سلیمانی
ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے سمجھوتے کے بارے میں، اعلی قومی سلامتی کونسل کا بیان
ایران کی اعلی قومی کونسل نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ آج رات سے لبنان سمیت سبھی محاذوں پر جنگ بند ہورہی ہے اور ایران کا بحری محاصرہ بھی فوری طور پر ختم ہوجائے گا۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے بیان کا متن مندرجہ ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایرانی عوام کو اطلاع دی جاتی ہے کہ:
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے شہید رہبر کی قیادت کے سائے میں، امریکی صیہونی دشمن پر اپنی برتری مکمل کرلی اورنظام کی اعلی قیادت(حفظہ اللہ) کی تدابیر، عوام کی حمایت اورسپاہیان اسلام کی مجاہدانہ مساعی کے نتیجے میں، چند مہینے کے دشوار اور انتھک مذاکرات کے بعد، جنگ کے خاتمے کے مذاکرات (اسلام آباد مذاکرات) کے تعلق سے، مفاہتی یادداشت کے متن کو اتوار 24 جون کی رات آخری شکل دے دی۔
انجام پانے والے اتفاق رائے کے مطابق آج رات سے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ مستقل طور پر ختم ہورہی ہے اورایران کا بحری محاصرہ بھی بلا تاخیر مکمل طور پر ختم ہوجائےگا۔
مفاہمتی یاد داشت پر جمعہ 19 جون کو دستخط ہوں گے۔
مکمل سمجھوتے کے مذاکرات کا انحصار، مفاہمتی یاد داشت کے مطابق، فریق مقابلے کے وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔
اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان اور حکومت قطر کی مساعی کی قدردانی کرتا ہے۔
والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
سیکریٹریٹ اعلی قومی سلامتی کونسل
سنیٹر اسحاق ڈار: ایران امریکا سمجھوتے کے استحکام کی ہر کوشش کی حمایت کریں گے
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران امریکا سمجھوتے پر اتفاق کا خیر مقدم کیا ہے۔
انھوں نے مابقی مسائل کے حل کے لئے مذاکرات جاری رہنے کی خبر دیتے ہوئے، کہا کہ اسلام آباد معاہدے کے استحکام کے لئے کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرے گا۔
سینیٹراسحاق ڈار نے کہا کہ یہ پیشرفت، تصادم کے بجائے گفتگو کے انتخاب کے لئے دوست ملکوں کے اجتماعی عزم اور پائیدار سفارتی افہام و تفہیم کی قوت کا ثبوت ہے۔
امام زمانہ (عجل) کے ساتھ ارتباط سے انسان کو حقیقی سکون ملتا ہے
مسجد مقدس جمکران کے متولی حجت الاسلام والمسلمین اجاق نژاد نے مسجد جمکران کے اجلاس ہال میں جنگ رمضان کے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات کی۔
اس ملاقات میں متولی مقدس مسجد جمکران نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: شہداء کے خاندانوں کا احترام کرنا اسلامی معاشرے کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ آج ہم سب پر فرض ہے کہ شہداء کی یاد کو زندہ رکھتے ہوئے، ان کی وصیتوں کو پھیلاتے ہوئے، ان کی زندگی کو بیان کرتے ہوئے اور ان کے اہداف کو واضح کرتے ہوئے، شہداء کے نورانی راستے کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے ثقافتِ اسلامی میں شہداء کے بلند مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شہداء صرف ماضی سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ آج بھی ہماری زندگی میں موجود ہیں، ہمارے اعمال پر نظر رکھتے ہیں اور دینی تعلیمات کے مطابق ان کی زندگی پروردگار کے ہاں جاری ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین اجاق نژاد نے دفاع مقدس کے دوران مجاہدین اور دشمن کے ہاتھوں آزادی پانے والے افراد کو یاد کرتے ہوئے کہا: حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے توسل مشکلات سے عبور کرنے اور مشکل حالات میں حوصلہ برقرار رکھنے میں انتہائی کارساز ہے۔ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ساتھ ارتباط پیدا کرنے سے انسان کو حقیقی سکون ملتا ہے اور شہداء کے خاندان پر تو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خاص عنائت و نظر و کرم ہوتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات کے دوران شہداء کے خاندان کے بعض افراد نے بھی اپنے شہداء کی بعض داستانیں، واقعات اور حسین یادوں کو بیان کیا۔
13 جون اجتماعِ مینارِ پاکستان وحدتِ امت اور قومی یکجہتی کا عظیم مظہر ہوگا، علامہ سید جواد نقوی
