سلیمانی

سلیمانی

جنرل محمد اکرمی نیا نے زور دے کر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار کیے جانے والے دعوؤں کے برعکس، ایران کی موجودہ فضائی دفاعی صلاحیتیں جنگ سے پہلے اور دوران جنگ کی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی یونٹوں نے ملک کی فضائی حدود میں متعدد امریکی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے۔ امریکی فوجی بحری جہازوں کو خلیج فارس کے ساحلی علاقوں سے 500 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز اور خطے میں امریکی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ اگر امریکہ خطے سے نکل جائے تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی، خطے کے ممالک کی شرکت سے اجتماعی سلامتی کا نظام قائم ہوگا اور عالمی معیشت کی صورتِ حال بہتر ہو جائے گی۔ لیکن اگر امریکہ نہیں نکلا تو ہم اسے خطے سے باہر نکال دیں گے۔

جنرل اکرمی نیا، جو ایرانی فوج کی نظریاتی و سیاسی تنظیم کے نائب رابطہ کار بھی ہیں، نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ نئے آپریشنل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد دشمن کے امریکی بحری جہازوں کو مزید دور تک پسپا ہونے پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید، مشترکہ اور جدت پر مبنی فوجی کارروائیوں کی کامیاب مشقیں کی جا چکی ہیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق، ملک بھر میں قومی فضائی دفاعی نظام کی کوریج جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں آج پائی جانے والی بدامنی براہِ راست امریکہ کی تباہ کن موجودگی کا نتیجہ ہے۔

جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ امریکہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

حضرت زینب سلام الله علیہا کی ولادتِ باسعادت اور یومِ نرس کے موقع پر رہبر انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

رہبر انقلابِ اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ہر سال پانچ جمادی الاول ہمیں ایک ایسی خاتون کی ولادتِ باسعادت کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے الله تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے برتر ہستیاں پنجتنِ پاک صلوات الله و سلامه علیھم کی محبت، تربیت اور قربت کے سائے میں پرورش پائی۔ حضرت زینب کبریٰ سلام الله علیہا نے اس نورانی مکتب میں پچاس سال سے زائد عرصے تک تربیت پائی اور نشوونما حاصل کی۔ اس تربیت کے نتیجے میں ان کی درخشاں شخصیت میں شرافت اور برتری کی مختلف خوبیاں اس انداز میں جلوہ گر ہوئیں کہ وہ ہمیشہ اولیائے الٰہی کی تحسین، تعریف اور فخر کا باعث رہی ہیں۔ ان کی عظمت اپنے عروج پر معرکۂ عاشوراء میں پہنچی۔ ایک طرف میدانِ کربلا کے مظلوموں کے لیے بے پایاں شفقت، خیرخواہی اور صبر و تحمل کے ساتھ غم کا مظاہرہ کیا تو دوسری طرف استقامت اور شجاعت کی عظیم ترین علامتوں میں سے ایک بن کر سامنے آئیں۔

