سلیمانی
دفاعِ مقدس؛ ایرانی قوم کی استقامت سرفرازی اور سربلندی کی تاریخ
دفاعِ مقدس، ایرانی قوم کی استقامت، مردانگی، دین سے وابستگی اور محبت کا وہ روشن نقش ہے جو ہمیشہ اس قوم کی سربلندی و سرفرازی کا تاج بن کر اقوامِ عالم کے سامنے اس کی عظمت و وقار کی داستان سناتا رہے گا۔
آٹھ سال تک صدام، خلیجی ریاستوں، امریکا اور دنیا کی دیگر طاقتوں کی پشت پناہی کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ لڑتا رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں ایران کے غیور، دیندار اور مؤمن جوان تھے؛ ایسے جیالے جو صرف اپنی ایمانی قوت اور اللہ تعالیٰ کی مدد پر توکل رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی سرزمین، اپنے وطن اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے دفاع میں آٹھ سال تک ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹایا اور استقامت و ایثار کی ایک لازوال تاریخ رقم کردی۔
قائدِ انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای (رح) نے ہفتۂ دفاعِ مقدس کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا:
ملتِ ایران کا آٹھ سالہ دفاع، عظمتوں اور جلال و جمال کے جلووں کا ایک پرشکوہ سلسلہ ہے؛ ایسا سلسلہ جسے ایک قوم اپنی تاریخ کی جلوہ گاہ میں پیش کرسکتی ہے۔ تاہم شہید اور شہادت وہ درخشاں اور خیرہکن نگینہ ہے جو اس حیرت انگیز مجموعے میں دوسری تمام چیزوں سے زیادہ نمایاں اور گراں قدر دکھائی دیتا ہے۔
یہ نمایاں حیثیت ان لوگوں کے پرخلوص انسانی ایثار کا ثمرہ ہے جنہوں نے اپنی ذات اور اپنی مادی زندگی کے تمام پہلوؤں کو رضائے پروردگار کی خاطر نظرانداز کرتے ہوئے اپنا سب کچھ اس پرافتخار راستے میں نثار کردیا۔
شہیدوں کے اہلِ خانہ—باپ، مائیں، بیویاں، بچے اور دیگر اعزہ—سب اس روحانی افتخار و وقار میں شریک ہیں۔انسانی معاشروں کی ان عظیم ہستیوں پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور بندگانِ صالح کا سلام ہو۔» (۱)
ماخذ
(۱) ۳ مہر ۱۳۹۳ ہجری شمسی، مطابق 25 ستمبر 2014ء۔
آبنائے ہرمز نہ صرف بند ہے بلکہ امریکی آبدوز نما ڈرونز کی شکارگاہ ہے، جنرل محبی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف کھلی نہیں بلکہ امریکی زیرآب ڈرونز کی بحریہ کی شکارگاہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا شکار بھی پکڑ لیا گیا ہے، اور اس بار Mk 18 Mod 2 Kingfish کو قبضے میں لیا گیا ہے، جو ایک جدید اور خودمختار AUV (Autonomous Underwater Vehicle) ہے، جو سونار اور جدید نیویگیشن نظام سے لیس ہے اور اس کی مالیت کئی ملین ڈالر ہے۔
جنرل محبی نے کہا کہ یہ صرف ایک شکار نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کی صورت میں حاصل ہونے والی ایک اہم غنیمت بھی ہے۔
یمن میں انصاراللہ کی بڑی کامیابی
یمن کی مستعفی حکومت کے چار فوجی ذرائع نے آج جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ انصاراللہ نے تاریخی اور ساحلی شہر المخا پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ المخا پر قبضے کے بعد آبنائے باب المندب پر جوعالمی جہاز رانی کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، انصاراللہ کا کنٹرول مکمل ہوجانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
یمن کی مستعفی حکومت کے ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کردی ہے کہ انصاراللہ کے جوانوں نے، بحیرہ احمر کے اسٹریٹیجک جزائر حنیش پر حملے شروع کردیئے ہیں۔
