سلیمانی

سلیمانی

انقلابِ ایران بیسویں صدی کا وہ عظیم سیاسی و روحانی واقعہ تھا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رخ بدلا بلکہ استعماری نظامِ فکر کے مقابل ایک نئے نظریاتی ماڈل کو بھی جنم دیا۔ اس انقلاب کی فکری بنیادیں تو امام خمینیؒ کی قیادت میں استوار ہوئیں مگر اس انقلاب کی بقا، استحکام اور تدریجی ارتقا میں جن شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا، ان میں نمایاں نام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ہی شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد سے کیا۔ جوانی کے ایام میں وہ نہ صرف فکری محاذ پر سرگرم رہے بلکہ جیلوں اور جلاوطنی کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

ان کی شخصیت میں انقلابی جوش، دینی بصیرت اور سیاسی حکمت کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے انہیں انقلاب کے فعال سپاہیوں میں شامل کر دیا۔ ان کی قربت اور فکری ہم آہنگی انہیں امامِ انقلاب، آیت اللہ روح اللہ خمینی کے نزدیک لے آئی اور یہی نسبت بعد ازاں ان کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کا سبب بنی۔ انقلاب کے بعد جب ایران ایک نئے سیاسی و سماجی تجربے سے گزر رہا تھا، اس وقت داخلی انتشار، بیرونی سازشوں اور جنگی دباؤ نے اسلامی نظام کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

ایسے نازک مرحلے پر آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں، خواہ وہ وزارتِ دفاع کے میدان میں رہنمائی ہو یا خطیبانہ اسلوب میں قوم کی فکری تربیت۔ انہوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے انقلاب کے اصول،استقلال، آزادی اور اسلامی حاکمیت کا ایک ایسا فکری بیانیہ عطا کیا گیا جس نے نوجوان نسل کو نظریاتی استقامت فراہم کی۔ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ انقلاب کے لیے سب سے بڑا امتحان تھی۔ اس جنگ میں آیت اللہ خامنہ ای نے محض ایک سیاسی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک مجاہدِ فکر و عمل کے طور پر کردار ادا کیا۔ ان کی موجودگی محاذِ جنگ پر سپاہیوں کے لیے حوصلے کا سرچشمہ تھی اور ان کے خطابات میں صبر، ایثار اور شہادت کی روح کو تازگی ملتی رہی۔

یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے “مقاومت” کو ایک نظریہ بنا کر پیش کیا، جو بعد ازاں ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں کا بنیادی ستون بن گیا۔ امام خمینیؒ کے وصال کے بعد جب قیادت کا حساس مرحلہ آیا تو آیت اللہ خامنہ ای کو نظامِ ولایتِ فقیہ کا امین منتخب کیا گیا۔ بطور رہبرِ انقلاب انہوں نے نہایت حکمت کے ساتھ ریاستی اداروں کو متوازن رکھا، نظریاتی خطوط کو محفوظ کیا اور نظام کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ ان کی قیادت کا بنیادی وصف یہ رہا کہ انہوں نے انقلاب کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک مسلسل جاری عمل میں تبدیل کر دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے “ثقافتی خودکفالت”، “اقتصادی مزاحمت” اور “علمی پیش رفت” جیسے تصورات کو فروغ دیا۔

شہید رہبر معظم کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا علمی و ادبی ذوق بھی تھا۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ مفکر اور ادیب بھی تھے۔ ان کی تحریروں اور تقاریر میں اسلامی تہذیب کی گہرائی، فارسی ادب کی لطافت اور معاصر سیاسی شعور کی پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ انقلاب کی اصل حفاظت اس کے فکری اور تہذیبی محاذ پر ہوتی ہے نہ کہ صرف عسکری قوت سے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم، میڈیا اور ثقافت کو انقلاب کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا۔

ان کی قیادت میں ایران نے خود کو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کیا جو عالمی استکبار کے سامنے جھکنے کے بجائے خود انحصاری اور نظریاتی استقامت کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے بیانات میں “امتِ مسلمہ کی وحدت” اور “مظلوم اقوام کی حمایت” ایک مستقل موضوع کے طور پر موجود رہی ہے۔ یوں وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمِ اسلام میں ایک فکری رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ اگر انقلابِ ایران ایک درخت ہے تو امام خمینیؒ نے اس کا بیج بویا اور آیت اللہ خامنہ ای نے اسے مسلسل آبیاری، نگہبانی اور طوفانوں سے حفاظت کے ذریعے تناور درخت میں بدلنے کی کوشش کی۔

ان کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے نظریاتی بقا، سیاسی استحکام اور عالمی سطح پر خودمختار شناخت کو برقرار رکھا۔ اس طرح آیت اللہ خامنہ ای کا کردار محض ایک سیاسی رہبر کا نہیں بلکہ ایک ایسے فکری معمار کا ہے جس نے انقلاب کی روح کو زمانے کے تغیرات کے باوجود زندہ رکھا اور اسے ایک مستقل و پائدار نظام میں ڈھال دیا۔ یہی ان کی سب سے بڑی خدمت ہے کہ انہوں نے انقلاب کو ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی امید بنا دیا۔

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی


میں آج یہ تحریر اشک بار آنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح کے الفاظ کا چنائو کروں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری دنیا اجڑ چکی ہے۔ زندگی جینے کا مزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایک کے بعد ایک شہادت جس میں شہید اسماعیل ہانیہ ہوں، شہید یحٰی سنوار ہوں، شہید حسن نصر اللہ ہوں اور شہید ہاشم صفی الدین کے ساتھ ابو عبیدہ اور ابو حمزہ جیسے دیگر درجنوں سیکڑوں شہیدوں کی شہادت گذشتہ ڈھائی سال میں ہو چکی ہے اور اب ان تمام شہیدوں کے امام یعنی امام شہیدان حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو چکے ہیں۔ دل اور دماغ دونوں ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن یہ ایک کڑوی اور تلخ حقیت ہے جسے قبول کرنا ہوگا۔

آیت اللہ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے، انہوں نے پوری زندگی اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کی بیش بہا کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ جب ان کے دفتر پر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو وہ اس وقت بھی اپنے دفتری کاموں میں مصروف تھے۔ وہ زمین پر ولی اللہ تھے۔ وہ ہمیشہ شہادت کے طلبگار تھے۔ وہ صرف ایران کے رہنما یا رہبر نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے اور ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ان تمام حریت پسندوں کے آئیڈیل تھے جو دنیا میں ظلم کے خاتمہ کی جدوجہد میں کسی نہ کسی طرح شامل ہیں۔ وہ مظلوموں کی امیدوں کا محور تھے۔ وہ فلسطین کی آزادی کے علمبردار تھے۔ انہوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ چاہے وہ زندہ ہو ں یا نہ ہوں آپ لوگ قدس کو آزاد دیکھیں گے اور قدس میں نماز ادا کریں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا درد ہمیشہ ہمارے دل میں رہے گا۔ دنیا میں آنے والی نسلیں ہمیشہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیرت سے درس حاصل کریں گی۔ لیکن یہ فراق ہم جیسوں سے قابل برداشت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ان کے عاشق ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔لیکن یہ کیفیت ہمیں کسی مایوسی کی طرف نہ لے جائے۔ خبردار ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای دنیا کے بہترین اور شریف النفس انسان تھے جس کو دنیا کے بد ترین او ذلیل النفس ٹرمپ نے قتل کیا۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے سنہ 61 ہجری کی کربلا میں اس وقت دنیا کا بہترین اور شریف النفس انسان امام حسین (ع) دنیا کے بد ترین اور ذلیل النفس یزید اور اس کے حواریوں کے نرغہ میں قتل ہوا تھا۔ یہی امام خامنہ ای کے شایان شان ہے کہ امام حسین (ع) کی طرح دور حاضر کی کربلا میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ شہادت پائیں اور اللہ نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔

