سلیمانی
غزہ کی خواتین جنگ، بے گھری اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث انسانی بحران کے دہانے پر
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور لڑکیاں جنگ، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی امداد کی شدید قلت کے باعث بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان کی زندگی اور صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
جنوبی غزہ کے علاقے المواصی میں ایک خستہ حال خیمے کے اندر 22 سالہ ہند اپنے نومولود بچے کو شدید سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا بچہ شدید پھیپھڑوں کے انفیکشن کے ساتھ پیدا ہوا اور اب بھی غزہ کے چند فعال اسپتالوں میں سے ایک کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیرِ علاج ہے۔
ہند کا کہنا ہے کہ زچگی کے وقت اس کا وزن صرف تقریباً ۴۳ کلوگرام تھا کیونکہ حمل کے دوران اسے شدید غذائی قلت کا سامنا رہا۔ وہ اپنے دوسرے بچے کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا اور ایک سرد اور نم خیمے میں رہنے کے باعث بیمار رہتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ہند کی کہانی غزہ میں ہزاروں خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔ جنگ اور انسانی بحران کے کئی پہلوؤں نے فلسطینی خواتین کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔
شہیدوں کی راہ
ایران پر امریکی_صہیونی جارحیت کا پندرہواں دن، ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے پندرہویں دن ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ اس کے میزائلوں کی ہدف پر لگنے کی صلاحیت میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دو گنا اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے آپریشن “وعدہ صادق 4” کے تسلسل میں اسرائیل کے نواتیم فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر سردار سید مجید موسوی نے میدانِ جنگ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایرانی میزائلوں کی ہدف تک پہنچنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایرانی میزائل اب پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکہ کو آخری انتباہ
دراین اثناء خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی تیل، توانائی یا اقتصادی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود ان تمام تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا جن میں امریکی کمپنیوں کا حصہ ہے اور تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، ایرانی بحریہ
ایرانی بحریہ کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشتیوں کی آمد و رفت پر مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی جہازوں کی ساحلی علاقوں سے دوری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ ردعمل سے محتاط ہیں۔
عالمی یوم القدس مزاحمت کا استعارہ ہے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو کر ہم آواز ہو جائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی خواہ دنیا بھر میں متحد ہیں۔ امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے ایک مرکز ی دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے۔ انہوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انہوں نے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیااور کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کاروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔ 7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جو کہ 23 رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ ایسے حالات میں آئے گا کہ جب دنیا کی شیطانی قوتیں امریکہ و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔ ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں۔ اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہو جائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔ یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال بھی بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کر لیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔ عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنا بھی ہے۔
جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرار کی ہے کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجو دہیں۔ ان کا راستہ ہمارے لئے واضح ہے۔ اگرا ٓج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤں نےاپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔ یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لئے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
شہید خامنہ ای مرکز وحدت اُمت
"بے شک تمہاری یہ اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری ہی عبادت کرو۔"یہ سورہ انبیاء کی اس آیت کا ترجمہ ہے جو شہید آیت اللہ العظمٰی رہبر معظم سید علی خامنہ ای اپنے اکثر خطابات میں بیان فرماتے تھے۔ ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ اس عظیم شہید نے ساری زندگی مسلمانوں کی وحدت کے لئے کوششوں میں صرف کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ بے مثال اور ناقابل فراموش ہیں۔ لیکن ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ان کی شہادت نے بکھری ہوئی امتِ مسلمہ کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ ان کی شہادت کے بعد وحدت کا ایک عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر کوئی اس شہید کے گُن گاتا نظر آ رہا ہے۔
خامنہ ایؒ کون تھے دشمن ان سے اتنا خائف کیوں تھا؟ کیوں کہ وہ دشمنوں کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیتے تھے اور ان کے ہر اس عمل میں رکاوٹ ڈال دیتے تھے جس کے تحت دشمن مسلمانوں کو کمزور کرکے آپس میں لڑوا کر فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ شروع میں تو دشمن اس میں کافی کامیاب بھی رہا لیکن رہبر کی قیادت نے بہت جلد تمام مسلمانوں کے سامنے ان سازشوں کو آشکار کیا اور دشمن کے خوابوں کو چکنا چُور کر دیا۔ جب دشمن کی سازشوں کا شکار ہو کر عالم اسلام کے مختلف فرقے اور مسالک دست و گریبان تھے تو 2010 میں خامنہ ای صاحب نے عالم اسلام کے لئے ایک ایسا تاریخی فتوٰی دیا جس نے مسلمانوں کے درمیان کشیدگی اور کدورتوں کو ختم کرکے انھیں امت واحدہ بنا دیا۔
یہ تاریخی فتویٰ اہلسنت کے مقدسات کے بارے میں تھا۔ انھوں نے فتوٰی دیا کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی فتویٰ تھا کہ جس کا عالم اسلام میں زبردست انداز میں خیر مقدم کیا گیا۔ اس فتوے کے عملی اور عالمی اثرات کا میں خود شاہد ہوں کیونکہ اس سلسلے میں خانہ فرہنگ ایران لاہور نے ایک کتاب چھاپی جسے ایڈٹ کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہے۔ بعد میں اس کتاب کو دوبارہ اسلامی ثقافتی قونصلیٹ اسلام آباد نے شائع کیا۔ اس سے مسلمانوں کے درمیان کدورتیں ختم ہوگئیں۔ اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ اور انھیں آپس میں لڑانے کی اس سازش کو بھی سمجھ گئے۔ غرض یہ فتویٰ ان کی زندگی کا وہ اہم ترین موڑ ہے، جس نے فرقہ واریت کی آگ بجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
رہبر معظم نے مسلمانوں کو دشمن کے ایک بہت ہی باریک نکتے اور وار سے خبردار کیا۔ وہ فرماتے تھے کہ وہ شیعہ جو لندن سے بیٹھ کر اشتعال انگیزی کرتا ہے اور وہ سنی جو امریکہ کی شہ پر نفرت پھیلاتا ہے، دونوں اسلام کے دشمن اور استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے "خالص محمدی اسلام" بمقابلہ "امریکی اسلام" کی اصطلاح متعارف کرائی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا اور آسان کلیہ دیا کہ "ہر وہ آواز جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرے، وہ چاہے کسی بھی گلے سے نکلے، وہ شیطان کی آواز ہے۔ ان کا یہ نظریہ امت کو فرقہ وارانہ تعصب سے نکال کر 'بصیرت' کی اس بلندی پر لے گیا جہاں دشمن کی ہر چال بے نقاب ہو گئی۔"
