سلیمانی
طاقت کے استعمال پر خاموشی عالمی نظام لیے خطرہ ہے، بقائی
، اسماعیل بقائی نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں اور اسے ختم کرنے کی دھمکیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ کے اتحادیوں نے عالمی فوجداری عدالت کو قابو میں نہ رکھا تو وہ اسے اینٹ بہ اینٹ کرکے ختم کر دیں گے۔
بقائی نے 1930ء کی دہائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی نظام صرف جارحیت سے نہیں گرتا بلکہ اس وقت بھی تباہ ہوتا ہے جب طاقت کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہے۔
انہوں نے یورپ سے سوال کیا کہ کسی اتحاد کا ساتھ دینے کا مطلب عالمی قوانین اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے قانونی و ادارہ جاتی نظام کا دفاع کرنا ہے یا امریکہ کے ساتھ مل کر اسی نظام کو ختم کرنا؟
بقائی نے خبردار کیا کہ اگر جارح اتحادی کو خوش کرنے کے لیے قانون اور انصاف کی قربانی دی گئی تو انسانی حقوق اور قانون پر مبنی عالمی نظام کے تمام دعوے محض کھوکھلے نعروں میں تبدیل ہوجائیں گے۔
طوفان الاقصی آپریشن، ایک نپا تلا اور معقول اقدام
طوفان الاقصی آپریشن انجام پانے سے پہلے فلسطین کے اندر پانچ ایسی اسٹریٹجک تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں جن کی روک تھام کے لیے ایک بڑا اور جرات مندانہ قدم اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ پانچ تبدیلیاں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی رفتار میں تیزی، قدس شریف اور مسجد اقصی پر ٹکراو، اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی صورتحال اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی مہم کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات بحال ہو جانے کا بڑھتا ہوا امکان شامل تھے۔ ان تمام تبدیلیوں کی روشنی میں ایک اہم نتیجہ نکلتا تھا اور وہ یہ تھا کہ وقت فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے حق میں آگے نہیں بڑھ رہا۔ 2023ء غزہ کے خلاف جاری ظالمانہ محاصرے کو 16 برس بیت چکے تھے اور 22 لاکھ سے زیادہ فلسطینی شہری ایک کم چوڑی پٹی میں محبوس ہو کر رہ گئے تھے۔
مزید برآں، اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے ان فلسطینیوں کی نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں اور دیگر روزمرہ فعالیت پر شدید قدغن عائد کر رکھا تھا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ سے پہلے بے روزگاری کی شرح 44 فیصد تک جا پہنچی تھی اور 60 فیصد جوان بے روزگار تھے جبکہ 12 لاکھ فلسطینی شہری غربت کے عالم میں کھانے پینے کی اشیاء کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہو چکے تھے۔ حماس ایک اسٹریٹجک مشکل سے روبرو ہو چکی تھی۔ اس نے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رکھا تھا لیکن ظالمانہ محاصرہ ختم کرنے پر قادر نہ تھی۔ وہ مختصر مدت کی جنگوں میں غاصب صیہونی رژیم کو نقصان تو پہنچاتی تھی لیکن بنیادی مساوات تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ تعمیر نو کا کام بھی بہت آہستہ ہو چکا تھا جبکہ مذاکرات بھی محاصرہ ختم کروانے میں مددگار ثابت نہیں ہو رہے تھے۔
مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کا پھیلاو فلسطین کی جغرافیائی صورتحال کو مسلسل خراب کر رہا تھا۔ 2023ء تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں 7 لاکھ 50 ہزار یہودی آبادکار زندگی بسر کر رہے تھے۔ بنجمن نیتن یاہو نے 2022ء کے آخر میں جو کابینہ تشکیل دی تھی اس میں بزالل اسموتریچ جیسے انتہاپسند چہرے شامل تھے جنہیں حکومت میں آ جانے کے بعد مغربی کنارے میں گہرا اثرورسوخ حاصل ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں اسٹریٹجک صبر مزید ممکن نہیں تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں اسٹریٹجک ڈیڈلاک پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ اسی طرح قدس شریف اور مسجد اقصی پر تنازعات کا سلسلہ بھی بڑھ چکا تھا۔ مئی 2021ء میں سیف القدس معرکہ انجام پایا جس سے ثابت ہو گیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرنے میں مسجد اقصی کا کردار کس قدر اہم اور بنیادی ہے۔
