سلیمانی

سلیمانی

 سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس فورس کے کماںڈر، جنرل سید مجید موسوی نے مبعوث ایرانی عوام کی سڑکوں پر موجودگی کی  ایک سو بیسویں رات کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کرکے اپنے دینی اور ملی فرائض کی ادائگی پرملک کے عوام کی قدردانی کی ہے۔

   انھوں نےایرانی عوام کے نام اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ " خدا کا درود اور رحمتیں آپ پر نازل ہوں کہ آپ، اپنے دینی اور ملی فرائض کی ادائگی میں، پہاڑ کی طرح استوار، دریائے خروشاں کی مانند پرخروش اور بھٹی میں آزمائے ہوئے آہن کی طرح محکم ہیں اورآپ نے دو سو راتوں سے، سڑکوں پر، اپنی اعجاز آفریں،انتھک، دلیرانہ اور دشمن شکن موجودگی جاری رکھ کرشہید امام (خامنہ ای) کے خون ناحق کے انتقام کے مطالبے نیزولی فقیہ کی اطاعت و پیروی کا تحفظ کیا ہے۔ "

جنرل سید مجید موسوی نے مبعوث ایرانی عوام کے نام اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ " ملک، اس کی خودمختاری اور تشخص کے دفاع میں آپ کے شبینہ قیام نے دنیا والوں کو متحیر کردیا اور ملی دانشمندی، اعلی دینی اقدار،ممتاز قومی تہذیب و ثقافت اور ملت ایران کی باعظمت اور برتر ملی شناخت اقوام عالم کے سامنے پیش کردی۔"

انھوں نے اپنے اس پیغام میں لکھا ہے کہ آپ کی استقامت سے دشمن حیران اور مبہوت ہیں اوردنیا میں آزادی وحریت کے طرفدارآپ کی اس عزت وشرف کی تصدیق کررہے ہیں اور ان کے اندر ظلم و استکبار کے مقابلے میں حتمی فتحمندی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔  

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حوالے سے آگ لگنے کی وجوہات ہی نہیں بلکہ اس کے سنگین نتائج اور تباہ کن صورت اختیار کرنے کے عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے ہنگامی ردعمل، بچوں کے انخلا کے انتظامات، انفرادری اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تعین اور ضروری اصلاحات کا بھی جائزہ لیا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات اور نتائج 52 نکاتی منظم تحقیقات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

تحقیقات میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی گئی۔ علاوہ ازیں سی سی ٹی وی ریکارڈ سے پمز نرسری میں ہنگامی صورتحال کے غیرمعمولی سرعت سے پیدا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 6:38:15 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جہاں فرنٹ لائن عملے نے ممکنہ کارروائی کی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں میں بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی ۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود رہے۔ تقریباً 6:39:15 بجے تک گہرے دھویں نے سی سی ٹی وی کیمرے کی منظر کشی کو مکمل طور پر متاثر کر دیا۔ شواہد اس عمومی الزام کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ سنگین حالات میں متعدد اہلکاروں نے فوری اور بہادری سے ممکنہ کارروائی کی۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین تکنیکی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 1 کے قریب موجود اے سی یونٹ نمبر 2 کی بجلی کی کیبل تھی۔ ممکنہ طور پر غیر معمولی مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا کسی مقامی برقی نقص کے باعث پیدا ہوئی، کیبل انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتشگیر مواد کو آگ لگ گئی۔

رپورٹ کے مطابق شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے کے امکان، آئیسکو کی جانب سے کسی بیرونی برقی خرابی کو آگ لگنے کی وجہ قرار دینے یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کے امکان کی تائید نہیں کرتے۔ انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی موجود نہیں۔ انکوائری کے مطابق آگ لگنے کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ برقی نوعیت کی خرابی تھی۔

