سلیمانی
مستقبل امت مسلمہ کا ہے، ایران نے صیہونی نفوذ کو مکمل طور پر ختم کردیا، رہبر معظم کا پیغام
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے حجِ ابراہیمی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا ہے کہ مستقبل امتِ مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب کا ہے، اور ہم میں سے ہر شخص اپنی ہمت، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کے حصول اور اسے قریب لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے حج کے پر رمز و راز اعمال اور اذکار کو انسانیت کے لیے ہمیشہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت، شیطان اور اس کے پیروکاروں کے قید و بند سے آزادی، الہی فرائض کی ادائیگی کے لیے انتھک کوشش اور نفسانی خواہشات سے نجات کا نشان قرار دیا۔
اپنے پیغام میں رہبر معظم نے کہا کہ اس سال بھی موسمِ حج آن پہنچا اور امتِ مسلمہ کے حجاج نے بندگی کا احرام باندھ کر 'لبیک' کی صدائیں بلند کیں تاکہ مادی اور معمولی زندگی سے الہی اور سعادت مندانہ زندگی کی طرف ہجرت کر سکیں۔ ایک ایسی توحیدی زندگی جس کا محور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور 'انداد اللہ' (اللہ کے شریکوں اور بتوں) کی نفی اور ان سے براءت ہے۔ لیکن اس ہجرت کا موقع صرف اس سال بیت اللہ کی زیارت کرنے والوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایران اور دنیا بھر کے تمام مسلمان بھائی اور بہنیں—خواہ وہ جو ماضی میں حاجی بن چکے ہیں یا وہ جو ابھی تک حج کے اعمال بجا لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے—سب اس میں شامل ہیں۔
اس ہجرت کی شرط ذکرِ خدا کے گرد مستقل احرام باندھنا، حق کے محور پر دائمی طواف کرنا اور الہی فرائض کی پرخطر چوٹیوں کے درمیان مسلسل سعی کرنا ہے۔ یہ اپنے اغوا کار جلووں کے ساتھ شیطانِ شریر اور اس کے تمام چیلوں کو لگاتار رمی کرنا (کن کنکریاں مارنا) ہے؛ یہ مکمل توجہ اور گریہ و زاری کے ساتھ وقوف کرنا ہے؛ یہ لاچار فقیروں اور مسافروں کو کھانا کھلانا، گمراہ کن خواہشات کی قربانی دینا اور اندرونی آلودگیوں کو پاک کرنا ہے۔ اور یہ ہر حال میں خدمت کے لیے تیار رہنے اور حق کے دفاع کا علم بلند رکھنے کا نام ہے۔ یہی وہ راستہ تھا جس پر ایرانی قوم نے انقلابِ اسلامی کے میقات میں قدم رکھا، خمینی کبیرؒ کی ابراہیمی پکار پر لبیک کہا، غلامی کا لباس اتار پھینکا، دنیاوی و اخروی سعادت کا احرام پہنا اور لبیک کہتے ہوئے دوڑ کر (ہرولہ کرتے ہوئے) اسلامِ نابِ محمدی (ص) کے معارف کے گرد طواف کرنے کی کوشش کی تاکہ خود کو عالمی عدل اور ولایتِ عظمیٰ کے عالم تاب نور سے قریب کر سکے۔ **اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد، اللہ اکبر علیٰ ما ہدانا۔**
انہوں نے کہا کہ جی ہاں، اللہ اکبر! اور اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے ہی مسلمان ایرانی قوم نے 47 سال قبل قیام کیا، طاغوتی، ڈکٹیٹر اور وابستہ پہلوی حکومت کا تختہ الٹ دیا، لالچی اور مستکبر امریکہ کے ہاتھ پاؤں ملک سے کاٹ دیے اور صیہونیت کے نفوذ کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے صدامی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد غیور مجاہدوں اور سرفروش نوجوانوں نے 8 سالہ دفاعِ مقدس کی داستان رقم کی، اور مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی بعثی حکومت کو حاصل حمایت کے باوجود اسے اس کی اوقات بتائی۔ یہ استقامت برسوں بعد تک معاشی محاصروں، بغاوتوں، ظالمانہ پابندیوں اور دشمنوں کے بے شمار سیاسی، پروپیگنڈا اور اقتصادی حملوں کے خلاف پوری مضبوطی کے ساتھ جاری رہی۔
اللہ اکبر! یہی 'اللہ اکبر' کا ہتھیار تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک، اور افریقہ و یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام آزاد منش قوموں تک، امتِ مسلمہ اور محاذِ مزاحمت کے مجاہد نوجوانوں کے رابطوں کو مستحکم کیا۔ تاکہ یہ 'حبلِ متین' غاصب صیہونی حملہ آوروں کے خلاف امتِ مسلمہ کی بقا کے دفاع کے لیے کھڑی ہو سکے، داعش کی بساط لپیٹ دے، طوفانِ اقصیٰ برپا کرے اور لرزتی ہوئی صیہونی حکومت کی سانسیں اکھاڑ دے۔
اللہ اکبر؛ جی ہاں، اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے۔ یہ 'اللہ اکبر' کا ہی ہتھیار تھا جس پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوری ایران جون 2025 میں دوسری مسلط کردہ جنگ میں صیہونی حکومت کو اپنی کاری ضربات سے عاجز کرنے، جارح امریکہ کو زوردار تھپڑ رسید کرنے اور ایران کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے دشمن کے ہدف کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوا۔
اور اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار نے ایرانی قوم کو وہ قوت اور توانائی بخشی کہ عظیم قائد، فرزندِ رسول (ص)، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی دورِ حاضر کے بدبختوں کے ہاتھوں المناک شہادت کے واقعے کے بعد، اس قوم میں ایک الہی جذبہ پیدا ہوا اور اس نے ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اپنی بھرپور موجودگی سے دنیا کی آنکھوں کو اپنے کارناموں سے خیرہ کر دیا۔
بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار سے اسلامی ایران کے غیور مجاہدوں اور جانثار مسلح افواج نے محاذِ مزاحمت، خصوصاً عزیز لبنان کے مجاہدوں کے ساتھ مل کر، تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکہ اور صیہونیت کی دو دہشت گرد اور افواج کے خلاف چشم کشا کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے ربِ ذوالجلال پر توکل کرتے ہوئے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے زمین، ہوا اور سمندر میں شیطانِ بزرگ یعنی امریکہ اور اس کے پالتو جانور یعنی صیہونی حکومت کو 'رمی' کیا (کنکریاں ماریں) اور راہِ خدا کے مجاہدوں کی نصرت کے الہی وعدے کو اپنی آنکھوں سے سچ ہوتے دیکھا۔