2022ء اور 2023ء میں رونما ہونے والے واقعات نے حماس کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ مسجد اقصی کی بار بار بے حرمتی، نمازیوں سے ناروا سلوک اور صیہونی انتہاپسند فاشسٹ حلقوں کی جانب سے مسجد اقصی سے متعلق بڑھتے مطالبات نے حالات مزید کشیدہ کر دیے تھے۔ اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی قیدی بھی ایک اور اہم ایشو تھا۔ 7 اکتوبر 2023ء سے پہلے 5 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جبکہ ان میں سے 1200 ایسے قیدی تھے جو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں بند تھے۔ جب اتمار بن غفیر کو صیہونی رژیم کا نیا وزیر سیکورٹی امور بنا دیا گیا تو اس نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف زیادہ سخت گیرانہ اقدامات شروع کر دیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غاصب صیہونی رژیم نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مہم شروع کر رکھی تھی جس نے مسئلہ فلسطین کو بالکل پس پشت ڈال دیا تھا۔
2023ء تک صورتحال کچھ ایسی تھی کہ حتی اسلامی دنیا میں بھی فلسطین کاز کو تقریباً بھلایا جا چکا تھا اور اس مسئلے نے حماس کو شدید تشویش کا شکار کیا ہوا تھا۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی پر مشتمل ابراہیم معاہدوں نے ثابت کر دیا کہ عرب حکومتیں مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی مشتاق ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء سے محض دو ہفتے قبل ہی صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ایسے "نئے مشرق وسطی" کی نوید دلائی جس کا مرکز و محور اسرائیل اور عرب ممالک میں تعلقات معمول پر لانا اور ایشیا کو یورپ سے ملانے والی اقتصادی راہداری کی تعمیر تھا۔ اس نے جس منصوبے کا اعلان کیا وہ فلسطین کی پوری تاریخ کو اسرائیل کے طور پر دکھا رہا تھا اور ایک آزاد اور خودمختار فلسطین ریاست کا تصور ہی ختم کر دیا گیا تھا۔
لہذا حماس کی جانب سے طوفان الاقصی آپریشن درحقیقت ایک ایسا انتہائی اقدام تھا جو مکمل طور پر بروقت، نپا تلا اور معقول تھا۔ اس حقیقت کو بھانپنے کے لیے 7 اکتوبر 2023ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر نہیں بلکہ اس سے پہلے والے واقعات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس اسرائیل کی جانب سے وسیع پیمانے پر جوابی کاروائی کی بھرپور توقع رکھتی تھی اور اس کے باوجود اس نے طوفان الاقصی جیسا عظیم آپریشن انجام دیا۔ اگرچہ غزہ نے فلسطین کاز کی بقا اور اسے اجاگر کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے لیکن دنیا بھر میں اس کے واضح اثرات قابل مشاہدہ ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار حتی مغربی اور یورپی معاشروں میں اسرائیل ایک جارح اور ظالم کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس کے خلاف نفرت دنیا بھر میں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی اخلاقی فتح ہے۔
حرض کے جرم نے سعودی جرائم کی اصل ماہیت کو عیاں کر دیا: انصاراللہ
تحریک انصاراللہ کے ترجمان اور یمن کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے صوبۂ حجہ میں ایک فیملی کے خلاف سعودی عرب کے جرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم نے سعودی جرائم کی اصل ماہیت کو عیاں کر دیا۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق محمد عبد السلام نے "اللہد" ویب سائٹ کو بتایا: "سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے حجہ صوبے کے حرض ضلع میں ایک فیملی کے قتل عام کے جرم کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں اس فیملی کے چھے افراد شہید ہو گئے جن میں ماں، باپ اور ان کے چار بچے شامل ہیں جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔"
انھوں نے مزید کہا: "یہ جرم سعودی جارح جنگی طیاروں کے مسلسل مجرمانہ رویے کا حصہ ہے جو یمن کے مختلف صوبوں میں مسلسل اور براہ راست شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔"
محمد عبدالسلام نے کہا کہ نہتے اور بے قصور لوگوں کا قتل عام، اس درندہ صفت حکومت کی حقیقت کو عیاں کر دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس حکومت کو ان وحشیانہ اقدامات کے تمام نتائج قبول کرنے چاہیے اور یہ حملے، ان جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے یمن کی قوم کی استقامت اور پائیداری میں مزید اضافہ کریں گے۔
