سلیمانی
ناکہ بندے کے بدلے ناکہ بندی، بحیرہ احمر میں بدلتا توازن
اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن اب دفاعی حکمت عملی سے نکل کر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے اثرات بہت وسیع ہوں گے اور صرف یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے دائرے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسی تناظر میں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" پر مبنی مساوات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے گذشتہ بارہ سال سے یمن کے خلاف محاصرہ کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے ذخائر کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ صورتحال قابل برداشت نہیں ہے اور آج کے بعد سعودی عرب کے خلاف سمندری محاصرہ شروع کر دیا جائے گا۔ یحیی سریع نے خبردار کیا کہ ریاض کی جانب سے تناو میں شدت لانے کی صورت میں یمن بھی فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب دے گا۔
یکطرفہ ڈیٹرنس کا دور ختم
یمن کی مسلح افواج کے اس بیانیے سے جو چیز سب سے زیادہ واضح ہے وہ ڈیٹرنس پر مبنی اصولوں میں تبدیلی ہے۔ جنگ کے ابتدائی سالوں میں سعودی عرب برتر فوجی اور سمندری پوزیشن کا حامل تھا جس کی بدولت وہ سمجھتا تھا کہ بھاری قیمت چکائے بغیر ہی صرف اقتصادی محاصرے اور فضائی حملوں کے ذریعے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن حالیہ چند سالوں کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ صنعاء نے دھیرے دھیرے میزائل طاقت، ڈرون طیاروں اور بحریہ جیسے شعبوں میں ترقی کی ہے اور اب اس نے سعودی عرب کے اندر والے علاقوں سے لے کر بحیرہ احمر تک فوجی اقدامات انجام دینا شروع کر دیے ہیں۔ درحقیقت یمن کی نئی حکمت عملی اس اصول پر استوار ہے کہ اگر یمنی عوام کی معیشت اور زندگی محاصرے کا شکار ہے تو سعودی عرب کی معیشت اور انرجی کی سلامتی بھی محفوظ نہیں رہنی چاہیے۔
بحیرہ احمر کی جیوپولیٹیکل اہمیت
بحیرہ احمر محض ایک آبی راستہ ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت کہ ایک اہم ترین شاہرگ بھی ہے۔ ایشیا اور یورپ میں انجام پانے والی تجارت کا بڑا حصہ بحیرہ احمر سے گزرتا ہے جس میں عرب ممالک کی انرجی کی مصنوعات اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی شامل ہے۔ بحیرہ احمر میں ہر قسم کا خطرہ بلافاصلہ سمندری ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جانے، بحری جہازوں کی انشورنس فیس میں اضافے، اور انرجی کی عالمی تجارت متاثر ہونے کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یمن اپنی دھمکیوں پر عملدرآمد شروع کر دیتا ہے تو صرف سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ بحیرہ احمر کی سلامتی کی تمام مساواتیں ہل کر رہ جائیں گی۔ اسی طرح بحری جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک جائے گی اور درپیش خطرات کے باعث انشورنس فیس میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
اقتصاد، نیا میدان جنگ
اس تبدیلی کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اب میدان جنگ فوجی جغرافیہ سے ہٹ کر معیشت اور اقتصاد کی سمت منتقل ہو رہا ہے۔ جدید جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگیں اس وقت ڈیٹرنس کے مرحلے پر پہنچتی ہیں جب مدمقابل محسوس کرتا ہے کہ جنگ کے اخراجات حاصل ہونے والے مفادات سے کہیں زیادہ ہو جائیں گے۔ سعودی عرب گذشتہ بارہ سالوں کے دوران یمن جنگ پر اربوں ڈالر کے اخراجات کر چکا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی کوشش رہی ہے کہ اپنی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھے۔ لیکن اب اگر یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیتی ہیں تو یہ ریاض کے لیے قابل برداشت نہیں ہو گا اور وہ اس جنگ کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
خطے کی نئی مساواتیں
خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض ایک اندرونی بحران یا حتی صنعاء اور ریاض کے درمیان ٹکراو کی حد تک باقی نہیں رہی بلکہ مغربی ایشیا میں جاری جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اس کا علاقائی طاقت کے دیگر پہلووں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی نظر میں جس قدر تجارت اور انرجی کی شاہرگوں پر علاقائی کھلاڑیوں کی اثرانداز ہونے کی طاقت میں اضافہ ہو گا اسی قدر ہر قسم کے بیرونی حملے یا دباو کی قیمت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لہذا یمن کا اقدام علاقائی ڈیٹرنس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جانے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں محض فضائی برتری یا فوجی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ آبی راستوں کی سیکورٹی، جہازرانی اور انرجی کی تجارت پر کنٹرول فیصلہ کن قرار پائے گی۔
عالمی منظرنامہ اور اربعین کی نئی معنویت
عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اپنے دورہ ایران میں صدر ایران سمیت اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران اور عراق کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ، توانائی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے واضح کیا کہ عراق اور ایران کا امن و استحکام باہم جڑا ہوا ہے اور عراق اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے تہران میں بہت مصروف دن گزارا۔ انہوں نے سب سے پہلے ایران کے صدر سے ملاقات کی۔
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور عراق کے وزیراعظم علی فالح الزیدی نے پہلے ون آن ون ملاقات کی، اس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ دوطرفہ تعاون کے مختلف معاہدوں کا جائزہ لیا گیا۔ ملاقات میں ایران اور عراق کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ، توانائی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات، امن، استحکام اور خوشحالی کو تقویت ملے گی بلکہ پورے خطے میں یکجہتی اور تعاون بھی مضبوط ہوگا۔
عراق کے وزیراعظم "علی فلاح الزیدی" نے اس دورے میں ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر "محمد باقر قالیباف" سے بھی ملاقات اور گفتگو کی۔ عراقی وزیراعظم اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے قالیباف نے عراقی شہروں میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شاندار تدفین کے انعقاد پر عراقی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ ہم اربعین زائرین کی مہمان نوازی پر عراقی قوم اور حکومت کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت بلاشبہ تمام اسلامی ممالک کی دشمن ہے، مزید کہا کہ صیہونی حکومت جو مسلمانوں کی نمبر ایک دشمن ہے، اس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ایران اور عراق کے درمیان تعاون یقیناً موثر ہے۔
عراق کے وزیراعظم علی الزیدی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین غلام حسین محسنی ارژای سے بھی ملاقات کی۔ ایران کی عدلیہ کے سربراہ کا اس ملاقات میں کہنا تھا کہ اگرچہ ایران، امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت اور دشمنی کی زد میں ہے، لیکن وہ وقار اور طاقت کے ساتھ اور اپنی قوم اور نظام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ یاد رہے عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عراق اور ایران کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی روابط کے ساتھ ساتھ بہت سے مشترکہ مفادات موجود ہیں، جو باہمی احترام، مسلسل مکالمے اور تعاون کو ناگزیر بناتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کے توسط سے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی یا مختصر جنگ بندی اس وقت تک قابلِ قبول نہیں، جب تک آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے بنیادی اسٹریٹجک مسائل کا مستقل حل پیش نہ کیا جائے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عراقی وزیراعظم کے پیغام رسانی کے عمل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کا نہیں بلکہ امریکا کا غیر منطقی اور تسلط پسندانہ رویہ ہے۔ دوسری جانب علاقائی ممالک کی ثالثی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے بنیادی اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود بتائے جا رہے ہیں۔