اسلامی تحریک اور انقلاب کی تاریخ ابتدا ہی سے ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی زینبی کردار کے ساتھ میدان میں موجودگی کے مناظر سے بھری ہوئی ہے۔ اس معاملے میں ایرانی قوم کی بے مثال بیداری، تیسرے دفاعِ مقدس کے دوران رقم ہوئی، جس میں حیرت انگیز کیفیت اور وسعت پیدا ہوئی۔ آج اسلامی ایران کی زینبی خواتین مختلف میدانوں، بالخصوص شہروں اور دیہات میں ہونے والے اجتماعات میں بھرپور شرکت کے ساتھ، عملی طور پر حقائق واضح کرنے اور سخت جنگ کی اگلی صفوں کے پیچھے مزاحمت کرنے میں پیش پیش ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اپنے زمانے کے طاغوت، جو ہمیشہ اس قوم کو تکلیف، اذیت اور سرکوبی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، خود کو اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں پاتے۔
اس سرزمین کے لوگوں نے، جو اہلِ بیت اطہار صلوات الله و سلامہ علیہم اجمعین سے والہانہ محبت رکھتے ہیں، حضرت زینب کبریٰ سلام الله علیہا کی ولادت کے دن کو ان کی مہربانی، دکھی انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور ہم زبانی اور ان کے لیے قربانی دینے کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجا طور پر نرسوں کے مقام کی تکریم کا دن قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی اخلاقی صفات اور انسانی اقدار محنت کش اور قابلِ قدر نرسنگ کے شعبے میں نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہیں۔
نرس کا کردار، بعض دوسرے طبقات مثلاً ڈاکٹروں، اساتذہ و مربّیوں، علماء اور امدادی کارکنوں کی طرح، زندگی کو بحال کرنے اور امید پیدا کرنے والا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات نرس کو رحمت کے فرشتے کی مانند دیکھا جاتا ہے؛ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ درد اور تکلیف میں مبتلا افراد کی بدخلقی اور بے صبری کے باوجود ان کے لیے سکون، امید، صحت یابی اور علاج کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور یوں رحمتِ الٰہی کے نزول کا ذریعہ بنتے ہیں۔
البتہ مریضوں کے علاج میں نرسوں کا کردار ڈاکٹروں کے برعکس مسلسل، مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ موجود رہنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس طرح کی موجودگی کے اثرات جسمانی امور سے کہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔ یہ نفسیاتی اور روحانی تکالیف کے لیے مرہم ثابت ہوتے ہیں اور بہت سے مواقع پر مایوسی کو غالب آنے سے روکتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے نرس اپنی ہمدردانہ خدمات انجام دے کر ایسے کام بھی انجام دیتے ہیں جو ڈاکٹروں کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔
ایسے دور میں، جب استکبار کا خبیث نیٹ ورک آزاد اور مزاحمت کرنے والی قوموں، بالخصوص ایرانی قوم پر ہر قسم کے ظلم و جرائم مسلط کرنے کی کسی کوشش سے دریغ نہیں کر رہا اور علاج معالجے اور ادویات سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کرکے ایرانی عظیم قوم پر مزید تکالیف مسلط کرنا چاہتا ہے، نرسوں پر توجہ دینا، نرسنگ کے شعبے کو مضبوط بنانا اور نرسوں کے علم، مہارت، صلاحیت، نشاط، جذبے اور وقار کو محفوظ رکھنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرنا نہایت اہم ہے۔ بالخصوص ان نرسوں کے لیے یہ توجہ ضروری ہے جنہوں نے خود کو غیر نجی اداروں میں خدمات انجام دینے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ان اقدامات کے معاشرے کی جسمانی و روحانی صحت اور سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے توقع کی جاتی ہے کہ صحت کے شعبے کے حکام اپنی ذمہ دارانہ روش کو جاری رکھتے ہوئے ان اہم امور کو ترجیحات میں شامل کریں گے۔
میں ان دونوں مناسبتوں کے موقع پر اپنی عزیز قوم، اسلامی وطن کی فرض شناس اور بلند عزم خواتین اور بالخصوص نرسنگ کے شعبے سے وابستہ اپنی بہنوں اور بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں، نرسنگ کے شعبے کے مظلوم اور جان نثار شہداء، بالخصوص دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں اور دسمبر 2025 کے فتنے میں شہید ہونے والے نرسوں کے لیے رحمتِ الٰہی کا طلب گار ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے مولا امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا کے طفیل، اللہ تعالیٰ ایرانی قوم کو مزید عزت و اقتدار اور ہر وہ چیز عطا فرمائے گا جو حضرت زینب سلام الله علیہا کے مکتب کی پیروی کے شایانِ شان ہے۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
16 اکتوبر 2026

ایران کے صوبہ لرستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین سید احمد رضا شاہرخی نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت اور یومِ نرس کے موقع پر مبارک باد کا پیغام جاری کیا ہے۔ ان کے اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پانچ جمادی الاول، عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔ آپ ایمان، عفت، بصیرت اور آزادگی کے میدان میں بلند مقام رکھنے والی عظیم خاتون ہیں۔ آپ خاندانِ عصمت و طہارت کے گلشن کا ایک درخشاں گوہر ہیں، جن کی ذاتِ مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ، امام علی علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی روحانی پاکیزگی جلوہ گر تھی۔ آپ کی بابرکت ولادت نے فضیلت، پاک دامنی، صبر اور احساسِ ذمہ داری کی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔

آپ تمام نسلوں کے لیے عظیم خاتون اور بے مثال نمونۂ عمل ہیں۔ آپ نے حقائق کو واضح کرکے اور شعور و آگہی بیدار کرکے آزادی، عزت اور حق طلبی کا پیغام تاریخ کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔ آپ کے بصیرت افروز اور استوار کلام نے حق کی پاسداری میں وہی اثر دکھایا جو میدانِ جنگ میں مجاہدین کی تلواریں دکھاتی ہیں۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کا یومِ نرس کے ساتھ ملا ہونا، شعبۂ نرسنگ کے بلند مقام کی تکریم اور ان انسان دوست افراد کی قدردانی کا ایک بہترین موقع ہے جو آپ سلام اللہ علیہا کی نورانی سیرت سے الہام حاصل کرتے ہوئے انسانوں کی خدمت، مریضوں کے درد و پریشانیوں میں مداوا اور معاشرے کی صحت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ افراد اپنی ہمدردانہ موجودگی سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو امید اور سکون عطا کرتے ہیں۔

جمہوری اسلامی ایران کی نرسنگ برادری نے ملک کی قابلِ فخر تاریخ کے مختلف ادوار میں ایثار و اخلاص کے ساتھ خدمت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران نرسوں کی مؤثر اور ذمہ دارانہ خدمات، کورونا وبا کے دشوار دور میں ان کی انتھک کوششیں اور دوسری و تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران ان کی قابلِ قدر جدوجہد، پیشہ ورانہ ذمہ داری، وطن سے محبت اور انسانی و اسلامی اقدار سے وابستگی کی نمایاں مثالیں ہیں۔

نظامِ صحت میں نرسوں کا کردار ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ عزت، مقام اور وقار کا تحفظ، تنخواہوں اور مراعات کی بروقت اور منصفانہ ادائیگی، قانونی مطالبات کی تکمیل، کام کے دشوار حالات پر توجہ، ملازمت کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بہتر ادائیگی کے لیے ضروری سہولتوں کی فراہمی ایسے اہم تقاضے ہیں جن کی تکمیل سے اس قابلِ قدر طبقے کے حوصلے، اطمینان اور خدمت کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ نرسنگ برادری ہمیشہ اپنے مطالبات قومی مفادات کے دائرے میں رہتے ہوئے اور ملت کے بدخواہوں کے منفی پروپیگنڈے سے دور، قانونی طریقوں سے پیش کرتی ہے۔

امریکہ کی موجودگی بدامنی کی اصل وجہ!

آج نہ صرف عالمی رائے عامہ اور خطے کی اقوام بلکہ خود حکمرانوں اور ملکی سربراہوں پر بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس کے علاقوں میں امریکی اغیار کی موجودگی اور یہاں ان کا اپنے لیے بل اور گھونسلہ بنانا، خطے میں بدامنی اور عدم تحفظ کا سب سے بڑا سبب ہے۔

 

امریکی کھوکھلے اڈے دوسروں کی کیا حفاظت کریں گے؟!

امریکہ کے کھوکھلے اڈے خود اپنی حفاظت کی ہی صلاحیت نہیں رکھتے تو خطے کے امریکا پرستوں اور اس کے پٹھوؤں کو امریکا کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے!

 

خلیج فارس میں اغیار کی سمندر کی تہہ کے علاؤہ کوئی جگہ نہیں!

اللہ کی مدد اور نصرت سے خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل ایسا ہوگا جو امریکا سے عاری اور اپنی اقوام کی ترقی و پیشرفت، سکون اور خوشحالی کے لیے ہوگا۔ خلیج فارس کے اس آبی خطے میں  ان اغیار کے لیے، جو ہزاروں کلومیٹر دور سے حرص و طمع کے ساتھ یہاں شیطانی حرکتیں کرتے ہیں، اس کے پانیوں کی گہرائی میں دفن ہونے کے علاوہ یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔

 

نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھی جاچکی ہے!

خداوند بزرگ و برتر کے فضل و کرم اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے مظلوم شہداء بالخصوص اسلامی انقلاب کے عظیم رہبر شہید کے خون کی برکت سے کامیابیوں کا یہ سلسلہ، جو خداوند عالم کے فضل و کرم، مزاحمت کی تدبیروں اور پالیسیوں اور ایک مضبوط ایران کی اسٹریٹیجی کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، ایک نئے علاقائی اور عالمی نظام کا پیش خیمہ بنے گا۔

 

 