اسی سلسلے میں یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے حجہ صوبے کے حرض ضلع میں ام الضحیٰ گاؤں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ہی گھر کے چھے افراد شہید ہو گئے جن میں ماں، باپ اور ان کے چار بچے ہیں جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے۔
یمن کی وزارت صحت نے مزید کہا کہ ایک گھر اور فیملی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی اور یمنی قوم کے خلاف سعودی دشمن کے جرائم کی فہرست میں ایک اور جرم کا اضافہ ہے۔
امریکی معیشت کی بدحالی کی بابت انتباہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کے جواب میں شوشل میڈیا پرایک میم شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " تیار ہو کہ یہ تمھاری روح قبض کرے؟"
اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ" اس تصویر میں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت، صارفین کی اعتماد اور مکان خریدنے کی توانائی کے گراف نے ایک بھوت کی شکل اختیار کرلی ہےاور ڈرانے کے لئے ہالووین کا انتظار ضروری نہيں ہے بلکہ معیشت کا صحفہ کھول لینا ہی کافی ہے!"
اس تصویر میں امریکی وزیرخزانہ کے نئے خصوصی مشیر ڈیوڈ زرووس کی طرف بھی اشارہ ہے جس نے کہا تھا کہ جب تک فیڈرل ریزرو ریٹ نیچے نہیں لائے گا، وہ بال نہیں کٹوائیں گے۔
صہیونی رژیم بحرانوں کی زد میں، ایک چنگاری اندرونی انہدام کا سبب بن سکتی ہے
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی حکومت کے وجود کو آج کسی بھی فوجی حملے سے بڑھ کر وہ اندرونی دراڑیں خطرے میں ڈال سکتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ طویل جنگوں، معاشی دباؤ، سیاسی اختلافات اور بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی نے اسرائیلی معاشرے کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کر دیا ہے جہاں اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے امریکی سکیورٹی حلقوں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایک خفیہ رپورٹ، جسے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے منسوب کیا جا رہا ہے، میں مقبوضہ علاقوں میں خانہ جنگی یا سیاسی انہدام کے امکان کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے۔ اندر سے دراندازی کے عنوان سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو بیک وقت شدت اختیار کرنے کی صورت میں رژیم صہیونی کے سیاسی اور سماجی استحکام کو سنگین بحران سے دوچار کر سکتے ہیں۔
ان عوامل میں فوجی اخراجات میں اضافہ، معاشی دباؤ، جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں کے ذہنی و نفسیاتی مسائل، حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت سے متعلق اختلافات اور بنیامین نیتن یاہو کی اقتدار برقرار رکھنے کی کوششیں شامل ہیں۔
جنگ کا معاشی بوجھ
رپورٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ان اخراجات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو جنگی پالیسیوں کے نتیجے میں اسرائیلی معاشرے کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
مسئلہ صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ ایسے وقت میں زندگی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جب رژیم کے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں جنگ محض میدان جنگ کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سکیورٹی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر معاشرہ یہ محسوس کرنے لگے کہ جنگ طویل ہو چکی ہے، اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اس کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا تو عوام یہ سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ اخراجات کیوں برداشت کیے جا رہے ہیں، اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے اور کیا موجودہ پالیسیوں کا تسلسل واقعی زیادہ تحفظ فراہم کر رہا ہے؟
فوجی خدمت پر بڑھتا اختلاف
صہیونی حکومت میں یہ سوالات معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان فوجی اور سکیورٹی منصوبے میں شرکت کے حوالے سے موجود پرانے اختلاف سے بھی جڑ گئے ہیں۔
حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ معمول کے حالات میں یہ مسئلہ محض ایک سیاسی یا قانونی تنازع سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب کوئی رژیم طویل جنگ میں مصروف ہو اور اس کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو بار بار محاذ پر بھیجا جا رہا ہو تو جنگ کا بوجھ اٹھانے میں عدم مساوات کا احساس سماجی اختلافات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