ایک بار پھر اللہ اکبر؛ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے اور اس کے لشکر ہر طاقت پر غالب ہیں۔ اسی 'اللہ اکبر' کے ہتھیار کی برکت سے، ملتِ ایران اور محاذِ مزاحمت کی بیداری کے بعد اب امتِ مسلمہ کی بیداری کا دور شروع ہوگا اور مشرکین سے بیزاری کا عمل حج کی 'رمی جمرات' سے نکل کر دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کی انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی کے تمام شعبوں تک پھیل جائے گا۔ امتِ مسلمہ اور خطے کی اقوام کے پاس بہت سی مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات ہیں جو خطے اور دنیا کے نئے نظم اور مستقبل کے نقشے (جیومیٹری) کو ترتیب دیں گے۔
میں مکمل سچائی اور خلوص کے ساتھ تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو دوستی، تعاون اور خیر و بھلائی کی دعوت دیتا ہوں تاکہ ہم ایک دوسرے کے تعاون سے امتِ مسلمہ کی ترقی اور دنیائے اسلام کے مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ اس سلسلے میں جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ وقت کا پہیہ پیچھے نہیں مڑے گا اور خطے کی قومیں اور سرزمینیں اب امریکی فوجی اڈوں کے لیے انسانی ڈھال نہیں بنیں گی۔ امریکہ کے لیے اب خطے میں شرارت کرنے یا فوجی اڈے قائم کرنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہے گی اور وہ روز بروز اپنی سابقہ حیثیت سے دور ہوتا جائے گا۔ متزلزل صیہونی حکومت اور یہ کینسر کا پھوڑا بھی اپنی منحوس زندگی کے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکی ہے اور فضلِ الہی سے، عظیم شہید قائد (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کے 10 سال پہلے کے اس قطعی اور دور اندیش قول کے مطابق کہ 'یہ حکومت اگلے 25 سال نہیں دیکھے گی'، ان شاء اللہ وہ تاریخ اب قریب ہے۔
اسی وجہ سے اس سال مشرکین سے بیزاری کا مسئلہ دوچند اہمیت اختیار کر گیا ہے اور امریکہ و صیہونی حکومت سے بیزاری کی گہرائی اور وسعت حج کے مخصوص ایام اور میقات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ ان مبارک ایام کے بعد ایران اور دنیا کے مختلف حصوں میں 'مردہ باد امریکہ' اور 'مردہ باد اسرائیل' امتِ مسلمہ اور دنیا کے مظلوموں، خصوصاً نوجوانوں کا رائج نعرہ ہوگا۔
مستقبل امتِ مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب کا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اپنی ہمت، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کے حصول اور اسے قریب لانے میں اپنا نقش ادا کر سکتا ہے۔ اس سال حج پر جانے والے ایرانی حجاج کا اپنے دیگر مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے 'تیسری مسلط کردہ جنگ' کی فتح کی داستان بیان کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی امید دلانے میں ایک انتہائی مؤثر اور نمایاں کردار ہے۔
میں تمام معزز حجاج سے التماس کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے نجات دہندہ (امام مہدی عج) کے ظہور میں تعجیل، امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی پریشانیوں کے خاتمے اور عالمی استعمار کے خلاف حتمی فتح کے لیے خصوصی دعا کریں اور اس ناچیز کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
پروردگارا! محمد و آلِ محمد پر درود بھیج اور حجاج اور تمام امتِ اسلام پر اپنی نظرِ کرم اور رافت فرما۔ انہیں حجِ مقبول کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کے نور سے روشن فرما اور امت کی حالتِ زار کی اصلاح اور اسلام کے دشمنوں پر حتمی فتح کے راستے پر چلنے کے لیے ان کے عزم و ارادے کو مزید پختہ فرما۔
بارِ الٰہا! اپنا فضل اور رحمتِ واسعہ راہِ خدا کے شہداء، خصوصاً محاذِ مزاحمت کے شہیدوں اور ان کے سرِ فہرست عظیم شہید قائد (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف) کی روحِ مطہر پر نازل فرما۔ ان حجاج کے حج، عبادت گزاروں کی عبادت اور ان مجاہدوں کی کوششوں کا وافر حصہ ان کی ملکوتی روح کو پہنچا جو قائدِ امت کی ہدایت اور قیادت کے زیرِ سایہ رہے، اور ملتِ ایران و امتِ مسلمہ کو ان کے راستے اور مقصد پر قائم رہنے میں مدد فرما۔
اے پروردگار! اپنا بہترین درود و سلام ہمارے آقا و مولا حضرت مہدیِ منتظر (صلوات اللہ و سلامہ علیہ وعلیٰ آبائہ الطاہرین) پر نازل فرما اور ہم سب کو اور پوری امتِ مسلمہ کو آپ (عج) کی پاکیزہ اور مستجاب دعاؤں کا حصہ دار بنا، اور دنیا کو آپ (عج) کے مبارک قدموں سے منور و مزین فرما، جیسا کہ تو نے وعدہ فرمایا ہے اور ہمارے دل اس حتمی وعدے پر مکمل اطمینان سے لبریز ہیں۔
فکرِ عرفہ، اقدامِ کربلا اور شہید خامنہ ای کی بصیرت، عصرِ حاضر کا انقلابی منشور
دورِ حاضر میں اگر دعائے عرفہ کے فکری نظریات اور کربلا کے انقلابی اصولوں کی کوئی زندہ، مجسم اور عملی مثال دیکھنی ہو، تو وہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت، بصیرت اور ان کی دہائیوں پر محیط مسلسل جدوجہد ہے۔ رہبرِ معظم کی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ دعائے عرفہ کی توحید اور کربلا کا سرفروشانہ جذبہ صرف کتابوں کی زینت نہیں، بلکہ ان کے ذریعے دنیا کی سپر پاورز کے سامنے نہ صرف ڈٹا جا سکتا ہے، بلکہ دنیا بھر کے کچلے ہوئے طبقات (مستضعفین) کو بیدار بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے اس طویل اور بابرکت دورِ قیادت سے چند اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں جو براہِ راست پیغامِ کربلا اور دعائے عرفہ کی عکاسی کرتے ہیں:
1۔ توکل اور بے خوفی (عرفانی و ملکوتی طاقت)
دعائے عرفہ کا جوہر یہ ہے کہ انسان کا دل خدا کی عظمت سے ایسا بھر جائے کہ دنیا کے فرعون اس کی نظر میں مچھر کے پر کے برابر بھی نہ رہیں۔ رہبرِ معظم نے اپنے پورے دورِ قیادت میں، عالمی استعمار (امریکہ اور اس کے حواریوں) کی تمام تر اقتصادی، فوجی اور نفسیاتی جنگ کے باوجود، کبھی خوف یا پسپائی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا یہ محکم موقف دراصل اسی "توکلِ حسینی" کا تسلسل ہے جو انہوں نے کربلا سے سیکھا۔
2۔ مستضعفینِ جہاں کی عالمی بیداری اور اتحاد
امام حسین علیہ السلام کا مقصد کسی ایک خطے کی اصلاح نہیں تھا، بلکہ وہ پوری انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔ اسی طرح، رہبرِ معظم نے اپنی قیادت کو صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے فلسطین، لبنان، یمن، کشمیر اور افریقہ سمیت دنیا کے ہر کونے میں موجود مظلوم اور مستضعف انسان کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے بکھرے ہوئے محروم طبقات کو ملا کر "محورِ مقاومت" (Axis of Resistance) تشکیل دیا، جس نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ آج دنیا کا غریب اور مظلوم انسان یہ جانتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو بلا خوف و تردید اس کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔
3۔ معاشی خود انحصاری اور عزتِ نفس (ہیہات منا الذلۃ)
جیسا کہ کربلا کا درس ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، رہبرِ معظم نے شدید ترین عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے ملک اور قوم کو جھکنے نہیں دیا۔ انہوں نے "اقتصادِ مزاحمتی" (Resistance Economy) اور علمی و ٹیکنالوجیکل خود انحصاری کا نظریہ پیش کیا۔ مستضعفین کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ اگر تمہارے پاس ایمان، علم اور عزم ہو، تو تم اقتصادی محاصرے کو بھی اپنی کامیابی میں بدل سکتے ہو اور استعمار کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکتے ہو۔
4۔ بصیرت اور شجاعت کا امتزاج
دعائے عرفہ انسان کو بصیرت (اندرونی آنکھ) دیتی ہے اور کربلا شجاعت عطا کرتی ہے۔ رہبرِ معظم کی 47 سالہ علمی، سیاسی اور انقلابی جدوجہد (چاہے وہ قبل از انقلاب کے ایام ہوں، دورانِ جنگ فرنٹ لائن پر ان کی موجودگی ہو، یا بعد میں رہبری کا کٹھن سفر) اس بات کی گواہ ہے کہ وہ وقت کے یزیدی ہتھکنڈوں اور ان کی چالوں کو نہ صرف خوب سمجھتے ہیں، بلکہ ان کا دندان شکن جواب بھی دیتے ہیں۔
اگر امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے انقلابِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر مستضعفین کو ایک نئی زندگی دی تھی، تو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای نے اس شمع کو نہ صرف روشن رکھا بلکہ اس کی روشنی کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ آج غاصب صیہونی نظام اور استعماری قوتوں کے خلاف جو بیداری ہم عالمی سطح پر دیکھ رہے ہیں، وہ اسی حسینی اور کربلائی فکر کی مرہونِ منت ہے جسے رہبرِ معظم نے اپنے عمل، تقاریر اور فیصلوں سے دنیا بھر کے مستضعفین کے دلوں میں راسخ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر رہبر باایمان اور باصیرت ہو، تو کربلا کا کارواں کبھی رک نہیں سکتا۔
تحریر: سید آل حسنین
آبنائے ہرمز میں کوئی تیسرا ملک شریک نہیں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی خاص وقت یا ٹائم لائن مقرر نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے اصل معیار قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ لہٰذا ہم جلد از جلد ایسے نتائج حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کو یقینی بنا سکیں۔
ترجمان نے مذاکراتی عمل میں حائل رکاوٹوں پر بات کرتے ہوئے کہا: فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے کچھ نکات پر ابھی اختلافات موجود ہیں، جن پر کام جاری ہے۔
انہوں نے امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جس فریق کے ساتھ ہم بات چیت کر رہے ہیں، ان کا مذاکراتی انداز غیر روایتی ہے اور ان کی جانب سے بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی اس سفارتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم ہمارے مذاکرات کار گزشتہ ایک سال کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اگلے دور کے مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا: فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے توسط سے جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی بالمشافہ ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ جب بھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے یا مشاورت کی ضرورت محسوس ہوئی تو پاکستان کی سہولت کاری سے اجلاس کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: آبنائے ہرمز میں کوئی تیسرا ملک شریک نہیں، عمان کے ساتھ مشترکہ پروٹوکول پر مشاورت جاری ہے۔ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ پروٹوکول پر انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کا عبرتناک انجام: تختہ الٹنے کا خواب چکناچور
مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران کے خلاف تقریبا تین ماہ قبل ایک ہمہ جہت تجاوز شروع کیا گیا جس میں فوجی دباؤ، نفسیاتی جنگ اور میڈیا ہتھکنڈوں کا سہارا لیا گیا، جس کا مقصد ایرانی نظام کا تختہ الٹنا تھا۔ تاہم، جنگ کے ۴۰ دنوں بعد اب مغربی اور صیہونی تجزیہ کار بھی شکست کا اعتراف کر رہے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ اس جنگ نے ایران کو گرانے کے بجائے اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر مزید مضبوط کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اب پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔
اس جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے اس دیرینہ دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی ملک کو فوجی طاقت سے جھکا سکتے ہیں۔ طویل جنگ، اہداف کے حصول میں ناکامی اور بالآخر جنگ بندی کی طرف رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی ڈیٹرنس ایران کے سامنے بے اثر ہو چکی ہے۔ آج عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں کوئی بھی پائیدار سیاسی انتظام ایران کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا اسٹریٹجک تسلط
اس کشمکش کے دوران آبنائے ہرمز کا مسئلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا، کیونکہ اس جنگ کے غیر اعلانیہ مقاصد میں سے ایک اہم ہدف توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر ایران کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ تاہم، یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا اور جنگ کے بعد خلیج فارس کی سکیورٹی اور استحکام کے معاملات میں ایران کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔
آج بہت سے مغربی تجزیہ کار بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایران کی اہمیت اور اس کے کردار کو نظر انداز کر کے خطے میں کوئی بھی پائیدار سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنا ناممکن ہے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی سازش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب عالمی طاقتیں یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ تہران کو خطے کے اہم معاملات سے خارج کرنا ممکن نہیں ہے۔
علاقائی اور داخلی صورتحال پر اثرات
جنگ کے دوران ایران کو تنہا کرنے کی کوششیں الٹا اثر کر گئیں۔ خطے کے وہ ممالک جو ایران مخالف پالیسیوں میں شامل تھے، اب محتاط ہو چکے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا مطلب پورے خطے میں بحران پھیلانا ہے۔ داخلی محاذ پر بھی دشمن کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے ایرانی معاشرے کو صرف سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کے آئینے میں دیکھا تھا، لیکن ایرانی عوام نے خارجی خطرات کے سامنے مثالی وحدت کا مظاہرہ کر کے دشمن کے سماجی تقسیم کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
حاصل سخن
اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن وار کا امریکی نظریہ ایک خام خیالی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے نہ صرف جوابی کارروائیاں جاری رکھیں بلکہ اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی مکمل طور پر فعال رکھا۔ اب خود مغربی حلقوں میں یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا وسیع تر تصادم امریکہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ دشمن کسی بھی حماقت کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہے۔
سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز
عاجل نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے یوم الترویہ کے لیے اپنی مکمل تیاری اور حجاج کو منیٰ منتقل کرنے کے سلسلے میں تمام میدانی اور عملی اقدامات کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات ایک جامع منصوبے کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں جس کا مقصد حجاج کی اپنے کیمپوں تک منظم نقل و حرکت اور مقدس مقامات پر فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی ہے۔
وزارت کی ذمہ داریوں میں حجاج کی رہائش گاہوں اور ضیافت مراکز سے منیٰ تک روانگی کی نگرانی، کیمپوں میں ان کے منظم داخلے کو یقینی بنانا، رہنمائی اور آگاہی فراہم کرنا، نیز حج 1447 ہجری کے منظور شدہ عملی منصوبوں کے مطابق زائرین کو ان کے مقررہ مقامات تک پہنچانے میں معاونت شامل ہے۔
وزارت نے متعلقہ اداروں کے تعاون سے منیٰ میں رہائش، خوراک اور نقل و حمل کی خدمات کے عملی انتظامات مکمل کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میدانی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ مسائل کی فوری نشاندہی اور براہِ راست حل ممکن ہو سکے، اور حجاج کے مقدس مقامات پر ابتدائی قیام کے دوران خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ تمام کوششیں مشترکہ آپریشنز اور نگرانی و کنٹرول سینٹر کے ذریعے مکمل کی جا رہی ہیں، جہاں حجاج کی نقل و حرکت، خدمات اور عملیاتی امور پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ میدانی ٹیموں کو ضروری معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے فوری طور پر نمٹا جا سکے جو نقل و حرکت یا خدمات کے معیار کو متاثر کر سکتا ہو۔
یوم الترویہ مقدس مقامات میں حجاج کے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے، کیونکہ یہ منیٰ میں بھرپور میدانی سرگرمیوں کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس سے تمام اداروں کی باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے تاکہ حجاج مناسکِ حج کو آسانی اور اطمینان کے ساتھ ادا کر سکیں۔
آج 8 ذی الحجہ، مطابق 4 اردیبهشت، ’’یوم الترویہ‘‘ ہے؛ یہ وہ دن ہے جب سرزمینِ وحی کے زائرین حج تمتع کے اعمال و مناسک کی تیاری کرتے ہیں۔
’’ترویہ‘‘ کے معنی پانی ذخیرہ کرنے کے ہیں۔ قدیم زمانے میں حجاج کو عرفات میں قیام اور مشعرالحرام میں شب بسر کرنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنا پڑتا تھا، اسی مناسبت سے اس دن کو ’’یوم الترویہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اسی دن حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کا قافلہ مکہ سے روانہ ہوا تھا اور منیٰ کے راستے عرفات کی جانب روانہ ہوا۔
حجاجِ بیت اللہ الحرام اس دن حج تمتع کی نیت کرتے ہیں اور احرام باندھنے کے بعد مکہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ رات بسر کرتے ہیں، پھر 9 ذی الحجہ یعنی یومِ عرفہ کی صبح عرفات کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔/
دشمن کے سامنے پسپائی ایرانی قوم کی ڈکشنری میں نہیں، باقر ذوالقدر
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری نے زور دے کر کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ دشمن کے تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکے۔
تفصیلات کے مطابق محمد باقر ذوالقدر نے عوام کے نام اپنے پیغام میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران کی لغت میں ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایرانی عوام نے اپنی لازوال مزاحمت سے دشمن کو بے بس اور زمین گیر کر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی قوم کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ملک کو ماضی کے مقابلے میں قومی اتحاد اور یگانگت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ امریکہ اور صیہونی دشمن کو اس محاذ پر بھی مکمل مایوسی کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے قومی اتحاد کو دشمن سے مقابلے کا ایک اور اہم میدان قرار دیتے ہوئے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ ہر اس بات اور عمل سے سختی سے گریز کریں جس سے صفوں میں انتشار پیدا ہونے کا خدشہ ہو، کیونکہ باہمی اتحاد ہی وہ واحد راستہ ہے جو ایران کو حتمی فتح کی منزل تک پہنچائے گا۔
بسم اللہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پیغام حج
بسم اللہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا پیغام حج
لبَّیک، اللّھم لبَّیک، لبَّیک لا شریکَ لَکَ لبَّیک، اِنَّ الحَمدَ وَ النِّعمَۃَ لَکَ وَ المُلک...
