سلیمانی

سلیمانی

روزنامہ ڈیفنس نیوز کی وب سائٹ نے ایران کے سلسلے میں امریکی صدر کے رویہ کو "حماقت آمیز غنڈہ گردی" قرار دیا ہے۔

 اس وب سائٹ نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے: "میڈ مین" کا نظریہ نہ تو تحفظ  کا باعث بنا ہے اور نہ ہی استحکام کا سبب بنا ہے بلکہ اس سے صرف واشنگٹن کی پالیسیوں میں نا پختگی کی ثابت ہوئی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ "میڈ مین" کی یہ پالیسی اکثر اونچی آواز میں دھمکیوں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کوئی واضح یا قابل اعتماد حکمت عملی موجود نہیں ہوتی۔

اس امریکی جریدے نے لکھا ہے: ٹرمپ نے گو کہ نئے انداز میں اس حربے کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اگر ہم اس حربے کی تاریخ پر غور کریں تو اگر اسے پوری طرح سے نا کامیاب قرار نہ بھی دیں تب بھی یہ یقینی ہے کہ یہ حربہ ناقص ثابت ہوا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز سے اب تک، ایران کو مختلف طرح کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے غزہ کی جانب جانے والے بین الاقوامی انسانی امدادی قافلے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی ضمیر پر حملہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ صمود فلوٹیلا ایک خالصتاً انسانی اور بین الاقوامی اقدام ہے، جس میں دنیا کے درجنوں ممالک کے افراد فلسطینی عوام کی حمایت اور غزہ کا غیر قانونی محاصرہ توڑنے کے مقصد سے شریک تھے، تاکہ وہاں کے شہریوں تک ضروری امداد پہنچائی جاسکے۔

بقائی نے کہا کہ صمود قافلے پر حملہ صرف ایک امدادی مشن پر حملہ نہیں، بلکہ یہ بیدار عالمی ضمیر اور مشترکہ انسانی اقدار پر کاری ضرب ہے۔

ایرانی ترجمان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ گرفتار شدہ افراد کو کتزیعوت جیل منتقل کیا گیا ہے، جسے سخت اور غیر انسانی حالات کے باعث بدنام سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ صہیونی حکومت کے نام نہاد داخلی سلامتی کے وزیر کا توہین آمیز اور غیر انسانی رویہ اسرائیلی حکومت کی اخلاقی پستی کا واضح ثبوت ہے۔

بقائی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کی بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف مضبوط مؤقف اپنائیں، قابض قوتوں کو جوابدہ بنائیں اور غزہ کے عوام کے لیے جاری انسانی امدادی مہم کی غیر مشروط حمایت کریں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی تحویل میں موجود صمود فلوٹیلا کے تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط رہا کیا جائے۔

شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی نے امت اسلامی کی وحدت کے موضوع پر اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے اسلامی اخوت ایک عظیم سماجی اور ثقافتی سرمایہ ہے جس کے تحقق سے معاشرہ ترقی، سلامتی، معنویت اور عزت کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

اس اصول کی پابندی الہی رحمت، معاشرے کی ذہنی صحت اور مسلمانوں میں ذمہ داری کے احساس کو تقویت دینے کی ضامن ہوگی اور امت اسلامی کی ترقی و سربلندی کا سبب بنے گی۔

اسلام کا بقا اور اسلامی معاشرے کا استحکام مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے حصول پر منحصر ہے۔

یہ الہی اصول جو قرآن و سنت میں بنیاد رکھتا ہے، نہ صرف جذباتی اور سماجی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ہمدردی اور مہربانی پیدا کرکے معاشرے کو بیرونی خطرات کے خلاف مقاوم بناتا ہے اور دشمنوں کی امید کو مایوسی میں بدل دیتا ہے۔

وحدت اور سماجی ہماہنگی انسانی زندگی کی بدیہی اور ضروری ترین ضروریات میں سے ہے کیونکہ منتشر اور بکھرا ہوا اجتماع طاقت اور اثرپذیری سے عاری ہوتا ہے لیکن چھوٹی قوتوں کے ملاپ سے ایک بڑی اور تبدیلی لانے والی طاقت تشکیل پاتی ہے۔

تاہم تجربے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ظاہری عوامل جیسے نسل، زبان، مشترکہ تاریخ یا سرزمین، اگرچہ ایک قسم کا اتحاد پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن چونکہ مادی اور غیر ارادی امور پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے پائیدار وحدت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

اس قسم کے اتحاد عموماً عارضی ہوتے ہیں اور مشترکہ اہداف کے حصول کے بعد اختلافات پھر سر اٹھاتے ہیں۔

اسلام ان نظریات کے مقابلے میں ایک گہرا اور زیادہ پائیدار حل پیش کرتا ہے اور وہ ہے "ایمان اور عقیدے کے محور پر وحدت"۔

