سلیمانی

سلیمانی

رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔

رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا جوہری پروگرام شامل نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل ایک باخبر ذریعے نے مہر کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی ویب سائٹ آکسیوس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام نکات امریکی فریق کے دعوے اور بیانیے پر مبنی ہیں اور ایرانی فریق ان کی تصدیق نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے آکسیوس نے ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

اس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نصب بحری بارود کو ہٹانے جیسے نکات شامل ہیں۔

خاتم الانبیاء مرکزی قرارگاہ کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کسی بھی نئی جارحیت کا سخت جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ملک کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا ایسا جواب دیں گی جس پر دشمن کو شدید پچھتاوا ہوگا۔

جنگ رمضان کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج کی عظیم مزاحمت اور کامیابی نے ثابت کر دیا کہ قوم کا خدا کی قدرت پر ایمان، اعتماد اور مقامی دفاعی صلاحیتوں پر انحصار عالمی سطح پر عزت، وقار اور اسٹریٹجک طاقت کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے۔

انہوں نے مزاحمت، استقامت، بیداری اور امریکی و صہیونی دشمن کے مقابلے میں ہوشیاری جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی طاقتور مسلح افواج اور رہبر انقلاب کی رہنمائی کی بدولت خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا اور اس آبی گزرگاہ کے خلاف دشمن کی سازشوں اور جارحیت کا خاتمہ کرے گا۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے مزید کہا کہ ہم دشمنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق رہبر انقلاب کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی خطے کے مستقبل کی ضمانت بنے گی۔

انہوں نے تاکید کی کہ ملک کی طاقتور مسلح افواج ماضی کے تلخ تاریخی تجربات کو دوبارہ نہیں دہرانے دیں گی اور کسی بھی جارحیت کا جہنم جیسا اور پچھتاوے سے بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک بیان میں "آبادی، ایک کثیر الجہتی مسئلہ" کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے۔

علامہ مصباح یزدی آبادی کے بحران کو محض ایک طبی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کی جڑ کو غلط اور بے دینی ثقافت میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ثقافتی سرمایہ کاری کے ذریعے دین کو زندہ کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر خدا اور انسانی اقدار پر اعتقاد درست ہو جائے تو دوسرے مسائل بھی اس کے سائے میں حل ہو سکتے ہیں۔

آبادی کا مسئلہ اور بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس مزید سنگین مسائل بھی ہیں جن کے معاشرے کے لیے کبھی کبھی فائدے بھی ہوتے ہیں۔

ایک طرف، حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ اسی حالت پر خوش ہیں اور دوسری طرف، بہت سے نوجوان بچے پیدا کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں، وہ آرام سے اور بغیر مشقت کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج معاشرے کی ثقافت یہی ہے۔

آبادی کی ترقی کی راہ میں متعدد رکاوٹیں ہیں جن کی جڑ سب کی سب غلط اور بے دینی ثقافت ہے۔

ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ جس سے دین زندہ ہو جائے، خدا پر اعتقاد، معنویت، ابدی زندگی اور انسانی اقدار کو نمایاں کیا جائے۔ اگر یہ حصہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل بھی درست ہو سکتے ہیں لیکن اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو ہمارا کوئی کام نتیجہ خیز نہیں ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی قانون بھی بنا دیں اور کچھ دن اس مسئلے پر توجہ بھی دیں لیکن کچھ عرصے بعد یہ سب بھول جائے گا اور وہی پرانی حالت رہے گی۔

میرے خیال میں ہمیں ثقافتی کام کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے، یہ پہلا قدم ہے۔ اگر یہ مسئلہ درست ہو گیا تو دوسرے مسائل اس کے سائے میں درست ہو سکیں گے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی دہائیوں سے دینی اقدار شدت سے کمزور ہو رہی ہیں۔ یہ کام خاص طور پر ان ویب سائٹس، چینلز اور پروگراموں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو مسلسل نوجوانوں اور حتیٰ کہ بچوں کو نہ صرف دین سے بلکہ خاندانی اقدار سے بھی بے رغبت کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا اسکریننگ وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ ثقافت بدل گئی ہے۔

(مرحوم علامہ مصباح یزدی کے بیانات سے ماخوذ، 6/10/1397 شمسی بمطابق 27 دسمبر 2018ء)

صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہفتے کی صبح کو تہران میں پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اور گفتگو کی۔

صدر مملکت نے اس موقع پر خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکام ایران کے برادر ہیں اور ہمارے رشتے مضبوط ہیں۔

