعلان کیا: امریکی دہشت گرد فوج کی دشمنانہ کارروائیوں کے جواب میں اور الخرج اڈے پر ایندھن بھرنے والے طیاروں کی تباہی کے بعد، IRGC ایرو اسپیس فورس کے مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن میں، کم از کم ایک E-3 ، جو آواکس کے نام سے مشہور ہے، تباہ ہوگیا ہے اور اس کے ارد گرد کھڑے دیگر طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ طیارہ میدان جنگ کا یونائٹ میپ بنا کر عملی طور پر فضائي آپریشن کے دوران لڑاکا طیاروں کی اہداف کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔

یہ طیارہ بیک وقت 300 سے زائد اہداف کو روکنے اور لڑاکا طیاروں کو آپریشنل طور پر ہدایت دینے، ہدف کی تقسیم اور انٹرسیپٹ کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طیارے کی موجودہ قیمت کا تخمینہ تقریباً 530 سے 600 ملین ڈالر فی طیارہ  بتایا جاتا ہے۔    

 خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایران پر زمینی حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا اور انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زمینی کارروائیوں اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے سے متعلق بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ منصوبوں کو حقیقت سے عاری قرار دیا۔

ترجمان نے کہا کہ امریکی قیادت نے فوج کی کمان ایسے فرد کے سپرد کر دی ہے جس کے فیصلوں نے امریکی افواج کو بدترین دلدل میں دھکیل دیا ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی افواج تباہ شدہ اڈوں سے پسپا ہو چکی ہیں اورعلاقائی ممالک کے شہری و معاشی مراکز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اس کے باوجود وہ اب بھی ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری نے زمینی حملے سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج طویل عرصے سے اس طرح کی صورت حال کے لیے تیار اور جواب دینے کے لیے منتظر ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت یا قبضے کی کوشش کی صورت میں حملہ آور افواج کو گرفتاری اور مکمل تباہی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی کمانڈرز اور فوجی بالآخر خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی خوراک بن جائیں گے۔

امریکی قیادت پر زور دیتےہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور ماضی میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ساتھ ہونے والے تجربات سے سبق سیکھیں اور خبردار کیا کہ غلط فیصلے امریکی افواج کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

ابراہیم ذوالفقاری نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی عملی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری  اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ دبئی میں امریکی کمانڈروں اور فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہ مذکورہ امریکی اڈے پر حملے کے وقت یوکرین کا ایک اینٹی ڈرون سسٹم کی ایک کھیپ  اور 21 یوکرینی بھی وہاں موجود تھے۔

 ان کا کہنا تھا مذکورہ امریکی فوجی اڈے میں موجود یوکرینی فوجیوں کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، جو غالباً مارے گئے ہیں۔

مضمون نگار لیون ہیڈر خبردار کیا ہے کہ بلا وجہ اور بدلتے بہانے سے شروع کی جانے والی یہ جنگ امریکہ کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دے گی جس سے دنیا میں واشنگٹن کی بالادستی ختم ہو جائے گی۔

مضمون نگار کے مطابق  28 فروری 2026  کو امریکہ اور اسرائیل نے جھوٹے اور متضاد بہانوں کے تحت ایران کے خلاف اپنے حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل ہی عمانی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے بلواسطہ مذاکرات میں جوہر معاہدے کی جانب پیشرفت کی خبر دی تھی۔

فاضل تجزیہ نگار کے مطابق امن تک رسائي کے باوجو امریکہ اور اسرائیل نے معاہدے کی سیاسی خشک ہونے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کردیا۔  

مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ایرانی سرزمین پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کے لیے چھ مختلف اور متضاد وجوہات پیش کی ہیں جن میں ایران کو انتقام جوئی روکنے سے لیکر حکومت تبدیلی اور اس کی دفاعی طاقت کے خاتمے جیسے بہانے شامل ہیں۔

 لیون ہیڈر  کے مطابق یہ بظاہر تضاد ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے جواز فراہم کرنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں تھا۔

سوشل میڈیا ہنڈل ایکس پر صدر ایران کے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ایران پیشگی حملے نہیں کرے گا، لیکن اپنے  انفراسٹرکچر اور اقتصادی مراکز پر دشمن کے حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیں گے۔  

انہوں نے علاقے کے ملکوں پر زور دیا کہ اگر آپ ترقی اور سلامتی کے خواہاں تو تو ایران کے دشمنوں کو اپنے ملکوں کی سرزمین جنگ میں استعمال نہ کرنے دیں۔

رنا کے مطابق، محمد باقر قالیباف نے انگریزی میں لکھا کہ اسرائیلی فوج کے کمانڈر نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ "میں دس سرخ جھنڈے اٹھاؤں گا... اسرائیلی فوج خود ہی نابود ہو جائے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کشیدگی بڑھا کر اور ایران کے صنعتی ڈھانچے پر حملہ کر کے اسرائیلی رجیم ان انتباہات کو نظر انداز اور مزید جرائم کا ارتکاب کرکے اپنی شکست خوردہ کابینہ اور فوج کے پست حوصلے پھر سے بلند کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

