سلیمانی

سلیمانی

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام ایران کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے خود ایران کے رہبرِ شہید کو نشانہ بنایا۔

اس موقع پر ایرانی وفد کی جانب سے رہبرِ شہید کی تصویر بھی بلند کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لامرد ایران کا ایک چھوٹا شہر ہے جہاں اسپورٹس کمپلیکس کو کلسٹر بم سے تباہ کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل امریکی صدر نے کہا کہ ہم دہشت گرد ہیں لیکن ہم دہشت گردی کا شکار ہیں جو لوگ خود دہشت گرد ہیں اور دہشت گردوں کی تربیت کرتے ہیں وہ ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں۔

اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے امریکی تیل کی منڈی کے بارے میں،بڑے اقتصادی اور مالیاتی مبصرین کے موقف کو شروڈنگر پیرا ڈوکس سے تعبیر کیا ہے۔

 انھوں نے اس سلسلے میں ایکس پر اپنے تازہ پیغام میں لکھا ہے کہ "امریکی امپیلزم اپنی اجارہ داری اور طاقت میں برتری کا اظہار کرتا ہے، لیکن درحقیقت  بہت کمزور اور خطرات کی زد پر ہے۔"

  قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں، جی پی مورگن نے تیل کی منڈی کے بارے میں اپنی ہفتے وار رپورٹ میں لکھا ہے کہ"یہ پہلا موقع ہے کہ ہمارے سامنے تیل کی منڈی کا مستقبل روشن نہیں ہے۔ ہم نہيں جانتے کہ اس صورتحال کا کس طرح جائزہ لیں اور اندازہ لگائيں۔"

 امریکا کمزور اور خطرات کی زد پر ہے

  ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی مالیاتی منڈی کے بڑے تجزیہ نگاروں کے اس موقف کے بارے میں ایکس پر اپنی تازہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ "یہ صورتحال شروڈنگر پیرا ڈوکس جیسی ہے۔ امریکی امپریلزم سقوط کررہا ہے۔ ظاہر میں اپنی اجارہ داری اور برتر طاقت ہونے کا اظہار کرتا ہے لیکن حقیقت میں، بہت زیادہ کمزور اور خطرات کی زد پر ہے اور ایران کو اس طرح دبانے کی کوشش کررہا ہے کہ اس کی کوئی قیمت نہ چکانی پڑے  لیکن یہ ناممکن ہے۔"

انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ" شروڈنگر کی کیبنیٹ کھلی گی اور سب کچھ سامنے آجائے گا۔ ایران کے ہاتھ کیبنیٹ کے ہینڈل پر ہیں اور حالات پوری طرح اس کے کنٹرول میں ہے۔"

ڈاکٹر قالیباف نے اپنی اس پوسٹ میں، شروڈنگر کی پلیٹوں کی انٹرنیٹ میم بھی شیئر کی ہیں جن میں دکھا یا گیا ہے کہ پلیٹیں بظاہر سالم ہیں لیکن ہر لمحہ ٹوٹ سکتی ہیں۔

ایران کے اسپیکر نے اس طرح اس علاقے میں امریکا کی گرکر تباہی کے دہانے پر پہنچتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔  

 امریکا کمزور اور خطرات کی زد پر ہے

 آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری زنجانی کی ولادت 8 رمضان ۱۳۴۶ ھ مطابق 10 اسفند 1306 ش میں قم میں ہوئی۔ ان کے والد سید احمد شبیری زنجانی اپنے عہد کے علما میں سے تھے۔

انہوں نے 25 برس زنجان کے مدرسہ سید زنجان میں تحصیل و تدریس میں بسر کئے۔ 2 جمادی الثانی 1346 ھ سے انہوں نے قم میں قیام اختیار کیا۔ ان کا شمار شیخ عبد الکریم حائری کے قریبی افراد میں ہوتے تھے۔

درس و تدریس

انہوں نے 1359 یا 1360 ھ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حوزہ کے سطوح کے دورس کو انہوں نے تین یا چار سال میں مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ سید صدر الدین صدر کے درس میں شرکت کرنے لگے۔ اس درس میں شرکت کرنے والوں میں وہ سب سے کم عمر طالب علم تھے۔