دوسری طرف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی افواج پیچھے ہٹ کر جنوب اور باب المندب کے قریب واقع شہر ذوباب کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں یمن کی قومی فوج اور سعودی عرب سے وابستہ حکومت کے حامی اتحاد کے فوجیوں کے درمیان جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے اور جنگ کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جس سے عالمی سطح پر توانائی کی سلامتی اور ثبات کے خطرے میں پڑجانے کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔
شہید سید حسن نصراللہ کی برسی پر ایران کے وزیر خارجہ کا پیغام
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی پراپنے پیغام میں کہا ہے جن ہستیوں کی جڑیں اقوام کی تاریخ میں ہوتی ہیں، ان کے افکار ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے:
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
ولاتجسبنّ الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاّ بل احیاء عند ربّھم یرزقون
اس مرد مجاہد کی شہادت کو دوسال ہورہے ہیں جس کا نام لبنان اور مغربی ایشیا کی تاریخ نیز ناجائز قبضے کے خاتمے کے لئے مجاہدت اورعلاقے کی اقوام کی کرامت، عزت اوراقتدار اعلی کے دفاع کے لئے کئی عشروں کی مجاہدت سے جڑا ہوا ہے۔ حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ علاقے کے سیاسی تغیرات میں برسوں نمایاں کردار ادا کرنے کے بعد،جرائم پیشہ صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہوگئے۔
یہ وہ ہستی تھی جس نے علاقے کے بحرانوں اور جنگ اور قبضے کے دوران سیاست سیکھی اور وہ اس یقین پر قائم تھے کہ کسی بھی قوم کو، طاقت، دھمکی اور رعب وحشت کے ذریعے ہمیشہ اس کے حق حکمرانی، عزت اور حق خود اختیاری سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کا نام کسی جماعت یا سیاسی تحریک سے ماورا تھا علاقے کی معاصر تاریخ میں، صیہونی حکومت کے ناجائز قبضے اور جرائم کے مقابلے میں استقامت و مقاومت کے عنوان سے ہمیشہ باقی رہے گا۔
ان کی شہادت اگرچہ حزب اللہ، لبنان اور دنیا کے سبھی حریت پسندوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے لیکن اس نے ایک بارپھر یہ تاریخی حقیقت ثابت کردی کہ ان انسانوں کے ختم ہونے سے ان کے افکار واقدار ہرگز ختم نہيں ہوتے کہ جن کی جڑیں اقوام کی تاریخ میں ہوتی ہیں۔
لبنان، فلسطین اور علاقے کی تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ بنیادی سیاسی اور تاریخی مسائل کو شخصیات کے قتل،انہیں ختم کرکے اور رعب ووحشت کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ کسی بھی قوم کو اس کے لیڈران اور عظیم ہستیوں کوختم کرکے، اپنے حقوق اور کرامت کے مطالبے سے منصرف نہیں کیا جاسکتا۔
سید مقاومت کی شہادت کے بعد، دشوار حالات میں، شیخ نعیم قاسم کی جانب سے حزب اللہ کی قیادت کی سنگین ذمہ داری قبول کیا جانا، مقاومت اور حق کے مطالبے کی تحریک جاری رہنے کا ثبوت ہے۔
شیخ نعیم قاسم کی قیادت کے دور نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اصول پر یقین، سخت ترین اور پیچیدہ ترین حالات میں بھی استقامت، ثابت قدمی اور اپنے راستے پر پائیدار رہنے کی بنیاد ہوسکتا ہے۔
