سلیمانی
37 ویں لہر "یا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام" میں میزائل، ڈرون داغے گئے ہیں، پاسداران انقلاب
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق4 کے چھتیسویں مرحلے میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں امریکی فوج کے آپریشنل ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی شبِ قدر یعنی اکیسویں رمضان المبارک کی رات "یا علی ابن ابی طالبؑ" کے رمز کے ساتھ انجام دی گئی۔ اس حملے میں بیلسٹک میزائل قدر، خیبر شکن اور عماد بڑی تعداد میں استعمال کیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کا ہدف خطے میں امریکہ کا پانچواں بحری اڈہ اور قطر میں قائم العدید ایئر بیس سمیت دیگر امریکی تنصیبات تھیں، جبکہ عراق کے کردستان ریجن میں واقع الحریر ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ پاسداران نے اپنے بیان میں امریکی سیاسی اور فوجی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیانات دینے کے بجائے خطے کا دورہ کریں اور میدان جنگ کی حقیقی صورتحال کا خود مشاہدہ کریں۔ ایرانی مجاہدین میدان میں عملی جواب دے رہے ہیں۔
ایرانی بیان میں مزید دعوی کیا گیا کہ گزشتہ ستر برس کے دوران مشرق وسطی میں امریکہ کی تعمیر کردہ اسٹریٹجک تنصیبات محض گیارہ دنوں میں تباہ ہوگئی ہیں اور جنگ ابھی جاری ہ
شہادتِ رہبر معظم اور عاشورائی معرکہ
مسلم دنیا کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک شخصیت کی شہادت نہیں ہوتے بلکہ ایک پورے عہد کی حقیقت کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ رہبرِ مسلمین کی جاں گداز شہادت بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے جس نے حق و باطل کی کشمکش کو ایک مرتبہ پھر پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ یہ شہادت اس حقیقت کی گواہی ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ قربانیوں سے گزرتا ہے اور یہی وہ اصول ہے جو تاریخِ اسلام میں امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی سے ہمیں ملا۔
آج کے عالمی حالات میں بھی یہی منظر کسی نہ کسی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔ کئی مسلمان ممالک وقت کے یزیدی نظام، یعنی امریکہ اور صیہونی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہیں۔ مگر رہبر معظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بارہا اعلان کیا کہ ان کی جدوجہد دراصل عاشورائی جہاد کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہم امریکہ اور صیہونیوں کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے۔
یہ دراصل اس ادراک کا اظہار تھا کہ حالات ایک نئے کربلا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ جیسے شہادتِ امام حسینؑ کے بعد امت بیدار ہوئی تھی، اسی طرح رہبر معظم کی عظیم شہادت نے بھی امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کی قربانی نے مکتبِ اہل بیتؑ کی حقانیت کو مزید درخشاں کر دیا اور تکفیری و خارجی گروہوں کے ساتھ ساتھ صیہونی طاقتوں کے مکروہ چہرے بھی بے نقاب ہوگئے۔
رہبر شہید نے نصف صدی پر محیط انقلاب اسلامی کی تحریک کو نئی زندگی عطا کی۔ امام خمینی کے خطِ انقلاب پر قائم رہتے ہوئے انہوں نے ایرانی قوم کو استقامت، خودداری اور مزاحمت کا درس دیا۔ ان کی خون رنگ شہادت نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ ’’مردہ باد امریکہ‘‘ کا نعرہ محض ایک سیاسی شعار نہیں بلکہ عالمی استکبار کے خلاف ایک فکری موقف ہے۔ تاریخ کی سچائی یہی ہے کہ آخرکار خون ہمیشہ تلوار پر غالب آتا ہے۔
اس وقت امت مسلمہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر استعماری تسلط کے خلاف متحد ہوں۔ خاموشی اور بے حسی دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے۔ اگر ظلم کے مقابلے میں آواز بلند نہ کی جائے تو یہ بزدلی بھی ہے اور جرم بھی۔ ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ خود کو لشکرِ حسینؑ کا ایک سپاہی سمجھے اور وقت کے یزیدی نظام کے خلاف حق کا ساتھ دینے کے لئے تیار رہے۔
ایران کی مزاحمتی پالیسی نے عالمی سیاست میں ایک نئی حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے۔ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا کہ وہ طویل المدت جنگ سے خوفزدہ نہیں۔ یہ مزاحمت دراصل عالمی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی حکمت عملی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف خلیجی عرب حکمرانوں کا کردار بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان حکومتوں نے اکثر اوقات امریکی مفادات کی خدمت کو اپنی پالیسی بنایا۔ کم از کم انہیں اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لئے استعمال ہونے سے روکنا چاہئے جو مسلم دنیا کے خلاف ہوں۔
