سلیمانی

سلیمانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلْحَمْد للّٰہ الَّذی جَعَلَ کَمَالَ دینہ وَ تَمَامَ نعْمَتہ بولَایَۃ اَمیْرالْمؤْمنیْنَ عَلی بْن اَبی طَالبٍ علیہ السلام

میں عید سعید غدیر کی مبارک باد ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور امت مسلمہ کے پدر گرامی، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی روح مطہر پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ اس سال یہ سینتیسویں 14 خرداد (4 جون) ہے جو امام خمینی کے فراق کو گزر رہی ہے اور یہ پہلی 14 خرداد ہے جب امت کے مہربان باپ، مکتب امام خمینی کے مرید اور وفادار و ممتاز ساتھی، انقلاب اسلامی کے عظیم رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ ضیافت الٰہی کے مہمان بنے ہیں اور امام خمینی کے مزار اقدس میں ان کی مضبوط آواز اور حکمت و بصیرت سے بھرپور کلام کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے دس سالہ اور عظیم الشان رہبر شہید کے چھتیس سالہ بیان، خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے، اللہ کی جانب سے لیے گئے عہد و میثاق کا وہ دن جب خداوند عالم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا انتظام چلانے کا معاملہ طے کر دیا اور حضرات معصومین علیہم السلام کی مسلسل ولایت و امامت کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا۔

عید غدیر اس ہستی کی یاد دلاتی ہے جس نے کعبے میں ولادت سے لے کر شہادت کی سعادت پانے تک اپنی پوری زندگی خدا کے لیے اور خدا کی راہ میں گزاری۔ اسی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیر المومنین اپنی زندگي کے تمام ادوار میں اور تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ہیں اور مناسب اور لازمی ہے کہ کم سن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک، اور عام لوگوں سے لے کر اہل فکر و دانش اور رہنماؤں تک، سب ان کی پیروی کریں، جس طرح انقلاب کے دونوں اماموں کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی اسی عظیم ہستی کی پیروی رہا ہے۔

دوسرے یہ کہ آج امام امت رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے اور اس مشہور لیکن کم پہچانی گئی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔ ایسی پرکشش شخصیت کہ جس کی نورانی راہ اور ہدف کی گہری شناخت و معرفت، اسلامی مملکت ایران کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے لیکن قوم کے بہت سے نوجوان افراد کو ان کی براہ راست زیارت اور شناخت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی، جنھوں نے ان کی زندگی کا زمانہ دیکھا، ان کی شخصیت کی گہرائی اور ان کی راہ و روش تک کم ہی پہنچ سکے۔

قَالَ اللہ تَعَالٰی: قلْ انَّمَا اَعظكمْ بوَاحدَۃٍ اَنْ تَقوموا للّٰہ مَثْنٰی وَ فرَادٰی۔ (سورۂ سبا، آيت 46) خداوند متعال اس آیت شریفہ میں رسول اعظم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ امت سے کہہ دیجیے: میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، یہ کہ تم اللہ کے لیے دو دو کر کے یا ایک ایک کر کے اٹھ کھڑے ہو۔ یہ آیت اس پہلے پیغام اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک کا آغاز ہے جس میں ہمارے عہد کے اس بے مثال بندۂ صالح، انقلاب کے عظیم رہبر اور اسلامی جمہوریہ کے بانی نے ایرانی قوم کو اللہ کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔ جی ہاں، اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد ہے اور ان کی ہستی کی اہم ترین برکتوں میں سے ایک یہی ہے کہ انھوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی ہدایت و تربیت کی اور اس پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی الہی تحریک، اللہ کی برکتوں اور عنایتوں کے نزول کا سرچشمہ بنی اور اسی کے ذریعے حق کی راہ کی طرف معاشرے کی راہنمائی کی خداوند عالم کی سنت جاری ہوئی کہ وَالَّذیْنَ جَاھَدوْا فیْنَا لَنَھْدیَنَّھمْ سبلَنَا (اور جو لوگ ہمارے لیے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔ سورۂ عنکبوت، آيت 69) کیا ایسا نہیں ہے کہ ایرانی قوم کی سب سے بڑی عوامی تحریکیں اور بعثتیں خمینئ کبیر اور رہبر عظیم الشان شہید خامنہ‌ای کے دور میں، براہ راست یا بالواسطہ انھی کی ہدایات کے نتیجے میں وجود میں آئیں؟ کون سی عظیم طاقت 15 خرداد 1342 ہجری شمسی (5 جون 1963) کو سامراج و استعمار کے سحر میں گرفتار اور غفلت زدہ قوم کو ایسی حالت سے بیدار کر سکتی تھی؟ جب گھٹن، جبر اور مغرب پر مکمل انحصار مسلط تھا؟ کون سی طاقت تھی جو 12 بہمن 1357 ہجری شمسی (1 فروری 1979) کو امام خمینی کے استقبال اور 14 خرداد 1368 ہجری (4 جون 1989) کو امام امت کی آخری رخصت کے لیے دسیوں لاکھ انسانوں کو سڑکوں پر لے آتی؟ اور حالیہ حیرت انگیز نمونے میں، وہ کون سی مضبوط طاقت اور فولادی ارادہ تھا جس نے 28 فروری 2026 کی سحر سے ایرانی قوم کو اس طرح مبعوث کر دیا اور میدان میں لے آئی کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے شہید رہبر اور دیگر شہداء کے خون کے انتقام کا مطالبہ کرنے، اسلامی نظام اور اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری گرم جوشی اور شدت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور کروڑوں جاں نثاروں کی صفوں کو رہبر شہید کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے اور حق کے قیام اور اللہ کے لیے قیام کے لیے مستحکم کیے ہوئے ہے؟

