سلیمانی
یمن کے حجہ صوبے میں سعودی جاسوس ڈرون مار گرایا گیا
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے اعلان کیا ہے کہ یمنی فورسز نے سعودی فوج کے ایک اور جاسوس ڈرون کو یمن کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔
یحیی سریع نے بتایا کہ یمنی مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے کاریال طرز کے مسلح جاسوس ڈرون کو حجہ صوبے کی فضائی حدود میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران یمن کی فضائی حدود میں سعودی جاسوس ڈرونز کو مار گرانے کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔
اس سے قبل جنرل یحیی سریع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمنی فورسز نے سعودی دشمن سے وابستہ CH-4 طرز کے ایک مسلح جاسوس ڈرون کو صوبہ الجوف کے اوپر ایک دشمنانہ مشن انجام دیتے ہوئے مار گرایا۔
انہوں نے کہا تھا کہ مذکورہ ڈرون 12 گھنٹوں کے دوران مار گرایا جانے والا دوسرا اور 24 گھنٹوں کے دوران چوتھا ڈرون تھا، جسے نشانہ بنایا گیا۔
20 بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں پر ایران کے حملے
سپاہ پاسداران کے شعبہ رابطہ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کے 2 جہازوں اور 8 آئل ٹینکروں نیزآبنائے ہرمز کے غیر محفوظ اور ممنوعہ علاقوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 10 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سپاہ پاسداران کے شعبہ رابطہ عامہ نے ایران کے مومن اور شجاع عوام کے نام بیان جاری کرکے کہا ہے کہ آپ نے تقریباً 190 راتوں سے شہروں کی اہم سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے اجتماع کا سلسلہ جاری رکھ کر، بصیرت اور استقامت کا حقیقی مظاہرہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "سپاہ نیوی میں غیور فرزندان ملت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول باقی رکھتے ہوئے، آپ کی امانت کی پاسداراری کررہے ہیں۔
ایرانی عوام کے نام جاری ہونے والے سپاہ پاسداران کے اس اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد امریکی فوج نے اپنی شرپسندانہ جارحیت میں خلیج فارس میں ایران کے پانچ آئل ٹینکروں پر حملہ کیا جس کے جواب میں سپاہ نیوی کے بہادر جوانوں نے اس کے دو جہازوں اور 8 آئل ٹینکروں پر حملہ کرکے سنگین نقصان پہنچایا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسی طرح دہشت گرد امریکی فوج کے ورغلانے پر دس بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کے غیر محفوظ اور ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی جو سپاہ نیوی کے جوانوں کے حملوں کا نشانہ بن گئے
بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پوری طرح سپاہ نیوی کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی دشمن کی اسمارٹ آبدوز کا کامیاب شکار
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان نمبر 12 میں بتایا ہے کہ اس کی نیول فورس کے جوانوں نے آج ایک آپریشن کے دوران آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی دہشت گرد فوج کی ایک جدید ترین اسمارٹ آبدوزDive-LD کو پیچیدہ آپریشن کے دوان اپنی گرفت میں لیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سمارٹ آبدوز دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس تھی اسے 2025 میں امریکی دہشت گرد فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔یہ آبدوز مال غنیمت کے طور پر ایران کے پاس ہے اور بہت جلد اس کی تصاویر جاری کردی جائیں گی۔
Dive-LD خود کار آبدوز امریکی کمپنی Anduril Industries کی ایک پروڈکٹ ہے، جسے پہلی آبدوز 2025 میں امریکی بحریہ کے سب سرفیس سسٹمز یونٹ کو فراہم کی گئی تھی۔ یہ آبدوز تقریباً 5.8 میٹر لمبی اور تقریباً تین ٹن وزنی ہے اور اسے آزادانہ طور پر گہرے پانی میں طویل مشن انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
Dive-LD دس دن تک پانی کے اندر رہ سکتی ہے، 6,000 میٹر کی گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماڈیولر ڈیزائن اور 3D پرنٹ شدہ حصے مختلف قسم کے سینسرز اور مشن پے لوڈز کی تیزی سے تنصیب کی اجازت دیتے ہیں۔
سمندر میں جاسوسی اور نگرانی، اوشینوگرافی ، بارودی سرنگوں کا پتہ لگانا، سب میرین کیبلز اور پائپ لائنوں کا معائنہ، سب میرین جنگ میں اور معلومات کی ترسیل میں معاونت اس کے اہم ترین مشنوں میں شامل ہیں۔
خود کاری ، پائیداری ، اور مشن کی تبدیلی Dive-LD کی بنیادی طاقت شمار ہوتی ہے۔
ایران کی فوجی آمادگی