سپاہ پاسداران کا اہم اعلان
سپاہ پاسداران انقلاب نے عرب ممالک کے عوام سے درخواست کی ہے کہ امریکی غاصب فوجیوں کے خفیہ ٹھکانوں یا ان کی نقل و حرکت سے اطلاع کی صورت میں ٹیلیگرام سوشل میڈیا میں @sepahnewsiradmin کے ایڈرس پر اس کی اطلاع دے دیں یا پھر Sepahnews.ir میں Contact Us پر جا کر یہ معلومات فراہم کریں۔ دراین اثناء اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے دہشتگرد امریکی فوج کی جارحیتوں کے جواب میں علاقے کے مختلف علاقوں میں امریکی فوجی اڈوں کو کامیاب حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ صاعقہ آپریشن کے چوبیسویں مرحلے میں بحرین کی شیخ عیسی ایئر بیس میں امریکی فوج کے ایندھن کے ٹینکوں، سنگين اشیاء کے گوداموں اور فوجی بیرکوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی فوج نے صاعقہ آپریسن کے پچیسویں مرحلے میں کویت میں امریکی فوج کے اڈوں پر ڈرون حملے کئے اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے تباہ کن ڈرونز نے العدیری کیمپ میں دہشت گرد امریکی فوج کے ساز و سامان کے ڈپو، دوحہ بیرکوں میں "امریکی فوجیوں کی جائے رہائش اور عرفجان کیمپ میں مغرور دشمن قوتوں کے ٹھکانے کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے دشمن کے مذموم عزائم کے جواب میں مزید شدید ڈرون اور میزائلی کارروائيوں کے جاری رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود فریبی کے شکار امریکی صدر کی دھمکیاں جارحین کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام اور مسلح افواج کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط بنائيں گی۔ ایران کی فوج نے اپنے ڈرون آپریشن کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اردن اور بحرین میں بھی جارح امریکی فوج کے اہم مراکز کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ دراین اثناء فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے اپنے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صاعقہ آپریشن کے چوبیسویں مرحلے میں، جمعہ کی صبح بحرین کی شیخ عیسیٰ ایئر بیس میں امریکی فوج کے ایندھن کے ٹینکوں، سنگين اشیاء کے گوداموں، شیڈوں اور ان کی بیرکوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے صاعقہ آپریشن کے اس مرحلے کو جاری رکھتے ہوئے، اردن میں الازرق بیس پر دہشتگرد امریکی فوج کے ایئر کرافٹ ہینگرز، ایئر کرافٹ مینٹیننس ہینگرز اور ان کی بیرکوں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ قوم کے جائز اور قانونی مفادات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے خلاف کوئی بھی اقدام، خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی اور ان کے اقتصادی مفادات سے بھی محرومی کا باعث بنے گا۔ اس درمیان اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت صحت کے شعبہ رابطہ عامہ اور انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ستائیس جون سے تیئس جولائی تک کی امریکی جارحیت میں ایران کے پچپن افراد شہید اور چھے سو انتیس زخمی ہوچکے ہیں۔ ادھر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے امریکی وحشیانہ حملے جاری رہنے کے مدنظر عرب ممالک کے شہریوں کو فوری طور پر امریکی فوج اور سی آئی اے کے خفیہ ٹھکانوں اور رہائشگاہوں سے دور ہو جانے کی ہدایت دی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے بیان میں آیا ہے کہ بچوں کی قاتل امریکی حکومت نے برجستہ ترین دینی محقق اور سیاسی رہبر اور ساتھ ساتھ 168 معصوم بچوں کو شہید کرکے، ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس بیان میں آیا ہے کہ حالانکہ ایران 40 دن کے بعد بھی پوری طاقت اور کامیابی کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتا تھا، لیکن خطے میں امن کی بحالی کی خاطر مجرم پیشہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوگیا، لیکن امریکہ کی مجرم اور درندہ حکومت نے سمجھوتے کے ابتدائی دنوں سے ہی اسے پاؤں تلے روند ڈالا اور 12 جولائی کو اسے منسوخ اور جنگ کا سلسلہ بحال کر دیا۔
