سلیمانی
ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ناکارہ ہوچکا ہے، اطالوی رپورٹ
اطالوی اخبار کے عسکری صحافی جیانلوکا دی فیو نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام میں کمزوری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور یہ نظام ایران کے بھاری میزائل اور ڈرون حملوں کے سامنے اپنی مؤثریت کھو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں پاسداران انقلاب کی جانب سے جدید اور طاقتور ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایسے میزائل بھی استعمال ہو رہے ہیں جو دفاعی نظام کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اطالوی اخبار کے مطابق اسرائیل نے اپنے آرو دفاعی نظام کے استعمال میں کمی کر دی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بڑی تعداد میں آنے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم بظاہر اس کے میزائل ذخائر محدود ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کی پہلی لہر کو روکنے کے لیے اسرائیل نے 80 سے زائد انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے، جبکہ ایک سابقہ جنگ میں ابتدائی مرحلے پر یہ تعداد تقریباً 50 تھی۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی تیاری کا عمل سست اور محدود ہے، اور صرف اسی مقدار کو دوبارہ تیار کرنے میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آرو میزائلوں کی کمی کے باعث اسرائیلی فوج اب بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ "فلاخن داود" نظام استعمال کر رہی ہے، تاہم یہ نظام بڑے پیمانے پر حملوں کو روکنے میں ناکام ہورہا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹرسیپٹر ہتھیاروں کی کمی پر امریکی محکمہ دفاع میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے، جبکہ خلیج فارس کے ممالک بھی اس صورتحال پر فکرمند ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے جہازوں پر جدید میزائل دفاعی نظام نصب کر رہا ہے، جن میں تھاڈ، اس ایم 3 اور پیٹریاٹ پاک 3 شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی 36 گھنٹوں میں امریکی افواج نے 80 سے زائد تھاڈ اور 150 دیگر میزائل استعمال کیے، جو ان کے کل ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان میزائلوں کی سالانہ پیداوار 40 سے زیادہ نہیں، جس کے باعث استعمال ہونے والے ذخیرے کی بھرپائی میں 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
ایران نے امریکی و اسرائیلی دبدبہ خاک میں ملا دیا
ایران میں رجیم کی تبدیلی کے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا امریکی و اسرائیلی معرکہ ابتدا میں بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے تک پہنچا، پھر دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی سمت لڑھکتا ہوا بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں سمٹ آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پورے یورپ اور حتیٰ کہ چین کو بھی مدد کے لیے پکارا جا چکا ہے۔ اسی طرح امریکی دھمکیاں بھی سٹاک مارکیٹ کی طرح ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئی ہیں۔ بوکھلائی ہوئی دھمکیوں اور متعدد متضاد و بے ربط بیانات کے باعث امریکہ میں تشویش بڑھ رہی ہے کہ ٹرمپ جنگ پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس اپنی ساکھ بچانے اور جنگ سے کسی صورت باعزت نکلنے کا واحد راستہ جنگ کو پھیلانا ہے، جس کا وہ پہلے ہی جیت چکنے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو بھی ایرانی میزائل حملے کی سائٹ پر جا کر یورپ کو ایرانی میزائلوں کی رینج سے خبردار کرتے نظر آتے ہیں۔