انہوں نے آیت اللہ بروجردی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور کتاب الغصب، کتاب الاجارہ و کتاب الصلاۃ میں ان سے کسب فیض کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے 21 برس کی عمر سید محمد داماد کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور ان سے اصول فقہ کا ایک مکمل دورہ پڑھا۔ سید موسی صدر اور شہید بہشتی کی طرح آپ بھی سید محمد داماد کے تلامذہ میں سے تھے۔

نجف کا سفر

موسی شبیری زنجانی نے 1373 اور 1374 ھ میں دو بار حوزہ علمیہ نجف کا رخ کیا اور وہاں آیت اللہ سید عبد الہادی شیرازی آیت اللہ سید محسن حکیم کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور اسی طرح سے آیت اللہ العظمی خوئی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں بھی شرکت کی۔

درس خارج کی تدریس کا آغاز

آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری 1340 ش سے ہی مدرسہ حقانی قم کے اساتذہ میں سے تھے۔ انہوں نے فقہ میں کتاب الحج کے درس خارج کی تدریس کا سلسلہ 1388 میں اس وقت شروع کیا جب ان کے استاد آیت اللہ محقق داماد حیات تھے اور یہ سلسلہ درس 15 برس تک چلتا رہا۔ ان کا علم اصول کا درس خارج بھی مدتوں درس اصلی کے طور پر چلتا رہا لیکن وہ جاری نہیں رہ سکا۔ البتہ وہ اپنے نکات کو فقہ کے درس خارج کے ضمن میں بیان کر دیتے تھے۔

مرجعیت

آیت اللہ شبیری زنجانی کا شمار ان سات فقہا میں سے ہوتا ہے جن کا اعلان جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی طرف سے آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد 1373 ش میں کیا گیا اور انہیں جایز التقلید قرار دیا گیا تھا۔

علم رجال میں ان کا تبحر، روایات پر ان کی خاص توجہ اور حجیت خبر واحد کا قبول نہ کرنے کو ان کے مخصوص فقہی نظریات میں شمار کیا جاتا ہے۔ آیت اللہ سید محسن حکیم و سید ابو القاسم خوئی کے آرا و نظریات پر خاص توجہ، انسداد باب علم کا نظریہ رکھنا، فقہا کے لئے امور حکومتی میں وسیع اختیارات نہ رکھنے کا قائل ہونا، ان کے دیگر فقہی نظریات کے مبنا میں سے تھے۔

تالیفات 

آیت اللہ سید موسی شبیری نے کتابوں کی تالیف کے علاوہ بعض اہم شیعہ کتب کی تصحیح، تحقیق اور تعلیقہ کا کام بھی انجام دیا ہے۔ ان کی تحقیق میں رجال نجاشی، کتاب اشنائے حق و محمد بید آیادی کے افکار و سلوک پر تعلیقہ۔ ان کے مہم ترین آثار درج ذیل ہیں:

تحقیق رجال نجاشی: رجال نجاشی ان کی تحقیق کے ساتھ 1416 ھ میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے انتشارات کی طرف سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کی تحقیق رجال نجاشی کے 14 معتبر نسخوں سے استفادہ کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے۔

آشنائے حق پر تعلیقہ: آقا محمد بید آبادی کے آثار و احوال، آشنائے حق نامی فارسی کتاب میں علی صدرایی خوئی نے قلم بند کئے ہیں اور آیت اللہ شبیری زنجانی نے اس پر تعلیقات تحریر کئے ہیں۔ یہ کتاب 1391 ش میں انتشارات خویی کی جانب سے طبع ہوئی ہے۔ جبکہ اصل کتاب 1379 ش میں نشر نہاوندی نے شائع کی ہے۔

