سلیمانی

سلیمانی

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیا جانے والا "آپریشن نصر" محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی اور سیاسی معادلات پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم تزویراتی اقدام تھا۔

حالیہ چالیس روزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور بعض امریکی حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور تہران براہِ راست ردعمل دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ تاہم ایران کے میزائل حملوں نے اس تاثر کو چیلنج کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ اس کا عسکری ڈھانچہ بدستور فعال اور مؤثر ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کی جانب بڑے پیمانے پر میزائل فائر کیے جانے سے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ خطے کے سکیورٹی معاملات میں بھی ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

آپریشن نصر مقاومتی محاذ کے اتحاد کا پیغام

رپورٹ کے مطابق آپریشن نصر کا ایک اہم مقصد یہ باور کرانا بھی تھا کہ لبنان کے خلاف جاری جارحیت اور خطے میں بعض حساس سرخ لکیروں کی خلاف ورزی کے نتائج صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہ سکتے۔ اسی وجہ سے اس کارروائی کو مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کے نئے مرحلے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کے اس اقدام نے خطے کے مختلف فریقوں کو یہ پیغام دیا کہ تہران اپنے تزویراتی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی علاقائی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

درحقیقت تہران کا ردعمل اسرائیل کے اسٹریٹجک اندازوں کی واضح ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ تل ابیب کو امید تھی کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں ایران کی عسکری طاقت کمزور ہوجائے گی، لیکن حالیہ واقعات نے ظاہر کر دیا کہ نہ صرف ایران کی میزائل صلاحیت برقرار ہے بلکہ تزویراتی سطح پر تیز رفتار فیصلہ سازی اور عملی کارروائی کی صلاحیت بھی بدستور موجود ہے۔ صہیونی حکومت کے لیے یہ ایک اہم حقیقت ہے، کیونکہ مستقبل کی ہر سکیورٹی اور عسکری منصوبہ بندی کو سیاسی خواہشات کے بجائے ایران کی حقیقی طاقت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دینا ہوگا۔

اس حملے کا دوسرا اہم پیغام مقاومتی محاذ سے متعلق ہے۔ جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملہ دراصل لبنان میں حزب اللہ کے ایک اہم سیاسی اور سماجی مرکز کو نشانہ بنانے کے مترادف تھا۔ ایران کے ردعمل نے یہ ظاہر کیا کہ تہران اب بھی لبنان کے امن و استحکام اور حزب اللہ کی پوزیشن کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مقاومتی محاذ کے مختلف فریقوں کے درمیان دوری پیدا ہونے کے دعوؤں کے باوجود ایران اور حزب اللہ کے درمیان تزویراتی روابط بدستور مضبوط اور مستحکم ہیں۔

بیروت پر حملے کا جواب حیفا میں

اس تناظر میں ایران کے میزائل حملے کی سب سے اہم تزویراتی کامیابی طاقت کے توازن کا قیام ہے۔ کئی برسوں سے صہیونی حکومت لبنان، شام، عراق اور حتی کہ ایران کے خلاف بھی ایسے اقدامات کی کوشش کرتی رہی جن کی براہِ راست قیمت اسے ادا نہ کرنا پڑے۔ تاہم تہران کے حالیہ ردعمل نے یہ پیغام دیا کہ جنوبی بیروت پر کسی بھی جارحیت کا جواب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں براہ راست کارروائی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، جسے بعض اسرائیلی تجزیہ کار بیروت کے بدلے حیفا کی مساوات قرار دیتے ہیں، وہ اب ایک نئی سکیورٹی حقیقت کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایسی مساوات صہیونی حکومت کی عسکری آزادی کو نمایاں طور پر محدود کر سکتی ہے۔ اب لبنان کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی صرف شمالی محاذ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران کے ساتھ وسیع تر تصادم کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس صورتحال نے تل ابیب کے لیے سکیورٹی اور سیاسی فیصلوں کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے اور یہ امر مستقبل میں صہیونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکہ کو پیغام