اے خدا! میں تیری دعوت پر لبیک کہتا ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں اور ساری تعریفیں اور ساری نعمتیں اور مُلک و قدرت تیری طرف سے ہیں اور تجھ ہی سے تعلق رکھتے ہیں ... اس سال کا موسم حج بھی آ گیا اور امت مسلمہ کے حجاج گرامی نے بندگی کا احرام پہنا اور لبیک، اللھم لبیک کی صدائيں بلند کیں تاکہ مادی اور معمول کی زندگی سے الہی اور باسعادت زندگي کی طرف ہجرت کریں، اللہ جلّ جلالہ کی بندگی کے محور اور اللہ کے شریکوں کی نفی، انکار اور برائت پر مبنی زندگی کی طرف۔ البتہ اس ہجرت کا موقع صرف اس سال کے حجاج کرام اور خانۂ خدا کے زائرین کو ہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ موقع، ایران اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے تمام برادران و خواہران کو، چاہے وہ جو اپنی عمر کے کسی حصے میں حج کر چکے ہیں، چاہے وہ جو ابھی حج کے مناسک ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں، حاصل ہے۔ اس ہجرت کی شرط، اللہ کے ذکر کے محور پر دائمی احرام باندھنا ہے، حق کے محور کے گرد دائمی طواف کرنا ہے، الہی وظائف کی مشکل چوٹیوں کے درمیان دائمی سعی کرنا ہے، خبیث شیطان کو، اس کے گمراہ کن جلوؤں اور تمام پٹھوؤں کے ساتھ، ہمیشہ کنکریاں مارنا ہے، اللہ کی طرف مکمل توجہ اور خصوع و خشوع کے ساتھ وقوف ہے، راہ میں رہ جانے والے مسکین غریب کو کھانا کھلانا ہے، گمراہ کرنے والی اپنی نفسانی خواہشات اور چاہتوں کو قربان کرنا ہے اور اپنی اندرونی غلاظتوں کو صاف کرنا اور ہر وقت اور ہر صورتحال میں خدمت کے لیے اور حق کے دفاع کے پرچم کو لہرانے کے لیے تیار رہنا ہے۔ یوں ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کے میقات میں اسی ہجرت کی راہ پر قدم رکھا، خمینی کبیر کی ابراہیمی ندا پر لبیک کہا، اغیار کے تسلط کو تسلیم کرنے کا لباس اتار پھینکا، دنیوی و اخروی سعادت کا احرام باندھا اور لبیک کہتے ہوئے اور ہرولہ کرتے ہوئے، خالص محمدی اسلام کی تعلیمات کے محور پر طواف کرنے اور اپنے آپ کو عالمی عدل اور ولایت عظمیٰ کے نور عالم تاب سے قریب کرنے کی کوشش کی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد، اللہ اکبر علی ما ھدانا۔
جی ہاں! اللہ اکبر ... اور اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے ایران کی مسلمان قوم نے سینتالیس سال پہلے قیام کیا، پہلوی کی طاغوتی، آمر اور پٹھو حکومت کا تختہ الٹ دیا، لالچی اور مستکبر امریکا کے ہاتھ ایران سے کاٹ دیے اور صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، سرزمین ایران پر صدام کی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد اپنی جان کی پروا نہ کرنے والے غیور مجاہدوں اور نوجوانوں نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کا کارنامہ رقم کیا اور مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی جانب سے بعثی حکومت کی بھرپور حمایت کے باوجود اسے اس کی اوقات دکھا دی اور اس استقامت کو اگلے برسوں میں معاشی محاصرے، بغاوت، ظالمانہ پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف دشمنوں کے بے شمار سیاسی، تشہیراتی اور معاشی حملے کے خلاف پوری طاقت اور استحکام کے ساتھ جاری رکھا۔
واللہ اکبر ... اللہ اکبر کا یہی نعرہ تھا جس نے ایران سے لے کر لبنان، فلسطین، عراق اور شام تک اور افریقا اور یمن سے لے کر افغانستان و پاکستان اور دنیا کی تمام حریت پسند اقوام تک، امت مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد جوانوں کے آپسی رشتوں کو مضبوط بنایا تاکہ اللہ کی یہ مضبوط رسی، غاصب صیہونی جارحین کے مقابلے میں امت مسلمہ کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑی ہو، داعش کا شیرازہ بکھیر دے، طوفان الاقصیٰ کھڑا کر دے اور متزلزل صیہونی حکومت کی سانسیں روک دے۔
اللہ اکبر، جی ہاں! خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے دائرۂ توصیف میں لایا جا سکے ... یہ اللہ اکبر کا ہتھیار ہی تھا کہ جس پر توکل کرتے ہوئے اسلامی جمہوریۂ ایران، صیہونی حکومت کو جون 2025 میں دوسری مسط کردہ جنگ میں اپنے وحشت ناک حملوں سے لاچار کرنے، جارح امریکا کو زوردار تھپڑ رسید کرنے اور ایران کو جھکانے کے اس کے ہدف میں ناکام کرنے میں کامیاب ہوا۔ اللہ اکبر کے اسلحے نے ایرانی قوم کو ایسی قوت و طاقت عطا کی کہ آج کی دنیا کے شقی ترین لوگوں کے ہاتھوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرزند خلف، قائد عظیم الشان حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی شہادت کے جاں گداز واقعے کے بعد اسے الہی بعثت حاصل ہوئی اور ہر اس میدان میں جہاں ضرورت تھی، اس قوم نے بھرپور طریقے سے موجود ہو کر اپنے پر افتخار کارناموں پر دنیا کو حیرت زدہ کر دیا۔/
اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے ... اسی اللہ اکبر کے ہتھیار کے ذریعے اسلامی مملکت ایران میں غیور مجاہدوں اور جان کی قربانی دینے والی فورسز نے مزاحمتی محاذ خاص طور پر لبنان عزیز کی مزاحمتی فورسز کے ساتھ مل کر تیسری مسلط کردہ جنگ میں امریکا اور صیہونی حکومت کی از سر تا پا مسلح دو دہشت گرد فوجوں کے خلاف زبردست فتوحات حاصل کیں، خداوند عالم پر توکل کرتے ہوئے اور اپنے مزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے بڑے شیطان اور اس کے پالتو کتّے صیہونی حکومت کو زمین، فضا اور سمندر میں بری طرح سنگسار کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد کے سچے وعدۂ الہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ایک بار پھر اللہ اکبر، بے شک خداوند متعال اس سے کہیں بزرگ و برتر ہے کہ اسے توصیف کے دائرے میں لایا جا سکے اور اس کا لشکر ہر طاقت پر فتحیاب ہے ... اور اسی اللہ اکبر کے اسلحے کے ذریعے، ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کی بعثت اور اٹھ کھڑے ہونے کے بعد، امت مسلمہ کی بعثت سامنے آئے گی اور مشرکوں سے برائت، حج کی رمی جمرات سے لے کر پوری دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی کے تمام پلیٹ فارموں تک پھیل جائے گی۔