برقی خرابی کی درست نوعیت اور اس کی روک تھام میں ذمہ دار فرد یا ادارے کا تعین الگ سے کیا جانا ضروری ہے۔ مینٹی نینس ریکارڈ کے مطابق نرسری کے اے سی یونٹس کی سروسنگ کی گئی تھی۔ ریکارڈ کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کے جامع برقی حفاظتی جانچ کا موثر نظام موجود نہیں تھا۔ اہم بات ہے کہ برقی آلات کا فعال ہونا اس امر کے مترادف نہیں کہ اس کی برقی تنصیب بھی آگ سے مکمل طور پر محفوظ تھی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلات کو فعال رکھنے اور ان کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کے درمیان اہم ادارہ جاتی خلا موجود تھا۔ نرسری کی حساس صورتحال نے آگ کے تباہ کن اثرات کو مزید بڑھا دیا۔ 10 بستروں کے یونٹ میں 15 طبی طور پر انتہائی نازک نومولود زیر علاج تھے۔ متعدد نومولود آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے، چنانچہ ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا سرعت کے ساتھ ممکن نہیں تھا۔ اس موقع پر صرف 2 ڈاکٹر اور 2 نرسیں موجود تھیں اور محفوظ انخلا کے وسائل بھی بہت محدود تھے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ اور نومولود بچوں کے انخلاء کے ایس او پیز کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا پتا لگانے، الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن والے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ فرنٹ لائن عملے نے آگ لگنے کے چند سیکنڈز میں کارروائی کی۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی ای ایس ریکارڈ کے مطابق ایکسٹرنل نوٹیفیکیشن (بیرونی امداد) 06:54 بجے جبکہ ڈسپیچ 06:55 بجے اور آپریشنل آمد 07:01 بجے ثابت ہوتی ہے۔ لہذا بنیادی تشویش 6:38 بجے پر آگ کے ظاہر ہونے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان کا وقفہ ناقابل قبول ہے ۔ پمز کوئی آزمودہ Incident Command System قائم کرنے کا ثبوت نہیں پیش کر سکا جو آگ کی نشاندہی ہوتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلاء، خطرے کی روک تھام، رسائی کے انتظام اور مربوط امدادی کارروائی کو فعال کر سکے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضایی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے اکاؤنٹ میں لکھا کہ امریکی صدر کے متضاد اشاروں سے اپنی توجہ نہ ہٹائیں، جہاں ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ہم مذاکرات نہیں کریں گے اور دوسری طرف ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور آبی گزرگاہوں سے متعلق حالات اور مساوات تبدیل ہوچکی ہیں۔ حالات کے اثرات پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی ہاتھ پاؤں کی کوششیں آنے والے واقعات کو روک نہیں سکیں گی۔

قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری نے تاکید کی کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بس۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکائے گا۔

سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکی جنگجو ہیں تو انہیں ایرانی بہادر فوجی دستوں کا سامنا کرنا چاہیے۔

پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ جنگ میں غیر فوجی بنیادی ڈھانچے، غذائی وسائل اور عوام کے معاش کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر دشمن انسان ہیں تو پھر لوگوں کو پانی، غذا اور ادویات تک رسائی سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟

ایرانی صدر نے تاکید کی کہ ایرانی قوم کو طاقت کے ذریعے تسلیم نہیں کرایا جا سکتا۔

 

 ایرانی پارلیمنٹ کی پریزائیڈنگ بورڈ کے ترجمان عباس گودرزی نے امریکہ پر اعتماد کرنے کو دھوکے کو قبول کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونا ایک آسان اور قابل حصول قدم ہے۔

گودرزی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاملات میں صرف طاقت کی منطق کارگر ثابت ہوتی ہے۔ این پی ٹی سے دستبرداری اور ایران کی جوہری پالیسی پر نظرثانی کرنا مکمل طور پر ممکن اور آسانی سے قابلِ عمل اقدام ہے۔