جی ہاں، یہی امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہ‌ای تھے جنھوں نے ایرانی قوم کے اندر موجود اس استعداد اور آمادگی کو دریافت کیا، اسے فعال کیا اور ہمیشہ اسے خاص اہمیت دی۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے، جو بلاشبہ اپنے بے مثال تقوی اور پرہیزگاری کے باعث قلم سے نکلنے والے ہر لفظ پر پوری توجہ رکھتے تھے، اپنی وصیت میں ایک عظیم دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا: "میں پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ملت ایران اور اس کے کروڑوں افراد، رسول خدا کے زمانے کے حجاز کے لوگوں اور امیرالمؤمنین و امام حسین علیہما السلام کے دور کے کوفہ و عراق کے لوگوں سے بہتر ہیں۔" آج پوری ایرانی قوم کو فخر ہے کہ مزاحمتی محاذ کے شانہ بہ شانہ اپنی نئی بعثت کے ذریعے، وہ دنیا کی آزاد قوموں اور بیدار نگاہوں کے لیے باعث افتخار بنی ہوئی ہے اور اس نے امام خمینی کی وصیت کے اس جملے کی سچائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ کے بقول، وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا، عظیم امام خمینی کی فولادی شخصیت، مطمئن دل اور ذوالفقار جیسی زبان تھی، جس نے دسیوں لاکھ انسانوں کو میدان میں اتارا، انھیں میدان میں قائم رکھا اور انھیں آگے بڑھنے کی سمت سمجھائی۔ اور یقینی طور پر اسی طرح کے اثر کا ایک اور نمونہ خود عزیز خامنہ‌ای سے متعلق تھا، جنھوں نے اپنے سلف صالح کے راستے پر قدم رکھا اور تقریباً چار عشروں تک انقلاب اور اسلامی نظام کی قیادت کے دوران نوجوانوں پر اعتماد، عوامی شعور کی گہرائی اور فکری سطح کی بلندی کے ذریعے معاشرے کو ایسی آمادگی تک پہنچایا کہ ان کی شہادت کے عظیم واقعے کے بعد ایرانی قوم کی بعثت کا ایک نیا نصاب سامنے آیا۔

 