دوسری جانب ایران کے میزائل حملوں نے امریکہ کے لیے بھی ایک اہم پیغام دیا۔ حالیہ مہینوں میں واشنگٹن نے فوجی دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے مذاکراتی عمل اور علاقائی معاملات میں زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران کے ردعمل نے ظاہر کیا کہ تہران اب بھی اپنی عسکری صلاحیتوں کو سفارتی اور سیاسی معادلات میں ایک مؤثر عنصر کے طور پر استعمال کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

یوں ایران نے یہ پیغام دیا کہ فوجی دباؤ نہ صرف اسے پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی اور علاقائی اخراجات میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے حالیہ میزائل کارروائی کو صرف ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، ڈیٹرنس اور سفارتی معاملات کی ازسرنو تشکیل کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کی دفاعی طاقت کے بارے میں غلط فہمی کا ازالہ

ایک اور قابلِ توجہ پہلو ایران کی عسکری طاقت کی بحالی اور ازسرِ نو فعال کرنے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ جدید جنگوں میں طاقت کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی ملک کسی تنازع یا جنگ کے بعد کتنی تیزی سے اپنی عملی اور دفاعی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کر سکتا ہے۔ حالیہ ردعمل سے ظاہر ہوا کہ ایران نے اس میدان میں قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نسبتاً مختصر مدت میں اپنی میزائل اور کمانڈ صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ امر ایران کے مخالفین کے لیے ایک اہم انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وسیع پیمانے کے تصادم کی صورت میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران کی ڈیٹرنس کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم یا غیر مؤثر بنانا آسان نہیں۔

اس حملے نے ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی عسکری حکمتِ عملی کی حدود کو بھی نمایاں کر دیا۔ غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ماضی کی جنگوں کے تجربات نے اسرائیل کے بعض حلقوں میں یہ تصور پیدا کر دیا تھا کہ مسلسل دباؤ، وقفے وقفے سے حملوں اور طویل تھکا دینے والی حکمت عملی کو ایران کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایران اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان بنیادی فرق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران ایک وسیع جغرافیائی گہرائی، متنوع عسکری صلاحیتوں اور خودمختار دفاعی ڈھانچے کا حامل علاقائی طاقت ہے، اس لیے اس کے خلاف وہی حکمتِ عملی اپنانا جو دیگر محاذوں پر اختیار کی گئی، محدود نتائج ہی دے سکتی ہے۔

آپریشن نصر کی صہیونی پالیسیوں پر ممکنہ اثرات

حالیہ میزائل ردعمل نے علاقائی سطح پر ایران کی ڈیٹرنس کی ساکھ کو بھی تقویت دی ہے۔ خطے کے ممالک حالیہ پیش رفت کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں اور طاقت کے توازن کے بارے میں ان کا اندازہ براہِ راست ان کے سیاسی اور سکیورٹی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے تیز رفتار اور براہِ راست ردعمل کی صلاحیت کا مظاہرہ اس کے علاقائی مقام کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور یہ تاثر اجاگر کرتا ہے کہ تہران اب بھی مغربی ایشیا کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے اہم فریقوں میں شامل ہے۔

صہیونی حکومت کے داخلی منظرنامے میں بھی ان حملوں کے اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی معاشرہ گزشتہ چند ماہ سے متعدد سکیورٹی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرائی تک پہنچنے والے ہر کامیاب میزائل حملے کے ساتھ عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور دفاعی نظاموں کی کارکردگی، حکومتی پالیسیوں اور سکیورٹی حکمتِ عملی کے بارے میں سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران کا حالیہ ردعمل صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ صہیونی حکومت کی قیادت پر سیاسی اور سماجی دباؤ میں اضافے کا ایک اہم عنصر بھی بن سکتا ہے۔