جب غم سینہ پھاڑ کر نکلتا ہے تو آنکھوں سے بے تحاشہ اشک بھی نکل آتے ہیں، یہ درد آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے لیکن اس درد میں جو بات ہمیں سہارا دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ احد میں جب کفار و مشرکین نے پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں جھوٹی خبر پھیلائی تھی تو قرآن مجید میں سورۃ آل عمران آیت 144 میں اللہ نے فرمایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر رسول بھی چلے جائیں تو رسول کا خدا تو زندہ ہے۔

آج ہم امام خامنہ ای کی شہادت پر سوگوار تو ہیں اور غمزدہ بھی ہیں لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ جس خدا نے خامنہ ای کو خامنہ ای بنایا یعنی خامنہ ای کا خدا آج بھی زندہ ہے، باقی ہے، دین اسلام باقی ہے، معرکہ حق و باطل باقی ہے۔ جب تک معرکہ حق و باطل باقی ہے تو ہم بھی باقی ہیں۔ پس یہ جملہ کہ جس میں ہم کہتے ہیں کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے یقینی طور پر دنیا کے مظلوموں کو ایک ڈھارس دیتا ہے اور یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے کام کو جاری رکھیں، مشن سے کوتاہی نہ کریں، سستی نہ کریں، آپس میں اتحاد کو قائم رکھیں، دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں جیسے ہمارے امام خامنہ ای نے کیا ہے۔

یقین رکھیں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے، یہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک یقین ہے۔ یہ اعلان ہے کہ حق کا رب زندہ ہے، عدل کا رب زندہ ہے، مظلوموں کا سہارا زندہ ہے۔ جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اسلحہ خانوں اور میڈیا کی یلغار پر غرور کرتی ہیں، تب اہلِ ایمان یہ کہتے ہیں: خدا زندہ ہے اور جب خدا زندہ ہے تو امید بھی زندہ ہے، فتح بھی زندہ ہے، اور کامیابی بھی یقینی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جدوجہد کا مرکز یہی یقین ہے کہ طاقت کا سرچشمہ ٹینک اور طیارے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور استقامت ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، اسی لمحے اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ فرعونوں کی سلطنتیں ہوں یا جدید استعمار کی قوتیں سب کو وقت نے مٹا دیا، کیونکہ خدا کا قانون اٹل ہے: ظلم باقی نہیں رہتا۔

آج اگر امریکہ اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل اپنی عسکری طاقت پر نازاں ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ طاقت کا غرور سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے۔ جو قومیں انصاف کو پامال کرتی ہیں، معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتی ہیں اور اقوامِ عالم کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے باوجود اخلاقی شکست سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔ حق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی مائیں اکیلی نہیں، غزہ کے بچے بے سہارا نہیں ہیں اور حریت کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ ہر آنسو جو مظلوم کی آنکھ سے گرتا ہے، وہ خدا کی عدالت میں گواہی بنتا ہے اور خدا کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔

یہ یقین ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے اور امید ایمان کی روح ہے۔ جب اہلِ حق استقامت دکھاتے ہیں تو دشمن کی صفوں میں خوف اترتا ہے۔ آج دنیا بھر میں بیداری کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ باطل کے بیانیے کمزور ہو رہے ہیں اور حق کی آواز مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب طاقتور سمجھنے والے کمزور ہو رہے ہیں اور مظلوم سمجھے جانے والے تاریخ کا رخ موڑ رہے ہیں۔ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی بنیاد جبر اور استحصال پر ہے، اور جبر کی بنیادیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں۔ ان کی ناکامیاں ان کے اپنے فیصلوں، داخلی اختلافات اور اخلاقی دیوالیہ پن سے جنم لے رہی ہیں۔ دنیا کی رائے عامہ بدل رہی ہے، نوجوان نسل سوال اٹھا رہی ہے، اور حق کی حمایت عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔ جی ہاں ہمیں یقین ہے کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ وہ خامنہ ای کا خدا جو شکست نہیں کھاتا، وہ خامنہ ای کا خدا جومظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑتا، وہ خامنہ ای کا خدا جو حق کو غالب کرے گا، جی ہاں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

ان دنوں ایپسٹین کے ساتھی، بدنام جزیرے کی رسوائیوں اور اخلاقی گراوٹ کے عروج پر، ہر روز دھمکیاں دے رہے ہیں کہ انہوں نے بحری جہاز اور فوجی دستے اسلامی ایران کی طرف روانہ کر دیے ہیں اور تسلیم ہونیکا پیغام بھیج رہے ہیں۔ مگر یہاں ایک ایسی قوم کھڑی ہے جو اللہ تعالیٰ کی برتر قدرت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ کیا حقیقت اس کے سوا کچھ اور ہے کہ جس خدا نے اصحابِ فیل کو ہلاک کیا تھا، وہ اصحابِ پیڈوفائل کو بھی ہلاک کر سکتا ہے؟۔
 
اس رمضان المبارک میں ہم قرآنی راستوں کے ذریعے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی کے طوفانوں اور نشیب و فراز میں پیچھے نہ رہ جائیں اور اپنے راستے پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جو انبیاء، شہداء اور اللہ کے صابر بندوں کے تجربات سے نکلا ہے۔ ایسے راستے جو ہمیں تمسخر، بہتان، دھمکی، فقر، تھکن، تنہائی اور وسوسوں کے مقابل ایمان کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ جس کے ساتھ خدا ہو، وہ کبھی شکست نہیں کھاتا۔
 
نصرت خداوندی کی جھلک:
1۔ "وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى" (انفال: 17)
(اے پیغمبر!) جب آپ نے دشمنوں کی طرف تیر پھینکا تو آپ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔ ہر کامیابی اور ہر بڑا نتیجہ اگرچہ ہمارے ہاتھوں سے ظاہر ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اللہ کی قدرت اور ارادے سے تشکیل پاتا ہے۔ گرہیں کھولنے والا اور راستہ ہموار کرنے والا وہی ہے، ہم تو صرف وسیلہ ہیں۔
 
2۔ مردوں میں جان پھونکنے اور زندہ کرنیوالا خدا:
قرآن حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے، مادرزاد اندھے کو بینا بناتے اور کوڑھی کو شفا دیتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور شفا کا سرچشمہ صرف اللہ کی قدرت ہے۔ ہر معجزہ اللہ کی طرف سے جاری ہوتا تھا اور حضرت عیسیٰؑ محض ایک واسطہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین مرتبہ فرمایا: "بِإِذْنِي" یعنی "میرے حکم سے"۔ تاکہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یہ طاقت حضرت عیسیٰؑ کی اپنی تھی۔ وہ تو ایک آئینہ تھے جس میں خدا کی قدرت کا نور جھلکتا تھا۔
 
3۔ عصا دریا پر لگا اور خدا نے سمندر چیر دیا:
"فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ فَانفَلَقَ..." موسیٰؑ کو وحی ہوئی کہ اپنے عصا سے سمندر پر ضرب لگاؤ۔ اللہ کے حکم سے پانی پھٹ گیا اور دونوں طرف پہاڑوں جیسے عظیم دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ نہ موسیٰؑ کے بازو میں ایسی طاقت تھی، نہ عصا میں؛ یہ سب خدا کی قدرت تھی۔
 
4۔ ہم لڑتے ہیں، خدا دشمن کو پاش پاش کرتا ہے:
"قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ..." ان سے جنگ کرو، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا، رسوا کرے گا اور تمہیں فتح عطا کرے گا۔ ظاہر میں ہم لڑتے ہیں، مگر حقیقت میں ہاتھ اللہ کا ہوتا ہے جو ضرب لگاتا ہے۔
 
