سلیمانی
ایرانی مسلح افواج دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں: ڈپٹی کمانڈر برائے سیاسی امور
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر برائے سیاسی امور میجر جنرل یداللہ جوانی نے العالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ارنا کے مطابق میجر جنرل ید اللہ جوانی نے العالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے حساب کتاب میں ایک اسٹریٹیجک غلطی کی اور اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس خیال کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا کہ وہ چند دن کے اندر اندر ایرانی مسلح افواج کو شکست ، ملک کو تقسیم اور ایران پر اپنا تسلط بحال کر سکتا ہے۔ تاہم، جنگ میں ہونے والی پیش رفت نے واضح کردیا کہ یہ تخمینے میدانی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور اس بات ہمارا جواب پہلے کہیں زیاد سخت ہوگا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر برائے سیاسی امور نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ کو دوبارہ شروع کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب تک اس طرح کی کارروائی کے نتائج کے بارے میں مطمین نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جنگ میں مدر آف آل بم کا استعمال کرکے بھی امریکہ اور صیہونی حکومت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گے۔
میجر جنرل یداللہ جوانی نے علاقائی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کو خطے کی قوموں اور حکومتوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہم بعض علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے استعمال کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے پہلے اعلان کیا ہے کہ وہ ان اڈوں کو نشانہ بنائے گا جو اس ملک پر حملے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، اس پوزیشن کا مطلب ان اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کے خلاف دشمنی نہیں ہے۔
پیرا ایشین گیمز میں ایران کا ایک اور سونے کا تمغہ
ایران کے پیرا اتھیلیٹ علی رضا زارع نے مردوں کے ٹی 35 کیٹیگری میں 100 میٹر کی دوڑ کے فائنل میں پیراایشین گیمز کا اب تک کا ریکارڈ توڑ دیا ۔
انھوں نے 12 اعشاریہ 32 سیکنڈ میں یہ فاصلہ طے کرکے، نیا ریکارڈ قائم کرکے سونے کا تمغہ حاصل کرلیا۔
علی رضا زارع نے عراق، ہندوستان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن اورگولڈ میڈل حاصل کیا۔
ٹرمپ ایران کو جھکانے میں ناکام: صیہونی میڈیا
ایک صیہونی اخبار نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے بحرانوں کو حل کرنے میں امریکا کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ٹرمپ، اسلامی جمہوریۂ ایران کو سرینڈر پر مجبور کرنے سے عاجز ہیں۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسرائيلی اخبار "یدیعوت آحارونوت" نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے نظام کو جھکانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس اخبار نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ٹرمپ کی ٹیم، امریکا کے صدر کے کم ترین مطالبے بھی ایران سے منوانے کی اہلیت نہیں رکھتی، دعویٰ کیا کہ ان مطالبوں میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنا اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آزادانہ جہاز رانی کا احترام شامل ہے۔
اس صیہونی اخبار نے ایران کے خلاف جارحانہ حملوں کے دوران صیہونی حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیلی فوج اور موساد کے پاس اب تک اس سوال کا کوئی واضح اور عملی جواب نہیں ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا اگلا دور وہ کون سے مقاصد حاصل کرے گا جو پچھلے ادوار میں حاصل نہیں ہوسکے؟ اور کیا جنگ کا اگلا دور ہمیں چند ماہ یا چند سال بعد یا اس کے بعد کے ادوار میں ایک اور جنگ سے بے نیاز کردے گا؟
دریں اثنا ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے "الجدید" ٹی وی چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ایران کے خلاف حالیہ جارحیت کے بارے میں کہا کہ تاریخ ہمارے دفاع کو یاد رکھے گی، جس طرح وہ ان طاقتوں کی شکست بھی درج کرے گی جو ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے خطے میں ایک اور جنگ کے امکان کے بارے میں کہا کہ ایران نے بارہ روزہ جنگ اور اسی طرح رمضان جنگ کے نام سے موسوم چالیس روزہ جنگ میں دنیا کی سب سے طاقتور افواج اور جوہری ہتھیاروں سے لیس حکومتوں کے خلاف تن تنہا مزاحمت کی۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور عزم پر یقین ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایک اور جنگ ہوئی تو ہم نہ صرف جارحین کو سزا دیں گے بلکہ حالات کو بھی بدل دیں گے تاکہ صورت حال ان تبدیلیوں سے پہلے والی کیفیت پر واپس نہ جاسکے۔
خطیب زادہ نے انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت خطے میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے اور یہ صورت حال امریکا اور اسرائیل کے حق میں نہیں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سب واقف ہیں۔