حاصل سخن

مجموعی طور پر جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ایران کے میزائل حملوں کو خطے کے سیکورٹی معاملات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کارروائی نے یہ ظاہر کیا کہ حالیہ چالیس روزہ جنگ ایران کی جوابی صلاحیت کو ختم کرنے میں ناکام رہی اور اسلامی جمہوریہ ایران اب بھی اپنے مخالفین پر کاری وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس آپریشن کے نمایاں نتائج میں طاقت کے نئے توازن کا قیام، اسرائیل کے لیے جارحیت کی بڑھتی ہوئی قیمت، مقاومتی محاذ کی پوزیشن کا مضبوط ہونا، امریکہ کے

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کیا جانے والا "آپریشن نصر" محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کے سکیورٹی اور سیاسی معادلات پر اثر انداز ہونے والا ایک اہم تزویراتی اقدام تھا۔

حالیہ چالیس روزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور بعض امریکی حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور تہران براہِ راست ردعمل دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ تاہم ایران کے میزائل حملوں نے اس تاثر کو چیلنج کرتے ہوئے ظاہر کیا کہ اس کا عسکری ڈھانچہ بدستور فعال اور مؤثر ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کی جانب بڑے پیمانے پر میزائل فائر کیے جانے سے یہ پیغام دیا گیا کہ ایران نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ خطے کے سکیورٹی معاملات میں بھی ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

News ID 1939665

 

"آیہ مباهلہ" (سورہ آل عمران، آیت 61) میں سب سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ مباهلہ کا معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی روشن دلیل ہے کیونکہ جو شخص اپنے پروردگار سے اپنے تعلق پر یقین کامل نہ رکھتا ہو، وہ ایسے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ یعنی وہ اپنے مخالفین کو دعوت دے کہ آؤ ہم خدا کے حضور جائیں اور اس سے دعا کریں کہ جھوٹے کو رسوا کر دے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ میری بددعا مخالفین کے خلاف اثر کرے گی اور تم اس کا نتیجہ دیکھو گے۔

سوال: "آیہ مباہلہ" کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت اور اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت کے اہم ترین دلائل میں سے کیوں شمار کیا جاتا ہے؟

اجمالی جواب:

پہلی بات یہ کہ مباهلہ کا واقعہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت میں حقانیت کی علامت ہے کیونکہ جو شخص اپنے راستے پر یقین کامل نہ رکھتا ہو وہ مباهلہ نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ کہ یہ آیت خدا کے نزدیک اہل بیت علیہم السلام کے مقام کی عظمت پر واضح سند ہے کیونکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میدان میں صرف انہیں اپنے ساتھ لیا اور یہ پوری امت پر ان کی برتری کی نشانی ہے۔

تفصیلی جواب:

"آیہ مباهلہ" (سورہ آل عمران، آیت 61) میں سب سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ مباهلہ کا معاملہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کی روشن دلیل ہے کیونکہ جو شخص اپنے پروردگار سے اپنے تعلق پر یقین کامل نہ رکھتا ہو، وہ ایسے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ یعنی وہ اپنے مخالفین کو دعوت دے کہ آؤ ہم خدا کے حضور جائیں اور اس سے دعا کریں کہ جھوٹے کو رسوا کر دے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ میری بددعا مخالفین کے خلاف اثر کرے گی اور تم اس کا نتیجہ دیکھو گے۔

یقیناً ایسے میدان میں قدم رکھنا بہت خطرناک ہے کیونکہ اگر بددعا قبول نہ ہوئی اور مخالفین پر عذاب کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا تو نتیجہ دعوت دینے والے کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور کوئی عقل مند انسان بغیر یقین کے اس میدان میں قدم نہیں رکھتا۔

