سلیمانی
پختہ عزم، آہنی ارادے کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں: آرمی چیف
ارنا کے مطابق نیشنل آرمی ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں میجنرل امیر حاتمی نے کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج پختہ عزم، بیدار نگاہوں اور مضبوط ارادے کے ساتھ ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے اور دشمن کے ہر حملے یا دھمکی کا جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے آرمی ڈے کو اسلامی انقلاب کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بانی نے دور اندیشی کے ساتھ فوج کو ختم ہونے سے بچایا اور اسے ملک کی سلامتی کے مضبوط محافظ کے طور پر قائم رکھا۔
آرمی چیف نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ایرانی فوج نے ہمیشہ قوت، شجاعت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ زمینی، فضائی اور بحری سرحدوں کے دفاع، آٹھ سالہ دفاع مقدس اور مختلف محاذوں پر فوج کی کارکردگی قابلِ فخر رہی ہے اور دشمن کو ملک کی آزادی اور ارضی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
میجرجنرل امیر حاتمی نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں بھی فوج ملکی دفاع، جدید صلاحیتوں اور ہمہ وقت تیاری کے ساتھ قومی سلامتی کا دفاع اور ملت پر جان نچھاور کر رہی ہے۔
آخری سفارتی کوشش
ایران کے لیے یہ مذاکرات کسی امید کی کرن سے زیادہ ایک سفارتی ذمہ داری تھے، ایک ایسی روایت کا تسلسل جس کے ذریعے وہ خود کو ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ ماضی کے تجربات میں امریکہ کے وعدے کس طرح وقت کے ساتھ اور متعدد بار دورانِ مذاکرات تحلیل ہوتے رہے ہیں اور کس طرح ہر معاہدہ کسی نہ کسی مرحلے پر یکطرفہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ایران نے اس عمل میں شرکت کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اب بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ایک طرح کی پہلے سے حاصل شدہ اخلاقی برتری میں اضافہ کرنے کی کوشش تھی، تاکہ کل اگر حالات مزید کشیدہ ہوں تو ایران یہ کہہ سکے کہ اس نے ہر بار ہر ممکن حد تک امن کی راہ اختیار کی تھی۔ درحقیقت ایران کی یہ حکمت عملی دوہری تھی، ایک طرف عالمی برادری کو مطمئن کرنا اور دوسری طرف اپنے داخلی حلقوں کو یہ باور کرانا کہ ریاست نے کسی بھی ممکنہ راستے کو نظر انداز نہیں کیا۔ یوں ایران مذاکرات میں شریک ہو کر بھی دراصل اپنی آئندہ سخت پالیسیوں کے لیے اخلاقی بنیاد تیار کر رہا تھا۔
امریکہ کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہ تھا، بلکہ شاید زیادہ پیچیدہ تھا۔ ایک طرف وہ دنیا کے سامنے خود کو امن کا داعی ظاہر کرنا چاہتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس پر یہ الزام بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہے، اس کے اتحادی ساتھ چھوڑ چُکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک سمیت دُنیا بھر کے کئی ممالک آبنائے ہرمز پر ایرانی موقف کو سرکاری سطح پر مان چُکے ہیں۔ نیٹو کی حمایت میں بھی واضح کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اس کے اپنے ملک کے اندر ایک نئی بیداری جنم لے رہی ہے، جہاں عوامی سطح پر یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا اسرائیل کی جنگ امریکہ کو لڑنی چاہیے یا نہیں۔ ایسے ماحول میں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک موقع تھے کہ وہ عالمی اوربالخصوص داخلی دونوں سطحوں پر اپنے مؤقف کو تقویت دے سکے۔ وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ تو ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، مگر مسئلہ ایران کی پالیسیوں میں ہے۔ یوں یہ مذاکرات امریکہ کے لیے ایک سفارتی اقدام کم اور ایک بیانیہ مضبوط کرنے کا ذریعہ زیادہ تھے، تاکہ حسبِ سابق آنے والے کسی بھی سخت فیصلے کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا جا سکے کہ “ہم نے تو کوشش کی تھی”۔