انہوں نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک جسم کا اعضا قرار دیا اور کہا کہ امت مسلمہ کے سامنے اتحاد اور تعاون کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور اختلاف اور محاذآرائیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عالمی قوانین کی اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مکمل پابندی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ سے زور دیکر کہا کہ ہم اپنے عوام کے مسلمہ حقوق کے خواہاں ہیں لیکن امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور ماضی کے تجربات کے پیش نظر ہم سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہے ہیں۔

صدر مملکت نے صاف انداز میں کہا کہ امریکہ اس تنازعے سے کامیاب ہوکر باہر نہیں نکل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں علاقے اور دنیا کے ملکوں کو بھاری نقصان پہنچے گا اور بس صیہونی حکومت ہے جو اس جنگ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے زور دیکر کہا کہ امریکہ کے ہاتھوں مسلسل عہدشکنی اور مذاکرات کے بیچ جارحیت اور اعلی عہدے داروں کے قتل کے نتیجے میں ایرانی عوام کو واشنگٹن پر ذرہ برابر بھروسہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر مذاکرات کو قبول کیا ہے لیکن تہران کا اصل ٹارگیٹ مناسب راستوں سے ایرانی عوام کے مفادات کو پورا کرنا ہے۔

اس موقع پر پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے دوبارہ ملاقات پر اظہار مسرت کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کا سلام صدر ایران کو پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ بقول ان کے بخوبی آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان کے اس موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہ اسرائیل مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور محاذآرائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے کہا کہ اسرائیل پاکستان سمیت جھڑپوں کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ہر کسی کا سنجیدہ دشمن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو خطے میں استحکام اور سلامتی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ وہ خطے میں صرف استحکام اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کا نتیجہ، ایران اور خطے کے تمام ممالک اور مسلمانوں کے حق میں ثابت ہو۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر ایک معنی خیز پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے تاریخ کے آئینے میں موجودہ عالمی صورتحال پر تبصرہ کیا ہے۔

بقائی نے ساسانی بادشاہ شاپور اول کی رومی شہنشاہ پر فتح کی تاریخی تصویر (سنگ تراشی) شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "شہنشاہ کو بالآخر حقیقت تسلیم کرنی پڑی۔"

ترجمان نے وضاحت کی کہ قدیم زمانے میں رومیوں کا یہ ماننا تھا کہ 'روم' ہی کائنات کا مرکز ہے، لیکن ایرانیوں نے ان کے اس غرور اور توہم کو چکنا چور کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رومی شہنشاہ 'فلپ عرب' کا ساسانی سلطنت کے خلاف مشرقی لشکر کشی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، بلکہ یہ مہم شاپور اول کی شرائط پر ہونے والے ایک ایسے امن معاہدے پر ختم ہوئی جہاں شہنشاہ کو زمینی حقائق تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا

 ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ٹرمپ اب ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں ان کے پاس ایرانی قوم کے جائز حقوق اور مطالبات کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔

میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میدان جنگ ہو یا سفارت کاری، ایرانی قوم کے جائز مطالبات کا حصول ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے امریکی اور صیہونی حکومت اس تیسری مسلط کردہ جنگ سے جان چھڑا سکتے ہیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے ایرانی قوم کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو یہ ٹرمپ اور صیہونی حکومت کے لیے مزید سنگین ناکامیوں اور بھاری قیمت چکانے کا سبب بنے گا۔ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو قبول کرنا پڑے گا تاکہ امریکی عوام اور عالمی برادری کو جنگ کے مزید نقصانات اور بھاری اخراجات سے بچایا جا سکے۔

جنرل طلائی نیک نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے امریکی قومی مفادات کو نظر انداز کرنا، صیہونی حکومت کی اندھی پیروی کرنا اور ان کا متکبرانہ رویہ، امریکہ کو جنگ کے اس دلدل میں مزید گہرائی تک دھکیلتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ 31 جہاز تیل بردار، کنٹینر بردار اور دیگر نوعیت کے تجارتی جہاز تھے جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی۔

سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مطابق، امریکی دہشت گرد فوج کی جارحیت اور واشنگٹن کے ہاتھوں خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے باوجود، سپاہ پاسداران نے عالمی تجارت کے لیے ایک مخصوص اور پرامن کوریڈور فراہم کردیا ہے۔

 اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا تحفظ محض ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک قانونی ذمہ داری ہے۔ آج غزہ اور لبنان کی طرح ایران بھی غیر قانونی فوجی حملوں کی زد میں ہے، جس میں شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایروانی نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 40 دنوں تک جاری رہنے والی اس وحشیانہ جنگ میں شہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے میناب کے شہر میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا، جس میں 168 سے زائد معصوم طالبات شہید ہوئیں۔