اسی لیے اسلامی روایات میں ہے کہ جب مباهلہ کا وقت آیا تو نجران کے عیسائیوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مہلت مانگی تاکہ غور کریں اور جب انہوں نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ان خاص لوگوں کو لے کر آئے ہیں جن کی دعا قبول ہو سکتی ہے اور بغیر کسی ہنگامے اور تکلفات کے میدان مباهلہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے اسے آپ کی دعوت کی سچائی کی ایک اور دلیل سمجھا اور مباهلہ سے باز رہے، مبادا خدا کے عذاب میں گرفتار ہو جائیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چند خاص قریبی افراد، چھوٹے بچوں اور اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو لے کر مقررہ مقام پر آئے ہیں تو وہ سخت گھبرا گئے اور صلح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔

دوسری طرف، یہ آیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت یعنی امام علی، حضرت فاطمہ ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے بلند مقام کی روشن سند ہے کیونکہ اس آیت میں تین الفاظ آئے ہیں: "اَنْفُسَنا" (ہماری جانوں کو)، "نِسائَنا" (ہماری عورتوں کو)، اور "اَبْنائَنا" (ہمارے بیٹوں کو)۔ بلاشبہ "اَبْنائَنا" سے مراد امام حسن و امام حسین علیہما السلام ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ "نِسائَنا" کسی پر بھی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سوا منطبق نہیں ہوتا۔ رہا "اَنْفُسَنا"، تو یقیناً اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مراد نہیں کیونکہ آیت کہتی ہے: «نَدْعُ ... وَ انْفُسَنا»"ہم پکاریں... اور اپنے نفسوں کو" اگر اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہوتے تو انسان کا خود کو پکارنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ لہٰذا کوئی راستہ نہیں بچتا مگر یہ کہ کہا جائے کہ اس سے مراد صرف علی علیہ السلام ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ فخر رازی نے اس آیت کے تحت محمود بن حسن الحمصی (جو شیعہ علماء میں سے تھے) سے ایک قول نقل کیا ہے کہ وہ اس آیت سے ثابت کرتے تھے کہ علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام انبیاء اور تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ وہ کہتے تھے: "انسان کا خود کو پکارنا اور اپنے آپ کو کسی کام کے لیے بلانا ممکن نہیں۔ لہٰذا 'اَنْفُسَنا' سے مراد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی اور ہے اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کے ساتھ علی علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ چنانچہ آیت کہتی ہے: 'علی علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفس و جان کے مقام پر ہیں'، یقیناً وہ بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نہیں ہیں لیکن نبوت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر شخص پر برتری کے علاوہ دیگر تمام پہلوؤں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند ہیں۔"

نیز ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء سے افضل تھے لہٰذا علی علیہ السلام بھی افضل ہونا چاہیے۔ پھر وہ اس حدیث سے استناد کرتے ہیں جسے دوست اور دشمن دونوں نے قبول کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ اَرادَ اَنْ یَرَی آدَمَ فی عِلْمِهِ وَ نُوحاً فی طاعَتِهِ وَ اِبْراهیمَ فی خُلَّتِهِ وَ مُوسی فی هَیْبَتِهِ وَ عَیسی فی صَفْوَتِهِ، فَلْیَنْظُر اِلی عَلِیِّ بْنِ اَبیطالِب(علیه السلام)»؛ "جو کوئی آدم علیہ السلام کو ان کے علم میں، نوح علیہ السلام کو ان کی اطاعت میں، ابراہیم علیہ السلام کو ان کی خلّت (دوستی) میں، موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ہیبت میں اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی صفوت (پاکیزگی) میں دیکھنا چاہے تو وہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طرف دیکھے!"

فخر رازی اس قول کے بعد کہتے ہیں: "دوسرے شیعہ بھی ماضی و حال میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفس و جان کے مانند ہیں، سوائے ان خصوصیات کے جن کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دلیل ثابت کرتی ہے اور یہ مسلّم ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام صحابہ سے افضل تھے، پس علی علیہ السلام بھی افضل ہونے چاہیے۔" (مفاتیح الغیب، فخرالدین رازی، ابو عبد الله محمد بن عمر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، چاپ سوم، ۱۴۲۰ ق، ج ‏۸، ص ۲۴۸،(سوره آل‏ عمران، آیه ۶۱).