پاکستان کے لیے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش تھے، جہاں اسے بیک وقت کئی محاذوں پر توازن قائم رکھنا تھا۔ ایک طرف اسے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کے ساتھ اپنے معاملات کو سنبھالنا ہے، دوسری طرف فارن ریزرو کی مسلسل کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ اس کی معیشت پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں ایران کے ساتھ تعلقات بھی ایک حساس معاملہ بن جاتے ہیں، کیونکہ ایک طرف جغرافیائی اور مذہبی قربت ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک کے ساتھ مالی اور دفاعی وابستگیاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں فوجی تعیناتی اور دفاعی تعاون میں اضافہ بھی اسی توازن کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے وہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تو کھڑا ہی ہے۔ مگر ایران سے بھی دشمنی نہیں رکھناچاہتا، پاکستان ایران کے سامنے کھل کر کہنا چاہتا تھا کہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش کریں تاکہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو سعودی معاہدات کی بنا پر ایران کے سامنے کھڑا نہ ہونا پڑے۔
پاکستان کی اپنی مجبوریاں تھیں، جیسے کہ یو اے ای کی جانب سے دہائیوں پر محیط ساڑھے تین بلین ڈالر قرض کی اپریل کے آخر تک ادائیگی۔ اسی تناظر میں تقریباً پانچ ارب ڈالر کی متوقع سعودی و قطری مالی امداد بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آتی ہے، جس کی شرائط تاحال واضح نہیں، یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ اس میں سعودیہ کی طرف سے کتنی امداد ہے اور قطر کی طرف سے کتنی امداد دی گئی۔ آئندہ دو ہفتوں میں یہ عقدہ کُھل سکتا ہے۔{سعودی عرب کا تو دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ ہے پاکستان کے ساتھ مگر قطر کیوں امداد دے رہا ہے، اس کی وجہ معاشی تعاون بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان قطر کا خلیجی اتحادی بِھی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان سے "ایل این جی" معاہدہ بھی رہا ہے۔ اسی لیے قطر پاکستان کو مستقل معاشی سہارا دینا چاہتا ہے تاکہ پاکستان علاقائی طورپر مستحکم رہے، اس کے علاوہ مستقبل قریب میں قطر کا بھی سعودی طرزپر پاکستان سے دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے}۔
مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آیا یہ واقعی امداد ہے یا ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری جس کے بدلے میں پاکستان سے مخصوص توقعات وابستہ ہوں گی۔ اپریل اور جون 2026 تک کی ادائیگیوں کے دباؤ کے پیشِ نظر یہ مالی سہارا پاکستان کے لیے وقتی ریلیف تو فراہم کر سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی جیوپولیٹیکل توقعات مستقبل میں اس کی پالیسیوں کو محدود بھی کر سکتی ہیں۔ مذاکرات کے عین وسط میں پاکستان نے گزشتہ سال کے دفاعی معاہدے کے تحت تیرہ ہزار فوجی اور درجن سے زائد سٹیلٹھ طیارے سعودی عرب میں تعینات کر دیئے ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ تعیناتی امریکہ کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ اب سعودی عرب سے مکمل طور پر جانا ہو گا۔ پاکستان اس وقت ایک ایسی کشتی میں سوار ہے جسے بیک وقت دو مختلف سمتوں میں چلانا پڑ رہا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی مجبوری بھی ہے اور مہارت بھی۔
آخرکار یہ حقیقت اب زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی کہ یہ تینوں ممالک اپنی اپنی آخری سفارتی کوشش کر چکے ہیں، اور اب اگلا مرحلہ الفاظ سے زیادہ اقدامات کا ہوگا۔ مذاکرات کی میز پر جو کچھ کہا گیا وہ شاید تاریخ کے صفحات میں ایک رسمی کوشش کے طور پر درج ہو، مگر اصل کہانی اب اس کے بعد شروع ہوگی جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق کھل کر فیصلے کرے گا۔ یہ وہ مرحلہ ہوگا جہاں بیانیے کی جنگ عملی حکمت عملی میں بدل جائے گی، جہاں سفارتکاری کی نرم زبان کی جگہ طاقت کی واضح زبان لے سکتی ہے۔ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے دفاع میں مزید سخت مؤقف اختیار کرے گا، امریکہ اپنے عالمی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائے گا، اور پاکستان کو اپنی بقا اور توازن کے درمیان ایک بار پھر باریک لکیر پر چلنا ہوگا۔ یوں یہ مذاکرات ایک اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے دور کا آغاز ہیں جہاں مفادات کی سیاست کھل کر سامنے آئے گی اور ہر فیصلہ اپنے ساتھ ایک نئی قیمت لے کر آئے گا۔
ڈرون طیاروں کی پیداوار میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے: ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف
تہران (IRNA) ایران کے ڈپٹی چيف آف آرمی اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے کہا ہے کہ ملک کی ڈرون صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آرمی ڈے کے موقع پر قومی ٹیلی ویژن سے بات چیت کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ڈرون طیاروں کی پیداوار 10 گنا زیادہ ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا ہمارے ڈرونز نے میدان جنگ میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے اور ہم جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہرآن تیار ہیں: کمانڈر خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے ارنا کی جمعرات کو رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطحی وفد کی ہمراہ ایران کا دورہ کرنے والے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج تہران میں خاتم الانبیا سینٹر ہیڈکوارٹر کے سربراہ میجر جنرل علی عبداللہی سے ملاقات اور گفتگو کی۔
اس ملاقات میں جو انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی، میجر جنرل عبداللہی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران پاکستانی حکومت اور عوام کے مؤقف کو سراہا اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی تزویراتی گہرائی قرار دیا۔
خاتم الانبیاء (ص) سینٹرل ہیڈکوارٹر کے سربراہ نےمسلط کردہ جنگ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے ایران کے عوام اور خاص طور سے مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کے غلط تخمیوں کی وجہ سے ایران پر جارحیت کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام کی جانب سے مسلح افواج کی حمایت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں پر آکے اپنی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔
میجر جنرل عبداللہی نے کہا کہ آج کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ایران کی مسلح دشمن کی ہر شرارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس جنگ میں جو بھی ہتھیار اور آلات استعمال کیے وہ ہمارے نوجوانوں نے مقامی ٹیکنالوجی سے کام لیتے ہوئے تیار کیے ہیں۔
ملاقات کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ کے خاتمے کے لیے انجام پانے والی کوششوں اور تہران ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک امن کی کوششیں جاری رکھے گا۔
امریکہ اسرائیل کا ساتواں صوبہ بن گیا ہے؛ ایرانی نائب صدر
تہران (IRNA) ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ "امریکہ فرسٹ" کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والے وائٹ ہاؤس کے کرایہ داروں نے اس ملک کو عملی طور پر اسرائیل کے ساتواں صوبہ بنا دیا ہے۔
جمعرات کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی عوام یقیناً اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کے ملک کو آزادی حاصل نہیں ہے۔
نائب صدر محمد رضا عارف نے واشنگٹن کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کے وقار اور آزادی پر فخر ہے، آج "امریکہ فرسٹ" کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والوں نے عملی طور پر اس ملک کو اسرائيل کے ساتویں صوبے میں تبدیل کر دیا ہے کہ اور یقینی طور پر امریکی عوام اس سے خوش نہیں ہیں کہ ان کا ملک اسرائیل کی کالونی بنا ہوا ہے۔
ایران کی کوششوں کے بعد لبنان میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی قوی امکانات
عرب چینل نے ایران کے ایک اعلی سیاسی و سیکورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران کے دباؤ کے نتیجے میں لبنان میں آج رات سے ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی نافذ ہوجائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ جنگ بندی لبنان میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
عرب میڈیا میں ایران کی کوششوں کو اس فیصلے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
امن ہو یا جنگ، ایران اور مقاومتی تنظیمیں ایک جان دو قالب ہیں، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا ہے کہ لبنان میں مکمل اور مستحکم جنگ بندی کا قیام حزب اللہ کی مضبوط مزاحمت اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ طے شدہ معاہدے پر عمل کرے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اور مقاومتی تنظیمیں ایک جان دو قالب ہیں۔ جنگ کا وقت ہو یا جنگ بندی کا، دونوں ہمیشہ متحد رہیں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو “پہلے اسرائیل” کی پالیسی سے دستبردار ہونا چاہیے۔
40 روز جنگ کے بعد امریکہ مذاکرات پر کیوں مجبور ہوا؟
ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس دن تک شدید جنگ کے بعد ٹرمپ تہران کے ساتھ دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر مجبور ہوا۔ یہ جنگ بندی کسی حسن نیت کا نتیجہ نہیں بلکہ 40 روزہ عسکری اور اقتصادی ناکامی کے بعد مغربی اور صہیونی اتحادیوں کو درپیش بحران کا عملی مظہر تھا۔