امت مسلمہ اور خطے کی اقوام کے درمیان بہت زیادہ مشترکہ صلاحیتیں اور مفادات ہیں جو خطے اور دنیا کے مستقبل کا نیا نظام تشکیل دیں گے۔ میں پوری صداقت اور اخلاص سے تمام اسلامی ممالک اور حکومتوں کو دوستی، تعاون، خیر خواہی اور نیکی کی دعوت دیتا ہوں کہ ہم باہمی تعاون کے ذریعے امت مسلمہ کی پیشرفت اور عالم اسلام کے مسائل کے حل کی راہ میں قدم اٹھائيں۔ جو چیز اس سلسلے میں یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وقت کی سوئیاں، واپس نہیں ہوں گی اور خطے کی اقوام اور ان کی سرزمینیں، اب کبھی امریکی اڈوں کی ڈھال نہیں بنیں گی۔ اب امریکا کے پاس خطے میں شیطانی حرکتوں اور فوجی اڈے بنانے کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہوگا اور ساتھ ہی وہ روز بروز اپنی پرانی پوزیشن سے دور ہوتا جائے گا۔ متزلزل صیہونی اور اسرائیل کی سرطانی حکومت بھی اپنی منحوس عمر کے آخری مراحل کے قریب ہو چکی ہے اور اللہ کے فضل سے اور رہبر عظیم الشان قدس سرّہ کے دس سال پہلے کے ٹھوس اور مستقبل بیں قول کے مطابق، وہ اس تاریخ کے بعد کے پچیس سال نہیں دیکھ پائے گي، ان شاء اللہ۔
اس وجہ سے اس سال مشرکوں سے اظہار برائت کی اہمیت دگنی ہو جاتی ہے اور امریکا اور اسرائیل سے برائت کا میدان، حج کے موسم میں مشرکین سے برائت کے عمل سے آگے بڑھ جاتا ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں تک اور ان مبارک ایام کے بعد بھی امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلوموں، خاص طور پر جوانوں کا رائج نعرہ بن جائے گا۔
مستقبل، امت مسلمہ اور نئے اسلامی تمدن کا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اپنے حوصلے، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کو عملی جامہ پہنانے اور اس سے قریب ہونے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سال کے حج میں ایرانی حجاج کرام اور زائرین خانۂ خدا، دوسرے ملکوں کے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو تیسری مسلط کردہ جنگ میں فتح کی تشریح اور تابناک مستقبل کی طرف سے انھیں پرامید بنانے میں مؤثر اور نمایاں کردار کے حامل ہیں۔ میں تمام حجاج کرام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ انسانیت کے نجات دہندہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے دعا کا اہتمام کریں اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلسطین اور مسجد الاقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی مشکلات کی برطرفی اور عالمی سامراج کے خلاف ان کی حتمی کامیابی کے لیے دعا کریں اور حقیر کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کریں۔
اے پروردگار! محمد اور آل محمد پر درود بھیج اور تمام حجاج کرام اور پوری امت مسلمہ پر لطف و رحمت کی نظر کر، انھیں مقبول حج کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کے نور سے منور کر دے اور امت کی اصلاح کی راہ پر چلنے اور اسلام کے دشمنوں پر آخری فتح کے لیے ان کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط کر دے۔
اے پروردگار! شہدائے راہ خدا بالخصوص مزاحمتی محاذ کے شہیدوں اور ان میں سر فہرست رہبر عظیم الشان شہید خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ کی پاکیزہ ارواح پر اپنا فضل اور اپنی وسیع رحمت نازل فرما اور ان حاجیوں کے حج، عابدوں کی عبادت اور جدوجہد کرنے والوں کی سعی میں سے رہبر شہید کی ملکوتی روح کو ایک وافر حصہ مرحمت فرما جو قائد امت کی ہدایت سے بہرہ مند ہوئے ہیں اور ایرانی قوم اور ان کی راہ اور ہدف کو جاری رکھنے میں امت مسلمہ کی مدد کر۔
اے پرودگار! اپنی برترین صلوات اور تحیت ہمارے آقا و مولا مہدئ منتظر صلوات اللہ و سلامہ علیہ اور ان کے پاکیزہ اجداد پر نازل فرما اور ہم سبھی اور امت مسلمہ کو ان کی خالص اور مستجاب دعاؤں میں شامل کر اور دنیا کو ان کے مبارک قدموں سے منور کر دے، جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے اور ہمارے دل اس ٹھوس وعدے پر اطمینان سے لبریز ہیں۔
"وَعَدَ اللہُ الَّذینَ آمنوا مِنکُم وَ عَمِلوا الصّالِحاتِ لَیَستَخلِفَنَّھُم فیالارضِ کَما استَخلَفَ الَّذینَ مِن قَبلِھِم وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُم دینَھُمُ اَلَّذِی ارتَضی لَھُم وَ لَیُبَدِّلَنَّھُم مِن بَعدِ خَوفِھِم اَمنا." (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنایا تھا۔ اور جس دین کو اللہ نے پسند کیا ہے وہ انھیں ضرور اس پر قدرت دے گا۔ اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔)
والسّلام علی جَمیع اخواننا المسلمین و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
9 ذی الحجہ 1447
امام محمد باقرؑ، علمِ الٰہی کا دروازہ
پانچویں امام حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، تاریخِ اسلام کی ان عظیم ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمِ الٰہی کے پوشیدہ اسرار کو انسانیت کے سامنے اس انداز سے آشکار کیا کہ رہتی دنیا تک آپ ''باقرالعلوم'' کے لقب سے پہچانے گئے۔