اٹلی میں بنیادی انسانی حقوق کی پابندی کا مطالبہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے ایک بیان جاری کرکے اٹلی کی حکومت سے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور پر امن اجتماعات کے حق کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنوینشنوں کے منافی ہر اقدام کی بابت اطالوی حکام کی جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے یہ بیان ایسی حالت میں جاری کیا ہے کہ میلان، تورین اور بولونیا سمیت اٹلی کے مختلف شہروں میں، اقتصادی اور سماجی مشکلات، اور منہگائی کے خلاف وسیع پیمنے پر مظاہروں نیز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔
رپورٹوں میں بتایاگیا ہے کہ اٹلی کی پولیس نے عوامی مظاہروں کی سرکوبی کے دوران، آنسوگیس اورپانی کی توپوں کا استعمال کیا اور وسیع پیمانے پرنوجوانوں کو گرفتاری کرلیا ہے۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکاروں کے بھی زخمی ہونے اور بعض دکانوں اور بازاروں میں لوٹ مار کی بھی خبریں ملی ہیں۔
ایران کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے اپنے بیان میں، تشدد اور لوٹ مار اور غارتگری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض لوگوں کے غارتگری اور لوٹ مار کے اقدام اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتے کہ سبھی مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک اور طاقت کا بے جا استعمال کیا جائے۔
آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والا آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی علاقے میں ایک آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم میں دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
تفصیلات کے مطابق، ایرانی بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے روانگی کے مقام سے ہی تمام پوزیشننگ اور نیویگیشن نظام بند کر رکھے تھے اور آبنائے ہرمز کے ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے جنوبی حصے میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
پاسداران انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والے جہازوں نے اگر اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کیے تو ان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی "فادر آف میزائل" دشمن کے توانائی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے، جنرل نقدی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کا باپ تیار کر رکھا ہے اور دشمن کی کسی بھی غلطی کی صورت میں اس کے لیے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق، جنرل محمد رضا نقدی نے شمالی شہر ساری میں جان فدای ایران مہم میں شریک ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب دیا جائے گا اور دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
جنرل نقدی کا ایرانی میزائلوں کے ’باپ‘ سے متعلق بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کے خلاف جی بی یو 43/بی نامی طاقتور بم استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس بم کو عام طور پر ’تمام بموں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔
ایرانی جنرل نے خبردار کیا کہ کسی بھی غلط فیصلے کی صورت میں خطے میں جارح قوتوں کے تمام بنیادی ڈھانچے اور توانائی سے متعلق تنصیبات ایرانی میزائلوں کی عملی دسترس میں ہوگی اور ان کی سلامتی براہ راست خطرے میں پڑ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے امریکی فوجی دھمکیوں کے جواب میں اپنی میزائل صلاحیتوں اور دفاعی ڈیٹرنس کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے ایران کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنرل نقدی نے زور دیا کہ ایران کی طاقت اور کامیابیوں کی بنیاد محض فوجی سازوسامان نہیں، بلکہ ایرانی عوام کی بھرپور شرکت، آمادگی اور مزاحمت ہے۔ ایرانی قوم کی تیاری اور مزاحمت نے دشمن کو زمینی دراندازی سے روکا، جبکہ سمندر میں مخالف جہازوں کو ایک ہزار کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات واشنگٹن کے ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے جن میں ایران کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر کوئی فریق واقعی فتح حاصل کر چکا ہو تو اسے اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی
امریکیوں کو احساس ہو گیا کہ ایران کی قوتِ مزاحمت کے بارے میں ان کے اندازے غلط تھے
حجۃ الاسلام والمسلمین حسین طائب نے کہا کہ : "اسرائیلیوں اور امریکیوں کا خیال تھا کہ ہماری قوم کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے، اور وہ تین روزہ یا چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے ذریعے ہماری قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔"
بسیج آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا کہ "یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ہماری قوم کمزور نہیں پڑی؛ بلکہ ڈٹی رہی۔ ہماری مسلح افواج ثابت قدم رہیں، اور امریکیوں کو احساس ہو گیا کہ ان کا اندازہ غلط تھا۔"