شہید سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی پر ہم انہیں اور سبھی شہدائے حزب اللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور شہیدوں کے لواحقین نیز لبنان کے باشرف عوام اور ان سبھی لوگوں کو تعزیت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین کی آزادی وخودمختاری اور عزت وشرف کے لئے ثابت قدمی کے ساتھ استقامت جاری رکھی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے گزشتہ روز ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرآبی گاڑی (UUV) REMUS 600 کو اپنے قبضے میں لینے کا اعلان کیا۔
الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے گزشتہ روز ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرآبی گاڑی (UUV) REMUS 600 کو اپنے قبضے میں لینے کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون امریکی زیرآبی جاسوسی کے اہم آلات میں شمار ہوتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق REMUS 600 تقریباً چار میٹر طویل ہے اور 600 میٹر تک گہرائی میں زیر آب کارروائیاں انجام دے سکتا ہے۔ یہ زیرآبی ڈرون بحری جہازوں کی نگرانی اور اسکورت، سمندری بارودی سرنگوں کی تلاش اور ان کے مقام کا تعین، تصاویر بھیجنے اور آبنائے ہرمز میں معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام GPS کی مدد سے مسلسل 70 گھنٹے تک زیر آب آپریشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے قبل ایران نے 8 ستمبر کو ایک اور امریکی زیرآبی ڈرون Dive LD کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا، جو 6 ہزار میٹر تک گہرائی میں زیر آب جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے دوسرے زیرآبی ڈرون کو پکڑ لیا ہے۔ یہ ڈرون جدید اور ذہین زیرآبی نظام REMUS 600 ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سپاہ کی بحریہ کے اہلکاروں نے خدا کی مدد سے ایک مربوط اور پیچیدہ کارروائی کے دوران، انٹیلی جنس نگرانی اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، ایک جدید امریکی زیرآبی ڈرون کو قابو میں لے لیا جو آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے لیے سرگرم تھا۔
سپاہ کے مطابق REMUS 600 کو غنیمت کے طور پر قبضے میں لینے کے بعد اس وقت بحریہ کے ماہرین کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ اور بازیابی کی جا سکے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس آبنائے میں خطرناک سرگرمیوں اور غیر مجاز راستوں سے آمدورفت کے خلاف کارروائی پوری قوت کے ساتھ بلاوقفہ جاری ہے۔
دشمن ایران کو ماضی کی ذلت و وابستگی کی طرف واپس نہیں لے جا سکتا
رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ایران پر مسلط کی گئی پہلی جنگ کے ابتدائی ایام اور ایرانی قوم کے آٹھ سالہ اور لازوال دفاع کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تسلط پسند طاقتوں نے انقلاب کی پہلی دہائی میں جنگ مسلط کرکے ایران کو پسماندگی، ’’ذلت و خواری‘‘، وابستگی اور بدنامی کے دور میں واپس لے جانے کی کوشش کی، تاہم ان کی وسیع کوششوں کے باوجود، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ مضبوط اور توانا ہو کر، زیادہ بلند آواز اور بلند پرواز کے ساتھ ققنوس کی طرح دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے بعد کے واقعات میں بھی اس نظام کی یہی مستقل خصوصیت برقرار رہی اور اب دشمن کے دباؤ، بالخصوص حالیہ مسلط کردہ دونوں جنگوں کے نتیجے میں یہ ققنوس اس قدر بڑا ہوچکا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔
رہبرِ انقلابِ اسلامی نے عرب دنیا کے عظیم مجاہد اور مزاحمتی محاذ کی بڑی علامت، شہید سید حسن نصر اللہ کی دوسری برسی اور حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم اور مجاہدین کی عاشورائی مزاحمت و مجاہدت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے یہ ایام تمام مزاحمتی مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعثِ افتخار دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر شرمندگی کا باعث ہیں جنہوں نے صیہونی دشمن کے مقابلے میں اپنی امیدیں تسلط پسند طاقتوں اور اپنے بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔
رہبرِ انقلابِ اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
وَ لَقَدْ اَرسَلنْا موسى بِایاتِنا اَنْ اَخرِجْ قَومَکَ مِنَ الظُّلُماتِ اِلی النّورِ وَ ذَکِّرْهُم بِاَیّامِ الله
مہر مہینے کے ابتدائی دن، ایام اللّٰہ اور ایرانی قوم کے پہلی مسلط کردہ جنگ میں آٹھ سالہ شجاعانہ اور لازوال دفاع کے عظیم واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔ ان دنوں ایران کی سرزمین پر انقلاب کے سورج کی گرم کرنیں قومی یکجہتی اور انقلاب اسلامی کے مکتب و نظریے سے وفاداری کا خوشگوار احساس پھیلا رہی تھیں، جس کے نتیجے میں پرانی اور نئی تسلط پسندی و استعمار کی برف پگھل رہی تھی۔
ان دنوں ایران کے بعض لوگوں کو اس سے بیس سے زائد سال قبل استعمار گروں کی بدخواہی، تیل کی صنعت کو قومیت سے جوڑنے کے واقعات اور امریکی حمایت یافتہ بغاوت کی یادیں تھیں۔ بعض نے ان واقعات کی خبریں سنی تھیں اور بہت سے لوگ اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کرچکے تھے کہ غیر ملکی تسلط نے ہمارے ملک کے معاملات کے ساتھ کیا کچھ کیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کے دن تاریک تھے؛ استکباری حکومتوں کے سفیر ایران کے بادشاہ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس کے احکامات دیتے تھے اور وہ خواہش یا بے دلی سے ان پر عمل کرتا تھا، یہاں تک کہ حضرت امام خمینیؒ کی قیادت میں ایرانی قوم کے عظیم انقلاب نے اس نظام کو تہس نہس کردیا۔
انقلاب کے نتیجے میں وہ تاریک دن اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے روشن دنوں میں بدل گئے۔ یہ امر ان تسلط پسندوں کے لیے بہت گراں تھا جنہوں نے اس سرزمین کی دولت پر نظریں جما رکھی تھیں اور اسے اپنے قبضے میں لینے کے لیے برسوں اس کے عوام کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیاں کی تھیں۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایرانی انقلابی قوم کے تیز بہتے دھارے کو دوبارہ سابقہ سمت میں موڑنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں اور پہلی مسلط کردہ جنگ، اسلامی جمہوریہ کی مبارک حیات کی پہلی دہائی میں ان کی سب سے اہم کارروائی تھی۔
اس جنگ کی آگ سے، جو عوام دشمن بعث پارٹی نے چند روزہ جنگ اور آسان فتح کے وہم میں بھڑکائی تھی، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ توانا اور مضبوط ہوکر ققنوس کی مانند بلند ہوا؛ ایسی آواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند اور ایسی پرواز کے ساتھ جو پہلے سے زیادہ بلند تھی اور دشمن کی جانب سے پیدا کیے گئے بعد کے واقعات میں بھی اس نظام کی یہی مستقل خصوصیت برقرار رہی۔