امریکہ کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈائریکٹر جو کینٹ نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور جنگ بنیادی طور پر اسرائیلی مفادات اور لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ایران پر حملے کا آغاز اس کی آئینی اور اعلیٰ سیاسی قیادت کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر سفارتکاری جاری تھی۔ اس اقدام کے ذریعے امریکہ نے عالمی قوانین سے ماورا اپنا جنگلی اور غیر مہذب چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور اب ٹرمپ یہی تقاضا یورپ سے بھی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا ایران میں وینزویلا طرز کے آپریشن کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اب ان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ واضح کریں کہ اس جنگ کے آغاز کے اصل مقاصد کیا تھے اور کانگریس کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ کیا اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ پہلے سے طے کیا گیا تھا؟ کیا انہیں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور اس کے تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی تھی؟ ان تمام اہم سوالات کے جواب میں ٹرمپ کی جانب سے اب تک صرف مبہم، غیر مربوط اور ٹال مٹول پر مبنی بیانات ہی سامنے آئے ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو جس ایران کو خطرہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، اس نے دیگر تمام مہذب اقوام کی طرح نیوکلیئر پروگرام پر پچھلے معاہدے کی پاسداری کی، جسے ٹرمپ نے اپنی پچھلی مدت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ ایران نے اسلامی شریعت کے تحت ایٹمی ہتھیار بنانا ناجائز قرار دے رکھا ہے اور ایٹمی پروگرام کو صرف توانائی کے متبادل کے طور پر استعمال میں لانا چاہتا ہے، جس کی ضمانت کے طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو نگرانی کا موقع بھی دیا گیا۔ اس جارحیت سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی کبھی بند نہیں کیا ہے۔ ایران دیگر آزاد اقوام کی طرح ٹیکنالوجی کے حصول میں اپنی خود مختاری اور جائز حقوق کا قائل ہے اور امریکہ کی دھونس کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔
ٹرمپ ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے میدان میں امریکہ کو دنیا کا بلاشرکتِ غیرے لیڈر اور عالمی تنازعات میں حرفِ آخر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، اور یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پوری دنیا ٹیکنالوجی کے معاملے میں اس کی محتاج ہے۔ اپنی صدارتی مہم کے دوران اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ مضبوط امریکی معیشت کا دارومدار اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کے انہی معاہدوں پر ہے جو دیگر ممالک، خصوصاً عرب ریاستوں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت امریکی ٹیکنالوجی اور اسلحے کے یہ "بت" اسلامی سرزمینوں پر حکمرانوں نے سجا بھی رکھے تھے۔
کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنا اسے امریکی تسلط پسندی کے اسی مائنڈ سیٹ، اس کی عالمی کشمکش اور دیگر آزاد اقوام کے خلاف تجاوز کا حصہ بنا دیتا ہے۔ ایک بار اس دائرے میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا، اور پاکستان اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے جو آج تک اس فیصلے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ دراصل امریکہ کی سکیورٹی چھتری تلے آ کر خود اسی کے ہاتھوں بے دفاع ہو جانے کے مترادف ہے۔ ایسی صورتحال جس میں ریاستیں نہ صرف اپنی خودمختاری کھو دیتی ہیں بلکہ جارحیت کی مذمت تک کا اختیار بھی عملاً سلب ہو جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اسرائیل نامی پہلے ناجائز اڈے کو امام خمینیؒ نے مسلمانوں کے قلب میں پیوست خنجر قرار دیا تھا اور امتِ مسلمہ کو اس کے مقابلے میں جہاد کی راہ دکھائی تھی۔ ایران کا ہدف مشرقِ وسطیٰ سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ اور فلسطین کا اختیار فلسطینی عوام کے سپرد کرنا ہے، جسے اس نے ہمیشہ ایک واضح اور اعلان شدہ مقصد کے طور پر پیش کیا ہے اور جس کے لیے وہ اپنی سب سے بڑی سے بڑی قربانی بھی پیش کر چکا ہے۔
تحریر: تصور حسین شہزاد
ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنادے گا
الٰہی آزمائشوں میں کامیابی؛ قرآن کے مطابق دشمن پر حتمی غلبے کی شرط
قرآن کریم بنی اسرائیل کی تاریخ کو محض ماضی کی کہانی کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ اسے آج کے لیے ایک آئینہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 246 میں حضرت موسیٰؑ کے بعد بنی اسرائیل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جب وہ جلاوطنی اور مظلومیت کی سخت حالت میں اپنے نبی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ایک سپہ سالار مقرر کیا جائے، لیکن اس کے بعد وہ کئی مراحل میں آزمائش اور چھانٹی سے گزرتے ہیں۔