اس نقطہ نظر کی بنا پر، مسلمان خدا پر ایمان کی روشنی میں ایک واحد پیکر کے اعضا کی طرح ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور اسلامی اخوت کے اصول کو تحقق بخشتے ہیں۔

قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" اور مومنین کو تاکید کرتا ہے کہ وہ اس برادرانہ تعلق کو برقرار رکھیں اور اس کی اصلاح و مضبوطی کی راہ میں کوشش کریں۔

یہ تعبیر انسانی رشتوں کی گہری ترین قسم کو ظاہر کرتی ہے جو ایمان اور ہدف میں اشتراک کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔

تاہم، اسلام کے دشمن ہمیشہ اس مضبوط رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش میں رہے ہیں اور فکری، سیاسی اور قومی اختلافات پیدا کر کے مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بعض اسلامی معاشروں میں تنازعات کا تسلسل ان سازشوں کی نسبتی کامیابی اور اسلامی اخوت کے اصول سے غفلت کی علامت ہے۔
https://taghribnews.com/vdcd9z05nyt0xz6.432y.html
 
ڈونلڈ ٹرمپ اندرونی تنازعات اور بحری محاصرے کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے ہم، فوجی اور سیاسی حکام رھبر انقلاب کے حکم پر مکمل اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی عوام دشمن کے مکروہ عزائم کو شکست دیں گے۔ ایک آڈیو فائل میں پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے اہم ترین مسائل خصوصاً ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے دشمن کے نئے  منصوبے کے بارے میں بتایا ہے۔ اس گفتگو کے اہم حصے حسب ذیل ہیں: پہلے دن سے دشمن نے رہبر انقلاب اور فوجی کمانڈروں کو قتل کرکے نظام کو تین دن کے اندر ختم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

 پھر وہ ملک کے دفاعی نظام کو تباہ کرنے کی طرف بڑھے، لیکن جوں جوں وقت گزرا، انہوں نے دیکھا کہ ہمارے میزائلوں اور ڈرونز کی آوازیں بڑھتی ہی رہیں۔ پھر وہ ایران کو وینزویلا بنانے کی طرف بڑھے اور دوبارہ ناکام رہے۔ پھر وہ ملک کے مغربی علاقے سے علیحدگی پسندوں کو متحرک کرنے کی طرف بڑھے، جنہیں خدا کے فضل اور فوج و انٹیلی جنس فورسز کی کوششوں سے ناکام بنا دیا گیا۔ کئی مہینوں کی منصوبہ بندی اور جنگ کے دوران ملکی سلامتی کے اڈوں پر حملے کے بعد انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنایا لیکن ایرانی عوام نے متحد ہو کر انہیں شکست دی۔

دشمن نے ملک میں فوجیں لانے کی کوشش کی اور اصفہان میں اس منصوبے کا تجربہ کیا لیکن یہ اقدام طبس دوم میں بدل گیا۔ ایران کے خلاف بنائے گئے منصوبوں  میں سے کوئی ایک منصوبہ بھی کسی ملک کو تباہ کر سکتا تھا، لیکن ایرانی قوم نے خدا کے فضل و کرم سے دشمن کے ان منصوبوں میں سے ہر ایک کو ناکام بنا دیا ہے۔ دشمن کی اس شکست کی ایک وجہ ایران کا  سماجی و سیاسی ڈھانچہ تھا جس کے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہ ہوتی اور وہ عوام کی سڑکوں پر منظم، مربوط اور فعال موجودگی تھی۔ تاہم دشمن اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور بحری ناکہ بندی اور میڈیا کے پروپگینڈوں کے ذریعے معاشی دباؤ اور اندرونی تقسیم کو متحرک کرنا چاہتا ہے تاکہ ہمیں اندر سے کمزور یا گرا  سکے۔

ٹرمپ کھلے عام ملک ایران کو دو گروہوں انتہا پسند اور اعتدال پسند میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر فوری طور پر بحری ناکہ بندی کی بات کرتے ہیں تاکہ اقتصادی دباؤ اور اندرونی تقسیم کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔ دشمن کی نئی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا حل صرف ایک چیز ہے اور وہ عوام کی ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔ جنگ کے پہلے دن سے لے کر آج تک اتحاد برقرار رکھنا دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے میں مؤثر رہا ہے اور آج دشمن کے نئے ڈیزائن کے پیش نظر یہ اور بھی اہم ہے لہذا کوئی بھی تفرقہ انگیز اقدامات دشمن کے نئے ڈیزائن کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو میدان کے وسط میں ہے، میں ایرانی عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم حکام مسئولین رہبر  انقلاب کے حکم کے ماتحت ہیں، اور وہ ہمارے ولی اور امام زمانہؑ کے نائب ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں سلامتی عطا فرمائے، اور ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی اس کے حکم پر عمل کرنے میں ہے۔ آپ یقین کریں کہ ہم عسکری اور سیاسی حکام کے درمیان مکمل اتحاد کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ہمارے اتحاد کا محور ولی امر مسلمین کا حکم ہے۔ میں ایران کے لوگوں کے بارے میں جو علم رکھتا ہوں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے فضل سے ایرانی عوام دشمن کے اس مکروہ منصوبے کو ناکام بنا دیں گے، اور ہم اس جنگ میں شاندار فتح حاصل کریں گے، اور ہم اس خدائی وعدے میں شامل ہوں گے کہ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔

https://farsnews.ir/Ghalibaf/1777487071797069593/%D8%B1%D9%88%D8%A7%DB%8C%D8% AA%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%DB%B6-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86
 
 
 

اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی ہدایت و ثقافت کے وزیر سید عباس صالحی نے جو خلیج فارس کے قومی اور آرٹس فیسٹیول میں شرکت کے لئے صوبہ ہرمزگان کے دورے پر ہیں، شہر میناب کا دورہ کیا۔ انھوں نے شجریہ طیبہ پرائمری اسکول پر امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہونے والوں میں سے بعض کے لواحقین سے ملاقات، زخمیوں کی عیادت، مذکورہ اسکول کا معائنہ اور گلزار شہدائے میناب میں حاضری دی جہاں امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہونے والی اسکولی بچیاں سپرد خاک کی گئی ہیں۔

 
1 مئی، 2026، 11:54 AM
 
 
 

ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے نے ٹیلیفونی گفتگو میں تازہ ترین میدانی اور سیاسی تغیرات پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکا کے سمندری محاصرے کو ہر قسم کی اعتمادی سازی اور سفارتی پیشرفت میں  رکاوٹ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف گفتگو  اور مذاکرات کے لئے پیغامات مل رہے ہیں لیکن دوسری طرف سمندری محاصرے اور دباؤ میں شدت عملا اعتماد سازی  کے لئے ضروری فضا کو خراب کررہی ہے۔
 صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظریہ ہے کہ مذاکرات کے لئے حالات اسی وقت  سازگار ہوسکتے ہیں جب فریق مقابل دباؤاور دھمکی کا راستہ ترک کرکے باہمی احترام اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار کرے۔  

انھو نے کہا کہ ایران مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور اصول وضوابط کے مطابق اپنے عوام کے حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس سے بالا تر ہوکر کوئی مطالبہ پیش نہیں کیا ہے۔  

صدر ایران نے اسی طرح امریکا کی فوجی نقل و حرکت اور علاقے میں  نئے فوجی دستے  روانہ کرنے کے اقدام کو اس کے سیاسی راہ حل  اختیار کرنے  کے دعوؤں کے برخلاف قرار دیا  اور کہا کہ    یہ اقدامات حالات کی پیچیدگی بڑھانے اور مذاکرات کے ماحول کو خراب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتے۔

صدر ایران نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکا کو مسائل کے حل کے لئے پہلے سبھی رکاوٹیں ہٹانا اور محاصرہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران دباؤ، دھمکی اور محاصرے میں ہرگز مذاکرات نہیں کرے گا۔

 پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں صدر ایران سے، رہبر انقلاب اسلامی اور ایرانی عوام کو اپنا پرخلوص سلام پہنچانے کی درخواست کی اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد کی قدردانی کی ۔

انھوں بتایا کہ اس دورے میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ، تہران کا واضح پیغام ملا اور مسائل کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا۔
 

 رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر ملک کی ترقی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے؛ علم اور عمل۔

انہوں نے کہا کہ علم کی بنیاد رکھنے میں معلم کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہ صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ نئی نسل کی تربیت، سوچ کی تشکیل اور شناخت کی تعمیر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ آج کے طلباء مستقبل میں اپنے اساتذہ کے اخلاق، انداز گفتگو اور رویّے کو عملی زندگی میں ظاہر کریں گے۔

انہوں نے مزدور اور محنت کش طبقے کے بارے میں کہا کہ ملک میں کام کا میدان بہت وسیع ہے جو گھروں، دفاتر، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپس، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر یہ میدان محنت اور ذمہ داری کے جذبے سے بھر جائے تو قومی ترقی یقینی طور پر مضبوط ہوگی۔

پیغام میں مزید کہا گیا کہ بعض اوقات ایک مزدور اپنی محنت اور دیانت کے ذریعے اتنا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ہاتھ کو بھی استاد کی طرح احترام کے ساتھ چومنے کے قابل سمجھا جانا چاہیے۔ یہ تربیت انسان کو سب سے پہلے والدین اور پھر استاد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے 47 سال کی جدوجہد کے بعد دشمنوں کے مقابلے میں اپنی عسکری طاقت دنیا پر ثابت کر دی ہے، اب ضروری ہے کہ ایران اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست سے دوچار کرے۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ثقافتی جنگ میں سب سے مؤثر کردار معلم کا ہے اور اقتصادی جنگ میں مزدور طبقہ سب سے اہم عناصر میں شامل ہے، اسی لیے یہ دونوں ملک کی ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ اور مزدوروں کو اپنے مقام کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