مجمع تقریب مذاہب اسلامی ادارے کا قیام بھی ان کے وحدت اسلامی کی کوششوں کا عملی اقدام ہے۔ "مجمع تقریب مذاہب اسلامی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ شہید سید علی خامنہ ای کے اس عالمی وژن کا عملی مظہر ہے جس کا مقصد امتِ مسلمہ کو مسلکی جنگوں سے نکال کر ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے۔ رہبر بننے کے بعد وحدت اسلامی کی ان کا یہ پہلا اقدام تھا، جب ۱۹۹۰ء میں انہوں نے اس عالمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد علماء کو قریب لانا اور اسلامی فقہ کے درمیان مشترکات کو تلاش کرنا ہے۔ ہر سال "ہفتہ وحدت" کے موقع پر تہران میں ایک عظیم الشان "بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس" منعقد کی جاتی ہے۔ جس میں دنیا بھر سے سینکڑوں مفتیانِ کرام، سکالرز اور دانشور شرکت کرتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت بنتی ہے کہ خلافت ہو یا امامت، تمام مسلمان "کلمہ توحید" پر ایک ہیں۔ رہبر کے نزدیک مسئلہ فلسطین بھی وحدت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ مسلکی تفریق سے بالاتر ہو کر حماس اور جہاد اسلامی کی حمایت کی جائے۔ ان کا یہ موقف ثابت کرتا ہے کہ ایران کی حمایت کا معیار "مسلک" نہیں بلکہ "مظلومیت اور اسلام" ہے۔ مسئلہ فلسطین شہید سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں"اسلامی غیرت" اور "عملی وحدت" کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب بات اسلام کے قبلہ اول کی ہو، تو شیعہ اور سنی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس، وحدت کا عالمی دن مسلمانوں کے "نفسیاتی وحدت" کی وہ لہر ہے، جس کی آبیاری شہید خامنہ ای نے زندگی بھر حتٰی اپنے خون سے کی ہے۔ اس لئے مسلمانوں پر اس دن کی اہمیت اب کئی گنا اور بڑھ جاتی ہے۔
میری اپنی نظر میں رہبر کی تمام زندگی وحدت کا عملی نمونہ بنی رہی لیکن ان کی شہادت نے اس کو ایک نیا اور بھرپور موڑ دے دیا ہے۔ ان کی شہادت پر تمام عالم اسلام کا نہ صرف غم و غصے کا دیکھنے میں آیا بلکہ حقیقی طور پر عملی وحدت کا مظاہر ہ بھی نظر آیا۔ موجودہ دور میں جس طرح اسلام کے اس واحد شیر نے دشمن کو للکارا بھی اور لتاڑا بھی اس کی مثال نہیں ملتی اور بے اختیار بلا تفریق و مسلک تمام مسلمان رہبر کے معترف ہو گئے ہیں۔ شہادت کے واقعے نے مسلمانوں کو یہ تلخ حقیقت ایک بار پھر یاد دلائی کہ صیہونی اور استعماری طاقتیں کسی خاص مسلک کی دوست یا دشمن نہیں، بلکہ ہر اس آواز کی دشمن ہیں جو "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر بلند ہوتی ہے۔
سید علی خامنہ ای نے اپنی شہادت سے اس کلمے کی آبیاری کی ہے کہ ان کے بعد، ان کے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای کا بطور نئے رہبرِ انتخاب بلاشبہ ایک تاریخی اقدام ہے۔ منصب سنبھالنے کے بعد ان کے ابتدائی بیانات اور پیغامات میں اسی "وحدت" پر زور دیا گیا ہے جو ان کے والد کا خاصہ تھا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں فلسطین اور اتحادِ اسلامی کی اہمیت پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔ اس دور کے تیسرے خمینی تقریبی نظریات کو ہی آگے بڑھائیں گے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان شااللہ دشمن کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکے گا۔
تحریر: حاجی شبیر احمد شگری
رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی خبر سن کر سوگوار عوام سڑکوں پر نکل آئے
امریکہ اور صیہونی حکومت کے ہاتھوں رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت کی خبر سن کر اپنے قائد کے لیے سوگوار ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران میں عزاداروں کا سب سے بڑا اجتماع انقلاب اسکوائر پر دیکھا گیا جہاں دسیوں ہزار شہریوں نے اکٹھا ہوکر رہبر انقلاب اسلامی کے لیے عزاداری کی اور ان کی راہ پر گامزن رہتے ہوئے دنیا کے مظلوموں کی حمایت اور ظالم طاقتوں کے مقابلے کا عہد کیا۔ تہران کے اجتماع کی تصویر پیش خدمت ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کے ’’ٹرمپ کارڈز‘‘ کیا ہیں؟ روسی ماہر کا تبصرہ
روسی ویب سائٹ رشیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں ایران کے اُن طاقت کے عوامل یا ’’ٹرمپ کارڈز‘‘ کا جائزہ لیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی جانے والی جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں روسی اکیڈمی آف ملٹری سائنسز کے ماہر ولادیمیر پروخوواتیلوف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے وہ آسان یا برق رفتار فوجی کارروائی ثابت نہیں ہوگی۔
روسی عسکری اور اسٹریٹیجک ماہر کے مطابق اس تصادم میں کئی ایسے عوامل موجود ہیں جو اسے امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور مہنگی مہم جوئی بناسکتے ہیں۔ پروخوواتیلوف کا کہنا ہے کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ یا اس کے اسٹریٹیجک اہداف کے مکمل حصول کا امکان بہت کم ہے اور تہران کسی شکست یا داخلی انہدام سے بہت دور ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی قومی انٹیلی جنس کی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس مشرق وسطی کا سب سے بڑا بیلسٹک میزائل ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے بعض میزائلوں کی رینج دو ہزار کلومیٹر تک پہنچتی ہے۔
اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے اس وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے میں کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں میں سجیل (2000کلومیٹر)، عماد (۱۷۰۰ کلومیٹر)، قدر (۲۰۰۰ کلومیٹر)، شهاب ۳ (۱۳۰۰ کلومیٹر)، خرمشهر (۲۰۰۰ کلومیٹر) اور ہویزه (۱۳۵۰ کلومیٹر) شامل ہیں۔
پروخوواتیلوف نے ایران کے ایک اہم دفاعی عنصر کے طور پر ہائپرسونک میزائل ’’خرمشهر-۴‘‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ میزائل غیر معمولی رفتار کے ساتھ تقریباً ۲۰۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ صرف ۱۲ منٹ میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ کے لیے اس کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
روسی ماہر کا کہنا ہے کہ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس دعوے پر بھی شکوک ظاہر کیے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر طویل مدت تک بمباری جاری رکھنا بھی آسان نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں فضائی دفاعی میزائلوں اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اہم دفاعی میزائلوں کے محدود ذخائر موجود ہیں اور یہی عنصر کسی بھی ممکنہ حملے کے حجم اور مدت کا تعین کر سکتا ہے۔ اس تشویش کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ گذشتہ سال ۱۲ روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی میزائلوں کا غیر معمولی استعمال کیا۔
پروخوواتیلوف کے مطابق اس ۱۲ روزہ جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کے لیے تھاد (THAAD) نظام کے تقریباً ۱۵۰ میزائل استعمال کیے۔ اس بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث اس نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، حالانکہ اس نظام کے لیے ۲۰۱۰ کے بعد سے مجموعی طور پر ۶۵۰ سے بھی کم میزائل فراہم کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں امریکہ نے اپنے مہنگے میزائل ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا۔
فنانشل ٹائمز نے ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی گائیڈڈ میزائلوں سے لیس جنگی بحری جہازوں کو دوبارہ اسلحہ بھرنے کے لیے بندرگاہوں پر واپس جانا پڑتا ہے کیونکہ تکنیکی اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر سمندر میں انہیں دوبارہ لوڈ کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال کے باعث امریکی بحریہ کی مسلسل اور بلا تعطل فوجی کارروائی کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔
روسی ماہر نے مزید کہا کہ جنگی طیارے اگرچہ مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتے ہیں اور عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرسکتے ہیں، لیکن وہ کسی ملک کی داخلی سیاست کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے اسٹیمسن سینٹر کی ممتاز تجزیہ کار کیلی گریکو کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے تجربات اور مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بمباری لازمی طور پر عوامی بغاوت کو جنم نہیں دیتی، بلکہ اکثر ایسے حالات میں بیرونی حملے کے خلاف عوام حکومت کے ساتھ زیادہ متحد ہوجاتے ہیں۔
آخر میں پروخوواتیلوف نے پیش گوئی کی کہ اگر امریکہ اس طرح کی عسکری مہم جوئی میں ناکام ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو داخلی سیاست میں شدید انتخابی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور وہ خود کو ایک امن پسند رہنما کے طور پر پیش کرنے میں بھی ناکام رہیں گے۔
شہداء کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا، رہبر انقلاب آیت خامنہ ای
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام جاری۔ پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مَا نَنسَخْ مِنْ ءَآیَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِها.