عہد بصیرت ، رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ائ

 المَسیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان تاریخی عمارتوں میں نمایاں مقام صوفی عالم مولا علی شاذلی کی مسجد اور مزار کو حاصل ہے۔ یہ یمن کے شہر مخا (Mocha) کی تاریخی مساجد میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے متولی کے مطابق، اس مسجد کی بنیاد نویں صدی ہجری میں رکھی گئی تھی۔ تعمیر اور توسیع کے مختلف مراحل سے گزرنے والا یہ مجموعہ آج بھی یمن کے اندرون و بیرونِ ملک سے آنے والے طلبۂ علم اور زائرین کی میزبانی کرتا ہے۔

مسجد اور مزارِ شاذلی کے متولی نصر نویس وضاحت کرتے ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر تین مراحل میں مکمل ہوئی۔

پہلا مرحلہ نویں صدی ہجری میں شروع ہوا، جس میں نو گنبد تعمیر کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں 1260 ہجری میں مسجد کا مینار تعمیر کیا گیا، جبکہ تیسرے مرحلے میں مسجد کی توسیع عمل میں آئی، جو 1359 ہجری میں امام احمد یحییٰ حمیدالدین کے دورِ حکومت میں مکمل ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ امام احمد نے مسجد شاذلی کی توسیع کے لیے مخا کی جامع مسجد کی لکڑی کی شہتیروں کے علاوہ ایک دوسری مسجد، جسے مسجد النور کہا جاتا تھا، کی لکڑی بھی استعمال کی۔ یہ مسجد اس سے پہلے پرتگالیوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکی تھی۔ اس وقت ان شہتیروں میں سے سترہ ستون مسجد کی عمارت کے اندر نصب ہیں، جبکہ باقی ستون بیرونی احاطے میں مغربی جانب رکھے گئے ہیں۔

امام شاذلی کے مزار کے حوالے سے متولی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے معروف عالم اور دینی علوم کے ممتاز استاد تھے۔ یمن کے اندرون اور بیرونِ ملک سے طلبہ ان سے دینی علوم اور شریعت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔

اس مسجد کے قریب کبھی امام شاذلی کا گنبد اور مزار بھی موجود تھا، لیکن 2017 کے وسط میں یہ عمارتیں تکفیری عناصر کی جانب سے مسماری کا نشانہ بن گئیں۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز نے بلڈوزروں کے ذریعے مزار کو منہدم کرکے زمین بوس کر دیا۔ اس اقدام پر مقامی باشندوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا، کیونکہ انہوں نے اس تاریخی مقام کے باقی ماندہ آثار کو مٹنے سے بچانے کی کوشش کی تھی۔

اسی سلسلے میں تعز کے نائب گورنر فؤاد سنان وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، امام شاذلی کا مزار کبھی اسی جگہ موجود تھا اور ایک گنبد والی عمارت میں واقع تھا، جو مسجد سے مشابہ تھی۔ سعودی جارحیت کے عناصر نے بھاری مشینری، یعنی کھدائی کرنے والی مشینوں اور بلڈوزروں کے ذریعے اسے مسمار کردیا اور ہر چیز کو تباہ کر دیا۔ شہر کے باشندے اس وقت بھی احتجاج اور اپنی مخالفت کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے، جب یہ مقام مکمل طور پر زمین بوس ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹایا نہیں گیا تھا۔/

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں اسلامی لباس پر پابندیوں میں اضافے کے باعث طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ نے احتجاج کیا، جبکہ 37 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دوران اس فیصلے پر اختلافات آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی کے ساتھ تعلقات تک جا پہنچے ہیں۔ آذربائیجان کی حکمراں جماعت نے انقرہ پر ملک کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں اسلامی لباس پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے نے ملک میں احتجاج کی ایک لہر پیدا کر دی ہے۔

اگرچہ نئے ضوابط میں واضح طور پر حجاب کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ایسے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جسے تعلیمی حکام کے نزدیک ’’سیکولرازم کے اصولوں‘‘ کے منافی قرار دیا جائے۔ عملی طور پر اس اقدام کے نتیجے میں بعض باحجاب طالبات اور معلمات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال ایسے ملک میں پیدا ہوئی ہے جہاں تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے، لیکن ملک کا آئین ریاست کے سیکولر ہونے پر زور دیتا ہے اور ساتھ ہی مذہبی آزادی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ اب حجاب کا تنازع حکومت کے اختیارات کی حدود، مذہبی آزادی اور سیکولرازم کے اصول پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق ایک وسیع تر بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔

نئے ضوابط اور پابندیوں کی تفصیلات

گزشتہ ماہ جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت نے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لباس سے متعلق نئے ضوابط منظور کیے۔