پاکستان میں بھی رہبر معظم کی شہادت پر امامیہ نوجوانوں کا ردعمل غیر معمولی تھا۔ پورے ملک میں احتجاج کرکے انہوں نے اپنے جذبات اور عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ نوجوان درحقیقت رہبر کے فدائی ہیں جنہوں نے اپنی محبت اور وفاداری کو عملی شکل دی۔ بعض مقامات پر نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی تک دے دی، جو ان کے ایمان اور عقیدت کی بلندی کا ثبوت ہے۔ مقامی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نوجوانوں کی پشت پناہی کرے اور ان کے حوصلے کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت اور تعمیری جدوجہد کی طرف رہنمائی فراہم کرے۔
رہبر معظم کی شخصیت کسی عام رہنما کی نہیں تھی۔ وہ ایک فکری مکتب، ایک مزاحمتی نظریہ اور ایک انقلابی روح کے نمائندہ تھے۔ ان کی شہادت بظاہر ایک عظیم نقصان ہے، مگر درحقیقت یہ صیہونیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ شہادت ہمیشہ تحریکوں کو ختم نہیں کرتی بلکہ انہیں نئی زندگی عطا کرتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ رہبر معظم کی شہادت دراصل عاشورائی معرکہ کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ہمیں پھر یاد دلاتی ہے کہ حق کی راہ میں قربانی ہی اصل کامیابی ہے، اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی حسینؑ کا پیغام ہے۔ اگر امت مسلمہ اس پیغام کو سمجھ لے تو کوئی طاقت اسے مغلوب نہیں کر سکتی۔
تحریر: سید انجم رضا
مسافروں کے لئے ماہ رمضان میں سرِعام کھانے پینے کا حکم
دینی احکام کے استاد حجت الاسلام والمسلمین وحید پور نے ماہ مبارک رمضان کی مناسبت سے احکام شرعی بیان کئے ہیں۔ جنہیں شرعی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہاں بیان کیا جارہا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جو افراد سفر پر جاتے ہیں اور وہ 10 دن وہاں سکونت کا بھی ارادہ نہیں رکھتے تو ان کا روزہ قصر ہو گا لیکن ماہ رمضان میں سرِعام کھا پی بھی نہیں سکتے۔
یہ افراد روزہ قصر کریں گے اور ان پر کوئی گناہ بھی نہیں ہے لیکن وہ سرِعام روزہ کھا نہیں سکتے۔ لہذا مسافر کو ایسی جگہ پر کھانا پینا چاہئے جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو۔
روایات میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ ماہِ رمضان میں سرِعام نہ کھایا پیا جائے۔ حتی کہ سرِعام کھانے پینے والے شخص کی حاکم شرعی تنبیہ (تعزیر) بھی کر سکتا ہے۔ لوگوں کو اپنی اولاد کی بھی اسی طرح تربیت کرنی چاہئے کہ وہ ماہِ رمضان میں سرِعام نہ کھائیں پئیں چاہے ابھی وہ سنِ تکلیفِ شرعی کو نہ بھی پہنچیں ہوں (یعنی ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں)۔
یاد رہے کہ یہ نکتہ صرف مسافروں سے مختص نہیں ہے بلکہ باقی افراد کہ جو مسافر نہیں لیکن عذرِ شرعی کی وجہ سے وہ روزہ نہیں رکھ سکتے (مریض وغیرہ) تو وہ بھی سرِ عام کھا پی نہیں سکتے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ ماہِ مبارکِ رمضان کا احترام کریں۔
ایران میں سُپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کا مختصر تعارف
ایران میں سب سے طاقتور ادارے کا نام مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) ہے۔ یہ درحقیقت ریاستی قیادت کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے ایک علمی و مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری مختلف کمیشنوں اور انتظامی شعبوں کے ذریعے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی ذمہ داری اسلامی نظام میں اعلیٰ ترین قائد (سُپریم لیڈر) یعنی رہبر کا انتخاب کرنا، اس کی شرعی و قانونی شرائط کی نگرانی کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے منصب سے معزول کرنے کا اختیار رکھنا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ایران میں قیادت علم سے جنم لیتی ہے اور حکمت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ادارہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت ایسے افراد کے انتخاب کے ذریعے ہونی چاہیئے جو علم اور بصیرت کے حامل ہوں۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مجلس خبرگانِ رہبری وہ منتخب آئینی مجلس ہے جو ریاست کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس کا تاریخچہ کچھ یوں ہے کہ 10 دسمبر 1982ء کو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مجموعی طور پر 83 افراد منتخب ہوئے، اور ان منتخب اراکین نے 15 اگست 1983ء کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ مجلس اس سیاسی و فکری روایت کی نمائندہ تھی جس میں اقتدار کو محض قوت کا مظہر سمجھنے کے بجائے ذمہ داری اور امانت سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس کا قیام اس تصور کی عملی تعبیر تھا کہ قیادت عقل، دیانت داری اور بصیرت کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیئے۔ سن 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت کی عوامی قبولیت کے بعد آئین کے معماروں نے طویل غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ریاستی ڈھانچے میں ایک ایسا منصب قائم کیا جائے جو مقامِ رہبری (اعلیٰ منصبِ قیادت) کہلائے اور ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جو اس منصب کے انتخاب اور نگرانی کی ذمہ دار ہو، جسے مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کہا گیا۔
دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مجلس اس نظریے پر تشکیل پائی ہے کہ اقتدار و اختیارات کا ہتھیار اس کے سُپرد کرنا چاہیئے کہ جو علم و حکمت کا امین ہو۔ اسی لئے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنے والے ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مجلس تدبیر کرنے والے، زندہ ضمیر، باشعور، تجربہ کار اور اپنی ذمہ داری نبھانے والوں کی مجلس ہے۔ اس کے مختلف کمیشن اور انتظامی شعبے ماہرین کے زیرِ نگرانی مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور ریاستی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مجلس ریاست کو ایک زندہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے نزدیک ریاست کے مختلف ادارے اس کے اعضا کی مانند ہوتے ہیں۔ جب ہر عضو اپنا کام دیانت اور مہارت سے انجام دے رہا ہو تو پورا نظام متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔
اس مجلس کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر دو اہم ستون ہیں: مجلس کی صدارت یعنی ہیئتِ رئیسه (انتظامی قیادت) اور اس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (مجالسِ تحقیق و جائزہ)۔ اس مجلس کے ہر دور کے آغاز میں ایک عارضی صدارت قائم کی جاتی ہے جسے ہیئتِ رئیسهٔ سنی (عارضی عمر کی بنیاد پر منتخب صدارت) کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معمر رکن صدر بنتا ہے اور دیگر ارکان مجلس کے انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔ یہ عارضی صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلاتی ہے اور پھر مستقل صدارت کے انتخاب کا انتظام کرتی ہے۔ اس انتظام میں ایک خاص نظم اور وقار نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں جہاں قانون کی روشنی ہو وہاں فیصلہ معتبر ہوتا ہے اور جہاں نظم کی فضا ہو وہاں اجتماع مضبوط ہوتا ہے۔
مستقل صدارت جسے ہیئتِ رئیسهٔ دائم (مستقل مجلسِ انتظام) کہا جاتا ہے خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اس میں ایک صدر، دو نائب صدر، دو منشی اور دو منتظم شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف مجلس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں بلکہ مجلس کے انتظامی، مالی اور تنظیمی امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اس منصب کی ذمہ داری اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت محض اختیار کا نام نہیں بلکہ احتساب کا بھی نام ہے۔ مجلس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (تحقیقی و مشاورتی مجالس) اس کے فکری اور عملی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں آئین کی دفعہ 108 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 108 (قانون سازی سے متعلق مجلس)، مالی و انتظامی کمیشن یعنی کمیسیون امور مالی و اداری (مجلسِ مالی و انتظامی امور)، اور آئین کی دفعات 107 اور 109 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 107 و 109 (اہلیتِ قیادت کے جائزے کی مجلس) شامل ہیں۔ ان کمیشنوں کی فعالیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے جذبات کے بجائے تحقیق اور تدبر سے کیے جاتے ہیں۔
مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کی بنیادی ذمہ داریاں تین اہم امور کے گرد گھومتی ہیں: انتخابِ رہبر (اعلیٰ قائد کا انتخاب)، عزلِ رہبر (قائد کو منصب سے ہٹانے کا اختیار) اور نظارت بر رہبر (قائد کی نگرانی)۔ رہبر کا انتخاب ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ ترین منصب کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم، تقویٰ اور بصیرت کا حامل ہو۔ اسی طرح آئین کے مطابق اگر رہبر اپنی مقررہ شرائط کھو دے تو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے عزل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ مجلس خبرگان رہبری کے وجہ سے ایران میں اقتدار کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے احتساب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب بلند ضرور ہے لیکن قانون اس سے بلند تر ہے، اور سُپریم کمانڈر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں لیکن اس منصب کی ذمہ داری اس سے بھی وسیع تر ہے۔
مجلس خبرگان رہبر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی بھی کرتی ہے، جسے نظارت بر رہبر (قیادت پر نگرانی) کہا جاتا ہے، تاکہ ریاستی نظام اپنی اصل روح کے مطابق چلتا رہے۔ یہاں نگرانی کا عمل کسی مخالفت یا جاسوسی کی علامت کے بجائے استحکام، احتساب اور اعتماد کی ضمانت ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خبرگان کے نمائندوں کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں جن میں فقاہت (دینی قانون میں مہارت)، سیاسی و سماجی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور اخلاقی شائستگی شامل ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ اس مجلس میں ایسے افراد شامل ہوں جو علم اور کردار دونوں میں نمایاں ہوں۔ بطورِ خلاصہ اس مجلس کا تعارف یہ ہے کہ اس میں فیصلے کھوکھلی رائے کے بجائے گہری غور و فکر، عمیق بحث و مباحثے اور تدبر سے کئے جاتے ہیں، اس میں اختیار اخلاق سے جڑا ہوتا ہے، اور یہاں قیادت صرف ایک الہی و عوامی امانت ہوتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ایران میں سُپریم لیڈر کا انتخاب کرنے والے ادارے کا مختصر تعارف
ایران میں سب سے طاقتور ادارے کا نام مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) ہے۔ یہ درحقیقت ریاستی قیادت کی نگرانی اور رہنمائی کے لیے ایک علمی و مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری مختلف کمیشنوں اور انتظامی شعبوں کے ذریعے اپنے فرائض انجام دینا ہے۔ اس کے ارکان عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی ذمہ داری اسلامی نظام میں اعلیٰ ترین قائد (سُپریم لیڈر) یعنی رہبر کا انتخاب کرنا، اس کی شرعی و قانونی شرائط کی نگرانی کرنا اور ضرورت پڑنے پر اسے منصب سے معزول کرنے کا اختیار رکھنا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ایران میں قیادت علم سے جنم لیتی ہے اور حکمت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہ ادارہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ ریاست کی اعلیٰ قیادت ایسے افراد کے انتخاب کے ذریعے ہونی چاہیئے جو علم اور بصیرت کے حامل ہوں۔ مختصر طور پر کہا جائے تو مجلس خبرگانِ رہبری وہ منتخب آئینی مجلس ہے جو ریاست کی اعلیٰ قیادت کے انتخاب، اس کے احتساب اور اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
اس کا تاریخچہ کچھ یوں ہے کہ 10 دسمبر 1982ء کو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کے انتخابات منعقد ہوئے جن میں مجموعی طور پر 83 افراد منتخب ہوئے، اور ان منتخب اراکین نے 15 اگست 1983ء کو اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ مجلس اس سیاسی و فکری روایت کی نمائندہ تھی جس میں اقتدار کو محض قوت کا مظہر سمجھنے کے بجائے ذمہ داری اور امانت سمجھا جاتا ہے۔ اس مجلس کا قیام اس تصور کی عملی تعبیر تھا کہ قیادت عقل، دیانت داری اور بصیرت کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیئے۔ سن 1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور امام خمینی کی قیادت میں اسلامی حکومت کی عوامی قبولیت کے بعد آئین کے معماروں نے طویل غور و فکر کے بعد یہ طے کیا کہ ریاستی ڈھانچے میں ایک ایسا منصب قائم کیا جائے جو مقامِ رہبری (اعلیٰ منصبِ قیادت) کہلائے اور ایک ایسی مجلس تشکیل دی جائے جو اس منصب کے انتخاب اور نگرانی کی ذمہ دار ہو، جسے مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کہا گیا۔
دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مجلس اس نظریے پر تشکیل پائی ہے کہ اقتدار و اختیارات کا ہتھیار اس کے سُپرد کرنا چاہیئے کہ جو علم و حکمت کا امین ہو۔ اسی لئے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنے والے ماہرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ مجلس تدبیر کرنے والے، زندہ ضمیر، باشعور، تجربہ کار اور اپنی ذمہ داری نبھانے والوں کی مجلس ہے۔ اس کے مختلف کمیشن اور انتظامی شعبے ماہرین کے زیرِ نگرانی مسلسل سرگرم رہتے ہیں اور ریاستی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں پر غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مجلس ریاست کو ایک زندہ نظام کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے نزدیک ریاست کے مختلف ادارے اس کے اعضا کی مانند ہوتے ہیں۔ جب ہر عضو اپنا کام دیانت اور مہارت سے انجام دے رہا ہو تو پورا نظام متوازن اور مستحکم رہتا ہے۔
اس مجلس کے ڈھانچے میں بنیادی طور پر دو اہم ستون ہیں: مجلس کی صدارت یعنی ہیئتِ رئیسه (انتظامی قیادت) اور اس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (مجالسِ تحقیق و جائزہ)۔ اس مجلس کے ہر دور کے آغاز میں ایک عارضی صدارت قائم کی جاتی ہے جسے ہیئتِ رئیسهٔ سنی (عارضی عمر کی بنیاد پر منتخب صدارت) کہا جاتا ہے۔ اس میں سب سے معمر رکن صدر بنتا ہے اور دیگر ارکان مجلس کے انتظامی امور سنبھالتے ہیں۔ یہ عارضی صدارت افتتاحی اجلاس کی کارروائی چلاتی ہے اور پھر مستقل صدارت کے انتخاب کا انتظام کرتی ہے۔ اس انتظام میں ایک خاص نظم اور وقار نظر آتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں جہاں قانون کی روشنی ہو وہاں فیصلہ معتبر ہوتا ہے اور جہاں نظم کی فضا ہو وہاں اجتماع مضبوط ہوتا ہے۔
مستقل صدارت جسے ہیئتِ رئیسهٔ دائم (مستقل مجلسِ انتظام) کہا جاتا ہے خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے۔ اس میں ایک صدر، دو نائب صدر، دو منشی اور دو منتظم شامل ہوتے ہیں۔ یہ افراد نہ صرف مجلس کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں بلکہ مجلس کے انتظامی، مالی اور تنظیمی امور کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ اس منصب کی ذمہ داری اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قیادت محض اختیار کا نام نہیں بلکہ احتساب کا بھی نام ہے۔ مجلس کے مختلف کمیشن یعنی کمیسیونها (تحقیقی و مشاورتی مجالس) اس کے فکری اور عملی بازو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں آئین کی دفعہ 108 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 108 (قانون سازی سے متعلق مجلس)، مالی و انتظامی کمیشن یعنی کمیسیون امور مالی و اداری (مجلسِ مالی و انتظامی امور)، اور آئین کی دفعات 107 اور 109 سے متعلق کمیشن یعنی کمیسیون اصل 107 و 109 (اہلیتِ قیادت کے جائزے کی مجلس) شامل ہیں۔ ان کمیشنوں کی فعالیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اجتماعی فیصلے جذبات کے بجائے تحقیق اور تدبر سے کیے جاتے ہیں۔
مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کی بنیادی ذمہ داریاں تین اہم امور کے گرد گھومتی ہیں: انتخابِ رہبر (اعلیٰ قائد کا انتخاب)، عزلِ رہبر (قائد کو منصب سے ہٹانے کا اختیار) اور نظارت بر رہبر (قائد کی نگرانی)۔ رہبر کا انتخاب ایک نہایت اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے ذریعے ریاست کے اعلیٰ ترین منصب کے لیے ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا جاتا ہے جو علم، تقویٰ اور بصیرت کا حامل ہو۔ اسی طرح آئین کے مطابق اگر رہبر اپنی مقررہ شرائط کھو دے تو مجلس خبرگانِ رہبری (مجلسِ ماہرینِ قیادت) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کے عزل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ مجلس خبرگان رہبری کے وجہ سے ایران میں اقتدار کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے احتساب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کا منصب بلند ضرور ہے لیکن قانون اس سے بلند تر ہے، اور سُپریم کمانڈر کے اختیارات وسیع ضرور ہیں لیکن اس منصب کی ذمہ داری اس سے بھی وسیع تر ہے۔
مجلس خبرگان رہبر کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی بھی کرتی ہے، جسے نظارت بر رہبر (قیادت پر نگرانی) کہا جاتا ہے، تاکہ ریاستی نظام اپنی اصل روح کے مطابق چلتا رہے۔ یہاں نگرانی کا عمل کسی مخالفت یا جاسوسی کی علامت کے بجائے استحکام، احتساب اور اعتماد کی ضمانت ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مجلس خبرگان کے نمائندوں کے لیے چند بنیادی شرائط مقرر کی گئی ہیں جن میں فقاہت (دینی قانون میں مہارت)، سیاسی و سماجی بصیرت، تقویٰ، دیانت اور اخلاقی شائستگی شامل ہیں۔ ان شرائط کا مقصد یہ ہے کہ اس مجلس میں ایسے افراد شامل ہوں جو علم اور کردار دونوں میں نمایاں ہوں۔ بطورِ خلاصہ اس مجلس کا تعارف یہ ہے کہ اس میں فیصلے کھوکھلی رائے کے بجائے گہری غور و فکر، عمیق بحث و مباحثے اور تدبر سے کئے جاتے ہیں، اس میں اختیار اخلاق سے جڑا ہوتا ہے، اور یہاں قیادت صرف ایک الہی و عوامی امانت ہوتی ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی منتخب