اَلسَّلامُعَلَیکَ یا داعِیَاللهِ وَ رَبّانِیَّ آیاتِهِ، اَلسَّلامُعَلَیکَ یا بابَاللهِ وَ دَیّانَ دینِهِ، اَلسَّلامُعَلیکَ یا خَلیفَةَاللهِ و ناصِرَ حَقِّهِ، اَلسَّلامُعَلیکَ یا حُجَّةَاللهِ وَ دَلیلَ اِرادَتِه؛ اَلسَّلامُعَلیکَ اَیُّهَا المُقَدَّمُ المَأمُول؛ اَلسَّلامُعَلیکَ بِجَوامِعِ السَّلام؛ اَلسّلامُعَلیکَ یا مَولایَ صاحِبَ الزَّمان.
آغاز گفتگو میں، سب سے پہلے اپنے آقا و سرور (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ) کی خدمت میں، عظیم رہبرِ انقلاب، خامنہ ای عزیز و حکیم کی دلخراش شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور آپ سے پوری ایرانی قوم، بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں، اسلام اور انقلاب کے تمام خدمت گزاروں، ایثار کرنے والوں، شہداء کی جدوجہد میں شریک ہونے والوں خصوصا حالیہ جنگ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور خود اپنی حقیر ذات کے لیے دعائے خیر کا طلبگار ہوں۔
دوسری بات میری ملتِ عظیم ایران سے ہے۔ سب سے پہلے لازمی سمجھتا ہوں کہ محترم مجلسِ خبرگان کی رائے کے بارے میں اپنی رائے اور موقف مختصر طور پر بیان کروں۔
آپ کا یہ خادم، سید مجتبی حسینی خامنہ ای آپ سب کے ساتھ اور اسلامی جمہوری کے ٹیلی وژن کے ذریعے مجلسِ خبرگان کے فیصلے سے مطلع ہوا۔
میرے لیے اس منصب پر بیٹھنا، جہاں دو عظیم پیشوا یعنی امام خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای تشریف فرما ہوچکے ہیں، بہت دشوار کام ہے۔
کیونکہ یہ کرسی اس شخصیت کی نشست گاہ رہی ہے، کہ جس نے 60 سال سے زائد خدا کی راہ میں جدوجہد کی، ہر طرح کی لذت اور آرام کو چھوڑا اور نہ صرف اپنے دور بلکہ اس ملک کی تاریخ کے حکمرانوں میں ایک منفرد و تابناک ہستی کے طور پر ابھرے۔ ان کی زندگی بھی اور ان کی شہادت بھی شکوہ اور عزت کے ساتھ وابستہ تھی، جو صرف اللہ تعالی پر توکل اور حق کے سہارے ممکن ہوئی۔
مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم کی زیارت کروں۔ جو کچھ میں نے دیکھا وہ استقامت کا پہاڑ تھا اور جو سنا، وہ یہ تھا کہ ان کے صحیح ہاتھ کی مٹھی بند تھی۔
ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم کو طویل مدت تک گفتگو کرنی ہوگی۔
اس موقع پر میں اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں اور تفصیلات کو موزوں مواقع کے لیے چھوڑتا ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اس منصب پر بیٹھنا میرے لیے بھاری ہے، اور اس عظیم ہستی کے بعد اس خلاء کو صرف خدا کے سہارے اور آپ عوام کی مدد سے پورا کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے نکتے پر زور دوں جس کا میری اصل گفتگو سے براہ راست تعلق ہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ شہید رہبر اور ان کے عظیم پیشرو کے نمایاں کارناموں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے عوام کو ہر میدان میں شریک کیا، مسلسل انہیں بصیرت اور آگاہی دی اور عملی طور پر ان کی قوت پر اعتماد کیا۔ اسی طرح انہوں نے حقیقت میں “عوام” اور “جمہوریت” کے مفہوم کو عملی شکل دی، اور دل کی گہرائی سے اس پر ایمان رکھتے تھے۔
اس حقیقت کا واضح اثر ان چند دنوں میں نظر آیا جب ملک رہبر اور بغیر سپریم لیڈر کے بغیر تھا۔ حالیہ واقعے میں عظیم ایرانی قوم کی بصیرت اور دانائی، ثابت قدمی، شجاعت اور میدان میں بھرپور موجودگی نے دوستوں کو تحسین پر مجبور اور دشمنوں کو حیران کر دیا۔ یہ آپ ہی لوگ تھے جنہوں نے ملک کی رہنمائی کی اور اس کے اقتدار کو یقینی بنایا۔
وہ آیت جسے میں نے اس تحریر کے آغاز میں ذکر کیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی ایسی نہیں جس کی مدت ختم ہو جائے یا جو فراموش کر دی جائے، مگر یہ کہ اللہ جلّ و علا اس کے بدلے اس جیسی یا اس سے بہتر نشانی عطا فرما دیتا ہے۔
اس آیتِ مبارکہ کے ذکر کی مناسبت یہ ہرگز نہیں کہ یہ بندہ خود کو شہید رہبر کے برابر سمجھے، چہ جائے کہ خود کو ان سے برتر تصور کرے؛ بلکہ اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد آپ عزیز ملت کے بروقت اور نمایاں کردار کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر وہ عظیم نعمت ہم سے سلب ہوگئی، تو اس کے بدلے ایک بار پھر ملت عمار یاسر کی طرح ایران کی میدان میں موجودگی اس نظام کو عطا ہوئی۔
یہ بات جان لیجیے کہ اگر میدان میں آپ کی قوت اور موجودگی ظاہر نہ ہو تو نہ قیادت اور نہ ہی مختلف ادارے، جن کی حقیقی شان عوام کی خدمت ہے، اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھاسکیں گے۔
تاکہ یہ حقیقت بہتر طور پر عملی شکل اختیار کرے، سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد، ان پر توکل، اور انوارطیبہ معصومین علیہم الصلوٰۃ والسلام سے توسل کو ایسا اکسیرِ اعظم اور کبریت احمر سمجھنا چاہیے جو ہر قسم کی کشادگی اور دشمن پر یقینی فتح کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایک عظیم برتری ہے جو آپ کے پاس ہے اور آپ کے دشمن اس سے محروم ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ قوم کے تمام افراد اور طبقات کے درمیان اتحاد کو کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ عام طور پر مشکل حالات میں یہی اتحاد زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کیا جائے۔
تیسری بات یہ ہے کہ میدان میں عوام کی مؤثر موجودگی برقرار رہنی چاہیے؛ چاہے وہ اسی طرح ہو جیسے آپ نے ان جنگی دنوں اور راتوں میں ثابت قدمی دکھائی، یا پھر سماجی، سیاسی، تعلیمی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سکیورٹی کے میدانوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی صورت میں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص اپنا درست کردار سمجھے اور سماجی اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر اسے عملی طور پر ادا کرے۔
قیادت اور بعض دوسرے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے مختلف افراد اور طبقات کو ان ذمہ داریوں اور کرداروں کی طرف متوجہ کریں۔ اسی لیے میں یوم القدس کی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اہمیت یاد دلانا چاہتا ہوں، اور اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اس میں دشمن کے خلاف مضبوط پیغام سب کے سامنے نمایاں ہونا چاہیے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے غفلت نہ کریں۔ الحمدللہ اکثر ایرانیوں کی ہمیشہ یہی عادت رہی ہے، اور توقع ہے کہ ان خاص دنوں میں جب قدرتی طور پر قوم کے کچھ افراد دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، یہ جذبہ اور بھی زیادہ نمایاں ہو۔