5۔ ابابیلوں اور طبس کی ریتوں کا خدا، خلیج فارس کا بھی خدا ہے:
ابرہہ کے لشکر کے ہاتھی کعبہ کو گرانے نکلے تھے، مگر اچانک عذابِ الٰہی نازل ہوا اور ننھے پرندوں نے کنکریاں برسا کر لشکر کو تباہ کر دیا۔ ہزاروں سال بعد تاریخ نے خود کو دہرایا۔ سن ۱۳۵۹ (1980) میں امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر طبس کے صحرا میں ایک خفیہ فوجی کارروائی کے لیے آئے، مگر اچانک اٹھنے والے ریت کے طوفان نے ان کی کارروائی ناکام بنا دی۔ یہ بھی اللہ کی مدد تھی۔
اسرائیل نے بھی تفرقہ ڈال کر اتحاد توڑنے کی کوشش کی، مگر اللہ کی مشیت نے اسی تفرقے کو اتحاد اور مزاحمت میں بدل دیا۔ دشمن سازش کرتا ہے، مگر خدا اس کی تدبیر الٹ دیتا ہے۔ آج بھی ایپسٹین کے ساتھی دھمکیاں دے رہے ہیں، مگر یہاں ایک ایسی قوم ہے جو اللہ کی برتری پر یقین رکھتی ہے۔ جس خدا نے اصحابِ فیل کو نابود کیا، وہ فساد کرنے والوں کو بھی نابود کر سکتا ہے۔
 
6۔ ارادہ ہمارا، اذن اس کا:
"وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ" ہم ارادہ کرتے ہیں، مگر وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہے۔ ہر کامیابی اس کے اذن سے ہوتی ہے۔ یہ یقین غرور کو توڑتا اور دل کو مطمئن کرتا ہے۔
 
رہبر انقلاب کی نظر میں: اے مادی دنیا! تمہارے حساب غلط ہیں
رہبر انقلاب نے فرمایا کہ "اے مادی دنیا! تمہارے حساب غلط ہیں۔ تم نے سمجھا کہ چونکہ ہمارے پاس بڑے ہتھیار نہیں، اس لیے ہم ہتھیار ڈال دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہمارے پاس وہ قوت ہے جو انبیاء کو ظالموں پر غالب کرتی رہی ہے۔ ہمارے پاس توکل، صبر اور استقامت ہے۔"
 
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟:
ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی ہے، مگر یہ جانتے ہوئے کہ برکت اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کامیابی پر تکبر نہ کرو، شکر ادا کرو۔ نفع ملے تو اسے اپنی ذہانت نہ سمجھو، خدا کی عطا سمجھو۔ اگر کسی کی مدد کرو تو جان لو کہ تم وسیلہ تھے۔ یہی سوچ انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔
 
وہ طریقہ جس سے علیؑ کے پیروکاروں نے دشمن کو جھکایا:
یہ اللہ کی مدد تھی کہ مومنوں کا اتحاد دشمن پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ ہاتھوں کی دعائیں اور بند مٹھیاں ایک ہو جائیں تو دشمن گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔
 
سوشل میڈیا کا طوفان:
آج ہم سوشل میڈیا کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز ہمیں ایسی ثقافت دکھاتے ہیں جو نمائش کے لیے بنی ہے، حقیقت کے لیے نہیں۔
 
قرآن میں اقوام کے زوال کا نقشہ:
قرآن قوموں کے زوال کا نقشہ کھینچتا ہے، جب نعمتوں کی ناشکری اور اسراف بڑھتا ہے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے۔ یہ آیات ہمارے لیے وارننگ ہیں۔
 
امریکہ کی آخری حکمت عملی:
آج دشمن کی حکمت عملی براہِ راست جنگ نہیں بلکہ اندرونی تفرقہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے ہمیں آپس میں لڑا دیں تاکہ ہم اصل خطرے کو نہ دیکھ سکیں

 
مغربی ایشیا خطے پر امریکی لشکرکشی کے بارے میں عالمی ذرائع اخبار، خاص طور پر مغربی میڈیا پر ایک بڑا ہنگامہ سا برپا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا ایک تہائی حصہ مغربی ایشیا خطے کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ ایران پر فوجی حملے کی مبالغہ آرائی پر مبنی اس پروپیگنڈے کے ذریعے خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غاصب صیہونی رژیم کے ذرائع ابلاغ ایران کے خلاف جنگ کی تصویر پیش کرنے میں سب سے آگے ہیں اور ایسے وقت جب تمام عالمی ذرائع ابلاغ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کی بات کر رہے ہیں تو صیہونی حلقوں نے ٹرمپ سے مایوسی کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا خطے پر لشکرکشی کے ابتدائی لمحات سے ہی روزانہ کی بنیاد پر اپنی بیان بازی اور سوشل میڈیا پر پیغامات کے ذریعے ایران کی معاشی اور سماجی فضا میں نفسیاتی جنگ اور اضطراب کی شدت بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ لیکن بہت جلد یہ حقیقت کھل کر دامنے آ گئی کہ ایران کی قومی، عوامی اور فوجی ڈیٹرنس نے ٹرمپ کے فوجی اندازوں کو متاثر کیا ہے اور وہ جان گیا ہے کہ وسیع یا محدود پیمانے پر جنگ کی تصویر کشی کا کھیل بے سود ہے اور ایران اپنے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا جواب وسیع پیمانے پر علاقائی جنگ کی صورت میں دے گا۔ یہ منظرنامہ امریکہ کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں شکست کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے خود امریکہ کے اندرونی حلقوں میں بھی ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ اثرات کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ایشیا خطے پر لشکرکشی کچھ خاص اہداف و مقاصد کے تحت انجام پائی ہے۔ ان میں سے اہم ترین مقصد ایک رعب آور اور خوف و ہراس پر مبنی فضا قائم کرنا ہے۔ ٹرمپ کی نظر میں اگرچہ اس وقت جوہری پروگرام ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک بہت اچھا بہانہ ہے لیکن ایران کی میزائل طاقت اور علاقائی اثرورسوخ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کے لیے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے شروع سے ہی اس بات پر اصرار کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں تمام ایشوز کو شامل کیا جائے۔ اب تک سامنے آنے والے حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ایران کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے کیونکہ یہ ایران تھا جس نے امریکہ سے مذاکرات کا ایجنڈہ طے کیا اور مذاکرات کی جگہ کا بھی تعین کیا۔
 
مذاکرات کے دو مراحل منعقد ہونے کے بعد تیسرا مرحلہ جنیوا میں منعقد ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ ان تمام واقعات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ جنگ کی بجائے معاہدہ انجام دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ البتہ اختلاف رائے اور سودے بازی، ہر مذاکرات اور معاہدے کا فطری اور لازمی حصہ ہوتا ہے۔ دراصل سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ پیش آتا ہے کہ "کیا اتنے وسیع پیمانے پر امریکہ کی لشکرکشی محض ایران کو جوہری مذاکرات میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے انجام پائی ہے؟" خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صہیونی ذرائع ابلاغ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو کے امریکہ دورے کے بعد ٹرمپ کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ محض جوہری تنازعہ پر نہیں بلکہ ایران میں رجیم چینج آپریشن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
 
 اتفاق سے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا تھا کہ تمام مسائل ایک ہی مذاکرات میں حل نہیں ہو سکتے لہذا ایران اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ جوہری تنازعے سے شروع کریں اور اس کے بعد دوسرے ایشوز پر بھی بات کریں۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنے اہداف "ایک بھی گولی چلائے بغیر" اور صرف "لشکرکشی اور جنگ کے سائے" کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹرمپ کو فتح کی ایک تصویر پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کی مدد سے ملکی اور عالمی سطح پر اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کر سکے۔ ٹرمپ اس حکمت عملی کے تحت اور پہلے ہی ہاری ہوئی جنگ سے بچنے کے لیے لشکرکشی کا کارڈ استعمال کرنا جاری رکھے گا اور ایران سے نت نئے مطالبات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج جس چیز نے امریکہ اور صیہونی رژیم کو ایران کی ڈیٹرنس طاقت قبول کرنے کی تلخی برداشت کرنے پر مجبور کیا ہے اور وہ کم ترین فوجی اہداف کی حامل محدود فوجی کاروائی کی کامیابی سے بھی مایوس ہو چکے ہیں، وہ ایران کی فوجی اور میزائل طاقت اور اس کا علاقائی اثرورسوخ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ جنگ کے سائے اور لشکرکشی کی چھڑی سے ایرانی معیشت اور رائے عامہ کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کرتا رہے گا تاکہ ایران کو مذاکرات میں میزائل پروگرام، فوجی طاقت اور علاقائی اثرورسوخ جیسے ایشوز بھی شامل کرنے پر مجبور کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں، جس طرح اس نے ایران کے خلاف پابندیوں کو ایک مستقل ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے، اسی طرح وہ جنگ کے سائے میں لشکرکشی کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کرے گا

