سلیمانی
ایران ہر ممکن جنگی منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے, آئی آر جی سی جنرل
سپاہ پاسداران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ملک کی مختلف شعبوں میں تیاریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین سطح کی جنگی تیاری بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سب سے زیادہ فوجی میدان پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے دفاعی اور عسکری تیاریوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اگر دشمن فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو کارروائیوں کی نوعیت، جنگ کا جغرافیہ اور استعمال ہونے والے ہتھیار ماضی سے مختلف ہوں گے، جبکہ پاسداران انقلاب تمام ممکنہ حالات اور منظرناموں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی مسلح افواج کی جنگی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت نہ صرف ماضی کی عسکری طاقت کا تسلسل ہے بلکہ میدان جنگ اور دشمن کے ساتھ براہ راست مقابلوں سے حاصل ہونے والے تجربات کا نتیجہ بھی ہے۔
آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ آج ایران کو دشمن کی عسکری صلاحیتوں، حملہ آور اور دفاعی سازوسامان، جنگی حکمت عملیوں اور آپریشنل طریقہ کار کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ جامع معلومات حاصل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عرصے میں ایران کی جنگی صلاحیت میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ ان کے بقول بعض دعوؤں کے برعکس نہ تو ایرانی بحری قوت تباہ ہوئی ہے اور نہ ہی ملک کی عملیاتی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے زمینی، بحری اور فضائی سطح پر اپنی وسیع عسکری طاقت استعمال کرنے کے باوجود چند منٹوں کے لیے بھی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے نہیں چھینا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی مرضی کی صورتحال پیدا کرنے کے لیے بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں آیا تھا، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ترجمان نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے دوران بھی امریکہ اپنی وسیع فوجی صلاحیتوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو متاثر نہیں کر سکا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری مکمل طور پر برقرار ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول پاسداران انقلاب کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کی علامت ہے۔
بیروت پر حملہ، ایران کے انتباہ کے بعد نتن یاہو کی عقب نشینی، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: مغربی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں بعض اوقات ایک مختصر واقعہ بھی بڑے حقائق کو آشکار کر دیتا ہے۔ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر وسیع اسرائیلی حملے کی دھمکی اور پھر ایران کی جانب سے سخت انتباہات کے بعد اس منصوبے کا اچانک رک جانا بھی ایسے ہی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے جنگ پسند عناصر طاقت اور ممکنہ نقصانات کی زبان کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
گذشتہ روز صہیونی حکومت نے لبنان کے خلاف اپنی دھمکیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے ضاحیہ جنوبی بیروت کے بعض علاقوں کے مکینوں کو گھروں سے نکل جانے کی ہدایات جاری کیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ اسرائیلی فوج ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔ ان حالات میں خطہ ایک نئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے دہانے پر پہنچتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم جب ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اچانک صورتحال تبدیل ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد حملے کے منصوبے کو روکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس پیش رفت نے ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آخر چند گھنٹوں کے اندر ایسا کیا ہوا جس نے اتنے اہم فوجی فیصلے کا رخ بدل دیا؟
ایران کا بروقت ردعمل اور دشمن کی عقب نشینی