اسی موقع پر میں خدمات انجام دینے والے سرکاری اداروں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ قوم کے ان عزیز افراد اور عوامی امدادی تنظیموں کی ہر ممکن مدد اور تعاون کریں اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں۔
اگر ان باتوں کا خیال رکھا جائے تو آپ عزیز ملت کے لیے عظمت اور سربلندی تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اس کی سب سے قریب مثال، ان شاء اللہ، حالیہ جنگ میں دشمن پر کامیابی ہوسکتی ہے۔
میری بات کے تیسرے حصے میں، میں دل سے اپنے بہادر مجاہدوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایسے وقت میں جب ہماری قوم اور ہمارا پیارا وطن بڑی طاقتوں کے سرغنوں کی طرف سے ناحق حملوں کا سامنا کر رہا ہے، ہمارے مجاہدین نے مضبوط اور مؤثر جواب دے کر دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ انہوں نے دشمن کو یہ غلط فہمی بھی ختم کر دی کہ وہ ایران پر قابو پا سکتا ہے یا اسے تقسیم کرسکتا ہے۔
عزیز مجاہد بھائیو! عوام کی صاف اور واضح خواہش یہ ہے کہ دشمن کو روکنے والا اور اسے پشیمان کرنے والا دفاع جاری رکھا جائے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا دباؤ بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے۔
کچھ دوسرے محاذوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا ہے جہاں دشمن کمزور ہے اور زیادہ نقصان اٹھا سکتا ہے۔ اگر جنگی حالات جاری رہیں اور مصلحت کا تقاضا ہوا تو ان محاذوں کو بھی فعال کیا جائے گا۔
میں محاذ مزاحمت کے تمام مجاہدوں کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم مقاومتی محاذ کے ملکوں کو اپنے قریبی اور مخلص دوست سمجھتے ہیں۔ مزاحمت اور مقاومتی محاذ، اسلامی انقلاب کی بنیادی اقدار کا لازمی حصہ ہیں اور ان سے الگ نہیں ہوسکتے۔ یقینا اگر اس محاذ کے تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں تو صیہونی فتنہ سے نجات کا راستہ مزید آسان ہوجائے گا۔
ہم نے دیکھا کہ یمن کے بہادر مؤمنین نے غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع ترک نہیں کیا، جانثار حزب اللہ نے تمام مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا ساتھ دیا، اور عراق کی مزاحمتی قوتیں بھی اسی راستے پر دلیری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
چوتھے حصے میں میری بات ان لوگوں سے ہے جو ان چند دنوں میں کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے ہیں؛ چاہے وہ لوگ ہوں جنہوں نے اپنے کسی عزیز کی شہادت کا دکھ سہا ہو، یا وہ جو زخمی ہوئے ہوں، یا وہ افراد جن کے گھروں یا کاروبار کو نقصان پہنچا ہو۔
سب سے پہلے میں شہداء کے معزز خاندانوں کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں یہ احساس اس لیے بھی سمجھتا ہوں کیونکہ اس درد کا ذاتی تجربہ میرے پاس بھی ہے۔ میرے والد کی شہادت کا غم تو ایک قومی غم بن چکا ہے، لیکن اس کے علاوہ میں نے اپنی عزیز اور وفادار اہلیہ کو بھی کھویا جن سے مجھے بڑی امیدیں تھیں، اپنی فداکار بہن کو کھویا جو اپنی زندگی والدین کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھی اور آخرکار شہادت کا مقام پایا، اسی طرح اس کے چھوٹے بچے کو بھی، اور اپنی دوسری بہن کے شوہر کو بھی جو ایک عالم اور شریف انسان تھے۔ میں نے ان سب کو شہداء کے قافلے کے سپرد کیا ہے۔
لیکن جو چیز انسان کو ان مصیبتوں پر صبر کرنے کے قابل بناتی ہے، بلکہ کبھی کبھی اسے آسان بھی کر دیتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا وہ یقینی وعدہ ہے کہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اس لیے صبر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت پر امید اور بھروسا رکھنا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ بدلہ صرف رہبر معظم انقلاب کی شہادت تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ ہماری قوم کا ہر وہ فرد جو دشمن کے ہاتھوں شہید ہوا ہے، اس کے خون کا بدلہ بھی ہمارے ذمے ہے۔
اب تک اس انتقام کا ایک محدود حصہ عملی طور پر لیا جاچکا ہے، لیکن جب تک مکمل طور پر پورا نہیں ہوجاتا، یہ معاملہ ہمارے سامنے باقی رہے گا۔ خاص طور پر ہمارے بچوں اور معصوموں کے خون کے معاملے میں ہماری حساسیت اور بھی زیادہ ہوگی۔ اسی لیے دشمن نے میناب کے شجرہ طیّبہ اسکول اور اسی طرح کے کچھ دوسرے مقامات پر جو جان بوجھ کر جرائم کیے ہیں، ان کی خصوصی طور پر تحقیق اور حساب لیا جائے گا۔
تیسری بات یہ کہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو لازماً مناسب اور مفت طبی سہولیات دی جائیں اور انہیں کچھ دوسری ضروری سہولتیں اور مراعات بھی فراہم کی جائیں۔
چوتھی بات یہ کہ جہاں تک موجودہ حالات اجازت دیں، لوگوں کی ذاتی جائیداد اور املاک کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ دونوں امور متعلقہ ذمہ داران کے لیے لازمی ذمہ داری ہیں، جنہیں پورا کرکے اس کی رپورٹ مجھے پیش کی جائے۔
میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم ہر حال میں دشمن سے اس نقصان کا ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو جتنا ہم مناسب سمجھیں گے اتنی مالیت اس کی املاک سے لے لیں گے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو اتنی ہی مقدار میں اس کی املاک کو تباہ کر دیں گے۔
امیرالمومنین امام علی (ع) کی چالیس حدیثیں
علم ایک بیش قیمت اور اچھی میراث ہے 'ادب بہترین زیور ہے 'غوروفکر ایک صاف آئینہ ہے 'معذرت خواہی ایک ڈرانے والا ناصح ہے تمھارے باادب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جسے تم دوسروں سے ناپسند کرتے ہو اسے خودبھی ترک کردو۔
1 ـ قالَ الاْمامُ علىّ بن أبی طالِب أمیرُ الْمُؤْمِنینَ (عَلَیْهِ السلام) : إغْتَنِمُوا الدُّعاءَ عِنْدَ خَمْسَةِ مَواطِنَ: عِنْدَ قِرائَةِ الْقُرْآنِ، وَ عِنْدَ الاْذانِ، وَ عِنْدَ نُزُولِ الْغَیْثِ، وَ عِنْدَ الْتِقاءِ الصَفَّیْنِ لِلشَّهادَةِ، وَ عِنْدَ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، فَاِنَّهُ لَیْسَ لَها حِجابٌ دوُنَ الْعَرْشِ.(1)
اپنی دعا اور مرادیں مانگنے کے لئے پانچ مواقع کو غنیمت سمجھو تلاوت قرآن کے وقت 'اذان کے وقت 'بارش کے وقت 'خدا کی راہ میں جنگ اور جہاد کےوقت 'اورجس وقت مظلوم آہ نالہ کر رہا ہو ان مواقع پر دعا قبول ہونے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی.
2ـ قالَ(علیه السلام): اَلْعِلْمُ وِراثَةٌ کَریمَةٌ، وَ الاْدَبُ حُلَلٌ حِسانٌ، وَ الْفِکْرَةُ مِرآةٌ صافِیَةٌ، وَالاْعْتِذارُ مُنْذِرٌ ناصِحٌ، وَ کَفى بِکَ أَدَباً تَرْکُکَ ما کَرِهْتَهُ مِنْ غَیْرِکَ.(2)
علم ایک بیش قیمت اور اچھی میراث ہے 'ادب بہترین زیور ہے 'غور وفکر ایک صاف آئینہ ہے 'معذرت خواہی ایک ڈرانے والا ناصح ہے تمھارے باادب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جسے تم دوسروں سے ناپسند کرتے ہو اسے خودبھی ترک کردو .