پاکستان کی فعال ثالثی اور اسلام آباد میں ایک طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد یہ جنگ بندی طے پائی۔ تاہم، سات دن گزرنے کے بعد اس جنگ بندی کی کمزوری اور غیر یقینی صورتحال نمایاں ہوگئی ہے: امریکہ نے ایران کے بندرگاہوں کے سمندری محاصرے کا اعلان کیا، اسلام آباد میں مذاکرات 21 گھنٹے کے بعد بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے اور پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنا ایران کے خلاف اپنے فوجی اور اقتصادی مقاصد میں ناکامی اور محدود صلاحیت کا واضح اعتراف تھا۔
ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکامی
چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران نے وعدہ صادق4 آپریشن کے تحت جدید حکمت عملی کے ساتھ میزائل اور ڈرون حملے کئے۔ بیک وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل خرمشہر، فتاح، خیبرشکن، حاج قاسم، سجیل، کروز میزائل اور ہزاروں خودکش ڈرونز شاہد-136، مهاجر-6 اور آرش فائر کیے گئے۔
ان میزائلوں اور ہزاروں ڈرون طیاروں سے اسرائیل، امریکی اڈوں اور امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے اہم اقتصادی مراکز، تیل کی تنصیبات، نواٹیم اور رامون کے ہوائی اڈے، امریکی کمانڈ مراکز اور بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہازوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا مقابلہ کرنے میں دشمن کے جدید دفاعی نظام آئرن ڈوم، ایرو، پیٹریاٹ اور ٹی اے ڈی جیسے کافی حد تک ناکام رہے، جس سے مغرب کی ناقابل شکست ٹیکنالوجی برتری کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ کے روزانہ دفاعی اخراجات کو اربوں ڈالر تک پہنچ گئے۔
اقتصادی بحران اور عالمی دباؤ
چالیس روزہ جنگ صرف فوجی تصادم تک محدود نہیں تھی بلکہ ایک مکمل اقتصادی جنگ بھی تھی۔ عالمی بینک اور CSIS کی رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران اسرائیل کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، جی ڈی پی میں واضح کمی آئی، جبکہ امریکہ کے براہ راست فوجی اخراجات بھی اربوں ڈالر تک جا پہنچے۔ اسی دوران ایران کی جانب سے ہرمز کے اہم آبی راستے کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو بھی متاثر کیا۔
اگر جنگ جاری رہتی تو تل ابیب کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا اور امریکہ کو خطے میں اپنے بعض فوجی اڈوں سے انخلا پر مجبور ہونا پڑتا۔ یہی خطرات جنگ بندی پر آمادگی کی ایک بڑی وجہ بنے۔
پاکستان کا مرکزی کردار؛ ایک غیرجانبدار اور مؤثر ثالث
اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک حیثیت کی وجہ سے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد، امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور اس کی دفاعی صلاحیت نے اسے ایک قابل اعتماد ثالث بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے دو مرحلوں پر مشتمل مذاکراتی فریم ورک کے ساتھ جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جی ڈی ونس، امریکی خصوصی نمائندہ، اور ایرانی اعلی حکام بشمول محمدباقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔ تاہم یہ مذاکرات 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔
جنگ بندی کا آٹھواں دن؛ کشیدگی برقرار، خلاف ورزیاں جاری اور دوسرے مرحلے کی تیاری
جنگ بندی کے نفاذ کے آٹھ دن بعد صورتحال اب بھی غیر یقینی اور نازک دکھائی دے رہی ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل خلاف ورزیاں کررہے ہیں اور مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ امریکہ نے ایران کے بندرگاہی راستوں اور ہرمز آبنائے پر سمندری محاصرے کی پالیسی اختیار کی ہے، جس سے صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان حملوں کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی حکومت نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر پاکستان نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آئندہ دنوں میں دوبارہ مذاکرات کے امکان کو تسلیم کیا ہے۔
ماہرین اس جنگ بندی کو ایک عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں، جس میں ایک طرف خطے میں نئی ڈیٹرنس کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چالیس روزہ جنگ کے بعد نافذ ہونے والی یہ جنگ بندی دراصل کسی مستقل سیاسی حل کا آغاز نہیں بلکہ فریقین کی تھکن اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے اس عمل میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے خود کو خطے میں ایک مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں خطے کی سیکیورٹی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکی فوجی اڈے جیسے اہم امور زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اصل تنازع ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں مستقبل کی سمت کا انحصار آئندہ مذاکرات اور زمینی حقائق پر ہوگا۔