جی ہاں، عزیز خامنہ‌ای کا مکتب درحقیقت وہی امام خمینی کا مکتب ہے جو خالص محمدی اسلام کا ہی تسلسل ہے اور جس کا بنیادی ڈھانچہ اللہ کے لیے قیام ہے۔ اس مکتب کے شاگرد صف بہ صف حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راہ میں مجاہدت کے لیے تیار ہیں۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایران، اسلامی امت اور پوری دنیا کی سطح پر ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی لانے والے تھے جسے رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ نے مزید گہرائی، وسعت اور تسلسل عطا کیا، اور اس کی تکمیل و عملی جامہ پہننے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی۔ اسی سلسلے میں انھوں نے اپنے قول، قلم اور عمل کے ذریعے اور مختلف ملاقاتوں میں مکتب امام خمینی کو زندہ رکھا اور 4 جون کو ایرانی قوم اور امام خمینی کے درمیان سالانہ تجدید عہد کے موقع میں بدل دیا۔ وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے۔ ان تعلیمات میں سے ایک، جو شاید بار بار دوہرائی جاتی تھیں، یہ تھا کہ ایرانی قوم، ایک باایمان، ذہین اور بہادر قوم ہے اور یہ کہ عوام ہی ملک کے حقیقی مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں، اور یہ کہ یہ قوم اگر کسی صحیح تبدیلی کا ارادہ کر لے تو اسے عملی جامہ پہنا سکتی ہیں اور "ہم کر سکتے ہیں" کے نعرے کو مختلف میدانوں میں حقیقت بنا سکتی ہیں۔ انھی تعلیمات میں، ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضے کی حیثیت سے مظلوم کی حمایت ہے۔ نیز یہ کہ عالمی تسلط پسندانہ نظام اور اس میں سرفہرست امریكا، اس قوم، اس کے ممتاز تشخص اور اس کے سر نہ جھکانے والے مزاج کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے۔

 

جی ہاں، یہی تسلط پسندانہ نظام، جس نے لگ بھگ اسّی برس پہلے اسرائیل نامی ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، فرات کے مشرق میں، اپنے نام نہاد اور جعلی "گریٹر اسرائیل" کی مشرقی سرحد پر ایک طاقتور، آزاد اور مختلف صلاحیتوں سے مالامال ایران کا وجود برداشت نہیں کر سکتا اور اس کی ترقی روکنے کے لیے کسی بھی کارروائي سے دریغ نہیں کرتا۔ اسی موقع پر میں عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن، جب سے اسے مسلح فورسز میں موجود آپ کے بہادر فرزندوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا ہے اور خاص طور پر فیصلہ کن ضرب کھانے کے بعد چاہے وہ عسکری محاذ پر ہو یا عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اس سے واضح طور پر دور ہونے لگے ہیں۔ اس وجہ سے اب اس نے اپنی ہائبرڈ وار کا رخ دو باتوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک عوام کی استقامت اور ثابت قدمی اور دوسرا ملک کے ذمہ داران کو اندازے کی غلطی میں مبتلا کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس کا اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے۔ لہذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ ثابت قدمی، بصیرت، اتحاد و یکجہتی، باہمی اعتماد سے کام لے کر اور دشمن کی آواز میں آواز نہ ملا کر اس کے منحوس عزائم کو مٹی میں ملا دیں۔ اس سلسلے میں ان امور کی پشت پناہی میں حکام اور ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو عوام کے دلوں میں بداعتمادی یا کمزوری پیدا کرے، درحقیقت اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔

 

اس وقت، اسلامی انقلاب کے مظلوم لیکن مقتدر اور یقینی طور پر کامیاب رہنماؤں کے طور پر امام خمینئ کبیر اور شہید عزیز خامنہ‌ای کے مکتب کو عملی طور پر دنیا بھر میں متعارف کرانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کا ایک نیا موقع حاصل ہو گيا ہے۔ یہ اہم ذمہ داری پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں، اہل دانش، اہل فکر اور اہل فن کے کندھوں پر ہے کہ وہ اسی مکتب کی بنیاد پر، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں اور خالص اسلام کے راستے پر، یعنی اس نورانی راہ پر جسے صاحبان عصمت و ولایت کبریٰ علیہم السلام نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور حیات میں متعین فرمایا، عزیز ایران کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں۔

 

میں خداوند قادر سے دعا کرتا ہوں کہ اس مبعوث شدہ قوم کو حتمی فتح اور پیشرفت و عظمت کی بلند و پرشکوہ چوٹیوں تک پہنچائے، اور انقلاب کے دو اماموں کی ارواح مقدسہ اور اسلامی انقلاب کے شہداء خصوصاً دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے شہداء کی پاکیزہ روحوں کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے۔ ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقدس اور نورانی قلب کو ایرانی قوم سے راضی فرمائے اور اس عزیز قوم اور اپنے فضل و کرم سے اس کے خدمت کاروں کو حضرت کی خصوصی دعاؤں اور شفاعت سے مستفیض کرے۔