جنگ کے نفسیاتی اثرات
طویل عرصے تک جنگ میں رہنے والے فوجیوں کی واپسی بھی اپنے ساتھ وسیع سماجی اور نفسیاتی اثرات لا سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ، تھکن، نفسیاتی صدمات اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی میں مشکلات ایسے مسائل ہیں جو فوجی آپریشن ختم ہوتے ہی ختم نہیں ہو جاتے۔
جنگ کا دائرہ اور دورانیہ جتنا بڑھتا جائے گا، ایسے تجربات کے ساتھ معاشرے میں واپس آنے والے افراد کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس طرح جنگ کی ایک بڑی قیمت اس وقت بھی سامنے آ سکتی ہے جب میدان جنگ دوبارہ میڈیا کی توجہ کا مرکزی موضوع نہ رہے۔
سیاسی بحران اور نیتن یاہو
اس کے ساتھ سیاسی بحران بھی بدستور موجود ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی کارکردگی اور اقتدار میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوششیں رژیم کے اندرونی اختلافات کے اہم محوروں میں شامل ہیں۔
جب کسی سیاست دان کا سیاسی مستقبل کسی سکیورٹی بحران کے تسلسل سے جڑ جائے تو عوامی سطح پر سکیورٹی فیصلوں اور سیاسی مفادات کے درمیان فرق بھی مبہم ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہر نئی فوجی کارروائی کے سکیورٹی نتائج کے ساتھ ساتھ سیاسی معنی بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
انتخابات اور ایک چنگاری
یہ صورتحال انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ مزید اہم ہوجاتی ہے۔ ہر معاشرے میں انتخابات سیاسی اختلافات کو بڑھا سکتے ہیں، لیکن ایسے معاشرے میں جہاں بیک وقت معاشی دباؤ، جانی نقصانات، فوجی تھکن اور سماجی اختلافات موجود ہوں، انتخابی مقابلہ گہری دراڑوں کو نمایاں کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسی لیے ایک چنگاری کے امکان سے متعلق انتباہ اہمیت رکھتا ہے۔ بڑے سماجی بحران ہمیشہ کسی ایک بڑے اختلاف سے شروع نہیں ہوتے۔ بعض اوقات چھوٹے اور جمع ہوتے ہوئے اختلافات صرف ایک ایسے واقعے کے منتظر ہوتے ہیں جو انہیں ایک وسیع بحران میں تبدیل کر دے۔
بین الاقوامی تنہائی کا دباؤ
ایک اور اہم مسئلہ رژیم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی ہے۔ اس رژیم نے گزشتہ دہائیوں میں اپنی طاقت صرف فوجی صلاحیت سے حاصل نہیں کی بلکہ اسے امریکہ کی سیاسی و اقتصادی حمایت اور مغربی ممالک کے ساتھ وسیع تعلقات سے بھی تقویت ملی ہے۔
لہٰذا اس حمایت میں کمی کی کوئی بھی علامت محض ایک سفارتی اختلاف سے کہیں زیادہ وسیع نفسیاتی اور سیاسی اثرات پیدا کرسکتی ہے۔ اگر اسرائیلی معاشرہ یہ محسوس کرے کہ اسے حاصل بیرونی پشت پناہی کم ہورہی ہے تو اس کے رہنماؤں کی مستقبل کے حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔
کیا سیاسی انہدام یقینی ہے؟
تاہم سیاسی انہدام یا خانہ جنگی کے امکان کو یقینی واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رژیم اب بھی مضبوط فوجی، سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچوں کی حامل ہے اور بحرانوں سے نمٹنے کی قابل ذکر صلاحیت رکھتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں الگ الگ موجود رہنے والے متعدد دباؤ اب ایک ہی وقت میں شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشی دباؤ، جنگی تھکن، سماجی اختلافات، سیاسی بحران اور بیرونی حمایت میں کمی کا بیک وقت بڑھنا ہی ایک ممکنہ کمزوری کو حقیقی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔
اصل کمزوری کہاں ہے؟
درحقیقت رژیم صہیونی کی بنیادی کمزوری ممکن ہے کہ سرحدوں پر نہیں بلکہ اس کے اپنے معاشرے کے اندر موجود ہو۔ کوئی بھی رژیم میزائل حملے، فوجی کارروائی یا بیرونی دباؤ کا جواب سکیورٹی ذرائع سے دے سکتی ہے، لیکن عوامی عدم اعتماد، سماجی سرمایہ کے زوال، مختلف طبقات کے درمیان اختلاف اور سیاسی کارکردگی سے پیدا ہونے والی بے چینی کا مقابلہ کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں مذکورہ رپورٹ کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔ معاملہ صرف کسی ایک فوجی کارروائی کی ناکامی یا کسی مخصوص محاذ پر شکست کا نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت کا ہے جو بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر معاشی دباؤ، جنگی تھکن، سماجی اختلافات، سیاسی بحران اور بیرونی حمایت میں کمی ایک ساتھ بڑھتی رہی تو ایک محدود واقعہ بھی کسی بڑے بحران کے آغاز کا نقطہ بن سکتا ہے۔