دوسری جانب ہفتے کے روز ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ایرانی قانون سازوں کے ایک گروپ نے این پی ٹی سے دستبرداری کے لیے تین ترجیحات پر مشتمل ایک منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔


منگل کی شام سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکی اسمارٹ ڈرون آبدوز پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا اور رات کو ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی جارحیت اور تہران کے جوابی میزائلی اور بحری حملوں تک بات جا پہنچی۔ آبنائے ہرمز میں جنگی جہازوں اور وسائل کی آمد و رفت پر پابندی کی امریکی خلاف ورزی کا جواب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اس ڈرون آبدوز پر قبضہ کرکے دیا، جسے امریکی فوج نے سن 2025ء میں پہلی بار لانچ کیا تھا۔ سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلان کے مطابق یہ انتہائی کامیاب کارروائی، بہت ہی پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے انجام پائی۔ اس خبر کے اعلان کے بعد امریکی حکام نے، جو بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے تھے، انہوں نے ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

جس کے فوراً بعد ایران کے چیف آف اسٹاف کی جانب سے ایسی کسی کارروائی کی صورت میں انتہائی سخت اور غیرمتوازن جوابی حملے کا انتباہ جاری ہوا اور اس جوابی کارروائی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب نے تیز رفتاری کے ساتھ ایک انتہائی وسیع، شدید، تابڑ توڑ اور حیران کن جوابی حملہ کیا، جس میں ایران کے سالڈ فیول Solid Fuel بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے امریکی جیٹ فائٹروں کے ہینگروں اور مرمت کے مراکز کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ سپا پاسداران انقلاب نے "یا حیدر کرار" کے سلوگن کے ساتھ امریکی جنگی بحری جہازوں کو بھی بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا اور خلیج فارس میں 8 تیل بردار جہازوں کو ناکارہ بنا دیا۔

ایران کے ان انتہائی شدید حملوں میں دشمنوں کو کم سے کم دو پیغام ملے ہیں۔ پہلا پیغام یہ تھا کہ ایران کی آپریشنل صلاحیت اور انٹیلی جنس کے مقابلے میں امریکی فوج کے انتہائی ترقی یافتہ ہتھیار اور وسائل کی افادیت پر سوالیہ نشان اٹھ چکا ہے اور دوسرا پیغام یہ تھا کہ خطے میں امریکی بیڑے اور جنگی فلیٹ کی وسیع موجودگی بھی انہیں فوری اور دقیق جوابی کارروائی کے سامنے محفوظ نہیں بنا سکتی۔ اس بارے میں سیاسی امور کے ماہر محمد حسن زورق نے کہا ہے کہ ایران کی طاقت کو مغرب کے کلاسیکی طاقت کے پیمانے میں نہیں تولا جاسکتا، کیونکہ ایران نے اسٹریٹیجک طاقت یا دوسرے الفاظ میں "استقامت کی طاقت" کے راستے کو اختیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ استقامت نے کمترین وسائل کے باوجود شدید ترین دباؤ کا مقابلہ کرنے بلکہ دشمنوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی طاقت سے ایران کو لیس کر دیا ہے اور یہ وہی عنصر ہے، جس سے امریکہ اور مغربی دنیا حیرت زدہ اور پریشان ہوگئی ہے۔ ایران اپنے آپ کو ایسی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو حملہ ہونے کے بعد صرف دفاع نہیں کرتی بلکہ فوری، متناسب سے بڑھ کر اور دشمن کے حساس مقامات کو نشانہ بنانے والی جوابی کارروائی کرسکتی ہے۔ یہ تصور ایران کی روایتی فوجی طاقت کے مقابلے میں ایک مختلف ماڈل پیش کرتا ہے: Deterrence through retaliation۔۔۔ یعنی دشمن کو اس خوف سے حملہ کرنے سے روکنا کہ جواب کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