3ـ قالَ(علیه السلام): اَلـْحَقُّ جَدیدٌ وَ إنْ طالَتِ الاْیّامُ، وَ الْباطِلُ مَخْذُولٌ وَ إنْ نَصَرَهُ أقْوامٌ.( 3)
حقّ و حقیقت تمام حالات میں نئی اور تازی ہوتی ہے چاہےجتنی مدت گذر چکی ہو اور باطل ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا ہے چاہے جتنے لوگ اس کی حمایت کرنے والے ہوں .
4ـ قالَ(علیه السلام): اَلدُّنْیا تُطْلَبُ لِثَلاثَةِ أشْیاء: اَلْغِنى، وَ الْعِزِّ، وَ الرّاحَةِ، فَمَنْ زَهِدَ فیها عَزَّ، وَ مَنْ قَنَعَ إسْتَغْنى، وَ مَنْ قَلَّ سَعْیُه ُإسْتَراحَ.(4)
دنیا اور اس کے مال و دولت کو تین چیزوں کے لئے حاصل کیا جاتا ہے بے نیازی ' عزت ' آرام وسکون لہذا جو دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے وہ عزت پاتا ہے جو قناعت کرتا ہے وہ بے نیاز رہتا ہے اور جو حصول دنیا کے لئے کم زحمت برداشت کرتا ہے وہ آرام سے رہتا ہے.
5ـ قالَ(علیه السلام): لَوْ لاَ الدّینُ وَ التُّقى، لَکُنْتُ أدْهَى الْعَرَبِ.(5)
اگر دین کی پابندی اور تقوی کا خیال نہ ہو تا تو میں عرب کا سب سے بڑا سیاست باز ہوتا
6ـ قالَ(علیه السلام): اَلْمُلُوکُ حُکّامٌ عَلَى النّاسِ، وَ الْعِلْمُ حاکِمٌ عَلَیْهِمْ، وَ حَسْبُکَ مِنَ الْعِلْمِ أنْ تَخْشَى اللّهَ، وَ حَسْبُکَ مِنَ الْجَهْلِ أنْ تَعْجِبَ بِعِلْمِکَ.(6)
بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علم ان پر حکومت کرتا ہے تمھارے صاحب علم ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ تم اللہ سے ڈرو اور تمھاری جہالت کے لئے یہی کافی ہے کہ تمھیں اپنے علم پر ناز ہو.
7ـ قالَ(علیه السلام): ما مِنْ یَوْم یَمُرُّ عَلَى ابْنِ آدَم إلاّ قالَ لَهُ ذلِکَ الْیَوْمُ: یَابْنَ آدَم أنَا یَوُمٌ جَدیدٌ وَ أناَ عَلَیْکَ شَهیدٌ. فَقُلْ فیَّ خَیْراً، وَ اعْمَلْ فیَّ خَیْرَاً، أشْهَدُ لَکَ بِهِ فِى الْقِیامَةِ، فَإنَّکَ لَنْ تَرانى بَعْدَهُ أبَداً.(7)
انسان پر کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہ دن اس انسان سے یہ نہ کہے کہ میں نیادن ہوں اور میں تمھارے اوپر شاہداور گواہ ہوں لہذااس دن میں اچھی باتیں بولو نیک عمل کرو تو میں قیامت میں تمھارے لیے گواہی دوں گااور آج کے بعد تم مجھے کبھی نہیں دیکھو گے.
8ـ قالَ(علیه السلام): فِى الْمَرَضِ یُصیبُ الصَبیَّ، کَفّارَةٌ لِوالِدَیْهِ.(8)
بچے کی بیماری اس کے والدین کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے .
9ـ قالَ(علیه السلام): الزَّبیبُ یَشُدُّ الْقَلْبِ، وَیُذْهِبُ بِالْمَرَضِ، وَ یُطْفِىءُ الْحَرارَةَ، وَ یُطیِّبُ النَّفْسَ.(9)
منقیٰ دل کو مضبوط کرتا ہے ' بیماری کو دور کرتا ہے گرمی کو کم کرتا ہے اورسانس کوخوشبداراور پاکیزہ بناتا ہے .
10ـ قالَ(علیه السلام): أطْعِمُوا صِبْیانَکُمُ الرُّمانَ، فَإنَّهُ اَسْرَعُ لاِلْسِنَتِهِمْ.(10)
اپنے بچوں کو انار کھلاؤ اس سے ان کی زبان جلدی کھلتی ہے .
11ـ قالَ(علیه السلام): أطْرِقُوا أهالیکُمْ فى کُلِّ لَیْلَةِ جُمْعَة بِشَیْء مِنَ الْفاکِهَةِ، کَیْ یَفْرَحُوا بِالْجُمْعَةِ.(11)
ہر شب جمعہ کچھ پھل یا مٹھائی لیکر اپنے اہل خانہ کے پاس آیا کرو تا کہ وہ جمعہ کی آمد سے خوش ہوں .
12ـ قالَ(علیه السلام): کُلُوا ما یَسْقُطُ مِنَ الْخوانِ فَإنَّهُ شِفاءٌ مِنْ کُلِّ داء بِإذْنِ اللّه ِعَزَّوَجَلَّ، لِمَنْ اَرادَ أنْ یَسْتَشْفِیَ بِهِ.(12)
کھانے کے برتن یا دستر خوان سے جو گرجائے اسے کھا لیا کرو اسلیے کہ اگر کوئی اس کے ذریعہ شفا چاہے تو خدا کے اذن سے یہ اس کے لئے بہترین شفا ہے
13ـ قالَ(علیه السلام):لا ینبغى للعبد ان یثق بخصلتین: العافیة و الغنى، بَیْنا تَراهُ مُعافاً اِذْ سَقُمَ، وَ بَیْنا تَراهُ غنیّاً إذِ افْتَقَرَ.(13)
بندوں کےلئے یہ مناسب نہیں کہ دو حالتوں پر بھروسہ کریں صحت وعافیت اور مالداری وتوانگری اس لئے کہ ممکن ہے دیکھتے ہی دیکھتے کوئی بیماری آجائے اور صحت و سلامتی سے ہاتھ دھونا پڑجائے یا اچانک غریبی اور تنگ دستی آجائے اور مال ودولت ہاتھ سے نکل جائے .
14ـ قالَ(علیه السلام): لِلْمُرائى ثَلاثُ عَلامات: یَکْسِلُ إذا کانَ وَحْدَهُ، وَ یَنْشطُ إذاکانَ فِى النّاسِ، وَ یَزیدُ فِى الْعَمَلِ إذا أُثْنِىَ عَلَیْهِ، وَ یَنْقُصُ إذا ذُمَّ.(14)
ریا کار کی تین نشانیاں ہیں جب اکیلا ہو تو سستی اور کاہلی سے کام لیتا ہے اورجب لوگوں کے درمیان ہو تو بہت تازہ دم اور فعال دکھائی دیتا ہے 'جب تعریف کی جائے توبہت کام کرتا ہے ' جب مذمت کا سامنا ہو تو اس کے عمل میں کمی ہو جاتی ہے
15ـ قالَ(علیه السلام): اَوْحَى اللّهُ تَبارَکَ وَ تَعالى إلى نَبیٍّ مِنَ الاْنْبیاءِ: قُلْ لِقَوْمِکَ لا یَلْبِسُوا لِباسَ أعْدائى، وَ لا یَطْعَمُوا مَطاعِمَ أعْدائى، وَ لا یَتَشَکَّلُوا بِمَشاکِلِ أعْدائى، فَیَکُونُوا أعْدائى.(15)
خدا وند عالم نے اپنے ایک نبی کو وحی فرمائی کہ آپ اپنی قوم سے کہ دیں کہ میرے دشمنوں کا لباس نہ پہنا کریں میرے دشمنوں کے کھانے نہ کھایا کریں اور میرے دشمنوں جیسی وضع وقطع نہ بنائیں ورنہ وہ میرے دشمن شمار ہوں گے.