رہبرِ انقلاب نے سالانہ رسمی تقریبات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف زبانی تعریف کافی نہیں، بلکہ ان طبقات کی عملی مدد ضروری ہے۔ جس طرح عوام اپنے دفاعی اداروں کی حمایت کے لیے میدان میں نکلتے ہیں، اسی طرح انہیں چاہیے کہ معلموں اور مزدوروں کے ساتھ بھی مضبوط تعاون کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے اپیل کی کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے انتظام میں والدین اور خاندانوں کا کردار بڑھایا جائے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر مزدور طبقے کی حمایت کی جائے۔ رہبر انقلاب نے کاروباری افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ مشکل حالات میں ملازمین کو نکالنے سے حتی المقدور پرہیز کریں اور ہر مزدور کو ادارے کا اثاثہ سمجھیں۔ حکومت کو بھی ایسے خیر خواہانہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔

رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اسلامی و ایرانی شناخت کو مضبوط کرکے، نئی نسل کی تربیت اور ملکی پیداوار کی حمایت کے ذریعے ترقی اور بلندی کی منزلوں کی طرف مزید تیزی سے بڑھے گا۔

 ایسٹ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین امیرحسینی نے اپنی ایک یاد داشت میں لکھا ہے خلیج فارس کا نام پانی پر نہیں لکھا ہے  بلکہ تاریخ کے حافظ میں ن‍قش ہوچکا ہے اوراس کا دفاع سیاسی تحریف کے مقابلے میں حقیقت کا دفاع ہے۔  

انھوں نے ارنا کے لئے لکھے گئے اپنے اس مقالے میں لکھا ہے کہ  آج لڑائیاں صرف فوجی میدان میں ہی شروع نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ایک اصطلاح اور ایک نام حتی نقشے سے کسی صفت کو حذف کردینا بھی بہت گہرا تنازعہ شروع ہوجانے کا باعث ہوسکتا ہے۔

  پروفیسرمحمد حسین امیرحسینی لکھتے ہیں کہ خلیج فارس وہ جگہ ہے کہ جہاں، تاریخ، سیاست اور تشخص، سب ایک نام میں  ضم ہوجاتے ہیں اور خلیج فارس ایک جغرافیائی نام ہے جو ایک  تمدن کا تاریخی حافظہ ہے۔

  وہ لکھتے ہیں کہ خلیج فارس کا مسئلہ ایک جغرافیائی نام پر صرف لفظی اختلاف کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس نام میں، تہہ در تہہ ، تاریخ ایران، تجارتی گروہ، جہازرانی، علاقائی سلامتی، نقشوں  کی زبان، سفرناموں کی ادبیات، سفارتی دستاویزات اور نام رکھنے کا بین الاقوامی نظام، سب کچھ موجود ہے۔ بنابریں، اس وسیع سمندری علاقے کے نام سے لفظ " فارس" کو حذف کرنے کی کوشش، درحقیقت، اہم ترین جیوپولیٹیکل خطے اور قدیمی ترین تہذیب سے ایران کا رابطہ منقطع کرنے کی کوشش ہے۔  

وہ لکھتے ہیں کہ یورپی نقشوں میں بھی یہی نام موجود ہے۔  معتبر برطانوی آرکائیوز، منجملہ بریٹش لائبریری میں متعدد نقشے اور سمندری چارٹ موجود ہیں جن میں اس خطے کے مقامی اور عربی  نام کے ساتھ ہی، انگریزی میں  Persian Gulf  یعنی خلیج فارس لکھا ہوا ہے۔ ان میں، انیسویں اور بیسویں صدی کے  اوائل سے متعلق نقشے اورسمندری چارٹ بھی شامل ہیں۔  اس سے  پتہ چلتا ہے کہ  جس زمانے میں یورپی نقشہ نویس، جنوبی ساحلوں کے نام لکھ رہے تھے، انھوں نے  اس پورے سمندری علاقے کا نام خلیج فارس لکھا ہے۔  

  پروفیسرمحمد حسین امیر حسینی نے لکھا ہے کہ " خلیج کا تعلق ماضی سے نہیں بلکہ حال اورمستقبل سے ہے۔ جب ہم اس کام صحیح نام لیتے ہیں تو صرف ایک صحیح اصطلاح  کا دفاع نہیں کرتے بلکہ تاریخ رابطے اور حقیقت کا بھی دفاع کرتے ہیں۔

 وہ لکھتے ہیں کہ  خلیج فارس پانی پر لکھا ہوا نام نہیں ہے جس کو  لہریں مٹادیں، یہ نام تاریخ کے حافظ میں محفوظ ہے۔   

نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل وسلے کلارک نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس ٹوماہاک میزائلوں کا 50 فیصد سے بھی کم ذخیرہ رہ گیا ہے۔ ایرانی حملوں میں ہم نے ایسے ریڈار کھو دیئے ہیں جن کی جگہ لینا مشکل ہے۔ اسی طرح تھاڈ انٹرسپٹرز کا نصف ذخیرہ استعمال کر لیا ہے۔ ان میزائلوں کو پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ اس سے پہلے پنٹاگون حکام نے امریکی کانفرنس کو دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ ایران جنگ پر اب تک 25 ارب ڈالر خرچ کیے۔ تاہم سی این این نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ جنگ کی حقیقی لاگت 40 سے 50 ارب ڈالر ہے۔ سی این این کے مطابق، 25 بلین ڈالر کا یہ سرکاری تخمینہ ایک "کم تر تخمینہ" ہے، جس میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے وسیع نقصان کی مرمت کی لاگت شامل نہیں ہے۔ اس معاملے سے واقف تین ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ جب امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیر نو اور تباہ شدہ اثاثوں کی تبدیلی کی لاگت کو شامل کیا جائے تو اس جنگ کی اصل لاگت کا تخمینہ 40 سے 50 بلین ڈالر کے قریب ہے۔

ایران غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، این بی سی نیوز
چند روز پہلے امریکی چینل این بی سی نیوز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کو معاہدے کی کوئی جلدی نہیں، وہ غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔ این بی سی نیوز نے ایران اور امریکہ کے درمیان تازہ صورتحال پر اپنی رپورٹ میں مغربی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ایران موجودہ حالات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن امریکی اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے فضائی حملوں میں شدت لائی، بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیں، سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا اور بحری ناکہ بندی کا حکم دیا۔ اس کے باوجود تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ این بی سی کے مطابق: “ایران کے رہنماؤں کے قتل اور متعدد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے باوجود، ایک مغربی سفارتکار اور انٹیلی جنس جائزوں سے آگاہ پانچ مغربی حکام کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے حملوں سے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے۔

ان حکام نے کہا کہ یہ حکومت غیر متوقع طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہو گئی ہے اور حتیٰ کہ کچھ حد تک زیادہ سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کر چکی ہے۔مغربی ذرائع نے مزید بتایا کہ ایران میں اصلاح پسند سیاسی دھڑا اب پس منظر میں چلا گیا ہے، کیونکہ امریکہ کی شدید بمباری اور ٹرمپ کے بار بار الٹی میٹم نے ان کے اس مؤقف کو کمزور کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ نرم رویہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ میں بھی سیاسی اخراجات بڑھ رہے ہیں؛ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، ٹرمپ اور چینی صدر کی اہم ملاقات متوقع ہے، اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئی رائے شماری کے مطابق، زیادہ تر ووٹرز ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایک مغربی عہدیدار نے این بی سی نیوز کو بتایا: “ایسا نہیں لگتا کہ ایرانی مذاکرات کے لیے جلدی میں ہیں۔”

ادھر امریکہ میں جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹرمپ کی حکمت عملی اور اس کے معاشی اثرات پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ این بی سی نیوز کے ایک نئے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی ٹرمپ کے جنگی انتظام سے متفق نہیں جبکہ صرف ایک تہائی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی طرح فوکس نیوز کے حالیہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور معیشت کے معاملے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کالج آف فارن سروس کے پروفیسر ڈینیل بیمن کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنما سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت اور امریکی عوام طویل جنگ برداشت نہیں کر سکتے اور معاشی و سیاسی اخراجات بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، بایمن نے Center for Strategic and International Studies (CSIS) کے لیے اپنے تجزیے میں لکھا: “ایرانی حکومت کے لیے یہ تصادم وجودی نوعیت کا ہے، جبکہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے بہتر ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے اور اسے بھلا دیا جائے، اس امید کے ساتھ کہ ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔”