وہ دن جب دشمن نے اس قوم پر اپنے نوکروں کو مسلط کرکے استعمار کی ایک نئی شکل نافذ کر رکھی تھی، انقلاب اور مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلام و جہاد کا پرچم بلند کرنے کی برکت سے ایسے باافتخار دنوں میں بدل گئے کہ آج 38 سال گزرنے کے بعد بھی ان واقعات کی ایک ایک تفصیل اور ان کے بچ جانے والے افراد کی سچی روایات کا جائزہ لینے سے ایسے نمونے سامنے آتے ہیں جو عبادت، شجاعت، مزاحمت، اخلاق اور انسانیت کا درس دیتے ہیں اور ہمارے ملک کی تاریخ کے ماتھے پر روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں۔
وہ دن جب تسلط پسند نظام کے پیروکاروں کی جارحیت کے آغاز میں ہمارا ملک اپنے دفاع کے لیے بہت سے خطرات کے مقابلے میں طاغوتی نظام سے خالی ہاتھ ورثے میں پائی جانے والی حالت کے ساتھ کھڑا تھا، حق کے قیام اور الٰہی مدد کی برکت سے اب ایسے دنوں تک پہنچ چکا ہے کہ خود تسلط پسند جارح قوتیں، نہ کہ ان کے پیروکار، اسلام کے مجاہدین کے حملوں کے مقابلے میں پناہ گاہ تلاش کرتی اور جنگ ختم کرنے کے لیے دستِ التجا بلند کرتی ہیں۔
وہ دن جن کی طرف وہ ہمارے ملک کو واپس لے جانا چاہتے ہیں، پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور عالم اسلام میں ایران کی بدنامی سے بھرے ہوئے تھے؛ جبکہ آج کے یہ دن ترقی، عزت، خودمختاری اور عالم اسلام، بلکہ پوری دنیا میں بلند ترین اعتبار سے بھرپور ہیں۔ آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دیتے ہیں۔ البتہ وہ دنیاوی حساب کتاب کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں، جبکہ الٰہی حساب کے مطابق وہ ملک جو خود کو عترتِ طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہے، جس کے بیشتر عوام ان بزرگ ہستیوں سے دلبستہ ہیں اور حق کے قیام سے خوفزدہ نہیں ہوتے، دنیا کی پہلی طاقت ہے۔
وہ دن تھے جب ایران کے جنوبی سمندر دشمن کی افواج کی جولان گاہ تھے، لیکن آج وہ بہادر مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں کی جانب سے لگنے والی دردناک ضربوں کے باعث بحیرۂ عرب سے آگے نہیں بڑھتے اور جب بھی انہوں نے یہ خطرہ مول لیا ہے، خود کو نقصان پہنچایا ہے اور جلد ہی بحیرۂ عرب بھی خود کو ان سے خالی کرلے گا۔
وہ دن تھے جب تسلط پسند طاقتوں نے نفسیاتی کارروائیوں اور خوف کی فضا پیدا کرکے دارالحکومت کی سڑکیں سنسان کردیں اور اس قوم کی آزادی پسندی کے خلاف بغاوت برپا کی، جس کے بعد 25 سال تک اس ملک کی دولت لوٹی؛ لیکن آج سات ماہ سے ہمارے ہم وطنوں نے پورے ملک کے میدانوں اور سڑکوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پُرجوش موجودگی سے سجایا ہوا ہے، تاکہ اسلام کے مجاہدین کے حوصلے بلند رہیں اور دشمن خوف میں مبتلا ہو۔
اسی طرح 3 کروڑ سے زائد ایرانیوں نے اپنی جان قربان کرنے کی مہم کا اعلان کیا اور جب ان کی دوبارہ موجودگی کے اعلان کے تحت کسی قسم کی تنظیم سازی کے لیے رجسٹریشن کی گئی تو صرف ابتدائی 100 منٹ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مطلوبہ گنجائش مکمل کردی۔ اس وقت پورے اسلامی ایران میں، جہاں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے ایرانی موجود ہیں، مختلف نوعیت کی آمادگیوں، بالخصوص مسلح آمادگی کا اعلان موجود ہے، تاکہ ایسا میدان تیار ہو جس میں ان کے حصے میں نام اور دشمن کے حصے میں ننگ آئے۔
وہ دن تھے جب اس سرزمین کے لوگوں کی بہادری کا عنصر اس کے مردوں سے پہچانا جاتا تھا، لیکن آج ہم ایسے دنوں میں ہیں کہ بعض بہادرانہ میدانوں میں خواتین مردوں سے بھی آگے نکل رہی ہیں۔
وہ دن تھے جب دشمن نے نظام کے سماجی پشت پناہ کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج مختلف اور نمایاں اختلافات رکھنے والے معاشرے کے مختلف طبقات اپنے جائز مؤقف کے تحفظ، بالخصوص بابرکت آبنائے ہرمز کی حفاظت پر زور دے رہے ہیں۔