اتحادِ امت فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں علامہ سید جواد نقوی، علامہ محمد امین شہیدی اور علامہ احمد اقبال رضوی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مرکزی صدر آئی ایس او سید محمد امین شیرازی، مولانا ظہیر کربلائی، لعل مہدی خان سمیت مختلف مذہبی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اجتماعِ مینارِ پاکستان نہ صرف وحدتِ امت اور قومی یکجہتی کا عظیم مظہر بنے گا بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت، پُرامن اور ذمہ دار تشخص کو بھی اجاگر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کا راستہ وحدتِ امت، استقامت اور مظلوموں کی حمایت کا راستہ ہے اور ملتِ پاکستان ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اپنا اخلاقی، انسانی اور قومی فریضہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بدامنی، دہشت گردی اور مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں شیعیانِ پاکستان اور تمام محبانِ وطن عناصر ملک میں امن، وحدت، استحکام اور تعمیر و ترقی کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے خطے میں مصالحت اور ثالثی کے ذریعے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔
مرجع تقلید، آیت اللہ الحاج شیخ اسحاق فیاض طاب ثراہ کی رحلت پر رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام تعزیت
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید مجتبی خامنہ ای نے آیت اللہ شیخ اسحاق فیاض کی رحلت پر تعزیتی پیغام جاری جاری کیا ہے۔
اپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں تحریر فرمایا ہے:
بسم اللہ الرحمان الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون
مرجع عالی قدر تقلید، آیت اللہ الحاج شیخ اسحاق فیاض (طاب ثراہ) کی رحلت کی خبر سے گہرا صدمہ ہوا۔ اس رحلت نے دینی تعلیم کے سبھی مراکز بالخصوص حوزہ علمیہ نجف کو سوگ میں مبتلا کردیا۔
نجف کے مقدس حوزہ علمیہ میں، اس کی عظیم ہسیتوں جیسے آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی رحمت اللہ علیہ سے کسب فیض، شاگردوں کی تربیت، تالیفات، حوزہ علمیہ کی علمی مہم پر دسترسی اورمومنین و مقلدین کی ہدایت اس فقیہ کی خدمات کا صرف ایک حصہ ہے جو ناقابل فراموش ہے اور آن کے آثار صالحہ ان شاء اللہ باقی رہیں گے۔
میں اس عظیم نقصان پر حوزہ علمیہ نجف اشرف، آپ کے سبھی مقلدین اور عقیدتمندوں، بالخصوص افغانستان کی پائیدار قوم اور آپ کے معزز خانوادے کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور خدا وند عالم سے آپ کے لئے علودرجات، اولیائے الہی کے ساتھ محشور ہونے اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل وجزیل کی دعا کرتا ہوں
سید مجتبی حسینی خامنہ ای
آبنائے ہرمز میں بغیر اجازت داخل ہونے والے آئل ٹینکر کو ایرانی بحریہ نے روک دیا
ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایک ایسے آئل ٹینکر کی نقل و حرکت روک دی جو متعلقہ حکام سے رابطہ اور ضروری ہم آہنگی کے بغیر اس حساس سمندری گزرگاہ کے حدود میں داخل ہوا تھا۔
بندرعباس سے موصولہ رپورٹس کے مطابق ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ آئل ٹینکر کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی اور اس کی آمدورفت کو روک دیا۔
اس سے قبل مقامی ذرائع نے سیریک کے ساحلی علاقے کی سمت سمندر سے دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی تھی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ آوازیں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نظم و ضبط اور ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اقدامات کا حصہ ہوسکتی ہیں۔
حالیہ جنگوں میں عالمی طاقتوں کو بے بس کر دیا، جنرل فدوی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ کے مشیر جنرل علی فدوی نے حضرت عبدالعظیم حسنی کے روضہ مبارک میں منعقدہ شہید حسین سلامی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نمایاں شہداء، جن میں شہید حسین سلامی اور دوسری و تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء شامل ہیں، امت کی دستگیری اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپاہ پاسداران کے دو سربراہان اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر بھی شہداء میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ اس بات کی اہم علامت ہے کہ ہمارے کمانڈر ہمیشہ دشمن کے خلاف محاذ جنگ کی پہلی صف میں موجود رہے ہیں۔
جنرل علی فدوی نے کہا کہ عوام اور ذمہ داران کی استقامت اور ثابت قدمی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسلامی انقلاب کو ایک عظیم کامیابی عطا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی محاذ نے کئی ماہ تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا مقابلہ کیا اور اسے بے بس کر دیا۔ ان کے بقول یہ کامیابی اسلامی انقلاب، مزاحمتی محاذ، فلسطینی عوام، حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی قوتوں کے لیے باعث افتخار ہے۔