“Mowing the Grass” حکمت عملی بھی ناکام ہو گی۔ امریکی تھینک ٹینک کا تجزیہ
 Mona Yacoubian واشنگٹن میں قائم Center for Strategic and International Studies کے مشرقِ وسطیٰ پروگرام کی ڈائریکٹر اور سینئر مشیر ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک تجزیئے میں اشارہ دیا کہ براہ راست جنگ میں مکمل ناکامی کے بعد اسرائیل پیٹ پیچھے حملہ کرنے کیلئے امریکہ کو راغب کر سکتا ہے، اس حکمت عملی کو Moving the Grass کا نام دیا جاتا ہے، یہ اصطلاح خود صیہونیوں کا متعارف کردہ ہے جسے حماس کیخلاف استعمال کیا گیا۔ 2013ء میں دو اسرائیلی ماہرینِ تعلیم نے اس اصطلاح کو متعارف کروایا، اس کا مطلب ہے آہستہ آہستہ دشمن کے اہم اہداف کو ٹارگٹ کرتے رہنا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے اور وقتی طور پر تنازع کو قابو میں رکھا جا سکے (ماضی میں ایرانی جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اسی حکمت عملی ایک مثال ہے) لیکن مونا لکھتی ہیں کہ غیر ریاستی مخالفین کے خلاف اس حکمت عملی کی خامیوں کے علاوہ، یہ طریقہ کار کبھی بھی ریاستی سطح کے حریفوں کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اگر غیر ریاستی عناصر ریاست جیسی خصوصیات یا زیادہ طاقتور صلاحیتیں حاصل کر لیں تو “Mowing the Grass” ایک پرانی حکمت عملی بن جائے گی۔

مونا لکھتی ہیں "آج کی صورتحال میں آئیں تو ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ مکمل جنگ کی طرف واپس جانے کے بجائے، امریکہ یا اسرائیل کو یہ لالچ ہو سکتا ہے کہ وہ “Mowing the Grass” اپنائیں، یعنی جب بھی اندازہ ہو کہ ایران اپنی طاقت دوبارہ بحال کر رہا ہے تو وقفے وقفے سے حملے کریں۔ اس منطق کے تحت وہ ایران کے خطرے کو صرف “manage” کرنے کی کوشش کریں گے، بغیر اس تنازع کے سیاسی مسائل حل کیے بغیر یہ ایک لامتناہی تھکا دینے والی حکمت عملی ہو گی جس کا کوئی انجام نہیں۔ لیکن یہ طریقہ کار کامیاب نہیں ہو گا۔ ایران حماس نہیں ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی آبادی 9 کروڑ سے زیادہ ہے؛ اس کے پاس 400 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے اور اب وہ عملاً آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر اسے خطرہ محسوس ہوا تو ایران اپنی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کے ذریعے دوبارہ خلل پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز پر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے، تہران یہ دکھا چکا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ میں خلل ڈالنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔"

اس سے پہلے اسی تھینک ٹینک کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف سات ہفتوں کی جنگ کے دوران اہم میزائلوں کے اپنے ذخائر خطرناک حد تک کھو دیئے ہیں، جس سے ایک “قریب المدتی خطرہ” پیدا ہو گیا ہے اور آئندہ کسی بھی جنگ میں اس کی کمزوری ظاہر ہو سکتی ہے۔ Center for Strategic and International Studies (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق شدید جنگی کارروائیوں نے امریکہ کے جدید ترین ہتھیاروں کا بڑا حصہ ختم کر دیا ہے، جن میں کم از کم 45 فیصد Precision Strike Missiles (PrSM)، تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے انٹرسیپٹرز، اور آدھے سے زیادہ تھاڈ میزائل شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار پینٹاگون کے خفیہ اندازوں سے بھی کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ کمی صرف فضائی دفاعی نظام تک محدود نہیں ہے۔ تجزیے کے مطابق اس مہم کے دوران امریکہ نے اپنے ٹوماہاک کروز میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 30 فیصد، طویل فاصلے تک مار کرنے والے Joint Air-to-Surface Standoff Missiles (JASSM) کا 20 فیصد سے زیادہ، اور SM-3 اور SM-6 انٹرسیپٹرز کا بھی لگ بھگ 20 فیصد استعمال کر لیا ہے۔

 CSIS کی رپورٹ کے مطابق اس کمی نے امریکہ کی کسی اور بڑے پیمانے کی جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بنیادی طور پر کمزور کر دیا ہے، خاص طور پر چین جیسے طاقتور حریف کے خلاف۔ رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ ان ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا ایک سست اور مہنگا عمل ہو گا۔ ایک ماہر نے سی این این کو بتایا کہ “ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں ایک سے چار سال لگ سکتے ہیں، اور اس کے بعد انہیں مطلوبہ سطح تک بڑھانے میں مزید کئی سال درکار ہوں گے۔” اسی ماہ کے آغاز میں وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون نے بڑی امریکی کار ساز کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ شہری فیکٹریوں کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

ٹرمپ کے ایک کے بعد ایک غلط دعوے
جنگ میں بدترین ناکامی اور شکست کو چھپانے کیلئے ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں کی حقیقت تو پوری دنیا جانتی ہے تاہم امریکی چینل سی این این نے ٹائم لائن کے ساتھ ٹرمپ کے بے بنیاد دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: “پوپ نے بیان دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔” حالانکہ پوپ لیو، جو جوہری ہتھیاروں کے واضح مخالف ہیں، نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ گزشتہ بدھ کو نشر ہونے والے Fox Business کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کی توقع نہیں تھی، جبکہ حقیقت میں ایران کی جوابی کارروائیوں کا خدشہ پہلے سے موجود تھا۔