جب ان کے نبی نے طالوت کو سپہ سالار مقرر کیا تو انہوں نے اعتراض کیا کہ اس کے پاس نہ شہرت ہے اور نہ دولت۔ ان کے نبی نے یاد دلایا کہ اولاً اسے اللہ نے منتخب کیا ہے، اور ثانیاً وہ علمی صلاحیت اور جسمانی قوت رکھتا ہے جو جنگی قیادت کے لیے ضروری ہے (بقرہ: 247)۔
پھر جب لشکر پیاسا ایک دریا پر پہنچا تو طالوت نے حکم دیا کہ وہ اس کا پانی نہ پئیں، مگر صرف ایک چلو بھر۔ جس نے پانی نہ پیا وہ “میرا ہے” (فَإِنَّهُ مِنِّي)، اور جس نے پی لیا وہ "مجھ سے نہیں" (فَلَيْسَ مِنِّي)، جبکہ جنہوں نے ایک چلو بھر پیا، وہ نہ مکمل طور پر اپنے رہے نہ بیگانہ۔
اگلے مرحلے میں جب وہ جالوت کے ساز و سامان سے لیس لشکر کے مقابل آئے تو دشمن کی طاقت دیکھ کر کچھ لوگ کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ اس کے برعکس ایک گروہ نے ایمان بھرا قول پیش کیا کہ:اکثر ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب آ گئی، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (بقرہ: 249)۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کسی ایک آزمائش میں کامیابی کافی نہیں ہوتی۔ اس داستان میں کچھ لوگوں نے فقر کی وجہ سے رہبر کو قبول نہ کیا، کچھ لوگ شکم کی آزمائش میں ناکام ہوئے، اور کچھ دشمن کے مقابلے میں ہمت ہار گئے۔ لیکن جو لوگ ولیِ خدا کی قیادت کو قبول کرتے ہیں، اور جب انہیں عوامی یا سرکاری مال تک رسائی ملتی ہے تو دیانت اور بزرگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہتے ہیں، وہی لوگ حتمی فتح کی خوشخبری کے مستحق ہوتے ہیں۔
خاتم الانبیا ہیڈکواٹر: ایرانی بجلی گھروں کو نقصان پہنچا تو علاقے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے نابود ہوجائیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے خاتم الانبیا ہیڈکواٹر کے ترجمان کرنل ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو بلاتاخیر:
1۔ آبنائے ہرمز پوری طرح بند ہوجائے گی اور جب تک ایران کے تباہ ہونے والے بجلی گھروں کی تعمیر نہ ہوجائے، بند رہے گی۔
2۔صیہونی حکومت کے سبھی بجلی گھر، توانائی اور آئی ٹی کے بنیادی ڈھانچوں پر وسیع پیمانے پر حملے کئے جائيں گے۔
3۔ علاقے کی وہ سبھی کمپنیاں تباہ کردی جائيں گی جس میں امریکا کے حصص ہوں گے اور
4۔ امریکی اڈوں کے میزبان ملکوں کے بجلی گھر ہمارے جوابی حملوں کے قانونی ہدف میں تبدیل ہوجائیں گے
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی جامعۃ الازہر مصر پر شدید تنقید، امریکہ نواز موقف پر افسوس کا اظہار
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جامعۃ الازہر مصر کی جانب سے امریکہ اور خلیج فارس کے بعض ممالک میں اس کے نیابتی حکمرانوں کے حق میں دیے گئے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الازہر کا یہ جانبدارانہ رویہ نہایت افسوسناک ہے اور اس سے اس قدیم دینی ادارے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جامعہ مدرسین نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مجرمانہ کارروائیوں کے دوران الازہر حق و باطل میں تمیز نہ کر سکا، جس سے اس ادارے کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بیان کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اقدام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، جبکہ الازہر کی جانب سے ایران کی مذمت حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران ہمیشہ مسئلہ فلسطین، اسلامی ممالک کی خودمختاری، عزت اور امت مسلمہ کے اتحاد کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے، اور الازہر کی جانب سے حقیقت کو الٹ کر پیش کرنا ایران کے مثبت کردار کو ہرگز متاثر نہیں کر سکتا بلکہ خود الازہر کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جامعہ مدرسین نے الازہر کے علماء اور دانشوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بیت المقدس کی آزادی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے خواہاں ہیں تو انہیں سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کو امت کے اصل دشمن کے طور پر پہچاننا ہوگا اور ان کی سازشوں سے باخبر رہنا ہوگا۔