تحریر: ہادی محمدی

تاریخ کبھی صرف واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ کرداروں کی تاثیر سے زندہ رہتی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اگر بعثتِ رسولﷺ کو سب سے بڑا انقلاب کہا جائے تو اس انقلاب کی پہلی معمار کا نام سیدہ خدیجة الکبریٰؑ ہے۔ سیدہ محض امُّ المؤمنین ہی نہیں بلکہ امامت کے نورانی سلسلے کی پہلی بنیاد ہیں۔ ان کی زندگی قربانی اور شعوری ایمان کی ایک مکمل داستان ہے۔ غارِ حرا کی تاریکی میں جب پہلی وحی نازل ہوئی اور رسولِ اکرمﷺ لرزاں کیفیت میں گھر تشریف لائے، تو تاریخ کا پہلا فیصلہ ایک خاتون نے کیا۔ نہ کسی دلیل کی طلب، نہ کسی معجزے کا انتظار۔۔۔ صرف یقین۔ خدیجہؑ نے کہا: "ہرگز نہیں، خدا آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔" روایات میں آتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں کاشانہ نبوت میں صرف تین ہستیاں تھیں: رسول اللہﷺ، امیرالمؤمنین علیؑ اور سیدہ خدیجة۔ یہی پہلا خاندان تھا، جس نے کعبہ کے سائے میں توحید کا پرچم بلند کیا۔ اس منظر کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

مال کی نہیں، مشن کی تاجرہ
سیدہ خدیجة مکہ کی کامیاب تاجرہ تھیں۔ ان کے قافلے شام تک جاتے تھے، ان کی دیانت مثال زبان زد عام و خاص تھی۔ مگر جب حق کی صدا بلند ہوئی تو یہ سارا سرمایہ اسلام کے نام ہوگیا۔ شعبِ ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ محض ایک سماجی بائیکاٹ نہ تھا، یہ ایمان کا کڑا امتحان تھا۔ بھوک، پیاس، تنہائی اور خوف۔۔۔۔ سب کچھ تھا، مگر خدیجة الکبریٰ کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔ یہ قربانی محض ساده مالی اعانت نہیں بلکہ ایک ایسی مضبوط مالی پشت پناہی تھی، جس نے دین مبین اسلام کی بقاء میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سیدہ خدیجہ نے نہ صرف نبوت کا ساتھ دیا بلکہ اس نور کی حفاظت کی، جو آگے چل کر امامت میں جلوہ گر ہونا تھا۔

امُّ الائمہ۔۔۔ امامت کا پہلا چراغ
سیدہ خدیجة الکبری ؑ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ سیدہ فاطمہ زہراؑ کی والدہ ہیں اور سیدی فاطمہ زہراء مرکزِ ولایت ہیں۔ انہی سے امام حسنؑ، امام حسینؑ اور سلسلۂ ائمہ اطہارؑ کا آغاز ہوتا ہے۔ یوں سیدہ خدیجہ بجا طور پر "امُّ الائمہ" ہیں۔ یہ محض نسبی تعلق نہیں، بلکہ تربیت کا اعجاز ہے۔ جس آغوش میں فاطمہ پروان چڑھیں، وہ آغوش یقیناً عصمت و طہارت کا گہوارہ تھی۔

عام الحزن۔۔۔ جب سایہ اٹھ گیا
نبوت کے دسویں سال سیدہ خدیجہ کا وصال ہوا۔ اسی سال حضرت ابو طالبؑ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ رسول اللہﷺ نے اس سال کو "عام الحزن" قرار دیا۔ یہ غم صرف زوجہ کی جدائی کا نہ تھا، بلکہ اس رفیقِ راہ کا بچھڑنا تھا، جس نے ہر لمحہ اور ہر آن آپ کا ساتھ دیا، ہر زخم پر مرہم رکھا اور ہر طوفان میں ڈھال بنی رہیں۔ آج ان کی قبر جنت المعلیٰ میں سادہ مٹی کی صورت موجود ہے، مگر دلوں میں ان کا مزار ایمان کی روشنی سے منور ہے۔

ام المومنین سیدہ خدیجة الکبری کا مقام
روایات میں چار عظیم خواتین کا ذکر ملتا ہے: حضرت مریمؑ، حضرت آسیہؑ، سیدہ فاطمہ زہراؑ اور سیدہ خدیجہ۔ ان چاروں کو کمالِ ایمان کا استعارہ قرار دیا گیا ہے۔ سیدہ خدیجة الکبریٰ کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے نبوت کے آغاز میں وہ کردار ادا کیا، جو کسی مرد صحابی کے حصے میں بھی نہ آیا۔ انہوں نے کبھی رسول اللہﷺ کو دنیاوی تقاضوں سے آزمایا نہیں، نہ کسی لمحے شکایت کی۔ ان کا گھر سکون کا مرکز تھا اور یہی سکون دعوتِ اسلام کی بنیاد بنا۔

آج کے دور کیلئے پیغام
آج جب امت مسلمہ فکری انتشار، معاشی کمزوری اور قیادت کے بحران کا شکار ہے، تو سیدہ خدیجہ کی سیرت ہمیں تین بنیادی اسباق دیتی ہے: ایمان میں سبقت تاریخ بدل دیتی ہے۔ مال کی اصل قدر اس وقت ہے، جب وہ حق کے لیے خرچ ہو۔ ایک عورت کا کردار محض خانگی نہیں، بلکہ تہذیبی اور اعتقادی بنیادوں کا تعین بھی کرسکتا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اگر کربلا قربانی کی معراج ہے تو اس کی پہلی اینٹ مکہ میں رکھی گئی تھی۔۔۔۔ اور وہ اینٹ ام المومنین، ام البتول سیدی خدیجة الکبریٰ کی قربانی تھی۔ سیدہ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انقلاب ہمیشہ خاموش کمروں میں جنم لیتے ہیں اور تاریخ کے بڑے فیصلے اکثر کسی باایمان دل کی گواہی سے شروع ہوتے ہیں۔

تحریر: محمد ثقلین واحدی

بقیع کیا ہے؟ اور اس کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟

بقیع ایک ایسی زمین ہے جو مدینہ منورہ میں موجود ہے اور جسے مدینہ منورہ والوں نے اپنے مرحومین کی تدفین کے لیے مختص کیا تھا، اور غرقد ایک معروف بّری درخت ہے۔ چونکہ مسلمانوں کی عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر آج تک یہ سیرت چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے مرحومین کو دفن کرتے ہیں۔ یہ قبرستان قبر مبارک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشرق میں واقع ہیں اور اس کی مساحت ۱۸۰۰۰۰ مربع میٹر پر محیط ہے، اس میں مسلمانوں کی عظیم شخصیات کی قبور کو بھی ضم کیا گیا ہے جو کو عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہوئے دنیا سے رحلت کرگئے  تھے۔

بعض اعداد وشمار کے مطابق ہزاروں صحابی اس مقدس زمین میں مدفون ہیں، ان میں سب سے پہلے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چار معصوم اولاد ؛ حضرت امام حسن بن علی ابن ابی طالب علیھم السلام، حضرت علی ابن حسین سید ساجدین امام زین العابدین علیھماالسلام، حضرت محمد ابن علی الباقر علیھما السلام، اور حضرت جعفر ابن محمد الصادق علیھما السلام بھی اس ارض مقدس میں مدفون ہیں۔ ان چار معصوم اماموں کی قبور ایک ساتھ ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت اہم اور بڑی شخصیات  بھی وہاں مدفون ہیں جیسے حضرت  عباس بن عبدالمطلبؓ، نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فرزند ابراہیمؑ،  حضرت محمد بن حنفیہؓ، حضرت حسن بن حسنؑ بن علیؑ، حضرت عقیلؓ بن ابی طالب حضرت عبداللہ بن جعفر طیارؑ، حضرت علیؑ کی زوجہ ام البنین فاطمہ ؓالکلابیہ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے ابتدائی اصحابؓ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے حضرت عثمان بن مضعونؓ، حضرت سعد بن معاذؓ، اسی طرح تمام ازواجؓ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی قبروں کو(سوائے ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؑ کی قبر جو جنت المعلیٰ مکہ میں موجود ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ ؓبنت حارث کی قبر جو کہ وادی سرف  مکہ مکرمہ سے  ۱۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر شمال میں مدینہ منورہ کی طرف میں موجود ہے )بھی اس کے  ساتھ ملحق کیا گیا ہے۔ اسی طرح بقیع میں پہلے صحابی حضرت اسعد بن زرارہ انصاری اور آخری صحابی سہل بن سعد الساعدی کی قبریں بھی موجود ہیں۔