 

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

ارنا کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگآن کے علاقےمیناب میں اشکانی دور کے ایک اسٹریٹیجک قلعے کے آثار ملے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ایران نے دو ہزارسال قبل، بحری شاہراہ ریشم کی اس اہم خلیج میں بحری فوج کا ایک اڈہ بناکرآبنائے ہرمز سے مغرب اور مشرق کے درمیان بحری جہازوں کی آمد ورفت کنٹرول اپنے پاس رکھا تھا۔    

اس رپورٹ کے مطابق ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ میناب میں اشکانی دور کے قعلے کے آثارایران کے بحری تسلط کی تاریخی دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ تقریبا دو ہزار سال قبل ایرانی آبنائے ہرمز کے پاس ایک بحری فوجی اڈہ بناکر عالمی تجارت کے اہم ترین سمندری راستے کی نگرانی اوراس کو  کنٹرول کررہے تھے۔

ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ماہر آثار قدیمہ، حسین حسین زادہ شہابی نے آبنائے ہرمز پر ایرانیوں کے تاریخی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  تقریبا 2 ہزار سال قبل، شاہراہ ریشم،عالمی تجارت کی اہم ترین شاہراہ تھی جس کی زمینی اور سمندری، دو شاخیں تھیں جو قدیمی مشرقی دنیا کو مغربی دنیا سے ملاتی تھیں۔  

 انھوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹیجک اقدام، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانیوں کو  بین الاقوامی تجارت میں اس اہم آبی شاہراہ کی جیوپولیٹیکل اہمیت کا بہت گہرا ادراک تھا ۔

 حسین حسین زادہ شہابی نے کہا کہ شاہراہ ریشم کا خشکی کا راستہ، چین سے شروع ہوکر، سرزمین ایران کے قدیمی شہرری ہوتے ہوئے، مغرب کی طرف چلا گیا اور رودان اور اناتولی کے درمیان سے قدیمی روم کی سرزمین کے ذریعے یورپ تک پہنچتا۔

بحری شاہراہ ریشم پر ایرانیوں کا تسلط

انھوں نے کہا کہ زمانہ قدیم میں عالمی تجارت اور اقتصادی لین دین میں بحری شاہراہ ریشم کا کردار بھی فیصلہ کن تھا اور وہ سمندری راستہ جو چین اور ہندوستان کے ساحلوں سے شروع ہوتا تھا، آبنائے ہرمز اور خلیج سے گزر کر، بصرہ پہنچتا تھا اور وہاں سے مغربی منڈیوں تک جاتا تھا۔  

 حسین حسین زادہ شہابی نے میناب میں ملنے والے نئے آثارقدیمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  میناب کے نخل ابراہیمی علاقے میں، آثار قدیمہ کی  تحقیقاتی جستجو کے دوران، آشکانی دور کے ایک قلعے کے آثار ہاتھ لگے ہیں۔       

 تاریخ اور آثارقدیمہ کے اس محقق نے بتایا کہ اس جستجوکے دوران، " کہور لنگر چینی" نام کی ایک پتلی کھاڑی کے آثار بھی ملے ہیں جو میناب کے علاقے تیاب سے شروع ہوکراس پرانے قلعے تک جاتی تھی  جو تجارتی اور آبی شاہرہ کے نقطہ نگاہ سے بہت  اہم ہے۔   

آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لئے بحری فوجی اڈہ

  ماہرآثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ ان علاقوں کے گہرے تحقیقاتی مطالعے اور آثار قدیمہ کی اس تحقیقاتی جستجوکے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ قلعہ کوئی عام سا اور معمولی فوجی اڈہ نہيں تھا بلکہ  یہ ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک نیول بیس تھا جہاں  فوجی بحری بیڑوں کو تمام ضروری سازمان سے لیس کرکے، آبنائے ہرمزکی نگرانی اور اس کو کنٹرول کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔    

انھوں نے کہا کہ جو شواہد ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قلعہ، بحری شاہراہ ریشم سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد ورفت کی نگرانی اور کنٹرول کے لئے بنایا گیا تھا اور یہ بحری جہاز اس وقت کے مشرق کے عظیم اقتصادی مراکز بالخصوص چین اور ہندوستان سے مغربی منڈیوں کے لئے سامان لے جایا کرتے تھے۔