بیان میں امت مسلمہ کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ اور اسلامی ممالک کی عزت و سربلندی کا خواہاں ہے، اور یہ مقصد صرف استکباری طاقتوں خصوصاً امریکہ سے دوری اختیار کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
آخر میں کہا گیا کہ آج کے حالات میں حق و باطل کی پہچان اور قدس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت، امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، اور اہل حق بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
القسام کے ترجمان کی ایران کے میزائل حملوں پر اظہار مسرت
حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے ایران کی جانب سے جنوبی مقبوضہ علاقوں پر کیے گئے میزائل حملوں کی تعریف کی ہے۔
ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ وہ فخر کے ساتھ دیکھا رہے ہیں کہ کس طرح سپاہ پاسداران نے نئی حربی تکنیکوں کے ساتھ دشمن کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف ایران کے خلاف ہونے والی صہیونی–امریکی کارروائیوں کا قدرتی جواب ہیں بلکہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری وسیع پیمانے کے حملوں کا ردِعمل بھی ہیں۔
القسام ترجمان نے دعوی کیا کہ اسرائیلی حکومت صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے اور بھاری قیمت چکائے بغیر اپنے حملوں سے باز نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران آج امت اسلامی کی دفاعی صف اول کی حیثیت رکھتا ہے اور جارح قوتیں عوام کی ارادوں کو پسپا نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے خطے کی تمام قوموں سے اپیل کی کہ وہ دشمن کے مقابلے میں متحد ہوں اور بنیادی مسائل، خصوصا مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔
کیا امریکہ، اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے؟
مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک، محمد اکمل خان؛ جنگوں میں پہلا نشانہ اکثر فوجی تنصیبات نہیں بلکہ سچ بنتا ہے۔ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حالیہ حملے کے بعد بھی یہی ہوا ہے۔ 19 مارچ 2026 کواسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ تاثر دیا کہ کارروائی گویا اسرائیل نے اپنے طور پر کی، جبکہ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہتے رہے کہ انہوں نے اسرائیل کو آئندہ ایسے حملوں سے روک دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملہ واقعی اکیلے کیا گیا تھا تو پھر اسے فوراً امریکی رضامندی، ناراضی یا ہدایت کے ساتھ نتھی کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا اسرائیل نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ امریکہ کو لاعلم رکھ کر کیا؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود امریکہ کی کڑی نگرانی میں ہے۔ امریکی فضائی ڈھانچے کا مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز، یعنی مشترکہ فضائی کارروائیوں کا مرکز (Combined Air Operations Center)، خطے میں فضائی کارروائیوں کی منصوبہ بندی، نگرانی، رابطہ کاری اور تصادم سے بچاؤ کا بنیادی نظام ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق یہی مرکز لمحہ بہ لمحہ جنگی طیاروں کی پروازوں، حملہ آور مشنوں، فضائی ایندھن رسانی اور دوسری اہم کارروائیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے میں یہ مان لینا کہ دنیا کی سب سے بڑی اورحساس ترین گیس فیلڈزمیں سے ایک پر بڑا حملہ امریکی علم کے بغیر ہو گیا، ایک سفید جھوٹ محسوس ہوتا ہے۔
مغربی میڈیا کی رپورٹوں میں یہ بھی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ اسرائیلی اہلکاروں نے خود کہا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بارے میں امریکہ کو پہلے سے علم تھا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر مسئلہ صرف حملے کا نہیں رہتا، بلکہ حملے کے بعد ذمہ داری سے بچنے کے لیے بیانیہ گھڑنے کا بن جاتا ہے۔ گویا کارروائی کےلئے ہدف مشترک ہو سکتاہے، مگر اعتراف کو اس حملے کے ممکنہ سنگین رد عمل کو دیکھتے ہوئے ایک بہت معمولی سے بات
ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو جیسے یہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔
اگر امریکہ ایرانی گیس فیلڈز پر حملوں کے حوالے سے لاعلم نہیں تھا تو اس نے لاتعلقی کا تاثر کیوں دیا گیا؟
اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جدید جنگ میں صرف حملہ کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، اس کے ردعمل کا بغور جائزہ لے کر اس سنگین اقدام کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر بھی تھونپا جا سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اسرائیل کی عسکری خودمختاری کا تاثر قائم رکھیں۔ ٹرمپ کے لیے یہ ضروری تھا کہ جب حملے کے اثرات خلیج کی توانائی پٹی اور عالمی منڈیوں تک پہنچنے لگیں تو ذمہ داری تل ابیب کے کھاتے میں ڈال دی جائے۔ اسی لیے ایک طرف “ہم نے اکیلے حملہ کیا” کا دعویٰ سامنے آیا، دوسری طرف یہ پیغام بھی دیا گیا کہ امریکی صدر کی مداخلت کی وجہ سے مزید ایسے حملے نہیں ہوں گے۔ جب تک کارروائی دباؤ کا ہتھیار تھی، خاموشی اختیار کی گئی؛ جب اس کے معاشی اور سفارتی اثرات پھیلنے لگے تو ایک فریق نے اس حملے کو ایک معمولی واقعہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ بیانیے کا یہ تضاد صرف جنوبی پارس حملے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جنگ کے اصل جواز تک جا پہنچتا ہے
کیا امریکہ کو ایران سے واقعی “فوری جوہری حملے کا خطرہ” تھا؟
ایران سے” فوری جوہری حملے کے خطرہ“(Imminent Nuclear Threat) کے حوالے سے 18 مارچ 2026 کو واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی عالمی خطرات کی سماعت (Worldwide Threats Hearing) کے دوران سینیٹر جان اوسوف نے ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس تلسی گبارڈ سے پوچھا کہ کیا واقعی ایران کی طرف سے ایسا فوری جوہری حملے کاخطرہ موجود تھا جس کی بنیاد پر جنگ کو جائز قرار دیا جا سکے۔ اوسوف کے دفتر کے جاری کردہ متن کے مطابق گبارڈ نے واضح ہاں یا ناں کے بجائے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فوری خطرے کا تعین صرف امریکی صدر کرتا ہے۔ اوسوف نے انہیں ٹوکا اور کہا کہ یہی تو انٹیلیجنس قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس کو بروقت، معروضی اور غیر سیاسی انداز میں بتائے کہ خطرہ کیا ہے۔
بعد کی رپورٹنگ میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ گبارڈ نے اپنی تحریری گواہی کے اس حصے کو زبانی بیان کا حصہ نہیں بنایا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے حملوں کے بعد ایرانی حکومت نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر ایسا تھا تو پھر فوری خطرہ کہاں تھا؟ اگر خطرہ فوری نہیں تھا تو جنگ کس بنیاد پر شروع کی گئی؟ جب سوال سیدھا تھا تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کیوں کی گئی؟ یہی وہ جگہ ہے جہاں اس ایران جنگ کا مقدمہ صریحاًً جھوٹ پر مبنی دکھائی دینے لگتا ہے۔
جب جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو باقی کیا بچتا ہے؟
اگر جنگ کا بنیادی جواز ہی جھوٹ ہو تو پھر بعد کے تمام دعوے بھی خود بخود سوال کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ صرف حملے کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑتی ہے، بلکہ اس کے سیاسی، قانونی اور سفارتی جواز بھی دم توڑنے لگتے ہیں۔ پھر مسئلہ صرف ایک کارروائی کا نہیں رہتا، بلکہ پورا بیانیہ ہی جھوٹ پر مبنی ہونا ثابت ہو جاتا ہے اور جب جنگ کا جواز ہی غلط ہو، تو پھر اس کے نتائج بھی صرف فوجی دائرے تک محدود نہیں رہتے۔ جنوبی پارس پر حملہ اسی بڑے توانائی کے بحران کی ایک مثال بن گیا۔
کیا جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ صرف ایران کے خلاف تھا، یا اس کا نشانہ پوری خلیجی توانائی پٹی تھی؟
جنوبی پارس اور عسلویہ پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے توانائی کےڈھانچے کو نشانہ بنایا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ردعمل نے خلیج بھر میں تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا دیا، اور راس لفان جیسے مراکز، جو عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت میں اہم کردار رکھتے ہیں، براہِ راست تباہی کی زد میں آ گئے۔ یوں جنوبی پارس پر حملہ محض ایک محدود عسکری کارروائی نہ رہا، بلکہ پوری خلیجی توانائی پٹی کو آگ کے دہانے پر لے جانے والا اقدام بن گیا۔