16ـ قالَ(علیه السلام): اَلْعُقُولُ أئِمَّةُ الأفْکارِ، وَ الاْفْکارُ أئِمَّةُ الْقُلُوبِ، وَ الْقُلُوبُ أئِمَّةُ الْحَواسِّ، وَ الْحَواسُّ أئِمَّةُ الاْعْضاءِ.(16)
عقلیں فکروں کی امام اور رہنما ہیں 'فکریں دلوں کے امام اور رہنما ہیں 'دل احساسات کے لئے امام ہیں اور احساسات اعضاء وجوارح کے لئے امام اور رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں.
17ـ قالَ(علیه السلام): تَفَضَّلْ عَلى مَنْ شِئْتَ فَأنْتَ أمیرُهُ، وَ اسْتَغِْنِ عَمَّنْ شِئْتَ فَأنْتَ نَظیرُهُ، وَ افْتَقِرْ إلى مَنْ شِئْتَ فَأنْتَ أسیرُهُ.(17)
جس کسی کے ساتھ چاہو احسان اور نیکی کرو ایسا کرنے سے تم اس کے حاکم اور سردار بن جاؤ گے ' جس کسی سے چاہو بے نیازی کا رویہ اختیار کرو اس طرح اس کے مثل و نظیر کہلاؤ گے جس کسی کے سامنے چاہو ہاتھ پھیلاکر اپنی غربت اور فقر کا رونا رو اس طرح تم اس کے اسیر بن جاؤگے .
18ـ قالَ(علیه السلام): أعَزُّ الْعِزِّ الْعِلْمُ، لاِنَّ بِهِ مَعْرِفَةُ الْمَعادِ وَ الْمَعاشِ، وَ أذَلُّ الذُّلِّ الْجَهْلُ، لاِنَّ صاحِبَهُ أصَمُّ، أبْکَمٌ، أعْمى، حَیْرانٌ.(18)
سب سے بڑی عزت علم ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ روز قیامت اور امور حیات کی معرفت حاصل ہوتی ہے ' سب سے بڑی ذلت جہالت ہے اس لئے کہ جاہل گونگا 'بہرہ ' اندھا اور حیران و سر گرداں ر ہتا ہے .
19ـ قالَ(علیه السلام): جُلُوسُ ساعَة عِنْدَ الْعُلَماءِ أحَبُّ إلَى اللّهِ مِنْ عِبادَةِ ألْفِ سَنَة، وَ النَّظَرُ إلَى الْعالِمِ أحَبُّ إلَى اللّهِ مِنْ إعْتِکافِ سَنَة فى بَیْتِ اللّهِ، وَ زیارَةُ الْعُلَماءِ أحَبُّ إلَى اللّهِ تَعالى مِنْ سَبْعینَ طَوافاً حَوْلَ الْبَیْتِ، وَ أفْضَلُ مِنْ سَبْعینَ حَجَّة وَ عُمْرَة مَبْرُورَةمَقْبُولَة، وَ رَفَعَ اللّهُ تَعالى لَهُ سَبْعینَ دَرَجَةً، وَ أنْزَلَ اللّهُ عَلَیْهِ الرَّحْمَةَ، وَ شَهِدَتْ لَهُ الْمَلائِکَةُ: أنَّ الْجَنَّةَ وَ جَبَتْ لَهُ.(19)
علماء کے پاس ایک گھنٹہ بیٹھنا خدا وند عالم کو ایک ہزار سال کی عبادت سے زیادہ پسند ہے 'عالم کے چہرہ کو دیکھنا خانۂ خدا میں ایک سال اعتکاف کرنے سے زیادہ پسند ہے علماء کے دیدار کے لئے جانا خانۂ کعبہ کے گرد ستر مرتبہ طواف کرنے سے زیادہ پسند اور ستر مقبول بارگاہ حج و عمرہ بجا لانےسے زیادہ بہتر ہے خداند عالم ایسا کرنے والے کے ستر درجہ بلند کرتا ہے اس پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے لئے ملائکہ گواہی دیتے ہیں کہ کہ اس پر جنت واجب ہے .
20ـ قالَ(علیه السلام): یَا ابْنَ آدَم، لا تَحْمِلْ هَمَّ یَوْمِکَ الَّذى لَمْ یَأتِکَ عَلى یَوْمِکَ الَّذى أنْتَ فیهِ، فَإنْ یَکُنْ بَقِیَ مِنْ أجَلِکَ، فَإنَّ اللّهَ فیهِ یَرْزُقُکَ.(20)
اے آدم کے فرزند جو دن ابھی نہیں آیا اس کے ھم و غم کا بوجھ آج پر نہ ڈالو اگر تمھاری زندگی کے دن باقی ہوں گے تو خداوندعالم ان میں بھی تمھیں رزق وروزی دے گا .
21ـ قالَ(علیه السلام): قَدْرُ الرَّجُلِ عَلى قَدْرِهِمَّتِهِ، وَ شُجاعَتُهُ عَلى قَدْرِ نَفَقَتِهِ، وَ صِداقَتُهُ عَلى قَدْرِ مُرُوَّتِهِ، وَ عِفَّتُهُ عَلى قَدْرِ غِیْرَتِهِ.(21)
انسان کی قدر ومنزلت اس کی ہمت اور عزم و حوصلہ کے برابر ہو تی ہے اس کی شجا عت و بہادری اس کے راہ خدا میں خرچ کرنے کے کی مقدار کے برابر ہو تی ہے اس کی صداقت اس کی مرؤت اور جواں مردی کے برابر اور اس کی عفت و پاک دامنی اس کی غیرت و حمیت کے برابر ہوتی ہے
22ـ قالَ(علیه السلام): مَنْ شَرِبَ مِنْ سُؤْرِ أخیهِ تَبَرُّکاً بِهِ، خَلَقَ اللّهُ بَیْنَهُما مَلِکاً یَسْتَغْفِرُ لَهُما حَتّى تَقُومَ السّاعَةُ.(22)
اگرکوئی مومن بھائی تبرک کےطوراپنے مومن بھائی کا جھوٹا پی لیتا ہے تو خدا وند عالم ان دو نوں کے لئے ایک ملک کو پیداکرتا ہےجو قیا مت تک ان دونوں کے لئے استغفار کرتا ہے .
23ـ قالَ(علیه السلام): لا خَیْرَ فِى الدُّنْیا إلاّ لِرَجُلَیْنِ: رَجَلٌ یَزْدادُ فى کُلِّ یَوْم إحْساناً، وَ رَجُلٌ یَتَدارَکُ ذَنْبَهُ بِالتَّوْبَةِ، وَ أنّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ، وَالله لَوْسَجَدَ حَتّى یَنْقَطِعَ عُنُقُهُ ما قَبِلَ اللهُ مِنْهُ إلاّ بِوِلایَتِنا أهْلِ الْبَیْتِ.(23)
دنیا میں خیر و سعادت کسی کے لئے نہیں ہے سوائے دو لو گوں کے ایک وہ شخص جو ہر روز اپنی نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور دوسر ا وہ شخص جو توبہ کے ذریعہ اپنے گناہوں کی بیماری کا علاج کرتا ہے اور توبہ کے لئے بھی اگر کوئی شخص اتنے سجدے کرے کہ اس کے سروتن میں جدائی ہوجائےاس کےباوجودخداوند عالم اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک توبہ کرنےوالاہماری ولایت کااقرار کرنےوالا نہ ہو .