 ایران کے صوبہ ہرمزگان کے اس ممتاز ماہر آثار قدیمہ نے مزید کہا کہ یہ آثا ثابت کرتے ہیں کہ ایرانیوں  کو 2 ہزار سال قبل عالمی تجارت میں آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اور جیوپولیٹیکل اہمیت کا اچھی طرح علم  تھا۔  

 آبنائے ہرمزکا کنٹرول اور عالمی تجارت نیز اقتصادی منابع کی حفاظت میں اس کا کردار

ایران کے صوبہ ہرمزگان سے تعلق رکھنے والے ممتاز  مورخ اور ماہر آثار قدیمہ حسین زادہ شہابی نے زمانہ قدیم کی بڑی طاقتوں کے درمیان اقتصادی رقابت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رومی سلطنت ایران کی اہم ترین تجارتی رقیب تھی  اوراس کی کوشش تھی کہ ایران کو بائی پاس کرکے، مشرق کے ، ریشم، ادویہ جات اور قیمتی پتھروں کی پیداوار کے مراکز سے براہ راست رابطہ برقرار کرے۔  
 انھوں  نے کہا  کہ ان حالات میں اس اسٹریٹیجک آبی شاہراہ کی نگرانی کے لئے، یک بحری فوجی اڈہ قائم کرنا، اس دور کے بین الاقوامی تجارتی سسٹم میں اپنی پوزیشن اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے، ایران کی حکمت اور بنیادی سیاست کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
 ممتاز ماہر آثار قدمیہ حسین زادہ شہابی نے کہا کہ میناب میں  ملنے والے نئے آثار قدیمہ  سے  نہ صرف یہ کہ ایران کی تجارت اور جہازرانی کی تاریخ کا ایک حصہ روشن اور واضح ہوجاتا ہے بلکہ زمانہ قدیم میں، دنیا کی ایک  اہم ترین آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام میں ایران کے کردار اور اس کے کنٹرول کی ایک اہم دستاویز بھی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ایران نے زمامہ قدیم میں بھی، اپنی تدبیر سے آبنائے ہرمز کو علاقے کے اہم ترین اقتصادی اور جیوپولیٹیکل مرکز میں تبدیل کردیا تھا۔

 

 امریکی صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی طاقتور اور غیور ہیں

 ارنا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے این بی سی نیوز کے پروگرام، "میٹ دی پریس" کی اینکر کرسٹین ویلکر کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ " ایرانی لیڈران ابھی تک جنگ کے خاتمے کے لئے، امریکا سے سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے ہیں کیونکہ وہ طاقتور ہیں اور ملی غیرت رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بات ایسی حالت میں کہی ہے کہ ایران اور امریکا اس جنگ کے  خاتمے کے لئے مذاکرات کررہے ہیں جو امریکا اور اسرائيل نے اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف شروع کی تھی۔

یرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے میں کویت کی ناکامی سے مغربی ماہرین بھی کچھ حقائق کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ان ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ کویت میں لگائے گئے دفاعی نظام اکثر اوقات ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نیشن میگزین نے اپنے ایک تجزیے میں تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ کویت جدید پیٹریاٹ سسٹمز سے لیس ہے اور چھ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے، پھر بھی وہ ایرانی حملوں کے مقابلے میں "کمزور"  ثابت ہوا ہے۔

اس میگزین نے ایرانی حملوں کے مقابلے میں  کویت کی بے بسی  کے جغرافیائی صورت حال ،  ایران  کی بدلتی حکمت عملی اور کویت میں محدود تعداد میں انٹرسیپٹرز  جیسے متعدد عوامل کا ذکر کیا ہے۔

نیشن کے مطابق، بدھ کے روز کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں میں مجموعی طور پر 30 میزائل اور شاہد-136  ڈرون طیارے  استعمال کئے گئے جن میں سے متعدد  میزائل اور ڈرون طیارے کویت میں لگائے گئے دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