ایران کے اسپیکر نے مزید کہا کہ تہران نے اپنے جوابی حملوں کی منصوبہ اسرائيلی فوج کی اندرونی شکست و ریخت کا عمل تیز کرنے پر استوار کرلی ہے۔  

 

ارنا کے مطابق اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے رپورٹ دی ہے کہ چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے کابینہ کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ فوج اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں خطرے کی بلند ترین سطح کی علامت کے طور پر 10 سرخ جھنڈے اٹھا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف  نے اس حوالے سے مزید کہا کہ فوج کو اس وقت لازمی سروس میں توسیع کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ  ریزرو فوجیوں میں مزید جنگ کا حوصلہ نہیں ہے۔


16 جولائی 1939ء کو خراسان صوبہ کے مقدس شہر مشہد میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کے والد کا نام الحاج سید جواد حسینی خامنہ ای تھا، یہ بچہ بعد میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کا جانشین بنا اور ان کے بعد انقلاب اسلامی کا سپریم لیڈر بن گیا، آیت اللہ سید علی خامنہ ای، سید جواد خامنہ ای کے دوسرے بیٹے تھے، آیت اللہ خامنہ ای نے چار سال کی عمر میں مکتب سے تعلیم شروع کی اور قرآن سیکھنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے والد سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ 1955ء میں انہوں نے درس خارج جوائن کیا، جو آیت اللہ سید ہادی میلانی دیتے تھے، جوان سید علی صرف 18 سال کے تھے جب انہوں نے ہائیسٹ لیول سٹڈیز شروع کی۔ انہوں نے عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کرنے کا منصوبہ بنایا اور 1957ء میں ایران سے نجف کے لیے نکل پڑے، جہاں انہوں نے آیت اللہ سید محمد حکیم اور آیت اللہ سہرودی سے علم حاصل کیا، انہوں نے نجف کے مشہور علماء کے دروس میں شرکت کی، ان کے اساتذہ میں آیت اللہ محسن الحکیم، آیت اللہ ابوالقاسم خوئی، آیت اللہ سید محمد، مرزا باقر زنجانی اور مرزا حسن بروجردی شامل تھے۔ وہ وہاں رکنا اور ان بہترین اساتذہ سے تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کے والد کی رائے تھی کہ وہ مقدس شہر قم میں جدید تعلیم سے مستفید ہوں۔ مزید احوال اس بائیو گرافی ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔

رپورٹ: سید عدیل عباس

تہران (IRNA) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے امریکہ اور صیہونی حکومت کی مذمت کیے جانے کے بعد، میناب کے اسکول پر حملہ اور حملے کا حکم دینے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔

 ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسما‏عیل بقائی نے میناب کے شجرہ طیبہ ایلمنٹری اسکول پر امریکی حملے کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم بچے اور اساتذہ جنہیں بے رحمی سے قتل کیا گيا، جارحین کے ظلم بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نسل کشی کی حد میں آنے والے اس جنگی جرم او رانسانی حقوق کی اتنی سنگین خلاف ورزی کرنے والوں اور اس کا حکم دینے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دنیا کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ان بے شمار مثالوں میں سے ایک ہے جن کا ارتکاب، امریکہ اور صیہونی حکومت نے، ایرانی قوم کے خلاف پچھلے 28 روز سے جاری غیر قانونی جنگ کے دوران کیا ہے۔ 

؛ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس آپریشن کے دوران مذکورہ امریکی فضائی اڈے پر کھڑے ایندھن بھرنے والے اور لاجسٹک طیاروں کے پورے فلیٹ کو تباہ کردیا ہے۔

پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے بیان میں کہا گیا ہے: "خطے کے ممالک میں قائم امریکی دہشت گرد حکومت کے فضائی اڈوں کو ایران کے خلاف مسلسل استمعال کیے جانے کے پیش نظر ہماری ایئر اسپیس فورس نے سپاہ پاسداران کے بحریہ کے تعاون سے مشترکہ میزائل آپریشن کے دوران امریکہ کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرتے ہوئے الخرج کے فوجی اڈے کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایاہے جہاں خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا لاجسٹک ایئر فلیٹ تعینات ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ آپریشن کے دوران دشمن کے بھاری بھرکم ایندھن بھرنے والے اور معاونت فراہم کرنے والے طیارے تباہ ہوگئے یا شدید نقصان پہنچا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ ہماری ایئرواسپس اور نیول فورس کے جوان آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں اسلامی جمہوریہ کی پوزیشنوں کا بھرپور دفاع کرتے رہیں گے، اور خدا کے فضل سے خطے میں دشمن کے شیطانی مراکز پر پوری قوت کے ساتھ حملے جاری رکھیں گے۔