اس تبدیلی کے پس منظر میں ایران کی جانب سے بھیجے گئے واضح اور دوٹوک پیغامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تہران نے واضح کیا کہ موجودہ جنگ بندی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ اسی دوران ایسے انتباہات بھی سامنے آئے جن سے یہ تاثر ملا کہ لبنان کے خلاف کسی نئی جارحیت کی صورت میں ردعمل محدود نہیں رہے گا اور اس کے اثرات تل ابیب کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے فیصلے اخلاقی اصولوں، انسانی ہمدردی یا بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر نہیں بلکہ لاگت اور فائدے کے حساب سے کرتے ہیں۔ جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سامنے والے فریق میں جواب دینے کی صلاحیت یا ارادہ موجود نہیں تو وہ جارحانہ اقدامات اختیار کرتے ہیں، لیکن جب ممکنہ نقصانات اور سخت ردعمل کا خدشہ بڑھ جاتا ہے تو وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
بیروت کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے صرف سفارتی بیانات کافی نہیں بلکہ مؤثر ڈیٹرنس اور طاقت کا توازن بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دفاعی طاقت ہی اصل ڈیٹرنس
خطے کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی حقیقت بار بار سامنے آتی ہے۔ لبنان سے غزہ تک، شام سے عراق تک، جب بھی طاقت کا خلا پیدا ہوا یا ڈیٹرنس کمزور پڑی، امریکہ اور اسرائیل کی جنگی مشین زیادہ سرگرم ہوئی۔ لیکن جب بھی انہیں مؤثر مزاحمت، جواب دینے کی صلاحیت اور مقابلے کے پختہ عزم کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اپنی حکمت عملی اور حساب کتاب تبدیل کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ کو روکنے والی چیز سفارتی وعدے نہیں بلکہ جنگ کی بھاری قیمت کا خوف ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ طرزعمل کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ صدر جو بارہا طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی کا ذکر کرچکے ہیں، درحقیقت دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں طاقت کی منطق پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی معاملات میں انہوں نے متعدد بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مذاکرات کو باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے ایک آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ صرف اسی وقت کشیدگی میں اضافہ کرنے سے گریز کرتے ہیں جب ان کے سامنے کوئی مؤثر قوت موجود ہو۔
اسی طرح بنیامین نیتن یاہو نے بھی گزشتہ برسوں میں کئی مرتبہ بیرونی بحرانوں کو اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ اور عدم استحکام عوامی توجہ کو سیاسی، سکیورٹی اور سماجی بحرانوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم وہ بھی اس وقت پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جب انہیں یہ محسوس ہو کہ تنازع کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتی ہے۔
سفارت کاری اور دفاعی طاقت کا تعلق
بیروت پر ممکنہ حملے کے رک جانے کو صرف سفارتی رابطوں یا ثالثی کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سفارت کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے طاقت کی ضمانت موجود ہو۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ طاقت کے بغیر مذاکرات بے بنیاد وعدوں پر ختم ہوتے ہیں اور فریق مقابل کو مزید دباؤ ڈالنے اور اپنی خواہشات بڑھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ حالیہ واقعے میں اصل مؤثر عنصر یہ تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر وہ اپنی موجودہ راہ پر آگے بڑھتے رہے تو انہیں ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہوں۔
یہ واقعہ لبنان کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ لبنانی حکومت نے گزشتہ برسوں میں متعدد بار سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوشش کی ہے، لیکن تجربہ یہ بتاتا ہے کہ قومی سلامتی کو صرف بیرونی وعدوں کے سہارے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ بڑی طاقتیں اسی وقت ممالک کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات اس کا تقاضا کریں، اور جب مفادات کا رخ بدل جائے تو وہ کھلی جارحیت اور واضح خلاف ورزیوں کو بھی نظر انداز کردیتی ہیں۔
لہٰذا لبنان کی سلامتی کی ضمانت نہ بین الاقوامی بیانات دے سکتے ہیں اور نہ ہی بیرونی طاقتوں کی یقین دہانیاں، بلکہ اس کے لیے ایک مؤثر ڈیٹرنس کا قیام اور اس کا تحفظ ضروری ہے۔ ایسا توازن جس میں دشمن اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ جارحیت کی قیمت اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف اسی صورت میں جنگ کے امکانات کم ہوتے ہیں اور پائیدار استحکام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
