سلیمانی

سلیمانی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ 31 جہاز تیل بردار، کنٹینر بردار اور دیگر نوعیت کے تجارتی جہاز تھے جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی۔

سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مطابق، امریکی دہشت گرد فوج کی جارحیت اور واشنگٹن کے ہاتھوں خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کے باوجود، سپاہ پاسداران نے عالمی تجارت کے لیے ایک مخصوص اور پرامن کوریڈور فراہم کردیا ہے۔

 اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کا تحفظ محض ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایک قانونی ذمہ داری ہے۔ آج غزہ اور لبنان کی طرح ایران بھی غیر قانونی فوجی حملوں کی زد میں ہے، جس میں شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایروانی نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 40 دنوں تک جاری رہنے والی اس وحشیانہ جنگ میں شہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے میناب کے شہر میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا، جس میں 168 سے زائد معصوم طالبات شہید ہوئیں۔

ایرانی مندوب نے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل ایک مستقل رکن کی رکاوٹ کی وجہ سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے ایران کو عصرِ حجر میں واپس بھیجنے، توانائی کے شعبے، اقتصادی ڈھانچے اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی اشتعال انگیز زبان عالمی سطح پر ایک خطرناک روایت قائم کر رہی ہے۔

ایروانی نے زور دیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کا ساتھ دینے والے تمام ممالک کو ان ہولناک جرائم کی مکمل قانونی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ ایسے جرائم پر مجرموں کو چھوٹ دینا نہ صرف متاثرین کے ساتھ غداری ہے بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی چارٹر کی خلاف ورزی اور شہریوں کو ہدف بنانے کے بعد استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کو تنازعات کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں، جیسے کہ خودمختاری اور عدم مداخلت، کی پاسداری کرنا ہوگی۔

آخر میں، ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ اسرائیل دنیا میں شہریوں کا سب سے بڑا قاتل ہے اور ایران کے جوابی اقدامات مکمل طور پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق (Right to Self-Defense) پر مبنی ہیں۔ لہٰذا، ایران کے قانونی دفاعی اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے کی کوئی بھی کوشش سیاسی، بے بنیاد اور قانونی جواز سے عاری ہے۔

 امریکی کانگریس سے جاری ہونے والی دستاویزات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کی رپورٹس میں ایران کے خلاف کی گئی غیر قانونی امریکی-صہیونی جارحیت کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصانات کے نئے اور افسوسناک پہلوؤں کو آشکار کر دیا ہے۔

ان سرکاری دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایران کے خلاف اس غیر قانونی آپریشن میں مجموعی طور پر 42 طیارے (بشمول فکسڈ ونگ، روٹری ونگ اور ڈرونز) یا تو مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس درجہ بندی، جاری جنگی سرگرمیوں اور دیگر پیچیدہ عوامل کی وجہ سے تباہ ہونے والے طیاروں کی یہ تعداد مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہونے والے نقصانات کی درجہ بندی کچھ یوں ہے:

ڈرونز اور نگرانی کے طیارے

امریکا نے ایران کے خلاف اس آپریشن میں 24 جدید ’ایم کیو-9 ریپر‘ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کھو دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ’ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن‘ (MQ-4C) ڈرون بھی ایک حادثے میں تباہ ہوچکا ہے۔

جنگی طیارے

4 ’ایف-15 ای سٹرائیک ایگل‘ (F-15E) طیارے ضائع ہوئے۔ ان میں سے 3 طیارے 2 مارچ 2026 کو کویت کی فضائی حدود میں اپنے ہی نظام کی غلطی (فرینڈلی فائر) کے باعث تباہ ہوئے۔ ایک اور ایف-15 طیارہ 5 اپریل کو ایران کے خلاف جنگی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا۔ مزید برآں، ایک ’ایف-35 اے‘ (F-35A) کو 19 مارچ کو ایران کے دفاعی نظام نے شدید نقصان پہنچایا، اور ایک ’اے-10 تھنڈربولٹ‘ (A-10) طیارہ بھی ایران کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔

سپورٹ اور ری فیولنگ کا عملہ

سات ’کے سی-135‘ (KC-135) ٹینکر طیارے حادثات کا شکار ہوئے۔ 12 مارچ کو دو ٹینکرز کو فضائی حدود میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں سے ایک عراق میں گر کر تباہ ہوا اور اس میں سوار تمام 6 اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرے کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ باقی 5 طیارے سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر ایران کے موثر میزائل اور ڈرون حملے میں تباہ ہوئے۔ اسی حملے میں ایک ’ای-3 سینٹری‘ (AWACS) طیارہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