جرعہ ای از دریا: اس کتاب میں ان کے بعض غیر مطبوعہ و بعض محدود مطبوعہ آثار، طریقیات نامی فصل کے ہمراہ، جن میں ان کے گھر سے حرم حضرت معصومہ (ع) کے راستے میں بیان ہونے والی بعض اقوال شامل ہیں، شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی پہلی فصل میں فارسی کی 14 کتب، مقالات، انٹرویوز اور فارسی کتب پر تعلیقات شامل ہیں۔ اس کی دوسری فصل میں عربی کی آٹھ کتب ہیں جن میں سے زیادہ تر تعلیقات ہیں۔ اس کتاب کی آخری حصہ میں طریقیات ہیں جن میں علمی، تاریخی و اخلاقی نکات ذکر کئے گئے ہیں اور اس میں علما میں سے 40 شخصیات کی سوانح حیات اور ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور موسسہ کتاب شناسی شیعہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ یہ تین جلدی کتاب 1388 ش میں موسسہ کتاب شناسی شیعہ قم کی جانب سے فارسی زبان میں طبع ہوئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، تجزیہ، امیرحسین رجبی معمار: اب طاقت کو صرف طیاروں، میزائلوں، جنگی جہازوں، فوجی اڈوں اور دفاعی بجٹ کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی طاقت کی اہمیت کم ہوگئی ہے؛ بلکہ حالیہ جنگ نے ظاہر کیا ہے کہ فوجی صلاحیت اب بھی بقا کی بنیادی شرط ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ’’طاقت رکھنے‘‘ اور ’’طاقت کو سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنے‘‘ کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجائے۔

28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگ اب ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے اور بدستور جاری ہے۔ اس لیے اس کے حتمی نتیجے کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔ تاہم جنگ کے اختتام سے پہلے ہی اس نے مغربی ایشیاء کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے: جب کوئی فوجی طاقت ایک طویل جنگ میں داخل ہوتی ہے تو وہ اپنے فوجی، اقتصادی اور سیاسی اخراجات کو کب تک برداشت کرتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کرسکتی ہے؟

ایسی لاگت جو اب پوشیدہ نہیں رہی

امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، یکم اگست تک امریکی محکمہ دفاع کے لیے جنگ کے اخراجات 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے تھے اور اگر موجودہ سطح پر جنگ جاری رہی تو ہر ماہ مزید تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ اسی رپورٹ میں امریکہ کے اہم گولہ بارود کے ذخائر اور دفاعی نظاموں پر دباؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار تنہا جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتے، تاہم ایک اہم حقیقت واضح کرتے ہیں: طاقت، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، لامحدود نہیں ہوتی۔ ہر فوجی کارروائی بالآخر وقت، ذخائر، معیشت اور جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کے پیمانے پر پرکھی جاتی ہے۔

فوجی میدان سے فیصلہ سازی کے میدان تک

امریکہ نے ایران کی میزائل اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے جیسے اہداف کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ایسی جنگ میں جو اب بھی جاری ہے، صرف تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد طاقت جانچنے کے لیے کافی معیار نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بالآخر مخالف حریف اپنی سلامتی، خارجہ پالیسی اور مستقبل کے بارے میں حملہ آور کی خواہش کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور ہوتا ہے یا نہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت کا تصور ’’ضرب لگانے کی صلاحیت‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’اثرانداز ہونے کی صلاحیت‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

ایران نے بھی یہ جنگ ایسے حالات میں شروع نہیں کی کہ اقتصادی اور تکنیکی اعتبار سے اس کا امریکہ سے موازنہ کیا جاسکے۔ اس لیے دونوں فریقوں کے ہتھیاروں کے ذخیرے کا محض تقابلی جائزہ حقیقت کے ایک اہم حصے کو نظرانداز کرتا ہے۔ اصل تزویراتی سوال یہ ہے کہ شدید دباؤ کا شکار ایک ملک اپنی جوابی صلاحیت، آزادانہ فیصلہ سازی اور اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی استعداد کو کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے؟

اگر یہ صلاحیت برقرار رہتی ہے تو جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ مخالف فریق کو صرف ایک فوجی ہدف کا سامنا نہیں رہتا بلکہ اسے ایسے ملک سے واسطہ پڑتا ہے جو اب بھی فیصلے کرسکتا ہے، اخراجات عائد کرسکتا ہے، اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرسکتا ہے اور وقت کو بھی جنگ کے حساب میں شامل کرسکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں طاقت صرف میزائل داغنے کے لمحے میں متعین نہیں ہوتی؛ بلکہ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور مخالف فریق کو اپنی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت بھی طاقت کا حصہ بن جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز؛ وہ جغرافیہ جو حکمتِ عملی میں تبدیل ہوگیا

