سلیمانی

سلیمانی

 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خطے کے ممالک کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوراً ان علاقوں کو خالی کر دیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بزدل امریکی و صہیونی افواج، جو اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی جرات اور صلاحیت نہیں رکھتیں، مجاہدین اسلام کے حملوں کے خوف سے غیر فوجی مقامات کا سہارا لے رہی ہیں اور معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چونکہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم امریکی دہشت گرد افواج اور صہیونی قابض حکومت کے ان مراکز کو جہاں بھی پائیں، نشانہ بنائیں، اس لیے ہم خطے کے عوام کو تاکید کے ساتھ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ فورا ان مقامات سے دور ہوجائیں جہاں امریکی افواج موجود ہیں، تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

سپاہ پاسداران نے یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب خطے میں امریکی افواج کے خلاف ایرانی جوابی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ دشمن افواج کے ٹھکانے اس کے براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔


اسرائیل، ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کبھی حامی نہیں رہا۔ ایران پر امریکی، اسرائیلی جارحیت سے قبل جاری نیوکلیئر مذاکرات کے دوران، امریکی انتظامیہ میں صہیونی لابی کے اثر و رسوخ کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اداروں کی رپورٹس کے بجائے موساد کی انٹیلیجنس کے اس دعوے سے متاثر ہوئے کہ ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنا کر نظام کی فوری تبدیلی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد اپنے دعوؤں کے برخلاف ایران کے اندر مطلوبہ سطح کی شورش برپا کرنے میں ناکام رہا، جس پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے ادارے پر برہمی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
 
ڈونلڈ ٹرمپ، اپنی فطرت کے عین مطابق عالمی قیادت کا کریڈٹ لینے کی خواہش میں، اسرائیل کے ساتھ اس حملے میں شامل ہو گئے۔ جنگی میدان میں درپیش مشکلات کے ساتھ ساتھ امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی بھی نمایاں ہو کر سامنے آنے لگیں، جو دہائیوں کی محنت کے باوجود ایران کے نظریات اور داخلی صورتحال کا درست ادراک حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس سبکی سے بچنے کے لیے امریکی کاؤنٹر ٹیررازم ادارے کے ڈائریکٹر جوکینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے صاف کہہ بھی دیا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی۔ اسی طرح امریکی انٹیلیجنس ادارے کی سربراہ تلسی گباڈ بھی اس سوال کا جواب دینے میں تذبذب کا شکار رہیں کہ یہ جنگ آخر کس انٹیلیجنس کی بنیاد پر شروع کی گئی، جبکہ خود اداروں نے ایران کو فوری خطرہ قرار نہیں دیا تھا اور صدر کیونکر ادارے کی رپورٹ کے بغیر جنگ میں کود سکتے ہیں۔
 
جنگ جاری رہی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد، غیر واضح اور بعض اوقات بوکھلاہٹ پر مبنی بیانات نے امریکا کے اندر تشویش کو مزید بڑھا دیا۔ یہ سوال شدت اختیار کر گئے کہ آیا وہ اپنی شروع کردہ جنگ پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ان پر دباؤ بڑھا کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے اصل مقاصد کیا تھے، کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا، کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا، اور کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے عالمی تیل منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی۔ اسرائیل کی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی یہ رہی کہ اس نے اپنے مقرر کردہ اہداف اور اپنی تخمینہ شدہ صورتحال کے مطابق مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے امریکا کو براہِ راست جنگ میں کامیابی سے شامل کر لیا۔
 
اگر ڈونلڈ ٹرمپ رہبر انقلاب اسلامی پر حملے کی یہ ناجائز کارروائی صرف اسرائیل کے ذریعے کرواتے اور خود پس منظر میں رہتے، جو ان کے گمان میں رجیم کی تبدیلی کا یقینی پیش خیمہ بن سکتی تھی، تو نہ صرف امریکا کی عالمی ساکھ محفوظ رہتی بلکہ وہ آج خود تنازع کا فریق بننے کے بجائے، حسبِ روایت، ثالث کے طور پر سامنے آ سکتے تھے اور ایک اور عالمی تنازع کے خاتمے کا کریڈٹ بھی حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے خود دنیا کو اس کارروائی کی خبر دے کر ایرانی عوام کا مسیحا اور دنیا کے شہنشاہ بننے کا اعلان کرنا بہتر سمجھا۔
 
دوسری جانب، ایران نے رہبر اور کمانڈروں کی عظیم شہادت کے باوجود ایک بار پھر چٹان کی مانند خود کو سنبھالا، جس نے دنیا کو ایرانی نظام کی مضبوطی پر حیرت زدہ کر دیا۔ اس ناجائز حملے نے ایران کو امریکہ اور اسرائیل دونوں کو ایک ساتھ گھیرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈے بھی اس کے جائز اہداف کے طور پر سامنے آ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اپنے اتحادیوں پر حملوں کے امکانات کے حوالے سے مطمئن دکھائی دیتے تھے کہ ایسا نہیں ہوگا، اور اسی اعتماد میں وہ کسی واضح “پلان بی” کے بغیر عجلت میں اس جنگ میں شامل ہو گئے۔ اب جبکہ صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی اہداف کا واضح تضاد بھی نمایاں ہو رہا ہے۔
 
