سلیمانی
اصلاح نفس اور رضائے خدا کا حصول از رہبر انقلاب
اپنی اصلاح سے غفلت، بڑی مصیبت!
ہم انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو بھلا دیتے ہیں، اصلاح کے لیے لازمی (امور سے) غفلت خود اپنے اندر اصلاح کی طرف سے بے توجہی ہے، اگر غفلت ختم ہوجائے اور اگر عزم و ارادہ وجود میں آجائے تو ہر چیز کی اصلاح ہو جاتی ہے۔
اصلاح نفس، رضائے خدا کا ملازمہ!
پہلے مرحلے میں، جو بنیادی مرحلہ اور ہمارے فرائض کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہے، ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں اور یہی بنیادی کام ہے یعنی یہ تمام کام اپنے آپ سے خدا کو راضی رکھنے کی تمہید ہیں۔
رضائے خدا، تمام جدوجہد کا ہدف!
تمام کوششیں اور تمام جد و جہد اسی لیے ہے کہ ہم خدا کو خود سے راضی رکھ سکیں اور خود کو اس کمال تک پہنچا سکیں، جو تخلیق میں ہمارے لیے پیش نظر رکھا گیا ہے۔
خانہ داری کی اہمیت اور خاتونِ خانہ کی ذمہ داریاں! از رہبر انقلاب
خانہ داری، خاتون کی اہم ترین ذمہ داری!
خاتون کی ایک اہم ترین ذمہ داری گھر کی خانہ داری ہے۔ خانہ داری، ایک کام ہے، بڑا کام ہے، اہم ترین و حساس ترین کام ہے، مستقبل ساز کام ہے۔ افزائش نسل ایک عظیم مجاہدت ہے۔
خانہ داری کو حقیر سمجھنا، گناہ ہے!
سبھی جانتے ہیں کہ میرا یہ ماننا ہے کہ عورتوں کو سیاسی اور سماجی کاموں سے دور نہیں رہنا چاہیے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس کے معنی یہ لیے جائيں کہ ہم “خانہ داری” کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو یہ گناہ ہوگا۔
خاتون، گھرانے میں عشق و محبت کا محور!
گھرانے کی تشکیل ایک بنیادی اصول ہے، گھریلو عشق و محبت اور گھریلو ماحول کی پاسبانی ایک اور بنیادی قانون ہے، یہ ذمہ داری خاتون خانہ کے دوش پر ہے۔
عہد زندگی ، رہبر معظم
اہلسنت عالم دین کی شہادت پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا تعزیتی پیغام
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مجاہد اہلسنت عالمِ دین مولوی یوسف گورگیج کی شہادت پر جاری کیے جانے والے بیان میں گھناؤنے فعل کو اسلام اور ایران کے دشمنوں کی کینہ پروری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
تہران -ارنا- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جاری کردہ بیان میں کہا گيا ہے کہ اسلام اور انقلاب کے کینہ پرور اور حاسد دشمن— سیستان و بلوچستان کے بہادر اور پرجوش عوام کے درمیان اس نیک سیرت عالم دین کے اثر و رسوخ اور بے مثال مقبولیت کی وجہ سے شدید خوفزدہ اور بے بسی کا شکار تھے۔
بیان کے مطابق اسلام اور ایران کے کینہ پرور اور حاسد دشمنوں نے اس جرم کے ذریعے اسلام اور ایران کے سچے خادموں کے تئیں اپنی سفاک اور کینہ پرور فطرت کا ایک بار پھر اظہار کیا ہے۔
صبح ازل کون تھا اور ازلیہ فرقہ کیسے وجود میں آیا؟
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بابیت کی تاریخ میں صبح ازل ایک اہم شخصیت ہیں، جن کا نام باب کی وفات کے بعد بابی تحریک کی قیادت اور بعد ازاں ازلی و بہائی گروہوں کی تقسیم کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔
صبح ازل دراصل یحییٰ نوری کا لقب تھا۔ وہ میرزا حسین علی نوری کے سوتیلے چھوٹے بھائی تھے، جو بعد میں ’’بہاء اللہ‘‘ کے نام سے بہائی مذہب کے بانی کے طور پر معروف ہوئے۔
باب کے بعد قیادت کا مسئلہ
علی محمد باب کی پھانسی کے بعد بابیوں میں قیادت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس موقع پر یحییٰ نوری، یعنی صبح ازل، کو باب کے جانشین کے طور پر پیش کیا گیا اور ایک عرصے تک وہ بابی تحریک کی قیادت سے وابستہ رہے۔
ابتدا میں میرزا حسین علی نوری بھی اپنے بھائی کے ساتھ تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ یوں بابی تحریک کی قیادت کا معاملہ دونوں بھائیوں کے درمیان شدید اختلاف اور مقابلے کا سبب بن گیا۔
بالآخر بابی تحریک دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروہ نے صبح ازل کی پیروی کی، جسے بعد میں ازلیہ کہا گیا، جبکہ دوسرے گروہ نے میرزا حسین علی نوری کی پیروی اختیار کی، جنہوں نے بعد میں ’’بہاء اللہ‘‘ کا لقب اختیار کیا۔ ان کے پیروکار آگے چل کر بہائی کہلائے۔
ازلیہ کا قیام
دونوں گروہوں کے درمیان اختلافات بڑھنے کے بعد عثمانی حکومت نے دونوں بھائیوں اور ان کے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے الگ الگ مقامات پر بھیج دیا۔ صبح ازل کو قبرص اور میرزا حسین علی نوری کو عکا بھیجا گیا۔