آبنائے ہرمز اس جنگ میں محض ایک آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ جغرافیہ، فوجی طاقت اور عالمی معیشت کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک مثال بن چکی ہے۔ 15 اور 16 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق اس گزرگاہ میں بحری آمدورفت میں شدید کمی کا سلسلہ جاری ہے۔

ہرمز کی اہمیت بالکل یہی ہے۔ ایک جغرافیائی مقام اپنا اثر میدانِ جنگ سے بہت دور موجود توانائی کی قیمتوں، انشورنس، نقل و حمل اور سپلائی سلسلے تک منتقل کرسکتا ہے۔

لہٰذا ہرمز کو صرف ’’جنگ کے وقت دباؤ کے ایک ذریعے‘‘ کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ موجودہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب جغرافیہ فوجی طاقت، توانائی، معیشت اور سفارت کاری سے جڑ جائے تو وہ طاقت کے ڈھانچے کا حصہ بن سکتا ہے۔

باب المندب؛ جب میدانِ جنگ نقشے سے کہیں وسیع ہوجائے

باب المندب بھی مغربی ایشیا کے دوسرے حصے میں اسی منطق کو آگے بڑھاتا ہے۔ یمن میں ہونے والی پیش رفت اور بحیرۂ احمر کے ساحل پر بڑھتی کشیدگی نے ظاہر کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی بھی ایران اور امریکہ کی جنگ میں ہونے والی پیش رفت سے الگ نہیں ہے۔

خلیج فارس کے جنوب میں ہرمز اور بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر باب المندب، ایک دوسرے سے الگ دو مقامات نہیں، بلکہ ایک ہی نیٹ ورک کی دو اہم کڑیاں ہیں۔ اس تناظر میں مغربی ایشیاء اب الگ الگ بحرانوں کا مجموعہ نہیں رہا۔ توانائی، بحری نقل و حمل، فوجی اڈے، معیشت، سفارت کاری اور جغرافیہ ایک زنجیر میں باہم جڑے ہوئے ہیں۔

حالیہ جنگ میں طاقت کے تصور میں شاید یہ سب سے اہم تبدیلیوں میں سے ایک ہے: کسی فریق کی اثراندازی کی صلاحیت کو اب صرف اس کی اپنی جغرافیائی حدود میں نہیں ناپا جاسکتا۔

اگلا مرحلہ؛ جنگ کے تجربے سے مستقبل کے ڈھانچے تک

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن اس کے بعد کے مستقبل کی منصوبہ بندی جنگ کے خاتمے تک مؤخر نہیں کی جاسکتی۔ ایران کے لیے مستقبل کا مسئلہ صرف متاثرہ فوجی سازوسامان کی دوبارہ تعمیر نہیں، بلکہ اس جنگ کے تجربے کو قومی طاقت کے ایک پائیدار اصول میں تبدیل کرنا زیادہ اہم ہے۔

یہ اصول کئی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے: اقتصادی استقامت، اہم صلاحیتوں کی تقسیم اور فوری بحالی، سپلائی سلسلے کو مضبوط بنانا، بازدارندگی کو برقرار رکھنا اور فروغ دینا اور جغرافیائی صلاحیتوں کو اقتصادی و سفارتی وسائل میں تبدیل کرنا۔

مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگلی جنگ میں جواب دینے کی صلاحیت موجود ہو؛ بلکہ اس سے بلند مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی حملہ ملک سے اس کی تزویراتی فیصلہ سازی کا اختیار نہ چھین سکے۔