خصوصی آپریشنز

5 اپریل کو گرائے گئے ایک ایف-15 طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے بھیجے گئے 2 ’ایم سی-130 جے‘ (MC-130J) طیارے، اپنی پرواز جاری رکھنے کے قابل نہ رہنے پر ایران کے اندر ہی تباہ کر دیے گئے۔ اسی آپریشن کے دوران ایک ’ایچ ایچ-60 ڈبلیو‘ (HH-60W) ہیلی کاپٹر بھی زمینی فائرنگ سے شدید متاثر ہوا۔

ایران کے خلاف جارحانہ مہم امریکی فضائیہ کے لیے تاریخ کی سنگین ترین ناکامیوں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ان انکشافات نے اس جنگ کی کامیابی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں اور نقصانات کی وسعت نے واشنگٹن کی عسکری حکمت عملی کی ناکامی کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا ہے۔

امریکی دھمکیوں کے دوبارہ سامنے آنے کے بعد ایک ایرانی فوجی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس ایسے جدید ہتھیار موجود ہیں جو ابھی تک نہ تو میدانِ جنگ میں استعمال کیے گئے ہیں اور نہ ہی عملی طور پر آزمائے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی فوجی ذریعے نے کہا کہ تہران نے کئی جدید ہتھیار مقامی سطح پر تیار کیے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران استعمال نہیں کیے گئے۔

فوجی ذریعے نے کہا کہ ہم نے ایسے جدید ہتھیار تیار کیے ہیں جو ابھی تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں ہوئے اور عملی طور پر ان کا تجربہ بھی نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی سازوسامان اور فوجی صلاحیت کے لحاظ سے ایران کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہے اور ملک کے دفاع میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔ ان کے بقول اس مرتبہ ایران تحمل کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب نے بھی حالیہ دھمکیوں کے جواب میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو جنگ کا دائرہ کار خطے سے باہر تک پھیل جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور صہیونی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی بار بار کی اسٹریٹجک شکستوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکے اور ایک بار پھر دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

سپاہ پاسداران کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے دنیا کی دو مہنگی ترین افواج کی تمام صلاحیتوں کے ساتھ ایران پر حملہ کیا، تاہم ایران نے اس مقابلے میں اپنی تمام دفاعی صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ علاقائی جنگ جس کی پہلے تنبیہ کی جا چکی ہے، اس بار خطے کی حدود سے باہر تک پھیل جائے گی اور ایران کے کاری وار دشمنوں کو ایسے مقامات پر تباہی سے دوچار کریں گے جہاں وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جس ممکنہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، وہ 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا، حالانکہ ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت میں اسی معاہدے کو تباہ کن قرار دے چکے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اس وقت اس معاہدے کو اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے اتحادی گروپوں کا ذکر شامل نہیں تھا، تاہم اب بھی ان معاملات پر تہران کی جانب سے کسی قسم کی رعایت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کئی ہفتوں کی فوجی کارروائیوں اور ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور صرف یورینیم افزودگی پر بعض عارضی پابندیوں کے امکان کی بات کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ٹرمپ کی بنیادی توجہ صرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے، جبکہ میزائل پروگرام اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کے معاملات کو نسبتاً کم اہمیت دی جا رہی ہے۔

اسرائیلی اخبار نے مزید لکھا کہ کوئی بھی نیا معاہدہ ممکنہ طور پر 2015 کے معاہدے سے کافی مشابہ ہوگا، البتہ اس میں سخت نگرانی اور طویل المدتی پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن ایران کے میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ میں امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر ایران پر عائد پابندیاں نرم یا ختم کی گئیں تو تہران کو اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں، جس سے وہ اپنی فوجی صلاحیت اور اتحادی قوتوں کو دوبارہ مضبوط بنا سکے گا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تین مشکل راستوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں: یا تو 2015 جیسے معاہدے کو قبول کریں، یا موجودہ تعطل اور عالمی معاشی دباؤ کو جاری رکھیں، یا پھر دوبارہ جنگ کی طرف جائیں۔

تہران( IRNA) اسرائیلی حکومت وزیر توانائی نے پہلی بار انکشاف کیا کہ اسرائیل سعودی اور متحدہ عرب امارات کا تیل مقبوضہ فلسطین کے راستے یورپ پہنچانے کے خفیہ منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

الی کوہن کے بقول اسرائیل برسوں سے اس راستے کے لیے سودے بازی کر رہا ہے۔ لیکن باب المندب میں انصار اللہ کی دھمکیوں اور اب آبنائے ہرمز میں ایران کی دھمکیوں کے  باعث یہ کوریڈور ایک بار پر توجہ کا مرکز بن گيا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے اسرائیل کو بہت زیادہ ریونیو  حاصل ہوگا اور عملی طور پر آبنائے ہرمز سمیت  اس خطے میں توانائی کی نقل و حمل کے روایتی راستوں کو بائی پاس کیا جاسکے گا۔

ارنا کی فارن پالیسی ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی امور اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے منگل 19 مئی کو سوشل نیٹ ورک X پر لکھا ہے کہ "امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے مذاکرات کو وقت دینے کے لیے ایران پر حملے کو عارضی طور پر روک دیا ہے؛ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کسی بھی وقت بڑے حملے کے لیے تیار ہے۔"

غریب آبادی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ "یہ خطرے کو امن کا موقع قرار دینے کی کوشش ہے!"