13 دن بعد امریکی شکست کے آثار ایک بار پھر رونما ہوگئے اور دشمن کو سمجھ میں آگیا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ہماری مسلح افواج کو شکست دے نہیں سکتا، لیکن اس بند راستے سے نکلنے کے لیے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے، امریکہ نے جنگی جرائم کا سہارا لینا اور پلوں، ماہیگیروں کے جہازوں، سول بندرگاہوں، عام شہریوں کی گاڑیوں اور ریلوے کو نشانہ بنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ ایران اور عراق کی سرحدی گزرگاہ پر حملہ کرکے اربعین امام حسین (ع) کے زائرین کو شہید اور زخمی کر دیا اور اپنے یزیدی چہرے پر سے نقاب ہٹا دی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے انتباہ دیا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم جاری رہنے کی صورت میں مجرموں کو سزا دینا ہمارا پہلا ایجنڈا بن جائے گا۔ اس بیان میں لکھا ہے کہ امریکی جارح فوج کے افسروں اور فوجیوں کی بڑی تعداد، سپاہ اسلام کے حملوں کے خوف سے اپنے اڈوں اور چھاؤنیوں کو چھوڑ کر عرب ممالک کے شہروں اور گنجان آبادیوں سے اپنے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، لہذا ان عرب شہریوں کو جن کے ممالک امریکی فوجیوں کا مرکز بنے ہیں، خبردار کیا جاتا ہے کہ امریکی خفیہ مراکز، کمانڈ سینٹروں اور رہائشگاہوں سے فوری طور پر 500 میٹر دور ہوجائیں، تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔
سعودی عرب میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، جنوبی ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن متاثر
سعودی ذرائع نے ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے اور جنوبی علاقوں کے ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن متاثر ہونے کی اطلاع دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جیزان میں کئی دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ اسی دوران فضائی نگرانی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام متاثر ہوا، جہاں ریاض جانے والی بعض پروازیں واپس رن وے کی جانب لوٹ گئیں، جبکہ فوجی طیارے بھی حالات معمول پر آنے کے انتظار میں رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے متاثرہ علاقوں کی تصاویر لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل سعودی عرب کی امداد و نجات اتھارٹی نے مغربی صوبے ینبع میں قومی قبل از وقت انتباہی نظام کے ذریعے خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا، تاہم اس خطرے کی نوعیت یا انتباہ جاری کرنے کی وجہ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
غیر سرکاری ذرائع نے ینبع میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔
یاد رہے کہ آج علی الصبح سعودی عرب نے یمن کے شہر الحدیدہ کی بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے۔
ایرانی شہری کی ہر شہادت کے بدلے ایک امریکی فوجی مارا جائے گا، جنرل عبداللہی کا دوٹوک اعلان
، خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ یہ پالیسی اب محض ایک انتباہ نہیں بلکہ باقاعدہ عسکری نظریہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس اصول کو ہم پہلے ہی دشمن کے سامنے عملی طور پر ثابت کر چکے ہیں، وہ آج سے میدان جنگ کا ایک قطعی اور سرکاری طور پر اعلان شدہ اصول ہے: اسلامی جمہوریہ ایران کے ہر باوقار شہری کی شہادت کے بدلے ایک امریکی فوجی مارا جائے گا۔
امریکی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تمہارے لیے جہنم کے مفت اور براہِ راست ٹکٹ تیار کر رکھے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ مسلسل تیرہویں رات بھی جاری رہا۔ ان حملوں میں پلوں اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 55 افراد شہید اور 640 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران نے اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
جمعہ کے روز سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) اور ایرانی فوج نے الگ الگ بیانات میں کویت، اردن، بحرین اور اربیل میں امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے فوجی اڈوں پر حملوں کی اطلاع دی۔