بہر حال، اس آیت کریمہ اور اس کے تحت آنے والی متواتر احادیث سے جو فضیلت حاصل ہوتی ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت اور جانشینی کے معاملے کو مزید واضح کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کبھی راضی نہیں ہوتا کہ افضل اور برتر شخص ماموم ہو اور غیر افضل امام ہو۔ جو شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان اور نفس کی طرح ہے وہ پیرو ہو اور دوسرے جو بعد کے درجات پر ہوں وہ پیشوا ہوں!

اس معاملے میں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم امامت کو اللہ کے نصب پر موقوف سمجھیں (جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے) یا لوگوں کے انتخاب پر (جیسا کہ برادرانِ اہل سنت کا عقیدہ ہے) کیونکہ پہلی صورت میں اللہ کبھی مفضول کو افضل پر مقدم نہیں کرے گا اور دوسری صورت میں بھی لوگوں کو حکمت کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے، اگر کریں تو وہ پسندیدہ اور مقبول نہیں ہوگا۔ (از کتاب: پیام قرآن، مکارم شیرازی، ناصر، دارالکتب الاسلامیه، تهران، ۱۳۸۶ش، چاپ ششم، ج ۹، ص ۲۴۹.)

 اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے   سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ایک  پیغام جاری کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ سینتالیس سال اور سودن کی مقاومت نے ، میدان جنگ سے شہروں کے چوراہوں تک اور شہروں کے چوراہوں سے سیاست اور سفارتکاری کے میدان تک، ہر جگہ حالات دگر گوں کردیئے ہیں۔

 انھوں نے لکھا ہے کہ معتبری دھمکی کی جستجو واشنگٹن اور تل ابیب کے علاوہ کہیں اور کی جائے۔

 ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری  نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور صیہونی حکومت کے شیطانی اتحاد  نے ایک بار اور جارحانہ حماقت کی تو یہ علاقہ ان کے لئے جہنم میں تبدیل کردیا جائے گا۔

 شہدائے ضاحیہ کو سلام

ارنا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے تہران کی اوپن اسلامی یونیورسٹی میں ایک نشست میں صیہونی حکومت کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا ایران کی مسلح افواج کی جانب سے جواب دیئے جانے کی وضاحت کی۔

انھوں نے اوپن اسلامی یونیورسٹی کی سماجی، مواصلاتی اور ابلاغیاتی علوم کی فیکلٹی میں منعقدہ نشست سے خطاب میں کہا کہ  ایران کی مسلح افواج نے صیہونی دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا محکم جواب دیا ہے۔

 انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کی ہر جارحیت اور خلاف ورزی کا سخت ترین جواب دینا چاہئے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے کہا کہ  ثقافتی، سماجی اور ابلاغیاتی میدانوں میں بھی مقابلہ صرف ابلاغیاتی میدان میں سرگرم لوگوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ عوام بھی اس میں بھر پور حصہ لیں۔

انھوں نے کہا کہ آج آبنائے ہرمزکے کنٹرول کے تعلق سے جو کام کئے جارہے ہیں اور اسی طرح بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جو اقدامات انجام پارہے ہیں، وہ آئندہ بھی جاری رہیں گے اور ہم بحیرہ احمر کو دشمن کے لئے زیادہ سرخ بنادیں گے۔  

 ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے پیر کے روز جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت کا جواب مزید شدت اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج، جن میں پاسداران انقلاب اور بری فوج شامل ہیں، نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی اعلیٰ ترین تیاری کی سطح پر ہیں اور اپنے وعدوں پر تیزی اور انتہائی درستگی کے ساتھ عمل کرتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف آپریشنز کے نئے مرحلے میں دشمن کو بھاری، ٹارگٹڈ، دانشمندانہ اور کاری ضربیں لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو ایرانی افواج کی ایک کامیاب فوجی کارروائی قرار دیا۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اور باوقار ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں ہر قسم کے حالات اور ہر خطرے کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گی اور ایسے دشمنوں کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کریں گی جو پہلے ہی جنگ میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایرانی فوجی ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ اگر جارحیت اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

 الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی ساتویں لہر نے اسرائیل پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور مقبوضہ علاقوں کے مختلف حصوں میں غیر معمولی ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حیفا، الجلیل، گولان، گریٹر تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جسے مبصرین نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سب سے بڑی عسکری پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسرائیلی داخلی محاذ کی کمان نے ہنگامی حالت کے تمام پروٹوکول دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔ اسپتالوں کو مکمل ایمرجنسی 4پر منتقل کر دیا گیا ہے، تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور نجی کمپنیوں و اداروں کو اپنی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق فضائی نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کے سائرن فعال ہونے کے باعث متعدد مسافر طیارے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر لینڈ نہ کر سکے اور انہیں اپنے راستے تبدیل کرنا پڑے۔

رام اللہ میں الجزیرہ کے بیورو چیف ولید العمری نے بتایا کہ مقبوضہ فلسطین کی تقریباً ایک کروڑ آبادی میں سے آٹھ ملین کے قریب افراد، جو کل آبادی کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتے ہیں، فوری طور پر پناہ گاہوں اور محفوظ کمروں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے گزشتہ حملوں کے بھی زمینی اثرات دیکھے گئے۔ ایک میزائل نابلس کے قریب ایتمار بستی میں گرا، جبکہ ایک اور میزائل اریحا اور بحیرہ مردار کے درمیان شمال مغربی علاقے میں آ کر گرا۔ اسی طرح میزائلوں کے ٹکڑے بیت شیمش کے علاقے میں بھی گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے سابقہ حملوں میں دیمونا، بئر السبع اور بحیرہ مردار کے جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے اشدود کے قریب سات میزائلوں کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں تباہ کر دیا۔

الجزیرہ نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ایرانی حملوں کے جواب میں تحمل سے کام لینے کی درخواست کی، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے اس مشورے کو خاطر میں نہیں لایا۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے گزشتہ شب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے تین مرتبہ گفتگو کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ عسکری اور آپریشنل تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس ادارے نے پیر کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک پیغام میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے خلاف حالیہ فوجی، سکیورٹی اور سائبر کارروائیاں مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ زمینی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق گزشتہ شب مقبوضہ علاقوں کے خلاف فوجی، سکیورٹی اور سائبر محاذوں پر شدید اور تیز رفتار ضربیں لگائی گئیں، جن کے نتائج انتہائی مؤثر رہے۔

پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے ان کارروائیوں کی کامیابی کو سوفیصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیے گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا، مزاحمت کی سو راتیں، سلامتی کے سو سال۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان پر اسرائیلی حملوں اور 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیلی فوجی اہداف کے خلاف متعدد جوابی کارروائیاں انجام دی ہیں۔

 

، خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے بند نہ کیے تو اسے پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپنے بیان میں کمانڈر نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور امریکہ کی حمایت و بین الاقوامی خاموشی کے سائے میں لبنانی عوام کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں، خصوصا فاسفورس بموں، کے استعمال کو جنگی جرائم قرار دیا۔

کمانڈر کے مطابق ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ بیروت کے جنوبی مضافات ضاحیہ کے خلاف فوجی کارروائیوں میں توسیع ناقابل قبول ہوگی، تاہم اسرائیل نے ان انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا، جسے تمام سرخ لکیروں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ ضاحیہ پر حملوں میں توسیع کی صورت میں مقبوضہ علاقوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