ایران نے امریکا کو ایسے حالات میں لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ ایسا راستہ جو اس کے اپنے مفادات سے مطابقت رکھتا ہو۔ جبکہ اسی صورتحال میں اسرائیل خود کو شدید خطرے میں محسوس کر رہا ہے۔ اسرائیل کے جنگی اہداف کے تناظر میں اسے اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران سمیت توانائی کے بڑے اثاثے تباہ ہو جائیں، جبکہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف اس کے اتحادی متاثر ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر معاشی کساد بازاری (ریسیشن) بھی تقریباً یقینی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی دفاعی ماہرین کے مطابق، زمینی کارروائی کے بغیر صرف فضائی حملوں سے موجودہ جنگی ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ خرگ جزیرے پر زمینی فوج اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور رہا، مگر اس کے اپنے شدید خطرات ہیں، جن میں ممکنہ طور پر امریکی فوجیوں کے یرغمال بنائے جانے کا خدشہ بھی شامل ہے۔ ایک ایسی سبکی جس کے لیے امریکا تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کی علامت کے طور پر آنے والا بحری بیڑا بھی وہاں سے دور ہٹا لیا گیا ہے۔
 
ان متوازی اور باہم متصادم اہداف کے باعث امریکا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب مذاکرات کی طرف مائل نظر آتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے اس جنگ سے نکلنے کا راستہ نکالا جا سکے۔ ٹرمپ کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے باعزت نکلنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ وہ جنگ کو مزید وسعت دیں، جس کی انہوں نے کوشش بھی کی۔ وہ ایران کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر نیٹو حتیٰ کہ چین کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے پر اُکسا چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملوں کی سائٹ سے یورپ کو مخاطب کر کے انہیں خطرے سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔
 
امریکا کے لیے یہ راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان سمیت کئی ممالک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں، جبکہ امریکی افواج کی مزید تعیناتی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے امریکا ممکنہ طور پر جنگی دباؤ اور مذاکراتی حکمتِ عملی دونوں میں بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ گزشتہ ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کا آغاز بھی ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ہوا تھا، تاہم اس وقت نہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ درپیش تھا، نہ امریکی عرب اتحادی براہِ راست دباؤ میں آئے تھے، اور نہ ہی عالمی معیشت پر فوری خدشات منڈلا رہے تھے۔ اس کے باوجود اسرائیل بالآخر یکطرفہ طور پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔
 
موجودہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور نازک دکھائی دیتی ہے۔ ٹرمپ نہ تو جنگ پر مکمل کنٹرول رکھتے نظر آتے ہیں، نہ ہی یورپی اتحادیوں اور نیٹو کو اس بے تکی جنگ میں شمولیت پر پوری طرح قائل کر سکے ہیں۔ عرب اتحادی بھی اپنے ممکنہ نقصانات کے پیشِ نظر اس جنگ کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں، جبکہ اندرونِ ملک عوام اور اپوزیشن کو بھی اس کے واضح اور قابلِ قبول جواز پر قائل نہیں کیا جا سکا۔ ایسے حالات میں بظاہر امریکا کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے مزید وقت درکار ہے، اور اسی مقصد کے تحت مذاکرات کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا جھوٹا دعوی کرنے کے بجائے اپنی شکست کا اعتراف کریں۔

 خاتم‌الانبیا سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی شکست کو کسی معاہدے کا نام نہ دے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ جس اسٹریٹجک طاقت کا امریکا دعوی کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک شکست میں بدل چکی ہے۔ اگر امریکا واقعی اس صورتحال سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا تو اب تک نکل چکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ وعدوں اور دباؤ کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور آج دنیا میں دو واضح محاذ موجود ہیں: حق اور باطل۔ ان کے مطابق آزاد لوگ صرف میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوتے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام صرف طاقت کے ذریعے ممکن ہے اور یہ استحکام ایران کی مسلح افواج کی طاقت سے برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ایران کی مرضی نہ ہو، خطے کی صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوسکے گی۔

بیان کے آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا موقف شروع سے یہی رہا ہے کہ وہ ایسے فریق کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گا جو اس کے خلاف اقدامات کا ارادہ رکھتا ہو۔

تہران (IRNA) بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے ملکی سرحدوں کے دورے کے دوران کہا ہے کہ زمینی جنگ دشمن کے لیے زیادہ خطرناک، مہنگی اور ناقابل تلافی ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ایرانی افواج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کی بری فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ملک کی سرزمین کے چپے چپے کی حفاظت مکمل چوکسی اور تیاری کے ساتھ کی جا رہی ہے، اور مسلح افواج کے جوان، افسران اور کمانڈرز ملک کی سرحدوں پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ قوم بہادر جوان محاذ جنگ پر مضبوطی اور حوصلے کے ساتھ کھڑے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے دشمن کو زمینی محاذ پر بھی شکست دیں گے۔