قبور کی زیارت

عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر آج تک مسلمانوں کی یہ سیرت مسلسل چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے مرحومین کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور ان کے لیے دعاءِ مغفرت کرتے ہیں، ساتھ قبروں پر بیٹھ کر کچھ آیات قرآنی کی تلاوت بھی کرتے ہیں، یہ سارے کام حقیقت میں ان کی یادوں کو تازہ رکھنے اور ان سے محبت کی دلیل ہیں، ان تمام نیک اعمال کے ثواب انہیں ارواح کو ہدیہ کرتے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں مدفون مرحومین کی زیارت کو تشریف لے جاتے تھے اور ان کی مغفرت اور ان رحمت کی دعا بھی فرماتے تھے، جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے روایت کی جاتی ہے: جبرائیل امین میرے پاس آئے اور میں نے آنے کی وجہ پوچھی، توکہا: اے محمد تیرا پروردگار تجھے حکم کررہا ہے  کہ  اہل بقیع کے پاس جائے اور ان کی مغفرت کی دعا کرے۔ اسی طرح مسلمانوں کی یہ سیرت بھی چلی آرہی ہے کہ اہم اسلامی شخصیات کی قبروں پر ضریح بنائی جاتی ہے، خاص کرنبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اولاد طاہرہ میں سے ائمہ معصومین علیھم السلام کی قبروں پر بڑے بڑے قبے، گلدستہ آذانیں، بڑے بڑے صحن، حتیٰ ان مقامات پر مسجدین بھی بنائی جاتی ہیں، یہ ساری چیزیں دین مقدس اسلام کے احکامات اور شریعت کے خلاف بھی نہیں ہیں۔

وہابیت

وہابیت ایک تاریک وسیاہ فکر رکھنے والا فرقہ ہے جو خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا اعتقادات اور تبلیغات پر ایمان رکھتا ہے، اس کی بنیاد اور ترویج ایسے لوگوں نے رکھی اور جو کسی بھی صورت میں دین مقدس اسلام کی بھلائی اور خیرخواہی نہیں چاہتے تھے، انہوں نے اپنی فقہی مسائل اور طرز عمل میں کتاب الٰہی،اور سیرت وسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انحراف کیا، ایسے راستوں کا انتخاب کیا جس میں اپنی رائے اور فقہ سے اختلاف رکھنے والے باقی مسلمانوں کی تکفیر، قبروں کا انھدام، معصوم لوگوں کے سروں کو قطع کرنا، فصلوں اور نسلوں کو ختم کرنا جیسے دہشت اور وحشت پر مشتمل عقائد پائے جاتے ہیں اس کی واضح مثال آپ طول تاریخ میں خاص کر عصور متاخرہ اور حالیہ سالوں میں مشاہدہ کرسکتے ہیں، ان لوگوں نے اقوام عالم میں اسلام کا ایک مسخ شدہ چہرہ پیش کیا اور ہر طرح سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ زمان حال میں اگر ان کی تخریبی کاروائیوں اور انسانیت سوز مظالم کو ملاحظہ کیا جائے تو ان کے افکار اور عقائد  بڑی آسانی سمجھ میں آسکتے ہیں۔

انہوں نے سر عام اپنے عقیدے سے اختلاف رکھنے والوں کا قتل عام کیا، ان کے گھروں کو مسمار، انبیاء کرام علیھم السلام اور صلحاء کےمقدس مقامات کو منھدم، بے گناہ مجبور ومقہور خواتین کو اسیر، اور اسیروں کو زندہ جلانا جیسے مظالم کی انتہا کردی، جو دین اسلام کے مسلمہ اصولوں جیسے عفو درگزر، رحم، شفقت، احترام انسانیت، محبت واخوت وغیرہ  کے سراسر خلاف تھے، ان تخریبی کاروائیوں کے ذریعے دین مقدس اسلام کے امن وآشتی اور محبت و احترام پر مبنی تعلیمات اور اصولوں کو غیر مسلمانوں کی نگاہ میں مشکوک قرار دیدیا اوران تمام تخریبی اور دہشت گردی کے جواز کے لیے دلیل کے طور شرک وکفر کا سہارا لیا، اور یہ اعلان کیا کہ توحید صرف وہی ہے جو ان کی سمجھ میں آئی ہوئی ہے، اس کے علاوہ جو بھی اسلامی فرقے ہیں وہ سب گمراہ اور شرک کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جب کہ یہ سارے استعماری سازشوں اور اسلامی دشمنی میں سرانجام دیا گیا اور ظاہرا اسلام کو بدنام کرنے لیے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کی گئیں۔

انہدامِ قبور کے لیے وہابیوں کے حملے:

ان کی فکری پستی اور عقیدتی انحراف کی علامات اور نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عمدا مسلمانوں کی قبروں کو منھدم اور سطح زمین کے برابر کرنے کے قائل ہیں چاہیے وہ جنت البقیع ہو، یا کوئی اور قبرستان، وہ قبروں کے نشانات کو مٹانے، لوگوں کو قبروں کی زیارات کرنے سے روکنے، اور مقدس مقامات کی توہین اور ہتک حرمت کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں، اسی غلط عقیدہ کی وجہ سے ۱۲۲۰ ہجری میں مدینہ منورہ پر یلغار کیا، ان کے محافظین کو قتل، مقدس آثارِدینیہ کو منہدم، اور عظیم اسلامی تاریخی درسگاہوں کو کو تباہ کردیا۔  اس ناپاک اور مذموم مقاصد پر مشتمل حملہ آور ہجوم نے مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نہیں بخشا، وہاں پر موجود تبرکات، قیمتی اشیاء، جواہرات کو لوٹ لیا، اور بقیع میں موجود تمام مقدس مقامات کو منھدم کردیا، من جملہ چار معصوم اماموں کے مقدس مزارات کو بھی تباہ کردیا۔ اسی طرح ایک اور تخریبی حرکت اور دھاوا سن !۳۴۴ ھجری میں بھی دہرایا گیا، اور پہلی تخریب کاری کے بعد جو مقدس مقامات دوبارہ سے تعمیر کی گئی تھی انہیں پھر سے منھدم کرکے سطح زمین کے برابر کردیا ۔ یہاں تک مسجد نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبہ اور ضریح مبارک کو منھدم کرنے کی دھمکی مسلسل دی گئی اور ابھی تک  دی جارہی ہے، اگر باقی مسلمانوں کے رد عمل کا خوف نہ ہوتا تو شاید ابھی تک منھدم کرچکے ہوتے۔  وہابیوں کے یہی نا معقول اور عقل سے خالی تاویلات کی بنیاد پر کی جانے والی تخریبی کاروائیوں نے مسلمانان عالم کے احساسات کو مجروح اور ان کو وہابیت کے خلاف غیظ وغضب اور احتجاجات کرنے پر مجبور کیا۔ عالم اسلام کے علماء، محققین، اور سکالرز نے وہابیت اور ان کے باطل عقائد ونظریات کے خلاف ابھی تک سینکڑوں کتابیں اور مقالے  لکھ چکے ہیں۔