اس سے پہلے اتوار کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: “ان (ایران) کی فوج ختم ہو چکی ہے، سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔” حالانکہ ایران کی فوج واضح طور پر اب بھی موجود تھی اور تباہ کن صلاحیت رکھتی تھی، اگرچہ امریکہ اور اسرائیل نے اسے کچھ حد تک کمزور کیا تھا۔ 6 اپریل کی ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا ایک بیان اس بات کی واضح مثال تھا کہ جنگ کے بارے میں ان کے کئی دعوے حقیقت سے کس قدر دور تھے۔ انہوں نے کہا: “اصل میں ہم نے جو جہاز کھوئے، وہ صرف ‘فرینڈلی فائر’ (اپنی ہی فوج کی فائرنگ) کی وجہ سے تھے۔” حالانکہ اسی تقریب میں وہ پہلے یہ بھی بیان کر چکے تھے کہ ایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔ سی این این نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں وہ مختلف موضوعات پر غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔ چاہے انہوں نے جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کیا ہو یا وہ خود غلط معلومات کا شکار رہے ہوں۔

ان کے بیانات کی کثرت نے یہ مشکل بنا دیا ہے کہ ایران کے بارے میں ان کے دعوؤں پر اعتماد کیا جائے۔ گزشتہ ہفتے صحافیوں سے فون پر گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ بڑی رعایتوں کے بارے میں کئی دعوے کیے، جب سی بی ایس نیوز کی نامہ نگار Weijia Jiang نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا ایران نے مستقل طور پر یورینیم افزودگی روکنے پر اتفاق کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: “انہوں نے ہر چیز پر اتفاق کر لیا ہے۔” ماہرین نے ان دعوؤں پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ جلد ہی ایرانی حکام نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات تسلیم کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: “افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔" ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا: "امریکہ کے صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، اور ساتوں غلط تھے۔”
 
"زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے"
 یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ECFR) کی سینئر فیلو، ایلی گیرانمائی نے امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے سی این این پر اپنا تجزیہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی وہی پرانی امریکی پالیسی ہے جو 40 سال سے ناکام ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ آج کی تباہ کن جنگ ہے جس کے معاشی اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ دباؤ کے جواب میں وہ مزاحمت کرے گا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایران  کیا ایران کی اندرونی قیادت میں الجھن اور تضاد راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ  میرے لیے تو امریکہ کی جانب سے آنے والے متضاد بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس زیادہ الجھن کا باعث ہیں۔
 
فارن افیئرز میگزین کا تجزیہ: ایران فتح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
امریکی جریدہ فارن افیئرز نے ایک تجزیے وضح کیا کہ امریکہ کے پاس فتح کے اعلان کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ تجزیئے کے مطابق "امریکہ نے شاید عسکری طور پر ایران پر غلبہ حاصل کیا ہو، اس کی مسلح افواج کو شدید نقصان پہنچایا ہو اور اس کے بدلے میں خود نسبتاً کم جانی نقصان اٹھایا ہو۔ لیکن امریکی اپنی فوج سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں، اور محض اسلامی جمہوریہ کو لہولہان کر دینا انہیں زیادہ متاثر نہیں کر سکے گا۔ امریکی کسی جنگ کو واضح فتح اسی صورت میں تسلیم کرتے ہیں جب امریکہ نے مخالف حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں اپنی پسندیدہ حکومت قائم کر دی ہو۔ ایران کو پہنچنے والی تمام تر تباہی کے باوجود، اس کی حکومت اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ لہٰذا، امریکی اس جنگ کو وسائل کا ضیاع سمجھیں گے، خاص طور پر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ بمباری ایران کے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" پر ختم ہو گی۔

اس کے برعکس، تہران بیانیے پر قبضہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ ایک کمزور طاقت کے طور پر، جس نے جنگ شروع نہیں کی تھی، وہ بڑے فوجی نقصانات کے باوجود محض اپنی بقا کو فتح قرار دے سکتا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے 8 اپریل کے بیان میں کہا، "ایران کے مجرم دشمنوں نے جب یہ جابرانہ جنگ شروع کی تھی، تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ قلیل وقت میں ایران پر مکمل فوجی غلبہ حاصل کر لیں گے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن ایران کے بھرپور جواب نے ان کے خواب چکنا چور کر دیے۔" واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ شاید ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن اگر امریکی ناکامی اور ایرانی کامیابی کا یہ تاثر پختہ ہو گیا، تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں یہ بیانیے ریپبلکن پارٹی کو کمزور کر سکتے ہیں، جبکہ ایران میں یہ حکومت کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