بریگیڈیئر جنرل جہانشاہی نے مزید کہا کہ عوام کی یکجہتی، استقامت اور حمایت ہی ایران کی کامیابی اور دشمن کی شکست کی اصل طاقت ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی قوم اپنے جوانوں کی قربانیوں کی بدولت ہمیشہ سربلند اور مضبوط رہے گی۔دورے کے دوران انہوں نے مختلف صوبوں میں جنگ کے شہداء کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی۔    

سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر اپنے ایک مختصر پیغام میں اسپیکر محمد باقر قالی باف کا کہنا تھا کہ بعض رپورٹوں کے مطابق ایران کے دشمن خطے ایک ملک کی حمایت سے، ایرانی جزیروں میں سے ایک پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج دشمن تمام نقل و حرکت ہماری کی گہری نگرانی کر رہی ہیں۔  

ایران کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو اس کا ساتھ دینے والے خطے کے اس ملک کے بنیادی ڈھانچے کا مکمل صفایا کردیا جائے گا۔  

 بری فوج کے کمانڈر امیر بریگیڈیئر جنرل جہان شاہی نے ملک کی سرحدوں کے دورے کے دوران کہا کہ ایران کے ہر انچ جغرافیے کی حفاظت پوری ہوشیاری اور تیاری کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طاقتور مسلح افواج ایران کی ہر سرحد پر موجود ہیں اور دشمن کے ساتھ براہ راست مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی نقل و حرکت کو لمحہ بہ لمحہ اور انتہائی باریکی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ہر ممکنہ صورتحال کے لیے ہر وقت اور ہر مقام پر تیاری موجود ہے۔

امیر جہان شاہی نے زور دے کر کہا کہ دشمن کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ زمینی جنگ اس کے لیے زیادہ خطرناک، زیادہ مہنگی اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی موجودگی، ثابت قدمی اور اتحاد ہی ایران کی بڑی کامیابی اور دشمن کی شکست کا راز ہے۔

ان کے مطابق، ایران اپنے فرزندوں کی قربانیوں کی بدولت مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ بھی سربلند رہے گا۔

 ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے رہبر معظم آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کی اجازت اور مشورے سے محمد باقر ذوالقدر کو قومی سلامتی کونسل کا نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں فضائی حملہ کرکے گذشتہ دنوں شہید کردیا تھا۔ جس کے بعد یہ عہدہ خالی تھا۔

، ہندوستان بھر میں ایران کی حمایت اور امداد کے لیے عوامی سطح پر غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مرد و خواتین، نوجوان و بزرگ، حتیٰ کہ بچے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایران کی مدد کے لیے مالی و مادی تعاون فراہم کر رہی ہے۔

ہندوستان سے ایران کے لیے محبت و ایثار کی لہر، عوام نے دل کھول کر امداد کا سلسلہ تیز کر دیا

ذرائع کے مطابق، جن افراد کے پاس زیورات موجود ہیں وہ انہیں عطیہ کر رہے ہیں، جبکہ دیگر لوگ اپنے قیمتی سامان حتیٰ کہ گھریلو برتن تک امداد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر نقد رقوم بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ بچوں نے بھی اس کارِ خیر میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے اپنے جیب خرچ اور گلکوں میں جمع رقم عطیہ کی ہے، جو ان کے خلوص اور جذبۂ ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ سپاہ پاسداران کے سبھی شعبے طاقت و توانائی کی اوج  نیز مکمل آمادگی کی  حالت میں ہیں۔

 جنرل کرمی نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ملک کے دیگر دشمنوں کو ان کی ہر دھمکی اور جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔

 انھوں نے کہا کہ ہم سبھی رہبر معظم انقلاب کی بصیرت کےقائل اور قدرداں ہیں اور مسلحانہ دہشت گردی کی مذمت میں 12 جنوری کو عوام کی میدان میں پرشکوہ موجودگی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  جنرل کرمی نے کہا کہ صوبہ خوزستان میں تعینات سپاہ کے بری شعبے کے مجاہد جوانوں کے حوصولے بہت بلند اور ارادے بہت محکم ہیں اور وہ مکمل آمادگی اور چوکسی کی حالت میں ہیں۔

ارنا کے مطابق اقوام متحدہ کے جنیوا ہیڈکواٹر میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب مندوب رضا دہقانی نے کہا کہ ایران کی اپنے پڑوسیوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن جن ملکوں نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملے کے لئے استعمال ہونے کی  اجازت دی ہے، وہ اپنے اس اقدام کے نتائج کے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔

انھوں نے یہ یاد دہانی  کراتے ہوئے کہ ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی  جارحیت پانچویں ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، کہا کہ ایران میں عام شہریوں  اور غیر فوجی مراکز پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں میں ہر روز بے گناہ عوام، عورتوں اور  بچوں کی ایک تعداد اپنی جان سے ہاتھ دھو رہی ہے۔  

 اقوام متحدہ کے جنیوا ہیڈکواٹر میں ایران کے نائب مندوب نے کہا کہ بین الاقوامی روابط میں جارحیت اور طاقت کا استعمال رائج نہیں ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی طاقت کو بین الاقوامی قوانین کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے۔