آپ کا اسمِ گرامی ''محمد'' اور لقب ''باقر'' ہے۔ عربی زبان میں ''باقر'' کے معنی ہیں شگافتہ کرنے والا، یعنی وہ شخصیت جو علم کی گہرائیوں کو چیر کر اس کے حقائق آشکار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے علومِ دین، تفسیرِ قرآن، حدیث، فقہ اور معارفِ الٰہیہ کو اس وسعت کے ساتھ بیان فرمایا کہ علمی دنیا آپ کی عظمت کی معترف بن گئی۔ امام محمد باقر علیہ السلام یکم رجب 57 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی امام زین العابدین علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند تھے، جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح آپ کو یہ منفرد شرف حاصل ہوا کہ آپ کا سلسلۂ نسب ماں اور باپ دونوں طرف سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔
آپ کی ذاتِ گرامی اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و اخلاق اور اپنے جد امجد حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت و حکمت کا حسین امتزاج تھی۔ صبر، شکر، زہد، تقویٰ، سخاوت، حلم، بردباری، شجاعت اور مروّت جیسی اعلیٰ صفات آپ کی شخصیت میں اس طرح جلوہ گر تھیں کہ اہلِ بیتِ رسول کی عظمت آپ کے کردار میں نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ واقعۂ کربلا نے امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے۔ آپ کم سنی کے عالم میں میدانِ کربلا کے المناک مناظر کے گواہ بنے۔ ظلم، ایثار، قربانی اور حق پر استقامت کا جو درس امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے میدان میں دیا، وہی درس امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا اور کس طرح مخدراتِ عصمت نے اسیری اور مصائب کے باوجود صبر و استقامت کی تاریخ رقم کی۔
مشہور عالمِ دین علامہ سید ذیشان حیدر جوادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ''نقوشِ عصمت'' میں مختلف اکابرینِ اہلِ سنت کے اعترافات نقل کیے ہیں، جن سے امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت آشکار ہوتی ہے۔ صواعقِ محرقہ میں آپ کو عبادت، علم اور زہد میں اپنے والد امام زین العابدین علیہ السلام کی مکمل تصویر قرار دیا گیا ہے۔ مطالب السؤل کے مطابق آپ علم، تقویٰ، طہارتِ قلب اور حسنِ اخلاق میں اس بلند مقام پر فائز تھے کہ یہ صفات گویا آپ کی پہچان بن گئیں۔
امام نسائی اور ابن شہاب زہری جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کو تابعین کے تیسرے طبقے کا عظیم عالم، عابد اور قابلِ اعتماد شخصیت قرار دیا ہے۔ ارجح المطالب میں یہاں تک لکھا گیا کہ بڑے بڑے علماء آپ کے سامنے خود کو حقیر محسوس کرتے تھے، حتیٰ کہ حکم جیسے معروف عالم بھی آپ کے حضور عاجزی اختیار کرتے تھے۔ مورخین اور اہلِ قلم نے آپ کی علمی عظمت کو بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے فضائل و کمالات کو مکمل طور پر قلمبند کرنے کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ روضۃ الصفا میں آپ کو ''عظیم الشان امام'' اور فصل الخطاب میں ''مجمعِ جلال و کمال'' کہا گیا ہے۔ نور الابصار کے مطابق تفسیرِ قرآن، احادیث، علمِ سنن اور معارفِ دین کے جتنے ذخائر آپ سے ظاہر ہوئے، اتنے امام حسنؑ و امام حسینؑ کی اولاد میں کسی اور سے ظاہر نہیں ہوئے۔ مشہور عالم ابنِ حجر مکی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو بصیرت سے محروم ہو۔ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں آپ کو بنی ہاشم کا سردار قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپ علوم کی تہہ تک پہنچ کر ان کے حقائق آشکار کر دیتے تھے، اسی لیے ''باقر'' کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ جیسے عظیم فقیہ نے بھی آپ اور آپ کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کی صحبت سے علمی استفادہ کیا۔ سیرت النعمان میں اس حقیقت کا واضح ذکر موجود ہے۔ روایات میں یہاں تک ملتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات بھی آپ کے حلقۂ علم میں حاضر ہو کر استفادہ کرتے تھے۔ شواہد النبوۃ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ بعض غیر معمولی افراد کو دیکھ کر جب راوی نے سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جنات ہیں جو علم حاصل کرنے آئے ہیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دینِ خدا کی حفاظت اور انسانیت کی ہدایت کے لیے تھی۔ آپ نے نہ کبھی حکومت و سلطنت کی خواہش ظاہر فرمائی اور نہ ہی اس زمانے میں اٹھنے والی سیاسی تحریکوں میں بظاہر خود کو اس انداز سے شامل کیا کہ اصل مقصدِ امامت پس منظر میں چلا جائے۔ تاہم حکمران ہمیشہ آپ کی علمی، اخلاقی اور روحانی عظمت سے خوفزدہ رہتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک خاندانِ رسالتؐ کی یہ روشن شخصیات موجود ہیں، اسلام کی من مانی تعبیر اور ظلم و جبر کے نظام کو دوام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی خوف اور دشمنی کے نتیجے میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے 114 ہجری میں آپ کو زہر دغا دلوا کر شہید کر دیا۔ یوں امام محمد باقر علیہ السلام نے بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح راہِ حق میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن آپ کا علم، کردار اور پیغام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔
شہادت سے قبل آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو غسل، کفن اور دیگر امور کے بارے میں وصیت فرمائی۔ انہی وصیتوں میں ایک نہایت اہم وصیت یہ بھی تھی کہ آپ کے مال میں سے آٹھ سو درہم آپ کی عزاداری کے لیے مخصوص کیے جائیں اور دس سال تک ایامِ حج میں میدانِ منیٰ میں آپ کا غم منایا جائے۔ اس وصیت میں گہری حکمت پوشیدہ تھی۔ چونکہ حج کے موقع پر پورا عالمِ اسلام وہاں جمع ہوتا تھا، اس لیے امام چاہتے تھے کہ لوگ اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ رہیں اور ساتھ ہی آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات، فضائل اور حقیقی اسلامی پیغام بھی امت تک پہنچتا رہے۔ گویا امامؑ نے عزاداری کو صرف غم و اندوہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دین کی تبلیغ، ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے اور حقائقِ اسلام کو زندہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری اور اس کے لیے اخراجات کا اہتمام اہلِ بیتؑ کی سنت اور دینی شعور کا حصہ ہے، جس کے ذریعے نسلوں تک حق و باطل کی پہچان منتقل ہوتی رہتی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام صرف ایک عظیم عالم ہی نہیں بلکہ ''عالمِ باعمل'' تھے۔ آپ کی زندگی عارفوں کے لیے ہدایت اور سالکوں کے لیے کامل نمونہ تھی۔ آپ خود اپنی زمینوں میں کام کرتے، محنت سے رزق کماتے اور لوگوں کو یہ درس دیتے تھے کہ دین محض عبادات یا دعووں کا نام نہیں بلکہ حلال روزی، حسنِ اخلاق اور عملی کردار کا مجموعہ ہے۔
آپ فرمایا کرتے تھے:
''شکم کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھنا اور اپنے آپ کو اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا ہی افضل ترین عبادت ہے۔''
یہ تعلیم دراصل اس معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام تھی جہاں دین کو صرف ظاہری رسوم تک محدود کیا جا رہا تھا۔ امامؑ نے بتایا کہ حقیقی عبادت انسان کے کردار، نیت اور عمل سے پہچانی جاتی ہے۔
آپ اکثر اپنے ماننے والوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے تھے:
''ہمارے شیعہ صرف وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔ صرف زبان سے اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویٰ کافی نہیں، کیونکہ خدا کا قرب صرف اطاعت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ہماری محبت اسی شخص کو فائدہ دے گی جو خدا کا فرمانبردار ہو، اور جو خدا کی نافرمانی کرے، اس کے لیے محبتِ اہلِ بیتؑ کا دعویٰ کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ لہٰذا دھوکے میں نہ رہنا۔''
امام محمد باقر علیہ السلام کے یہ ارشادات آج بھی ہر دور کے انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ دین صرف نسبتوں، نعروں اور دعووں کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، اطاعتِ الٰہی اور حسنِ کردار کا عملی راستہ ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے امام محمد باقر علیہ السلام کو صرف اپنے زمانے کا نہیں بلکہ رہتی دنیا تک انسانیت کا امام و رہبر بنا دیا۔
تحریر: آغا زمانی
جمعہ تک حج کی ادائیگی کے لیے 15 لاکھ سے زائد زائرین ملک میں داخل ہو چکے ہیں
- خبر رساں ایجنسی آناتولی نیوز کے مطابق حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر صالح المربع نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک بیرونِ ملک سے 15 لاکھ سے زیادہ حجاج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جن میں 14 لاکھ سے زائد فضائی راستے سے، تقریباً 45 ہزار زمینی سرحدوں کے ذریعے، جبکہ قریب 6 ہزار سمندری راستے سے آئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں حجاج کی آمد کی آخری مہلت اب اختتام کے قریب ہے۔
سعودی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ حج سیزن 2025 میں اندرون اور بیرونِ سعودی عرب سے مجموعی طور پر 16 لاکھ 73 ہزار 230 حجاج نے حج ادا کیا تھا۔
حج کا آغاز 8 ذی الحجہ، بروز پیر 25 مئی سے ہوگا، جبکہ مناسکِ حج چھ دن تک 13 ذی الحجہ (30 مئی) تک جاری رہیں گے۔ ان مناسک میں عرفات میں قیام، مزدلفہ میں شب بیداری، رمیِ جمرات، طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع شامل ہیں۔/
ایران کی وفادار فوج کے سامنے کوئی ظالم طاقت نہیں ٹھہر سکتی، قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کے مخلص اور وفادار سپاہیوں کے سامنے کوئی بھی ظالم طاقت ٹھہر نہیں سکتی۔ انہوں نے خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایرانی جنگجوؤں کی بہادری کو سراہا۔
اتوار کے روز جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 24 مئی 1982 کو جنوبی شہر خرمشہر کی آزادی نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ امام خمینیؒ کے وفادار مجاہدین عزم، شجاعت اور قربانی کے جذبے سے سرشار تھے۔
اسپیکر پارلیمنٹ نے ممتاز فوجی کمانڈروں احمد کاظمی اور علی صیاد شیرازی سمیت دیگر شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر کمانڈروں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اور یہ سبق دیا کہ ایمان، منصوبہ بندی، جرات اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کامیابی کی ضمانت ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے موجودہ ایرانی مسلح افواج کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے فوجی اہلکار ماضی کے عظیم کمانڈروں کے راستے پر گامزن ہیں اور ملک کے بہادر محافظوں کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 1982 میں ایرانی مسلح افواج نے شدید لڑائی کے بعد صوبہ خوزستان میں واقع شہر خرمشہر کو صدام کی فوج سے واپس لے لیا تھا۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