اس طرح بابیت عملی طور پر دو الگ دھاروں میں تقسیم ہوگئی: ازلیہ اور بہائیت۔
ازلیہ، صبح ازل کے پیروکاروں پر مشتمل گروہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس گروہ کی تعداد اور اثر و رسوخ محدود ہوتا گیا، جبکہ میرزا حسین علی نوری کی قیادت میں بہائی تحریک ایک الگ مذہبی تحریک کے طور پر آگے بڑھی۔
مختصر طور پر، صبح ازل وہ یحییٰ نوری تھے جنہیں باب کی وفات کے بعد بابی تحریک کی قیادت سے جوڑا گیا، لیکن میرزا حسین علی نوری کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں بابیت دو دھاروں میں تقسیم ہوگئی اور ازلیہ اسی تقسیم سے وجود میں آنے والا گروہ تھا۔
امریکی سیکیورٹی معاہدوں کی ناپائیداری اور مقامی مزاحمتی طاقت کی ضرورت
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ دنوں امریکی میڈیا، خصوصا اکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ فوری ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ان رابطوں کا مقصد یمن کی صورتحال کے تناظر میں امریکہ سے براہ راست فوجی مدد حاصل کرنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق انصار اللہ کی جانب سے ساحلی شہر المخا کی طرف پیش قدمی اور تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے باب المندب کے قریب پہنچنے کے بعد بن سلمان نے ٹرمپ سے دو بار حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف براہ راست امریکی فضائی حملوں کی درخواست کی۔ تاہم ٹرمپ نے دونوں درخواستیں مسترد کردیں۔
بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن فی الحال براہ راست فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کے بجائے سعودی فریق کو صرف انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کررہا ہے۔ سعودی عرب میں تقریباً 200 امریکی اہلکار بھی موجود ہیں، تاہم ان کا کردار مشاورتی اور غیر جنگی نوعیت کا بتایا جاتا ہے۔
سعودی درخواستیں اور امریکی انکار
یہ صورتحال یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جہاں انصار اللہ اہم تجارتی راستوں اور تیل کی برآمد کے راستوں پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرچکا ہے اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ عناصر کے زیر قبضہ بعض علاقوں پر بھی کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے اور فوجی تعاون کیا واقعی بحرانی حالات میں کسی ملک کی سلامتی کی ضمانت بن سکتے ہیں؟ موجودہ حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے فیصلے بنیادی طور پر اپنے قومی مفادات اور موجودہ ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے کرتا ہے اور ہر صورت میں اپنے اتحادیوں کی براہ راست فوجی مدد کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کررہا ہے اور آبنائے ہرمز کے معاملے کے ساتھ ایک نئی فوجی محاذ آرائی میں الجھنے سے گریز کررہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے قریبی اتحادی اور امریکی ہتھیاروں کے بڑے خریدار بھی حساس مواقع پر اپنی درخواستوں کے مسترد ہونے کا سامنا کرسکتے ہیں۔
بیرونی طاقت پر انحصار کا تجربہ
یہ صورتحال ماضی کے بعض تجربات کی بھی یاد دلاتی ہے کہ ایسی بیرونی طاقت جس کی حمایت کسی ملک کی اپنی قومی قوت اور عوامی ارادے پر قائم نہ ہو، بحران کے وقت لازمی طور پر مدد کے لیے نہیں پہنچتی۔ بڑی طاقتیں اپنے قومی مفادات کو سیکیورٹی معاہدوں سے متعلق وعدوں پر ترجیح دے سکتی ہیں اور حالات کے مطابق اپنے فیصلے تبدیل کرسکتی ہیں۔
اسی تناظر میں ایران کے حالیہ تجربے کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ ایران نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کے دوران مختلف نوعیت کے فوجی اور فضائی حملوں کا سامنا کیا۔ اگر ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر بیرونی معاہدوں، درآمد شدہ سازوسامان یا دوسرے ممالک کی براہ راست فوجی مدد پر منحصر ہوتی تو ایسے حساس حالات میں ملک کے لیے حملوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتا۔ اس کے برعکس مقامی دفاعی صلاحیت، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام اور دفاعی کمان کے ڈھانچے نے ایران کو جوابی کارروائی اور اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دی۔