ایران کی حکمتِ عملی میں طاقت کو صرف جنگی طیاروں، جدید بحری جہازوں یا دفاعی بجٹ سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اس میں درج ذیل عناصرشامل ہیں:
* طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت
* پابندیوں کے باوجود دفاعی پیداوار جاری رکھنا
* میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مقامی ترقی
* غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی
* انٹیلی جنس اور نیٹ ورک صلاحیت
* آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی مقامات سے فائدہ اٹھانا
* سیاسی اور سماجی مزاحمت کو جنگی طاقت میں تبدیل کرنا

اس اعتبار سے "استقامت" دراصل کم وسائل کے ساتھ زیادہ دیر تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ امریکہ کے پاس جدید ترین ہتھیار ضرور ہیں، لیکن جدید ہتھیار بذاتِ خود جنگ میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں۔ جغرافیہ، انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر، میزائلوں کی تعداد، منتشر فوجی تنصیبات اور دشمن کے کمزور مقامات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ اسٹریٹیجک دباؤ کا ذریعہ بھی ہے۔

، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تہران یونٹ کے کمانڈر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا ہے کہ ایران دفاعی مقابلے کے مرحلے سے گزر چکا ہے اور اب جارحانہ کارروائیوں کے دہانے پر ہے۔

انہوں نے سپاہ حضرت محمد رسول اللہ کی خصوصی آپریشن ٹیموں کی فوجی مشق کے دوران کہا کہ یہ ایک اہم اسٹریٹجک موڑ ہے، جس کے اثرات دشمن بہت جلد محسوس کرے گا۔

جنرل حسن زادہ نے 12 روزہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں دشمن کے ان دعووں کا حوالہ دیا کہ اسلامی جمہوری ایران کا نظام چند ہی دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی دشمن خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے محدود جغرافیائی علاقے میں ایرانی بحریہ اور سپاہ کی فضائی و خلائی قوت کے سامنے پھنس چکا ہے اور اضطراب کے عالم میں راتیں گزار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ میں کامیابی صرف جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ پختہ ایمان، اللہ کی نصرت پر یقین اور شہدا کے مکتب کی پیروی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایران میزائل، ڈرون اور بحری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں اس نے دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام بنا دیا ہے۔

سپاہ تہران کے کمانڈر نے خصوصی اور برق رفتار کارروائیوں کے لیے جارحانہ ٹیموں، یونٹوں اور لشکروں کی تنظیم نو کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فورسز ملک کے کسی بھی حصے میں انتہائی تیزی سے پہنچ کر دشمن کو کسی بھی صورتحال میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے 27 ستمبر کو ہونے والی 3 لاکھ 13 ہزار افراد پر مشتمل "جان فدای ایران" فوجی مشق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانب سے مساجد، میدانوں، سرکاری اداروں اور محلوں میں رجسٹریشن غیر معمولی رہی ہے اور اس روز دنیا ایرانی عوام کی منظم اور طاقتور موجودگی کا مشاہدہ کرے گی۔

جنرل حسن زادہ نے کہا کہ ٹرمپ اور نتن یاہو آج اپنے ہی عوام اور اشرافیہ کے سامنے جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ ایران کی مسلح افواج کو تباہ کرنے کے دعوے کرتے تھے، لیکن آج ایرانی مسلح افواج پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، لیکن آج ایران کی قوم اس اہم توانائی گزرگاہ کے انتظام کی طاقت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل شکستوں نے دشمن کو جھوٹے دعوے کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