امریکہ نے حالیہ دنوں میں کویت اور بحرین میں اپنے اڈوں سے ایران کے خلاف بار بار حملے کیے ہیں جس کے جواب میں ایرانی فوج نے بھی ان ڈروں پر میزائل اور ڈرون فائر کئے ہيں جس سے ان اڈوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔

خبروں کے مطابق کویت میں واقع امریکی  فوجی اڈے "علی السالم"  کو شدید نقصان  پہنچا ہے۔

ایرانی ڈرون؛ خطے میں امریکیوں کی مصیبت

فوجی ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ خطے میں موجود دفاعی نظام اکثر اوقات ایرانی ڈرون کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

 جینز ڈیفنس انٹیلیجنس کمپنی کے میزائل ماہر جیرمی بینی کا ماننا ہے کہ جہاں بہت سے ممالک میزائل سمیت  بڑے خطرات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، وہیں یہ ڈرون ہیں جو "مختلف قسم کے متعدد مسائل پیدا کر رہے ہیں۔"

اسلحے کے اس ماہر  نے کویت پر ایرانی ڈرون حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  "حملہ آور ڈرونوں کو مار گرانے کے لیے ضروری کم فاصلے کے فضائی دفاعی نظام میں ہمیشہ خامیاں رہیں گی۔"

اس کے علاوہ، ڈرون اکثر کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور غیر متوقع سمتوں سے آ سکتے ہیں، جس سے ان کا پتہ لگانا اور ان سے مقابلہ کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

ایران کے خلاف  جنگ میں امریکی پیٹریاٹ ذخائر کی کمی

نیشن میگزین کے اعتراف کے مطابق، ایرانی حملوں، خاص طور پر ایرانی ڈرون حملوں سے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر ختم  ہو گئے ہیں۔

نیشن کے مطابق، ایران کے خلاف  جنگ کے دوران  ایک انداز ے کے مطابق  1200 پیٹریاٹ میزائل فائر کیے گئے ہیں جبکہ امریکی دفاعی صنعت ، سالانہ تقریبا 700  میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے وسائل کم ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ  مہنگے ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ PAC-3 انٹرسیپٹر کی لاگت اب 10 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ان حالات میں  کویت، تقریبا 13,500 امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود، ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے اور ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

خلیج فارس کے ممالک امریکی جنگ طلبی کی قیمت ادا رہے ہیں جبکہ ان کا خیال تھا کہ امریکی اڈے ان کے لیے تحفظ کا باعث بنیں گے۔

کیتھولک دنیا کے سربراہ پاپ لیو چہاردہم نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس تنازعے کو عادلانہ جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

روم سے میڈرڈ کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاپ نے کہا کہ عادلانہ جنگ کا تصور ایک ایسے دور سے تعلق رکھتا ہے جب موجودہ زمانے کے انتہائی تباہ کن ہتھیار موجود نہیں تھے، اس لیے جدید جنگوں کو اسی پیمانے پر جانچنا درست نہیں۔

انہوں نے بالواسطہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس موقف کو مسترد کیا جس میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کیا گیا تھا۔

پاپ لیو چہاردہم گزشتہ کئی مہینوں سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر ایسے بیانات اور دھمکیوں پر بھی تنقید کی ہے جو ان کے بقول تنازعات کو مزید بھڑکا سکتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے فوجی جارحیت اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق ہفتے کی صبح امریکی فوج نے ساحلی ریڈار اور نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا جو ایران کی سرحدی سلامتی اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں بحری تحفظ کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہ کارروائی 8 اپریل کو طے پانے والی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت پر حملہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی دشمنانہ اور اشتعال انگیز پالیسیوں کا تسلسل ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ مسلح افواج نے اپنے دفاع کے حق کے تحت فوری اور متناسب ردعمل دیتے ہوئے جارحانہ کارروائی کے مقاصد کو ناکام بنایا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ نہ صرف کشیدگی کم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کی مہم جوئی پر مبنی کارروائیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، اور ان کے تمام نتائج کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوگی۔

ایران نے علاقائی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ ہمسائیگی کے اصولوں کی پابندی کریں اور اپنی سرزمین کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال پر فوری اور مؤثر ردعمل دیں۔

«يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ»

 اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے

رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ولایت کا مطلب یہ ہے کہ انسان فکر و عمل میں علی (ع) کا پیرو ہو اور ان کے ساتھ ایک مضبوط اور دائمی تعلق رکھے۔ حدیثِ قدسی "وَلَایَةُ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ حِصْنِی" کے مطابق، جو اس حصار میں داخل ہو جائے وہ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین (ع) نے نہج البلاغہ میں قرآن کو ایسا نصیحت کرنے والا اور راہنما قرار دیا ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ لہٰذا جو شخص قرآن کو ناقابلِ فہم سمجھتا ہے یا خدا کی راہ میں اپنے مال، جان، آرام یا قدرت سے ذرا برابر بھی گذرنے کو تیار نہیں، وہ ہرگز ولائے علی (ع) کا حقیقی حامل نہیں ہو سکتا۔

خلاصہ یہ کہ ولایت علی (ع) کا تقاضا ہے کہ انسان فکری اور عملی دونوں پہلوؤں سے امام علی (ع) سے جُڑا ہوا ہو، اسی صورت میں وہ خدا کے حصار میں داخل ہو کر عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

 

ماخذ: کتاب "طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن"، فصل ولایت، جلسہ 24، ص 431

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَهِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْأَئِمَّهِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ.

18 ذوالحجہ کا دن، لوگوں کا جمِ غفیر، ایک وسیع و عریض میدان، جس کا نام دریافت کرنا چاہا تو معلوم ہوا خُم ہے۔

قیامت خیز گرمی کی شدت سے لوگوں کے چہرے سرخ اور بدن و لباس پسینے سے تر تھے۔

سب کی آنکھیں اور کان بس ایک ہی متکلم کی طرف مائل تھیں، لیکن میں نے محسوس کیا لوگوں کے دل اس مبلغ کی طرف مائل نہ تھے جو بہت اہم پیغام پہنچانے والا تھا۔

میں اس جمِ غفیر کے وسط میں موجود اس منظر کا مشاہدہ کہ رہی تھی۔ گرمی کی تپش نے میرے بھی حواس باختہ کر دئیے تھے، لیکن میری چھٹی حس مجھے بار بار سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ آخر ایسا کون سا پیغام ہم تک پہنچنے والا ہے جس کے لیے اتنا اہتمام کیا گیا ہے، کیونکہ میں نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا کہ پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے دیکھتے ہی دیکھتے اونٹ کے پالانوں کا ایسا شاندار اور بلند منبر تیار کروایا کہ جس کی نظیر تاریخ کے کسی گوشے میں موجود نہیں۔ اتنے بڑے مجمع کو ایسے میدان میں روکنا جہاں سورج آگ برسا رہا ہو عقل رکھنے والوں کے لیے بذاتِ خود ایک اہم اور خاص پیغام کی واضح اور صریح نشانی ہے جو بولنے والے اور سننے والوں دونوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

میں نے دیکھا جب منبر تیار ہوا تو رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے خدا کی حمد و ستائش کے بعد ایک خطبے کا آغاز کیا۔ لوگوں سے اپنے مولا اور سرپرست ہونے کا اقرار لینے کے بعد مولا علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا؛ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اتنا بلند کیا، اتنا بلند کیا کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور آپ نے صاف و واضح الفاظ میں فرما دیا: ألَا فَأِنَّ اللّٰہ مَولایَ، وَأنا مَولَی الْمؤمنین، فَمَنْ کُنْتُ مَولاہٗ فَھذَا علِیٌ مَولاہٗ. "بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں تمام مؤمنوں کا مولا ہوں، بس جس کا میں مولا ہوں یہ علی علیہ السّلام بھی اس کے مولا ہیں"۔

سارے مجمع میں ایک عجیب سا شور و غل پیدا ہوا، لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے، میری آنکھیں بس مولا علی علیہ السّلام کی طرف ٹھہر گئیں، میرے قلب کی دھڑکنیں خوشی کے مارے ٹھاٹے مارنے لگیں، خوشیاں، سکون، تازگی کی لہریں گویا میرے وجود میں رقص کر رہی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں؟ میرا مَن کر رہا تھا اس اونٹ کے پالان کی انتہا پر چڑھ جاؤں اور پوری دنیا کو بتاؤں: یا ایھا الناس! أنا غدیری