ایرانی مندوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل ایک مستقل رکن کی رکاوٹ کی وجہ سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کو عصرِ حجر میں واپس بھیجنے، توانائی کے شعبے، اقتصادی ڈھانچے اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اشتعال انگیز زبان عالمی سطح پر ایک خطرناک روایت قائم کر رہی ہے۔

ایروانی نے زور دیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو ان ہولناک جرائم کی مکمل قانونی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ ایسے جرائم پر مجرموں کو چھوٹ دینا نہ صرف متاثرین کے ساتھ غداری ہے بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی چارٹر کی خلاف ورزی اور شہریوں کو ہدف بنانے کے بعد استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کو تنازعات کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں، جیسے کہ خودمختاری اور عدم مداخلت، کی پاسداری کرنا ہوگی۔

آخر میں، ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ اسرائیل دنیا میں شہریوں کا سب سے بڑا قاتل ہے اور ایران کے جوابی اقدامات مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق (Right to Self-Defense) پر مبنی ہیں۔ لہٰذا، ایران کے قانونی دفاعی اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے کی کوئی بھی کوشش سیاسی، بے بنیاد اور قانونی جواز سے عاری ہے۔

 امریکی کانگریس سے جاری ہونے والی دستاویزات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی رپورٹس میں ایران کے خلاف کی گئی غیر قانونی امریکی-صہیونی جارحیت کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصانات کے نئے اور افسوسناک پہلوؤں کو آشکار کر دیا ہے۔

ان سرکاری دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران کے خلاف اس غیر قانونی آپریشن میں مجموعی طور پر 42 طیارے (بشمول فکسڈ ونگ، روٹری ونگ اور ڈرونز) یا تو مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس درجہ بندی، جاری جنگی سرگرمیوں اور دیگر پیچیدہ عوامل کی وجہ سے تباہ ہونے والے طیاروں کی یہ تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہونے والے نقصانات کی درجہ بندی کچھ یوں ہے:

ڈرونز اور نگرانی کے طیارے

امریکا نے ایران کے خلاف اس آپریشن میں 24 جدید ’ایم کیو-9 ریپر‘ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کھو دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ’ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن‘ (MQ-4C) ڈرون بھی ایک حادثے میں تباہ ہوچکا ہے۔

جنگی طیارے

4 ’ایف-15 ای سٹرائیک ایگل‘ (F-15E) طیارے ضائع ہوئے۔ ان میں سے 3 طیارے 2 مارچ 2026 کو کویت کی فضائی حدود میں اپنے ہی نظام کی غلطی (فرینڈلی فائر) کے باعث تباہ ہوئے۔ ایک اور ایف-15 طیارہ 5 اپریل کو ایران کے خلاف جنگی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا۔ مزید برآں، ایک ’ایف-35 اے‘ (F-35A) کو 19 مارچ کو ایران کے دفاعی نظام نے شدید نقصان پہنچایا، اور ایک ’اے-10 تھنڈربولٹ‘ (A-10) طیارہ بھی ایران کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔

سپورٹ اور ری فیولنگ کا عملہ

سات ’کے سی-135‘ (KC-135) ٹینکر طیارے حادثات کا شکار ہوئے۔ 12 مارچ کو دو ٹینکرز کو فضائی حدود میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں سے ایک عراق میں گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار تمام 6 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرے کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ باقی 5 طیارے سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ایران کے موثر میزائل اور ڈرون حملے میں تباہ ہوئے۔ اسی حملے میں ایک ’ای-3 سینٹری‘ (AWACS) طیارہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

خصوصی آپریشنز

5 اپریل کو گرائے گئے ایک ایف-15 طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے بھیجے گئے 2 ’ایم سی-130 جے‘ (MC-130J) طیارے، اپنی پرواز جاری رکھنے کے قابل نہ رہنے پر ایران کے اندر ہی تباہ کر دیے گئے۔ اسی آپریشن کے دوران ایک ’ایچ ایچ-60 ڈبلیو‘ (HH-60W) ہیلی کاپٹر بھی زمینی فائرنگ سے شدید متاثر ہوا۔

ایران کے خلاف جارحانہ مہم امریکی فضائیہ کے لیے تاریخ کی سنگین ترین ناکامیوں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ان انکشافات نے اس جنگ کی کامیابی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور نقصانات کی وسعت نے واشنگٹن کی عسکری حکمت عملی کی ناکامی کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا ہے۔