24ـ قالَ(علیه السلام): عَجِبْتُ لاِبْنِ آدَم، أوَّلُه ُنُطْفَةٌ، وَ آخِرُهُ جیفَةٌ، وَ هُوَ قائِمٌ بَیْنَهُما وِعاءٌ لِلْغائِطِ، ثُمَّ یَتَکَبَّرُ.(24)
مجھےتعجب ہوتا ہے اس شخص پر جس کا آغاز نطفہ اور جس کا انجام مردار ہے اور وہ ان دونوں کے درمیان گندگی کو اٹھا پھرتا ہے اس کے با وجود غرور و تکبر کا شکار رہتا ہے .
25ـ قالَ(علیه السلام): إیّاکُمْ وَ الدَّیْن، فَإنَّهُ هَمٌّ بِاللَّیْلِ وَ ذُلٌّ بِالنَّهارِ.(25)
قرض لینے سے بچو اس لئے کہ قرض لینا راتوں میں بے چینی اور دن میں ذلت و دسوائی کا باعث ہوتا ہے .
26ـ قالَ(علیه السلام): إنَّ الْعالِمَ الْکاتِمَ عِلْمَهُ یُبْعَثُ أنْتَنَ أهْلِ الْقِیامَةِ، تَلْعَنُهُ کُلُّ دابَّة مِنْ دَوابِّ الاْرْضِ الصِّغارِ.(26)
جو عالم اپنے علم کو چھپائے وہ قیامت میں سب سے زیا دہ بد بو دار صورت میں اٹھایا جائے گا یہاں تک کہ اس پر ہر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق لعنت کرے گی.
27ـ قالَ(علیه السلام): یا کُمَیْلُ، قُلِ الْحَقَّ عَلى کُلِّ حال، وَوادِدِ الْمُتَّقینَ، وَاهْجُرِ الفاسِقینَ، وَجانِبِ المُنافِقینَ، وَلاتُصاحِبِ الخائِنینَ.(27)
اے کمیل ہر حال میں حق بولو صاحبان تقویٰ سے محبت کرو فاسقوں سے دور رہو منافقوں سے کنارہ کشی رکھو اور خیانت کرنے والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھو
28ـ قالَ(علیه السلام): فى وَصیَّتِهِ لِلْحَسَنِ (علیه السلام): سَلْ عَنِ الرَّفیقِ قَبْلَ الطَّریقِ، وَعَنِ الْجارِ قَبْلَ الدّارِ.(28)
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہؤے ادشاد فرمایا: راستے سے پہلے ہم سفر کے بارے میں معلوم کر لیا کو اور گھر لینے سے پہلے پڑوسیوں کے بارے میں معلومات حاصل کر لیا کرو
29ـ قالَ(علیه السلام): اِعْجابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ دَلیلٌ عَلى ضَعْفِ عَقْلِهِ.(29)
انسان کا اپنے اوپر فخر کرنا اس کی کم عقلی کی نشانی ہے
30ـ قالَ(علیه السلام): أیُّهَا النّاسُ، إِیّاکُمْ وُحُبَّ الدُّنْیا، فَإِنَّها رَأْسُ کُلِّ خَطیئَة، وَبابُ کُلِّ بَلیَّة، وَداعى کُلِّ رَزِیَّة.(30)
اے لوگو دنیا کی محبت سے بچو اس لئے کہ وہ ہر غلطی اور گناہ کی جڑ ' ہر بلا و آزمائش کا دروازہ اور ہر مصیبت کی آماجگاہ ہے .
31ـ قالَ(علیه السلام): السُّکْرُ أرْبَعُ السُّکْراتِ: سُکْرُ الشَّرابِ، وَسُکْرُ الْمالِ، وَسُکْرُ النَّوْمِ، وَسُکْرُ الْمُلْکِ.(31)
نشہ چار طرح کا ہرتا ہے شراب کانشہ 'مال ودولت کانشہ' نیند کانشہ اور حکومتی عہدہ و منصب کا نشہ.
32ـ قالَ(علیه السلام): أللِّسانُ سَبُعٌ إِنْ خُلِّیَعَنْهُ عَقَرَ.(32)
زبان ایک درندہ ہے جو اگر آزاد رہے تو پھاڑ کھائےگا .
33ـ قالَ(علیه السلام): یَوْمُ الْمَظْلُومِ عَلَى الظّالِمِ أشَدُّ مِنْ یَوْمِ الظّالِمِ عَلَى الْمَظْلُومِ.(33)
ظالم کے خلاف مظلوم کا دن مظلوم کے خلاف ظالم کے دن سے زیادہ سخت ہوتا ہے .
34ـ قالَ(علیه السلام): فِى الْقُرْآنِ نَبَأُ ما قَبْلَکُمْ، وَخَبَرُ ما بَعْدَکُمْ، وَحُکْمُ ما بَیْنِکُمْ.(34)
قرآن مجید میں تم سے پہلے کی خبریں تمھارے بعد کے حالات اور تمھارے موجودہ دور کے احکام پائے جاتے ہیں .
35ـ قالَ(علیه السلام): نَزَلَ الْقُرْآنُ أثْلاثاً، ثُلْثٌ فینا وَفى عَدُوِّنا، وَثُلْثٌ سُنَنٌ وَ أمْثالٌ،وَثُلْثٌ فَرائِض وَأحْکامٌ.(35)
قرآن مجید تین حصوں میں نازل ہوا ایک حصہ ہم اہل بیت ع کے فضایل و کمالات اور ہمارے دشمنوں کی مذمت کے بارے میں ہے دوسرے حصے میں سنتوں اور ضرب الامثال کا تذکرہ ہے اور تیسرے حصہ میں احکام اور فرائض بیان ہوئے ہیں
36ـ قالَ(علیه السلام): ألْمُؤْمِنُ نَفْسُهُ مِنْهُ فى تَعَب، وَالنّاسُ مِنْهُ فى راحَة.(36)
مومن خود تکلیف میں رہتا ہے لیکن لوگوں کو اس کے وجود سے آرام و سکون نصیب ہو تا ہے .
37ـ قالَ(علیه السلام): کَتَبَ اللّهُ الْجِهادَ عَلَى الرِّجالِ وَالنِّساءِ، فَجِهادُ الرَّجُلِ بَذْلُ مالِهِ وَنَفْسِهِ حَتّى یُقْتَلَ فى سَبیلِ اللّه، وَجِهادُ الْمَرْئَةِ أنْ تَصْبِرَ عَلى ماتَرى مِنْ أذى زَوْجِها وَغِیْرَتِهِ.(37)
خدا وند عالم نے مردوں اور عورتوں دونوں پر جہاد فرض کیا مرد کا جہاد جان و مال کی قربانی سے ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے اور عورت کا جہاد اس کے شوہر اور اس کی غیرت کی بنا پردر پیش مشکلات پرصبر کے ذریعہ ہوتا ہے .
38ـ قالَ(علیه السلام): فى تَقَلُّبِ الاْحْوالِ عُلِمَ جَواهِرُ الرِّجالِ.(38)
حالات کےبدلنےسےلوگوں کی حقیقت سامنےآجاتی ہے .
39ـ قالَ(علیه السلام): إنّ الْیَوْمَ عَمَلٌ وَلاحِسابَ، وَغَداً حِسابٌ وَ لا عَمَل.(39)
آج یعنی جب تک زندگی ہے عمل کا موقعہ ہے اس میں حساب وکتاب نہیں ہے اورکل یعنی موت کے بعدحسا ب وکتا ب کا موقعہ ہوگا عمل کا نہیں .