یہاں سماجی سرمایہ، قومی اتحاد اور ایک قوم کے اعتقادات بھی فوجی تجزیے کے حاشیے سے نکل کر اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ طویل جنگوں میں کسی ملک کو سفر جاری رکھنے کے قابل بنانے والی چیز صرف میزائلوں اور طیاروں کی تعداد نہیں ہوتی؛ بلکہ برداشت، امید، اتحاد اور وہ معنویت بھی ہوتی ہے جو معاشرہ اپنی مزاحمت کو دیتا ہے۔ اس سطح پر الٰہی وعدوں پر یقین کو مادی طاقت کے متبادل کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قوم کی استقامت کے معنوی پشت پناہ کے ایک حصے کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اس کا حتمی نتیجہ واضح نہیں ہے۔ تاہم ایک حقیقت آج ہی دیکھی جاسکتی ہے: مغربی ایشیاء میں مستقبل کی طاقت صرف اس ملک کے پاس نہیں ہوگی جس کے پاس زیادہ ہتھیار ہوں؛ بلکہ طاقت اس فریق کے پاس ہوگی جو فوجی صلاحیت، جغرافیہ، معیشت، استقامت اور سفارت کاری کو ایک مربوط منطق کے تحت استعمال کرسکے، اخراجات عائد کرسکے، اخراجات برداشت کرسکے اور سب سے بڑھ کر اپنی فیصلہ سازی کا اختیار برقرار رکھ سکے۔

اس صورتحال میں وقت بھی محض فرسودگی کا عامل نہیں؛ جس فریق میں استقامت موجود ہو، اس کے لیے وقت طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب کو تبدیل کرسکتا ہے۔

اس تناظر میں حالیہ جنگ صرف فوجی طاقت کا امتحان نہیں، بلکہ یہ امتحان بھی ہے کہ کون جنگ کے تجربے سے مستقبل کے طاقت کے اصول تشکیل دے سکتا ہے۔

اور شاید سب سے اہم فرق یہی ہے: حقیقی طاقت صرف میدانِ جنگ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں، بلکہ میدانِ جنگ کے تجربے کو مستقبل کے ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل محبی نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ جنگ میں دشمن شکست سے دوچار ہوا ہے، تاہم وہ اس شکست کا اعتراف کرنے اور اسے قبول کرنے کی جرأت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی شکست کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ امریکہ اپنے پیشگی طے شدہ اہداف حاصل نہیں کرسکا، جبکہ اس سے بھی اہم پہلو امریکی اسٹریٹجک شکست ہے، جو تاریخی اور غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے۔

جنگ کے نئے مرحلے یا اسی جنگ کے تسلسل سے متعلق سوال کے جواب میں جنرل محبی نے کہا کہ سپاہ پاسداران کے نقطہ نظر سے یہ وہی جنگ ہے جس کے مختلف مراحل ہیں۔ جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے اور سپاہ پاسداران نے طویل المدت جنگ کے لیے خود کو تیار کر رکھا ہے۔ اگر مستقبل میں دوبارہ حملوں میں شدت آتی ہے تو سپاہ دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگی۔

امریکی اندازوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمت کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا اور اسے توقع تھی کہ چند روز میں ایران تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ صہیونی قیادت کی جانب سے بھی امریکی حکام کو یہی تاثر دیا گیا تھا کہ ایران چند روز میں شکست تسلیم کر لے گا۔

جنرل محبی کے مطابق امریکہ ایرانی میزائلوں کی رینج، تباہ کن صلاحیت، درستگی، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت اور ایران کے میزائلوں و ڈرونز کے تنوع سے بھی حیران ہوا اور خود کو ایسی صورتحال میں پایا جہاں اس کے لیے آگے کنواں پیچھے کھائی کی صورتحال تھی۔

 اسماعیل بقائی نے پاکستانی صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ، پاکستان کی حکومت اور عوام، بالخصوص پڑوسی اور مسلم ملک پاکستان سے تعزیت کا اظہار کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی تمام اقسام کی دوٹوک مذمت کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف دہشت گردانہ اور پرتشدد کارروائیوں کا کسی بھی صورت کوئی جواز نہیں۔

اسماعیل بقائی نے خطے کے ممالک کے درمیان دہشت گردی کے مؤثر اور مسلسل مقابلے کے لیے تعاون اور باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رہبر شہید نے امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت نے مؤمنوں کو طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں سے خبردار کیا اور فرمایا:

«أیها المؤمنون لا یفتننکم الطواغیت و أتباعهم.» ’’اے مؤمنو! طاغوت اور اس کے پیروکار تمہیں فریب نہ دیں۔‘‘

بیان میں کہا گیا کہ طاغوت کے پیروکاروں سے مراد صرف اس کے قریبی افراد نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے طاغوت کے پیچھے چلتے ہیں اور اس کے سامنے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔

امام سجاد علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں کی ایک اہم خصوصیت دنیا سے شدید وابستگی ہے۔«مِن أهلِ الرَّغبةِ فی هذه الدنیا» وہ دنیا کی ظاہری دولت، مال، عزت، مقام اور سماجی حیثیت کو بہت اہم سمجھتے ہیں اور اسی کے حصول کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کرتے ہیں «المائلون إلیها»۔

درس میں ’’حُطام‘‘ کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں دنیا کی ظاہری چمک دمک ایک ایسے عارضی سامان کی مانند ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔ مال و دولت، ظاہری عزت اور سماجی اعتبار بھی اسی فانی دنیا کا حصہ ہیں اور انسان کو ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔

اسی طرح ’’ہشیم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت «هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ» کی طرف اشارہ کیا گیا، جس میں دنیا کی مثال ایسے خشک اور بکھرے ہوئے تنکوں سے دی گئی ہے جنہیں ہوا اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہے۔

بیان کے مطابق، طاغوتوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ دنیا کی انہی عارضی اور ظاہری چیزوں کے لیے جدوجہد کرتے ہیں جن کی حقیقت بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ مؤمن کو چاہیے کہ وہ دنیا کی ظاہری شان و شوکت سے متاثر نہ ہو اور طاغوتوں اور ان کے پیروکاروں کے فریب میں نہ آئے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کے پیغام پر سوشل میڈیا پرسخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ" الجزائر کی جنگ آزادی میں فرانس نے 15 لاکھ الجزائری شہریوں کا قتل عام کردیا اور پیرس نے دس فیصد سے بھی کم کا اندراج کیا اور اب تک اپنے سامراجی جرائم پرمعافی مانگنے کے لئے تیار نہیں ہے۔"

 مگرمچھ کے آنسو بہت ہوگئے:

فرانسیسی وزیر خارجہ کے پیغام پر ایران کے وزیر خارجہ کا ردعمل

وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ "مسٹربارو! مگر مچھ کے آنسو بہت ہوچکے۔ جب امریکا نے ہمارے اسکولی بچوں کا قتل عام کیا تو اس پر تمھاری خاموشی نے سب کچھ بیان کردیا۔"

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی مسلح افواج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل کین کے جواب میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ دور، جب آپ کے F-35 اور F-15 جنگی طیاروں کو تباہ کیا جاتا ہے اور آپ یہ رپورٹ دینے پر مجبور ہیں کہ انہیں (جنگی طیاروں کو) جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اب بھی اس چیز کا آغاز ہو چکا ہے: جس چیز کو کبھی محض ایک خوفناک خواب سمجھا جاتا تھا، وہ اب روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ اسے تسلیم کر لیجیے۔

یاد رہے امریکی دہشتگرد افواج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین نے اس سے قبل امریکی فوج کی فضائی، خلائی اور سائبر فورسز کی ایک کانفرنس میں کہا تھا کہ اب ہمیں اس مفروضے کو بنیاد بنانا ہوگا کہ ہماری فوجی یونٹس اور صف بندیوں کو خودکار نظاموں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا، پورے فریکوئنسی اسپیکٹرم میں ان کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا جائے گا اور انہیں لمحہ بہ لمحہ ٹریک کیا جائے گا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد امریکی وزارت جنگ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے زیادہ ہے۔

اخبار نے پانچ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعات ایسے ہیں جو پینٹاگون کے عوامی ڈیٹا بیس میں درج نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ہلاکتیں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ہوئی ہیں، تاہم ان کا اندراج پینٹاگون کے عوامی ریکارڈ میں نہیں کیا گیا۔