آج اور کل میں  موجود شباہتیں

اس فرقہ کے باطل اور گمراہ ہونے کی واضح دلیل داعش (آئی ایس ایس جو درحقیقت وہابی عقائد کے حامل دہشت گروں کی ایک جماعت ہے)  کی طرف سے دور حاضر میں کیے جانے غیر شرعی اور غیر اسلامی اقدامات اور دہشت گردانہ کاروائیں ہیں۔ اس دہشت گرد تنظیم نے عراق اور شام میں اولیاء کرام کے مزارات کو منہدم کردیا، یہاں تک حضرت ھود نبی علیہ السلام اور حضرت شیث نبی علیہ السلام کے مراقد  شریفہ کو بھی نہیں بخشا اور انہیں دھماکے سے اڑادیا۔ موصل میں المنارة الحدباء الأثريّة، سامراء میں موجود دونوں اماموں  امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے مزارات کو بھی دھماکے سے ذریعے منھدم کردیا ۔ شام میں واقع رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے جلیل القدر صحابی حجر بن عود الکندی  رضوان اللہ تعالی علیہ کے مزار کو تباہ کردیا گیا۔ اس کے علاوہ انسانی اور اسلامی تہذیب وتمدن کی جتنے بھی آثار اور جتنے بھی ثقافتی یاگاریں تھیں ان سب کو مسمار کردیا گیا۔

 

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اندر بے شمار روحانی، اخلاقی اور جسمانی برکتیں سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی باطنی اصلاح، نفس کی تربیت اور دل کی پاکیزگی کا جامع نظام ہے۔ رمضان میں رکھا جانے والا روزہ انسان کو صبر، شکر اور تقویٰ کی عملی مشق کراتا ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔

روح کی پاکیزگی

روزہ سب سے پہلے انسان کے باطن کو جِلا بخشتا ہے۔ جب کوئی شخص طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک اللہ کی رضا کے لیے حلال چیزوں سے بھی پرہیز کرتا ہے تو اس کے دل میں خشیت اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے لگتا ہے۔ حسد، بغض، کینہ اور نفرت جیسے منفی جذبات آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں۔

روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ یہی ضبطِ نفس روحانی بلندی کا زینہ بنتا ہے۔ عبادت، تلاوتِ قرآن اور دعا کے ذریعے انسان اپنے رب سے قریب ہوتا ہے اور یہ قرب ہی روح کی اصل غذا ہے۔

جسمانی صحت

جدید سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ متوازن انداز میں رکھا گیا روزہ جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ روزہ نظامِ ہاضمہ کو آرام دیتا ہے، جسم سے فاسد مادّوں کے اخراج میں مددگار بنتا ہے اور میٹابولزم کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

آج کل "انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ" کو صحت کے لیے مفید قرار دیا جا رہا ہے، جو دراصل روزے کے اصولوں سے مشابہ ہے۔ تاہم اسلامی روزے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض جسمانی ڈائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی و اخلاقی تربیت بھی ہے۔ اعتدال کے ساتھ سحری اور افطار کرنے سے جسم توانائی بھی حاصل کرتا ہے اور توازن بھی برقرار رہتا ہے۔

ذہنی سکون

روزہ ذہنی طور پر بھی انسان کو مضبوط بناتا ہے۔ جب انسان خواہشات پر قابو پانا سیکھ لیتا ہے تو اس کی قوتِ ارادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

عبادت، ذکر اور دعا دل کو اطمینان بخشتے ہیں۔ روزہ دار کا دل ایک خاص طمانیت محسوس کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا کے لیے ایک مقدس فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہی احساسِ قربت ذہنی دباؤ کو کم کرتا اور دل کو سکون عطا کرتا ہے۔

معاشرتی رواداری

روزہ ہمیں دوسروں کے دکھ درد کا احساس بھی دلاتا ہے۔ جب انسان خود بھوک اور پیاس کا تجربہ کرتا ہے تو وہ ضرورت مندوں کی تکلیف کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔ یہی احساس سخاوت، ہمدردی اور ایثار کو جنم دیتا ہے۔ افطار کی اجتماعی محفلیں اور باہمی روابط معاشرے میں محبت اور اخوت کو فروغ دیتے ہیں۔

لہذا روزہ ایک ہمہ جہت عبادت ہے جو انسان کی روح کو پاکیزہ، جسم کو صحت مند اور ذہن کو پرسکون بناتی ہے۔ یہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کو بہتر فرد اور ذمہ دار شہری بناتا ہے۔ اگر ہم روزے کی اصل روح کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

روزہ دراصل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اصل کامی

ابی نفس پر قابو پانے، دل کو صاف رکھنے اور رب کی رضا کو مقدم جاننے میں ہے۔ یہی پیغام رمضان کا حسن ہے اور یہی اس کی اصل برکت۔

تحریر : فدا حسین ساجدی

آج رمضان کا پانچواں دن ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں رمضان سے پہلے کی تیاری کی بات نہیں کرنی، بلکہ خود سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان کے اندر آ چکے ہیں؟ روزے جاری ہیں، معمولات قائم ہیں، مگر اصل سوال دل کی حالت کا ہے۔ ماہِ رمضان رحمت کا مہینہ ہے، مگر یہ رحمت اندھی نہیں ہوتی۔ یہ اُن دلوں پر اترتی ہے جو اس کے لیے کھلے ہوں۔ اگر دل ابھی تک بوجھل ہیں، تو رمضان کا آنا بھی انسان کو اندر سے نہیں بدل پاتا۔

توبہ اور استغفار اسی دروازے کا نام ہیں جس سے گزر کر انسان رمضان کی اصل فضا میں داخل ہوتا ہے۔ جو شخص توبہ کے بغیر رمضان کے دنوں میں آگے بڑھتا ہے، وہ گویا گرد آلود دل کے ساتھ بارش میں چل رہا ہوتا ہے—پانی برستا ہے، مگر مٹی جم جاتی ہے۔ اس لیے آج بھی، رمضان کے اندر، خود کو صاف کرنے کی ضرورت باقی ہے۔

ہم توبہ کو اکثر صرف گناہوں کی معافی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ توبہ دراصل واپسی ہے—غلط سمت سے درست سمت کی طرف۔ یہ واپسی کسی ایک تاریخ یا ایک لمحے کی محتاج نہیں۔ اگر انسان صرف زبان سے استغفار کرے، مگر دل میں لوٹنے کا ارادہ نہ ہو، تو یہ استغفار الفاظ سے آگے نہیں بڑھ پاتا، چاہے رمضان کا کتنا ہی مبارک دن کیوں نہ ہو۔

رمضان انسان کو بدلنے آیا ہے، مگر بدلا ہوا انسان وہی بن سکتا ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لے۔ اعتراف کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ اگر اب تک ہم نے یہ سوچ کر خود کو ٹال دیا کہ “رمضان سے پہلے” توبہ کریں گے، تو آج یہ سمجھ لینا چاہیے کہ رمضان کے اندر بھی یہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔ دیر صرف نیت کی ہے۔

استغفار توبہ کی زبان ہے۔ یہ محض ایک ذکر نہیں، بلکہ دل کی عاجزی کا اظہار ہے۔ جب انسان بار بار کہتا ہے “میں نے غلطی کی”، تو اس کے اندر غرور ٹوٹتا ہے، اور یہی غرور اکثر گناہ کی جڑ ہوتا ہے۔ رمضان کے یہ دن ہمیں یہ موقع دیتے ہیں کہ ہم عبادت کے ساتھ ساتھ اپنی انا کو بھی توڑیں۔

لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: حقوقُ الناس۔ خدا اپنے حق میں کوتاہی کو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کو بندوں کی رضامندی کے بغیر نہیں۔ یہی وہ رکاوٹ ہے جو رمضان کے اندر بھی عبادت کو مکمل ثمر دینے سے روک دیتی ہے۔

اگر ان دنوں میں ہمیں یاد آ جائے کہ کسی کا دل دکھایا تھا، کسی کا حق دبایا تھا، یا کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی، تو یہی وقت ہے اس کی تلافی کا۔ یہ مت سوچیں کہ اب بہت دیر ہو گئی۔ رمضان تلافی کا مہینہ ہے، ٹالنے کا نہیں۔ معافی مانگنا عبادت کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی سچائی کی علامت ہے۔