صہیونی حکومت نے برسوں تک طاقت، اتحاد اور مستقل سکیورٹی کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اگر یہ تصویر خود اسرائیلی معاشرے کے اندر کمزور پڑنے لگے تو ایسا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جس کا حل محض فوجی طاقت سے ممکن نہ ہو۔
شاید اس رژیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ آخرکار بیرونی حملہ نہ ہو بلکہ وہ دراڑ ہو جو خاموشی سے اندر ہی اندر پھیل رہی ہے۔ اسی لیے آج سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل میدان جنگ میں کتنی فوجی طاقت رکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسرائیلی معاشرہ موجودہ صورتحال کو مزید کتنی دیر برداشت کرسکتا ہے۔ اگر یہ برداشت اپنی آخری حد تک پہنچ گئی تو ایک معمولی چنگاری ایسے بحران کو بھڑکا سکتی ہے جس پر قابو پانا صہیونی حکومت کے سیاسی ڈھانچے کے لیے انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
ایران کا جوہری ہتھیار دیمونا ہے اور تہران اسے نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی اہلکار
امریکی وزارت خزانہ کے سابق نائب وزیر پال کریگ رابرٹس نے کہا کہ ایران کا جوہری ہتھیار اسرائیل، یعنی مقبوضہ فلسطین میں واقع دیمونا جوہری تنصیب ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ تہران کے لیے دیمونا ہی ایک ایسا ہدف ہے جسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں ایران کی جوہری صلاحیت اور اسرائیل کے دیمونا جوہری مرکز کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے دیمونا کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں دھماکا ہو سکتا ہے اور تابکاری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے سابق عہدیدار نے اپنے بیان میں اسرائیل اور ایران کے جغرافیائی حجم کا بھی موازنہ کیا۔ اسرائیل ایک بہت چھوٹا خطہ ہے، جبکہ ایران رقبے کے اعتبار سے بہت بڑا ملک ہے اور اس کا حجم مغربی یورپ کے وسیع علاقے کے برابر ہے۔
پال کریگ رابرٹس نے دعوی کیا کہ اسرائیل کی محدود جغرافیائی وسعت کے باعث اسے تباہ کرنا مشکل نہیں ہے۔
سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل، یمن میں متعدد علاقوں پر حملے
یمنی فوج کی جانب سے حملوں کے بعد سعودی عرب میں دو ہوائی اڈے معطل اور پروازیں بند ہوگئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یمنی فوج کے حملوں کے بعد فضائی ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس نے سعودی عرب کے شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی سرگرمیاں معطل ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی فضائی سرگرمیاں ایک بار پھر روک دی گئی ہیں، تاہم ان پروازوں کی معطلی کی وجہ کے بارے میں تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کے شہر رابغ میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی آئل ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ لگنے اور دھویں کے بادل اٹھنے کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
کچھ یمنی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تصاویر یمن کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا ایک حصہ ظاہر کرتی ہیں، تاہم آگ لگنے کی وجہ اور ممکنہ نقصانات کی شدت کے بارے میں آزاد ذرائع سے کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دوسری جانب یمنی ذرائع نے سعودی عرب سے منسوب حملوں کی بھی اطلاع دی ہے، جن میں یمن کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان رپورٹس کے مطابق اِب کے صوبے میں مذیخرہ اور تعز صوبے میں شرعب کے درمیان رابطہ سڑک کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ صنعا، عمران، صعدہ اور الجوف صوبوں پر سعودی جنگی طیاروں کے حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی و مالی نقصانات کے بارے میں اب تک کوئی درست تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