ماضی اور حال کے دنوں کے درمیان اس تقابل کو مزید بھی بیان اور واضح کیا جاسکتا ہے، لیکن مختصر یہ کہ میں ایران کے عزیز عوام کے خادم کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ وہ سابقہ دن، جن کی طرف ہمارا دشمن واپسی کی آرزو رکھتا ہے، گزر چکے ہیں اور اب کبھی دوبارہ نہیں آئیں گے۔
البتہ مجھے درد و غم کے ساتھ یاد دلانا چاہیے کہ ان دنوں امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما الشریف کی جگہ بہت خالی ہے، جن کی قیادت کی بدولت آج ملک کو عزت حاصل ہے۔ لیکن ان کی کارکردگی اور درخشاں و رہنمائی کرنے والے کلمات سے اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑا گیا قیمتی خزانہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے دن موجودہ دنوں سے کہیں زیادہ شاندار ہوں گے۔ کیونکہ وہ ققنوس جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آگ سے نکلا تھا، اب دشمن کے دباؤ اور بالخصوص حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کے نتیجے میں اس قدر بڑا ہوگیا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت اور عرب دنیا کے بہادر امیر، عظیم المرتبت شہید سید حسن نصر اللہ قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی یاد منانا بالکل بجا ہے۔ وہ اپنی قوم اور اپنے مکتب کے سچے خیرخواہ تھے۔ ان کے مخلصانہ اور شیریں خطبات اور بہادرانہ اقدامات ان کی قوم، بلکہ دنیا کے آزاد لوگوں کے دلوں کو مضبوط کرتے تھے۔
وہ شخصیت جنہوں نے لبنان جیسے چھوٹے ملک کا نام، جو برسوں بعض طاقتوں کا پسِ پردہ اڈہ بنا رہا تھا، عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ وہ شخصیت جن کے مستقل ساتھی نصرت اور فتح تھے اور بلاشبہ شامات کی پوری تاریخ میں، انبیاء و اوصیاء کے بعد، آج تک اس قدیم خطے میں ان جیسی عظمت کا کوئی شخص سر بلند نہیں ہوا۔
اور اب ان کا باافتخار پرچم جناب شیخ نعیم قاسم کے ہاتھوں میں ہے، جو دلیری کے ساتھ حزب اللہ کی مضبوط اور عاشورائی صفوں کے اگلے محاذ پر ان کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لبنان کے یہ موجودہ دن تاریخ کے سامنے بلکہ اسی وقت بھی ان (شہید نصرالله) کے لیے اور تمام مزاحمتی مجاہدین کے لیے نمایاں اور باعثِ افتخار دن ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لیے ذلت اور بالآخر شرمندگی کا باعث ہیں جنہوں نے صیہونی دشمن کے مقابلے میں اپنی امیدیں تسلط پسند طاقتوں اور اپنے بدخواہوں کے جھوٹے وعدوں سے وابستہ کر رکھی ہیں۔
شہید سیدِ مقاومت، سید ہاشم صفی الدین اور موجودہ مزاحمتی مجاہدین جو زمانے کے تسلسل میں روشن ستاروں کی مانند روشنی بکھیرتے رہیں گے اور حیرت و سرگردانی میں رہ جانے والوں کے لیے راہنما ہوں گے اور ان کے بر خلاف عمل کرنے والے لوگ تاریخ کے صفحات کے پہلے ہی ورق میں بہت جلد دفن اور فراموش ہوجائیں گے اور جب مستقبل میں کبھی ان کا ذکر ہوگا تو وہ برائی، بدتدبیری اور حتیٰ کہ شاید خیانت کی یاد دلائیں گے۔
آخر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مسلسل فضل و کرم، ہمارے سرور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ارواحنا فداہ، کی خصوصی دعا کے طفیل ایرانی قوم اور تمام مزاحمتی ساتھیوں کو فتح، نصرت اور عزت کے سوا کچھ نہ ملے، جبکہ ان کے دشمنوں کا سامنا شکست اور خواری کے سوا کسی چیز سے نہ ہو۔ بمنِّالله و کرَمه.