سپاہ تہران کے کمانڈر نے کہا کہ ایران نے دنیا کے سامنے امریکی طاقت کا رعب توڑ دیا ہے اور آج دنیا اسلامی ایران کو محور مقاومت اور عالمی طاقت کے توازن کو طے کرنے والی چار بڑی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز، عوامی قوت اور ایرانی جنگجوؤں کی مکمل تیاری ایران کی طاقت کے اہم عناصر ہیں اور 27 ستمبر کو دنیا اس طاقت کا ایک مظہر دیکھے گی۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے عرب لیگ کی وزارتی  کونسل کے اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران پر لگائے جانے والے غلط الزام اور بے بنیاد دعووں کی مذمت کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ عرب لیگ کی وزارتی کونسل کے سارے الزامات اوردعوے  بے بنیاد اور قابل مذمت ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں، بدامنی کی جڑ غاصب صیہونی حکومت ہے جو مقبوضہ فلسطین، لبنان، شام اور دیگر عرب اور اسلامی ملکوں کے خلاف وحشیانہ جارحیت، جنگی جرائم اور نسل کشی میں مصروف ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حالات میں،عرب لیگ کے رکن بعض ممالک، غاصب صیہونی حکومت کے ناجائز قبضے اور توسیع پسندی نیز فلسطینی عوام کی حمایت پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، ایران کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی میں مصروف ہیں جس کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی۔  

 ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے اس بیان میں اچھی ہمسائگی پرمبنی اپنی اصولی سیاست کی یاد دہانی کراتے ہوئے، تفرقہ انگیزی سے پرہیز اور علاقے کے ملکوں کے درمیان یک جہتی کی تقویت پر زور دیا ہے۔

 ایران، روس اور چین کی جانب سے جاری شدہ مشترکہ بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی موضوع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنا، مغربی ممالک کی سفارتی اصولوں کی پابندی کے دعووں کے منافی ہے۔

اس بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کے رکن ذمہ دار ممالک کو اس بات کی تلقین کی جاتی ہے کہ ایسے اقدامات کے انجام کے بارے میں غور اور ایران کے خلاف قرارداد کے مسودے کی حمایت سے گریز کریں۔

تہران، ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں آيا ہے کہ حتی اگر ایران کے خلاف تیار ہونے والے اس مسودے کی شکل اور اس کے مضمون میں موجود نقص کو نظرانداز کیا جائے تب بھی اس بات کو بھلانا ناممکن ہے کہ مذکورہ متن میں موجودہ حالات کی اصل اور بنیادی وجوہات کو سرے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔

اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ، مغربی ممالک نے اس مسودے میں آئی اے ای اے کے سیف گارڈ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹہرایا ہے جبکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ناجائز حملوں کو سرے سے نظرانداز کیا گیا جو معائنہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

ایران، روس اور چین نے یورپی ممالک اور امریکہ کی ان غیرقانونی حرکتوں کو ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کے بیچ سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

اس بیان میں یورپی ٹرائیکا اور امریکہ کے ہاتھوں اسنیپ بیک مکینزم کو متحرک کرنے کو بھی ناجائز اور قانونی لحاظ سے بے اثر قرار دیا گیا ہے۔

تہران، ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے جاری شدہ بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ ایٹمی موضوع کو فنی حدود سے ہٹا کر سیاست کے میدان میں داخل کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

 یمن کی مستعفی حکومت کے چار فوجی ذرائع نے آج  جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ انصاراللہ نے تاریخی اور ساحلی شہر المخا پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ المخا پر قبضے کے بعد  آبنائے باب المندب پر جوعالمی جہاز رانی  کی اہم ترین  گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، انصاراللہ کا کنٹرول مکمل ہوجانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

 یمن کی مستعفی حکومت کے ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کردی ہے کہ انصاراللہ کے جوانوں نے، بحیرہ احمر کے اسٹریٹیجک جزائر حنیش پر حملے شروع کردیئے  ہیں۔

دوسری طرف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی افواج پیچھے ہٹ کر جنوب اور باب المندب کے قریب واقع شہر ذوباب کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں یمن کی قومی فوج اور سعودی عرب سے وابستہ حکومت کے حامی اتحاد کے فوجیوں کے درمیان جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے اور جنگ کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جس سے عالمی سطح پر توانائی کی سلامتی اور ثبات کے خطرے میں پڑجانے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