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے لکھاکہ  "ایران متحد ہے اور کسی بھی فوجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔"

غریب آبادی نے مزید لکھا کہ "ہم سرجھکانا نہیں جانتے؛ ہم جتیں گے یا شہید ہوجائیں گے۔  

انہوں نے کہا کہ ہم ایک عظیم قوم ہیں، تاریخ میں اپنا نام درج کریں؛ "ہم نے تمام رنگوں میں سرخ رنگ کو اور تمام اموات میں شہادت کو چنا ہے۔"

ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمنوں نے حماقت دوہرانے کی کوشش کی تو انہیں ایران کے نئے وسائل، نئے جنگی حربوں اور نئے محاذوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پیر کی رات تہران میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے زور دیکر کہا کہ جنگ بندی کے دوران دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بحال کرلیا گیا ہے لہذا دشمن جان لے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا محاصرہ یا اسے شکست دینا ناممکن ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس آبنا کی صورتحال ہرگز ماضی کی جانب نہیں پلٹے گی۔

فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ مسلح افواج کو ایرانی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے اور اگر دشمنوں نے حماقت دوہرانے کی کوشش کی تو انہیں ایران کے جدید وسائل اور جنگی حربوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور میدان جنگ میں ان کے سامنے نئے محاذ کھول دیے جائيں گے۔

انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب دوسرے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعلقات کی بات آتی ہے اس بارے میں فیصلہ کرنا ہندوستان کا اپنا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی ہندوستان کے خلاف نہیں رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے کہ کسی بھی دو طرفہ تعلقات کو تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔

 ایران امریکہ مذاکرات کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ پچھلے سال جون میں کیا ہوا تھا؟ مذاکرات کے درمیان انہوں نے مذاکرات کی میز کو اڑا دیا۔جنگ ہوئی اور پھر 28 فروری کو انہوں نے دوبارہ حملہ کردیا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ہم نے یہ سفارتی عمل دوبارہ شروع کیا اور کچھ متن کا تبادلہ ہوا جس میں نے مسئلہ کے بنیادی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ سب سے پہلے اس مسئلے پر توجہ دی جو  پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ جس میں جنگ کا خاتمہ، جہازرانی آزادی اور امریکی بحری قزاقی کی روک تھا سب سے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں جبکہ دوسری جانب ہماری سمندری ناکہ بندی جاری جو  بین الاقوامی قانون کے تحت بذات خود ایک جنگ ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

اسما‏عیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ امریکہ بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے والی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور مذاکرات کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور فریق مقابل کے تحفظات اور مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کا مطلب ہے کہ ایک فریق 100 فیصد مقاصد حاصل کرلے  تو یہ مذاکرات نہیں بلکہ اپنی مرضی مسلط کرناہے کم از کم ایران اسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔

انہوں خطے کے ممالک میں پیش آنے والے معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس سے خوش نہیں ہیں لیکن یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل نے پیدا کی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے استفسار کیا کہ  کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ایران آبنائے ہرمز کی سلامتی پر کسی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ انحصار کرتا ہے؟ کیونکہ ہم ایک ساحلی ملک ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ میں سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس جارحانہ جنگ کا آغاز کیا اور ان نتائج کو پوری عالمی معیشت کو بھگتنا پڑ  رہے ہیں۔  

 انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے اصل ذمہ داروں کو عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔

ملک کی دفاعی تیاریوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے پاس سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور ہم نے یہ گزشتہ سال جون اور حالیہ جنگ میں اپنی توانائی کو ثابت کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکری میدان میں ہمارے پاس بہت سے سرپرائز ہیں جبکہ ایرانی عوام متحدہ ہیں اپنی سرزمیں چپے چپے کا دفاع کرنے کی توانائي رکھتے ہیں۔ 

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بعض جاپانی شہریوں نے امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خلاف نعرے لگائے اور ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

 

مظاہرین کے ہاتھوں میں ’’ہم ایران کے ساتھ ہیں‘‘ کے نعروں والے پلے کارڈز، ایرانی پرچم اور امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تصاویر موجود تھیں۔

مظاہرین نے اس موقع پر امریکہ سے مشرق وسطیٰ سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