یوں نیتن یاہو کے ایک جنگی فیصلے نے صرف ایران کو نہیں، بلکہ قطر، کویت، سعودی عرب اور امارات جیسے امریکی اتحادیوں کی توانائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ٹرمپ کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ ذمہ داری نیتن یاہو پر ڈالنے کی کوشش کریں، کیونکہ اب معاملہ صرف ایران کا نہیں رہا تھا؛ خلیجی اتحادیوں کا اعتماد، عالمی توانائی رسد اور امریکی معیشت کے اندر مہنگائی کا دباؤ بھی اس میں شامل ہو چکا تھا۔
کیا اس جنگ کا محاذ صرف فوجی ہے یا معاشی میدان بھی اس کے نشانے پر ہے؟
جنگ کا محاذ اب واضح طور پر معاشی دنیا پر بھی اثر انداز ہو رہاہے۔ ایران کی جانب سے جنگ اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے نتیجے میں دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی رسد کو شدید دھچکا لگا ہے، تقریباً 400 ملین بیرل رسد مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہے، عالمی تیل قیمتیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھیں، عالمی سطح پر تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلاگیا، اور مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہونے والے بعض خام تیل کے درجوں کی قیمت 164 ڈالر تک پہنچی۔ یورپی گیس منڈی میں قیمتیں بھی تقریباً 35 فیصد بڑھ گئیں۔
آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری راستہ نہیں، عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے میں خلل کا مطلب صرف پٹرول مہنگا ہونا نہیں، بلکہ بیمہ، جہاز رانی، صنعتی خام مال، ٹرانسپورٹ اور صارفین کی لاگت میں ہمہ گیر اضافہ بھی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنوبی پارس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والا بحران صرف خلیج کا بحران نہیں رہا، بلکہ عالمی معیشت پر براہِ راست حملہ بن گیا ہے۔
کیا توانائی کا بحران زراعت اور خوراک تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ِ
اس سوال کا جواب بھی افسوس ناک حد تک واضح ہے۔ خلیجی خطہ کھاد سازی اور اس کی ترسیل دونوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ آبنائے ہرمز سے کھاد کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، اور جنگ کے باعث بعض کھادوں کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافے ہو چکا ہے امریکہ میں کھاد کی قیمتیں مارچ کے آغاز میں 516 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر 683 ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل اور گیس مہنگی ہوں گی تو صرف پٹرول اور بجلی ہی مہنگی نہیں ہوگی، بلکہ یوریا، امونیا اور دوسری کھادیں بھی مہنگی ہوں گی۔ کھاد مہنگی ہوگی تو کاشت کی لاگت بڑھے گی۔ لاگت بڑھے گی تو غذائی پیداوار دباؤ میں آئے گی۔ اگر کسان کھاد کم استعمال کرنے پر مجبور ہوئے تو پیداوار گر سکتی ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر دنیا اٹھائے گی۔ یوں جنوبی پارس پر حملے کی آگ صرف خلیج میں نہیں، دنیا کے کھیتوں اور باورچی خانوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران جنگ کے حوالے سے زمینی حقائق کیا ہیں؟
اس ایران جنگ کی قیمت صرف منڈیوں اور خوراک تک محدود نہیں۔ میدانِ جنگ میں بھی ایسے حقائق سامنے آ رہے ہیں جن سے امریکی اور اسرائیلی دعووں کے برعکس زمینی حقیقت مختلف دکھائی دیتی ہے۔ 21 اور 22 مارچ 2026 کی درمیانی رات ایرانی میزائل حملوں نے ڈیمونا اور عراد میں قیامت ڈھا دی۔ جنوبی اسرائیل کے ان شہروں پر ایرانی میزائل حملوں میں6 شہری ہلاک اور سو سے زائد شہری زخمی ہوئے ، اور اسرائیلی فوج نے خود تسلیم کیا کہ اس کا فضائی دفاع حملہ روکنے میں ناکام رہا۔اس حملے میں میزائل اسرائیلی جوہری مرکز کے طور پر معروف شہر ڈیمونا کے قریب حساس تنصیبات تک جا پہنچے۔
جب کسی ریاست کے شہری ہر وقت خطرے کے سائرن سن کر زیرِ زمین پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے پر مجبور ہوں، جب حساس شہروں تک میزائل پہنچ رہے ہوں، اور جب میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کا نظام حملے نہ روک پا رہا ہو، تو اسےمکمل فتح نہیں کہا جا سکتا۔ یہ زیادہ سے زیادہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اعتراف ہو سکتا ہے، چاہے وہ اعتراف زبان سے نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ اسرائیل کے اندر نقصانات اور خوف کی مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آنے دی جا رہی، جس سے سرکاری دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ اور نمایاں ہو جاتا ہے۔