 جنگ کا عوامی تاثر پھر بھی واشنگٹن کے حق میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی محض جنگی غلبے کو فتح نہیں مانتے۔ امریکیوں کے نزدیک جیت کا مطلب فیصلہ کن کامیابی ہے، دشمن کو مکمل شکست دینا، اس کا نظامِ حکومت ختم کرنا اور وہاں ایک دوست حکومت قائم کرنا۔ امریکی ماڈل دوسری جنگِ عظیم ہے، جو نازی جرمنی اور جاپان کی مکمل شکست پر ختم ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی خود کو فاتح کے طور پر نہیں دیکھ رہے کیونکہ نتائج ان کے معیار سے بہت پیچھے ہیں۔ ایرانی حکومت نہ صرف بچ گئی ہے بلکہ اس نے سر بھی نہیں جھکایا۔ امریکہ اور اسرائیل نے رہبرِ معظم علی خامنہ ای کو قتل کیا، لیکن ان کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ نے لے لی۔ جوہری ڈھانچے پر حملے ہوئے لیکن تہران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا ہیڈ کوارٹر تباہ ہوا، لیکن اب اس کا ملک پر کنٹرول پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سروے بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ کو ایک غیر ضروری ناکامی سمجھ رہے ہیں۔

 ایران کا جنگی تجربہ امریکہ کے برعکس رہا ہے۔ ایرانیوں نے چوبیس گھنٹے فضائی حملے سہے، اپنی بحریہ اور فضائیہ کا بڑا حصہ کھو دیا اور ہزاروں فوجی و شہری جانیں گنوائیں۔ لیکن اس کے باوجود تہران کے لیے فتح کا اعلان کرنا آسان ہو گا۔ ایران کے لیے محض بقا ہی ایک فتح ہے، اس بات کا ثبوت کہ بڑی امریکی اور اسرائیلی افواج بھی اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکیں۔ ایران اپنی فتح کا اعلان اس لیے بھی کر سکتا ہے کیونکہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک مادی فائدہ بھی ہے: رپورٹس کے مطابق ایران ہر جہاز سے 20 لاکھ ڈالر وصول کر رہا ہے۔ بہت سے مبصرین کے لیے ہزاروں امریکی فضائی حملے بے معنی ہو گئے ہیں کیونکہ واشنگٹن اس آبی گزرگاہ کو نہیں کھلوا سکا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخذ
https://edition.cnn.com/2026/04/20/tv/video/ellie-geranmayeh-iran-war-pakistan-talks-amanpour
https://us.cnn.com/2026/04/20/politics/analysis-trump-claims-iran-war
https://www.rt.com/news/638914-us-missile-stockpiles-depelting/
https://www.csis.org/analysis/why-mowing-grass-wont-work-iran
https://www.foreignaffairs.com/iran/iran-war-expectations-game
https://www.nbcnews.com/politics/white-house/trump-facing-increasingly-patient-iran-rcna341592
ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم

 
 
 
 

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وہ نظام جس میں امریکہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اب بتدریج ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک نیا کثیر الجہتی عالمی نظام ابھر رہا ہے جس میں مختلف طاقتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس تناظر میں مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، کا رویہ بھی بدلتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں ماضی میں وہ عالمی قوانین اور اداروں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے تھے، وہیں اب یکطرفہ اقدامات، دھمکیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشی پابندیاں جو کبھی ایک مؤثر ہتھیار سمجھی جاتی تھیں، اب اپنی تاثیر کھو رہی ہیں اور اس کے برعکس عالمی سطح پر مغربی مالیاتی نظام پر عدم اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات کو مغرب کی کمزوری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست میں یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی ہے جس میں چین، روس اور دیگر علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔ اس نئی صورتحال نے مغرب کے لیے اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس کے برعکس ایران کی اندرونی مضبوطی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی دنیا اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں وہ عالمی نظام کو منظم کرنے کے بجائے ردعمل دینے پر مجبور ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور بحرانوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

معاشی اور ثقافتی میدان میں بھی مغرب کو چیلنجز درپیش ہیں۔ ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششیں، علاقائی تعاون کا فروغ، اور مقامی بیانیوں کی کامیابی اس تبدیلی کی واضح علامات ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کا عالمی نظام ایسا ہوگا جس میں کوئی ایک طاقت مکمل کنٹرول نہیں رکھے گی بلکہ مختلف ممالک اور خطے مشترکہ طور پر عالمی امور میں کردار ادا کریں گے۔ ایسے میں مغرب کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئی حقیقتوں کو تسلیم کرے اور خود کو اس بدلتے ہوئے نظام کے مطابق ڈھالے۔

اگر مغرب نے پرانے طریقوں پر اصرار جاری رکھا تو اس کے زوال میں مزید تیزی آ سکتی ہے، تاہم اگر وہ خود کو ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر پیش کرے تو وہ نئی عالمی نظام میں اپنا کردار برقرار رکھ سکتا ہے۔