40ـ قالَ(علیه السلام): إتَّقُوا مَعَاصِیَ اللّهِ فِى الْخَلَواتِ فَإنَّ الشّاهِدَ هُوَ الْحاکِم.(40)
تنہائوں میں بھی خدا وند عالم کی نا فرمانی سے بچو اس لئے کہ ان پر گواہ ہی ان کے بارے میں فیصلہ کر نے والا ہے
.........................................................
حوالے
[1] ـ أمالى صدوق : ص 97، بحارالأنوار: ج 90، ص 343، ح 1.
[2] ـ أمالى طوسى : ج 1، ص 114 ح 29، بحارالأنوار: ج 1، ص 169، ح 20.
[3] ـ وسائل الشّیعة: ج 25، ص 434، ح 32292.
[4] ـ وافى: ج 4، ص 402، س 3.
[5] ـ أعیان الشّیعة: ج 1، ص 350، بحارالأنوار: ج 41، ص 150، ضمن ح 40.
[6] ـ أمالى طوسى: ج 1، ص 55، بحارالأنوار: ج 2، ص 48، ح 7.
[7] ـ أمالى صدوق: ص 95، بحارالأنوار: ج 68، ص 181، ح 35.
[8] ـ بحار الأنوار: ج 5، ص 317، ح 16، به نقل از ثوابالأعمال.
[9] ـ أمالى طوسى : ج 1، ص 372، بحارالأنوار: ج 63، ص 152، ح 5.
[10] ـ أمالى طوسى: ج 1، ص 372، بحارالأنوار: ج 63، ص 155، ح 5.
[11] ـ عدّة الدّاعى: ص 85، ص 1، بحارالأنوار: ج 101، ص 73، ح 24.
[12] ـ مستدرک الوسائل : ج 16، ص 291، ح 19920.
[13] ـ بحارالأنوار: ج 69، ص 68، س 2، ضمن ح 28.
[14] ـ محبّة البیضاء: ج 5، ص 144، تنبیه الخواطر: ص 195، س 16.
[15] ـ مستدرک الوسائل: ج 3، ص 210، ح 3386.
[16] ـ بحارالأنوار: ج 1، ص 96، ح 40.
[17] ـ بحارالأنوار: ج 70، ص 13.
[18] ـ نزهة الناظر و تنبیه الخاطر حلوانى: ص 70، ح 65.
[19] ـ عدّة الدّاعى: ص 75، س 8، بحارالأنوار: ج 1، ص 205، ح 33.
[20] ـ نزهة الناظر و تنبیه الخاطر حلوانى: ص 52، ح 26.
[21] ـ نزهة الناظر و تنبیه الخاطر حلوانى: ص 46، ح 12.
[22] ـ اختصاص شیخ مفید: ص 189، س 5.
[23] - وسائل الشیعة: ج 16 ص 76 ح 5.
[24] ـ وسائل الشّیعة: ج 1، ص 334، ح 880.
[25] ـ وسائل الشّیعة: ج 18، ص 316، ح 23750.
[26] ـ وسائل الشّیعة: ج 16، ص 270، ح 21539.
[27] ـ تحف العقول: ص 120، بحارالأنوار: ج 77، ص 271، ح 1.
[28] ـ بحارالأنوار: ج 76، ص 155، ح 36، و ص 229، ح 10.
[29] ـ اصول کافى: ج 1، ص 27، بحارالأنوار: ج 1، ص 161، ح 15.
[30] ـ تحف العقول: ص 152، بحارالأنوار: ج 78، ص 54، ح 97.
[31] ـ خصال : ج 2، ص 170، بحارالأنوار: ج 73، ص 142، ح 18.
[32] ـ شرح نهج البلاغه ابن عبده: ج 3، ص 165.
[33] ـ شرح نهج البلاغه فیض الاسلام: ص 1193.
[34] ـ شرح نهج البلاغه فیض الاسلام: ص 1235.
[35] ـ اصول کافى، ج 2، ص 627، ح 2.
[36] ـ بحارالأنوار: ج 75، ص 53، ح 10.
[37] ـ وسائل الشّیعة: ج 15، ص 23، ح 19934.
[38] ـ شرح نهج البلاغه فیض الإسلام: ص 1183.
[39] ـ شرح نهج البلاغه ابن عبده: ج 1، ک 41.
[40] ـ شرح نهج البلاغه ابن عبده: ج 3، ص 324.
- مؤلف:
- سید حمیدالحسن زیدی
- ذرائع:
- حوزہ نیوز
امام علی علیہ السلام جیسی شخصیت تلاش کرنا نا ممکن ہے:امام خمینی(رح)
امام علی علیہ السلام جیسی شخصیت تلاش کرنا نا ممکن ہے:امام خمینی(رح)
امت مسلمہ کے امام کی شخصیت ایسی ہے کہ اسلام میں، اسلام سے پہلے اور اس کے بعد کسی کو بھی ان کی مانند تلاش کرنا ناممکن ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے اندر متضاد صفات پائی جاتی ہیں، اور یہ علی علیہ السلام کا ہی وجود ہے جو متضاد صفات کا مالک ہے، جو شخص جنگجو ہوتا ہے وہ اہل عبادت نہیں ہوتا، جو طاقت کے بل بوتے پر زندگی بسر کرتا ہے وہ زاہد و پرہیزگار نہیں ہو سکتا، جو ہمیشہ تلوار چلاتا ہو اور منحرف افراد کو سیدھے راستے پر لگاتا ہو وہ لوگوں پر مہربان نہیں ہو سکتا لیکن حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس ذات کا نام ہے جس میں متضاد صفات پائی جاتی تھیں۔
بانی انقلاب امام خمینی رحمہ اللہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں فرماتے ہیں امت مسلمہ کے امام کی شخصیت ایسی ہے کہ اسلام میں، اسلام سے پہلے اور اس کے بعد کسی کو بھی ان کی مانند تلاش کرنا ناممکن ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جن کے اندر متضاد صفات پائی جاتی ہیں، اور یہ علی علیہ السلام کا ہی وجود ہے جو متضاد صفات کا مالک ہے، جو شخص جنگجو ہوتا ہے وہ اہل عبادت نہیں ہوتا، جو طاقت کے بل بوتے پر زندگی بسر کرتا ہے وہ زاہد و پرہیزگار نہیں ہو سکتا، جو ہمیشہ تلوار چلاتا ہو اور منحرف افراد کو سیدھے راستے پر لگاتا ہو وہ لوگوں پر مہربان نہیں ہو سکتا لیکن حضرت امیر المومنین علیہ السلام اس ذات کا نام ہے جس میں متضاد صفات پائی جاتی تھیں۔
اسلامی تحریک کے رہنما فرمایا کہ وہ دنوں کو روزے رکھتے تھے اور راتوں کو عبادت میں مصروف رہتے تھے اور تاریخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک رات میں ہزار رکعت نماز بھی پڑھا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود کھانے میں جَو کی روٹی اور نمک کا استعمال کرتے تھے اور اسی جو کی روٹی اور نمک کے باوجود ان کی جسمانی طاقت اتنی تھی کہ انہوں نے باب خیبر کو اکھاڑ کر دور پھینک دیا جس کے بارے میں تاریخ نے لکھا ہے کہ چالیس افراد مل کر بھی اسے ہلا بھی نہیں سکتے تھے۔ ان کا تلوار چلانے کا انداز یہ تھا کہ جس کے اوپر وہ تلوار چلتی تھی اس کے دو ٹکڑے کر دیتی تھی۔ میرے خیال کے مطابق اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس واحد ہستی کے علاوہ کسی دوسرے کی تربیت نہ کی ہوتی تو ان کے لئے یہی کافی ہوتا۔




































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