امریکی بیانیے میں بھی یہی احتیاط دکھائی دی۔ سعودی عرب میں امریکی طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو محدود ظاہر کیا گیا، جبکہ ایف-35 کے واقعے پر بھی مکمل وضاحت سے گریز کیا گیا کہ یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل یہ جہاز ایرانی دفاعی نظام نے کیسے کامیابی سے نشانہ بنا لیا۔ سعودی عرب کے شہر ریاض میں نشانہ بننے والے پانچ طیاروں کے لیے یہ جواز بھی سامنے آیا کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو غیر ضروری صدمے سے بچانے کی وجہ سے ابتدائی طور پر نقصان کو کم بتایا گیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اہلِ خانہ کو حوصلہ دینے کے لئے نقصان کم بتایا گیا یا عوام سے اس لاحاصل جنگ کی اصل قیمت چھپائی جا رہی ہے؟
اگر امریکہ اور اسرائیل جنگ جیت چکے ہیں تو پھر ان کی قیادت کے بیانات میں تضاد اور بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟
جب جنگ کا دائرہ توانائی، کھاد اور عالمی منڈیوں تک پھیل جائے، اور زمینی سطح پر میزائل ڈیمونا اور عراد تک پہنچنے لگیں، تو اس کا اثر بیانیے کے لئے گھڑی گئی سیاسی زبان پر بھی پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لہجوں میں فتح سے زیادہ بے چینی محسوس ہونے لگی ہے۔ ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کی میزائل یا جوہری صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچا دیا گیا ہے، دوسری طرف زمینی حقائق اور معاشی جھٹکے بتاتے ہیں کہ جنگ نہ سمٹی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج قابو میں ہیں۔ ایسے میں اگر “کامیابی” کا بیانیہ زیادہ زور سے سنائی دے رہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ راہِ فرار کو فتح کے پردے میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔
یہی تضاد ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ 17 مارچ کو وہ کہہ رہے تھے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی جنگی کارروائی ” بہت جلد “ ختم کر دے گا۔ 20 مارچ تک امریکی اہداف اور جواز بدلتی زبان میں بیان ہو رہے تھے۔ پھر 22 مارچ کو امریکی صدر ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دے کر آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں کو “تباہ” (obliterate) کرنے کی دھمکی دینے لگے۔ اگر فتح واقعی قریب تھی تو پھر اس نئے حملے کی بات کیوں؟ یہ زبان فتح کی نہیں، بے چینی، دباؤ اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کی زبان ہے۔
کیاڈونلڈ ٹرمپ اب فتح نہیں، راہِ فرار تلاش کر رہےہیں؟
آخر میں سوال یہی بچتا ہے کہاگر واقعی سب کچھ قابو میں ہے، اگر واقعی اہداف حاصل ہو چکے ہیں، اور اگر واقعی ایران کو شکست ہو چکی ہے، تو پھر واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لہجوں میں یہ بے چینی کیوں ہے؟ جواب شاید یہ ہے کہ جنگ کو شروع کرنا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، سمیٹنا نہیں۔ اسی لیے اب راہِ فرار کو فتح، سیاسی ہچکچاہٹ کو حکمت، اور بڑھتے ہوئے نقصان کو وقتی بحران بنا کر بیچا جا رہا ہے اور ایرانی قوم کے ساتھ لڑائی میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کی فتح قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
صہیونی فضاؤں میں ایرانی میزائلوں کو مکمل برتری حاصل ہے، جنرل موسوی
سپاہ پاسداران انقلابِ اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر جنرل سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ آج شب جنوبی مقبوضہ علاقوں کا آسمان مسلسل کئی گھنٹوں تک روشن رہے گا۔
جنرل موسوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس لمحے سے مقبوضہ فلسطین کے فضائی حدود پر ایرانی جوانوں کی میزائلی برتری کا اعلان کرتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی موجوں میں استعمال ہونے والی نئی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی امریکی اور اسرائیلی کمانڈروں کو حیران کرنے کے لیے کافی ہوگی۔




















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