حقوقُ الناس صرف مالی معاملات تک محدود نہیں۔ زبان کا زخم، رویے کی سختی، بے رخی اور بے توجہی بھی اسی دائرے میں آتی ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلقات کی بھی اصلاح کریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دین عبادت سے نکل کر زندگی کی صورت اختیار کرتا ہے۔

توبہ، استغفار اور حقوقُ الناس—یہ تینوں اگر رمضان کے اندر زندہ ہو جائیں تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور جب دل ہلکا ہو، تو روزہ محض بھوک نہیں رہتا، بلکہ ایک باطنی راحت بن جاتا ہے۔ انسان اپنے اندر ایک نئی شفافیت محسوس کرتا ہے، جیسے دل کے پردے آہستہ آہستہ ہٹ رہے ہوں۔

آج، رمضان کے پانچویں دن، یہ پیغام اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف جانے کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ یہ راستہ بندوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہ دل آج بھی صاف کیے جا سکتے ہیں

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

 تبدیلی کے بغیر انقلاب کا تصوّر ممکن نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کہیں انقلاب آئے اور تبدیلی نہ آئے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ ہوم ورک یعنی خاموش کمروں، سماجی ذمہ داریوں اور معاشرتی توازن کی باریک تدبیروں میں پروان چڑھے ہیں۔ ساتویں صدی کا مکہ اسی نوع کا ایک انقلابی مرکز تھا۔ اگر اسے اُس عہد کا خطے کا سب سے حساس اور مؤثر مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ عرب کے تجارتی راستے، قبائلی اتحاد، مذہبی روایات اور معاشی مفادات سب اسی شہر میں ایک دوسرے سے گُندھے ہوئے تھے۔ ساتویں صدی کا شہرِ مکہ محض ریگزاروں میں گھرا ہوا ایک شہر نہ تھا، وہ عرب کے جغرافیے، تجارت، قبائلی سیاست اور مذہبی مرکزیت کا نقطۂ اتصال بھی تھا۔ یہاں قافلوں کی گرد بھی اٹھتی تھی اور بتکدوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ طاقت کی تمام مرئی و غیر مرئی رگوں کا سنگم تھا۔ یہ ایک ایسا مرکز تھا، جہاں سے ہونے والا کوئی ایک اعلان اطراف کے پورے نظام کو ہلا سکتا تھا۔

اسی منطقے میں ختمِ نبوّت کا علان ہوا۔ یہ اعلان کبھی خاموش کمروں میں اور کبھی مستضعف افراد کے صبر کی صورت میں، کبھی حضرت بلالؓ کی احد احد کی صدا بن کر اور کبھی حضرت عمّار یاسر ؓ کی سرگوشی بن کر گونجتا رہا۔ اُس زمانے میں ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہماری طرح فقط کلمہ پڑھنا نہیں تھا۔ اُس وقت ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب دراصل اللہ کے آخری نبیؐ کی حرمت، بقا اور تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا تھا۔ تاریخ میں کہیں اگر ایسے ایمان کی عملی تفسیر تلاش کرنی ہو تو حضرت ابو طالبؑ ؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے۔ ان کے ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کی کیفیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس شہر کی فضا کو محسوس کیا جائے کہ جس کے دامن میں حضرت ابو طالبؑ نے نبی ؐ کیلئے دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج قائم کیا۔

ایسے شہر میں عامُ الفیل سے پینتیس برس قبل ایک طفل پیدا ہوا، جسے تاریخ نے حضرت ابو طالبؑ کے نام سے محفوظ کیا۔ ان کے والد عبدالمطلبؑ قریش کے رئیس تھے۔ انہی کے وصال کے بعد جب محمدﷺ کی عمر آٹھ برس تھی تو اُن کی  کفالت کی ذمہ داری حضرت ابو طالبؑ کے سپرد ہوئی۔ یہ کفالت جہاں ایک خاندانی ذمہ داری وہیں یہ ایک الہیٰ امانت کی حفاظت بھی تھی۔ ایسی امانت جو آنے والے زمانوں کے لیے آخری نبوت کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔ جب حضرت محمدﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو یہ طاقت کے توازن میں ایک گہری لرزش تھی۔ اس سے مکّے میں ایک نئی دعوت اُبھری۔ توحید کا نعرہ بلند ہوا اور اب اس پیغام کو اپنی تبلیغ و بقا کیلئے محض لوگوں کے ایمان لانے کی نہیں، بلکہ تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ ایسی فضا میں حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ سفر ہو یا حضر،  دونوں ساتھ  ساتھ رہے۔

بُصریٰ کے سفر میں راہب بحیرا کے سامنے حضرت ابو طالبؑ نے حضورؐ کو  اپنا بیٹا کہا۔یہ محبت فقط چچا اور بھتیجے کی محبت نہ تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا، جب محمدﷺ کا منصبِ نبوّت اہلِ مکہ کیلئے چیلنج بن گیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی ہے اور اب ہدایت کی آخری کڑی ظاہر ہوچکی ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا تھا کہ اس پیغام کو تحفظ ملے اور اس تحفظ کیلئے کوئی ڈھال درکار تھی۔ وہ ڈھال حضرت ابو طالبؑ ؑ بنے۔ انہوں نے طاقت کی مختلف اکائیوں قبائلی وقار، سماجی اثر، مذہبی مقام اور اخلاقی اعتبار کو اس مہارت سے ہم آہنگ رکھا کہ ایک نوزائیدہ تحریک کو سانس لینے کی مہلت مل گئی۔ اُس وقت اگر قریش کی مذکورہ بالا اکائیاں بکھر جاتیں تو پھر دشمن کئی سمتوں سے حملہ آور ہوسکتے تھے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایک طرف پیغمبرﷺ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کے داخلی اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ یوں اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے روکا۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی، جس نے خطرات کو محدود رکھا اور دشمنی کو چاروں طرف سے حملہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔

قریش کی دھمکیاں، لالچ، دباؤ۔۔۔ سب سامنے آئے۔ کبھی کہا گیا کہ دعوت چھوڑ دو، کبھی متبادل پیش کیے گئے، کبھی قتل کی سازشیں ہوئیں۔ یہ سب اپنی جگہ جاری رہا، لیکن حضرت ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ کا قبائلی روایات سے مقابلہ کیا۔ جب مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائی گئیں تو حضرت ابو طالبؑ نے شعبِ ابیطالب میں داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ جب بھی شدت پسندی کا اندیشہ پیدا ہوا تو انہوں نے سفارتی نرمی اختیار کر لی۔ حضرت ابو طالبؑ کی مزاحمت و استقامت جامد نہ تھی۔ وہ حالات کے مطابق اپنی سفارت کاری کو جاری رکھتے تھے۔ کبھی رعب سے، کبھی دلیل سے اور کبھی خاموشی سے۔ انہوں نے بنو ہاشم کو نبی ؐ کے گرد ایک دفاعی دیوار کی شکل میں کھڑا کر دیا۔ ایسی دفاعی دیوار جسے گرانے کی قیمت سارے قبائل کو چکانی پڑتی۔

انہوں نے اپنی مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے بنو ہاشم کو جمع کرکے حضورؐ کے لئے ایک مضبوط اور غیر لچکدار دفاعی حصار تشکیل دے دیا۔ اس دوران مکے میں قبائلی توازن کو بھی برقرار رکھا، تاکہ دعوت کا عمل مسلسل جاری رہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور نت نئے امتحانات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں فاقے برداشت کیے، لیکن امتحانات میں کبھی رسولﷺ کی حوصلہ افزائی و سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اِن تین سالوں کے دوران داخلی روابط اور عزم و ہمّت سے مسلمانوں کی جماعت کو قائم رکھا۔ انہوں نے اس بحران میں ایک بہترین قائد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ کی مدبرانہ قیادت کی بدولت بغیر کسی رسمی معاہدے یا تحریری دستور کے شعب ابیطالب کا محاصرہ ختم ہوا۔