حاصل سخن
جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ کا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ مغربی ایشیا کے پرآشوب ماحول میں طاقت اب بھی وہ سب سے اہم عنصر ہے جو مختلف فریقوں کے رویوں کا تعین کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کا ایسے حملے سے پیچھے ہٹ جانا جو عملی نفاذ کے قریب پہنچ چکا تھا، ان کے امن اور استحکام سے متعلق نظریات میں کسی اچانک تبدیلی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ فوجی کارروائی کی ممکنہ قیمت اور نتائج کے بارے میں ان کے اندازوں میں آنے والی تبدیلی کا مظہر تھا۔
اس واقعے کا بنیادی سبق بالکل واضح ہے۔ ایسے فریقوں کے مقابلے میں جن کی تاریخ جنگوں، قبضہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہو، صرف حسن نیت پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوتا۔ جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کا توازن قائم رکھا جائے، عزم و ارادے کا مظاہرہ کیا جائے اور دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے۔ بیروت کے تجربے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جب جارحیت کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو انتہائی سخت گیر اور جنگ پسند سیاست دان بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ بالآخر وہ ہر زبان سے زیادہ طاقت کی زبان کو سمجھتے ہیں
ایرانی فضائی حدود میں ایک اور امریکی MQ-1 ڈرون تباہ
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے امریکی MQ-1 ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
سپاہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج سے تعلق رکھنے والا یہ ڈرون ایرانی علاقائی پانیوں کے اوپر فضائی حدود میں داخل ہوکر مخاصمانہ سرگرمی انجام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ ڈرون کی نشاندہی ہوتے ہی سپاہ کے فضائی دفاعی نظام نے اس کی مسلسل نگرانی کی اور جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے اسے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
سپاہ کے فضائی دفاعی یونٹ نے خبردار کیا کہ ایران کی فضائی حدود، خصوصاً علاقائی سمندری حدود کے اوپر کا فضائی علاقہ، مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے اور کسی بھی قسم کی دراندازی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ MQ-1 پریڈیٹر ایک بغیر پائلٹ کے چلنے والا امریکی فوجی ڈرون ہے جو عموماً نگرانی، جاسوسی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ محدود حملے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوبارہ جارحیت کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے ہوگا، ایرانی کمانڈر کی سخت وارننگ
ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیشن کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے ایران کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے ایران کے خلاف نئی جارحیت کی کوشش کی تو اسے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسلامی جمہوری ایران کی فوج پوری استقامت اور عزم کے ساتھ دشمن کی ہر مخاصمانہ کارروائی کے مقابلے کے لیے کھڑی ہے اور ملک کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایڈمرل سیاری کے مطابق ایرانی فوج کی تمام شاخیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ دفاعی نظاموں اور جدید عسکری سازوسامان سے لیس ہیں، جس سے ملکی دفاع کا نظام مزید مضبوط ہوا ہے۔
امریکہ یاد رکھے، وقت اب پلٹنے والا نہیں / مشرکین سے اعلانِ برائت، صرف حج تک محدود نہیں
رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے حجِ بیت اللہ کی مناسبت پر اپنے ایک پیغام میں فرمایا کہ حج کے پُر رمز اعمال اور اذکار انسانیت کے لیے ہمیشہ رہنے والی ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب ہجرت، شیطان اور اس کے پیروکاروں کی غلامی سے نجات، احکامِ الٰہی پر مسلسل عمل، نفسانی خواہشات سے آزادی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہیں۔
یورپ میں خواتین کے خلاف ہراسمنٹ میں اضافہ