عارف: امریکا نے ایسی حالت میں بمباری کرکے میناب کے پرائمری اسکول کے بچوں کی جان لے لی کہ وہ اپنی کلاسوں میں تھے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئرنائب صدرڈاکٹر محمد رضا عارف نے ایک تقریب میں گھنٹی بجاکر ملک میں نئے تعلیمی سال کا آغازکیا۔
انھوں نے اس موقع پر میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کے شہید بچوں کو یاد کیا اور کہا کہ یہ بچے بھی آج اپنی کلاسوں میں نظرآتے لیکن نظام تسلط کی درندگی نے ان کی جان لے لی ۔
سینیئر نائب صدر نے کہا کہ آئیے اس المناک سانحے کے شہیدوں کو یاد کریں اور خدا وند عالم سے، اولیاء اللہ کے جوار میں ان کے درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کریں۔
انھوں نے پرائمری اسکول کے مرحلے سے ہی سائنس وٹیکنالوجی کی بنیاد رکھے جانے پر زور دیا اور کہا کہ اگر اسی مرحلے سے سائنس و ٹیکنالوجی میں پیشرفت پر کام کیا جائے تو، بعد کے مراحل میں، ترقیاتی منصوبوں کے اہداف کا حصول آسان ہوجائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ آج بدھ 23 ستمبر کو تہران کے شہید بہزادی گرلز پرائمری اسکول میں ایک تقریب میں سینیئر نائب صدر ڈاکٹر محمد رضا عارف نے ملک میں نئے تعلیمی سال کے آغازکی گھنٹی بجائی۔
اسی کے ساتھ پورے ایران میں اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کی مناسبت سے خصوصی تقریبات منعقد ہوئیں۔
دہشت گردی کا شکار ہم ہیں، امریکہ اور اسرائیل بدامنی کی جڑ ہیں، صدر پزشکیان
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود دہشت گردی کا شکار ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ خود دہشت گردی کرتے اور دہشت گردوں کی تربیت کرتے ہیں، وہ ایران کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے شہر لامرد میں اسپورٹس کمپلیکس کو کلسٹر بموں سے تباہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی مرضی سے جس ملک پر چاہے حملہ کرتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں بدامنی کی بنیادی وجہ ہیں۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی عوام گزشتہ سات ماہ سے شب و روز سڑکوں پر موجود ہیں، عوام ہی ایران کی طاقت ہیں اور حکومت عوام کی طاقت پر استقامت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت صرف اپنے دفاع کے لیے ہے۔ ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم فوجی دباؤ کے تحت کبھی سرِ تسلیم خم نہیں کرے گا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے گذشتہ 200 سالوں سے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے لیکن ہم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ہم طاقتور ہونا چاہتے ہیں تاکہ اپنا دفاع کریں۔
ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ ہم نے دفاعی نظام بنایا ہے تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ایرانی شہروں پر حملے کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔ ہم اپنا دفاع کرنے کے لئے کسی سے اجازت نہیں لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول نہیں کہ آبنائے ہرمز سے سب فائدہ لیں اور ایران محروم رہ جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں امن کے بغیر مغربی ایشیاء میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایٹم بم اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن ایران سے معائنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ انسانوں کو اسرائیل قتل کر رہا ہے، لیکن پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں؛ یہ بات اگر کسی کو بتائی جائے تو وہ اس پر ہنسے گا۔ ایران کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ مساوی حقوق چاہتا ہے۔ اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوست اور حریف، دونوں کا جائزہ ایک ہی معیار کے تحت لیا جانا چاہیے۔
ایران پوری طاقت سے کھڑا ہے؛ امریکی احمق صدر کی باتوں کا جواب دیا جائے گا، محسن رضائی
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور رہبرِ انقلابِ کے نمائندے میجر جنرل محسن رضایی نے ہفتۂ دفاع مقدس کے حوالے سے نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایران کی سربلند قوم، شہداء کے اہل خانہ اور مسلط کردہ جنگ کے مجاہدین کو ہفتۂ دفاع مقدس کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ٹرمپ کا سب سے بڑا مسئلہ ایران
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ اور ایرانی افواج کی مزاحمت سے متعلق دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی احمق صدر کی باتوں کا جواب دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے خیالی باتیں کی ہیں۔ میری نظر میں ٹرمپ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر ایک شکست خوردہ مجرم کا دفاعیہ تھی۔
رضائی نے کہا کہ یہ امریکہ کا پہلا صدر ہے جس کی تمام گفتگو ایران کے گرد گھومتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ٹرمپ اور امریکی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ایران کی طاقت کے بغیر یہ صورتِ حال پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔
انہوں نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنی ناکامیوں اور جرائم کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنرل رضائی نے کہا کہ ٹرمپ نے جنگ کو امن اور دہشت گردی کو سلامتی کا نام دے دیا ہے، لیکن دنیا اسے قبول نہیں کرے گی۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے عالمی دہشت گردوں کو وجود میں لایا
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے دنیا بھر میں امریکی صدر کے عزائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے انقلاب کے آغاز سے اب تک کسی ملک پر حملہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے دنیا میں شدید ترین دہشت گردی کو جنم دیا ہے اور 25 ہزار بچے مارے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود سمجھ گیا ہے کہ وہ جارح اور اصلی ملزم ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا حساب لیا جائے گا۔
ایران پوری طاقت سے کھڑا ہے
رضائی نے کہا کہ ایران نے حالیہ جنگ میں امریکہ کے جدید طیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا اور امریکی افواج کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے قریب میزائل حملہ بھی کیا اور ایک امریکی آبدوز کو قبضے میں لے کر اس کی ریورس انجینئرنگ شروع کردی ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کی گفتگو کو اس کی انتخابات میں شکست کی واضح دلیل قرار دیا۔
جنرل محسن رضائی نے ایران کو میدان جنگ کا فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے اکثر ماہرین کہتے ہیں کہ جنگ کا اصل فاتح ایران ہے۔ دنیا کو نہیں لگتا تھا کہ ایران امریکہ کے جدید جہازوں کو تباہ کرے گا؛ لیکن ایران نے کر کے دکھایا۔
ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں
محسن رضائی نے کہا کہ آج ایران اپنی طاقت کے عروج پر ہے اور جنگ سے پہلے کے ایران کی طرح نہیں ہے۔ ایران خطے اور دنیا میں اپنی فوجی طاقت اور پیشرفت کے لحاظ سے مضبوط مقام رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کے لیے ایران کی 7 شرائط
رضائی نے ایران کی نئی سفارتی پالیسی کے بارے میں کہا کہ ایران ماضی کی طرف واپس نہیں جائے گا اور امریکہ کو ایرانی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا اور پہلے عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی سات شرائط ہیں اور پاکستان، قطر اور عراق کو ان شرائط سے آگاہ کیا جاچکا ہے۔ اگر امریکہ ان شرائط پر عمل نہیں کرتا تو نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی ایک نشست میں طے کیا گیا کہ ایران کی شرائط امریکہ تک پہنچائی جائیں گی۔ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔
ہم جنگ کے خواہاں نہیں
رضائی نے کہا کہ ایران نئی سفارت کاری کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتا ہے اور امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ یمن ایک آزاد ملک ہے اور ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ نہیں چاہتا۔ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے پہلے ایران کی شرائط پر عمل اور اعتماد سازی ضروری ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز موجود ہے جو ایرانی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اس کی طاقت اور ایک اہم ذریعہ ہے۔
علاقائی ممالک امریکہ کی مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں
جنرل محسن رضائی نے خطے کے ممالک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کی ایران مخالف مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں۔
انہوں نے ایرانی طیاروں پر ممکنہ پابندیوں کے امریکی منصوبے کے ردعمل میں کہا کہ اگر علاقائی ممالک ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں سے پرواز کی اجازت نہیں دیں گے تو ان کے اپنے ہوائی اڈے بھی پروازوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔
رضائی نے علاقائی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہمارے دوست ہیں تو آپ کو امریکہ کی صف میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
سانحۂ میناب پر خاموش رہنے والے، اس جرم میں شریک ہیں، بقائی
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ آج 23 ستمبر؛ ایران میں نئے تعلیمی سال کے آغاز اور اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا دن ہے۔ میناب کے معصوم بچے 28 فروری کو امریکہ کے وحشیانہ ٹوماہاک میزائل حملے میں شہید ہوئے۔ آج ان بچوں کو اسکول میں ہونا چاہیے تھا؛ روشن آنکھوں اور شاداں چہروں کے ساتھ نئے تعلیمی سال کے آغاز کا جشن منا رہے ہوتے؛ لیکن اب ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے جسدِ خاکی زمین کے نیچے دفن ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ جس حکومت کا صدر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بین الاقوامی قانون کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے چیلنج کرتا ہے، وہ اس ناقابلِ معافی جنگی جرم کی ذمہ دار ہے۔ اس جرم کے سامنے خاموش رہنے اور اس کی مذمت سے گریز کرنے والے تمام افراد بھی اس جارحیت میں شریک ہیں۔
بقائی نے لکھا کہ ایرانی عوام ان خوبصورت اور فرشتہ صفت چہروں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