قریش کی اندرونی تمام تر مشکلات کے باوجود حضرت ابو طالبؑ قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ان کی شخصیت ایک اخلاقی اتھارٹی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالفین اپنی حدود میں رہنے پر مجبور رہے اور قریش کا غیض و غضب ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کی قیادت و حکمت کا مرکز ایک ہی تھا کہ رسولِ خداﷺ کا تحفظ ہر قیمت پر ہونا چاہیئے۔ چنانچہ انہوں نے قریش کے قدیم نظام کو یکدم منہدم کرنے کے بجائے اسی نظام کے اندر شمع نبوّت کے روش ہونے کی جگہ بنائی۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین سفارتکاری تھی۔ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے، لیکن مخالفین کو کسی مشترکہ نتیجے پر نہ پہنچنے دیتے۔ قریش جانتے تھے کہ اگر حضرت ابو طالبؑ کو  راستے سے ہٹا دیا جائے تو پیغمبرﷺ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے سارا قبائلی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

مقامِ تعجب ہے کہ قریشِ مکّہ جس شخص کے خون کے پیاسے تھے، اُس کی موجودگی اُن کیلئے ناگزیر بن گئی تھی۔ جب بعثت کے دسویں سال میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور چند ہی دن بعد حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ بھی دنیا سے چلی گئیں تو اس سال کو نبی ؐ کی طرف سے "عامُ الحزن" کہا گیا۔ ان کی رحلت نے واضح کر دیا کہ تحریکیں صرف نظریات کے سہارے آگے نہیں بڑھتیں، انہیں پس منظر میں موجود مدبر نگہبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام اگر اپنی ابتدائی ساعتوں میں محفوظ رہا تو اس کے پیچھے کسی لشکر یا فوج کی محافظت نہ تھی، بلکہ ایک مردِ دانا کی خاموش بصیرت تھی۔ حضرت ابو طالبؑ نے قدیم دنیا کو توڑے بغیر اسی کے اندر ایک نئی دنیا کیلئے جگہ پیدا کی۔ وہ عبوری عہد کے معمار تھے۔ ایسے معمار جنہوں نے اپنے وقار، تدبر اور اخلاقی قوت سے ختمِ نبوّت کے چراغ کو آندھیوں سے بچائے رکھا۔

حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کا رخ بدل دیا۔ حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے، جس پر نام نہیں لکھا جاتا اور سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے، جس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے، جو خود مرکز میں نہیں ہوتا، لیکن وہ مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔

تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ یورپی ممالک نے دنیا کے بڑے حصے کو خون میں نہلا دیا تھا۔ شہر کے شہر کھنڈر بن چکے تھے۔ ساحلوں سے لے کر شہروں کے قلب تک لاشوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ہر طرف آگ اور خون کا بازار گرم تھا، لیکن اس تباہی کے باوجود انسانیت کے دشمن مطمئن نہ تھے۔ لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن چکے تھے، مگر جنگی جنون رکھنے والے افراد پلک جھپکنے میں لاکھوں اور انسانوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے تحت امریکہ اور جرمنی دونوں ایٹم بم بنانے کی دوڑ میں شامل ہوچکے تھے۔ دونوں جانب جان لیا گیا تھا کہ جو فریق یہ ہلاکت خیز ہتھیار پہلے بنائے گا اور استعمال کرے گا، وہی اس جنگ کا فاتح ٹھرے گا۔

ہٹلر کی نگاہوں میں جرمنی کے یہودی دشمن تصور کیے جاتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت اُس نے ان کے خلاف سخت پالیسیاں اختیار کیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں  3 جون 1933ء کو 26 ممتاز جرمن سائنسدانوں میں سے 14 نے ملک چھوڑ دیا۔ ان میں البرٹ آئن اسٹائن بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد ازاں امریکہ میں ایٹمی تحقیق کے سلسلے کو آگے بڑھایا اور ایٹم بم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی ٹیم میں میکس بورن، جیمز فرانک، ماریا گوپرٹ مایر اور دیگر اہم سائنسدان شامل تھے۔ یوں دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کو کامیاب بنانے اور عالمی طاقت بنانے میں ان سائنسدانوں، خصوصاً یہودی سائنسدانوں کا اہم کردار رہا۔ جرمنی سے ہجرت کرنے والے بعض یہودی سائنسدان برطانیہ اور بعض فرانس چلے گئے۔ یہودی سائنسدانوں کی اس خدمات اور اتحاد کا اثر ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے قریب، 16 جولائی 1945ء کو امریکہ نے نیو میکسیکو میں فزکس کے ممتاز سائنسدان رابرٹ اوپن ہائیمر کی سربراہی میں ایٹم بم کا پہلا تجربہ کیا۔ ایٹم بم کی ایجاد کے  بعد، 6 اگست 1945ء کو صبح 8 بج کر 15 منٹ پر امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس سے لاکھوں جاپانی شہری لقمہ اجل بنے اور پورا شہر تباہ ہو گیا۔ تین دن بعد، 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا گیا، جس نے مزید لاکھوں جانیں لیں اور شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ یہ وہی امریکہ ہے جس نے اب تک تیس کے قریب ملکوں پر حملے کیے ہیں۔ لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، اور آج خود کو "عالمی امن کا علمبردار" قرار دیتا ہے۔

امریکہ کے بعد اگر دنیا میں کسی ملک نے سب سے زیادہ مظالم ڈھائے ہیں تو وہ اسرائیل ہے۔ غزہ میں بچوں، عورتوں، اسپتالوں، خیمہ بستیوں اور حتیٰ کہ میڈیا سینٹرز تک کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل چھ عرب ممالک کے ساتھ جنگ کر چکا ہے اور اب فلسطین، لبنان، شام اور حال ہی میں ایران میں مختلف تنصیبات پر حملے کر چکا ہے۔ ان حملوں میں جیلوں، تعلیمی اداروں، گھریلو مقامات، حتیٰ کہ ہسپتال اور خیمہ بستیاں بھی محفوظ نہیں رہے۔ اگر دنیا اسرائیل اور امریکہ کی اس جارحیت پر خاموش رہی تو یہ دونوں ممالک دنیا میں کسی ملک کو پُرامن نہیں رہنے دیں گے۔

وقت ہے کہ عالمی برادری جاگے، اس سے پہلے کہ سب کچھ کچلا جائے۔ امریکہ و اسرائیل عالمی قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے لاپرواہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک نے خود کئی ایٹم بم بنا رکھے ہیں اور ایٹم بم سمیت انتہائی کیمیائی اور مہلک ہتھیار استعمال کرچکے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام اور حق قبول نہیں ہے۔ آج سے سات سال قبل جوہری ہتھیاروں کے بارے میں یہ رپورٹ عام تھی جس کے مطابق دنیا میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد 9 ہے، جن کے پاس مجموعی طور پر ہزاروں ایٹم بم ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق:
امریکہ اور روس کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں، جن کی تعداد بالترتیب تقریباً 330 سے زائد ہے۔
چین کے پاس تقریباً 280
برطانیہ کے پاس 225 کے قریب
پاکستان کے پاس 150 کے لگ بھگ
بھارت کے پاس 140 کے قریب
شمالی کوریا کے پاس 30 سے 40 
اسرائیل کے پاس بھی تقریباً 40 سے 90 ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
پاکستان، ایران اور دیگر 35 ممالک انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے رکن ہیں، جو عالمی قوانین کے مطابق اپنی جوہری پالیسیز کو پُرامن انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ اسرائیل نہ صرف IAEA کا رکن نہیں ہے، بلکہ اُس پر کوئی عالمی دباؤ بھی نہیں کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار ظاہر کرے یا پُرامن رویہ اختیار کرے۔ اُسے کھلی چھوٹ ہے کہ چاہے غزہ پر حملہ کرے یا شام و لبنان پر، کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ دوسری طرف ایران، جو IAEA کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، اُس پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں 12 جون کو امریکہ نے IAEA میں ایک قرار داد پیش کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو "دنیا کے لیے خطرہ" قرار دیا گیا۔ روس، چین اور برکینا فاسو نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ امریکہ و اسرائیل عالمی دہشت گرد اس وقت ایک اور عالمی بربریت کے قریب ہیں۔

تحریر: محمد بشیر دولتی