مولا علی علیہ السّلام کی ولایت نے گویا سورج کو بھی ٹھنڈا کر دیا، روح نے سُکھ کا سانس لیا، لیکن دوسری طرف میرے کانوں کو کچھ ایسی بھی سرگوشیاں سننے کو ملیں؛ کہ ہم سورج کی روشنی کے باعث کچھ دیکھ نہ سکے۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی یہ لوگ اپنے اندر موجود بغض اور عناد اور کینے کے باعث ایک ایسی چیز کا انکار کر رہے تھے جسے بچہ بچہ اپنے وجدان میں محسوس کر سکتا تھا۔

پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی آواز میں وہ رعب و دباؤ تھا اور اتنی بلند تھی کہ بعید ہے اس جمِ غفیر کے کسی بھی نفر کے کانوں تک وہ بات نہ پہنچی ہو اور مولا علی علیہ السّلام کو اتنا بلند کیا گیا تھا کہ بعید ہے کسی نے نہ دیکھا ہو۔

میرے خیال میں غدیر میں رونما ہونے والا واقعہ اور سنایا جانے والا پیغام اتنا بدیہی تھا کہ اندھوں نے بھی دیکھا اور بہروں نے بھی سنا؛ اس کے باوجود جن لوگوں نے سورج کی روشنی کا بہانہ بنایا تو میں کہوں گی، جو چیز ان کے اس واضح اور صریح واقعہ کو دیکھنے میں رکاوٹ بنی، وہ سورج کا نور نہیں، بلکہ مولا علی علیہ السلام کا نور تھا۔

بہرحال میں کاغذ و قلم کے ساتھ لوگوں کے احساسات و جذبات کو جاننے اور آنے والی نسلوں تک اس پیغام کو محفوظ بنانے کے لیے لوگوں کا انٹرویو لینے گئی تو بہت سوں کی اندرونی حالت میری حالت کی مشابہہ تھی، جیسے خوبصورت گلشن میں ہوا کی ایک ایسی لہر دوڑی ہے جس نے ایک ایک پھول کو ایسی تازگی بخشی کہ اس کی ایک ایک کلی باغ میں رقص کرتی چمن کو پُر کشش بنا رہی ہے، لیکن اس کے برعکس میں نے جلتے، سکڑتے اور بگڑتے چہرے بھی دیکھے جو ایک ایسے سرخ بارود کی مانند لگ رہے تھے کہ قریب تھا پھٹ جاتے۔

بقولِ شاعر:

ہم ازل سے سنے ہوئے ہیں

علی خدا کے چنے ہوئے ہیں

ہیں جو بھی جلتے علی سے زیدی

دل ان کے خُم سے بُھنے ہوئے ہیں

اس کے بعد میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ مولا علی علیہ السلام کے نزدیک ہوئی ان کو سلام و ادب عرض کرنے کے بعد میں نے نہایت مؤدبانہ انداز میں عرض کیا: بَخٍّ بَخٍّ لکَ یا مَولایَ،یا سیدی،

أِنِّی أُحِبُّکَ یا عَلِی!

" مبارک ہو مبارک ہو میرے مولا، میرے سردار آپ سے بہت محبت کرتی ہوں اے علی!"

اعلان کر کے تیری ولایت کا یا علی

تحریر: محترمہ شازیہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی|

 اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے تین نکات پر مشتمل سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا ہے اور امریکہ کو ہوش کے ناخن لینے کی ہدایت دی ہے۔

اسپیکر قالیباف نے اپنے پیغام کے پہلے حصے میں لکھا ہے کہ  ہم رعایت گفت و شنید سے نہیں، میزائلوں سے لیتے ہیں اور مذاکرات میں تو ہم صرف انہیں اپنی شرائط سے آگاہ کرتے ہیں۔"

انہوں نے پیغام کے دوسرے حصے میں واضح کیا کہ ہمیں ضمانتوں اور باتوں پر بھروسہ نہیں لہذا معیار صرف طرز عمل ہے اور فریق مقابلے کے کسی بھی عملی اقدام سے پہلے انہیں کوئی بھی رعایت نہیں دیں گے۔

ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے اپنے پیغام کے تیسرے حصے میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ کامیاب کہلایا جائے گا جو معاہدے کے دوسرے دن سے جنگ کے لیے بہتر انداز میں تیار ہوچکا ہو۔