کمانڈر نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج فوری طور پر جنوبی لبنان اور ضاحیہ پر حملے بند کرے، کیونکہ اس علاقے میں کسی بھی نئی کشیدگی یا ایران کی جوابی کارروائی کے خلاف کسی ردعمل کا جواب زیادہ طاقتور اور دور رس حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع کیا جاسکتا ہے۔

- امام خمینیؒ کی فکر ایران کی جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہمیشہ عالمِ اسلام میں ایک متحرک اور اثر انگیز عنصر کے طور پر پہچانی جاتی رہی ہے۔ لیکن وہ کون سی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر فلسطین کے مسئلے سے لے کر عالمی استکبار کے مقابلے تک، اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک فکری و سیاسی رہنما کے طور پر امام راحل کا نقطۂ نظر نمایاں ہوا؟ لبنان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ممتاز شخصیت شیخ غازی حنینہ نے ایکنا سے گفتگو میں امام خمینیؒ کی شخصیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق امام راحل ایک ایسے رہبر تھے جنہوں نے بصیرت اور ایمان کو یکجا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کی وحدت اور شناخت کی بحالی کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا۔

لبنان کے "تجمع علمائے مسلمین" کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ امام خمینیؒ نظریات، افکار، بصیرت، طرزِ فکر اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت تھے۔ وہ اپنے مؤقف میں دلیر اور ثابت قدم، جبکہ اپنی بصیرت میں نہایت روشن خیال تھے اور ایران، خطے اور دنیا کے حالات و نتائج سے پوری طرح آگاہ تھے۔

"شیطانِ بزرگ" کا مقابلہ؛ امام راحل کی استقلال پسندی کا ورثہ

شیخ حنینہ نے امام خمینیؒ کی سیاسی شخصیت کے بارے میں کہا کہ اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو امریکہ کے بارے میں ان کا مؤقف انتہائی مضبوط اور جرات مندانہ تھا، جب انہوں نے امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیا۔ امام راحل کا یہ معروف قول بھی ہے کہ: "اگر فرض کریں کہ امریکہ سو فیصد اسلامی اور انسانی منصوبہ بھی پیش کرے، تب بھی ہم یقین نہیں کریں گے کہ وہ امن اور ہمارے مفادات کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل 'لا الٰہ الا اللہ' بھی کہیں تو ہم ان پر اعتماد نہیں کریں گے، کیونکہ وہ ہمیں دھوکا دینا چاہتے ہیں۔" ان کے مطابق جو شخص امریکہ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، وہ گویا کوئلہ فروش سے سودا کرتا ہے، جس کا نتیجہ صرف چہرہ سیاہ ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سطح پر بھی امام خمینیؒ نے فلسطین کے مسئلے کو نہایت اہمیت دی اور اسے ایک مرکزی نکتہ قرار دیا، جس کے ذریعے عرب خطے اور پورے عالمِ اسلام میں امتِ مسلمہ کی بیداری اور احیاء ممکن ہے۔

شیخ حنینہ نے ایران کے اندر امام خمینیؒ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام راحل ایرانی عوام کی وحدت، یکجہتی اور اسلامی شناخت پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اسلام ہی قوم کی نجات اور اس کے مسائل کا حقیقی حل ہے۔ وہ ایسا خالص اور روشن اسلام پیش کرتے تھے جو ایرانی معاشرے کے تمام طبقات اور اقلیتوں، جن میں یہودی، زرتشتی اور مسیحی شامل ہیں، کے حقوق اور خصوصیات کا احترام کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امام خمینیؒ کی شخصیت میں دینی، عرفانی اور سیاسی پہلو ایک ساتھ جمع تھے۔ ہم سب کو یاد ہے کہ اسلامی انقلاب ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں برپا ہوا اور انہوں نے داخلی میدان میں "شیطانِ بزرگ" اور مغرب کی دشمنی کے باوجود اسلامی جمہوریہ کو آگے بڑھایا۔ اس وقت امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مخالف تھا، سوویت یونین بھی اس کے خلاف تھا اور بیشتر عرب ممالک ایران سے متصادم تھے، سوائے شام کے جس پر اس وقت حافظ الاسد کی حکومت تھی۔ ایسے ماحول میں امام راحل نے ایک ایسا نعرہ پیش کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