ان ضوابط کے مطابق ایسے لباس پہننے پر پابندی ہے جو اسکول یونیفارم کی یکسانیت کے خلاف ہوں یا سرکاری تعلیمی نظام میں سیکولرازم کے اصول سے متصادم ہوں۔

یہ فیصلہ قانونی اصلاحات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے دستخط سے عوامی تعلیم کے قانون میں بعض ترامیم شامل کی گئی تھیں۔

نئی ترامیم کے تحت سیکولرازم اور قومی اقدار کو عوامی تعلیمی نظام کے اصولوں میں شامل کیا گیا، جبکہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لباس سے متعلق ضوابط طے کرنے کا اختیار بھی انتظامی اداروں کو دے دیا گیا۔

نئے ضوابط پر عمل درآمد کے نتیجے میں متعدد اسکولوں میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، باکو اور دیگر علاقوں میں بعض طلبہ نے اپنی باحجاب ہم جماعتوں پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاجاً کلاسوں میں جانے سے انکار کر دیا۔

باکو کے علاقے بالاخانی میں ایک اسکول کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں مظاہرین نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، جس پر لکھا تھا:

حجاب تعلیم کے حصول میں رکاوٹ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں بھی باحجاب طالبات اور معلمات کو دکھایا گیا ہے جنہیں اسکولوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

حجاب کا تنازع ترکی اور آذربائیجان کے تعلقات تک پہنچ گیا

جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب سے متعلق تنازع تیزی سے اسکولوں کی حدود سے نکل کر ترکی کے ساتھ ایک سیاسی اختلاف میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ترکی وہ ملک ہے جس کے باکو کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔

باحجاب طالبات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روکنے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد ترکی میں بھی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کے متعدد سیاست دانوں، جن میں صدر رجب طیب اردوان کے سینئر مشیر اوکتائے سارال اور حکمراں جماعت انصاف و ترقی (آق پارٹی) کے کئی ارکانِ پارلیمان شامل ہیں، نے نئی پابندیوں کی مذمت کی اور جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔/

 

 

جرمنی کے وزیرِ دفاع بوریس پیسٹوریئس نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا روس کے حوالے سے حالیہ مؤقف میں تبدیلی اختیار کرنا، امریکہ کے اندر شدید سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

جرمن خبررساں ایجنسی (ڈی پی اے) کے مطابق، بوریس پیسٹوریئس نے برلن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے، جس کے پیشِ نظر ٹرمپ ایسی صورت حال سے دوچار ہو چکے ہیں کہ وہ شدید دباؤ اور بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔

پیسٹوریئس نے مزید کہا کہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی کسی ملک کے رہنما اندرونِ ملک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے خارجہ پالیسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ روس کے ساتھ ڈیزل ایندھن کا معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

جرمنی کے وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا یہ اقدام الٹا نتیجہ دے گا۔

پیسٹوریئس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے بعد وہ اس ملک سے لاکھوں ٹن ڈیزل ایندھن کی فراہمی کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب، روس کے نائب وزیرِ اعظم الیگزینڈر نوواک نے اپنے بیان میں روس اور امریکہ کے درمیان ماسکو سے ڈیزل ایندھن کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاہدے کا ذکر کیا ہے۔

روس کے نائب وزیر اعظم نے اس حوالے سے کہا ہے کہ روس اس سے قبل اپنی برآمدات کے ذریعے دنیا میں استعمال ہونے والے ڈیزل ایندھن کی 10 سے 15 فیصد ضروریات پوری کرتا تھا اور سال کے اختتام تک تقریباً اسی سطح پر واپس آ جائے گا۔ روسی ڈیزل ایندھن عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ براہِ راست امریکہ کو بھی فراہم کیا جائے گا۔ روس سے ڈیزل ایندھن کی فراہمی شروع ہونے کے بعد یورپ سمیت دنیا بھر میں قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔

 یمنی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے ایک بار پھر سعودی عرب کی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے استعمال کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ علاقے یمنی فوج کے ممکنہ حملوں کی زد میں ہیں۔