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے سربراہ نے سبھی حالات میں، ہرقسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل آمادگی کا اعلان کیا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے کمانڈر، بریگیڈیئر علی جہانشاہی نے سولہویں بکتر بند ڈیویژن کے معائنے کے موقع پر کہا کہ فوج کو ہر قسم کے خطرات اور جارحیت کے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔
انھوں نے بکتر ڈیویژن کے دستوں کے جنگی وسائل اور ان کی دفاعی نیز حملہ کرنے کی توانائیوں کا معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ بری فوج، ملک کی سرحدوں کے دفاع اور ہر قسم کی جارحیت اور خطرات کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملہ
اردن کے علاقے الازرق میں واقع موفق السلطی ایئربیس اور شہزادہ حسن ایئربیس ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔
عرب میڈیا نے اردن کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی خبر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے، جس کے بعد اردنی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو فضا میں بھیجا گیا۔
الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق اردن کے شمالی شہر اربد، دارالحکومت امان اور ملک کے دیگر مشرقی و شمالی علاقوں میں میزائلوں کی روک تھام کی کارروائیاں دیکھی گئیں۔
شامی ٹیلی ویژن نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی میزائل سویدا کی فضائی حدود سے گزر کر اردن کی جانب گئے۔
بعض میڈیا رپورٹس میں بحرین میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی زیر آب جاسوسی نظام کیسے سپاہ پاسداران کے ہاتھ لگ گیا؟
مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: سپاہ پاسداران کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ایک امریکی خودکار اور بغیر انسان کے زیر آب نظام کو قابو کرکے قبضے میں لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی پیچیدہ اطلاعاتی اور عملی نگرانی کے نتیجے میں انجام دی گئی۔
سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ زیرآب نظام کی تصاویر بھی جاری کرنے کے بعد اس کی درست ساخت، ترتیب اور اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکیں گی۔
یہ واقعہ محض ایک غیر ملکی نظام کے قبضے میں آنے تک محدود نہیں بلکہ جدید بحری جنگ میں بغیر انسان کے چلنے والے زیر آب نظاموں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے تناظر میں بھی قابل توجہ ہے۔
Dive-LD آخر ہے کیا؟
دستیاب معلومات کے مطابق سپاہ کے ہاتھ آنے والا نظام Dive-LD ہے۔ یہ روایتی آبدوز نہیں بلکہ ایک بڑا خودکار زیرِ آب نظام ہے، جسے کسی انسان کو اندر سوار کیے بغیر طویل عرصے تک سمندر کی گہرائی میں مختلف مشنز انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام کو ابتدا میں امریکی کمپنی Dive Technologies نے تیار کیا تھا۔ بعد ازاں اس کمپنی کے حصول کے بعد Dive-LD کی مزید ترقی کا کام Anduril Industries کے پاس آگیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق Dive-LD کا پہلا نمونہ اپریل 2025 میں امریکی بحریہ کی یونٹ UUVRON-1 کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے عملی ماحول میں آزمایا جاسکے۔
اس کی لمبائی تقریباً 5.8 میٹر اور وزن قریب تین ٹن بتایا جاتا ہے۔ یہ حجم اسے عام چھوٹی زیرآب ڈرون یا تفریحی آبی گاڑی سے کہیں زیادہ بڑا اور پیچیدہ نظام بناتا ہے۔
انسان کے بغیر کئی دن زیرآب رہنے کی صلاحیت
Dive-LD کی بنیادی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے۔ اس میں انسان کے سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ طویل عرصے تک زیر آب رہ کر مقررہ مشن انجام دے سکتا ہے۔
اس نظام کے بارے میں جاری کردہ معلومات میں تقریباً 10 دن تک زیر آب رہنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے انتہائی گہرائی میں آپریشن کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے اور بعض معلومات کے مطابق یہ تقریباً 6 ہزار میٹر تک گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم یہ اعداد و شمار تیار کنندہ کی جانب سے بیان کردہ صلاحیتوں پر مبنی ہیں اور حقیقی جنگی حالات میں اس کی کارکردگی مختلف ہوسکتی ہے۔
صرف نگرانی نہیں، کئی طرح کے مشنز
Dive-LD کو مختلف نوعیت کے زیرِ آب مشنز کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان میں زیر آب نگرانی، معلومات جمع کرنا، سمندر کی تہہ کا نقشہ تیار کرنا اور بارودی سرنگوں کی تلاش شامل ہیں۔