انہوں نے مخالف محاذ کو بچوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بیس ہزار سے زائد بچوں کو قتل کیا گیا، جبکہ ایران میں بھی اسکول جانے والے بچے نشانہ بنے۔
جنرل فدوی نے شہید حسین سلامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سن 1984 سے ان کے ساتھ کام کرنے اور رفاقت کا موقع ملا۔ ان کے بقول شہید حسین سلامی قرآن مجید کے معلم کی حیثیت سے سپاہ میں شامل ہوئے تھے اور قرآن کی برکت سے مختلف ذمہ داریوں تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن وعدہ صادق کے دوران بھی شہید حسین سلامی کی شخصیت، قرآنی طرز فکر اور پراعتماد انداز نمایاں تھا۔
خطاب کے اختتام پر جنرل علی فدوی نے کہا کہ مستند روایات کے مطابق ایک شہید اپنے خاندان کے ستر ہزار افراد اور چار سو اسی دوستوں اور ہمسایوں کی شفاعت کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رحمت اور شہداء کی عنایت سے بہرہ مند فرمائے۔
تیل اور گیس برآمد کرنے کا حق سب کو ہوگا یا کسی کو بھی نہیں، جنرل عبداللہی
خاتم الانبیاء سینٹرل ڈیفنس ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب ملے گا اور خطے میں عدمِ استحکام مزید پھیل سکتا ہے۔
اپنے ایک پیغام میں جنرل عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکہ ایک طرف معاہدے اور مذاکرات کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب شرارتوں اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ امریکہ کے قول و فعل کا یہ تضاد خطے میں عدمِ استحکام کا بنیادی سبب ہے اور اسی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، معیشت اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کی طاقت اور عزم کو درست طور پر نہیں سمجھ سکے، اسی لیے وہ بار بار غلطیاں اور بے بنیاد دعوؤں کا اعادہ کرتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حامی میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی ناکامیوں اور شکستوں کو نہیں چھپا سکتے۔
جنرل عبداللہی نے خبردار کیا کہ ایران کے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے جواب میں یہ واضح کر دیا جاتا ہے کہ یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے جاری رہیں گی یا پھر کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہوں گی۔
16 ہزار ایرانی حجاج کرام کی وطن واپسی
ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج وزیارت کے نائب سربراہ نے 12 جون تک خصوصی پروازوں کے ذریعے باقی بچے سبھی ایرانی حجاج کرام کی وطن واپسی کی خبر دی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ حجاج کرام پروازوں کے تعلق سے کچھ محدودیتوں کی وجہ سے واپس نہیں آسکے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ سولہ ہزار حجاج کرام وطن واپس آچکے ہیں اور بقیہ دو ہزار تین سو بارہ جون تک آجائيں گے۔
اسرائیل اور امریکہ ایران کو علاقائی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں، صہیونی سفیر کا اعتراف
واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یخیل لائٹر نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے خطے میں مشترکہ اہداف ہیں اور دونوں ایران کو ایک غالب علاقائی طاقت بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے دعوی کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب قریبی تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ایران خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید نہ بڑھا سکے۔ لائٹر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان گہمی تعلقات، قریبی رابطہ کاری اور باہمی ہم آہنگی موجود ہے۔
اسرائیلی سفیر نے لبنان کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران لبنان کے معاملے کو امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیل اس دونوں امور کے درمیان کسی قسم کے تعلق کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے کردار کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسی صورتحال کی اجازت دے گا جس میں حزب اللہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرے۔
یخیل لائٹر نے مزید دعوی کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
اسرائیلی سفیر نے یہ بھی کہا کہ تل ابیب کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور تہران کو لبنان کے معاملات سے دور رہنا چاہیے، جبکہ ایران اور مزاحمتی حلقے لبنان کی صورتحال کو خطے کی وسیع تر سکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے جوڑتے ہیں۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