پائیدار سلامتی کے لیے مقامی طاقت ضروری
کسی ملک کی مزاحمت اور پائیدار سلامتی اس وقت زیادہ مضبوط ہوسکتی ہے جب اس کی بنیاد قومی ارادے اور مقامی صلاحیتوں پر ہو۔ بین الاقوامی معاہدے، دفاعی سمجھوتے اور اسلحے کی خریداری اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں قومی ارادے اور آزاد دفاعی صلاحیت کا مکمل متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔
واشنگٹن اپنے سیکیورٹی وعدوں کو بھی اپنے قومی مفادات اور حالات کے مطابق دیکھتا ہے۔ اس لیے جو ممالک اپنی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی سیکیورٹی معاہدوں سے وابستہ کردیتے ہیں، انہیں بحرانی حالات میں ممکنہ طور پر حمایت کے خلا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی قیادت کی جانب سے فوجی مدد کی درخواستوں کا مسترد ہونا اسی صورتحال کی ایک مثال ہے۔
اس کے مقابلے میں ایران کا تجربہ مقامی دفاعی صلاحیت، فوجی ٹیکنالوجی کی داخلی ترقی اور انسانی وسائل پر طویل مدتی سرمایہ کاری کی مثال ہے۔ حقیقی دفاعی بازدارندگی صرف بیرونی ضمانتوں سے نہیں بلکہ ایسی داخلی طاقت سے پیدا ہوتی ہے جو بحران کے وقت خود فعال ہوسکے۔
سلامتی درآمد نہیں کی جاتی
حالیہ جنگوں اور علاقائی بحرانوں نے ایک بنیادی حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ کسی ملک کی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کے سہارے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ دفاعی معاہدے اور بین الاقوامی شراکت داری معاون ثابت ہوسکتی ہے، لیکن کسی بھی ملک کی بنیادی دفاعی طاقت اس کی اپنی صلاحیتوں، انسانی وسائل اور قومی ارادے سے تشکیل پاتی ہے۔
اسی لیے موجودہ غیر یقینی علاقائی صورتحال میں بنیادی سبق یہ کیا جاسکتا ہے کہ قومی سلامتی کو صرف بیرونی وعدوں سے وابستہ کرنے کے بجائے مقامی دفاعی اور انسانی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے۔ الغرض سلامتی درآمد نہیں کی جاتی، بلکہ اسے اپنی طاقت اور صلاحیت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔
ایران دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، ہمارا جوہری پروگرام پرامن ہے، کمالوندی
ایران کے جوہری توانائی ادارے کے ترجمان اور بین الاقوامی، قانونی و پارلیمانی امور کے نائب سربراہ بہروز کمالوندی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 70ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے دباؤ کے باعث میزبان ملک نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے میزبان معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی وفد کے سربراہ کی شرکت میں سہولت فراہم کرنے سے گریز کیا اور ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ اور نائب صدر محمد اسلامی کو بھی اس اہم اجلاس میں شرکت سے روک دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ کا معاندانہ اور غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ گزشتہ نصف صدی سے ایرانی قوم کے خلاف دشمنانہ اقدامات کی طویل تاریخ رکھتا ہے، جن میں بغاوت، دہشت گردی، اشتعال انگیزی، صدام حکومت کی حمایت اور بالآخر براہ راست جنگ شامل ہیں، تاہم ایران ہر بار ان حالات سے نکلنے میں کامیاب رہا ہے۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران ایک مہذب ملک ہے جس کو اپنی تاریخ اور سائنس دانوں پر فخر ہے۔ ایران میں جوہری علوم و ٹیکنالوجی کی تاریخ 80 سال پرانی ہے جبکہ ایرانی جوہری توانائی تنظیم 52 سال سے سرگرم ہے۔ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے ابتدائی رکن ممالک میں شامل ہے اور ہمیشہ اس معاہدے کی پابندی اور شفافیت کے ساتھ عمل کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے 25 سال سے زیادہ عرصے تک جوہری معاملے پر دباؤ اور پابندیاں برداشت کیں اور جوہری معاہدے سمیت مختلف مذاکرات اور معاہدوں کی پابندی کی۔ ان کے مطابق امریکہ نے مشترکہ جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی جبکہ ایران نے اس کے باوجود تقریباً ساڑھے پانچ سال تک یکطرفہ طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ اس بات کی تصدیق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل کی مسلسل 15 رپورٹس سے ہوتی ہے جن میں ایران کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری کی تصدیق کی گئی تھی۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران کی اس حسن نیت کے جواب میں اس پر یکطرفہ اور بقول امریکی حکام تباہ کن پابندیاں عائد کی گئیں۔ یورپی ممالک نے بھی امریکہ کی پیروی کی تاہم ایران نے اس کے جواب میں اپنے اقدامات کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2022 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے مذاکرات شروع ہوئے اور جب معاہدہ قریب نظر آ رہا تھا تو امریکہ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ موجودہ امریکی حکومت کے دور میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور فریقین نے تکنیکی امور کو ایٹمی توانائی ایجنسی کے مرکز میں زیر بحث لانے پر اتفاق کیا تھا کہ اسی دوران اسرائیل نے ایران پر فوجی حملہ کردیا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک بار پھر جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق امریکہ نے کھلے عام اعلان کیا کہ فوجی حملے کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنا اور ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کے ان بیانات کا بھی حوالہ دیا جن میں پلوں اور بجلی گھروں کی تباہی، تہذیب کے خاتمے اور ایران کو عصر حجر میں واپس لے جانے کی بات کی گئی تھی۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران کے جوہری معاملے میں ایک مقدمہ غلط رپورٹس، مخالف گروہوں اور جاسوسی اداروں کے تعاون سے تیار کیا گیا، جس کے ذریعے ایران پر شدید دباؤ، وسیع پابندیاں، سائنس دانوں کے قتل اور صنعتی تخریب کاری کا ماحول پیدا کیا گیا اور بالآخر دو جنگوں کی راہ ہموار ہوئی۔
انہوں نے ایٹمی توانائی ایجنسی سے سوال کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے بار بار اور مسلسل معائنے کے باوجود کیا ایجنسی کے معائنہ کاروں نے کبھی ایران کے جوہری پروگرام میں انحراف کی کوئی رپورٹ پیش کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے ایران کے خلاف سیاسی اور اشتعال انگیز بیانات کس بنیاد پر ہیں؟
کمالوندی نے ایجنسی کے دوہرے معیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 1981 میں عراق کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کی مذمت کی گئی تھی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر اس سے کہیں بڑے حملے کی مذمت کیوں نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان وسیع تعاون اور ایران میں ہونے والے معائنے کسی دوسرے ملک سے موازنہ نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق ایجنسی کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کی واضح اور شدید مذمت کرنی چاہیے۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران مسلسل جنگی اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کرتا رہا ہے، اس لیے اہم تنصیبات کو دشمن کے فوجی حملوں سے محفوظ بنانا ایک فطری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تنصیبات کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا خفیہ کاری قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ایران کی حساس جوہری تنصیبات زیر زمین ہونے کے باوجود ہمیشہ ایجنسی کے معائنے میں رہی ہیں اور وہاں ایجنسی کے معائنہ کار موجود رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کا پرامن جوہری پروگرام مکمل طور پر شفاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ملکی پروگرام فریم ورک چار سال سے زیادہ عرصے سے ایٹمی توانائی ایجنسی کو فراہم کیا جا چکا ہے، تاہم مسلسل پیروی کے باوجود ایجنسی کی جانب سے اس کا جواب نہیں دیا گیا۔
کمالوندی نے کہا کہ ایران ہمیشہ امن اور قانون کے راستے پر چلا ہے۔ امریکہ نے جوہری معاہدہ ختم کیا اور اسلام آباد معاہدے کے معاملے میں بھی امریکہ کی عدم پاسداری کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی سے پہلے بھی ایران نے مختلف یورپی ممالک کے ساتھ جوہری صنعت کے شعبے میں معاہدے کیے تھے، لیکن ان ممالک نے بھی اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تلخ تجربات سے ایران اس نتیجے پر پہنچا کہ صرف بیرونی تعاون اور ضمانتوں پر انحصار اس کی اسٹریٹجک ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ایران نے اپنے جائز حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن ضروریات پوری کرنے، بیرونی انحصار کم کرنے اور جوہری سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مقامی صلاحیتوں اور ایندھن کے مکمل چکر کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔
کمالوندی نے کہا کہ صنعتی اور علمی مراکز پر حملے ایران کو نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں علم، ٹیکنالوجی، جوہری سائنس اور صنعت کی جڑیں گہری ہیں اور انہیں فوجی کارروائی، تخریب کاری یا دہشت گردی کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کانفرنس میں ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کی بعض کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بوشہر کے ایک ہزار میگاواٹ جوہری بجلی گھر نے 2023 سے 2025 کے دوران جوہری بجلی گھروں کی عالمی انجمن کے ماسکو دفتر کے کارکردگی کے اشاریوں کے مطابق 100 میں سے 100 پوائنٹس حاصل کیے اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں جوہری بجلی کی پیداوار سے 80 ارب کلوواٹ گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں 13 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل کے برابر بچت ہوئی اور 8 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے مادوں کے اخراج کو روکا گیا۔
انہوں نے جوہری طب کے شعبے میں ایران کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 76 سے زیادہ تشخیصی، تسکینی اور علاجی ریڈیو ادویات تیار کی جا رہی ہیں، جو ملک بھر کے 230 طبی مراکز اور اسپتالوں کو فراہم کی جاتی ہیں اور 15 لاکھ سے زیادہ مریض ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔
کمالوندی نے صنعتی شعبے میں ریڈیومیٹرک اور کنٹرول آلات کی تیاری، تابکاری مراکز کی ترقی، زرعی اور غذائی مصنوعات کی جراثیم کشی، طبی آلات کی اسٹرلائزیشن اور سرد پلازما ٹیکنالوجی کے طبی، زرعی، ماحولیاتی اور صنعتی استعمال کو بھی ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کی کامیابیوں میں شمار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے قومی جوہری حفاظتی نظام کے مراکز ہر سال 20 ہزار سے زیادہ حفاظتی اور حفاظتی معائنے انجام دیتے ہیں اور تقریباً 11 ہزار صنعتی و طبی جوہری مراکز اور 60 ہزار کے قریب تابکاری سے متعلق کارکنوں کی حفاظت کی نگرانی کرتے ہیں۔
آخر میں بہروز کمالوندی نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی آزادی اور عزت کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ یہ قوم طاقت کے زور پر دباؤ ڈالنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور اپنے جائز حقوق کے حصول تک اپنا راستہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے اس نعرے کو دہرایا کہ جوہری توانائی سب کے لیے، جوہری ہتھیار کسی کے لیے نہیں۔
ایران کے میزائل حملے کو روکنے کے لیے امریکہ نے 80 سے زائد میزائل داغے، امریکی اخبار کا انکشاف
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی اور خطے کے بعض ممالک کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے ایک حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے 60 سے 70 پیٹریاٹ میزائل اور 12 سے زائد تھاڈ میزائل داغے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر اپنے مہلک حملے کے دوران صرف 20 بیلسٹک میزائل فائر کیے، تاہم امریکہ کو اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے 80 سے زائد میزائل داغنا پڑے۔ اس کے باوجود ایرانی میزائل امریکی اڈے تک پہنچنے اور اسے نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایران کے حملے کو روکنے کے لیے امریکہ کو اتنے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑے جتنے عام طور پر جنگ کے دوران ایک ہفتے میں استعمال ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے مختلف میزائلوں، مختلف راستوں، وار ہیڈز اور میزائلوں کی چالوں کے ذریعے اپنے حملوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے امریکی دفاعی نظام کی مختلف تہیں الجھن کا شکار ہوئی ہیں۔
اخبار نے مزید کہا کہ ایران اس حملے کے دوران اردن کے موفق السلطہ ائیر بیس پر موجود جنگی طیاروں اور دیگر طیاروں کو بھی نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔
یہ تفصیلات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی حکام نے پہلے دعوی کیا تھا کہ مذکورہ اڈے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یمنی انصاراللہ نے سعودی عرب پر حملے کیوں کئے؟؟
ایران امریکہ جنگ کے بعد اس وقت یمن اور سعودی تنازعے نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یمن کے حوثیوں کی تنظیم "انصاراللہ" تیزی سے یمن علاقوں کیساتھ ساتھ سعودی جزیروں اور علاقوں پر بھی اپنا کنٹرول قائم کرتی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انصاراللہ نے سعودی عرب کے ایئربیسز سمیت اہم سرحدی شہروں کو نشانہ بنایا ہے، جہاں بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ انصاراللہ نے سعودی عرب کے علاقے خمیس مشیط میں ایئربیس کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یمن کے حوثیوں کو اچانک کیا ہوا کہ سعودی عرب پر چڑھ دوڑے ہیں؟ اور ان کے حملے اتنے شدید ہیں کہ سعودی عرب کو امریکہ سمیت بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل سے بھی مدد مانگنی پڑ گئی، لیکن امریکی صدر نے صرف انٹیلی جنس معلومات کا لالی پاپ دے کر عملی مدد سے صاف انکار کر دیا ہے۔ البتہ محمد بن سلمان کو خوش رکھنے کیلئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو ریاض بھیج دیا کہ وہ محمد بن سلمان سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیں کہ ہم ایران جنگ میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں مزید کوئی محاذ کھولنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
سعودی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان اور ایڈمرل بریڈ کوپر کی جدہ میں ہونے والی ملاقات میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر تفصلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ لیکن سعودی عرب کی مدد سے انہوں نے بھی ٹرمپ کی طرح صاف انکار کیا۔ اب سعودی عرب پریشان ہے کہ یمنی حملوں سے کیسے بچے۔ انصار اللہ نے سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد یہ حملے شروع کئے ہیں۔ جنگ بندی کی یہ خلاف ورزی خود سعودی عرب نے کرکے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ معاملہ یہاں سے بگڑا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ شہید کی تشییع اور تدفین کی تقریبات کے دوران ایک ایرانی طیارہ جو شہید رہبر کے الوداعی مراسم میں شرکت کرنیوالے یمنی رہنماؤں کو لے کر جا رہا تھا، تہران سے صنعا ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ دس سال سے زائد عرصے سے کسی بھی طیارے کو یمن کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں تھی اور سعودیوں نے انصاراللہ کے زیرِ قبضہ فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کر رکھا تھا۔ لیکن ایران نے فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ طیارہ یمن میں اترے گا، چنانچہ اعلانیہ طور پر اور ٹریکنگ ڈیوائس آن رکھ کر صنعا ایئرپورٹ کو اپنی منزل کے طور پر ظاہر کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ 30 ہزار سے زائد افراد فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ پر اس پرواز کو براہِ راست دیکھ رہے تھے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس دو طرفہ مقابلے میں کون کامیاب ہوگا۔ جیسے ہی مسافر طیارہ صنعا کے قریب پہنچا، سعودیوں نے ایک ایسی ناقابلِ تلافی حماقت کر ڈالی کہ انہوں نے ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کر دی۔ ایرانی طیارہ الحدیدہ ایئرپورٹ پر اُترا اور اس کے مسافروں کو بحفاظت اتار دیا، لیکن یمنی حکام کے پہلے ہی بیان کے بعد سعودی عرب کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی حماقت کی ہے، جس کی اب تلافی ممکن نہیں۔ سعودی عرب نے اپنے ہاتھوں سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی اور یمنیوں کو وہ ضروری جواز فراہم کر دیا تھا اور پھر وہی کچھ ہوا، جس کا آپ ان دنوں مشاہدہ کر رہے ہیں۔