شہید آیت اللّٰہ سید علی حسینی خامنہ ای کے فرزند آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو نیا ولی فقیہہ نامزد کردیا گیا۔ ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے ایرانی عوام سے نئے رہبر انقلاب اسلامی سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔
اسلامی انقلاب کا نیا رہبر مجلس خبرگان رہبری کے ذریعہ مقرر اور متعارف کرا دیا گیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی ایران کی شریف اور آزاد قوم! خدا کا سلام اور درود تم پر ہو۔
مجلس خبرگان رہبری، عظیم الشان قائد حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت، دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے عالی مرتبت اور جان نثار کمانڈروں اور شہر میناب کے مدرسہ شجرہ طیبہ کے طلباء کی شہادت کی تسلیت پیش کرتے ہوئے اور جنگی مجرم امریکہ اور خبیث صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے، ملتِ شریف ایران کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اس مجلس نے، انقلابی اسلامی کے دانشور اور حکیم رہبر کی شہادت اور ملکوتی عروج کی خبر پھیلنے کے فوری بعد، شدید جنگی حالات اور اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہ راست دھمکیوں اور مجلس خبرگان رہبری کے سیکرٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے باوجود جس کے نتیجے میں اس مجموعے کے چند ملازمین اور سیکیورٹی ٹیم شہید ہو گئے، نظام اسلامی کے رہبر کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی اور آئین اور مجلس خبرگان کے داخلی ضابطہ اخلاق میں درج اپنے فرائض کے مطابق، غیر معمولی اجلاس منعقد کرنے اور نئے رہبر کے تعارف کے لیے ضروری تدابیر اور انتظامات کو اپنے کام میں شامل کر لیا،
چنانچہ اس مجلس کے معزز اراکین جو ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں، ان کے اجتماع کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور ضروری ہم آہنگی کی گئی تاکہ آئین کے آرٹیکل 111 میں عارضی کونسل کے قیام کے لیے دانشمندانہ پیش بینی کے باوجود، ملک قیادت کے خلا کا شکار نہ ہو۔
مجلس خبرگان رہبری، عصر غیبت حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) میں ولایت فقیه کے بلند مرتبے اور جمہوری اسلامی نظام میں قیادت کی اہمیت کا احترام کرتے ہوئے، امامین انقلاب کی 47 سالہ حکیمانہ اور عزت، استقلال اور اقتدار کے اصول پر مبنی حکمرانی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان الہی اور عوامی رہنماؤں کی یاد کو تعظیم دیتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ اس مجلس نے، دقیق اور وسیع جائزوں اور آئین کے آرٹیکل 108 کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کے بعد، اپنے شرعی فریضے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے اعتقاد کے مطابق، آج کے غیر معمولی اجلاس میں مجلس خبرگان رہبری کے معزز اراکین کے قاطع ووٹ کی بنیاد پر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کو مقدس نظام جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر مقرر اور متعارف کراتی ہے۔
آخر میں، آئین کے آرٹیکل 111 کی عارضی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، تمام شریف ایرانی قوم خصوصاً حوزہ و یونیورسٹی کے نخبگان و دانشوران کو رہبر کی بیعت اور ولایت کے محور کے گرد اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے اور اس ملک اور عظیم قوم پر رب العالمین کے فضل و عنایت کے تسلسل کی بارگاہ الٰہی میں دعا گو ہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجلس خبرگان رہبری
18 مارچ 2026ء
☫ مجلس خبرگان رہبری کا سیکرٹریٹ
25 کروڑ عوام مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں، لیاقت بلوچ