انہوں نے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ یمنی مسلح افواج فضائی کمپنیوں، ہوائی اڈوں کے عملے اور مسافروں کو سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال کے حوالے سے جاری کردہ اپنی وارننگ دہراتی ہیں۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود اہداف ہیں اور انہیں مسلح افواج کا آپریشنل علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، مکہ اور مدینہ کے ہوائی اڈوں کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند روز کے دوران یمنی مسلح افواج کے میزائل اور ڈرون حملے سعودی عرب میں مختلف اہداف پر جا لگے ہیں، جن میں ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور خمیس مشیط کا فضائی اڈہ بھی شامل ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے حالیہ مسلط کردہ جنگ میں دشمن کے اندازوں اور حساب کتاب کی غلطیوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، مسلط کردہ جنگ کے آغاز ہی سے بند کر دی گئی تھی اور جب تک دشمن ایرانی قوم کے حقوق کا لحاظ نہیں کرتا، یہ بند رہے گی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل حاتمی نے جمعرات 15 اکتوبر 2026 کی شام امام علی (علیہ السلام) ملٹری اکیڈمی میں اعتکاف کے گیارہویں فیسٹول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پر مسلط کی گئی اس جنگ میں ہم سرفرازی کے ساتھ فتحیاب ہوئے اور دشمن کو ذلت کے ساتھ شکست ہوئی تو ہماری طاقت کا بنیادی عنصر، ایمان ہے۔

انھوں نے جنگ شروع ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اندازے اور حساب کتاب کی غلطی کا شکار ہوا۔ یہ اہم ہے کہ دشمن بھی اس بات پر توجہ دے اور ہم بھی اس کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ دشمن نے کم از کم تین یا چار معاملات میں سنگین غلطیاں کیں اور اسے ان غلطیوں کو نہیں دوہرانا چاہیے۔

دشمن کا مقابلہ کرنے میں مسلح فورسز کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح فورسز نے اپنی پوری طاقت سے دشمن پر حملے کیے اور دشمن کو یقین نہیں تھا کہ پہلے گھنٹے، پہلے دو گھنٹوں اور پہلے ہی دن اس کی جانب سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جائیں گے لیکن ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج کے تمام اہلکاروں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تمام اہلکاروں نے حملے کیے اور اس کے باوجود کہ کمانڈروں اور بہت سے عہدیداروں کو شہید کیا جا چکا تھا، دشمن کو ایک حیران کن یلغار کا سامنا کرنا پڑا۔

فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ دشمن اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔ انھوں نے کہا کہ دشمن نہ اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکا اور نہ ہی اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل کر سکا۔ فوجی میدان میں وہ ہماری مسلح فورسز کو ایسی حالت میں پہنچانا چاہتا تھا کہ وہ اس کی طرف فائر نہ کر سکیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کا مجرم صدر مسلسل کہتا ہے کہ ایران کے پاس مسلح فورسز، فضائیہ، بحریہ اور بری فوج نہیں ہے لیکن اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں کہ اگر ہمارے پاس مسلح فورسز نہیں ہیں تو آخری لمحے تک ہمارے میزائل اور ڈرون کیسے داغے جاتے رہے اور ہمارا فضائی دفاع کیسے فائر کرتا رہا؟

میجر جنرل حاتمی نے زور دے کر کہا کہ ہم نے دشمن کے لیے یہ اصول قائم کر دیا ہے کہ اگر ہمارے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوا تو اس کے بنیادی ڈھانچے اور مفادات، مجرم صیہونی حکومت کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والے ہر فریق کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کی منت سماجت کر کے رو سے 3 لاکھ ٹن ڈیزل خریدا ہے جبکہ نومبر کے مہینے کے لیے بھی 5 لاکھ ٹن ڈیزل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت ایران کے خلاف جنگ میں اس کا واضح طور پر شکست کا اعتراف ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے سے تقریباً مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے۔ یہ شکست فوجی بھی ہے اور سفارتی بھی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام اس کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے دعوے کے جھوٹے ہونے کو بھی ثابت کر دیتا ہے جس میں وہ یہ اعلان کرتا پھرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول برقرار ہو چکا ہے اور روزانہ کئی لاکھ بیرل تیل کی ترسیل بھی انجام پا رہی ہے۔ ٹرمپ اب تک کئی باری یہ دعوی کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت اسی حد تک پہنچ چکی ہے جو جنگ سے پہلے تھی۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجبوری کے عالم میں روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو یہ بڑی مراعات دینا امریکی اراکین کانگریس کے لیے بڑا دھچکہ اور امریکہ کے اتحادیوں کی پشت میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف ہے۔ ٹرمپ نے ایک طرف روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ دوسری طرف اب وہ اسی سے ڈیزل خریداری کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی ذلت آمیز شکست ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی اراکین کانگریس اور امریکہ کے اتحادی ممالک دونوں کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت انجام پایا ہے جب ابھی گذشتہ مہینے ہی امریکی کانگریس میں ایک بل منظور کیا گیا جس میں ان ممالک پر شدید اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے جو روس سے تیل اور گیس خریداری کرتے ہیں۔ یہ بل منظور ہو کر قانون بھی بن چکا ہے۔
 