مہر خبررساں ایجنسی دفاعی ڈیسک،
ایران نے 5 علاقائی ممالک سے تاوان جنگ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا
امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن عالمی سطح کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بندی کریں جن میں حملہ آوروں کو اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینا اور بعض صورتوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غیر قانونی حملوں میں حصہ لینا بھی شامل ہے۔
خط میں آيا ہے کہ مذکورہ ملکوں کے یہ اقدامات 14 دسمبر 1974 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 (29ویں اجلاس) خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب کے خط میں آيا ہے کہ مذکورہ پانچوں ممالک نے عالمی سطح کے غلط اقدامات کے ذریعے ایران کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پامال کیا ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔لہذا ان ممالک پر یہ بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کو پہنچنے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کو مکمل تاوان ادا کریں۔
حزب اللہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا
مہر خبررساں ایجنسی؛ حسام الدین حیدری: "حزب اللہ کو تنہا نہ چھوڑیں" یہ جملہ بظاہر ایک سیاسی مشورہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری تزویراتی، تاریخی اور تہذیبی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کے چیف ایڈیٹر نے اپنی یاد داشت میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب امریکی۔صہیونی محاذ نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، حزب اللہ نے فوری طور پر میدان میں آ کر مقابلے کا بڑا حصہ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ یہ محض علامتی حمایت نہیں تھی بلکہ اس اقدام نے جنگ کے میدان اور نفسیاتی فضا دونوں میں توازن کو بدل دیا۔
اداریے میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، صہیونی حکومت کے طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ تو عالمی اصولوں کی پابند ہے اور نہ ہی جنگ بندی کو سنجیدگی سے لیتی ہے، بلکہ اسے اپنی طاقت بحال کرنے اور دوبارہ حملے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لبنان پر حملے اور شہریوں کا قتل اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
چیف ایڈیٹر کے مطابق اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا کوئی عملی جواب نہ دیا گیا تو اس کا پیغام پورے خطے میں جائے گا کہ جارحیت کی قیمت زیادہ نہیں اور قوانین کو آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
اخلاقی پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی مشکل وقت میں ساتھ دینے والے کو ضرورت کے وقت تنہا چھوڑ دینا نہ صرف انسانی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے تزویراتی طاقت بھی کمزور ہوتی ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے عوام نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا تعلق محض وقتی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ خطرات اور مستقبل کی سمجھ پر قائم ہے۔
اداریے میں مزید کہا گیا کہ خطے کے حالیہ تجربات بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی مزاحمتی محاذ کا کوئی حصہ کمزور ہوا، دباؤ فوری طور پر دوسرے حصوں تک منتقل ہو گیا۔ شام کی صورتحال، حماس پر دباؤ اور حزب اللہ پر حملوں نے بالآخر ایسے حالات پیدا کیے کہ دشمن نے براہ راست ایران کو نشانہ بنانے کی جرات کی۔
لبنان کے عوامی ردعمل کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہاں کے لوگ خود کو تنہا محسوس کریں تو یہ احساس بداعتمادی میں بدل سکتا ہے، جو دشمن کے پروپیگنڈے کو تقویت دے گا اور خطے میں قائم اعتماد کو کمزور کرے گا۔
آخر میں چیف ایڈیٹر نے زور دیا کہ آج کی دنیا میں سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ تہران کی سلامتی بیروت اور اس کے نواحی علاقوں سے الگ نہیں۔ اس لیے حزب اللہ اور لبنان کا دفاع کوئی جذباتی یا محض سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر تزویراتی ضرورت ہے، جسے نظر انداز کرنے کی قیمت مستقبل میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