شیخ حنینہ کے مطابق امام خمینیؒ کا نعرہ "نہ شرقی، نہ غربی" اس حقیقت کا اظہار تھا کہ ان کی حکومت کی فکر، بنیادیں، ثقافت اور صلاحیتیں نہ مشرق سے اخذ کی گئی تھیں اور نہ مغرب سے، بلکہ اسلام اور ایران کی مہذب عوام سے ماخوذ تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس نعرے نے عرب اور اسلامی دنیا میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوان امریکہ اور سوویت یونین دونوں کے اثر و رسوخ سے ہٹ کر ایک آزاد راستہ تلاش کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے مختلف اسلامی تحریکیں، جن میں اخوان المسلمون، حزب التحریر اور دیگر جماعتیں شامل تھیں، امام خمینیؒ کے مؤقف سے متاثر ہوئیں۔ بالخصوص لبنان میں امام راحل کے افکار کو بڑی پذیرائی ملی، کیونکہ لبنانی معاشرہ سیاسی، فکری اور ابلاغی اعتبار سے کھلا اور متحرک تھا۔ چنانچہ خطے کی اسلامی تحریکیں عمومی طور پر اور لبنان کی تحریکیں خصوصی طور پر امام خمینیؒ کے افکار اور سیاسی نظریات سے متاثر ہوئیں۔

اسلامی وحدت کے میدان میں امامؒ کی فکر کا پائیدار ورثہ

شیخ حنینہ نے زور دے کر کہا کہ امام خمینیؒ وحدتِ اسلامی کی اہمیت کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے، کیونکہ اسلامی وحدت ایک الٰہی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو" (الانبیاء: 92)۔ اسی طرح فرمایا: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ" (الحجرات: 10)۔ نیز ارشاد ہوتا ہے: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو" (آل عمران: 103)۔

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے بھی امت کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے باہمی تعاون کا حکم دیا۔ اسی تناظر میں قرآن مجید فرماتا ہے: "بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں" (الصف: 4)۔

شیخ حنینہ نے مزید کہا کہ امام خمینیؒ نے شرعی ذمہ داری اور امت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی وحدت کا منصوبہ پیش کیا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 12 سے 17 ربیع الاول کے درمیان کے ایام کو "ہفتۂ وحدت" کا نام دیا، کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت کے بارے میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کی دو مختلف تاریخیں موجود ہیں۔ امام نے ان دونوں تاریخوں کے درمیان کے ایام کو وحدتِ اسلامی کی علامت قرار دے کر امت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا آغاز ایسے دور میں ہوا جب سیاسی، فکری اور ثقافتی حالات مسلسل تبدیلی سے گزر رہے تھے۔ اس کے بعد بہت سے مسلمانوں نے "وحدتِ اسلامی" کے تصور کو اپنانا شروع کیا۔

آخر میں شیخ غازی حنینہ نے کہا کہ آج ہم اسلامی وحدت اور باہمی ہم آہنگی کے تصورات کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع سطح پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ امر آج مزاحمتی محاذوں میں "وحدتِ میدان" (وحدتِ ساحات) کے تصور میں بھی نمایاں ہے۔ ان کے بقول امام خمینیؒ کی پیش کردہ اسلامی وحدت، جو قرآن اور سنتِ رسول ﷺ سے ماخوذ ہے، آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ قبول، مؤثر اور مستقبل کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے۔/

 

ایکنا: ایام غدیر کے قریب آنے پرحرم علوی کے متبرک پرچم تھران کے طالقاتی پارک میں غدیری پرچم لہرایا گیا جہاں اعلی ثقافتی شخصیات شریک تھیں۔