روس کے خلاف عائد کی گئی ان پابندیوں کا اصل مقصد اس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کم کر کے اس پر دباو بڑھانا تھا۔ اسی طرح یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مالی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ یاد رہے روس سعودی عرب کے بعد تیل اور گیس برآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ لیکن اب خود امریکہ ہی روس سے ڈیزل خریدنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک خاص طور پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ٹرمپ کے اس غیر متوقع اقدام پر شدید غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یورپی ممالک یوکرین جنگ میں پوری طرح یوکرین کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں اور روس کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ یورپی حکمرانوں کا یہ غصہ مختلف سرکاری بیانات اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے۔
 
یورپی حکمران ٹرمپ پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس نے مڈٹرم الیکشن میں اپنی اور اپنی پارٹی کی تقریباً حتمی شکست سے بچنے کی مایوسانہ کوشش کرتے ہوئے یوکرین کو انتہائی سستے داموں روس کے ہاتھ بیچ ڈالا ہے۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ روس سے خریدے جانے والا ڈیزل ممکن ہے چند دن تک امریکہ میں ڈیزل کی قیمت کم رکھنے میں موثر ثابت ہو لیکن ہر گز اس ناراضگی اور غصے کو دور نہیں کر پائے گا جو اس وقت ٹرمپ حکومت کے خلاف امریکی عوام، اراکین کانگریس اور سینیٹ کے اراکین میں پایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے روس سے اس غیر متوقع سودے بازی نے نیٹو، اس کے رکن ممالک اور یورپی ممالک کے لیے ثابت کر دیا ہے کہ جنگ میں ایران کو فتح حاصل ہو چکی ہے۔ اسی طرح اب وہ اپنی اس پالیسی کے درست ہونے کے بارے میں بھی مطمئن ہو گئے ہیں جو انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے متعلق غیرجانبدار رہ کر اختیار کی تھی۔
 
یورپی حکمران بخوبی آگاہ ہیں کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ حقیقت میں اسرائیلی جنگ تھی جبکہ دوسری طرف ایران بھی ایک علاقائی طاقت ہے۔ لہذا انہوں نے ماضی میں عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے کے برعکس اس بار غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل مقصد تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی کھربوں ڈالر کی آمدن کے ذریعے امریکہ کو ان قرضوں سے نجات دلا سکے جو امریکی معیشت کی کمر توڑتے جا رہے ہیں۔ یاد رہے اس وقت امریکہ پر قرضے کی سطح 41 کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ وہ بھاری اخراجات پر مشتمل احمقانہ جنگیں ہیں جو امریکہ گذشتہ کئی عشروں سے کرتا چلا آیا ہے۔
 
ٹرمپ کی وہ سب سے بڑی غلطی جس کی بھاری قیمت امریکہ کو عالمی سطح پر اپنی حیثیت گنوا دینے اور اپنے دوست اور اتحادی کھو دینے کی صورت میں چکانی پڑے گی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ وینزویلا سے بھی زیادہ آسانی سے ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قابض ہو سکتا ہے۔ میں اس موقع پر عرب حکمرانوں کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ٹرمپ، جس نے اپنی یورپی اور نیٹو اتحادیوں کو بھی چھوڑ دیا ہے، یوکرین اور اس کی عوام کو بیچ ڈالا ہے اور آئندہ الیکشن میں جیتنے کے لیے ولادیمیر پیوتن کے پاوں پڑ گیا ہے، یقین رکھیں کہ آپ کو بھی چھوڑ جائے گا اور بہت ہی کم قیمت پر آپ کو بیچ ڈالے گا۔ امریکہ خطے میں اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے اور اس کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔ دوسری طرف امریکہ تیزی سے خطے سے بھاگ رہا ہے اور بہت جلد خطہ امریکہ کی فوجی موجودگی سے عاری ہو جائے گا۔