یمنیوں کی جانب سے یہ جنگ اور حملے اس سعودی حماقت کا ردعمل ہیں۔ اب سعودی عرب پریشان ہے۔ تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔ اہم املاک کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حملوں کے خطرے کے پیش نظر تیل کی سپلائی لائن بھی متاثر ہوچکی ہے۔ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کی بیل ابھی منڈھے نہیں چڑھی، اس معاہدے کے بہت سے نقاط ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس کا فریم ورک، دفاع کا طریقہ کار اور دیگر امور ابھی بحث طلب ہیں۔ ایسی صورتحال میں ترکیہ اور پاکستان حملوں کی صرف مذمت تو کرسکتے ہیں، لیکن عملی طور پر میدان جنگ میں اترنے سے گریزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان ان اپنے دفاعی اتحادیوں سے کچھ کہنے کی بجائے دو بار امریکی صدر کو فون کرچکے ہیں اور امریکہ صدر پہلے ہی ایران کی جانب سے پٹائی کے بعد کافی سٹپٹائے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مدد کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب محمد بن سلمان نے سعودی حکام کیساتھ سر جوڑ لیا ہے اور یہ سوچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے بچا کیسے جائے۔ سعودی عرب نے عمان میں ایران عمان مذاکرات کے حتمی دور اور معاہدے کے اعلان کو بھی فی الحال ملتوی کرنے کی درخواست کی، جس پر یہ اجلاس وقتی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ آج عمان میں ہونے والا اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر ملتوی کیا گیا۔ ایران اور خلیج فارس کے سات ممالک کے وزرائے خارجہ کو عمان کے شہر صلالہ میں جمع ہونا تھا، جہاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا جانا تھا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ ایک موقع تھا، جو ایران اور عمان نے فراہم کیا تھا اور توقع تھی کہ خطے کے ممالک اس موقع کی اہمیت کو سمجھیں گے اور اس کی قدر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام جائز تحفظات کے باوجود یہ ایک مناسب موقع تھا کہ یہ ممالک بیرونی فریقوں کی مداخلت سے دور رہتے ہوئے آپس میں بات چیت کرتے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی بھی ذمہ دار فریق یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ کسی بھی وجہ سے، خواہ خطے سے باہر کے فریقوں کے اثر و رسوخ کے باعث یا ایسے بہانوں کی بنا پر جن کا ایران سے واقعی کوئی تعلق نہیں، اس اجلاس کا انعقاد نہ کیا جائے۔ اس اجلاس کے انعقاد کے لیے تاحال کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اجلاس کی منسوخی کا اعلان عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کیا تھا۔ اب بعض مبصرین کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب ایران سے ہی درخواست کرے گا کہ یمن کے حوثی سعودی سرزمین پر حملے روک دیں۔ اس کیلئے سعودی حکام کے مشاورتی اجلاس جاری ہیں، جس کے بعد اہم فیصلے کی توقع ہے۔
تحریر: تصور حسین شہزاد
الگایا سپر ٹینکرآبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرا کرتباہ ہوگیا
سپاہ نیوی نے اعلان کیا ہے کہ الگایا سپر ٹینکر نے جس کا نیویگیشن نمبر 9325336 ہے، آبنائے ہرمز کے ممنوعہ جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کی لیکن بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا
اس رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد اس سپر ٹینکر میں آگ لگ گئی جس کو بجھانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں اور آگ کے شعلوں نے پورے سپرٹینکر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سپاہ نیوی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ الگایا سپر ٹینکر کوخبردار کیا گیا تھا کہ غیر قانونی راستہ خطرناک ہے۔
سپاہ نیوی نے اسی کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔
خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو انتباہ
سپاہ کے خلیج فارس کنٹرول سیکشن، پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ http://www.pgsa.ir/non-compliance-list پر خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والے بحری جہازوں کی فہرست اپڈیٹ کردی گئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سپاہ کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے یہ اعلان سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں کیا ہے۔
اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ پی اور آئی( P&I) بیمہ کمپنیوں اوراسی طرح رینکنگ طے کرنے والے اداروں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ مذکورہ بحری جہازوں سے رابطہ رکھنے کے نقصانات سے بچنے کے لئے انھیں خدمات فراہم کرنے سے پرہیز کیا جائے۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