دریں اثنا، مقامی ذرائع نے بدھ کی صبح جنوبی یمن کے شہر عدن میں متعدد شدید دھماکوں کی اطلاع دی۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے ہوائی اڈے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے 22ویں یونٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ عدن ایئرپورٹ میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے 22ویں یونٹ پر میزائل حملے کیے گئے۔ تاہم ان دھماکوں کی نوعیت اور حملوں کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دفاعی سازوسامان کی پیداوار، جنگ سے پہلے کی نسبت 2.5 گنا بڑھ گئی ہے، جنرل طلائی
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان اور مسلح افواج کے معاون نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم رمضان دفاع مقدس کے سات ماہ سے زائد عرصے کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور دشمن کی مکمل شکست کے مرحلے میں ہیں۔ یہ کامیابیاں عوام، مسلح افواج کے جوانوں، رہبرِ انقلابِ اسلامی کی رہنمائی اور نظام کے مختلف ارکان کے تعاون سے حاصل ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں عوام کی میدان میں موجودگی، دفاعی طاقت میں اضافے اور قومی استقامت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ امریکی و صیہونی دشمنوں کی کسی بھی جارحیت یا شرارت کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور دشمن کو بھاری شکست کا سامنا ہوگا۔
جنرل طلائی نیک نے مزاحمت اور قومی طاقت کو دشمن کی مکمل شکست اور ایرانی قوم کے حقوق کے حصول کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے سے امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور صیہونی حکومت کی شرارتوں کا خاتمہ حالیہ دفاع مقدس کی اہم کامیابیوں میں شامل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی و صیہونی قاتلوں اور دہشت گردوں کو سزا دینا اسلامی جمہوریہ ایران کا قطعی عزم ہے اور دشمن کے ہاتھوں شہید امام، بچوں، طلبہ اور دیگر متاثرین کے خلاف کیے گئے جرائم کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کی گزشتہ سات ماہ کی کارکردگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میجر جنرل پائلٹ شہید نصیرزادہ کی شہادت کے بعد وزارتِ دفاع بریگیڈیئر جنرل ڈاکٹر ابن الرضا کی سرپرستی میں چلائی گئی۔ اس عرصے میں وزارت نے مسلح افواج کی ضروریات، بالخصوص جنگ کے دوران اہم دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مؤثر اور اسٹریٹجک کردار ادا کیا۔
طلائی نیک نے کہا کہ تین ماہ قبل مقامی اسلحے اور دفاعی سازوسامان کی پیداوار جنگ سے قبل کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب یہ صلاحیت ڈھائی گنا تک پہنچ چکی ہے۔ بعض دفاعی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ تین گنا سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
انہوں نے پیداواری صلاحیت میں اس اضافے کو علم پر مبنی کمپنیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے اور ملکی دفاعی صنعت کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ مقامی دفاعی پیداوار اور اسلحے کی فراہمی کی اسٹریٹجک گہرائی قومی طاقت کے اہم عناصر ہیں اور دشمن کے مقابلے میں ملک کی استقامت بڑھاتے ہیں۔
دفاعی نظریے میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق سوال کے جواب میں طلائی نیک نے کہا کہ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز اور مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی رہنمائی میں، فوج، سپاہ پاسداران اور پولیس کی ضروریات کے مطابق تحقیق، ترقی اور دفاعی سازوسامان و اسلحے کی پیداوار کے پروگرام جنگی حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے دفاعی نظریے کے مطابق جارحانہ اسلحے کی صلاحیتوں میں اضافہ بھی وزارت دفاع میں فعال طور پر جاری ہے۔ وزارت دفاع اور اس کے شراکت دار اداروں کے پیداواری نظام میں ایک ہزار سے زائد نظام، اسلحہ، سازوسامان اور گولہ بارود شامل ہیں، جن میں سے بعض کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ان کی پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن ماضی کی غلطیوں کو دہراتے ہوئے دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جدید اسلحے اور پہلے سے زیادہ شدید ردعمل کا سامنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ممکنہ نئی جارحیت کی صورت میں کارروائی کے لیے مطلوبہ اہداف تیار ہیں اور میزائل، ڈرون، فضائی دفاع اور دیگر فضائی نظاموں میں جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی مسلح افواج کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا دشمن کی کسی بھی غلط حساب کتاب کا نتیجہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ بھاری شکست ہوگا۔