طائب نے مزید کہاکہ آج صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ امریکیوں اور اسرائیلیوں نے اپنی اسٹریٹیجی بدلنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اب انہوں براہِ راست اور ہمہ گیر جنگ کے بجائے، اپنی پراکسی قوتوں، علاقائی و بین الاقوامی اتحادوں اور معاشی دباؤ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی اس بات سے غافل رہے کہ آبنائے ہرمز قوتِ مزاحمت کے تناظر میں طاقت کے توازن ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ اگر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پابندیوں اور ناکہ بندی کے ذریعے ہماری قوم کو کمزور کر سکتے ہیں، تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ موجودہ حالات میں، آبنائے ہرمز کی بندش ایک ایسا اہم عنصر ہے جو امریکہ اور عالمی معیشت، دونوں کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
قلب امریکا میں ایران کی جونیئر فری اسٹائل ریسلنگ ٹیم کی تاریخی فتح
اسلامی جمہوریہ ایران کی انڈر 23 فری اسٹائل ریسلنگ ٹیم چار گولڈ میڈل سمیت 9 تمغوں اور 180 پوائنٹ کے ساتھ ، لاس ویگاس ورلڈ فری اسٹائل ریسلنگ چیمپئن شپ جیت لی۔
انڈر 23 فری اسٹائل ریسلنگ چیپمئن شپ کے مقابلے، 16 سے 19 اکتوبر تک امریکا کے شہر لاس ویگاس میں انجام پائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی انڈر 23 فری اسٹائل ریسلنگ ٹیم نے چار سونے، ایک چاندی اور چار کانسی کے تمغوں نیز 180 پوائنٹ کے ساتھ چیپمئن شپ جیت لی۔
ایران کے اہورا خاطری نے 65 کلووزن کے مقابلے میں، مہدی یوسفی نے 79 کلووزن کے مقابلے میں، ابوالفضل رحمانی نے 92 وزن کے مقابلے میں اور ابوالفضل محمد نژاد نے 125 کلووزن کے مقابلے میں سونے کے تمغے، ابراہیم الٰہی نے 70 کلووزن کے مقابلے میں چاندی کا تمغہ اورابراہیم خواری نے 61 کلووزن کے مقابلے میں، علی کرم پور نے 74 کلووزن کے مقابلے میں، رضا افشار نے 86 کلووزن کے مقابلے میں اور محمد مبین عظیمی نے 97 کلووزن کے مقابلے میں کانسی کے تمغے حاصل کئے۔
لاس ویگاس انڈر 23 فری اسٹائل ورلڈ ریسلنگ چیپمئن شپ میں ایران 180 پوائنٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر، روس 171 پوائنٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور امریکا 104 پوائنٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
فوج کے ترجمان: امریکی بحری جہاز ایران کے ساحلوں سے 500 کلومیٹر دور ہٹ گئے، نئے آپریشنل منصوبے زیر عمل
-فوج کے ترجمان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: دشمن نے موجودہ جنگ میں ملک کے خلاف ایک کثیر جہتی جنگ شروع کی ہے، جس کا ایک پہلو فوجی ہے جو دیگر پہلوؤں سے زیادہ آشکار اور قابل مشاہدہ ہے۔
فوج کے ترجمان نے ملک کی فضائی دفاع کی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں کہا: فوج کی فضائی دفاع کی یونٹ اور فضائی دفاع کے ہیڈکوارٹر کے تحت نئے آپریشنل اور سازوسامان کے منصوبے تیار اور نافذ کیے گئے ہیں، جن کا اس فورس کی جنگی صلاحیت کو بہتر کرنے میں قابل توجہ اثر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اسی طرح فضائی دفاع کے شعبے میں ہائیبریڈ اور نئے آپریشنز تیار کئے ہیں جن کی مشق بھی کی گئ ہے۔
امیر اکرمی نیا نے یہ بتاتے ہوئے کہ ملک کی فضائی دفاع میں، جنگ کے دور اور حتی جنگ کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، زور دیا: آج ہم نے ملک کی دفاعی ڈھال کو سازوسامان اور آپریشنل حربوں کے لحاظ سے بہت زیادہ مضبوط کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: آبنائے ہرمز کے مغرب سے خلیج فارس تک کا علاقہ، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے اور آبنائے ہرمز کے مشرق، بحیرہ عمان، بحیرہ عرب اور بحر ہند کے شمالی حصے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحریہ کی نگرانی اور کنٹرول میں ہیں۔
فوج کے ترجمان نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امریکی صدر دعوی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول ہے اور انہوں نے اس آبی گزرگاہ پر اپنا نام بھی رکھ دیا ہے، لیکن اس ملک کی فوجیں آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی جرات نہیں رکھتیں۔
انہوں نے مزید کہا: امریکی بحری جہاز ہمارے ملک کے ساحلوں سے 500 کلومیٹر سے زیادہ دور ہٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور آج امریکی جنگی جہاز بحیرہ عمان میں بھی نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحری افواج کی باوقار موجودگی اور اطلاعاتی غلبے نے خطے میں امریکی افواج کو ساحلوں اور آبنائے ہرمز کے علاقے کے قریب آنے کی جرات نہیں رہنے دی۔
فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بارے میں جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کے مالکان کو خبردار کرتے ہوئے کہا: جہازوں کے مالکان کو معلوم ہونا چاہیے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی سے ممکن ہے۔
بحریہ کا اعلان: آبنائے ہرمز کے مشرق میں آتش زدگی کا شکار ہونے والے بحری جہاز کی شناخت کر لی گئی ہے
کچھ گھنٹے قبل، بحریہ کی نگراں یونٹ نے آبنائے ہرمز کے مشرق میں خلاف ورزی کرنے والے ایک تیل بردار جہاز شناخت کر لی ہے جس میں آگ لگ گئی تھی۔
خلاف ورزی کرنے والے اس تیل بردار جہاز نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا تھا اور وہ آبنائے ہرمز کے مشرق کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ممنوعہ حصے سے گزرنے کے نتائج بحری جہازوں کے لئے خطرناک ہے۔






















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