ایکنا کے مطابق، ابنا العربیہ کے حوالے سے شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ ’’یورپ میں اسلاموفوبیا 2025‘‘، جو برسلز میں قائم یورپی انسدادِ اسلاموفوبیا گروپ (CCIE) نے جاری کی ہے، یورپی ممالک میں مسلمانوں کی صورتِ حال کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت اب صرف سڑکوں پر ہونے والے حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ میں سیاسی، میڈیا اور سکیورٹی ڈھانچوں کا ایک مستقل حصہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ رپورٹ متاثرین کی شکایات، میڈیا مانیٹرنگ اور برطانیہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور ڈنمارک سمیت 11 یورپی ممالک کے جامعاتی اداروں کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسلاموفوبیا اب یورپ میں ایک ’’معمول‘‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 2025 میں اسلاموفوبیا کے 876 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں امتیازی سلوک، نفرت انگیزی، بہتان تراشی، توہین اور جسمانی حملے شامل ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق مسلمان خواتین مجموعی متاثرین کا 80 فیصد ہیں، جبکہ امتیازی سلوک کے ایک بڑے حصے کا تعلق براہِ راست حجاب سے ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقت کا صرف ’’ایک چھوٹا حصہ‘‘ ہیں، کیونکہ یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی کے اندازے کے مطابق اسلاموفوبیا کے صرف چھ فیصد واقعات ہی رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کا سرکاری اداروں پر عدم اعتماد اور معاشرے میں اسلام مخالف فضا کا معمول بن جانا بتایا گیا ہے۔/
عالم اسلام کی بے حسی اسرائیلی جارحیت کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کر رہی ہے: بدرالدین الحوثی
تہران (IRNA) انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ ملت اسلامیہ فلسطینی عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے جتنی زیادہ غفلت برتے گی، صیہونی حکومت کو اپنی جارحیت کے دائرہ وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔
ارنا کے مطابق انہوں نے فلسطینی عوام اور لبنانی مزاحمت کی حمایت پر زور دیا کہا فلسطینی عوام کے مصائب اور ظلم ملت اسلامیہ کے جسم پر گہرا زخم ہے۔
الحوثی نے مزید کہا کہ صیہونیوں نے " گریٹر اسرائیل" اور "مشرق وسطی" کو تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت پورے خطے کو اپنے جارحانہ اقدامات کا نشانہ بنا رکھا ہے۔
انصار اللہ یمن کے سربراہ نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ فلسطینی عوام، فلسطینی مزاحمت اور حزب اللہ لبنان کو ہر قسم کی مدد فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف اسلامی بھائی چارے کو مضبوط کرنے اور صیہونیوں کا مقابلہ میں اسلامی اقوام کے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہے۔
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ یمنی عوام غزہ کے عوام کے مصائب و آلام لاتعلق نہیں ہیں اور اسے حوالے سے اپنی مقدس ذمہ دارایاں پوری کر رہے ہیں۔
ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ کھلی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی دہشت گرد فوج نے 8 اپریل 2026 سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اپنے غیر قانونی اور بلاجواز اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جن میں ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف متعدد بحری کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران امریکا نے صوبہ ہرمزگان کے علاقے میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان جارحانہ اقدامات کا ارتکاب ایسے وقت میں کیا گیا جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے، جس سے ایک بار پھر امریکی حکمرانوں کی بدنیتی اور وعدہ خلافی ایران، خطے کے عوام اور عالمی برادری پر واضح ہوگئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس صورتحال نے ثابت کردیا ہے کہ میدان، عوامی سطح اور سفارتی محاذ پر امریکی حکومت کے حوالے سے ایرانی قوم کا گہرا عدم اعتماد مکمل طور پر منطقی اور امریکا کی دشمنانہ و مجرمانہ پالیسیوں کے درست ادراک پر مبنی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 اور 8 اپریل کی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ان جارحانہ اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی شرانگیزی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گا اور ایران کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
انسانی حیات کی معنویت، ایثار اور قربانی کا فلسفہ
مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک؛ قربانی انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور گہرے مذہبی شعائر میں سے ایک ہے، جو تقریباً تمام الہامی ادیان اور ابتدائی تہذیبوں میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ لفظ “قربانی” اپنی اصل میں “قرب حاصل کرنے” کے معنی رکھتا ہے، اور یہی اس عمل کی روح اور مقصد کو واضح کرتا ہے؛ یعنی انسان کی جانب سے عالمِ قدس اور خداوندِ متعال سے نزدیک ہونے کی کوشش۔ ایک فکری اور معنوی زاویے سے دیکھا جائے تو قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان ایک روحانی رابطہ اور مادی وابستگیوں سے روح کی تطہیر کا علامتی اظہار ہے۔
اسلام سے پہلے ادیان میں قربانی کا تصور
یہودی مذہب میں قربانی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت سلیمانؑ کے معبد میں مختلف اقسام کی قربانیاں پیش کی جاتی تھیں، جن میں گناہوں کے کفارے، شکرگزاری اور عبادت کی قربانیاں شامل تھیں۔ ان کا بنیادی مقصد انسان کی خطاؤں کا ازالہ اور خدا سے عہد کی تجدید تھا۔
بعد ازاں عیسائیت میں قربانی کا مفہوم مزید روحانی اور علامتی صورت اختیار کر گیا۔ مسیحی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جان قربان کر کے انسانیت کے لیے آخری اور کامل قربانی پیش کی اور یہی تصور عیسائی الٰہیات کا مرکزی نکتہ بن گیا۔
اسلام میں قربانی کا فلسفہ
اسلام میں قربانی کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ کے عظیم امتحان سے جڑی ہوئی ہے؛ وہ لمحہ جب ایک انسان نے اپنی سب سے عزیز متاع کو خدا کے حکم پر قربان کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ اسلام میں قربانی دراصل اسی روحِ تسلیم و رضا کی علامت ہے۔
قرآنِ کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ کو نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک انسان کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہی آیت قربانی کے حقیقی فلسفے کو آشکار کرتی ہے: اصل مقصد جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ نفسِ امّارہ، خواہشات اور دنیاوی وابستگیوں کو قربان کرنا ہے۔
قربانی کے سماجی اور اخلاقی پہلو
اسلام میں قربانی صرف ایک انفرادی عبادت نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی اور معاشرتی پہلو بھی ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر گوشت کو مستحقین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا معاشرتی ہم آہنگی، اخوت اور عدلِ اجتماعی کی علامت ہے۔ یہ عمل انسان کو سکھاتا ہے کہ اس کا مال و دولت صرف ذاتی ملکیت نہیں بلکہ خدا کی امانت ہے، جسے مخلوق کی خدمت میں استعمال ہونا چاہیے۔
اخلاقی اعتبار سے قربانی “ایثار” اور “قربانیِ نفس” کی مشق ہے۔ انسان جب اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے تو دراصل وہ بخل، حرص اور خود غرضی جیسے منفی اوصاف کو اپنے اندر سے ختم کرتا ہے۔
قربانی اور ایثار کا باہمی تعلق
اسلامی فکر میں قربانی کو ایثار کی اعلیٰ ترین شکل قرار دیا گیا ہے۔ روزمرہ زندگی کی چھوٹی قربانیاں انسان کو بڑے امتحانات کے لیے تیار کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بلند ترین مثال امام حسینؑ کی عظیم قربانی ہے، جہاں انہوں نے دینِ حق اور عدل کے تحفظ کے لیے اپنی جان اور اپنے اہلِ بیت کو قربان کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ قربانی اسلام میں محض ایک رسم نہیں بلکہ ایک فکری مکتب بن چکی ہے، جس کا پیغام یہ ہے کہ انسان کے لیے خدا، حق اور حقیقت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
عرفانی نقطۂ نظر
مسلمان عرفاء قربانی کی حقیقت کو “فنا فی اللہ” سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قربانی کا جانور دراصل انسان کی حیوانی خواہشات اور نفسانی صفات کی علامت ہے۔ جانور کی رگیں کاٹنا دراصل نفس، دنیا پرستی، شیطانی وسوسوں اور غیر اللہ کی وابستگیوں کو ختم کرنے کی علامتی تصویر ہے۔
اس نگاہ میں قربانی ایک ظاہری عمل سے بڑھ کر باطنی سلوک اور روحانی ارتقاء کا سفر بن جاتی ہے۔
عصرِ حاضر میں قربانی کا مفہوم
آج کی دنیا میں قربانی کا مفہوم صرف مذہبی رسم تک محدود نہیں، بلکہ اسے ذاتی مفادات کو اجتماعی بھلائی، انصاف اور اخلاقی اقدار کے لیے قربان کرنے کے تصور کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
الہامی ادیان قربانی کی سنت کو زندہ رکھ کر انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ معنوی زندگی ایثار، صبر اور قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ قربانی دراصل ایک ایسا اعلان ہے کہ انسان کے نزدیک خدا کی رضا، حق اور حقیقت ہر چیز سے بالاتر ہیں، خواہ اس کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔









































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