دنیا کی بہترین جامعات کی درجہ بندی؛ ایران کی 89 جامعات شامل
، ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے عالمی جامعاتی درجہ بندی 2027 جاری کرتے ہوئے دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست پیش کی ہے۔ اس سال کی درجہ بندی میں 118 ممالک اور خطوں کے مجموعی طور پر 2,297 تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
درجہ بندی کے مطابق، آکسفورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 11ویں سال دنیا کی نمبر ایک یونیورسٹی کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔
ٹائمز کی عالمی جامعاتی درجہ بندی 2027 میں پہلی بار ایشیا نے یورپ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور متعدد ایشیائی جامعات نے نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ پہلی مرتبہ تین ایشیائی جامعات دنیا کی 15 بہترین جامعات میں شامل ہوئی ہیں۔
چین کی سنگھوا یونیورسٹی 11ویں نمبر پر پہنچ گئی اور سوئٹزرلینڈ کے ای ٹی ایچ زیورخ کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی (NUS) نے 15ویں پوزیشن حاصل کی۔
جامعات کی درجہ بندی تدریس کے معیار، تحقیقی ماحول، تحقیق کے معیار، صنعت سے روابط اور بین الاقوامی حیثیت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
عالمی درجہ بندی میں ایرانی جامعات
401 تا 450:
امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کرمانشاہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تہران یونیورسٹی
501 تا 550:
تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز
551 تا 600:
شیراز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی
651 تا 700:
شیراز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز
701 تا 800:
نوشیروانی بابل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، بوشہر یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، ایران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اصفہان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کردستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، سمنان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شہید بہشتی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، تبریز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، تبریز یونیورسٹی، ارومیہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز
801 تا 1000:
جندی شاپور اہواز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اراک یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، بابل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، گلستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، کرمان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، مشہد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، رفسنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شہید بہشتی یونیورسٹی، شاہ رود یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شیراز یونیورسٹی، ارومیہ یونیورسٹی
1001 تا 1200:
فردوسی یونیورسٹی مشہد، گناباد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، گرگان یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ نیچرل ریسورسز، ایلام یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، خواجہ نصیرالدین طوسی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، سمنان یونیورسٹی، شہید باہنر یونیورسٹی کرمان، کاشان یونیورسٹی، زاہدان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز
1201 تا 1400:
حکیم سبزواری یونیورسٹی، امام خمینی انٹرنیشنل یونیورسٹی، کاشان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، خوارزمی یونیورسٹی، خلیج فارس یونیورسٹی، سہند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، شہید صدوقی یزد یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اصفہان یونیورسٹی، کردستان یونیورسٹی، مراغہ یونیورسٹی، مازندران یونیورسٹی، محقق اردبیلی یونیورسٹی، یزد یونیورسٹی
1401 تا 1600:
علامہ طباطبائی یونیورسٹی، شہید مدنی آذربائیجان یونیورسٹی، بوعلی سینا یونیورسٹی ہمدان، رازی یونیورسٹی کرمانشاہ، شہرکرد یونیورسٹی، گیلان یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز اینڈ سوشل ہیلتھ، زنجان یونیورسٹی
1601 تا 1800:
الزہرا یونیورسٹی، اراک یونیورسٹی، قم یونیورسٹی، سیستان و بلوچستان یونیورسٹی
1801 تا 2000:
دامغان یونیورسٹی، ساری یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ نیچرل ریسورسز، شاہد یونیورسٹی، ہرمزگان یونیورسٹی
2001 اور اس کے بعد:
پیام نور یونیورسٹی، بیرجند یونیورسٹی

زابل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، یاسوج یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، ارومیہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، علم و ثقافت یونیورسٹی، سبزوار یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، حضرت معصومہ یونیورسٹی قم، بناب یونیورسٹی، قم یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف پٹرولیم انڈسٹری، کرمانشاہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کرمان یونیورسٹی آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اینڈ انڈسٹریل اسٹڈیز، فسا یونیورسٹی، اراک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور آمل یونیورسٹی آف اسپیشلائزڈ جدید ٹیکنالوجیز کو درجہ بندی میں کوئی مخصوص مقام نہیں دیا گیا۔
ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق عالمی جامعاتی درجہ بندی میں جامعات کی کارکردگی کو 17 اشاریوں کی بنیاد پر پانچ بڑے شعبوں میں جانچا جاتا ہے۔ ان میں تدریس کا وزن 29.5 فیصد، تحقیقی ماحول 29 فیصد، تحقیق کا معیار 30 فیصد، صنعت سے روابط 4 فیصد اور بین الاقوامی حیثیت 7.5 فیصد ہے۔
درجہ بندی میں استعمال ہونے والے بعض اعداد و شمار معتبر بین الاقوامی سائنسی معلوماتی ذخائر سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علمی شہرت کے اشاریے کی پیمائش کے لیے ٹائمز ہائر ایجوکیشن دنیا بھر کے ممتاز اور معتبر اساتذہ و محققین سے سروے بھی کرتا ہے۔
ایرانی عوام امریکہ سے ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہیں، جنرل فدوی
جنرل علی فدوی نے خصوصی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان طویل مدتوں میں آبنائے ہرمز یقینی طور پر ایران کے کنٹرول میں رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوجی صلاحیت سمندری محور پر مبنی ہے؛ یعنی اس کی بحریہ میں زمینی فوج اور فضائیہ دونوں موجود ہیں، لہٰذا امریکہ کی فوجی طاقت کا مظہر اس ملک کی بحریہ ہے۔
جنرل فدوی نے مزید کہا کہ امریکی 1853 سے خلیج فارس میں موجود رہے ہیں، لیکن اب پہلی بار کوئی امریکی بحری جہاز نہ صرف خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان، بلکہ شمالی بحر ہند میں بھی موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فرار ہو گئے ہیں اور ہماری سرحدوں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔ یہ ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہوا، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کی طاقت کا نتیجہ ہے۔
جنرل فدوی نے کہا کہ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے اور اس علاقے سے باہر جہاں ایران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے، زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 لاکھ بیرل تیل گزار سکتے ہیں؛ یہ مقدار اس آبی گذرگاہ سے گزرنے والے تیل کے حجم کے مقابلے میں قابلِ ذکر نہیں ہے۔
سپاہ کے کمانڈر ان چیف کے مشیروں کے گروپ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس سے قبل، روزانہ 2 کروڑ بیرل سے زیادہ تیل باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا اور اس کے علاوہ کچھ مقدار میں تیل غیر رسمی طور پر بھی برآمد کیا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے 46 فیصد تیل کی برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں۔ جو 20 فیصد کا عدد بیان کیا جاتا ہے، وہ عالمی سطح پر تیل کی کھپت سے متعلق ہے؛ کیونکہ بہت سے ممالک اپنے پیدا کردہ تیل کو خود استعمال کرتے ہیں اور برآمد نہیں کرتے۔
جنرل فدوی نے مزید کہا کہ اب اس راستے سے تیل کی برآمدات کو بنیادی رکاوٹ کا سامنا ہے اور اسی مسئلے نے عالمی معیشت، امریکہ اور یورپ پر وسیع اثرات مرتب کیے ہیں۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