شیعہ نیوز: جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ خطے میں جنگی حالات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے بعد جنگ خطے کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام مشکل وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے رجیم چینج کے مقصد سے ایران پر حملہ کیا اور وہاں مسلسل بمباری کر کے عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور امن کے قیام کے لیے مسلم ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر حملے آج بھی جاری ہیں۔ تاہم پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتیں قیام امن میں ناکام ہو چکی ہیں اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث عوام شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے شکوے ہیں اور وہ احساس محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے، کیونکہ اس معاملے کی وجہ سے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، جبکہ قومی شاہراہوں کی تعمیر سمیت بنیادی مسائل پر بھی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر نکالا جانا چاہیے، کیونکہ گولی اور بندوق کے زور پر عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے قومی کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی جدوجہد کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے
ایران نے اب تک 82 امریکی و اسرائیلی ڈرونز تباہ کر دیئے
شیعہ نیوز: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 حملہ آور ڈرون مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے مربوط دفاعی نیٹ ورک کے ذریعے تباہ کر دیے گئے۔ تسنیم کے مطابق، ایرانی فوج نے اعلامیہ نمبر 16 میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جدید ڈرونز کی مختلف اقسام، جن میں MQ-9 Reaper، Hermes drone اور Orbiter drone شامل ہیں، کو مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے مربوط نیٹ ورک نے تباہ کر دیا۔ اعلامیے کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 13 جدید ڈرون ایرانی فوج اور سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے زمینی دستوں اور فضائی دفاعی نظام کے میزائل اور توپخانے کے ذریعے، جو ملکی مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کی کمان میں کام کر رہے ہیں، شمال مغرب، مغرب، جنوب، اصفہان، کرمان اور تہران کے علاقوں میں نشانہ بنا کر گرائے گئے۔ اسی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صہیونی دشمن کی جارحیت کے آغاز سے اب تک ایرانی فوج اور سپاہ کے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے گرائے گئے ڈرونز کی تعداد 82 تک پہنچ چکی ہے۔
ہم نہیں سمجھتے تھے کہ ایرانی میزائل اس حد تک ترقی یافتہ ہیں، پینٹاگون سابق مشیر
پینٹاگون کے سابق مشیر ڈوگلاس میک گریگر نے کہا: ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی امریکی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ ایرانی میزائل جدید دفاعی سسٹمز کو عبور کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل سسٹم اچھی طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ اگرچہ امریکہ اسرائیل کی دفاعی مدد کے لیے میزائل چلاتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں نے میزائل ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ ترقی کی ہے جس سے ہم ناواقف تھے۔
میک گریگر نے کہا کہ ایرانی ہمیں ڈمی وار ہیڈز کے ساتھ الجھ سکتے ہیں اور اصل میزائل، جو زیادہ خطرناک ہے، ہمارے دفاعی سسٹم کو تباہ کر سکتا ہے۔ میزائل ٹریکنگ کا عمل اچھا نہیں چل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا ہمیشہ کی طرح امریکی اور اسرائیل کی فوجی کارکردگی کی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دنیا والے اس پر یقین نہیں کریں گے۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر سپاہ پاسداران کا حملہ
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق آج صبح ایک آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت سے متعلق بار بار جاری کی گئی تنبیہات کو نظر انداز کیا۔
بیان کے مطابق سپاہ کی بحریہ نے پہلے متعدد وارننگ جاری کیں اور اس تنگ گزرگاہ کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے آمد و رفت سے منع کیا تھا، تاہم ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد ٹینکر کو ایک خودکش ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ پاسداران نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز مکمل کنٹرول میں ہے اور گزشتہ آٹھ دنوں سے یہاں سخت نگرانی جاری ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں امریکی کارروائیوں اور حملوں کے بعد کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایسے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو دشمن ممالک کے اتحادی ہیں۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