آئی آر جی سی نے ان ممالک میں رہنے والے افراد کو بھی خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں کہ وہ امریکی تنصیبات اور فوجی اڈوں سے کم از کم 500 میٹر دور رہیں، کیونکہ مزید حملوں کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ عراق میں ایک اور امریکی اہلکار مارا گیا۔ تاہم بعض رپورٹس کے مطابق امریکی جانی نقصانات کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران کے محکم ڈیٹرینس اور دفاعی طاقت پر زور
بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران ڈیٹرینس اور دفاعی طاقت کے نئے مرحلے میں ہے اور یہ تصور غلط ہے کہ اس پر وار لگانے کی قیمت کم ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے نتائج فوجی میدان سے بڑھ کر توانائی کی منڈی اور عالمی اقتصاد میں بھی ظاہر ہوں گے۔
دو ریسکیو کشتیوں پر دشمن کا حملہ
اسلامی جمہوریہ ایران کے بندرگاہوں اور جہازرانی کے محکمہ نے بتایا ہے کہ صیہونی امریکی دشمن نے دو ریسکیو کشتیوں پر حملہ کیا ہے جس میں سے ایک کشتی میں 15 اور دوسری میں 16 ریسکیو کارکن موجود تھے۔
ریسکیو کشتیوں پرجن کا مشن انسان دوستانہ اور لوگوں کو بچانا ہوتا ہے، حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملہ کرنے والوں کو بین الاقوامی کنوینشنوں اور اصول وضوابط کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور انھوں نے سمندر میں ریسکیومشن کی کشتیوں پر حملہ کرکے ایک بار پھر اپنی ماہیت عیاں کردی ہے ۔
قالیباف : سیکورٹی یا سب کے لئے ہوگی یا کسی کے لئے بھی نہیں ہوگی
اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ " اس جنگ کا توازن واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں"
انھوں نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ "علاقے میں ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی نہیں بیچے گا۔ اگر ہمارے لئے سلامتی نہیں ہوگی تو کسی کا بنیادی ڈھاںچہ بھی محفوظ نہیں رہے گا اور آبنائے ہرمز میں اسی وقت سلامتی قائم ہوسکتی ہے جب امریکی فوجی نہ ہوں۔ "
انھوں نے لکھا ہے کہ " ہم نے بارہا کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پہلے والی حالت میں ہرگز واپس نہیں جائے گی۔"
جزیرہ بوبیان اور علی السالم امریکی فوجی اڈے کے اسٹریٹیجک رڈار اسٹیشن تباہ
سپاہ پاسداران کے شعبہ رابطہ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن نصر2 کی چوبیسویں لہر میں امریکا کے علی السالم فوجی اڈے کا ابتدائی وارننگ کا رڈار سینٹر اور اسی طرح جزیرہ بوبیان میں ایک رڈار سسٹم تباہ کردیا گیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبہ رابطہ عامہ نے آپریشن نصر2 سے متعلق اپنے اعلامیہ میں ملت ایران کو مخاطب کرکے اعلان کیا ہے کہ غازیان اسلام کے اس جوابی آپریشن میں، دہشت گرد امریکی فوج کے مذکورہ دونوں رڈار اسٹیشن آپریشن سے خارج ہوگئے ہیں۔
سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ جارح دشمن کی تنبیہ کے لئے ہماری جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
وماالنصر الامن عنداللہ العزیز الحکیم
ایران کے ایٹمی مراکز پر حملے کی بابت جرائم پیشہ امریکا کو انتباہ
سلامی جمہوریہ ایرن کی مسلح افوج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکواٹر نے اعلان کیا ہے کہ جرائم پیشہ امریکا نے ایران کے حساس اور ایٹمی مراکز پر حملے کی دھمکی ہے۔
خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکواٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر جرائم پیشہ اور دہشت گرد امریکی فوج نے یہ مرحلہ شروع کیا تو ہم اس کو علاقے میں جنگ کا پھیلاؤ سمجھیں گے اورپھر امریکا اور اس کے شرپسند اور سرکش حامیوں کے سبھی مفادات ایران کی طاقتور مسلح افواج کے اہداف میں تبدیل ہوجائيں گے۔
ارنا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا بہت جلد ایران کی کوہ کلنگ ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔





















![جناب خدیجہ کبری[س] کی سیرت](/ur/media/k2/items/cache/ef2cbc28bb74bd18fb9aaefb55569150_XS.jpg)