یہ نظام سمندر میں موجود پائپ لائنوں، کیبلز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے علاوہ آبدوز شکن کارروائیوں میں معاونت کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ اس کا ماڈیولر ڈیزائن اسے مزید اہم بناتا ہے، کیونکہ مختلف مشنز کے مطابق اس پر مختلف سینسرز اور آلات نصب کیے جاسکتے ہیں۔
یوں اس نظام کی اصل طاقت صرف اس کے جسم اور انجن میں نہیں بلکہ اس میں نصب سینسرز، نیوی گیشن، مواصلاتی نظام، ڈیٹا پراسیسنگ اور مشن سے متعلق آلات میں بھی پوشیدہ ہے۔
جاسوسی نظام پر قبضہ سپاہ پاسداران کی اہم کامیابی
سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں اس کارروائی کے لیے اطلاعاتی اور عملی برتری کا حوالہ دیا ہے۔ زیر آب ایک خودکار نظام کا سراغ لگانا آسان کام نہیں ہوتا، کیونکہ سمندر کی گہرائی میں مواصلات، نگرانی اور ہدف کی شناخت سطح زمین یا فضا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
اس کارروائی میں صرف زیر آب نظام کا سراغ لگانا ہی کافی نہیں تھا بلکہ اس کی موجودگی کی تصدیق، نوعیت کا تعین اور پھر اسے قابو میں لینا بھی ضروری تھا۔ سپاہ پاسداران کی یہ کارروائی ایران کی زیر آب نگرانی اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی ایران کے اختیار میں
کسی جدید بغیر انسان کے زیر آب نظام کا سالم حالت میں قبضے میں آنا صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ تکنیکی اور اطلاعاتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
اگر Dive-LD کے اہم حصے محفوظ حالت میں موجود ہیں تو ایرانی ماہرین اس کی ساخت، سینسرز، نیوی گیشن، مواصلاتی نظام اور دیگر ٹیکنالوجی کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
اس طرح حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں اسی نوعیت کے نظاموں کی شناخت، ان کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات کی تیاری میں مددگار ہوسکتی ہیں۔
یعنی جو نظام کسی علاقے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، اس کے قبضے میں آنے کی صورت میں وہ خود مخالف کے لیے معلومات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
جدید جنگ میں کسی نظام کو تباہ کرنا ایک کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن اسے سالم حالت میں تلاش کرکے قابو میں لینا اس سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں دشمن نہ صرف اپنا ایک عملی اثاثہ کھوتا ہے بلکہ اپنی حساس ٹیکنالوجی کا ایک حصہ بھی مخالف کے مطالعے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں زیرآب مقابلے کی نئی شکل
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کے داخلی راستے پر کسی غیر ملکی زیر آب نگرانی کے نظام کی سرگرمی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ایران کے لیے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سیکورٹی قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں غیر ملکی طاقتوں کے بغیر انسان کے چلنے والے نگرانی کے نظاموں کی موجودگی ایرانی دفاعی اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب عالمی بحری جنگ بھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ بغیر انسان کے بحری اور زیرِ آب خودکار نظام بھی جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتے جارہے ہیں۔
مستقبل کی جنگ کا میدان سطح سمندر کے نیچے
Dive-LD کا واقعہ اس وسیع تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں مستقبل کی جنگ صرف میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور روایتی جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہے گی۔
خودکار زیرِ آب نظام، مصنوعی ذہانت، جدید سینسرز، ڈیٹا پراسیسنگ اور الیکٹرانک جنگ مستقبل کی بحری کشمکش میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سپاہ پاسداران کی جانب سے وعدہ کردہ تصاویر اور مزید تکنیکی معلومات جاری کرنے کے بعد اس نظام کی حقیقی ساخت، نصب شدہ آلات اور ٹیکنالوجی کی اہمیت کا زیادہ درست اندازہ لگایا جاسکے گا۔
بقائی: جنگ امریکا نے شروع کی ہے لیکن چاہتا ہے کہ پوری دنیا اس کی قیمت ادا کرے
سلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر ایک پیغام جاری کرکے آبنائے ہرمز میں بدامنی کے بارے میں امریکا کے دعووں کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔
انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ 28 فروری سے پہلے، جب امریکا اور صیہونی حکومت نے ایران پر حملہ کیا، آبنائے ہرمز پوری طرح کھلی ہوئی تھی۔
اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ واشنگٹن نے اس علاقے پر غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کی اور جہازرانی مختل کردی۔
انھوں نے لکھا ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت رک گئی، تجارت مختل ہوگئی اور ایندھن کی قیمت بے تحاشا بڑھ گئی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لکھا ہے کہ اب واشنگٹن اس بدامنی کا ذمہ دار ایران کو بتانے کی کوشش کررہا ہے جوخود اس نے پیدا کی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی اس غیر قانونی جنگ کی بھاری قیمت پوری دنیا ادا کرے۔
کوریا تہران کی دھمکی اور امریکی دباؤ پر شش و پنج کا شکار، کوریائی میڈیا کا انکشاف
، کوریائی میڈیا ’’جونگ آن‘‘ نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر سیئول نے اپنے فوجی اہلکار بھیجے تو اسے امریکہ کی حمایت میں جنوبی کوریا کی جانب سے جنگ میں فریق بننے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ جنوبی کوریا کی ایسی شرکت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں، کیونکہ ٹرمپ پہلے ہی جنوبی کوریا کی کارکردگی سے ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔
اس میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایرانی ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے تنازع میں جنوبی کوریا کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو جنگ میں شرکت تصور کیا جائے گا۔
جونگ آن کے مطابق، مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے فوجی منصوبوں کا خیرمقدم کرنے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دے رہا، بالخصوص یہ سوال بھی موجود ہے کہ آیا سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی ہی کافی ہوگی یا نہیں۔
جنوبی کوریا کی جانب سے غیر جنگی سازوسامان اور اہلکار بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد، جن میں ایک لاجسٹک سپورٹ بحری جہاز، P-8A میری ٹائم گشت طیارہ اور دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے والے ماہرین شامل ہیں، امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے بجائے معاملہ سیئول کی جانب بھیج دیا ہے۔
ایران میں شادی کی تقریب پر وحشیانہ امریکی حملے کے آثار
منگل 1 ستمبر کی شام ایران کے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں شادی کی تقریب پرامریکا نے وحشیانہ فضائی حملہ کرکے، 72 افراد کو خاک وخون میں غلطاں کرکے شادی کے جشن کو سوگ میں تبدیل کردیا۔ امریکا کے اس وحشیانہ حملے میں 4 بے گناہ شہید اور 68 زخمی ہوگئے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹا ہے: جنرل محسن رضائی
جنرل محسن رضائی نے اتوار کی رات خصوصی نیوزٹاک میں کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے پہلے، یہاں سے، روزآںہ 100 سے زائد بحری جہاز 10 کروڑ ٹن سے زیادہ سامان لاتے اور لے جاتے تھے لیکن اب یہاں سے ایران کے بنیادی سامان کے حامل 7 سے 8 بحری جہاز آتے اور جاتے ہیں۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ امریکی غیر قانونی طور پر اسمگلنگ کے راستے، کافی پیسے خرچ کرکے، 5 سے 6 بحری جہاز یہاں سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جو معمولاؑ ہمارے حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ البتہ ایران نے اب تک امریکا کے اسمگلنگ کے جہازوں کو ڈبونے کی کوشش نہیں کی ہے کیونکہ ان میں تیل ہوتا ہے اور ان کے ڈوبنے سے علاقے کے ماحول حیات میں آلودگی پھیلے گی۔
جنرل محسن رضائی نے ایران کے نئے اسپیشل میزائل کے بارے میں بتایا کہ 48 گھنٹے قبل، پہلی بار، جنگی جہاز تباہ کرنے والے ایرانی میزائل کا ایک امریکی بحری بیڑے پر حملے میں تجربے کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس اسپیشل میزائل نے امریکیوں پر جہنم کا دروازہ کھول دیا اور انھوں نے راہ فرار اختیار کی۔
جنرل رضائی نے بتایا کہ ایران نے امریکا کے بعض اہم مراکز کا پتہ لگاکر انھیں نشانے پر لے رکھا تھا لیکن ان پر حملہ نہیں کیا تھا، جیسے اردن میں امریکا کا ٹیٹین کیمپ (Camp Titin)اورعراقی کردستان کے علاقے اربیل میں امریکا کے بعض اہم اڈے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان اڈوں پرحملوں کے بعد امریکا اس 10 روزہ جنگ سے پیچھے ہٹ گیا جس کا اعلان کیا تھا ۔ اس طرح امریکا کی 10 روزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔






















































![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
